گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ مسند الیہ کو کبھی اسم موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے، اس لیے کہ مخاطب کو اس کے احوال مختصہ میں سے سوائے صلے کے اور کسی چیز کا علم نہیں ہوتا، یا کبھی کبھار مسند الیہ کو اسم موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے اس لیے کہ اس کے نام کے ساتھ تصریح کرنے کو قبیح سمجھا جاتا ہے۔ یا کبھی کبھار اسم موصول کی صورت میں مسند الیہ کو اس لیے لاتے ہیں تا کہ زیادت تقریر ہو جائے، زیادت تقریر کس چیز کی بھئی؟ وہ غرض جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہو، اور بعضوں نے کہا زیادت تقریر مسند کی ہوتی ہے اور بعضوں نے کیا کہا زیادت تقریر کس کی ہوگی؟ مسند الیہ کی۔
اور کبھی کبھار مسند الیہ کو اسم موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے تفخیم کے لیے بھئی، یعنی کس چیز کی تعظیم کے لیے، یا کبھی کبھار اس لیے اسم موصول کی صورت میں مسند الیہ کو لایا جاتا ہے تا کہ مخاطب کو تنبیہ کی جائے اس کی غلطی پر، تو اسم موصول کی صورت میں لائیں گے تو پھر غلطی پر تنبیہ ہو سکتی ہے ورنہ غلطی پر تنبیہ نہیں ہو سکتی۔
أَوِ الْإِيمَاءِ إِلَى وَجْهِ بِنَاءِ الْخَبَرِ، صرف متن متن دیکھیے بھئی۔ یا کبھی کبھار اسم موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے مسند الیہ کو اشارہ کرنے کے لیے، ایماء کا معنی ہے اشارہ کرنا، اشارہ کرنے کے لیے إِلَى وَجْهِ بِنَاءِ الْخَبَرِ، وجہ بمعنی نوع کے ہے یہاں پر، یہاں کس معنی میں ہے؟ نوع کے معنی میں، بنائے خبر کی نوع کی طرف اشارہ کرنے کے لیے بھئی، بنائے خبر کی نوع کی طرف یعنی وہ خبر جس کی بناء اس پر ہو گی بھئی، مسند الیہ کو کس صورت میں لے کر آئے ہیں آپ؟ اسم موصول کی صورت میں لے کر آئے ہیں تو یہ اس پر یہ مبتدا بنا، آگے اس پر جس خبر کی بناء ہونے والی ہے اس کی نوع کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ آگے مبتدا تو یہ ہے آگے کس قسم کی خبر آنے والی ہے، وہ جنس ثواب سے ہے یا جنس عقاب سے ہے، جنس مدح سے ہے یا جنس ذم سے ہے اس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، جیسے دیکھیے {إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي}، اللہ تعالی کیا فرماتے ہیں: یقیناً وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے۔
تو دیکھو إِنَّ حرف از حروف مشبہ بالفعل ہے، الَّذِينَ اسم موصول ہے، يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي یہ اس کا صلہ، موصول اپنے صلے کے ساتھ مل کر یہ إِنَّ کا اسم، تو دیکھو یہ إِنَّ کا اسم یہ مسند الیہ ہے بھئی، تو اس مسند الیہ کو اسم موصول کی صورت میں ذکر کیا گیا تا کہ آگے آنے والی خبر کی جنس کی طرف اشارہ ہو جائے، تو جب اللہ یہ فرما رہے ہیں: یقیناً وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، تو پتہ چل گیا آپ کو مولانا آگے ثواب کا ذکر ہوگا یا عقاب کا ذکر ہوگا؟ جب وہ لوگ تکبر کرتے ہیں، اللہ کی عبادت نہیں کرتے تو آگے کس چیز کا ذکر ہوگا؟ یقیناً ان کی سزا کا ذکر ہوگا بھئی، تو دیکھا اشارہ ہو گیا بنائے خبر کی نوع کی طرف: {سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ}، عنقریب وہ داخل ہوں گے جہنم کے اندر اس حال میں کہ وہ ذلیل ہوں گے، تو دیکھا بھئی اس میں مسند الیہ کو کس صورت میں ذکر کیا گیا؟ اسم موصول کی صورت میں، جس کی وجہ سے آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف کیا ہو گیا؟ اشارہ ہو گیا۔
ثُمَّ إِنَّهُ رُبَّمَا يُجْعَلُ ذَرِيعَةً إِلَى التَّعْرِيضِ بِتَعْظِيمِ لِشَانِهِ، پھر مولانا تو دیکھو یہاں دو باتیں ہو گئیں، کیا ہو گئیں؟ دو باتیں: ایک تو یہ مسند الیہ کو کس صورت میں لایا گیا ہے؟ اسم موصول کی صورت میں، اور پھر اس کے ذریعے کیا کیا گیا؟ اشارہ کیا گیا آنے والی خبر کی نوع کی طرف، آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ کر دیا گیا۔ پھر مولانا اس اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے کس چیز کے لیے؟ تعریض بتعظیم الخبر کے لیے یعنی خبر کی عظمت شان کی طرف اشارہ کرنے کے لیے۔
دیکھیے مثال سے بات سمجھ میں آئے گی:
{إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ بَنَى لَنَا ... بَيْتًا دَعَائِمُهُ أَعَزُّ وَأَطْوَلُ}
یقیناً وہ ذات جس نے آسمان کو بلند کیا، بنایا ہے اس نے ہمارے لیے ایسا گھر جس کے ستون بڑے پائیدار مضبوط اور بڑے لمبے ہیں، بے شک وہ ذات جس نے کیا بنایا ہے آسمان کو؟ بلند کیا ہے، اس نے ہمارے لیے ایسا گھر بنایا ہے جس کے ستون بڑے کیا ہیں؟ بڑے مضبوط اور لمبے ہیں۔
تو دیکھو یہاں اسم موصول کی صورت میں لایا گیا مسند الیہ کو: {الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ}، وہ ذات جس نے آسمان کو بلند کیا، تو مسند الیہ کو اسم موصول کی صورت میں ذکر کیا گیا، اس سے آنے والی خبر کی جنس کی طرف اشارہ ہو گیا، مسند الیہ کیا ہے؟ وہ ذات جس نے آسمان کو بلند کیا، پتہ چل گیا آگے آنے والی خبر کے اندر بھی تعمیر کا ذکر ہوگا یا تخریب کا ذکر ہوگا؟ تعمیر کا ذکر ہوگا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تعمیر کا اور بلندی کا ذکر ہوگا بھئی، تو دیکھا {بَنَى لَنَا بَيْتًا} بنایا ہے ہمارے لیے اس ذات نے ایسا گھر جس کے ستون کیا ہیں؟ بڑے پائیدار اور لمبے ہیں، تو خبر کی جنس کی طرف اشارہ ہو گیا۔
کتنی باتیں میں نے کہیں تھیں آپ سے بھئی؟ مسند الیہ کو کس صورت میں لانا ہے؟ اسم موصول کی صورت میں، اور اس سے آگے آنے والی خبر کی جنس کی طرف اشارہ ہو جائے گا، پھر اس کو ذریعہ بنایا جائے گا کس چیز کا؟ خبر کی عظمت شان کی طرف تعریض کا ذریعہ بنایا جائے گا بھئی۔ تو پہلے دیکھو اسم موصول کی صورت میں ذکر کیا گیا پہلی بات: {الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ}، دیکھا مسند الیہ کو کس صورت میں ذکر کیا گیا؟ اسم موصول، پہلی بات۔ پھر اس کے ذریعے اشارہ ہوا کس کی طرف؟ خبر کی جنس کی طرف کہ آگے بھی تعمیر، جب یہاں بتایا وہ ذات جس نے آسمانوں کو بلند کیا، پتہ چلا آگے بھی تعمیر اور بلندی ہی کا ذکر ہوگا بھئی، آنے والی خبر کی جنس کی طرف کیا ہو گیا؟ اشارہ ہو گیا، {بَنَى لَنَا} آگے پھر وہی تعمیر کا ذکر آیا اور یہ بھی ذکر آیا کہ بڑا بلند اور عزت والا گھر بنایا ہے بھئی، اور تیسری بات کیا تھی؟ کہ اس اشارے کو ذریعہ بنایا جائے خبر کی عظمت شان کے لیے، تو یہاں دیکھو {بَيْتًا} کا ذکر ہوا، معلوم ہوا یہ بیت اسی ذات کا بنایا ہوا ہے جس نے آسمان کو بنایا، معلوم ہوا یہ گھر بھی بڑا با عظمت ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو یہاں تین باتیں ہوئیں بھئی: پہلے کیا دو تھیں کہ مسند الیہ کو اسم موصول کی صورت میں لایا جائے، پھر اس کے ذریعے اشارہ کیا جائے آنے والی خبر کی نوع کی طرف، پھر اس اشارے کو ذریعہ بنایا جائے خبر کی عظمت شان کی طرف تعریض کرنے کے لیے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں یہ تینوں چیزیں موجود ہوئیں۔
أَوْ تَعْظِيمِ شَانِ غَيْرِهِ، یا مولانا خبر کی عظمت شان کی طرف تعریض نہیں ہوتی بلکہ خبر کے علاوہ کی عظمت شان کی طرف تعریض ہوتی ہے، جیسے: {الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ}، وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا شعیب علیہ السلام کو، تو یہ دیکھو الَّذِينَ اسم موصول، كَذَّبُوا شُعَيْبًا یہ اس کا صلہ، موصول صلہ مل کر کیا بن گیا؟ مبتدا، تو اس نے آنے والی خبر کی طرف اشارہ کر دیا، وہ لوگ جنہوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کو جھٹلایا، تو آپ کو پتہ چل گیا بھئی آگے ان کے نفع کا ذکر ہوگا یا نقصان کا ذکر ہوگا؟ نقصان کا ذکر ہوگا: {كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ}، وہی خسارے والے ہیں بھئی، خسارے والے، تو دیکھو اس مسند الیہ کو اسم موصول کی صورت میں ذکر کیا گیا پہلی بات، پھر اس کے ذریعے اشارہ کیا گیا آنے والی خبر کی نوع کی طرف، پھر مولانا اس اشارے کو ذریعہ بنایا گیا خبر کے علاوہ کی عظمتِ شان کے لیے۔ تو دیکھو یہاں پر حضرت شعیب علیہ السلام کی عظمتِ شان کی طرف اشارہ کر دیا گیا کہ وہ ایسی ذات ہے کہ جس کو جھٹلانے والے خسارے میں رہتے ہیں، معلوم ہوا وہ کوئی معمولی ذات اور معمولی ہستی نہیں کہ جن کو جھٹلانے والے خسارے میں رہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو اب یہ حضرت شعیب علیہ السلام کی تعظیم کی طرف اشارہ ہوا، اور حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر کدھر آ رہا ہے مولانا؟ خبر میں آ رہا ہے یا یہ تو صلے کے اندر ہی واقع ہو رہے ہیں؟ کس میں؟ خبر تو {كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ} آ رہی ہے، تو تعریض ہوئی مولانا عظمتِ شان کی طرف، کس کی عظمتِ شان؟ خبر کی یا غیرِ خبر کی؟ غیرِ خبر کی، کیونکہ یہ تو موصول کے اسی مبتدا کے صلے کے اندر آ رہے ہیں۔
بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ تو کتنی باتیں یہاں ہوئیں؟ تین باتیں ہوئیں: کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے بھئی مسند الیہ کو کس صورت میں لایا جاتا ہے؟ اسمِ موصول کی صورت میں، اور اس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ دوسری بات: اشارہ کیا جاتا ہے آنے والی خبر کی نوع کی طرف، پھر مولانا اس اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے خبر کی عظمتِ شان بتلانے کے لیے یا غیرِ خبر کی عظمتِ شان بتلانے کے لیے۔
دیکھیے جی اب سبق:
{أَوِ الْإِيمَاءِ} أَيِ الْإِشَارَةِ {إِلَى وَجْهِ بِنَاءِ الْخَبَرِ}، یا اشارہ کرنے کے لیے یعنی مسند الیہ کو اسمِ موصول کی صورت میں لاتے ہیں اشارہ کرنے کے لیے {إِلَى وَجْهِ بِنَاءِ الْخَبَرِ}، إِلَى نَوْعِ بِنَاءِ الْخَبَرِ، بنائے خبر کی نوع کی طرف۔ بِنَاء یہ مولانا یاد رکھو یہ اضافت الصفت ہو رہی ہے الی الموصوف بھئی، اضافۃ الصفت ہو رہی ہے الی الموصوف۔ بِنَاء مصدر مضاف ہے مولانا اور تو یہ خبر کی صفت ہے، دراصل کیا ہے؟ خبر کی صفت ہے، اور اس کو خبر کی صفت بنا دیں کیسے؟ إِلَى الْخَبَرِ الْبِنَائِيِّ، اور پھر یہ مصدر ہے اور مصدر کیا ہوتا ہے کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی اسمِ مفعول کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، موقع کے مطابق بھئی جہاں اس کا حمل صحیح نہ بن رہا ہو تو یہاں پر بھی ہم اس کو اسمِ مفعول کے معنی میں لے لیں گے: إِلَى وَجْهِ الْخَبَرِ الْمَبْنِيِّ، إِلَى وَجْهِ الْخَبَرِ الْمَبْنِيِّ، اشارہ کرنے کے لیے وہ خبر جس کی بنا ہوئی ہے اس کی نوع کی طرف۔
بھئی کیا معنی بنا ہوئی ہے؟ الْخَبَرِ الْمَبْنِيِّ عَلَى الْمَوْصُولِ، وہ خبر جس کی بنا کس پر ہو رہی ہے؟ موصول پر۔ بھئی اسمِ موصول کو مبتدا کے طور پر ذکر کیا تو اس کے بعد کیا ذکر ہو گی؟ خبر، اور اس خبر کی بنا کس پر ہے؟ مبتدا پر ہے، اور وہ مبتدا کون ہے؟ اسمِ موصول، یعنی اس خبر کا حکم کس پر لگایا جا رہا ہے بھئی؟ اس مبتدا پر جو کون ہے؟ اسمِ موصول ہے۔ تو وہ خبر جس کی بنا ہو رہی ہے اسمِ موصول پر اور اس کی نوع کی طرف اشارہ کرنے کے لیے، سمجھ میں آیا؟ تو عبارت یوں ہے دراصل: أَوِ الْإِيمَاءِ إِلَى وَجْهِ الْخَبَرِ الْمَبْنِيِّ عَلَى الْمَوْصُولِ۔
أَيْ إِلَى طَرِيقِهِ یعنی اس کے طریقے کی طرف، تَقُولُ آپ عربی کا محاورہ ذکر کر رہے ہیں۔ علامہ تفتازانی یہ معنی بیان کر رہے ہیں بھئی وَجْهٌ کا، وَجْهٌ کا علامہ تفتازانی معنی کریں گے نوع کے بھئی، کیا معنی کریں گے؟ نوع اور طریقے کا اس کا معنی کریں گے۔ بعض علماء نے اس کا معنی علت کے اور سبب کے کیے ہیں، علامہ تفتازانی اس کو رد کریں گے کہ بھئی یہاں نوع کے معنی میں وجہ کو لیا جائے، اس کو علت اور سبب کے معنی میں نہ لیا جائے۔
کس طرح؟ دیکھیے ذرا پہلے بھئی۔ بعضوں نے اس کو علت اور سبب کے معنی میں لیا، وہ کیا کہتے ہیں؟ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ وہ کہتے ہیں، بعض علماء نے کہا کہ کبھی کبھار مسند الیہ کو اسمِ موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے تاکہ آنے والی خبر کی علت کی طرف اشارہ ہو جائے، آگے آنے والی خبر کی علت کی طرف۔ جیسے دیکھو: {إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي}، یقیناً وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، {سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ}، عنقریب وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل ہو کر۔ اب خبر کیا ہے؟ عنقریب وہ داخل ہوں گے جہنم کے اندر ذلیل ہو کر، اس کی علت کیا ہے؟ کہ وہ اللہ کی عبادت سے تکبر کرتے تھے، تو دیکھا خبر کی علت کی طرف اشارہ ہو گیا۔ مسند الیہ کو کس صورت میں ذکر کیا گیا ہے؟ اسمِ موصول کی صورت میں، اور اس کی وجہ سے آنے والی خبر کی علت کا پتہ چل گیا، اور آنے والی خبر کیا تھی کہ وہ جہنم میں داخل ہوں گے ذلیل ہو کر، اس کی علت کیا پتہ چل گئی؟ کس وجہ سے داخل ہوں گے؟ کیونکہ وہ اللہ کی عبادت سے تکبر کرتے تھے۔
سمجھ میں آیا؟ تو بعضوں نے علت کا معنی کیا، علامہ تفتازانی بتلائیں گے کہ بھئی علت کے معنی یہاں نہ کرو، ٹھیک ہے پہلی مثال میں بھی آپ کی بات ٹھیک رہے گی، آخری مثال {الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا} اس میں بھی ذرا دیکھیے: {الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ}، وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا شعیب علیہ السلام کو وہی خسارے والے ہیں، تو وہ لوگ خسارے والے کیوں ہیں؟ خبر کیا ہے کہ وہ لوگ کیا ہیں؟ خسارے والے۔ بھئی مسند الیہ کو ذکر کیا گیا اسمِ موصول کی صورت میں: {الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا}، اور آگے خبر کیا آئی؟ {كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ}، تو اس خبر کی علت کی طرف اشارہ ہو گیا، وہ لوگ خسارے میں کیوں ہیں؟ کیا علت ہے اس کی؟ کیونکہ انہوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کی تکذیب کی ہے۔ تو دیکھا اسمِ موصول کی صورت میں ذکر کرنے کی وجہ سے آگے آنے والی خبر کی علت کی طرف کیا ہوا؟ اشارہ ہوا۔
علامہ تفتازانی اس کو رد کریں گے کہ بھئی اس نوع کو، وجہ کے لفظ کو علت کے معنی میں نہ لو، ورنہ ٹھیک ہے ایک دو جگہ تو آپ کی بات ٹھیک رہے گی، جیسے پہلی مثال میں بھی میں نے ذکر کر دیا یہ ما قبل علت بن رہا ہے کس کے لیے؟ ما بعد کے لیے، اور آگے جو آیا {الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا} یہاں اس آیت کے اندر بھی کیا ہے آپ کی بات ٹھیک ہے، خبر کی علت کی طرف کیا ہو رہا ہے؟ اشارہ۔ لیکن جو درمیان میں آیا شعر:
{إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ بَنَى لَنَا ... بَيْتًا دَعَائِمُهُ أَعَزُّ وَأَطْوَلُ}
وہ ذات جس نے آسمان کو کیا کیا؟ بلند کیا۔ یہاں پر آپ کی یہ بات درست نہیں رہتی بھئی کہ اس میں مسند الیہ کو کس صورت میں ذکر کیا گیا ہے؟ اسمِ موصول کی صورت میں، اور کیوں ذکر کیا گیا کہ آنے والی خبر کی علت کی طرف کیا ہو جائے؟ اشارہ۔ کہتے ہیں یہاں پر ما قبل ما بعد کے لیے علت بن ہی نہیں سکتا بھئی۔ دیکھو خبر کیا ہے؟ بنایا ہمارے لیے ایک گھر، اس کی علت یہ بنتی نہیں بھئی کہ آسمان کو بلند کیا۔ ہمارے لیے گھر کیوں بنایا؟ کیونکہ آسمان کو بلند کیا، یہ علت بنتی ہے اس کی بھئی؟ نہیں، وہاں تو بن رہی تھی جہنم میں داخل ہوں گے، کیوں داخل ہوں گے؟ کیونکہ عبادت سے تکبر کیا۔ خسارے میں ہیں، کیوں خسارے میں ہیں؟ کیونکہ حضرت شعیب علیہ السلام کی تکذیب کی ہے، لیکن یہاں بھئی ہمارے لیے گھر بنایا، کیوں بنایا؟ کیونکہ آسمان کو بلند کیا۔ یہاں تو علت وہ بنتی ہی نہیں، لہٰذا اسی لیے علامہ تفتازانی اس کو رد کریں گے بھئی کہ وجہ کا کیا معنی کرو؟ نوع کرو، علت اور سبب نہ کرو۔
تو سمجھ میں آیا؟ مسند الیہ کو اسمِ موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے اشارہ کرنے کے لیے نوعِ خبر کی طرف، کس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے؟ نوعِ خبر کی طرف۔ یوں کہو آسان لفظوں میں: ابتدائے کلام دلالت کرتا ہے انتہائے کلام پر۔ ابتدائے کلام: {إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي}، وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، یہ ابتدائے کلام ہے، اس نے دلالت کر دی انتہائے کلام پر کہ آگے ثواب کا ذکر نہیں ہوگا بلکہ کس چیز کا ذکر ہوگا؟ عقاب کا ذکر ہوگا، کس کا؟ عقاب کا۔
أَيْ إِلَى طَرِيقِهِ اس کے طریقے پر، تَقُولُ عَمِلْتُ هَذَا الْعَمَلَ عَلَى وَجْهِ عَمَلِكَ، علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں وجہ کا معنی یہاں کرنا ہے نوع کے اور عربی میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے، وجہ کا لفظ کس معنی میں؟ نوع کے معنی میں آتا ہے جیسے آپ کسی شخص کو کہتے ہیں: عَمِلْتُ هَذَا الْعَمَلَ عَلَى وَجْهِ عَمَلِكَ، میں نے اس کام کو سرانجام دیا ہے آپ کے عمل کے طریقے پر۔ تو دیکھو وجہ کا لفظ آیا: میں نے یہ کام اسی طرح کیا ہے جس طریقے پر آپ کرتے ہیں۔ تو دیکھو وجہ کس معنی میں آیا؟ طریق کے معنی میں۔ عَلَى وَجْهِ عَمَلِكَ وَعَلَى جِهَتِهِ، اور کس جہت پر؟ جہت بھئی وہی جِهَتِهِ، ہا ضمیر عمل کو راجع ہے، کس کو؟ عمل کو۔ میں نے یہ کام کیا ہے عَلَى جِهَةِ عَمَلِكَ، آپ کے عمل کے جہت پر یعنی آپ کے عمل کے طریقے پر۔ أَيْ طَرْزِهِ خود معنی کر رہے ہیں: أَيْ طَرْزِهِ وَطَرِيقَتِهِ، اس عمل کے طرز پر اور اس کے طریقے پر۔
يَعْنِي تَأْتِي بِالْمَوْصُولِ وَالصِّلَةِ یعنی آپ لاتے ہیں اسمِ موصول اور صلہ کو، لِلْإِشَارَةِ اشارہ کرنے کے لیے، إِلَى أَنَّ بِنَاءَ الْخَبَرِ عَلَيْهِ کہ وہ خبر جس کی بنا کی گئی ہے اس اسمِ موصول پر، مِنْ أَيِّ وَجْهٍ وَأَيِّ طَرِيقٍ کس نوع اور کس طریقے کی ہے، مِنَ الثَّوَابِ وَالْعِقَابِ وَالْمَدْحِ وَالذَّمِّ وَغَيْرِ ذَلِك، یعنی کہ ثواب، عقاب، مدح اور ذم وغیرہ میں سے کس نوع کی ہے یہ بتلانے کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
نَحْوُ جیسے مثال کے طور پر: {إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي}، یقیناً وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں ہماری عبادت سے، فَإِنَّ فِيهِ إِيمَاءً، إِيمَاءً یہ مولانا إِنَّ کا اسم ہے اسمِ مؤخر، پس یقیناً اس کے اندر اشارہ ہے، إِلَى أَنَّ الْخَبَرَ الْمَبْنِيَّ عَلَيْهِ کہ وہ خبر جس کی بنا ہوئی ہے اس اسمِ موصول پر، أَمْرٌ مِنْ جِنْسِ الْعِقَابِ وہ امر ہے کس جنس میں سے ہے؟ جنسِ عقاب میں سے، ایسا امر ہے جو جنسِ عقاب میں سے ہے، وَالْإِذْلَالِ اور اذلال کا معنی ذلیل کرنا بھئی، جنسِ اذلال کے قبیل سے ہے، وَهُوَ قَوْلُهُ اور وہ یہ قول ہے اللہ تعالیٰ کا: {سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ}، عنقریب وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل ہو کر۔
وَمِنَ الْخَطَإِ فِي هَذَا الْمَقَامِ اور غلطی میں سے ہے اس مقام کے اندر، تَفْسِيرُ الْوَجْهِ فِي قَوْلِهِ إِلَى وَجْهِ بِنَاءِ الْخَبَرِ کہ تفسیر وجہ کی کی جائے ماتن کے اس قول کے اندر: إِلَى وَجْهِ بِنَاءِ الْخَبَرِ، اس میں وجہ کی تفسیر کی جائے بِالْعِلَّةِ وَالسَّبَبِ علت اور سبب کے ساتھ کرنا یہ غلطی میں سے ہے بھئی۔
وَقَدِ اسْتَوْفَيْنَا ذَلِكَ فِي الشَّرْحِ، استوفیٰ یستوفی کا معنی ہوتا ہے پورے طور پر وصول کرنا، پورے طور پر مراد ہے ذکر کرنا، پورے طور پر ذکر کرنا: وَقَدِ اسْتَوْفَيْنَا ذَلِكَ فِي الشَّرْحِ، اور تحقیق ہم نے اس کو پورے طور پر بیان کیا ہے اپنی شرح کے اندر یعنی مطول کے اندر۔
ثُمَّ إِنَّهُ أَيِ الْإِيمَاءَ إِلَى وَجْهِ بِنَاءِ الْخَبَرِ، پھر مولانا اس کو، متن دیکھیے: ثُمَّ إِنَّهُ رُبَّمَا يُجْعَلُ ذَرِيعَةً، پھر بسا اوقات بنایا جاتا ہے اس ایماء کو ذریعہ، اس ایماء کو کیا بنایا جاتا ہے؟ ذریعہ۔ میں نے بتلایا نہ تین چیزیں ہیں: پہلے کس صورت میں لاؤ گے؟ مسند الیہ کو اسمِ موصول کی صورت میں، پھر اس کے ذریعے کیا ہوگا؟ اشارہ آنے والی خبر کی نوع کی طرف، پھر اس اشارے کو ذریعہ بنایا جائے گا کس کے لیے؟ خبر کی عظمتِ شان کے لیے۔ تو بتلائیے مولانا کس کو ذریعہ بنایا خبر کی عظمتِ شان کے لیے؟ اشارے کو، کس کو ذریعہ بنایا؟ اشارے کو۔ بعضوں نے یہ کہا، بعضوں کو یہ وہم ہوا کہ پہلی چیز جو مسند الیہ کو اسمِ موصول کی صورت میں لائے ہیں، اسی کو ذریعہ بنایا جاتا ہے کس چیز کے لیے؟ خبر کی عظمتِ شان کے لیے، علامہ تفتازانی کہیں گے نہیں بھئی، اسمِ موصول کی صورت میں جو لانا ہے اس کو ذریعہ نہیں بنایا جاتا بلکہ اسمِ موصول کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے آنے والی خبر کی نوع کی طرف، اور اس اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے کس چیز کا؟ خبر کی عظمتِ شان کی طرف تعریض کا۔
ثُمَّ إِنَّهُ دیکھو خود بتلائیں گے یہ إِنَّهُ، ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ أَيِ الْإِيمَاءَ إِلَى وَجْهِ بِنَاءِ الْخَبَرِ، کس کو ذریعہ بنایا جاتا ہے؟ بِنَاءِ خبر کی نوع کی طرف اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے، لَا مُجَرَّدَ جَعْلِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ مَوْصُولًا، صرف مسند الیہ کو اسمِ موصول بنانے کے ساتھ نہیں بھئی، بلکہ کس طرح؟ اس اشارے کو، كَمَا سَبَقَ إِلَى بَعْضِ الْأَوْهَامِ جیسے کہ سبقت کی ہے بعض وہموں کی طرف، بعض علماء نے یہ وہم کیا کہ مسند الیہ کو اسمِ موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے تعریض کی جاتی ہے کس چیز کی طرف؟ خبر کی عظمتِ شان کی طرف، کہتے ہیں نہیں بھئی یہ بات درست نہیں ہے۔
رُبَّمَا يُجْعَلُ ذَرِيعَةً أَيْ وَسِيلَةً بسا اوقات اس کو ذریعہ یعنی وسیلہ بنایا جاتا ہے، إِلَى التَّعْرِيضِ کس چیز کا؟ تعریض کا، تعریض کا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تعریض کا کیا معنی میں نے بتلایا بھئی؟ تعریض: کلام کی دلالت کرنا ایسے معنی پر جس کا کلام میں ذکر نہ ہو بھئی، کلام کی دلالت کرنا ایسے معنی پر جس کا کلام میں ذکر نہ ہو، عظمتِ شان ذکر ہو رہی ہے مولانا بیت کی اور وہ ذکر نہیں ہے بھئی۔
بِتَعْظِيمِ لِشَانِهِ أَيْ لِشَانِ الْخَبَرِ، خبر کی عظمتِ شان کے لیے، نَحْوُ جیسے شعر ہے:
{إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ}
یقیناً وہ ذات جس نے بلند کیا آسمان کو، أَيْ رَفَعَ السَّمَاءَ، سَمَكَ کا معنی بتلا دیا یعنی آسمان کو بلند کیا،
{بَنَى لَنَا بَيْتًا}
بنایا ہے ہمارے لیے گھر بھئی، بَيْتًا ایسا گھر بنایا ہے۔
یاد رکھو یہ شعر ہے مولانا فرزدق کا۔ فرزدق مشہور اور بڑا فصیح و بلیغ شاعر گزرا ہے ابتدائے اسلام کے، پہلی صدی کے اندر یہ گزرا ہے مولانا، بڑا مشہور شاعر گزرا ہے عرب کا۔ قبیلہ قریش سے اس کا تعلق تھا، اور اس کے زمانے میں ایک اور بڑا مشہور شاعر تھا جریر بھئی، جریر۔ اور شعراء کے جیسے مولانا اونچی فخر کی باتیں کیا کرتے ہیں اشعار کے اندر، تو جریر بھی اسی زمانے کے اندر تھا، فرزدق بھی، تو یہ ایک دوسرے پر فخر کے طور پر مقابلہ کرتے ہوئے ہر ایک کیا کرتا تھا؟ اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے اور اپنے اور اپنے قوم وغیرہ کے صفات بیان کرتے بھئی، مقابلہ ہوتا ایک دوسرے کے خلاف، مقابلہ ہوتا ایک دوسرے سے۔ تو یہ اپنی صفات بیان کرتا: میں تو یہ یہ ہوں بھئی اور میری قوم یہ ہے اور فلاں ہے، اور وہ اپنے آپ کو بڑا بنانے کے بتانے کے لیے بھئی وہ اس کے اپنے اشعار ہوتے جیسے شعراء میں عام طور پر ہوتا ہے۔
تو یہ فرزدق کہتا ہے بھئی: یقیناً وہ ذات جس نے آسمان کو بلند کیا اس نے بنایا ہے ہمارے لیے ایسا گھر، دَعَائِمُهُ، دَعَائِم جمع ہے دِعَامَةٌ کی بھئی، یہ ستون کو کہتے ہیں، ایسا گھر بنایا ہے کہ اس کے ستون أَعَزُّ وَأَطْوَلُ بڑے معزز اور لمبے ہیں، أَعَزُّ کا معنی معزز اور زیادہ معزز، اور یا مضبوط بھئی مضبوط، دونوں معنی اس کے صحیح ہیں۔ جس کے ستون، ایسا گھر بنایا ہے جس کے ستون بڑے لمبے اور معزز ہیں یا بڑے پائیدار ہیں بھئی۔
اب یہ بیت سے کیا مراد ہے؟ علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں: أَرَادَ بِهِ الْكَعْبَةَ، اس کے ذریعے کس کا ارادہ کیا ہے؟ کعبۃ اللہ کا ارادہ کیا ہے بھئی، کعبۃ اللہ کا، بیت اللہ کا بھئی۔ تو فرزدق کیا کہتا ہے کہ جریر پر فخر کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں کہتا ہے کہ یقیناً وہ ذات جس نے آسمانوں کو بلند کیا اس نے ہمارے لیے ایک بڑا ہی معزز گھر بنایا ہے جو کون سا ہے؟ بیت اللہ ہے، بیت اللہ بنایا ہے ہمارے لیے۔
اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی اگر فرزدق کا بیت اللہ کیسے ہو گیا؟ فرزدق اگر مسلمان ہے، بیت اللہ اس کا ہے تو جریر بھی تو مسلمان ہے، بیت اللہ اس کا بھی تو ہے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو اس کا یہ کہنا ہمارے لیے بنایا، بھئی یہ تو اس کے لیے بھی ہے، وہ بھی تو مومن ہے۔
تو جواب یہ مولانا اس لیے آگے دوسری احتمال بھی ذکر کر رہے ہیں دوسرا، اور جواب اس کا یہ کہ فرزدق کا تعلق میں نے بتلایا قبیلہ قریش سے تھا، اور یہ بیت اللہ کی خدمت، مختلف قسم کی خدمات قریش والوں کے سپرد تھیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ کوئی کیا کرتا تھا؟ حج کے موقع پر آنے والے حاجیوں کو کھانا کھلا رہا ہے، لوگ آ رہے ہیں بیت اللہ کے، ان کا خیال رکھتے، مہمان نوازی کیا کرتے، کسی کے پاس بیت اللہ کی چابیاں ہیں، کسی کے پاس مولانا کوئی بیت اللہ پر غلاف چڑھانے کا ذمہ دار وغیرہ اس طرح کے، تو یہ بیت اللہ کی خدمات کن کے سپرد تھیں؟ قریش والوں کے ہاتھ میں تھیں، اور تو لہٰذا یہ بیت اللہ کے زیادہ قریب ہوئے اور زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے گویا اس کا تعلق کیا ہے؟ زیادہ ہے، یہ زیادہ قریب ہوئے، سمجھ میں آیا؟ تو زیادہ قریب ہونے کی بنا پر یہ کہہ رہا ہے کہ ہمارا یہ گھر ہے، ہمارے لیے اللہ نے یہ بڑا معزز گھر بنایا ہے، معزز گھر، بات سمجھ میں آئی بھئی؟
تو زیادہ تعلق کی بنا پر اس نے کہا کہ ہمارے لیے گھر بنایا ہے، سمجھ میں آیا؟ تعلق تو اس کا بھی ہے لیکن اس کا تعلق زیادہ ہے بھئی۔
یا مولانا أَوْ بَيْتَ الشَّرَفِ وَالْمَجْدِ، یا بیت سے کیا مراد ہے بھئی؟ شرف، شرافت اور بزرگی کا گھر مراد ہے، شرافت اور بزرگی، یعنی مولانا بیتِ حسی مراد نہیں ہے، بیتِ معنوی مراد ہے، یعنی وہ ذات جس نے آسمانوں کو بلند کیا ہے اس نے ہمارے لیے ہمیں بڑی عزت نصیب فرمائی ہے، بڑی عزت نصیب فرمائی ہے اس زمانے کے اندر اور ہمارا حسب نسب یہ ہے، ہم قریش والے ہیں، جانتے ہو قریش پورے عرب کے اندر کیا تھا؟ معزز ترین قبیلہ شمار ہوتا تھا، تو اونچے حسب نسب کو اس کو تشبیہ دے دی مولانا کس کے ساتھ؟ گھر کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ گھر، یہ عزت اور حسب نسب کس کی طرح ہے؟ ایک گھر کی طرح ہے، ایک چھت کی طرح ہے، تو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے؟ ایک گھر بنایا ہے جس کے ستون بڑے معزز ہیں اور بڑے لمبے ہیں، یعنی بہت زیادہ عزت اور بزرگی اللہ نے ہمیں نصیب فرمائی۔ تو وہ بیتِ حسی نہیں مراد جو نظر آ رہا ہے بیت اللہ، بلکہ کیا مراد ہے؟ بیتِ معنوی مراد ہے، کیا مراد ہے؟ بیتِ معنوی، کس چیز کا بیت بھئی؟ عزت اور بزرگی کا گھر مراد ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
کیونکہ میں نے بتلایا فرزدق کس قبیلے سے تھا؟ قریش سے تھا، اور قریش پورے عرب میں سب سے معزز قبیلہ شمار ہوتا تھا، جبکہ جریر کا تعلق بنو تمیم سے تھا اور بنو تمیم کا بھی ایک بڑے ہی چھوٹے اور گھٹیا سے خاندان سے اس کا تعلق تھا، تو اس پر یہ اپنے بطورِ فخر کے اس کے مقابلے میں کہتا ہے کہ ہمارے لیے تو اللہ نے ایک ایسا گھر بنایا ہے یعنی وہ عزت اور حسب نسب والا کہ جس کے ستون کیا ہیں؟ بڑے ہی لمبے اور اونچے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آئی سب کو؟
أَرَادَ بِهِ الْكَعْبَةَ ارادہ کیا اس سے کعبۃ اللہ کا، أَوْ بَيْتَ الشَّرَفِ وَالْمَجْدِ یا شرافت اور بزرگی کے گھر کا، دَعَائِمُهُ، دَعَائِم دِعَامَةٌ کی جمع ہے ستون کو کہتے ہیں، أَعَزُّ وَأَطْوَلُ بڑے ہی عزت والے ہیں وَأَطْوَلُ اور بڑے طویل ہیں، مِنْ دَعَائِمِ كُلِّ بَيْتٍ، بتلایا مولانا اس میں أَعَزُّ وَأَطْوَلُ اسمِ تفضیل ہے اور اسمِ تفضیل کے استعمال کے کتنے طریقے ہیں مولانا؟ تین طریقے: الف لام کے ساتھ، مِنْ کے ساتھ یا اضافت کے ساتھ۔ تو یہاں تو کسی بھی طریقے سے استعمال نہیں ہوا، بتلایا یہ مِنْ کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے جو کہ محذوف ہے مولانا: مِنْ دَعَائِمِ كُلِّ بَيْتٍ، زیادہ طویل ہیں کس سے اور زیادہ عزت والے ہیں؟ ہر گھر کے ستونوں سے زیادہ عزت والے اور لمبے ہیں اس گھر کے ستون۔
فَفِي قَوْلِهِ پس اس قول کے اندر:
{إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ}
یہ قول جو ذکر ہوا شاعر نے یہ جو کہا نہ {إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ}، اس میں إِيمَاءٌ اشارہ ہے، إِلَى أَنَّ الْخَبَرَ الْمَبْنِيَّ عَلَيْهِ کہ وہ خبر جس کی بنا اس پر ہے، أَمْرٌ مِنْ جِنْسِ الرِّفْعَةِ وَالْبِنَاءِ وہ کس قسم کا امر ہے؟ جنسِ رفعت، بلندی اور تعمیر کی جنس میں سے ہے بھئی۔ بھئی میں نے کیا بتلایا تھا؟ پہلی بات کیا کہ اسمِ مسند الیہ کو کس صورت میں ذکر کیا جائے؟ پھر اسمِ موصول کی صورت میں اس کے ذریعے کیا کیا جائے؟ آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ، تو یہی تو بات کر رہے ہیں کہ جب کہا {إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ} بتلا دیا کہ آگے آنے والی جو خبر، وہ خبر جس کی بنا اس پر ہو رہی ہے وہ کس قسم کی ہے؟ اس میں بھی بلندی کا ذکر ہوگا اور تعمیر، یہی بات ہے کہ وہ خبر جس کی بنا ہوئی ہے اس اسمِ موصول پر أَمْرٌ مِنْ جِنْسِ الرِّفْعَةِ وَالْبِنَاءِ، وہ ایسا امر ہے جو جنسِ رفعت اور رفعت بلندی اور بناء تعمیر، تعمیر اور بلندی کی جنس میں سے ہے، عِنْدَ مَنْ لَهُ ذَوْقٌ سَلِيمٌ اس شخص کے نزدیک جس کو ذوقِ سلیم ہو۔ جس شخص کا بھی ذوقِ سلیم ہوگا، {إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ} یہ سنتے ہی اس کو پتہ چل جائے گا آگے بھی کس چیز کا ذکر ہونے والا ہے؟ بلندی اور تعمیر کا ذکر ہونے والا ہے۔
ثُمَّ فِيهِ تَعْرِيضٌ بِتَعْظِيمِ شَانِ بِنَاءِ بَيْتِهِ، پھر اس کے اندر مولانا تعریض ہے کس چیز کی؟ بِتَعْظِيمِ شَانِ بِنَاءِ بَيْتِهِ اس بناء بیت کی عظمتِ شان کی طرف، لِكَوْنِهِ فِعْلَ مَنْ رَفَعَ السَّمَاءَ بوجہ ہونے اس کے فعل اس ذات کا جس نے آسمان کو کیا کیا ہے؟ بلند کیا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بناء یہ معلوم ہوا یہ بناء بڑی عظیم الشان ہے، یہ بناء بھی کیا ہے؟ عظیم الشان، کیونکہ یہ اس ذات کا فعل ہے جس نے کیا کیا ہے؟ آسمانوں کو بلند کیا ہے۔
الَّتِي لَا بِنَاءَ أَعْظَمُ مِنْهَا وَأَرْفَعُ، وہ آسمان کہ جس سے کوئی بھی عمارت، تعمیر جو ہے، عمارت جو ہے اعظم اور ارفع نہیں ہے اس سے، اس سے بڑی عظیم اور اس سے زیادہ اونچی کوئی عمارت نہیں ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو یہاں پر یہاں تین چیزیں ہوئیں، اور یاد رکھو: تو یہ تعریض الی تعظیم الخبر، خبر کی عظمتِ شان کی طرف اشارہ کرنا یہ مقصود بالذات ہوا، اور یہ جو اشارہ تھا آگے آنے والی خبر کی طرف یہ مقصود بالتبع ہوا، یہ کیا ہے؟ مقصود بالتبع ہوا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو کہا: وہ ذات جس نے آسمانوں کو بلند کیا، اس سے آگے آنے والی خبر کی طرف کیا ہو گیا؟ اشارہ ہو گیا، لیکن یہ اشارہ مقصود بالذات نہیں ہے، اس کی طرف اشارہ کرنا مقصود بالذات نہیں، مقصود بالذات کیا ہے؟ خبر کی عظمتِ شان بتلانا ہے، بتلانا ہے وہ جو گھر بنا ہے وہ بڑا عظیم الشان ہے، کوئی معمولی گھر نہیں، تو وہ مقصود بالذات ہوا اور یہ جو خبر کی طرف اشارہ ہو رہا ہے یہ کیا ہے؟ مقصود بالتبع ہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
أَوْ ذَرِيعَةً إِلَى تَعْظِيمِ شَانِ غَيْرِهِ، یا مولانا اس اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے تعظیمِ شان کے لیے کس کی مولانا؟ غَيْرِهِ أَيْ غَيْرِ الْخَبَرِ، خبر کے علاوہ کسی اور چیز کی عظمتِ شان کے لیے، نَحْوُ مثال کے طور پر:
{الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ}
وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا حضرت شعیب علیہ السلام کو وہی خسارے والے ہیں، وہ خسارے والے ہیں۔
فَفِيهِ إِيمَاءٌ پس اس کے اندر مولانا اس میں اشارہ ہے، جب اس میں موصول کی مسند الیہ کو کس صورت میں لایا گیا؟ اسمِ موصول کی صورت میں، اس میں اشارہ ہے إِلَى أَنَّ الْخَبَرَ الْمَبْنِيَّ عَلَيْهِ کہ وہ خبر جس کی اس پر بنا ہے مولانا، مِمَّا يُنْبِئُ عَنِ الْخَيْبَةِ وَالْخُسْرَانِ ان خبروں میں سے ہے جو خبر دے رہی ہے کس کے بارے میں؟ خَیْبَت کا معنی ناکام و نامراد ہونا، خُسْرَان بھی خسارے میں رہنا، جو خبر دے رہی ہے ناکامی اور خسارے کا، بس جب یہ کہا گیا مولانا: {الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا}، معلوم ہوا آگے کس چیز کا ذکر ہوگا؟ ناکامی اور خسارے کا ذکر ہوگا، کامیابی اور نفع کا ذکر نہیں ہوگا۔
وَتَعْرِيضٌ بِتَعْظِيمِ شَانِ شُعَيْبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ، تو حضرت شعیب علیہ السلام کی کیا ہے عظمتِ شان کی طرف کیا ہو گیا؟ اشارہ ہو گیا۔
وَرُبَّمَا يُجْعَلُ ذَرِيعَةً إِلَى الْإِهَانَةِ لِشَانِ الْخَبَرِ، یہ تو تھا مولانا کبھی خبر کی عظمتِ شان کے لیے طرف کیا کیا جاتا ہے؟ تعریض کی جاتی ہے۔ اب مولانا علامہ تفتازانی بتلائیں گے کبھی اس کا عکس ہوتا ہے، خبر کی کیا کی اہانت کی طرف کیا ہوتی ہے؟ تعریض ہوتی ہے۔ پھر بسا اوقات اس اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے اہانت کے لیے، کس کی اہانت کے لیے؟ شانِ خبر، خبر کی شان کی اہانت کے لیے، جیسے:
{إِنَّ الَّذِي لَا يُحْسِنُ مَعْرِفَةَ الْفِقْهِ قَدْ صَنَّفَ فِيهِ كِتَابًا}
الَّذِي اسمِ موصول، لَا يُحْسِنُ مَعْرِفَةَ الْفِقْهِ یہ اس کا صلہ، موصول صلہ مل کر إِنَّ کا اسم، یہ مسند الیہ ہے۔ قَدْ صَنَّفَ فِيهِ كِتَابًا یہ کیا ہے؟ اس کی خبر ہے۔ وہ شخص جو اچھی طرح فقہ کی معرفت نہیں رکھتا بھئی، جو اچھی طرح فقہ کو نہیں جانتا یہ ہے مبتدا۔ بے شک وہ شخص جو اچھی طرح فقہ کو نہیں جانتا، اس میں آنے والی خبر کی طرف اشارہ ہو گیا کہ معلوم ہوا آگے خبر بھی فقہ سے متعلق کوئی بات ہی ہے، اشارہ ہوا یا نہیں ہوا؟ تو یعنی آگے فقہ کے بارے میں ہی کوئی بات کرنے والی خبر آنے والی ہے یا اس کی تصنیف، فقہ میں کسی تصنیف کا ذکر آنے والا ہے یا تدریس کا ذکر آنے والا ہے یا کوئی اور اس سے متعلقہ بات آنے والی ہے، چنانچہ خبر آ گئی: قَدْ صَنَّفَ فِيهِ كِتَابًا، تحقیق وہ شخص جو فقہ کو اچھی طرح نہیں جانتا اس نے فقہ کے اندر کیا کی ہے؟ ایک کتاب تصنیف کی ہے، تو دیکھو خبر میں بھی کس کا ذکر آ گیا؟ فقہ میں کتاب کی تصنیف کا ذکر آیا۔
تیسری بات کیا تھی بھئی؟ اس اشارے کو، یہ جو مسند الیہ نے اشارہ کر دیا آگے آنے والی خبر کی طرف کہ آگے فقہ کا ہی ذکر ہونے والا ہے، اس کو پھر ذریعہ بنایا کس چیز کا؟ خبر کی اہانت کا، خبر کی اہانت کا۔ بھئی معلوم ہوا جب وہ شخص فقہ کو اچھی طرح نہیں جانتا، اس نے کتاب تصنیف کی ہے، معلوم ہوا یہ کتاب اعلیٰ درجے کی ہے یا بڑی گھٹیا ہوگی؟ بڑی ادنیٰ درجے کی ہوگی، تو خبر کی کیا ہوئی مولانا؟ اہانت ہو گئی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
أَوْ لِشَانِ غَيْرِهِ، یا مولانا کس کے لیے؟ غیر کی اہانت ہوگی لیکن خبر کی نہیں ہوگی بلکہ کس کی ہوگی؟ غیر کی، جیسے:
{إِنَّ الَّذِي يَتَّبِعُ الشَّيْطَانَ فَهُوَ خَاسِرٌ}
یقیناً وہ شخص جو اتباع کرتا ہے شیطان کا تو وہ خسارے والا ہے، خسارے میں ہے۔ دیکھو الَّذِي اسمِ موصول، يَتَّبِعُ الشَّيْطَانَ اس کا صلہ، موصول صلہ مل کر إِنَّ کا اسم۔ وہ شخص جو شیطان کا اتباع کرتا ہے، آگے آنے والی خبر کی طرف اشارہ ہو گیا، بھئی وہ کامیاب ہوگا یا خسارے میں ہوگا؟ وہ بتلایا: فَهُوَ خَاسِرٌ، یہ خبر کی طرف اشارہ ہو گیا کہ وہ خسارے والا ہے۔
پھر مولانا معلوم ہوا کہ جس کے اتباع میں خسارہ ہے وہ کوئی اعلیٰ ذات ہے یا بڑی ہی گھٹیا قسم کی ذات ہے؟ بڑی ہی حقیر ذات ہے، مولانا اہانت ہوئی، اہانت کی طرف تعریض ہوئی، کس کی اہانت؟ خبر کی اہانت ہے یا غیرِ خبر کی؟ غیرِ خبر کی، شیطان کی اہانت کی طرف تعریض ہے، اور شیطان کا ذکر خبر کے اندر نہیں آ رہا بلکہ کس میں آ رہا ہے؟ مبتدا میں، موصول کے صلے میں ہی آ رہا ہے۔
وَقَدْ يُجْعَلُ ذَرِيعَةً إِلَى تَحْقِيقِ الْخَبَرِ، اور کبھی کبھار اس اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے تحقیقِ خبر کے لیے، یہ بات ذرا مشکل ہے اچھی طرح سمجھ لو بھئی۔ اور کبھی کبھار اس اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے إِلَى تَحْقِيقِ الْخَبَرِ، کس کے لیے؟ تحقیقِ خبر کے لیے۔ تحقیقِ خبر کا کیا معنی؟ أَيْ جَعْلِهِ مُحَقَّقًا ثَابِتًا، اس خبر کو ثابت بتلانے کے لیے، قرار دینے کے لیے کہ ایسا ہے، ایسا مُحَقَّقًا ثَابِتًا کا ایک معنی ہے بھئی۔
جیسے دیکھیے بھئی:
{إِنَّ الَّتِي ضَرَبَتْ بَيْتًا مُهَاجِرَةً ... بِكُوفَةِ الْجُنْدِ غَالَتْ وُدَّهَا غُولُ}
شاعر کہتا ہے کہ میری معشوقہ جو ہے وہ ہجرت کر گئی ہے، اس جگہ کو چھوڑ گئی ہے اور کوفۃ الجند میں رہنے لگی ہے، کہاں پر رہنے لگی ہے؟ کوفۃ الجند مقام ہے وہاں رہنے لگی ہے، بھئی اور کوفۃ الجند، جند لشکر کو کہتے ہیں بھئی، اس جگہ کو بھی کوفۃ الجند اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں پر کسریٰ بادشاہ کے کہتے ہیں لشکر نے پڑاؤ کیا تھا تو اس کا جگہ کا نام کیا پڑ گیا؟ کوفۃ الجند بھئی۔ تو کوفہ اور کوفۃ الجند میں کی طرف اس نے ہجرت کر لی ہے، غَالَتْ ہلاک کر دیا ہے اس کی محبت کو غُولٌ، کس نے ہلاک کیا ہے؟ غول کہتے ہیں مولانا جن بھوت وغیرہ یا حوادثات مولانا حوادثات۔ تو جنوں بھوتوں نے اس کی محبت ہلاک، ختم کر دی ہے یا یوں کہو حوادثات نے اس کی محبت کیا کر دی ہے؟ ختم کر دی ہے، ختم کر دی ہے۔
اب دیکھیے: الَّتِي اسمِ موصول ہے، ضَرَبَتْ بَيْتًا مُهَاجِرَةً بِكُوفَةِ الْجُنْدِ یہ سارا صلہ ہے، موصول صلہ مل کر إِنَّ کا اسم، غَالَتْ وُدَّهَا غُولٌ یہ مولانا خبر ہے، یہ کیا ہے؟ خبر ہے، خبر۔
اب یہاں ایک بات یاد رکھو سب سے پہلے: دلیلِ لِمّی جانتے ہو بھئی دلیلِ لِمّی؟ معلول سے استدلال کرنا علت پر یہ دلیلِ لِمّی کہلاتی ہے، معلول سے استدلال کرنا کس پر؟ علت پر، یہ دلیلِ لِمّی ہے بھئی۔ علت معلول جانتے ہو بھئی؟ علت کسے کہتے ہیں؟ وہ شئے جو مفضی الی الشئے ہو بغیر واسطے کے۔ مثلاً سورج کا نکلنا علت ہے دن کے لیے، جب بھی سورج نکلے گا کیا پایا جائے گا؟ دن پایا جائے گا۔ تو سورج کا نکلنا علت اور دن کا ہونا معلول۔ اب مولانا اس دن کے ذریعے آپ استدلال کریں سورج کے نکلنے پر یہ دلیلِ لِمّی ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں کہ دن نکلا ہے، دن ہے اس وقت دن ہے معلوم ہوا سورج نکلا ہوا ہے، سورج کیا ہے؟ تو دیکھو اس دن کے ذریعے میں نے استدلال کیا کس پر؟ سورج کے نکلنے پر۔ اور کیوں؟ کیونکہ سورج کا نکلنا علت ہے، اور جب علت پائی جائے گی تو معلول پایا جاتا ہے، سورج نکلے گا تو کیا ہوگا؟ دن ہوگا، اور اس وقت دن ہے معلوم ہوا سورج بھی اس وقت نکلا ہوا ہے۔ تو معلول تبھی پایا جائے گا جب علت پائی جائے، علت ہوگی تو معلول ہے، علت نہیں تو معلول بھی نہیں، اور معلول تو موجود ہے معلوم ہوا علت بھی موجود ہے، بات سمجھ میں آئی؟
اب دیکھو ایک شخص ہے، ایک جگہ سے ہجرت اسی وقت کرتا ہے کہ جب وہاں کے رہنے والوں کے ساتھ اس کی محبت ختم ہو جائے، جب محبت ختم ہو جائے گی تو پھر وہ کیا کرے گا وہاں سے؟ ہجرت کرے گا۔ تو یہ ہجرت کرنا معلول ہے اور محبت کا ختم ہونا یہ علت ہے، محبت ختم ہوگی تو وہاں سے کیا کر جائے گا؟ ہجرت کر جائے گا، محبت ختم نہیں ہوگی تو ہجرت نہیں کرے گا بلکہ وہیں پر رہے گا۔ علت کیا ہوئی مولانا؟ محبت کا ختم ہونا، اور معلول کیا ہے؟ ہجرت کرنا۔ اچھی طرح سمجھ لو بھئی، علت یہاں پر کیا ہے؟ محبت کا ختم ہونا، اور معلول کیا ہے؟ ہجرت کرنا۔ تو کبھی کبھار مسند الیہ کو اسمِ موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے پہلی بات، دوسری بات: اس کے ذریعے آنے والی خبر کی جنس کی اور نوع کی طرف کیا کر دیا جاتا ہے؟ اشارہ کر دیا جاتا ہے، اور پھر اس اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے تحقیقِ خبر کے لیے، کس کے لیے؟ تحقیقِ خبر کے لیے۔
تحقیقِ خبر کے لیے اس اس طرح کہ مولانا یہ جو موصول تھا، اس کے صلے کے اندر معلول کو ذکر کر دیا جاتا ہے، کس کو ذکر کر دیا جاتا ہے؟ معلول کو، اور خبر میں علت کو ذکر کر دیا جاتا ہے، تو جب معلول پایا جا رہا ہے معلوم ہوا علت بھی پائی جا رہی ہے۔ تو پہلے دیکھو ذریعہ بنایا تھا کس کا؟ مثلاً وہ شعر ذہن میں رکھو:
{إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ بَنَى لَنَا ... بَيْتًا دَعَائِمُهُ أَعَزُّ وَأَطْوَلُ}
جب کہا وہ ذات جس نے آسمانوں کو کیا کیا ہے؟ بلند کیا ہے، اس سے آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف کیا ہو گیا؟ اشارہ ہو گیا کہ آگے بھی کس قسم کی خبر آنے والی ہے؟ بلندی اور تعمیر کی خبر آنے والی ہے، تعمیر کی۔ اور لیکن مولانا اس بلندی اور تعمیر کے اندر شک اور انکار کی گنجائش ہو سکتی ہے، لیکن جب معلول کو ذکر کر دیا موصول کے صلے کے اندر مولانا، اب آگے خبر کے اندر انکار اور شبہے کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ جب دن نکلا ہوا ہے تو معلوم ہوا کہ سورج بھی یقیناً نکلا ہوگا۔ تو وہاں پر مولانا خبر کی نوع کی طرف تو اشارہ ہو گیا تھا لیکن کیا تھا؟ وہاں پر انکار اور شبہے کی گنجائش ہو سکتی تھی، لیکن جب معلول کو ذکر کر دیا کہ دن نکلا ہوا ہے اب سورج کے نکلنے میں کوئی شبہ ہو سکتا ہے؟ تو یہاں پر بھی اس موصول کے اندر معلول کو ذکر کر دیا جاتا ہے، اور جب معلول کو ذکر کر دیا اور خبر کیا ہے؟ علت، تو اس علت کے اندر بھی، اس خبر کے اندر بھی کوئی شک اور شبہ نہیں، تو خبر کا ہونا ثابت ہوا، تحقیقِ خبر ہو گئی، کیا ہو گئی؟ تحقیقِ خبر، جس میں کسی انکار اور شک و شبہے کی گنجائش نہیں رہی۔
تو شاعر نے یہاں پر دیکھو، میں نے بتلایا: الَّتِي اسمِ موصول ہے، ضَرَبَتْ بَيْتًا مُهَاجِرَةً بِكُوفَةِ الْجُنْدِ یہ سارا اس کا صلہ ہے، موصول صلہ مل کر إِنَّ کا اسم، اور غَالَتْ وُدَّهَا غُولٌ یہ کیا ہے؟ اس کی خبر ہے۔ تو دیکھو جب وہ ذکر کیا، سب سے پہلے خبر کو مبتدا کو کس صورت میں ذکر کیا بھئی؟ إِنَّ کے اسم کو؟ اسمِ موصول کی صورت میں ذکر کیا، ترجمہ: یقیناً ضربِ بیت کہتے ہیں مولانا خیمہ لگانا، کس کو کہتے ہیں؟ اور یہ کنایہ ہے اقامت سے، رہنا۔ وہ جو کہ اس نے اقامت اختیار کی ہے مُهَاجِرَةً اس حال میں کہ وہ کیا ہے؟ ہجرت کرنے والی ہے۔
تو یہاں پر مولانا اقامت جب اختیار کی ہے کوفۃ الجند میں، اقامت جب کہاں اختیار کی ہے؟ کوفۃ الجند میں، اس سے آنے والی خبر کی جنس کی طرف اشارہ ہو گیا کہ معلوم ہوا محبت ختم ہو گئی ہے۔ آنے والی خبر کی طرف، آگے مولانا زوالِ محبت کا ذکر ہوگا یا دوامِ محبت کا ذکر ہوگا؟ زوالِ محبت کا ذکر ہو گیا، اس کی طرف اشارہ ہو گیا، پھر مولانا اس اشارے کو ذریعہ بنایا تحقیقِ خبر کے لیے، اس اشارے کو کیا بنایا؟ تحقیقِ خبر کے لیے کہ یہاں پر کس کو ذکر کر دیا؟ ہجرت کو ذکر کر دیا، اور ہجرت معلول ہے اور محبت کا ختم ہونا علت ہے۔ بھئی جب کہا کہ وہ ہجرت کرنے والی ہے کس طرف کو؟ کوفۃ الجند، معلوم ہوا آگے آنے والی خبر کس قسم کی ہے؟ اس میں زوالِ محبت ہوگا، انقطاعِ مودت ہوگی، دوامِ محبت کا ذکر نہیں ہوگا۔ آنے والی خبر کی جنس کی طرف اشارہ ہو گیا، اور یہ مولانا زوالِ محبت جو ہے۔
مسند الیہ کو کس صورت میں ذکر کیا گیا؟ اسمِ موصول کی صورت میں، اور اس کے ذریعے کیا کیا گیا؟ آنے والی خبر کی جنس کی طرف کہ آگے معلوم ہوا کس قسم کی خبر آنے والی ہے، اس میں کس چیز کا ذکر ہوگا؟ زوالِ محبت کا ذکر ہوگا، اور پھر مولانا اس اشارے کو ذریعہ بنایا تحقیقِ خبر کا، اس اشارے کو ذریعہ بنایا تحقیقِ خبر کا کہ یہاں پر کس کو ذکر کر دیا؟ معلول کو ذکر کر دیا، کس کو ذکر کر دیا؟ جب معلول ہے اور معلول تو بغیر علت کے نہیں، اور یہاں مہاجرت تو ہے، ہجرت کرنا تو ہے، کوفۃ الجند میں قیام تو ہے، معلوم ہوا کوفۃ الجند میں قیام کیا، اپنے وطن کو چھوڑ دیا، اور وطن کو کب چھوڑا جاتا ہے جب کیا ہو جائے؟ محبت ختم ہو جائے، تو معلول جب ہے معلوم ہوا محبت کا ختم ہونا بھی قطعی اور یقینی ہے، تو یہ ہے تحقیقِ خبر بھئی، بات سمجھ میں آئی؟
فَإِنَّ فِي ضَرْبِ الْبَيْتِ بِكُوفَةِ الْجُنْدِ اس لیے کہ مولانا ضربِ بیت کہاں پر مولانا؟ گھر لگانا، خیمہ لگانا کہاں پر؟ کوفۃ الجند میں، وَالْمُهَاجَرَةِ إِلَيْهَا اور اس کی طرف ہجرت کرنے میں، کوفۃ الجند میں گھر بنانے اور خیمہ لگانے اور اس کی طرف ہجرت کرنے میں، إِيمَاءً اشارہ ہے، یہ إِنَّ کا اسمِ مؤخر ہے، اشارہ ہے: إِلَى أَنَّ طَرِيقَ بِنَاءِ الْخَبَرِ مِمَّا يُنْبِئُ عَنْ زَوَالِ الْمَحَبَّةِ وَانْقِطَاعِ الْمَوَدَّةِ، کہ بنائے خبر کا جو طریق ہے ان طریقوں میں سے ہے جو خبر دیتا ہے کس چیز کے بارے میں؟ محبت کے زوال اور انقطاعِ مودت کے بارے میں خبر دے رہا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ جب کہا بھئی کوفۃ الجند میں اقامت اختیار کی ہے اور ہجرت کی ہے، معلوم ہوا کیا ہے؟ زوالِ محبت ہے اور انقطاعِ مودت ہے۔
ثُمَّ إِنَّهُ يُحَقِّقُ زَوَالَ الْمَحَبَّةِ، پھر یہ مولانا یہ اشارہ جو ہے پختہ کر دیتا ہے، تحقیق کرتا ہے کس چیز کی؟ زوالِ محبت کی، وَيُقَرِّرُهُ اور پکا کر دیتا ہے اس کو سامع کے ذہن میں، حَتَّى كَأَنَّهُ بُرْهَانٌ عَلَيْهِ گویا کہ یہ اس پر دلیل ہے بھئی، یہ زوالِ محبت پر کیا ہے؟ دلیل ہے، کیونکہ معلول ذکر ہوا ہے اور آگے خبر کیا ہے؟ اس کی علت ہے، اور معلول موجود معلوم ہوا علت بھی موجود ہے، یہ دلیلِ لِمّی ہے، معلول سے استدلال کرنا علت پر۔
وَهَذَا مَعْنَى تَحْقِيقِ الْخَبَرِ اور یہی معنی ہے تحقیقِ خبر کا، وَهُوَ مَفْقُودٌ فِي مِثْلِ إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ اور یہ مفقود ہے یعنی موجود نہیں ہے اس قسم کی مثال میں: إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ، اس کے اندر ایسا نہیں ہے مولانا، تحقیقِ خبر نہیں، إِذْ لَيْسَ فِي رَفْعِ اللَّهِ تَعَالَى السَّمَاءَ تَحْقِيقٌ وَتَثْبِيتٌ لِبِنَائِهِ لَهُمْ بَيْتًا، اس لیے کہ نہیں ہے اللہ کے آسمان کو بلند کرنے کے اندر اس بات کی تحقیق اور تثبیت، اس بات کی تحقیق اور اس بات کا اثبات اس میں نہیں ہے کہ وہ ان کے لیے گھر بھی بنائے بھئی، کیونکہ وہاں پر ما قبل میں معلول ذکر نہیں جس سے استدلال کیا جائے کس پر؟ علت پر کہ اللہ کا آسمانوں کو بلند کرنا یہ کیا ہے؟ معلول نہیں ہے کہ ان کے لیے وہ گھر بھی بنائے ضروری نہیں اس کے ساتھ، جبکہ یہاں تو معلول ہے اور معلول تو آتا ہی تب ہے جب کیا پائی جائے؟ علت پائی جائے، اور مہاجرت موجود ہے معلوم ہوا زوالِ محبت بھی موجود ہے۔
فَظَهَرَ الْفَرْقُ بَيْنَ الْإِيمَاءِ وَتَحْقِيقِ الْخَبَرِ، پس فرق ظاہر ہو گیا ایماء کے اشارے کے اندر وَتَحْقِيقِ الْخَبَرِ اور تحقیقِ خبر دونوں میں، تو ایک میں تھا صرف آگے آنے والی خبر کی طرف اشارہ، دوسرے میں اشارے کے ساتھ ساتھ تحقیقِ خبر بھی ہے، خبر کو کیا کیا جا رہا ہے؟ پختہ کیا جا رہا ہے۔
چلیے مولانا بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔