تو مولانا صدق و کذب کی بحث چل رہی تھی، میں نے بتایا یہاں ابتداءً دو مذاہب ہیں: اول جمہور کا مذہب ہے اور اس کے مقابلے میں جاحظ ہے۔ جمہور فرماتے ہیں کہ کلامِ خبری بند ہے صادق اور کاذب کے اندر، جو بھی کلامِ خبری ہو گا یا صادق ہو گا یا کاذب ہو گا، یہ نہیں ہو سکتا کوئی کلامِ خبری تو ہو لیکن نہ صادق ہو اور نہ کاذب۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جاحظ کیا کہتے ہیں کہ ایسا کلامِ خبری بھی ممکن ہے جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو، تو وہ انکار کرتے ہیں اس بات کا کہ کلامِ خبری بند ہے کس میں؟ صادق اور کاذب میں۔
اور پھر جمہور کے اندر نظام معتزلی پھر اختلاف کرتے ہیں کلامِ خبری صادق اور کلامِ خبری کاذب کی تعریف میں بھئی۔ تو اہلِ سنت والجماعت کہتے ہیں کلامِ خبری صادق وہ ہے جو واقع کے مطابق ہو، اور نظام معتزلی کہتے ہیں کہ کلامِ خبری صادق وہ ہے جو اعتقاد کے مطابق ہو۔ اور کلامِ خبری کاذب اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک وہ ہے جو واقع کے مطابق نہ ہو، اور نظام کیا کہتے ہیں؟ واقع کا اعتبار نہیں بلکہ کس کا اعتبار ہے؟ اعتقاد کا اعتبار ہے، تو جو اعتقاد کے مطابق نہیں تو وہ کیا ہے؟ کاذب ہے۔
اور انہوں نے قرآن سے دلیل دی تھی بھئی، کیا کہ منافقین نے آ کر کیا کہا حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے: نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ، تو ان کے یہ مشہود بہ جو ہے إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ آپ بے شک اللہ کے رسول ہیں، نظام معتزلی کہتے ہیں دیکھو یہ اگرچہ واقع کے مطابق ہے اور جب یہ واقع کے مطابق ہے تو ان کو کیا کہنا چاہیے تھا؟ منافقین کو کیا قرار دینا چاہیے تھا؟ صادق قرار دینا چاہیے تھا، لیکن اللہ انہیں کاذب قرار دے رہے ہیں، معلوم ہوا واقع کا اعتبار نہیں بلکہ کس کا اعتبار ہے؟ اعتقاد کا، اس لیے کیونکہ یہ بات ان کے اعتقاد کے مطابق نہیں تھی اگرچہ واقع کے مطابق تھی۔ تو ان کو کاذب قرار دیا گیا مشہود بہ کے اعتبار سے۔
اور اس کے پھر دو جواب دیے تھے مولانا: ایک منعی اور ایک تسلیمی، اور منعی کے دو طرق تھے، دو سند تھے مولانا، تو کل تین جوابات ہوئے۔ تو پہلا جواب یہ دیا تھا کہ منافقین کاذب ہیں جھوٹے ہیں فِي الشَّهَادَةِ کس کے اندر؟ شہادت میں، یعنی اس شہادت کے اندر جو انہوں نے تین تاکیدات استعمال کی ہیں ان تین تاکیدات سے ایک اور جملہ ضمنیہ حاصل ہوا، گویا وہ ان تاکیدات کے ذریعے یہ دعویٰ کر رہے ہیں، یہ کلام کہہ رہے ہیں کہ یہ جو گواہی ہم دے رہے ہیں کس سے دے رہے ہیں؟ اپنے خلوصِ قلب سے دے رہے ہیں، یہ بات ہم خلوصِ قلب سے کر رہے ہیں، اور حالانکہ یہ بات واقع کے مطابق نہیں کیونکہ یہ بات ان کے خلوصِ قلب سے نہیں تھی، معلوم ہوا واقع کے ساتھ مطابقت جو ہے وہ معتبر ہے۔ اور دوسرا جواب منعی یہ دیا کہ انہوں نے اس إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ کا نام جو شہادت رکھا، اس نام رکھنے میں وہ کیا ہیں؟ جھوٹے ہیں، اس لیے کہ شہادت کس کو کہتے ہیں جس میں زبان اور دل ایک ہوں، اور یہاں پر ان کے زبان اور دل ایک نہیں تھے، تو لہٰذا اس کلام کا نام شہادت رکھنا بھی صحیح نہیں۔ تیسرا جواب جو تسلیمی تھا کہ ٹھیک ہے انہیں کاذب کہا گیا مشہود بہ کے اعتبار سے یعنی إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ کے اعتبار سے، لیکن ان کے اپنے گمان کے مطابق بھئی، یعنی ان کا اپنا یہ گمان تھا کہ یہ جو ہم کلام کر رہے ہیں یہ واقع کے مطابق نہیں تو ہم کیا ہیں؟ کاذب ہیں، صادق نہیں، اس کلام میں ہم کاذب ہیں بھئی۔
اَلْجَاحِظُ أَنْكَرَ انْحِصَارَ الْخَبَرِ فِي الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ وَأَثْبَتَ الْوَاسِطَةَ وَزَعَمَ أَنَّ صِدْقَ الْخَبَرِ مُطَابَقَتُهُ لِلْوَاقِعِ مَعَ الِاعْتِقَادِ بِأَنَّهُ مُطَابِقٌ۔
اب جاحظ کا مذہب ذکر کریں گے بھئی۔ بھئی جمہور نے تو کہا تھا کہ کلامِ خبری بند ہے صدق اور کذب میں، جو بھی کلامِ خبری ہو گا یا صادق ہو گا یا کاذب ہو گا، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی کلامِ خبری ہو اور نہ وہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو۔ جاحظ کہتے ہیں نہیں، کلامِ خبری صدق و کذب میں بند نہیں بلکہ ایسا کلامِ خبری بھی ممکن ہے جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو بھئی۔ تو وہ صدق و کذب کے درمیان واسطہ ثابت کرتے ہیں بھئی۔
جاحظ بہت بڑے ادیب گزرے ہیں مولانا عربی زبان کے۔ سن 255 ہجری میں ان کا انتقال ہوا جبکہ ان کی عمر 70 سال سے بھی زائد تھی۔ ان کو جاحظ اس لیے کہتے ہیں مولانا، یہ جاحظ جو تھے مولانا بڑے کریہ اور قبیح صورت والے تھے بھئی، ان کی شکل و صورت بڑی ہی قبیح تھی بھئی، نہایت قبیح بھئی۔ اور جاحظ ان کو اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی آنکھوں کے ڈیلے بہت باہر کو نکلے ہوئے تھے بھئی۔ تو جاحظ وہ شخص ہوتا ہے جس کی آنکھوں کے ڈیلے باہر کو نکلے ہوں بھئی، تو ڈیلے بہت زیادہ باہر کو نکلے ہوئے تھے تو ان کا لقب ہی کیا پڑ گیا؟ جاحظ پڑ گیا بھئی۔
لیکن یہ لغتِ عربی کے بہت بڑے امام تصور کیے جاتے ہیں مولانا، بہت بڑے امام ہیں لغتِ عربی کے۔ لغتِ عربی کی، ادبِ عربی کی جو چار چوٹی کی کتابیں ہیں مولانا، تمام علماء نے تمام کتب میں سے چار کتابوں کو اساس قرار دیا ہے، بنیاد قرار دیا ہے ادبِ عربی کی باقی تمام کتابوں کے لیے بھئی۔ چار جو چوٹی کی کتابیں ہیں ادبِ عربی کی، لغتِ عربی کی، ان میں سے ایک کتاب اَلْبَيَانُ وَالتَّبْيِينُ یہ جاحظ کی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ادبِ عربی میں، لغتِ عربی میں جتنی کتابیں لکھی گئیں ان میں سے علماء نے نچوڑ نکالا، خلاصہ نکالا اور بتلایا کہ یہ چار کتابیں یہ بنیاد ہیں کس چیز کی؟ ادبِ عربی کی، سب سے اعلیٰ، باقی بعد میں آنے والے سارے ان کے خوشہ چیں ہیں اور انہی سے فوائد اخذ کرتے ہیں بھئی، لغت کو سمجھتے ہیں۔ تو ایک کتاب اَلْبَيَانُ وَالتَّبْيِينُ ان کی ہے بھئی۔
معلوم ہوا شکل و صورت پر دارومدار نہیں، دیکھا شکل و صورت ان کی بڑی قبیح تھی، بے انتہا قبیح تھی بھئی، لیکن علم کے اندر ان کا مقام اتنا اونچا ہے کہ آج بھی ان کی باتیں بطورِ سند کے ذکر کی جاتی ہیں۔ یہ اتنی قبیح صورت والے تھے کہ خلیفہ متوکل کو ان کی شہرت پہنچی کہ بہت بڑے امامِ دنیا ہیں مولانا، بہت بڑے ادیب ہیں بھئی۔ چنانچہ خلیفہ نے بلوایا تاکہ ان کو مقرر کریں اپنے بیٹوں کی تعلیم کے لیے بھئی، تعلیم و تربیت کریں خلیفہ کے بیٹوں کی۔ لیکن جب یہ ان کے پاس آئے اور خلیفہ نے ان کی شکل و صورت دیکھی تو ان کو بہت سا انعام دے کر واپس بھیج دیا بھئی۔ سمجھے؟ کتنی قبیح صورت ہو گی کہ یہ مناسب نہیں سمجھا کہ یہ کیا کریں ان کے بیٹوں کو تعلیم دیں۔ تو 70 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا بھئی۔
جاحظ کہتے ہیں کہ مجھے کبھی کسی شخص نے دھوکہ نہیں دیا سوائے ایک عورت کے بھئی۔ کہتے ہیں ایک مرتبہ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہا میرے ساتھ چلیے، میرا کوئی کام ہے، میری کوئی حاجت پوری کر دیجیے۔ بڑا اصرار کیا، خیر میں اٹھ کر ساتھ چل پڑا۔ کہتے ہیں وہ مجھے لے کر چلتی رہی، شہر کی کئی گلیوں میں سے گزارتی ہوئی بالاخر ایک دکان کے اندر داخل ہوئی بھئی۔ کوئی بت وغیرہ بنانے والی، صورتیں بنانے والی کوئی دکان تھی، اس میں لے کر داخل ہوئی، دکاندار کے سامنے مجھے کھڑا کیا، دکاندار کو کہا: اس جیسا! یہ کہا اور یہ کہہ کر چلی گئی خاموشی سے۔ میں حیران و پریشان کھڑا ہوں یہ کیا کہا اس نے، کوئی بات نہیں سمجھ میں آئی۔ میں نے دکاندار سے پوچھا کیا ہوا، کیا معاملہ ہے بھئی؟ اس نے کہا یہ عورت میرے پاس بڑے دنوں سے آ رہی ہے اور مجھے کہہ رہی ہے مجھے شیطان کا بت بنا دو۔ تو میں نے اس کو کہا میں نے تو شیطان کو نہیں دیکھا ہوا میں اس کا بت کہاں سے بنا دوں، تو یہ تمہیں پکڑ کے لے آئی کہ اس جیسا بھئی!
تو بڑے ادیب تھے، خلیفہ سے تعلق تھا، دربار میں آتے جاتے۔ ایک مرتبہ یہ دربار میں گئے تو خلیفہ نے کہا کہ اے جاحظ! آج تجھے کچھ انعام نہ دیں بھئی؟ جاحظ نے کہا کیوں نہیں امیر المومنین! تو خلیفہ نے کہا بھئی وہ فلاں باندی کو بلا کر لاؤ بھئی۔ ایک باندی کو بلا کر لائے بھئی، خلیفہ کی باندی تھی بڑی حسین و جمیل باندی بھئی۔ خلیفہ نے کہا لو بھئی جاحظ یہ باندی ہم نے آج سے آپ کو دے دی، یہ آپ کی ہوئی۔ خلیفہ کی باندی تھی بھئی کتنی حسین و جمیل ہو گی! باندی نے جب اس کو دیکھا کہ یہ مجھے کس کے حوالے کیا ہے، اس کی صورت دیکھی تو چیخیں مار مار کر، دھاڑیں مار مار کر رونے لگ پڑی کہ یہ مجھے کس کے حوالے کیا! اب مسلسل رو رہی ہے، بڑی دیر بعد پھر خلیفہ نے کہا کہ جاحظ بھئی یوں کرو کہ اس کی جگہ میں تمہیں کوئی اور انعام دے دیتا ہوں، اس کو رہنے دو بھئی۔ جاحظ نے کہا جیسے آپ کی مرضی امیر المومنین! چنانچہ خلیفہ نے اور انعام دیا اور باندی واپس لے لی۔ بعد میں خلیفہ نے جب باندی چلی گئی خلیفہ نے جاحظ سے کہا کہ میں دراصل اس باندی کی کسی بات پر ناراض ہوا تھا، اسے تھوڑی سی سزا دینا چاہتا تھا، تھوڑا پریشان کرنا چاہتا تھا اس کو بھئی۔ جاحظ کہتا ہے یا امیر المومنین! اگر یہ بات تھی تو مجھے پہلے بتانا تھا آپ نے! میں تو جب آپ کے پاس آتا ہوں بڑے اچھے کپڑے پہن کر آتا ہوں، کنگھی کر کے آتا ہوں، خوشبو لگا کے آتا ہوں، بن سنور کے آتا ہوں، اگر سزا ہی دینی تھی تو مجھے بتاتے میں ویسے ہی اٹھ کر آتا، پھر صحیح سزا ملتی اس کو!
تو ان کا انتقال 70 سال کی عمر میں ہوا۔ مطالعہ کر رہے تھے، کتابوں کا کوئی ڈھیر ساتھ کھڑا تھا، ہر وقت مطالعے وغیرہ میں مصروف رہتے، بڑے ضعیف ہو گئے تھے، وہ کتابیں ان پر گریں اور وہ کتابوں کے گرنے کی وجہ سے یہ کیا ہوئے؟ فوت ہو گئے بھئی۔ تو بہرحال صورت کیسی بھی ہو مولانا، علمِ ادبِ عربی کے یہ بڑے چمکتے ہوئے آفتاب و ماہتاب ہیں مولانا۔
تو کہتے ہیں: اَلْجَاحِظُ أَنْكَرَ انْحِصَارَ الْخَبَرِ فِي الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ، جاحظ نے انکار کیا ہے خبر کے بند ہونے کا صدق و کذب میں، وَأَثْبَتَ الْوَاسِطَةَ اور واسطہ ثابت کیا ہے کہ ایسا کلامِ خبری بھی ہو سکتا ہے جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب۔ اَلْجَاحِظُ کے بعد علامہ تفتازانی نے أَنْكَرَ نکال کر بتلا دیا کہ اَلْجَاحِظُ مبتدا ہے اور أَنْكَرَ اس کی خبر ہے، ترکیب بتلا دی بھئی۔ تو جاحظ نے انکار کیا ہے خبر کے بند ہونے کا صدق و کذب میں وَأَثْبَتَ الْوَاسِطَةَ اور واسطہ ثابت کیا ہے، وَزَعَمَ اور یہ گمان کیا ہے، دیکھا زَعَمَ لے کر آئے مولانا، بتلایا کہ یہ ان کا قول صحیح نہیں، علامہ تفتازانی کیا بتلانا چاہتے ہیں کہ ان کا قول صحیح نہیں، حق کے مطابق نہیں، گمان ہے ان کا۔
بھئی اہلِ سنت والجماعت تو کیا کہتے تھے بھئی کہ خبرِ صادق کیا ہے جو واقع کے مطابق ہو، اور نظام معتزلی کہتا تھا خبرِ صادق وہ ہے جو اعتقاد کے مطابق ہو۔ جاحظ کہتے ہیں دونوں کا اعتبار کرنا پڑے گا بھئی! کلامِ خبری صادق وہ ہے جو واقع کے بھی مطابق ہو اور اعتقاد کے بھی مطابق ہو۔ اور کلامِ خبری کاذب وہ ہے جو واقع کے بھی مطابق نہ ہو اور اعتقاد کے بھی مطابق نہ ہو۔ تو واقع کے ساتھ بھی مطابقت، اعتقاد کے ساتھ بھی مطابقت، تو یہ ہے کلامِ خبری صادق۔ اور واقع کے ساتھ بھی مطابق نہیں اور اعتقاد کے ساتھ بھی مطابق نہیں، تو یہ کلامِ خبری کاذب۔ اور ان کے علاوہ باقی صورتوں میں کلام نہ صادق ہو گا اور نہ کاذب، اس کے علاوہ چار صورتیں بنتی ہیں مولانا۔ کل چھ صورتیں بنتی ہیں یہاں پر، ان چھ میں سے ایک صدق ہوا، ایک کذب ہوا، اور چار نہ صدق ہیں اور نہ کذب ہیں، وہ واسطہ ہوئے صدق اور کذب کے درمیان۔
دیکھو، واقع کے مطابق ہو گا یا واقع کے مطابق نہیں ہو گا، تو واقع میں دو صورتیں آ گئیں: یا مطابق ہو گا یا مطابق نہیں۔ اور اعتقاد میں تین صورتیں آئیں: کہ یا تو اعتقاد مطابقت کا ہو گا، یا اعتقاد عدمِ مطابقت کا ہو گا، یا سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہیں ہو گا۔ واقع میں کتنی صورتیں آئیں بھئی؟ دو، یا واقع کے مطابق ہو گا یا واقع کے مطابق نہیں، دو صورتیں واقع میں آئیں۔ اور اعتقاد میں کتنی آئیں؟ تین، یا تو اعتقاد مطابقت کا ہو گا، یا اعتقاد عدمِ مطابقت کا ہو گا، یا سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہیں ہو گا۔ تو اب واقع میں دو صورتیں، اعتقاد میں تین صورتیں، تو واقع کی دونوں صورتوں کے ساتھ تینوں تینوں صورتوں کو ملاؤ کتنی بن جائیں گی؟ چھ صورتیں بن جائیں گی۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات بھئی؟
واقع میں کیا ہے؟ یا تو مطابقت ہو گی یا مطابقت نہیں ہو گی۔ جب مطابقت ہے، اس کے ساتھ اعتقاد والی تینوں صورتیں ملاؤ: اعتقاد کی مطابقت ہو گی ایک صورت، اعتقاد کی مطابقت نہیں ہو گی دو صورتیں، یا سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہیں ہو گا، تین ہو گئے۔ اور اگر واقع کے مطابق نہ ہو پھر بھی یہ تین صورتیں بھئی۔
بھئی آپ دونوں کھڑے ہو جائیں ذرا۔ یہ ایک صورت آ گئی مولانا واقع کی: واقع کے ساتھ مطابقت ہو۔ دوسری صورت آ گئی: واقع کے ساتھ مطابقت نہ ہو۔ تو واقع میں کتنی صورتیں آئیں؟ دو۔ ادھر تین کھڑے ہوں بھئی۔ اعتقاد میں تین صورتیں ہوئیں مولانا: اول کیا ہوئی؟ اعتقاد کس چیز کا ہو؟ مطابقت کا۔ نمبر دو: اعتقاد کس چیز کا ہو؟ عدمِ مطابقت کا۔ تیسری صورت: سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہ ہو۔ اب یہ تینوں صورتیں پہلے کس کے ساتھ ملاؤ؟ واقع کے ساتھ مطابقت۔ اب دیکھو پہلی صورت: واقع کے ساتھ تو مطابقت ہے اور اعتقاد کے ساتھ بھی کیا ہے؟ مطابقت ہے، ایک صورت۔ واقع کے ساتھ تو مطابقت ہے اور اعتقاد کس چیز کا ہے؟ عدمِ مطابقت کا، دو صورتیں۔ پھر وہی پہلی صورت: واقع کے ساتھ تو مطابقت ہے اور سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہیں ہے، بیٹھ جاؤ بھئی، کتنی صورتیں ہوئیں؟ تین۔ اور واقع کی دوسری صورت کیا تھی؟ واقع کے ساتھ مطابقت نہ ہو، اس کے ساتھ بھی یہ تینوں صورتیں ملاؤ: واقع کے ساتھ مطابقت نہیں اور اعتقاد کس چیز کا ہے؟ مطابقت کا۔ دوسری صورت ملاؤ: واقع کے ساتھ مطابقت نہیں اور اعتقاد بھی کس چیز کا ہے؟ عدمِ مطابقت کا۔ تیسری صورت: واقع کے ساتھ مطابقت نہیں اور سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہیں۔ تو کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چھ۔ چھ میں سے ایک صورت ہے صدق کی جب واقع کے ساتھ بھی مطابقت ہو اور اعتقاد کے ساتھ بھی مطابقت ہو۔ ایک صورت کذب کی ہے کہ واقع کے ساتھ بھی مطابقت نہ ہو اور اعتقاد کے ساتھ بھی مطابقت نہ ہو، یہ کذب۔ اور باقی چار صورتیں کیا ہیں؟ نہ وہ صدق ہیں اور نہ کذب ہیں، تو وہ چار صورتیں واسطے کی ہوئیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
وَزَعَمَ اور یہ گمان کیا، یہ صدق اور کذب کو متن میں بیان کریں گے اور باقی چار صورتیں علامہ تفتازانی آپ کو شرح میں بتلائیں گے۔ اور یہ گمان کیا انہوں نے کہ أَنَّ صِدْقَ الْخَبَرِ کہ صدقِ خبر جو ہے مُطَابَقَتُهُ لِلْوَاقِعِ اس کی مطابقت ہے کس کے ساتھ؟ خبر کس کے مطابق ہو؟ واقع کے مطابق ہو، مَعَ الِاعْتِقَادِ ساتھ کس چیز کے؟ اعتقاد بھی ہو بِأَنَّهُ مُطَابِقٌ کہ یہ کیا ہے؟ مطابق ہے۔ وَكَذِبُ الْخَبَرِ عَدَمُهَا اور کذبِ خبر کیا ہے؟ ہا ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں آگے شرح میں: أَيْ عَدَمُ مُطَابَقَتِهِ لِلْوَاقِعِ، کہ کذبِ خبر کس چیز کا نام ہے کہ واقع کے ساتھ مطابقت نہ ہو، مَعَهُ ہا ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں کہ اعتقاد کو راجع ہے: أَيْ مَعَ اعْتِقَادِ أَنَّهُ غَيْرُ مُطَابِقٍ اور ساتھ اعتقاد یہ ہو کہ یہ مطابق بھی نہیں ہے، واقع کے ساتھ بھی مطابق نہ ہو اور اعتقاد بھی یہ ہو کہ یہ واقع کے مطابق نہیں ہے۔ وَغَيْرُهُمَا، صرف متن اب دیکھو: وَغَيْرُهُمَا لَيْسَ بِصِدْقٍ وَلَا كَذِبٍ، اور ان دو صورتوں کے علاوہ باقی نہ صدق ہے اور نہ کذب ہے۔
اول شرح میں دیکھو: أَيْ غَيْرُ هٰذَيْنِ الْقِسْمَيْنِ، ان دو قسموں کے علاوہ وہ نہ صدق ہے اور نہ کذب ہے، وَهُوَ أَرْبَعَةٌ اور وہ کتنی صورتیں ہیں؟ چار ہیں: أَعْنِي الْمُطَابَقَةَ مَعَ اعْتِقَادِ عَدَمِ الْمُطَابَقَةِ ایک صورت یہ، یعنی مطابقت ہو کس کے ساتھ؟ واقع کے ساتھ، لیکن ساتھ اعتقاد ہو کس چیز کا؟ عدمِ مطابقت کا، ایک۔ أَوْ بِدُونِ الِاعْتِقَادِ أَصْلًا یا سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہ ہو، یعنی مطابقت تو واقع کے ساتھ ہو لیکن اعتقاد سرے سے نہ ہو۔ آگے: وَعَدَمَ الْمُطَابَقَةِ لِلْوَاقِعِ، دوسری صورت کیا ہے؟ واقع کے ساتھ مطابقت نہ ہو مَعَ اعْتِقَادِ الْمُطَابَقَةِ اور ساتھ اعتقاد ہو کس چیز کا؟ مطابقت کا اعتقاد ہو گا، أَوْ بِدُونِ الِاعْتِقَادِ أَصْلًا یا عدمِ مطابقت کے ساتھ سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہ ہو۔ بھئی صورتیں سمجھ میں آ گئیں چاروں؟
دیکھیے مثلاً صدق کی مثال بناتے ہیں بھئی جو واقع کے بھی مطابق ہو اور اعتقاد کے بھی مطابق ہو۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: اَللّٰهُ وَاحِدٌ، اللہ ایک ہے۔ اب یہ واقع کے بھی مطابق اور ہمارے اعتقاد کے بھی مطابق، تو یہ کیا ہوا؟ صدق۔ دوسری صورت کذب کی بناؤ مولانا جو واقع کے بھی مطابق نہ ہو اور اعتقاد کے بھی مطابق نہ ہو۔ مثلاً مومن شخص کہتا ہے: اَللّٰهُ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ، اللہ تین میں سے ایک ہے۔ عیسائیوں کا کیا عقیدہ ہے؟ اللہ تین میں سے ایک ہیں، تثلیث کے قائل ہیں، تین خدا مانتے ہیں تو تین میں سے ایک ہیں۔ اب مومن کہتا ہے: اَللّٰهُ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ، اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اب آپ مجھے بتائیے یہ واقع کے مطابق ہے؟ نہیں۔ اور اس مومن کے اعتقاد کے مطابق ہے؟ نہیں۔ تو نہ واقع کے مطابق اور نہ اعتقاد کے مطابق، تو یہ کیا ہوا؟ کذب ہوا۔
واسطے کی چار صورتیں بناتے ہیں بھئی۔ پہلی صورت کہ واقع کے تو مطابق ہو، اعتقاد کے مطابق نہ ہو۔ مثلاً عیسائی کہتا ہے: اَللّٰهُ وَاحِدٌ۔ نصرانی کیا کہتا ہے بھئی؟ اَللّٰهُ وَاحِدٌ۔ اب یہ واقع کے مطابق ہے لیکن اس کے اعتقاد کے مطابق نہیں، تو نہ یہ صدق ہے اور نہ کذب ہے۔ دوسری صورت بناؤ: واقع کے تو مطابق ہو لیکن سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہ ہو۔ مثلاً ایک مجنون شخص ہے وہ کہتا ہے: اَللّٰهُ وَاحِدٌ، اللہ ایک ہے۔ اب یہ واقع کے تو مطابق ہے لیکن اعتقاد یہاں سرے سے ہے ہی نہیں کیونکہ مجنون کا کوئی اعتقاد نہیں ہوتا، تو یہ بھی کیا ہوا مولانا؟ واسطہ۔ تیسری صورت کہ واقع کے مطابق نہ ہو اور اعتقاد کس چیز کا ہو؟ مطابق ہونے کا۔ واقع کے مطابق نہ ہو مثلاً عیسائی کہتا ہے: اَللّٰهُ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ، اللہ تین میں سے ایک ہے۔ یہ واقع کے مطابق ہے یا واقع کے مطابق نہیں؟ واقع کے مطابق نہیں، لیکن عیسائی کے اعتقاد کے مطابق ہے، تو یہ تیسری صورت۔ چوتھی صورت مولانا کہ واقع کے ساتھ مطابق نہ ہو اور اعتقاد بھی سرے سے نہ ہو، مثلاً ایک مجنون شخص کہتا ہے: اَللّٰهُ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ، اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اب یہ واقع کے مطابق نہیں اور اعتقاد بھی سرے سے نہیں، تو یہ چار صورتیں واسطے کی ہوئیں بھئی۔ مثالیں سمجھ میں آئیں؟ یاد رہیں گی؟
تو کہتے ہیں ان کے علاوہ جو ہیں لَيْسَ بِصِدْقٍ وَلَا كَذِبٍ، نہ صدق ہے اور نہ کذب ہے۔ فَكُلٌّ مِّنَ الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ بِتَفْسِيرِهِ أَخَصُّ مِنْهُ بِالتَّفْسِيرَيْنِ السَّابِقَيْنِ۔
اچھا مولانا صدق کی دو قسم کی تعریفیں آئیں، کذب کی بھی دو قسم کی تعریفیں آئیں: ایک وہ تعریف تھی جو اہلِ سنت والجماعت نے کی تھی اور نظام نے کی تھی، اور ایک یہ تعریف ہے جو جاحظ نے کی ہے۔ تو صدق کی جو اہلِ سنت نے تعریف کی تھی انہوں نے کتنی قیدیں لگائی تھیں؟ ایک، کہ کس کے مطابق ہو کلام؟ واقع کے۔ اس کے بعد نظام آیا، نظام نے کتنی قیدیں لگائیں؟ اس نے بھی ایک، لیکن کیا قید لگائی کہ کس کے مطابق ہو؟ اعتقاد کے۔ اور جاحظ نے کتنی قیدیں لگائیں؟ دو، کہ اعتقاد کے بھی مطابق ہو اور واقع کے بھی مطابق ہو۔ تو صدق کی ایک وہ تعریفیں ہیں دو اور ایک صدق کی یہ تعریف ہے، یہ تعریف کہتے ہیں اخص ہے گزشتہ تعریفوں سے۔ یہ تعریف کیا ہے؟ اخص ہے مولانا گزشتہ تعریفوں سے، اس لیے کہ ان میں ایک ایک قید ذکر تھی اور یہاں پر کتنی قیدیں ذکر ہیں؟ دو، اور جتنی قیدیں بڑھتی جائیں اس چیز کے اندر تخصیص بھی بڑھتی جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ میں کہتا ہوں غُلَامٌ، اور ایک قید بڑھاتا ہوں لَاهُورِيٌّ بھئی، غلام کون سا ہو؟ لاہوری، تو غیرِ لاہوری کیا ہوئے؟ خارج ہوئے۔ پھر میں ایک اور قید بھی بڑھاتا ہوں شَرِيفٌ کہ وہ کیا ہو؟ لاہوری بھی ہو اور شریف بھی ہو، تو لاہوریوں میں بھی جو غیرِ شریف ہوئے وہ بھی اس میں سے کیا ہوئے؟ خارج ہو گئے۔ تو قید بڑھنے سے تخصیص آئی یا نہیں آئی مولانا؟ تو باقی تفسیروں میں ایک ایک قید تھی، یہاں دو قیدیں تھیں، تو صدق کی یہ تعریف اپنی گزشتہ تعریفوں سے کیا ہوئی؟ اخص ہوئی۔ اسی طرح کذب کی گزشتہ تعریفوں میں ایک ایک قید تھی، یہاں پر کتنی قیدیں؟ دو، تو کذب کی بھی تعریف اپنے نفس کی جو اس کی اپنی تعریفیں تھیں گزشتہ ان سے کذب کی یہ والی تعریف کیا ہوئی؟ اخص ہوئی بھئی۔
تو یہی بات کر رہے ہیں بھئی: فَكُلٌّ مِّنَ الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ پس صدق اور کذب میں سے ہر ایک بِتَفْسِيرِهِ اس جاحظ کی تفسیر کے ساتھ أَخَصُّ مِنْهُ وہ اپنے نفس سے اخص ہے، بھئی ایک صدق کی پہلے دو تعریفیں تھیں وہ بھی صدق ہی کی تعریف اور اب بھی کیا ہے صدق کی تعریف، تو صدق اخص ہوا کس سے؟ اپنے ہی نفس سے۔ اور وہ بھی کذب کی تعریف یہ بھی کذب کی تعریف، تو کذب بھی اخص ہوا کس سے؟ اپنے نفس سے، بِالتَّفْسِيرَيْنِ السَّابِقَيْنِ گزشتہ دو تفسیروں کے ساتھ۔ کیوں؟ لِأَنَّهُ اعْتَبَرَ اس لیے کہ جاحظ نے اعتبار کیا ہے فِي الصِّدْقِ صدق کے اندر مُطَابَقَةَ الْوَاقِعِ وَالِاعْتِقَادِ جَمِيعًا واقع اور اعتقاد دونوں کی مطابقت کا، وَفِي الْكَذِبِ عَدَمَ مُطَابَقَتِهِمَا جَمِيعًا اور کذب کے اندر دونوں کی عدمِ مطابقت کا اعتبار کیا ہے، واقع کا بھی اور اعتقاد کا بھی۔
بِنَاءً بھئی، یہ ایک سوال کا جواب دینا چاہتے ہیں، ایک اشکال کا جواب دینا چاہتے ہیں بھئی۔ ذرا متن پہ آؤ پچھلے صفحے پر بھئی۔ متن میں کیا تھا؟ اَلْجَاحِظُ مُطَابَقَتُهُ مَعَ الِاعْتِقَادِ۔ اَلِاعْتِقَادِ میں یاد رکھو الف لام عوض ہے مضاف الیہ سے، اور وہ مضاف الیہ ہے مطابقت۔ تو کلام کیسے ہوا؟ اَلْجَاحِظُ مُطَابَقَتُهُ مَعَ اعْتِقَادِ الْمُطَابَقَةِ۔ بھئی متن دیکھ رہے ہو بھئی؟ بڑی مشکل بات ہے توجہ سے سنو یہ بات بھئی۔ متن میں کیا آیا مولانا؟ مَعَ الِاعْتِقَادِ۔ اَلِاعْتِقَادِ میں الف لام عوض ہے کس چیز سے؟ مضاف الیہ سے، اور مضاف الیہ کیا ہے؟ مطابقت۔ تو مطابقت کو حذف کر کے اس کے عوض اعتقاد پر کیا لے آئے؟ الف لام لے آئے۔ تو متن میں جاحظ نے کہا ہے اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ، اور علامہ تفتازانی نے کہا ہے مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ! دیکھو علامہ تفتازانی نے کیا کہا: لِأَنَّهُ اعْتَبَرَ فِي الصِّدْقِ اس لیے کہ جاحظ نے اعتبار کیا ہے صدق میں کس چیز کا؟ مُطَابَقَةَ الْوَاقِعِ واقع کی مطابقت کا وَالِاعْتِقَادِ، اس اعتقاد کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ واقع پر، اور واقع کیا ہے؟ مضاف الیہ، تو اعتقاد بھی کیا بن جائے گا؟ مضاف الیہ، تو کیا بنا؟ مُطَابَقَةَ الِاعْتِقَادِ۔ تو متن میں آیا تھا اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ، اور اے علامہ تفتازانی آپ نے کہا مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ! اشکال سمجھ میں آیا؟ جاحظ نے کہا تھا اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ، اعتقاد مضاف تھا اور مطابقت کیا تھا؟ مضاف الیہ، اور اے علامہ تفتازانی آپ نے کہا کہ جاحظ نے اعتبار کیا ہے مُطَابَقَةَ الِاعْتِقَادِ، آپ نے مضاف کو مضاف الیہ بنا دیا اور مضاف الیہ کو مضاف بنا دیا! اشکال سمجھ میں آیا؟
تو علامہ تفتازانی اب آپ کو بتلانے لگے ہیں، کہتے ہیں بھئی ایک ہی بات ہے، کوئی حرج نہیں، چاہے مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ کہہ لیں چاہے اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ کہہ لیں، اس لیے کہ وہ جو متن میں آیا تھا اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ اس کے ساتھ لازم ہے مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ۔ کس طرح لازم ہے؟ دیکھو دو صورتیں ہیں: ایک صدق کی صورت ہے اور ایک کذب کی صورت ہے، متن میں یہی بیان ہوا نا۔ تو صدق کی صورت میں دیکھو، جاحظ نے کیا کہا؟ اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ، ترجمہ کرو ذرا: مطابقت کا اعتقاد۔ اب صدق کی صورت بناؤ: میں نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ کلامِ خبری ہے، اور واقع میں بھی زید کیا ہے؟ کھڑا ہے، کیونکہ صدق چل رہا ہے۔ تو یہ کلامِ خبری کیا ہوا؟ واقع کے مطابق ہوا بھئی۔ دوسری بات انہوں نے کیا کی تھی؟ اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ، یعنی مطابقت کا میں نے اعتقاد بھی کیا، میرا اعتقاد بھی کیا ہے کہ یہ خبر کیا ہے واقع کے مطابق ہے بھئی۔ جب واقع میں بھی زید کھڑا ہے اور میں نے اعتقاد بھی یہ کر لیا کہ زید کھڑا ہے، تو میرا اعتقاد اور واقع موافق ہو گئے۔ واقع میں بھی زید کھڑا اور میرا اعتقاد بھی کیا ہے کہ زید کھڑا ہے، تو دونوں موافق ہوئے۔ اور جب دونوں ایک دوسرے کے موافق ہیں تو جو چیز ایک کے موافق ہو گی دوسرے کے بھی کیا ہو جائے گی؟ موافق ہو جائے گی۔ جب کلامِ خبری زَيْدٌ قَائِمٌ وہ واقع کے مطابق تھا تو اعتقاد کے بھی کیا ہوا؟ مطابق ہوا۔ جب اعتقاد کے مطابق ہوا تو اعتقاد کی مطابقت آ گئی! چلے کہاں سے تھے؟ اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ سے چلے تھے، پہنچ کہاں پر گئے؟ مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ پر! غور کیا یا نہیں کیا؟
اور کذب میں بھی یہی کر لو مولانا۔ میں نے کہا زید کھڑا ہے، اور واقع میں زید کھڑا نہیں، اور میرا اعتقاد بھی عدمِ مطابقت کا ہے کہ زید کھڑا نہیں۔ تو واقع بھی ہے زید کھڑا نہیں، میرا اعتقاد بھی یہ ہے کہ زید کھڑا نہیں، تو دونوں موافق ہو گئے۔ اب جو ایک کے موافق ہو گا تو دوسرے کے بھی موافق، ایک کے مخالف ہو گا تو دوسرے کے بھی مخالف۔ اور یہ کلامِ خبری زید کھڑا ہے یہ واقع کے مطابق ہے؟ نہیں۔ جب واقع کے مطابق نہیں تو اعتقاد کے مطابق بھی نہیں۔ تو اعتقاد کے مطابق نہیں، تو کیا آئی مولانا؟ اعتقاد کی عدمِ مطابقت، اور پہلے کیا آیا تھا؟ اعتقاد کی مطابقت أَيْ مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ، جہاں تک ہم پہنچ گئے بھئی۔ سمجھ میں آیا سب کو؟
بِنَاءً، بنا بر اس کے مولانا عَلٰى أَنَّ اعْتِقَادَ الْمُطَابَقَةِ يَسْتَلْزِمُ مُطَابَقَةَ الِاعْتِقَادِ اس لیے کہ اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ جو ہے وہ مستلزم ہے کس چیز کو؟ مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ کو، ضَرُورَةَ تَوَافُقِ الْوَاقِعِ وَالِاعْتِقَادِ حِينَئِذٍ، ضرورت کا معنی کر لیں یقینی، بوجہ یقینی ہونے کے موافقت کا کس چیز کی موافقت؟ واقع اور اعتقاد کی موافقت یقینی ہونے کی وجہ سے حِينَئِذٍ اس وقت بھئی، جب آپ مطابقت کا اعتقاد کریں گے تو لازمی بات ہے اعتقاد اور واقع ایک دوسرے کے کیا بن جائیں گے؟ موافق بن جائیں گے۔ یہ تو صدق کی صورت تھی، اب کذب کی بتلا رہے ہیں: وَكَذَا اعْتِقَادُ عَدَمِ الْمُطَابَقَةِ يَسْتَلْزِمُ عَدَمَ مُطَابَقَةِ الِاعْتِقَادِ، اور اسی طرح عدمِ مطابقت کا اعتقاد اس کے ساتھ لازم ہے کیا؟ اعتقاد کی عدمِ مطابقت لازم ہے۔
اچھا بات کیا چل رہی تھی اوپر بھئی؟ انہوں نے کہا تھا صدق کی یہ تفسیر اخص ہے اپنی ہی گزشتہ تفسیروں سے اور کذب کی یہ تفسیر اخص ہے اپنی ہی گزشتہ تفسیروں سے، کیوں؟ کیونکہ جاحظ نے یہاں پر کتنی قیدوں کا اعتبار کیا ہے؟ دو قیدوں کا، وَقَدِ اقْتُصِرَ فِي التَّفْسِيرَيْنِ السَّابِقَيْنِ عَلٰى أَحَدِهِمَا جبکہ گزشتہ تفسیروں میں اکتفا کیا گیا تھا ایک کا، یا تو واقع کا یا صرف اعتقاد کا۔
بِدَلِيلِ أَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ۔
جاحظ کا دعویٰ کیا ہے مولانا؟ دعویٰ یہ ہے نا کہ کلامِ خبری ضروری نہیں کہ صرف صادق ہو یا صرف کاذب ہو، ایسا کلامِ خبری بھی ممکن ہے جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو۔ تو وہ کہتے ہیں بھئی میں قرآن سے دلیل دوں گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑے ادیب ہیں، قرآن سے دلیل دے رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں دیکھو قرآن میں اللہ نے فرمایا: أَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ۔ پوری آیت کس طرح ہے بھئی؟ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ، أَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ۔ بھئی حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کفار کو دعوت دیتے تھے اور بتلاتے تھے کہ یہ دنیاوی زندگی کچھ نہیں، یہ گزر جائے گی، آخرت میں پھر انسان کو اٹھایا جائے گا اور سب کو جمع کیا جائے گا اور ہر ایک کو کیا دیا جائے گا؟ اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ تو کفار اس پر بڑے حیران ہوتے بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے ہم بالکل ٹکڑے ٹکڑے ریزہ ریزہ ہو جائیں پھر ہمارا جسم بنے اور ہمیں زندہ کیا جائے! تو اس پر وہ کہا کرتے تھے: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا تھا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ کیا ہم تمہاری دلالت نہ کریں ایسے آدمی پر يُنَبِّئُكُمْ جو خبر دیتا ہے کہ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ کر دیے جاؤ گے إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ تم نئے جنم میں آؤ گے، أَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ کیا اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس کو کیا ہے؟ جنون ہے! تو حضور عَلَيْهِ السَّلَامُ نے جب یہ خبر دی تو انہوں نے کیا کہا؟ یا تو اللہ پر جھوٹ باندھا ہے أَمْ بِهِ جِنَّةٌ یا کیا ہے ان کو؟ جنون ہے۔
جاحظ کہتے ہیں یہ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ یہ نہ صدق کے قبیل سے ہے نہ کذب کے قبیل سے، اور اگر ہمارا یہ دعویٰ ثابت ہو جائے کہ یہ نہ صدق کے قبیل سے ہے اور نہ کذب کے قبیل سے تو پھر ہمارا مدعا ثابت ہوا بھئی، تو واسطہ ثابت ہو جائے گا۔ کہتے ہیں میں آپ کو دکھاتا ہوں کہ یہ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ نہ یہ صادق ہے نہ یہ کاذب ہے، جب نہ یہ صادق ہوا نہ کاذب ہوا تو کیا ثابت ہو گیا؟ واسطہ ثابت ہو گیا، اور میں بھی یہی کہتا ہوں کہ کلامِ خبری ہمیشہ صادق یا کاذب ہونا ضروری نہیں۔
تو کہتے ہیں أَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا باندھا ہے اللہ پر جھوٹ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ یا اس کو کیا ہے؟ جنون ہے۔ بھئی أَمْ بِهِ جِنَّةٌ سے مراد کیا ہے؟ اصل کلام یوں ہے: أَمْ أَخْبَرَ حَالَ الْجُنُونِ، یا تو اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس نے یہ خبر کس حال میں دی ہے؟ جنون کی حالت میں دی ہے بھئی۔ تو جاحظ کہتے ہیں یہ جو اخبار حال الجنون ہے نہ یہ صدق کے قبیل سے ہے اور نہ کذب کے قبیل سے۔ کہتے ہیں یہ کذب کے قبیل سے نہیں، کیوں؟ کیونکہ یہ کذب کے مقابلے میں آ رہا ہے، تو یہ اس کی قسیم ہوئی اور قسیمِ شے غیر ہوتی ہے شے سے۔ مثلاً میں کہتا ہوں یہ عدد یا تو طاق ہے یا طاق ہے، یہ بات بنتی ہے؟ نہیں، کیونکہ یا کے بعد کیا آنا چاہیے؟ اس کے مقابل آنا چاہیے اور وہ کیا ہے؟ جفت ہے۔ تو یا سے ماقبل جب ایک چیز آ گئی تو یا کے مابعد اس کی کیا آنی چاہیے؟ قسیم آنی چاہیے، اس کا مقابل آنا چاہیے، وہی چیز دوبارہ نہیں آ سکتی بھئی۔ بھئی ایک ہوتی ہے قسیم، ایک ہوتی ہے قسم۔ قسم وہ ہے جو کسی چیز کے تحت ہو، مثلاً میں کہتا ہوں اَلْكَلِمَةُ اسْمٌ وَفِعْلٌ وَحَرْفٌ، کلمہ اسم ہے، فعل ہے اور حرف ہے، تو دیکھو یہ کلمہ کی اقسام ہوئیں اسم، فعل اور حرف، تو یہ کلمہ کے تحت ہیں، کلمہ ان تینوں کو شامل ہے۔ اور یہ جو اقسام ہوتی ہیں یہ آپس میں قسیم کہلاتی ہیں: اسم قسیم ہے فعل کا بھی، اسم قسیم ہے کس کا؟ حرف کا بھی، تو یہ مقابل ہوتے ہیں ایک دوسرے کے بھئی۔
اب یہاں پر بھی مولانا اسی طرح ہے، کذب کے ساتھ آ رہا ہے أَمْ اور أَمْ کے بعد اس کی کیا ذکر ہوتی ہے؟ قسیم ذکر ہوتی ہے، اور قسیم وہی چیز ہوتی ہے یا اس سے غیر ہوتی ہے؟ اس سے غیر ہوتی ہے، تو پہلا کیا ہے؟ کذب، معلوم ہوا آگے جو قسیم ہے وہ کذب نہیں۔ تو یہ ثابت ہو گیا کہ اخبار حال الجنون کذب نہیں۔ اور یہ مولانا صدق بھی نہیں، اس لیے کہ کفار حضور کے صدق کے قائل بھی نہیں تھے۔ کیونکہ اگر اس سے صدق مراد لے لیں تو یوں بن گیا: یا تو یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے یا یہ شخص کیا کر رہا ہے؟ سچ بول رہا ہے! تو کیا کسی بھی درجے میں ان کو حضور کے سچا ہونے کا شک یا اعتبار کرتے تھے وہ؟ نہیں، تو یہ ان کے اعتقاد کے کسی بھی لحاظ سے مطابق نہیں۔ تو معلوم ہوا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ یعنی اخبار حال الجنون سے کذب بھی نہیں مراد کیونکہ کذب کی تو یہ کیا ہے؟ قسیم ہے، اور اس سے صدق بھی نہیں مراد کیونکہ یہ ان کا اعتقاد نہیں تھا کسی بھی لحاظ سے۔ جب یہ نہ صدق ہے اور نہ یہ کذب ہے تو ثابت ہو گیا مولانا کہ صدق اور کذب میں کیا ہے؟ واسطہ ہے، ایسا کلامِ خبری بھی ممکن ہے جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ تھا جاحظ کا دعویٰ بھئی۔
جواب ہم دیتے ہیں مولانا کہ نہیں، آپ نے غور نہیں کیا شاید، اصل بات یوں نہیں۔ آپ نے اخبار حال الجنون کو قسیم بنایا تھا کس چیز کی؟ کذبِ مطلق کی۔ یہ کذبِ مطلق کی قسیم نہیں ہے، یہ کذبِ خاص کی قسیم ہے! یا یوں کہو یہ کذب ہی کی تقسیم ہو رہی ہے! کفار ہر حال میں حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے کس چیز کے قائل تھے کہ حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا ہیں؟ کاذب ہیں، نعوذ باللہ۔ تو یہ کذب ہی کی تقسیم ہو رہی ہے، یعنی اس پیغمبر نے یا تو اللہ پر افتراء کیا ہے، افتراء کہتے ہیں جان بوجھ کر جھوٹ بولنا، یا تو اس پیغمبر نے جان بوجھ کر اللہ پر کیا کیا ہے؟ جھوٹ باندھا ہے، یا جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولا بلکہ بغیر ارادے کے بولا ہے۔ بھئی بول جھوٹ ہی رہے ہیں ہر حال میں کفار کا یہ اعتقاد تھا، لیکن پھر جھوٹ کی دو قسمیں ہوئیں: ایک کذب کیا ہوا؟ عن عمد، اور ایک کیا ہوا؟ عن غیرِ عمد بھئی، بغیر ارادے کے۔ یہ جو انہوں نے کہا کہ ہم دوبارہ پیدا ہوں گے، دوبارہ اٹھائے جائیں گے، یا تو یہ ارادتاً جھوٹ ہے یا یہ بغیر ارادے کے جھوٹ ہے، ہے ہر حال میں جھوٹ ہی لیکن یا تو ارادتاً ہے یا بغیر ارادے کے ہے۔ تو افتراء کہتے ہیں کذب عن عمد کو، اور دوسرا کیا ہے اس کے مقابلے میں؟ عدمِ افتراء، بغیر ارادے کے جھوٹ۔ لیکن بغیر ارادے کے جھوٹ کو تعبیر کر دیا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ کے ساتھ بھئی، اس لیے کہ مجنون کا بھی کوئی ارادہ نہیں ہوتا، اگر وہ بھی جھوٹ بولے گا تو بغیر ارادے کے جھوٹ ہو گا۔ تو وہ بھی چونکہ بغیر ارادے کے جھوٹ ہوا تو اسی کے ساتھ اس کو تعبیر کر دیا کہ یا تو یہ جھوٹ بول رہا ہے ارادے کے ساتھ یا جھوٹ بول رہا ہے بغیر ارادے کے۔ تو مولانا اب آپ مجھے بتائیے أَمْ بِهِ جِنَّةٌ یہ کذبِ مطلق کی قسیم ہوئی یا کذبِ خاص کی قسیم ہوئی؟ کذبِ خاص کی! یعنی کذب دو قسم پر ہوا: ایک ارادے کے ساتھ ہوا، ایک بغیر ارادے کے، اور ماقبل میں کذبِ مطلق ذکر نہیں ہے بلکہ کذبِ خاص یعنی وہ کذب جو کس کے ساتھ ہو؟ ارادے کے ساتھ، اور أَمْ بِهِ جِنَّةٌ سے کیا مراد ہے؟ وہ کذب جو کس کے ساتھ ہو؟ بغیر ارادے کے ہو۔ تو کلام گویا یوں بن گیا: أَفْتَرٰى أَمْ لَمْ يَفْتَرِ، یا تو افتراء کیا ہے یا افتراء نہیں کیا۔
تو جواب سمجھ میں آیا مولانا؟ وہ کیا سمجھے تھے بھئی یہ اخبار حال الجنون کس کی قسیم ہے؟ کذبِ مطلق کی، جب کذبِ مطلق کی قسیم بنایا تو خرابی لازم آئی نہ یہ کذب بن سکتا تھا اور نہ صدق بن سکتا تھا۔ لیکن ہم نے بتایا کہ یہ کذبِ مطلق کی قسیم نہیں ہے بلکہ کس کی قسیم ہے؟ کذبِ خاص کی، یعنی یہ تو کذب ہی کی تقسیم ہو رہی ہے کہ ہے تو کذب ہی ہر حال میں یہ جو انہوں نے کہا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، لیکن یہ کذب یا تو ارادے کے ساتھ ہے یا بغیر ارادے کے، اور بغیر ارادے کے ساتھ جو کذب ہے اس کو تعبیر کر دیا کس کے ساتھ؟ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ کے ساتھ کیونکہ مجنون کا بھی کوئی ارادہ نہیں ہوتا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
چلیے مولانا، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔