بسم الله الرحمن الرحيم
کل مولانا ہم نے صنعتِ جمع، تفریق، تقسیم کہ تینوں کو اکٹھا لایا جائے، جمع آپ جانتے تھے کہ دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو جمع کرنا ایک ہی حکم کے اندر، تفریق کہتے تھے ایک نوع کی دو چیزوں کا آپس میں فرق بیان کر دینا، اور تقسیم کہتے تھے کہ ہر ایک متعدد چیزوں کو ذکر کیا جائے اور پھر ہر ایک سے متعلقہ حکم کو بیان کیا جائے۔ تو پہلے جمع ذکر ہو، پھر تفریق، پھر تقسیم جیسے اللہ کے اس قول میں تھا: ”يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ“ تو یہاں نفس کے اندر جمع کر دیا تمام قیامت کے دن جتنے بھی لوگ تھے، چاہے نیک بخت ہیں یا بدبخت سب جمع کر دیے۔ پھر تفریق کی وہ تمام جو نفس تھے ان میں سے بتلایا کہ بعض ان میں سے بدبخت ہیں اور بعض کیا ہیں؟ نیک بخت ہیں۔ پھر ہر ایک سے متعلقہ حکم بتلایا کہ جو نیک بخت ہیں وہ جنت میں جائیں گے اور جو بدبخت ہیں وہ جہنم میں جائیں گے۔
اس کے بعد بتلایا تھا کہ تقسیم کا اطلاق دو اور چیزوں پر بھی ہوتا ہے اور تقسیم تو پہلے ہم نے یہ پڑھا تھا کہ متعدد چیزوں کو ذکر کیا جائے اور پھر ہر ایک کے حکم کو بیان کیا جائے۔ اور ایک اور قسم ہے، دو اور چیزوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے: ایک یہ کہ ایک چیز کے احوال ذکر کیے جائیں اور ہر حال کے ساتھ اس کے مناسب کو ذکر کیا جائے، اس کے مناسب کو۔ جیسے شاعر نے اپنے قوم والوں کے احوال ذکر کیے تھے کہ وہ بڑے وزنی ہیں، بڑے ہلکے ہیں، اور بڑے کثیر ہیں اور بڑے قلیل ہیں۔ اور ہر ایک کے ساتھ مناسب ذکر کیا تھا کہ وزنی جب وہ جنگ کریں اس وقت ہیں، ہلکے جب وہ جواب دیں اس وقت ہیں جلدی جواب دیتے ہیں، اور کثیر اس وقت ہیں جب وہ حملہ کرتے ہیں، اور قلیل اس وقت ہیں جب ان کو شمار کیا جائے۔
اور دوسری قسم تقسیم کی یہ تھی کہ کسی چیز کی نفس الامر میں جتنی اقسام پائی جائیں ان سب کو شمار کر لیا جائے جیسے اللہ کے اس قول میں تھی: ”يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا“، تو جسے اللہ چاہتے ہیں صرف مؤنث یعنی بیٹیاں دیتے ہیں، جسے چاہتے ہیں صرف مذکر یعنی صرف بیٹے دیتے ہیں، بعض کے لیے کیا کرتے ہیں؟ بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیتے ہیں اور بعض کو بانجھ بناتے ہیں بھئی۔ تو چار ہی صورتیں تھیں، وہ انسان جو اولاد پیدا کرنے کے قابل ہے اس کے لیے چار ہی صورتیں ممکن ہیں کہ اس کے یا بیٹیاں ہوں گی صرف، یا صرف بیٹے ہوں گے، یا بیٹے بیٹیاں دونوں ہوں گے، یا کچھ بھی نہیں ہوں گے۔
اس کے بعد صنعتِ تجرید پڑھی اور وہ یہ کہ ایک موصوف سے دوسرے موصوف کو نکالا جائے مبالغہ کرتے ہوئے کہ یہ موصوف اس وصف کے اندر کمال کو پہنچا ہوا ہے، بڑا ہی کامل ہے بھئی۔ اور پھر میں نے بتلایا تھا یہ دو قسم پر ہے: یا تو حرف کے ساتھ ذکر ہو گی تجرید یا بغیر کسی حرف کے۔ اگر حرف کے ساتھ ذکر ہو پھر وہ حرف جو ہو گا با ہو گا، من ہو گا، یا فی۔ تو یہ کتنی صورتیں ہوئیں؟ تین۔ اور ان میں سے یہ جو با ہے یہ کبھی منتزَع پر داخل ہو گی کبھی منتزَع منہ پر، جس سے نکالا ہے اس پر یا جس کو نکالا ہے اس پر، تو یہ کتنی ہو گئیں؟ چار صورتیں ہو گئیں، اور بغیر حرف کے ہو تو پھر وہ بطریقِ کنایہ ہو گا، یا بطریقِ کنایہ نہیں ہو گا، یا مخاطبۃ النفس کے طریقے پر ہو گا۔ تو یہ تین، چار اور تین کتنی بن گئیں؟ سات صورتیں بن گئیں بھئی، سات صورتیں بن گئیں۔
”وَمِنْهَا مَا يَكُونُ بِطَرِيقِ الْكِنَايَةِ“، اور تجرید کی ایک قسم وہ ہے جو کنایہ کے طریقے پر ہو، ”نَحْوُ قَوْلِهِ: يَا خَيْرَ مَنْ يَرْكَبُ الْمَطِيَّ وَلَا يَشْرَبُ كَأْسًا بِكَفِّ مَنْ بَخِلَا“۔ بھئی بتلایا تھا آپ کو شروع میں کہ تجرید یا تو حرفِ جر کے واسطے سے ہو گی یا بغیر حرفِ جر کے واسطے سے۔ وہ قسمیں گزر گئیں جو کس طریقے پر تھیں؟ حرفِ جر کے واسطے سے تھیں بھئی، اور پھر ایک قسم وہ بھی ذکر کر دی جو بغیر کس کے تھی؟ حرفِ جر کے واسطے سے۔ اب تجرید کی ایک قسم وہ ہے جو کنایہ کے طریقے پر ہو بھئی، ان سات قسموں میں سے ایک قسم کیا تھی؟ کنایہ کے طریقے پر ہو، یعنی اس کنایہ کے ضمن میں تجرید بھی پائی جائے، اس کنایہ کے ضمن میں اکٹھے ہوں ایک ہی جگہ پر بھئی کنایہ اور تجرید بھئی، جیسے دیکھیے بھئی: ”يَا خَيْرَ“ اے بہتر، خیر مضاف ہے مولانا اس لیے منصوب ہو گا بھئی منادیٰ، من کی طرف مضاف ہے۔ اے بہتر ”مَنْ يَرْكَبُ الْمَطِيَّ“ ان لوگوں میں سے جو سواری پر سوار ہوتے ہیں بھئی، تو مطی جمع ہے مطیۃ کی اور یہ اونٹ کی سواری کو کہتے ہیں بھئی خاص طور پر۔ اے اونٹ پر سوار ہونے والوں میں سے سب سے بہتر، سواروں میں سے سب سے بہتر، ”وَلَا يَشْرَبُ“ اس کا عطف بھی مولانا يركب پر ہے، اور بہتر ان لوگوں میں سے ”لَا يَشْرَبُ“ جو پیتے نہیں ہیں ”كَأْسًا“ جام کو ”بِكَفِّ مَنْ بَخِلَا“ اس شخص کی ہتھیلی سے جو بخل کرنے والا ہو، اس شخص کی ہتھیلی سے اے سواری پر سوار ہونے والوں میں سے سب سے بہتر اور اے ان لوگوں میں سے سب سے بہتر جو پیتے نہیں ہیں جام کو اس شخص کی ہتھیلی سے جو بخل کرنے والا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا شعر کا بھئی؟ تو يشرب کا عطف کس پر ہے؟ يركب پر، اور یہ صلہ ہے من کا، اور من مضاف الیہ ہے خیر کے لیے ”يَا خَيْرَ مَنْ“۔
اب دیکھیے، شاعر کیا کہہ رہا ہے؟ اب ممدوح کی تعریف کر رہا ہے کہ اے بہتر ان لوگوں میں سے جو کیا کرتے ہیں؟ سواری پر سوار ہوتے ہیں، اور بہتر ان لوگوں میں سے جو پیتے نہیں ہیں کس کی ہتھیلی سے؟ بخیل آدمی کی ہتھیلی سے جو جام نہیں پیتے بھئی۔ تو یہاں پر شاعر نے کہا کہ جو بخیل آدمیوں، یوں کہیں شاعر نے ممدوح سے ایک کریم کا انتزاع کیا، ایک سخی شخص کا کیا کیا؟ انتزاع کیا، اور یہ ثابت کیا کہ یہ جو میرا ممدوح ہے اس کریم کے ہاتھ سے پیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ ممدوح سے ممدوح کی سخاوت بیان کر رہا ہے تو بتلایا وہ سخاوت میں اس درجے کو پہنچ چکا ہے کہ اس سے ایک اور کریم کا انتزاع ممکن ہے، چنانچہ اس سے ایک اور کریم کا انتزاع کیا اور جس کے ہاتھ سے یہ ممدوح پیتا ہے، جس کے ہاتھ سے کیا ہے؟ ممدوح پیتا ہے۔ تو اب کیا بتلانا تھا کہ میرا ممدوح سخی شخص کے ہاتھ سے پیتا ہے، کیا کہنا چاہیے تھا؟ کہ میرا ممدوح سخی شخص کے ہاتھ سے پیتا ہے، یہ تجرید تھی۔ لیکن اس سخی شخص کے ہاتھ سے پینے کو اس نے عبارت میں ذکر نہیں کیا، عبارت کے اندر تو کنایہ کے طریقے پر ذکر کیا کہ بخیل آدمی کے ہاتھ سے نہیں پیتا۔ تو جب بخیل آدمی کے ہاتھ سے نہیں پیتا تو لازمی بات ہے کس کے ہاتھ سے پیتا ہے؟ سخی آدمی کے ہاتھ سے۔ تو دیکھو وہی معنی ادا کیا لیکن صراحتاً نہیں بلکہ کنایۃً بھئی۔ کہنا کیا چاہتا تھا کہ سخی آدمی کے ہاتھ سے پیتا ہے لیکن عبارت میں اس نے کہا ہے کوئی سخی آدمی کے ہاتھ سے پیتا ہے؟ عبارت میں تو یہ کہا کہ بخیل کے ہاتھ سے نہیں پیتا، اور جب بخیل کے ہاتھ سے نہیں پیتا تو اس کے ساتھ لازم ہے کہ وہ کس کے ہاتھ سے پیئے گا؟ سخی آدمی کے ہاتھ سے پیئے گا، تو دیکھو تجرید کے ساتھ کیا آ گیا؟ کنایہ آ گیا، کنایہ آ گیا۔ بات سمجھ میں آئی سب کو؟
”أَيْ يَشْرَبُ الْكَأْسَ بِكَفِّ الْجَوَادِ“، یعنی پیتا ہے جام کو سخی کے ہتھیلی سے، سخی کے ہاتھ سے، ”انْتَزَعَ مِنْهُ جَوَادًا“ تو شاعر نے انتزاع کیا مخاطب سے ایک سخی شخص کا، ”يَشْرَبُ هُوَ بِكَفِّهِ“ ایسا سخی کہ یہ اس کی ہتھیلی سے پیتا ہے، ”عَلَى طَرِيقِ الْكِنَايَةِ“ کس طریقے پر؟ کنایہ کے طریقے پر، ”لِأَنَّهُ إِذَا نَفَى عَنْهُ الشُّرْبَ بِكَفِّ الْبَخِيلِ فَقَدْ أَثْبَتَ لَهُ الشُّرْبَ بِكَفِّ الْكَرِيمِ“ اس لیے کہ شاعر نے جب اس سے نفی کر دی اس شرب کی جو بخیل کے ہاتھ سے ہو، بخیل کے ہاتھ سے پینے کے شرب کی جب نفی کر دی تو تحقیق اس کے لیے سخی شخص کے ہاتھ سے پینے کو ثابت کر دیا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس لیے کہ مخاطب جو ہے وہ انسان ہے اور انسان اہل شرب میں سے ہے۔ کس میں سے ہے؟ شرب کسے کہتے ہیں؟ انسان کا پینا بھئی، تو انسان ہے تو اہل شرب میں سے ہے اس کو پینے کی حاجت تو ہے، اور کہا کیا کہ وہ بخیل آدمی کے ہاتھ سے نہیں پیتا، تو اس کے ساتھ لازم ہے پیتا تو وہ ہے، اور جب بخیل آدمی کے ہاتھ سے نہیں پیتا تو یقیناً پھر کس کے ہاتھ سے پیتا ہے؟ سخی آدمی کے ہاتھ سے پیتا ہے بھئی۔ تو یہ کنایہ ہے ملزوم بول کر لازم کا ارادہ، بخیل آدمی کے ہاتھ سے نہ پینا اس کے ساتھ لازم ہے کس کے ہاتھ سے پینا؟ سخی آدمی کے ہاتھ سے پینا۔
”فَأَثْبَتَ لَهُ الشُّرْبَ بِكَفِّ الْكَرِيمِ وَمَعْلُومٌ أَنَّهُ يَشْرَبُ بِكَفِّهِ فَهُوَ ذَلِكَ الْكَرِيمُ“، تو اس کے لیے ثابت کر دیا کریم کے ہاتھ سے پینے کو، اور یہ بات تو معلوم ہے کہ وہ اپنے ہی ہاتھ سے پیتا ہے تو وہی مخاطب ہی کیا ہے؟ وہ سخی آدمی ہے۔ انسان کس کے ہاتھ سے پیتا ہے؟ غیر کے ہاتھ سے یا اپنے ہاتھ سے؟ اپنے ہی ہاتھ سے، اور کہا ہے کہ وہ سخی آدمی کے ہاتھ سے پیتا ہے، معلوم ہوا وہ سخی کون ہے؟ دراصل وہ خود ہی ہے۔
”وَقَدْ خَفِيَ هَذَا عَلَى بَعْضِهِمْ فَزَعَمَ أَنَّ الْخِطَابَ إِنْ كَانَ لِنَفْسِهِ فَهُوَ تَجْرِيدٌ وَإِلَّا فَلَيْسَ مِنَ التَّجْرِيدِ فِي شَيْءٍ بَلْ كِنَايَةٌ عَنْ كَوْنِ الْمَمْدُوحِ غَيْرَ بَخِيلٍ“۔ جی، یہاں سے علامہ تفتازانی رد کر رہے ہیں علامہ خلخالی کو بھئی۔ علامہ خلخالی ایک اور شارح ہیں جنہوں نے شرح لکھی ہے تلخیص کی، کہتے ہیں علامہ تفتازانی کہ میں نے ایک تقریر کر دی بھئی اور میں نے ثابت کر دیا کہ کنایہ ہی کے ضمن میں کیا آ گئی؟ تجرید بھی آ گئی، دونوں اکٹھی آ گئیں۔ بعض علماء پر یعنی علامہ خلخالی پر یہ بات مخفی رہی اور انہوں نے مصنف کی اس مثال کو رد کیا بھئی، انہوں نے کیا کیا؟ مصنف کی یہ مثال درست نہیں انہوں نے کہا، اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہاں پر یا تو تجرید ہے یا کنایہ ہے، دونوں اکٹھے نہیں ہیں بھئی۔ انہوں نے کیا تقریر کی اس مقام پر؟ یا صرف کنایہ ہے یا صرف تجرید ہے، دونوں اکٹھے نہیں، کیسے؟ کہتے ہیں یہ جو شاعر نے کہا، علامہ خلخالی کی تقریر چل رہی ہے بھئی، علامہ خلخالی کہتے ہیں شاعر نے کہا ”يَا خَيْرَ مَنْ يَرْكَبُ“ یہ دیکھو خطاب کر رہا ہے۔ کیا کر رہا ہے؟ حرفِ ندا لایا نا، حرفِ ندا کے ساتھ کس کو کس کے لیے لایا جاتا ہے؟ مخاطب کو خطاب کیا جائے گا بھئی۔ تو یہاں خطاب کیا، اب یہ خطاب یا تو شاعر اپنے ہی نفس کو کر رہا ہے یا غیر کو کر رہا ہے، دو ہی احتمال ہیں: یا اپنے نفس کو کرے گا یا غیر کو کرے گا۔ اگر اپنے نفس کو خطاب کر رہا ہے تو یہ تجرید ہے، یہ کیا ہے؟ گویا شاعر نے اپنے آپ سے اپنے جیسے ایک اور شخص کو منتزَع کیا اور اس کو خطاب کر رہا ہے، تو یہ تجرید ہے۔ خطاب تو غیر کو ہونا چاہیے لیکن یہ کیا کر رہا ہے؟ اپنے نفس کو، معلوم ہوا اس نے اپنے آپ سے ایک اور موصوف کا انتزاع کیا جو اسی کے مثل ہو وصف میں اور پھر اس کے ساتھ اب کیا شروع کر دیا؟ خطاب شروع کر دیا، تو یہ کیا ہوئی؟ تجرید ہوئی، تجرید۔ اور آگے ”لَا يَشْرَبُ كَأْسًا بِكَفِّ مَنْ بَخِلَا“ اس کے اندر ہے کنایہ۔ تو ”يَا خَيْرَ مَنْ“ کے اندر کیا آ گیا؟ تجرید، اور ”وَلَا يَشْرَبُ كَأْسًا بِكَفِّ مَنْ بَخِلَا“ اس کے اندر کیا آ گیا؟ کنایہ۔ تو تجرید الگ ہے، کنایہ الگ ہے، حالانکہ بحث تو چل رہی ہے کہ تجرید اور کنایہ اکٹھے ہوں بھئی، تجرید کس کے ضمن میں ہو؟ کنایہ ہی کے ضمن میں ہو، لہٰذا یہ مثال مصنف کی درست نہیں۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ بات چل رہی ہے ایسے کنائے کی کہ اسی کے ضمن میں تجرید آئے یا ایسی تجرید کی جو کنائے ہی کے ضمن میں ہو بھئی۔ اور یہاں پر تو اگر یہ شاعر کا خطاب مخاطبۃ النفس کے قبیل سے ہے، اپنے آپ سے وہ خطاب کر رہا ہے یا وہ غیر سے خطاب کر رہا ہے؟ اگر اپنے آپ سے وہ خطاب کر رہا ہے تو اس صورت میں تجرید بھی ہے ہم مانتے ہیں، کنایہ بھی ہے یہ بھی ہم مانتے ہیں لیکن دونوں الگ الگ ہیں۔ تجرید ہے ”يَا خَيْرَ مَنْ“ کے اندر اور کنایہ ہے ”وَلَا يَشْرَبُ كَأْسًا بِكَفِّ مَنْ بَخِلَا“ کے اندر، تو دونوں الگ الگ ہیں حالانکہ ہماری بحث تو کون سی تجرید کے اندر ہے جو کس کے ضمن میں آئے؟ کنائے کے ضمن میں آئے، تو یہ مثال مطابق نہ ہوئی ممثل لہ کے۔ یا اگر یہ غیر کو خطاب ہے، یہ کیا ہے؟ غیر کو خطاب ہے تو پھر تو سرے سے تجرید ہی نہیں ہے، صرف کنایہ ہی ہے یہاں پر۔ ”يَا خَيْرَ مَنْ“ سے کون مراد ہے؟ اپنا نفس نہیں مراد، غیر مراد ہے، تو پھر غیر کے لیے کہہ رہا ہے: ”يَا خَيْرَ مَنْ يَرْكَبُ الْمَطِيَّ“ اے سواریوں پر سوار ہونے والوں میں سے سب سے بہتر اور وہ لوگ جو بخیل کی ہتھیلی سے نہیں پیتے ان میں سے سب سے بہتر، تو یہ تو خطاب ہے مخاطب سامنے والے کو، اور یہ بات کہنا چاہتا تھا کہ وہ سخی آدمی کے شخص کے سخی بخیل کے ہاتھ سے نہیں پیتا۔ کہنا کیا تھا اس نے کہ یہ سخی کے ہاتھ سے پیتا ہے لیکن اس کو تعبیر کس سے کر دیا کہ وہ بخیل کے ہاتھ سے؟ اور جب بخیل کے ہاتھ سے نہیں پیتا تو اس کے ساتھ لازم ہے کہ وہ کس کے ہاتھ سے پیتا ہے؟ تو یہ کنایہ ہوا، تجرید تو نہیں ہے، صرف کیا آیا؟ کنایہ آیا۔ تو وہ سخی شخص کے ہاتھ سے پیتا ہے اور یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ وہ ہر انسان اپنے ہاتھ سے پیتا ہے، معلوم ہوا کہ وہ اپنی ہتھیلی سے پیتا ہے، وہ سخی کون ہے؟ یہ خود ہی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ان کی تقریر کے مطابق پھر صرف کنایہ آیا۔ اگر یہ شاعر اپنے نفس کو خطاب کر رہا ہے تو تجرید بھی ہے، کنایہ بھی ہے، دونوں الگ الگ ہیں، اور اگر یہ غیر کو خطاب کر رہا ہے تو صرف کنایہ ہے، تجرید یہاں پر نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ خَفِيَ هَذَا عَلَى بَعْضِهِمْ“ اور تحقیق مخفی رہی یہ بات بعض علماء پر اور وہ کون ہیں؟ علامہ خلخالی، ”فَزَعَمَ أَنَّ الْخِطَابَ إِنْ كَانَ لِنَفْسِهِ“ انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاعر کا یہ قول جو ہے اگر وہ خطاب ہے اس کے اپنے ہی نفس کو ”فَهُوَ تَجْرِيدٌ“ تو یہ کیا ہے؟ تجرید ہی ہے بس، ”يَا خَيْرَ مَنْ“ کے اندر صرف کیا ہے؟ تجرید ہے، کنایہ آگے جا کے آتا ہے یہاں پر نہیں کنایہ۔ ”وَإِلَّا“ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی اگر غیر کو خطاب ہے، ”فَلَيْسَ مِنَ التَّجْرِيدِ فِي شَيْءٍ“ تو اس کے اندر تو تجرید بالکل بھی نہیں ہے، ”بَلْ كِنَايَةٌ عَنْ كَوْنِ الْمَمْدُوحِ غَيْرَ بَخِيلٍ“ بلکہ یہ تو کیا ہے؟ کنایہ ہے ممدوح کے بخیل نہ ہونے سے، غیر بخیل ہونے سے کیا ہے؟ کنایہ ہے کہ وہ کس کی ہتھیلی سے پیتا ہے؟ کریم شخص کی ہتھیلی سے پیتا ہے، اور اس کو تعبیر کیا کس سے کہ وہ بخیل آدمی کے ہاتھ سے؟ معلوم ہوا وہ سخی آدمی کے ہاتھ سے پیتا ہے۔ تو سخی کے ہاتھ سے پینے کو کنایہ کے طریقے پر ادا کیا اور یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ ہر انسان اپنی ہتھیلی سے پیتا ہے، غیر کی ہتھیلی سے نہیں پیتا، معلوم ہوا یہ کریم کون ہے؟ مخاطب خود ہی ہے، مخاطب خود ہی ہے۔ تو اس میں تجرید ہے ہی نہیں۔
”وَأَقُولُ: الْكِنَايَةُ لَا تُنَافِي التَّجْرِيدَ عَلَى مَا قَرَّرْنَا“ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ کنایہ منافی نہیں ہے تجرید کے جیسا کہ ہم نے ثابت کیا بھئی، جیسا کہ ہم نے ثابت کیا۔ کہتے ہیں ابھی میں نے جو تقریر کی بھئی پہلے علامہ تفتازانی کی کہ تجرید کے ساتھ ساتھ کیا آیا؟ کنایہ بھی آیا۔ تو کہتے ہیں تجرید اور کنائے میں منافات نہیں ہے، دونوں جمع ہو سکتے ہیں اور جمع ہوئے ہیں ہماری تقریر کے مطابق۔ ”وَلَوْ كَانَ الْخِطَابُ لِنَفْسِهِ لَمْ يَكُنْ قِسْمًا بِنَفْسِهِ بَلْ دَاخِلًا فِي قَوْلِهِ“، کہتے ہیں یہ مخاطبۃ النفس کے قبیل سے نہیں ہے بھئی۔ علامہ خلخالی تو کیا کہہ رہے تھے بھئی کہ یہ یا تو اپنے آپ کو خطاب ہے یا غیر کو خطاب ہے، کہتے ہیں یہ اپنے آپ کو خطاب کے قبیل سے نہیں، اس لیے کہ اگر یہ اپنے آپ سے خطاب کے قبیل سے ہو کہ شاعر کیا کر رہا ہو؟ اپنے آپ سے ہی خطاب کر رہا ہو، تو پھر تو یہ آگے ایک قسم بیان کرنے لگے ہیں اسی میں داخل ہے۔ اسی میں کیا ہے؟ دیکھو آگے متن میں: ”وَمِنْهَا مُخَاطَبَةُ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ“ انسان کا اپنے نفس کو مخاطب کرنا، انسان کا اپنے نفس کو تو دیکھو یہ تو پھر مخاطبۃ النفس کے قبیل سے ہوا اور وہ قسم تو آگے ذکر ہو رہی ہے، تو یہ بھی اسی میں داخل ہوئی، یہ الگ کوئی قسم نہ ہوئی، لہٰذا اس کو مخاطبۃ النفس کے قبیل سے بنانا صحیح نہیں۔
”وَلَوْ كَانَ الْخِطَابُ لِنَفْسِهِ لَمْ يَكُنْ قِسْمًا بِنَفْسِهِ بَلْ دَاخِلًا فِي قَوْلِهِ: وَمِنْهَا مُخَاطَبَةُ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ“، اور اگر خطاب اس کے اپنے نفس کو ہوتا تو یہ خود الگ قسم نہ ہوتی بلکہ داخل ہوتی مصنف کے اسی قول کے اندر ”وَمِنْهَا مُخَاطَبَةُ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ“ اور تجرید میں سے ایک قسم انسان کا اپنے ہی نفس کو خطاب کرنا، ”وَبَيَانُ التَّجْرِيدِ فِي ذَلِكَ أَنَّهُ يَنْتَزِعُ مِنْ نَفْسِهِ شَخْصًا آخَرَ“ اور تجرید کا بیان اس قسم کے اندر یہ ہے کہ متکلم کیا کرتا ہے؟ اپنے ہی نفس سے ایک اور شخص کا انتزاع کرتا ہے۔ بھئی مخاطبۃ النفس کسے کہتے ہیں؟ انسان اپنے آپ سے ہی کیا کرتا ہے؟ ایک موصوف کا انتزاع کرتا ہے اور اس سے خطاب کرتا ہے۔ ”كَأَنَّهُ يَنْتَزِعُ مِنْ نَفْسِهِ شَخْصًا آخَرَ مِثْلَهُ فِي الصِّفَةِ الَّتِي سِيقَ لَهَا الْكَلَامُ“ کہ وہ اپنے ہی نفس سے انتزاع کرتا ہے ایک اور ایسے شخص کی جو اسی کے مثل ہو اس صفت کے اندر جس کے لیے کلام کو کیا گیا ہے؟ چلایا گیا ہے۔ تو اپنے سے اپنے ہی جیسا ایک شخص کا انتزاع وہ کرتا ہے، اس صفت میں یہ اس کے مثل ہوتا ہے جس کے لیے کلام کو چلایا جاتا ہے۔ ”ثُمَّ يُخَاطِبُهُ“ پھر اس منتزَع پر سے کیا کرتا ہے؟ خطاب کرتا ہے، ”كَقَوْلِهِ“ جیسے شاعر کا یہ قول ہے:
”لَا خَيْلَ عِنْدَكَ تُهْدِيهَا وَلَا مَالُ ... فَلْيُسْعِدِ النُّطْقُ إِنْ لَمْ يُسْعِدِ الْحَالُ“
شاعر کہتا ہے کسی کے پاس کوئی تعریف کرے، اس شخص کی تعریف کرے تو لوگ اس کو کیا کرتے ہیں؟ اس کو کوئی ہدیہ وغیرہ دیتے ہیں، مال دیتے ہیں کہ آپ نے میری مدح کی ہے، میری تعریف وغیرہ کی ہے، تحفہ دیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں اپنے آپ سے شاعر کہتا ہے کہ ”لَا خَيْلَ عِنْدَكَ“ نہ تو تیرے پاس گھوڑے ہیں ”تُهْدِيهَا“ کہ تو کیا کرے ان کو؟ ہدیہ کرے، کیا کرے؟ ہدیہ کرے، ہدیہ کے لیے نہ تو تیرے پاس گھوڑے ہیں ”وَلَا مَالُ“ اور نہ ہی تیرے پاس مال ہے، ”فَلْيُسْعِدِ النُّطْقُ“ پس تجھے کامیاب اسعد یسعد کا معنی کامیاب اور بامراد بنانا، تو تجھے بامراد بنانا چاہیے اپنے نطق کو، اپنی گفتگو کو کیا بنانا چاہیے؟ بامراد بنانا چاہیے ”إِنْ لَمْ يُسْعِدِ الْحَالُ“ اگر بامراد حال نہیں بنتا، اگر اپنے حال کو بامراد اور کامیاب نہیں بنا سکتے تو پھر کیا کرو؟ اپنے نطق کو کیا کر لو؟ یعنی شاعر یہ کہتا ہے کہ بھئی لوگ جب کیا کرتے ہیں؟ دوسرے کی تعریف کرتے ہیں تو وہ اس کو کیا کرتے ہیں؟ ہدیہ دیتے ہیں۔ بادشاہوں کے سامنے بھئی تعریف کی جائے، مدح کے اشعار وغیرہ کہے جائیں تو وہ بڑا مال وغیرہ عطا کرتے ہیں، گھوڑے دیتے ہیں۔ تو شاعر کہتا ہے بھئی تیرے پاس تو گھوڑے بھی نہیں ہیں کسی کو تعریف کرنے پر دے دے، مال بھی نہیں ہے، تو کم از کم تجھے اگرچہ تو اپنے حالت کو کامیاب نہیں بنا سکتا یعنی مالدار نہیں ہے تو، مالدار نہیں ہو سکتا، تو کم از کم تجھے اپنی گفتگو کو کیا کرنا چاہیے؟ اچھا بنانا چاہیے اور تعریف کرنے والے سے اچھے طریقے سے گفتگو اور بات کرنی چاہیے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لَا خَيْلَ عِنْدَكَ تُهْدِيهَا وَلَا مَالُ“ نہ تو تیرے پاس گھوڑے ہیں کہ جن کو تو ہدیہ کرے اور نہ مال ہے، ”فَلْيُسْعِدِ النُّطْقُ“ پس تجھے کامیاب اور بامراد بنانا چاہیے اپنے تکلم کو، اپنے نطق کو، ”إِنْ لَمْ يُسْعِدِ الْحَالُ“ حال سے مراد ہے مالداری، اگر تو کامیاب اور بامراد نہیں بنا سکتا اپنی مالداری کو یعنی مالدار نہیں ہو سکتا۔ ”أَرَادَ بِالْحَالِ الْغِنَى“ حال سے کس کا ارادہ کیا شاعر نے؟ مالداری کا، غنیٰ مالداری۔ ”فَكَأَنَّهُ انْتَزَعَ مِنْ نَفْسِهِ شَخْصًا آخَرَ مِثْلَهُ فِي فَقْدِ الْخَيْلِ وَالْمَالِ“ گویا کہ شاعر نے انتزاع کیا، نکالا اپنے نفس سے جو اسی اپنے نفس سے ایک ایسے شخص کو جو اسی کے مثل ہے، ایک اور شخص کو نکالا جو اسی شاعر کے مثل ہے خیل اور مال کے نہ ہونے میں، گھوڑوں اور مال کے نہ ہونے میں۔ بھئی شاعر کے پاس بھی گھوڑے نہیں، اس کے پاس بھی مال نہیں، تو اس نے اپنے آپ سے ایک ایسا ہی شخص نکالا اس کے پاس بھی کیا تھے؟ گھوڑے نہیں ہیں اور مال بھی اس کو نکال کر اپنے سامنے بٹھایا اور اس کو کہتا ہے بھئی تیرے پاس تو گھوڑے بھی نہیں ہیں، تیرے پاس تو مال بھی نہیں ہے تو کسی کو ہدیہ کرے، لہٰذا تجھے کم از کم اب کیا کرنا چاہیے؟ بات لوگوں سے اچھے طریقے سے کرنی چاہیے، اس کو اچھے کلام کے ذریعے دوسرے کی دلجوئی کرنی چاہیے۔ تو اس نے ایک اور شخص کو نکالا جو اسی شاعر کے مثل ہے مال اور گھوڑوں کے نہ ہونے میں، فقد کا معنی ہے نہ ہونا، گم پانا، نہ ہونا۔ ”وَخَاطَبَهُ“ اور اس سے خطاب کرتا ہے، خطاب کیا اس سے۔
”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”الْمُبَالَغَةُ الْمَقْبُولَةُ“، اور معنوی میں سے مولانا ایک مبالغہ مقبولہ۔ مبالغہ کہتے ہیں ایک بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا بھئی۔ مبالغہ کسے کہتے ہیں؟ بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا بھئی، آپ جانتے ہی ہیں اردو میں بھی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اب اس مبالغے کے بارے میں یاد رکھو تین مذاہب ہیں علماء کے بھئی، تین مذہب ہیں بھئی۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ مبالغہ مطلقاً مردود ہے، مبالغہ کیا ہے؟ مطلقاً مردود ہے بھئی، یہ مقبول نہیں اس لیے کہ اس میں جھوٹ ہوتا ہے، بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو بعض علماء مبالغے کو مطلقاً مردود قرار دیتے ہیں۔ بعض مبالغے کو مطلقاً مقبول قرار دیتے ہیں بھئی کہ مبالغہ کیا ہے؟ اس میں بات کو بڑھا چڑھا کر ذکر کیا جاتا ہے اس سے بات کیا ہو جاتی ہے؟ ذرا حسین اور اچھی بن جاتی ہے لہٰذا مطلقاً مبالغہ مقبول ہے، جو بھی قسم ہو وہ کیا ہو گا؟ مقبول ہے، صحیح ہے بھئی عند البلغاء۔ مصنف نے کہا ”الْمُبَالَغَةُ الْمَقْبُولَةُ“ اس لفظ کے ذریعے یہ بتلا دیا کہ بھئی ہر مطلقاً مبالغہ مردود بھی نہیں اور مبالغہ مطلقاً مقبول بھی نہیں بلکہ دو قسم پر ہیں: کچھ مبالغے مقبول ہیں اور کچھ مبالغے مردود ہیں۔ بعض مبالغے جو ہیں وہ صحیح ہیں ان کو قبول کیا جائے گا بھئی عند البلغاء اور بعض کیا ہیں؟ مردود ہیں بھئی، دیکھا۔ تو ”الْمُبَالَغَةُ الْمَقْبُولَةُ“ کہا، معلوم ہوا کس کو نکال دیا؟ مبالغہ مردودہ کو خارج کر دیا۔
تو کہتے ہیں معنوی میں سے ایک مبالغہ مقبولہ بھی ہے، ”لِأَنَّ الْمَرْدُودَةَ لَا تَكُونُ مِنَ الْمُحَسِّنَاتِ“ اس لیے کہ مبالغہ مردودہ جو ہے وہ محسنات میں سے نہیں ہے، کلام کو حسین بنانے والوں میں سے نہیں ہے، ”وَفِي هَذَا إِشَارَةٌ إِلَى الرَّدِّ عَلَى مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْمُبَالَغَةَ مَقْبُولَةٌ مُطْلَقًا وَعَلَى مَنْ زَعَمَ أَنَّهَا مَرْدُودَةٌ مُطْلَقًا“ اور اس جو مقبولہ کی جو قید ذکر کی مصنف نے اس میں اشارہ ہے ان لوگوں کے رد کی طرف جنہوں نے یہ گمان کیا کہ مبالغہ مطلقاً کیا ہے؟ مقبول ہے، ان کو بھی رد کیا، اور ان لوگوں کو بھی جنہوں نے یہ گمان کیا کہ مبالغہ مطلقاً کیا ہے؟ مردود۔ تو بعض نے کہا مطلقاً مقبول، بعضوں نے کہا مطلقاً مردود، مصنف نے بتلایا نہ مطلقاً مقبول ہے نہ مطلقاً مردود ہے بلکہ کچھ قسمیں مقبول ہیں اور کچھ قسمیں مردود ہیں ان کو رد کیا جائے گا۔
”ثُمَّ إِنَّهُ فَسَّرَ مُطْلَقَ الْمُبَالَغَةِ وَبَيَّنَ أَقْسَامَهَا وَالْمَقْبُولَةَ وَالْمَرْدُودَةَ“، پھر مصنف نے تفسیر کی مطلق مبالغہ کی، مصنف پہلے کس کی تفسیر کریں گے؟ مطلق مبالغے کی کہ مبالغہ کہتے کسے ہیں، پھر آگے جا کر اس کی قسمیں بتلائیں گے بھئی اور بتلائیں گے کہ ان میں سے کچھ قسمیں مردود ہیں اور کچھ قسمیں کیا ہیں؟ مقبول ہیں۔ تو پھر تفسیر کی مطلق مبالغہ کی اور اس کی اقسام کو بیان کیا اور ان میں سے مقبولہ اور مردودہ کو کیا کیا؟ بیان کیا۔ ”فَقَالَ: وَالْمُبَالَغَةُ مُطْلَقًا أَنْ يُدَّعَى لِوَصْفٍ بُلُوغُهُ فِي الشِّدَّةِ أَوِ الضَّعْفِ“، والضعف نہیں بھئی، الف بڑھائیں یہاں پر، ”أَوِ الضَّعْفِ“ ہونا چاہیے۔ ”حَدًّا مُسْتَحِيلًا أَوْ مُسْتَبْعَدًا لِئَلَّا يُظَنَّ أَنَّهُ غَيْرُ مُتَنَاهٍ فِيهِ“، غیر متناہ فیہ۔
مبالغہ کسے کہتے ہیں؟ مطلق مبالغہ کہتے ہیں: ”أَنْ يُدَّعَى“ کہ دعویٰ کیا جائے ”لِوَصْفٍ“ کسی وصف کے لیے ”بُلُوغُهُ فِي الشِّدَّةِ أَوِ الضَّعْفِ“ اس کے پہنچنے کا شدت یا ضعف کے اندر ”حَدًّا مُسْتَحِيلًا“ ایسی حد تک جو محال ہو، جو کیا ہو؟ محال ہو، ”أَوْ مُسْتَبْعَدًا“ یا بڑی بعید ہو، محال تو نہیں، ممکن تو ہے لیکن محال کے قریب ہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ مبالغہ کی کیا تعریف کی بھئی ماتن نے؟ کہ دعویٰ کیا جائے کسی وصف کے لیے کہ یہ شدت کے اندر یا ضعف کے اندر یہ وصف اس حد تک پہنچ چکا ہے جو حد کیا ہے؟ محال ہے یا مستبعد ہے۔ کیوں ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِئَلَّا يُظَنَّ“ تاکہ یہ گمان نہ کیا جائے ”أَنَّهُ غَيْرُ مُتَنَاهٍ فِيهِ“ کہ یہ وصف جو ہے انتہاء کو پہنچا ہوا نہیں ہے بھئی، انتہاء کو پہنچا ہوا نہیں ہے بھئی۔
دیکھو بھئی، مثلاً شاعر یہ بیان کرنا چاہتا ہے کہ زید بڑا بہادر ہے، زید کیا ہے؟ بڑا بہادر ہے۔ اور یہ بتلانا چاہتا ہے کہ شجاعت کے اندر زید انتہا درجے کو پہنچا ہوا ہے، کس درجے کو؟ انتہا درجے کو پہنچا ہوا ہے۔ تو یہ بتلانے کے لیے وہ کیا کرتا ہے؟ مبالغہ کرتا ہے، بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور اس حد تک شجاعت کو بیان کر دیتا ہے جو عقلاً ممکن ہی نہیں ہے، جو عقلاً ممکن ہی نہیں ہے۔ یا عقلاً ممکن تو ہے لیکن محال مستبعد ہے، محال کے قریب ہی ہے، بڑی بعید ہے، بہت مشکل ہے اتنی شجاعت کا ہونا۔ تو شاعر یہ جو اس کی شجاعت کو محال کے درجے تک بیان کرتا ہے یا مستبعد درجے تک بیان کر دیتا ہے، یہ کس لیے کرتا ہے؟ تاکہ کہیں سننے والا یہ نہ گمان کر لے کہ زید کے اندر شجاعت تھوڑی ہے، اپنی انتہا کے درجے کو نہیں پہنچی ہوئی۔ تو وہ بات کو محال کے درجے تک پہنچا دیتا ہے، محال کے درجے تک بیان کر دیتا ہے کہ سننے والا سمجھ جائے گا کہ یہ کیا ہے محال کے درجے تک تو نہیں ہے لیکن کم از کم اپنی آخری حد تک پہنچی ہوئی ہے شجاعت بھئی، اپنی آخری حد تک پہنچی ہوئی ہے، جتنی شجاعت ہو سکتی ہے اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی سب کو؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی بھئی؟
تو دیکھیے مبالغہ مطلق یہ ہے کہ دعویٰ کیا جائے کسی وصف کے لیے یعنی جیسے شجاعت ہے، اس کا پہنچنا شدت میں یا ضعف میں، ایسی حد تک جو محال ہو یا مستبعد ہو، تاکہ یہ گمان نہ کر لیا جائے کہ وہ اس وصف کے اندر ممدوح جو ہے انتہاء کو یہ کوئی گمان نہ کر لے کہ شجاعت میں زید انتہاء کو نہیں پہنچا ہوا بلکہ کیا گمان کرے کہ زید کیا ہے شجاعت میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہے۔ ”وَإِنَّمَا يُدَّعَى ذَلِكَ لِئَلَّا يُظَنَّ أَنَّهُ“، ای ذلک الوصف تاکہ یہ گمان نہ کیا جائے کہ یہ وصف جو ہے ”غَيْرُ مُتَنَاهٍ فِيهِ أَيْ فِي الشِّدَّةِ أَوِ الضَّعْفِ“، کہ یہ وصف انتہاء کو نہیں پہنچا ہوا شدت یا ضعف میں۔ ”وَتَذْكِيرُ الضَّمِيرِ وَإِفْرَادُهُ بِاعْتِبَارِ عَوْدِهِ إِلَى أَحَدِ الْأَمْرَيْنِ“، بھئی شاعر نے کیا کہا تاکہ یہ گمان ماتن نے کہا تاکہ یہ گمان نہ کیا جائے ”أَنَّهُ“ کہ وہ وصف، ہا ضمیر کس کو راجع کی؟ وصف کو۔ ”غَيْرُ مُتَنَاهٍ“ انتہاء کو پہنچا ہوا نہیں ہے ”فِيهِ أَيْ فِي الشِّدَّةِ أَوِ الضَّعْفِ“، فیہ کی ہا ضمیر کس کو لوٹائی بھئی؟ شدت یا ضعف کو، الشدۃ او الضعف۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی الشدۃ او الضعف یہ تو دو ہیں، ان کی طرف تثنیہ کی ضمیر لوٹانی چاہیے تھی، ”غَيْرُ مُتَنَاهٍ فِيهِمَا“ کہنا چاہیے تھا لیکن ماتن نے کیا کہا ہے؟ ”غَيْرُ مُتَنَاهٍ فِيهِ“ کہا ہے، تو یہ تو ایک مفرد کی ضمیر لے کر آئے بھئی، کس کی؟ مفرد کی، حالانکہ کون سی ضمیر ہونی چاہیے تھی؟ تثنیہ کی، تثنیہ کی ہونی چاہیے تھی۔
تو علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں کہ بھئی یہاں پر شدت اور ضعف کو جو ذکر کیا گیا درمیان میں او کا لفظ لایا گیا بھئی، کیا لایا گیا؟ او کا حرف لایا گیا، تو اور جب او کے ساتھ دو یا زیادہ چیزوں کو بیان کیا جائے تو وہ احد الامرین یا احد الامور کی تاویل میں ہوتے ہیں۔ کس کی تاویل میں ہوتے ہیں؟ احد الامرین، مثلاً دو ہیں تو وہ احد الامرین کی تاویل میں ہوں گے، یہ یا یہ، یعنی دونوں میں سے ایک، دونوں امروں میں سے ایک بھئی۔ تو جب احد الامرین کی تاویل میں ہوئے تو اب اس کی طرف مفرد مذکر کی ضمیر لوٹائیں گے اس لیے کہ احد کا لفظ کیا ہے؟ مفرد بھئی الشدۃ او الضعف یہ ان کے درمیان عطف کس کے ساتھ آیا؟ او کے ساتھ، اور او کے ساتھ جب عطف کیا جائے تو یہ کس کی تاویل میں ہوتے ہیں؟ تو یہ احد الامرین ہوا، یہ کیا ہوئے؟ اور اب احد الامرین کی طرف جب آپ ضمیر لوٹائیں تو احد کا اعتبار تو مضاف کا کیا جاتا ہے تو مضاف احد کا لفظ کیا ہے؟ مفرد بھی ہے اور مذکر بھی ہے، تو ضمیر بھی کون سی لوٹائیں گے؟ مفرد مذکر۔
تو کہتے ہیں: ”وَتَذْكِيرُ الضَّمِيرِ وَإِفْرَادُهُ بِاعْتِبَارِ عَوْدِهِ إِلَى أَحَدِ الْأَمْرَيْنِ“، اور ضمیر کا مذکر لانا اور مفرد لانا باعتبار اس کے لوٹنے احد الامرین کی طرف اس کے لوٹنے کے اعتبار سے ہے۔ ”وَتَنْحَصِرُ الْمُبَالَغَةُ فِي التَّبْلِيغِ وَالْإِغْرَاقِ وَالْغُلُوِّ“، بھئی مبالغہ بند ہے تین قسموں کے اندر: تبلیغ ہے، اغراق ہے، اور غلو بھئی۔ مبالغے کی کتنی قسمیں ہیں؟ تبلیغ ہے، اغراق ہے، اور غلو ہے۔ ”لَا بِمُجَرَّدِ الِاسْتِقْرَاءِ بَلْ بِالدَّلِيلِ الْقَطْعِيِّ“، اور یہ کہتے ہیں صرف استقراء کے ساتھ نہیں ہے اس کی تین قسمیں بلکہ دلیلِ قطعی کے ساتھ ہیں، کس کے ساتھ ہیں؟ استقراء کہتے ہیں تلاش و جستجو۔ تو یہ جو تین قسمیں بنائی ہیں یہ اس وجہ سے نہیں کہ ہم نے کلامِ عرب میں چھان بین کی، جستجو کی تو ہمیں یہی تین قسمیں ملیں اور قسمیں ملیں نہیں، بلکہ دلیلِ قطعی کے ساتھ یہ تین ہی قسمیں ہیں، چوتھی کوئی قسم ممکن ہی نہیں ہے، یہ نہیں کہ کوئی اور بھی چھان بین کرے تو کوئی اور قسم مل جائے گی، نہیں، یہ انہی تین قسموں میں بند ہے۔ تو کہتے ہیں یہ تین قسموں میں بند ہیں ”لَا بِمُجَرَّدِ الِاسْتِقْرَاءِ“ محض چھان بین سے نہیں ”بَلْ بِالدَّلِيلِ الْقَطْعِيِّ“ بلکہ کس کے سبب سے؟ دلیلِ قطعی کے سبب سے۔
”وَذَلِكَ لِأَنَّ الْمُدَّعَى إِنْ كَانَ مُمْكِنًا عَقْلًا وَعَادَةً فَتَبْلِيغٌ“، اس لیے کہ وہ مدعا جس کا یعنی جس کا دعویٰ کیا گیا ہے، یعنی وہ دعویٰ جو ہے ”إِنْ كَانَ مُمْكِنًا عَقْلًا وَعَادَةً فَتَبْلِيغٌ“ اگر وہ عقلاً بھی ممکن ہو عادتاً بھی ممکن ہو تو یہ کیا ہے؟ تبلیغ ہے، یہ کیا ہے؟ تبلیغ ہے بھئی، تبلیغ بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ ”لِأَنَّ الْمُدَّعَى إِنْ كَانَ مُمْكِنًا عَقْلًا وَعَادَةً فَتَبْلِيغٌ“ اس لیے کہ مدعا اگر وہ عقلاً بھی ممکن ہے عادتاً بھی ممکن ہے تو یہ تبلیغ ہے ”كَقَوْلِهِ“ جیسے شاعر کا یہ قول:
”فَعَادَى عِدَاءً بَيْنَ ثَوْرٍ وَنَعْجَةٍ ... دِرَاكًا فَلَمْ يَنْضَحْ بِمَاءٍ فَيُغْسَلِ“
”فَعَادَى“ یعنی الفرس، عادا کہتے ہیں مولانا مسلسل دوڑنا۔ عادى بين الصيدين عربی میں کہتے ہیں بھئی ”عَادَى بَيْنَ الصَّيْدَيْنِ“ جب دو شکاروں کے میں مسلسل دوڑے بھئی، دو شکاروں میں مثلاً آپ نے گھوڑا دوڑایا ایک شکار کو گرا دیا اور پھر رکے نہیں مسلسل دوسرے شکار کے پیچھے دوڑتے چلے گئے، اس کو کیا کہیں گے؟ ”عَادَى بَيْنَ الصَّيْدَيْنِ“ دو شکاروں میں مسلسل دوڑا، دو شکاروں میں مسلسل دوڑا۔ جی، ”فَعَادَى“ یعنی الفرس عداء پس دوڑا یعنی گھوڑا دوڑنا، ”وَهُوَ الْمُوَالَاةُ بَيْنَ الصَّيْدَيْنِ“ خود علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں اور وہ مسلسل دوڑنا ہے دو شکاروں کے بیچ، ”يَصْرَعُ أَحَدَهُمَا عَلَى أَثَرِ الْآخَرِ“ کہ پچھاڑ دے، گرا دے ایک کو دوسرے کے پیچھے ”فِي طَلَقٍ وَاحِدٍ“، طلق کہتے ہیں چکر بھئی، گھوڑے گھڑ دوڑ کا ایک چکر، ”فِي طَلَقٍ وَاحِدٍ“ بھئی ایک ہی دوڑ میں، ایک ہی دوڑ کے اندر گھوڑے کی ایک ہی دوڑ میں ایک کو گرانے کے بعد دوسرے کو بھی اس کے پیچھے گرا دے بھئی۔ ”بَيْنَ ثَوْرٍ“ تو وہ گھوڑا دوڑا ”عِدَاءً“ مفعولِ مطلق دوڑنا، وہ دوڑا ”بَيْنَ ثَوْرٍ“ یعنی نر گائے، ثور کس کو کہتے ہیں بھئی؟ بقرِ وحشی جو ہے یعنی نیل گائے جو ہے اس کا جو مذکر ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ ثور۔ وہ مراد ہے یہاں بھئی، ثور ویسے بیل کو، تو وہ مراد ہے۔ ”بَيْنَ ثَوْرٍ“ وہ نیل گائے کے مذکر کے بیچ ”وَنَعْجَةٍ“ یعنی الانثیٰ منہا اور یعنی اسی میں سے جو مؤنث ہے، یعنی نیل گائے اور اس کے مذکر کے بیچ دوڑا میرا گھوڑا بھئی، ”دِرَاكًا“ ای متتابعاً مسلسل لگاتار دوڑا، ”فَلَمْ يَنْضَحْ بِمَاءٍ“ پس ينضح کا معنی ہے بھئی پسینہ آنا اور تر ہونا، تر ہونا بھئی۔ ”فَلَمْ يَنْضَحْ“ پس وہ تر نہیں ہوا ”بِمَاءٍ“ پانی کے ساتھ، پانی کے ساتھ وہ تر شاعر اپنے گھوڑے کی تعریف کر رہا ہے بھئی۔ وہ گھوڑا عرب میں عمدہ شمار ہوتا تھا جسے جتنا زیادہ دوڑائیں اور اسے پسینہ نہ آئے یا بے انتہا کم آئے بھئی۔ اگر پسینہ زیادہ آتا ہے تو یہ اس کا عمدہ ہونے کی علامت نہیں ہے بلکہ کم پسینہ آئے تو یہ عمدہ۔
تو شاعر بھئی اپنے امرؤ القیس اپنے گھوڑے کی تعریف کر رہا ہے کہ وہ ایک ہی دوڑ میں دوڑا، ایک شکار کے بعد دوسرے کے پیچھے دوڑا اور اتنا دوڑنے کے باوجود اس وہ اس ”فَلَمْ يَنْضَحْ بِمَاءٍ“ وہ پانی کے ساتھ تر نہیں ہوا یعنی اس کو پسینہ نہیں آیا ”فَيُغْسَلَ“ کہ اس کو پھر دھویا جائے، کہ اس کو کیا کیا جائے؟ بھئی اگر اس کو پسینہ آتا تو اسے صاف کرنے، نہلانے وغیرہ دھونے کی ضرورت پڑتی گھوڑے کو لیکن اسے پسینہ ہی نہیں آیا تو اسے غسل دھونے غسل کی ضرورت بھی، غسل دینے کی ضرورت بھی نہ ہوئی۔ ”فَلَمْ يَنْضَحْ بِمَاءٍ“ پس وہ تر نہیں ہوا پانی کے ساتھ ”فَيُغْسَلَ“ کہ تو کیا ”فَلَمْ يُغْسَلْ“ اس کا عطف بھی ينضح پر ہے، پس نہیں اس کو نہیں دھویا گیا۔ جب وہ تر نہیں ہوا، پسینہ نہیں آیا تو اس کو دھویا بھی نہیں گیا، بتلا رہے ہیں مجزومٌ، فیغسل کا لفظ کیا ہے؟ مجزوم ہے، معطوفٌ علیٰ ينضح یہ اس کا عطف بھی کس پر ہے؟ ينضح پر ہے، ”أَيْ لَمْ يَعْرَقْ“ اس کو پسینہ نہیں آیا، عرق يعرق کا معنی پسینہ آنا، ”أَيْ لَمْ يَعْرَقْ فَلَمْ يُغْسَلْ“ اس کو پسینہ نہیں آیا تو اس کو دھویا بھی نہیں گیا۔
”ادَّعَى أَنَّ فَرَسَهُ أَدْرَكَ ثَوْرًا وَنَعْجَةً فِي مِضْمَارٍ وَاحِدٍ وَلَمْ يَعْرَقْ“، شاعر نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کے گھوڑے نے پایا ایک بیل اور ایک نیل گائے کو ایک ہی چکر میں اور اس کو پسینہ نہیں آیا، ”وَهَذَا مُمْكِنٌ عَقْلًا وَعَادَةً“، اور علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں کہ یہ عقلاً اور عادتاً ممکن بھی ہے بھئی کہ ایک گھوڑا دو شکاروں کے پیچھے دوڑے اور اس کو پسینہ نہ آئے، یہ عقلاً بھی ممکن ہے اور عادتاً بھی ممکن ہے، ایسے عمدہ گھوڑے ہوتے ہیں جن کو پسینہ واقعی نہیں آتا بھئی۔
”وَإِنْ كَانَ مُمْكِنًا عَقْلًا لَا عَادَةً فَإِغْرَاقٌ“، اور اگر وہ دعویٰ جو ہے عقلاً تو ممکن ہے لیکن عادتاً ممکن نہیں تو مبالغے کی یہ قسم کیا کہلاتی ہے؟ اغراق کہلاتی ہے، ”كَقَوْلِهِ: وَنُكْرِمُ جَارَنَا مَا دَامَ فِينَا وَنُتْبِعُهُ الْكَرَامَةَ حَيْثُ مَالَا“۔ ”وَنُكْرِمُ جَارَنَا“ شاعر اپنی سخاوت کی تعریف کر رہا ہے کہ ہم اکرام کرتے ہیں اپنے پڑوسی کا ”مَا دَامَ فِينَا“ جب تک وہ ہمارے بیچ ہوتا ہے۔ جب تک ہمارے پاس ہمارا پڑوسی رہتا ہے ہم اس کا کیا کرتے ہیں؟ اکرام کرتے ہیں، اس پر احسانات کرتے رہتے ہیں، ”وَنُتْبِعُهُ“ بلکہ ہم تو اتنے سخی لوگ ہیں ”وَنُتْبِعُهُ الْكَرَامَةَ“ ہم اس کے پیچھے بھیجتے ہیں احسان کو بھئی، ”حَيْثُ مَالَا“ وہ جس طرف بھی مائل ہو جائے۔ بھئی ہمارے پاس رہتا ہے تو ہم اس کا اکرام کرتے ہیں، احسانات کرتے ہیں، اگر وہ ہمارے پڑوس کو چھوڑ کر دور کہیں چلا جائے تو بھی ہمارے احسانات ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ جہاں چلا جاتا ہے ہمارے احسانات وہیں تک اس کو پہنچتے، پہنچتے رہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو کہتے ہیں ہم اکرام کرتے ہیں ”نُكْرِمُ جَارَنَا“ اپنے پڑوسی کا ”مَا دَامَ فِينَا“ جب تک ہمارے بیچ ہوتا ہے، ”وَنُتْبِعُهُ“ اور ہم اس کے پیچھے بھیجتے ہیں، نتبع اتباع سے ہے، ”أَيْ نُرْسِلُ الْكَرَامَةَ عَلَى أَثَرِهِ“ یعنی بھیجتے ہیں احسان کو اس کے اس کے اثر پر، اس کے نشانات پر یعنی اس کے پیچھے، ”حَيْثُ مَالَا“ مال يميل کا معنی مائل ہونا، جس طرف وہ مائل ہو جائے ”وَسَارَ“ اور چلے بھئی۔ ”وَهَذَا مُمْكِنٌ عَقْلًا لَا عَادَةً“، یہ عقلاً تو ممکن ہے لیکن عادتاً ممکن نہیں بھئی۔ عقلاً تو ممکن ہے بھئی کہ کیا کیا جائے کہ وہ پڑوسی چلا گیا ہے لیکن پھر بھی آپ اس کا خیال رکھیں اور آپ کے احسانات اسے پہنچتے رہیں دور رہنے کے باوجود، لیکن عادتاً نہیں بھئی، عادتاً ایسا ہوتا ہے بھئی کہ پڑوسی چلا جائے، دور چھوڑ کر چلا گیا تو پھر بھی لوگ کیا کرتے ہوں اس کے ساتھ؟ احسان وغیرہ کرتے ہوں، عادتاً ایسا ہوتا نہیں۔ بلکہ علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں آگے: ”بَلْ فِي زَمَانِنَا يَكَادُ يُلْحَقُ بِالْمُمْتَنِعِ عَقْلًا“، بلکہ ہمارے زمانے میں تو کہتے ہیں اس کو ملحق ہونا چاہیے ممتنع عقلی کے ساتھ بھئی، ممتنع یعنی ہمارا زمانہ تو اتنا خراب ہو چکا ہے کہ اب تو اس کو عقلاً بھی یوں ہے گویا عقلاً بھی یہ ممکن ہی نہیں رہا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ عقلاً ہی ممکن نہیں ہے، اب تو کہتے ہیں کوئی کسی کا خیال نہیں رکھتا تو۔ جی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”وَهُمَا“ أَيِ التَّبْلِيغُ وَالْإِغْرَاقُ ”مَقْبُولَانِ“، اور یہ دو قسمیں جو ہیں مولانا تبلیغ اور اغراق جو ہیں مقبولان، یہ دونوں کیا ہیں؟ مقبول ہیں۔ ”وَإِلَّا“ أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُمْكِنًا لَا عَقْلًا وَلَا عَادَةً، اور اگر ایسا نہ ہو یعنی کہ نہ عقلاً ممکن ہو اور نہ عادتاً ممکن ہو۔ اگر ایسا نہ ہو یعنی نہ عقلاً ممکن ہو اور نہ عادتاً ممکن ہو، دیکھو بھئی ابھی تک آپ نے کتنی قسمیں پڑھیں؟ مبالغے کی آپ نے دو قسمیں پڑھ لیں: ایک تبلیغ ہے ایک اغراق ہے۔ تبلیغ کیا تھی مولانا؟ کہ جو عقلاً بھی ممکن ہو اور عادتاً بھی ممکن ہو، اور اس کے بعد اغراق پڑھی بھئی جو عقلاً تو ممکن ہے لیکن عادتاً ممکن نہیں۔ اور پھر آگے اب فرما رہے ہیں ماتن: ”وَإِلَّا“ اگر ایسا نہ ہو، تو ماقبل میں دو قسمیں بیان کی تھیں تو اگر ایسا نہ ہو بھئی یہ اس کے اندر بھی کتنی صورتیں آنی چاہئیں؟ دو صورتیں آنی چاہئیں۔ کیا بھئی کتنی صورتیں؟ جو پہلے دو ذکر ہوئیں دونوں کا ذرا عکس کرو۔ پہلی صورت کیا ذکر ہوئی تھی؟ عقلاً بھی ممکن ہو اور عادتاً بھی ممکن ہو، تو اس کا عکس کرو: جو نہ عقلاً ممکن ہو اور نہ ایک یہ قسم آ گئی، اور دوسری قسم کیا پڑھی؟ جو عقلاً تو ممکن ہو لیکن عادتاً ممکن اس کا ذرا عکس کرو: جو عقلاً تو ممکن نہ ہو لیکن عادتاً ممکن ہو، تو دو قسمیں اور ہیں ابھی، کیا ہیں؟ دو قسمیں اور ہیں۔ لہٰذا یہ جو ”وَإِلَّا“ اگر ایسا نہ ہو اس کے آگے کتنی قسمیں ذکر ہونی چاہئیں؟ دو قسمیں، لیکن علامہ تفتازانی صرف ایک قسم ذکر کر رہے ہیں کہ جو نہ عقلاً ممکن ہو اور نہ عادتاً ممکن ہو، وہ قسم تو ذکر کر دی لیکن جو عقلاً تو ممکن نہیں لیکن عادتاً ممکن ہے اس قسم کو ذکر نہیں کیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کیوں نہیں ذکر کیا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ جو عقلاً ممکن نہیں ہو گا وہ عادتاً ممکن ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ عقلاً ممکن نہ ہو اور عادتاً کیا ہو؟ ممکن ہو، ایسا ہو سکتا ہے بھئی؟ جو چیز عقلاً ہی نہیں ممکن وہ عادتاً بھی ممکن نہیں۔ اسی لیے ”وَإِلَّا“ کے بعد صرف ایک صورت ذکر کی، دوسری صورت تو ممکن ہی نہیں ہے۔
”أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُمْكِنًا لَا عَقْلًا وَلَا عَادَةً لِامْتِنَاعِ أَنْ يَكُونَ مُمْكِنًا عَادَةً مُمْتَنِعًا عَقْلًا“، اور اگر نہ وہ عقلاً ممکن ہو اور نہ عادتاً، دیکھو خود بتلا رہے ہیں بھئی یہ چوتھی قسم کیوں نہیں ذکر کی؟ اس لیے کہ ممتنع ہے کہ وہ کیا ہو دعویٰ عادتاً تو ممکن ہو اور عقلاً ممتنع ہو، ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ہے، ممکن ہی نہیں لہٰذا اس کو شمار ہی نہیں کیا۔ ”إِذْ كُلُّ مُمْكِنٍ عَادَةً مُمْكِنٌ عَقْلًا“، اس لیے کہ جو بھی چیز عادتاً ممکن ہو گی وہ عقلاً بھی کیا ہو گی؟ ممکن ہو گی، یہ نہیں ہو سکتا عادتاً تو ممکن ہو اور عقلاً ممکن نہ ہو۔ تو کہتے ہیں اس لیے کہ جو بھی ممکن ہو گا باعتبار عادت کے وہ ممکن ہو گا عقل کے اعتبار سے بھی، ”وَلَا يَنْعَكِسُ“ اور اس کا عکس نہیں کہ جو عادتاً ممکن ہو وہ عقلاً ممکن نہ ہو ایسا ایسا ہو سکتا ہے بھئی ایک چیز عادتاً ممکن اور؟ تو یہ قسم جو ہے ”فَغُلُوٌّ“ یہ کیا ہے؟ غلو کہلاتی ہے، ”كَقَوْلِهِ: وَأَخَفْتَ أَهْلَ الشِّرْكِ حَتَّى إِنَّهُ لَتَخَافُكَ النُّطَفُ الَّتِي لَمْ تُخْلَقِ“۔ جی، بھئی مبالغے کی یہ قسم ہے۔ مبالغے کی یہ قسم جو نہ عقلاً ممکن ہے اور نہ عادتاً ممکن ہے۔ شاعر کہتا ہے بھئی اپنے ممدوح کے بارے میں کہ تو نے دشمنوں کو، اہل شرک کو ڈرا دیا ہے بھئی، تجھ سے اہل شرک اتنے ڈرتے ہیں: ”وَأَخَفْتَ أَهْلَ الشِّرْكِ“ اور تو نے خوفزدہ کر دیا، ڈرا دیا اہل شرک والوں کو، مشرکین کو ”حَتَّى إِنَّهُ“ یہاں تک کہ ”لَتَخَافُكَ النُّطَفُ“ شان یہ ہے کہ تجھ سے وہ نطفے بھی ڈرتے ہیں ”الَّتِي لَمْ تُخْلَقْ“ جو ابھی پیدا ہی نہیں کیے گئے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ شاعر کہتا ہے مشرکین کو تو نے اتنا ڈرا دیا ہے کہ ان کے وہ نطفے جو ابھی پیدا بھی نہیں کیے گئے وہ بھی کیا ہیں؟ تجھ سے ڈرتے ہیں، اور یہ مولانا نہ عقلاً ممکن ہے اور نہ عادتاً ممکن ہے کہ ابھی نطفہ پیدا ہی نہیں ہوا اور پہلے سے ہی کیا ہے؟ ڈرتا ہو۔ ”فَإِنَّ خَوْفَ النُّطْفَةِ غَيْرِ الْمَخْلُوقَةِ مُمْتَنِعٌ عَقْلًا وَعَادَةً“، اس لیے کہ ایسا نطفہ جو مخلوق ہی نہیں ہے اس کا ڈرنا ممتنع ہے عقلاً بھی اور عادتاً بھی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
”وَالْمَقْبُولُ مِنْهُ“، یہاں سے بتلا رہے ہیں بھئی، مبالغے کی تین اقسام بتائیں: پہلی قسم کیا تھی؟ تبلیغ، جو کیا تھی؟ عقلاً بھی ممکن تھی اور عادتاً بھی۔ دوسری قسم بتلائی کہ جو عقلاً تو ممکن ہے عادتاً ممکن نہیں اور وہ ہے اغراق، اور یہ دونوں مقبول ہیں بھئی۔ اور تیسری قسم وہ بتلائی جو نہ عقلاً ممکن ہے اور نہ عادتاً ممکن ہے اور اسے غلو کہتے ہیں، تو غلو بھی غلو کی بھی کہتے ہیں ساری قسمیں مردود نہیں ہیں بھئی، ساری قسمیں بلکہ اس میں سے کچھ قسمیں مقبول ہیں بھئی، غلو کی بھی کچھ قسمیں کیا ہیں؟ جو نہ عقلاً بھی ممکن نہیں ہے، عادتاً بھی ممکن نہیں ہے، ایسا مبالغہ کر دینا لیکن اس کو رد نہیں کیا جائے گا بلکہ اس میں دیکھا جائے گا، کچھ قسمیں اس کی مقبول ہیں۔
”وَالْمَقْبُولُ مِنْهُ أَيْ مِنَ الْغُلُوِّ أَصْنَافٌ: مِنْهَا مَا أُدْخِلَ عَلَيْهِ مَا يُقَرِّبُهُ إِلَى الصِّحَّةِ“، اور مقبول اس غلو میں سے کچھ اقسام ہیں، ان میں سے ایک وہ قسم ہے کہ جس پر داخل کیا جائے ما کوئی ایسا کلمہ، ایسا لفظ ”يُقَرِّبُهُ إِلَى الصِّحَّةِ“ جو اس کو صحیح ہونے کے قریب کر دے، کیا کر دے؟ صحیح ہونے کے قریب کر دے۔ بھئی دیکھو بھئی، کہنے والا ایک دعویٰ کرتا ہے اور وہ دعویٰ کیا ہے؟ نہ عقلاً ممکن ہے اور نہ عادتاً ممکن ہے، لیکن وہ اس دعوے پر کوئی ایسا لفظ داخل کر دیتا ہے جو اس کو صحیح ہونے کے قریب کر دیتا ہے، کیا کر دیتا ہے؟ صحیح ہونے کے قریب کر دیتا ہے۔ ”نَحْوُ لَفْظَةِ يَكَادُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ“ جیسے یکاد کا لفظ ہے اللہ کے اس قول میں: ”يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ“، قریب ہے کہ یہ جو زیتون کا تیل ہے ”يُضِيءُ“ روشنی دے بھئی، قریب ہے کہ زیتون کا تیل یہ روشن ہو جائے ”وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ“ اگرچہ اس کو آگ نہ چھوئے، اگرچہ اس کو آگ آگ نے اس کو چھوا بھی نہ ہو لیکن قریب ہے کہ یہ خود ہی کیا کرنے لگے؟ روشنی دینے لگے۔
اب زیتون کے تیل کا خود بخود روشنی دینا نہ یہ عقلاً ممکن ہے اور نہ عادتاً ممکن ہے لیکن اس پر اللہ تعالیٰ نے یکاد کے لفظ کو داخل فرما دیا، قریب ہے، کیا فرمایا؟ یعنی ایسا ہے نہیں ہاں قریب ہے اس کے، تو اس کی وجہ سے اب یہ کیا ہو گیا؟ صحیح ہوا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ قریب ہے اس بات کے۔ لیکن یہ مولانا مصنف نے یہاں عبارت جو تعبیر کی، دوسرے لفظوں کے ساتھ تعبیر کرتا تو زیادہ مناسب تھا، مصنف نے کیا کہا: ”مَا أُدْخِلَ عَلَيْهِ مَا يُقَرِّبُهُ إِلَى الصِّحَّةِ“ کہ وہ قسم ہے مبالغے کی جس پر داخل کیا جائے کوئی ایسا کلمہ جو اس کو کس کے قریب کر دے؟ صحیح ہونے کے قریب کر دے، اور آگے مثال ذکر کر دی کلام اللہ کی بھئی، کس کی ذکر کر دی؟ کلام اللہ کی، تو کلام اللہ کی مثال ذکر کر دی تو ادب کا تقاضا یہ تھا کہ یوں کہنا چاہیے تھا کہ کوئی ایسا لفظ داخل کر دیں کہ اسے امتناع سے نکال دیں، کیا کہتے؟ کوئی ایسا لفظ اس پر اضافہ کر دیا جائے جو اسے کیا کر دے؟ ناممکن ہونے سے نکال دے، کیا کر دے؟ ناممکن ہونے سے نکال دے، یوں کہنا چاہیے تھا، اور انہوں نے تو کیا کہا کہ اس کو صحیح ہونے کے قریب کر دے، حالانکہ کیا اللہ کے کلام سے زیادہ صحیح کلام ہو سکتا ہے بھئی؟ اس کلام سے زیادہ کوئی صحیح کلام نہیں ہو سکتا، تو لہٰذا ادب کا تقاضا یہ تھا کہ تعبیر بدل دیتے بھئی، تعبیر بدل دیتے۔
”وَمِنْهَا مَا تَضَمَّنَ نَوْعًا حَسَنًا مِنَ التَّخْيِيلِ“، اور مبالغے کی اقسام میں سے ایک وہ قسم ہے جو متضمن ہو ایک اچھی نوع کو تخییل میں سے، جو تخییل کی ایک اچھی نوع کو متضمن ہو۔ تخییل کہتے ہیں مولانا سامع کے، مخاطب کے ذہن میں، خیال میں کوئی بات ڈالنا بھئی۔ تخییل کسے کہتے ہیں بھئی؟ خیّل یخیّل تخییلاً بھئی، مخاطب کے ذہن میں، خیال میں کوئی بات ڈالنا اسے کہتے ہیں تخییل۔ تو مخاطب کے خیال میں کوئی اچھی بات ڈالنا بھئی، جیسے شاعر کا یہ قول ہے:
”عَقَدَتْ سَنَابِكُهَا عَلَيْهَا عِثْيَرًا ... لَوْ تَبْتَغِي عَنَقًا عَلَيْهِ لَأَمْكَنَا“
”عَقَدَتْ سَنَابِكُهَا“ جما دیا اس کے کھروں نے، ان کے کھروں نے، ”عَقَدَتْ سَنَابِكُهَا“ ان گھوڑوں کے کھروں نے جما دیا ”عَلَيْهَا“ ان گھوڑوں کے اوپر ”عِثْيَرًا“، عثیر مولانا درہم کے وزن پر ہے، ان پر عثیر جما دیا یعنی غبار جما دیا۔ اگلے صفحے پر متن: ”لَوْ تَبْتَغِي عَنَقًا عَلَيْهِ لَأَمْكَنَا“، اگر وہ طلب کریں، اگر وہ چاہیں اس پر تیزی سے چلنا ”لَأَمْكَنَا“ تو یہ چلنا ممکن ہے بھئی، یہ چلنا ممکن ہے۔ شاعر یہ کہتا ہے بھئی، شاعر کہتا ہے کہ ہمارے گھوڑے اتنے دوڑے جنگ کے اندر اتنی تیزی سے دوڑے اور انہوں نے اتنی گرد و غبار اڑائی، اتنی گرد و غبار اڑائی کہ وہ گرد و غبار اتنی زیادہ تھی کہ وہ گھوڑوں کے سروں پر کیا ہو گئی؟ جم گئی، یعنی اوپر، گھوڑوں سے اوپر فضا میں اتنی زیادہ تھی کہ وہ فضا میں اکٹھی ہوئی اور ہمارے سروں کے اوپر ایک اور زمین بن گئی، کیا بن گئی؟ اتنی گرد و غبار تھی کہ ایک اور زمین جم گئی اوپر بن گئی، اگر اس پر بھی یہ گھوڑے دوڑنا چاہتے تو گھوڑے اس پر دوڑ سکتے تھے۔ تو دیکھو کتنا مبالغہ کیا گرد کے اڑانے میں کہ اتنی گرد اڑی کہ اوپر ایک باقاعدہ چھت ہی بن گئی بھئی جس پر گھوڑے بھی دوڑ سکتے ہیں بھئی۔ تو دیکھو یہ تخییل حسن ہونے کی بنا پر یہ مبالغہ کیا ہے؟ ایک بڑی اچھی قسم کا خیال سامع کے ذہن میں ڈالا، ایک عجیب خیال بھئی۔
عقدت کا معنی ہے جمانا یہاں، جمانا۔ سنابک جمع ہے سنبک کی، سنبک یہ کھر کو کہتے ہیں۔ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ خود بتلا رہے ہیں: ”أَيْ حَوَافِرُ الْجِيَادِ“، جیاد جمع ہے جواد کی، عمدہ گھوڑے کو کہتے ہیں۔ جواد سخی کو بھی کہتے ہیں، عمدہ گھوڑے کو بھی کہتے ہیں۔ حوافر وہی کھر بھئی۔ سنابکہا کا معنی بتلا رہے ہیں بھئی: ”سَنَابِكُهَا أَيْ حَوَافِرُ الْجِيَادِ“، یعنی گھوڑوں کے کھر بھئی، جما دیا گھوڑوں کے کھروں نے ”عَلَيْهَا أَيْ فَوْقَ رُءُوسِهَا“، علیٰ ہا ضمیر بھی انہی جیاد کو راجع، ان گھوڑوں پر یعنی ان کے سروں پر، سمجھ میں آیا؟ ”عِثْيَرًا بِكَسْرِ الْعَيْنِ“، یہ عثیر کیا ہے؟ عین کے کسرے کے ساتھ ہے، عین کے کسرے کے ساتھ، ”أَيْ غُبَارًا“ کیا مراد ہے اس سے؟ غبار، کیا جما دیا ان گھوڑوں کے سروں پر، اوپر فضا میں کیا جما دیا ان کے کھروں نے؟ غبار کو جما دیا۔
جی، اب درمیان میں علامہ تفتازانی بھی اس قسم کی کچھ لطیف باتیں ذکر کریں گے بھئی۔ عثیر کی بات آئی تو عثیر کے بارے میں بتلانے لگے ہیں۔ ”وَمِنْ لَطَائِفِ الْعَلَّامَةِ فِي شَرْحِ الْمِفْتَاحِ: الْعِثْيَرُ الْغُبَارُ وَلَا يُفْتَحُ فِيهِ الْعَيْنُ“۔ بھئی علامہ شیرازی نے مفتاح العلوم کی شرح لکھی ہے۔ علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں کہ علامہ شیرازی کے لطائف میں سے ہیں شرح مفتاح میں، مفتاح العلوم میں جو انہوں نے لطیف باتیں کی ہیں ان میں سے ایک لطیف بات انہوں نے یہ کی ہے بھئی، انہوں نے لکھا ہے علامہ شیرازی نے، کہتے ہیں: ”الْعِثْيَرُ الْغُبَارُ“، عثیر کیا ہے؟ غبار ہے، ”وَلَا يُفْتَحُ فِيهِ الْعَيْنُ“ اور اس کے اندر اس میں آنکھ نہیں کھولی جاتی۔ اس کے اندر آنکھ نہیں کھولی جاتی، تو دیکھو یہاں کہتے ہیں دو معنی ہو سکتے ہیں: ”وَلَا يُفْتَحُ فِيهِ الْعَيْنُ“ اس میں عین کو فتحہ نہیں دیا جائے گا یعنی عین پر فتحہ نہیں پڑھا جائے گا، عثیَر نہیں پڑھیں گے بلکہ کیا پڑھیں گے؟ عِثیَر پڑھیں گے، اور اس کا دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عثیر غبار کو کہتے ہیں اور غبار میں آنکھیں نہیں کھولی جاتیں ورنہ تو غبار آنکھوں میں پڑ جائے گا، دیکھا لطیف بات کی۔ تو کہتے ہیں عثیر غبار ہے اور اس میں عین کو فتحہ نہیں دیا جاتا یا یوں کہیں اس کے اندر آنکھ نہیں کھولی جاتی۔ تو مولانا یہ دو معنی ہو سکتے ہیں یہاں پر، تو یہ توریہ ہوا، کیا ہوا بھئی؟ توریہ، توریہ کسے کہتے ہیں؟ کہ بات کے دو معنی ہوں بھئی لفظ کے: ایک معنی قریب اور ایک معنی بعید، اور متکلم معنی بعید مراد لیتا ہے اور سننے والا کیا سمجھتا ہے؟ معنی قریب سمجھتا ہے، تو یہاں دو معنی۔ یا مولانا یہ توجیہ ہے، کیا ہے؟ توجیہ، توجیہ اسے کہتے ہیں کہ کلام دو معنی کا احتمال رکھتا ہو، کلام کیا ہے؟ دو معنی کا احتمال رکھتا ہو بھئی۔ توریہ میں تو ایک معنی قریب ہونا اور ایک معنی بعید ہونا ضروری ہے بھئی، تو اگر توریہ بنانا چاہیں توریہ بنا لیں، یا یوں کہیں دونوں معنی برابر ہیں تو کیا قرار دے دیں اس کو؟ توجیہ کہ دو معنی کا احتمال بھئی۔
”وَأَلْطَفُ مِنْ ذَلِكَ مَا سَمِعْتُ أَنَّ بَعْضَ الْبَغَّالِينَ كَانَ يَسُوقُ بَغْلَتَهُ فِي سُوقِ بَغْدَادَ وَكَانَ بَعْضُ عُدُولِ دَارِ الْقَضَاءِ حَاضِرًا“، اور اس سے بھی زیادہ لطیف بات وہ ہے جو میں نے سنی کہ بغال وہ خچر والے بھئی، خچر ہانکنے والے، کہ بعض خچروں والے جو ہیں وہ ہانک رہا تھا اپنے خچر کو بغداد کے بازار میں، اور بعض دار القضاء کے بعض عادل، عدول جمع ہے عادل کی، بعض دار القضاء کے عادل لوگ بھی وہاں حاضر تھے یعنی کوئی قاضی کا وکیل وغیرہ کوئی وہاں حاضر تھا، کیا تھا؟ کوئی وکیل وہاں پر حاضر تھا وہ اپنے خچر کو لے کر جا رہا تھا، ”فَضَرَطَتِ الْبَغْلَةُ“ تو اس خچر نے آواز کے ساتھ ہوا خارج کی، ”فَقَالَ الْبَغَّالُ عَلَى مَا هُوَ دَأْبُهُمْ: بِلِحْيَةِ الْعِدْلِ“ تو بغال نے کہا جیسا کہ ان کی عادت ہوتی ہے ”بِلِحْيَةِ الْعِدْلِ“۔ عدل کہتے ہیں ایک پہلو پر لدا ہوا جو بوجھ ہوتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جانور پر بوجھ لادتے ہیں، ادھا ایک طرف آدھا دوسری طرف، تو ایک طرف کا جو بوجھ ہے اس کو عدل کہتے ہیں، عِدل۔ تو جیسے کہ ان کی عادت ہوتی ہے بھئی اس نے یہ فعل کیا تو خچر والا فوراً بولا: ”بِلِحْيَةِ الْعِدْلِ“، یعنی یہ جو فعل کیا ہے یہ گٹھڑی میں سامان پر واقع ہو، ہانکنے والے پر واقع نہ ہو۔ ”بِكَسْرِ الْعَيْنِ“ تو عدل کو عین کے کسرے کے ساتھ پڑھا، ”أَيْ أَحَدِ شِقَّيِ الْوِقْرِ“، یعنی وقر کہتے ہیں بوجھ کو، شق کہتے ہیں مولانا جزو کو آدھے حصے کو، شقین یہ تثنیہ تھا نون اضافت سے گر گیا، بوجھ کے دو حصوں میں سے ایک میں، ایک مراد ہے، عدل سے کیا مراد ہے؟ بوجھ کے دو حصوں میں سے ایک یعنی ایک طرف کا بوجھ۔ ”فَقَالَ بَعْضُ الظُّرَفَاءِ عَلَى الْفَوْرِ: اِفْتَحِ الْعَيْنَ فَإِنَّ الْمَوْلَى حَاضِرٌ“ تو کوئی مولانا خوش طبع آدمی وہاں تھا اس نے فوراً کہا، فوراً کہا: ”اِفْتَحِ الْعَيْنَ فَإِنَّ الْمَوْلَى حَاضِرٌ“۔ اس نے کیا کہا تھا؟ ”بِلِحْيَةِ الْعِدْلِ“، گٹھڑی میں بھئی، گٹھڑی کی داڑھی میں ہو بھئی، تو اس نے فوراً کہا: ”اِفْتَحِ الْعَيْنَ“ بھئی، کیا کر؟ عین کو فتحہ دے دے، کیا کر؟ عین کو فتحہ دے دے، عِدل اس نے کہا تھا، اس نے کہا عَدل کہہ بھئی: ”بِلِحْيَةِ الْعَدْلِ“، ”اِفْتَحِ الْعَيْنَ“ عین کو فتحہ دے دے ”فَإِنَّ الْمَوْلَى حَاضِرٌ“ اس لیے کہ گواہ کیا ہے، مولیٰ کیا ہے؟ نام والا حاضر ہے، یوں کہو۔ مولیٰ سے کیا مراد ہے؟ وہ مولیٰ اسم بھئی، نام والا مراد ہے، نام والا حاضر ہے۔ تو ”بِلِحْيَةِ الْعِدْلِ“ تو نے کہا ہے، عین کو فتحہ دے، ”بِلِحْيَةِ الْعَدْلِ“ کہہ بھئی، یہ جو عادل ہے، یہ جو وکیل ہے قاضی کا اس کی داڑھی میں، یوں کہہ بھئی یعنی اس کا مذاق وغیرہ اڑایا بھئی۔
”وَمِنْ هَذَا الْقَبِيلِ“، اور اسی قبیل سے ہے، جی، یا مولانا ہاں، ”اِفْتَحِ الْعَيْنَ“ کا ایک معنی تو یہ کہ عین کو فتحہ دے دے، یا ایک معنی یہ کہ آنکھ کھول بھئی، آنکھ کھول بھئی وہ نام والا کیا ہے؟ حاضر ہے، وہ بھی موجود ہے۔ ”وَمِنْ هَذَا الْقَبِيلِ مَا وَقَعَ لِي فِي قَصِيدَةٍ“، اور اسی قبیل سے ہے وہ جو واقع ہوا میرے لیے ایک قصیدے کے اندر بھئی، کس کے اندر؟ ایک قصیدے کے اندر:
”عَلَا فَأَصْبَحَ يَدْعُوهُ الْوَرَى مَلِكًا ... وَرَيْثَمَا فَتَحُوا عَيْنًا غَدَا مَلَكَا“
علا بھئی بلند ہوا، علامہ تفتازانی ہی کا شعر ہے اپنے کسی کی تعریف کر رہے ہیں کہ وہ میرا ممدوح بلند ہوا ”فَأَصْبَحَ يَدْعُوهُ الْوَرَى مَلِكًا“ پس وہ ہو گیا کہ پکارتی ہے اس کو مخلوق ملکا کیا کہہ کر؟ بادشاہ کہہ کر۔ کہتے ہیں میرا ممدوح اتنا بلند ہو گیا کہ اب ساری مخلوق اسے کیا کہہ کر پکارتی ہے؟ بادشاہ کہہ کر پکارتی ہے، ”وَرَيْثَمَا“ ريث راث يريث سے مصدر ہے جو بمعنی تاخیر کرنے کے معنی میں آتا ہے بھئی، یہاں مراد وقت ہے، جس معنی میں آتا ہے تاخیر کرنا لیکن یہاں وقت مراد ہے، ”وَرَيْثَمَا فَتَحُوا عَيْنًا“ اور جس وقت وہ کیا کریں گے؟ عین کو فتحہ دیں گے، کیا کریں گے؟ یا یوں کہو عین کو فتحہ دیں گے ”غَدَا“، غدا افعالِ ناقصہ میں سے ہے بھئی غدا بمعنی صار کے ہے بھئی، آپ نے افعالِ ناقصہ پڑھے ہیں یا نہیں؟ اس میں غدا بھی آتا ہے بھئی بمعنی صار کے۔ اور کچھ کچھ وقت کے بعد بھئی، اور جس وقت ہاں: ”وَرَيْثَمَا فَتَحُوا عَيْنًا“ اور جب وہ عین کلمے کو فتحہ دیں گے ”غَدَا مَلَكَا“ وہ کیا بن جائے گا؟ فرشتہ بن جائے گا، ملک بھئی۔ ماقبل میں ذکر کیا کہ میرا ممدوح اتنا بلند ہوا کہ اس کو ساری مخلوق اب ملک بادشاہ کہتی ہے، اور اگر جب وہ عین کو فتحہ دے دیں گے، جی، عین کلمے کو کیا دے دیں گے؟ مَلِك فَعِل ہے بھئی، فا کے مقابلے میں میم آیا، عین کے مقابلے میں لام آیا اور لام کے مقابلے میں کاف آیا، تو عین کی جگہ کیا آیا؟ لام، اور لام پر مَلِك کے اندر کیا ہے؟ کسرہ ہے، تو کہتے ہیں جس وقت اس عین کو فتحہ دے دیں گے تو کیا بن جائے گا؟ مَلَك، وہ کیا بن جائے گا؟ فرشتہ، ملک بن جائے گا، فرشتہ بھئی۔ تو ایک معنی تو یہ، یا ”فَتَحُوا عَيْنًا“ کا دوسرا معنی بھی: جس وقت آنکھ کھولیں گے، جب کیا کریں گے؟ شاعر کہتا ہے کہ وہ اس کو بادشاہ کہہ کر پکارتے ہیں لیکن کچھ وقت کے بعد جب وہ آنکھ کھول کر دیکھیں گے ”غَدَا مَلَكَا“ تو وہ کیا بن چکا ہو گا؟ فرشتہ بن چکا ہو گا، فرشتہ بنا ہو گا یا فرشتہ بن جائے گا بھئی۔
”وَمِمَّا يُنَاسِبُ هَذَا الْمَقَامَ أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِي مِمَّنْ يَغْلِبُ عَلَى لَهْجَتِهِمْ إِمَالَةُ الْحَرَكَاتِ نَحْوَ الْفَتْحَةِ“، اور انہی واقعات میں سے جو مناسب ہے اس مقام کے کہ میرے بعض تلامذہ، بعض شاگرد جو ہیں کہ غالب تھا ان کے لہجے پر یعنی ان کی لغت پر امالۃ الحرکات حرکتوں کو مائل کرنا، کیا کرتے تھے؟ امالہ کرتے تھے حرکات میں نحو الفتحۃ فتحے کی جانب۔ کہتے ہیں میرے کچھ شاگرد تھے جو کوئی اور حرکت ہوتی تھی اس حرکت کو کس کی طرف لے جاتے؟ فتحہ اور اس پر فتحہ پڑھ دیا کرتے، اس حرکت کی جگہ کیا پڑھتے تھے؟ ہاں، اس کی لغت ہی ایسی زبانی ایسی تھی بھئی لہجہ ہی ایسا تھا، ضمہ ہوتا یا کسرہ ہوتا وہ اس کو فتحہ پڑھ دیتا تھا، ”فَأَتَانِي بِكِتَابٍ“ تو وہ میرے پاس ایک خط لے کر آیا، ”فَقُلْتُ: لِمَنْ هُوَ؟“ میں نے کہا یہ کس کا ہے؟ یعنی کس کی طرف سے آیا ہے؟ ”فَقَالَ: لِمَوْلَانَا عَمَرَ“ اس نے کیا کہا یہ کس کا خط ہے؟ مولانا عَمَر کا خط ہے، کہنا چاہیے تھا عُمَر اور کہا کیا اس نے؟ عَمَر، کہ یہ مولانا عَمَر کا خط ہے بفتح العین عین کے فتحے کے ساتھ، ”فَضَحِكَ الْحَاضِرُونَ“ تو سارے بیٹھے ہوئے ہنس پڑے حاضرین، ”فَنَظَرَ إِلَيَّ كَالْمُتَعَرِّفِ بِسَبَبِ ضِحْكِهِمْ الْمُسْتَرْشِدِ لِطَرِيقِ الصَّوَابِ“ تو وہ میری طرف اس نے دیکھا گو کہ وہ پتہ چلا رہا ہو، متعرف پتہ چلانے والا، گویا کہ وہ پتہ چلا رہا ہو ان کی ہنسی کا اور طلب کر رہا ہو درست راستے کو۔ وہ سارے ہنس پڑے تو یہ حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگ پڑا کہ کیا ہوا کیوں یہ سارے ہنس رہے ہیں؟ پتہ چلانے کے لیے اور درست راستے کو طلب کرنے کے لیے کہ کیا غلطی ہوئی ہے کہ اس کو دور کیا جائے۔
”فَرَمَزْتُ إِلَيْهِ بِغَضِّ الْجَفْنِ وَضَمِّ الْعَيْنِ“، سنیں بھئی، علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: ”فَرَمَزْتُ إِلَيْهِ“ میں نے اس کی طرف اشارہ کیا ”بِغَضِّ الْجَفْنِ“ پلک کو جھکانے کے ساتھ، جفن کہتے ہیں یہ جو اوپر والا چمڑا ہے آنکھ کے اوپر بھئی، آنکھ پر یہ جو چمڑا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جفن، جفن بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اردو میں کیا کہتے ہیں اس کو بھئی؟ پپوٹے کہیں گے، جی، پپوٹے، ”فَرَمَزْتُ إِلَيْهِ بِغَضِّ الْجَفْنِ“ تو میں نے اس کو اشارہ کیا پلک کے جھکانے کے ساتھ، غض کا معنی جھکانا پست کرنا، ”وَضَمِّ الْعَيْنِ“ اور آنکھ کو ملانے کے ساتھ، آنکھ کو بند کرتے ہوئے۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں میں نے اس کو کیا کیا؟ پپوٹے کو جھکاتے ہوئے اور آنکھ کو بند کرتے ہوئے اس کو اشارہ کیا اور وہ میری بات سمجھ گیا، میں نے اس کو اشارہ کیا اور وہ میری بات دیکھو علامہ تفتازانی کا میں نے اس کو اشارہ کیا کس کے ساتھ؟ ”بِغَضِّ الْجَفْنِ وَضَمِّ الْعَيْنِ“ آنکھ بند کرنے کے ساتھ، ضم العین کے ساتھ یعنی عین کو ضمہ دے دو، میں نے کیا اشارہ کیا؟ ضم العین کا کیا معنی ہے؟ عین کو ضمہ دے دو، یعنی میں نے آنکھ بند کرتے ہوئے اس میں میں نے لفظ منہ سے کچھ نہیں کہا لیکن ضم العین کیا میں نے، آنکھ بند کی، اشارہ کیا تھا؟ عین کو ضمہ دو، ضمہ دینا کہ بھئی عین کو ضمہ دو، ”فَتَفَطَّنَ لِلْمَقْصُودِ وَاسْتَظْرَفَ ذَلِكَ الْحَاضِرُونَ“، تو وہ سمجھ گیا مقصود کو اور اس کو بڑا ہی اچھا سمجھا حاضرین نے بھی بھئی، انہوں نے بھی اس کو بڑا لطیف سمجھا۔ تو علامہ تفتازانی نے کچھ باتیں ذکر کیں بھئی۔
اور انہی لطائف کے قبیل سے ہے مولانا جیسے علامہ ابن مسعود مولانا بہت بڑے علامہ گزرے ہیں بھئی، بہت بڑے علامہ گزرے ہیں، ان کے پاس کوئی شخص آیا اور آ کر پوچھا: ”مَا الْفَرْقُ بَيْنَ الْجِنَازَةِ وَالْجَنَازَةِ؟“ جِنازہ اور جَنازہ میں کیا فرق ہے؟ جِنازہ بکسر الجیم اور جَنازہ بفتح الجیم۔ انہوں نے عجیب جواب دیا، فرمایا: ”الْعَالِي لِلْعَالِي وَالسَّافِلُ لِلسَّافِلِ“، اوپر والا اوپر والے کے لیے ہے، نیچے والا نیچے والے کے لیے ہے۔ کیا معنی؟ جِنازہ، جنازہ کے نیچے کیا ہے؟ کسرہ ہے، تو جس کے نیچے کسرہ ہے وہ نیچے والی چیز کے لیے ہے، اور جس کے اوپر فتحہ ہے وہ اوپر والی چیز کے لیے ہے، یعنی ایک ہے چارپائی ایک ہے اوپر میت بھئی، تو نیچے ہے چارپائی تو اس کے لیے ہے جِنازہ کیونکہ جنازہ میں بھی کسرہ کیا ہے؟ نیچے، اور میت کے لیے ہے اس کو کہتے ہیں جَنازہ کیونکہ جیسے میت اوپر ہے اسی طرح جنازہ میں جیم پر فتحہ بھی اوپر ہے، تو کہتے ہیں: ”الْعَالِي لِلْعَالِي وَالسَّافِلُ لِلسَّافِلِ“۔
تو کہتے ہیں: ”لَوْ تَبْتَغِي ذَلِكَ الْجِيَادُ عَنَقًا“، اگر طلب کریں وہ عمدہ وہ گھوڑے عنقاً چلنا، تیزی سے اس پر چلنا بھئی، عنق کا کیا معنی؟ تیزی سے چلنا، ”وَهُوَ نَوْعٌ مِنَ السَّيْرِ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى ذَلِكَ الْعِثْيَرِ لَأَمْكَنَا“، چلنے کی ایک نوع ہے، اس عثیر پر، اس غبار پر اگر وہ گھوڑے چلنا چاہیں تو یہ کیا ہے؟ ممکن ہے، یعنی چلنا ممکن ہے۔ ”ادَّعَى تَرَاكُمَ الْغُبَارِ الْمُرْتَفِعِ مِنْ سَنَابِكِ الْخَيْلِ“، تراکم کا معنی ہے اکٹھا ہونا، اکٹھا ہونا، جمع ہونا۔ شاعر نے دعویٰ کیا غبار کے جمع ہونے کا جو بلند ہوا تھا گھوڑوں کے کھروں سے، کہ گھوڑوں کے کھروں سے اٹھنے والا غبار غبار کے جمع ہونے کا دعویٰ کیا ”فَوْقَ رُءُوسِهَا بِحَيْثُ صَارَ أَرْضًا يُمْكِنُ سَيْرُهَا عَلَيْهَا“، ان کے سروں کے اوپر اس طور پر کہ وہ کیا بن گئی؟ ایسی زمین بن گئی کہ ان گھوڑوں کا اس پر چلنا ممکن ہے، ”وَهَذَا مُمْتَنِعٌ عَقْلًا وَعَادَةً“، اور یہ بات ممتنع ہے، عقلاً بھی ممکن نہیں عادتاً بھی ممکن نہیں، ”لَكِنَّهُ تَخْيِيلٌ حَسَنٌ“، لیکن یہ کیا ہے؟ ایک اچھی تخییل ہے، ایک عمدہ قسم کی بات سامع کے ذہن میں ڈالی اس لیے یہ کیا ہے؟ اس لیے مبالغے کی یہ قسم مقبول ہے۔
”وَقَدِ اجْتَمَعَا“، اور کبھی کبھار یہ دونوں جمع بھی ہو جاتے ہیں۔ بھئی انہوں نے کیا کہا؟ غلو کیا مبالغہ وہ مبالغہ ہے جو نہ عقلاً ممکن ہو نہ عادتاً، لیکن اس کے اندر کبھی کبھار ایک حرف بڑھا دیا جاتا ہے جس سے وہ صحیح ہونے کے قریب ہو جاتا ہے اور یہ مقبول ہے، اور کبھی کبھار مولانا اس میں اچھا خیال ذکر کیا جاتا ہے وہ بھی کیا ہے؟ مقبول۔ تو دونوں چیزیں کبھی جمع ہو جائیں گی: یہ لفظ بھی بڑھایا جائے گا اور اچھا خیال بھی اس کے اندر ذکر ہو گا جیسے اگلے شعر میں۔ ”وَقَدِ اجْتَمَعَا أَيْ إِدْخَالُ مَا يُقَرِّبُهُ إِلَى الصِّحَّةِ وَتَضَمُّنُ التَّخْيِيلِ الْحَسَنِ فِي قَوْلِهِ: يُخَيَّلُ لِي أَنْ سُمِّرَتْ فِي الدُّجَى الشُّهْبُ وَشُدَّتْ بِأَهْدَابِي إِلَيْهِنَّ أَجْفَانِي“۔
خوشی کے موقع اور خوشی کی رات ہو مولانا وہ بڑی جلدی گزر جاتی ہے، پتہ ہی نہیں چلتا، انسان اس سے کہتا رہ جاتا ہے کہ رک جا رک جا لیکن وہ کیا ہے؟ تیزی سے گزر جاتی ہے، وہ لمحات تیزی سے گزر۔ جبکہ اس کے مقابلے میں پریشانی، تکلیف اور جدائی کی جو گھڑی ہوتی ہے اس میں رات جو ہے گزرنے پر ہی نہیں آتی، نیند ہے کہ آنکھوں سے کوسوں دور رہتی ہے، تو شاعر اسی بات کو بیان کر رہا ہے، کہتے ہیں: ”يُخَيَّلُ لِي“ میرے مجھے یوں گمان ہوتا ہے، شاعر کہتا ہے میں رات کو لیٹا لیکن رات پریشانی میں تھی، پریشانی والی تھی تو یوں لگتا تھا رات گزر ہی نہیں رہی، ستاروں کو دیکھتا ہوں تو ایک ہی جگہ کھڑے ہیں کھڑے ہیں، یوں لگتا ہے کسی نے ان پر کیل لگا دیے ہیں ورنہ تو چاہیے تو یہ تھا آہستہ آہستہ حرکت کرتے کرتے کیا ہوتے؟ غروب ہوتے اور صبح کیا ہوتی؟ طلوع ہوتی، لیکن یہ اپنی جگہ پر یوں کھڑے ہیں جیسے کسی نے ان پر کیل ٹھونک دیے ہوں، اور میری آنکھیں کھلی ہوئی ہیں نیند آ ہی نہیں رہی، یوں معلوم ہوتا ہے کہ میری یہ پلک یہ میرے جو پپوٹے ہیں ان کو ستاروں سے کسی نے باندھ دیا ہے ان بالوں کے ساتھ، ان پلکوں کے ساتھ میرے ان پپوٹوں کو کس سے باندھ دیا ہے؟ ستاروں سے باندھ دیا ہے، نیند مجھے آ ہی نہیں رہی، تو یہ یہ خیال ذکر کیا دیکھا۔ ”يُخَيَّلُ لِي“ مجھے یہ گمان ہوتا ہے ”أَنْ سُمِّرَتْ فِي الدُّجَى الشُّهْبُ“، سمّر يسمّر کا معنی ہوتا ہے کیل لگانا، ”أَنْ سُمِّرَتِ الشُّهْبُ“ کہ کیل لگائے گئے ہیں ستاروں پر ”فِي الدُّجَى“ رات کی تاریکی میں، دجیٰ تاریکی کو کہتے ہیں، ”وَشُدَّتْ“ اور باندھے گئے ہیں ”بِأَهْدَابِي“، اہداب جمع ہے ہدب کو، ہدب کہتے ہیں مولانا یہ بال مولانا یہ پلکوں کے بال کیا کہلاتے ہیں؟ ہدب، اور جو یہ جو چمڑا ہے یہ کیا کہلاتا ہے؟ جفن کہلاتا ہے۔ تو میرے یہ پلکوں کے بالوں کے ساتھ باندھا گیا ہے ”إِلَيْهِنَّ“ ان ستاروں کے ساتھ، کس چیز کو باندھا گیا ہے؟ ”أَجْفَانِي“ میرے پپوٹوں کو۔
”أَيْ يُوقَعُ فِي خَيَالِي أَنَّ الشُّهْبَ مُحْكَمَةٌ بِالْمَسَامِيرِ لَا تَزُولُ عَنْ مَكَانِهَا“، واقع کیا جاتا ہے میرے خیال کے اندر کہ ستارے جو ہیں وہ پختہ کیے گئے ہیں کیلوں کے ساتھ، وہ اپنی جگہ سے ہٹتے ہی نہیں ہیں، ”وَأَنَّ أَجْفَانَ عَيْنِي قَدْ شُدَّتْ بِأَهْدَابِهَا إِلَى الشُّهْبِ لِطُولِ ذَلِكَ اللَّيْلِ وَغَايَةِ السَّهَرِ فِيهِ“، اور میری آنکھوں کے جو پپوٹے ہیں وہ تحقیق باندھے گئے ہیں پلکوں کے بالوں کے ساتھ کس سے؟ ستاروں کے ساتھ، کس وجہ سے؟ اس رات کے لمبے ہونے کی وجہ سے اور اس حد تک اس رات میں جاگنے کی وجہ سے، سہر کا معنی جاگنا، اس رات میں جاگنے کی وجہ سے میرے گمان میں یہ بات آتی ہے، غایۃ کا معنی اس حد تک۔ ”وَهَذَا تَخْيِيلٌ حَسَنٌ وَلَفْظُ يُخَيَّلُ يَزِيدُهُ حُسْنًا“، اور یہ مولانا عمدہ تخییل ہے اور لفظِ یخیل کا لفظ مزید بڑھا کر اس میں حسن کو کیا کیا گیا؟ زیادہ کیا یخیل کے لفظ نے اس کو باعتبار حسن کے۔ تو دیکھو خیال بھی اچھا اور پھر اس پر یخیل کا لفظ بھی داخل کیا کہ گمان ہوتا ہے، یعنی حقیقت میں تو ایسا نہیں، تو دیکھو وہ دونوں جمع ہو گئے: لفظ بھی داخل کیا اور خیال بھی اچھا ذکر کیا۔
”وَمِنْهُ“ یعنی اور غلوِ مقبول میں سے ایک کیا ہے؟ ”مَا أُخْرِجَ مَخْرَجَ الْهَزْلِ وَالْخَلَاعَةِ“، وہ ہے جس کو مذاق کے طور پر لایا جائے، ذکر کیا جائے ”وَالْخَلَاعَةِ“، خلاعۃ کہتے ہیں مولانا بے سوچے سمجھے کلام کرنا، حد سے تجاوز کرتے ہوئے کلام کرنا یا بے حیائی کے ساتھ کیا کرنا؟ کلام کرنا، اس کو کہتے ہیں خلاعۃ۔ وہ کلام مولانا یہ بھی مقبول ہے، غلوِ مقبول میں سے ہے جو مذاق کے طور پر ہو اور حد سے تجاوز کرتے، ”كَقَوْلِهِ“ جیسے شاعر کہتا ہے:
”أَسْكَرُ بِالْأَمْسِ إِنْ عَزَمْتُ عَلَى الشُّرْبِ غَدًا إِنَّ ذَا مِنَ الْعَجَبِ“
بھئی شاعر کہتا ہے تم لوگوں کو کیا نشہ چڑھتا ہو گا اور تم لوگ کیا نشہ کرتے ہو گے، نشے کا عادی تو صحیح میں ہوں کہ جب اگر میرا شراب پینے کا ارادہ بن جائے تو مجھے ایک دن پہلے ہی نشہ چڑھ جاتا ہے اور ادھر ادھر گرتا پڑتا ہوں، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”أَسْكَرُ بِالْأَمْسِ“ میں مدہوش ہو جاتا ہوں گزشتہ کل میں ہی ”إِنْ عَزَمْتُ عَلَى الشُّرْبِ غَدًا“ اگر میں ارادہ کروں، پختہ ارادہ کروں پینے کا آنے والے دن میں، ”إِنَّ ذَا مِنَ الْعَجَبِ“ بے شک یہ بات بڑی ہی عجیب ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔