Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-029

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 26 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مسئلہ چل رہا ہے صدق و کذبِ خبر کا۔ جمہور کے نزدیک کلامِ خبری بند ہے صادق اور کاذب میں، جبکہ جاحظ کہتے ہیں کہ کلامِ خبری صدق اور کذب میں بند نہیں، ایسا کلامِ خبری بھی ممکن ہے جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو۔ اور جمہور اور نظام نے ایک ایک قید ذکر کی تھی، جاحظ دو قیدیں ذکر کرتے ہیں کلامِ صادق کے لیے اور دو قیدیں ذکر کرتے ہیں کلامِ کاذب کے لیے۔ وہ کہتے ہیں کہ کلامِ صادق وہ ہے جو واقع کے بھی مطابق ہو اور اعتقاد کے بھی مطابق ہو، تو وہ کلامِ صادق ہے۔ اور وہ کلام جو واقع کے مطابق بھی نہ ہو اور اعتقاد کے مطابق بھی نہ ہو وہ کلامِ کاذب ہے۔ اور اس کے علاوہ باقی چار صورتیں جو بنتی ہیں ان صورتوں میں نہ کلام صادق ہے اور نہ کاذب ہے، تو واسطہ ثابت ہوا بھئی۔ تو یہاں میں نے بتلایا تھا کل چھ صورتیں بنتی ہیں بھئی۔ واقع کی طرف تو دو صورتیں بنیں کہ واقع کے مطابق ہو گا کلام یا مطابق نہیں ہو گا۔ اور اعتقاد میں تین صورتیں بنتی ہیں: یا اعتقاد کے مطابق ہو گا، یا اعتقاد کے مطابق نہیں ہو گا، یا سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہیں ہو گا۔ تو ان چھ صورتوں میں سے ایک صدق کی ہے، ایک کذب کی ہے اور چار واسطے ہیں۔ صدق کی صورت کہ کلام اعتقاد کے بھی مطابق ہو اور واقع کے بھی مطابق ہو، مثال کے طور پر مومن کہتا ہے: اَللّٰهُ وَاحِدٌ۔ یَرْحَمُکَ اللّٰهُ۔ مومن کہتا ہے اَللّٰهُ وَاحِدٌ، اب یہ کلام واقع کے بھی مطابق ہے اور اس کے اعتقاد کے بھی مطابق ہے، تو یہ کلامِ صادق ہوا۔ اور اس کے مقابلے میں کلامِ کاذب وہ ہے جو نہ واقع کے مطابق ہو نہ اعتقاد کے مطابق ہو، جیسے مومن کہتا ہے مولانا: اَللّٰهُ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ، اللہ تین میں سے ایک، جو کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ تو اب یہ کلام واقع کے مطابق بھی نہیں اور مومن کے اعتقاد کے مطابق بھی نہیں، تو یہ کلامِ کاذب ہوا۔ جبکہ باقی چار صورتیں واسطے کی ہیں۔ پہلی صورت واسطے کی کیا کہ واقع کے تو مطابق ہو لیکن اعتقاد کے مطابق نہ ہو، جیسے عیسائی کہتا ہے: اَللّٰهُ وَاحِدٌ۔ اب اس کا یہ کلام واقع کے تو مطابق ہے لیکن اس کے اعتقاد کے مطابق نہیں۔ دوسری صورت مولانا کہ کلام واقع کے تو مطابق ہو لیکن سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہ ہو، جیسے مجنون کہتا ہے: اَللّٰهُ وَاحِدٌ۔ تو اب یہ کلام واقع کے مطابق ہے لیکن یہاں سرے سے کوئی اعتقاد ہی نہیں کیونکہ مجنون کا اعتقاد نہیں۔ تیسری صورت مولانا کہ کلام واقع کے مطابق نہ ہو لیکن اعتقاد کے مطابق ہو، جیسے عیسائی کہتا ہے: اَللّٰهُ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ، اللہ تین میں سے ایک۔ تو یہ کلام واقع کے مطابق نہیں لیکن اس کے اعتقاد کے مطابق ہے۔ چوتھی صورت کہ کلام واقع کے مطابق نہ ہو اور سرے سے کوئی اعتقاد بھی نہ ہو، جیسے مجنون کہتا ہے: اَللّٰهُ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ۔ اب یہ کلام واقع کے مطابق نہیں اور سرے سے کوئی اعتقاد بھی نہیں۔ پھر اس کے بعد علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا تھا کہ جاحظ کی یہ جو تفسیر کی صدق اور کذب کی، یہ صدق کی تفسیر گزشتہ سابقہ تفسیروں سے اخص ہے اور کذب کی یہ تفسیر گزشتہ دو تفسیروں سے اخص ہے، اس لیے کہ صدق اور کذب دونوں میں گزشتہ تفاسیر میں ایک ایک قید ذکر ہوئی تھی اور یہاں جاحظ نے کتنی قیدیں ذکر کیں؟ دو، اور جتنی قیدیں بڑھتی جائیں گی چیز کے اندر تخصیص بھی بڑھتی جائے گی۔ پھر اس کے بعد مولانا اشکال ہوا تھا کہ ماتن نے تو اپنے کلام میں اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ کو ذکر کیا اور علامہ تفتازانی نے اپنی عبارت میں کس چیز کو ذکر کیا؟ مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ کو۔ تو جاحظ کے کلام میں جو مضاف تھا اس کو علامہ تفتازانی نے مضاف الیہ بنا دیا اور جو مضاف الیہ تھا اس کو مضاف بنا دیا۔ علامہ تفتازانی نے بتلایا کہ کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ کے ساتھ مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ لازم ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو جیسے کلامِ صادق ہے مولانا، کلامِ صادق میں کتنی چیزیں ذکر ہوئیں بھئی؟ ایک تو یہ کہ واقع کے بھی مطابق ہو اور مطابقت کا اعتقاد بھی ہو۔ مثلاً میں نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ زید کھڑا ہے، اب یہ کلام واقع کے مطابق ہے، اور مخبر نے مطابقت کا اعتقاد بھی کیا یعنی اس کا یہ اعتقاد بھی ہے کہ یہ کلام کیا ہے واقع کے مطابق ہے، تو لازمی بات ہے اس کا اعتقاد بھی کیا ہو گیا کہ زید کھڑا ہے۔ تو دیکھو اعتقاد اور واقع ایک ہو گئے: واقع بھی ہے زید کھڑا ہے اور اعتقاد بھی ہے زید کھڑا ہے۔ تو جب دونوں ایک ہو گئے تو جو چیز ایک کے موافق ہو گی وہ دوسرے کے بھی موافق ہو گی، جو ایک کے مطابق ہو گی وہ دوسرے کے بھی مطابق ہو گی۔ اور یہ جو میں نے کہا تھا زَيْدٌ قَائِمٌ یہ واقع کے مطابق ہے، جب واقع کے مطابق ہے تو پھر اعتقاد کے بھی مطابق ہوا۔ تو دیکھا، اعتقاد کے مطابق ہو گیا تو اعتقاد کی مطابقت آ گئی کس کے ساتھ؟ کلامِ خبری کے ساتھ۔ کلام بھی کیا تھا؟ زید کھڑا ہے، اور میرا اعتقاد بھی کیا ہے؟ زید کھڑا ہے، تو دونوں میں مطابقت آ گئی۔ تو دیکھا اعْتِقَادُ الْمُطَابَقَةِ کے ساتھ مُطَابَقَةُ الِاعْتِقَادِ لازم ہے۔ اسی طرح جو ایک کے موافق نہیں ہو گا وہ دوسرے کے موافق بھی نہیں۔ مثلاً میں نے کہا زید کھڑا نہیں ہے، اور واقع میں تو کیا ہے زید کھڑا ہے، اور میں نے اعتقاد بھی یہ کر لیا کہ یہ کلام واقع کے مطابق نہیں۔ کلام تو کیا ہے؟ زید کھڑا نہیں، تو معلوم ہوا میرا اعتقاد کیا ہے کہ زید کھڑا ہے، اور واقع میں بھی زید کھڑا ہے، کذب کی صورت بتلا رہا ہوں بھئی۔ تو میرا اعتقاد بھی یہ ہے کہ زید کھڑا ہے، واقع بھی یہ کہ زید کھڑا ہے، تو دونوں ایک دوسرے کے کیا ہوئے؟ موافق۔ اور جو چیز ایک کے موافق نہیں ہو گی وہ دوسرے کے بھی موافق نہیں ہو گی۔ تو کلام کیا تھا؟ زید کھڑا نہیں، اور واقع کیا ہے؟ زید کھڑا ہے، تو یہ کلام مطابق نہ ہوا کس کے؟ واقع کے۔ جب واقع کے مطابق نہیں تو یقیناً پھر کیا ہے؟ اعتقاد کے مطابق بھی نہیں۔ تو اعتقاد کی عدمِ مطابقت آ گئی مولانا۔ دیکھا، عدمِ مطابقت کے اعتقاد کے ساتھ اعتقاد کی عدمِ مطابقت لازم ہے بھئی۔ دلیل کیا ذکر کی تھی جاحظ نے؟ أَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ۔ جاحظ کہتے ہیں یہ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ سے جو بات مفہوم ہو رہی ہے یعنی أَخْبَرَ حَالَ الْجُنُونِ یعنی اخبار حال الجنون، یہ اخبار حال الجنون نہ صدق ہے اور نہ کذب، اور اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ یہ نہ صدق ہے اور نہ کذب ہے تو ہمارا دعویٰ ثابت ہو جائے گا، واسطہ کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا۔ کہتے ہیں اس سے مراد کذب نہیں اس لیے کیونکہ یہ تو کذب کی قسیم ہے مولانا۔ پہلے کیا آیا؟ أَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا، یا تو اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، تو پہلے قسیم کیا آئی؟ جھوٹ، لازمی بات ہے اس سے کذب مراد نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اس کی قسیم ہے اور قسیمِ شے شے سے کیا ہوتی ہے؟ غیر ہوتی ہے۔ جیسے میں کہتا ہوں یہ عدد یا تو طاق ہے یا یہ عدد کیا ہے؟ جفت ہے۔ تو دیکھو ایک طاق ہے اور ایک جفت ہے، دونوں قسیم ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے غیر ہیں۔ تو قسیم ہمیشہ غیر ہوتی ہے بعینہ وہی نہیں ہوتی، یوں نہیں کہہ سکتے آپ یہ عدد یا طاق ہے یا طاق ہے، یہ تو وہی ہو گیا اور یہ کلام پھر درست نہ رہا۔ تو ماقبل میں آیا کذب، معلوم ہوا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ سے کذب مراد نہیں لے سکتے۔ اور صدق بھی نہیں مولانا، اس لیے کہ کفار کا اعتقاد حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے صدق کا نہیں تھا۔ تو دیکھا یہ نہ صدق ہوا اور نہ کذب ہوا، واسطہ ثابت ہو گیا بھئی۔ جواب دیا تھا کہ یہاں مولانا أَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اس کو جاحظ نے کذبِ مطلق بنایا تھا، ہم کہتے ہیں یہ کذبِ مطلق نہیں مراد بلکہ اس سے کیا مراد ہے؟ کذبِ خاص، ایک خاص کذب مراد ہے۔ تو کلام اصل میں یوں ہے: أَفْتَرٰى أَمْ لَمْ يَفْتَرِ، یا تو ارادے سے جھوٹ بولا ہے یا بغیر ارادے کے جھوٹ بولا ہے۔ ارادے سے جھوٹ بولنا یہ بھی ایک خاص قسم کا جھوٹ ہوا، بغیر ارادے کے جھوٹ بولنا یہ بھی جھوٹ ہے لیکن ایک خاص قسم کا جھوٹ ہے۔ کذبِ مطلق میں تو دونوں داخل ہوتے تھے چاہے ارادے سے جھوٹ ہو چاہے بغیر ارادے کے ہو، ہیں تو دونوں کیا؟ جھوٹ ہیں۔ تو کذبِ مطلق اگر بناتے تو پھر آگے قسیم سے کذب مراد نہیں لے سکتے تھے، لیکن یہاں تو ماقبل میں کذبِ خاص ہے، تو أَمْ سے پہلے ایک قسم کا کذب بیان کیا اور أَمْ کے بعد دوسری قسم کا کذب۔ اب مولانا ماقبل میں بھی کذب، مابعد میں بھی کذب، اور قسیم ایک دوسرے کے مخالف اور مقابل بھی ہے مولانا۔ تو کلام گویا یوں ہوا کہ اس پیغمبر کا یہ کلام ہر حال میں کذب ہے، اور یا تو یہ ارادے کے ساتھ کذب ہے یا بغیر ارادے کے کذب ہے۔ تو جاحظ نے بنایا تھا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ کو کذبِ مطلق کی قسیم اور جمہور نے کیا جواب دیا یہ کذبِ مطلق کی قسیم نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ کذبِ خاص کی قسیم ہے بھئی۔ سب کو سمجھ میں آ گئی بات؟ بِدَلِيلِ أَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ، کیا اللہ پر جھوٹ باندھا ہے أَمْ بِهِ جِنَّةٌ یا ان کو جنون ہے؟ أَفْتَرٰى مولانا اصل میں ہے أَإِفْتَرٰى، افْتَرٰى فعل اس پر ہمزہ استفہام داخل ہوا تو ہمزہ وصلی جو شروع میں تھا وہ گر گیا اس کی ضرورت نہ رہی۔ أَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا کیا اللہ پر جھوٹ باندھا ہے أَمْ بِهِ جِنَّةٌ یا اس کو جنون ہے؟ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ سے کیا مراد ہے مولانا؟ أَيْ أَخْبَرَ حَالَ الْجِنَّةِ، یا خبر دی ہے جنون کی حالت میں۔ لِأَنَّ الْكُفَّارَ حَصَرُوا إِخْبَارَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَشْرِ وَالنَّشْرِ اس لیے کہ کفار نے بند کر دیا حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی خبر کو جو انہوں نے دی تھی بِالْحَشْرِ وَالنَّشْرِ حشر و نشر کے بارے میں، عَلٰى مَا يَدُلُّ عَلَيْهِ قَوْلُهُ تَعَالٰى بنا بر اس کے جس پر دلالت کر رہا ہے اللہ کا یہ قول: إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ کہ جب تم ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے بالکل ریزہ ریزہ، بے شک تم نئے جنم میں آؤ گے۔ تو اس کو کفار نے بند کر دیا، حَصَرُوا سے متعلق ہے فِي الِافْتِرَاءِ، بند کر دیا افتراء میں اور اخبار حال الجنون میں، عَلٰى سَبِيلِ مَنْعِ الْخُلُوِّ کس طریقے پر؟ منع الخلو کے طریقے پر، یعنی ان دونوں سے خالی ہونا ممکن نہیں، ان دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے: یا تو افتراء کیا ہے یا اخبار حال الجنون ہے بھئی۔ وَلَا شَكَّ أَنَّ الْمُرَادَ بِالثَّانِي أَيِ الْإِخْبَارِ حَالَ الْجِنَّةِ اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ثانی سے مراد، ثانی کیا ہے مولانا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی أَمْ بِهِ جِنَّةٌ نہ کہو، اخبار حال الجنون کہو، أَمْ بِهِ جِنَّةٌ سے جو مفہوم ہو رہا ہے مولانا۔ لَا قَوْلِهِ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ، ثانی سے مراد أَمْ بِهِ جِنَّةٌ نہیں ہے عَلٰى مَا سَبَقَ إِلٰى بَعْضِ الْأَوْهَامِ بنا بر اس کے کہ سبقت کی ہے اس نے بعض وہموں کی طرف۔ بعض علماء نے کہتے ہیں وہم کیا ہے کہ ثانی سے کیا مراد ہے؟ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں نہیں، أَمْ بِهِ جِنَّةٌ مراد نہیں بلکہ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ اس کلام سے جو مفہوم ہو رہا ہے اور وہ کیا ہے؟ اخبار حال الجنون۔ بھئی أَمْ بِهِ جِنَّةٌ کیوں نہیں مراد؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ مولانا استفہام ہے: أَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا کیا اللہ پر جھوٹ باندھا ہے أَمْ بِهِ جِنَّةٌ یا کیا انہیں جنون ہے؟ تو استفہام ہے اور استفہام متصف نہیں ہوتا کذب اور صدق کے ساتھ۔ اور یہ عبارت دیکھو ذرا ان کی، یہ کہہ رہے ہیں: أَنَّ الْمُرَادَ بِالثَّانِي غَيْرُ الْكَذِبِ ثانی سے مراد کیا ہے؟ غیرِ کذب مراد ہے، یعنی ثانی سے کذب مراد نہیں۔ تو بھئی کسی چیز کی نفی اس چیز سے کی جاتی ہے جہاں اس کا امکان بھی ہو۔ تو جب أَمْ بِهِ جِنَّةٌ استفہام ہے اور اس میں تو صدق اور کذب کے ساتھ متصف ہونے کا امکان ہی نہیں تو نفی کرنے کا کیا معنی؟ نفی تو اس چیز سے کی جاتی ہے جس میں امکان بھی ہو۔ مثلاً میں کہتا ہوں یہ کتاب دیکھ نہیں سکتی، یہ کلام صحیح ہو گا؟ فائدہ ہے اس کا کوئی؟ نہیں بھئی، نفی میں اس وقت کرتا جب اس میں امکان بھی کس چیز کا ہوتا؟ دیکھنے کا۔ تو لہٰذا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ تو صدق اور کذب سے متصف ہی نہیں ہوتا تو اس میں یہ کہنا کہ اس سے مراد کذب نہیں ہے، بھئی اس میں کذب کا امکان ہی نہیں ہے تو پھر اس صورت میں کذب کی نفی آپ کیسے کر رہے ہیں؟ تو بتلایا مولانا اس سے جو کلام مفہوم ہو رہا ہے یعنی اخبار حال الجنون مراد ہے ثانی سے۔ تو ثانی سے مراد کیا ہوا مولانا؟ غَيْرُ الْكَذِبِ کذب مراد نہیں۔ کیوں کذب مراد نہیں؟ لِأَنَّهُ قَسِيمُهُ أَيْ لِأَنَّ الثَّانِيَ قَسِيمُ الْكَذِبِ، دیکھو ضمائر کے مرجع بتلا دیے: أَنَّهُ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ ثانی کو، اور قَسِيمُهُ کی ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ کذب کو۔ اس لیے مولانا کہ ثانی جو ہے یعنی اخبار حال الجنون جو ہے قَسِيمُ الْكَذِبِ یہ کذب کی قسیم ہے، إِذِ الْمَعْنٰى اس لیے کہ معنی یوں ہے کلام کا: أَكَذَبَ أَمْ أَخْبَرَ حَالَ الْجِنَّةِ کیا جھوٹ بولا ہے یا خبر دی ہے جنون کے حال میں؟ وَقَسِيمُ الشَّيْءِ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ غَيْرَهُ اور شے کی جو قسیم ہوتی ہے واجب ہے کہ وہ اس سے غیر ہو، وہی چیز نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں ثانی سے مراد کذب نہیں، وَغَيْرُ الصِّدْقِ اور صدق بھی مراد نہیں لِأَنَّهُمْ لَمْ يَعْتَقِدُوهُ اس لیے کہ انہیں اعتقاد نہیں تھا، ہا ضمیر راجع ہے صدق کو، انہیں اعتقاد نہیں تھا کس چیز کا؟ صدق کا، یعنی حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے سچا ہونے کا انہیں اعتقاد نہیں تھا اس لیے وہ بھی مراد نہیں۔ أَيْ لِأَنَّ الْكُفَّارَ لَمْ يَعْتَقِدُوا صِدْقَهُ اس لیے کہ کفار کو اعتقاد نہیں تھا حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے صدق کا، فَلَا يُرِيدُونَ فِي هٰذَا الْمَقَامِ الصِّدْقَ الَّذِي هُوَ بَعِيدٌ بِمَرَاحِلَ عَنِ اعْتِقَادِهِمْ پس ارادہ نہیں کیا انہوں نے اس مقام پر صدق کا، وہ صدق جو کہ کوسوں دور ہے عَنِ اعْتِقَادِهِمْ ان کے اعتقاد سے۔ وَلَوْ قَالَ لِأَنَّهُمُ اعْتَقَدُوا عَدَمَ صِدْقِهِ لَكَانَ أَظْهَرَ۔ یہ ذرا مشکل بات ہے بھئی توجہ سے سنو۔ ماتن نے کہا لِأَنَّهُمْ لَمْ يَعْتَقِدُوهُ، ثانی سے مراد یعنی اخبار حال الجنون سے مراد صدق بھی نہیں کیونکہ کفار کو صدق کا اعتقاد نہیں تھا۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں اگر ماتن یوں کہہ دیتے لِأَنَّهُمُ اعْتَقَدُوا عَدَمَ صِدْقِهِ لَكَانَ أَظْهَرَ تو اس صورت میں بات کیا ہوتی ذرا زیادہ ظاہر ہوتی بھئی۔ دیکھو ایک ہے عدمِ اعتقاد ہونا صدق کا، لَمْ يَعْتَقِدُوهُ ذرا اس پہ نظر رکھو بھئی، لَمْ يَعْتَقِدُوا کا کیا معنی ہوا؟ عدمِ اعتقاد، اور کس چیز کا عدمِ اعتقاد؟ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ صدق کو، عدمِ اعتقاد ہونا کس چیز کا؟ صدق کا۔ اور ایک ہے اعتقاد ہونا عدمِ صدق کا۔ ایک میں عدم اعتقاد کے ساتھ لگاؤ اور ایک میں عدم صدق کے ساتھ لگاؤ۔ پہلا کیا تھا؟ عدمِ اعتقاد ہونا کس چیز کا؟ صدق کا۔ دوسرا ہے اعتقاد ہونا کس چیز کا؟ عدمِ صدق کا۔ تو کہتے ہیں اگر عدم صدق کے ساتھ لگا دیتے تو پھر بات کیا ہوتی ذرا زیادہ ظاہر ہوتی۔ وجہ یہ مولانا اس لیے کہ عدمِ اعتقاد ہونا صدق کا اس سے امکانِ صدق، جوازِ صدق اس کی نفی نہیں ہوتی۔ علامہ تفتازانی تقریر کر رہے ہیں بھئی، بڑی مشکل باتیں کرتے ہیں بھئی۔ میں کہتا ہوں مجھے آپ کے صدق کا اعتقاد نہیں، میں نے نفی عدم کس کے ساتھ لگایا ہے؟ اعتقاد کے ساتھ۔ تو اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ میرے نزدیک آپ کا صادق ہونا جائز ہی نہیں ہے، ہو سکتا ہے آپ کیا ہوں؟ صادق ہوں۔ یوں سمجھو آسان لفظوں میں: میں کہتا ہوں مجھے آپ کے سچا ہونے کا یقین نہیں، تو یہ تو میں نے نہیں کہا مجھے آپ کے جھوٹا ہونے کا یقین ہے، میں تو صرف کیا کہہ رہا ہوں مجھے آپ کے سچا ہونے کا یقین نہیں، ہو سکتا ہے آپ سچے ہوں ہو سکتا ہے آپ سچے نہ ہوں، دونوں صورتیں آ گئیں یا نہیں آ گئیں مولانا؟ تو معلوم ہوا میرے نزدیک سچا ہونا بھی آپ کا ممکن ہے۔ لیکن اگر میں یہ کہوں مجھے یقین ہے آپ کے عدمِ صدق کا، معلوم ہوا میں آپ کے سچا ہونے کو ممکن ہی نہیں سمجھتا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ پہلے میں نے کیا کہا تھا؟ مجھے آپ کے سچا ہونے کا یقین نہیں، ہو سکتا ہے آپ سچے ہوں ہو سکتا ہے آپ سچے نہ ہوں، امکان آ گیا۔ لیکن اگر میں کہتا ہوں مجھے یقین ہے کہ آپ سچے نہیں، تو اب امکان ہے میرے نزدیک آپ کے سچا ہونے کا؟ نہیں، اب تو میں کہہ رہا ہوں مجھے یقین ہے آپ سچے نہیں۔ تو صدق کی نفی کس صورت میں پوری طرح ہوتی ہے بھئی؟ جب میں کہوں گا کہ مجھے یقین ہے آپ کے عدمِ صدق کا، تو عدم جب صدق کے ساتھ لگاؤ گے تو اس صورت میں کیا ہو گی؟ نفی ہو گی صدق کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں کہ اس صورت میں بھی بات جو مصنف نے کی بات ظاہر ہے، البتہ جو لفظ میں نے ذکر کیے اگر اس طرح ذکر کر دیتے تو بات کیا ہوتی ذرا زیادہ ظاہر ہوتی۔ مصنف نے جو کیا اس سے بھی بات ظاہر ہے لیکن کچھ خفا ہے، لیکن جو الفاظ میں نے بتائے اس صورت میں پھر خفا بالکل بھی نہیں رہتا۔ کہتے ہیں امکان اس صورت میں بھی نہیں ہے، پہلی صورت میں بھی امکان نہیں ہے، ہاں ذرا تھوڑی تفصیل کر دو کلام کی: کفار کو اعتقاد نہیں تھا حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے سچے ہونے کا اس لیے کہ حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا سچا ہونا ان کے اعتقاد سے کوسوں دور تھا، اتنا دور تھا کہ وہ اس کو جائز ہی نہیں سمجھتے تھے۔ جواز ختم ہوا یا نہیں ہوا؟ اتنا دور تھا کہ وہ اس کو جائز ہی نہیں سمجھتے تھے بھئی۔ تو بس تھوڑی تفصیل کی اس کلام میں اب بات واضح ہو گئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دعویٰ یہ تھا مولانا، یہ دراصل دلیل چل رہی ہے، پہلے دعویٰ یہ کیا کہ ثانی سے مراد کذب نہیں، دلیل اس کی کیا دی؟ کیونکہ ثانی کیا ہے اول کی قسیم ہے اور اول کذب ہے تو لازمی بات ہے ثانی کذب نہیں۔ اور دوسرا دعویٰ ذکر ہوا کہ ثانی سے مراد صدق بھی نہیں ہے، یہ دعویٰ ہے اور دلیل کیا دی؟ لِأَنَّهُمْ لَمْ يَعْتَقِدُوهُ اس لیے کہ انہیں اعتقاد نہیں تھا کس چیز کا؟ صدق کا۔ تو دلیل دعویٰ کے مطابق ہوئی بھئی۔ وَلَوْ قَالَ لِأَنَّهُمُ اعْتَقَدُوا عَدَمَ صِدْقِهِ لَكَانَ أَظْهَرَ اور اگر ماتن یہ کہہ دیتے لِأَنَّهُمُ اعْتَقَدُوا اس لیے کہ ان کفار کو اعتقاد تھا حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے عدمِ صدق کا لَكَانَ أَظْهَرَ تو یہ بات زیادہ ظاہر ہوتی، کس چیز میں زیادہ ظاہر ہوتی؟ مدعا پر دلالت میں بھئی۔ فَمُرَادُهُمْ بِكَوْنِهِ أَخْبَرَ حَالَ الْجِنَّةِ، یہ مولانا اس کو أَخْبَرَ کریں بھئی، بڑی غلطیاں ہیں مولانا اس کتاب میں کتابت کی۔ پس ان کفار کی مراد بِكَوْنِهِ ہا ضمیر راجع ہے ثانی کو، ثانی کے أَخْبَرَ حَالَ الْجِنَّةِ یعنی اخبار حال الجنون ہونے سے کیا ہے؟ غَيْرُ الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ غیرِ صدق ہے اور غیرِ کذب ہے۔ وَهُمْ عُقَلَاءُ، تو جاحظ نے واسطہ ثابت کر دیا کہ جب یہ نہ صدق ہے اور نہ کذب ہے تو کیا ثابت ہو گیا؟ واسطہ۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی یہ آپ نے واسطہ کس کے کلام سے ثابت کیا؟ کفار کے کلام سے، وہ تو کفار ہیں ان کی بات کا تو کوئی اعتبار نہیں! کہتے ہیں بھئی کفار تو ہیں لیکن یہ بات چل رہی ہے لغت کی مولانا، اور وہ کفار کیا تھے اگرچہ ایمان نہیں تھا لیکن اہلِ لسان تھے، اہلِ لغت تھے مولانا، اب لغت کے معاملے میں کیا ہے ان کی بات معتبر ہے۔ تو جب انہوں نے ایک ایسا کلام ذکر کر دیا جو نہ صادق ہے اور نہ کاذب ہے، معلوم ہوا ایسا کلامِ خبری بھی ممکن ہے جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو۔ وَهُمْ عُقَلَاءُ مِنْ أَهْلِ اللِّسَانِ اور وہ عقلاء تھے اہلِ لسان میں سے عَارِفُونَ بِاللُّغَةِ لغت کو جاننے والے تھے، فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْخَبَرِ مَا لَيْسَ بِصَادِقٍ وَلَا كَاذِبٍ پس واجب ہوا کہ ہو خبر میں سے ایسی خبر بھی جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو حَتّٰى يَكُونَ هٰذَا مِنْهُ یہاں تک کہ یہ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ بھی اسی میں سے ہو جائے بِزَعْمِهِمْ کن کے؟ ان کفار کے گمان کے مطابق مولانا، ورنہ تو نفس الامر میں حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا ہیں؟ سچے ہیں۔ وَعَلٰى هٰذَا لَا يَتَوَجَّهُ مَا قِيلَ۔ علامہ خلخالی نے اعتراض کیا تھا، علامہ خلخالی فرماتے ہیں کہ یہ دلیل دعوے کے مطابق نہیں۔ دعویٰ کیا تھا؟ ثانی سے مراد صدق بھی نہیں، اور دلیل کیا تھی؟ کیونکہ انہیں صدق کا یقین نہیں تھا۔ علامہ خلخالی فرماتے ہیں کہ صدق کا یقین نہ ہونا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ صدق بھی نہ ہو۔ بھئی آپ کو ایک شخص کے سچا ہونے کا یقین نہیں تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ سچا نہ ہو، ہو سکتا ہے صادق ہو، تو یہاں پر دلیل دعوے کے مطابق نہیں۔ تو علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں بھئی کہ ماتن نے اس کو عدمِ صدق کی دلیل نہیں بنایا بلکہ عدمِ ارادۂ صدق کی دلیل بنایا ہے اور دونوں میں فرق ہے بھئی! اور جب عدمِ ارادۂ صدق کی دلیل ہوئی تو اب دلیل دعوے کے مطابق ہوئی۔ ماتن نے یہ نہیں کہا کہ انہیں صدق کا یقین نہیں تھا تو اس لیے یہ صدق ہی نہیں ہے، بلکہ کیا کہا کہ کفار نے اس سے صدق کا ارادہ بھی نہیں کیا۔ کفار کو چونکہ حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے سچا ہونے کا یقین نہیں تھا اس لیے انہوں نے اپنے اس کلام سے حضور کے سچا ہونے کا ارادہ بھی نہیں کیا، جب انہیں یقین نہیں ہے کہ وہ سچے ہیں تو اپنے کلام سے ان کے سچا ہونے کا ارادہ بھی نہیں کر سکتے بھئی۔ وَعَلٰى هٰذَا لَا يَتَوَجَّهُ اور بنا بر اس تقریر کے جو ہم نے کی متوجہ نہیں ہوتا مَا قِيلَ وہ جو کہا گیا ہے کہ إِنَّهُ لَا يَلْزَمُ مِنْ عَدَمِ اعْتِقَادِ الصِّدْقِ عَدَمُ الصِّدْقِ کہ لازم نہیں آتا عدمِ اعتقادِ صدق سے عدمِ صدق، لِأَنَّهُ لَمْ يَجْعَلْهُ دَلِيلًا عَلٰى عَدَمِ الصِّدْقِ اس لیے کہ ماتن نے اس کو عدمِ صدق کی دلیل نہیں بنایا بَلْ عَلٰى عَدَمِ إِرَادَةِ الصِّدْقِ بلکہ عدمِ ارادۂ صدق کی دلیل بنایا ہے مولانا، فَلْيُتَأَمَّلْ پس چاہیے کہ اس مقام میں کیا کیا جائے؟ غور کیا جائے بھئی۔ وَرُدَّ هٰذَا الِاسْتِدْلَالُ اور رد کیا گیا اس استدلال کو بِأَنَّ الْمَعْنٰى أَيْ مَعْنٰى أَمْ بِهِ جِنَّةٌ، بتلایا الْمَعْنٰى میں الف لام کیا ہے مولانا عوض ہے مضاف الیہ سے یا یوں کہیں الف لام عہدی ہے مولانا، مراد کیا ہے معنی أَمْ بِهِ جِنَّةٌ ہے، کہ أَمْ بِهِ جِنَّةٌ کا معنی جو ہے أَمْ لَمْ يَفْتَرِ ہے۔ فَعُبِّرَ عَنْهُ أَيْ عَنْ عَدَمِ الِافْتِرَاءِ بِالْجِنَّةِ پس تعبیر کیا گیا عدمِ افتراء کو کس چیز کے ساتھ؟ جنہ کے ساتھ، لِأَنَّ الْمَجْنُونَ لَا افْتِرَاءَ لَهُ اس لیے کہ مجنون کا بھی افتراء نہیں ہوتا لِأَنَّهُ الْكَذِبُ عَنْ عَمْدٍ، ہا ضمیر راجع ہے افتراء کو، اس لیے کہ افتراء جو ہے مولانا کیا ہے کذب عن عمد ہے وَلَا عَمْدَ لِلْمَجْنُونِ اور مجنون کا کوئی عمد اور ارادہ نہیں۔ فَالثَّانِي لَيْسَ قَسِيمًا لِلْكَذِبِ مُطْلَقًا پس ثانی جو ہے یعنی اخبار حال الجنہ یہ قسیم نہیں ہے کذبِ مطلق کی بَلْ لِمَا هُوَ أَخَصُّ مِنْهُ بلکہ اس کذب کی ہے جو اخص ہے کس سے مولانا؟ کذبِ مطلق سے، أَعْنِي الِافْتِرَاءَ یعنی کہ افتراء کی قسیم ہے۔ فَيَكُونُ هٰذَا حَصْرًا لِلْخَبَرِ الْكَاذِبِ بِزَعْمِهِمْ فِي نَوْعَيْهِ پس یہ جو ہے مولانا حصر ہو گا خبرِ کاذب کا اپنے گمان کے مطابق اس کی دو انواع میں، أَعْنِي الْكَذِبَ عَنْ عَمْدٍ وَالْكَذِبَ لَا عَنْ عَمْدٍ یعنی کہ کذب عن عمد اور کذب لا عن عمد بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو کذب اور صدق سے بات خارج نہیں ہوئی مولانا، دونوں صورتوں میں انہوں نے کس چیز کا ارادہ کیا ہے؟ کذب ہی کی دو انواع بنا دیں: ایک افتراء ارادے کے ساتھ، ایک عدمِ افتراء بغیر ارادے کے ساتھ بھئی۔ اچھا بھئی یہاں تک سمجھ میں آ گیا اچھی طرح سب کو؟ چلیے مولانا، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
109 approved lectures · 28 of 109