Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-054

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 29 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کے بعد کبھی بَدَلٌ کو ذکر کیا جاتا ہے، اس سے بَدَلٌ کو لایا جاتا ہے زیادتِ تقریر کے لیے بھئی۔ تو معلوم ہوا بَدَلٌ کے لانے سے تقریر حاصل ہوگی بھئی۔ اب یہ تقریر کا حاصل ہونا بَدَلُ الْكُلِّ میں تو ظاہر ہے، بَدَلُ الِاشْتِمَالِ اور بَدَلُ الْبَعْضِ میں تقریر کیسے آئے گی وہ آپ نے پڑھا بھئی۔ بَدَلُ الْكُلِّ میں تو ظاہر اس لیے کہ بھئی پہلے وہی ذات ذکر... بَدَلُ الْكُلِّ میں بَدَلٌ اور مُبْدَلٌ مِنْهُ ایک ہی ذات پر دلالت کرتے ہیں، تو ایک ہی ذات جب دو مرتبہ ذکر ہوئی تو تقریر آ گئی بھئی، پختگی آ گئی اس میں۔ اور بَدَلُ الْبَعْضِ کے اندر اس لیے کہ پہلے کُلّ ذکر ہوا، اس کے بعد بَعْض یا جُزْءٌ ذکر ہوا، اور کُلّ کے ضمن میں جُزْءٌ بھی آ جایا کرتا ہے، تو پہلے بھی وہ ضمناً اور اجمالاً جُزْءٌ آ گیا تھا، بعد میں صراحتاً وہ جُزْءٌ آ گیا، تو کیا حاصل ہوئی؟ تقریر حاصل ہوئی بھئی، دو مرتبہ آ گیا۔ اور بَدَلُ الِاشْتِمَالِ بھئی، بَدَلُ الِاشْتِمَالِ کے بارے میں میں نے آپ کو بتلایا تھا، عجیب تعریف آپ نے پڑھی اس کی کہ بَدَلُ الِاشْتِمَالِ وہ ہوتا ہے جو مَحَلٌّ نہ ہو وُقُوعُ الْفِعْلِ اور قِيَامُ الْفِعْلِ کا، اور ذہن منتظر رہتا ہے کوئی اور ایسا کلمہ اور لفظ آئے جو مَحَلٌّ بنے کس کے لیے؟ وُقُوعُ الْفِعْلِ کے لیے یا قِيَامُ الْفِعْلِ کے لیے بھئی۔ تو یہاں پر بھی جب پہلے مُبْدَلٌ مِنْهُ ذکر ہوا اور وہ مَحَلٌّ نہیں ہے وُقُوعُ الْفِعْلِ کا، تو ذہن ابھی بھی منتظر ہے کہ کوئی اور کلمہ آئے۔ تو مُبْدَلٌ مِنْهُ میں گویا اشارہ ہو گیا اجمالاً کس کی طرف؟ بَدَلٌ کی طرف۔ مُبْدَلٌ مِنْهُ میں کس کی طرف اشارہ ہو گیا؟ کیونکہ مُبْدَلٌ مِنْهُ مَحَلٌّ ہی نہیں ہے وُقُوعُ الْفِعْلِ کا، تو اشارہ ہو گیا آگے آنے کسی اور کلمے کے آنے کی طرف بھئی۔ اور پھر جب وہ اگلا کلمہ آیا تو پہلے اس کا اشارہ ذکر ہوا تھا، تو اشارۃً پہلے ذکر ہوا اور دوسری مرتبہ صراحتاً ذکر ہوا تو کیا حاصل ہوئی؟ زیادتِ تقریر حاصل ہوئی بھئی۔ جیسے میں نے کہا: صُلِبَ عَمْرٌو صَوْبُهُ۔ اب صُلِبَ عَمْرٌو، عَمْرٌو مُبْدَلٌ مِنْهُ ہے، اس کو ذکر کیا گیا لیکن یہ مَحَلٌّ نہیں ہے، چھینا گیا زید کو، وہ چھیننے کا مَحَلٌّ نہیں، تو ذہن منتظر رہا کہ آگے کوئی کلمہ آئے تو صَوْبُهُ اس کے بعد آیا جو مَحَلٌّ بنا کس چیز کا؟ فِعْلٌ کا بھئی۔ یا جیسے میں کہتا ہوں: أَعْجَبَنِي زَيْدٌ عِلْمُهُ۔ تو جب میں نے کہا: أَعْجَبَنِي زَيْدٌ، حیران کیا، تعجب میں ڈالا مجھے زید نے، تو زید مَحَلٌّ نہیں ہے مولانا، کیونکہ ذاتِ زید ہے اور کوئی ذات مِنْ حَيْثُ الذَّاتِ تعجب میں ڈالنے والی... وہ تعجب میں نہیں ڈالتی بلکہ تعجب میں کوئی فِعْلٌ ڈالے گا یا کوئی وَصْفٌ تعجب میں ڈالے گا بھئی۔ تو پھر ذہن منتظر رہا اور عِلْمُهُ نے آ کر اس فِعْلٌ کو قبول کیا بھئی۔ چنانچہ پھر اس کے بعد علامہ تفتازانی نے علامہ ابنِ حاجب صاحبِ قافیہ پر بھی رد فرمایا جنھوں نے کیا کہا تھا کہ: جَاءَنِي زَيْدٌ أَخُوهُ، یہ أَخُوهُ کو انھوں نے کیا قرار دیا تھا؟ بَدَلُ... جی؟ بَدَلُ الِاشْتِمَالِ قرار دیا تھا، علامہ تفتازانی کہتے ہیں نہیں، جَاءَنِي زَيْدٌ، یہاں تو زید مَجِيئَة کو قبول کر رہا ہے بھئی، تو ذہن آگے کسی کلمے کا منتظر ہی نہیں، جب منتظر نہیں ہے تو معلوم ہوا یہ بَدَلُ الِاشْتِمَالِ نہیں بلکہ یہ کیا ہے؟ بَدَلُ الْغَلَطِ ہے۔ اور مصنف نے بَدَلُ الْغَلَطِ کو ذکر نہیں کیا اس لیے کہ بات فصاحت کی چل رہی ہے اور فصیح کلام کے اندر بَدَلُ الْغَلَطِ واقع نہیں ہوا کرتا، اس لیے کہ بَدَلُ الْغَلَطِ جو ہے اس کا سبب غلطی ہوا کرتی ہے اور فصاحت میں غلطی کی گنجائش نہیں۔ اس کے بعد آخری تابع جو تھا مَعْطُوفٌ بِالْحَرْفِ، اس کے نکات چل رہے تھے، سب سے پہلے بتلایا بھئی کہ وَاوٌ کے بارے میں، کہ کبھی عطف کس لیے کیا جاتا ہے؟ مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کی تفصیل مقصود ہوتی ہے ساتھ اختصار کے بھئی، اختصار بھی آئے اور مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کی بھی تفصیل۔ اور مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کی تفصیل کا کیا معنی؟ کہ مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کا ہر فرد اپنے خاص نام کے ساتھ اس کو ذکر کر دیا جائے۔ مثلاً میرے پاس دو شخص آئے، میں یہ کہہ سکتا ہوں: جَاءَنِي رَجُلَانِ، لیکن مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کی تفصیل نہیں آئی ان میں سے کہ وہ دو آدمی کون ہیں، ہر ایک کا خاص الگ نام ذکر نہیں، تو جب میں عطف کے ساتھ ذکر کرتا ہوں: جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو، میرے پاس زید اور عمرو آئے، تو یہ عطف کے ساتھ آئے اور مولانا اب مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کی تفصیل معلوم ہو گئی یعنی اس کے ہر فرد کا پتہ اس کے اِسْمٌ مُخْتَصّ کے ساتھ چل گیا۔ اور ساتھ اختصار بھی آیا کیونکہ جَاءَ کا فِعْلٌ ایک ہی مرتبہ ذکر کرنا پڑا، اگر اس کے بجائے یوں کہا جاتا: جَاءَنِي زَيْدٌ وَجَاءَنِي عَمْرٌو، تو اس صورت کے اندر بھئی مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کی تفصیل تو آ جاتی لیکن اختصار نہ رہتا اور نیز پھر یہ مَسْنَدٌ إِلَيْهِ پر عطف کے قبیل سے بھی نہ رہتا بلکہ یہ تو جملے کا عطف بن جاتا کس پر؟ جملے پر۔ یا مولانا کبھی عطف کیا جاتا ہے تفصیلِ مَسْنَد کے لیے اس اختصار کے ساتھ بھئی، اور وہ کس کے ساتھ آئے گا بھئی؟ وہ فَاءٌ، ثُمَّ، اور حَتَّى کے ساتھ۔ میں نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو، اب یہ فَاءٌ نے بتلا دیا کہ مَجِيئَة پہلے زید کے لیے ثابت ہے اور اس کے بعد عمرو کے لیے، جبکہ گزشتہ میں تھا: جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو، وَاوٌ صرف جمعیت کے لیے آتا ہے، اس نے صرف اتنا بتلا دیا کہ مَجِيئَة زید کے لیے بھی ثابت ہے اور عمرو کے لیے بھی۔ یہ ترتیب کا فائدہ نہیں دیتا کہ زید پہلے ذکر ہے تو اس کا یہ معنی ہو کہ زید پہلے آیا ہے اور عمرو بعد میں، بلکہ ہو سکتا ہے دونوں اکٹھے آئے ہوں پھر بھی آپ یوں کہہ سکتے ہیں: جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو، ہو سکتا ہے زید واقعی پہلے آیا ہو اور عمرو بعد میں، ہو سکتا ہے اس کا عکس ہو عمرو پہلے آیا ہو اور زید بعد میں تب بھی کہہ سکتے ہیں: جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو، یعنی مَجِيئَة دونوں کے لیے ثابت ہے پھر چاہے ان میں اگر ترتیب ہے تو درمیان میں مہلت ہو یا مہلت نہ ہو، ایک آیا فوراً دوسرا بھی آ گیا یا ایک آج آیا دوسرا دس سال بعد آیا پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں: جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو، ہاں وَاوٌ نے صرف یہ بتلا دیا کہ مَجِيئَة دونوں کے لیے ثابت ہے۔ لیکن فَاءٌ، ثُمَّ، اور حَتَّى جو ہیں ترتیب کا فائدہ دیں گے، مَسْنَد کی بھی تفصیل آ گئی کہ جب میں نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو معلوم ہوا زید پہلے آیا ہے اور عمرو اس کے بعد آیا ہے فوراً بغیر مہلت کے۔ اور جب میں نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ ثُمَّ عَمْرٌو، ثُمَّ نے ترتیب کے ساتھ ساتھ تراخی کا فائدہ بھی دیا کہ زید اور عمرو کے درمیان آنے میں کیا ہے؟ ترتیب بھی ہے اور تراخی یعنی تاخیر مہلت کے ساتھ آیا ہے بھئی۔ اور حَتَّى بھی اسی طرح ہے مولانا، حَتَّى بھی دیتا ہے ترتیب کا فائدہ، لیکن فرق یہ ہے مولانا کہ فَاءٌ اور ثُمَّ جو آتے ہیں تَرْتِيبِ خَارِجِيّ کے لیے آتے ہیں، معلوم ہوا خارج میں زید پہلے آیا ہے اور عمرو بعد میں آیا ہے، ثُمَّ میں بھی اسی طرح کہ خارج میں زید پہلے آیا ہے اور عمرو بعد میں آیا ہے، لیکن حَتَّى کے اندر خارج کے اندر ترتیب کا ہونا ضروری نہیں، ہاں یہ ذہن میں ترتیب کا فائدہ دیتا ہے کہ آپ ذہن میں کیا کر لیتے ہیں؟ افراد بنا لیتے ہیں اور پہلے اَقْوَى کو ذکر کرتے ہیں اور حَتَّى کے بعد کس کو ذکر کر دیتے ہیں؟ اَضْعَف کو، یا اس کا عکس کر دیتے ہیں بھئی، دو افراد آپ نے بنا لیے ایک قوی ایک ضعیف بھئی، پہلے ضعیف کو ذکر کر دیا اور پھر کس کو ذکر کر دیا؟ قوی کو ذکر کر دیا بھئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: مَاتَ النَّاسُ حَتَّى الْأَنْبِيَاءُ، تو یہاں پر دیکھیے لوگ مر گئے حتیٰ کہ انبیاء کا بھی انتقال ہوا، تو اب یہاں پر خارج کے اندر دیکھیے انبیاء کا انتقال لوگوں سے مؤخر نہیں بلکہ لوگوں کے درمیان میں ہی ہے، ان کے ساتھ ہی ہے بھئی، لیکن ذہن میں میں نے ترتیب بنا لی کہ پہلے مَاتَ کا تعلق ضعیف عام لوگوں سے جوڑ دیا اور پھر ان کے جو قوی افراد ہیں یعنی انبیاء، ان کے ساتھ میں نے تعلق بنایا بھئی۔ اور نیز یہ بھی بتلایا تھا مولانا کہ یہ ہے حَتَّى عاطفہ بھئی، یہ جو حَتَّى ہوتا ہے عموم کا فائدہ دیتا ہے اور حَتَّى عاطفہ کے اندر ضروری ہے کہ مَا بَعْد مَا قَبْل کا جُزْءٌ ہو مولانا، مَا قَبْل کا کیا ہو؟ جُزْءٌ ہو اور اس میں داخل ہو: جَاءَنِي الْقَوْمُ، تو اس قوم میں کیا تھا؟ جَاءَنِي الْقَوْمُ حَتَّى خَالِدٌ، یہ خالد بھی کیا ہے؟ انہی کے افراد میں سے ہے لیکن میں نے اس کے افراد دو قسم پر بنا لیے ایک اَضْعَف اور ایک اَقْوَى۔ اس پر پھر مصنف نے تو کہا تھا کہ بھئی یہ فَاءٌ، ثُمَّ، اور حَتَّى جو آیا کرتے ہیں یہ مَسْنَد کی تفصیل کے لیے آیا کرتے ہیں اختصار کے ساتھ بھئی، کہتے ہیں حالانکہ یہاں پر تو مَسْنَد کی تفصیل کے ساتھ ساتھ مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کی بھی تفصیل آ گئی بھئی: جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو، پتہ چلا آنے والے زید ہے اور عمرو ہے تو ان کا بھی تو پتہ چل گیا، تو بتلایا مصنف نے یہ اس لیے کیا تاکہ تفریق کر دیں بھئی، ایک چیز ہوتی ہے حَاصِلٌ بِالْقَصْدِ ایک ہوتی ہے حَاصِلٌ بِلَا قَصْدٍ، تو یہاں مَسْنَد کی تفصیل جو ہے وہ حَاصِلٌ بِالْقَصْدِ ہے اور جبکہ مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کی تفصیل جو آ رہی ہے وہ کیا ہے؟ حَاصِلٌ بِلَا قَصْدٍ کے ہے بھئی۔ جیسے میں نے بتلایا تھا ایک صاحب نظر اٹھا کر زید کی طرف دیکھتے ہیں تو زید کے جو ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی آپ کو نظر آئیں گے لیکن زید کی طرف دیکھنا، زید کی رؤیت آپ کو حاصل ہوئی حَاصِلٌ بِالْقَصْدِ اور باقیوں کی حاصل ہوئی حَاصِلٌ بِلَا قَصْدٍ کے۔ اور وجہ اس کی ذکر کی تھی بھئی کہ یہ کیوں حَاصِلٌ بِالْقَصْدِ ہے اور تفصیلِ مَسْنَد حَاصِلٌ بِالْقَصْدِ کیوں اور تفصیلِ مَسْنَدٌ إِلَيْهِ حَاصِلٌ بِلَا قَصْدٍ، کہتے ہیں اس لیے کہ شیخ عبدالقاہر نے دلائل الاعجاز کے اندر ذکر کیا ہے بھئی، کہ جب کلام مشتمل ہو کسی قیدِ زائد پر، محض اثبات اور محض نفی پر کوئی زائد قید کلام کے اندر ذکر کی جائے تو وہی مقصودِ اصلی ہوا کرتی ہے، وہی مقصودِ اصلی ہوا کرتی ہے، تو یہاں پر مولانا جب آپ نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو تو یہ تو پتہ چل رہا ہے بھئی کہ زید کے لیے بھی مَجِيئَة ثابت، عمرو کے لیے بھی مَجِيئَة ثابت، ایک زائد فائدہ فَاءٌ دے رہا ہے اور وہ کیا کہ پہلے زید کے لیے ثابت ہے اور پھر بغیر مہلت کے کس کے لیے؟ عمرو کے لیے، تو یہ جو زائد فائدہ ہوا یہ کیا ہوا؟ کلام کا مقصودِ... گویا کہ یوں سمجھو کہ مخاطب کو پہلے سے ہی پتہ تھا کہ مَجِيئَة زید کے لیے بھی ثابت ہے اور عمرو کے لیے بھی، اب آپ یہ کلام صرف یہ بتلانے کے لیے لائے ہیں کہ پہلے زید کے لیے ثابت ہے مَجِيئَة اور بعد میں کس کے لیے ثابت ہے؟ عمرو کے لیے بھئی۔ أَوْ رَدِّ السَّامِعِ عَنِ الْخَطَإِ فِي الْحُكْمِ إِلَى الصَّوَابِ، نَحْوُ: جَاءَنِي زَيْدٌ لَا عَمْرٌو، لِمَنِ اعْتَقَدَ أَنَّ عَمْرًا جَاءَكَ دُونَ زَيْدٍ أَوْ أَنَّهُمَا جَاءَاكَ جَمِيعًا یا مولانا کبھی عطف کے نکات چل رہے ہیں بھئی، وَاوٌ کی بات بھی گزر گئی، فَاءٌ، ثُمَّ، حَتَّى کے بارے میں بھی بتلا دیا، اب کہہ رہے ہیں کبھی عطف کیا جاتا ہے کیونکہ سامع کو آپ غلطی سے لوٹاتے ہیں حکم کے اندر درستگی کی طرف، صواب کی طرف بھئی، اور یہ کس کے عطف... کس کے ذریعے عطف کے ساتھ آئے گا؟ لَا کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ لَا کے ساتھ بھئی۔ اور اسی طرح لٰكِنْ بھی بتلائیں گے علامہ تفتازانی کہ لٰكِنْ کے ذریعے بھی اسی طرح آئے گا۔ مثلاً بھئی آپ جو ہیں آپ کا خیال یہ ہے کہ زید بھی میرے پاس آیا ہے اور عمرو بھی آیا ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟ کہ میرے پاس زید بھی آیا ہے اور عمرو بھی آیا ہے، تو دیکھو اس حکم کے لگانے... لیکن آیا میرے پاس صرف زید ہے، تو میں کہتا ہوں: جَاءَنِي زَيْدٌ لَا عَمْرٌو، میرے پاس زید آیا ہے عمرو نہیں آیا، تو دیکھو اس حکم... یہ جو مَجِيئَة کا حکم تھا اس کے لگانے میں آپ غلطی کر رہے تھے، زید کے لیے بھی آپ یہ حکم ثابت کر رہے تھے اور عمرو کے لیے بھی، میں نے آپ کو بتلا دیا کہ نہیں بھئی آپ اس حکم کے لگانے میں غلطی کر رہے ہیں، یہ حکم دونوں کے لیے نہیں ثابت بلکہ دونوں میں سے صرف کس کے لیے ثابت ہے؟ زید کے لیے، زید کے لیے، اس کو کہتے ہیں مولانا قَصْرُ الْإِفْرَادِ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قَصْرُ الْإِفْرَادِ کہتے ہیں، دیکھو آپ شرکت کے قائل تھے میں نے زید کو کیا کر دیا؟ زید کو علیحدہ کر دیا بھئی، آپ کہہ رہے تھے مَجِيئَة زید اور عمرو دونوں کے ساتھ خاص ہے دونوں کے لیے ہے بھئی، میں نے صرف کس کے لیے مَجِيئَة کو خاص کر دیا؟ زید کے لیے خاص کر دیا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قَصْرُ الْإِفْرَادِ، قصر کا معنی ہے بند کرنا، تخصیص بھئی، تخصیص کرنا، تو میں نے تخصیص کر دی مَجِيئَة کی کس کے ساتھ بھئی؟ زید کے ساتھ، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قَصْرُ الْإِفْرَادِ کہتے ہیں، آپ شرکت کے قائل تھے میں نے افراد کر دیا بھئی، صرف زید کے ساتھ قصر کیا بھئی، زید میں قصر کیا۔ یا مولانا اس کا عکس دوسری صورت بنائیں، آپ کا خیال تھا کہ عمرو میرے پاس آیا ہے، آپ کا کیا خیال تھا؟ کہ عمرو میرے پاس آیا ہے، زید اور عمرو میں سے مَجِيئَة صرف عمرو کے ساتھ خاص ہے، تو میں آپ کی بات کو الٹ دیتا ہوں میں کہتا ہوں: جَاءَنِي زَيْدٌ لَا عَمْرٌو بھئی، میرے پاس زید آیا ہے عمرو نہیں، تو دیکھو آپ وہ مَجِيئَة کا حکم زید اور عمرو میں سے کس میں بند کر رہے تھے؟ عمرو میں بند کر رہے تھے، میں نے آپ کو بتلایا اس حکم کے لگانے میں آپ غلطی کر رہے ہیں، یہ عمرو کے لیے آنا نہیں ثابت بلکہ کس کے لیے آنا ثابت ہے؟ زید کے لیے ثابت ہے، تو وہ جو حکم مَجِيئَة کا آپ بند کر رہے تھے عمرو کے اندر بھئی، وہ میں نے آپ کے حکم کو درستگی کی طرف لوٹایا اور کس میں بند کر دیا؟ زید میں بند کر دیا: جَاءَنِي زَيْدٌ لَا عَمْرٌو، اس کو کہتے ہیں قَصْرُ الْقَلْبِ بھئی، قَصْرُ الْقَلْبِ، میں نے الٹا دیا آپ کے قصر کو مولانا، آپ کس میں بند کر رہے تھے مَجِيئَة کو؟ عمرو میں، میں نے کس میں بند کر دیا؟ زید میں بند کر دیا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ أَوْ رَدِّ السَّامِعِ عَنِ الْخَطَإِ فِي الْحُكْمِ، یا کبھی عطف کیا جاتا ہے سامع کو لوٹانے کے لیے عَنِ الْخَطَإِ فِي الْحُكْمِ خطا فی الحکم سے إِلَى الصَّوَابِ درستگی کی طرف، نَحْوُ: جَاءَنِي زَيْدٌ لَا عَمْرٌو، لِمَنْ جیسے آپ جَاءَنِي زَيْدٌ لَا عَمْرٌو کہتے ہیں لِمَنْ اس شخص سے اعْتَقَدَ جس کا یہ گمان ہے أَنَّ عَمْرًا جَاءَكَ دُونَ زَيْدٍ کہ عمرو آپ کے پاس آیا ہے زید نہیں، تو میں نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ لَا عَمْرٌو، یہ کیا ہوا؟ یہ قَصْرُ الْقَلْبِ ہوا بھئی۔ یا مولانا آپ کا یہ گمان ہے أَنَّهُمَا جَاءَاكَ جَمِيعًا کہ وہ دونوں آپ کے پاس آئے ہیں، آپ کا یہ خیال ہے بھئی کہ یہ دونوں میرے پاس... میں نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ لَا عَمْرٌو، یہ کیا ہوا؟ قَصْرُ الْإِفْرَادِ ہوا بھئی۔ وَلَكِنْ أَيْضًا لِلرَّدِّ إِلَى الصَّوَابِ بھئی لٰكِنْ بھی عطف کے لیے آتا ہے آپ نے حروفِ عاطفہ میں پڑھا ہوگا۔ تو بھئی لٰكِنْ کو بعض علماء عاطفہ تسلیم کرتے ہی نہیں ہیں، کہتے ہیں لٰكِنْ عاطفہ کوئی چیز نہیں ہے، یہ وہی لٰكِنَّ ہے مُخَفَّفَةٌ مِنَ الْمُثَقَّلَةِ ہے بھئی، کیا کر دیا اس میں مولانا؟ ایک نون کو حذف کر دیا مخفف بنا دیا، یہ وہی لٰكِنَّ ہے تو یہ حرفِ عطف ہے ہی نہیں، سمجھ میں آیا؟ یہ تو حروفِ مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ وہ دلیل یہ دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں بھئی یہ لٰكِنْ مُخَفَّفَةٌ مِنَ الْمُثَقَّلَةِ ہے، دلیل یہ کہ اس پر وَاوٌ داخل ہوتا ہے، کیا داخل ہوتا ہے؟ وَاوٌ داخل، اگر یہ حرفِ عطف ہو تو حرفِ عطف پر پھر حرفِ عطف داخل ہو جائے یہ تو جائز نہیں، وَلٰكِنْ آتا ہے عبارت میں وَلٰكِنْ، تو اس لٰكِنْ پر وَاوٌ داخل ہو رہا ہے معلوم ہوا یہ لٰكِنْ عاطفہ نہیں ورنہ تو اس پر وَاوٌ عاطفہ داخل ہو رہا ہے اور حرفِ عطف پر حرفِ عطف داخل نہیں ہوا کرتا، لیکن جمہور جواب دیتے ہیں کہ نہیں بھئی یہ لٰكِنْ عطف کے لیے آیا کرتا ہے، جب اس پر وَاوٌ داخل ہو تو پھر وَاوٌ عطف کے لیے ہوتا ہے اور یہ لٰكِنْ صرف استدراک کے لیے ہوا کرتا ہے، لٰكِنْ کس لیے آتا ہے؟ صرف استدراک کے لیے اس صورت میں آیا کرتا ہے۔ استدراک کہتے ہیں ماقبل کلام سے جو وہم پیدا ہو اس وہم کو دور کرنا بھئی، نحو میں آپ نے پڑھا ہوگا بھئی، لٰكِنْ کس لیے آیا کرتا ہے؟ استدراک، استدراک کس کو کہتے ہیں؟ ماقبل کلام سے جو وہم پیدا ہو اس وہم کو کیا کیا جائے؟ دور کیا جائے بھئی دور کیا جائے۔ مثلاً مولانا میں کہتا ہوں: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ، زید میرے پاس نہیں آیا، اس سے وہم پیدا ہوا آپ کے ذہن میں فوراً کہ جب زید نہیں آیا تو یقیناً عمرو بھی نہیں آیا ہوگا کیونکہ عمرو اس کا گہرا دوست ہے دونوں اکٹھے ہی ہوتے ہیں، جب زید نہیں آیا تو یقیناً عمرو بھی نہیں آیا، تو اس وہم جو ماقبل کلام سے پیدا ہوا تھا اس کو میں لٰكِنْ کے ذریعے دور کر کے کہتا ہوں: لٰكِنْ عَمْرٌو، مگر عمرو کیا ہے؟ آیا ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یرحمک اللہ۔ تو لٰكِنْ بھی مولانا وَلَكِنْ أَيْضًا لِلرَّدِّ إِلَى الصَّوَابِ، لٰكِنْ بھی رَدّ إِلَى الصَّوَابِ کے لیے آیا کرتا ہے، إِلَّا أَنَّهُ لَا يُقَالُ لِنَفْيِ الشِّرْكَةِ، مگر یہ نہیں بولا جاتا کہا جاتا لِنَفْيِ الشِّرْكَةِ، نفیِ شرکت کے لیے نہیں کہا جاتا بھئی یہ، نفیِ شرکت بھئی کس میں... شرکت کس میں تھی بھئی؟ قصر کی کون سی صورت میں؟ قَصْرُ الْإِفْرَادِ میں، یعنی یہ قَصْرُ الْإِفْرَادِ کے لیے نہیں آیا کرتا، حَتَّى أَنَّ نَحْوَ: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ لَكِنْ عَمْرٌو، إِنَّمَا يُقَالُ لِمَنِ اعْتَقَدَ أَنَّ زَيْدًا جَاءَكَ دُونَ عَمْرٍو، بھئی میں کہتا ہوں: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ لَكِنْ عَمْرٌو، میرے پاس زید نہیں آیا مگر عمرو کہ وہ آیا ہے، تو یہ کلام اس شخص سے کیا جائے گا جس کا خیال پہلے اس کا عکس تھا بھئی کہ عمرو نہیں آیا اور زید کیا ہے؟ آیا ہے، تو آپ نے کیا کیا اس کا؟ قلب کر دیا، کیا کر دیا؟ قلب، وہ مَجِيئَة کو زید کے لیے ثابت کر رہا تھا عمرو سے نفی کر رہا تھا، آپ نے قلب کیا بھئی آپ نے نفی کس سے کی؟ زید سے، مَا جَاءَنِي زَيْدٌ لَكِنْ عَمْرٌو، اور اثبات کس کے لیے کر دیا؟ عمرو کے لیے، تو یہ قَصْرُ الْقَلْبِ کے لیے آیا کرتا ہے اور قَصْرُ الْإِفْرَادِ کے لیے نہیں آتا۔ تو کہتے ہیں وَلٰكِنْ جو ہے وہ بھی رَدّ إِلَى الصَّوَابِ کے لیے آتا ہے لیکن یہ نہیں کہا جاتا نفیِ شرکت کے لیے، یہاں تک کہ مَا جَاءَنِي زَيْدٌ لَكِنْ عَمْرٌو یہ اسی شخص سے کہا جاتا ہے جس کا یہ گمان ہے، جس کا یہ اعتقاد ہے أَنَّ زَيْدًا جَاءَكَ دُونَ عَمْرٍو کہ زید آپ کے پاس آیا ہے عمرو نہیں، لَا لِمَنِ اعْتَقَدَ أَنَّهُمَا جَاءَاكَ جَمِيعًا نہ کہ اس شخص سے جس کا یہ خیال ہے کہ یہ دونوں آپ کے پاس آئے ہیں، اگر اس کا یہ خیال ہے کہ دونوں آپ کے پاس آئے ہیں تو اب یہاں کیا چاہیے؟ قَصْرُ الْإِفْرَادِ چاہیے تو لٰكِنْ قَصْرُ الْإِفْرَادِ کے لیے نہیں آیا کرتا بھئی، اس شخص سے آپ نہیں کہہ سکتے بھئی یہ کلام۔ تو معلوم ہوا بھئی کہ لَا بھی استعمال ہوتا ہے رَدّ إِلَى الصَّوَابِ کے لیے اور لٰكِنْ بھی کس لیے استعمال ہوتا ہے؟ رَدّ إِلَى الصَّوَابِ بھئی درستگی کی طرف لوٹانے کے لیے، مگر فرق یہ ہے کہ لَا آیا کرتا ہے اثبات کے بعد اور لٰكِنْ آیا کرتا ہے نفی کے بعد بھئی، جَاءَنِي زَيْدٌ لَا عَمْرٌو، یہ لَا مولانا نفی کے بعد آ رہا ہے یا اثبات کے بعد آ رہا ہے؟ لَا سے پہلے کوئی نفی ہے؟ جَاءَنِي زَيْدٌ لَا عَمْرٌو بھئی، لَا سے پہلے کوئی نفی... تو یہ اثبات کے بعد آتا ہے مولانا، اور لٰكِنْ کلامِ منفی کے بعد آیا کرتا ہے: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ لَكِنْ عَمْرٌو۔ نیز دوسرا فرق یہ پتہ چل گیا آپ کو کہ لَا جو ہے وہ قَصْرُ الْإِفْرَادِ کے لیے بھی آیا کرتا ہے اور قَصْرُ الْقَلْبِ کے لیے بھی آیا کرتا ہے جبکہ لٰكِنْ صرف قَصْرُ الْقَلْبِ کے لیے تو آئے گا قَصْرُ الْإِفْرَادِ کے لیے نہیں آئے گا بھئی۔ یہ تو تھی مولانا علمِ معانی کی بات، آگے علامہ تفتازانی آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ نحویوں کے کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے... بھئی بلاغت میں تو آپ نے پڑھ لیا بھئی کہ لٰكِنْ کس لیے آیا کرتا ہے؟ قَصْرُ الْقَلْبِ کے لیے تو آتا ہے لیکن قَصْرُ الْإِفْرَادِ کے لیے نہیں آتا بھئی، کہتے ہیں لیکن نحویوں کے کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لٰكِنْ قَصْرُ الْإِفْرَادِ کے لیے آیا کرتا ہے، صرف کس کے لیے آیا کرتا ہے؟ قَصْرُ الْإِفْرَادِ کے لیے آیا کرتا ہے بھئی۔ بھئی دیکھو قَصْرُ الْإِفْرَادِ کے لیے نہیں آتا؟ میں نے کہا: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ، میرے پاس زید نہیں آیا، تو اس سے ایک وہم پیدا ہوا کس چیز کا؟ جب زید نہیں آیا تو عمرو بھی نہیں آیا، تو نہ آنے میں شرکت آ گئی، آپ کا یہ خیال ہوا کہ زید بھی نہیں آیا عمرو بھی نہیں آیا، دونوں کو آپ نے عدمِ مَجِيئَة میں شریک کر لیا، لیکن میں نے کہہ دیا: لٰكِنْ عَمْرٌو، مگر عمرو کیا ہے؟ تو اس وہم کو میں نے دور کیا تو شرکت کو ختم کیا اور شرکت کو ختم کرنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ قَصْرُ الْإِفْرَادِ کہلاتا ہے، معلوم ہوا نحویوں کے نزدیک یہ کس لیے آیا کرتا ہے؟ قَصْرُ الْإِفْرَادِ کے لیے۔ وَفِي كَلَامِ النُّحَاةِ مَا يُشْعِرُ بِأَنَّهُ إِنَّمَا يُقَالُ لِمَنِ اعْتَقَدَ انْتِفَاءَ الْمَجِيءِ عَنْهُمَا جَمِيعًا اور نحویوں کے کلام میں وہ چیز ہے جو خبر دیتی ہے کہ یہ کہا جاتا ہے اس شخص سے جس کا یہ اعتقاد تھا، کیا اعتقاد تھا؟ جو ان دونوں سے مَجِيئَة کے انتفاء کا اعتقاد رکھتا تھا، اس شخص سے کہا جاتا ہے یعنی قَصْرُ الْإِفْرَادِ کے لیے۔ أَوْ صَرْفِ الْحُكْمِ عَنْ مَحْكُومٍ عَلَيْهِ إِلَى مَحْكُومٍ عَلَيْهِ آخَرَ یا مولانا عطف کیا جاتا ہے مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کو حکم کو پھیرنے کے لیے ایک مَحْكُومٌ عَلَيْهِ سے دوسرے مَحْكُومٌ عَلَيْهِ کی طرف، اور اس کے لیے بَلْ آیا کرتا ہے بھئی، کیا آتا ہے؟ حروفِ عاطفہ میں سے ایک بَلْ ہے اب وہ اس کی بات آ گئی بھئی، تو عطف کبھی کبھار ایک حکم کو ایک مَسْنَدٌ إِلَيْهِ سے پھیر کر دوسرے مَسْنَدٌ إِلَيْهِ کی طرف پھیرنے کے لیے لایا جاتا ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو، آیا میرے پاس زید بلکہ عمرو، کیا معنی؟ عمرو آیا ہے آپ کے پاس، یا میں کہتا ہوں: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو، میرے پاس زید نہیں آیا بلکہ عمرو، یعنی عمرو نہیں آیا، تو دیکھو پہلے میں نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ، مَجِيئَة میں نے کس کے لیے ثابت کر دی؟ زید کے لیے، بَلْ عَمْرٌو، بَلْ کے ذریعے اس مولانا اس حکم کو مَجِيئَة کو میں نے پھیر دیا زید سے کس کی طرف؟ عمرو کی طرف۔ اگلی مثال میں دیکھو: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ، میرے پاس زید نہیں آیا، بَلْ عَمْرٌو، تو میں نے پہلے زید کے لیے عدمِ مَجِيئَة ثابت کی پھر بَلْ کے ذریعے اس عدمِ مَجِيئَة کو کس کی طرف پھیر دیا؟ عمرو کی طرف، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس حکم کو پھیرنے کے لیے کون سا حرف آتا ہے بھئی؟ بَلْ آیا کرتا ہے، تو عطف کبھی حکم کو پھیرنے کے لیے بھی آتا ہے اور وہ بَلْ کے ساتھ ہوگا۔ اب دیکھو یہاں دو کلام ہیں بھئی: جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو، یہ ہے کلامِ مثبت، اور ایک ہے: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو، تو کبھی کلامِ مثبت کے بعد بَلْ آیا کرتا ہے کبھی کلامِ منفی کے بعد آیا کرتا ہے، اب یاد رکھنا یہ جو کلامِ مثبت ہے اس کے اندر ہیں دو مذاہب اور کلامِ منفی کے اندر جو بَلْ آ رہا ہے اس کے اندر تین مذاہب ہیں بھئی، تین مذاہب۔ کلامِ مثبت کا میں نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو، تو یہ بَلْ کون سے کلام کے اندر آ رہا ہے بھئی؟ کلامِ مثبت میں، اور کلامِ مثبت میں کتنے مذاہب ہیں؟ دو مذاہب ہیں بھئی، دو مذاہب۔ پہلا مذہب جمہور کا ہے بھئی، جمہور فرماتے ہیں کہ جب آپ نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ، مَجِيئَة کو کس کے لیے ثابت کر دیا؟ زید کے لیے، پھر آپ نے کہا: بَلْ عَمْرٌو، تو بَلْ اس بَلْ نے مَجِيئَة کو پھیر دیا زید سے کس کی طرف؟ عمرو کی طرف، معلوم ہوا اب مَجِيئَة کس کے لیے ثابت ہے؟ عمرو کے لیے ثابت ہو گئی، سوال پیدا ہوا زید کا کیا حکم ہے؟ اس کے لیے مَجِيئَة ثابت ہے یا عدمِ مَجِيئَة بھئی؟ کہتے ہیں بھئی جو ماقبل میں جس سے حکم کو پھیرا ہے کلامِ مثبت کے اندر وہ مَسْكُوتٌ عَنْهُ ہے، اس سے سکوت ہے مولانا، نہ اس کی مَجِيئَة کا ذکر ہے اور نہ عدمِ مَجِيئَة ذکر ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ آسان سی بات ہے بھئی۔ جمہور کیا فرماتے ہیں؟ کہ کلامِ مثبت کے اندر جب بَلْ آئے تو وہ حکم کو پھیر دیتا ہے ما بعد کی طرف، سوال ماقبل کا حکم کیا ہے؟ تو کہتے ہیں وہ مَسْكُوتٌ عَنْهُ ہے، اس کے بارے میں سکوت ہے، خاموشی ہے، نہ اس کا آنا ذکر ہے اور نہ اس کا نہ آنا ذکر ہے، تو وہ مَسْكُوتٌ عَنْهُ کے حکم میں ہوا۔ تو معلوم ہوا جب میں نے کہا: جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو، مَجِيئَة کس کے لیے ثابت؟ عمرو کے لیے اور زید اس کے بارے میں خاموشی ہے نہ اس کا آنا ذکر ہے نہ اس کا نہ آنا ذکر ہے بھئی۔ یہ جمہور کا مذہب ہے کلامِ مثبت میں، اور علامہ ابنِ حاجب فرماتے ہیں کہ کلامِ مثبت کے اندر جب آپ نے حکم پھیر دیا کس کی طرف؟ بَلْ کے ما بعد کی طرف، تو ماقبل کے لیے اس حکم کی ضد ثابت ہو جائے گی قطعی طور پر، پہلے کیا ثابت تھی زید کے لیے؟ مَجِيئَة، اب زید کے لیے قطعی طور پر عدمِ مَجِيئَة ثابت ہو جائے گی اور کلام کا معنی یہ ہوگا کہ زید تو میرے پاس قطعی طور پر نہیں آیا ہاں عمرو کیا ہے؟ آیا ہے، جبکہ جمہور کے نزدیک کیا معنی تھا؟ کہ میرے پاس عمرو آیا ہے بس، زید کے بارے میں خاموشی تھی نہ اس کا آنا ذکر نہ اس کا نہ آنا ذکر بھئی، فرق سمجھ میں آیا بھئی دونوں مذاہب میں؟ جمہور کے نزدیک کلامِ مثبت کے اندر ماقبل کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ مَسْكُوتٌ عَنْهُ، اور علامہ ابنِ حاجب رحمہ اللہ کے نزدیک ماقبل کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ اس کے لیے قطعی طور پر کیا حکم کی جی؟ ضد ثابت ہو جائے گی بھئی ضد ثابت، یعنی حکم کی اس سے قطعی طور پر نفی ہو جائے گی یوں کہہ لو۔ یہ تو تھا کلامِ مثبت میں، اب کلامِ منفی کے اندر آؤ بھئی: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو، میرے پاس زید نہیں آیا بلکہ عمرو، تو کلامِ منفی میں بَلْ آئے اس کے بارے میں تین مذاہب ہیں، پہلا تو وہی علامہ ابنِ حاجب رحمہ اللہ والا رکھیں بھئی، علامہ ابنِ حاجب نے جو بات وہاں کی تھی وہی ضابطہ یہاں بھی ہے بھئی، انھوں نے کیا کہا تھا؟ کہ ماقبل کے لیے کیا ثابت ہو جائے گی؟ اس حکم کی نفی اس سے ہو جائے گی، تو یہاں پہلے عدمِ مَجِيئَة کس کے لیے ثابت ہے؟ جملے پر نظر رکھیں عدمِ مَجِيئَة کس کے لیے ثابت ہے؟ زید کے لیے، لیکن بَلْ نے اس عدمِ مَجِيئَة کو کس کے لیے ثابت کر دیا؟ عمرو کے لیے، تو یہ زید علامہ ابنِ حاجب کے نزدیک اس حکم کی قطعی طور پر نفی ہو گئی یعنی عدمِ مَجِيئَة کی زید سے قطعی طور پر نفی ہو گئی اور نفی پر نفی داخل ہو کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات، معلوم ہوا زید کے لیے آنا ثابت ہے، زید کے لیے قطعی طور پر آنا ثابت ہے اور عمرو کے لیے کیا ثابت ہے؟ عدمِ مَجِيئَة ثابت ہے، یہ مذہب سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ وہی علامہ ابنِ حاجب کا۔ اور دوسرا مذہب یہ یاد رکھیں امام مبرّد کا بھئی، وہی مذہب جو کلامِ مثبت میں جمہور کا تھا بعینہٖ وہی مذہب کلامِ منفی میں امام مبرّد کا ہے، جمہور کا کلامِ مثبت میں کیا مذہب تھا؟ کہ ماقبل کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ مَسْكُوتٌ عَنْهُ، امام مبرّد یہاں فرماتے ہیں کہ ماقبل کلامِ منفی کے اندر کس کے حکم میں ہے؟ مَسْكُوتٌ عَنْهُ کے حکم میں، تو جب آپ نے پہلے ثابت کی عدمِ مَجِيئَة زید کے لیے، جملے پر نظر رکھیے بھئی، پھر بَلْ نے اس عدمِ مَجِيئَة کو، امام مبرّد کا مذہب چل رہا ہے بھئی، تو پہلے آپ نے عدمِ مَجِيئَة زید کے لیے ثابت کی پھر اس بَلْ نے اس حکم کو پھیر دیا کس کی طرف؟ عمرو، معلوم ہوا عمرو کے لیے کیا ثابت ہے؟ عدمِ مَجِيئَة، عمرو کے لیے کیا ثابت ہے؟ عدمِ مَجِيئَة، اور زید جی؟ مَسْكُوتٌ عَنْهُ ہے، نہ اس کے بارے میں آنا ثابت ہے اور نہ نہ آنا ثابت ہے۔ جمہور کے مذہب میں اشکال لازم آتا ہے بھئی، تیسرا مذہب اس میں جمہور کا ہے بھئی، جمہور یہ کہتے ہیں بھئی کہ جب بَلْ آ جائے کلامِ منفی کے اندر تو بھئی ماقبل کے یہ تو حکم کو پھیر دیا کرتا ہے کس کی طرف؟ ما بعد کی طرف، لیکن یہاں پھیرنا کس کو چاہیے؟ عدمِ مَجِيئَة کو، بھئی ماقبل میں کیا ذکر ہے؟ عدمِ مَجِيئَة، اور بَلْ کیا کیا کرتا ہے؟ حکم کو پھیر دیا کرتا ہے کس کی طرف؟ تو یہاں پر بھی عدمِ مَجِيئَة کو کس کی طرف پھیرنا چاہیے؟ عمرو کی طرف، لیکن جمہور کہتے ہیں نہیں، یہاں عدمِ مَجِيئَة کو پہلے بدلا جائے گا کس سے؟ مَجِيئَة سے، اور پھر اس مَجِيئَة کو حکم لگا دیا جائے گا کس پر؟ عمرو پر، تو مَا جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو کا کیا معنی ہوا؟ جی؟ پہلے آپ نے عدمِ مَجِيئَة ثابت کی کس کے لیے؟ زید کے لیے، اب کلامِ منفی ہے، بَلْ آ رہا ہے، اب اس عدمِ مَجِيئَة کو ذرا منفی کو بدل دو کس سے؟ مثبت سے، مَجِيئَة، اور اس مَجِيئَة کو مولانا اب ثابت کر دیا آپ نے کس کے لیے؟ عمرو کے لیے، تو اب معنی یہ ہوا کہ عمرو آیا ہے، کیا معنی ہوا؟ عمرو آیا ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ جمہور کے مذہب پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی صَرْفُ الْحُكْمِ کا معنی تو یہ تھا جو حکم پہلے ہے اسی کو پھیر کر کس کی طرف لے جاؤ؟ ما بعد کی طرف لے جاؤ، ماقبل میں اثبات ہے تو ثانی کے لیے بھی کیا ہونا چاہیے؟ اثبات، ماقبل میں مولانا نفی ہے تو ثانی کے لیے بھی کیا ثابت ہونی چاہیے؟ نفی، تو یہاں پر تو نفی ہے ثانی کے لیے نفی ثابت ہونی چاہیے لیکن آپ اس کے لیے کیا ثابت کر رہے ہیں؟ اثبات کر رہے ہیں بھئی۔ تو بعضوں نے پھر یہ جواب دیا مولانا کہ صَرْفُ الْحُكْمِ بمعنی ہے تَغْيِيرُ الْحُكْمِ، حکم کو بدلنا، صَرْفُ الْحُكْمِ کس معنی میں ہے؟ تَغْيِيرُ الْحُكْمِ، تو یہاں بھی آپ... یہاں پر بھی حکم کو منفی سے بدل دیا گیا کس کی طرف؟ مثبت کی طرف، تو تَغْيِيرِ حُكْم آ گئی، تَغْيِيرِ حُكْم آ گئی۔ تینوں مذاہب سمجھ میں آئے بھئی؟ فَإِنَّ بَلْ لِلْإِضْرَابِ عَنِ الْمَتْبُوعِ وَصَرْفِ الْحُكْمِ إِلَى التَّابِعِ اس لیے کہ بَلْ جو ہے وہ آیا کرتا ہے إِضْرَاب، پھیرنے کے لیے حکم کو، اعراض کرنے کے لیے عَنِ الْمَتْبُوعِ کس سے؟ بَلْ آتا ہے اعراض عَنِ الْمَتْبُوعِ کہ متبوع سے اعراض کیا گیا، وَصَرْفِ الْحُكْمِ إِلَى التَّابِعِ اور حکم کو پھیرنے کے لیے تابع کی طرف۔ وَمَعْنَى الْإِضْرَابِ عَنِ الْمَتْبُوعِ أَنْ يُجْعَلَ الْمَتْبُوعُ فِي حُكْمِ الْمَسْكُوتِ عَنْهُ اور اعراض عَنِ الْمَتْبُوعِ کا معنی یہ ہے کہ متبوع جو ہے، جو پہلے آیا وہ متبوع ہے بعد والا تابع، تو متبوع جو ہے أَنْ يُجْعَلَ الْمَتْبُوعُ فِي حُكْمِ الْمَسْكُوتِ عَنْهُ کہ متبوع کو کس کے حکم میں قرار دیا جائے؟ مَسْكُوتٌ عَنْهُ کے حکم میں، لَا أَنْ يُنْفَى عَنْهُ الْحُكْمُ قَطْعًا نہ کہ یہ کہ اس سے حکم کی قطعی طور پر نفی کر دی جائے بھئی، یہ کس کا مذہب ہے؟ علامہ ابنِ حاجب کا تھا کہ نفی کی جائے گی، کہتے ہیں نہیں جمہور کے نزدیک ایسا نہیں ہے بلکہ وہ مَسْكُوتٌ عَنْهُ کے حکم میں ہوگا۔ خِلَافًا لِبَعْضِهِمْ، بخلاف بعض کے بھئی، کون ہیں یہ بعض؟ علامہ ابنِ حاجب، بھئی علامہ ابنِ حاجب نے کیا کہا تھا بھئی؟ کہ ما بعد کے لیے حکم پھیر دیں گے وہ ثابت وہ اگر مثبت حکم ہے تو ثانی کے لیے ثابت ہو جائے گا اور اگر منفی حکم ہے وہ بھی کس کے لیے ثابت ہو جائے گا؟ ثانی کے لیے، لیکن ماقبل کیا ہو جائے گا؟ اس سے حکم کی نفی ہو جائے گی قطعی طور پر، اگر کلامِ مثبت میں ہے تو اس مثبت حکم کی نفی ہو جائے گی اور اگر کلامِ منفی ہے تو پھر اس سے منفی حکم کی قطعی طور پر نفی ہو جائے گی بھئی۔ مذاہب تینوں سمجھ میں آ گئے بھئی؟ کلامِ منفی میں اور مثبت میں دو مذاہب۔ وَمَعْنَى صَرْفِ الْحُكْمِ فِي الْمُثْبَتِ ظَاهِرٌ، وَكَذَا فِي الْمَنْفِيِّ، إِنْ جَعَلْنَاهُ بِمَعْنَى نَفْيِ الْحُكْمِ عَنِ التَّابِعِ اور حکم پھیرنے کا معنی مثبت کلام میں تو ظاہر ہے، اور اسی طرح کلامِ منفی میں بھی ظاہر ہے إِنْ جَعَلْنَاهُ بِمَعْنَى نَفْيِ الْحُكْمِ عَنِ التَّابِعِ اگر ہم حکم پھیرنے کو کس معنی میں کریں؟ نَفْيِ الْحُكْمِ عَنِ التَّابِعِ، تابع سے حکم کی نفی کے معنی میں کریں، بھئی دیکھو کلامِ منفی کیا تھا؟ مَا جَاءَنِي زَيْدٌ، تو زید کے لیے پہلے کیا ثابت کیا آپ نے؟ عدمِ مَجِيئَة، تو حکم پھیرنے کا کیا معنی ہے؟ اسی عدمِ مَجِيئَة کو آپ پھیر کر کس کی طرف لے جاؤ؟ عمرو کی طرف، تو یہ بات تو ظاہر ہے کہ آپ نے حکم اسی حکم کو پھیر دیا مثبت تھا تو مثبت کو پھیر دیا، منفی تھا تو منفی کو پھیر دیا۔ تو کہتے ہیں حکم کا پھیرنا مثبت میں تو ظاہر ہے اسی طرح منفی میں بھی ظاہر ہے إِنْ جَعَلْنَاهُ بِمَعْنَى نَفْيِ الْحُكْمِ عَنِ التَّابِعِ اگر ہم اس کو کس معنی میں کر دیں؟ حکم کی نفی کس سے؟ تابع سے، تابع سے حکم کی نفی۔ وَالْمَتْبُوعُ فِي حُكْمِ الْمَسْكُوتِ عَنْهُ اور متبوع کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ مَسْكُوتٌ عَنْهُ کے حکم میں ہوتا ہے، أَوْ مُتَحَقِّقُ الْحُكْمِ لَهُ یا اس کے لیے حکم کیا ہوگا؟ متحقق ہو جائے گا، یعنی قطعی طور پر اس کے لیے کیا ثابت ہو جائے گی؟ مَجِيئَة، کیا ثابت ہو جائے گی؟ مَجِيئَة، بھئی ماقبل میں جو عدمِ مَجِيئَة تھی اس کی نفی ثابت ہو جائے گی نا ماقبل کے لیے، جب عدمِ مَجِيئَة کو آپ پھیر کر کس کی طرف لے گئے؟ عمرو کی طرف، تو زید کے لیے پھر قطعی طور پر اس حکم کی اس سے نفی کر دو، تو اس کے لیے کیا ثابت ہو جائے گی قطعی طور پر؟ مَجِيئَة، دو ہی مذاہب یہاں یہ بیان ہوئے، تیسرا امام مبرّد کا آ جائے گا بھئی، دیکھیے: وَالْمَتْبُوعُ فِي حُكْمِ الْمَسْكُوتِ عَنْهُ یہ کس کا مذہب ہے؟ متبوع کس کے حکم میں ہے؟ مَسْكُوتٌ عَنْهُ کے حکم میں ہے، یہ کس کا مذہب بھئی؟ یہ جمہور کا بھی مذہب، امام مبرّد کا بھی یہی مذہب۔ أَوْ مُتَحَقِّقُ الْحُكْمِ لَهُ یا اس کے لیے حکم کیا ہوگا؟ متحقق ہو جائے گا، یہ کس کا مذہب ہے بھئی؟ علامہ ابنِ حاجب کا نا، مَا جَاءَنِي زَيْدٌ اب زید کے لیے کون سا حکم متحقق ہو جائے گا؟ مَجِيئَة والا، کون سا حکم ثابت ہو جائے گا؟ مَجِيئَة والا ثابت ہو جائے گا تو مُتَحَقِّقُ الْحُكْمِ ہوا، حَتَّى يَكُونَ مَعْنَى: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو، أَنَّ عَمْرًا لَمْ يَجِئْ وَعَدَمُ مَجِيءِ زَيْدٍ وَمَجِيئُهُ عَلَى احْتِمَالٍ، أَوْ مَجِيئُهُ مُحَقَّقٌ، كَمَا هُوَ مَذْهَبُ الْمُبَرِّدِ یہاں تک کہ اس کلام کا معنی جو ہے مَا جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو کا کیا معنی ہے؟ کہ أَنَّ عَمْرًا لَمْ يَجِئْ کہ عمرو تو نہیں آیا، وَعَدَمُ مَجِيءِ زَيْدٍ وَمَجِيئُهُ عَلَى احْتِمَالٍ اور زید کا نہ آنا اور آنا دونوں احتمال پر ہیں، یعنی دونوں کا... بھئی وہ مَسْكُوتٌ عَنْهُ ہے تو جس کے بارے میں سکوت ہو اس میں آنے کا بھی احتمال اور نہ آنے کا بھی احتمال، أَوْ مَجِيئُهُ مُحَقَّقٌ یا اس کا آنا کیا ہے؟ ثابت ہے، یہ کس کے نزدیک ہے بھئی؟ علامہ ابنِ حاجب، كَمَا هُوَ مَذْهَبُ الْمُبَرِّدِ جیسے کہ مذہب ہے امام مبرّد کا، بھئی یہ علامہ تفتازانی عبارت ماقبل میں ذکر کرنا چاہیے تھا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ امام مبرّد کا یہ مذہب نہیں ہے، یہ علامہ ابنِ حاجب کا ہے، اس کا تعلق کس سے جڑے گا؟ وَعَدَمُ مَجِيءِ زَيْدٍ وَمَجِيئُهُ عَلَى احْتِمَالٍ، كَمَا هُوَ مَذْهَبُ الْمُبَرِّدِ جیسے کہ کس کا مذہب ہے؟ امام مبرّد کا مذہب یہ ہے بھئی کہ ماقبل مَسْكُوتٌ عَنْهُ ہوتا ہے اس کے آنے کا بھی احتمال، اس کے نہ آنے کا بھی۔ وَإِنْ جَعَلْنَاهُ بِمَعْنَى ثُبُوتِ الْحُكْمِ لِلتَّابِعِ اور اگر مولانا ہم صَرْفُ الْحُكْمِ کس معنی میں کریں؟ ثُبُوتِ الْحُكْمِ لِلتَّابِعِ، بھئی جمہور کا کیا مذہب تھا کلامِ منفی کے اندر؟ کہ ماقبل میں تو کلامِ منفی ہے تو صَرْفُ الْحُكْمِ کا کیا معنی ہے؟ عدمِ مَجِيئَة کو ثابت کریں گے عمرو کے لیے یا مَجِيئَة کو ثابت کریں گے؟ مَجِيئَة کو، تو دیکھو انھوں نے عدمِ مَجِيئَة کو بدل دیا کس سے؟ ثُبُوتِ مَجِيئَة کے ساتھ بھئی، کس سے بدل دیا؟ ثُبُوتِ مَجِيئَة کے ساتھ یعنی مَجِيئَة کے ساتھ بدل دیا، تو اب اس میں کیا لازم آتا ہے؟ اشکال آتا ہے۔ ہے کہ یہ تو صرفِ حکم کا معنیٰ تو یہ تھا جو ماقبل میں ہے، اسی کو پھیر کر کس کی طرف لے جاؤ؟ مابعد، اور جمہور تو کیا کر رہے ہیں؟ ماقبل میں تو ہے عدمِ مجیءت، لیکن مابعد کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ مجیءت ثابت کر رہے ہیں، تو اس میں کیا لازم آتا ہے؟ اشکال، یہی بات ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: "وَإِنْ جَعَلْنَاهُ بِمَعْنَى ثُبُوتِ الحُكْمِ لِلتَّابِعِ" اور اگر ہم صرفِ حکم کو کس معنیٰ میں کر دیں؟ "بِمَعْنَى ثُبُوتِ الحُكْمِ لِلتَّابِعِ" کس کے لیے؟ تابع کے لیے، "حَتَّى يَكُونَ مَعْنَى: مَا جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو" یہاں تک کہ "مَا جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو" کا یہ معنیٰ ہوا کہ "أَنَّ عَمْرًا جَاءَ" کہ عمرو کیا ہے؟ آیا ہے، "كَمَا هُوَ مَذْهَبُ الجُمْهُورِ" جیسے کہ کس کا مذہب ہے؟ جمہور کا، "فَفِيهِ إِشْكَالٌ" تو اس میں کیا ہے؟ اشکال ہے، اشکال ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ تو جواب بعضوں نے دیا تھا کہ معنیٰ کیا ہے؟ تغییرِ حکم۔ صرفِ حکم کس معنیٰ میں ہے؟ تغییرِ حکم، تو یہاں بھی عدمِ مجیءت کو بدل دیا گیا مجیءت کے ساتھ، تو تغییرِ حکم پائی گئی بھئی۔ بات سب کو سمجھ بھی آ رہی ہے یا نہیں؟ آپ خاموش رہتے ہیں، جواب نہیں دیتے بھئی۔ سب کو آ گئی؟ جی۔ خلاصۂ کلام دوبارہ دہرانے کی ضرورت ہے یا بس؟ جی؟ جی؟ دیکھیے! کلامِ مثبت کے اندر ہیں دو مذاہب، کلامِ منفی کے اندر ہیں تین مذاہب۔ کلامِ مثبت کے اندر ایک مذہب ہے جمہور کا، جمہور کہتے ہیں ماقبل میں مثبت حکم ہے، اس حکم کو پھیر کر "بل" کے ذریعے ثانی کی طرف وہ چلا جائے گا، جبکہ ماقبل کس کے حکم میں ہو جائے گا؟ مسکوت عنہ، اس کے بارے میں آنے کا بھی احتمال اور نہ آنے کا بھی احتمال۔ جبکہ علامہ ابن حاجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مثبت حکم کو آپ نے ثانی کی طرف پھیر دیا، تو اول کے لیے کیا ثابت ہو جائے گی؟ نفیِ حکم ثابت ہو جائے گی۔ مثلاً جمہور کے نزدیک "جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو" کا کیا معنیٰ ہے؟ کہ عمرو آیا ہے بس، باقی زید آیا ہے یا نہیں آیا، اس کے بارے میں سکوت ہے۔ جبکہ علامہ ابن حاجب رحمہ اللہ کے نزدیک کیا معنیٰ ہے؟ کہ عمرو آیا ہے اور زید نہیں آیا، اس کے لیے عدمِ مجیءت قطعی طور پر ثابت ہے۔ جبکہ کلامِ منفی کے اندر تین مذاہب ہیں بھئی! پہلا مذہب وہی علامہ ابن حاجب کا بھئی! کیا ہے؟ "مَا جَاءَنِي زَيْدٌ بَلْ عَمْرٌو"، زید میرے پاس نہیں آیا بلکہ عمرو، معلوم ہوا عمرو کے لیے کیا ثابت ہو گئی؟ عدمِ مجیءت، اور زید کے لیے کیا ثابت ہے ان کے نزدیک؟ مجیءت قطعی طور پر ثابت ہے۔ جبکہ جمہور اور امام مبّرد کے نزدیک زید کس کے حکم میں ہے؟ مسکوت عنہ، اس کے آنے کا بھی احتمال اور نہ آنے کا بھی احتمال۔ اور باقی عمرو کے لیے کیا ثابت ہے؟ تو جمہور کے نزدیک مولانا! عمرو کے لیے مجیءت ثابت ہے اور اس پہ اشکال ہوتا ہے، جبکہ علامہ ابن حاجب کے نزدیک بھی عمرو کے لیے عدمِ مجیءت ثابت اور امام مبّرد کے نزدیک بھی عمرو کے لیے کیا ثابت ہے؟ عدمِ مجیءت، کیونکہ ماقبل میں عدمِ مجیءت تھی، اسی کو ہم پھیر کر کس کی طرف لے گئے؟ عمرو کی طرف، جبکہ جمہور کیا کرتے ہیں؟ عمرو کے لیے کیا ثابت کرتے ہیں؟ مجیءت ثابت کرتے ہیں اور اس پر اشکال لازم آتا ہے بھئی! "أَوْ لِلشَّكِّ مِنَ المُمَتَكَلِّمِ"، یا مولانا! عطف کیا جاتا ہے مسند الیہ پر شک کے لیے "مِنَ المُمَتَكَلِّمِ"، کس کی طرف سے بھئی؟ متکلم کی طرف سے شک ہوتا ہے بھئی! میں کہتا ہوں آپ کو اب "بل" کی بات ختم ہوئی، "أَوْ" کی بات کرنے لگے ہیں بھئی! میں نے کہا "جَاءَنِي زَيْدٌ أَوْ عَمْرٌو"، میرے پاس زید یا عمرو آیا تھا، تو میں نے "أَوْ" کو ذکر کیا۔ کیوں "أَوْ" کو لے کر آیا؟ اس کے ساتھ عطف میں نے کیوں کیا؟ کیونکہ بھئی! رات کے وقت تھے، راستے میں مجھے ملے، اندھیرا تھا، مجھے پتا نہیں چلا کہ زید آیا تھا یا عمرو میرے پاس آیا، تو مجھے خود شک ہے، تو میں اس وجہ سے کیا لے کر آیا؟ "أَوْ" لے کر آیا، عطف کیا میں نے مسند الیہ پر شک کے لیے۔ "أَوْ لِلتَّشْكِيكِ لِلسَّامِعِ"، یا "أَوْ" یہ عطف کیا جاتا ہے کس لیے؟ تشکیکِ سامع کے لیے، "أَيْ لِإِيقَاعِهِ فِي الشَّكِّ"، یعنی اس کو شک میں ڈالنے کے لیے، جیسے "جَاءَنِي زَيْدٌ أَوْ عَمْرٌو"، آیا میرے پاس زید یا... بھئی! سامع کو میں بات واضح نہیں بتلانا چاہتا کہ میرے پاس زید آیا تھا یا... اس کو شک میں ڈالنا چاہتا ہوں، کیا کرنا چاہتا ہوں؟ شک میں، تو اس کے لیے میں عطف کرتا ہوں مسند الیہ پر "أَوْ" کے ساتھ، "جَاءَنِي زَيْدٌ أَوْ عَمْرٌو"۔ "أَوْ لِلْإِبْهَامِ"، یا مولانا! عطف کیا جاتا ہے مسند الیہ پر "أَوْ" کے ساتھ بھئی! کس لیے؟ ابہام کے لیے بھئی! ابہام کا کیا معنیٰ؟ اخفاءِ حکم، مخفی رکھنا بات کو بھئی! مثلاً میں کہتا ہوں "جَاءَنِي زَيْدٌ أَوْ عَمْرٌو"، کیوں؟ کیونکہ میں سامع پر حکم کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں، اس کو بتلانا نہیں چاہتا۔ "نَحْوُ قَوْلِهِ تَعَالَى" جیسے اللہ کا یہ قول ہے: "وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ"، یقیناً ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں "أَوْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ" یا واضح گمراہی میں ہیں۔ تو دیکھیے! "وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ" بھئی! تو یہاں "أَوْ" کے ذریعے "إِنَّ" کے اسم پر کیا کیا گیا؟ عطف کیا گیا، کس لیے؟ حکم کو مبہم رکھنے کے لیے۔ معنیٰ تو یہاں دیکھو ہم دونوں میں سے کسی ایک کے لیے، ہم دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کے لیے، آگے آنے والے دو حکموں میں سے کوئی حکم ضرور ثابت ہے۔ سمجھ میں آیا؟ دعوت دیتے ہوئے، دعوت کفار کو دیتے ہوئے تو یہاں پر کفار کی طرف صراحت، تصریح نہیں کی گئی کہ اے کفار! تم گمراہی پر ہو۔ کیونکہ اگر یوں کہیں گے تو پھر مولانا! وہ ضد شروع کر دے گا کہ آپ نے اس کی طرف کس چیز کی نسبت کر دی؟ گمراہی کی، تو لہٰذا وہ غور و فکر ہی نہیں کرے گا، لہٰذا حکیمانہ اسلوب کے اندر بھئی! "أَوْ" کے ساتھ کلام کیا گیا ان کے ساتھ کہ ہم دونوں میں سے کسی ایک کے لیے آگے آنے والے دو حکموں میں سے کوئی ایک حکم ضرور ثابت ہے، یا ہدایت ثابت ہے یا کیا ثابت ہے؟ گمراہی ثابت ہے، تاکہ ان کا غصہ بھی نہ بڑھے اس انداز میں کلام کیا گیا اور وہ خود غور و فکر کریں اپنے نفسوں میں اور ان کو پتا چل جائے کہ واقعی ہم ہی غلطی پر ہیں، ہمیں کس کی طرف آ جانا چاہیے؟ توحید کی طرف آ جانا چاہیے۔ تو حکم کو مبہم رکھنے کے لیے، یہ نہیں صراحۃً کہا گیا کہ ہم ہدایت پر ہیں اور تم کس پر ہو؟ گمراہی پر ہو۔ تو یاد رکھو! ایک ہے تشکیک، سامع کو شک میں ڈالنا، اور ایک ہے ابہام، سامع پر حکم کو مبہم رکھنا۔ جہاں تشکیک ہوگی وہاں ابہام ہوگا، جہاں ابہام ہوگا وہاں تشکیک ہوگی، دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں بھئی! دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ... لیکن فرق دونوں میں یہ ہے کہ ایک حاصل بالاقصد ہوگی اور ایک حاصل بالـ... اگر آپ کا ارادہ ابہام کا ہے، حکم کو مبہم رکھنا ہے، تو اب ابہام حاصل ہوا بالقصد اور تشکیک حاصل ہوئی بالـ... اور اگر آپ کا ارادہ ہے مخاطب کو شک میں ڈالنا، تو تشکیک حاصل ہوئی بالقصد اور ابہام حاصل ہوا بالقصد بھئی! "أَوْ لِلتَّخْيِيرِ أَوْ لِلْإِبَاحَةِ"، یا مولانا! کس لیے عطف کیا جاتا ہے؟ تخییر یا اباحت کے لیے۔ تخییر یا اباحت کے لیے "أَوْ" کے ساتھ عطف کیا جاتا ہے، جیسے "لِيَدْخُلِ الدَّارَ زَيْدٌ أَوْ عَمْرٌو"، چاہیے کہ گھر میں داخل ہو جائے زید یا عمرو۔ اب تخییر مولانا! ایک ہے تخییر، ایک ہے اباحت۔ تخییر کا کیا معنیٰ؟ اختیار دے دینا کہ دونوں میں سے کوئی ایک کر لے اس کام کو۔ اور اباحت کا کیا معنیٰ؟ اجازت دے دینا بھئی! اس میں کیا ہوتی ہے؟ اباحت۔ تو تخییر اور اباحت میں فرق یہ ہے کہ اباحت میں دونوں کا جمع ہونا بھی جائز، جبکہ تخییر میں دونوں کا جمع ہونا جائز نہیں، قرینہ بتلائے گا کہ یہاں پر مثلاً "أَوْ" آیا ہے وہ تخییر کے لیے ہے یا اباحت کے لیے ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ قرینہ بتلائے گا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کہ عمرو یا زید ہیں ان سے کہتا ہوں کہ تم دونوں میں تم یا تم، زید یا عمرو بھئی! تم میں سے کوئی جائے اور یہ کام کر آئے، یہ کام کر آئے، تو وہاں کوئی قرینہ بتلائے گا کہ یہاں یہ جو میں "أَوْ" لے کر آ رہا ہوں، یہ کس لیے ہے؟ تخییر کے لیے ہے یا اباحت کے لیے ہے؟ اباحت کے لیے ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو تخییر اباحت کے لیے ہے۔ تو اباحت کے اندر یعنی مباح ہے تم یا عمرو جو بھی چلا جائے، جو بھی چلا جائے، اور اگر دونوں اکٹھے بھی چلے گئے تو کوئی حرج نہیں، اباحت میں جمع بھی دونوں کا جائز ہوتا ہے، جبکہ تخییر میں دونوں کا جمع جائز نہیں ہوتا، معلوم ہوا دونوں میں سے کوئی ایک یہ کام کرے، دونوں کرنے کی اجازت نہیں۔ "وَالفَرْقُ بَيْنَهُمَا"، اور فرق دونوں کے بیچ یہ ہے کہ "أَنَّ فِي الإِبَاحَةِ يَجُوزُ الجَمْعُ"، کہ اباحت کے اندر جمع جائز ہے "بِخِلَافِ التَّخْيِيرِ"، بر خلاف تخییر کے بھئی! تو جمع ہے، یہ اباحت کے لیے ہے یا تخییر کے لیے، اس کا پتا قرینے سے چلے گا، قرینے سے۔ مثلاً یہ دو کتابیں ہیں بھئی! میں آپ سے کہتا ہوں: ان دونوں میں سے کوئی ایک کتاب لے لو، ان دونوں میں سے ایک کتاب لے لو، اب وہاں پر کوئی قرینہ بتلا دے گا کہ میرا کیا مقصد ہے؟ کہ ان میں سے ایک، معلوم ہوا اگر تخییر ہے تو معنیٰ ہوگا ایک ہی لے سکتے ہو دونوں نہیں لے سکتے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یا اگر اباحت کا ارادہ ہوگا قرینہ بتلا دے گا کہ اباحت ہے، چاہے یہ والی لے لو، چاہے دوسری لے لو، اور چاہے تو دونوں لے لو بھئی! وہ قرینہ وہاں بتلا دیا کرتا ہے، آپ بھی عام کلام میں اس طرح کرتے ہیں، موقع کے مطابق پتا چل جاتا ہے بھئی! "وَأَمَّا الفَصْلُ أَيْ تَعْقِيبُ المُسْنَدِ إِلَيْهِ بِضَمِيرِ الفَصْلِ"۔ جی! توابع کے نکات ختم ہوئے کہ مسند الیہ کا کبھی تابع لایا جاتا ہے، اس میں کیا نکات ہوتے ہیں وہ ذکر ہوئے۔ اب مولانا! آپ کو ضمیرِ فصل کے نکات بتلائیں گے۔ ضمیرِ فصل جانتے ہو بھئی؟ یاد رکھو! مبتدا ہمیشہ معرفہ ہوتا ہے اور خبر ہمیشہ نکرہ ہوتی ہے، اصل یہ ہے، مبتدا میں اصل کیا ہے؟ معرفہ ہونا، اور خبر میں اصل کیا ہے؟ نکرہ، لیکن کبھی کبھار خبر بھی معرفہ آ جایا کرتی ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں "زَيْدٌ القَائِمُ"، زید ہی کھڑا ہے، تو زید بھی معرفہ، "القَائِمُ" یہ خبر بھی اس کی معرفہ، تو اب بظاہر اولِ نظر میں مولانا! پتا نہیں چلتا کہ یہ زید مبتدا ہے، "القَائِمُ" اس کی خبر ہے یا "القَائِمُ" اس کی صفت ہے بھئی! کیونکہ زید بھی معرفہ، "القَائِمُ" بھی معرفہ، تو بظاہر کیا شبہ پڑتا ہے کہ شاید "القَائِمُ" زید کے لیے کیا ہے؟ صفت ہے، اس کے لیے خبر نہیں۔ اسی طرح مولانا! تو یہاں پر، تو یاد رکھو! جب بھی خبر معرفہ ہو یا "أَفْعَلُ مِنْ كَذَا" ہو، "أَفْعَلُ مِنْ"، یعنی اسمِ تفصیل مستعمل بـ "مِنْ" ہو۔ جب خبر کیا ہو؟ معرفہ ہو یا اسمِ تفصیل مستعمل بـ "مِنْ" ہو، تو پھر فصل، ضمیرِ فصل درمیان میں لائی جاتی ہے فرق کرنے کے لیے مبتدا اور صفت اور خبر میں، بھئی! میں نے کہا "زَيْدٌ القَائِمُ"، آپ کو یہ بھی شبہ پڑ رہا ہے بھئی! کہ "القَائِمُ" کیا ہے؟ زید کی صفت ہے، لیکن جب میں درمیان میں ضمیرِ فصل لے آیا "زَيْدٌ هُوَ القَائِمُ"، تو اب مولانا! پتا چل گیا، "هُوَ" نے بتلا دیا کہ "القَائِمُ" زید کی صفت نہیں ہے بلکہ کیا ہے اس کی خبر ہے، یہ ضمیرِ فصل بھئی بتلاتی ہے بھئی! تو دیکھو! "القَائِمُ" پہلے شبہ تھا پتا نہیں خبر ہے یا صفت، صفت ہونے کا شبہ زیادہ ہو رہا تھا، تو "هُوَ" نے آ کر بتلا دیا کہ یہ "القَائِمُ" صفت نہیں ہے بلکہ زید کے لیے خبر ہے۔ اسی طرح اگر خبر اسمِ تفصیل مستعمل بـ "مِنْ" ہو مولانا! میں کہتا ہوں "زَيْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو"، تو زید ہے مبتدا، "أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو" اس کی خبر، تو اس صورت میں بھی کبھی ضمیرِ فصل لے آیا کرتے ہیں "زَيْدٌ هُوَ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو" بھئی! ضمیرِ فصل۔ تو اب اس ضمیر... یہ ضمیرِ فصل کس لیے لائی جاتی ہے؟ اس کے نکات آپ کو بتلائیں گے بھئی! "وَأَمَّا الفَصْلُ أَيْ تَعْقِيبُ المُسْنَدِ إِلَيْهِ بِضَمِيرِ الفَصْلِ"، یعنی مسند الیہ کے عقب میں ضمیرِ فصل لانا، "وَإِنَّمَا جَعَلَهُ مِنْ أَحْوَالِ المُسْنَدِ إِلَيْهِ"۔ یہ مولانا! سوال کا جواب دینا چاہتے ہیں، سوال یہ کہ بھئی! ضمیرِ فصل کس کے درمیان آئی؟ مبتدا اور خبر، مسند الیہ اور مسند کے درمیان آئی ضمیرِ فصل، تو جیسے اس کا تعلق مسند الیہ سے ہوا، اسی طرح اس کا تعلق مسند سے بھی ہوا، پھر آپ اس کو مسند الیہ کے احوال میں کیوں ذکر کر رہے ہیں؟ مسند کے احوال میں جا کر کیوں ذکر نہیں کرتے؟ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جواب دیں گے بھئی! کیونکہ اس کا زیادہ تعلق مسند الیہ سے ہے۔ کیونکہ مسند الیہ کے ساتھ اس کا تعلق پہلے آیا اور مسند کے ساتھ بعد میں، دیکھو! میں نے کہا "زَيْدٌ"، مسند الیہ آ گیا، اس کے فوراً بعد کیا آئی؟ ضمیرِ فصل، تو اس کا تعلق پہلے کس سے ہوا؟ زید کے ساتھ ہوا، پھر آگے "القَائِمُ" آیا، اب اس کے ساتھ اس کا تعلق ہوا، تو پہلے کس سے تعلق ہوا؟ مسند الیہ سے، اس لیے اس کو کس کے احوال میں ذکر کیا؟ مسند الیہ کے احوال میں ذکر کیا۔ نیز اس لیے کہ یہ اسی سے عبارت ہے۔ "هُوَ" سے بھی کون مراد ہے؟ زید ہی مراد ہے، وہ مسند الیہ سے عبارت ہے بھئی! اور لفظوں میں بھی اس کے مطابق ہوا کرتی ہے، اگر مسند الیہ مفرد ہو تو ضمیرِ فصل بھی مفرد ہوتی ہے، اگر مسند الیہ تثنیہ ہو ضمیرِ فصل بھی کیا ہوتی ہے؟ تثنیہ، اور اگر مسند الیہ جمع ہو تو ضمیرِ فصل بھی کیا ہوا کرتی ہے؟ جمع، تو مسند الیہ کے ساتھ ضمیرِ فصل کی مطابقت واجب ہے بھئی! واجب ہے۔ دیکھیے بھئی! "وَإِنَّمَا جَعَلَهُ مِنْ أَحْوَالِ المُسْنَدِ إِلَيْهِ"، اور اس کو مسند الیہ کے احوال میں سے بنایا "لأَنَّهُ يَقْتَرِنُ بِهِ أَوَّلًا"، اس لیے کہ ضمیرِ فصل پہلے کس کے ساتھ ملی ہے؟ مسند الیہ کے ساتھ۔ "وَلِأَنَّهُ فِي المَعْنَى عِبَارَةٌ عَنْهُ"، اس لیے کہ معنیٰ کے اعتبار سے بھی یہ کس سے عبارت ہے؟ بھئی! "زَيْدٌ هُوَ القَائِمُ"، یہ "هُوَ" کس سے عبارت ہے؟ اس سے ذاتِ زید ہی تو مراد ہے، تو یہ زید سے عبارت ہے۔ "وَفِي اللَّفْظِ مُطَابِقٌ لَهُ"، اور لفظوں میں یہ کیا ہے؟ اس مسند الیہ کے مطابق ہوا کرتی ہے، مسند الیہ مفرد تو ضمیرِ فصل بھی مفرد، مسند الیہ تثنیہ تو ضمیرِ فصل بھی تثنیہ، اور مسند الیہ جمع تو ضمیرِ فصل بھی جمع ہوا کرتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی لیے آپ نے جامی کے اندر پڑھا بھئی! "المَرْفُوعَاتُ هُوَ مَا اشْتَمَلَ عَلَى عَلَمِ الفَاعِلِيَّةِ"، تو "المَرْفُوعَاتُ" کے بعد "هُوَ" آیا تھا۔ تو بتلایا تھا وہاں پر آپ کو کہ یہ "هُوَ" ضمیرِ فصل نہیں بن سکتی کہ آپ "المَرْفُوعَاتُ" کو مبتدا بنا دیں اور "مَا اشْتَمَلَ" کو اس کی خبر بنا دیں اور "هُوَ" کو کیا مان لیں؟ ضمیرِ فصل مان لیں، کہتے ہیں: نہیں، اس کو ضمیرِ فصل نہیں بنا سکتے، کیوں؟ کیونکہ اس کی مسند الیہ کے ساتھ مطابقت نہیں ہے، "المَرْفُوعَاتُ" ہے جمع اور "هُوَ" کیا ہے؟ مفرد ہے، لہٰذا اس کو ضمیرِ فصل بنانا جائز... ضمیرِ فصل کی تو مسند الیہ کے ساتھ کیا ہوا کرتی ہے؟ مطابقت ہوا کرتی ہے۔ "فَلِتَخْصِيصِهِ أَيْ المُسْنَدِ إِلَيْهِ بِالمُسْنَدِ"۔ جی! بھئی یاد رکھو! ضمیرِ فصل کے تین فوائد ہیں بھئی! ضمیرِ فصل کے تین فوائد ہیں۔ یہ تاکیدِ حصر کے لیے آتی ہے، تاکیدِ حصر، اور تخصیص کے لیے، اور یہ بتلانے کے لیے کہ مابعد خبر ہے، صفت نہیں، کہ مابعد خبر ہے، صفت نہیں... کتنے فائدے ہیں بھئی اس کے؟ تین، یا تو یہ فائدہ دیتی ہے تاکیدِ حصر کا اور تخصیص کا اور بتلانے کے لیے مابعد خبر ہے، صفت نہیں۔ ان میں سے صرف تخصیص کو ذکر کریں گے مصنف اس لیے کہ یہ اہم ترین نکات میں سے ہے بھئی! اہم ترین نکات میں سے ہے۔ تو اہمیت کی وجہ سے صرف اسی کو ذکر کریں گے۔ تو مولانا! ضمیرِ فصل لائی جاتی ہے کبھی مسند الیہ کے بعد "فَلِتَخْصِيصِهِ"، "ه" ضمیر کا مرجع بتلایا "أَيْ المُسْنَدِ إِلَيْهِ"، مسند الیہ کی تخصیص کے لیے "بِالمُسْنَدِ"، کس کے ساتھ؟ مسند کے ساتھ، "أَيْ لِقَصْرِ المُسْنَدِ عَلَى المُسْنَدِ إِلَيْهِ"، یعنی مسند کو مسند الیہ پر بند کرنے کے لیے۔ بھئی! یاد رکھو! ایک قَصْرُ المَوْصُوفِ عَلَى الصِّفَةِ ہوتا ہے، ایک قَصْرُ الصِّفَةِ عَلَى المَوْصُوفِ۔ میں کہتا ہوں "زَيْدٌ هُوَ القَائِمُ"۔ "زَيْدٌ هُوَ القَائِمُ"۔ کیا معنیٰ؟ سننے والے کا یہ خیال تھا کہ زید بھی کھڑا ہے اور عمرو بھی کھڑا ہے، سننے والے کا کیا خیال تھا؟ سامع کا یہ گمان ہے زید اور عمرو دونوں قیام کے اندر شریک ہیں، میں نے کہا "زَيْدٌ هُوَ القَائِمُ"، زید ہی کھڑا ہے، تو میں نے قیام کو بند کر دیا کس کے اندر؟ زید کے اندر، قیام کو کس کے اندر بند کر دیا؟ زید کے اندر بند کر دیا کہ قیام زید کے لیے ثابت ہے، عمرو کے لیے ثابت نہیں۔ تو یہ کیا ہوئی مولانا؟ قَصْرُ الصِّفَةِ عَلَى المَوْصُوفِ، اس صفتِ قیام کو میں نے بند کر دیا کس کے اندر؟ موصوف کے اندر، کس کے اندر؟ موصوف کے اندر بھئی! یعنی قیام کس کے لیے ثابت ہے؟ زید کے لیے ثابت ہے، عمرو کے لیے ثابت نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور کبھی موصوف کو بند کیا جاتا ہے صفت پر۔ سننے والے کا خیال تھا زید کاتب بھی ہے، شاعر بھی ہے۔ کاتب بھی ہے اور شاعر بھی ہے بھئی! کاتب سے یہ اردو والا کاتب جو آپ بولتے ہیں وہ نہیں مراد بھئی! یعنی ایک ہوتا ہے شاعر جو کلامِ منظوم کہتا ہے، ایک کہتا ہے کاتب جو کلامِ منثور کہتا ہے، بغیرِ منظوم کلام جو کہے، سمجھ میں آیا؟ اسے کیا کہیں گے؟ اسے کاتب۔ تو سننے والے کا خیال یہ ہے کہ زید کاتب بھی ہے اور شاعر بھی ہے، میں نے اسے کیا کہا؟ "زَيْدٌ هُوَ الكَاتِبُ"، زید کاتب ہی ہے، زید کیا ہے؟ کاتب ہی ہے، یعنی زید کو، موصوف کو بند کر دیا میں نے صفتِ کتابت کے اندر بھئی! کہ اس سے تجاوز کر کے اس کے لیے صفتِ شاعری ثابت نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھو! زید کے لیے وہ شرکت کا قائل تھا کتابت بھی ثابت ہے اور شاعری بھی، لیکن میں نے زید کو بند کر دیا صرف کس کے اندر؟ کتابت کے اندر بھئی! تو یہ قَصْرُ المَوْصُوفِ عَلَى الصِّفَةِ ہوا، کیا ہوا؟ قَصْرُ المَوْصُوفِ عَلَى الصِّفَةِ بھئی! اب بھئی! یہ دیکھو! "فَلِتَخْصِيصِهِ بِالمُسْنَدِ"، "ه" ضمیر کس کو راجع ہے؟ مسند الیہ کو، یعنی مسند الیہ کی تخصیص کرنے کے لیے، قصر تخصیص کا ایک معنیٰ ہے، مسند الیہ کی تخصیص کے لیے کس کے ساتھ؟ مسند کے ساتھ، کیا معنیٰ؟ مسند مسند الیہ میں بند ہوگا یا مسند الیہ مسند میں بند ہوگا بھئی؟ جی؟ بھئی! جو بند ہے اس کو کہیں گے مقصور، اور جس پر بند ہے اس کو کیا کہیں گے؟ مقصورٌ علیہ، جس چیز کو بند کیا وہ کیا کہلائے گی؟ مقصور، اور جس پر بند کیا وہ؟ مقصورٌ علیہ، اب یہاں پر کون مقصور ہے کون مقصورٌ علیہ؟ بھئی بظاہر کلام سے یوں مفہوم ہوتا ہے "فَلِتَخْصِيصِ المُسْنَدِ إِلَيْهِ"، مسند الیہ کو خاص کرنے کے لیے "بِالمُسْنَدِ"، کس کے ساتھ؟ مسند کے ساتھ، کلام سے بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ مسند الیہ کو بند کیا جا رہا ہے کس میں؟ مسند میں، کس میں بند کیا جا رہا ہے؟ لفظوں میں غور کرو "فَلِتَخْصِيصِ المُسْنَدِ إِلَيْهِ"، مسند الیہ کی تخصیص کر رہے ہیں کس کے ساتھ؟ مسند کے ساتھ، یعنی مسند الیہ کو بند کر رہے ہیں کس میں؟ مسند میں، تو معلوم ہوا یہ ب کس پر داخل ہو رہی ہے؟ مقصور پہ یا مقصورٌ علیہ پر؟ مقصورٌ علیہ پر، بھئی! اب مسند الیہ کو بند کر رہے ہیں کس میں؟ مسند میں، تو مسند الیہ ہوا مقصور اور ب کس پر داخل ہوئی؟ مقصورٌ علیہ، علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں: نہیں بھئی! یہاں ایسا نہیں ہے، یہاں ب مقصور پر داخل ہو رہی ہے۔ کس پر داخل ہو رہی ہے؟ یعنی جس کو بند کیا گیا، کیا معنیٰ؟ مسند کو بند کیا جاتا ہے کس کے اندر؟ مسند الیہ کے اندر، معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے! خود بتائیں گے "أَيْ لِقَصْرِ المُسْنَدِ عَلَى المُسْنَدِ إِلَيْهِ"، مسند کو بند کرنے کے لیے کس پر؟ مسند الیہ پر، تو کون مقصور ہوا؟ مسند، اور کون مقصورٌ علیہ ہوا؟ مسند الیہ، تو ب کس پر داخل ہوئی؟ مقصور پر، کس پر داخل ہوئی؟ تو علامہ تفتازانی یہ بتلانے کے لیے لائے کہ بھئی! اصلِ لغت کے اعتبار سے تو یوں معلوم ہوتا ہے ب مقصورٌ علیہ پر داخل ہوتی ہے، لیکن زیادہ تر استعمال کے اندر ب کو کس پہ داخل کیا جاتا ہے؟ مقصور پر، اور یہاں پر بھی ب کس پر داخل ہے؟ مقصور پر داخل ہے، مقصورٌ علیہ پر نہیں۔ "لأَنَّ مَعْنَى قَوْلِنَا: زَيْدٌ هُوَ القَائِمُ"، اس لیے کہ ہمارے اس قول "زَيْدٌ هُوَ القَائِمُ" کا معنیٰ یہ ہے کہ "أَنَّ القِيَامَ مَقْصُورٌ عَلَى زَيْدٍ"، کہ قیام بند ہے کس پر؟ زید پر، "لَا يَتَجَاوَزُهُ إِلَى عَمْرٍو"، عمرو کی طرف تجاوز... بھئی! سننے والے کا خیال تھا عمرو بھی کھڑا ہے، زید بھی کھڑا ہے، آپ نے کہا "زَيْدٌ هُوَ القَائِمُ"، زید ہی کھڑا ہے، تو قیام کو بند کر دیا کس کے اندر؟ زید کے اندر بند کر دیا، عمرو کی طرف قیام تجاوز کر کے نہیں جا رہا۔ "فَالْبَاءُ فِي قَوْلِهِ: فَلِتَخْصِيصِهِ بِالمُسْنَدِ"، پس وہ ب جو ماتن کے اس قول میں ہے "فَلِتَخْصِيصِهِ بِالمُسْنَدِ"، یہ متن آیا یا نہیں؟ اس متن کے اندر جو ب ہے "مِثْلُهَا"، یہ اسی ب کے مثل ہے "فِي قَوْلِهِمْ: خَصَصْتُ فُلَانًا بِالذِّكْرِ"، جو عربوں کے اس قول کے اندر ہے "خَصَصْتُ فُلَانًا بِالذِّكْرِ"، خاص کیا فلاں کو میں نے ذکر کے ساتھ۔ خاص کیا بھئی! عرب کہتے ہیں جب کسی ایک آدمی کا خاص ذکر کریں اس کا بھئی! کسی اور کا ذکر نہیں کیا، صرف مثلاً آپ نے زید کا ذکر کیا اپنے کلام میں، تو اب آپ کہیں گے "خَصَصْتُ فُلَانًا بِالذِّكْرِ"، زید کو میں نے خاص کیا کس کے ساتھ؟ ذکر کے ساتھ، یعنی ذکر کو بند کر دیا کس کے اندر؟ زید کے اندر، ذکر زید میں ہی بند ہے، اس سے تجاوز کر کے کسی اور کی طرف نہیں جا رہا، کسی اور کا ذکر نہیں ہے۔ "إِذَا ذَكَرْتَهُ دُونَ غَيْرِهِ"، جب آپ اسی کا ذکر کریں اس کے علاوہ کسی اور کا نہ کریں، "كَأَنَّكَ جَعَلْتَهُ مِنْ بَيْنِ الأَشْخَاصِ مُخْتَصًّا بِالذِّكْرِ"، گویا کہ آپ نے اس کو اشخاص میں سے خاص کر دیا ذکر کے ساتھ، "أَيْ مُتَفَرِّدًا بِهِ"، یعنی یکتا کر دیا صرف اکیلا متفرد کر دیا اس کو ذکر کے ساتھ۔ "وَالمَعْنَى هَاهُنَا جَعْلُ المُسْنَدِ إِلَيْهِ مِنْ بَيْنِ مَا يَصِحُّ اتِّصَافُهُ بِكَوْنِهِ مُسْنَدًا إِلَيْهِ مُخْتَصًّا بِأَنْ يَثْبُتَ لَهُ المُسْنَدُ"۔ معنیٰ یہاں پر کیا ہے؟ بھئی دیکھیے! سننے والے کا خیال یہ تھا کہ زید بھی کھڑا ہے، عمرو بھی کھڑا ہے، بکر بھی کھڑا ہے۔ لیکن میں نے کہا "زَيْدٌ هُوَ القَائِمُ"، زید ہی کھڑا ہے، عمرو اور بکر کھڑے نہیں، تو دیکھو! یہاں مسند الیہ زید بھی بن سکتا تھا قیام کے لیے، عمرو بھی بن سکتا تھا، بکر بھی بن سکتا تھا، ان تینوں میں سے میں نے کس کو خاص کر دیا؟ زید کو خاص کر دیا کہ اسی کے لیے میں نے مسند کو ثابت کر دیا، اسی کے لیے کیا کر دیا؟ قیام کو اسی کے لیے ثابت کر دیا۔ تو دیکھو! متصف اس قیام کے ساتھ متصف کون ہو سکتے تھے؟ زید بھی ہو سکتا تھا، عمرو بھی ہو سکتا تھا اور بکر بھی، لیکن میں نے کس کو خاص کر دیا؟ زید کو، کس چیز کے ساتھ خاص کیا؟ اس مسند کے ساتھ خاص کیا۔ دیکھیے۔ "وَالمَعْنَى هَاهُنَا جَعْلُ المُسْنَدِ إِلَيْهِ"، کہ بنا دینا مسند الیہ کو "مِنْ بَيْنِ مَا يَصِحُّ اتِّصَافُهُ بِكَوْنِهِ مُسْنَدًا إِلَيْهِ"، بیچ ان افراد کے کہ صحیح تھا ان کا متصف ہونا مسند الیہ ہونے کے ساتھ، جن کا مسند الیہ ہونے کے ساتھ متصف ہونا صحیح... بھئی! زید کا بھی متصف ہونا مسند الیہ کے ساتھ صحیح تھا، عمرو کا بھی صحیح تھا اور بکر کا بھی، ان میں سے اس مسند الیہ یعنی زید کو کیا کر دیا؟ "مُخْتَصًّا"، کیا کر دیا؟ خاص کر دیا، یہ مفعولِ ثانی ہے "جَعْل" کے لیے بھئی! مفعولِ اول کی طرف مضاف ہے "جَعْلُ المُسْنَدِ إِلَيْهِ مُخْتَصًّا"، مسند الیہ کو مختص کر دینا ان افراد میں سے "بِأَنْ يَثْبُتَ لَهُ المُسْنَدُ"، کس کے ساتھ بھئی؟ اس کے لیے مسند کے ثبوت کے ساتھ، کہ اس کے لیے مسند کو کیا کیا جائے؟ ثابت کیا جائے۔ "كَمَا يُقَالُ"، جیسے کہا جاتا ہے "يُقَالُ فِي إِيَّاكَ نَعْبُدُ"، "إِيَّاكَ نَعْبُدُ" میں جیسے کہا جاتا ہے "مَعْنَاهُ"، اس کا کیا معنیٰ ہے؟ یہاں بھی تخصیص ہے، دیکھا! "إِيَّاكَ" کو مقدم کیا "نَعْبُدُ" پر مفعول کو، "وَتَقْدِيمُ مَا حَقُّهُ التَّأْخِيرُ يُفِيدُ الحَصْرَ وَالقَصْرَ وَالتَّخْصِيصَ"، تو یہاں مولانا! قصر آیا "مَعْنَاهُ"، کیا معنیٰ ہے؟ "نَخُصُّكَ بِالعِبَادَةِ"، اے اللہ! ہم آپ کو خاص کرتے ہیں عبادت کے ساتھ۔ خاص کرتے ہیں عبادت کے ساتھ، تو دیکھیے! ب داخل ہو رہی ہے کس پر؟ مقصور پر، کس پر داخل ہو رہی ہے؟ مقصور پر، یعنی عبادت اے اللہ! بند ہے آپ ہی میں، ہمارا عبادت کا کرنا بند ہے... یعنی ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں کسی اور کی عبادت نہیں کرتے، "نَخُصُّكَ بِالعِبَادَةِ وَلَا نَعْبُدُ غَيْرَكَ"، اور آپ کے غیر کی عبادت نہیں کرتے، چلیے مولانا! "هَذَا هُوَ المَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ"۔
121 approved lectures · 54 of 121