آپ نے گزشتہ سبق میں پڑھا تھا کہ معرف بلام الحقیقت کبھی کبھار استغراق کا فائدہ دیتا ہے، جیسے: {إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ}۔ یہاں پر الإنسان پر جو الف لام داخل ہے وہ لامِ حقیقت ہے، لیکن یہ استغراق کا فائدہ دے رہا ہے اور تمام افرادِ انسان مراد ہیں بھئی۔ اس لیے کہ یہاں لامِ حقیقت ہے اور اس کے ذریعے حقیقت کا ارادہ صحیح نہیں بنتا یہاں پر، اس لیے کہ آگے استثناء آ رہا ہے افراد کا، اور افراد کا استثناء افراد ہی سے ہوگا، حقیقت اور ماہیت سے نہیں ہوگا۔ پھر اس کے بعد جب افراد کا ارادہ ہوا، یعنی حقیقت مِنْ حَيْثُ الْوُجُود مراد ہوئی، تو اب وہ فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ ہوگی یا فِي ضِمْنِ جَمِيعِ الْأَفْرَادِ ہوگی؟ اب فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ مراد لینا بھی صحیح نہیں، ورنہ تو پھر نہ مستثنیٰ متصل بنانا ممکن رہے گا اور نہ مستثنیٰ منقطع؛ اس لیے کہ پھر پتہ ہی نہیں چلے گا کچھ افراد مراد ہیں، آگے آنے والے افراد ان میں پہلے داخل تھے یا داخل نہیں تھے یہ پتہ نہیں چلے گا۔ اگر داخل تھے تو پھر تو ہم مستثنیٰ متصل بناتے، اگر داخل نہ ہوتے تو پھر ہم مستثنیٰ منقطع بناتے؛ لیکن یہاں تو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع، تو معلوم ہوا اس استثناء بھی صحیح نہیں، تو پھر لہٰذا حقیقت مراد ہوئی فِي ضِمْنِ جَمِيعِ الْأَفْرَادِ، یعنی الف لام استغراق والا مراد لینا پڑے گا بھئی۔
تو علامہ تفتازانی بتلاتے ہیں اسی لیے ہم نے وَقَدْ يَأْتِي اور وَقَدْ يُفِيدُ جو متن کے اندر آئے تھے ان کے اندر جو ضمیریں تھیں ان کو معرف بلام الحقیقت کی طرف راجع کیا، کیونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو یہ پتہ ہی نہ چلتا کہ یہ دونوں الف لام عہدِ ذہنی اور الف لام استغراقی لامِ حقیقت کی قسمیں ہیں بھئی، یہ پتہ ہی نہ چلتا اگر ہم مطلق معرف بلام کو یہ لوٹاتے ضمیریں بھئی۔
پھر اس کے بعد ایک اشکال ہوا تھا اس کا جواب ذکر کیا بھئی۔ اشکال یہ ہوتا تھا کہ لامِ حقیقت جو ہے، معرف بلام الحقیقت جس کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے حقیقت اور ماہیت کی طرف، اب حقیقت اور ماہیت یا تو اس سے مراد ہوگی بایں حیثیت کہ وہ ذہن میں حاضر اور متعین ہو، یا بایں حیثیت کہ وہ ذہن میں حاضر اور متعین نہ ہو، اور دونوں صورتوں میں خرابی لازم آتی ہے۔ اگر الف لام حقیقت کے ذریعے ماہیت اور حقیقت مراد ہو بایں لحاظ کہ وہ ذہن میں حاضر اور متعین نہیں، تو پھر اس کا اسمِ جنس نکرہ سے فرق نہیں رہے گا، کیونکہ اس کے ذریعے بھی حقیقت اور ماہیت مراد ہوتی ہے بایں لحاظ کہ ذہن میں حاضر اور متعین نہیں ہوتی بھئی؛ تو دونوں میں تعین نہیں ہے، دونوں میں حضورِ ذہنی نہیں ہے، تو دونوں کا فرق ہی نہ ہوا، تو اَلرُّجْعَى اور رُجْعَى ایک دوسرے کی طرح ہو گئے، حالانکہ کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے، سب کہتے ہیں نکرہ اور معرفہ میں فرق ہے۔ اور اگر اس سے مراد حقیقت اور ماہیت بایں لحاظ ہے کہ وہ ذہن میں حاضر ہے اور متعین ہے، تو پھر اس لامِ حقیقت کا لامِ عہدِ خارجی سے فرق نہ رہے گا، التباس لازم آئے گا، کیونکہ یہاں لامِ حقیقت کے ذریعے بھی حاضر اور متعین فی الذہن مراد ہے اور عہدِ خارجی کے ذریعے بھی حاضر اور متعین فی الذہن مراد ہوتا ہے۔
تو علامہ تفتازانی بتلائیں گے کہ بھئی ہم شقِ ثانی مراد لیتے ہیں کہ الف لام حقیقت کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے حقیقت اور ماہیت کی طرف بایں لحاظ کہ وہ ذہن میں حاضر اور متعین ہوتی ہے۔ اب اس میں جنس نکرہ سے فرق آ گیا کہ اس میں ماہیت ذہن میں حاضر اور متعین نہیں ہوتی۔ اور آپ نے کہا کہ اس کا اب التباس لازم آیا معرف بلامِ عہدِ خارجی کے ساتھ کہ وہاں بھی اشارہ ہوتا ہے متعین اور حاضر کی طرف، تو جواب یہ کہ یہاں الف لام حقیقت میں اشارہ ہوتا ہے نفسِ حقیقت اور ماہیت کی طرف، اور وہاں حِصَّةٍ مِنَ الْحَقِيقَةِ یعنی ماہیت کے افراد کی طرف اشارہ ہوتا ہے؛ تو یہاں حقیقت کی طرف اشارہ، وہاں افراد کی طرف اشارہ، تو دونوں میں فرق آ گیا بھئی۔
پھر اس کے بعد استغراق کی بات چونکہ استغراق کا ذکر آ گیا تھا بحث کے اندر، تو اب مصنف آپ کو استغراق کی تفصیل بتلانا چاہتے تھے۔ انہوں نے آپ کو، اس بحث کا اب مسند الیہ کے احوال سے تعلق نہیں، انہوں نے بتلایا آپ کو کہ استغراق دو قسم پر ہے: ایک استغراقِ عرفی ہے ایک استغراقِ حقیقی ہے۔ استغراقِ حقیقی یہ ہے کہ لغت کے اعتبار سے جتنے افراد پر وہ لفظ بولا جاتا ہے ان تمام کا احاطہ کر لے، کوئی ایک فرد بھی اس سے باہر نہ رہے۔ اور استغراقِ عرفی جو ہے وہ ان تمام افراد کو شامل ہو جو باعتبارِ عرف کے سمجھے جائیں بھئی۔ جیسے کہتے ہیں: جَمَعَ الْأَمِيرُ الصَّاغَةَ، امیر نے کن کو جمع کیا؟ زرگروں کو۔ اب یہاں پر کیا مراد ہوگا؟ یعنی اپنے شہر کے تمام زرگروں کو جمع کیا یا اپنی مملکت کے تمام زرگروں کو جمع کیا۔
اس پر مولانا بعضوں نے اشکال کیا تھا کہ ہماری بحث چل رہی ہے الف لام حرفی کے اندر بھئی، اور الصَّاغَة تو جمع ہے صَائِغ کی اور صَائِغ زرگر یہ اسمِ فاعل ہے، اور اسمِ فاعل پر جو الف لام داخل ہوتا ہے وہ تو الف لام اسمی ہوتا ہے، الف لام حرفی نہیں۔ لہٰذا یہ مثال درست نہ ہوئی۔ تو انہوں نے بتلایا بعضوں نے جواب دینے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ مثال مبنی ہے امام مازنی کے مذہب پر بھئی، کیونکہ امام مازنی کے نزدیک اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر جو الف لام داخل ہوتا ہے وہ بھی کون سا ہوتا ہے؟ حرفی، اور ہماری بحث میں بھی حرفی ہی کی بحث ہو رہی ہے، تو لہٰذا یہ مثال ممثل لہ کے مطابق ہوئی۔ اس پر علامہ تفتازانی نے اشکال کیا اور اس جواب کو رد کیا اور کہا کہ بھئی اختلاف تو صرف اس اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے اندر ہے جو بمعنیٰ حدوث کے ہو، وہ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول جو بمعنیٰ ثبوت کے ہو اس کے اندر تو کوئی اختلاف ہی نہیں، اس میں تو جمہور بھی کیا کہتے ہیں کہ وہ الف لام حرفی ہی ہے، اسمی نہیں۔ اور یہاں پر جو اسمِ فاعل آیا ہے وہ بمعنیٰ ثبوت کے ہے، لہٰذا اس پر جو الف لام داخل ہوا وہ بھی حرفی ہی ہے اسمی نہیں۔
اور کہتے ہیں اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ ہر قسم کے اسمِ فاعل میں اختلاف ہے، امام مازنی فرماتے ہیں کہ ہر اسمِ فاعل اسمِ مفعول پہ جو الف لام داخل ہوتا ہے وہ حرفی ہے، اور جمہور کہتے ہیں کہ ہر اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر جو الف لام داخل ہوتا ہے وہ اسمی ہے؛ اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ ہر قسم کے اسمِ فاعل میں اختلاف ہے تو پھر بھی کوئی اشکال لازم نہیں آتا، اس لیے کہ اس بحث کا ماقبل سے تعلق نہیں، مصنف صرف یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ استغراق کی مثال ذکر کرنا چاہتے ہیں، چاہے وہ استغراق کسی بھی چاہے اسمِ موصول کے ذریعے آئے چاہے الف لام حرفی کے ذریعے آئے بھئی۔ بات استغراق کی کر رہے ہیں، اور یہاں اسمِ موصول بھی کبھی کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ استغراق کا فائدہ دیتا ہے، پھر بھی یہ مثال صحیح ہے، استغراق یہاں پر موجود ہے بھئی۔ پھر مثالیں دو ذکر کیں: {أَكْرِمِ الَّذِينَ يَأْتُونَكَ إِلَّا زَيْدًا}، کہتے ہیں دیکھو یہاں الَّذِينَ آیا اور اس نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ استغراق کا۔ اسی طرح: {اضْرِبِ الْقَائِمِينَ إِلَّا عَمْرًا}، یہاں پر بھی مولانا الف لام اسمی آیا جو اسمِ موصول ہے، اور اس نے بھی کس چیز کا فائدہ دیا؟ استغراق کا۔ تو مطلق استغراق کی مثال ذکر کرنا تھی، اس کے لیے اسمِ موصول بھی آ سکتا ہے اور حرفِ تعریف بھی آ سکتا ہے۔
وَاسْتِغْرَاقُ الْمُفْرَدِ سَوَاءٌ كَانَ بِحَرْفِ التَّعْرِيفِ أَوْ غَيْرِهِ أَشْمَلُ مِنِ اسْتِغْرَاقِ الْمُثَنَّى وَالْمَجْمُوعِ۔ یہاں سے آپ کو ایک نئی بات بتلانا چاہتے ہیں بھئی، استغراق کی بات چلی ہے تو اس کی تفصیل بتلا رہے ہیں آپ کو۔ استغراق کبھی مفرد میں ہوتا ہے، کبھی تثنیہ میں اور کبھی جمع کے اندر بھئی۔ تو مصنف آپ کو بتلا رہے ہیں کہ مفرد کے اندر جو استغراق ہے وہ زیادہ عام ہے تثنیہ اور جمع کے استغراق سے۔ استغراق مفرد میں بھی آ سکتا ہے، تثنیہ میں بھی اور جمع میں بھی، اور مفرد کا استغراق زیادہ عام ہے، اس میں شمول زیادہ ہے بھئی، وہ تثنیہ کو بھی شامل ہے، جمع کو بھی شامل ہے۔
مثال کے طور پر مولانا میں کہتا ہوں آپ سے: لَا رَجُلَ فِي الدَّارِ، کیا معنیٰ؟ گھر میں کوئی شخص نہیں۔ اب یہ استغراق آیا، کس کے ساتھ آیا مولانا؟ مفرد کے ساتھ، اور مفرد کے استغراق میں عموم زیادہ، اس نے تثنیہ کا بھی احاطہ کر لیا اور جمع کا بھی۔ اب گھر کے اندر اگر دو افراد ہوں تو میرا یہ کہنا صحیح نہیں، کیونکہ اس نے دو کا بھی کیا کر لیا؟ احاطہ کر لیا۔ اگر گھر میں تین یا زیادہ افراد ہوں پھر بھی میرا یہ کلام صحیح نہیں رہتا، اس لیے کیونکہ اس نے جمع کا بھی کیا کر لیا ہے؟ احاطہ کر لیا ہے۔ یہ کلام اسی صورت میں صادق ہوگا جب گھر میں کوئی ایک فرد بھی نہ ہو۔ معلوم ہوا مفرد نے مفرد کا بھی احاطہ کر لیا، تثنیہ کا بھی احاطہ کر لیا اور جمع کا بھی احاطہ کر لیا۔
اس کے مقابلے میں اگر میں کہتا ہوں: لَا رَجُلَيْنِ فِي الدَّارِ، گھر میں دو آدمی نہیں ہیں بھئی، اب اس نے مفرد کا احاطہ نہیں کیا۔ تثنیہ اور جمع کا احاطہ تو کر لیا لیکن مفرد کا احاطہ نہیں کیا؛ لہٰذا اب گھر میں ایک آدمی موجود ہو تو پھر بھی میرا یہ کلام صحیح، معلوم ہوا مفرد اس سے خارج ہوا۔ میں نے تو کیا کہا: لَا رَجُلَيْنِ فِي الدَّارِ، گھر میں دو آدمی نہیں ہیں، اور گھر میں صرف ایک آدمی ہے تو کلام صحیح ہے، معلوم ہوا اس نے مفرد کا احاطہ نہیں کیا۔ اور میں کہتا ہوں: لَا رِجَالَ فِي الدَّارِ، جمع لے کر آتا ہوں، تو یہ جمع کا استغراق ہے، اس سے مفرد اور تثنیہ دونوں خارج ہو جاتے ہیں۔ اب یہ کلام اسی صورت میں صادق آئے گا جب گھر میں تین یا تین سے زیادہ افراد نہ ہوں۔ اگر گھر میں ایک فرد ہے اور میں کہتا ہوں: لَا رِجَالَ فِي الدَّارِ، میرا یہ کلام پھر بھی صحیح؛ یا گھر میں دو افراد ہیں، میں کہتا ہوں: لَا رِجَالَ فِي الدَّارِ، گھر میں آدمی نہیں، یہ کلام پھر بھی صحیح۔ معلوم ہوا اس نے مفرد کا احاطہ بھی نہیں کیا اور تثنیہ کا احاطہ بھی نہیں کیا۔ تو مفرد کا جو استغراق ہے وہ مفرد کا بھی احاطہ کر لیتا ہے، تثنیہ کا بھی احاطہ کر لیتا ہے، جمع کا بھی احاطہ۔ تثنیہ کا استغراق جو ہوتا ہے وہ مفرد کا احاطہ نہیں کرتا، اور جو جمع کا استغراق ہے وہ مفرد کا بھی احاطہ نہیں کرتا اور تثنیہ کا احاطہ بھی نہیں کرتا۔ تو کس میں عموم زیادہ آیا بھئی؟ مفرد کے استغراق میں عموم زیادہ آیا بھئی۔
دیکھیے بھئی: وَاسْتِغْرَاقُ الْمُفْرَدِ، اور مفرد کا استغراق جو ہے، سَوَاءٌ كَانَ بِحَرْفِ التَّعْرِيفِ أَوْ غَيْرِهِ، وہ استغراق چاہے حرفِ تعریف سے آئے یا غیرِ حرفِ تعریف سے یعنی اسمِ موصول وغیرہ کے ساتھ آئے، جس طریقے سے بھی آئے، أَشْمَلُ مِنِ اسْتِغْرَاقِ الْمُثَنَّى وَالْمَجْمُوعِ، یہ زیادہ شامل ہے یعنی زیادہ عام ہے تثنیہ اور جمع کے استغراق سے؛ بِمَعْنَى أَنَّهُ يَتَنَاوَلُ كُلَّ فَرْدٍ مِنَ الْأَفْرَادِ، بایں معنیٰ کہ یہ شامل ہوتا ہے ہر ایک کو افراد میں سے؛ وَالْمُثَنَّى يَتَنَاوَلُ كُلَّ اثْنَيْنِ، اور تثنیہ شامل ہوتا ہے ہر دو کو؛ وَالْجَمْعُ يَتَنَاوَلُ كُلَّ جَمَاعَةٍ، اور جمع شامل ہوتی ہے ہر جماعت کو۔ تو مثنیٰ شامل ہوتا ہے ہر تثنیہ کو تو مفرد نکل گیا اس سے، اور جمع شامل ہوگی ہر جماعت کو تو مفرد اور تثنیہ اس سے نکل گئے۔ بِدَلِيلِ صِحَّةِ: لَا رِجَالَ فِي الدَّارِ إِذَا كَانَ فِيهَا رَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ، کس دلیل کے ساتھ؟ صحیح ہونے کے ساتھ اس کے کہ آپ کہہ سکتے ہیں: لَا رِجَالَ فِي الدَّارِ جبکہ گھر میں ایک یا دو افراد ہوں، پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں: لَا رِجَالَ فِي الدَّارِ، معلوم ہوا مفرد اور تثنیہ اس جمع کے استغراق سے نکل گئے۔ دُونَ: لَا رَجُلَ، لیکن لَا رَجُلَ فِي الدَّارِ آپ نہیں کہہ سکتے؛ فَإِنَّهُ لَا يَصِحُّ إِذَا كَانَ فِيهَا رَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ، اس لیے کہ یہ کہنا صحیح نہیں جب گھر کے اندر ایک فرد ہو یا دو فرد ہوں۔ تو یہ مفرد کو بھی، تثنیہ اور جمع سب کو شامل ہوا۔
علامہ تفتازانی مولانا اب کہتے ہیں، اعتراض کرنے لگے ہیں مصنف پر، کہتے ہیں: وَهَذَا فِي النَّكِرَةِ الْمَنْفِيَّةِ مُسَلَّمٌ، آپ کا یہ قول نکرہ منفیہ میں تو مسلم ہے، وَأَمَّا فِي الْمُعَرَّفِ بِاللَّامِ فَلَا، باقی معرف باللام کے اندر مسلم نہیں ہے۔ آپ کی یہ بات ہمیں تسلیم ہے کہ مفرد کا استغراق وہ زیادہ عام ہوتا ہے تثنیہ اور جمع کے استغراق کی بنسبت، لیکن یہ صرف کلامِ منفی کے اندر ہوگا، جیسے اوپر آپ نے لَا رَجُلَ مثال کلامِ منفی کی ذکر کی، اور کلامِ منفی میں ہمیں بھی تسلیم ہے کہ مفرد کا استغراق تثنیہ اور جمع کے استغراق سے زیادہ عام ہوتا ہے؛ لیکن معرف باللام یعنی کلامِ مثبت کے اندر ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں، بلکہ کلامِ مثبت کے اندر معرف باللام جب آپ لے کر آتے ہیں تو وہاں پر مفرد اور جمع کا استغراق برابر ہیں۔ مفرد اور جمع کا استغراق برابر ہیں؛ ایک ہے اَلرَّجُل، ایک ہے اَلرِّجَال۔ مثلاً اَلرَّجُل پر کون سا الف لام آیا؟ استغراقی؛ اَلرِّجَال اس پر بھی الف لام کون سا آیا؟ استغراقی مولانا۔ تو یاد رکھو کہ ان دونوں کا استغراق برابر ہے بھئی۔ اس لیے کہ آپ نے پڑھا ہے کہ جمع پر جب الف لام داخل ہو جائے تو اس کی جمعیت باطل ہو جاتی ہے اور وہ كُلُّ فَرْدٍ کے معنیٰ میں ہو جاتا ہے بھئی، ہر ہر فرد کے معنیٰ میں۔ اور جیسے مولانا اَلرَّجُل پر الف لام آیا تھا اور وہ كُلُّ فَرْدٍ کے معنیٰ میں ہو گیا تھا، اسی طرح اَلرِّجَال جمع پر بھی جب الف لام آئے تو اس کی جمعیت باطل ہو جاتی ہے اور وہ كُلُّ فَرْدٍ کے معنیٰ میں ہو جاتا ہے، تو دونوں کا استغراق برابر ہوا بھئی۔ وہ بھی كُلُّ فَرْدٍ کے معنیٰ میں، یہ بھی كُلُّ فَرْدٍ کے معنیٰ میں، تو دونوں کا استغراق برابر ہے۔
اعتراض سمجھ میں آیا بھئی علامہ تفتازانی کا کہ کلامِ منفی میں تو ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے، لیکن معرف باللام کلامِ مثبت کے اندر ہمیں آپ کی بات تسلیم نہیں ہے۔ بَلِ الْجَمْعُ الْمُعَرَّفُ بِلَامِ الِاسْتِغْرَاقِ يَتَنَاوَلُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنَ الْأَفْرَادِ، بلکہ وہ جمع جو معرف بلام الاستغراق ہو وہ بھی شامل ہوتا ہے ہر ایک کو افراد میں سے، عَلَى مَا ذَكَرَهُ أَكْثَرُ أَئِمَّةِ الْأُصُولِ وَالنَّحْوِ، بنا بر اس کے جس کو ذکر کیا ہے اکثر ائمہ اصول اور نحو نے؛ وَدَلَّ عَلَيْهِ الِاسْتِقْرَاءُ، اور استقراء بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔ استقراء کا معنیٰ ہے جستجو، چھان بین بھئی؛ یعنی کلامِ عرب کی جب ہم نے چھان بین کی، جستجو کی اس کی، تو اس میں بھی ہمیں معلوم ہوا کہ جو جمع کا استغراق ہوتا ہے اس میں بھی عموم ہوتا ہے جیسے مفرد کے استغراق کے اندر بھئی۔ وَأَشَارَ إِلَيْهِ أَئِمَّةُ التَّفْسِيرِ، اور ائمہ تفسیر نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جیسے دیکھو مولانا قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: {وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا}، اور اللہ تعالیٰ نے سکھلائے حضرت آدم علیہ السلام کو ہر چیز کا نام بھئی، ہر چیز کا نام سکھلایا۔ الْأَسْمَاء پر الف لام استغراقی ہے اور الف لام استغراقی جمع پر داخل ہو رہا ہے اور یہ ہر ہر فرد کو شامل ہے۔ کیا مفرد اور تثنیہ اس سے خارج ہیں؟ اللہ نے ہر چیز کا نام سکھلایا، ایک یا دو کوئی ایسی چیزیں رہ نہیں گئیں جن کا نام نہ سکھلایا ہو؛ تو دیکھو الف لام استغراقی آیا، جمع پر آیا اور اب یہ کس معنیٰ میں ہو گیا؟ كُلُّ فَرْدٍ، ہر ہر فرد کا احاطہ کر لیا۔ کیا کوئی ایک نام یا دو نام رہ گئے اس سے بھئی؟ نہیں بھئی۔ اسی طرح قرآن میں ہے بھئی: {وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ}، اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں، احسان کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی المحسنین پر الف لام آیا اور یہ الف لام کون سا ہے؟ استغراقی، اور اس نے تمام افراد کا احاطہ کر لیا، کیا کوئی ایک محسن یا دو محسن اس سے خارج ہو گئے؟ خارج نہیں بھئی، تمام افراد کا اس نے احاطہ کر لیا بھئی۔
وَقَدْ أَشْبَعْنَا الْكَلَامَ فِي هَذَا الْمَقَامِ فِي الشَّرْحِ فَلْيُطَالَعْ ثَمَّ۔ اور تحقیق اشباع کا معنیٰ ہے کسی کو کھانا کھلا کر سیر کرنا، اور یہاں مراد ہے یعنی پوری طرح کلام کو بالتفصیل کیا ہے۔ اور ہم نے سیر حاصل کلام کیا ہے اس مقام کے اندر اپنی شرح کے اندر، یعنی مطول کی طرف اشارہ ہے کہ مطول میں ہم نے یہاں پر بڑی تفصیل سے کلام کیا ہے مکمل، چاہیے کہ وہاں مطالعہ کیا جائے۔
وَلَمَّا كَانَ، یہاں سے ایک اور اعتراض بھئی، آگے آنے والے متن کے لیے بتلا رہے ہیں علامہ تفتازانی کہ آگے آنے والا متن ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض یہ ہوتا ہے مولانا، اعتراض یہ کہ آپ نے کیا کہا: مفرد کا استغراق۔ بھئی مفرد میں استغراق کہاں سے آ سکتا ہے؟ افراد اور استغراق تو دونوں ایک دوسرے کے منافی ہیں، جہاں افراد ہے وہاں استغراق نہیں، جہاں استغراق ہے وہاں افراد نہیں؛ کیونکہ افراد میں وحدت ہے مولانا اور استغراق کا کیا معنیٰ؟ تمام افراد، تو اس میں تعدد ہے، تو وحدت اور تعدد تو ایک دوسرے کے منافی ہیں، معلوم ہوا افراد اور استغراق بھی ایک دوسرے کے منافی ہیں۔
وَلَمَّا كَانَ هَاهُنَا مَظَنَّةُ اعْتِرَاضٍ، اور جب یہاں ایک جائے گمان تھی اعتراض کی، یعنی محلِ اعتراض ہے، وَهُوَ أَنَّ إِفْرَادَ الِاسْمِ يَدُلُّ عَلَى وَحْدَةِ مَعْنَاهُ، اس لیے کہ اسم کا مفرد ہونا وہ دلالت کرتا ہے وحدتِ معنیٰ پر، وَالِاسْتِغْرَاقُ يَدُلُّ عَلَى تَعَدُّدِهِ، اور استغراق دلالت کرتا ہے تعددِ معنیٰ پر، وَهُمَا مُتَنَافِيَانِ، اور وہ دونوں آپس میں وحدت اور تعدد منافی ہیں؛ فَأَجَابَ عَنْهُ بِقَوْلِهِ: تو یہ اعتراض ہوتا تھا تو مصنف نے اپنے اس قول کے ساتھ اس کا جواب دیا ہے۔ آگے جواب ذکر ہوں گے اس اعتراض کے، دو جواب ذکر ہوں گے مولانا: ایک تسلیمی، ایک منعی بھئی۔ اعتراض کیا کیا بھئی کہ افراد اور استغراق دونوں منافی ہیں، کیونکہ افراد میں وحدت ہے اور استغراق میں تعدد ہے اور تعدد اور وحدت ایک دوسرے کے منافی۔
تو بتلائیں گے بھئی کہ تسلیمی جواب: ہمیں آپ کی بات تسلیم ہے کہ افراد اور استغراق میں منافات ہے؛ کیونکہ افراد کس پر دلالت کرتا ہے؟ وحدت پر، اور استغراق کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟ تعدد پر۔ لیکن جب ہم مفرد پر الف لام استغراقی داخل کرتے ہیں تو پہلے اس مفرد کو وحدت سے خالی کر لیتے ہیں، اس مفرد کو کیا کر لیتے ہیں؟ جیسے رَجُلٌ ہے مولانا، رَجُلٌ میں کیا تھا؟ وحدت تھی، لیکن جب ہم اس پر الف لام لانے لگے تو ہم نے اس کو وحدت کے معنیٰ سے خالی کر لیا، اب یہ صرف جنس پر دلالت کر رہا ہے: جنسِ رجل۔ صرف جنس پہ دلالت کر رہا ہے، وحدت کے معنیٰ سے خالی کر لیا، اب خالی کرنے کے بعد اس پر ہم نے الف لام استغراقی داخل کر دیا، تو اب وحدت اور تعدد دونوں جمع ہوئے؟ نہیں، وحدت سے تو ہم نے اس کو خالی کر دیا تھا۔ تو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں افراد اور استغراق میں کیا ہے؟ منافات، لیکن ہم اس کو افراد سے یعنی وحدت سے خالی کر لیتے ہیں۔
وَلَا تَنَافِيَ بَيْنَ الِاسْتِغْرَاقِ وَإِفْرَادِ الِاسْمِ، اور کوئی منافات نہیں ہے استغراق اور افرادِ اسم میں، لِأَنَّ الْحَرْفَ الدَّالَّ عَلَى الِاسْتِغْرَاقِ كَحَرْفِ النَّفْيِ وَالتَّعْرِيفِ، اس لیے کہ وہ حرف جو دلالت کرتا ہے استغراق پر جیسے حرفِ نفی، اوپر حرفِ نفی لَا رَجُلَ کے اندر اس نے استغراق کا فائدہ دیا تھا، اور جیسے حرفِ تعریف الف لام وہ بھی استغراق کا فائدہ دیتا ہے، تو وہ حرف جو دلالت کرتا ہے استغراق پر: إِنَّمَا يَدْخُلُ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى الِاسْمِ الْمُفْرَدِ حَالَ كَوْنِهِ مُجَرَّدًا عَنِ الدَّلَالَةِ عَلَى مَعْنَى الْوَحْدَةِ، وہ داخل ہوتا ہے اس مفرد اسم پر اس حال میں کہ وہ خالی ہوتا ہے عن الدلالة على معنى الوحدة، وحدت کے معنیٰ پر دلالت سے خالی ہوتا ہے، كَمَا أَنَّهُ مُجَرَّدٌ عَنِ الدَّلَالَةِ عَلَى التَّعَدُّدِ، جیسے کہ وہ خالی ہوتا ہے تعدد پر دلالت سے۔ رجل وحدت پر دلالت کر رہا تھا لیکن ہم نے الف لام استغراقی داخل کرنے سے پہلے اس کو وحدت سے خالی کر دیا، تو جب یہ وحدت پہ دلالت نہیں کر رہا جیسے کہ یہ تعدد پر بھی دلالت نہیں کر رہا، پھر اس پر وہ داخل کر دیا بھئی۔
یہ کہتے ہیں اسی طرح ہے جیسے آپ تثنیہ بناتے ہیں: رَجُلٌ کی کیا بناتے ہیں تثنیہ؟ رَجُلَانِ۔ اس کے ساتھ کیا ملا دیا؟ الف نون، تو یہ الفِ تثنیہ ساتھ لے آئے مولانا آپ، تو یہ تو مفرد اور تثنیہ اکٹھے ہو گئے، رَجُلَانِ کے اندر وہ پورا رجل موجود ہے یا نہیں بھئی؟ اور رجل کس پر دلالت کر رہا ہے؟ مفرد پر، اور یہ الف کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ تثنیہ پہ، تو مفرد اور تثنیہ کے اندر تو منافات ہے بھئی، تو پھر یہ کیسے جمع ہوئے؟ وہی جواب کہ جب رَجُلٌ کے ساتھ الفِ تثنیہ ملانے لگے تو پہلے ہم نے اس کو وحدت سے خالی کر لیا پھر اس پر الفِ تثنیہ لے آئے، اب دونوں میں جمع نہیں ہوئے افراد اور تثنیہ۔ یہ اسی طرح ہے مولانا جیسے مُسْلِمُونَ، اس کے اندر آپ واؤ نون لے کر آئے یہ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ جمع پر، تو مسلمون کے اندر تو پورا مُسْلِمٌ بھی موجود ہے، اسی مسلم پر آپ نے واؤ داخل کیا ہے، اور یہ واؤ دلالت کر رہا ہے جمع پر اور مسلم دلالت کر رہا تھا مفرد پر، تو یہ تو مفرد اور جمع اکٹھے ہو گئے حالانکہ دونوں میں منافات ہے؛ تو جواب وہی مولانا کہ مسلم پر جب ہم واؤِ جمع لانے لگے تو پہلے ہم نے اس کو وحدت سے خالی کر لیا اور پھر اس پر واؤ لے کر آئے۔
وَامْتِنَاعُ وَصْفِهِ بِنَعْتِ الْجَمْعِ، یہ پھر اشکال کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ جب مفرد پر آپ نے الف لام استغراقی داخل کر دیا، یا کوئی حرفِ استغراق داخل کر دیا، تو اب اس کا کیا معنیٰ ہوا؟ تمام افراد۔ جب تمام افراد آ گئے تو یہ بمعنیٰ جمع کے ہوا تو اس کی صفت بھی جمع آنی چاہیے، حالانکہ اس کی صفت تو جمع نہیں آتی، اس کی صفت تو پھر بھی مفرد لے کر آتے ہیں! تو جواب دے رہے ہیں اس کا کہ بھئی ٹھیک ہے استغراق اس میں آ گیا، اب اس کی صفت جمع ہی آنی چاہیے لیکن اس کی صفت مفرد لے کر آتے ہیں صرف تشاکلِ لفظی کی وجہ سے، تاکہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے ہم شکل ہو جائیں۔
وَامْتِنَاعُ وَصْفِهِ بِنَعْتِ الْجَمْعِ لِلْمُحَافَظَةِ عَلَى التَّشَاكُلِ اللَّفْظِيِّ، اور اس کا وصف کرنا ممتنع ہونا جمع کی صفت کے ساتھ، تشاکلِ لفظی پر محافظت کے لیے، یعنی تشاکلِ لفظی کی حفاظت ہو بھئی۔ یہ ایک جواب تھا، پہلا جواب تسلیمی کہ ہمیں تسلیم ہے افراد اور استغراق میں منافات ہے لیکن پھر بھی یہ دونوں جمع نہیں ہو رہے کیونکہ ہم نے اس کو وحدت سے خالی کر لیا تھا۔
دوسرا جواب منعی ہے، ہمیں تسلیم ہی نہیں کہ افراد اور استغراق میں منافات ہے۔ دوسرا جواب کیا ہے؟ لَا نُسَلِّمُ، ہمیں آپ کی بات تسلیم نہیں، استغراق اور افراد میں کوئی منافات نہیں۔ اس لیے کہ استغراق کا معنیٰ ہے تمام افراد، جمیعِ افراد؛ اور جمیعِ افراد کی دو صورتیں ہیں: کہ جمیعِ افراد بحیثیتِ اجتماعی کے مراد ہوں، ایک صورت یہ کہ جمیع افراد بحیثیتِ اجتماعی مراد ہوں، اور یا جمیعِ افراد بحیثیتِ كُلُّ فَرْدٍ کے مراد ہوں یعنی عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِ۔ دیکھو اَلرَّجُل پر ہم نے الف لام داخل کیا، اور آپ نے کیا کہا کہ اَلرَّجُل تو مفرد ہے اور الف لام آیا استغراق کے لیے اور افراد اور استغراق میں منافات ہے؛ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، استغراق اور افراد میں منافات نہیں، دراصل استغراق کا کیا معنیٰ ہوا؟ تمام افراد، جمیعِ افراد، اور جمیعِ افراد لینے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ سب کو اکٹھا مراد لیا جائے، اور ایک یہ ہے کہ ہر ایک ایک فرد عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِ مراد ہو؛ تو اس صورت میں تو منافات تھی جب کہ تمام افراد اکٹھے مراد لیے جاتے، کیونکہ رجل دلالت کرتا ہے افراد پر اور الف لام دلالت کرتا ہے استغراق پر، تو رجل ایک فرد پر دلالت کر رہا ہے اور الف لام تمام افراد پر مِنْ حَيْثُ الْمَجْمُوع، تو ایک بھی مراد ہو اور تمام مِنْ حَيْثُ الْمَجْمُوع بھی مراد ہوں یہ تو آپس میں منافات ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہاں استغراق آیا کس حیثیت سے؟ عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِ مولانا، ایک وقت میں ایک ہی فرد مراد ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: اَلرَّجُل، الف لام استغراقی آیا، اور استغراق کا کیا معنیٰ؟ جمیعِ افراد؛ اور جمیع افراد لینے کی دو صورتیں ہیں: کہ سارے اکٹھے مراد لے لو، اور ایک یہ کہ ایک ایک فرد میں لیتا ہوں، یہ بھی شامل ہے، یہ بھی شامل ہے، یہ بھی شامل ہے۔ اب بتائیے مولانا، تمام افراد بھی آ گئے اور افراد کے ساتھ اس کی منافات بھی نہیں، کیونکہ تمام میں نے اکٹھے لیے یا عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِ ایک ایک؟ جب ایک ایک لے رہا ہوں تو وہی افراد ہے، لیکن ہر ایک مراد ہے الگ الگ بھئی۔
وَلِأَنَّهُ أَيِ الْمُفْرَدَ الدَّاخِلَ عَلَيْهِ حَرْفُ الِاسْتِغْرَاقِ بِمَعْنَى كُلِّ فَرْدٍ، اور اس لیے کہ وہ مفرد جس پر حرفِ استغراق داخل ہو وہ كُلُّ فَرْدٍ کے معنیٰ میں ہوتا ہے، لَا مَجْمُوعِ الْأَفْرَادِ، مجموعِ افراد کے معنیٰ میں نہیں۔ وَلِهَذَا امْتَنَعَ وَصْفُهُ بِنَعْتِ الْجَمْعِ، اسی لیے ممتنع ہے اس کا صفت لانا جمع کے وصف کے ساتھ، عِنْدَ الْجُمْهُورِ، جمہور کے نزدیک؛ جمع والی صفت اس کے لیے نہیں لائی جاتی جمہور کے نزدیک۔ وَإِنْ حَكَاهُ الْأَخْفَشُ فِي نَحْوِهِ، اگرچہ اس کو روایت کیا ہے امام اخفش نے اس قسم کی مثالوں میں۔ امام اخفش فرماتے ہیں کہ مفرد پر جب الف لام استغراقی آ جائے تو اس کی صفت جمع لانا صحیح ہے، جبکہ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں جمہور کے نزدیک لانا صحیح نہیں۔ امام اخفش بعض عرب کا قول روایت کرتے ہیں کہ عربوں سے ہم نے سنا ہے خالص عربوں سے، وہ کیا کہتے ہیں: ”أَهْلَكَ النَّاسَ الدِّينَارُ الصُّفْرُ وَالدِّرْهَمُ الْبِيضُ“، ہلاک کر دیا لوگوں کو زرد دیناروں نے اور سفید درہموں نے۔ تو یہاں دینار آیا اور دینار پر الف لام داخل ہوا استغراقی، اور اس کی صفت کیا آئی: الصُّفْرُ، صُفْر جمع ہے اَصْفَر کی زرد کو کہتے ہیں، تو دیکھو الف لام استغراقی کی وجہ سے صفت کیا لے آئے؟ جمع والی لے آئے۔ اَلدِّرْهَم مفرد ہے، اس پر الف لام استغراقی آیا تو اب صفت بھی جمع لے آئے: الْبِيضُ، بیض جمع ہے اَبْیَض کی سفید کو کہتے ہیں۔ تو امام اخفش نے اس کو روایت کیا ہے کہ عربوں سے ہم نے سنا ہے وہ جمع بھی صفت لے آتے ہیں اس مفرد کی جس پر الف لام استغراقی آتا ہے، اگرچہ جمہور اس کو جائز قرار نہیں دیتے؛ لیکن حق یہ ہے مولانا کہ یہ جائز ہے مولانا، لانا امام اخفش کی بات صحیح ہے بھئی۔ قرآن میں بھی آتا ہے مولانا: {أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ}، تو {أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ}، طفل دیکھو اس پر الف لام آ گیا تو آگے اس کی صفت کیا آ گئی؟ الَّذِينَ، الَّذِينَ تو جمع کے لیے آیا کرتا ہے، معلوم ہوا کہ اس کی صفت جمع بھی آ جایا کرتی ہے، ہاں زیادہ عام نہیں ہے، اکثر مفرد ہی آتی ہے۔
اب پھر مولانا یہ تو تھیں استغراق کی کچھ باتیں، درمیان میں استغراق لفظ آیا تھا تو پھر استغراق کے بارے میں بتایا دو قسم پر ہے: عرفی ہے، حقیقی ہے، اور یہ بھی بتایا مفرد کے استغراق میں زیادہ عموم ہوتا ہے تثنیہ اور جمع کے استغراق کی بدولت۔ اور اب پھر مولانا اپنی بحث کی طرف مصنف واپس لوٹتے ہیں، بحث ہم کس چیز کی کر رہے تھے؟ احوالِ مسند الیہ، کہ مسند الیہ کو کبھی حذف کیا جاتا ہے کبھی ذکر کیا جاتا ہے، اور پھر جب ذکر کیا جائے تو کبھی اس کو نکرہ لایا جائے گا اور کبھی معرفہ، اور پھر معرفہ لانے کے اندر کبھی اس کو ضمیر کی صورت میں لایا جائے گا، کبھی علم کی صورت میں، کبھی اسمِ موصول کی صورت میں، کبھی اسمِ اشارہ کی صورت میں، اور تعریف کا کیا طریقہ ہے؟ اضافت۔ اضافت بھی کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ تعریف کا فائدہ دیتی ہے، کوئی لفظ جب معرفہ کی طرف مضاف ہو جائے تو وہ لفظ بھی کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ۔ غلام کا لفظ نکرہ ہے لیکن میں زید کی طرف اضافت کر دیتا ہوں: غُلَامُ زَيْدٍ، اس نے بھی تعریف کا فائدہ دیا، لفظِ غلام بھی معرفہ بن گیا۔ تو کبھی مسند الیہ کو معرفہ لایا جاتا ہے اضافت کے ساتھ بھی، اب وہ احوال بیان ہوں گے۔
وَبِالْإِضَافَةِ أَيْ تَعْرِيفُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ بِإِضَافَتِهِ إِلَى شَيْءٍ مِنَ الْمَعَارِفِ، اور اضافت کے ساتھ، یعنی مسند الیہ کو معرفہ لایا جاتا ہے اس کی اضافت کرنے کے ساتھ معارف میں سے کسی چیز کی طرف۔ لِأَنَّهَا أَيْ لِأَنَّ الْإِضَافَةَ أَقْصَرُ طَرِيقٍ إِلَى إِحْضَارِهِ فِي ذِهْنِ السَّامِعِ، کیونکہ اضافت سب سے مختصر طریقہ ہے مسند الیہ کو سامع کے ذہن میں حاضر کرنے کا۔ مسند الیہ کو سامع کے ذہن میں حاضر کرنے کا یہ سب سے مختصر طریقہ ہے کہ اضافت کے ساتھ لے آؤ، مضاف مضاف الیہ بنا کر لے آؤ بھئی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی زیادہ مختصر طریقہ تو یا تو علم کی صورت میں ہے، یا ضمیر کی صورت میں، یا اسمِ اشارہ وغیرہ کی صورت میں ہے؛ کیونکہ ضمیر بھی ایک اسم، اسمِ اشارہ بھی ایک اسم، علم بھی ایک ہی اسم ہے، ایک ہی اسم سے مسند الیہ ذہن میں حاضر ہو گیا، جبکہ اضافت کے اندر ایک مضاف ہوتا ہے ایک مضاف الیہ ہوتا ہے، تو دو کلمے آ گئے مولانا، تو یہ زیادہ مختصر ہوا یا وہ زیادہ مختصر ہوئے علم وغیرہ؟ علم وغیرہ زیادہ مختصر ہوئے کہ وہاں ایک ہی کلمہ آیا جبکہ یہاں پر تو دو کلمے آئے، تو پھر آپ کی یہ بات تو صحیح نہ رہی کہ سب سے مختصر طریقہ یہ ہے۔ جواب ہے مولانا کہ بھئی ساتھ ساتھ اپنا مقصد بھی بیان ہو جائے۔ ساتھ ساتھ کیا ہو جائے؟ مقصد بھی بیان ہو جائے بھئی، جیسے آگے مثال میں آپ کو پتہ چلے گا بھئی۔
دیکھیے بھئی مثال:
هَوَايَ مَعَ الرَّكْبِ الْيَمَانِينَ مُصْعِدُ ... جَنِيبٌ وَجُسْمَانِي بِمَكَّةَ مُوثَقُ
هَوَايَ، میری محبوبہ جو ہے، مَعَ الرَّكْبِ الْيَمَانِينَ مُصْعِدُ، یمنی سواروں کے ساتھ دور جا رہی ہے؛ جَنِيبٌ، وہ مطبوع ہے، سارے اس کے تابع ہیں، اور میرا جسم مکہ کے اندر بند ہے۔ یہ شاعر تھا مولانا، اس نے کسی قبیلے کے ایک فرد کو قتل کیا تھا مکہ والوں کے، پھر بعد میں یہ آیا مکہ تو وہاں پر اس قبیلے والوں نے اس کو قید کر لیا۔ قافلے کے ساتھ آیا تھا، قبیلے والوں نے جن کا اس نے آدمی قتل کیا تھا انہوں نے پکڑ لیا، بند کر دیا اس کو، اور پھر اس کا وہ قافلہ واپس چل پڑا جس کے اندر اس کی محبوبہ بھی تھی، تو اس پر اس نے یہ شعر کہا بھئی: هَوَايَ مَعَ الرَّكْبِ الْيَمَانِينَ مُصْعِدُ، میری محبوبہ یمنی سواروں کے ساتھ دور جا رہی ہے، جَنِيبٌ وہ مطبوع ہے سارے اس کے پیچھے ہیں اور وہ آگے ہے، سارے اس کے تابع ہیں، وَجُسْمَانِي بِمَكَّةَ مُوثَقُ، اس حال میں کہ میرا بدن جو ہے مکہ کے اندر بند ہے؛ وہ جا رہی ہے اور میں مکہ کے اندر بند ہوں۔
سارے اس کے تابع ہیں یعنی اس کے پیچھے ہیں بھئی، یہ کنایہ ہے کہ اس کا رکنا مشکل ہے، وہ سب سے نکل کر آ نہیں سکتی، لازمی بات ہے جب ایک شخص متبوع ہو اور سارے اس کے تابع ہوں تو اس کا چھپ کر نکل آنا ممکن نہیں بھئی۔ تو بتلانا یہ چاہتا ہے کہ وہ اس کے وہاں سے نکل کر آنے کی کوئی صورت نہیں، وہ تو جا ہی رہی ہے اور میرا بدن یہاں مکہ میں بند ہے، قید ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو مقامِ استشہاد ہے: هَوَايَ، دیکھو هَوَايَ مضاف مضاف الیہ ہیں، آخر میں یائے متکلم آ رہی ہے بھئی، اور یہ مسند الیہ کو کس صورت میں لایا بھئی؟ اضافت کے ساتھ لے کر آیا، اور یہ سب سے مختصر طریقہ ہے کہ مقصد بھی بیان ہو گیا۔ بتلانا یہ چاہتا تھا کہ وہ میری محبوبہ ہے، اور یہ علم ذکر کرتا تو یہ پتہ چلتا کہ وہ محبوبہ ہے؟ اسمِ اشارہ، ضمیر، کسی چیز سے بھی مقصد کا پتہ نہ چلتا، تو مقصد کا پتہ بھی چل گیا اور سب سے مختصر طریقہ بھی ہوا۔ اگر اس کے بجائے اسمِ موصول لاتا پھر تو بات بڑی لمبی ہو جاتی، کیونکہ موصول لاتا آگے پورا صلہ جملہ لانا پڑتا تو بات لمبی ہوتی، اور یہ مختصر طریقہ ہے۔
هَوَايَ أَيْ مَهْوِيِّي، یعنی میری محبوبہ؛ وَهَذَا أَقْصَرُ، اور یہ کلام زیادہ مختصر ہے اس کلام سے: اَلَّذِي أَهْوَاهُ، وہ جس سے میں محبت کرتا ہوں، وَنَحْوَ ذَلِكَ، اس جیسے کلام سے۔ وَالِاخْتِصَارُ مَطْلُوبٌ، اور اختصار بھی مطلوب ہے؛ بتلایا مختصر طریقے سے مسند الیہ کو سامع کے ذہن میں حاضر کرنا اپنے مقصد کے ساتھ، جبکہ اختصار مطلوب بھی ہو بھئی۔ لِضِيقِ الْمَقَامِ، اختصار کیوں مطلوب ہے مولانا؟ ضیقِ مقام کی وجہ سے مولانا۔ یعنی تکلیف میں ہے، اور جب تکلیف میں ہو انسان تو پھر لمبا کلام کرنا پسند نہیں کرتا۔ لِضِيقِ الْمَقَامِ، مقام کی تنگی کی وجہ سے، وَفَرْطِ السَّآمَةِ، سآمت کہتے ہیں مولانا اکتانا، دل اچاٹ ہونا، اور شدتِ اکتاہٹ کی وجہ سے؛ لِكَوْنِهِ فِي السِّجْنِ، بوجہ شاعر کے ہونے قید میں، وَالْحَبِيبِ عَلَى الرَّحِيلِ، اور حبیب کے سفر پر ہونے کی وجہ سے۔ رحیل کا معنیٰ سفر اور روانگی، یعنی سفر اور روانگی کا عزم کیے ہوئے ہے حبیب۔ مَعَ الرَّكْبِ الْيَمَانِينَ، رَكْب یا تو جمعِ راکب ہے یا یہ اسمِ جمع ہے جس کا مفرد نہیں، جمع کے معنیٰ میں ہے۔ یمنی سواروں کے ساتھ، مُصْعِدُ أَيْ مُبْعِدُ، دور جا رہا ہے، محبوب دور جا رہا ہے۔ اَبْعَدَ يُبْعِدُ اِبْعَادًا کا ایک معنیٰ ہے دور کرنا اور ایک معنیٰ ہے دور ہونا، یعنی یہ متعدی بھی مستعمل ہے اور لازمی بھی؛ تو علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں یہاں یہ لازمی معنیٰ میں ہے یعنی دور ہو رہی ہے، خود بتلا رہے ہیں: ذَاهِبٌ فِي الْأَرْضِ، زمین میں جا رہا ہے یعنی دور ہو رہا ہے، تو یہ لازمی معنیٰ میں ہے۔
وَتَمَامُهُ: جَنِيبٌ وَجُسْمَانِي بِمَكَّةَ مُوثَقُ۔ اَلْجَنِيبُ: اَلْمَجْنُوبُ، جنیب کس معنیٰ میں ہے؟ مجنوب، فعیل وزن کبھی فاعل کے معنیٰ میں ہوتا ہے کبھی مفعول، یہاں فعیل وزن مفعول کے معنیٰ میں ہے۔ اور مجنوب کیا معنیٰ؟ اَلْمُسْتَتْبَعُ، استتباع کا معنیٰ ہوتا ہے پیروی کرانا، تو مستتبع جس کی پیروی کی جائے، یعنی سارے اس کے پیچھے چل رہے ہیں بھئی۔ وَالْجُسْمَانُ: اَلشَّخْصُ، اور جثمان کا معنیٰ ہے شخص اور فرد کے معنیٰ میں، اور جسم۔ وَالْمُوثَقُ: اَلْمُقَيَّدُ، اور موثق کا معنیٰ ہے مقید، قید ہے۔ وَلَفْظُ الْبَيْتِ خَبَرٌ، اور یہ شعر کا لفظ خبر ہے؛ صورت کے اعتبار سے تو یوں ہے جیسے یہ خبر دے رہا ہے، لیکن مقصد بات بتلانا نہیں ہے، مقصد اظہارِ غم ہے، وَمَعْنَاهُ تَأَسُّفٌ وَتَحَسُّرٌ، اور اس کا معنیٰ افسوس اور حسرت کا اظہار کرنا ہے، افسوس اور حسرت بتلانا ہے۔
جیسے مولانا وہ مثال نہیں پڑھی تھی آپ نے کہ خبر کو یا تو فائدۃ الخبر کے لیے ذکر کیا جاتا ہے یا لازمِ فائدۃ الخبر کے لیے، لیکن کبھی کبھار دونوں مقصود نہیں ہوتے، جیسے امراۃ عمران نے کیا کہا تھا: {رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى}، تو یہاں پر خبر دینا بھی مقصد نہیں، اور اپنے علم بتلانا بھی مقصد نہیں، بلکہ اس خبر کا کیا مقصد تھا؟ اظہارِ افسوس تھا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔
أَوْ لِتَضَمُّنِهَا أَيْ لِتَضَمُّنِ الْإِضَافَةِ تَعْظِيمًا، یا مولانا مسند الیہ کو معرفہ لاتے ہیں اضافت کے ساتھ اس وجہ سے کہ اضافت متضمن ہوتی ہے تعظیم کو۔ کس کی تعظیم؟ لِشَأْنِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ أَوِ الْمُضَافِ أَوْ غَيْرِهِمَا، یا تو اس میں مضاف الیہ کی تعظیم ہوگی، یا مضاف کی تعظیم، یا ان دونوں کے علاوہ کی۔ جیسے مثالوں سے بات سمجھ میں آئے گی: كَقَوْلِكَ فِي تَعْظِيمِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ: عَبْدِي حَضَرَ، میرا غلام حاضر ہے۔ بھئی آپ نے سادہ لباس پہنا ہوا ہے، لوگ آپ کو اتنی اہمیت نہیں دے رہے، اچانک ایک بڑی قیمتی گاڑی آ کر رکی، اس میں سے ایک شخص اترا سوٹ بوٹ پہنے ہوئے، آپ کے قریب آیا اور آپ نے کیا کہا: عَبْدِي حَضَرَ، میرا غلام حاضر ہو گیا۔ تو تعظیم کس کی آئی؟ عَبْدِي حَضَرَ، مضاف الیہ جو متکلم ہے اس کی تعظیم آ گئی، تَعْظِيمًا لَكَ بِأَنَّ لَكَ عَبْدًا، اپنی تعظیم کے لیے کہ آپ کا غلام ہے۔
وَفِي تَعْظِيمِ الْمُضَافِ: عَبْدُ الْخَلِيفَةِ رَكِبَ، خلیفہ کا غلام سوار ہو گیا۔ ایک شخص آیا تھا اور وہ سواری میں بیٹھنے لگا، آپ نے ساتھ والوں کو کہا: عَبْدُ الْخَلِيفَةِ رَكِبَ، کہ یہ جو آدمی بیٹھا تھا اس کو معمولی آدمی نہ سمجھنا، یہ تو خلیفہ کا غلام ہے بھئی، تَعْظِيمًا لِلْعَبْدِ بِأَنَّهُ عَبْدٌ لِلْخَلِيفَةِ، عبد کی تعظیم کے لیے کہ وہ خلیفہ کا عبد ہے۔
وَفِي تَعْظِيمِ غَيْرِ الْمُضَافِ وَالْمُضَافِ إِلَيْهِ: عَبْدُ السُّلْطَانِ عِنْدِي، بادشاہ کا غلام میرے پاس ہے۔ آپ بتلانا چاہتے ہیں کہ میرے پاس بادشاہ کے غلام بھی حاضر ہوتے ہیں، تو دیکھا یہاں عَبْدُ السُّلْطَانِ عِنْدِي، نہ تو غلام کی تعظیم مقصود نہ سلطان کی، بلکہ عِنْدِي کس کی تعظیم ہے؟ متکلم کی، تو نہ وہ مضاف ہے اور نہ مضاف الیہ۔ آگے اس پر اشکال ہوتا ہے کہ عِنْدِي کے اندر عِنْدَ مضاف ہے اور یاء ضمیر مضاف الیہ ہے، یہ تو پھر بھی مضاف الیہ کی تعریف ہو گئی! تو جواب دیں گے کہ ہمارے مضاف اور مضاف الیہ سے وہ مراد ہے جو مسند الیہ واقع ہو؛ تو عَبْدُ السُّلْطَانِ یہ مسند الیہ ہے، تو اس میں عبد مضاف ہے اور السلطان مضاف الیہ، تو اصل مسند الیہ کون ہوا؟ عبد۔ تو وہ مضاف نہ ہو جو مسند الیہ ہو، یا وہ مضاف الیہ نہ ہو جو مسند الیہ کی طرف مضاف ہو رہا ہو۔ وَهُوَ وَإِنْ كَانَ الْمُضَافُ إِلَيْهِ لَكِنَّهُ غَيْرُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ الْمُضَافِ وَغَيْرُ مَا أُضِيفَ إِلَيْهِ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ، یہ اگرچہ مضاف الیہ ہے لیکن یہ مسند الیہ مضاف سے غیر ہے، اور یہ غیر ہے اس اسم سے جس کی طرف مسند الیہ کی اضافت کی جائے، وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِهِ أَوْ غَيْرِهِمَا۔
أَوْ لِتَضَمُّنِهَا تَحْقِيرًا، یا اس کا عکس ہوتا ہے مولانا، اضافت کے ذریعے کبھی کیا مقصود ہوتی ہے؟ تحقیر مقصود ہوتی ہے، کبھی مضاف کی تحقیر، کبھی مضاف الیہ کی تحقیر، یا ان دونوں کے علاوہ کسی کی تحقیر مقصود ہوتی ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں: وَلَدُ الْحَجَّامِ حَاضِرٌ، ایک شخص آیا زبردست گاڑی سے اترا، آپ نے کہا: وَلَدُ الْحَجَّامِ حَاضِرٌ، کہ گھبرانا نہیں اس کو دیکھ کر، نائی کا بیٹا ہے۔ تو یہاں وَلَدُ الْحَجَّامِ کس کی تحقیر ہے؟ ولد مضاف کی تحقیر ہے۔ أَوِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ، یا مضاف الیہ کی تحقیر ہوتی ہے جیسے: ضَارِبُ زَيْدٍ حَاضِرٌ، زید کی پٹائی کرنے والا آ گیا؛ تو اس میں تحقیر کس کی آئی؟ زید کی تحقیر آئی کہ اس کی پٹائی ہوئی ہے اور وہ مضاف الیہ ہے۔ أَوْ غَيْرِهِمَا، یا ان دونوں کے علاوہ جیسے آپ کہتے ہیں: وَلَدُ الْحَجَّامِ جَلِيسُ زَيْدٍ، حجام کا بیٹا زید کا ہم نشین ہے، اس کے ساتھ بیٹھنے والا ہے۔ تو اس میں ولد کی بھی تحقیر نہیں، حجام کی بھی نہیں، بلکہ زید کی تحقیر ہے کہ وہ کس قسم کے لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے۔
أَوْ لِإِغْنَائِهَا عَنْ تَفْصِيلٍ مُتَعَذِّرٍ، یا مولانا اس لیے کبھی مسند الیہ کو، ماتن نے کچھ نکات بیان کر دیے، اب کچھ زائد نقطے علامہ تفتازانی بتلانے لگے ہیں کہ اضافت کے ساتھ کیوں معرفہ لاتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اضافت بے پروا کر دیتی ہے ایسی تفصیل سے جو ممکن ہی نہیں۔ بعض اوقات مولانا ایسی تفصیل ممکن ہی نہیں ہوتی لیکن مضاف مضاف الیہ اس سے بے پروا کر دیتا ہے، جیسے: اتَّفَقَ أَهْلُ الْحَقِّ عَلَى كَذَا، اتفاق کیا ہے اہل حق نے اس بات پر۔ اب مسند الیہ کون ہے؟ اَهْلُ الْحَقِّ، اور اس کو معرفہ لائے اضافت کے ساتھ، اور اس نے آپ کو اس تفصیل سے بے پروا کر دیا جو ممکن ہی نہیں تھی۔ بھئی آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ تمام اہل حق کا احاطہ کر لیں اور سب کے نام ذکر کریں؟ ان سب سے اس اضافت نے آپ کو بے پروا کر دیا، سب اس میں آ گئے۔
أَوْ مُتَعَسِّرٍ، یا مولانا وہ تفصیل ناممکن تو نہیں ہوتی کبھی، لیکن مشکل ہوتی ہے، اس سے بھی بے پروا کر دیتی ہے؛ جیسے: أَهْلُ الْبَلَدِ فَعَلُوا كَذَا، شہر والوں نے ایسا کیا، یا میں کہتا ہوں: طُلَّابُ دَرَجَةِ الْخَامِسَةِ فَعَلُوا كَذَا، خامسہ والوں نے ایسا کیا۔ اب دیکھیے میں نے اضافت کے ساتھ معرفہ ذکر کیا، اب یہاں پر خامسہ کے تمام طلبہ کا نام لیا جائے ایک ایک لڑکے کا، یہ اگرچہ ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے، تو اس مشکل تفصیل سے اضافت نے بے پروا کر دیا۔ جیسے أَهْلُ الْبَلَدِ فَعَلُوا كَذَا، شہر والوں نے ایسا کر دیا، شہر والوں کے نام سب کے ممکن تو ہیں لیکن کیا ہے بڑا مشکل ہے۔
أَوْ لِأَنَّهُ يَمْنَعُ عَنِ التَّفْصِيلِ مَانِعٌ، یا اس لیے مولانا کہ کبھی کبھار تفصیل سے کوئی مانع ہوتا ہے، تو اس صورت میں بھی یہ بے پروا کر دیتا ہے؛ مِثْلُ تَقْدِيمِ الْبَعْضِ عَلَى الْبَعْضِ، جیسے بعض کو بعض پر مقدم کرنا، نَحْوُ: عُلَمَاءُ الْبَلَدِ حَاضِرُونَ، شہر کے علماء حاضر ہیں۔ اب شہر میں آٹھ دس علماء تھے اور ان کا نام ذکر بھی ہو سکتا تھا اور مشکل بھی نہیں ہے، لیکن مانع موجود ہے: جب ذکر کریں گے لازمی بات ہے کسی کے نام کو مقدم کرنا پڑے گا کسی کے نام کو مؤخر کرنا پڑے گا، تو یہ مانع آ گیا۔ تو آپ نے عُلَمَاءُ الْبَلَدِ حَاضِرُونَ مضاف مضاف الیہ کے ساتھ ذکر کر دیا، اب یہاں اس تفصیل کی احتیاج نہ رہی۔ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الِاعْتِبَارَاتِ، اس کے علاوہ بھی اور اعتبارات ہوتے ہیں، یہ چند کہتے ہیں ہم نے ذکر کر دیے۔
هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔