Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-040

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 27 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 4
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مسند الیہ کے احوال ہم نے شروع کیے تھے۔ مسند الیہ کے احوال علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا بھئی کہ مسند الیہ کے احوال سے کیا مراد ہیں؟ وہ احوال جو کلمے کو عارض ہوتے ہیں مسند الیہ ہونے کی حیثیت سے۔ تو استعمال کے اعتبار سے جو احوال ہیں مولانا یا مفہوم کے اعتبار سے یا ذات کے اعتبار سے یا مادے وغیرہ کے اعتبار سے ان سے بحث نہیں ہو گی یہاں بلکہ صرف کن احوال سے بحث ہو گی؟ جو اس کو عارض ہیں مسند الیہ ہونے کی حیثیت سے بھئی۔ اور پھر بتلایا تھا کہ مسند الیہ کو مقدم کیا مسند پر کس لیے؟ کہ مسند الیہ کلام کا رکنِ اعظم ہے تو لہٰذا اس کو مسند پر کیا کر دیا؟ مقدم کر دیا۔ اور پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا مصنف نے کہا أَمَّا حَذْفُهٗ فَلِلِاحْتِرَازِ عَنِ الْعَبَثِ کہ مصنف رحمہ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ أَمَّا کے بعد وہ مقتضائے حال ذکر کیا کرتے ہیں اور لامِ تعلیل کے بعد کس کو ذکر کیا کرتے ہیں؟ حال کو ذکر کیا کرتے ہیں۔ تو مثلاً حال ہے احتراز عن العبث؛ مسند الیہ کے ذکر سے عبث لازم آ رہا ہے تو اور اس عبث سے بچنا ہے تو اس حال نے تقاضا کیا کہ مسند الیہ کو کیا کر لیا جائے؟ حذف کر لیا جائے تو یہ مقتضائے حال ہوا حذف بھئی۔ تو حذف کو مقدم کیا تمام احوال پر اس لیے کہ حذف عبارت ہے کس چیز سے؟ نہ لانے سے ذکر نہ کرنا عدم سے اور حادث شے کا عدم اس کے وجود پر کیا ہوتا ہے؟ سابق ہوتا ہے مقدم ہوتا ہے؛ پہلے چیز کا وجود نہیں ہوتا اس کے بعد کیا ہے؟ وجود آتا ہے۔ اور پھر علامہ تفتازانی نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہاں مسند الیہ کی بحث میں أَمَّا حَذْفُهٗ کہا اور مسند کی بحث میں أَمَّا تَرْكُهٗ کہا مصنف نے؛ یہاں پر حَذْفُهٗ اور وہاں تَرْكُهٗ کہنے کی کیا وجہ ہے؟ بتلایا کہ مسند الیہ کلام کا رکنِ اعظم ہے تو اس کو ذکر نہ کیا جائے حذف کیا جائے تو بھی یہ اسی طرح ہے جیسے پہلے اس کو ذکر کیا گیا اور پھر اس کو کیا کر دیا گیا؟ حذف کر دیا گیا۔ جب کہ مسند اس درجے کا نہیں ہے تو وہاں جب اس کو نہیں لایا گیا تو تَرْكُهٗ کہا کہ گویا اس کو سرے سے ہی چھوڑ دیا گیا۔ تو حذف ہو گا پہلے ذکر ہو پھر حذف کیا جائے اور ترک میں سرے سے لائے ہی نہیں بھئی۔ تو یہ حذف کس لیے ہو گا؟ کہتے ہیں بتلایا تھا احتراز عن العبث سے کہ اس کے ذکر سے کیا لازم آ رہا تھا؟ عبث بھئی، عبث لازم آ رہا تھا کیونکہ اس پر قرینہ دلالت کر رہا تھا؛ جب قرینہ اس پر دلالت کر رہا ہے مسند الیہ پر تو مسند الیہ کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو اس کے ذکر سے عبث لازم آتا تھا۔ اس پر اشکال ہوتا تھا کہ بھئی عبث کیسے لازم آ رہا ہے یہ تو آپ نے کہا کلام کا رکنِ اعظم ہے تو رکنِ اعظم کے ذکر سے عبث کیسے لازم آیا؟ کہتے ہیں بِنَاءً عَلَى الظَّاهِرِ بنا بر ظاہر کے؛ بنا بر ظاہرِ حال کے عبث لازم آ رہا ہے ورنہ حقیقت اور نفس الامر کے اعتبار سے تو عبث نہیں وہ تو کیا ہے کلام کا رکن؟ رکنِ اعظم۔ تو احتراز عن العبث کے لیے اس کو حذف کرتے ہیں۔ اور تخییل بتلایا تھا مولانا کہ یا مخاطب کے ذہن میں متکلم یہ بات ڈالنا چاہتا ہے کہ میں عدول کر رہا ہوں اقوی الدلیلین کی طرف؛ دو دلیلیں جو ہیں عقل اور لفظ ان میں سے جو زیادہ قوی ہے اس کی طرف عدول کر رہا ہوں یہ مخاطب کے خیال میں ڈالتا ہے بھئی متکلم۔ اور تو دیکھو ایک دلالت ہے عقل کی ایک دلالت ہے لفظ کی: لفظ اپنی دلالت میں عقل کا محتاج لیکن عقل اپنی دلالت میں لفظ کی محتاج نہیں۔ آپ نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ اب یہ لفظِ زید نے دلالت کی ذاتِ زید پر لیکن کس کے واسطے سے؟ عقل کے واسطے سے اس نے دلالت کی ہے ذاتِ زید پر۔ اور جب کہ عقل محتاج نہیں ہے لفظ کی؛ مثلاً آپ نے زمین پر قدموں کے نشانات دیکھے تو فوراً عقل نے دلالت کر دی اس بات پر کہ یقیناً یہاں سے کوئی گزرا ہے جس کے یہ قدموں کے نشان ہیں، اب یہاں لفظ کوئی نہیں ہے لیکن عقل کیا کر رہی ہے؟ دلالت کر رہی ہے بھئی۔ تو بتلایا تو متکلم مخاطب کے ذہن میں خیال میں یہ بات ڈالنا چاہتا ہے کہ میں دو دلیلوں میں سے کس کی طرف عدول کر رہا ہوں؟ جو زیادہ قوی دلیل ہے یعنی عقل کی دلالت کی طرف میں عدول کر رہا ہوں۔ کہتے ہیں اس لیے کہ جب لفظ ذکر ہو گا تو اعتماد لفظ پر ہو گا بھئی؛ جب میں نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ مسند الیہ کو ذکر کیا تو اعتماد کس پر کیا بھئی؟ لفظ کی دلالت پر کیا۔ اور کہا مِنْ حَيْثُ الظَّاهِرِ یہ جو لفظ کی دلالت پر اعتماد ہے ظاہر کے اعتبار سے ہے ورنہ یہاں پر بھی جو لفظ دلالت کر رہا ہے کس کے واسطے سے کر رہا ہے؟ لفظ بھی جب اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے تو کس کے واسطے سے کرتا ہے؟ عقل کے اعتبار سے۔ جی اور حذف کی صورت میں ہو گی عقل کی دلالت اور عقل کی دلالت قوی ہے کیونکہ لفظ اس کا محتاج ہے۔ اور پھر علامہ تفتازانی نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ مصنف نے تَخْيِيلِ کا لفظ کیوں ذکر کیا بھئی؟ سیدھی طرح یہ کہہ دیتے کہ تاکہ عدول کیا جائے کس کی طرف اقوی الدلیلین کی طرف، تو تَخْيِيلِ خیال میں ڈالتے ہیں متکلم خیال میں ڈالتا ہے یہ کیوں ذکر کیا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ جب آپ حذف کر دیتے ہیں تو اس وقت بھی دلالت لفظ ہی کر رہا ہوتا ہے۔ دلالت کون کر رہا ہوتا ہے؟ مثلاً زید کھڑا ہے بھئی، کسی نے آپ سے پوچھا کیا زید کھڑا ہے هَلْ زَيْدٌ قَائِمٌ؟ آپ نے جواب میں کیا کہا؟ قَائِمٌ، زید کو حذف کر دیا۔ تو یہاں سوال کا قرینہ موجود تھا تو آپ نے کیا کیا؟ حذف کر دیا اور نیز آپ مخاطب کے ذہن میں یہ بات ڈالنا چاہتے ہیں کہ میں دو دلیلوں میں سے کس کی طرف عدول کر رہا ہوں؟ تو یہاں پر عقل نے خود آپ کو بتلا دیا کہ یہاں کون سا لفظ آئے گا بھئی مسند الیہ کون ہے یہاں پر؟ زید ہے، تو عقل نے ذاتِ زید پر دلالت کی لیکن خود کی یا بواسطہ لفظ کے کی؟ بواسطہ لفظ؛ ہاں حذف کی صورت میں بھی عقل جو دلالت کرتی ہے وہ کس کے واسطے سے کرے گی؟ لفظ ہی کے واسطے سے کرے گی بھئی۔ جیسے قَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ قُلْتُ عَلِيلُ تو اصل میں کہنا چاہیے تھا أَنَا عَلِيلٌ لیکن أَنَا عَلِيلٌ نہیں کہا۔ يَرْحَمُكَ اللّٰهُ۔ ہاں أَنَا عَلِيلٌ نہیں کہا مسند الیہ أَنَا کو حذف کر دیا انہی دو وجوہات کی بنا پر: ایک تو اس لیے کہ جب سوال کرنے والے نے مخاطب کا حال پوچھا ہے تو وہ اپنا ہی حال بیان کر رہا ہے تو اسے پتہ ہے یہ عَلِيلٌ کس کے لیے خبر بنے گا؟ جی وہ اپنا حال بیان کر رہا ہے تو یہاں کون سی ضمیر آئے گی؟ أَنَا، مسند الیہ أَنَا ہی ہے۔ تو اب جب قرینہ وہاں پر موجود تھا تو اب اس کا ذکر کرنا کیا تھا؟ عبث تھا، تو عبث سے بچنے کے لیے اس کو کیا کر دیا؟ حذف کر دیا۔ نیز مخاطب کے ذہن میں یہ بات ڈالنے کے لیے کہ میں عدول کر رہا ہوں کس کی طرف؟ دو دلیلوں میں سے زیادہ قوی، اس لیے کہ اگر میں أَنَا کہتا تو میرا اعتماد لفظ کی دلالت پہ ہوتا لیکن میں نے لفظ حذف کیا اب میں نے اعتماد کس پر کیا؟ عقل کی دلالت پر۔ أَوِ اخْتِبَارِ تَنَبُّهِ السَّامِعِ عِنْدَ الْقَرِينَةِ یا مولانا سامع کی سمجھ کو جانچنے کے لیے قرینے کے وقت؛ کوئی قرینہ جب موجود ہے دلالت کر رہا ہے تو اب کیا کیا جاتا ہے مسند الیہ کو حذف کر لیا جاتا ہے کہ آپ امتحان لینا چاہتے ہیں کہ مخاطب سمجھدار ہے یا نہیں وہ سمجھتا ہے یا نہیں۔ أَوِ اخْتِبَارِ مِقْدَارِ تَنَبُّهِهٖ یا اس کے سمجھ کی مقدار کو جانچنے کے لیے اور اس کا امتحان لینے کے لیے کہ یہ کتنا سمجھدار ہے؛ قرائنِ ظاہرہ سے ہی بات سمجھتا ہے یا قرائنِ خفیہ کے ساتھ بھی کیا کر لیتا ہے بات کو سمجھ لیتا ہے تو وہاں حذف کرتے ہیں بھئی۔ جیسے میں نے وہ واقعہ سنایا تھا خلیفہ نے پوچھا تھا ایک سال پہلے کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے کھانے میں تو اس نے کیا کہا ابلے ہوئے انڈے اور پھر سال کے بعد پوچھا کہ کس چیز کے ساتھ تو اس نے فوراً کیا جواب دیا نمک کے ساتھ۔ تو دیکھو یہاں قرینہ کتنا خفی تھا لیکن پھر بھی وہ اتنا سمجھدار تھا کہ اس قرینہ خفیہ کو بھی اس نے کیا کیا اس کے ذریعے بھی مسند الیہ کو جان لیا بھئی۔ أَوْ إِيهَامِ صَوْنِهٖ أَيِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ عَنْ لِّسَانِكَ یا آپ مخاطب کے ذہن میں یہ وہم ڈالنا چاہتے ہیں کہ آپ مسند الیہ کو اپنی زبان سے بچانا چاہتے ہیں تَعْظِيمًا لَّهٗ اس کی تعظیم کرتے ہوئے۔ تو اس کی تعظیم تو دیکھو جیسے آپ نے کہا خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ، اب کہنا کیا چاہیے تھا اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ لیکن لفظِ اللہ مسند الیہ کو حذف کر دیا؛ آپ بتلانا چاہتے ہیں مخاطب کو کہ یہ نام بڑا مبارک اور بڑا پیارا ہے اس ذات کا نام ہے جو محبوبِ اعظم ہے اور یہ جو زبان ہے بڑی پلید ہے تو میں اس نام کو اپنی زبان سے بچاتا ہوں اور اس کو ذکر نہیں کرتا۔ أَوْ عَكْسِهٖ یا اس کا عکس ہوتا ہے کبھی أَيْ إِيهَامِ صَوْنِ لِسَانِكَ عَنْهُ تَحْقِيرًا لَّهٗ کہ آپ اپنی زبان کو مسند الیہ کے ذکر سے بچانا چاہتے ہیں اس کی تحقیر کرتے ہوئے بھئی اس کی تحقیر کے لیے۔ مثلاً آپ کہنا چاہتے تھے اَلشَّيْطَانُ رَجِيمٌ لیکن آپ نے صرف کیا کہا رَجِيمٌ، بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ نام اتنا برا ہے کہ میں اس کو اپنی زبان پر بھی نہیں لانا چاہتا۔ أَوْ تَأَتِّي الْإِنْكَارِ أَيْ تَيَسُّرِهٖ یا انکار کو آسان بنانے کے لیے لَدَى الْحَاجَةِ حاجت کے وقت بھئی تاکہ انکار کرنا آسان ہو جائے حاجت کے وقت۔ نَحْوُ فَاجِرٌ فَاسِقٌ عِنْدَ قِيَامِ الْقَرِينَةِ عَلٰى أَنَّ الْمُرَادَ زَيْدٌ جیسے آپ کہتے ہیں مولانا فاجر فاسق بھئی جب کہ مثلاً آپ کا زید سے جھگڑا ہے اور وہاں پر تو اب آپ زَيْدٌ فَاجِرٌ فَاسِقٌ کہیں گے زید بھی سامنے موجود ہے تو پھر جھگڑا ہو گا، تو اب آپ صرف کیا کہتے ہیں فَاجِرٌ فَاسِقٌ۔ اب زید اگر آپ سے لڑنا بھی چاہے گا آپ فوراً کیا کہیں گے بھئی میں نے تو آپ کا ارادہ نہیں کیا مسند الیہ یہاں آپ نہیں ہیں بلکہ یہاں میں کسی اور کی بات کر رہا ہوں۔ لِيَتَأَتّٰى لَكَ تاکہ آسان ہو جائے آپ کے لیے أَنْ تَقُولَ یہ کہنا مَا أَرَدْتُ زَيْدًا میں نے تو زید کا ارادہ نہیں کیا بَلْ غَيْرَهٗ بلکہ غیرِ زید کا ارادہ کیا ہے۔ أَوْ تَعَيُّنِهٖ یا مولانا مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے اس لیے کہ وہ متعین ہوتا ہے۔ وہ کیا ہوتا ہے؟ متعین۔ یہاں پر آگے علامہ تفتازانی بتلائیں گے کہ یہ تعین کو ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا اس لیے کہ جب مسند الیہ متعین ہے تو اس کے ذکر سے عبث لازم آئے گا؛ جب متعین ہے تو پھر تو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تو اس کا ذکر کرنا کیا ہوا؟ عبث ہوا، تو جب عبث کہہ دیا تھا تو اس کو دوبارہ لانے کی تَعَيُّنِهٖ کہنے کی دوبارہ ضرورت نہیں۔ تو بتلائیں گے کہ بھئی یہاں اس کو لے کر آئے ہیں دو وجہ سے: ایک تو اس لیے کہ اس کے لیے جو مثال ذکر کی جاتی ہے وہاں پر عبث کہنا سوءِ ادب ہے بھئی بے ادبی ہے۔ اس کے لیے علماء کیا مثال ذکر کرتے ہیں بھئی؟ وہی مثال بنا لیں مثلاً خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ یا خَالِقٌ لِّمَا يَشَاءُ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ پیدا کرنے والے ہیں جو چاہیں اور کرنے والے ہیں جو ارادہ کریں کون؟ اللہ تعالیٰ۔ تو اصل میں ہے اَللّٰهُ خَالِقٌ لِّمَا يَشَاءُ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ تو لفظِ اللہ کو حذف کر دیا، اب یہاں پر مسند الیہ متعین تھا اس لیے حذف کر دیا۔ تو اب یہاں جب مسند الیہ متعین ہو تو اس کا ذکر کرنا کیا ہوتا ہے؟ عبث ہوتا ہے لیکن یہاں پر ہم یہ کہیں بھئی کہ اللہ کے نام کو اس لیے حذف کیا کہ اس سے کیا لازم آ رہا تھا عبث یہ تو بے ادبی ہے بھئی یہ تو درست نہیں، تو اس لیے تعین کو الگ ذکر کیا۔ اور نیز آگے ادعائے تعین آ رہا ہے بھئی تو اس کے لیے تمہید کے طور پر بھی اس تعین کو ذکر کیا تو دو وجہ سے بھئی۔ وَالظَّاهِرُ أَنَّ ذِكْرَ الِاحْتِرَازِ عَنِ الْعَبَثِ يُغْنِي عَنْ ذٰلِكَ اور ظاہر یہ ہے کہ جو مصنف نے احتراز عن العبث کو ذکر کیا تھا يُغْنِي عَنْ ذٰلِكَ یہ تَعَيُّنِهٖ سے کیا کر دیتا ہے یہ تعین کو جو نکتہ ذکر کیا بھئی اس سے کیا کر دیتا ہے بے پرواہ کر دیتا ہے مستغنی کر دیتا ہے اس کو ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا لٰكِنْ ذَكَرَهٗ لِأَمْرَيْنِ لیکن مصنف نے اس کو کس لیے ذکر کیا ہے؟ دو وجہ سے: أَحَدُهُمَا الِاحْتِرَازُ عَنْ سُوءِ الْأَدَبِ ایک یہ کہ بے ادبی سے بچنے کے لیے فِيمَا ذَكَرُوا لَهٗ مِنَ الْمِثَالِ اس میں جو ذکر کی جاتی ہے اس کے لیے تعین کے لیے جو مثال ذکر کی جاتی ہے اور وہ کیا ہے خَالِقٌ لِّمَا يَشَاءُ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ تو یہاں أَيِ اللّٰهُ تَعَالٰى اللہ تعالیٰ کا نام جو ہے وہ مسند الیہ تھا اس کو کیا کر دیا؟ جی حذف کر دیا، تو یہاں پر یہ کہنا کہ بھئی احتراز عن العبث عبث سے بچنے کے لیے مسند الیہ کو حذف کیا یہ تو کیا ہے بڑی ہی بے ادبی والی بات ہے تو لہٰذا اس کے لیے کیا ذکر کر دیا؟ تَعَيُّنِهٖ الگ ذکر کیا کہ متعین ہونے کی وجہ سے اس کو کیا کر دیا ہے؟ حذف۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اَلثَّانِي التَّوطِئَةُ وَالتَّمْهِيدُ لِقَوْلِهٖ دوسری وجہ یہ تعین کو ذکر کرنے کے لیے کہ یہ توطیہ اور تمہید ہے۔ توطیہ اور تمہید کا ایک معنی بھئی۔ تمہید ہے لِقَوْلِهٖ کس کے لیے؟ أَوِ ادِّعَاءِ التَّعَيُّنِ ادعائے تعین کے لیے یہ کیا ہے؟ تمہید، تو آگے ادعائے تعین آ رہا تھا تو اس کے لیے پہلے کیا ذکر کر دیا؟ تعین کو بھی ذکر کر دیا بھئی۔ اور أَوِ ادِّعَاءِ التَّعَيُّنِ ہونا چاہیے أَوِ ادِّعَائِهِ التَّعَيُّنَ نہیں بھئی۔ أَوِ ادِّعَاءِ التَّعَيُّنِ یا تعین کا دعویٰ کرنے کے لیے نَحْوُ وَهَّابُ الْأُلُوفِ أَيِ السُّلْطَانُ۔ ایک شخص کہتا ہے وَهَّابُ الْأُلُوفِ ہبہ کرنے والے ہیں عطا کرنے والے ہیں ہزارہا روپے ہبہ کرنے والے کون ہے بھئی؟ اَلسُّلْطَانُ بادشاہ ہے۔ تو کلام اصل میں یوں تھا اَلسُّلْطَانُ وَهَّابُ الْأُلُوفِ؛ سلطان مسند الیہ تھا وَهَّابُ الْأُلُوفِ کیا ہے؟ مسند، تو مسند وَهَّابُ الْأُلُوفِ کو ذکر کیا اور مسند الیہ اَلسُّلْطَانُ کو کیا کر دیا؟ حذف کر دیا کیونکہ متکلم کا یہ دعویٰ ہے کہ اس مسند کے لیے یہی مسند الیہ متعین ہے؛ ہزاروں روپے دینے والا صرف کون؟ بادشاہ ہے، اگرچہ مولانا اور کوئی بھی دے سکتا ہے ہزاروں روپے لیکن اس کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ کون دے سکتا ہے صرف بادشاہ تو وہی متعین ہے اس کے لیے، تو یہ دعویٰ تعین ہوا حقیقت میں متعین نہیں۔ أَوْ نَحْوِ ذٰلِكَ یا اس جیسے اور نکتے ہوں گے بھئی۔ دیکھا مصنف نے کئی نکتے بیان کیے کہ حذف اس لیے کیا جاتا ہے یا اس لیے یا اس لیے بہت سے نکتے ذکر کر دیے اور آخر میں کہہ دیا اس جیسے اور، بتلایا یہاں حصر نہیں ہے بھئی کیونکہ بہت زیادہ نکات ہو سکتے ہیں، نکات بہت زیادہ ہیں چند ایک میں نے ذکر کر دیے باقی آپ خود غور کر کے ہر مقام کے مطابق نکالیں۔ چند ایک اب علامہ تفتازانی آپ کو بتلائیں گے دیکھیے علامہ تفتازانی کہتے ہیں كَضِيقِ الْمَقَامِ عَنْ إِطَالَةِ الْكَلَامِ بِسَبَبِ ضَجَرٍ أَوْ سَآمَةٍ جیسے کہ مقام کا تنگ ہونا کلام کے لمبا کرنے سے بِسَبَبِ ضَجَرٍ؛ ضَجَرٌ کہتے ہیں تنگ آنا پریشان ہونا، سَآمَةٌ کا معنی بھی اکتانا اور اداس ہونا بھئی۔ تو کبھی کبھی مسند الیہ کو مولانا حذف کیا جاتا ہے کس لیے؟ ضیق المقام مقام کے تنگ ہونے کی وجہ سے عَنْ إِطَالَةِ الْكَلَامِ کلام کے لمبا کرنے سے؛ کلام کے لمبا کرنے سے مقام تنگ ہوتا ہے بِسَبَبِ ضَجَرٍ کس وجہ سے؟ پریشانی اور تنگی کی وجہ سے وَسَآمَةٍ اور اداسی کی وجہ سے۔ ایک شخص اداس ہے بھئی، جو شخص اداس ہو گا تنگ دل ہو گا وہ لمبی بات نہیں کرنا چاہے گا وہ کیا چاہے گا کہ میں کم سے کم بات کروں، بولنے کو اس کا دل ہی نہیں چاہے گا جب کہ انسان خوش ہو تو پھر کیا کرے گا لمبا کلام۔ تو ایک شخص تنگ ہے پریشان ہے جیسے اوپر والے شعر کے اندر شاعر سے اس نے کہا كَيْفَ أَنْتَ قُلْتُ عَلِيلُ اس نے کیا کہا؟ عَلِيلُ کیونکہ وہ بیمار ہے پریشان ہے اداس ہے تو بات مختصر کی أَنَا عَلِيلٌ نہیں کہا صرف کیا کہہ دیا؟ عَلِيلُ۔ أَوْ فَوَاتِ فُرْصَةٍ یا فرصت کے فوت ہو جانے کی وجہ سے؛ کبھی کبھار فرصت فوت ہو جانے کا خوف ہوتا ہے تو اس صورت میں بھی کیا کر دیا جاتا ہے مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے۔ مثلاً آپ اپنے ساتھی کے ساتھ شکار کے لیے گئے وہاں پر ہرن نظر آیا تو آپ فوراً کیا کہیں گے؟ ہرن ہے، غَزَالٌ کیا کہیں گے؟ غَزَالٌ تاکہ وہ فوراً نشانہ لگائے؛ مسند الیہ کو حذف کر دیا وہ ہرن ہے وہ نہیں کہا کیونکہ وقت اتنا تھوڑا ہے کہ اگر آپ ایک جملہ بھی کہتے ہیں تب تک ہرن کیا ہو جائے گا؟ نکل جائے گا بھئی۔ أَوْ مُحَافَظَةٍ عَلٰى وَزْنٍ أَوْ سَجْعٍ أَوْ قَافِيَةٍ یا مولانا وزن پر محافظت کے لیے بھئی؛ اگر آپ مسند الیہ کو ذکر کر دیں تو وزن صحیح نہیں رہتا تو آپ مسند الیہ کو حذف کر دیتے ہیں تاکہ وزن کیا ہے؟ صحیح رہ جائے برقرار رہے جیسے اوپر شعر کے اندر قُلْتُ عَلِيلُ کہا، قُلْتُ أَنَا عَلِيلُ کہہ دیتے تو پھر شعر کا وزن صحیح نہ رہتا تو اس لیے حذف کر دیا۔ أَوْ سَجْعٍ أَوْ قَافِيَةٍ یا مولانا کبھی مسند الیہ کو اس لیے حذف کر دیا جاتا ہے کس لیے؟ محافظت علی السجع کے لیے یا محافظت علی القافیہ۔ سجع کہتے ہیں مولانا یہ ہوتی ہے نثر میں اور قافیہ ہوتا ہے نظم کے اندر بھئی؛ سجع کہتے ہیں ایک جیسے حروف پر جملوں کو کیا کرنا ختم کرنا بھئی اور قافیہ اشعار میں، اشعار میں بھی آپ دیکھتے ہیں اشعار کو کیا کرتے ہیں ایک جیسے حروف پر ختم کرتے ہیں۔ تو سجع ہے نثر میں اور قافیہ ہے نظم میں، تو اب آپ مسند الیہ کو ذکر کر دیں تو پھر رعایتِ سجع نہ ہو سکے گی یا رعایتِ قافیہ نہ ہو سکے گی تو اس لیے حذف کرتے ہیں۔ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذٰلِكَ یا اس کے مشابہ اور چیزوں کی وجہ سے كَقَوْلِ الصَّيَّادِ غَزَالٌ۔ سمجھ میں آیا؟ جی مثال ذکر کر دی فَوَاتِ فُرْصَةٍ کی جیسے کہ شکاری کا کہنا غَزَالٌ ہرن ہے أَيْ هٰذَا غَزَالٌ یہ ہرن ہے، تو هٰذَا کو حذف کیا فرصت کے فوت ہو جانے کے خوف سے۔ وَكَالْإِخْفَاءِ عَنْ غَيْرِ السَّامِعِ مِنَ الْحَاضِرِينَ مِثْلُ جَاءَ یا مولانا مثال کے طور پر چھپانا چاہتے ہیں سامع کے علاوہ مِنَ الْحَاضِرِينَ حاضرین سے؛ سامع کے علاوہ جو حاضرین ہیں ان سے آپ مسند الیہ کو چھپانا چاہتے ہیں اس لیے اس کو ذکر ہی نہیں کرتے۔ مثلاً آپ میں اور بکر کے درمیان زید کی باتیں چل رہی تھیں بھئی تو اب اس کے لیے قرینہ ہے موجود ہے، کمرے میں اور بہت سے ساتھی آئے ان میں زید بھی آیا تو اب آپ کیا کہتے ہیں اس کو؟ جَاءَ آ گیا؛ جَاءَ زَيْدٌ نہیں کہتے اس لیے کہ جَاءَ زَيْدٌ کہیں گے تو پھر تو باقیوں کو بھی پتہ چل جائے گا، تو آپ سامع کے علاوہ جو باقی حاضرین ہیں ان سے چھپانا چاہتے ہیں تو مسند الیہ کو حذف کرتے ہیں اور صرف کیا کہتے ہیں؟ جَاءَ آ گیا ہے، تو وہ جو سننے والا ہے وہ سمجھ جائے گا کہ ابھی بات کس کی چل رہی تھی میرے ساتھ؟ زید کی چل رہی تھی تو کون ہے مسند الیہ کون ہے؟ زید ہے۔ وَكِاتِّبَاعِ الِاسْتِعْمَالِ الْوَارِدِ عَلٰى تَرْكِهٖ یا جیسے کہ مولانا اتباع کرتے ہوئے استعمال کا وہ استعمال جو وارد ہوا ہے اس کے ترک پر بھئی مثلاً رَمْيَةٌ مِّنْ غَيْرِ رَامٍ۔ رَمْيَةٌ مِّنْ غَيْرِ رَامٍ یہ مولانا ضرب المثل ہے اور ضرب المثل میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی اور یہ بغیر مسند الیہ کے ذکر ہوا ہے تو آپ بھی اتباع کرتے ہیں اس کے اندر اور اس کو بغیر مسند الیہ کے ذکر کرتے ہیں۔ یہ اصل میں ایک شخص تھا مولانا حکم بھئی حکم نام کا حکم ابن عبد یغوث بھئی تو یہ ایک بڑا ماہر شکاری تھا بڑا زبردست اس کا نشانہ تھا بہت، تو ایک مرتبہ اس نے منت مانی کسی بات پر کہ اگر یہ بات ہوئی تو میں پھر فلاں پہاڑ پر جا کر کیا کروں گا؟ نیل گائے کی میں قربانی کروں گا بھئی۔ تو اب اس کے بعد جب وہ کام ہوا وہ نیل گائے کے شکار کے لیے نکلا کہ میں اپنی منت کو پورا کروں تو کہتے ہیں دو تین دن گزر گئے وہ جتنے نشانے لگاتا ہے مولانا کوئی ایک بھی نشانے پر نہیں لگتا اور ہر مرتبہ نیل گائے جو ہے وہ اس سے بچ کر نکل جاتی ہے۔ تو وہ اتنا تنگ ہوا کہتے ہیں اتنا تنگ ہوا کہ قریب تھا وہ خودکشی کر لیتا اپنے آپ کو مار دیتا کہ اس طرح تو میرے ساتھ کبھی نہیں ہوا میرا نشانہ تو کبھی خطا نہیں گیا اور اب اتنے دن گزر گئے ہیں کہ ایک نشانہ بھی نہیں لگ رہا۔ تو ایک دن پھر اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ گیا، نیل گائے نظر آئی اس نے تیر چلایا خطا ہو گیا اس کے بیٹے نے تیر چلایا وہ سیدھا لگ گیا بھئی۔ تو اس نے کیا کہا؟ رَمْيَةٌ مِّنْ غَيْرِ رَامٍ یہ تو نشانہ صحیح لگنا ہے ایسے شخص کی طرف سے جس کا کبھی نشانہ صحیح نہیں لگا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس کے بیٹے کا تو اتنا اچھا نشانہ نہیں تھا اور اس نے صحیح لگا دیا نشانہ تو کیا کہا یہ تو درست نشانہ لگانا ہے کس کی طرف سے؟ ایسے شخص کی طرف سے جو درست نشانہ نہیں لگاتا۔ تو اصل کلام یوں ہے مولانا هٰذِهٖ رَمْيَةٌ مُّصِيبَةٌ یہ ایسا پھینکنا ہے تیر چلانا ہے مُّصِيبَةٌ جو نشانے پر لگنے والا ہے پہنچنے والا ہے مِنْ غَيْرِ رَامٍ أَيْ رَامٍ مُّصِيبٍ؛ رَامٍ پھینکنے والا مُّصِيبٍ جو نشانے پر پہنچے بھئی۔ نشانے پر لگانے والے کے علاوہ؛ مِنْ غَيْرِ رَامٍ نشانے پر لگانے والے کے علاوہ سے، تو هٰذِهٖ رَمْيَةٌ مُّصِيبَةٌ یہ درست نشانے پر لگانا ہے کس کی طرف سے؟ مِنْ غَيْرِ رَامٍ مُّصِيبٍ درست نشانے پر لگانے والے کے علاوہ سے، تو وہ شخص جو درست نشانے پر نہیں لگاتا اس کی طرف سے یہ کیا ہے درست نشانہ لگانا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہاں مولانا اصل میں هٰذِهٖ رَمْيَةٌ تو هٰذِهٖ ضرب المثل ہے یہ اور ضرب المثل میں تبدیلی نہیں کی جاتی، یہ اسی طرح مشہور ہے تو اس نے اسی طرح کہا تھا تو اب استعمال بھی اسی طریقے پر ہے بھئی۔ تو آپ بھی اتباع کرتے ہیں اور استعمال کے مطابق ترک کر دیتے ہیں مسند الیہ کو۔ أَوْ تَرْكِ نَظَائِرِهٖ یا مولانا اس کا استعمال تو وارد نہیں ہوا ترک پر آپ اپنی طرف سے کلام ذکر کرتے ہیں لیکن اس کی جو نظیریں ہیں ان جیسے ہیں ان میں کیا کر دیا جاتا ہے مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے، تو آپ بھی اس کی نظیروں کی طرح اپنے کلام میں بھی مسند الیہ کو کیا کر دیتے ہیں؟ یعنی ضرب المثل وغیرہ تو نہیں ہے آپ اپنی طرف سے کوئی کلام کرتے ہیں لیکن اس جیسے کلام میں اور جو لوگ کرتے ہیں مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے تو آپ بھی اپنے کلام میں مسند الیہ کو کیا کر دیتے ہیں؟ حذف کر دیتے ہیں مِثْلُ الرَّفْعِ عَلَى الْمَدْحِ أَوِ الذَّمِّ أَوِ التَّرَحُّمِ۔ یاد رکھو کبھی کسی کلمے پر رفع پڑھا جاتا ہے مدح کے لیے یا ذم کے لیے یا ترحم کے لیے۔ رفع کس لیے؟ مثلاً آپ پڑھتے ہیں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ بھئی؛ اب یہاں اَلرَّحْمٰنِ اس پر کسرہ پڑھا کیونکہ یہ صفت ہے لفظِ اللہ کے لیے، اَلرَّحِيمِ اس پر کسرہ پڑھا کیونکہ یہ صفتِ ثانی ہے لفظِ اللہ کے لیے، لیکن یہاں پر آپ یوں بھی پڑھ سکتے ہیں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ؛ اَلرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ دونوں پر رفع بھی پڑھ سکتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ رفع کیوں پڑھیں گے؟ یہ رفع مدح کی بنا پر ہو گا کس کی بنا پر؟ مدح، تو کبھی کبھار مدح کی بنا پر رفع پڑھا جاتا ہے تو اصل کلام کیا ہے؟ بِسْمِ اللّٰهِ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ پھر اس هُوَ کے لیے خبر بنے گی، تو مدح کی بنا پر کبھی کیا کر دیتے ہیں بھئی؟ صفت پر رفع پڑھ دیا جاتا ہے مدح کے لیے۔ اور کبھی رفع پڑھا جاتا ہے صفت پر کس کے لیے؟ مذمت کے لیے جیسے أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ؛ شَیْطَانِ مجرور ہے تو اَلرَّجِيمِ اس کی صفت بھی کیا ہے؟ مجرور، لیکن آپ مولانا ذم کی بنا پر یوں بھی پڑھ سکتے ہیں أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمُ تو یہ صفت پر کیا پڑھ دیا آپ نے؟ رفع پڑھ دیا کس لیے؟ ذم کی بنا پر۔ اور کبھی کبھار ترحم کے لیے بھئی رحم طلب کرنے کے لیے بھی کیا کیا جاتا ہے بھئی؟ جی رفع پڑھا جاتا ہے جیسے کوئی شخص کہتا ہے اَللّٰهُمَّ ارْحَمْ عَبْدَكَ الْمِسْكِينُ اے اللہ رحم فرما عَبْدَكَ اپنے بندے پر، آگے اس کی صفت ہے اَلْمِسْكِينَ نصب پڑھنا چاہیے لیکن آپ کیا پڑھتے ہیں؟ اَلْمِسْكِينُ رفع پڑھ دیتے ہیں کس لیے؟ ترحم کے لیے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ تھے حذف کے نکات مولانا۔ وَأَمَّا ذِكْرُهٗ أَيْ ذِكْرُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ فَلِكَوْنِهٖ أَيِ الذِّكْرِ الْأَصْلَ۔ اور باقی جو ذکر کرنا ہے مسند الیہ کا، وَأَمَّا ذِكْرُهٗ ہا ضمیر آئی تھی اس کا مرجع بتلایا أَيْ ذِكْرُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ کہ مسند الیہ کو راجع ہے، فَلِكَوْنِهٖ ہا ضمیر ہے بھئی كَوْنِ کے ساتھ اس کا مرجع بتلا رہے ہیں أَيِ الذِّكْرِ أَيْ فَلِكَوْنِ الذِّكْرِ الْأَصْلَ۔ بھئی ذکر کیا جاتا ہے مسند الیہ کو کہتے ہیں کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے: أَمَّا ذِكْرُهٗ یہ کیا ہے مولانا؟ مقتضائے حال، اور فَلِكَوْنِهِ الْأَصْلَ یہ کیا ہے؟ حال ہے بھئی، اس لیے کہ وہ اصل ہے؛ ذکر کیا ہے؟ اصل ذکر ہے یا حذف ہے ذکر کرنا چاہیے یا حذف کرنا چاہیے؟ اصل تو یہ ہے کہ مسند الیہ کو کیا کیا جائے؟ ذکر کیا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں مسند الیہ کا ذکر چونکہ اصل ہے تو لہٰذا اس کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ ذکر کیا جاتا ہے۔ آگے علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں وَلَا مُقْتَضِيَ لِلْعُدُولِ اور کوئی مقتضی للعدول بھی نہ ہو یعنی اس ذکر سے کوئی پھیرنے والی چیز بھی نہ ہو، اس لیے کہ صرف اصل ہونا یہ نکتہ نہیں بن سکتا ذکر کے لیے۔ اصل کیا ہے؟ اصل ذکر ہے تو یہ نکتہ نہیں بن سکتا کس کے لیے؟ ذکر کے لیے۔ بھئی دیکھو آگے بہت سے نکات ذکر ہو رہے ہیں ذکر کیا جاتا ہے کیوں؟ اظہارِ تعظیم کے لیے کبھی ذکر کرتے ہیں؛ مثلاً ایک شخص کہتا ہے هَلْ جَاءَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ کیا امیر المومنین تشریف لے آئے ہیں؟ آپ جواب میں کہتے ہیں أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ جَاءَ امیر المومنین تشریف لے آئے ہیں، اب کہنا چاہیے تھا آپ کو صرف جَاءَ لیکن آپ نے امیر المومنین کو کیوں ذکر کیا؟ تعظیم کے لیے کس لیے؟ تعظیم کے لیے تعظیم کے اظہار کے لیے۔ تو یہاں پر آگے کئی نکتے ذکر ہوں گے بھئی وہ ذکر کے نکتے بن سکتے ہیں لیکن ذکر اصل ہے یہ ذکر کے لیے نکتہ نہیں بن سکتا کہ ذکر اصل ہے تو بھئی یہ اسی وقت جب جانبِ مخالف کوئی مقتضی موجود نہ ہو؛ ضروری ہے کہ جانبِ مخالف کوئی مقتضی موجود نہ ہو پھر ذکر کریں گے۔ بھئی یہ ذکر تو پھر ہر جگہ اصل ہے؛ پیچھے حذف کے نکتے ہوئے یا نہیں؟ انہوں نے ایک نکتہ کیا کیا؟ ذکر کیوں کرتے ہیں کیونکہ ذکر کرنا اصل ہے، تو پیچھے ہر جگہ حذف جہاں بھی آپ حذف کر رہے ہیں وہاں ذکر اصل تھا یا نہیں؟ وہاں ہر جگہ ذکر اصل ہے تو کیا کرنا چاہیے؟ ذکر کرنا چاہیے کیونکہ اصل ہونے کا ایک نکتہ ذکر کا نکتہ بتایا کہ ذکر کیوں کیا جاتا ہے کہ ذکر کیا ہے؟ اصل ہے، تو پیچھے حذف والی جگہوں میں بھی ہر جگہ کیا تھا ذکر اصل تھا تو اگر یہ نکتہ بنتا تو وہاں بھی اس کو ذکر کرنا چاہیے تھا حذف نہیں کرنا چاہیے تھا۔ تو بتلایا کہ یہ نکتہ بن سکتا ہے لیکن اس وقت جب کہ کوئی جانبِ مخالف کا مقتضی موجود نہ ہو، اور وہاں جانبِ مخالف یعنی حذف کے مقتضی موجود تھے؛ وہاں بھی ذکر اصل تھا لیکن ایک چیز تقاضا کر رہی تھی کہ حذف کر دو کیونکہ ذکر کیا ہے یہاں پر؟ عبث ہے، ایک چیز تقاضا کر رہی تھی کہ اصل تو ذکر ہے لیکن اس کو حذف کر دو کیوں؟ کہ مخاطب کے ذہن میں یہ بات ڈالو کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں؟ عدول کرنا چاہتا ہوں کس کی طرف؟ اقوی الدلیلین کی طرف۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ اس لیے علامہ تفتازانی نے یہ لفظ اس لیے بڑھا دیے وَلَا مُقْتَضِيَ لِلْعُدُولِ کہ اس سے عدول کا بھی کوئی مقتضی کوئی چیز تقاضا بھی نہ کرنے والی ہو کہ اس سے عدول کیا جائے اور حذف کیا جائے، پھر ذکر کریں گے بھئی۔ اگر کوئی اور عدول کا مقتضی موجود ہو پھر حذف کیا جائے گا اس کو بھئی۔ وَلَا مُقْتَضِيَ لِلْعُدُولِ عَنْهُ اور اس سے عدول کا کوئی مقتضی بھی نہیں۔ أَوِ الِاحْتِيَاطِ لِضَعْفِ التَّعْوِيلِ أَيِ الِاعْتِمَادِ؛ تَعْوِيلٌ کا کیا معنی؟ اعتماد عَلَى الْقَرِينَةِ۔ یا مولانا کہ قرینے پر اعتماد کمزور ہے تو احتیاط کے لیے آپ کیا کرتے ہیں؟ مسند الیہ کو ذکر کرتے ہیں۔ بھئی قرینہ تو ہے لیکن قرینہ بڑا خفی یا کمزور ہے تو اب آپ احتیاطاً کیا کرتے ہیں؟ احتیاط کی وجہ سے ذکر کر دیتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو سننے والے کو مسند الیہ کا پتہ نہ چلے۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً آپ اپنے ساتھی سے باتیں کر رہے ہیں زید کے بارے میں اور زید کے بارے میں باتیں کرتے کرتے درمیان میں اب کوئی بات عمرو اور بکر کی بھی آ گئی اور پھر زید آیا تو اب آپ کیا کہیں گے؟ جَاءَ کہیں تو ہو سکتا ہے اس کو بات سمجھ میں نہ آئے تو احتیاطاً آپ کیا کرتے ہیں؟ جَاءَ زَيْدٌ کہہ دیتے ہیں کیونکہ قرینہ کمزور ہو گیا تھا بھئی یا خفی ہو گیا۔ أَوِ التَّنْبِيهِ عَلٰى غَبَاوَةِ السَّامِعِ یا مولانا آپ مسند الیہ کو ذکر کرتے ہیں تاکہ غباوتِ سامع پر کیا کر دیں؟ تنبیہ کر دیں حاضرین کو۔ بھئی آپ سے پوچھتا ہے آپ کا ساتھی کہ زید نے کیا کہا یا زید آ گیا ہے یا کچھ، آپ جواب میں بھی کہتے ہیں مثلاً اس نے کہا زید نے کیا کہا آپ کہتے ہیں زید نے کہا تھا یہ کام کر لینا۔ اب یہ آپ نے دوبارہ زید مسند الیہ کو کیوں ذکر کیا؟ آپ سننے والوں کو بتانا چاہتے ہیں دوسروں کو کہ یہ اتنا غبی ہے کہ میں نے زید کو ذکر نہ کیا تو اتنا غبی ہے کہ پھر اس کو بات سمجھ میں نہیں آئے گی بھئی، تو غباوت بتلانے کے لیے۔ أَوِ التَّنْبِيهِ عَلٰى غَبَاوَةِ السَّامِعِ یا تنبیہ کرنے کے لیے سامع کی غباوت پر۔ أَوْ زِيَادَةِ الْإِيضَاحِ وَالتَّقْرِيرِ یا مولانا زیادہ وضاحت کرنے کے لیے وَالتَّقْرِيرِ؛ تَقْرِيرٌ کا معنی پختہ کرنا یا پختہ کرنے کے لیے یعنی آپ مسند الیہ کو بھئی حذف کرنا چاہیے لیکن آپ کیا کرتے ہیں زیادہ وضاحت کے لیے مسند الیہ کو ذکر کر دیتے ہیں اور اس کو مخاطب کے ذہن میں جمانے کے لیے بھئی مخاطب کے ذہن میں پختہ کرنے کے لیے اس کو ذکر کرتے ہیں۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ وَعَلَيْهِ قَوْلُهٗ تَعَالٰى اور اسی پر اللہ کا یہ قول ہے أُولٰئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَأُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ؛ أُولٰئِكَ وہ لوگ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ ہدایت پر ہیں اپنے رب کی طرف سے وَأُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ تو دیکھو یہاں محلِ استشہاد ہے یہ أُولٰئِكَ ثانی؛ یہ جو دوسرا أُولٰئِكَ آ رہا ہے یہ مولانا اس کو ذکر کیا گیا زیادتِ ایضاح اور تقریر کے لیے بھئی؛ زیادہ وضاحت کے لیے ذکر کیا گیا اور تقریر کے لیے یعنی سننے والے کے ذہن میں بات کو پختہ کرنے کے لیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب یہاں علامہ تفتازانی نے کہا وَعَلَيْهِ قَوْلُهٗ تَعَالٰى یہ نہیں کہا كَقَوْلِهٖ تَعَالٰى جیسے کہ اللہ کا یہ قول ہے، تو عَلَيْهِ کہا کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اگر یہاں سے أُولٰئِكَ کو حذف کر دیا جائے تو پھر بھی اس صورت میں بھی مسند الیہ محذوف نہیں ہو گا؛ یہاں اور بھی ترکیبیں ہو سکتی ہیں بھئی۔ ہاں یہ کون سا مقام چل رہا ہے بھئی؟ جہاں مسند الیہ کو کیا کیا جاتا ہے ذکر، تو أُولٰئِكَ کو ذکر کیا یہ مسند الیہ ہے، تو اس کو اگر ذکر نہ بھی کیا جائے تو بھی مسند الیہ کا حذف یہاں پر لازم نہیں آتا؛ اور ترکیبیں ہو سکتی ہیں کہ پھر بھی مسند الیہ عبارت میں ذکر ہو گا۔ کیسے؟ دیکھو أُولٰئِكَ ثانی کو ذرا حذف کر دو؛ أُولٰئِكَ پہلا بن گیا مسند الیہ مبتدا اور عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ یہ ہے اس کی خبر اور یہ معطوف علیہ بن جائے گی اور وَهُمُ الْمُفْلِحُونَ یہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ عطف، تو أُولٰئِكَ جیسے عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ کے لیے مبتدا ہے هُمُ الْمُفْلِحُونَ کے لیے بھی کیا بن جائے گا؟ مبتدا بن جائے گا، تو دیکھو وہ ثانی أُولٰئِكَ نہ آیا پھر بھی مسند الیہ حذف نہیں بلکہ پہلا ہی اس کے لیے کیا بن گیا؟ مسند الیہ بن گیا۔ بات سمجھ میں آئی؟ یا مولانا اس صورت میں پھر عطف لازم آئے گا بھئی هُمُ الْمُفْلِحُونَ کا عطف کس پر کیا؟ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ پر تو یہ جزوِ جملہ ہوا، اور یا مولانا پھر هُمُ الْمُفْلِحُونَ کا عطف پورے جملے پر کر دو أُولٰئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ پر کیسے؟ کہ هُمْ کو مبتدا بنا لو اور اَلْمُفْلِحُونَ کو اس کی کیا بنا لو؟ خبر بنا لو، تو دیکھو أُولٰئِكَ کو نہ لایا جائے پھر بھی مسند اور مسند الیہ دونوں کیا ہیں عبارت میں مذکور ہیں بھئی، اسی لیے کہا عَلَيْهِ قَوْلُهٗ تَعَالٰى۔ أَوْ إِظْهَارِ تَعْظِيمِهٖ یا مولانا مسند الیہ کی تعظیم کے اظہار کے لیے اس کو کبھی کیا کیا جاتا ہے؟ ذکر لِكَوْنِ اسْمِهٖ مِمَّا يَدُلُّ عَلَى التَّعْظِيمِ اس لیے کہ اس کا اسم ان اسما میں سے ہے جو کس پر دلالت کرتے ہیں؟ تعظیم پر، جیسے ایک شخص نے آپ سے پوچھا هَلْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ حَاضِرٌ کیا امیر المومنین حاضر ہیں؟ آپ جواب میں کہتے ہیں أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ حَاضِرٌ امیر المومنین کیا ہیں؟ حاضر۔ بھئی اب تو آپ کو صرف حَاضِرٌ کہنا چاہیے تھا قرینہ موجود تھا اس کو حذف کر دیتے لیکن یہ نام چونکہ کس پر دلالت کر رہا ہے تعظیم پر دلالت کر رہا ہے تو اپنی تعظیم کو ظاہر کرنے کے لیے آپ نے اس کو ذکر کر دیا۔ أَوْ إِهَانَتِهٖ یا مولانا کبھی ذکر کیا جاتا ہے اس کے عکس میں اہانت کے لیے ذکر کیا جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے آپ مولانا قاضی بن گئے بھئی، اب آپ کے پاس مقدمات پیش ہو رہے ہیں بھئی تو آج کل یہ جو چور اور ڈاکو ہمارے اوپر مسلط ہیں ان کے بارے میں آپ کہتے ہیں بھئی ان چوروں ڈاکوؤں کو حاضر کیا جائے، تو جب ان کو آپ کے سامنے لایا گیا تو آپ نے کہا کیا چور اور ڈاکو حاضر ہو گئے؟ تو کیا کہنا چاہیے؟ حاضر ہیں، لیکن کہنے والا کیا کہتا ہے کہ چور اور ڈاکو حاضر ہیں؛ مسند الیہ کو بھی ساتھ کیا کر دیتا ہے؟ ذکر کر دیتا ہے کس لیے؟ ان کی اہانت کرنے کے لیے اہانت کا اظہار کرنے کے لیے۔ نَحْوُ السَّارِقُ اللَّئِيمُ حَاضِرٌ؛ لَئِيمٌ کا معنی کمینہ بھئی، وہ چور جو کمینہ ہے حَاضِرٌ حاضر ہے۔ أَوِ التَّبَرُّكِ بِذِكْرِهٖ یا مولانا برکت حاصل کرنے کے لیے اس کے ذکر سے مسند الیہ کو کبھی ذکر کیا جاتا ہے جیسے کسی شخص نے آپ سے پوچھا هَلْ قَالَ مثال نیچے لکھی ہوئی ہے کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے؟ جی کیا عربی عبارت ہے؟ هَلْ قَالَ هٰذَا الْقَوْلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا یہ قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے؟ تو آپ کیا کہتے ہیں؟ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلُ هٰذَا الْقَوْلِ۔ هَلْ قَائِلُ ہونا چاہیے چلیں قَالَ بھی ٹھیک ہے؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قول کے قائل ہیں۔ تو دیکھو یہاں تو صرف کیا ہونا چاہیے مسند الیہ کے بارے میں سوال میں آ چکا اس کو دوبارہ ذکر کرنے کی حاجت نہیں لیکن کس لیے ذکر کیا؟ کہ یہ نام بڑا مبارک ہے تو اس سے برکت حاصل کرنے کے لیے اس کو ذکر کر دیا بھئی۔ أَوِ اسْتِلْذَاذِهٖ یا مولانا اس سے لذت حاصل کرنے کے لیے اس کو لذیذ پانے کی وجہ سے کبھی کبھار مسند الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے مثال کے طور پر اَلْحَبِيبُ حَاضِرٌ، تو یہاں حبیب کا نام آ گیا بھئی۔ أَوْ بَسْطِ الْكَلَامِ حَيْثُ الْإِصْغَاءُ مَطْلُوبٌ یا مولانا کلام کو پھیلانے کے لیے اس حیثیت سے کہ توجہ مطلوب ہے۔ بھئی بعض اوقات سامع کی توجہ مطلوب ہوتی ہے متکلم کو؛ سامع بڑا باعظمت ہوتا ہے معزز ہوتا ہے اور اس کی توجہ مطلوب ہوتی ہے تو وہاں پر بات کو لمبا کیا جاتا ہے تاکہ اس کی توجہ میری طرف زیادہ دیر تک رہے۔ جیسے مولانا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے پوچھا بھئی مَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسٰى اے موسیٰ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ تو کہنا کیا چاہیے تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو؟ عَصًا لاٹھی ہے، لیکن انہوں نے مضاف الیہ بھی ذکر کیا عَصَايَ اور ساتھ لمبا کلام کیا مسند الیہ بھی لائے هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِي۔ تو دیکھو کتنا لمبا؛ سوال تھا آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے، انہوں نے وہ چیز بھی ذکر کی اور اس کے فائدے بھی ساتھ گنوانا شروع کر دیے کیوں؟ کیونکہ یہاں پر کلام ہو رہا ہے محبوبِ اعظم کے ساتھ اور اس کی توجہ مطلوب ہے متکلم چاہتا ہے کہ میری طرف زیادہ سے زیادہ توجہ ہو بھئی۔ أَوْ بَسْطِ الْكَلَامِ حَيْثُ الْإِصْغَاءُ مَطْلُوبٌ اور یا کلام کو پھیلانے کے لیے ذکر کیا جاتا ہے اس حیثیت سے کہ إِصْغَاءٌ کا معنی ہے کان لگانا توجہ کرنا مراد ہے توجہ مطلوب ہوتی ہے أَيْ فِي مَقَامٍ یعنی ایسے مقام میں يَكُونُ إِصْغَاءُ السَّامِعِ مَطْلُوبًا کہ سامع کی توجہ مطلوب ہوتی ہے لِلْمُتَكَلِّمِ کس کو مطلوب ہوتی ہے؟ متکلم کو لِعَظَمَتِهٖ وَشَرَفِهٖ اس کی عظمت اور شرف کی وجہ سے وَلِهٰذَا اور اسی وجہ سے يُطَالُ الْكَلَامُ مَعَ الْأَحِبَّاءِ کلام کو لمبا کیا جاتا ہے کس کے ساتھ؟ احباء کے ساتھ بھئی؛ آپ کا محبوب ہو سامنے آپ بڑی طویل گفتگو کرتے ہیں بھئی جی چاہتا ہے بولتے ہی رہیں آپ بولتے ہی رہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ نکتہ ہے اس کے اندر بھئی یہاں پر نَحْوُ قَوْلِهٖ تَعَالٰى جیسے اللہ فرماتے ہیں حِكَايَةً عَنْ مُوسٰى عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ السَّلَامُ حکایت کرتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام سے هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا یہ میرا عصا ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں۔ وَقَدْ يَكُونُ الذِّكْرُ لِلتَّهْوِيلِ۔ یہ کچھ نکات بیان کر دیے صاحبِ کتاب نے اب کچھ نکات علامہ تفتازانی بھی بتلائیں گے کہ بھئی نکات بہت سارے ہیں کچھ صاحبِ کتاب نے ذکر کیے کچھ میں آپ کو بتلا دیتا ہوں اس کے علاوہ بھی اور نکات ہیں یعنی یہاں پر حصر نہیں کہ صرف یہی نکات ہوں۔ وَقَدْ يَكُونُ الذِّكْرُ لِلتَّهْوِيلِ اور کبھی کبھار ذکر کیا جاتا ہے مولانا ڈرانے کے لیے بھئی، جیسے مولانا ایک شخص نے پوچھا کہ امیر المومنین نے کیا حکم دیا؟ تو آپ اس کو کہتے ہیں امیر المومنین نے آپ کو یہ حکم دیا؛ اب یہاں مسند الیہ کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن کس لیے ذکر کیا؟ اس کو ڈرانے کے لیے ذکر کیا کہ اس قسم کی ہستی تمہیں حکم دے رہی ہے تاکہ یہ ڈر جائے اور ضرور بالضرور اس حکم پر عمل کر لے بھئی۔ أَوِ التَّعَجُّبِ یا کس لیے مولانا؟ تعجب کے لیے اظہارِ تعجب کے لیے کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے مسند الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے جیسے آپ کہتے ہیں صَبِيٌّ قَاوَمَ الْأَسَدَ بچے نے شیر سے مقابلہ کیا۔ تو یہاں پر مولانا بچے پر اپنے تعجب کا اظہار کر رہے ہیں کہ دیکھو اس نے کیا کیا ہے شیر کا مقابلہ کیا ہے۔ صَبِيٌّ قَاوَمَ الْأَسَدَ؛ صَبِيٌّ مبتدا اور قَاوَمَ الْأَسَدَ اس کی خبر ہے مولانا۔ اس پر اشکال ہو گا کہ بھئی صَبِيٌّ تو نکرہ ہے اور نکرہ کیا ہوتا ہے مبتدا نہیں بنتا بھئی؛ آپ نے کافیہ میں پڑھا ہے پانچ چھ طریقے ہیں تخصیص کے نکرہ میں تخصیص آئے گی ان چھ طریقوں میں سے تو پھر وہ مبتدا بن سکتا ہے تو یہاں پر صَبِيٌّ کیسے مبتدا بن گیا نکرہ محض ہے؟ تو جواب یہ ہے مولانا کہ کچھ مقامات علماء نے ذکر کیے ہیں جہاں پر نکرہ محض بھی مبتدا بن جایا کرتا ہے: مثلاً ایک مقام ہے دعا کا بھئی، دعا کے مقام میں نکرہ بھی مبتدا بن جایا کرتا ہے جیسے سَلَامٌ عَلَيْكَ یہ کیا کر رہے ہیں آپ دوسرے کو دعا دے رہے ہیں تو یہاں سَلَامٌ نکرہ ہے مبتدا ہے۔ یا مولانا بددعا کے مقام میں بھی نکرہ مبتدا بن جایا کرتا ہے وَيْلٌ لَّكَ اب یہ وَيْلٌ مبتدا ہے نکرہ ہے لیکن مقامِ بددعا ہے تو یہاں پر نکرہ کیا بن سکتا ہے مبتدا۔ اسی طرح ایک مقامِ تعجب ہے؛ مقامِ تعجب کے اندر بھی نکرہ مبتدا بن سکتا ہے جیسے یہ صَبِيٌّ قَاوَمَ الْأَسَدَ۔ اسی طرح مولانا اذا مفاجاتِیہ کے بعد بھی نکرہ محضہ مبتدا بن سکتا ہے خَرَجْتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَيْ رَجُلٌ مَّوْجُودٌ میں نکلا گھر سے تو اچانک ایک شخص تھا تو رَجُلٌ نکرہ وغیرہ بھئی۔ کئی مقامات علماء نے ذکر کیے ہیں بھئی جی۔ أَوِ الْإِشْهَادِ فِي قَضِيَّةٍ یا گواہ بنانے کے لیے کسی معاملے کے اندر بھئی۔ بھئی ایک شخص ہے اس کو آپ معاملے کے اندر گواہ بنانا چاہتے ہیں تو وہ آپ سے پوچھ رہا ہے بھئی کیا زید نے یہ بیع وغیرہ کی تھی؟ تو آپ اس کو بتلاتے ہیں کہنا چاہیے آپ کو ہاں بیع کی تھی فلاں کے ساتھ اتنے روپے میں کیونکہ زید کو دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں وہ تو متعین ہے بھئی، لیکن آپ پھر بھی کہتے ہیں زید نے یہ بیع کی تھی اتنے روپے میں فلاں کے ساتھ بھئی وغیرہ۔ تو دیکھو مسند الیہ کو ذکر کرتے ہیں آپ بھئی کس لیے ذکر کرتے ہیں؟ کہ آپ اس کو گواہ بنانا چاہتے ہیں اس معاملے میں تاکہ کل کو اس کلام میں کوئی تاویل نہ کر سکے بھئی کہ اس نے تو کیا کہا تھا بیع کی تھی ہو سکتا ہے کسی اور نے کی ہو زید نے نہ کی ہو، لیکن جب زید کو ذکر کر دیا اب کوئی تاویل چل سکتی ہے اس میں؟ اب نہیں چلے گی۔ أَوِ التَّسْجِيلِ عَلَى السَّامِعِ؛ تَسْجِيلٌ کا معنی ہے بات کو قلمبند کروانا محفوظ کروانا، عَلٰى ضرر کے لیے آتا ہے، سامع کے خلاف کسی بات کو قلمبند کروانے کے لیے حَتّٰى لَا يَكُونَ لَهٗ سَبِيلٌ إِلَى الْإِنْكَارِ تاکہ اس کے لیے کوئی راستہ باقی نہ رہے انکار کی طرف یعنی اس کے لیے پھر تاکہ انکار کی گنجائش نہ رہے۔ مثلاً آپ قاضی کے پاس کھڑے ہیں زید کے بارے میں آپ گواہی دینے آئے ہیں بھئی زید کے خلاف گواہی دینے آئے ہیں۔ اب قاضی کے پاس تو جو بھی آپ بات کر رہے ہیں مقدمے کی وہ لکھی جا رہی ہے؛ جب لکھی جا رہی ہے تو اب قاضی آپ سے پوچھتا ہے کیا بیع کی خرید و فروخت وغیرہ اس نے کی عمرو کے ساتھ؟ تو اب دیکھو زید ہی کی تو بات چل رہی ہے قاضی بھی اس کو ذکر نہیں کرتا لیکن آپ ذکر کرتے ہیں کہ زید نے بیع کی تھی عمرو کے ساتھ اتنے روپے کے بدلے فلاں وقت میں میں بھی وہاں پر موجود تھا۔ تو یہ کیوں آپ نے ذکر کیا؟ تاکہ زید کے خلاف یہ بات قلمبند ہو جائے بعد میں کہیں آ کر وہ انکار نہ کرے کہ یہ تو کیا کر رہا تھا اپنے کلام میں تاویل اس کا اشارہ میری جانب تھا ہی نہیں، لیکن جب لفظِ زید وہاں خود موجود ہے تو اب کوئی تاویل چل سکتی ہے؟ نہیں بھئی۔ چلیے مولانا، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
109 approved lectures · 38 of 109