Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-141

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 27 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 4
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں آپ نے پڑھا کہ علامہ سکاکی جو ہیں استعارہ تبعیہ کو استعارہ بالکنایہ کی طرف لوٹاتے ہیں اور اس کو قرینہ بناتے ہیں استعارہ بالکنایہ کا، اور استعارہ بالکنایہ کو قرینہ بناتے ہیں اس کا یعنی استعارہ تخئیلیہ کا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس استعارہ تبعیہ کا۔ تو وہ استعارہ تبعیہ الگ قسم بناتے ہی نہیں ہیں بلکہ اس کو قرینہ قرار دیتے ہیں استعارہ بالکنایہ کے لیے۔ لیکن مصنف نے اس کلام کو رد کیا بھئی اور فرمایا کہ علامہ سکاکی نے استعارہ تبعیہ کو تسلیم نہیں کیا اور اس کو کس کی طرف لوٹایا ہے؟ بالکنایہ کی طرف۔ کہتے ہیں یہ بات صحیح نہیں اس لیے کہ یہاں پر مثال کے طور پر ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ آیا تھا۔ یہاں نَطَقَت کے اندر یا تو نَطَقَت کا حقیقی معنیٰ مراد ہوگا یا مجازی معنیٰ مراد ہوگا، دو ہی صورتیں ہیں۔ اور اگر اس کا حقیقی معنیٰ مراد ہو تو پھر اس صورت میں علامہ... اس صورت میں استعارہ بالکنایہ آ جائے گا اور استعارہ تخئیلیہ نہیں آئے گا، کیونکہ استعارہ تخئیلیہ میں تو کس چیز کا اثبات کیا جاتا ہے؟ ایک وہمی چیز کا اثبات کیا جاتا ہے، اور نَطَقَت جب حقیقی معنیٰ میں ہوا تو پھر تو یہ وہمی چیز نہیں۔ تو پھر استعارہ بالکنایہ تو آ گیا حال کے اندر لیکن نَطَقَت کے اندر استعارہ تخئیلیہ نہیں آیا، حالانکہ علامہ سکاکی نے خود ذکر کیا ہے کہ استعارہ بالکنایہ کے ساتھ کیا لازم ہے؟ استعارہ تخئیلیہ۔ تو استعارہ بالکنایہ بغیر تخئیلیہ کے رہ جائے گا بھئی۔ اور اگر وہ... جی، اگر وہ اس کو قبول نہیں کرتے بلکہ اس کو کس معنیٰ میں لیتے ہیں؟ حقیقت کے معنیٰ میں نہیں لیتے نَطَقَت کو بلکہ کس معنیٰ میں لیتے ہیں؟ مجازی معنیٰ میں لیتے ہیں تو اس صورت کے اندر نَطَقَت فعل ہے اور فعل میں انہوں نے مجازی معنیٰ کو تسلیم کر لیا تو پھر استعارہ تبعیہ کو انہیں قبول کرنا ہی پڑے گا کیونکہ فعل کے اندر جو استعارہ آ جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تبعیہ کہلاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں یہ جو انہوں نے کہا... تو پہلا قول اگر حقیقت اس سے مراد لیں پھر تو استعارہ تخئیلیہ کا نہ ہونا لازم آتا ہے استعارہ بالکنایہ کے ساتھ، حالانکہ علامہ سکاکی بھی کیا فرماتے ہیں کہ استعارہ بالکنایہ کے ساتھ کیا لازم ہے؟ استعارہ تخئیلیہ۔ اور استعارہ بالکنایہ کے ساتھ تخئیلیہ کا لازم نہ ہونا یہ تو بالاتفاق باطل ہے کیونکہ ان کے نزدیک بھی لازم ہے اور ہمارے نزدیک بھی لازم ہے۔ جی، تو کہتے ہیں اختلاف صرف استعارہ تخئیلیہ کے اندر ہے، استعارہ بالکنایہ میں جمہور کا بھی... جمہور اور علامہ سکاکی کا اتفاق ہے، جمہور بھی کہتے ہیں استعارہ بالکنایہ کے ساتھ استعارہ تخئیلیہ آئے گا، اور علامہ سکاکی بھی فرماتے ہیں کہ استعارہ بالکنایہ کے ساتھ استعارہ تخئیلیہ آئے گا۔ لیکن اس کا برعکس جو ہے کہ تخئیلیہ کے ساتھ کنایہ لازم ہے یا کنایہ لازم نہیں ہے اس میں اختلاف ہے۔ جمہور کہتے ہیں جہاں استعارہ تخئیلیہ آئے گا ساتھ استعارہ بالکنایہ بھی آئے گا، لیکن علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ جہاں استعارہ تخئیلیہ آئے وہاں پر استعارہ بالکنایہ کا ہونا لازم نہیں۔ کہتے ہیں ہماری اس تقریر سے علامہ صدر الشریعہ کی ایک تقریر بھی رد ہو گئی جنہوں نے اس مقام پر یہ تقریر کی کہ علامہ سکاکی نے جو فرمایا تھا ان کے کہنے کا یہ مطلب کہ استعارہ بالکنایہ جدا نہیں ہوتا تخئیلیہ سے۔ علامہ سکاکی نے کیا فرمایا؟ کہ استعارہ بالکنایہ استعارہ تخئیلیہ سے جدا نہیں ہوتا۔ ان کا معنیٰ یہ تھا کہ تخئیلیہ بغیر کنایہ کے نہیں آتا۔ تخئیلیہ بغیر کنایہ کے نہیں آتا۔ مصنف فرماتے ہیں نہیں بھئی، ابھی ہم نے آپ کو بتایا ہے کہ تخئیلیہ کے اندر... بغیر استعارہ بالکنایہ کے بغیر آ سکتا ہے ان کے نزدیک، اس میں اسی میں تو اختلاف ہے، اور باقی استعارہ بالکنایہ بغیر تخئیلیہ کے آتا ہے یا نہیں آتا اس میں تو اتفاق ہے، دونوں کے نزدیک استعارہ بالکنایہ بغیر تخئیلیہ کے نہیں آ سکتا۔ ہاں کہتے ہیں منازعہ ہو سکتا ہے مصنف کے ساتھ، انہوں نے کہا نا کہ استعارہ بالکنایہ کے ساتھ تخئیلیہ کا لازم نہ ہونا باطل ہے، یعنی لازم ہے اس کے ساتھ، اور بالاتفاق۔ کہتے ہیں یہ بالاتفاق کی قید جو لگائی ہے انہوں نے اس میں اس کا منازعہ ہو سکتا ہے کہ بھئی یہ بات اتفاقی نہیں ہے۔ علامہ زمخشری کے نزدیک انہوں نے جو تقریر کی ہے کس کے اندر؟ ﴿الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللهِ﴾، اس کے اندر استعارہ بالکنایہ تو موجود، عہد کو تشبیہ دی گئی رسی کے ساتھ، اور مشبہ مذکور اور مشبہ بہ مذکور نہیں تو یہ تو استعارہ بالکنایہ ہوا، لیکن یَنْقُضُونَ بمعنیٰ کس کے ہے؟ ابطال کے ہے، اس میں بھی استعارہ ہے اور یہ استعارہ مصرحہ ہے، تو دیکھو استعارہ بالکنایہ کے ساتھ استعارہ مصرحہ آ رہا ہے یعنی استعارہ بالکنایہ نہیں آیا... استعارہ تخئیلیہ نہیں آیا۔ استعارہ بالکنایہ تو آ گیا لیکن اس کے ساتھ استعارہ تخئیلیہ نہیں آیا بھئی۔ تو اتفاق میں اس میں جو انہوں نے کہا اتفاقی بات ہے یہ، اس میں جھگڑا ہو سکتا ہے کہ یہ تو اتفاقی بات نہیں ہے، علامہ زمخشری بالکنایہ کو ذکر کیا انہوں نے بغیر تخئیلیہ کے۔ کہتے ہیں کہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بالاتفاق سے مراد تمام علماء نہیں مراد، صرف مصنف اور علامہ سکاکی یعنی دونوں مقابل مراد ہیں۔ تو کہتے ہیں دونوں کا اتفاق ہے اس بات میں مصنف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میرا بھی اور علامہ سکاکی کا بھی کس چیز کے اندر؟ کہ بالکنایہ تخئیلیہ کے بغیر نہیں آتا۔ لیکن کہتے ہیں یہ بات بھی صحیح نہیں اس لیے کہ مفتاح العلوم کے اندر مجاز عقلی کی بحث کے اندر علامہ سکاکی نے ذکر کیا ہے، جیسے ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“، وہ فرماتے ہیں الربیع کے اندر استعارہ بالکنایہ ہے، اس کو تشبیہ دی گئی فاعل حقیقی کے ساتھ تو یہ مشبہ ہوا فاعل حقیقی مشبہ بہ، اور عبارت میں کون مذکور؟ مشبہ مذکور، اور یہ استعارہ بالکنایہ ہوا اور اس کا قرینہ انبات کی جو نسبت ہو رہی ہے ربیع کی طرف، اور انبات تو کیا ہے؟ کوئی خیالی چیز نہیں بلکہ کیا ہے؟ حقیقت ہے۔ تو یہاں پر یہ کیا ہو گیا؟ استعارہ بالکنایہ تو آ گیا لیکن ساتھ استعارہ تخئیلیہ نہیں آیا۔ معلوم ہوا علامہ سکاکی کے نزدیک بھی استعارہ بالکنایہ کے ساتھ استعارہ تخئیلیہ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا یہ بات بالاتفاق کسی صورت میں نہیں ہے، نہ مصنف اور علامہ سکاکی کے درمیان اور نہ جمہور کے درمیان۔ کہتے ہیں بہرحال مصنف پر اگرچہ اعتراض وارد ہو بھی جائے لیکن پھر بھی علامہ سکاکی سے اعتراض دفع نہیں ہوتا۔ علامہ سکاکی کیا وہ تبعیہ کا انکار کر رہے تھے، تبعیہ کو انہیں ماننا ہی پڑے گا کیونکہ انہوں نے کیا ذکر کیا ہے کہ نَطَقَت ایک امرِ وہمی ہے۔ نَطَقَت کیا ہے؟ امرِ وہمی مراد ہے اس سے۔ نَطَقَت سے امرِ وہمی مراد ہے اور امرِ وہمی کس کے اندر آتا ہے؟ استعارہ تخئیلیہ کے اندر آتا ہے، استعارہ تخئیلیہ۔ تو معلوم ہوا جب نَطَقَت سے امرِ وہمی مراد ہوا تو مجاز آ گیا فعل کے اندر، اور جب فعل کے اندر مجاز آ گیا تو انہیں کیا ماننا پڑے گا؟ استعارہ تبعیہ ماننا ہی پڑے گا بھئی۔ نیز علامہ سکاکی کے اپنے کلام میں بھی تضاد آ گیا، انہوں نے مجاز عقلی کی بحث میں کہا کہ استعارہ بالکنایہ استعارہ تخئیلیہ کے بغیر آ سکتا ہے، اور یہاں پر وہ کہہ رہے ہیں کہ استعارہ بالکنایہ تخئیلیہ سے جدا نہیں ہوتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ علامہ سکاکی نے لوٹایا ہے استعارہ تبعیہ کو استعارہ بالکنایہ کی طرف۔ کہتے ہیں بھئی نَطَقَت کے اندر یا تو ان کو کیا ماننا پڑے گا؟ حقیقت ماننا پڑے گی، حقیقت مانیں گے تو پھر تو یہ استعارہ تخئیلیہ نہ رہا تو استعارہ بالکنایہ آ گیا بغیر کس کے؟ تخئیلیہ کے۔ اور اگر وہ مان لیتے ہیں تو پھر ان کو کیا کرنا پڑے گا؟ استعارہ تبعیہ کو قبول کرنا ہی پڑے گا۔ اس پر بعضوں نے یہ جواب دینے کی کوشش کی تھی ”وَقَدْ يُجَابُ“، یہ مولانا ”قَدْ يُجَابُ“ کے ذریعے میں نے ذکر کیا تھا کون سا جواب ذکر کیا جاتا ہے؟ کمزور ضعیف جواب کو ذکر کیا جاتا ہے، ”اللَّهُمَّ“، ”قِيلَ“ اور ”قَدْ يُجَابُ“ کے ذریعے۔ تو ”قَدْ يُجَابُ“ کے ذریعے اس لیے ذکر کیا کہ کمزور جواب ہے۔ آپ نے کیا کہا؟ کہ علامہ سکاکی نے نَطَقَت میں مجاز مان لیا، کیا مان لیا؟ مجاز۔ اور جب نَطَقَت میں مجاز مانا تو یہ مجاز آیا فعل کے اندر اور استعارہ ہوا، اور یہ فعل کے اندر جو استعارہ آ جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تبعیہ۔ لہٰذا علامہ سکاکی کو کیا ماننا پڑے گا؟ استعارہ تبعیہ کو ماننا ہی پڑے گا۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، نَطَقَت میں وہ مجاز تسلیم کر لیں پھر بھی ان کے لیے استعارہ تبعیہ کو ماننا ضروری نہیں، اس لیے کہ مجاز دو قسم پر ہے: ایک وہ جن میں علاقہ تشبیہ کا ہو، ایک وہ جن میں علاقہ غیر تشبیہ کا ہو۔ تو ہو سکتا ہے یہاں پر وہ کیا مراد لیں مولانا؟ علاقہ تشبیہ کا نہ مراد لیں بلکہ کون سا؟ غیر تشبیہ کا مراد لیں، تو اس صورت میں یہ کیا بن جائے گا؟ مجازِ مرسل۔ تو دیکھو استعارہ بالکنایہ آیا اور اس کے ساتھ نَطَقَت فعل آیا اور فعل بھی مجاز ہے لیکن اس کے باوجود یہ استعارہ تبعیہ نہیں بن رہا بلکہ یہ کیا بن رہا ہے؟ مجازِ مرسل بن رہا ہے۔ اس پر ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ کہہ کر مصنف نے تین اعتراضات کیے مولانا کہ اس پر تین اعتراضات ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ پہلے... پہلا اعتراض یہ کہ علامہ سکاکی نے خود تصریح کی ہے کہ نَطَقَت یہاں امرِ وہمی مراد ہے، نَطَقَت کیا ہے؟ اس سے امرِ وہمی مراد ہے، اور اگر اس میں مجازِ مرسل ہوتا تو پھر تو اس سے امرِ وہمی مراد نہ ہوتا بلکہ کیا مراد ہوتا؟ امرِ حقیقی مراد ہوتا، امرِ حقیقی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ نَطَقَت بمعنیٰ دلالت کے ہوتا، اور دلالت... اور دلالت کیا ہے؟ امرِ حقیقی ہے یا وہمی ہے دلالت کرنا حال کا؟ جی، یہ حقیقت ہے۔ دوسرا مولانا کہ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو پھر بہت سی مثالوں کے اندر یہ جاری ہی نہیں ہوتا مجازِ مرسل، بہت سی مثالوں کے اندر جہاں علاقہ... اس نَطَقَت کے اندر تو علاقہ تشبیہ کا بنانا بھی ممکن تھا غیر تشبیہ کا بنانا بھی ممکن تھا، لیکن باقی دیگر مثالوں میں ہر جگہ اس طرح نہیں ہوتا، وہاں علاقہ صرف تشبیہ ہی کا جاری ہو سکتا ہے دوسرا کوئی علاقہ جاری ہی نہیں ہو سکتا، تو وہاں پر وہ کیا کریں گے؟ تیسرا جواب یہ کہ اگر آپ کی بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ یہاں پر کیا ہے؟ کہ یہاں استعارہ تبعیہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مجازِ مرسل، یہ بات تسلیم کر لی جائے تو پھر اس صورت میں وہی پہلا اعتراض دوبارہ لوٹے گا کہ یہ تو مجازِ مرسل ہوا کس کے ساتھ؟ استعارہ بالکنایہ کے ساتھ، تو استعارہ بالکنایہ پھر بغیر تخئیلیہ کے آ گیا، اور آپ نے کیا کہا تھا؟ یہ بغیر تخئیلیہ کے نہیں آتا۔ اس پر پھر علامہ تفتازانی کہتے ہیں کہ ممکن ہے اس کا جواب یہ دیا جائے کہ عدمِ انفکاک سے یہ مراد نہیں ہے مولانا کہ عقلاً ممکن ہی نہیں ہے اس سے جدا ہونا، جہاں بھی بالکنایہ آئے وہاں کیا آئے گا؟ استعارہ تخئیلیہ، یہ مراد نہیں۔ عدمِ انفکاک سے یہ مراد نہیں ہے کہ لازم ہے اس کے ساتھ، بلکہ معنیٰ یہ ہے کہ بلغاء اور فصحاء کے کلام میں ایسا ملتا نہیں ہمیں کہ استعارہ بالکنایہ ہو اور استعارہ تخئیلیہ ساتھ نہ ہو۔ یہ شائع اسی طرح ہے کہ جہاں بالکنایہ آئے گا وہاں پر تخئیلیہ آئے گا۔ اور باقی علامہ سکاکی نے جو بات کی وہ صحیح ہونے کے اعتبار سے کی کہ جدا نہیں... جدا نہیں ہو سکتا، کیا معنیٰ؟ ہاں، اور آپ کلام کر رہے ہیں صحیح ہونے کے بارے میں، آپ کلام کیا کر رہے ہیں؟ صحیح ہونے کے بارے میں کلام کر رہے ہیں کہ وہ تو ہم بھی کہتے ہیں کہ استعارہ... اور آپ کا کلام صحیح ہونے کے بارے میں... صحیح ہونے کے لحاظ سے تو ٹھیک ہے مولانا، استعارہ بالکنایہ استعارہ تخئیلیہ کے بغیر آ سکتا ہے لیکن بلغاء کے کلام میں آیا نہیں ہے بھئی۔ جیسے مولانا صاحبِ کشاف نے اللہ کے اس قول میں ذکر کیا: ﴿الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللهِ﴾، یہاں پر عہد کو تشبیہ دی ہے رسی کے ساتھ، اور مشبہ مذکور اور مشبہ بہ مذکور نہیں یہ کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ۔ اور یَنْقُضُونَ اس کے... یَنْقُضُونَ بمعنیٰ ابطال کے ہے، یہ مجاز ہے مولانا، کیونکہ عہد کو توڑا نہیں جاتا بلکہ اس کو باطل کیا جاتا ہے، تو یَنْقُضُونَ میں استعارہ یہ کس کے معنیٰ میں؟ ابطالِ... ابطالِ عہد کو تشبیہ دی نقضِ حبل کے ساتھ مولانا، تو ابطال مشبہ اور نقض کیا ہے؟ مشبہ بہ، اور عبارت میں کیا مذکور ہے؟ مشبہ بہ، تو یہ کیا کہلایا؟ استعارہ مصرحہ مولانا کہ مشبہ بہ عبارت میں مذکور ہو۔ اور ابطالِ عہد مولانا یہ امرِ وہمی ہے یا امرِ حقیقی ہے؟ امرِ حقیقی ہے۔ لہٰذا یہ علامہ سکاکی کے نزدیک استعارہ تخئیلیہ نہیں ہوا، نیز جمہور کے نزدیک بھی تخئیلیہ نہیں ہوا کیونکہ جمہور نے تخئیلیہ کی تعریف کی تھی کہ مشبہ بہ کے لازم کو کس کے لیے ثابت کیا جائے؟ مشبہ کے لیے، اور یہاں پر عہد کے لیے ہم نقض کو ثابت نہیں کر رہے بلکہ نقض تو خود استعارہ ہے کس سے؟ ابطال سے، تو عہد کے لیے ابطال ثابت کر رہے ہیں اور ابطال تو آتا ہی عہد کے لیے ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں استعارہ بالکنایہ تو ہے لیکن استعارہ تخئیلیہ نہ علامہ سکاکی کے نزدیک ہے اور نہ جمہور کے نزدیک ہے، تو دیکھو اس معلوم ہوا استعارہ بالکنایہ بغیر تخئیلیہ کے آ سکتا ہے۔ اور اسی طرح صاحبِ مفتاح علامہ سکاکی نے خود بھی ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“ کے اندر انہوں نے کیا کہا؟ استعارہ بالکنایہ موجود ہے اور ساتھ استعارہ تخئیلیہ نہیں ہے۔ تو خلاصۂ کلام یہ علامہ سکاکی کے مذہب کا کہ استعارہ بالکنایہ کے لیے... استعارہ بالکنایہ جہاں بھی آئے گا اس کے لیے قرینہ چاہیے، وہ قرینہ کبھی استعارہ تخئیلیہ ہو سکتا ہے، کبھی استعارہ تحقیقیہ ہو سکتا ہے اور کبھی حقیقت ہو سکتی ہے، کبھی حقیقت ہو سکتی ہے بھئی۔ جیسے مولانا قرآن میں آتا ہے: ﴿يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ﴾، اے زمین اپنے پانی کو نگل جا، تو یہاں ماء کو تشبیہ دی ہے مولانا کس کے ساتھ؟ ماء کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ غذا کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ غذا کے ساتھ۔ تو مشبہ مذکور اور مشبہ بہ مذکور نہیں یہ کیا بن گیا؟ استعارہ بالکنایہ۔ اور پھر مولانا اس پانی کا گہرائی میں جانا اس کو تشبیہ دی ہے نگلنے کے ساتھ، غذا کے نگلنے کے ساتھ، تو مشبہ پانی کا گہرائی میں جانا اور مشبہ بہ غذا کا نگلنا، اور عبارت میں کون مذکور ہے مولانا؟ نگلنا مشبہ بہ مذکور ہے تو یہ کیا ہوا؟ استعارہ مصرحہ یعنی استعارہ مصرحہ اور یہ حقیقی ہے، استعارہ مصرحہ کو کیا کہتے ہیں؟ تحقیقیہ بھی کہتے ہیں مولانا۔ تو دیکھو استعارہ بالکنایہ کا قرینہ استعارہ تحقیقیہ آ گیا، اور جامع ہے دونوں کے درمیان چیز کا مقرِ خفی میں پہنچنا۔ چیز کا مقرِ خفی میں... یعنی ایسی قرار والی جگہ جو خفی ہو، جب غذا بھی کھائیں گے تو کیا ہے؟ مقر میں پہنچ گئی جہاں وہ ٹھہرے گی، اور یہ مقر کیا ہے؟ خفی ہے۔ اسی طرح پانی جب گہرائی میں جائے گا تو کہاں پہنچ گیا؟ ٹھہرنے کی جگہ، اور مقر اور وہ مقر کیا ہے؟ خفی ہے۔ ”فَصْلٌ فِي شَرَائِطِ حُسْنِ الِاسْتِعَارَةِ“ ”حُسْنُ كُلٍّ مِنَ الِاسْتِعَارَةِ التَّحْقِيقِيَّةِ وَالتَّمْثِيلِ عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِعَارَةِ بِرِعَايَةِ جِهَاتِ حُسْنِ التَّشْبِيهِ كَأَنْ يَكُونَ وَجْهُ الشَّبَهِ شَامِلًا لِلطَّرَفَيْنِ وَالتَّشْبِيهُ وَافِيًا بِإِفَادَةِ مَا عُلِّقَ بِهِ مِنَ الْغَرَضِ وَنَحْوِ ذَلِكَ، وَأَنْ لَا يُشَمَّ رَائِحَتَهُ لَفْظًا“۔ یہ فصل ہے مولانا استعارے کے حسن کے شرائط میں۔ استعارے میں حسن کے ہونے کے لیے کیا شرائط ہیں ان کو ذکر کریں گے، کب استعارہ اچھا ہے اور کب اچھا نہیں ہے۔ دو باتیں بتلائیں گے مولانا آپ کو: کہ چونکہ استعارے کی بنا ہے تشبیہ پر، استعارے کی علاقہ کون سا ہوتا ہے استعارے میں؟ تشبیہ۔ لہٰذا جو چیزیں تشبیہ میں حسن کا سبب بنتی تھیں وہی چیزیں استعارے میں بھی حسن کا سبب بنیں گی۔ جو چیزیں تشبیہ میں حسن کا سبب بنتی تھیں مولانا تشبیہ کی فصل میں آپ نے پڑھیں وہی چیزیں استعارے میں بھی حسن کا سبب بنیں گی۔ دوسرا یہ کہ استعارے کو تشبیہ کی بو نہیں سونگھانی چاہیے بھئی۔ استعارے کو تشبیہ کی بو نہیں سونگھانی، یعنی اس کے وہاں سے تشبیہ کا پتہ نہ چلتا ہو، الفاظ سے کیا ہے تشبیہ کا پتہ نہ چلتا ہو، کوئی ایسی چیز ساتھ ذکر نہ ہو جس سے دلالت ہو رہی ہو تشبیہ پر، اشارہ ہو رہا ہو تشبیہ کی طرف۔ تو کتنی وجہیں ذکر کیں مولانا؟ دو وجہیں۔ استعارے میں حسن پیدا ہوتا ہے کس طرح؟ دو شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے جو چیزیں تشبیہ میں حسن کا سبب بنتی تھیں انہی چیزوں کی رعایت استعارے میں رکھیں گے تو یہ استعارے میں بھی کیا پیدا کرے گا؟ حسن پیدا کرے گا۔ دوسری یہ کہ استعارے کے اندر تشبیہ کی جانب اشارہ نہیں ہونا چاہیے کسی بھی لحاظ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دو وجہیں ذکر کریں گے، دیکھیے بھئی۔ ”حُسْنُ كُلٍّ مِنَ الِاسْتِعَارَةِ التَّحْقِيقِيَّةِ وَالتَّمْثِيلِ عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِعَارَةِ“ حسن ہر ایک کا استعارہ تحقیقیہ اور تمثیل علی سبیل الاستعارہ کا، بھئی استعارہ تحقیقیہ تو آپ جانتے ہیں، مصنف نے کیا ذکر کیا تھا مولانا؟ اب تک ہم چار استعارات پڑھ چکے ہیں بھئی، جی؟ ایک استعارہ تحقیقیہ مصرحہ جس کے اندر مشبہ بہ مذکور ہوتا ہے اور مشبہ محذوف، دوسرا... پھر استعارہ بالکنایہ پڑھا جس میں مشبہ مذکور اور مشبہ بہ محذوف، اس کے بارے میں تو مصنف نے بتایا یہ استعارہ ہے ہی نہیں، نام کا استعارہ ہے صرف، یہ دراصل استعارہ نہیں ہے۔ اور تیسرا ایک مولانا تین مجاز اور اس کے ساتھ پھر تخئیلیہ آئے گا مولانا، کتنے تین ہو گئے، اور چوتھا کیا تھا؟ تمثیل، تمثیل علی سبیل الاستعارہ، وہ کیا ہے؟ مجازِ مرکب ہے۔ تو یہ استعارہ تحقیقیہ، استعارہ بالکنایہ، استعارہ تخئیلیہ... بلکہ استعارہ تحقیقیہ یہ ہے مفرد کے اندر اور تمثیل علی سبیل الاستعارہ یہ کس کے اندر ہے؟ مرکب کے اندر ہے۔ تو حسن چاہے استعارہ مفرد کے اندر ہو یا تمثیل علی سبیل الاستعارہ یعنی مرکب کے اندر ہو، ”بِرِعَايَةِ جِهَاتِ حُسْنِ التَّشْبِيهِ“ وہ کس طرح آئے گا؟ حسنِ تشبیہ کی کی وجہوں کی رعایت رکھنے سے۔ وہ کیا ہے مثال کے طور پر؟ ”كَأَنْ يَكُونَ وَجْهُ الشَّبَهِ شَامِلًا لِلطَّرَفَيْنِ“ جیسے کہ مولانا کہ وجہِ شبہ شامل ہو دونوں طرفین کو، یعنی دونوں مشبہ میں بھی وجہِ تشبیہ پائی جائے اور مشبہ بہ میں، اس سے حسن آئے گا۔ بھئی یہ تو بھئی یہ تو ضروری ہے استعارے کے اندر، تشبیہ کے اندر ضروری ہے مولانا کہ وجہِ تشبیہ مشبہ میں بھی پائی جائے اور مشبہ بہ میں، اگر ایک میں پائی جائے ایک میں نہ پائی جائے پھر تو صحیح ہی... تو یہ تو صحیح ہونے کی شرط ہے، آپ اس کو حسن کی شرط کیسے قرار دے رہے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی بعضوں نے پھر یہ جواب دیا کہ مراد یہ ہے کہ وجہِ تشبیہ جو ہے اگر مشبہ کے مفہوم کا جز ہے تو مشبہ بہ کے بھی مفہوم کا جز ہو، اور اگر وجہِ تشبیہ مشبہ کے ساتھ لازم ہے تو مشبہ بہ کے ساتھ بھی لازم ہو۔ یعنی جس طرح مشبہ میں وہ... مشبہ بہ میں پائی جا رہی ہے اسی طرح وہ مشبہ میں بھی پائی جائے۔ یہ نہ ہو ایک میں تو مفہوم کا جز ہو اور دوسرے کے ساتھ لازم ہو۔ اگر ایک میں مفہوم کا جز تو دوسرے میں بھی مفہوم کا جز، ایک کے ساتھ لازم تو دوسرے کے ساتھ بھی لازم، ہاں یہ معنیٰ نہیں ایک کے... ان میں ہے مفہوم کا جز اور دوسرے کے ساتھ ہے لازم ہے، یہ معنیٰ ہے۔ ”وَالتَّشْبِيهُ وَافِيًا“ دوسرا تو یہ ایک حسن پیدا ہوگا کہ دونوں میں وجہِ تشبیہ پائی جائے، نیز وہ تشبیہ جو ہے ”وَافِيًا بِإِفَادَةِ“ وہ کافی ہو اس چیز کا فائدہ دینے میں ”عُلِّقَ بِهِ“ جس کو اس تشبیہ کے ساتھ معلق کیا گیا ہے۔ جس چیز کو تشبیہ کے ساتھ معلق کیا گیا ہے اس کے لیے وہ... بھئی تشبیہ کو کس کے لیے معلق کیا گیا ہے؟ ”مِنَ الْغَرَضِ“ یعنی کہ یہ تشبیہ آپ نے کیوں ذکر کی بھئی؟ کہ غرض تھی آپ کی۔ تو یعنی تشبیہ غرض کا بھی پورا فائدہ دے، تشبیہ غرض کا بھی پورا فائدہ دے پھر اس وقت مولانا اس میں حسن پیدا ہوگا۔ مثال کے طور پر مولانا ایک شخص ہے وہ اپنی معشوقہ کا حسن بیان کرنا چاہتا ہے اور معشوقہ ہے اس کی کالی سیاہ، اب وہ اس کو مزین کر کے آپ کی نگاہ میں پیش کرنا چاہتا ہے تو کہتا ہے: میری معشوقہ جو ہے وہ ہرن کی آنکھ ہے، وہ کیا ہے؟ ہرن کی آنکھ۔ ہرن کی آنکھ بھی دیکھو سیاہ ہوتی ہے لیکن حسن کے اندر اس کی مثال ذکر کی جاتی ہے۔ تو دیکھو اب یہ تشبیہ ہے، استعارہ ہے اور اس کے اندر کیا آ گیا؟ مقصد پوری طرح آ گیا، حسن کو اس نے کیا کر دیا؟ بیان کر دیا۔ اس کے بجائے اگر وہ یوں کہے کرنا مزین چاہتا ہے، کہتا ہے: میری جو معشوقہ ہے وہ کوا ہے کوا بھئی! اب دیکھو تشبیہ یہاں بھی رنگ کے اندر ہے، وہاں بھی کس کے اندر ہے؟ لیکن کیا غرض حاصل ہو رہی ہے؟ تزیین تزیین اور حسن بیان ہو رہا ہے اس مثال سے؟ اس استعارے سے نہیں حاصل ہو رہا۔ لہٰذا کہتے ہیں دوسرا یہ کہ وہ غرض بھی پوری طرح ادا ہو جائے، ”وَنَحْوُ ذَلِكَ“ اور اس جیسی اور چیزیں جو تشبیہ میں بیان ہوئیں۔ ”وَأَنْ لَا يُشَمَّ رَائِحَتَهُ لَفْظًا“ اور یہ کہ نہ سونگھائی جائے... نہ سونگھایا جائے استعارے کو ”رَائِحَتَهُ لَفْظًا“، کس کی بو؟ تشبیہ کی بو، اس استعارے کو نہ سونگھائی جائے لفظاً باعتبارِ لفظ کے۔ بھئی لفظ کی قید اس لیے لگائی اس لیے کہ معنیٰ کے اندر تو استعارے میں تشبیہ ہے ہی مولانا کیونکہ وہاں علاقہ کون سا ہے؟ تشبیہ کا۔ تو معنیٰ میں تو تشبیہ ہے لیکن لفظوں کے اندر آپ کوئی تشبیہ کی بو نہ دیں۔ ”أَيْ بِأَنْ لَا يُشَمَّ شَيْءٌ مِنَ التَّحْقِيقِيَّةِ وَالتَّمْثِيلِ“ کہ نہ سونگھائی جائے کسی چیز کو بھی تحقیقیہ اور تمثیل میں سے ”رَائِحَةَ التَّشْبِيهِ مِنْ جِهَةِ اللَّفْظِ“ تشبیہ کی بو لفظ کی جہت سے۔ ”لِأَنَّ ذَلِكَ“ بھئی کیوں؟ یہ آپ نے کیوں کہا کہ استعارے کو تشبیہ کی بو بھی نہیں سونگھانی لفظوں کے اعتبار سے؟ کہتے ہیں اس لیے بھئی کہ استعارے کے اندر مبالغہ ہے، ہم نے مشبہ کو بھی کس کی جنس میں داخل کر دیا؟ مشبہ بہ کی جنس میں داخل کر دیا، تو اس میں مبالغہ ہے۔ اور جبکہ تشبیہ کے اندر ادنیٰ کو کس سے ملایا جاتا ہے؟ اعلیٰ سے ملایا جاتا ہے، تو یہاں پر ہم کیا کر رہے ہیں مبالغہ کر کے اس کی جنس میں داخل کر رہے ہیں اور ساتھ تشبیہ کا اشارہ آ گیا، تو تشبیہ تو بتلائے گی ایک اعلیٰ ہے ایک ادنیٰ ہے دونوں برابر نہیں ہیں، تو غرض کیا ہو جائے گی؟ فوت ہو جائے گی۔ ”لِأَنَّ ذَلِكَ يُبْطِلُ الْغَرَضَ مِنَ الِاسْتِعَارَةِ“ اس لیے کہ یہ اشمام جو ہے یہ جو بو سونگھانا ہے یعنی تشبیہ کی طرف اشارہ جو ہے باطل کر دے گا استعارے کی غرض کو، ”أَعْنِي ادِّعَاءَ دُخُولِ الْمُشَبَّهِ فِي جِنْسِ الْمُشَبَّهِ بِهِ“ یعنی مشبہ کا مشبہ بہ کی جنس میں داخل کرنے کا جو دعویٰ ہے اس کو، ”لِمَا فِيهِ مِنَ التَّشْبِيهِ“ بوجہ اس کے کہ اس کے اندر کیا آ جائے گی؟ تشبیہ ہوگی، یعنی کہ تشبیہ ”مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْمُشَبَّهَ بِهِ أَقْوَى فِي وَجْهِ الشَّبَهِ“ یعنی دلالت ہوگی اس بات پر کہ مشبہ بہ وہ زیادہ قوی ہے کس چیز کے اندر؟ وجہِ تشبیہ کے اندر، ”وَلِذَلِكَ“ اور اسی وجہ سے... جی، یہاں سے یہ بیان کر رہے ہیں: انہوں نے کیا کہا؟ استعارے کے حسن کی کتنی شرائط ہیں؟ دو۔ ایک یہ کہ جن چیزوں کی رعایت تشبیہ میں رکھتے تھے، جن چیزوں کی وجہ سے تشبیہ میں حسن پیدا ہوتا تھا ان کی رعایت استعارے میں بھی رکھیں گے تو اس میں بھی کیا پیدا ہوگا؟ حسن۔ دوسرا یہ کہ اس کو کیا کیا جائے؟ تشبیہ کی بو نہ سونگھائی جائے مولانا۔ تو جب تشبیہ کی بو نہ سونگھائی گئی تو مولانا اور کلام کی بنا تو ہو رہی ہے تشبیہ پر کیونکہ علاقہ مشبہ اور مشبہ بہ میں کیا ہے؟ تشبیہ کا ہے، تو پھر تو کلام میں ابہام آ گیا مولانا، کیا آ گیا؟ ابہام۔ ہمیں کیسے پتہ چلے گا یہ لفظ بول کر دوسرا لفظ دوسرا معنیٰ مراد ہے؟ تو پتہ نہیں چلے گا، تو کلام میں ابہام آ جائے گا۔ اس ابہام کے جبیرے کے لیے پھر علماء یہ فرماتے ہیں کہ بھئی استعارے میں وجہِ تشبیہ کو جلی ہونا چاہیے، خوب ظاہر ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ خوب ظاہر۔ تاکہ وہ جو ابہام آ رہا ہے کلام کے اندر تشبیہ کی بو نہ دینے کی وجہ سے وہ ابہام کیا ہو جائے؟ دور ہو جائے۔ ”وَلِذَلِكَ أَيْ وَلِأَنَّ شَرْطَ حُسْنِهِ أَنْ لَا يُشَمَّ رَائِحَةَ التَّشْبِيهِ لَفْظًا“ اور اسی وجہ سے یعنی کہ استعارے کے حسن کی شرط یہ ہے مولانا کہ اس کو نہ سونگھائی جائے تشبیہ کی بو لفظوں کے اعتبار سے، ”يُوَصَّى“ وصیت کی جاتی ہے اس بات کی ”بِأَنْ يَكُونَ الشَّبَهُ أَيْ مَا بِهِ الْمُشَابَهَةُ بَيْنَ الطَّرَفَيْنِ جَلِيًّا“ کہ وجہِ تشبیہ جو ہے دونوں طرفین کے درمیان کیا ہونی چاہیے؟ جلی ہونی چاہیے، ظاہر ہونی چاہیے بھئی۔ کیونکہ جب آپ نے کلام کی بنیاد ہی تشبیہ پر ہے اور آپ نے تشبیہ کی بو ہی نہیں دی تو پھر کلام کیا ہوا؟ اس میں ابہام آ گیا، تو اس ابہام کا جبیرہ انہوں نے کیا رکھا؟ کہ وجہِ تشبیہ جلی ہونی چاہیے جس سے خود بخود پتہ چل جائے یہاں پر استعارے کا بھئی۔ اور جلی ہو ”بِنَفْسِهِ“ یا تو خود بخود جلی ہو مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”أَوْ بِوَاسِطَةِ عُرْفٍ عَامٍّ أَوِ اصْطِلَاحٍ خَاصٍّ“ یا جلی ہو مولانا عرفِ عام کے واسطے سے یا اصطلاحِ خاص یعنی عرفِ خاص کے واسطے سے۔ خود بخود جلی ہونے کی مثال مولانا: جیسے وہ تشبیہ تھی ثریا کی انگور کے خوشے کے ساتھ، گچھے کے ساتھ مولانا، تو یہاں خود بخود کیا آتی ہے جب تشبیہ دی تو وجہِ تشبیہ خود بخود سمجھ میں آ جاتی ہے مولانا، تو وجہِ تشبیہ جلی ہے، وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ جلی ہے۔ ”أَوْ بِوَاسِطَةِ عُرْفٍ عَامٍّ“ یا تشبیہ جلی ہوگی، وجہِ تشبیہ جلی ہوگی عرفِ عام کے واسطے سے، جیسے رجلِ شجاع کی تشبیہ دی جائے کس سے؟ شیر سے، تو آپ کہتے ہیں: ”رَأَيْتُ أَسَدًا“، تو یہاں مولانا خود بخود وجہِ تشبیہ پتہ چل رہی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”أَوِ اصْطِلَاحٍ خَاصٍّ“ یا جلی ہوگی تشبیہ اصطلاحِ خاص کی وجہ سے مولانا، مثال کے طور پر اصطلاحِ خاص یعنی خاص عرف والے جیسے نحوی ہیں تو جب نحوی تشبیہ دیتا ہے مثال کے طور پر نائب الفاعل کو کس کے ساتھ؟ فاعل کے ساتھ، تو وجہِ تشبیہ خود بخود سمجھ میں آئے گی اور وہ کیا ہے؟ رفع ہے، یعنی وہ مرفوع ہے تو یہ بھی مرفوع۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیوں؟ یہ کیوں وصیت کی جاتی ہے کہ طرفین میں...؟ کہتے ہیں: ”لِئَلَّا تَصِيرَ الِاسْتِعَارَةُ إِلْغَازًا“ تاکہ استعارہ جو ہے وہ پہیلی نہ بن جائے۔ لغز مولانا پہیلی کو کہتے ہیں، الغاز بمعنیٰ ملغز کے ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چھپایا ہوا، پوشیدہ کیا ہوا کلام جس کی مراد پوشیدہ ہو۔ پہیلی کس کو کہتے ہیں جس کی مراد پوشیدہ ہو۔ تو دیکھو اگر وجہِ تشبیہ ظاہر نہیں ہوگی تو کلام استعارہ نہیں بنے گا بلکہ کیا بن جائے گا؟ پہیلی بن جائے گا۔ ”أَيْ تَعْمِيَةً“ مصدر ہے عَمَّى يُعَمِّي تَعْمِيَةً، یعنی معما، الغاز مصدر بمعنیٰ ملغز کے اور تعمیہ بمعنیٰ معما مفعول کے معنیٰ میں مولانا، تو وہ پہیلی اور معما بن جائے گا استعارہ نہیں رہے گا بھئی۔ تو اگر مولانا استعارے کے اندر وجہِ تشبیہ جلی نہ ہوئی تو وہ کیا بن جائے گا؟ استعارہ نہیں رہے گا بلکہ کیا بن جائے گا؟ پہیلی بن جائے گا۔ کب؟ جبکہ آپ نے وہ دو شرائط کی رعایت رکھی تھی حسن کی، کیا؟ تشبیہ میں حسن کی جو چیزیں تھیں ان کی رعایت یہاں بھی رکھی، دوسرا اس میں تشبیہ کی بو بھی نہیں دی۔ ”إِنْ رُوعِيَ شَرَائِطُ الْحُسْنِ“ اور جب کہ شرائطِ حسن کی رعایت رکھی جائے ”وَلَمْ يُشَمَّ رَائِحَةَ التَّشْبِيهِ“ اور اس کو تشبیہ کی بو بھی نہ سونگھائی جائے، ”وَإِنْ لَمْ تُرَاعَ فَاتَ الْحُسْنُ“ اور اگر رعایت نہیں رکھی جائے گی پھر تو حسن ہی فوت ہو جائے گا۔ ”يُقَالُ“ اب الغاز کا معنیٰ بیان کر رہے ہیں: ”يُقَالُ أَلْغَزَ فِي كَلَامِهِ“ عربی میں کہتے ہیں ”أَلْغَزَ فِي كَلَامِهِ إِذَا عَمِيَ مُرَادُهُ“ جب کہ اس کی مراد پوشیدہ ہو۔ جب کلام کی مراد پوشیدہ ہو تو کیا کہتے ہیں ”أَلْغَزَ فِي كَلَامِهِ“، ”وَمِنْهُ اللُّغْزُ“ اور اسی سے لغز ہے پہیلی مولانا چیستان، ”وَالْجَمْعُ أَلْغَازٌ“ اور اس کی جمع کیا ہے؟ الغاز ہے، رُطَب اور اَرْطَاب اس وزن پر ہے لُغْز اور اَلْغَاز، ”كَمَا لَوْ قِيلَ“۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وجہِ تشبیہ جلی ہونی چاہیے استعارے کے اندر بھئی۔ مثال کے طور پر بھئی آپ کے پاس کوئی پاکستانی وزیر آتا ہے مولانا، آپ کہتے ہیں: شیر آ گیا شیر آ گیا بھئی! سمجھ میں آیا بھئی؟ شیر آ گیا۔ تو یہ استعارہ ہے۔ استعارہ ہے لیکن یہاں وجہِ تشبیہ جلی نہیں۔ اس لیے کہ آپ نے شجاعت میں تشبیہ نہیں دی مولانا، آپ نے کہا جس طرح شیر کے منہ سے سخت بدبو آتی ہے اسی طرح اس کے منہ سے بھی سخت حرام کی بدبو آتی ہے، تو دیکھو یہ وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ جلی نہیں۔ ”كَمَا لَوْ قِيلَ فِي التَّحْقِيقِيَّةِ“ جیسے کہا جائے تحقیقیہ کے اندر: ”رَأَيْتُ أَسَدًا“ میں نے ایک شیر دیکھا ”وَأُرِيدَ إِنْسَانٌ أَبْخَرُ“، مولانا یہ انسانًا کاتب کی غلطی ہے یہ نائب الفاعل ہے أُرِيدَ کا، ”وَأُرِيدَ إِنْسَانٌ أَبْخَرُ“ اور ارادہ کیا جائے انسان کا، ابخر کہتے ہیں جس کے منہ سے سخت بدبو آئے بھئی اس کو، بدبو منہ کی بو والے انسان کا، ”فَوَجْهُ الشَّبَهِ بَيْنَ الطَّرَفَيْنِ خَفِيٌّ“ تو وجہِ تشبیہ دونوں طرفین میں کیا ہے؟ خفی ہے۔ یہ تو تھی استعارہ تحقیقیہ کی مثال، اور تمثیل کی مثال جس میں مرکب کی تشبیہ مرکب کے ساتھ ہوتی ہے، آپ کہتے ہیں: ”رَأَيْتُ إِبِلًا مِائَةً“ میں نے سو اونٹ دیکھے ”لَا تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً“ ایسے سو اونٹ کہ ان میں تو کوئی سواری کا اونٹ نہیں پائے گا، ”وَأُرِيدَ النَّاسُ“ اور ارادہ کس کا کیا گیا؟ لوگوں کا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”مِنْ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ یہ حضور علیہ السلام کے اس قول سے ہے: ”النَّاسُ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً“ لوگ کس کی طرح ہیں؟ سو اونٹوں کی طرح ہیں جن کے اندر آپ کو کوئی سواری کا اونٹ نہیں ملے گا بھئی۔ مثلاً ایک آدمی کے سو بیٹے ہیں مولانا، اور وہ کیا کہتا ہے کہ ”رَأَيْتُ إِبِلًا مِائَةً لَا تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً“ یا ”رَأَيْتُ إِبِلًا مِائَةً لَا أَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً“ کہ میں سو اونٹ دیکھتا ہوں ان میں مجھے ایک بھی سواری کا نظر نہیں آتا یعنی ایک بھی کام کا نہیں ہے سارے ہی نکمے ہیں، سارے ہی کیا ہیں؟ نکمے ہیں۔ راحلہ کہتے ہیں سواری کے اونٹ کو، یعنی سو اونٹ تو ہیں لیکن سواری کے قابل ایک بھی نہیں، سفر کے قابل ایک بھی نہیں۔ تو یہاں مولانا وجہِ تشبیہ خفی ہے اس لیے کہ اونٹ کی کس تشبیہ کس کے ساتھ دی جا رہی ہے؟ انسان... یا انسان کی تشبیہ دی جا رہی ہے اونٹ کے ساتھ اور وجہِ تشبیہ خفی ہے، عام استعمال نہیں ہوتی مولانا۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی استعارہ نہیں فرمایا تشبیہ فرمائی: ”النَّاسُ كَإِبِلٍ“ لوگ کس کی طرح ہیں؟ سو اونٹوں کی طرح، اس لیے کہ اگر استعارہ ہوتا تو پھر وجہِ تشبیہ خفی تھی تو پھر کلام کیا بن جاتا؟ یہ تو پہیلی کے مانند بن جاتا۔ ”وَالرَّاحِلَةُ الْبَعِيرُ الَّذِي يَرْتَحِلُهُ الرَّجُلُ“ اور راحلہ وہ اونٹ ہے جس کو مولانا سفر کے لیے انسان تیار کرتا ہے، ”جَمَلًا كَانَ أَوْ نَاقَةً“ چاہے اونٹ ہو چاہے اونٹنی ہو، ”يَعْنِي أَنَّ الْمَرْضِيَّ الْمُنْتَجَبَ مِنَ النَّاسِ“ یعنی پسندیدہ اور منتخب لوگوں میں سے ”فِي عِزَّةِ وُجُودِهِ“ عزت کا ایک معنیٰ مولانا قلت کے بھی آتے ہیں، یہاں قلت کے معنیٰ میں ہے۔ اپنے وجود کی کمیابی کے اندر یعنی کم ہونے کے اندر ”كَالْمُنْتَجَبَةِ“ اس اونٹنی کی طرح ہے ”الَّتِي لَا تُوجَدُ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْإِبِلِ“ جو نہیں پائی جاتی بہت سارے اونٹوں... بہت سارے اونٹوں میں بھی جیسے کوئی اونٹ سواری کے قابل نہیں کوئی اونٹ صحیح اونٹنی نہیں، اسی طرح لوگ بھی جو ہیں ان میں بھی پسندیدہ شخص آپ کو بہت قلیل ملے گا۔ ”وَبِهَذَا ظَهَرَ أَنَّ التَّشْبِيهَ أَعَمُّ مَحَلًّا“ اور اس سے ظاہر ہوئی یہ بات کہ تشبیہ کیا ہے؟ زیادہ عام ہے باعتبارِ محل کے۔ تشبیہ زیادہ عام ہے مولانا، یعنی انہوں نے کیا کہا کہ جہاں پر وجہِ تشبیہ جلی نہ ہو وہاں استعارہ... اگر وہ استعارہ نہیں رہے گا وہ کیا بن جائے گا؟ پہیلی بن جائے گا۔ تو تشبیہ کے اندر وجہِ تشبیہ جلی بھی ہو سکتی ہے اور خفی بھی ہو سکتی ہے، جبکہ استعارے کے اندر وجہِ تشبیہ کا جلی ہونا ضروری ہے خفی ہو تو وہ استعارہ ہی نہیں بلکہ وہ کیا ہے؟ پہیلی ہے۔ کیا ہے؟ پہیلی۔ تو تشبیہ عام ہوئی مولانا اور استعارہ خاص ہوا۔ جہاں بھی تشبیہ جاری ہوتی ہے وہاں استعارہ جاری نہیں ہو سکتا کیونکہ تشبیہ کے اندر تو وجہِ تشبیہ کبھی کیا ہوتی ہے؟ خفی ہوتی ہے، اور جہاں خفی ہوگی وجہِ تشبیہ وہاں پر کیا ہے؟ استعارہ تو جاری نہیں ہوگا بلکہ وہ تو کیا بن جائے گا؟ پہیلی بن جائے گا، اور جہاں جلی ہوگی وہاں پر استعارہ جاری ہو سکے گا۔ اور استعارہ جہاں بھی آئے گا وہاں تشبیہ بھی ممکن ہوگی کیونکہ استعارے کے اندر وجہِ تشبیہ ہمیشہ کیا ہوگی؟ جلی ہوگی، تو تشبیہ کے اندر بھی جلی ہو سکتی ہے مولانا۔ تو جو مقام بھی استعارے کا ہے وہاں تشبیہ بھی آ سکتی ہے لیکن جو مقام تشبیہ کا ہو وہاں استعارے کا آنا ضروری نہیں ہے۔ ”إِذْ كُلُّ مَا يَتَأَتَّى فِيهِ الِاسْتِعَارَةُ يَتَأَتَّى فِيهِ التَّشْبِيهُ مِنْ غَيْرِ عَمْسٍ“ اس لیے کہ جہاں بھی استعارہ حاصل ہوتا ہے وہاں تشبیہ بھی حاصل ہوگی بغیر عکس کے، ”لِجَوَازِ أَنْ يَكُونَ وَجْهُ الشَّبَهِ غَيْرَ جَلِيٍّ فَتَصِيرُ الِاسْتِعَارَةُ إِلْغَازًا“ اس لیے کہ ممکن ہے وجہِ تشبیہ کیا ہو؟ غیر جلی ہو تو استعارہ جو ہے مولانا پہیلی بن جائے گا، ”كَمَا فِي الْمِثَالَيْنِ الْمَذْكُورَيْنِ“ جیسے کہ مذکورہ دو مثالوں کے اندر تھا۔ ”فَإِنْ قِيلَ“ یہ ایک اشکال کر رہے ہیں مولانا۔ اشکال یہ کہ آپ نے کیا کہا؟ یہ بات کی۔ نیز آپ نے کیا کہا کہ استعارے کے حسن کا سبب کیا ہے؟ جو چیزیں تشبیہ میں حسن پیدا کرتی ہیں وہ استعارے میں بھی حسن پیدا کرتی ہیں۔ بھئی تشبیہ کے اندر آپ نے ذکر کیا تھا کہ تشبیہ میں حسن پیدا ہوتا ہے کہ وجہِ تشبیہ جلی نہ ہو، خفی ہو۔ تشبیہ کے اندر وجہِ تشبیہ جتنی خفی ہوگی اتنی غرابت آئے گی اور جتنی غرابت آئے گی تشبیہ کیا ہوگی اتنی ہی اعلیٰ درجے کی ہوگی۔ تو وہاں پر اس میں حسن پیدا ہوتا تھا غرابت کی وجہ سے اور یہاں پر آپ کہہ رہے ہیں غرابت کی وجہ سے یہاں پر غرابت آئے گی تو استعارہ کیا بن جائے گا؟ پہیلی بن جائے گا بھئی۔ تو یہ بھی تو تشبیہ کے حسن کے اسباب میں سے تھا تو اس سے استعارے میں بھی حسن پیدا ہونا چاہیے تھا لیکن آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اس میں استعارہ حسن... حسن پیدا ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ استعارہ رہتا ہی نہیں کیا بن جاتا ہے؟ پہیلی۔ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ ”فَإِنْ قِيلَ: قَدْ سَبَقَ أَنَّ حُسْنَ الِاسْتِعَارَةِ بِرِعَايَةِ جِهَاتِ حُسْنِ التَّشْبِيهِ، وَمِنْ جُمْلَتِهَا أَنْ يَكُونَ وَجْهُ التَّشْبِيهِ بَعِيدًا غَيْرَ مُبْتَذَلٍ، فَاشْتِرَاطُ جَلَائِهِ فِي الِاسْتِعَارَةِ يُنَافِي ذَلِكَ“ کہ پہلے گزر چکا ہے کہ استعارے کا حسن آئے گا تشبیہ میں حسن کے وجہوں کی رعایت رکھنے سے، اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ تشبیہ میں وجہِ تشبیہ کیا ہونی چاہیے؟ بعید ہونی چاہیے اور غیر رائج ہونی چاہیے، تو استعارے کے اندر وجہِ تشبیہ کے جلی ہونے کی شرط لگانا یہ منافی ہے اس بات کے۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ نے پہلے کیا کہا تھا؟ تشبیہ سے جن چیزوں میں حسن... تشبیہ میں جن چیزوں سے حسن پیدا ہوتا ہے استعارے میں بھی انہی سے حسن پیدا ہوتا ہے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ تشبیہ میں وجہِ تشبیہ کیا ہونی چاہیے؟ غریب ہونی چاہیے، اور یہاں آپ کہہ رہے ہیں کہ نہیں استعارے کے اندر وجہِ تشبیہ کیا ہونی چاہیے؟ جلی، تو یہ تو کلام میں منافات آ گئی، وہاں کہہ رہے ہیں حسن ان چیزوں سے آئے گا اور یہاں کہہ رہے ہیں اس سے حسن نہیں آتا۔ ”قُلْنَا: الْجَلَاءُ وَالْخَفَاءُ مِمَّا يَقْبَلُ الشِّدَّةَ وَالضَّعْفَ“ ہم کہتے ہیں کہ جلاء اور خفاء جو ہے یہ شدت اور ضعف کو قبول کر سکتے ہیں، شدت اور ضعف کو قبول کرتے ہیں۔ کوئی چیز تھوڑی جلی ہوگی کوئی زیادہ کوئی اس سے زیادہ، کوئی تھوڑی خفی ہوگی کوئی اس سے زیادہ کوئی اس سے زیادہ۔ تو معنیٰ یہ ہے: ”فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْخَفَاءِ بِحَيْثُ لَا يَصِيرُ إِلْغَازًا“ استعارے کے اندر خفاء ہونا چاہیے لیکن اس طور پر کہ پہیلی نہ بن جائے، ”وَمِنَ الْجَلَاءِ بِحَيْثُ لَا يَصِيرُ مُبْتَذَلًا“ اور اس میں جلاء ہونی چاہیے یعنی ظہور ہونا چاہیے اس طور پر کہ وہ مبتذل نہ ہو مولانا، رائج نہ ہو، مشہور نہ ہو بہت زیادہ مولانا۔ تو استعارے کے اندر ہم نے جو کہا نا جلی ہونا چاہیے، جلی ہونے کا یہ معنیٰ کہ اتنا بھی جلی نہ ہو کہ کیا ہو؟ مبتذل ہو، بہت مشہور ہو، اور خفی ہونے کا یہ معنیٰ اتنا بھی خفی نہ ہو وجہِ تشبیہ اتنی بھی خفی نہ ہو کہ استعارہ کیا بن جائے؟ پہیلی بن جائے۔ ”وَيَتَّصِلُ بِهِ أَنَّهُ إِذَا قَوِيَ الشَّبَهُ بَيْنَ الطَّرَفَيْنِ حَتَّى اتَّحَدَا كَالْعِلْمِ وَالنُّورِ وَالشُّبْهَةِ وَالظُّلْمَةِ لَمْ يَحْسُنِ التَّشْبِيهُ وَتَعَيَّنَتِ الِاسْتِعَارَةُ“ اور اسی کے ساتھ متصل ہے ملحق ہے یہ بات بھی کہ متن دیکھیں: جب وجہِ تشبیہ دونوں طرفین میں کیا ہو جائے؟ قوی ہو جائے یہاں تک کہ دونوں کیا ہو جائیں؟ متحد ہو جائیں جیسے علم اور نور اور شبہ اور تاریکی ہے، پھر تشبیہ بہتر نہیں اور پھر استعارہ متعین ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ہم نے کیا کہا اس سے پہلے کہ وجہِ تشبیہ کیا ہونی چاہیے؟ جلی ہونی چاہیے، لیکن اگر ان کے درمیان وجہِ تشبیہ اتنی جلی ہو گئی اتنی جلی ہو گئی حتیٰ کہ اتحاد آ گیا مولانا کہ جو چیز مشبہ بہ بولتے ہی سمجھ آتی تھی مشبہ کے بولتے بھی وہی چیز ہمیں فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے، اتنا اتحاد آ گیا تو اس صورت میں تشبیہ دینا بہتر نہیں ہے مولانا پھر کیا کرو؟ استعارہ کرو۔ جیسے نور روشنی سے فوراً کیا سمجھ میں آتی ہے کون سا معنیٰ سمجھ میں آتا ہے؟ ہدایت کا، اسی طرح علم سے بھی فوراً کون سا معنیٰ سمجھ میں آتا ہے؟ ہدایت کا۔ تو جو چیز مشبہ بہ سے سمجھ میں آ رہی تھی وہی چیز ہمیں کس سے سمجھ میں آ رہی ہے؟ مشبہ سے۔ تو دونوں میں اتحاد آ گیا یعنی دونوں کالمتحد ہو گئے، کالمتحد۔ متحد تو نہیں لیکن متحد جیسے ہو گئے، اور جب یہ متحد جیسے ہوئے تو اب تشبیہ نہ دو اس لیے کہ یہ تو اپنے نفس کے ساتھ تشبیہ ہو جائے گی۔ ”الرَّجُلُ كَالرَّجُلِ“ یہ تو اس طرح ہو جائے گا مولانا، ”الرَّجُلُ الشُّجَاعُ كَالرَّجُلِ الشُّجَاعِ“، تو اپنے نفس کے ساتھ تشبیہ یہ تو ہو جائے گی کیونکہ اتحاد آ گیا، تو اس صورت میں پھر تشبیہ نہ دو کیا کرو؟ استعارہ کرو۔ ”وَيَتَّصِلُ بِهِ“ اور اسی کے ساتھ ملی ہوئی ہے یہ بات ”أَيْ بِمَا ذَكَرْنَا مِنْ أَنَّهُ إِذَا خَفِيَ وَجْهُ التَّشْبِيهِ لَمْ يَحْسُنِ الِاسْتِعَارَةُ وَتَعَيَّنَ التَّشْبِيهُ“ وہ جو ہم نے ذکر کیا کہ جب وجہِ تشبیہ خفی ہوگی تو استعارہ بہتر نہیں ہے اور کیا متعین ہو جائے گی؟ تشبیہ۔ بھئی جب وجہِ تشبیہ خفی ہوگی پھر استعارہ نہ کرو کیا کرو؟ تشبیہ کرو، اور جب وجہِ تشبیہ خوب جلی ہو جائے تو پھر تشبیہ نہ دو پھر کیا کرو؟ استعارہ کرو۔ ”أَنَّهُ إِذَا قَوِيَ الشَّبَهُ بَيْنَ الطَّرَفَيْنِ حَتَّى اتَّحَدَا“ جب قوی ہو جائے وجہِ تشبیہ دونوں طرفین کے درمیان یہاں تک کہ دونوں کیا ہو جائیں یعنی متحد جیسے ہو جائیں، ”كَالْعِلْمِ وَالنُّورِ وَالشُّبْهَةِ وَالظُّلْمَةِ لَمْ يَحْسُنِ التَّشْبِيهُ وَتَعَيَّنَتِ الِاسْتِعَارَةُ لِئَلَّا يَصِيرَ كَتَشْبِيهِ الشَّيْءِ بِنَفْسِهِ“ تاکہ کہیں تشبیہ الشیء بنفسہٖ کی طرح نہ ہو جائے، ”فَإِذَا فَهِمْتَ مَسْأَلَةً“ جب آپ کوئی مسئلہ سمجھ لیں ”تَقُولُ: حَصَلَ فِي قَلْبِي نُورٌ“، ”حَصَلَ فِي قَلْبِي نُورٌ“ اور نور بول کر کیا مراد ہے؟ علم مراد ہے۔ ”وَلَا تَقُولُ“ یوں نہیں کہیں گے یہ تو استعارہ ہے اور یہ تشبیہ نہیں دیں گے یوں نہیں کہیں گے ”حَصَلَ فِي قَلْبِي عِلْمٌ كَالنُّورِ“ میرے دل میں علم آیا کس کی طرح؟ نور کی طرح۔ ”وَإِذَا وَقَعْتَ فِي شُبْهَةٍ“ اسی طرح جب آپ شبہے کے اندر پڑ گئے تو آپ یوں کہیں گے ”وَقَعْتُ فِي ظُلْمَةٍ“، ظلمت بول کر شبہ مراد یہ کیا ہوا؟ استعارہ، تو استعارہ کہیں گے، ”وَلَا تَقُولُ: وَقَعْتُ فِي شُبْهَةٍ كَالظُّلْمَةِ“ یوں نہیں کہیں گے کہ میں ایسے شبہے میں پڑا جو کس کی طرح ہے؟ ظلمت کی طرح ہے، کیونکہ ورنہ تو یہاں وجہِ تشبیہ خوب جلی ہے حتیٰ کہ اتحاد آ گیا، اور اب یہ اگر ہم تشبیہ دیں گے تو پھر یوں ہوگا جیسے تشبیہ ایک چیز کی اپنے ہی نفس کے ساتھ دی جا رہی ہے۔ ”وَالِاسْتِعَارَةُ“ تو یہ تو تھا مولانا اب تک بات چل رہی تھی استعارہ تحقیقیہ اور تمثیل علی سبیل الاستعارہ ان دونوں میں حسن ایسے آیا۔ اب استعارہ بالکنایہ جو ہے: ”وَالِاسْتِعَارَةُ الْمَكْنِيُّ عَنْهَا كَالتَّحْقِيقِيَّةِ فِي أَنَّ حُسْنَهَا بِرِعَايَةِ جِهَاتِ حُسْنِ التَّشْبِيهِ لِأَنَّهَا تَشْبِيهٌ مُضْمَرٌ“ استعارہ بالکنایہ بھی کس کی طرح ہے؟ تحقیقیہ کی طرح ہے اس میں کہ اس کے اندر بھی حسن کس سے آئے گا؟ تشبیہ کے اندر حسن کے اسباب کی رعایت رکھنے سے، ان کی رعایت یہاں بھی رکھیں، اس لیے کہ یہ کیا ہے؟ تشبیہ مضمر ہے۔ ”وَالِاسْتِعَارَةُ“ اچھا، ہاں! کیا کہا انہوں نے؟ استعارہ بالکنایہ بھی میں بھی حسن انہی چیزوں سے آئے گا جن چیزوں کی وجہ سے حسن کس میں آ رہا تھا؟ استعارہ تحقیقیہ میں آ رہا تھا۔ اور استعارہ تحقیقیہ میں کس سے آ رہا تھا؟ تشبیہ میں جو حسن کے اسباب تھے ان کی رعایت رکھو، اور دوسری کیا چیز تھی؟ تشبیہ کی بو نہ سونگھاؤ یعنی اس میں تشبیہ کی طرف کوئی اشارہ نہ ہو۔ دو چیزیں تھیں نا؟ لیکن علامہ تفتازانی نے ایک کو ذکر کیا: ”فِي أَنَّ حُسْنَهَا بِرِعَايَةِ جِهَاتِ حُسْنِ التَّشْبِيهِ“، سمجھ میں آیا؟ اور ”وَأَنْ لَا يُشَمَّ رَائِحَةَ التَّشْبِيهِ“ اس کو ذکر نہیں کیا، اس لیے کہ استعارہ بالکنایہ میں تشبیہ کی جانب اشارہ ہوتا ہے اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا، کیوں؟ وہاں پر تشبیہ دی گئی مشبہ کو اور ذکر کس کو کیا؟ مشبہ کو ذکر کیا، اور پھر مشبہ بہ کے لازم کو ثابت کر دیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، تو یہ جو مشبہ بہ کے لازم کو آپ مشبہ کے لیے ثابت کر رہے ہیں یہ اشارہ کر رہا ہے تشبیہ کی طرف، یہ کیا کر رہا ہے؟ اشارہ کر رہا ہے تشبیہ کی طرف، تو اس کے اندر یہ ہونا ضروری ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ اس کے ساتھ لازم ہے۔ ”وَالِاسْتِعَارَةُ التَّخْيِيلِيَّةُ حُسْنُهَا بِحَسَبِ حُسْنِ الْمَكْنِيَّةِ عَنْهَا“ اور استعارہ تخئیلیہ جو ہے اس کا حسن کس وجہ سے آئے گا؟ استعارہ بالکنایہ کے... بھئی استعارہ تخئیلیہ کس کے ساتھ آتا ہے؟ استعارہ بالکنایہ، لہٰذا استعارہ تخئیلیہ کے اندر جو حسن آئے گا وہ استعارہ بالکنایہ کے اعتبار سے ہوگا، استعارہ بالکنایہ میں حسن ہے تو تخئیلیہ میں بھی ہے، بالکنایہ میں حسن نہیں تو تخئیلیہ میں بھی... ”لِأَنَّهَا لَا تَكُونُ إِلَّا تَابِعَةً لِلْمَكْنِيِّ عَنْهَا“ اس لیے کہ یہ نہیں ہوگا مگر تابع مکنی عنہا کے، ”وَلَيْسَ لَهَا فِي نَفْسِهَا تَشْبِيهٌ“ اور اس کے اپنے اندر تو کوئی تشبیہ نہیں ہے، ”بَلْ هِيَ حَقِيقَةٌ“ نہیں مولانا، ”بَلْ هِيَ حَقِيقَةٌ“ بلکہ یہ تو کیا ہے؟ حقیقت ہے، ”فَحُسْنُهَا تَابِعٌ لِحُسْنِ مَتْبُوعِهَا“ لہٰذا اس تخئیلیہ کا حسن تابع ہے اس کے متبوع کے حسن کے یعنی کس کے؟ استعارہ بالکنایہ کے۔ ”فَصْلٌ فِي بَيَانِ مَعْنًى آخَرَ يُطْلَقُ عَلَيْهِ لَفْظُ الْمَجَازِ عَلَى سَبِيلِ الِاشْتِرَاكِ أَوِ التَّشَابُهِ“ یہ فصل ہے ایک اور معنیٰ کے بیان میں جس پر لفظِ مجاز کا اطلاق ہوتا ہے اشتراک یا تشابہ کے طریقے پر۔ جی، کبھی مجاز کا ایک اور معنیٰ بیان کر رہے ہیں مولانا۔ ابھی تک آپ نے مجاز کیا پڑھا کہ کلمہ ہو استعمال ہو کس کے اندر؟ غیر موضوع لہٗ کے اندر۔ اب ایک اور چیز ہے جس پر مجاز کا اطلاق ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایک کلمے پر ایک اعراب آنا چاہیے تھا وہ اعراب ہم نہیں لاتے دوسرا اعراب لے آتے ہیں، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ مجاز کہتے ہیں۔ مثلاً قرآن میں آیا ہے: ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾، اور یہ دراصل تھا ”وَجَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ“ آپ کے رب کا حکم آ گیا۔ اللہ کے لیے تو مجیئت نہیں ہو سکتی کیونکہ مجیئت کس کو کہتے ہیں؟ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا، اور اللہ تعالیٰ کیا ہے؟ جگہ کے محتاج نہیں، تو اس کے لیے پھر ایک جگہ سے جب دوسری جگہ منتقل ہونے کے لیے لازم ہے جسم کا ہونا اور جب کوئی چیز جسم ہوگی تو وہ مرکب ہوگی اور جب کوئی مرکب ہوگی تو وہ حادث ہوگی، اور اللہ تو حادث نہیں ہو سکتے قدیم ہیں وہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو ”جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ“ اصل تو یوں ہونا چاہیے تھا، رَبِّ پر کون سا اعراب ہے؟ جر ہے، لیکن جب ہم نے أَمْر کو کم کر دیا ختم کر دیا حذف کر دیا کیا بن گیا؟ ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ اس پر کیا آ گیا؟ رفع، تو دیکھو ایک اعراب آنا چاہیے تھا دوسرا اعراب آ گیا اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔ اسی طرح قرآن میں ہے: ﴿وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ﴾ بستی سے پوچھیں، بستی سے پوچھیں یا بستی والوں سے پوچھیں؟ ”وَاسْأَلْ أَهْلَ الْقَرْيَةِ“، تو القریۃ مضاف الیہ تھا مجرور، لیکن جب ہم نے أَهْل کو حذف کر دیا تو یہ مفعول بن گیا: ﴿وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ﴾ کیا بنا؟ منصوب، تو پہلے تھا مجرور اب کیا ہوا؟ منصوب، تو دیکھو جو اس کا اعراب اس پر جو آنا تھا وہ نہیں آیا دوسرا اعراب آیا، یہ بھی مجاز۔ اسی طرح قرآن میں ہے: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ تو علماء فرماتے ہیں یہ کاف زائد ہے، یہ کاف زائد ہے، تو اصل میں یوں ہونا تھا کلام: ”لَيْسَ مِثْلَهُ شَيْءٌ“، شَيْءٌ اسمِ مؤخر ہے لَيْسَ کا اور مِثْلَهُ خبرِ مقدم ہے: ”لَيْسَ شَيْءٌ مِثْلَهُ“، پھر مِثْلَهُ پر کیا آ رہا تھا؟ نصب، لیکن اس پر ہم کیا داخل ہوا مولانا؟ کاف جارہ داخل ہوا تو اب کیا پڑھ رہے ہیں؟ جر، تو محل تھا نصب کا اور آیا کیا؟ جر، تو یہ کیا ہوا؟ مجازِ حکمی، کیا ہوا؟ مجازِ حکمی یا مجاز فی الاعراب وغیرہ۔ اس کو بھی مجاز کہتے ہیں۔ دیکھیے متن: ”فَصْلٌ: وَقَدْ يُطْلَقُ الْمَجَازُ عَلَى كَلِمَةٍ تَغَيَّرَ حُكْمُ إِعْرَابِهَا بِحَذْفِ لَفْظٍ“ اور کبھی کبھار مجاز کا اطلاق ہوتا ہے ایسے کلمے پر جس کے اعراب کا حکم تبدیل ہو جائے ایک لفظ کے حذف کے ساتھ جیسے ”جَاءَ رَبُّكَ“ یہاں حذف ہوا ”جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ“، ”أَوْ بِزِيَادَةِ لَفْظٍ“ یا کس کے ساتھ؟ زیادتی لفظ کے ساتھ جیسے ”لَيْسَ كَمِثْلِهِ“ یہاں زیادہ ہوا کاف۔ ”فَالْأَوَّلُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ﴾، وَالثَّانِي“ اور ثانی یعنی زیادت کی مثال ”مِثْلُ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾، أَيْ جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ، وَاسْأَلْ أَهْلَ الْقَرْيَةِ، وَلَيْسَ مِثْلَهُ شَيْءٌ“۔ اچھا اب دیکھیے، دوبارہ مولانا: ”فَصْلٌ فِي بَيَانِ مَعْنًى آخَرَ يُطْلَقُ عَلَيْهِ لَفْظُ الْمَجَازِ عَلَى سَبِيلِ الِاشْتِرَاكِ“ اشتراک کے طریقے پر، اشتراک کے طریقے پر یہ مولانا کہ جیسے لفظِ مجاز وضع ہے کس کے لیے؟ کہ کلمہ غیر موضوع لہٗ میں استعمال ہو، اسی طرح لفظِ مجاز وضع ہے کہ وہ کلمہ کہ جس پر جس کے اعراب کا حکم بدل جائے، جس کے اعراب کا حکم بدل جائے تو اعراب اس کے لیے بھی وضع ہے اس کے لیے بھی وضع ہے تو دو معانی کے لیے وضع ہے تو کلمہ مشترک ہوا، کلمہ کیا ہوا؟ مشترک۔ تو یہ دونوں پر بولا جاتا ہے اس معنیٰ پر بھی علی سبیل الاشتراک ہوا مولانا۔ ”أَوِ التَّشَابُهِ“ یا مولانا اس پر جو مجاز بولا گیا ہے وہ کس اعتبار سے ہے؟ تشابہ کے اعتبار سے۔ پہلا تو تھا وضع کے اعتبار سے اور دوسرا تشابہ، کس طرح؟ کہ بھئی دیکھو مجاز کس کو کہتے ہیں کہ کلمہ غیر موضوع لہٗ میں استعمال ہو یعنی کلمہ منتقل ہوتا ہے کس سے؟ معنیٰ موضوع لہٗ سے۔ مجاز میں کیا ہوتا ہے مولانا؟ کلمہ منتقل ہوتا ہے معنیٰ موضوع لہٗ سے کس کی طرف؟ غیر موضوع لہٗ کی طرف۔ اسی طرح یہاں پر بھی مولانا کلمے کے اعراب کا حکم منتقل ہوا ایک سے دوسرے اعراب کی طرف، تو اس کلمے کو تشبیہ دے دی جس کا اعراب منتقل ہوا ہے کس کے ساتھ؟ اس کلمے کے ساتھ جس کا معنیٰ منتقل ہوا ہے، اور وجہِ تشبیہ دونوں میں کیا ہے؟ انتقال، دونوں میں کیا ہے؟ انتقال۔ جیسے اس مجاز کے اندر انتقال ہوتا ہے ایک معنیٰ سے دوسرے معنیٰ کی طرف، یہاں پر بھی اعراب کے اندر انتقال ہے ایک اعراب سے دوسرے اعراب کی طرف۔ تو یہ ہے مشبہ، اور وہ جو مجازِ حقیقی تھا وہ کیا ہے؟ مشبہ بہ، اور وجہِ تشبیہ دونوں میں کیا؟ انتقال، اور پھر یہ مشبہ بہ کے لیے جو لفظِ مجاز وضع تھا وہ اس کے لیے استعمال کر لیا گیا تو یہ کیا ہوا؟ استعارہ، کیا ہوا؟ استعارہ۔ تو اس پر لفظ بولا گیا مجاز سبیل الاشتراک یا علی سبیلِ تشابہ اس پر مجاز بولا گیا ہے۔ ”وَقَدْ يُطْلَقُ الْمَجَازُ عَلَى كَلِمَةٍ تَغَيَّرَ حُكْمُ إِعْرَابِهَا، أَيْ حُكْمُهَا“ یہاں سے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ حکم کی اضافت اعراب کی طرف یہ کیا ہے؟ اضافتِ بیانی ہے کہ حکم بدلتا ہے یعنی وہ حکم کیا ہے؟ اعراب، یعنی اعراب بدلتا ہے۔ ”أَيْ حُكْمُهَا الَّذِي هُوَ الْإِعْرَابُ عَلَى أَنَّ الْإِضَافَةَ لِلْبَيَانِ، أَيْ تَغَيَّرَ إِعْرَابُهَا مِنْ نَوْعٍ إِلَى نَوْعٍ آخَرَ بِحَذْفِ لَفْظٍ أَوْ زِيَادَةِ لَفْظٍ، فَالْأَوَّلُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ﴾، وَالثَّانِي مِثْلُ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾، أَيْ جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ“۔ یہاں پر امر محذوف کیوں نکالا؟ ”لِاسْتِحَالَةِ الْمَجِيءِ عَنِ اللهِ تَعَالَى“ اس لیے کہ اللہ کے لیے مجیئت کا ہونا محال ہے، محال ہے۔ ”وَاسْأَلْ أَهْلَ الْقَرْيَةِ“، یہاں پر اہل کیوں نکالا؟ کہتے ہیں: ”لِلْقَطْعِ بِأَنَّ الْمَقْصُودَ هَاهُنَا سُؤَالُ أَهْلِ الْقَرْيَةِ“ اس لیے کہ یہ بات قطعی طور پر ہے کہ مقصود یہاں پر سوال ہے اہل قریہ سے۔ ”وَإِنْ جُعِلَتِ الْقَرْيَةُ مَجَازًا عَنْ أَهْلِهَا“ اور اگر قریہ کو مجاز بنا دیا جائے کس سے؟ اہل قریہ سے۔ بھئی پہلے تو یہ ہم نے کہا یہاں اہل کا لفظ محذوف ہے، جب اہل کا لفظ محذوف ہے تو پھر مجاز کی طرف جانے کی ضرورت نہیں، ”وَاسْأَلْ أَهْلَ الْقَرْيَةِ“ بستی والوں سے پوچھیے۔ اور اگر ہم کہیں نہیں بولا بستی جا رہا ہے اور مراد بستی والے ہیں پھر تو یہ کیا بن گیا؟ مجاز بن گیا، اور پھر علاقہ کیا ہوا دونوں میں؟ حال اور محل کا، تو یہ مجازِ مرسل ہوا، تو یہ اس بحث کے متعلق ہی نہیں۔ ”وَإِنْ جُعِلَتِ الْقَرْيَةُ مَجَازًا عَنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ لَمْ يَكُنْ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ“ تو پھر وہ اس قبیل سے نہیں بلکہ یہ تو مجازِ مرسل کی قبیل سے ہو جائے گا کہ محل بول کر حال۔ ”وَلَيْسَ مِثْلَهُ شَيْءٌ“، یہاں پر مولانا یہ کاف کو زائدہ کیوں قرار دیا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ نَفْيُ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِثْلَ اللهِ“ اس لیے کہ مقصود یہاں پر یہ ہے... دیکھیے کاف کا معنیٰ بھی ہوتا ہے مثل اور ساتھ مثل بھی آ رہا ہے، تو اگر ہم ایک مثل کو... کاف کو زائد قرار نہیں دیتے تو اس صورت میں خرابی لازم آئے گی مولانا، کیسے؟ معنیٰ پھر یوں ہوگا: لَيْسَ کہ نہیں ہے اللہ کے مثل کا مثل، کیا معنیٰ ہوگا؟ ”كَمِثْلِهِ“، کاف کا بھی کیا معنیٰ؟ مثل، یعنی ”لَيْسَ مِثْلَ مِثْلِهِ“ اللہ کے مثل کا مثل، معلوم ہوا اللہ کا مثل ہے اس مثل کا آگے مثل نہیں ہے، تو اس لیے معلوم ہوا یہ کاف زائدہ ہے۔ ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ نَفْيُ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِثْلَ اللهِ لَا نَفْيُ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ مِثْلِهِ“ اس لیے کہ مقصود جو ہے اس چیز کی نفی مقصود ہے کہ کوئی شئے اللہ کے مثل ہو، یہ مقصود نہیں ہے کہ کیا اللہ کے مثل کی مثل کی نفی کی جائے۔ ”فَالْحُكْمُ الْأَصْلِيُّ لِرَبِّكَ وَالْقَرْيَةِ الْجَرُّ“ پس حکمِ اصلی یعنی اعرابِ اصلی کیا ہے؟ رَبِّكَ اور الْقَرْيَةِ کے لیے اصل کیا ہے؟ جر ہے، لیکن آیت میں کیا آیا؟ رَبِّ کے لیے رفع اور قریہ کے لیے نصب۔ ”وَقَدْ تَغَيَّرَ فِي الْأَوَّلِ إِلَى الرَّفْعِ وَفِي الثَّانِي إِلَى النَّصْبِ بِسَبَبِ حَذْفِ الْمُضَافِ“ اور اول میں تبدیلی ہوئی ہے کس کی طرف؟ رفع کی طرف اور ثانی قریہ کے اندر نصب کی طرف مضاف کو حذف کرنے کے سبب سے۔ ”وَالْحُكْمُ الْأَصْلِيُّ فِي مِثْلِهِ النَّصْبُ لِأَنَّهُ خَبَرُ لَيْسَ وَقَدْ تَغَيَّرَ إِلَى الْجَرِّ بِسَبَبِ زِيَادَةِ الْكَافِ“ اور ”لَيْسَ كَمِثْلِهِ“ کے اندر جو مِثْلِهِ تھا اس کا حکمِ اصلی اعرابِ اصلی نصب ہے اس لیے کہ وہ لَيْسَ کی خبر ہے، اور وہ بدلا ہے جر کی طرف کاف کے زیادہ ہونے کی وجہ سے۔ ”فَكَمَا وُصِفَتِ الْكَلِمَةُ بِالْمَجَازِ بِاعْتِبَارِ نَقْلِهَا عَنْ مَعْنَاهَا الْأَصْلِيِّ كَذَلِكَ وُصِفَتْ بِهِ بِاعْتِبَارِ نَقْلِهَا عَنْ إِعْرَابِهَا الْأَصْلِيِّ“ پس جیسے کلمہ کو موصوف کیا جاتا ہے مجاز کے ساتھ کس اعتبار سے؟ کہ وہ نقل ہوتا ہے معنیٰ اصلی سے، اسی طرح کلمہ کو موصوف کیا جاتا ہے مجاز کے ساتھ بیں اعتبار کہ یہ اس کو نقل کیا جاتا ہے کس سے؟ اعرابِ اصلی سے۔ بھئی ہم کلمے کو مجاز کیوں کہتے ہیں کیونکہ وہ معنیٰ اصلی سے کیا کرتے ہیں ہم اس کو؟ نقل کرتے ہیں، اسی طرح اس پر بھی مجاز کا لفظ بولا گیا کس اعتبار سے کہ اس میں بھی نقل ہے کس سے؟ اعرابِ اصلی سے۔ ”وَظَاهِرُ عِبَارَةِ الْمِفْتَاحِ أَنَّ الْمَوْصُوفَ بِهَذَا النَّوْعِ مِنَ الْمَجَازِ هُوَ نَفْسُ الْإِعْرَابِ“ اور مفتاح العلوم کی ظاہری عبارت یہ ہے کہ مصنف نے کیا کہا؟ ”قَدْ يُطْلَقُ الْمَجَازُ عَلَى كَلِمَةٍ“، یہ جو مجاز ہے اس کا اطلاق بھی کس پر کیا؟ کلمہ پر، اس سے بھی مراد کلمہ ہے، اور علامہ سکاکی فرماتے ہیں اس کے ساتھ موصوف اعراب ہوگا، یہ اعراب مجاز ہے۔ صاحبِ تلخیص نے فرمایا: ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾، رَب کا اصل محل کیا تھا؟ رَبِّ جر تھا اور آیا کیا؟ رَبُّ، تو یہ کلمہ مجاز ہے، یہ کلمہ کیا ہے؟ مجاز ہے کیونکہ اس کا اعراب نقل ہوا ہے، جیسے معنیٰ نقل کرنے سے اس کو مجاز کہتے ہیں تو اعراب کے نقل کرنے سے بھی اس کو کیا کہہ دیا؟ صاحبِ تلخیص فرماتے ہیں نہیں، رَب کلمہ نہیں مجاز، اعراب مجاز ہیں، کیا ہے؟ اعراب مجاز ہے، وہ اعراب کی صفت بناتے ہیں۔ ”وَظَاهِرُ عِبَارَةِ الْمِفْتَاحِ أَنَّ الْمَوْصُوفَ بِهَذَا النَّوْعِ مِنَ الْمَجَازِ هُوَ نَفْسُ الْإِعْرَابِ، وَمَا ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ أَقْرَبُ إِلَى الْحَقِّ“ اور وہ جو ذکر کیا مصنف نے کہ کلمہ موصوف ہوتا ہے یہ حق کے زیادہ قریب ہے، جی زیادہ قریب ہے، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ دونوں کا مدلول ایک رہے گا مولانا، اور اگر علامہ سکاکی کی بات لیں تو مدلول بدل جائے گا۔ مصنف نے کیا کہا؟ مجاز کا اطلاق ہوتا ہے کس پر؟ جب کلمہ منتقل ہو معنیٰ اصلی سے کس کی طرف؟ معنیٰ غیر اصلی کی طرف، اسی طرح مجاز کا اطلاق کلمے پر ہوتا ہے جب وہ اعرابِ اصلی سے منتقل ہو کس کی طرف؟ غیر اصلی کی طرف۔ تو دیکھو اس میں بھی مجاز سے مراد کلمہ، اس میں بھی مجاز سے کیا مراد؟ کلمہ۔ جبکہ علامہ سکاکی کی بات لیں تو اس مجاز کے اندر کلمے سے... اس مجاز میں اس کا مدلول ہے کلمہ، اور یہاں مجاز کا مدلول کیا ہے؟ اعراب ہے، یہاں کیا ہے؟ اعراب ہے، تو مدلول بدل جائے گا دونوں کا، اور صاحبِ تلخیص کی بات لیں تو دونوں کا مدلول ایک ہی رہے گا لہٰذا یہ اولیٰ ہے۔ اسی طرح مولانا آپ نے کیا کہا کہ مجاز ہے اعراب کے... اعراب کیا ہے؟ مجاز ہے۔ ٹھیک ہے یہ کمی کی صورت میں تو بات صحیح، زیادتی کی صورت میں بات صحیح نہیں رہتی۔ کمی کی صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں مثلاً دیکھو ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ اصل میں کیا تھا؟ ”جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ“، تو رَب کا اصل اعراب کیا تھا؟ جر تھا اور پھر جب امر کو حذف کر دیا تو اب کیا آ گیا؟ رفع، تو دیکھو یہ اب ٹھیک ہے واقعی مجاز ہوا، اعراب کیا ہوا؟ مجازی اعراب ہوا حقیقی نہیں۔ یہ تو کمی کی صورت میں بات صحیح رہے گی لیکن زیادتی کی صورت میں صحیح نہیں: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾، یہاں ہم یہ نہیں کہہ سکتے مولانا کہ مِثْل کا اعراب کیا ہے؟ مجازاً جر ہے، کیونکہ کاف صراحتاً جب اس پہ داخل ہو رہا ہے تو مجازاً کیا ہے؟ مجاز یہاں نہیں جاری ہوگا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے انہوں نے کہا مصنف کا قول حق کے زیادہ قریب ہے۔ ”وَالْقَوْلُ بِزِيَادَةِ الْكَافِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ أَخْذٌ بِالظَّاهِرِ“ جی، یہاں سے علامہ تفتازانی ادھر توجہ کرو بھئی، علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں یہ جو تقریر کی ہے یہ تو ظاہری تقریر ہے مولانا۔ کیا تقریر ہے ظاہری؟ کہ ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ اس کے اندر کاف کیا ہے؟ زائد ہے۔ اگر آپ زائد نہیں مانیں گے تو پھر کیا معنیٰ ہوگا؟ اللہ کے مثل کا مثل، معلوم ہوا اللہ کا مثل ہے اس مثل کا آگے مثل نہیں ہے۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں یہ جو خرابی آ رہی تھی اور یہ جو ہم نے کہا کاف زائد ہے یہ تو ظاہری تقریر ہے، ورنہ دراصل یہ کنایہ ہے، یہ کیا ہے؟ کنایہ ہے۔ ذکر ہوا اللہ کے مثل کا مثل نہیں، اور مراد ہے اللہ کا مثل نہیں۔ ذکر کیا ہوا؟ اللہ کے مثل کا مثل نہیں، اور مراد کیا ہے؟ اللہ کا مثل نہیں۔ جیسے آپ کہتے ہیں: فلاں طویل النجاد ہے، لمبی حمائل والا ہے اور مراد کیا ہوتا ہے؟ لمبے قد والا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، بولا یہ گیا کلام یہ ہے کہ اللہ کے مثل کا مثل نہیں اور مراد کیا ہے؟ اللہ کا مثل نہیں۔ کس طرح؟ کنایہ کس طرح ہے؟ اور نیز کہتے ہیں ہاں یہ کنایہ ہونے کی وجہ سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ ”الْكِنَايَةُ أَبْلَغُ مِنَ التَّصْرِيحِ“، کیونکہ کنایہ کے اندر دلیل ساتھ ہوتی ہے مولانا۔ کنایہ بلیغ کیوں ہوتا ہے؟ دلیل دعویٰ ہوتا ہے اور دعوے کے ساتھ دلیل ہوتی ہے، جیسے میں نے کہا ”فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ“ اور میری مراد کیا ہے؟ فلاں لمبے قد والا ہے، تو میرا دعویٰ یہ ہے فلاں لمبے قد والا ہے اور ساتھ میں دلیل بھی لے آیا، دلیل کیا ہے؟ اس کی حمائل لمبی ہے دلیل یہ ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر بھی کنایہ ہے اور جب کنایہ ہے تو ساتھ دلیل آ گئی اور جب دلیل آ گئی تو کیا ہوا؟ کلام کے اندر بلاغت زیادہ حسن پیدا ہو گیا، زیادہ بلاغت آ گئی مولانا۔ کس طرح؟ دیکھو میں کہتا ہوں زید کے بھئی کا بھئی نہیں۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ زید کا بھئی نہیں، ثابت... کہنا یہ چاہتا ہوں، اور میں کہتا کیا ہوں؟ زید کے بھئی کا بھئی نہیں، اور مراد کیا ہے؟ زید کا بھئی نہیں۔ یہ ہے زید، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ہے اس کا بھئی، لیکن میں نے نفی کرنی ہے، ہے نہیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ میں کہتا ہوں زید کا... میں کہنا کیا چاہتا ہوں؟ زید کا بھئی نہیں۔ اور میں کہتا کیا ہوں؟ زید کے بھئی کا بھئی نہیں۔ یہ کنایہ ہوا، کنایہ اس طرح ہوا کیونکہ اگر زید کا بھئی ہوتا تو کون ہوتا؟ یہ، تو اس کا بھئی ہوگا یا نہیں ہوگا؟ کون ہوگا؟ زید۔ جب زید کا بھئی ہوگا تو بھئی کا بھی کون ہوگا آگے؟ وہ خود کون ہوگا؟ زید ہوگا۔ تو اگر جب زید کے بھئی کا بھئی نہیں ہے تو معلوم ہوا زید کا بھی بھئی نہیں، کیونکہ زید کے بھئی کا اگر زید کا بھئی ہوتا تو آگے اس کا بھی کون ہوتا؟ بھئی ہوتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو جب میں نے کہا زید کے بھئی کا بھئی نہیں تو میں نے زید کے بھئی کی ہی نفی کر دی، کیونکہ اگر زید کا بھئی ہوتا تو آگے اس بھئی کا بھی کون ہوتا؟ بھئی ہوتا اور وہ خود کون ہوتا؟ زید ہوتا۔ اسی طرح قرآن میں ہے: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ اللہ کے مثل کا مثل نہیں، اور مراد کیا ہے؟ اللہ کا مثل نہیں۔ اس لیے کہ اگر اللہ کا مثل ہوتا تو اس مثل کا بھی مثل ہوتا اور وہ کون؟ اللہ تعالیٰ خود ہوتے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”وَالْقَوْلُ بِزِيَادَةِ الْكَافِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ أَخْذٌ بِالظَّاهِرِ، وَيَحْتَمِلُ أَنْ لَا يَكُونَ زَائِدًا وَيَكُونُ نَفْيًا بِطَرِيقِ الْكِنَايَةِ الَّتِي هِيَ أَبْلَغُ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى مَوْجُودٌ، فَإِذَا نُفِيَ مِثْلُ مِثْلِهِ لَزِمَ نَفْيُ مِثْلِهِ ضَرُورَةً أَنَّهُ لَوْ كَانَ لَهُ مِثْلٌ لَكَانَ هُوَ أَعْنِي اللهَ تَعَالَى مِثْلَ مِثْلِهِ فَلَمْ يَصِحَّ نَفْيُ مِثْلِ مِثْلِهِ، كَمَا تَقُولُ: لَيْسَ لِأَخِي زَيْدٍ أَخٌ، أَيْ لَيْسَ لِزَيْدٍ أَخٌ نَفْيًا لِلْمَلْزُومِ بِنَفْيِ لَازِمِهِ“۔ اور یہ زیادتی کاف والا قول جو ہے اللہ کے اس قول میں ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ یہ اخذ بالظاہر ہے ظاہری کلام کو لینا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے اس کے اندر کہ یہ زائد نہ ہو اور نفی ہو مثل کی کس طور پر؟ کنایہ کے طریقے پر جو کہ زیادہ بلیغ ہے حقیقت سے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ موجود ہیں پس جب اللہ کے مثل کے مثل کی نفی کی گئی تو اس کے اللہ کے مثل کی بھی نفی لازم آئی ضرورۃً یقینی ہونے کی بنا پر بدیہی ہونے کی بنا پر کہ اگر اللہ کا کوئی مثل ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ جو ہیں تو وہ یعنی اللہ تعالیٰ جو ہیں مثلِ مثل ہوتے تو مثل کے مثل کی نفی صحیح نہ رہتی، جیسے آپ کہتے ہیں ”لَيْسَ لِأَخِي زَيْدٍ أَخٌ“ کہ زید کے بھئی کا کوئی بھئی نہیں ہے یعنی زید کا کوئی بھئی نہیں نفی کرتے ہوئے ملزوم کی کس کے ساتھ؟ لازم کی نفی کے ساتھ ملزوم کی نفی آپ کر رہے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ ملزوم کیا ہے؟ زید کا بھئی، اور اس کے ساتھ لازم کیا ہے؟ اس کا بھی بھئی، زید کے بھئی کا بھی بھئی ہو، تو جب لازم کی نفی ہوئی تو ملزوم کی بھی نفی ہو گئی۔ واللہ اعلم۔ ”الْكِنَايَةُ فِي اللُّغَةِ مَصْدَرُ كَنَيْتُ بِكَذَا عَنْ كَذَا وَقَنَوْتُ إِذَا تَرَكْتَ التَّصْرِيحَ بِهِ، وَفِي الِاصْطِلَاحِ لَفْظٌ أُرِيدَ بِهِ لَازِمُ مَعْنَاهُ مَعَ جَوَازِ إِرَادَتِهِ مَعَهُ“ کنایہ آپ نے پڑھا مولانا، کنایہ بھی کس کو کہتے ہیں کہ لفظ کو غیر موضوع لہٗ کے اندر استعمال کیا جائے لیکن موضوع لہٗ کا ارادہ بھی جائز ہو۔ ایک ہے مجاز، ایک ہے کنایہ۔ مجاز کس کو کہتے ہیں کہ لفظ سے غیر موضوع لہٗ کا ارادہ کیا جائے اور موضوع لہٗ کا ارادہ جائز نہ ہو کیونکہ کوئی قرینہ مانعہ موجود ہو۔ اور کنایہ کس کو کہتے ہیں کہ لفظ سے مراد غیر موضوع لہٗ ہے لیکن موضوع لہٗ کا ارادہ بھی جائز ہے، یا یوں کہو ملزوم بول کر لازم مراد لینا، ملزوم بول کر لازم مراد لینا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ملزوم بول کر کیا مراد لینا؟ لازم مراد لینا۔ جیسے میں نے کہا ”فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ“ فلاں لمبی حمائل والا ہے اور لمبی حمائل کے ساتھ کیا لازم ہے؟ لمبے قد کا ہونا، تو میں یہاں اس کے جو معنیٰ حقیقی ہے اس کا لازم مراد لیتا ہوں، لیکن ساتھ ساتھ حقیقی معنیٰ مراد لینا بھی ممکن ہے اور صحیح ہے کہ میں اس سے کیا اگر کس چیز کا ارادہ کیا جائے؟ لمبی حمائل کا بھی کیا جائے تو وہ بھی کیونکہ جب لمبے قد والا ہے تو یقیناً اس کی حمائل... ”الْكِنَايَةُ فِي اللُّغَةِ مَصْدَرُ كَنَيْتُ بِكَذَا عَنْ كَذَا“ یوں بولتے ہیں مولانا کہ ”كَنَيْتُ بِكَذَا عَنْ كَذَا“ میں نے کنایہ کیا اس طرح اس سے، ”أَوْ قَنَوْتُ بِكَذَا عَنْ كَذَا إِذَا تَرَكْتَ التَّصْرِيحَ بِهِ“ جب آپ تصریح کو ترک کر دیں اور اشارہ کریں، ”وَفِي الِاصْطِلَاحِ لَفْظٌ أُرِيدَ بِهِ لَازِمُ مَعْنَاهُ مَعَ جَوَازِ إِرَادَتِهِ مَعَهُ“ وہ لفظ ہے جس کے ساتھ ارادہ کیا جائے اس کے معنیٰ کے لازم کا مع اس کے کہ جائز ہو ارادہ اس کے معنیٰ حقیقی کا کرنا بھی اس کے لازم کے ساتھ۔ بھئی ارادہ تو لازم کا کر رہے ہیں لیکن لازم کے ساتھ معنیٰ ملزوم یعنی معنیٰ حقیقی کا ارادہ بھی جائز ہے۔ ”أَيْ إِرَادَةِ ذَلِكَ الْمَعْنَى مَعَ لَازِمِهِ كَلَفْظِ طَوِيلِ النِّجَادِ الْمُرَادِ بِهِ طَوِيلُ الْقَامَةِ مَعَ جَوَازِ أَنْ يُرَادَ حَقِيقَةُ طُولِ النِّجَادِ أَيْضًا“ جیسے ”طَوِيلُ النِّجَادِ“ کا لفظ ہے جس سے مراد طویل القامت ہے مع اس کے کہ طولِ نجاد کی حقیقت بھی مراد ہو سکتی ہے، ”فَظَهَرَ أَنَّهَا تُخَالِفُ الْمَجَازَ مِنْ جِهَةِ إِرَادَةِ الْمَعْنَى مَعَ إِرَادَةِ لَازِمِهِ“ تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہ جو کنایہ ہوتا ہے یہ مخالفت کرتا ہے مجاز کی معنیٰ حقیقی کے ارادہ کرنے کی جہت سے کس کے ساتھ؟ لازم کے ارادے کے ساتھ، یعنی یہاں پر معنیٰ حقیقی کا ارادہ بھی ہوگا کس کے ساتھ؟ لازم کے ساتھ یعنی کرنا جائز ہوگا، معنیٰ لازم کے ساتھ معنیٰ حقیقی کا ارادہ بھی جائز ہوگا، ”كَإِرَادَةِ طُولِ النِّجَادِ مَعَ إِرَادَةِ طُولِ الْقَامَةِ، بِخِلَافِ الْمَجَازِ فَإِنَّهُ لَا يَجُوزُ فِيهِ إِرَادَةُ الْمَعْنَى الْحَقِيقِيِّ لِلُزُومِ الْقَرِينَةِ الْمَانِعَةِ عَنْ إِرَادَةِ الْمَعْنَى الْحَقِيقِيِّ“۔ ”وَقَوْلُهُ: مِنْ جِهَةِ“ یہاں سے وہ اشکال کا جواب دے رہے ہیں: اوپر آپ نے بھئی کہتے ہیں کنایہ کی تعریف یہ کی کہ مراد لازم ہو اور ملزوم کا ارادہ بھی جائز ہو، اور نیچے کہا جب تفریع کی ”فَظَهَرَ“ سے تو بتلایا کہ معنیٰ حقیقی مجازی کے ساتھ ساتھ معنیٰ حقیقی بھی مراد ہو، یہی بات کر رہے ہیں نا کہ مخالف ہوتا ہے مجاز سے کس اعتبار سے؟ معنیٰ حقیقی کے اعتبار سے یعنی وہ بھی مراد ہوتا ہے اور لازم بھی۔ تو اوپر تعریف میں کہا کہ لازم مراد ہوگا اور ملزوم کا ارادہ بھی جائز ہے، اور آگے کہہ رہے ہیں کہ جائز نہیں بلکہ کیا ہے؟ واقع بھی ہو۔ تو کہتے ہیں نہیں بھئی، وہاں پر جواز کا لفظ ”مِنْ جِهَةِ جَوَازِ إِرَادَةِ الْمَعْنَى“ مولانا، جواز کا لفظ کیا ہے؟ یہ تفریع کے اندر محذوف ہے جہت کے بعد، ”مِنْ جِهَةِ جَوَازِ“۔ ”وَقَوْلُهُ: مِنْ جِهَةِ إِرَادَةِ الْمَعْنَى مَعْنَاهُ مِنْ جِهَةِ جَوَازِ إِرَادَةِ الْمَعْنَى لِيُوَافِقَ مَا ذَكَرَهُ فِي تَعْرِيفِ الْكِنَايَةِ“ تاکہ یہ کلام موافق ہو جائے اس کے جس کو اس نے ذکر کیا مولانا کنایہ کی تعریف میں، ”وَلِأَنَّ الْكِنَايَةَ كَثِيرًا مَا تَخْلُو عَنْ إِرَادَةِ الْمَعْنَى الْحَقِيقِيِّ لِلْقَطْعِ بِصِحَّةِ قَوْلِنَا“ اور اس لیے کہ کنایہ بسا اوقات خالی ہوتا ہے معنیٰ حقیقی سے قطعی طور پر ہمارے اس قول کے صحیح ہونے کے... صاحبِ تلخیص نے جو کنایہ کی تعریف کی اس میں جواز کو ذکر کیا، اور پھر جو اس پر تفریع کی اس میں جواز کو ذکر نہیں کیا جس سے وقوع سمجھ میں آتا ہے۔ وہ جواز یہ ذکر کیا کہ استعارہ بالکنایہ اس کو کہتے ہیں کہ معنیٰ لازم کے ساتھ ساتھ معنیٰ حقیقی کا ارادہ بھی جائز ہو۔ اور آگے تفریع کرتے ہیں کہ اس سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ مجاز کے ساتھ کنایہ کی مخالفت کس چیز میں ہے؟ معنیٰ حقیقی کی جہت سے ہے، معنیٰ حقیقی کے اعتبار سے ہے، یعنی اس سے یہ مفہوم ہوا یہاں معنیٰ حقیقی بھی لیا جائے گا اور معنیٰ لازم بھی مراد لیا جائے گا۔ تو جواب دیا علامہ تفتازانی نے کہ نہیں بھئی، یہ تفریع جو ہے اس کے اندر جہت کے بعد جواز کا لفظ یہاں بھی محذوف تو بات ایک ہی بن جائے گی، تو کنائے کی تعریف اپنی تفریع کے موافق ہو گئی مولانا۔ نیز: ”وَلِأَنَّ الْكِنَايَةَ كَثِيرًا مَا تَخْلُو عَنْ إِرَادَةِ الْمَعْنَى الْحَقِيقِيِّ“ اور نیز بسا اوقات کنایہ خالی ہوتا ہے معنیٰ حقیقی سے یعنی وہاں پر معنیٰ حقیقی مراد لینا ہی صحیح نہیں ہوتا، ”لِلْقَطْعِ بِصِحَّةِ قَوْلِنَا: فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ وَجَبَانُ الْكَلْبِ وَمَهْزُولُ الْفَصِيلِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ نِجَادٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا فَصِيلٌ“۔ یہ کنایات ہیں مولانا، کسی شخص کے بارے میں کہا جائے کہ وہ لمبے قد والا ہے تو کنایۃً یوں کہتے ہیں: ”فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ“، تو ”طَوِيلُ النِّجَادِ“ فلاں لمبی حمائل والا ہے، اور جس کی حمائل لمبی ہوگی اس کے ساتھ لازم ہے کہ اس کا قد بھی لمبا ہوگا۔ تو یہ کہنا صحیح ہے اگرچہ اس آدمی کی حمائل ہو ہی نہ، اس نے کبھی تلوار لگائی ہی نہیں مولانا، حمائل ہی نہیں ہے، لیکن پھر بھی یہ کہنا صحیح ہے۔ تو دیکھو یہاں معنیٰ حقیقی مراد لے ہی نہیں سکتے، تو ہے تو کنایہ لیکن معنیٰ حقیقی مراد نہیں لے سکتے۔ لیکن یہ جو ممانعت آئی مولانا یہ کنایہ ہونے کے اعتبار سے نہیں آئی، اس خاص مادے کے اعتبار سے آئی، کس اعتبار سے؟ اس خاص مادے... یہ جو آپ نے طولِ نجاد کو ذکر کیا نا مولانا کنایۃً، اس کے اعتبار سے آئی کہ چونکہ اس کی حمائل ہے ہی نہیں اس لیے یہاں حقیقی معنیٰ مراد نہیں، ورنہ کنایہ ہونے کی حیثیت سے حقیقی معنیٰ مراد لینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اسی طرح کہتے ہیں: ”فُلَانٌ جَبَانُ الْكَلْبِ“، فلاں بزدل کتے والا ہے، یہ سخی شخص کے لیے کہتے ہیں، اس لیے کہ اس سخی شخص کے پاس کثرت سے لوگوں کی آمد و رفت ہوگی تو کثرتِ آمد و رفت کی وجہ سے کتا جو ہے آنے والوں سے کیا ہوگا؟ ان کو کچھ کہہ ہی نہیں سکتا، ڈرتا ہے ان سے، تو اس کو سخی کو پھر کیا کہہ دیتے ہیں کہ یہ جبان الکلب ہے مولانا، اور مراد کیا ہوتا ہے کہ وہ سخی ہے۔ اب ایک شخص جس کا کتا ہی نہیں ہے اس کو بھی یہ کہنا صحیح: ”فُلَانٌ جَبَانُ الْكَلْبِ“، بزدل کتے والا ہے۔ تو دیکھو حقیقی معنیٰ مراد نہیں لے سکتے یہاں پر کیونکہ اس نے کتا رکھا ہی نہیں ہوا، جب رکھا ہی نہیں تو جبان الکلب بھی نہیں، لیکن یہ جو ممانعت آئی معنیٰ حقیقی کی وہ اس خاص مادے کے اعتبار سے آئی مولانا کہ آپ نے جبان اور کلب کا لفظ استعمال کیا اور اس کا تو کتا ہے ہی نہیں۔ اسی طرح سخی کے لیے کہتے ہیں: ”فُلَانٌ مَهْزُولُ الْفَصِيلِ“، فلاں کے اونٹنی کے بچے کمزور ہیں یعنی وہ کمزور اونٹنی کے بچوں والا ہے۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ سخی کے پاس بار بار مہمان آئیں گے، مہمان آئیں گے تو وہ اونٹنی کا دودھ وہ بچے کو پینے کے لیے نہیں بچے گا بلکہ وہ سارا کس کو پلاتا رہے گا؟ مہمانوں کو، تو لازمی بات ہے اس اونٹنی کا بچہ کیا ہوگا؟ کمزور۔ تو اب ایک سخی آدمی ہے اس کے بارے میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں ”فُلَانٌ مَهْزُولُ الْفَصِيلِ“، اگرچہ یہاں معنیٰ حقیقی کا ارادہ... معنیٰ حقیقی مراد نہیں لے سکتے کیونکہ اس کی اونٹنیاں ہیں ہی نہیں، اس نے اونٹ رکھے ہی نہیں ہوئے، تو جب اونٹ ہیں ہی نہیں تو حقیقی معنیٰ مراد نہیں، لیکن یہ جو منع آئی وہ کس جہت سے آئی؟ اس خاص مادے کے اعتبار سے آئی، کنایہ ہونے کے اعتبار سے نہیں آئی۔ اس لیے کہ قطعی طور پر ہمارا یہ کہنا صحیح ہے: ”فُلَانٌ طَوِيلُ النِّجَادِ وَجَبَانُ الْكَلْبِ وَمَهْزُولُ الْفَصِيلِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ نِجَادٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا فَصِيلٌ“، ”وَمِثْلُ هَذَا فِي الْكَلَامِ أَكْثَرُ مِنْ أَنْ تُحْصَى“ اور اس قسم کی مثالیں اس قسم کے کنایات کلام کے اندر شمار سے باہر ہیں، شمار سے بے انتہا عام استعمال ہوتی ہیں اس قسم کی کنایات۔ ”وَهَاهُنَا بَحْثٌ لَا بُدَّ مِنَ التَّنْبِيهِ عَلَيْهِ“ اور یہاں پر بحث ہے جس پر متنبہ کرنا ضروری ہے، ”وَهُوَ أَنَّ الْمُرَادَ بِجَوَازِ إِرَادَةِ الْمَعْنَى الْحَقِيقِيِّ فِي الْكِنَايَةِ أَنَّ الْكِنَايَةَ مِنْ حَيْثُ إِنَّهَا كِنَايَةٌ لَا تُنَافِي ذَلِكَ كَمَا أَنَّ الْمَجَازَ يُنَافِيهِ“ یہی بات اب علامہ تفتازانی ذرا تفصیل سے بیان کر رہے ہیں: اور یہاں پر بات ہے جس پر متنبہ کرنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ جو کنایہ میں ہم کہتے ہیں کہ معنیٰ حقیقی مراد لینا بھی جائز ہے اس سے کیا مراد ہے؟ کہ کنایہ من حیث الکنایہ یہ اس کے منافی اس معنیٰ حقیقی کے منافی تو نہیں ہے جیسا کہ مجاز من حیث المجاز معنیٰ حقیقی کے منافی ہے وہ نہیں مراد لے سکتے، ”لَكِنْ قَدْ يَمْتَنِعُ ذَلِكَ فِي الْكِنَايَةِ بِوَاسِطَةِ خُصُوصِ الْمَادَّةِ“ لیکن کبھی کبھار یہ معنیٰ حقیقی ممتنع ہو جاتا ہے کنایہ میں اس مادۂ خاص کے واسطے سے، ”كَمَا ذَكَرَهُ صَاحِبُ الْكَشَّافِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ إِنَّهُ مِنْ بَابِ الْكِنَايَةِ“ جیسے کہ صاحبِ کشاف نے ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ کہ یہ کنایہ کے باب سے ہے مولانا، وہ جو کنایہ میں نے اللہ کے مثل کا مثل نہیں اور یہ کنایہ ہے کس سے کہ اللہ کا مثل نہیں، وہی بات ذکر کر رہے ہیں۔ ”كَمَا فِي قَوْلِهِمْ: مِثْلُكَ لَا يَبْخَلُ“ وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کہ اس قول کے اندر ہے مولانا عربوں کے: آپ ایک شخص کو کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کو بخل نہیں کرنا چاہیے، آپ اس کو کہتے ہیں: ”مِثْلُكَ لَا يَبْخَلُ“، آپ جیسے لوگ بخل نہیں کرتے۔ آپ جیسے، کیا معنیٰ؟ جن لوگوں میں آپ کی خاص صفات پائی جاتی ہیں۔ بھئی میں کسی کو کہتا ہوں: آپ جیسے آدمی تو بخل نہیں کرتے، کیا معنیٰ؟ انسان مراد ہیں؟ آپ جیسے جو انسان مراد ہیں؟ ہر انسان تو نہیں مراد نا، مراد ہے آپ جیسے جن میں صفات ہیں وہ لوگ بخل نہیں کرتے، آپ جیسا علم ہے اور آپ جیسی سخاوت ہے تو یہ کیا کرتے ہیں؟ اکثر اپنے ساتھی کو کیا پلاتے ہیں؟ چائے پلاتے ہیں مولانا، تو یہ بخل نہیں کرتے۔ تو خاص صفات مراد ہیں۔ تو اب مثلاً میں کہتا ہوں ”مِثْلُكَ لَا يَبْخَلُ“ لیکن مراد آپ کے مثل لوگ ہیں یا مراد آپ ہیں؟ میں کہنا کیا چاہتا تھا دراصل؟ کہ آپ کو بخل نہیں کرنا چاہیے، ”مِثْلُكَ لَا يَبْخَلُ“ آپ جیسے لوگ بخل نہیں کرتے یعنی آپ کو بخل نہیں، تو یہ کنایہ ہے، ذکر تو میں مثل کو کر رہا ہوں لیکن مراد وہی مخاطب ہی ہے مولانا۔ تو جیسے یہاں کیوں؟ اس لیے کہ جب میں نے کہا آپ جیسے لوگ بخل نہیں کرتے، معلوم ہوا جس میں آپ جیسی صفات ہوں، اور آپ جیسی صفات جن جن میں ہیں ان میں آپ خود بھی ہیں، آپ میں بھی تو وہ صفات ہیں، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اس لیے تو یہ کنایہ۔ ”كَمَا فِي قَوْلِهِمْ: مِثْلُكَ لَا يَبْخَلُ لِأَنَّهُمْ إِذَا نَفَوْهُ عَمَّنْ يُمَاثِلُهُ وَعَمَّنْ يَكُونُ عَلَى أَخَصِّ أَوْصَافِهِ فَقَدْ نَفَوْهُ عَنْهُ“ اس لیے کہ جب انہوں نے بخل کی نفی کر دی اس سے جو اس کے مماثل ہے اور اس شخص سے جو اس کے مخاطب کے خاص اوصاف پر ہو یعنی علم ہے سخاوت وغیرہ، تو جب اس کے مثل سے ہم نے نفی کر دی، مثل سے انہوں نے نفی کر دی تو مخاطب سے بھی کیا کر دی بخل کی؟ نفی کر دی۔ ”كَمَا يَقُولُونَ: بَلَغَتْ أَتْرَابُهُ“ جیسے کہتے ہیں مولانا: ”بَلَغَتْ أَتْرَابُهُ“، أَتْرَاب جمع ہے تِرْب کی، تِرْب کہتے ہیں ہم عمر کو مولانا، ہم عمر۔ جیسے قرآن میں آتا ہے مولانا: ﴿وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا﴾، کواعب جمع ہے کاعب اور وہ کس کو کہتے ہیں بھئی؟ ابھرے ہوئے پستان والی، کعب سے ہے مولانا جیسے ٹخنہ ابھرا ہوا ہوتا ہے مولانا دیکھا، تو ﴿وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا﴾ اور اتراب سے کیا مراد ہے؟ ہم عمر عورتیں ہوں گی حوریں ہوں گی جنت کے اندر مولانا، انشاء اللہ وہاں آپ کی دعوت کریں گے انشاء اللہ۔ اچھا بھئی، تو جب نفی کر دی اس سے... تو کہتے ہیں عرب کیا کہتے ہیں: ”بَلَغَتْ أَتْرَابُهُ“، اس کے ہم عمر بالغ ہو گئے۔ کسی کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اس کے ہم عمر بالغ ہو گئے، یعنی جن کی عمر اتنی ہے وہ بالغ ہو گئے ہیں اور اس کی خود بھی اتنی عمر ہے، معلوم ہوا یہ خود بھی کیا ہو گیا؟ بالغ ہو گیا، تو یہ کنایہ ہوتا ہے اسی سے۔ ”يُرِيدُونَ بِهِ بُلُوغَهُ“ اور ارادہ اسی کے بالغ ہونے کا کرتے ہیں۔ ”فَقَوْلُنَا: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ كَقَوْلِنَا: لَيْسَ كَاللهِ شَيْءٌ“ اللہ جیسی کوئی چیز نہیں، اور اسی طرح ہمارا یہ کہنا: ”لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ“، یہ دونوں دراصل ایک ہی معنیٰ کو ادا کر رہے ہیں، ایک صراحتاً اور ایک کنایۃً۔ ”عِبَارَتَانِ مُتَعَاقِبَتَانِ عَلَى مَعْنًى وَاحِدٍ“ متعاقب کا معنیٰ پے در پے آنا، یکے بعد دیگرے آنا، باری باری آنا مولانا، باری باری آ رہی ہیں ایک ہی معنیٰ یعنی ایک ہی معنیٰ کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ ”وَهُوَ نَفْيُ الْمُمَاثَلَةِ عَنْ ذَاتِهِ“ اور وہ مماثلت کی نفی ہے اللہ کی ذات سے، ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَهُمَا إِلَّا مَا يُؤْتِيهِ الْكِنَايَةُ مِنَ الْمُبَالَغَةِ“ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے معنیٰ کے اعتبار سے مگر وہ جو چیز جو کنایہ دے دیتا ہے اس کلام کو، کیا دیتا ہے مولانا؟ یعنی کہ مبالغہ، کنائے سے مبالغہ پیدا ہو گیا، تو کنائے نے مبالغہ عطا کیا تصریح نے اس کو مبالغہ عطا نہیں کیا تو یہ بلیغ ہوا زیادہ کلام۔ ”وَلَا يَخْفَى هَاهُنَا امْتِنَاعُ إِرَادَةِ الْحَقِيقَةِ“ اور یہاں پر مخفی نہیں ہے، دیکھو ”لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ“ یہاں پر حقیقی معنیٰ مراد نہیں، اللہ کے مثل کا مثل نہیں، یہاں سچے معنیٰ مراد نہیں۔ یہاں پر ممتنع ہے حقیقت کا ارادہ، ”وَنَفْيُ الْمُمَاثَلَةِ عَمَّنْ هُوَ مُمَاثِلُهُ وَعَلَى أَخَصِّ أَوْصَافِهِ“ اور مماثلت کی نفی ہے اس سے جو اس اللہ کے مماثل ہو اور اس کے خاص اوصاف پر ہو۔ ”وَفُرِّقَ بَيْنَ الْكِنَايَةِ وَالْمَجَازِ بِأَنَّ الِانْتِقَالَ فِيهَا أَيْ فِي الْكِنَايَةِ مِنَ اللَّازِمِ إِلَى الْمَلْزُومِ“ کنایہ اور ان میں ایک اور فرق بھی ہے مولانا، کنایہ اور مجاز میں ایک فرق تو یہ بتا دیا آپ کو کہ کنایہ کے اندر حقیقی معنیٰ کا ارادہ بھی ہو سکتا ہے، مجاز کے اندر حقیقی معنیٰ کا ارادہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرا فرق بتا رہے ہیں کہ بعضوں نے یہ فرق بھی کیا ہے کہ کنایہ کے اندر انتقال ہوتا ہے لازم سے ملزوم کی طرف، اور مجاز کے اندر انتقال ہوتا ہے ملزوم سے لازم کی طرف۔ ”وَفُرِّقَ بَيْنَ الْكِنَايَةِ وَالْمَجَازِ بِأَنَّ الِانْتِقَالَ فِيهَا مِنَ اللَّازِمِ إِلَى الْمَلْزُومِ كَالِانْتِقَالِ مِنْ طُولِ النِّجَادِ إِلَى طُولِ الْقَامَةِ، وَفِي الْمَجَازِ الِانْتِقَالُ مِنَ الْمَلْزُومِ إِلَى اللَّازِمِ كَالِانْتِقَالِ مِنَ الْغَيْثِ إِلَى النَّبَاتِ وَمِنَ الْأَسَدِ إِلَى الشُّجَاعِ“ جیسے غیث، غیث بارش کو کہتے ہیں، نباتات کی... بارش سے کس کی طرف انتقال کرنا؟ نباتات کی طرف۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نباتات کی طرف۔ جیسے کیا مثال ہے؟ اس کی مثال ہے ”رَعَيْنَا الْغَيْثَ“، ”رَعَيْنَا الْغَيْثَ“، ہم نے بارش میں چرایا، بھئی جانور کو بارش میں چراتے ہیں یا گھاس پہ چراتے ہیں؟ گھاس پہ چراتے ہیں، بارش پہ نہیں چراتے۔ تو یہاں مولانا غیث سے انتقال ہو رہا ہے کس کی طرف؟ نبات کی طرف۔ تو دیکھو بارش کے ساتھ، بارش ہے ملزوم اور بارش کے ساتھ کیا لازم ہے؟ نبات کا ہونا، چیزوں کا اگنا، تو دیکھا ملزوم سے انتقال کس کی طرف ہو رہا ہے؟ لازم کی طرف۔ اسی طرح اسد سے شجاع کی طرف، اسد میں کیا ہے مولانا؟ شجاعت ہے، اسد کے ساتھ... تو اسد سے انتقال کس کی طرف ہوتا ہے؟ تو اسد جب بولتے ہیں مولانا تو اسد میں شجاعت ہے، اسی طرح رجلِ شجاع میں بھی کیا ہے؟ شجاعت ہے، تو جب انتقال ہوا اسد سے رجلِ شجاع کی طرف تو یہ کس طرح ہے؟ تو اسد ملزوم بن گیا اور رجل کیا بن گیا؟ رجلِ شجاع کیا ہے؟ لازم۔ دیکھو اسد ملزوم ہے، شجاعت کیا ہے؟ لازم، اسی طرح رجلِ شجاع کے ساتھ بھی کیا لازم ہے؟ شجاعت۔ تو اسد سے انتقال جو ہو رہا ہے کس کی طرف رجلِ شجاع کی طرف ہو رہا ہے یہ اس طور پر ہے کہ اسد کیا ہے ملزوم اور رجلِ شجاع کیا ہے؟ لازم بن گیا۔ تو مجاز میں انتقال ہوتا ہے اسد سے کس کی طرف؟ رجلِ شجاع کی طرف۔ ”وَرُدَّ هَذَا الْفَرْقُ“ اور رد کیا گیا ہے اس فرق کو، یہ فرق علامہ سکاکی نے ذکر کیا، مصنف اس کو رد کر رہے ہیں کہ یہ فرق صحیح نہیں کہ کنائے میں انتقال ہوتا ہے لازم سے ملزوم کی طرف اور مجاز میں ہوتا ہے ملزوم سے لازم کی طرف۔ ”وَرُدَّ هَذَا الْفَرْقُ بِأَنَّ اللَّازِمَ مَا لَمْ يَكُنْ مَلْزُومًا بِنَفْسِهِ أَوْ بِانْضِمَامِ قَرِينَةٍ إِلَيْهِ لَمْ يُنْتَقَلْ مِنْهُ إِلَى الْمَلْزُومِ“ کہتے ہیں بھئی کنایہ کے اندر لازم سے ملزوم کی طرف انتقال نہیں ہوتا بلکہ دیکھو یہ ہے طولِ نجاد اور یہ ہے طولِ قامت، طولِ قامت کے ساتھ لازم کیا ہے؟ طولِ نجاد، تو یہ طولِ قامت ہے ملزوم اور طولِ نجاد کیا ہے؟ لازم، لیکن یہ لازم بھی ایسا ہونا چاہیے مولانا کہ یہ من وجہ ملزوم ہے اور اس کے ساتھ طولِ قامت لازم ہے۔ جب لمبا قد ہوگا حمائل کیا ہوگی؟ لمبی، اور جب حمائل لمبی ہوگی قد بھی کیا ہوگا؟ لمبا ہوگا۔ تو مساوات ہونی چاہیے دونوں طرف سے۔ یہ ایک ملزوم ہے دوسرا لازم، تو دوسری جہت سے دیکھیں تو یہ ملزوم اور یہ اس کا لازم ہے۔ کنایہ کے اندر پھر بھی انتقال کس سے ہو رہا ہے؟ ملزوم سے لازم ہی کی طرف ہو رہا ہے کیونکہ طولِ نجاد اگر ایک اعتبار سے لازم ہے تو دوسرے اعتبار سے کیا ہے؟ ملزوم بھی ہے کیونکہ اس کے ساتھ قامت کیا ہے؟ لازم ہے۔ تو ”اللَّازِمَ مَا لَمْ يَكُنْ مَلْزُومًا بِنَفْسِهِ“ کہ لازم جب تک وہ خود ملزوم نہیں ہوگا ”أَوْ بِانْضِمَامِ قَرِينَةٍ إِلَيْهِ“ یا تو وہ خود ملزوم ہوگا مولانا یعنی دونوں میں مساوات ہے، جہاں طولِ نجاد وہاں طولِ قامت، اور جہاں طولِ قامت وہاں طولِ نجاد، تو یہ دونوں ہیں مساوی۔ اور کبھی کبھار وہ لازم عام ہوتا ہے پھر قرینے کے ساتھ ہم اس کو اس میں ان میں مساوات لاتے ہیں، کس کے ساتھ لاتے ہیں؟ قرینے کے ساتھ مساوات۔ مثلاً جب بھی ملزوم پایا جاتا ہے لازم... مثلاً سورج جب بھی ہوگا کیا ہوگی؟ روشنی، تو سورج کے ساتھ روشنی لازم لیکن جب بھی روشنی ہو سورج کا نکلنا ضروری نہیں بلکہ روشنی کس کی ہو سکتی ہے؟ بلب کی بھی ہو سکتی ہے۔ تو دیکھو سورج کے ساتھ روشنی لازم تو ہے لیکن یہ لازم کیا ہے؟ عام ہے، کیا ہے؟ عام۔ دونوں میں مساوات ہے؟ نہیں، مساوات تب ہوتی جب بھی سورج ہوتا روشنی ہوتی، جب بھی روشنی ہوتی سورج ہوتا۔ تو یہاں پر پھر کوئی قرینہ ساتھ ملا کر ہم کیا کر دیتے ہیں دونوں میں؟ مساوات پیدا کرتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لازم جب تک خود ملزوم نہ ہو یعنی دونوں میں مساوات نہ ہو یا جب تک وہ ملزوم نہیں بنتا کسی قرینے کے ساتھ ملنے کی وجہ سے ”لَمْ يُنْتَقَلْ مِنْهُ إِلَى الْمَلْزُومِ“ تو اس لازم سے ملزوم کی طرف انتقال نہیں ہوگا، ”لِأَنَّ اللَّازِمَ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ لَازِمٌ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ أَعَمَّ“ اس لیے کہ لازم لازم ہونے کی حیثیت سے ہو سکتا ہے وہ کیا ہو؟ عام ہو جیسے روشنی سورج سے عام ہے، ”وَلَا دَلَالَةَ لِلْعَامِّ عَلَى الْخَاصِّ“ اور عام کی دلالت خاص پر نہیں ہوتی، تو سورج کے نکلنے سے تو ہم کہہ سکتے ہیں روشنی ہے لیکن روشنی کے ہونے پر یہ دلالت نہیں ہوتی کہ سورج بھی ہے۔ ”وَحِينَئِذٍ إِذَا كَانَ اللَّازِمُ مَلْزُومًا فَيَكُونُ الِانْتِقَالُ مِنَ الْمَلْزُومِ إِلَى اللَّازِمِ كَمَا فِي الْمَجَازِ فَلَا يَتَحَقَّقُ الْفَرْقُ“ اور اس وقت جب وہ لازم کس کے درجے میں ہے؟ ملزوم کے درجے میں ہے تو پس اس وقت بھی دراصل انتقال ملزوم سے کس کی طرف ہو رہا ہے؟ لازم کی طرف ہو رہا ہے جیسے کہ کس میں تھا؟ مجاز میں تھا، لہٰذا فرق کا تحقق نہیں، فرق ثابت نہیں ہوا۔ سمجھ میں آئی بات؟ ”وَالسَّكَّاكِيُّ أَيْضًا مُعْتَرِفٌ بِأَنَّ اللَّازِمَ مَا لَمْ يَكُنْ مَلْزُومًا امْتَنَعَ الِانْتِقَالُ مِنْهُ“ اور علامہ سکاکی بھی معترف ہیں کہ جب تک لازم وہ ملزوم نہیں ہوگا تو انتقال بھی ممتنع ہے، انتقال بھی ممتنع ہے۔ معلوم ہوا علامہ سکاکی کا یہ فرق بیان کرنا صحیح نہیں کہ کنائے میں انتقال لازم سے ہوتا ہے اور مجاز میں ملزوم سے ہوتا ہے، کیونکہ وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جب تک لازم ملزوم کے درجے میں نہیں ہے انتقال بھی نہیں۔ بعضوں نے یہ جواب دینے کی کوشش کی، کیا؟ وہ کہتے ہیں ”وَمَا يُقَالُ“ اور وہ جو کہا گیا ہے ”أَنَّ مُرَادَهُ أَنَّ اللُّزُومَ مِنَ الطَّرَفَيْنِ مِنْ خَوَاصِّ الْكِنَايَةِ دُونَ الْمَجَازِ“ کہ مراد سکاکی کی یہ ہے کہ طرفین سے لزوم یہ کنایہ کا خاصہ ہے نہ کہ مجاز کا، ”أَوْ شَرْطٌ لَهَا دُونَهُ“ یا یہ کنایہ کی شرط ہے نہ کہ مجاز کی، ”مِمَّا لَا دَلِيلَ عَلَيْهِ“ یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔ بعضوں نے یہ کہا کہ کنایہ کے اندر جانبین سے چونکہ کیا ہوتا ہے؟ جانبین سے کیا ہوتا ہے؟ ایک ملزوم ہے دوسرا لازم تو وہی جو لازم ہے وہ دوسرے اعتبار سے ملزوم اور یہ ملزوم اس کے لیے لازم ہے۔ تو بعضوں نے کہا کہ کنایہ میں یہ طرفین سے ہے، یہ ملزوم بھی ہے لازم بھی ہے، دوسرا ملزوم بھی ہے اور لازم، جبکہ مجاز میں ایسا نہیں، مجاز میں ایک ملزوم ہے تو دوسرا لازم لیکن وہ لازم ملزوم نہیں ہے۔ کہتے ہیں یہ بات بھی درست نہیں ہے بلکہ کیا ہوتا ہے؟ کنایہ کے اندر بھی بسا اوقات کیا ہوتا ہے مولانا؟ مساوات نہیں ہوتی، لازم عام ہوتا ہے کنایہ میں۔ ابھی بتایا نہیں سورج کے ساتھ روشنی جیسے ہے، روشنی سورج میں اور سورج اور روشنی میں مساوات ہے؟ دونوں طرف سے تلازم ہے؟ نہیں، بلکہ یہاں کوئی قرینہ ملانا پڑے گا پھر جا کر تلازم آئے گا۔ معلوم ہوا کنایہ کے اندر بھی طرفین سے لزوم ہونا ضروری نہیں، اسی طرح مجاز جو ہے مجاز میں طرفین سے لزوم ہو وہاں بھی بسا اوقات طرفین سے لزوم آ جاتا ہے اور آپ تو کہہ رہے ہیں نہیں آتا۔ مثلاً میں نے کیا کہا: ”رَعَيْنَا الْغَيْثَ“ اور غیث بول کر کیا مراد ہے؟ نبات۔ اور جب میں کہوں: ”أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ نَبَاتًا“، آسمان نے کیا برسایا؟ نباتات برسائے، حالانکہ نباتات برسائے یا بارش برسائی؟ تو دیکھو یہاں انتقال ہو رہا ہے لازم سے کس کی طرف؟ ملزوم کی طرف، اور آپ تو کہہ رہے ہیں کہ مجاز میں جانبین سے نہیں ہوتا۔ تو دیکھو جب میں نے کہا ”رَعَيْنَا الْغَيْثَ“ تو غیث سے انتقال کر رہا ہوں کس کی طرف؟ نباتات کی طرف، اور جب میں نے کہا ”أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ نَبَاتًا“ اب میں نبات سے انتقال کر رہا ہوں کس کی طرف؟ بارش کی طرف۔ تو دیکھو جانبین سے آ رہا ہے اور آپ نے تو کہا کہ یہ مجاز میں ایسا نہیں ہوتا، تو معلوم ہوا یہ بات صحیح نہیں۔ ”وَقَدْ يُجَابُ عَنْهُ“ اور بعضوں نے ”قَدْ يُجَابُ“ کے ساتھ کمزور جواب ذکر کر رہے ہیں علامہ تفتازانی، یہ جواب دیا ہے: ”بِأَنَّ مُرَادَهُ بِاللَّازِمِ مَا يَكُونُ وُجُودُهُ عَلَى سَبِيلِ التَّبَعِيَّةِ“ بعضوں نے یہ جواب دیا کہ لازم سے مراد تابع ہے، اور ملزوم سے مراد متبوع ہے۔ لفظ لازم ذکر ہو رہا ہے اور مراد کیا ہے؟ تابع، اور لفظ ملزوم ذکر ہو رہا ہے اور مراد کیا ہے؟ متبوع ہے۔ استعارہ میں کیا کہا انہوں نے؟ لازم سے انتقال ہوتا ہے کس کی طرف؟ ملزوم سے، مراد یہ ہے تابع سے انتقال ہوتا ہے کس کی طرف؟ متبوع کی طرف۔ تو لازم یہاں مراد نہیں ہے بلکہ مراد کیا ہے؟ تابع۔ اور جبکہ مجاز میں متبوع سے انتقال ہوتا ہے کس کی طرف؟ تابع کی طرف ہوتا ہے۔ کہتے ہیں یہ بھی درست نہیں مولانا، یہ بھی درست نہیں۔ دیکھیے: ”وَقَدْ يُجَابُ عَنْهُ بِأَنَّ مُرَادَهُ بِاللَّازِمِ مَا يَكُونُ وُجُودُهُ عَلَى سَبِيلِ التَّبَعِيَّةِ كَطُولِ النِّجَادِ التَّابِعِ لِطُولِ الْقَامَةِ، وَلِهَذَا جَوَّزَ كَوْنَ اللَّازِمِ أَخَصَّ كَالضَّاحِكِ بِالْفِعْلِ لِلْإِنْسَانِ“ اسی لیے جائز قرار دیا علامہ سکاکی نے کہ لازم اخص بھی ہو سکتا ہے جیسے ضاحک بالفعل کس کے لیے؟ انسان کے لیے۔ دیکھو انسان کے ایک ہے ضاحک بالقوۃ اور انسان، تو انسان کے ساتھ لازم ہے کیا؟ ضاحک بالقوۃ، اس میں ہنسنے کی کیا ہے؟ صلاحیت ہے، ہنسنے کی کیا ہے؟ صلاحیت ہے۔ تو ضاحک بالقوۃ اور انسان میں مساوات ہے، کیا ہے؟ مساوات ہے۔ اور انسان ہے ملزوم اور ضاحک بالقوۃ کیا ہے اس کے ساتھ؟ لازم ہے۔ لیکن یہاں مراد کیا ہے؟ متبوع بول کر تابع مراد ہے، کیا مراد ہے؟ متبوع بول کر تابع مراد ہے، لہٰذا وہ فرماتے ہیں کہ لازم وہ اخص بھی ہو سکتا ہے کس سے؟ ملزوم... تابع متبوع سے اخص بھی ہو سکتا ہے، جیسے ضاحک بالفعل انسان سے اخص ہے، کیونکہ ہر انسان ضاحک بالفعل نہیں، تو یہ اخص ہوا، بعض انسان کیا ہیں؟ ضاحک بالفعل۔ تو انسان اعم ہوا اور ضاحک بالفعل اخص ہوا۔ تو کبھی کبھار لازم کیا ہے؟ اخص ہے۔ بھئی اگر ملزوم جب بھی پایا جائے تو ساتھ کیا آنا چاہیے؟ لازم، کیا ہونا چاہیے؟ ملزوم ہو اور لازم نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا، لیکن متبوع جب بھی آئے تابع کا آنا ضروری نہیں، ہاں تابع جب بھی آئے گا کیا ہوگا؟ متبوع ہوگا۔ لہٰذا علامہ سکاکی نے بھی لازم بول کر تابع مراد لیا، ملزوم بول کر متبوع مراد لیا، اسی لیے وہ جائز قرار دیتے ہیں کہ لازم اخص ہو سکتا ہے۔ اگر لازم بول کر لازم ہی مراد ہو پھر تو وہ اخص نہیں ہو سکتا، معلوم ہوا اس سے کیا مراد لے رہے ہیں وہ؟ تابع مراد لے رہے ہیں۔ ”فَالْكِنَايَةُ أَنْ يُذْكَرَ مِنَ الْمُتَلَازِمَيْنِ مَا هُوَ تَابِعٌ وَرَدِيفٌ“ پس کنایہ یہ ہے کہ ذکر کیا جائے دو متلازمین میں سے کس کو؟ ”مَا هُوَ تَابِعٌ“ وہ جو کہ تابع ہے اور ردیف ہے، ایک معنیٰ، بتلایا تھا ردیف کس کو کہتے ہیں جو پیچھے سوار ہو۔ ”وَيُرَادُ بِهِ مَتْبُوعٌ مَرْدُوفٌ“ اور اس سے کیا مراد ہو؟ متبوع اور مردوف جس کے پیچھے سوار ہوا جائے، ”وَالْمَجَازُ بِالْعَكْسِ“ اور مجاز اس کے برعکس ہے کہ وہ کیا ہے؟ متبوع سے انتقال ہوتا ہے کس کی طرف؟ تابع کی طرف۔ ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ اس کلام کے اندر کیا ہے؟ نظر ہے، اشکال ہے۔ کیا اشکال ہے مولانا؟ وہی ابھی جو تقریر گزری مولانا، کیا؟ کہ مجاز کبھی کبھار کیا ہوتا ہے؟ طرفین سے ہوتا ہے، جیسے ابھی غیث اور نبات کی مثال گزری مولانا۔ تو دیکھو تابع سے متبوع کی طرف انتقال ہو رہا ہے یا متبوع سے تابع کی طرف ہو رہا ہے یا تابع سے متبوع کی طرف؟ ”أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ نَبَاتًا“، تابع کون؟ متبوع کون؟ بارش متبوع اور نبات تابع، لیکن یہاں پر تابع سے انتقال کس کی طرف ہو رہا ہے؟ متبوع کی طرف ہو رہا ہے۔ ”وَلَا يَخْفَى عَلَيْكَ أَنَّ لَيْسَ الْمُرَادُ بِاللُّزُومِ هَاهُنَا امْتِنَاعُ الِانْفِكَاكِ“ اور یہ بات مخفی نہیں آپ پر کہ یہاں پر لزوم سے مراد امتناعِ انفکاک نہیں۔ لزوم کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ اس سے جدا ہی نہیں ہو سکتی چیز، ہم یہاں کیا ذکر کر رہے ہیں؟ لزوم کو، اور لزوم کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ ایک چیز دوسری کے ساتھ لازم ہو یعنی اس سے جدا نہ ہو سکے، کہتے ہیں یہ مراد نہیں ہے عدمِ امتناعِ انفکاک مراد نہیں ہے بلکہ مراد ہے ارتباط، یعنی ان دو وہ جو لازم اور ملزوم میں لزوم جو آ رہا ہے اس کا معنیٰ دونوں میں تعلق ہو، کیا ہونا چاہیے؟ تعلق ہونا چاہیے، اور تعلق بھی کیسا ہو؟ اکثری ہونا چاہیے۔ جیسے مولانا وہ گزرا، طولِ نجاد کو ذکر کیا کس کے لیے؟ طولِ قامت کے لیے، اور دونوں میں ارتباط تعلق ہے اور اغلباً ہے جو بھی طول القامت والا... طولِ قامت جس کی بھی ہوگی اس کے لیے طولِ نجاد بھی، اور جس کے لیے طولِ نجاد اس کے لیے طولِ قامت، لیکن ان میں تلازم نہیں کیونکہ ایک شخص ہے اور اس نے کبھی تلوار استعمال ہی نہیں کی تو حمائل بھی نہیں ہے، تو دیکھو... جی چلیے جی: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
109 approved lectures · 104 of 109