بسم الله الرحمن الرحيم
کل مولانا ہم نے تاكيد المدح بما يشبه الذم صنعت پڑھی مولانا، اور آپ نے پڑھا یہ دو قسم پر ہے، ان میں سے افضل یہ ہے کہ جس کے اندر استثناء کیا جائے صفتِ ذم، صفتِ ذم منفیہ عامہ سے صفتِ مدح کا، صفتِ مدح کا جیسے ”وَلَا عَيْبَ فِيهِمْ غَيْرَ أَنَّ سُيُوفَهُمْ بِهِنَّ فُلُولٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ“ کہ ان میں کوئی عیب نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کی تلواروں میں دندانے ہیں جنگوں میں مقابلہ کرنے اور لڑنے کی وجہ سے۔
تو دیکھو شاعر نے یہاں پر کیا کیا کہ پہلے صفتِ ذم منفی کی ”لَا عَيْبَ فِيهِمْ“ اور یہ صفتِ ذم منفی کس قسم کی ہے؟ عام ہے یعنی ہر عیب کی نفی کر دی، ان میں کوئی عیب نہیں ہے۔ اور اس کے بعد ایک ”إِلَّا“ کہہ کر اس کے بعد صفتِ مدح ذکر کر دی یعنی ان کی تلواروں میں دندانے ہیں، تو تلواروں میں دندانے ہونے کو تقدیراً کس کے اندر داخل کیا پہلے؟ صفتِ عیب کے اندر اور پھر ”إِلَّا“ کے ذریعے اس کا کیا کر دیا؟ اخراج کر دیا، تو گویا اور تلواروں میں دندانوں کا ہونا عیب ہونا تو محال ہے اس لیے کہ یہ تو علامت ہے کس چیز کی؟ کمالِ شجاعت کی، تو گویا شاعر نے یہ دعویٰ کر دیا کہ میرے ممدوح میں کسی عیب کا ہونا محال ہے۔
میرے ممدوح میں کسی عیب کا ہونا؟ اور میرے ممدوح میں عیب اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ تلواروں کے اندر دندانوں کا ہونا عیب ہو جائے، اور تلواروں میں دندانوں کا ہونا عیب ہونا تو محال، معلوم ہوا میرے ممدوح کے اندر عیب کا ہونا بھی محال۔ تو دیکھو یہ دعویٰ الشیء ببینۃ ہوا بھئی کہ ایک چیز کو معلق بالمحال کر دیا اور معلق بالمحال بھی کیا ہوتا ہے؟ محال ہوتا ہے۔
تو تاكيد ایک اس وجہ سے آئی مولانا کہ دعویٰ الشیء ببینۃ ہوا، نیز مولانا دوسرا اس میں تاكيد آئی اثباتِ مدح بعد المدح سے بھئی، کہ ”إِلَّا“ سے پہلے بھی مدح ہے کیا کہا ”لَا عَيْبَ فِيهِمْ“ ان میں کوئی عیب نہیں، یہ بھی مدح ہے، اور ”إِلَّا“ کے بعد جو ہے تلواروں میں ان کی دندانے ہیں یہ بھی شجاعت پر دلالت کر رہا ہے یہ بھی مدح، تو اثباتِ مدح ہوا بعد المدح۔
تو استثناء جب مولانا ”لَا عَيْبَ فِيهِمْ“ کہا شاعر نے اور اس کے بعد استثناء کے لیے ”إِلَّا“ یا ”غَيْرَ“ لے کر آئے تو وہم یہ پڑا کہ بھئی استثناء میں تو اصل کیا ہے؟ متصل ہونا، تو یہ بھی استثناء متصل ہو گا اور اب کسی عیب کا اثبات ہو گا، لیکن عیب کے اثبات کے بجائے شاعر کس چیز کا اثبات کر دیتا ہے؟ صفتِ مدح ہی کا اثبات کر دیتا ہے، گویا شاعر یہ کہتا ہے کہ میں نے تو بہت تلاش کیا کہ کسی طرح کسی ایک صفتِ ذم کو اس میں سے نکال کر ثابت کر دوں لیکن مجھے کوئی ایک بھی صفتِ ذم اور عیب ملا نہیں جو میں ثابت کرتا، مجبور ہو کر میں نے کس کو ذکر کر دیا؟ صفتِ مدح ہی کو ذکر کر دیا، تو مستثنیٰ جو پہلے متصل ہونے کا شبہ پڑ رہا تھا کس میں بدل گیا مولانا؟ مستثنیٰ منقطع میں بدل گیا۔
دوسری قسم وہ تھی کہ جس کے اندر مولانا تاكيد کے اندر مدح آتی تھی صرف دوسرے طریقے کے ساتھ، یعنی اثباتِ مدح بعد المدح تو اس میں ہے لیکن دعویٰ الشیء ببینۃ نہیں۔ وہاں پر تقدیراً مولانا اول کو ثانی کے اندر داخل ثانی کو اول میں داخل کرنا ممکن ہی نہیں۔ بھئی پہلی صورت کے اندر تو دیکھو ”لَا عَيْبَ فِيهِمْ“ ان میں کوئی عیب نہیں ہے، تو تمام عیوب کی نفی کی، تو ماقبل میں مجموعہ تھا اور مجموعے سے کسی ایک چیز کا اخراج ممکن ہوتا ہے، جبکہ دوسری قسم کے اندر ایسا فرض کرنے کی کوئی صورت نہیں اس لیے کہ ماقبل کے اندر کیا آئے گا؟ ایک ہی فرد مفرد آئے گا اور مفرد سے تو کسی چیز کا اخراج نہیں ہو سکتا، تو اب اس مابعد کو ماقبل میں داخل یہ اس کے اندر داخل ہو ایسا فرض کرنے کی کوئی صورت نہیں، تو لہٰذا یہ فرض نہیں کر سکتے یہاں پر کہ یہ اس میں داخل تھا اور اس کو خارج کیا گیا، تو یہاں صرف مستثنیٰ منقطع کی صورت میں جو تاكيد آ رہی تھی یعنی اثباتِ مدح ہو رہا ہے کس کے بعد؟ مدح کے، کہ پہلے مولانا ایک صفتِ مدح ذکر کی اور اس کے بعد حرفِ استثناء آیا تو اب مستثنیٰ کے اندر تو اصل تو کیا ہے؟ متصل ہے، تو اس کے بعد اب ”إِلَّا“ کے بعد کیا خیال آیا کہ اب کیا کیا جائے گا؟ کوئی عیب ذکر کیا جائے گا لیکن اس نے پھر شاعر نے کس کو ذکر کر دیا؟ مدح کو، تو اس طرح اس میں اثباتِ مدح بعد المدح ہوا۔
اور اس کے بعد بتلایا تھا ایک اور قسم بھی اس کے ساتھ ملحق ہے اور وہ کیا ہے؟ کہ مستثنیٰ جو ہے اس کے اندر مستثنیٰ صفتِ مدح ہو اور وہ معمول ہو ایسے فعل کا جس کے اندر مذمت والا معنی، عیب والا معنی پایا جائے، جیسے ”وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا“، تو نَقَمَ يَنْقِمُ کا ایک معنی ہے انتقام لینا، ایک معنی ہے مولانا عیب، یہاں عیب کا پانا یہ معنی مراد ہے اور عیب دیکھو تو فعل کے اندر کس کا معنی آیا؟ عیب کا معنی آیا۔ اور اس کے بعد ”إِلَّا أَنْ آمَنَّا“ ذکر ہوا، اور استثناء کس چیز کا کیا گیا؟ ایمان کا، اور ایمان تو کیا ہے؟ تمام کیا ہے فضائل میں سے، فضیلت والی چیزوں میں سے افضل ترین ہے مولانا۔ تو یہاں پر جو ہے یہ بھی اسی پہلی قسم کی طرح ہوا کہ ”لَا عَيْبَ فِينَا إِلَّا الْإِيمَانَ“ بھئی، ہم میں کوئی عیب نہیں سوائے ایمان کے، یہ بھی بعینہٖ پہلی قسم جیسا بن گیا بھئی، ہاں صرف ترکیب مختلف ہے کہ وہاں پر صفتِ ذم منفی تھی اور یہاں پر منفی تو کی گئی صفتِ ذم لیکن فعل کی صورت میں لائی گئی۔
اور پھر انہوں نے بتایا تھا کہ استدراک جو ہے اس بات کے اندر یعنی تاكيد المدح بما يشبه الذم کے اندر جو استدراک آتا ہے وہ بھی کس کے درجے میں ہے؟ استثناء ہی کی طرح ہے، استثناء کی طرح۔
اس کے بعد تاكيد الذم بما يشبه المدح پڑھا مولانا، یہ بھی اسی طرح تھا کہ جیسے اس کی دو قسمیں ہیں اس کی بھی کیا ہیں؟ کہ پہلے کیا کرے صفتِ مدح کی نفی کرے، ایسی صفتِ مدح جو عام ہو اور اس کے بعد حرفِ استثناء لایا جائے تو اب وہم پڑتا ہے کہ پہلے تو تمام صفتِ صفاتِ مدح کی نفی ہو چکی ہے اب کسی ایک صفتِ مدح کا اثبات ہو گا لیکن پھر اس کے بعد بھی کیا ذکر کر دیا جاتا ہے؟ صفتِ ذم ہی کو ذکر کر دیا جاتا ہے۔ اور دوسری قسم بھی اسی کی طرح جیسے تاكيد المدح بما يشبه الذم گزری۔
اس کے بعد استتباع آیا تھا بھئی، استتباع کہتے تھے کہ ایک چیز کی مدح اس طریقے پر کرنا کہ ایک مدح متضمن ہو دوسری مدح کو بھئی، جیسے شعر کے اندر شاعر نے کیا کہا ”نَهَبْتَ مِنَ الْأَعْمَارِ مَا لَوْ حَوَيْتَهُ لَهُنِّئَتِ الدُّنْيَا بِأَنَّكَ خَالِدُ“، تو نے عمروں کو لوٹا کہ اگر ان عمروں کو سمیٹ لیا جائے، جمع کر لیا جائے اور تو ان کا مالک بن جائے تو دنیا والوں کو دنیا والوں کو مبارکباد دی جائے کہ تو کیا ہے ہمیشہ دنیا والے ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے کہ تو یہ اب یہ شخص جو ہے یہ ہمیشہ رہے گا۔ تو اب دیکھو تعریف کر رہا ہے شجاعت شجاعت میں کہ یہ انتہا درجے کو پہنچا ہوا ہے، مالوں کو نہیں لوٹتا بلکہ کس کو لوٹتا ہے؟ عمروں کو لوٹتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کیا ملایا؟ کہ دنیا والے مبارکباد دیں گے، دیکھا! جس نے اشارہ کر دیا کہ اس کہ اس کی وجہ سے دنیا کا نظام چل رہا ہے اور دنیا صحیح سلامت ہے، تو اسی وجہ سے لوگ خوش ہو کر کیا ہیں ایک دوسرے کو؟ نیز بعض علماء نے بیان کیا کہ اس کے اندر دو اور مدح بھی کے معنی بھی ہیں، ایک تو علوِ ہمت کا ذکر ہے کہ یہ عمروں کو لوٹتا ہے، مالوں کو نہیں لوٹتا، اس لیے کہ مال ادنیٰ درجے کی چیز ہے اور عمر اعلیٰ درجے کی چیز ہے اور یہ اعلیٰ درجے کی چیز لوٹتا ہے، معلوم ہوا یہ بلند ہمت والا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس کے اندر یہ بھی پتہ چل گیا کہ یہ ظالم نہیں ہے بھئی، یہ جو لوگوں کو اپنے مخالفین کو قتل کرتا ہے اس میں ظالم نہیں ہے، کیونکہ اگر یہ ظالم ہوتا تو لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد نہ دیتے، کیونکہ ظالم کے جینے پر کوئی کسی کو مبارکباد نہیں دیتا۔
اور اس کے پھر ایک قسم ادماج ہم نے پڑھی بھئی، ادماج بھی بالکل استتباع کی طرح ہے لیکن استتباع کے اندر تھا کہ ایک مدح متضمن ہو دوسری مدح کو، اور یہ عام ہے کہ ایک معنی کے لیے کلام کو چلایا جائے اور وہ متضمن ہو ایک دوسرے معنی کو، جیسے ”أُقَلِّبُ فِيهِ أَجْفَانِي كَأَنِّي أَعُدُّ بِهَا عَلَى الدَّهْرِ الذُّنُوبَا“ میں پلٹ رہا تھا اس رات کے اندر اپنی پلکوں کو گویا کہ میں شمار کر رہا ہوں اس پر
زمانے پر اس کے گناہوں کو۔ تو دیکھو بات کر رہا ہے رات کے لمبا ہونے کی اور ساتھ ساتھ زمانے کی شکایت کو بھی ذکر کر دیا، تو اس انداز میں طول کو ذکر کیا کہ زمانے کی شکایت بھی ساتھ آ گئی۔
اس کے بعد صنعتِ توجیہ پڑھی، صنعتِ توجیہ کس کو کہتے ہیں بھئی؟ کہ ایسا کلام ذکر کرنا جو دو متضاد معانی کا احتمال رکھتا ہو۔ جیسے اس شعر کے اندر تھا مولانا ”خَاطَ لِي عَمْرٌو قَبَاءً، لَيْتَ عَيْنَيْهِ سَوَاءُ“ کہ عمرو نے میرے لیے قبا سی، کاش کہ اس کی دونوں آنکھیں برابر ہو جائیں، ایک جیسی ہو جائیں۔ اب یہ پتہ نہیں چلتا مولانا کہ یہ کیا ہے؟ دعا ہے یا بددعا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
اردو میں اس کی مثال، توجیہ کی مثال مولانا:
جب سنبھالا اس پری پیکر نے کچھ حسن و شباب
جب سنبھالا اس پری پیکر نے کچھ حسن و شباب
شیعہ سنی ہو گئے ہندو مسلمان ہو گئے
شیعہ سنی ہو گئے ہندو مسلمان ہو گئے
اب اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ شیعہ جو تھے وہ سنی بن گئے۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتا ہے جو سنی تھے وہ کیا بن گئے؟ شیعہ بن گئے۔ شیعہ سنی ہو گئے۔ دونوں احتمال ہیں یا نہیں مولانا؟
اور ہندو مسلمان ہو گئے، اس میں بھی دونوں احتمال، یہ معنی کہ ہندو جو تھے وہ کیا بن گئے؟ مسلمان، اور یہ احتمال بھی ہے کہ مسلمان جو تھے وہ کیا بن گئے؟ ہندو بن گئے۔ آپ غور کریں اس کلام میں دونوں احتمال ہیں: شیعہ سنی ہو گئے ہندو مسلمان ہو گئے، دونوں احتمال بن رہے ہیں یا نہیں بن رہے بھئی؟ کہ نہیں بن رہے آپ کے خیال میں؟
شیعہ سنی ہو گئے۔ کیا معنی؟ شیعہ کیا بن گئے؟ سنی۔ دوسرا: شیعہ، سنی ہو گئے۔ سنی جو تھے وہ کیا ہو گئے یعنی؟ شیعہ ہو گئے۔ دونوں احتمالات بنتے ہیں، غور کریں آپ چلیں۔
اچھا، دوسرا مولانا ایک شعر:
مانوس تبا جس سے ہو یا رب حبیب کی
مانوس تبا جس سے ہو یا رب حبیب کی
ہو جائے کاش شکل میری اس رقیب کی
شاعر کہتا ہے کہ اے اللہ! میرا محبوب جو ہے مجھ سے دور رہتا ہے، اور رقیب جو ہے میرا اس سے اس کی اس کا انس ہے، اس کی محبت ہے میرے رقیب کے ساتھ، تو کاش اے اللہ! ہو جائے کاش شکل میری اس رقیب کی، اب اس میں دونوں احتمال ہیں، کہ میری شکل بھی اے اللہ اس رقیب جیسی بنا دے کہ اس کے ساتھ وہ مانوس ہے تو میرے ساتھ بھی کیا ہو جائے گا؟ مانوس، یا ایک معنی یہ کہ اس رقیب کی شکل بھی میری شکل جیسی بنا دے اے اللہ کہ جیسے مجھ سے وہ دور بھاگتا ہے اس سے بھی دور بھاگے، دونوں احتمال ہیں اس کے اندر۔
مانوس تبا جس سے ہو یا رب حبیب کی
ہو جائے کاش شکل میری اس رقیب کی
اس کے بعد ہزل صنعت پڑھی مولانا، ہزل اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ ایسا مذاق جس سے کسی سنجیدہ بات کا ارادہ کیا جائے، واقعی بات کا ارادہ کیا جائے، جیسے شاعر کہتا ہے کہ تمہارے پاس اگر کوئی بنو تمیم والا فخر کرتا ہوا آئے تو اس سے کہنا کہ یہ تکبر فخر کرنا چھوڑ دو اور بتاؤ مجھے اپنے زغَب کھانے کے بارے میں۔
”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”تَجَاهُلُ الْعَارِفِ“ اور قسم معنوی میں سے مولانا تجاهلِ عارف ہے، تجاهلِ عارف کہتے ہیں مولانا کسی جاننے والے کا بتکلف جاہل بننا بھئی، ایک چیز کا آپ کو پتہ ہے لیکن آپ بتکلف جاہل بن جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں یہ کیا ہے؟ اس کا سبب کیا ہے؟ آپ کو حالانکہ پتہ ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تجاهلِ عارف۔ تو کسی عارف کا، جاننے والے کا، پہچاننے والے کا بتکلف جاہل بننا۔
اسی متن کے آخر میں آ رہا ہے ”لِنُكْتَةٍ“، کس وجہ سے ہو گا یہ؟ کسی نقطے کی وجہ سے۔ درمیان میں بتلا رہے ہیں ”وَهُوَ كَمَا سَمَّاهُ السَّكَّاكِيُّ سَوْقُ الْمَعْلُومِ مَسَاقَ غَيْرِهِ“، وہ جیسا کہ علامہ سکاکی نے اس کا نام رکھا ہے، علامہ سکاکی نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ وہ فرماتے ہیں میں اس کا نام تجاهلِ عارف نہیں رکھتا اس صنعت کا، میں اس کا نام رکھتا ہوں سوق المعلوم مساق غیر المعلوم۔ سوق کا معنی ہانکنا، چلانا بھئی۔ سوق المعلوم، معلوم چیز کو ہانکنا، مساق مصدر ہے، مساق غیر المعلوم، غیر معلوم کے ہانکنے کی طرح۔ معلوم چیز کو کس کی طرح ہانکنا؟ غیر معلوم کی طرح۔ یعنی یہ تو تھا لفظی ترجمہ، یعنی بامحاورہ یہ ہو گا: معلوم کے ساتھ غیر معلوم والا برتاؤ کرنا۔ معلوم کے ساتھ ایک چیز آپ کو معلوم ہے لیکن آپ پھر سوال کر کے اس کے ساتھ کس قسم کا برتاؤ کر رہے ہیں؟ غیر معلوم والا۔ یہ نام کیوں رکھا علامہ سکاکی نے؟ علامہ سکاکی فرماتے ہیں: ”وَقَالَ لَا أُحِبُّ تَسْمِيَتَهُ بِالتَّجَاهُلِ“، کہتے ہیں میں پسند نہیں کرتا کہ اس کا نام تجاهل رکھا جائے ”لِوُرُودِهِ فِي كَلَامِ اللَّهِ تَعَالَى“، اس لیے کہ یہ اللہ کے کلام میں بھی وارد ہوا ہے، تو چونکہ کلام اللہ کے اندر آیا ہے تو تجاهل، جہل کا لفظ استعمال کرنا مناسب نہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے قرآن میں آیا ہے ”وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَى“، تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ؟ اب اللہ کو علم تھا لیکن اس معلوم کے ساتھ اس کو کس کے درجے میں اتارا؟ غیر معلوم کے درجے۔
اچھا تو یہ تجاهلِ عارف جو ہو گا مولانا کسی نقطے کی وجہ سے ہو گا، جیسے توبیخ ہے ”فِي قَوْلِ الْخَارِجِيَّةِ“ اور یہ خارجی عورت کے ایک شعر کے اندر بھئی، وہ کہتی ہے:
”أَيَا شَجَرَ الْخَابُورِ مَا لَكَ مُورِقًا“
اے شجرِ خابور! اے خابور کے درخت بھئی، خابور ایک درخت ہے مولانا، ”وَهُوَ مِنْ نَوَاحِي دِيَارِ بَكْرٍ“، دیارِ بکر جگہ کا نام ہے اس کے اطراف میں یہ پایا جاتا ہے۔ اے خابور کے درخت! ”مَا لَكَ مُورِقًا“، بھئی اس کا بھئی کسی لڑائی کے اندر مارا گیا بھئی خارجیوں خوارج کے ساتھ تھا تو لڑائی میں مارا گیا، تو وہ اب درخت کو مخاطب ہو کر کہہ رہی ہے کہ اے خابور کے درخت! ”مَا لَكَ مُورِقًا“ تجھے کیا ہوا تو سرسبز و شاداب ہے ”كَأَنَّكَ لَمْ تَجْزَعْ عَلَى ابْنِ طَرِيفِ“ گویا کہ تجھے ابنِ طریف یعنی میرے بھئی کے مرنے کا کوئی افسوس ہی نہیں ہے، تو اس کے مرنے پر بالکل بے تاب ہی نہیں ہے۔ تو ڈانٹ رہی ہے مولانا درخت کو کہ میرے بھئی کے مرنے پر تجھے بھی کیا کرنا چاہیے؟ جزع فزع کرنا چاہیے، بے تاب ہونا چاہیے، اب دیکھو حالانکہ اس کو پتہ ہے کہ جزع کرنا، بے تاب ہونا، غم کا اظہار کرنا یہ ذوی العقول کیا کرتے ہیں اور یہ درخت تو غیر ذوی العقول ہے تو اس سے یہ ڈانٹنا اس بات پر یہ صحیح نہیں لیکن اس کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ معلوم کو غیر معلوم، گویا کہ اس کو پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ بھی ذوی العقول میں سے ہے یا ذوی العقول میں سے نہیں، تو گویا یہ ڈانٹ رہی ہے اس کو اور مقصد کیا ہے؟ کہنا یہ چاہتی ہے کہ جب درخت کہ میرے بھئی کے غم کے اندر تو درختوں کو بھی افسوس کرنا چاہیے اور جب درختوں کو کرنا چاہیے تو باقیوں کو تو بطریقِ اولیٰ کرنا چاہیے۔
”أَيَا شَجَرَ الْخَابُورِ مَا لَكَ مُورِقًا“، کیا ہوا ہے تجھے ”مُورِقًا“ أَيْ نَاضِرًا تو کہ تو سرسبز و شاداب ہے، مِنْ أَوْرَقَ، یہ ”مُورِقًا“ أَوْرَقَ يُورِقُ إِيرَاقًا سے، ”إِذَا صَارَ ذَا وَرَقٍ“ جب وہ پتوں والا ہو جائے، درخت پتوں والا ہو تو کہتے ہیں مورقاً۔ ”كَأَنَّكَ لَمْ تَجْزَعْ عَلَى ابْنِ طَرِيفِ“ گویا کہ تو گھبرایا نہیں ہے یا بے تاب نہیں ہوا ہے علی ابن طریف، کس پر؟ ابنِ طریف پر۔
یا مولانا نکتہ ایک نکتہ تو یہ تھا، کبھی توبیخ کے لیے آئے گا تجاهلِ عارف بھئی، کبھی مولانا مبالغہ فی المدح، مدح کے اندر مبالغہ کرنے کے لیے آئے گا، جیسے شاعر کہتا ہے:
”أَلَمْعُ بَرْقٍ سَرَى أَمْ ضَوْءُ مِصْبَاحِ ... أَمِ ابْتِسَامَتُهَا بِالْمَنْظَرِ الضَّاحِي“
شاعر کہتا ہے بھئی تاریکی چھا گئی، رات کا اندھیرا چھا گیا اور پھر اچانک مولانا روشنی، بجلی چمکی آسمان پر روشنی ظاہر ہوئی تو شاعر کہتا ہے پتہ نہیں یہ بجلی چمکی تھی ابھی آسمان پر یا یہ چراغ کی روشنی تھی یا یہ میرے سامنے جو میرا معشوق کھڑا ہے وہ مسکرایا تھا تو اس کے دانتوں کی چمک تھی، مجھے پتہ نہیں چلا۔ اب حالانکہ اس کو پتہ ہے مولانا کہ دانتوں کی ایسی چمک نہیں ہوتی لیکن وہ کیا کرتا ہے؟ بتکلف جاہل بن جاتا ہے کہ مجھے معلوم ہی نہیں۔ ”أَلَمْعُ بَرْقٍ“ کیا چمک تھی بجلی کی، برق آسمانی بجلی، لمع چمک بھئی، کیا آسمانی بجلی کی چمک ”سَرَى“ ظاہر ہوئی تھی ”أَمْ ضَوْءُ مِصْبَاحِ“ یا چراغ کی روشنی تھی ”أَمِ ابْتِسَامَتُهَا“ أَيْ ضَوْءُ ابْتِسَامَتِهَا یا مولانا اس کے ہنسی کی کیا تھی؟ روشنی۔
روشنی تھی۔ ”بِالْمَنْظَرِ الضَّاحِي“، منظر جائے نظر، دیکھنے کی جگہ، مراد چہرہ ہے معشوق کا، ”الضَّاحِي“ ظاہر، روشن مولانا، یا اور با بمعنی فی کے ہے، یا یہ اس کی ہنسی کی چمک تھی ”بِالْمَنْظَرِ الضَّاحِي“ اس کے روشن چہرے میں۔
”أَوِ الْمُبَالَغَةِ فِي الذَّمِّ“ یا نکتہ کیا ہو گا مولانا تجاهلِ عارف میں؟ مبالغہ مذمت میں ہو گا، پہلے تھا مدح میں، اب مذمت میں، ”كَقَوْلِهِ“ شاعر کہتا ہے:
”وَمَا أَدْرِي وَسَوْفَ إِخَالُ أَدْرِي ... أَقَوْمٌ آلُ حِصْنٍ أَمْ نِسَاءُ“
میں نہیں جانتا اور عنقریب میرا خیال ہے میں جان لوں گا، کیا آلِ حصن والے لوگ وہ مرد ہیں یا عورتیں ہیں؟ وہ کوئی جنگ وغیرہ کی ہو گی یا ویسے بزدل ہوں گے تو شاعر اب کیا کہتا ہے؟ اب اس کو پتہ ہے کہ وہ مرد ہیں لیکن کیا کہتا ہے؟ کہ مجھے پتہ نہیں ہے لیکن میرا خیال ہے میں عنقریب جان لوں گا کہ آلِ حصن والے مرد ہیں یا عورتیں ہیں۔
”وَمَا أَدْرِي وَسَوْفَ إِخَالُ“، إِخَالُ أَيْ أَظُنُّ، ظَنَّ يَظُنُّ کے معنی میں، ”وَكَسْرُ هَمْزَةِ الْمُتَكَلِّمِ فِيهِ هُوَ الْأَفْصَحُ“ اور متکلم کا کسرہ اس میں فصیح ہے مولانا، بھئی سمجھ میں آیا؟ قیاس تو یہ ہے أَخَالُ ہونا چاہیے کیونکہ متکلم کا ہمزہ کیا ہوتا ہے؟ مفتوح، لیکن اس کے اندر کس طرح آیا ہے؟ استعمال إِخَالُ پر آیا ہے تو یہ فصیح ہے زیادہ۔ ”وَبَنُو أَسَدٍ يَقُولُونَ أَخَالُ“، بنو اسد قبیلے والے وہ أَخَالُ ہی کہتے ہیں بالفتح، فتح کے ساتھ، ”وَهُوَ الْقِيَاسُ“ اور یہی کیا ہے؟ قیاس کے مطابق۔
”أَدْرِي أَقَوْمٌ“، ”فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْقَوْمَ هُمُ الرِّجَالُ خَاصَّةً“، بھئی دیکھو کہ وہ قوم ہیں یا عورتیں ہیں، معلوم ہوا قوم کس کا قوم سے کون مراد ہیں بھئی؟ یعنی قوم کا اطلاق صرف مردوں پر ہوتا ہے یہ عورتوں کو شامل نہیں ہوتا کیونکہ نساء کے مقابلے میں قوم کا لفظ لائے، تو معلوم ہوا قوم کے اندر نساء داخل نہیں۔ تو قوم کے لفظ سے صرف مرد مراد ہوتے ہیں عورتیں نہیں جماعت میں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
جیسے قرآن کے اندر بھی آیا مولانا:
”لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ“
تو دیکھو قوم کے مقابلے میں کیا آیا؟ نساء۔ ”فِيهِ دَلَالَةٌ“ اس میں دلالت ہے اس بات پر یعنی لغوی اعتبار سے ”عَلَى أَنَّ الْقَوْمَ هُمُ الرِّجَالُ خَاصَّةً“ کہ قوم وہ مرد ہی ہوتے ہیں خاص طور پر۔
”وَالتَّدَلُّهِ“ یا مولانا نکتہ کیا ہو گا؟ تدلہ، ”أَيْ وَقْتَ التَّحَيُّرِ وَالتَّدَهُّشِ“ بھئی، کا جارہ نکال کر بتلا دیا کہ یہ ساروں کا یہ جو نکات چل رہے ہیں ان کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ ”كَالتَّوْبِيخِ“ جس پر ہو رہا ہے، اور تدلہ کا معنی حیران و سرگرداں رہ جانا مولانا، ”أَيْ وَقْتَ التَّحَيُّرِ وَالتَّدَهُّشِ“ حیران و سرگرداں رہ جانا، تحیر اور تدہش کا ایک معنی ہے، عقل چلی جانا، حیران رہ جانا۔ ”فِي الْحُبِّ“ محبت کے اندر، ”فِي قَوْلِهِ“ جیسے اس شاعر کے قول میں:
”بِاللَّهِ يَا ظَبَيَاتِ الْقَاعِ قُلْنَ لَنَا ... أَلَيْلَايَ مِنْكُنَّ أَمْ لَيْلَى مِنَ الْبَشَرِ“
قسم ہے تمہیں اے جنگل کی ہرنیو! اے دامنِ کوہ کی ہرنیو بھئی، قاع کس کو کہتے ہیں؟ دو پہاڑوں کے بیچ میں یا دو پہاڑوں کے بیچ میں میدان مولانا، سیدھا برابر میدان جس میں گھاس وغیرہ خوب اگتی ہے، تو اے اس دامنِ کوہ کی ہرنیو! ”قُلْنَ لَنَا“ تم مجھے بتلاؤ تو سہی ”أَلَيْلَايَ مِنْكُنَّ“ کیا میری لیلیٰ تم میں سے ہے ”أَمْ لَيْلَى مِنَ الْبَشَرِ“ یا لیلیٰ کس میں سے ہے؟ انسانوں میں سے ہے۔ تو شاعر کو پتہ ہے کہ وہ لیلیٰ کس میں سے ہے؟ انسانوں میں سے ہے لیکن وہ بتکلف اپنے آپ کو جاہل بناتا ہے کہ مجھے بتلاؤ تو سہی کہ وہ میری لیلیٰ تم میں سے ہے ہرنو یا انسانوں میں سے ہے؟
تو یہاں دیکھو ایک دفعہ کہا ”أَلَيْلَايَ مِنْكُنَّ“، بعد میں اب کیا کہنا چاہیے تھا؟ ”أَمْ هِيَ“، ضمیر لوٹانی چاہیے تھی لیکن ضمیر کے بجائے دوبارہ نام ذکر کیا اس لیے کیونکہ جو چیز محبوب ہوتی ہے اس کا نام بھی کیا ہے؟ محبوب، تو دوبارہ ذکر کیا لذت حاصل کرنے کے لیے۔ ”فِي إِضَافَةِ لَيْلَى إِلَى نَفْسِهِ أَوَّلًا“ پہلے اضافت کی لیلیٰ کی اپنے نفس کی طرف ”وَالتَّصْرِيحِ بِاسْمِهَا ثَانِيًا“ اور ثانیاً اس کے نام کی تصریح کی، کس لیے؟ اس اضافت کے اندر اور تصریح کے اندر ”اسْتِلْذَاذٌ“ بھئی، کیا ہے؟ استلذاذ۔
”هَذِهِ أُنْمُوذَجٌ مِنْ نِكَتِ التَّجَاهُلِ“، یہ نمونہ تھا کچھ مولانا تجاهل کے نکتوں میں سے، کبھی توبیخ کے لیے آئے گا، کبھی مبالغہ فی المدح، کبھی مبالغہ فی الذم، کبھی تدلہ اور کبھی تدلہ فی الحب وغیرہ مولانا، سمجھ میں آیا؟
اردو میں اس کی مثال جیسے یہ شعر ہے بھئی:
صنم کہتے ہیں تیری بھی کمر ہے
کہاں ہے، کس طرف ہے اور کدھر ہے؟
تو شاعر تعریف کر رہا ہے کہ میرے معشوق کی کمر بڑی باریک ہے اور پتلی کمر ہونا کیا ہے؟ یہ حسن کی علامت ہے، تو کہتا ہے:
صنم کہتے ہیں تیری بھی کمر ہے
کہاں ہے، کس طرف ہے اور کدھر ہے؟
دیکھو کتنا مبالغہ کیا کہ بتکلف جاہل کہ کہاں ہے؟ اتنی باریک ہے کہ ہمیں گویا کہ پتہ ہی نظر ہی نہیں آئی کبھی۔
صنم کہتے ہیں تیری بھی کمر ہے
کہاں ہے، کس طرف ہے اور کدھر ہے؟
”الْقَوْلُ بِالْمُوجَبِ“ یا القول بالموجِب، دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں اس کو، ”وَهُوَ ضَرْبَانِ“ وہ دو قسم پر ہے مولانا۔ ”أَحَدُهُمَا أَنْ يَقَعَ صِفَةٌ فِي كَلَامِ الْغَيْرِ كِنَايَةً“، بھئی قول بالموجب کس کو کہتے ہیں؟ دو قسم پر ہے، قول بالموجب دو قسم پر ہے۔ ایک قسم یہ ہے کہ کلام کے اندر آپ ایک صفت لے کر آتے ہیں اور وہ صفت کنایہ ہوتی ہے کسی خاص سے، کسی خاص فریق سے، صفت لے کر آیا اور وہ صفت کنایہ ہوتی ہے کسی خاص کسی خاص فریق سے یا کسی خاص چیز سے مولانا، اور پھر اس کے اس چیز کے لیے آپ ایک حکم ثابت کرتے ہیں، مخاطب کیا کرتا ہے؟ دوسرا آپ کے غیر جو ہے وہ کیا کرتا ہے؟ کلام میں ایک صفت لے کر آتا ہے اور وہ صفت دراصل کنایہ ہوتی ہے کسی خاص چیز سے اور اس چیز کے لیے کیا کرتے ہیں؟ آپ ایک حکم ثابت کرتے ہیں، تو آپ کیا کرتے ہیں کہ اس صفت کو اس نے کنایہ کس سے بنایا تھا؟ ایک چیز سے، آپ اس کو کنایہ بناتے ہیں کس سے؟ آپ اس صفت کو ثابت کر دیتے ہیں کس چیز کے لیے؟ دوسری چیز کے لیے، اور وہ جو حکم ثابت تھا اس کے لیے اس سے تعرض نہیں کرتے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ دیکھو مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔
بھئی آپ کا معشوق آیا بھئی، اور وہ چونکہ آپ سے ملتا نہیں تو آپ نے اس کو سخت تنگ کیا ہوا ہے، اس کو کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں، وہ آیا اور آ کر زور سے کہا کہ ظالموں کو سخت سزا دی جائے گی! اس نے کیا کہا؟ اب دیکھو اس نے ظالموں ایک صفت ذکر کی ظلم کرنے والے اور کنایہ کس سے کیا؟ کون مراد ہے ظالموں سے؟ عاشق جو ہے، ایک شخص مراد ہے مولانا اس سے، دیکھو یہ صفت ذکر کی اور کنایہ کیا کس سے؟ ایک چیز سے، اور اس چیز کے لیے ایک حکم ثابت کیا کہ ان کو کیا کی جائے گی؟ سزا دی جائے گی۔ تو آپ جواب میں آپ کیا کہتے ہیں بھئی؟ آپ کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے یہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے کہ جو ظلم کرتا ہے اس کو کیا کیا جائے گا؟ لیکن ظلم کرنے والا ظلم کرنے والے تو تم ہو، ظلم کرنے والے تو؟ تو دیکھو وہ جو اس نے وصف کنایہ بنایا تھا آپ سے، آپ نے اس وصف کو کس کے لیے ثابت کر دیا؟ اسی کے لیے ثابت کر دیا، اور وہ جو حکم تھا اس نے کیا کہا تھا؟ ظالموں کو کیا دی جائے گی؟ آپ کو سزا دی، اس حکم پر سے آپ نے سکوت کیا، اس کو ذکر نہیں کیا نہ اس کے لیے ثابت کیا نہ اس سے نفی کی، بس یہ کہا کہ ظلم کرنے والے تو آپ ہیں، جب ظلم کرنے والے آپ ہیں تو معلوم ہوا کہ وہ سزا بھی آپ ہی کو دی جائے گی لیکن اس کو ذکر نہیں کیا آپ نے کہ سزا آپ کو دی جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
جیسے پشتو کا ایک شاعر کہتا ہے بھئی:
چہ دلتہ راشی کتاب بہ بوشہی حساب، دہ ستم خو کوے درکوی بہ عذاب
جب کتاب آئے گی یعنی حساب کتاب ہو گا، جب کتاب آئے گی تو اس وقت حساب کتاب ہو گا، ستم تو تم مجھ پر بہت ڈھا رہے ہو لیکن اس وقت تمہیں پھر عذاب دیا جائے گا۔ ہاں اس قسم کی باتیں آپ کو...
کی سمجھ میں آتی ہیں، ہے نا؟
اب دیکھیے مولانا، قول بالموجب اس کو پڑھیں اور اس کی مثال بھی قرآن سے ذکر کریں گے۔
”وَهُوَ ضَرْبَانِ“ وہ دو قسم پر ہے۔ ”أَحَدُهُمَا أَنْ يَقَعَ صِفَةٌ فِي كَلَامِ الْغَيْرِ“ ایک قسم یہ ہے کہ واقع ہو ایک صفت غیر کے کلام میں ”كِنَايَةً عَنْ شَيْءٍ“ کنایہ ہو کسی چیز سے، ایسی چیز ”أُثْبِتَ لَهُ“ أَيْ لِذَلِكَ الشَّيْءِ ”حُكْمٌ“ کہ اس چیز کے لیے اس نے کوئی حکم بھی اس کے لیے کوئی حکم ثابت کیا جائے، ”فَتُثْبِتُهَا لِغَيْرِهِ“ تو آپ اس صفت کو ثابت کر دیتے ہیں اس شے کے غیر کے لیے، ”أَيْ فَتُثْبِتُ أَنْتَ فِي كَلَامِكَ تِلْكَ الصِّفَةَ لِغَيْرِ ذَلِكَ الشَّيْءِ“ تو ثابت کر دیتے ہیں آپ اپنے کلام کے اندر اس صفت کو اس چیز کے غیر کے لیے، ”مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِثُبُوتِهِ لِغَيْرِهِ“ بغیر تعرض کیے اس حکم کے ثبوت کے غیر کے لیے، یعنی اس حکم کو آپ غیر کے لیے ثابت اس سے تعرض ہی نہیں کرتے، ”أَيْ ثُبُوتِ ذَلِكَ الْحُكْمِ لِذَلِكَ الْغَيْرِ أَوْ نَفْيِهِ عَنْهُ“ یعنی تعرض نہیں کرتے کہ آپ غیر کے لیے اس حکم کو ثابت کریں یا اس کی نفی کریں۔ جیسے مولانا منافقین کہتے تھے:
”يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ“
تو دیکھو منافقین کا قول ذکر ہوا بھئی کہاں تک؟ ”الْأَذَلَّ“ تک۔ وہ کہتے تھے: اگر ہم لوٹیں مدینہ تو ضرور بالضرور نکال دے گا عزت والا مدینہ سے ذلت والے کو۔ عزت والا کیا کرے گا؟ ذلت والے کو مدینہ سے نکال دے گا۔ تو دیکھو انہوں نے ایک صفت ”أَعَزَّ“ استعمال کی، اور اعز عزت والا اور یہ کنایہ کیا کس سے؟ اپنے آپ سے کہ ہم کیا ہیں؟ عزت والے ہیں، اور اس کے لیے ثابت کیا کہ یہ نکال دیں گے کن کو؟ ذلت والوں کو۔ تو دیکھو ان کے لیے ایک حکم ثابت کیا۔ تو لفظِ عزت ایک صفت ذکر ہوئی اور یہ کنایہ کی انہوں نے اپنے آپ سے، اور اس کے لیے کیا حکم ثابت کیا کہ یہ نکال دیں گے کس کو؟ ذلت والوں کو۔
آگے اللہ فرماتے ہیں: ”وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ“، عزت جو ہے اللہ ہی کے لیے ہے عزت اور اس کے رسول کے لیے اور مومنین کے لیے۔ یعنی یہ آپ کی یہ بات ٹھیک ہے کہ کیا؟ صرف یہ کہ وہ جو صفت سے انہوں نے کنایہ کیا تھا کس کے لیے؟ اپنے لیے، اپنے لیے وہ صفت ثابت کی تھی، وہ صفت کس کے لیے ثابت کر دی اللہ نے؟ اپنے لیے، اپنے رسول کے لیے اور مومنین کے لیے۔ جس کے لیے انہوں نے ثابت کی تھی اس کے غیر کے لیے ثابت کر دی مولانا، اور وہ جو حکم تھا کہ نکال دے گا عزت والا کس کو؟ اس کے بارے میں سکوت کیا، اس کو ذکر یعنی اس میں اشارہ اس بات کی طرف کہ یہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے کہ عزت والا کیا کرے گا؟ ذلت والے کو نکال دے گا، اس کے لیے یہ حکم ثابت ہے، لیکن اے منافقین! تمہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لیے کہ عزت والے کون ہیں؟ یہ عزت یہ وصف جو تم نے اپنے لیے ثابت کیا تھا یہ تو تمہارے لیے ثابت ہی نہیں ہے بلکہ یہ تو کس کے لیے ثابت ہے؟ اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے لیے۔
”فَالْأَعَزُّ صِفَةٌ وَقَعَتْ فِي كَلَامِ الْمُنَافِقِينَ كِنَايَةً عَنْ فَرِيقِهِمْ“، تو لفظِ اعز وہ ایک صفت ہے جو واقع ہوئی ہے منافقین کے کلام میں کنائے کے طور پر اپنے فریق سے، ”وَالْأَذَلُّ كِنَايَةٌ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ“ اور اذل کنایہ واقع ہوا کس سے؟ مومنین سے۔ ”وَقَدْ أَثْبَتَ الْمُنَافِقُونَ لِفَرِيقِهِمْ“ اور تحقیق ثابت کیا اس منافقین نے اپنے فریق کے لیے، کیا ثابت کیا ہے؟ ”إِخْرَاجَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْمَدِينَةِ“ مومنین کا نکالنا مدینہ سے۔ ”فَأَثْبَتَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الرَّدِّ عَلَيْهِمْ“ تو اللہ نے ثابت کر دیا ان پر رد کرتے ہوئے ”صِفَةَ الْعِزَّةِ لِغَيْرِ فَرِيقِهِمْ“ ان کے فریق کے علاوہ کے لیے عزت کی صفت کو ثابت کر دیا۔ کس اور وہ کون ہیں ان کے علاوہ؟ کہتے ہیں ”وَهُوَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ“ وہ اللہ اور اس کا رسول ہے اور مومنین ہیں، ”وَلَمْ يَتَعَرَّضْ لِثُبُوتِ ذَلِكَ الْحُكْمِ الَّذِي هُوَ الْإِخْرَاجُ لِلْمَوْصُوفِينَ بِالْعِزَّةِ“ اور اس بات کے درپے نہیں ہوئے کہ یہ ثبوت جو حکم کا ہے اور وہ کیا ہے؟ نکالنا، وہ موصوف بالعزۃ یعنی اللہ اور اس کے رسول اور اس کے مومنین کے لیے ہے یا نہیں ہے۔ بھئی وہ اخراج جو ہے، عزت تو کس کے لیے؟ اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے، لیکن وہ جو حکم ثابت کیا تھا تم نے بھئی عزت والوں کے لیے، اس سے سکوت تعرض نہیں کیا کہ وہ وصف اخراج ثابت ہے مومنین وغیرہ کے لیے یا ثابت نہیں، تو نہ ان کے لیے ثابت کیا تو ان کے درپے نہیں ہوئے، ”وَلَا لِنَفْيِهِ عَنْهُمْ“ نہ تو اس کے ثبوت کے درپے ہوئے اور نہ ہی اس کی نفی کے درپے ہوئے۔
”وَالثَّانِي“ دوسری قسم یہ ہے مولانا۔ بھئی دوسری قسم قول بالموجب کی یہ ہے کہ مخاطب جو ہے، کلام جو ایک غیر ایک شخص کلام کرتا ہے، وہ کلام کا ایک معنی لفظ کا ایک معنی مراد لیتا ہے اور آپ کیا کرتے ہیں؟ اس کے مقابلے میں کلام لے کر آتے ہیں، اسی لفظ کو اپنے کلام میں ذکر کرتے ہیں لیکن اس سے دوسرا معنی مراد لیتے ہیں، بتلانا چاہتے ہیں اس کو کہ جو معنی تم نے مراد لیا ہے وہ لینا بہتر نہیں ہے بلکہ جو معنی میں نے مراد لیا ہے وہ لینا بہتر ہے۔ سمجھ میں آیا؟
”وَالثَّانِي حَمْلُ لَفْظٍ وَقَعَ فِي كَلَامِ الْغَيْرِ عَلَى خِلَافِ مُرَادِهِ“ دوسری قسم یہ ہے کہ محمول کیا جائے ایسے لفظ جو واقع ہو رہا ہے غیر کے کلام میں، کس پر محمول کیا جائے؟ اس کی مراد کے خلاف پر، ”حَالَ كَوْنِ خِلَافِ مُرَادِهِ مِمَّا يَحْتَمِلُهُ“ اس حال میں کہ مولانا وہ جو اس کے مراد کے خلاف ہونا جو ہے اس کا وہ احتمال بھی رکھتا ہو۔ اس نے ایک معنی لیا، آپ نے کیا لیا؟ دوسرا معنی، یہ دوسرے معنی کا احتمال بھی لفظ رکھتا ہو، یہ بغیر احتمال کے نہیں۔
”بِذِكْرِ مُتَعَلِّقِهِ“ اور یہ دوسرا معنی کیوں مراد لیتے ہیں؟ کہتے ہیں ”بِذِكْرِ أَيْ بِسَبَبِ ذِكْرِ مُتَعَلِّقِهِ“ کیونکہ آپ اس کے متعلق کو کیا کر دیتے ہیں؟ ذکر کر دیتے ہیں۔ آپ اس کے متعلق کو کیا کرتے ہیں؟ ”أَيْ إِنَّمَا يُحْمَلُ عَلَى خِلَافِ مُرَادِهِ بِأَنْ يُذْكَرَ مُتَعَلِّقُ ذَلِكَ اللَّفْظِ“ کہ محمول کیا جائے گا اس لفظ کو مخاطب کی مراد کے خلاف پر، ”بِأَنْ يُذْكَرَ“ بسبب ذکر کرنے اس لفظ کے متعلق کے، ”كَقَوْلِهِ“ جیسے شاعر کہتا ہے۔ شاعر مولانا بادشاہ کے پاس آتا ہے بار بار، بادشاہ اس کو انعامات وغیرہ دیتا ہے تو ایک مرتبہ آیا کہنے لگا:
”قُلْتُ ثَقَّلْتُ إِذْ أَتَيْتُ مِرَارًا ... قَالَ ثَقَّلْتَ كَاهِلِي بِالْأَيَادِي“
اے بادشاہ! میں نے آپ پر بوجھ ڈال دیا ہے، ”إِذْ أَتَيْتُ مِرَارًا“ جب میں بار بار آپ کے پاس آیا، بار بار آتا ہوں تو اب آپ کو کیا محسوس ہوتا ہو گا؟ بوجھ محسوس ہوتا ہو گا۔ ”قَالَ ثَقَّلْتَ كَاهِلِي بِالْأَيَادِي“ ہاں تو نے بوجھ ڈال دیا ہے میرے کندھوں پر لیکن احسانات کا، تو جو میرے پاس آتا ہے یہ بھی تیرا احسان ہے۔
تو دیکھو اس نے معنی کیا کیا تھا؟ بوجھ ڈالنے کا مشقت مراد لی تھی، اور بادشاہ نے کیا مراد لیا؟ احسانات کا بوجھ مراد لیا، اور متعلق کو ذکر کرنے کی وجہ سے، متعلق کیا ذکر کیا؟ ”أَيَادِي“ ذکر کیا، ایادی جمع ہے ید کی مولانا، ید کا ایک معنی تو ہاتھ اور دوسرا معنی کیا ہے اس کا؟ احسان اور انعام بھئی۔ تو احسان اور انعام نے بتلایا کہ ثقلت کا دوسرا معنی لیا ہے۔
”فَلَفْظُ ثَقَّلْتُ وَقَعَ فِي كَلَامِ الْغَيْرِ بِمَعْنَى حَمَلْتُكَ الْمَؤُونَةَ“ کہ بس ثقلت کا لفظ جو غیر کے کلام میں واقع ہوا تھا کس معنی میں تھا؟ کہ میں نے آپ پر مشقت ڈال دی ہے، ”فَحَمَلَهُ عَلَى تَثْقِيلِ عَاتِقِهِ بِالْأَيَادِي“ تو اس نے محمول کر لیا اس کو کندھوں پر بوجھ ڈالنا ”بِالْأَيَادِي وَالْمِنَنِ“ کس کے ساتھ؟ احسانات وغیرہ کے ساتھ، ایادی منن کا ایک معنی مولانا۔ ”بِأَنْ ذَكَرَ“
”بِأَنْ ذَكَرَ مُتَعَلِّقَهُ“ بسبب اس کے متعلق کے ذکر کرنے کے، ”أَعْنِي قَوْلَهُ بِالْأَيَادِي“ یعنی کہ ایادی، ایادی کا لفظ ذکر کر دیا جس نے اس کی وجہ سے معلوم ہوا کہ کیا اس نے وہ معنی مراد نہیں لیا بلکہ دوسرا معنی مراد لیا ہے۔
جیسے اردو میں اس کی مثال ہے مولانا:
جب کہا مرتا ہوں وہ بولے مرا سر کاٹ کر
جب کہا مرتا ہوں وہ بولے مرا سر کاٹ کر
جھوٹ کو سچ کر دکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
شاعر نے کیا کہا معشوق سے کہ میں مر رہا ہوں، آپ کی جدائی میں مر رہا ہوں، اور مراد کیا تھا؟ بڑی تکلیف میں ہوں، معشوق نے اس کی گردن ہی اتار دی اور بولا کہ آپ کے جھوٹ کو ہم کیا کر دکھاتے ہیں؟ سچ کر دکھاتے ہیں! تو وہ حقیقی معنی پر محمول کیا اس نے۔
”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”الِاطِّرَادُ“ اور قسم معنوی میں سے ایک اطراد بھی ہے، ”وَهُوَ أَنْ تَأْتِيَ بِأَسْمَاءِ الْمَمْدُوحِ أَوْ غَيْرِهِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِ عَلَى تَرْتِيبِ الْوِلَادَةِ مِنْ غَيْرِ تَكَلُّفٍ فِي السَّبْكِ“ وہ یہ مولانا کہ آپ ممدوح کا نام لے آئیں، ممدوح یا وغیرہ، ممدوح ہو یا مذموم ہو، جو بھی ہو اس کا نام لے کر آئیں اور اس کے آباؤ اجداد کے نام لے کر آئیں ولادت کی ترتیب پر بغیر تکلف کے کلام کی روانگی میں۔ بھئی آپ دیکھیے زید ہے، زید بیٹا ہے عمرو کا، عمرو بیٹا ہے کس کا؟ بکر کا، بکر بیٹا ہے کس کا؟ خالد کا۔ تو آپ نظم کے اندر مولانا ان کے نام لے کر آتے ہیں لیکن ولادت کی ترتیب سے لاتے ہیں: زید کو پہلے لاتے ہیں، اس کے بعد عمرو کو، پھر بکر کو اور پھر خالد کو، لیکن اس انداز میں کہ تکلف نہ نظر آئے کلام کے اندر، کلام کی روانگی اسی طرح برقرار رہے، ذوق بتلائے کہ کلام میں ابھی بھی روانی ہے بھئی۔
”كَقَوْلِهِ: إِنْ يَقْتُلُوكَ فَقَدْ ثَلَلْتَ عُرُوشَهُمْ ... بِعُتَيْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ شِهَابِ“
بھئی یہ ممدوح جو تھا، شاعر کا یہ جو ممدوح ہے یہ لڑائی میں گیا کسی قوم کے ساتھ لڑائی کی اور وہاں پر یہ مارا گیا بھئی لڑائی کے اندر، تو شاعر اب اس کے بارے میں کیا کہتا ہے کہ اگر اس قوم والوں نے تجھے قتل کر دیا ہے تو کوئی بات نہیں، تو نے بھی تو ان کی ساری عزتیں ختم کر دی تھیں، ان کے سردار عتیبہ بن الحارث بن شہاب کو تو نے کیا کر دیا تھا؟ گزشتہ لڑائی کے اندر قتل کیا تھا، گویا کہ تو نے اپنے قتل کا بدلہ اپنی زندگی میں ہی ان سے لے لیا تھا بھئی۔ تو دیکھو عتیبہ بن حارث بن شہاب کا ذکر آیا شعر کے اندر، عتیبہ بیٹا ہے حارث کا، حارث بیٹا ہے شہاب کا، تو یہ ترتیب سے ان کے نام آئے بھئی۔
”إِنْ يَقْتُلُوكَ“ اگر انہوں نے تجھے قتل کر دیا ہے ”فَقَدْ ثَلَلْتَ“، ثَلَّ کا معنی ہوتا ہے گرانا، ”عُرُوشٌ“ عرش کی جمع ہے: سلطنت کو بھی کہتے ہیں، حکومت کو بھی کہتے ہیں، تخت کو بھی کہتے ہیں، چھپر اور سائبان کو بھی کہتے ہیں اور یہاں یہ کنایہ ہے چھپر اور سائبان کا گرانا، یہ کنایہ ہے کس چیز سے؟ عزتوں کے ختم کر دینے سے، کنایہ ہے کس سے؟ تو تو نے بھی تو ان کی عزتیں ختم کر دیں، ان کی حکومت ختم کر دی، کس کے ساتھ؟ ”بِعُتَيْبَةَ“ یعنی عتیبہ کے ”بِقَتْلِ عُتَيْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ“ اس کے قتل کے ساتھ۔ ”يُقَالُ لِلْقَوْمِ إِذَا ذَهَبَ عِزُّهُمْ وَتَزَعْزَعَ حَالُهُمْ: قَدْ ثُلَّ عَرْشُهُمْ“، جب کہا جاتا ہے کسی قوم سے عربی میں جب ان کی عزت چلی جائے اور ان کی حالت کمزور ہو جائے، کیا کہا جاتا ہے؟ ”قَدْ ثُلَّ عَرْشُهُمْ“ یعنی ان کی عزت چلی گئی۔
”يَعْنِي إِنْ تَبَجَّحُوا بِقَتْلِكَ وَفَرِحُوا بِهِ“ یعنی اگر وہ لوگ خوش ہیں اور ناز کر رہے ہیں تیرے قتل کے ساتھ، تَبَجَّحَ کا معنی خوش ہونا، نازاں ہونا مولانا، فخر کرنا۔ اگر وہ لوگ فخر کر رہے ہیں تیرے قتل کے ساتھ اور اس پر کیا ہیں؟ خوش ہو رہے ہیں، ”فَقَدْ أَثَّرْتَ فِي عِزِّهِمْ“ تو نے بھی تو ان کے عزت میں اپنے نشانات چھوڑ دیے ہیں ”وَهَدَمْتَ أَسَاسَ مَجْدِهِمْ“ اور ان کی بزرگی کی بنیاد کو گرا ڈالا ہے ”بِقَتْلِ رَئِيسِهِمْ“ ان کے رئیس کو قتل کر کے۔
”فَإِنْ قِيلَ هَذَا مِنْ تَطَابُعِ الْإِضَافَاتِ“ اگر یہ اعتراض کیا گیا کہ یہ شعر تطابع اضافات کے قبیل سے ہے اس لیے کہ عتیبہ کی اضافت ابن کی اضافت ہو رہی ہے حارث کی طرف اور پھر دوسرے ابن کی اضافت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ شہاب کی طرف، تو دو اضافتیں آ گئیں، تو یہ تطابع اضافات میں سے ہوا، ”فَكَيْفَ يُعَدُّ مِنَ الْمُحَسِّنَاتِ؟“ تو اس کو محسنات میں سے ہم کیسے شمار کریں گے بھئی؟ اس میں تو تطابع اضافات آیا اور تطابع اضافات تو عیب ہے یہ تو کلام میں نہیں ہونا چاہیے۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں ہم آپ کو پہلے بتا چکے تھے کہ تطابع اضافات بعض اوقات ثقیل ہوتا ہے اور بعض اوقات ثقیل نہیں ہوتا بلکہ کلام کے اندر اگر سلیم ہو تو کلام کے اندر اور شگفتگی وہ پیدا کر دیتا ہے تو یہ اس قبیل سے ہے جو کلام میں اور ملاحت پیدا کر رہا ہے۔
”قُلْنَا قَدْ تَقَرَّرَ“ ہم کہتے ہیں یہ بات ثابت ہو چکی ہے ”أَنَّ تَطَابُعَ الْإِضَافَاتِ إِذَا سَلِمَ مِنَ الِاسْتِكْرَاهِ مَلُحَ وَلَطُفَ“ کہ تطابع اضافات جو ہے جب یہ کراہت سے محفوظ ہو تو یہ شگفتہ ہوتا ہے اور بڑا لطیف ہوتا ہے، ”وَالْبَيْتُ مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ“ اور شعر بھی اسی قسم سے ہے۔
یہ تو تھا مولانا مذمت کے طور پر ذکر کیا عتیبہ ابن حارث ابن شہاب کو کیونکہ ممدوح نے اس کو قتل کیا تھا، تعریف ممدوح ایک اور شخص کی کر رہا ہے، اس نے کس کو قتل کیا تھا؟ عتیبہ ابن حارث ابن شہاب کو، تو اس کا ذکر مذمت کے طور پر آیا، یہ مذمت کی مثال تھی۔ اب مولانا مدح کی مثال جیسے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:
”الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ“
سخی کا بیٹا، سخی جو بیٹا ہے سخی کا، یا الکریم ابن کریم، مراد کون ہے؟ یوسف ابن یعقوب ابن اسحاق ابن ابراہیم بھئی۔ تو دیکھو ترتیب سے مولانا ولادت کی ترتیب سے نام ذکر کیے۔
”إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ“ مولانا یہ صحیح نہیں ہے بھئی، ”الْحَدِيثَ“ أَيِ اقْرَأِ الْحَدِيثَ۔
”هَذَا تَمَامُ مَا ذُكِرَ مِنَ الضَّرْبِ الْمَعْنَوِيِّ“، یہ وہ مذکور ہیں جو ذکر کیے گئے کس میں سے؟ قسمِ معنوی میں سے۔ قسمِ معنوی کی بات پوری ہوئی مولانا، 29 صنعتیں ذکر کیں۔
اب آئیں مولانا کس کی طرف؟ ضربِ لفظی، قسمِ لفظی کی طرف جو لفظ کے اندر حسن کا سبب بنتی ہیں۔
”وَأَمَّا الضَّرْبُ اللَّفْظِيُّ مِنَ الْوُجُوهِ الْمُحَسِّنَةِ لِلْكَلَامِ فَمِنْهُ الْجِنَاسُ“ وہ وجوہ جو حسن پیدا کرتی ہیں کلام کے اندر لفظی، ان میں سے ایک جناس ہے، ”بَيْنَ اللَّفْظَيْنِ“ کس کے درمیان بھئی؟ دو لفظوں کے درمیان۔ ”وَهُوَ تَشَابُهُهُمَا فِي اللَّفْظِ“ اور وہ دونوں لفظوں کا آپس میں مشابہ ہونا ہے۔ ”وَهُوَ تَشَابُهُهُمَا فِي اللَّفْظِ أَيْ فِي التَّلَفُّظِ“، لفظ سے کیا مراد ہے مولانا؟ تلفظ میں مشابہت ہے دو لفظوں کی، ”فَيَخْرُجُ التَّشَابُهُ فِي الْمَعْنَى“ تو تشابہ فی المعنی خارج ہوا مولانا جب ہم نے لفظ کی قید بڑھائی، تو ”أَسَدٌ“ اور ”سَبُعٌ“، تو یہ اگر ایک معنی میں ہیں تو پھر تو معنی ایک ہے اور ہم نے کیا کہا تھا؟ تلفظ، تو یہ خارج ہوئے مولانا۔
”أَوْ فِي مُجَرَّدِ الْعَدَدِ“، توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ صنعتِ جناس اس کو کہتے ہیں مولانا کہ دو لفظ ہوں اور دونوں لفظ مشابہ ہوں تلفظ کے اندر، جیسا ایک کا تلفظ ہے دوسرے کا بھی ویسا ہی تلفظ ہے۔ تو جب تلفظ کی بات کی تو معلوم ہوا معنی کے اندر جو مشابہ ہوں وہ خارج ہوئے، جیسے اسد اور سبع کا ایک معنی ہے لیکن یہاں تلفظ ایک ہے دونوں کا؟ اور ہم نے کہا تھا تلفظ ایک جیسا ہو۔ یا مولانا عدد، حروفِ عدد کے اندر مشابہت ہو جیسے ”ضَرَبَ“، ”قَتَلَ“، دیکھو ضرب کے کتنے حروف ہیں؟ تین، قتل کے کتنے حروف؟ تین، تو دیکھو عددِ حروف میں مشابہت ہے لیکن ہم نے کیا کہا تھا؟ کس میں مشابہت ہو؟ تلفظ میں ہو، تو لہٰذا ”أَوْ فِي مُجَرَّدِ الْعَدَدِ“ وہ بھی خارج ہوئے جہاں تشابہ صرف عدد کے اندر ہو گا جیسے ضرب اور علم، ”أَوْ فِي مُجَرَّدِ الْوَزْنِ“ یا صرف وزن کے اندر کیا آئے؟ تشابہ آئے جیسے ضرب اور قتل، ضرب اس کا کیا وزن ہے؟ فَعَلَ، اور قتل کا بھی کیا وزن ہے؟ فَعَلَ، تو وزن ایک لیکن دونوں خارج کیونکہ ہم نے کیا کہا تھا؟ تلفظ، تلفظ ایک نہیں ہے دونوں کا، ”كَضَرَبَ وَقَتَلَ“۔
”وَالتَّامُّ مِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْجِنَاسِ، جناسِ تام مولانا۔ دیکھو چار چیزیں ذکر ہوں گی:
ایک حروف کی انواع بھئی، حروف کی انواع کہ ہر حرف ایک نوع ہے: الف ایک نوع، با ایک نوع، تا ایک نوع۔ تو دو لفظ ہیں وہ انواعِ حروف ان کی ایک جیسی ہیں: ایک میں پہلے ضاد آ رہا ہے پھر را آ رہی ہے پھر با، تو دوسرے کے اندر بھی پہلے ضاد آ رہا ہے پھر را پھر با۔ تو دوسرا ہے عدد: ایک میں تین حروف ہیں تو دوسرے میں بھی تین۔ چوتھا ہے ہیئات بھئی، حرکات اور سکت حرکات اور سکون بھی ایک جیسے: ضاد مفتوح پہلے کا، دوسرے کی را مفتوح...
مفتوح، تیسرے کی با مفتوح، تو یہاں دوسرا بھی ضرب ہے مثلاً، مثال کے طور پر، اس کا بھی ضاد مفتوح، را مفتوح اور با مفتوح۔ دیکھو ہیئت بھی ایک جیسی آئی۔
ترتیب بھی ایک جیسی ہے مولانا: پہلے ضاد ہے پہلے میں، پھر را ہے، پھر با، تو دوسرے کے اندر بھی پہلے ضاد ہے، پھر را ہے، پھر با ہے۔ تو دیکھو مولانا دونوں لفظ متفق ہیں کس چیز میں؟ حروف میں بھی، ایک جیسے حروف ہیں، اس کے عددِ حروف میں بھی، ایک میں تین ہیں دوسرے میں بھی تین ہیں، اور ہیئت کے اندر بھی، حرکتیں بھی ایک جیسی ہیں، اور ترتیب کے اندر بھی۔ یہ چاروں چیزیں جب پائی جائیں گی تو اس کو کہیں گے جناسِ تام، کیا کہیں گے؟ جناسِ تام، دیکھیے بھئی۔
”وَالتَّامُّ مِنْهُ أَيْ مِنَ الْجِنَاسِ“، جناس میں سے یہ ہے ”أَنْ يَتَّفِقَا أَيِ اللَّفْظَانِ فِي أَنْوَاعِ الْحُرُوفِ“، کہ متفق ہو جائیں دو لفظ انواعِ حروف کے اندر، ”فَكُلٌّ مِنَ الْحُرُوفِ التِّسْعَةِ وَالْعِشْرِينَ نَوْعٌ“، پس ہر 29 حروف میں سے ہر ایک ایک نوع ہے مولانا، دیکھا؟ الف ایک نوع ہے اس لیے کہ الف کبھی اصلی ہو گا کبھی زائدہ ہو گا، کبھی الف کیا ہو گا؟ الف واؤ سے بدل کر آئے گا، کبھی یا سے بدل کر آئے گا، کبھی کسی سے بدل کر، تو دیکھو اس کے تحت کتنی قسمیں آ گئیں۔ اسی طرح با بھی کیا ہے؟ ایک نوع ہے، کیونکہ با کبھی خفیف ہو گی کبھی مخففہ ہو گی کبھی مشددہ ہو گی مولانا، کبھی مدغمہ ہو گی کبھی غیر مدغمہ، تو با کے تحت بھی کئی قسمیں آ گئیں۔ تو ہر حرف ایک نوع ہے، تو انواع سے کیا مراد ہے؟ انواعِ حروف سے ہر حرف کی نوع ہے، اس کی حقیقت مراد ہے۔
”وَبِهَذَا يَخْرُجُ“ لہٰذا اس قید سے نکل گئے ”يَفْرَحُ وَيَمْرَحُ“، يفرح اور يمرح خارج ہوئے مولانا، دیکھو يفرح، يمرح، ایک جیسے ہیں لیکن وہاں فا کی جگہ کیا آ رہا ہے دوسرے میں؟ میم آ رہا ہے، تو انواعِ حروف ایک جیسی ہیں؟ نہیں، یہ خارج ہوا جناسِ تام سے۔
”وَفِي أَعْدَادِهَا“ اور شمار میں بھی ایک جیسے ہوں، ”وَبِهِ يَخْرُجُ“ اس قید سے نکل گئے ”السَّاقُ وَالْمَسَاقُ“، ساق کا بھی وہی معنی اور مساق، نہیں، ساق اور مساق مولانا، تو ساق کے اندر سین، الف، قاف ہے لیکن مساق کے اندر شروع میں کیا آ رہا ہے؟ میم آ رہا ہے، تو دیکھو عدد برابر نہیں، ایک میں تین ہیں دوسرے میں چار حروف۔
”وَفِي هَيْآتِهَا“ اور ہیئتوں کے اندر بھی دونوں کیا ہوں مولانا؟ ایک جیسے ہوں۔ ”وَبِهِ يَخْرُجُ“ اس قید سے کیا نکل گئے؟ ”الْبَرْدُ وَالْبُرْدُ“، دیکھو ایک لفظ ہے بَرْد، ایک لفظ ہے بُرْد۔ انواعِ حروف ایک جیسے ہیں، پہلے میں با، را، دال ہے، دوسرے میں بھی با، را، دال ہے۔ عدد بھی برابر ہیں، تین حروف پہلے میں تو دوسرے میں بھی تین حروف، لیکن ہیئت ایک جیسی نہیں، پہلے میں با کے اندر فتحہ ہے، دوسرے میں با پر ضمہ ہے۔ تو یہ بھی خارج ہوئی ان کی ہیئت نہیں ہے۔
”فَإِنَّ هَيْأَةَ الْكَلِمَةِ“ کیونکہ اس لیے کہ کلمے کی ہیئت جو ہے ”كَيْفِيَّةٌ حَاصِلَةٌ لَهَا بِاعْتِبَارِ الْحَرَكَاتِ وَالسَّكَنَاتِ“ وہ کیفیت ہے جو اس کو حاصل ہوتی ہے حرکات و سکنات سے، ”فَنَحْوُ ضَرَبَ وَقَتَلَ عَلَى هَيْأَةٍ وَاحِدَةٍ“ پس ضرب اور قتل ایک ہی ہیئت پر ہیں، ”مَعَ اخْتِلَافِ الْحُرُوفِ“ باوجود اس کے کہ ان کے حروف کیا ہیں؟ مختلف ہیں۔ ”بِخِلَافِ ضَرَبَ وَضُرِبَ“ اب ان کے حروف ایک جیسے ہیں لیکن ان کی ہیئت کیا ہے؟ مختلف ہے، ”مَبْنِيًّا لِلْفَاعِلِ وَالْمَفْعُولِ فَإِنَّهُمَا عَلَى هَيْأَتَيْنِ مَعَ اتِّحَادِ الْحُرُوفِ“، ایک معروف ایک مجہول بتلایا، پس یہ دونوں کیا ہیں؟ دو ہیئتوں پر ہیں اگرچہ حروف میں اتحاد ہے۔
”وَفِي تَرْتِيبِهِمَا“ اور ترتیب کے اندر بھی متفق ہوں، ”أَيْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الْحُرُوفِ عَلَى بَعْضٍ وَتَأْخِيرِهِ عَنْهُ“، بعض حروف بعض پر کیا ہوں؟ مقدم ہوں اور بعض مؤخر ہوں بعد سے، ”وَبِهِ يَخْرُجُ“ اس قید سے نکل گئے جیسے ”الْفَتْحُ وَالْحَتْفُ“ بھئی، کون نکل گئے بھئی؟ فتح اور حتف نکل گئے بھئی۔ بھئی جناسِ تام کی بات ہو رہی ہے، ہم نے کہا تھا انواعِ حروف بھی ایک جیسے ہوں، اعداد بھی ایک جیسے ہوں، ہیئت بھی ایک جیسی ہو اور ترتیب بھی ایک جیسی ہو۔ اب دیکھو ایک ہے فتح، ایک ہے حتف، ان کے انواعِ حروف ایک جیسے ہیں، کیسے؟ ایک میں فا، تا، حا ہے، دوسرا کیا ہے؟ حتف، اس میں بھی فا، تا، حا، تینوں آ رہے ہیں یا نہیں آ رہے؟ انواع ہیں، عدد بھی ایک جیسے مولانا، ایک میں تین حروف ہیں دوسرے میں بھی تین حروف، ہیئت بھی ایک جیسے مولانا، فَتْحٌ، حَتْفٌ، پہلا حرف مفتوح ہے، درمیان والا ساکن ہے، دوسرے میں بھی اسی طرح ہے، لیکن چوتھی شرط کہ ترتیب بھی ایک جیسی ہو وہ شرط نہیں پائی جا رہی، پہلے میں فا پہلے ہے پھر تا ہے، جبکہ دوسرے میں کیا ہے؟ حا پہلے ہے پھر تا ہے، تو یہ خارج ہوا جناسِ تام سے۔
”فَإِنْ كَانَا أَيِ اللَّفْظَانِ الْمُتَّفِقَانِ فِي جَمِيعِ مَا ذُكِرَ مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ مِنْ أَنْوَاعِ الْكَلِمَةِ كَاسْمَيْنِ أَوْ فِعْلَيْنِ أَوْ حَرْفَيْنِ“، پھر مولانا جب یہ چاروں چیزوں میں لفظ متفق ہوں، پھر دیکھیں مولانا کہ یہ نوعِ واحد سے ہیں دونوں الفاظ یا الگ الگ سے ہیں؟ دونوں لفظ بھئی، یعنی دونوں اسم ہیں یا دونوں فعل ہیں یا دونوں حرف ہیں۔ تو دیکھو یہ ایک نوع سے ہیں، یا دو انواع سے ہیں یعنی ایک اسم ہے تو دوسرا کیا ہے؟ فعل، یا ایک فعل ہے تو دوسرا حرف، یا ایک حرف ہے تو دوسرا اسم، یا ایک اسم ہے تو دوسرا حرف ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ایک نوع سے ہوں گے یا مختلف۔
”فَإِنْ كَانَا أَيِ اللَّفْظَانِ الْمُتَّفِقَانِ فِي جَمِيعِ مَا ذُكِرَ مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ“ پھر یا وہ لفظ جو متفق ہوں ان ساری چیزوں کے اندر یا تو وہ نوعِ واحد سے ہوں گے انواعِ کلمہ میں سے ”كَاسْمَيْنِ أَوْ فِعْلَيْنِ أَوْ حَرْفَيْنِ“ جیسے دونوں اسم ہوں گے یا دونوں فعل ہوں گے یا دونوں حرف ہوں گے، ”سُمِّيَ مُمَاثِلًا“ بھئی، تو اس قسم کے جناسِ تام کو کیا کہتے ہیں؟ مماثل کہتے ہیں۔ ”جَرْيًا عَلَى اصْطِلَاحِ الْمُتَكَلِّمِينَ“ متکلمین کی اصطلاح پر چلتے ہوئے اس کا نام مماثل رکھا گیا، ”مِنْ أَنَّ الْمُمَاثَلَةَ هِيَ الِاتِّحَادُ فِي النَّوْعِ“ کیونکہ ان کے نزدیک مماثلت کس کو کہتے ہیں؟ نوع کے اندر نوع کے اندر اتحاد ہو تو اس کو مماثلت کہتے ہیں، تو یہاں بھی نوع میں اتحاد ہے تو اس کا نام مماثل رکھا گیا۔
جیسے دیکھیے مثال: ”نَحْوُ: وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَيِ الْقِيَامَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ“، وہ دن جبکہ قائم ہو جائے گی قیامت، قسم کھائیں گے اس دن مجرم کہ نہیں وہ ٹھہرے ایک گھڑی بھی، یعنی دنیا کے اندر وہ ایک گھڑی بھی ایک گھڑی ہی ٹھہرے دنیا کے اندر، بس بھئی وہ قسم اٹھائیں گے۔ تو دیکھو دو لفظ آئے بھئی: ”السَّاعَةُ“، ”سَاعَةٍ“، ساعۃ کا لفظ دو دفعہ آیا، دیکھو ان کے حروف بھی برابر، انواعِ حروف ایک جیسے: سین، الف، عین، تا، دوسرے میں بھی سین، الف، عین، تا۔ عدد بھی برابر: پہلے میں چار دوسرے میں بھی چار۔ ہیئت بھی ایک جیسی مولانا: سَاعَةٌ، سین پر فتحہ ہے پھر الف ہے پھر عین پر فتحہ ہے، تو دوسرا بھی سَاعَةٍ اس میں بھی اسی طرح۔ ترتیب بھی ایک جیسی ہے: سین، الف، عین ایک میں آ رہا ہے تو دوسرے میں بھی سین، الف، عین ترتیب سے آ رہا ہے بھئی۔ اور پھر یہ دونوں اسم بھی ہیں، دونوں اسم بھی ہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ جناسِ تام مماثل، جناسِ تام مماثل کہیں گے، اور معنی دونوں کا الگ ہے مولانا: ساعۃ اول کا معنی ہے قیامت اور دوسری ساعۃ کا معنی گھڑی، ”مِنْ سَاعَاتِ الْأَيَّامِ“ بھئی، دن کی گھڑی۔
”وَإِنْ كَانَا مِنْ نَوْعَيْنِ“ اگر وہ دو انواع سے ہوئے، ایک اسم اور فعل ہوئے، ”أَوِ اسْمٍ وَحَرْفٍ“ یا کیا ہوئے؟ اسم اور حرف، ”أَوْ فِعْلٍ وَحَرْفٍ“ یا فعل اور حرف، ”سُمِّيَ مُسْتَوْفًى“ تو اس کا نام جناسِ تام مستوفیٰ ہے، ”كَقَوْلِهِ: مَا مَاتَ مِنْ كَرَمِ الزَّمَانِ فَإِنَّهُ ... يَحْيَا لَدَى يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ“
وہ جو، ما موصولہ ہے، وہ جو مر گیا تھا، وہ جو مر گیا ہے، مِنْ بیان ہے ما کا یعنی زمانے کی سخاوت، بھئی زمانے سے سخاوت ختم ہو گئی ہے، کوئی کسی کو چائے نہیں پلاتا بالکل، ”فَإِنَّهُ يَحْيَا لَدَى يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ“ تو بے شک وہ زندہ ہے کس کے پاس؟ یحییٰ ابن عبد اللہ کے پاس، تو سخاوت کی وہ رسمیں جو ختم ہو گئی تھیں یحییٰ ابن عبد اللہ کے پاس زندہ ہیں، تو دیکھو ”يَحْيَا“، ”يَحْيَى“ دو دفعہ آیا بھئی، چاروں چیزوں میں متفق ہیں: انواع کے اندر بھی، اعداد میں بھی، ہیئت میں بھی، ترتیب میں بھی، لیکن نوع مختلف ہے، پہلا یحییٰ کیا ہے؟ فعل، دوسرا یحییٰ کیا ہے؟ اسم۔ ”لِأَنَّهُ كَرِيمٌ“ اس لیے کہ وہ سخی آدمی ہے، ”يُحْيِي مَرَاسِمَ الْكَرَمِ“ اور وہ زندہ کرتا ہے سخاوت کی رسموں کو، زندہ رکھتا ہے۔
”وَأَيْضًا لِلْجِنَاسِ التَّامِّ تَقْسِيمٌ آخَرُ“ جناسِ تام کی ایک اور تقسیم بھی ہے، ”وَهُوَ أَنَّهُ إِنْ كَانَ أَحَدُ لَفْظَيْهِ مُرَكَّبًا وَالْآخَرُ مُفْرَدًا سُمِّيَ جِنَاسَ التَّرْكِيبِ“ اور وہ یہ کہ اگر ایک لفظ مرکب ہو دوسرا مفرد ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جناسِ ترکیب کہتے ہیں۔ دیکھو بھئی مولانا، دو لفظ ایک جیسے ہیں لیکن ایک لفظ مفرد ہے دوسرا دو سے مل کر بنا ہے یا دو سے نہیں بنا، ایک کا جز لیا ہے اور دوسرا لفظ ملایا، تو دونوں اب کیا بن گئے؟ ایک، تو ایک مرکب بنا ایک مفرد لیکن اب ہیں ایک جیسے تلفظ کے اندر، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کہ پھر اس کے اندر اس کا نام مولانا متشابہ رکھا جائے گا یا مفروق، متشابہ تب رکھیں گے جب رسم الخط بھی ایک جیسا ہو، مفروق تب کہیں گے جبکہ ان کا رسم الخط الگ الگ ہو، سمجھ میں آیا؟ جناسِ تام ہو لیکن ایک مفرد ہے اور دوسرا کیا ہے؟ مرکب ہے، پھر ان کے اندر بھئی تلفظ تو ہے ایک جیسا، رسم الخط بھی ایک جیسا ہو گا یا رسم الخط؟ اگر رسم الخط بھی ایک جیسا ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ متشابہ، اگر رسم الخط الگ الگ ہے تو؟ مفروق بھئی۔
”وَحِينَئِذٍ فَإِنِ اتَّفَقَا أَيِ اللَّفْظَانِ الْمُفْرَدُ وَالْمُرَكَّبُ“
یعنی اللفظان المفرد والمرکب، دونوں لفظ یعنی کہ مفرد اور دونوں متفق ہو جائیں ”فِي الْخَطِّ“ رسم الخط کے اندر بھی، ”خُصَّ هَذَا النَّوْعُ مِنْ جِنَاسِ التَّرْكِيبِ بِاسْمِ الْمُتَشَابِهِ“ تو جناسِ ترکیب کی اس نوع کو کیا کہتے ہیں؟ خاص کیا گیا ہے اس میں متشابہ کے ساتھ، ”لِاتِّفَاقِ اللَّفْظَيْنِ فِي الْكِتَابَةِ“ اس لیے کہ دونوں لفظ کا اتفاق ہے کس چیز میں؟ کتابت میں، تو متشابہ ہیں ایک دوسرے کے۔
”كَقَوْلِهِ“ جیسے شاعر کا یہ قول، دیکھیے بھئی غور سے:
”إِذَا مَلِكٌ لَمْ يَكُنْ ذَا هِبَةٍ ... فَدَعْهُ فَدَوْلَتُهُ ذَاهِبَةٌ“
تو دو دفعہ ذاہبہ، ذاہبہ آیا مولانا، لیکن پہلا ذاہبہ مرکب ہے، دوسرا ذاہبہ مفرد ہے۔ وہ مرکب ہے ”ذَا هِبَةٍ“، ذو مال کی طرح ہے ”ذُو مَالٍ“، اور حالتِ نصبی میں کیا آتا ہے؟ ”ذَا مَالٍ“، تو یہ بھی کیا ہے ”ذَا هِبَةٍ“۔ ”إِذَا مَلِكٌ لَمْ يَكُنْ ذَا هِبَةٍ“ جب بادشاہ نہ ہو ہبہ کرنے والا، ”ذَا هِبَةٍ“ ہبہ، جب بادشاہ عطایا کرنے والا نہ ہو، ”فَدَعْهُ“ تو اس کو چھوڑ دے، ”فَدَوْلَتُهُ ذَاهِبَةٌ“ پس اس کی حکومت جانے ہی والی ہے۔ حکومت اس کی جانے، تو دوسرا ذاہبہ جانے والے، ذہب سے ہے وہ ایک لفظ ہے اور یہ ذا ہبۃ ہے مولانا۔
”إِذَا مَلِكٌ لَمْ يَكُنْ ذَا هِبَةٍ“ جب بادشاہ نہ ہو ہبہ کرنے والا، ”أَيْ صَاحِبَ هِبَةٍ وَعَطَاءٍ“ یعنی ہبہ کرنے والا اور عطا کرنے والا، ”فَدَعْهُ أَيِ اتْرُكْهُ“ تو اس کو چھوڑ دے، ”فَدَوْلَتُهُ ذَاهِبَةٌ“ پس اس کی حکومت جو ہے جانے والی ہے، ”أَيْ غَيْرُ بَاقِيَةٍ“ یعنی باقی نہیں رہنے والی۔ تو دیکھو دو لفظ آئے مولانا ذاہبہ، ذاہبہ، پہلا مرکب دوسرا مفرد، لیکن رسم الخط دونوں کا کیا ہے بالکل؟ ایک جیسا ہے۔
”وَإِلَّا“ اور اگر ایسا نہ ہو، ”وَإِنْ لَمْ يَتَّفِقِ اللَّفْظَانِ الْمُفْرَدُ وَالْمُرَكَّبُ فِي الْخَطِّ“ اگر متفق نہ ہوں دونوں لفظ مفرد اور مرکب خط کے اندر، ”خُصَّ هَذَا النَّوْعُ مِنْ جِنَاسِ التَّرْكِيبِ بِاسْمِ الْمَفْرُوقِ“ تو اس قسم کا کیا نام رکھا جاتا ہے؟ اسم مفروق، ”لِافْتِرَاقِ اللَّفْظَيْنِ فِي صُورَةِ الْكِتَابَةِ“ اس لیے کہ مختلف ہیں دونوں لفظ کتابت کے لحاظ سے، ”كَقَوْلِهِ“ جیسے شاعر کہتا ہے:
”كُلُّكُمْ قَدْ أَخَذَ الْجَامَ وَلَا جَامَ لَنَا ... مَا الَّذِي ضَرَّ مُدِيرَ الْجَامِ لَوْ جَامَلَنَا“
”كُلُّكُمْ قَدْ أَخَذَ الْجَامَ“ تم میں سے ہر ایک نے اپنا جام لے لیا ہے، ”وَلَا جَامَ لَنَا“ اور ہمارا کوئی جام ہمیں جام نہیں ملا، ”مَا الَّذِي ضَرَّ مُدِيرَ الْجَامِ“ کیا چیز تکلیف دینے والی تھی جام کو گھمانے والا یعنی ساقی مراد ہے، ساقی کو کیا چیز تکلیف دے رہی تھی ”لَوْ جَامَلَنَا“ اگر وہ ہم سے اچھا برتاؤ کرتا، حسنِ سلوک کرتا اور ہمیں بھی کیا کر دیتا؟ جام دے دیتا۔
تو دیکھو پہلا کیا آیا؟ ”لَا جَامَ لَنَا“، جام لنا، ہمارے لیے جام نہیں ہے، جام لا کا اسم، لنا اس کی خبر، اور آگے آیا ”جَامَلَنَا“، آگے جامل فعل آ رہا ہے مولانا، جامل کیا آیا؟ تو دیکھو ہیں دونوں ایک جیسے: جام لنا، جاملنا، کس میں؟ حروف میں بھی، اعداد میں بھی، ہیئت میں بھی، ترتیب کے اندر بھی، لیکن پہلا مرکب ہے: جام لنا، اور دوسرا مفرد ہے، آپ کہیں گے جاملنا بھی تو مرکب ہے، جامل فعل ہے اور نا مفعول کا ہے، بھئی فعل اور مفعول ایک ہی درجے میں یہ رکھتے ہیں، ان کا تعلق کیا ہوتا ہے؟ یعنی ضمیرِ متصل کی صورت میں جب مفعول آتا ہے تو ضمیرِ متصل تو جدا چونکہ نہیں ہو سکتی تو وہ کس کے درجے میں ہے؟ جز کلمہ کے درجے میں ہے، تو گویا یہ ایک ہی کلمہ ہے: جاملنا۔ اور رسم الخط دونوں کا الگ ہے، آپ دیکھ رہے ہیں بھئی؟ پہلے میں ”جَامَ لَنَا“، جام الگ لنا الگ، اور دوسرے میں ”جَامَلَنَا“ ملا ہوا ہے۔
”أَيْ عَامَلَنَا بِالْجَمِيلِ“ یعنی پیش آتا ہمارے ساتھ اچھے طریقے سے۔ ”هَذَا إِذَا لَمْ يَكُنِ اللَّفْظُ الْمُرَكَّبُ مُرَكَّبًا مِنْ كَلِمَةٍ وَبَعْضِ كَلِمَةٍ“، کہتے ہیں بھئی مفروق اس وقت کہتے ہیں علامہ تفتازانی بھئی کہ جب لفظ مرکب نہ ہو ایک کلمے سے اور دوسرے کے بعض کلمے سے۔ دیکھو ابھی آپ نے کیا پڑھا؟ ”جَامَ لَنَا“، پہلا جام لنا پورا جام کا لفظ لے لیا اور لنا کا لفظ لے لیا، اگلا جاملنا وہ بھی پورا ہے مولانا۔ تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے، ادھر دیکھو بھئی: مرکب کے اندر تو دو لفظوں کو ملاتے ہیں اور ایک طرف مفرد ہوتا ہے، لیکن اس مرکب کی شکل بالکل اس مفرد جیسی بن جاتی ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ یہ جو مرکب ہوتا ہے یہ دو لفظ پورے نہیں ہوتے، ایک لفظ پورا ہوتا ہے دوسرے کا صرف ایک یا دو حرف لے لیتے ہیں ہم، اس ایک دو حرف کی وجہ سے ملانے سے اب اس کی تلفظ کس کی طرح بن گیا؟ اس کی طرح بن گیا۔ دیکھیے مثال میں:
دیکھیے آخر میں آ رہی ہے: ”أَهَذَا مُصَابٌ أَمْ طَعْمُ صَابٍ“، کیا یہ گنا ہے یا یہ حنظل یا اندرائن کا ذائقہ ہے؟ مصاب کس کو کہتے ہیں مولانا؟ گنے کو۔ ”أَهَذَا مُصَابٌ“، دیکھو مصاب ایک لفظ ہے، آگے کیا آ رہا ہے مولانا؟ ”طَعْمُ صَابٍ“، طعم کا میم لے لیں اور صاب ساتھ ملائیں تو یہ بھی کیا بن گیا؟ مصاب، مرکب بن گیا، تو ایک جیسے ہوئے یا نہ ہوئے؟ طعم صاب، مصاب، اور پہلے میں بھی مصاب۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟
”وَإِلَّا خُصَّ بِاسْمِ الْمَرْفُوِّ“ ورنہ اس کو خاص کیا جاتا ہے کس نام کے ساتھ؟ مرفو کے نام رکھا جاتا ہے، ”كَقَوْلِكَ أَهَذَا مُصَابٌ أَمْ طَعْمُ صَابٍ“، صاب مولانا اندرائن یا حنظل ایک نہایت کڑوا پھل ہے اس کو کہتے ہیں بھئی۔
”وَإِنِ اخْتَلَفَا“، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ تھا جناسِ تام مولانا۔ جناسِ تام کس کو کہتے ہیں جو چار چیزوں میں متفق ہوں: انواع بھی ایک، اعداد بھی ایک، ہیئت بھی ایک، ترتیب بھی ایک۔ پھر مولانا اس میں دو قسم پر ہے: یا یہ مماثل ہو گا یا کیا ہو گا مولانا؟ مستوفیٰ۔ مماثل وہ کہ جس میں دونوں طرف اسم یا دونوں طرف فعل یا دونوں طرف حرف، اور اگر ایک طرف اسم دوسری طرف فعل یا حرف وغیرہ ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مستوفیٰ۔ پھر اس کے بعد دیکھیں مولانا جناسِ تام کے اندر اگر ایک مفرد ہے اور ایک مرکب ہے تو دونوں کا رسم الخط ایک جیسا ہو گا یا رسم الخط ایک جیسا نہیں؟ اگر رسم الخط ایک جیسا ہے تو اس کا نام متشابہ، اور اگر رسم الخط ایک جیسا نہیں تو؟ مفروق، اور اگر ایک میں جز تھا دوسرے کلمے کا تو اس کو کیا کہیں گے؟ مرفو کہیں گے، سمجھ میں آیا بھئی؟
اس کی مثال دوسرے اشعار بھی مولانا، شاعر کہتا ہے:
”طَرَقْتُ الْبَابَ حَتَّى كَلَّ مَتْنِي ... وَلَمَّا كَلَّ مَتْنِي كَلَّمَتْنِي“
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا یہاں تک کہ میری کمر تھک گئی، ”كَلَّ“ الگ لکھیں گے ”مَتْنِي“ الگ، یہاں تک کہ اس نے زخمی کر دی میری کمر یعنی مجھے تھکا دیا، مجھے انتظار کرنا پڑا بہت زیادہ، ”وَلَمَّا كَلَّ مَتْنِي“ اور جب اس نے میرے ساتھ بات چیت کی ”كَلَّمَتْنِي“ تو پھر میرے دل کو کیا کر دیا؟ زخمی کر دیا۔ تو تین دفعہ کل متنی، کل متنی، کلمتنی آیا۔ پہلا کل متنی مولانا ”كَلَّ“ الگ لکھیں گے ”مَتْنِي“ الگ لکھیں گے، باقی کلمتنی، کلمتنی دونوں ملا کر لکھیں گے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پہلے کی طرف نسبت کرتے ہوئے باقی یہ جناسِ تام مفروق ہے کیونکہ پہلے میں کیا ہے کلّ متنی، اور دوسرے میں ملا کر ہے کلمتنی، تو یہ جناسِ مفروق۔ اور کلمتنی، کلمتنی یہ دو دفعہ آیا ایک دوسرے کی طرف یہ نسبت کرتے ہوئے یہ کیا ہیں؟ جناسِ متشابہ ہیں کیونکہ ایک جیسا لکھیں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
”طَرَقْتُ الْبَابَ حَتَّى كَلَّ مَتْنِي ... وَلَمَّا كَلَّ مَتْنِي كَلَّمَتْنِي“
دوسرا شعر:
”إِنَّ فِي بُسْتَانِنَا نَارَنْجَنَا ... مَنْ جَنَى نَارَنْجَنَا نَارًا جَنَى“
نارنج نارنگی کو کہتے ہیں، شاعر کہتا ہے بے شک ہمارے باغ میں ہماری نارنگیاں ہیں، ”مَنْ جَنَى“ جنیٰ کا معنی پھل توڑنا، جس نے ہماری نارنگیاں توڑیں ”نَارًا جَنَى“ آگ کو اس نے توڑا، ناراً آگ، جنیٰ اس نے آگ کو توڑا، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو نارنجنا دو دفعہ آیا بھئی، ایک دفعہ نارنجنا سے وہ پھل مراد ہے دوسری دفعہ ناراً جنیٰ، تو یہاں پر یہ بھی اسی کی طرح۔
فارسی میں اس کی مثال مولانا:
رحمتِ حق بہانہ میجوید
رحمتِ حق بہا نمےجوید
رحمتِ حق بہانہ میجوید، اللہ کی رحمت بہانہ چاہتی ہے، یہ ایک لفظ ہے بہانہ۔ دوسرا ہے: رحمتِ حق بہا نمےجوید، اللہ کی رحمت زیادہ نہیں چاہتی، بہا نمےجوید، یہ نمے نون نفی والا آ گیا اور پہلے میں بہانہ کا نون تھا، تو دیکھو تلفظ بالکل ایک جیسا:
رحمتِ حق بہانہ میجوید
رحمتِ حق بہا نمےجوید
سمجھ میں آیا؟
یا اردو میں اس کی مثال جیسے مولانا، کہتے ہیں ایک سیاستدان تھا بھئی، وہ علاج کے لیے گیا کہ میں...
جا رہا ہوں، میں نے علاج کروانا ہے، مجھے یہ کیا کہتے ہیں اس کو بھئی؟ یہ آنکھیں پیلی ہو جاتی ہیں، یرقان، یرقان ہو گیا ہے۔ یرقان کا ایک نام پیلیا بھی پیلیا بھی کہتے ہیں بھئی اس کو۔ مجھے یرقان ہو گیا میں انگلینڈ جا رہا ہوں اس کا علاج کروانے، اور وہاں جا کر کہتے ہیں اس نے کوئی شراب وغیرہ پی، اخبارات میں آیا تو اس پر کسی شاعر نے یہ اشعار کہے:
آپ تو جھڑوانے گئے تھے پیلیا انگلینڈ میں
یرقان کا علاج کروانے گئے تھے نا،
آپ تو جھڑوانے گئے تھے پیلیا انگلینڈ میں
پھر دوا کے طور پر کیا پی لیا انگلینڈ میں!
سمجھ میں آیا بھئی؟ پیلیا، پی لیا، دو دفعہ آیا اور یہ مفروق ہو گا مولانا۔
آپ تو جھڑوانے گئے تھے پیلیا انگلینڈ میں
پھر دوا کے طور پر کیا پی لیا انگلینڈ میں!
”وَإِنِ اخْتَلَفَا“ اور اگر دونوں لفظ آپس میں کیا ہوں؟ مختلف ہوں۔ بھئی مختلف ہوں کس چیز کے اندر؟ انواعِ حروف کے اندر یا مختلف ہوں یا ان کی ہیئت کے اندر مختلف ہوں یا عدد کے اندر مختلف ہوں یا ترتیب، وہ جو چار چیزیں ذکر ہوئی تھیں ان چار میں سے کسی ایک کے اندر مختلف ہوں مولانا، دو کے اندر نہیں۔
”وَإِنِ اخْتَلَفَا“ عطفٌ علیٰ قولہ ”وَالتَّامُّ مِنْهُ أَنْ يَتَّفِقَا“، اور تام یہ ہے کہ وہ دونوں متفق ہوں، یہ اس پر عطف ہے، اور اگر وہ دونوں ”وَإِنِ اخْتَلَفَا“ اگر دونوں مختلف ہو جائیں، عطفٌ علیٰ قولہ، یہ عطف ہے متن کے اس قول پر: ”وَالتَّامُّ مِنْهُ أَنْ يَتَّفِقَا“ ”أَوْ عَلَى مَحْذُوفٍ“ یا یہ عطف ہے مولانا محذوف پر، ”أَيْ هَذَا إِنِ اتَّفَقَا فِيمَا ذُكِرَ“ یہ اس وقت ہے جب دونوں متفق ہوں یہ ساری صورتیں، ”وَإِنِ اخْتَلَفَا“ اور اگر مختلف ہوں ”أَيِ اللَّفْظَانِ الْمُتَجَانِسَانِ فِي هَيْئَاتِ الْحُرُوفِ“ دونوں متجانس لفظ کس کے اندر؟ حروف کی ہیئت کے اندر صرف۔
بھئی دیکھیے، ابھی تک کیا پڑھ رہے تھے؟ ہیئت بھی ایک جیسی، ترتیب بھی ایک جیسی، حروف بھی ایک جتنے اور عدد بھی ایک جیسے۔ اب صرف ہیئت میں فرق آئے یعنی حرکتیں ایک جیسی نہ رہیں، باقی چیزوں میں تینوں میں متفق ہیں۔ ”أَيِ اتَّفَقَا فِي النَّوْعِ وَالْعَدَدِ وَالتَّرْتِيبِ“ یعنی متفق ہیں نوع، عدد اور ترتیب میں لیکن ہیئت میں نہیں، ”سُمِّيَ التَّجْنِيسُ مُحَرَّفًا“ تو اس تجنیس کو کیا کہتے ہیں مولانا؟ محرف کہتے ہیں، ”لِانْحِرَافِ إِحْدَى الْهَيْئَتَيْنِ عَنِ الْأُخْرَى“ اس لیے کہ ایک ہیئت نے انحراف کر لیا دوسری سے، سمجھ میں آیا؟
”وَاخْتِلَافُهُمَا قَدْ يَكُونُ بِالْحَرَكَةِ“ اور پھر یہ اختلاف کبھی صرف کس کے اندر ہو گا؟ حرکت کے اندر ہو گا، کبھی حرکت میں ہو گا آگے آئے گا کبھی سکون میں ہو گا۔ دیکھیے بھئی، جیسے کہتے ہیں: ”جُبَّةُ الْبُرْدِ جُنَّةُ الْبَرْدِ“، تو بُرد، بَرد، دو لفظ آئے مولانا، اور سب کچھ ایک جیسے: حروف کی تعداد بھی ایک جیسی، حروف کی انواع بھی ایک جیسی، ان کی ترتیب بھی ایک جیسی، لیکن حرکتیں: پہلے میں با پر ایک میں فتحہ ہے تو دوسرے میں کیا آ رہا ہے؟ ضمہ آ رہا ہے۔ ”جُبَّةُ الْبُرْدِ“، بُرد کہتے ہیں مولانا یہ اوڑھنے کی دھاری دار چادر ہوتی ہے اون کی بنی ہوئی، ”جُبَّةُ الْبُرْدِ“ اون کی بنی ہوئی دھاری دار کا بنا ہوا دھاری دار جبہ، ”جُنَّةُ الْبَرْدِ“ یہ ڈھال ہے کس کی؟ سردی کی۔ ”يَعْنِي لَفْظَيِ الْبُرْدِ وَالْبَرْدِ بِالضَّمِّ وَالْفَتْحِ“ یعنی دو لفظ بُرد اور بَرد جو ہیں ضمے اور فتحے کے ساتھ۔
”وَنَحْوُهُ“ اور اسی طرح ”فِي أَنَّ الِاخْتِلَافَ فِي الْهَيْأَةِ فَقَطْ“ یہ قول بھی ہے مولانا کہ جس میں صرف ہیئت میں اختلاف ہے: ”الْجَاهِلُ إِمَّا مُفْرِطٌ أَوْ مُفَرِّطٌ“، جاہل یا تو مولانا حد سے بڑھنے والا ہوتا ہے یا حد سے کوتاہی کرنے والا ہوتا ہے، مفرِط کا معنی حد سے تجاوز کرنا اور مفرِّط کا معنی کوتاہی کرنا، تو وہ حد سے تجاوز کرنے والا ہو گا یا کوتاہی کرنے والا ہو گا۔
بھئی اس پر اشکال ہوتا ہے: آپ نے کہا تھا کہ بھئی صرف ہیئت بدلنی چاہیے تو کہتے ہیں یہاں صرف ہیئت ہی تو بدلی ہے، مفرِط دیکھو فا ساکن، اور مفرِّط فا پر فتحہ، کہتے ہیں بھئی حروف کی تعداد بھی بڑھ گئی بھئی، ایک میں را مخفف ہے دوسرے میں مشدد ہے، اور مشدد حرف کیا ہوتے ہیں؟ دو ہوتے ہیں، تو یہ تو ایک میں چار ہوئے ایک میں پانچ ہو گئے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس صنعتِ جناس میں یاد رکھو مشدد حرف ایک کے درجے میں ہے، ایک کے قائم مقام ہے، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ زبان ان کو اکٹھا ہی ادا کرتی ہے، کیا کرتی ہے؟ اکٹھا ہی دونوں کو ادا کرتی ہے، ایک ساتھ ادا کر کے اٹھتی ہے وہاں سے۔ آپ کہیں مولانا ”أَبٌّ“، دیکھو ایک با ہے، آپ کہیں ”أَبٌّ“ یا دیکھیں ایک ہی دفعہ میں ہونٹ جدا ہوئے با ادا ہوئی، دونوں با ادا ہوئیں، یا مولانا اور اس کی مثال بنا دیں، مفرِط یا مفرِّط ہی کو بناؤ بھئی: ”مُفْرِطٌ“، ”مُفَرِّطٌ“، بھئی کیا مفرِّط کے اندر زبان را کے مخرج پر لگی اور پھر اٹھی پھر لگی؟ آپ ذرا تلفظ کر کے دیکھیں۔ ایک ہی دفعہ لگے گی اور اٹھے گی دونوں را ادا ہو جائیں گی: ”مُفَرِّطٌ“، ”مُفْرِطٌ“۔ تو ایک جیسے ہوئے یا نہیں دونوں؟ کہ دونوں کے اندر ایک ہی زبان کی حرکت سے دونوں ادا ہوتے ہیں، مشدد ہو تو اس میں بھی ایسا، مخفف ہو تو اس میں بھی ایسا۔
تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْحَرْفَ الْمُشَدَّدَ لَمَّا كَانَ يَرْتَفِعُ اللِّسَانُ عَنْهُمَا دَفْعَةً وَاحِدَةً كَحَرْفٍ وَاحِدٍ عُدَّ حَرْفًا وَاحِدًا“ اس لیے کہ حرفِ مشدد جب اس کے اندر زبان اٹھتی ہے ان دونوں حروف سے دفعة واحدة ایک ہی مرتبہ میں جیسے کہ ایک حرف میں اٹھتی ہے تو ”عُدَّ حَرْفًا وَاحِدًا“ تو اس مشدد کو بھی کیا شمار کیا گیا؟ ایک حرف۔ ”وَجُعِلَ التَّجْنِيسُ مِمَّا لَا اخْتِلَافَ فِيهِ إِلَّا فِي الْهَيْأَةِ فَقَطْ“ اور یہ اس تجنیس میں سے بنایا گیا جس کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے مگر کس کے اندر صرف؟ یعنی تعداد کے اندر فرق نہیں صرف ہیئت کے اندر۔ ”وَلِذَا قَالَ“ اسی لیے مصنف نے فرمایا: ”وَالْحَرْفُ الْمُشَدَّدُ فِي هَذَا الْبَابِ فِي حُكْمِ الْمُخَفَّفِ“ کہ مشدد بھی اس باب کے اندر کس کے حکم میں ہے؟ مخفف کے حکم میں ہے۔
”وَاخْتِلَافُ الْهَيْأَةِ فِي مُفْرِطٍ وَمُفَرِّطٍ بِاعْتِبَارِ أَنَّ الْفَاءَ مِنْ أَحَدِهِمَا سَاكِنٌ وَمِنَ الْآخَرِ مَفْتُوحٌ“، مفرِط اور مفرِّط میں اس اعتبار سے ہیئت میں فرق ہے مولانا کہ فا ایک کے اندر ساکن ہے، مُفْرِط فا ساکن، اور مُفَرِّط فا مفتوح۔
”وَقَدْ يَكُونُ الِاخْتِلَافُ بِالْحَرَكَةِ وَالسُّكُونِ جَمِيعًا“ اور کبھی کبھار اختلاف حرکت اور سکون دونوں کی وجہ سے آتا ہے، ”كَقَوْلِهِمْ: الْبِدْعَةُ شَرَكُ الشِّرْكِ“، بدعت پھندا ہے، جال ہے شرک کا، شرک کس کو کہتے ہیں؟ جال اور پھندے کو۔ تو دیکھو فرق آیا حرکت میں بھی سکون میں بھی: شَرَک اور شِرْک۔ پہلے میں شین پر فتحہ، دوسرے میں شین پر کسرہ، تو حرکت میں بھی اختلاف آیا، اور دوسرے میں را متحرک پہلے میں را ساکن، تو سکون کے اندر بھی کیا آیا؟ اختلاف آیا۔ ”فَإِنَّ الشِّينَ مِنَ الْأَوَّلِ مَفْتُوحٌ وَمِنَ الثَّانِي مَكْسُورٌ“ اس لیے کہ شین اول میں سے کیا ہے؟ مفتوح ہے اور ثانی میں شین کیا ہے؟ مکسور ہے، ”وَالرَّاءُ مِنَ الْأَوَّلِ مَفْتُوحٌ وَمِنَ الثَّانِي سَاكِنٌ“ اور را اول میں مفتوح ہے اور ثانی کے اندر ساکن ہے۔
اردو میں اس کی مثال مولانا جناسِ محرف کی:
گلے سے لگتے ہی جتنے گلے تھے بھول گئے
گلے سے لگتے ہی جتنے گلے تھے بھول گئے
وگرنہ یاد تھیں ہم کو شکایتیں کیا کیا
دیکھو گَلے، گِلے، صرف حرکت میں اختلاف آیا مولانا۔
گلے سے لگتے ہی جتنے گلے تھے بھول گئے
وگرنہ یاد تھیں ہم کو شکایتیں کیا کیا
شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟ سارے ہی اچھی طرح جانتے ہوں گے۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔