بسم الله الرحمن الرحيم
کل مولانا ہم نے صنعتِ حسنِ تعلیل پڑھی تھی اور وہ یہ کہ دعویٰ کیا جائے کسی وصف کے لیے کسی علتِ مناسبہ کا کسی اعتبارِ لطیف کی وجہ سے اور وہ علت کیسی ہو؟ غیر حقیقی ہونی چاہیے بھئی۔
اس کے بعد غیر حقیقی ہونی چاہیے بھئی۔ اور بتلایا تھا مصنف نے آپ کو کہ یہ چار قسم پر ہے، اس لیے کہ وہ وصف جس کے لیے آپ علت لے کر آئے ہیں، وہ وصف ثابت ہو گا یا ثابت نہیں ہو گا۔ اگر وہ ثابت ہے تو پھر دو قسم پر ہے کہ اس کی علت کوئی ظاہر میں بھی معلوم ہو گی یا ظاہر میں اس کی کوئی علت معلوم نہیں ہو گی۔ اور اگر وہ وصف ثابت نہیں، تو اس صورت میں پھر جو ہے وہ ممکن بھی ہو گا یا ممکن نہیں ہو گا۔ تو چار صورتیں ہوئیں۔
تو پہلی صورت جس میں صفت ثابت ہو اور آپ اس کی علت لے کر آئے ہیں، وہاں مقصد کیا ہو گا؟ اس وصف تو ثابت ہے، وصف کے لیے علت ثابت کرنے کا ارادہ ہے آپ کو کہ علت یہ ہے اس وصف کی۔ اور وہ صورت جس کے اندر وصف ثابت ہی نہیں ہے، وہاں پر آپ علت لائے ہیں تو مقصد کیا ہو گا؟ اس وصف کو ثابت کرنا ہو گا جو کہ غیر ثابت ہے۔
جیسے مولانا پہلے کی مثال کہ وصف ثابت ہے لیکن اس کی علت بظاہر معلوم نہیں، بعد جیسے شاعر کہتا ہے کہ اے میرے ممدوح! بادل کی بادل مشابہ نہیں ہوا تیری سخاوت کے ساتھ یعنی اس کی عطایا تیری عطایا کی طرح نہیں ہیں، اسی وجہ سے اس کو بخار آیا اور یہ جو اس سے پانی ٹپک رہا ہے بادل سے، جو بارش برس رہی ہے یہ دراصل اس کو بخار کے بعد آنے والا پسینہ ہے۔ تو دیکھو بارش کا برسنا یہ ایک وصف ہے اور ثابت بھی ہے نفس الامر کے اندر، تو اس وصف کے لیے شاعر ایک علت لے کر آیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟
تو اس وصف کے لیے کیا لے کر آئے؟ علت لے کر آئے مولانا۔ تو اور دوسری صورت کہ وصف ثابت ہو اور اس کی علت معلوم ہو، بارش کی تو بظاہر علت معلوم نہیں عام لوگوں کو بھئی۔ اور دوسرا وصف وہ کہ جس کی علت معلوم ہو جیسے ”مَا بِهِ قَتْلُ أَعَادِيهِ وَلَكِنْ يَتَّقِي إِخْلَافَ مَا تَرْجُو الذِّئَابُ“، دشمن کو قتل کیا جاتا ہے یہ ایک وصف ثابت ہے نفس الامر میں بھئی، اور کس لیے قتل کیا جاتا ہے اس کی علت کیا ہے؟ اس کے ضرر سے بچنا، اس کے ضرر کو دور کرنا۔ لیکن شاعر کہتا ہے کہ میرا ممدوح دشمنوں کو اس لیے قتل نہیں کرتا بلکہ وہ اس لیے قتل کرتا ہے کہ اس کی سخاوت کے چرچے ہیں تو وہ جنگ کے لیے جب نکلتا ہے تو درندے اور بھیڑیے بھی اس سے اپنی امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں کہ یہ اب ہمیں گوشت خوب کھانے کو ملے گا کیونکہ یہ اپنے دشمنوں کو قتل کرے گا۔ تو دراصل یہ جو جنگ کے اندر دشمنوں کو قتل کرتا ہے صرف اس لیے کرتا ہے کہ کہیں ان کی امیدیں جو مجھ سے وابستہ ہیں ان کے خلاف نہ ہو جائے۔ تو دیکھو اب یہ قتلِ عدو جو ہے وہ وصف ثابت ہے اور لیکن حقیقتاً اس کی علت دفعِ مضرت ہے لیکن یہاں پر کیا شاعر نے ذکر کی؟ کہ درندوں کی امیدوں کے خلاف نہ ہو جائے اس لیے بھئی۔
تیسری صورت کیا تیسری صورت تھی مولانا کہ وصف غیر ثابت ہو اور پھر وہ ممکن ہو گا یا ممکن نہیں ہو گا۔ اگر ممکن ہے جیسے مثال کے طور پر یہ شعر تھا: ”يَا وَاشِيًا حَسُنَتْ فِينَا إِسَاءَتُهُ نَجَّى حِذَارُكَ إِنْسَانِي مِنَ الْغَرَقِ“ بھئی، اے چغل ایسے چغل خوری کرنے والے کہ ہمارے اندر اس کی برائی اچھی ہوئی، ہمارے لیے مفید ہوئی، نجات دے دی تجھ سے ڈرتے رہنے نے میری آنکھ کی پتلی کو غرق ہونے سے۔ یعنی اے چغل خور! تیری چغل خوری کی وجہ سے میری آنکھیں نابینا ہونے سے کیا ہوئیں؟ بچ گئیں۔ تو اس شعر کے اندر دیکھو اب ایک وصف وصف ہے اور وہ وصف کیا ہے؟ چغل خور کی چغل خوری کا اچھا ہونا۔ اب یہ وصف ثابت نہیں لیکن ممکن تو ہے، ممکن چغل خور کی چغل خوری کا اچھا ہونا ممکن ہے، اور اس کی علت کیا بیان کی مولانا اچھا ہونے کی؟ چغل خور کی چغل خوری کے اچھا ہونے کی کیا علت بیان کی کہ اس کی وجہ سے میری آنکھیں اندھی ہونے سے بچ گئی ہیں۔
اور تیسری کہ صفت ممکن ہی نہ ہو جیسے ”لَوْ لَمْ تَكُنْ نِيَّةُ الْجَوْزَاءِ خِدْمَتَهُ لَمَا رَأَيْتَ عَلَيْهَا عِقْدَ مُنْتَطِقِ“، اگر جوزا کی نیت میرے ممدوح کی خدمت کی نہ ہوتی تو تجھے اس پر کمربند کا ہار دکھائی نہ دیتا بھئی۔ تو یہاں پر دیکھو جوزا نے چونکہ ممدوح کی خدمت کی نیت کی ہے اس لیے اس پر کیا دکھائی دیتا ہے؟ کمربند کا ہار، کمربند اس پر دکھائی دیتا ہے۔ تو یہاں پر جوزا کا ممدوح کی خدمت کی نیت کرنا یہ ہے صفت، اور اس کے لیے علت کیا بیان کی ہے؟ کمربند کا باندھنا، یہ علت۔ اس پر علامہ تفتازانی نے اعتراض کیا بھئی کہ بھئی یہ بات تو بظاہر بنتی نہیں، اس لیے کہ یہاں ”لَوْ“ آیا ہے، اور ”لَوْ“ میں ضابطہ یہ ہے لغت کے اندر اہل لغت اس کو اس طرح پر استعمال کرتے ہیں کہ شرط علت ہوتی ہے اور جزا کیا ہوتا ہے؟ معلول۔ اور آپ جو تقریر کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ شرط کو معلول بنا رہے ہیں اور جزا کو کیا کر رہے ہیں؟ علت بنا رہے ہیں۔ تو بعض علماء نے پھر اس کا جواب دینے کی کوشش کی اور انہوں نے کہا کہ یہاں پر جو کمربند مراد ہے وہ حقیقی کمربند مراد ہے، تو حقیقی کمربند یہ ایسا وصف ہے جو ثابت نہیں۔ جوزا نے حقیقی کمربند باندھا ہے؟ اس نے حقیقی کمربند تو یہ ایسا وصف ہے جو ثابت نہیں اور ممکن بھی نہیں۔ اور اس کے لیے وہ علت لے کر آئے ہیں کہ یہ کمربند ہمیں حقیقی کمربند جو ہے جوزا پر کس لیے ہے؟ کہ وہ ممدوح کی خدمت کرنا چاہتی ہے، جوزا ممدوح کی خدمت کرنا چاہتی ہے۔ تو یہ اس پر علامہ تفتازانی نے اس جواب کو رد کیا کہ نہیں بھئی، یہ تو مصنف کی صریح عبارت کے خلاف ہے جو انہوں نے ایضاح میں ذکر کی، اس لیے کہ ایضاح جو انہوں نے تلخیص کی شرح لکھی اس میں خدمت کی نیت کو معلول بنایا اور اس پر کمربند کے دکھائی دینے کو کیا بنایا؟ علت بنایا، اور آپ کیا کر رہے ہیں؟ نیت کو علت بنا رہے ہیں اور کمربند کے دکھائی دینے کو معلول بنا رہے ہیں، تو بات پھر بھی نہیں بنی۔ زیادہ کہتے ہیں شعر کے مصنف نے جو بات کی اس کے زیادہ قریب یہ ہے مولانا کہ ”لَوْ“ کو یہاں استدلال کے لیے مان لیا جائے پھر بات بن جاتی ہے۔ استدلال کے لیے ”لَوْ“ کیسے آتا ہے مولانا؟ ”لَوْ“ آتا ہے انتفائے اول کے لیے بسببِ انتفائے ثانی کے، جیسے اس آیت کے اندر ہے: ”لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا“، اگر اس زمین اور آسمان میں اللہ کے علاوہ اور معبود ہوتے تو ان کا نظام خراب ہو جاتا۔ تو یہاں دیکھو نظام کا خراب نہ ہونا یہ دلیل ہے کس بات کی؟ کہ زمین اور آسمان میں اور آلہہ نہیں ہیں۔ تو دیکھو اول جو ہے وہ دعویٰ ہوا اور ثانی کیا ہوئی؟ اس کی دلیل ہوئی۔ تو یعنی ثانی اول ثانی جو ہے وہ اول کے لیے علت ہوئی، کیا ہوئی؟ علت ہوئی، تو علت بمعنیٰ دلیل کے ہے، کس معنیٰ میں ہے؟ دلیل کے ہے۔ تو کہتے ہیں اب اس صورت میں جوزا نے چونکہ خدمت کی نیت کی ہے اور اس کی دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں اس پر ہمیں کمربند کا دکھائی دینا۔ کمربند ہمیں دکھائی دیتا ہے یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس نے کیا ارادہ کر رکھا ہے؟ ممدوح کی خدمت کی، تو کہتے ہیں اب مولانا بات موافق ہو گئی اس کے جو مصنف نے کس میں ذکر کی ہے؟ ایضاح کے اندر ذکر کی ہے۔
یہ تو تھا جس میں مولانا دعویٰ تھا اور اصرار تھا، کہتے ہیں ملحق بہ حسنِ تعلیل جو ہے وہ ہے جس کی بناء شک پر رکھی جائے۔ اس کو ملحق قرار دیا اس لیے کہ اس کی بناء شک پر ہوتی ہے جبکہ ابھی تک جو مثالیں چل رہی تھیں ان میں شک کا اظہار نہیں تھا بلکہ باقاعدہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ اس وصف کی یہ علت ہے۔ شاعر کہتا ہے: ”كَأَنَّ السَّحَابَ الْغُرَّ غَيَّبْنَ تَحْتَهَا حَبِيبًا فَمَا تَرْقَى لَهُنَّ مَدَامِعُ“ کہ گویا سفید بادلوں نے، بارش برسانے والے بادلوں نے غائب پایا ہے یا چھپا دیا ہے اس اونچی زمین کے نیچے محبوب کو تو ان کے آنسو تھم نہیں رہے، تو یہاں پر دیکھو نزولِ مطر کے لیے علت کیا بیان کی؟ محبوب کا گم پانا۔ محبوب کو گم پانا یہ علت بیان کی کس کے لیے؟ بارش کے نازل ہونے کے لیے، اور یہ علت غیر حقیقی ہے، اور شاعر نے ”كَأَنَّ“ کا لفظ استعمال کیا، گویا کہ ایسا ہے، تو شک والی بات کی مولانا، تو یہ مولانا حسنِ تعلیل نہیں بلکہ ملحق بہ حسنِ تعلیل ہے۔
اور اس کے بعد صنعتِ تفریع پڑھی تھی، صنعتِ تفریع اس کو کہتے ہیں کہ ایک چیز کے ایک متعلق کے لیے حکم ثابت کیا جائے بعد اس کے کہ وہ حکم اس کے ایک اور متعلق کے لیے بھی آپ ثابت کر چکے ہیں، یعنی ایک چیز کے دو متعلق کے لیے ایک ہی حکم کو باری باری ثابت کرنا بھئی۔ جیسے بادشاہوں کے دو جز ہیں، دو متعلق ہیں مولانا: ایک خون ہے، ایک عقل ہے۔ تو دونوں کے لیے شاعر نے کیا ثابت کیا؟ شفاء ثابت کی کہ جیسے بادشاہوں کا خون شفاء دیتا ہے کس چیز سے؟ کَلَب کی بیماری سے، اور جیسے بادشاہوں کی عقل شفاء دیتی ہے کس چیز سے؟ جہالت کی بیماری سے، اسی طرح بادشاہوں کا خون شفاء دیتا ہے کس سے؟ کَلَب کی، تو دیکھو خون بھی شافی خون کو بھی شفاء دینے والا بتلایا اور ان کے ان کی عقلوں کو بھی شفاء دینے والا بتلایا اور ان کے خون کو بھی شفاء۔
”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ“، اور قسمِ معنوی میں سے ہے مولانا تاكيد المدح بما يشبه الذم بھئی۔ تقریر میں نے اس کی آپ کو لکھوا دی تھی مولانا۔ ”تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ“ اس کو کہتے ہیں مولانا کہ عبارت کے اندر تاکید یا مدح کے اندر، مدح کے اندر تاکید اور مبالغہ پیدا کیا جائے۔ ایسی عبارت لائی جائے مولانا کہ بظاہر یوں محسوس ہو کہ مذمت ہو رہی ہے لیکن جب آپ غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو بے انتہا کیا ہو رہی ہے؟ مدح ہو رہی ہے۔ اس کے دو طریقے ہیں مولانا، دو قسمیں ہیں۔
اول قسم یہ ہے کہ آپ ممدوح سے صفتِ ذم منفی کریں۔ صفتِ ذم کیا کریں؟ منفی کریں۔ جیسے وہ شعر کے اندر آیا تھا ”لَا عَيْبَ فِيهِمْ“ ان کے اندر کوئی عیب نہیں ہے، تو صفتِ ذم کی کیا کر دی؟ نفی کر دی۔ پھر اس کے بعد مولانا استثناء کیا جائے اور استثناء اس سے کیا جائے صفتِ مدح کا۔ کس کا استثناء کیا جائے؟ صفتِ مدح کا، تو گویا تقدیراً صفتِ مدح کو بھی کس میں داخل کر دیا گیا؟ صفتِ ذم کے اندر۔ شاعر کہتے ہیں ان میں کوئی عیب نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کی تلواروں میں دندانے پڑے ہوئے ہیں جنگوں میں لڑنے کی وجہ سے۔ تو دیکھو شاعر نے پہلے صفتِ ذم منفی کی، ان میں کوئی عیب نہیں ہے، اس کے بعد کیا کہا؟ ”إِلَّا“ مگر ایک بات ہے۔ آپ نے جب غور کیا آپ تو اس کے پیچھے سارے عیوب کی نفی کر دی، اب استثناء لے کر آئے شاعر اور استثناء کے اندر ہے اصل میں مستثنیٰ متصل، استثناء کون سا ہونا چاہیے؟ متصل، تو استثناء متصل کس کو کہتے ہیں کہ متعدد سے ایک چیز کو خارج کیا جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے آپ کہتے ہیں میرے پاس درجہ خامسہ والے آئے لیکن زید نہیں آیا، تو زید اگر ان میں پڑھتا ہے تو جب آپ نے کہا تھا کہ میرے پاس درجہ خامسہ والے آئے تو زید بھی کیا تھا ان میں شامل تھا، لیکن پھر آپ نے اس زید کو ”إِلَّا“ کے ذریعے کیا کر دیا؟ نکال دیا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے جب شاعر نے کہا ان میں کوئی عیب نہیں ہے، تو تمام عیوب کی نفی کر دی اور پھر اس کے بعد ”إِلَّا“ لے کر آیا۔ جب ”إِلَّا“ لے کر آیا تو اب وہم پڑا مولانا، ذہن نے کہا کہ اب مستثنیٰ متصل لے کر آئے گا مستثنیٰ متصل ہو گا، تمام عیوب کی نفی کر دی ہے تو ان میں سے ایک عیب کو نکال کر اب ثابت کر دے گا۔ تمام عیوب کی نفی اور ایک عیب کا اثبات ہو گا انہی عیوب میں سے، تو پہلے نفی ہوئی ہے اور ”إِلَّا“ کے بعد کیا آ جائے گا؟ اثبات آ جائے گا۔ تو چنانچہ شاعر نے کہا کہ ایک عیب ہے ان کے اندر کہ ان کی تلواروں میں جنگوں میں لڑنے کی وجہ سے کیا پڑ چکے ہیں؟ دندانے۔ تو حالانکہ یہ صفتِ مدح ہے اس لیے کہ تلواروں میں دندانے انہی لوگوں کے پڑتے ہیں کہ جو جنگوں میں حصہ لیتے ہوں، لڑتے ہوں، بہادر ہوں مولانا۔ اور وہ شخص جو لڑتا ہی نہیں ہے اس کی تلوار تو بڑی نئی اور چمکدار ہو گی لیکن یہ کوئی کمال نہیں ہے۔ تو دیکھو تو شاعر نے کہا مگر یہ کہ ان کی تلواروں میں دندانے پڑ چکے ہیں اور تو بظاہر یوں محسوس ہوا یہ مستثنیٰ متصل ہے اور پہلے تمام عیوب کی نفی ہوئی تھی اب ایک عیب کا کیا ہو رہا ہے؟ اثبات ہو رہا ہے، لیکن ”إِلَّا“ کے بعد شاعر یہ جو لے کر آیا ہے یہ تو مدح ہے، تو گویا اس نے پہلے تقدیراً اس کو کس میں داخل کر دیا تھا؟ عیبوں کے اندر داخل کر دیا تھا اور یہ عیبوں میں سے ہے؟ نہیں، بلکہ یہ تو کمالِ شجاعت کی علامت ہے، گویا شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں نے تو کہا ان میں کوئی عیب نہیں ہے ”إِلَّا“ مگر، اس کے بعد میں شرقاً غرباً اوپر نیچے ہر طرف میں نے دوڑ لگائی کوئی ایک عیب مجھے مل جائے لیکن مجھے کوئی ایک عیب بھی نہیں ملا تو مجبورا پھر میں نے کیا ذکر کر دی؟ صفتِ مدح ذکر کر دی، تو اب مولانا یہ صفتِ مدح ذکر کر دی تو یہ مستثنیٰ منقطع ہوا۔ کیا ہوا مستثنیٰ؟ منقطع، استثناء میں تو اصل مستثنیٰ متصل ہے لیکن اس قسم کے اندر اصل کیا بن گیا مستثنیٰ؟ منقطع، اس لیے کہ مدح عیب کے اندر داخل ہے؟ نہیں، میں کہتا ہوں میرے پاس درجہ خامسہ والے آئے مگر زید نہیں آیا، بھئی زید تو پڑھتا ہی نہیں درجہ خامسہ میں وہ تو پڑھتا ہی کس میں ہے درجہ رابعہ میں، تو یہ تو مستثنیٰ منقطع ہے جب میں نے کہا خامسہ والے آئے تو وہم پڑا تھا کہ زید بھی آیا ہو گا؟ نہیں، زید تو پہلے ہی نہیں تھا شامل مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اب یہاں پر بھی جب ”إِلَّا“ کے بعد مدح ذکر کی اور پہلے تو تھی کیا عیب کا ذکر تھا تو یہ مدح اس میں سے اخراج ہوا یا یہ پہلے ہی ان میں داخل نہیں تھی؟ یہ تو پہلے ہی ان میں داخل نہیں۔ تو مستثنیٰ میں اصل تو مستثنیٰ متصل ہے لیکن اس قسم کے اندر اس میں اصل کیا ہے؟ مستثنیٰ منقطع ہے۔
تو اس نے تو گویا یہ دعویٰ الشیء ببینۃ ہوا۔ دعویٰ الشیء ببینۃ، دعویٰ بھی ہے اور ساتھ دلیل بھی ہے، وہ اس طرح مولانا کہ شاعر نے کہا کہ میرے ممدوح میں کوئی عیب نہیں ہے اور کوئی عیب نہیں ہے صرف یہ کہ ان کی تلواروں میں دندانے پڑے ہوئے ہیں، یہ عیب ہے اور یہ تلواروں میں دندانوں کا پڑنا تو شجاعت ہے، یہ تو شجاعت کی علامت ہے بلکہ کمالِ شجاعت ہے، اور یہ مولانا اور شجاعت تو کبھی اس کا عیب ہونا محال ہے، شجاعت عیب ہو سکتی ہے؟ نہیں، تو شجاعت کا عیب ہونا محال، تو شاعر نے گویا یہ کہا کہ میرے ممدوح میں کوئی عیب اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ شجاعت عیب ہو، اور شجاعت کا عیب ہونا تو محال، ثابت ہوا کہ میرے ممدوح میں کسی عیب کا ہونا بھی محال۔ تو شاعر نے اپنے ممدوح کے اندر عیب کے ہونے کو معلق کر دیا شجاعت کے عیب ہونے کے ساتھ یعنی ایک محال چیز کے ساتھ، اور معلق بالlocal محال بھی کیا ہوتا ہے؟ محال ہوتا ہے، جیسے آپ کہتے ہیں کہ میں یہ کام اس وقت کروں گا ”حَتَّى يَبْيَضَّ الْقَارُ“ یہاں تک کہ تارکول سفید ہو جائے۔ تارکول جانتے ہو بھئی؟ جس کو لک کہتے ہیں آپ بھئی، یہ سڑکیں جس سے بنتی ہیں۔ تو شاعر کیا کہتا ہے؟ مثلاً آپ کہتے ہیں کہ میں یہ کام اس وقت کروں گا جب تارکول سفید ہو جائے اور تارکول کا سفید ہونا تو محال، معلوم ہوا آپ کا یہ کام کرنا بھی، یا جیسے آپ کہتے ہیں کہ میں یہ کام اس وقت کروں گا جب اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر جائے گا، تو آپ نے اپنے کام کے کرنے کو معلق کر دیا امرِ محال کے ساتھ، اور اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا محال، معلوم ہوا آپ کا کام کرنا بھی محال ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ دعویٰ الشیء ببینۃ ہوا مولانا، دعویٰ کیا کہ میرے ممدوح میں کوئی عیب نہیں اور ساتھ دلیل بھی ذکر کر دی کہ میرے ممدوح میں عیب اسی وقت آ سکتا ہے جبکہ شجاعت کیا ہو؟ عیب ہو، اور شجاعت کا عیب ہونا محال، معلوم ہوا میرے ممدوح میں عیب کا ہونا بھی محال۔ تو مدح میں تاکید آئی کس کی وجہ سے؟ دعویٰ الشیء ببینۃ سے۔ سمجھ میں آیا؟ یہ تو ایک وجہ۔
دوسری مولانا تاکید اس کے اندر آئی کہ جب اثباتِ مدح بعد المدح ہوا مولانا۔ ”لَا عَيْبَ فِيهِمْ“ یہ کیا ہے؟ مدح ہے یا مذمت ہے؟ مدح ہے۔ تو دیکھو استثناء سے پہلے بھی مدح کہ صفتِ ذامہ کی نفی کر دی، اور استثناء کے بعد بھی کس کا ذکر آیا؟ شجاعت کا تذکرہ ہے وہ بھی کیا ہے؟ مدح۔ تو اثباتِ مدح ہوا مستثنیٰ منہ کے اندر بھی مدح ذکر ہوئی اور مستثنیٰ کے اندر بھی کیا ذکر ہوئی؟ مدح، تو ”إِلَّا“ سے پہلے بھی مدح، ”إِلَّا“ کے بعد بھی مدح، تو اثباتِ مدح بعد المدح، ایک مدح کے بعد دوسری مدح کا اثبات کیا تو یہ کیا آ گیا اس کے اندر؟ تاکید آ گئی، تو تاکید دو وجہ سے آئی قسم اول کے اندر مولانا کہ پہلے دعویٰ الشیء ببینۃ کے ساتھ کہ ممدوح کے اندر عیب کے ہونے کو معلق کیا محال کے ساتھ اور جو معلق بال محال ہوتا ہے وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ محال، معلوم ہوا ممدوح کے اندر عیب کا ہونا بھی محال۔ دوسرا مولانا اثباتِ مدح بعد المدح ہوا کیونکہ پہلے جب جملہ عیوب کی نفی کی یہ بھی مدح، اور پھر اس کے بعد ”إِلَّا“ کے بعد پھر مدح کا ذکر وصف ذکر کیا تو پھر یہ بھی مدح، تو اثباتِ مدح بعد المدح، سمجھ میں آیا بھئی؟
اب دیکھو بھئی جلدی جلدی ذرا۔
”تَأْكِيدُ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ وَهُوَ ضَرْبَانِ“، یہ دو قسم پر ہے، ”أَفْضَلُهُمَا“ ان میں سے افضل یہ قسم ہے، پہلی قسم جو اب یہ میں نے ابھی تقریر کی یہ ساری، ”أَنْ يُسْتَثْنَى مِنْ صِفَةِ ذَمٍّ مَنْفِيَّةٍ عَنِ الشَّيْءِ“ کہ استثناء کیا جائے کس سے؟ صفتِ ذم، ایسی صفتِ ذم جو کیا ہو منفی عن الشیء کسی شئے سے جس کی نفی کی گئی ہو، اس سے استثناء کیا جائے کس چیز کا؟ ”صِفَةُ مَدْحٍ“ صفتِ مدح کا استثناء کیا جائے ”لِذَلِكَ الشَّيْءِ“ اس چیز کی صفتِ مدح کا، ”بِتَقْدِيرِ دُخُولِهَا فِيهَا“ أَيْ بِتَقْدِيرِ دُخُولِ صِفَةِ الْمَدْحِ فِي صِفَةِ الذَّمِّ کہ کیا فرض کر لیا گیا کہ صفتِ مدح داخل ہے کس کے اندر؟ صفتِ ذم میں۔ ”إِلَّا“ جب لایا گیا تو گویا اس کے بعد صفتِ مدح ذکر کی تو گویا تقدیراً پہلے اس کو صفتِ ذم میں داخل کیا۔ ”كَقَوْلِهِ“ جیسے شاعر کہتا ہے:
”وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ غَيْرَ أَنَّ سُيُوفَهُمْ ... بِهِنَّ فُلُولٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ“
کوئی عیب نہیں ہے ان میں سوائے اس کے کہ ان کی جو تلواریں ہیں ”بِهِنَّ فُلُولٌ“ جَمْعُ فَلٍّ، فلول جمع ہے فَلّ کی، دندانے کو کہتے ہیں، ”وَهُوَ الْكَسْرُ فِي حَدِّ السَّيْفِ“ تلوار کی دھار میں جو ٹوٹن واقع ہو اس کا نام ہے، ”مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ“، قراع کا معنی مولانا مقابلہ کرنا، ٹکرانا، لڑنا۔ کتائب کتیبہ کی جمع ہے لشکر کو کہتے ہیں مولانا۔ ”مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ أَيْ مُضَارَبَةِ الْجُيُوشِ“ لشکروں کے ٹکرانے کی وجہ سے، جیوش لشکر، مضاربہ آپس میں لڑنا، لشکروں کے لڑنے کی وجہ سے ان کی تلواروں میں دندانے ہیں، ”أَيْ إِنْ كَانَ فُلُولُ السَّيْفِ عَيْبًا فَأَثْبَتَ شَيْئًا مِنْهُ أَيْ مِنَ الْعَيْبِ عَلَى تَقْدِيرِ كَوْنِهِ مِنْهُ أَيْ كَوْنِ فُلُولِ السَّيْفِ مِنَ الْعَيْبِ“، فلولِ سیف کا کس میں سے ہونا؟ عیب میں سے ہونے کی تقدیر پر، ”وَهُوَ أَيْ هَذَا التَّقْدِيرُ“ یعنی یہ جو تقدیر ہے فرض کرنا، کیا تقدیر کیا فرض کرنا ہے؟ ”وَهُوَ كَوْنُ الْفُلُولِ مِنَ الْعَيْبِ“ یعنی فلول کا کیا ہونا؟ عیب ہونا، ”مُحَالٌ“ یہ کیا ہے؟ محال ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ مُحَال لفظ ہے مولانا، مُحَال۔ سمجھ میں آیا؟ مُحَال۔ ہاں اردو میں مَحال پڑھتے ہیں اس کو۔ اردو میں اب یہ آ کر کیا بن گیا ہے؟ مَحال بن گیا ہے، لغت بدل گئی، لفظ میں تبدیلی آ گئی، اب یہ اصرار کرنا کہ اردو میں بھی اس کو مُحَال پڑھا جائے بلکہ اس کو اردو میں کیا پڑھا جائے گا؟ مَحال پڑھا جائے گا لغت میں، سمجھ میں آیا بھئی؟
”لِأَنَّهُ كِنَايَةٌ عَنْ كَمَالِ الشَّجَاعَةِ“ اس لیے کہ تلوار میں دندانے جو ہیں یہ تو کنایہ ہے کمالِ شجاعت سے، ”فَهُوَ إِثْبَاتُ شَيْءٍ مِنَ الْعَيْبِ عَلَى هَذَا التَّقْدِيرِ فِي الْمَعْنَى تَعْلِيقٌ بِالْمُحَالِ“ تو یہ ثابت کرنا ایک چیز اس عیب میں سے ایک چیز کا ثابت کرنا اس تقدیر پر فی المعنی تعلیق بالمحال ہے، ”كَمَا يُقَالُ“ جیسے یوں کہا جائے ”حَتَّى يَبْيَضَّ الْقَارُ“ یہاں تک کہ سفید ہو جائے تارکول، ”وَحَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ“ یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ سوئی کے ناکے میں۔ سم کہتے ہیں چھوٹا سوراخ، ناکہ سوئی کا، خیاط سوئی مولانا۔ ”فَالتَّأْكِيدُ فِيهِ“ تاکید جو ہے مولانا اس قسم کے اندر ”أَيْ فِي هَذَا الضَّرْبِ مِنْ جِهَةِ أَنَّهُ كَدَعْوَى الشَّيْءِ بِبَيِّنَةٍ“ اس جہت سے آئی گویا کہ یہ دعویٰ ہے اس چیز کا ببینہ ساتھ اس کے دلیل کے، ”لِأَنَّهُ عَلَّقَ نَقِيضَ الْمَطْلُوبِ“ اس لیے کہ شاعر نے معلق کر دیا مطلوب کی نقیض کو، مطلوب کی نقیض کو، ”وَهُوَ إِثْبَاتُ شَيْءٍ مِنَ الْعَيْبِ بِالْمُحَالِ“ اور وہ عیب میں سے کسی چیز کا ثابت کرنا اس کو کس کے ساتھ معلق کر دیا؟ محال کے ساتھ۔ مطلوب کیا آگے آیا جو ”وَهُوَ إِثْبَاتُ شَيْءٍ مِنَ الْعَيْبِ“ یہ کیا ہے؟ یہ ہے نقیضِ مطلوب۔ شاعر نے معلق کر دیا اس کو یعنی عیب میں سے کسی چیز کو ممدوح کے لیے کہتے ہیں عیب کا اثبات اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب یہ کام ہو، اور یہ کام تو ہے محال، تو اس کام کو معلق کر دیا کس سے؟ یہی بات کر رہے ہیں کہ ممدوح کے لیے عیب کے اثبات کو معلق کر دیا محال کے ساتھ، ”وَالْمُعَلَّقُ بِالْمُحَالِ مُحَالٌ“ اور معلق بالمحال بھی کیا ہوتا ہے؟ محال ہوتا ہے، ”فَعَدَمُ الْعَيْبِ مُتَحَقِّقٌ“ پس عیب کا نہ ہونا ثابت ہو گیا اس دلیل سے۔
”وَمِنْ جِهَةِ“ یہ تو ایک سبب تھا تاکید آئی مولانا، دوسری وجہ: ”وَمِنْ جِهَةِ أَنَّ الْأَصْلَ فِي مُطْلَقِ الِاسْتِثْنَاءِ هُوَ الِاتِّصَالُ“ کہ مطلق استثناء میں اصل کیا ہے؟ اتصال ہے، مستثنیٰ متصل ہونا۔ لیکن اس قسم کے اندر اصل کیا ہے؟ منقطع ہونا۔ تو اصل تو ہے اتصال تو جب شاعر نے کہا ”لَا عَيْبَ فِيهِمْ إِلَّا“ تو اس ”إِلَّا“ سے وہم فورا پڑا کہ مستثنیٰ متصل آنے والا ہے کیونکہ مستثنیٰ میں اصل کیا ہے؟ متصل۔ لیکن بعد میں پتہ چلا یہ تو مستثنیٰ منقطع ہے۔ ”وَالِاتِّصَالُ أَيْ كَوْنُ الْمُسْتَثْنَى مِنْهُ بِحَيْثُ يَدْخُلُ فِيهِ الْمُسْتَثْنَى عَلَى تَقْدِيرِ السُّكُوتِ عَنْهُ“ یعنی ہونا مستثنیٰ منہ کا اس طور پر کہ اس میں مستثنیٰ متصل ہونے کا بتلا رہے ہیں بھئی، مستثنیٰ متصل کیا ہے؟ کہتے ہیں یعنی مستثنیٰ منہ کا اس طور پر ہونا کہ مستثنیٰ بھی اس میں داخل ہو جائے علی تقدیر السکوت عنہ جبکہ ہم استثناء سے ساکت ہو جائیں۔ اس سے میں کہتا ہوں میرے پاس درجہ خامسہ والے آئے، مثلا زید بھی درجہ خامسہ میں ہے، تو زید داخل ہوا یا نہیں ہوا مولانا؟ تو اس کو کہ اگر استثناء نہ ذکر کیا جائے تو مستثنیٰ بھی کس میں داخل ہوتا ہے؟ یہ مستثنیٰ متصل ہے۔ ”وَذَلِكَ لِمَا تَقَرَّرَ فِي مَوْضِعِهِ أَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ الْمُنْقَطِعَ مَجَازٌ“ اور یہ اس وجہ سے مولانا کہ وہ جو ثابت ہو چکا ہے اپنی جگہ پر کہ مستثنیٰ منقطع کیا ہے؟ مجاز ہے، مستثنیٰ منقطع مجاز ہے مولانا، وہ تو دراصل استثناء ہے ہی نہیں، استثناء تو کہتے ہیں ایک چیز جو پہلے داخل تھی اس کو خارج کیا جائے، اور اب مثلا زید آپ کے درجے میں پڑھتا ہی نہیں میں کہتا ہوں میرے پاس درجہ خامسہ والے آئے لیکن زید نہیں آیا، یہ مستثنیٰ منقطع ہے لیکن یہ مجازاً استثناء ہے، کیوں؟ کیوں اس میں میں نے اخراج کیا زید کا؟ زید تو پہلے ہی آپ میں داخل نہیں تھا تو اس کو مستثنیٰ کس اعتبار سے؟ مجازاً کہا جاتا ہے، حقیقت میں تو یہ مستثنیٰ ہے ہی نہیں۔
”وَإِذَا كَانَ الْأَصْلُ فِي الِاسْتِثْنَاءِ الِاتِّصَالَ“ پس جب اصل استثناء کے اندر کیا ہے؟ اتصال ہے، ”فَذِكْرُ أَدَاتِهِ قَبْلَ ذِكْرِ مَا بَعْدَهَا“ پس ذکر کرنا اداتِ استثناء کا ”إِلَّا“ کا ذکر کیا۔ مولانا میں نے کہا میرے پاس درجہ خامسہ والے آئے مگر جب میں نے مگر کہا آپ فورا یہ سمجھے کہ اب درجہ خامسہ والوں میں سے کسی ایک کو نکال کر اس کے لیے نہ آنے کو ثابت کیا جائے گا۔ تو یہاں بھی اسی طرح جب شاعر نے کہا اور شاعر نے کہا ان میں کوئی عیب نہیں اور کہا ”إِلَّا“ مگر، آپ فورا کیا سمجھے؟ اب کوئی عیب ثابت ہو گا، لیکن اس نے کیا کیا آگے عیب نہیں بلکہ پھر کیا لے آیا؟ مدح۔ ”فَذِكْرُ أَدَاتِهِ قَبْلَ ذِكْرِ مَا بَعْدَهَا يُوهِمُ إِخْرَاجَ شَيْءٍ“ پس ذکر کرنا اداتِ استثناء کا مابعد کے ذکر کرنے سے پہلے یعنی مستثنیٰ، یعنی مستثنیٰ کے ذکر کرنے سے پہلے ابھی صرف اداتِ استثناء جب ذکر ہوئے تھے، ”يُوهِمُ“ اس نے وہم ڈالا کس چیز کا؟ ”إِخْرَاجَ شَيْءٍ مِمَّا قَبْلَهَا“ کہ ایک چیز کو نکالا جائے گا اور وہ کیا ہے مولانا؟ مستثنیٰ کو، ”مِمَّا قَبْلَهَا“ کس سے؟ ماقبل سے، یعنی مما قبل الاداة، ماقبل ادات سے ماقبل جو ہے اور وہ مستثنیٰ منہ ہے یعنی اس سے ایک چیز کو نکالا جائے گا۔ ”فَإِذَا وَلِيَهَا صِفَةُ مَدْحٍ“ اور جب مل گئی ادات کے ساتھ صفتِ مدح، ”وَتَحَوَّلَ الِاسْتِثْنَاءُ مِنَ الِاتِّصَالِ إِلَى الِانْقِطَاعِ“ اور پھر گیا استثناء اتصال سے کس کی طرف؟ انقطاع کی طرف، ”جَاءَتِ التَّأْكِيدُ“ تو کیا آ گئی؟ تاکید آ گئی، ”لِمَا فِيهِ مِنَ الْمَدْحِ عَلَى الْمَدْحِ“ اس میں اس لیے کہ اس میں مدح علی المدح ہے، ”إِلَّا“ سے پہلے بھی مدح، ”إِلَّا“ کے بعد بھی مدح۔ تو اس میں مدح علی المدح ہونے کی وجہ سے تاکید آ گئی، ”وَلِلْإِشْعَارِ بِأَنَّهُ لَمْ يَجِدْ صِفَةَ ذَمٍّ حَتَّى يَسْتَثْنِيَهَا“ اور اس میں آ گئی اس بات کی اطلاع کی وجہ سے کہ شاعر جو ہے اس نے پائی نہیں کوئی مذمت والی صفت تاکہ وہ استثناء کرتا، ”فَاضْطُرَّ إِلَى اسْتِثْنَاءِ صِفَةِ مَدْحٍ“ تو وہ مجبور ہو گیا کہ استثناء کس کا کرے؟ صفتِ مدح کا، ”وَتَحْوِيلِ الِاسْتِثْنَاءِ إِلَى الِانْقِطَاعِ“ اور مجبور ہو گیا کہ وہ استثناء کو پھیر دے کس کی طرف؟ انقطاع کی طرف مستثنیٰ منقطع کی طرف۔
”وَالضَّرْبُ الثَّانِي“ یہ تو تھی پہلی قسم مولانا، دوسری قسم میں یاد رکھو اس میں بھی مدح کے اندر تاکید آتی ہے لیکن صرف مدح علی المدح ایک وجہ سے، اس میں دعویٰ الشیء ببینۃ نہیں ہو گا بلکہ صرف کیا ہو گا؟ اثباتِ مدح بعد المدح، حرفِ استثناء سے پہلے بھی مدح ہو گی اور حرفِ استثناء کے بعد بھی مدح ہو گی۔ ”وَالضَّرْبُ الثَّانِي مِنْ تَأْكِيدِ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ أَنْ يُثْبَتَ لِشَيْءٍ صِفَةُ مَدْحٍ“ دوسری قسم تاكيد المدح بما يشبه الذم یہ ہے کہ ثابت کیا جائے کسی چیز کے لیے صفتِ مدح کو۔ بھئی پہلی صورت کیا تھی؟ پہلی صورت میں تھا صفتِ ذم کی منفی کرتے تھے اور یہاں پر ایسا نہیں ہو گا بلکہ یہاں پر ”إِلَّا“ وغیرہ سے پہلے بھی مدح ہی ذکر ہو گی، یعنی صراحتاً مدح ذکر ہو گی پہلے تو کیا تھی کنایتاً مدح، پہلے تو کہا تھا ان میں عیب نہیں ہے اور جب عیب نہیں ہے تو مدح آ گئی، لیکن یہاں باقاعدہ وصفِ مدح کو ”إِلَّا“ سے پہلے بھی ذکر کیا جائے گا اور ”إِلَّا“ کے بعد بھی ذکر کیا جائے گا۔ ”أَنْ يُثْبَتَ لِشَيْءٍ صِفَةُ مَدْحٍ وَيُعَقَّبُ بِأَدَاةِ الِاسْتِثْنَاءِ“ کہ ثابت کیا جائے کسی چیز کے لیے صفتِ مدح کو اور عقب میں لایا جائے گا کس کے ساتھ؟ اس کے عقب میں کیا لایا جائے گا؟ اداتِ استثناء کو، ”أَيْ يُذْكَرَ عَقِيبَ إِثْبَاتِ صِفَةِ الْمَدْحِ لِذَلِكَ الشَّيْءِ أَدَاةُ اسْتِثْنَاءٍ“ ذکر کیا جائے گا مولانا اس چیز کے لیے صفتِ مدح کے اثبات کے بعد اداتِ استثناء کو۔ بھئی آپ نے کیا کیا پہلے؟ پہلے صفتِ مدح ذکر آئی، پھر استثناء آئے گا پھر کیا آئے گی؟ صفتِ مدح آئے گی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آپ نے صفتِ مدح کو ذکر کیا، اس چیز کے لیے صفتِ مدح کو ثابت کرنے کے بعد کس کو لے کر آئے؟ اداتِ استثناء کو۔ یہ معنی ”أَيْ يُذْكَرَ عَقِيبَ إِثْبَاتِ صِفَةِ الْمَدْحِ لِذَلِكَ الشَّيْءِ أَدَاةُ اسْتِثْنَاءٍ تَلِيهَا صِفَةُ مَدْحٍ أُخْرَى لَهُ“ کہ صفتِ مدح کے بعد ذکر کیا جائے اداتِ استثناء کو تلیھا ایسے اداتِ استثناء کہ اس کے ساتھ اس کی ایک اور صفتِ مدح ملی ہوئی ہو، ”أَيْ لِذَلِكَ الشَّيْءِ“ اس چیز کی صفتِ مدح۔ ”نَحْوُ قَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ جیسے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”أَنَا أَفْصَحُ الْعَرَبِ“ میں عرب میں سب سے زیادہ فصیح ہوں، ”بَيْدَ أَنِّي مِنْ قُرَيْشٍ“ حضور نے فرمایا: ”أَنَا أَفْصَحُ الْعَرَبِ“ میں عرب میں سب سے فصیح ہوں علاوہ اس کے، بید غیر کے معنی، مگر مگر یہ تو سننے والے سمجھے اب شاید کوئی عیب کسی عیب کا اثبات ہو گا۔ تو پہلے مدح کی تھی کہ میں سب سے فصیح ہوں پورے عرب میں، مگر تو اب جب مگر آیا تو کیا ذہن میں آیا؟ اب عیب کا اثبات، لیکن آگے پھر مدح آ گئی کہ میں قریش میں سے ہوں، علاوہ اس کے کہ میں تو دیکھو پھر مولانا اور قریش بھی تو کیا تھا سب سے مہذب قبیلہ تھا تو اور سب سے فصیح لوگ تھے تو مدح کے بعد پھر مدح آ گئی۔
”بَيْدَ بِمَعْنَى غَيْرٍ وَهُوَ أَدَاةُ الِاسْتِثْنَاءِ“ بید کس معنیٰ میں ہے؟ غیر، اور یہ اداتِ استثناء ہے، ”وَأَصْلُ الِاسْتِثْنَاءِ فِيهَا أَيْ فِي هَذَا الضَّرْبِ أَيْضًا أَنْ يَكُونَ مُنْقَطِعًا“ اور استثناء اصل میں اس اس قسم کے اندر بھی اصل استثناء یہ ہے کہ وہ کیا ہونا چاہیے؟ منقطع۔ پہلی قسم میں اصل استثناء کیا تھا؟ استثناء کون سا تھا؟ او ہو، پہلی قسم میں بھی اصل منقطع تھا، میں نے کہا تھا مطلقاً استثناء میں اصل کیا ہے؟ متصل ہونا، لیکن پہلی قسم کے اندر میں متصل لے کر آیا تھا یا منقطع؟ آیا تو منقطع تھا نا، تو وہ اصل اس قسم کے اندر بھی کیا ہے؟ منقطع ہی ہے بھئی۔ تو اس قسم میں بھی استثناء منقطع ہے، ”كَمَا أَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ فِي الضَّرْبِ الْأَوَّلِ مُنْقَطِعٌ“ جیسے کہ قسم اول میں استثناء کیا تھا؟ منقطع تھا، ”لِعَدَمِ دُخُولِ الْمُسْتَثْنَى فِي الْمُسْتَثْنَى مِنْهُ“ اس لیے کہ مستثنیٰ مستثنیٰ منہ میں داخل نہیں، ”وَهَذَا لَا يُنَافِي كَوْنَ الْأَصْلِ فِي مُطْلَقِ الِاسْتِثْنَاءِ هُوَ الِاتِّصَالَ“ اور یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ مطلق استثناء میں اصل کیا ہو؟ صرف ان قسموں میں اصل منقطع ہونا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ استثناء میں اصل کیا ہو؟ ہاں تو اصل مطلق استثناء میں اصل تو اتصال ہے لیکن ان قسموں میں اصل کیا ہے؟ انقطاع ہے۔
”لَكِنَّهُ أَيِ الِاسْتِثْنَاءَ الْمُنْقَطِعَ فِي هَذَا الضَّرْبِ لَمْ يُقَدَّرْ مُتَّصِلًا“ لیکن استثناء اس قسم کے اندر اس کو متصل فرض نہیں کیا گیا۔ بھئی پہلی قسم میں تو ہم کیا سمجھے تھے؟ جب ”إِلَّا“ آیا تھا اس وقت ہم کیا سمجھے تھے؟ کہ متصل آئے گا، لیکن بعد میں پتہ چلا کیا آیا؟ منقطع، اور یہاں پر ایسا وہم پڑتا ہی نہیں، تو وہاں تقدیراً مولانا صفتِ مدح کو کس میں داخل کیا تھا؟ عیب میں، اور یہاں پر ایسا نہیں۔ وجہ یہ کہ وہاں پر استثناء ممکن تھا اس لیے کہ جو صفت ماقبل میں تھی وہ عام تھی، ان میں کوئی عیب نہیں ہے مگر اب جب کوئی عیب نہیں تو سارے عیوب کی نفی ہو گئی تو مجموعہ عیوب کی نفی ہوئی تو ممکن ہے یعنی کہ ان میں سے ایک کو نکال کر ثابت کر دیا جائے؟ جی ہاں۔ تو میں کہتا ہوں میرے پاس درجہ خامسہ والے آئے مگر اب مولانا درجہ خامسہ والے ایک ہے یا سو ہیں؟ سو، تو اب ان میں سے استثناء ممکن بھی ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں میرے پاس زید میرے پاس زید آیا مگر اب استثناء ہو سکتا ہے؟ نہیں، تو سمجھ میں آیا؟ تو یہ دوسری قسم میں اس طرح ہو گا، تو پہلی قسم کے اندر مستثنیٰ منہ میں عموم تھا استثناء ممکن بھی تھا، یہاں اس قسم کے اندر مستثنیٰ منہ میں عموم ہی نہیں ہے تو یہاں پر استثناء مستثنیٰ متصل ممکن ہی نہیں ہے، اس میں سے نکال جیسے حضور نے فرمایا میں سب سے فصیح ہوں اب اس سے یہ تو مولانا ایک صفت ہے اس سے اخراج ہو سکتا ہے مولانا کسی کا؟ اس سے اخراج ممکن ہی نہیں ہے۔
لہٰذا وہاں پر مستثنیٰ کو مقدر کیا گیا تھا، فرض کیا گیا تھا کہ وہ متصل ہے اور بعد میں پتہ چلا کہ متصل نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ منقطع، اور یہاں پر اول امر سے ہی پتہ چل جائے گا کہ منقطع ہی ہے متصل تو یہاں آ ہی نہیں سکتا۔ تو اس قسم کے اندر ”لَمْ يُقَدَّرْ مُتَّصِلًا“ متصل مقدر نے فرض نہیں کیا گیا ”كَمَا قُدِّرَ فِي الضَّرْبِ الْأَوَّلِ“ جیسے کہ فرض کیا گیا تھا قسم اول کے اندر میں، ”إِذْ لَيْسَ هَهُنَا صِفَةُ ذَمٍّ مَنْفِيَّةٌ عَامَّةٌ“ اس لیے یہاں پر مولانا ایسی صفتِ ذم نہیں ہے جو منفی ہو اور کیا ہو؟ عام ہو، ”يُمْكِنُ تَقْدِيرُ دُخُولِ صِفَةِ الْمَدْحِ فِيهَا“ کہ ممکن ہو صفتِ مدح کا اس میں دخول فرض کرنا، فرض کرنا۔ ”وَإِذَا لَمْ يَكُنْ تَقْدِيرُ الِاسْتِثْنَاءِ مُتَّصِلًا فِي هَذَا الضَّرْبِ فَلَا يُفِيدُ التَّأْكِيدَ إِلَّا مِنَ الْوَجْهِ الثَّانِي“ جب مولانا اس کے اندر مستثنیٰ متصل فرض کرنا ممکن ہی نہیں ہے تو یہاں پر یہ تاکید کا فائدہ یہ صفت نہیں یہ قسم نہیں دے گی مگر صرف وجہِ ثانی سے، صرف وجہِ ثانی سے۔ دو وجہیں ذکر ہوئی تھیں نا پہلی قسم میں، ایک وہاں پر کس وجہ سے آئی تھی؟ دعویٰ الشیء ببینۃ، دوسری مدح کیوں آئی تھی؟ تاکید اثبات المدح بعد المدح، تو یہاں پر دعویٰ الشیء ببینۃ نہیں ہو گا صرف کیا ہو گا؟ اثبات المدح بعد المدح کیونکہ دعویٰ الشیء ببینۃ مولانا اس صورت میں تھا کہ جب وہاں پہلے مستثنیٰ متصل فرض کیا جائے اور یہاں پر تو مستثنیٰ متصل فرض کرنا ممکن ہی نہیں تو دعویٰ الشیء ببینۃ نہیں آئے گا، صرف کیا آئے گا؟ اثبات المدح بعد المدح۔
”وَهُوَ“ اور وہ یہ وجہِ ثانی یہ کہ ”أَنَّ ذِكْرَ أَدَاةِ الِاسْتِثْنَاءِ“ وہی تقریر کر رہے ہیں دوبارہ مولانا اثباتِ مدح بعد المدح آ رہا ہے اس کو اب ذکر کر رہے ہیں، ”وَهُوَ أَنَّ ذِكْرَ أَدَاةِ الِاسْتِثْنَاءِ قَبْلَ ذِكْرِ الْمُسْتَثْنَى يُوهِمُ إِخْرَاجَ شَيْءٍ عَمَّا قَبْلَهَا“ اور وہ یہ ہے کہ مولانا اداتِ استثناء کو ذکر کرنا مستثنیٰ کے ذکر کرنے سے پہلے وہم ڈالتا تھا ”إِخْرَاجَ شَيْءٍ عَمَّا قَبْلَهَا“ کہ کسی چیز کو نکالا جائے گا کس سے؟ ماقبل سے، ”مِنْ حَيْثُ إِنَّ الْأَصْلَ فِي مُطْلَقِ الِاسْتِثْنَاءِ هُوَ الِاتِّصَالُ“ اس حیثیت سے کہ مطلق استثناء میں اصل کیا ہے؟ اتصال ہے، ”فَإِذَا ذُكِرَ بَعْدَ الْأَدَاةِ صِفَةُ مَدْحٍ أُخْرَى“ پس جب ذکر کر دیا گیا ادات ادات کے بعد کس چیز کو؟ ایک اور صفتِ مدح کو ذکر کر دیا گیا ”جَاءَتِ التَّأْكِيدُ“ تو کیا آ گئی؟ تاکید آ گئی، ”وَلَا يُفِيدُ التَّأْكِيدَ مِنْ جِهَةِ أَنَّهُ كَدَعْوَى الشَّيْءِ بِبَيِّنَةٍ“ اور یہ قسم ثانی فائدہ نہیں دیتی تاکیدِ مدح کا اس جہت سے کہ یہ دعویٰ الشیء ببینۃ، ”لِأَنَّهُ مَبْنِيٌّ عَلَى التَّعْلِيقِ بِالْمُحَالِ“ اس لیے کہ دعویٰ الشیء ببینۃ وہ مبنی تھا کس پر؟ تعلیق بالمحال پر، ”الْمَبْنِيِّ عَلَى تَقْدِيرِ الِاسْتِثْنَاءِ مُتَّصِلًا“ اور تعلیق بالمحال مبنی کس پر تھی؟ مستثنیٰ متصل پر مبنی تھی، ”وَلِهَذَا“ أَيْ وَلِكَوْنِ التَّأْكِيدِ فِي هَذَا الضَّرْبِ مِنَ الْوَجْهِ الثَّانِي فَقَطْ ”كَانَ الضَّرْبُ الْأَوَّلُ الْمُفِيدُ لِلتَّأْكِيدِ مِنْ وَجْهَيْنِ أَفْضَلَ“، اسی وجہ سے کہ تاکید اس قسم کے اندر صرف وجہِ ثانی سے آئی اور قسمِ اول میں کس وجہ سے آئی تھی؟ دو وجہ سے، تو قسمِ اول وہ فائدہ دیتی ہے تاکید کا دو وجہوں سے، اسی وجہ سے افضل وہ کیا ہے؟ افضل ہے، تو قسم ضربِ اول افضل ہے۔
”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنْ تَأْكِيدِ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ ”ضَرْبٌ آخَرُ“ اور مولانا تاكيد المدح بما يشبه الذم کی ایک اور قسم بھی ہے، ”وَهُوَ أَنْ يُؤْتَى بِمُسْتَثْنًى فِيهِ مَعْنَى الْمَدْحِ“ اور وہ یہ کہ لایا جائے ایسا مستثنیٰ کہ جس کے اندر کس کا معنی پایا جائے؟ مدح کا معنی پایا جائے، ”مَعْمُولًا لِلْفِعْلِ فِيهِ مَعْنَى الذَّمِّ“ اور وہ معمول ہو ایسے فعل کا جس کے اندر مذمت کا معنی ہو۔ دیکھیے پہلے ایک فعل کو ذکر کیا جائے، اس فعل کے اندر مذمت والا معنی پایا جاتا ہو، اور اس کے بعد حرفِ استثناء لایا جائے اور اس کے بعد صفتِ مدح کو ذکر کیا جائے۔ پہلی صورت میں فعل ایسا فعل ذکر تھا ”لَا عَيْبَ فِيهِمْ“؟ اس میں تو کوئی فعل ذکر ہی تو یہ دوسری یہ جو قسم بیان کر رہے ہیں یہ بعینہٖ اسی کی طرح بنے گی، صرف مولانا ترکیب مختلف ہو گی۔ پہلی کے اندر کیا تھا؟ فعل نہیں تھا اور یہاں پر کیا آ جائے گا؟ فعل آ جائے گا۔ دیکھیے:
دیکھو مثال دیکھو: ”وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِآيَاتِ رَبِّنَا“، اور نہیں پاتے تم نَقَمَ يَنْقِمُ کا معنی عیب پانا، عیب پانا۔ ”وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا“ اور تم کوئی عیب ہم میں نہیں پاتے، فرعون اور کفار وغیرہ کو بھئی وہ کہہ رہے ہیں بھئی، ”وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا“ اور تم کوئی عیب ہم میں نہیں پاتے ”إِلَّا“ مگر ”أَنْ آمَنَّا بِآيَاتِ رَبِّنَا“ مگر یہ کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اپنے رب کی آیتوں پر، اپنے رب کی آیتوں پر یا اپنے رب کی نشانیوں پر ہم ایمان لے آئے ہیں۔ تو دیکھو بھئی ماقبل میں آیا نَقَمَ يَنْقِمُ والا فعل آیا اور اس فعل کے اندر مذمت والا معنی ہے۔ تَنْقِمُ کا کیا معنی؟ نَقَمَ يَنْقِمُ کا معنی کسی کے اندر عیب پانا، تو یہ فعل کے اندر مذمت والا معنی آیا یا نہیں آیا بھئی؟ اس میں مذمت والا معنی آ گیا۔ پھر اس سے آگے ”إِلَّا“ کے ذریعے استثناء کیا گیا ایمان کو، ایمان کا۔ کس چیز کا استثناء کیا گیا؟ ایمان کا، تو مستثنیٰ اس کے اندر صفتِ مدح ہے۔ ایمان صفتِ مدح ہے یا صفتِ ذم ہے بھئی؟ صفتِ مدح ہے بھئی، یہ تو تمام فضیلتوں سے بڑی فضیلت ہے اور سب سے زیادہ فخر والی چیز ہے۔ تو ایمان جو ہے اس کو مستثنیٰ ذکر کیا گیا یعنی استثناء کے بعد اس قسم کے اندر یاد رکھو استثناء کے بعد حرفِ استثناء کے بعد صفتِ مدح ذکر ہوتی ہے، اور اس صفتِ مدح کے اندر جو عامل ہوتا ہے وہ کس قسم کا فعل ہوتا ہے؟ جس کے اندر عیب والا معنی پایا جائے۔ یہاں ”أَنْ آمَنَّا“ کے اندر عامل کون ہے بھئی؟ ”تَنْقِمُ“، ”مَا تَنْقِمُ“، اور ”نَقَمَ“ کے اندر کون سا معنی پایا جا رہا ہے؟ عیب والا۔ تو دیکھو مستثنیٰ صفتِ مدح ہے اور اس کے اندر عامل ایسا فعل ہے جس میں کون سا معنی پایا جا رہا ہے؟ عیب والا۔ کہتے ہیں یہ بالکل وہی پہلی قسم کی طرح ہو گئی، پہلی قسم کے اندر بس ترکیب یہ تھی کہ وہاں فعل نہیں تھا، وہاں تھا ”لَا عَيْبَ فِيهِمْ“، یہاں پر فعل ہے بس یہ فرق ہے، ورنہ دراصل یہ بھی اسی کی طرح ہے۔ ”وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا“ دراصل یہ اسی طرح ہے گویا یوں کہا ”لَا عَيْبَ فِينَا“ ہمارے اندر کوئی عیب نہیں ہے ”إِلَّا الْإِيمَانَ“ سوائے کس کے؟ ایمان کے، تو یہ بھی دعویٰ الشیء ببینۃ آیا، کیوں؟ اس لیے کہ پہلے ماقبل میں صفتِ ذامہ منفی آئی اور اس میں عموم تھا، ”لَا عَيْبَ فِينَا“ ہمارے اندر کوئی عیب نہیں ”إِلَّا“ سوائے کس کے، جب ”إِلَّا“ تک بات پہنچی تو ذہن میں فورا مستثنیٰ متصل کی طرف چلا گیا اس لیے کہ ماقبل میں عموم آ رہا تھا، تو تمام عیوب کی نفی کی ہے تو اب خیال ہوا کہ ”إِلَّا“ کے بعد کس کا ذکر آئے گا؟ صفتِ ذم کا ہی ذکر آئے گا ان جن عیوب کی نفی کی ہے کسی ایک کو نکال کر ثابت کیا جائے گا، لیکن آگے دیکھا تو آگے ایمان کا تذکرہ آ گیا۔ پتہ چلا یہ مستثنیٰ متصل نہیں ہے بلکہ کون سا مستثنیٰ ہے؟ مستثنیٰ منقطع ہے، تو گویا متکلم نے کیا کیا بھئی؟ ایمان کو تقدیراً کس کے اندر پہلے داخل کیا؟ بظاہر بظاہر یوں لگا مستثنیٰ متصل ہے تو تقدیراً گویا کس کے اندر داخل کیا ایمان کو؟ صفاتِ عیب کے اندر، اور پھر اس کو نکال کر اس کا کیا کیا ان کی نفی کر دی اور اس کا اثبات کیا، لیکن جب غور کیا تو پتہ چلا کہ ایمان تو صفتِ عیب میں سے ایمان کا ہونا تو محال ہے، صفتِ عیب میں سے ہونا محال، معلوم ہوا وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اندر بھی کسی صفتِ عیب کا ہونا محال، ہمارے اندر کوئی عیب اسی صورت میں ہو سکتا ہے اگر صفتِ ایمان کس میں سے ہو جائے؟ عیب میں سے ہو جائے، اور صفتِ ایمان کا عیب میں سے ہونا تو محال، معلوم ہوا ہمارے اندر کسی عیب کا ہونا بھی محال، تو دعویٰ الشیء ببینۃ آیا۔
تو یہ ترکیب کا صرف فرق ہے وہاں فعل نہیں تھا یہاں فعل ہے۔ دیکھا یہی بات کی ہے دوبارہ دیکھو:
”ضَرْبٌ آخَرُ وَهُوَ أَنْ يُؤْتَى بِمُسْتَثْنًى فِيهِ مَعْنَى الْمَدْحِ مَعْمُولًا لِلْفِعْلِ فِيهِ مَعْنَى الذَّمِّ نَحْوُ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِآيَاتِ رَبِّنَا أَيْ مَا تَعِيبُ مِنَّا“، دیکھا ”تَنْقِمُ“ کا معنی بتا رہے ہیں، ”أَيْ مَا تَعِيبُ مِنَّا إِلَّا أَفْضَلَ الْمَنَاقِبِ وَالْمَفَاخِرِ كُلَّهَا“ مگر وہ جو اصل ہے تمام فضیلتوں کی مناقب فضیلتیں، جو اصل ہے تمام فضیلتوں کی اور تمام فخر والی چیزوں کی سب کی سب کی، تمام کی تمام جو ہیں ان سب کی ان تمام فضیلتوں اور مفاخر کی جو اصل ہے یعنی ایمان ہی ہمارے اندر پاتے ہو، اس کے علاوہ اور کوئی عیب نہیں پاتے۔ ”وَهُوَ الْإِيمَانُ، يُقَالُ نَقَمَ مِنْهُ وَانْتَقَمَ“ عربی میں مولانا ”نَقَمَ مِنْهُ“ معنی بتلا رہے ہیں اور ”انْتَقَمَ“ کہتے ہیں کب؟ ”إِذَا عَابَهُ وَكَرِهَهُ“ جب کسی میں کوئی عیب پائے اور اس کو ناپسند کرے، ”وَهُوَ كَالضَّرْبِ الْأَوَّلِ“ یہ قسم بھی کس کی طرح ہے؟ پہلی قسم کی طرح ہے، ”فِي إِفَادَةِ التَّأْكِيدِ مِنْ وَجْهَيْنِ“ اس لیے کہ فائدہ دیتی ہے تاکید کا دو وجہوں سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ بھی اسی طرح ہے ”لَا عَيْبَ فِينَا إِلَّا الْإِيمَانَ“، ہمارے اندر کوئی عیب نہیں سوائے کس کے؟ ایمان کے، لیکن ترکیب کے اعتبار سے مختلف کہ وہاں پر صراحتاً ہی ذکر تھا اور یہاں پر فعل کی صورت میں ذکر ہے۔
”وَالِاسْتِدْرَاكُ الْمَفْهُومُ مِنْ لَفْظِ لَكِنْ فِي هَذَا الْبَابِ“ أَيْ بَابِ تَأْكِيدِ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ ”كَالِاسْتِثْنَاءِ“، کہتے ہیں استدراک جو لفظِ ”لَكِنْ“ سے سمجھ میں آتا ہے اس باب میں، بھئی ”لَكِنْ“ کس لیے آتا ہے؟ استدراک کے لیے، استدراک کس کو کہتے ہیں کہ گذشتہ کلام سے کوئی وہم پیدا ہوا تھا ”لَكِنْ“ کے ذریعے آپ نے اس وہم کو دور کر دیا۔ آپ نے کہا میرے پاس زید آیا، ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، وہم پڑا زید تو مولانا ہمیشہ عمرو کا گہرا دوست ہے عمرو بھی ساتھ ہوتا ہے تو یقیناً کیا ہو گا؟ عمرو بھی آیا ہو گا۔ تو یہ وہم پڑا آپ نے فورا اس وہم کو دور کر دیا: ”لَكِنَّ عَمْرًا لَمْ يَجِئْ“ لیکن عمرو نہیں آیا، تو دیکھو ”لَكِنْ“ کس کو کہتے ہیں ماقبل کلام سے پیدا ہونے والے وہم کو کیا کیا جائے؟ دور کیا جائے۔ لیکن ”لَكِنْ“ سے جو استدراک مفہوم ہوتا ہے کہتے ہیں اس باب المدح کے اندر ”لَكِنْ“ بھی کس کے معنیٰ میں ہوتا ہے؟ استثناء کی طرح ہے، کس کی طرح ہے؟ استثناء کی طرح۔ کہتے ہیں: ”وَالِاسْتِدْرَاكُ الْمَفْهُومُ مِنْ لَفْظِ لَكِنَّ فِي هَذَا الْبَابِ كَالِاسْتِثْنَاءِ“ کہ جیسے شاعر کے اس قول کے اندر:
”هُوَ الْبَدْرُ“ شاعر تعریف کر رہا ہے، ”هُوَ الْبَدْرُ“ وہ کیا ہے؟ چاند ہے حسن و جمال کے اندر، ”إِلَّا“ مگر، اب کیا وہم پڑا کیا ذکر کی جائے گی؟ کوئی عیب، لیکن کہتا ہے: ”أَنَّهُ الْبَحْرُ زَاخِرًا“ مگر وہ موجیں مارتا ہوا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے، یعنی اتنا سخی ہے بڑا سخی آدمی ہے، سمجھ میں آیا؟ روزانہ اپنے ساتھیوں کو کیا کرتا ہے؟ سیر کراتا ہے۔ ”سِوَى أَنَّهُ“ اچھا پھر کہا ”سِوَى“ علاوہ اس کے، اب سوچا اب تو کوئی عیب آئے گا، کہتا ہے: ”إِنَّهُ الضِّرْغَامُ“ وہ شیر ہے شیر بھئی۔ پھر مولانا صفتِ مدح لے آئے، پھر کہا ”لَكِنَّهُ“ لیکن، اب کہا اب تو مدح اب تو کیا آئے گی؟ عیب آئے گا، پھر کہا ”الْوَبْلُ“ وہ کیا ہے؟ موٹے موٹے قطروں والی موسلا دھار بارش ہے جو نفع دینے والی ہو۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ یہاں پر ”سِوَى“ آیا، ”لَكِنَّ“ وغیرہ ”لَكِنَّ“ آیا یہ بھی کس کی طرح ہے؟ استثناء کی طرح۔
تو دیکھو شاعر نے پہلے کیا کہا وہ حسن و جمال میں کس کی طرح ہے؟ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے اور پھر کیا کہا وہ سمندر ہے، سمندر ہے۔ پھر آخر میں سمندر نے کس وصف پر دلالت کی؟ سخاوت پر بھئی، سخاوت پر۔ تو جب سخاوت ایک دفعہ ذکر کر دی آگے دوبارہ ”وَبْلٌ“ کہا، وبل جمع ہے وابل کی مولانا، بارش کو کہتے ہیں میں نے بتلایا۔ تو پھر وابل کو ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی کیونکہ وہ بھی کس چیز پر دلالت کر رہی ہے؟ سخاوت پر دلالت کر رہی ہے۔ کہتے ہیں بھئی سمندر قوت پر دلالت کرتا ہے لیکن سمندر میں کیا ہے؟ آپ کو خود اس کے پاس جانا پڑتا ہے جبکہ بارش خود آپ کے دروازے تک گھر تک پہنچتی ہے اور آپ کو کیا کرتی ہے؟ تو سمندر میں قوتِ سخاوت کی طرف اشارہ کیا اور وبل کے اندر کہ ہر ضرورت مند تک خود پہنچتا ہے۔ ”فَقَوْلُهُ إِلَّا وَالسِّوَى“ ”إِلَّا“ اور ”سِوَى“ جو ذکر ہوئے مولانا ”اسْتِثْنَاءٌ“ یہ بھی کیا ہیں؟ استثناء ہے، ”مِثْلُ بَيْدَ أَنِّي مِنْ قُرَيْشٍ“ اسی کی طرح، ”وَقَوْلُهُ لَكِنَّهُ اسْتِدْرَاكٌ“ اور یہ ”لَكِنَّهُ“ کا لفظ آیا یہ استدراک ہے، ”يُفِيدُ فَائِدَةَ الِاسْتِثْنَاءِ فِي هَذَا الضَّرْبِ“ جو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ اس قسم کے اندر استثناء ہی کا فائدہ دیتا ہے، ”لِأَنَّ إِلَّا فِي الِاسْتِثْنَاءِ الْمُنْقَطِعِ بِمَعْنَى لَكِنْ“ اس لیے کہ ”إِلَّا“ بھی استثناء منقطع میں کس کی طرح ہوتا ہے؟ لیکن کی لیکن یا لیکن کی طرح ہوتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ مستثنیٰ منقطع کے اندر ”إِلَّا“ کو کس معنیٰ میں لیا جاتا ہے؟ لیکن سے۔
”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”تَأْكِيدُ الذَّمِّ بِمَا يُشْبِهُ الْمَدْحَ“، یہ اس کا بالکل عکس ہے۔ یہ اس کا بالکل عکس ہے۔ پہلے کیا تھا؟ مدح میں مبالغہ تھا، دعویٰ الشیء ببینۃ اور مدح بعد المدح کے ساتھ، اب مولانا اس کا عکس۔ جیسے کہتا ہے: فلاں میں کوئی بھلائی نہیں ہے، ”فُلَانٌ لَا خَيْرَ فِيهِ إِلَّا“ مگر ایک بات ہے۔ اب معلوم ہوا اب کوئی کیا ہونے لگا ہے مولانا؟ کوئی صفتِ مدح آنے والی ہے، لیکن کہتا ہے ایک بات ہے کہ جو اس کے ساتھ نیکی کرتا ہے وہ اس کے ساتھ برائی کرتا ہے۔ تو دیکھو کیا آیا مولانا؟ صفتِ ذم کے بعد پھر کیا آ گئی؟ صفتِ ذم آ گئی، اور نیز مولانا دعویٰ الشیء ببینۃ ہوا کہ وہ کہتا ہے میں جس کی مذمت کر رہا ہوں اس میں کیا صفتِ مادحہ کا ہونا اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب کہ احسان کرنے والے کے ساتھ برائی کرنا یہ کیا بن جائے؟ یہ مدح بن جائے، یہ کیا بن جائے؟ اور اس کا تو یہ کیا بن جائے؟ بلکہ یہ صفتِ محمودہ بن جائے۔ اور یہ صفتِ محمودہ ہو سکتی ہے مولانا؟ اس کا تو صفتِ محمودہ ہونا محال، معلوم ہوا میرے جس کی میں مذمت کر رہا ہوں اس میں کسی صفتِ محمودہ کا ہونا بھی محال ہے۔
”تَأْكِيدُ الذَّمِّ بِمَا يُشْبِهُ الْمَدْحَ وَهُوَ ضَرْبَانِ“ یہ بھی دو قسم پر ہے، ”أَحَدُهُمَا“ بالکل بعینہٖ اسی طرح ہے مولانا، ”أَحَدُهُمَا أَنْ يُسْتَثْنَى مِنْ صِفَةِ مَدْحٍ مَنْفِيَّةٍ عَنِ الشَّيْءِ صِفَةُ ذَمٍّ“ اور یہ ایک یہ کہ استثناء کیا جائے صفتِ مدح سے، ایسی صفتِ مدح جو منفی ہو کسی چیز سے، کس چیز کا استثناء کیا جائے؟ صفتِ ذم کا، ”بِتَقْدِيرِ دُخُولِهَا فِيهَا“ یہ اس تقدیر کے ساتھ کہ یہ صفتِ ذم داخل ہے اس صفتِ مدح کے اندر، ”كَقَوْلِكَ“ آپ کہتے ہیں: ”فُلَانٌ لَا خَيْرَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ يُسِيءُ إِلَى مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْهِ“ فلاں میں کوئی خیر نہیں مگر یہ کہ وہ برائی کرتا ہے جو اس کے ساتھ احسان کرتا ہے۔ ”وَثَانِيهِمَا“ دوسری قسم یہ ہے، دوسری قسم میں کیا آئے گا مولانا؟ تاکید صرف ایک وجہ سے آئے گی اور وہ کیا؟ اثباتِ مدح بعد المدح، دعویٰ الشیء ببینۃ نہیں ہو گا۔ ”وَثَانِيهِمَا أَنْ يُثْبَتَ لِلشَّيْءِ صِفَةُ ذَمٍّ وَتُعَقَّبَ بِأَدَاةِ الِاسْتِثْنَاءِ تَلِيهَا صِفَةُ ذَمٍّ أُخْرَى لَهُ“ کہ ثابت کریں آپ کسی چیز کے لیے صفتِ ذم کو اور آپ اس کے عقب میں اداتِ استثناء لائیں تلیھا صفتِ ذم اخریٰ لہٗ اور اس کے ساتھ ایک اور صفتِ ذم ملی ہوئی ہو، ”كَقَوْلِكَ فُلَانٌ فَاسِقٌ“ جیسے آپ کہتے ہیں فلاں فاسق ہے ”إِلَّا“ مگر ایک بات ہے، آپ نے کہا اب تو کیا آئے گی؟ صفت آئے گی مولانا، ”إِلَّا أَنَّهُ جَاهِلٌ“ مگر وہ جاہل بھی ہے۔ ”فَالضَّرْبُ الْأَوَّلُ يُفِيدُ التَّأْكِيدَ مِنْ وَجْهَيْنِ“ پس پہلی قسم جو ہے وہ فائدہ تاکید کا دیتی ہے دونوں وجہ سے ”وَالثَّانِي مِنْ وَجْهٍ وَاحِدٍ“ اور ثانی کیا ہے؟ ایک ہی وجہ سے، ”وَتَحْقِيقُهُمَا عَلَى قِيَاسِ مَا مَرَّ فِي تَأْكِيدِ الْمَدْحِ بِمَا يُشْبِهُ الذَّمَّ“ دونوں کی تحقیق دونوں قسموں کی اسی طریقے پر ہے جو کس میں گزرا؟ تاكيد المدح بما يشبه الذم میں۔
”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”الِاسْتِتْبَاعُ“، اور حسنِ معنوی قسمِ معنوی میں سے کیا ہے؟ استتباع۔ استتباع کہتے ہیں مولانا ایک چیز کی مدح کرنا ایسے طریقے پر کہ وہ مستلزم ہو ایک اور قسم کی مدح پر، یعنی آپ نے ایک چیز کی تعریف کی لیکن اس طریقے پر کی کہ اس مدح کے ساتھ ایک اور مدح بھی ساتھ آ گئی۔ ”وَهُوَ الْمَدْحُ بِشَيْءٍ عَلَى وَجْهٍ“ وہ مدح کرنا ہے کسی چیز کی ایسے طریقے پر ”يَسْتَتْبِعُ الْمَدْحَ بِشَيْءٍ آخَرَ“ کہ اس کے ساتھ مستلزم ہو ایک اور چیز کے مدح ایک اور چیز کے ساتھ، ”كَقَوْلِهِ“ جیسے شاعر کہتا ہے:
”نَهَبْتَ مِنَ الْأَعْمَارِ مَا لَوْ حَوَيْتَهُ ... لَهُنِّئَتِ الدُّنْيَا بِأَنَّكَ خَالِدُ“
شاعر کہتا ہے تو نے لوگوں کی عمروں کو لوٹ لیا۔ ممدوح کی تعریف کرتا ہے مولانا، تو اتنا بہادر شخص ہے کہ تو نے کیا کرتا ہے؟ لوگوں کے بہادر شخص ہی لوگوں کی عمریں یعنی ان کے ساتھ لڑائی کرے گا اور انہیں قتل کرے گا بھئی، تو تو اتنا بہادر ہے اے میرا ممدوح تو نے کیا کیا ہے؟ لوگوں کے اپنے دشمنوں، اپنے مخالفین کی عمروں کو لوٹ لیا، اگر ان کو جمع کر دیا جائے۔ یہ معتزلہ کا مذہب پر یہ تقریر مبنی ہے مولانا، ہمارے نزدیک جب کوئی شخص دوسرے کو قتل کرتا ہے تو کیا اس کے عینِ موت کے وقت پر یہ قتل کرتا ہے یا اس کی زندگی ابھی باقی تھی؟ عینِ موت کا وقت ہوتا ہے مولانا، تقدیر میں اس کی موت کا وہی وقت متعین ہے، اس نے مرنا ہی اسی وقت ہے، ہاں اب یہ سبب یہ بن گیا کون بن گیا؟ قاتل بن گیا، سمجھ میں آیا؟ تو اس کی عمر تھی ہی اتنی، اور معتزلہ کہتے ہیں نہیں۔ آدمی کی عمر لمبی تھی اس قاتل نے آ کر اس کی عمر کیا کر دی؟ ختم کر دی۔ تو شاعر کہتا ہے تو نے لوگوں کو قتل کیا ان کی عمروں کو لوٹا تو ان کی عمروں کو منقطع کر دیا تو وہ جو عمریں باقی تھیں ان کی اگر ان کو جمع کر کے تو اپنی عمر کے ساتھ ملا لے تو اتنے لوگوں کو تو نے قتل کیا ہے کہ تیری عمر کب کہاں تک پہنچ جائے گی؟ قیامت تک تو پھر زندہ رہے گا کبھی بھی تجھے موت نہیں آئے گی۔ ”نَهَبْتَ مِنَ الْأَعْمَارِ“ تو نے لوٹ لیا ہے عمروں میں سے ”مَا لَوْ حَوَيْتَهُ“، حَوَى يَحْوِي کا معنی ہوتا ہے جمع کرنا، سمیٹنا، ”مَا لَوْ حَوَيْتَهُ“ اگر تو ان کو سمیٹ لے ”لَهُنِّئَتِ الدُّنْيَا“ تو البتہ مبارکباد دی جاتی دنیا کو ”بِأَنَّكَ خَالِدُ“ تیرے ہمیشہ رہنے کے ساتھ۔ دنیا کو کیا مبارک اگر ان عمروں کو تو سمیٹ لیتا تو دنیا والے ایک دوسرے کو کیا مبارکباد دیتے؟ کہ تو ایک دوسرے کو مبارک دیتے سارے، مبارک ہو مبارک ہو یہ کیا ہے یہ شخص اب قیامت تک زندہ رہے گا۔ اب دیکھو اب یہ تعریف دراصل کر رہا ہے اس کی شجاعت کی، تو اتنا بہادر آدمی ہے کہ تو نے کیا کیا ہے؟ ہزارہا لوگوں کو قتل کیا ہے۔ لیکن ساتھ ایسے طریقے پر کی مدح کہ ایک اور مدح بھی ساتھ آ گئی، وہ کیا؟ کہ تیری وجہ سے دنیا کا نظام صحیح چل رہا ہے، تیری وجہ سے دنیا کے نظام میں یہ حسن و جمال اور یہ خوبصورتی ہے، وہ کیسے؟ بھئی دنیا والے ایک دوسرے کو مبارکباد نہیں دے رہے؟ مبارکباد کس چیز پر دی جاتی ہے؟ کوئی اچھی بات ہو، معلوم ہوا تیرے رہنے میں خوشی ہے اور اس دنیا کا نظام صحیح چل رہا ہے، تو دیکھو مدح شجاعت کی تھی اور ساتھ ایک اور مدح بھی آ گئی۔
”مَدَحَهُ بِالنِّهَايَةِ فِي الشَّجَاعَةِ“ مدح کی اس کی شجاعت میں انتہاء کے ساتھ، ”حَيْثُ جَعَلَ قَتْلَاهُ“ قَتْلَى مولانا جمعِ قتیل ہے، قتیل۔ وہ قتیل بمعنیٰ مقتول کے، تو وہ فَعِیل جو بمعنیٰ مفعول کے ہو اور اس میں ہلاکت کے یا تکلیف کے معنی پائے جائیں تو اس کی جمع فَعْلَى آتی ہے جیسے جریح کی جمع جَرْحَى، صریع کی جمع صَرْعَى، شتيت کی جمع شَتَّى۔ ”بِحَيْثُ يَخْلُدُ وَارِثُ أَعْمَارِهِمْ“ اس طور پر کہ شاعر نے قرار دیا ہے اس کے مقتولین کو اس طور پر کہ ہمیشہ رہے گا ان کی عمروں کا وارث، مقتولین کتنے مقتولین ہیں کہ ان کی عمروں کا وارث اگر کوئی بنے تو وہ ہمیشہ رہے گا۔ تو اس نے شجاعت کی نہایت کی شجاعت میں انتہاء تک پہنچا ہوا ہے اس بات کی تعریف کی ”عَلَى وَجْهٍ اسْتَتْبَعَ مَدْحَهُ بِكَوْنِهِ سَبَبًا لِصَلَاحِ الدُّنْيَا“ ایسے طریقے پر کہ اس کے ساتھ مستلزم ہے اس کی مدح بِكَوْنِهِ سَبَبًا کہ وہ سبب ہے لصلاحِ الدنیا دنیا کی دنیا کے کیا؟ صالح ہونے کا ٹھیک ہونے کا ”وَنِظَامِهَا“ اور دنیا کے نظام کے ٹھیک ہونے کا وہ سبب ہے، ”إِذْ لَا تَهْنِئَةَ لِأَحَدٍ بِشَيْءٍ لَا فَائِدَةَ لَهُ“ اس لیے کہ مبارکباد نہیں پیش کی جاتی کسی بھی چیز کی جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ تو یہ تو دیکھو مولانا دو مدحیں آ گئیں ایک ساتھ، ارادہ اس نے کس کا کیا تھا؟ شجاعت کو ذکر کرنے کا لیکن ساتھ کیا کر دی ایک اور مدح بھی ساتھ شامل کر دی کہ تیری وجہ سے دنیا کا نظام صحیح چل رہا ہے۔
”قَالَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الرَّبَعِيُّ: وَفِيهِ أَيْ فِي الْبَيْتِ وَجْهَانِ آخَرَانِ مِنَ الْمَدْحِ“ ابنِ عیسیٰ ربعی فرماتے ہیں کہ اس شعر کے اندر دو اور وجہیں بھی ہیں مدح کی: ”أَحَدُهُمَا أَنَّهُ نَهَبَ الْأَعْمَارَ دُونَ الْأَمْوَالِ“ ایک تو یہ کہ یہ جو ہے عمروں کو لوٹتا ہے مالوں کو نہیں لوٹتا، معلوم ہوا یہ بلند ہمت شخص ہے اس لیے کہ مال کو لوٹنا کم ہمتی کی دلیل ہے اور عمروں کو لوٹنا بلند ہمتی کی، اس لیے کہ مال کم درجے کی چیز ہے اور عمر اعلیٰ درجے کی چیز ہے، ”كَمَا هُوَ مُقْتَضَى عُلُوِّ الْهِمَّةِ“ جیسے کہ مقتضی ہے کس کا؟ علو ہمت کی بلند ہونے کا مقتضی ہے تو یہ عمروں کو لوٹتا ہے، تو معلوم ہوا یہ کیا ہے علو ہمت اس کی بڑی اونچی ہے۔ ”وَذَلِكَ مَفْهُومٌ مِنْ تَخْصِيصِ الْأَعْمَارِ بِالذِّكْرِ وَالْإِعْرَاضِ عَنِ الْأَمْوَالِ مَعَ أَنَّ النَّهْبَ بِهَا أَلْيَقُ“ اور یہ جو یہ عمروں کو لوٹتا ہے اموال کو نہیں لوٹتا، بھئی شاعر نے تو صرف یہ کہا کہ وہ عمروں کو لوٹتا ہے یہ تو نہیں کہا کہ مالوں کو نہیں لوٹتا یہ آپ نے کہاں سے نکالا؟ کہتے ہیں بھئی جب صرف عمروں کو ذکر کیا تو معلوم ہوا تخصیص آ گئی، اموال کو ذکر نہیں کیا تو عمروں کو ذکر کیا تخصیص آ گئی یعنی صرف عمروں ہی کو لوٹتا ہے اور مالوں کو نہیں۔ ”وَذَلِكَ مَفْهُومٌ مِنْ تَخْصِيصِ الْأَعْمَارِ بِالذِّكْرِ وَالْإِعْرَاضِ عَنِ الْأَمْوَالِ مَعَ أَنَّ النَّهْبَ بِهَا أَلْيَقُ“ اور یہ مفہوم ہوتا ہے جو اس نے اعمار کی تخصیص کی ذکر کے ساتھ اور اعراض کیا کس سے؟ اموال سے باوجود اس کے کہ لوٹنا وہ مال کے زیادہ لائق ہے نہ کہ تو شاعر نے لوٹنے کو ذکر کیا اور لوٹنے کے ساتھ مال کو نہیں ذکر کیا بلکہ کس کو ذکر کیا؟ عمر کو۔ ”وَهُمْ يَعْتَبِرُونَ ذَلِكَ فِي الْمُحَاوَرَاتِ وَالْخِطَابِيَّاتِ“ اور بلغاء جو ہیں وہ یہ بلغاء کی بات ہو رہی ہے مولانا تو کہتے ہیں بلغاء اعتبار کرتے ہیں اپنے محاورات کے اندر اور اپنے خطابیات کے اندر ان چیزوں کا، ”وَإِنْ لَمْ يَعْتَبِرْهُ أَئِمَّةُ الْأُصُولِ“ اگرچہ ائمہ اصول اس کا اعتبار بعض ائمہ اصول اعتبار کرتے ہیں اور بعض ائمہ اصول کیا کرتے ہیں اس کا اعتبار نہیں کرتے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ جو چیز ذکر ہے وہ کہتے ہیں یہ تخصیص کے لیے ہے جیسے مولانا کس میں ہے؟ بھئی جیسے کفارات کا ذکر آتا ہے قرآن میں تو وہاں بعض جگہ ”تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ“ آتا ہے، بعض جگہ صرف کیا آتا ہے؟ ”تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ“، تو جہاں مومنہ کی قید ہے معلوم ہوا یہ تخصیص کے لیے ہے کہ یہاں پر صرف کیا؟ مسلمان غلام ہی آزاد کر سکتے ہو، کافر کو آزاد نہیں کر سکتے، سمجھ میں آیا؟
”وَالثَّانِي أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ ظَالِمًا فِي قَتْلِهِمْ“ دوسری بات یہ تو ایک تو یہ کہ وہ بڑا بلند ہمت آدمی ہے، دوسرا یہ کہ وہ ظالم بھی نہیں ہے ان کے قتل میں، ان کے قتل میں ظلم نہیں کرتا جو ان کو قتل کرتا ہے۔ بھئی آپ کو کیسے پتہ چلا ظلم نہیں کرتا؟ کہتے ہیں بھئی دنیا والے اگر وہ ظالم ہوتا تو ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے؟ نہیں، ظالم کے جینے پر کوئی مبارکباد دوسرے کو نہیں دیتا۔ ”وَإِلَّا لَمَا كَانَ لِلدُّنْيَا سُرُورٌ بِخُلُودِهِ“ ورنہ دنیا والوں کو کوئی خوشی نہ ہوتی اس کے ہمیشہ رہنے سے۔
”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”الْإِدْمَاجُ“، اور حسن قسمِ معنوی میں سے ایک ادماج بھی ہے، ”يُقَالُ أَدْمَجَ الشَّيْءَ فِي ثَوْبِهِ إِذَا لَفَّهُ فِيهِ“ عربی میں کہتے ہیں ”أَدْمَجَ الشَّيْءَ فِي ثَوْبِهِ“ اس نے اس چیز کو اپنے کپڑے میں لپیٹ لیا، تو ادماج کب کہتے ہیں؟ ”إِذَا لَفَّهُ فِيهِ“ جب اس چیز کو کپڑے میں لپیٹ دے۔ اسی سے لفافہ ہے اس میں بھی کیا ہے ایک چیز کو لپیٹنا۔ ”وَهُوَ أَنْ يُضَمَّنَ كَلَامٌ سِيقَ لِمَعْنًى مَعْنًى آخَرَ“، یہ بھی مولانا استتباع کی استتباع میں کیا تھا؟ ایک مدح لائی جائے لیکن اس طریقے پر کہ وہ مستلزم ہو ایک اور مدح کو بھی، اور یہاں پر ہے ایک معنی کے لیے کلام کو لایا جائے اس طریقے پر کہ اس کے ساتھ ایک اور معنی بھی مستلزم ہو، تو وہاں مدح کی تخصیص تھی یہاں پر یہ عام ہے مولانا۔ ”وَهُوَ أَنْ يُضَمَّنَ كَلَامٌ“ کلام کو متضمن بنایا جائے ایسا کلام ”سِيقَ لِمَعْنًى“ جس کو چلایا گیا ہے کسی ایک معنی کے لیے ”مَدْحًا كَانَ أَوْ غَيْرَهُ“ چاہے وہ معنی مدح ہو یا غیر مدح ہو جبکہ استتباع میں صرف کیا تھا؟ مدح۔ تو کلام کو متضمن بنایا جائے جس کو چلایا گیا تھا ایک معنی کے لیے، کس چیز کو متضمن بنایا جائے؟ ”مَعْنًى آخَرَ“، ”وَهُوَ مَنْصُوبٌ بِأَنَّهُ مَفْعُولٌ ثَانٍ لِيُضَمَّنَ“ یہ ”مَعْنًى آخَرَ“ یہ منصوب ہے یہ مفعولِ ثانی ہے ”يُضَمَّنَ“ کا، سمجھ میں آیا؟ ”ضَمَّنَ“ دو مفعول چاہتا ہے، ”وَقَدْ أُسْنِدَ إِلَى الْمَفْعُولِ الْأَوَّلِ“ اور تحقیق ”يُضَمَّنَ“ کا اسناد کیا گیا ہے مفعولِ اول کی طرف ”أَنْ يُضَمَّنَ كَلَامٌ“ بھئی دو مفعول چاہتا تھا پہلے کو ہم نے نائب فاعل بنا دیا اور دوسرا اسی طرح برقرار تو پہلے نائب فاعل اس کی طرف اسناد ہوا اور ثانی اسی طرح مفعول رہے گا۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے آپ کہتے ہیں مولانا دوسری مثال ذکر کرتا ہوں: ”سَمَّيْتُ الرَّجُلَ زَيْدًا“، میں نے آدمی کا کیا نام رکھا؟ تو دیکھو ”سَمَّيْتُ“ دو مفعول چاہتا ہے: ”الرَّجُلَ“ مفعولِ اول، ”زَيْدًا“ اس کے لیے مفعولِ ثانی، پھر آپ اس کو مجہول ذرا بنائیں: ”سُمِّيَ الرَّجُلُ زَيْدًا“، تو دیکھو مفعولِ اول نائب فاعل بن گیا اور مفعولِ ثانی اسی طرح مفعول ہی رہے گا، تو یہاں بھی اسی طرح ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”فَهُوَ“ أَيْ لِشُمُولِهِ لِلْمَدْحِ وَغَيْرِهِ ”أَعَمُّ مِنَ الِاسْتِتْبَاعِ“ تو یہ مدح اور غیر مدح دونوں کو شامل ہونے کی وجہ سے استتباع سے عام ہے، ”لِاخْتِصَاصِهِ بِالْمَدْحِ“ اس لیے کہ استتباع کی تخصیص ہے کس کے ساتھ؟ مدح، وہ صرف مدح میں آئے گا جبکہ یہ عام ہے۔
جیسے شاعر کہتا ہے، شاعر رات کے طویل ہونے کی شکایت کر رہا ہے مولانا:
”أُقَلِّبُ فِيهِ أَجْفَانِي كَأَنِّي ... أَعُدُّ بِهَا عَلَى الدَّهْرِ الذُّنُوبَا“
”أُقَلِّبُ فِيهِ“ أَيْ فِي اللَّيْلِ ”أَجْفَانِي كَأَنِّي أَعُدُّ بِهَا عَلَى الدَّهْرِ الذُّنُوبَا“، شاعر کہتا ہے رات بڑی لمبی تھی گزر ہی نہیں رہی تھی، میں اس کے اندر کیا کرتا تھا بار بار پلٹتا تھا اپنی بار بار جھپکتا تھا اپنی پلکوں کو، اتنی دفعہ جھپکایا اتنی دفعہ جھپکایا مگر نیند ہے کہ آ ہی نہیں رہی، مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میں یہ جو اپنی پلکیں بار بار جھپکا رہا ہوں یہ تسبیح کے دانوں کی طرح میں ان کے ذریعے زمانے پر سے اس کے گناہوں کو شمار کر رہا ہوں کہ زمانے نے میرے یہ نقصان پہنچایا، یہ نقصان پہنچایا، یہ نقصان پہنچایا، سمجھ میں آیا؟ یہ نقصان پہنچایا۔ مثلاً فلاں دن بھئی میرا محبوب مجھے ملنے ہی نہیں آیا بھئی، فلاں دن میں ملنے گیا اور اس سے میری ملاقات نہیں ہوئی، فلاں دن وہ آیا تھا سامنے لیکن اس نے میری طرف کوئی توجہ ہی نہیں کی کیا کیا دوسروں کے ساتھ گھومتا رہا۔ ”أُقَلِّبُ فِيهِ“ أَيْ فِي اللَّيْلِ ”أَجْفَانِي“ میں پلٹتا جھپکتا ہوں اس کے اندر الٹاتا ہوں اس کے اندر رات کے اندر اجفانی اپنی پلکوں کو، ”كَأَنِّي“ گویا کہ میں ”أَعُدُّ بِهَا“ شمار کرتا ہوں اس پلک جھپکنے کے ساتھ ”عَلَى الدَّهْرِ“ زمانے پر ”الذُّنُوبَا“ کس چیز کو؟ گناہوں کو۔ ”فَإِنَّهُ“ تو دیکھو شاعر نے یہ شعر ذکر کیا کس لیے کیا ذکر کرنا چاہتا ہے وہ؟ رات کے طویل ہونے کو ذکر کر رہا ہے۔ رات بڑی طویل تھی اور مجھے نیند نہیں آئی یہ ذکر کرنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ساتھ زمانے کے مظالم اور گناہوں کی شکایت بھی کر دی اس طریقے پر، صراحتاً یہ نہیں کہا کہ شکایت کر رہا ہوں یہ کہا: رات کو میں نیند نہیں آ رہی تھی میں پلکیں جھپک رہا تھا اور اتنی دفعہ جھپکیں اتنی دفعہ جھپکیں یہ اب دیکھو رات کے طویل ہونے کو بیان کر رہا ہے، گویا مجھے لگا کہ میں زمانے پر اس کے گناہوں کو کیا کر رہا ہوں؟ شمار کر رہا ہوں۔ اصل بات کلام چلا رہا ہے صرف رات کے طول کو لیکن ساتھ زمانے کی شکایت بھی ایسے طریقے پر لے کر آئے کلام کہ زمانے کی شکایت بھی آ گئی۔ ”فَإِنَّهُ ضَمَّنَ وَصْفَ اللَّيْلِ بِالطُّولِ الشِّكَايَةَ مِنَ الدَّهْرِ“ اس لیے کہ شاعر نے متضمن کیا وصفِ لیل کے ساتھ کس کو؟ وصفِ لیل جو طول طول کے ساتھ رات کو موصوف کیا، اس کے ساتھ متضمن کیا کس چیز کو؟ زمانے سے زمانے کی شکایت کو بھی متضمن کیا طول کے ساتھ۔
”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”التَّوْجِيهُ“، اور مولانا قسمِ معنوی میں سے ایک توجیہ بھی ہے۔ توجیہ کس کو کہتے ہیں؟ بھئی ایک آپ نے توریہ پڑھا تھا، توریہ میں کیا تھا؟ ایک معنی قریب ہوتا تھا ایک معنی بعید ہوتا تھا، آپ کس کا ارادہ کرتے تھے؟ بعید کا اور مخاطب کیا سمجھتا تھا؟ قریب۔ توجیہ کے اندر بھی اسی طرح ہوتا ہے دو معانی ہوتے ہیں کلام کے اندر، اس کا بھی احتمال ہوتا ہے اور اس کا بھی احتمال ہوتا ہے۔ ”وَيُسَمَّى مُحْتَمَلَ الضِّدَّيْنِ“ اس کو محتمل الضدین بھی کہتے ہیں، ”وَهُوَ إِيرَادُ الْكَلَامِ مُحْتَمِلًا لِوَجْهَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ“ وہ کلام کو لانا ہے ایسا کلام جو احتمالا دو مختلف وجہوں کا ماتن نے کیا کہا؟ دو مختلف وجہوں کا احتمال رکھتا ہو۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں نہیں بھئی، مختلف کہنا نہیں، آپ کو متباینین کہنا چاہیے تھا، دو ضدین کا احتمال رکھتا ہو مولانا، سمجھ میں آیا؟ صرف مختلف ہونا نہیں ایک معنی ہے اور دوسرا بھی معنی پایا جائے دونوں کا احتمال نہیں، یہ دونوں معنی آپس میں کیا ہونے چاہئیں؟ ضدین ہونے چاہئیں پھر توجیہ بنے گی ورنہ نہیں۔ ”أَيْ مُتَبَايِنَيْنِ“ یعنی متباینین ہونے چاہئیں ”مُتَضَادَّيْنِ كَالْمَدْحِ وَالذَّمِّ“ متباینین متضادین ہونے چاہئیں جیسے کہ مدح اور ذم، دیکھو مدح اور ذم کیا ہیں ایک دوسرے کی؟ ضدین ہیں۔ مثال کے طور پر ”وَلَا يَكْفِي مُجَرَّدُ احْتِمَالِ مَعْنَيَيْنِ مُتَغَايِرَيْنِ“ اور صرف دو معانی کے درمیان تغایر ہونے کا احتمال دو معانی متغائرین کا احتمال کافی نہیں، ”كَقَوْلِ مَنْ قَالَ“ جیسے ایک شاعر کہتا ہے اعور مولانا، کانے کو بھئی۔ بھئی ایک درزی تھا کانا تھا، ایک آنکھ تھی اس کی بھئی۔ اس کے پاس ایک شخص لے گیا کپڑا کہ میرے لیے اس سے قبا سی دے بھئی، کوئی خاص کپڑا تھا۔ مثلاً میرے لیے اس سے کوٹ سی دے، لمبا کوٹ۔ درزی نے کہا میں ایسا کوٹ سیوں گا کہ پتہ نہیں چلے گا دیکھنے والے کو کہ یہ کوٹ ہے یا شیروانی ہے، تو اس نے کہا اگر تو نے ایسا کیا تو پھر میں تیرے بارے میں ایسا شعر کہوں گا کہ کسی کو پتہ نہیں چلے گا کہ میں نے تیری تعریف کی ہے یا تیری ہجو بیان کی ہے، مذمت کی ہے۔ چنانچہ درزی نے سیا اور واقعی ایسا سیا کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا یہ کیا کوٹ ہے یا شیروانی ہے۔ چنانچہ اس نے پھر یہ شعر کہا:
”خَاطَ لِي عَمْرٌو قَبَاءً ... لَيْتَ عَيْنَيْهِ سَوَاءُ“
سی ہے میرے لیے عمرو نے قبا، کاش اس کی دونوں آنکھیں ایک جیسی ہو جائیں! کاش اس کی دونوں آنکھیں برابر ہوتیں! اب مولانا حیران ہوتا ہے جو بھی سنتا ہے کہ کیا معنی ہے؟ خراب والی ٹھیک جیسی ہو جائے یا ٹھیک والی بھی خراب جیسی ہو جائے بھئی؟ ”يَحْتَمِلُ صِحَّةَ الْعَيْنِ الْعَوْرَاءِ“ یہ احتمال آنکھ کے صحیح ہونے کا بھی رکھتا ہے عوراء کون سی آنکھ؟ جو کانی تھی، ”فَيَكُونُ دُعَاءً لَهُ“ تو یہ اس کے لیے کیا ہوئی؟ دعا ہوئی، ”أَوِ الْعَكْسَ“ عکس بھی کا بھی احتمال رکھتا ہے ”فَيَكُونُ دُعَاءً عَلَيْهِ“ تو پھر کیا ہوئی؟ دعا کا صلہ لام آ جائے مولانا تو یہ کیا ہے دعا کے معنی میں اور اس کا صلہ علیٰ آ جائے تو اس کا معنی بددعا، تو یہ دعا کا بھی احتمال ہے اس میں بددعا کا بھی۔
”قَالَ السَّكَّاكِيُّ: وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ التَّوْجِيهِ ”مُتَشَابِهَاتُ الْقُرْآنِ بِاعْتِبَارٍ“، علامہ سکاکی فرماتے ہیں توجیہ سے ہی متشابہاتِ قرآن بھی ہیں ایک اعتبار سے۔ متشابہاتِ قرآن بھی ایک اعتبار سے کس سے ہیں؟ توجیہ سے ہیں۔ دیکھو مولانا وہاں ذکر تھا توریہ کے اندر کہ متشابہاتِ قرآن کس میں سے ہیں؟ توریہ میں سے ہیں۔ لیکن کہتے ہیں من وجہ توجیہ میں سے بھی ہیں، توجیہ سے بھی ایک تعلق بنتا ہے کیونکہ جیسے توریہ کے اندر دو معانی ہوتے ہیں توجیہ کے اندر بھی کیا ہوتے ہیں؟ دو معانی ہوتے ہیں، ہاں فرق ہے مولانا۔ توریہ کے اندر ایک معنی قریب ہوتا ہے اور ایک معنی بعید ہوتا ہے جبکہ توجیہ کے اندر دونوں معانی دونوں برابر ہوتے ہیں۔ سمجھ گئے؟ نیز دونوں معانی آپس میں ضدین ہوتے ہیں تو یہ جو ہے مولانا متشابہات توجیہ جیسے بھی ہیں، من وجہ توجیہ جیسے ہیں اور من وجہ توجیہ کے مخالف ہیں۔ توجیہ جیسے کس اعتبار سے ہیں؟ کہ جیسے متشابہات میں کیا ہے؟ دو معانی ہیں مولانا، اور یہاں توجیہ میں بھی کتنے معانی ہوتے ہیں؟ تو یہ توجیہ کی طرح ہوئے اس اعتبار سے۔ اور اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے کہ توجیہ کے اندر تو دونوں معانی برابر ہیں اور وہاں پر ایک معنی قریب ہے اور ایک معنی بعید ہے تو یہ فرق ہے۔ نیز اس لحاظ سے بھی فرق ہے کہ توجیہ کے اندر دونوں معانی آپس میں ضدین ہوتے ہیں اور یہاں پر ضدین ضروری نہیں۔ تو یہ کہتے ہیں مولانا توجیہ میں سے ہی ہے متشابہاتِ قرآن بھی ایک اعتبار سے، کس اعتبار سے اس میں متشابہاتِ قرآن توجیہ میں سے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ احْتِمَالُهَا لِوَجْهَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ“ اور وہ یہ کہ متشابہاتِ قرآن احتمال رکھتے ہیں دو مختلف بھئی متشابہاتِ قرآن میں بھی کیا ہے ایک معنی قریب ہے اور ایک معنی بعید ہے تو دو وجوہ آ گئیں یا نہیں آ گئیں؟ تو یہ توجیہ میں بھی دو وجوہ ہوتی ہیں۔ ”وَتُفَارِقُهُ“ اور یہ مولانا توجیہ متشابہاتِ قرآن جدا ہوتے ہیں توجیہ سے ”بِاعْتِبَارٍ آخَرَ“ دوسرے اعتبار سے۔ بھئی کس اعتبار سے ان میں فرق کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ عَدَمُ اسْتِوَاءِ الِاحْتِمَالَيْنِ“ دونوں احتمالین کا برابر نہ ہونا، حالانکہ توجیہ کے اندر تو دونوں احتمالات کیا ہونے کیا تھے؟ برابر تھے، جبکہ متشابہات کے اندر دونوں احتمال برابر نہیں۔ ”لِأَنَّ أَحَدَ الْمَعْنَيَيْنِ فِي الْمُتَشَابِهَاتِ قَرِيبٌ وَالْآخَرُ بَعِيدٌ“ اس لیے کہ دو معانی میں سے متشابہات میں ایک قریب ہے اور دوسرا بعید ہے اور مراد کون سا ہے؟ بعید ہوتا ہے جیسے آیا تھا مولانا ”يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ“، اب ید کا ایک معنی یہ ہاتھ اور ید کا ایک معنی قدرت کے، تو ید ہاتھ کا معنی قریب اور قدرت کا معنی بعید اور ارادہ کس کا کیا گیا؟ بعید کا۔ ”كَمَا ذَكَرَ السَّكَّاكِيُّ نَفْسُهُ مِنْ أَنَّ أَكْثَرَ مُتَشَابِهَاتِ الْقُرْآنِ مِنْ قَبِيلِ التَّوْرِيَةِ وَالْإِيهَامِ“ جیسے کہ علامہ سکاکی نے خود بھی ذکر کیا ہے کہ اکثر متشابہاتِ قرآن توریہ اور ایہام کے قبیل سے ہیں، توریہ اور ایہام ایک چیز ہیں۔ ”وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ وَجْهُ الْمُفَارَقَةِ“ اور یہ بھی ممکن ہے مولانا کہ وجہ دونوں میں فرق کی مفارقت جدائی توجیہ اور متشابہات میں یہ ہو ”أَنَّ الْمَعْنَيَيْنِ فِي الْمُتَشَابِهَاتِ لَا يَجِبُ تَضَادُّهُمَا“ کہ دونوں معانی جو متشابہات میں آئے تھے ان میں تضاد کا ہونا واجب نہیں جبکہ توجیہ کے اندر دونوں معانی کے متضاد ہونا واجب ہے۔
”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”الْهَزْلُ الَّذِي يُرَادُ بِهِ الْجِدُّ“، اور معنوی قسمِ معنوی میں سے ایک ہزل ہے، وہ مذاق جس سے حقیقت کا ارادہ کیا جائے، جد کہتے ہیں سنجیدگی کو، واقعی بات جو واقعہ کے مطابق ہو۔ تو کیا تو مذاق جائے لیکن ارادہ کس کا ہو؟ سچ کا، مسخر مذاق رہے ہیں لیکن ارادہ سچ کا ہے۔ ”إِذَا مَا تَمِيمِيٌّ أَتَاكَ مُفَاخِرًا فَقُلْ عَدِّ عَنْ ذَا كَيْفَ أَكْلُكَ لِلضَّبِّ“ شاعر کہتا ہے بھئی دیکھو بنو تمیم والے جو ہیں نا وہ گوہ کھایا کرتے تھے، گوہ، ضَبٌّ، جانتے ہیں گوہ؟ چھپکلی کی شکل، بڑا جانور ہے۔ تو اس گوہ کو کھاتے تھے، تو شاعر کہتا ہے اگر تیرے پاس کوئی بنو تمیم والا آئے بھئی فخر کرتا ہوا اکڑتا ہوا آئے بھئی تو اس کو کہو بھئی تیرا فخر کرنے کا کیا کام، تم ذرا یہ مجھے یہ تو بتاؤ تم اپنے گوہ کھانے کا قصہ تو ہمیں سناؤ بھئی، تم کیا کرتے ہو تم لوگ؟ گوہ کو کھایا کرتے ہو۔ تو دیکھو یہ بات مذاق کے طور پر کی اور مراد اس سے کیا ہے؟ حقیقت۔ ”إِذَا مَا تَمِيمِيٌّ أَتَاكَ مُفَاخِرًا“ آئے جب جس وقت آئے تیرے پاس تمیمی اس حال میں کہ وہ فخر کرنے والا ہو، ”فَقُلْ“ تو تو کہہ: ”عَدِّ“، عَدَّى يُعَدِّي تعدیہ کا معنی؟ تجاوز کرنا، ”عَدِّ عَنْ ذَا“ اس سے تجاوز کر جا، بھئی یہ فخر چھوڑ دے اس سے آگے بڑھ جا، فخر چھوڑ دے تجھے فخر نہیں کرنا چاہیے، ”كَيْفَ“ تو مجھے یہ بات سنا: ”كَيْفَ أَكْلُكَ لِلضَّبِّ“ کیسا ہے تیرا گوہ کو کھانا؟ ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔