آپ نے پڑھا مسند الیہ کے کبھی تابع لایا جاتا ہے بھئی، اور توابع چار پانچ ہیں ان کو اب وہ بیان کر رہے ہیں بھئی۔ سب سے پہلے آپ نے پڑھا کہ مسند الیہ کے لیے کبھی صفت لائی جاتی ہے بھئی، اور یہ صفت کیا ہوگی، اس مسند الیہ کے معنی کو کھول دے گی اور اس کو بیان کر دے گی، یا یہ صفت مخصصہ ہوگی، مسند الیہ کے اندر تخصیص پیدا کر دے گی، یعنی نکرہ ہو تو اشتراک میں کمی کر دے گی، اور اگر معرفہ ہو تو غیر کے احتمال کو اٹھا دے گی، ختم کر دے گی۔ اور کبھی کبھی صفت مدح یا ذم کے لیے لائی جاتی ہے، اور کبھی تاکید کے لیے بھئی۔
اور اس کے بعد تاکید کے نکات آپ نے پڑھے تھے کہ تاکید مسند الیہ کی لائی جاتی ہے تقریر کے لیے، یعنی مسند الیہ کو پکا کیا جاتا ہے سننے والے کے ذہن میں بھئی۔ یعنی تاکہ وہ غیر کا گمان نہ کرے، جیسے آپ نے `جَاءَنِيْ زَيْدٌ زَيْدٌ` کہا بھئی، تو مسند الیہ کی تاکید لائے، کہ کہیں متکلم جو ہے وہ غافل نہ ہو، اور اس مسند الیہ کے سننے سے وہ غافل نہ ہو، تو آپ اس کی تاکید لے کر آتے ہیں بھئی۔ یا اس لیے آپ تاکید لے کر آتے ہیں تاکہ کہیں وہ اس کو دوسرے معنی پر محمول کرنے میں کہیں وہ غافل نہ ہو، آپ نے کہا `رَأَيْتُ أَسَدًا`، تو کہیں یہ نہ ہو وہ اس کو کس پر محمول کر لے، معنی مجازی پر، تو آپ دوبارہ `أَسَدًا` ساتھ لے کر آتے ہیں، کیا کرتے ہیں، اس کے ذہن میں اس کو پختہ کر دیتے ہیں، اور بتلا دیتے ہیں کہ اس سے اس کا حقیقی معنی ہی مراد ہے مولانا، سمجھ میں آیا، مجازی معنی مراد نہیں۔
پھر یہاں پر بعض علماء نے کہا تھا بھئی، علامہ تفتازانی نے تو آپ کو یہ بتلایا کہ مسند الیہ کو لاتے ہیں کس کی تقریر کے لیے، مسند الیہ ہی کی تقریر کے لیے لاتے ہیں، بعض اور شارحین نے تقریر کی، انہوں نے کہا مسند الیہ کو لاتے ہیں کبھی مسند الیہ ہی کی تاکید کے لیے، اسی کی تقریر کے لیے، اور کبھی حکم کی تقریر کے لیے۔ علامہ تفتازانی اس کو رد کریں گے اور بتلائیں گے آپ کو کہ مسند الیہ کے ذریعے کبھی بھی حکم کی تاکید نہیں آیا کرتی۔ اور پھر یہ شارح نے دو مثالیں دی تھیں بھئی، حکم کی تاکید کی مثال دی تھی `أَنَا عَرَفْتُ` اور مسند الیہ کی تاکید کی دو مثالیں ذکر کی تھیں `أَنَا سَعَيْتُ فِيْ حَاجَتِكَ وَحْدِيْ` اور `أَنَا سَعَيْتُ فِيْ حَاجَتِكَ لَا غَيْرِيْ`۔
تو علامہ تفتازانی بتلاتے ہیں یہاں کہ یہ جو `أَنَا عَرَفْتُ` ہے، آپ نے اس میں کیا کہا کہ مسند الیہ کی تاکید لائے اور اس تاکید کی وجہ سے کیا ہوا، حکم کے اندر پختگی آ گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں نہیں بھئی، یہاں پر `أَنَا عَرَفْتُ` کے اندر جو حکم کے اندر تقریر آ رہی ہے وہ `أَنَا` کو مقدم کرنے کی وجہ سے آ رہی ہے، اس کے صرف ذکر کرنے کی وجہ سے۔ اس لیے کہ اگر آپ اسی `أَنَا` کو باقی رکھیں لیکن اس کو ذرا مؤخر کر کے آپ دیکھیں `عَرَفْتُ أَنَا`، اب وہی `أَنَا` ہے لیکن حکم کی تقریر نہیں۔ اب ترکیب کیسے ہوگی، `عَرَفْتُ` فعل با فاعل، تُ ضمیر اس کے اندر جو ہے مؤکد اور `أَنَا` ضمیر منفصل جو ہے اس کی تاکید، مؤکد تاکید مل کر فاعل، تو پہلے اسناد دو دفعہ آ رہا تھا تقدیم کی وجہ سے، اور اب اسناد ایک ہی ہے۔
تو معلوم ہوا جو حکم کی تقریر ہو رہی تھی وہ `أَنَا` کی تقدیم کی وجہ سے تھی بھئی، کس کی وجہ سے `أَنَا` کی تقدیم کی وجہ سے۔ اور دوسری جو آپ نے بات کی کہ مسند الیہ کی تاکید کے لیے بھی کبھی کیا کرتے ہیں، مسند الیہ کی تاکید لاتے ہیں، مسند الیہ کی تقریر ہوتی ہے بھئی۔ مسند الیہ کی تاکید لائی جاتی ہے، اس سے کیا ہو جاتی ہے مسند الیہ کی تقریر ہو جاتی ہے، کہتے ہیں ہاں یہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے ہم بھی یہی بات کر رہے ہیں، لیکن یہ جو آپ نے دو مثالیں ذکر کیں یہ مثالیں صحیح نہیں۔ اس لیے کہ `أَنَا سَعَيْتُ فِيْ حَاجَتِكَ`، دیکھو یہاں `سَعَيْتُ` پر `أَنَا` کو مقدم کر دیا گیا، جس کی وجہ سے یہاں تخصیص آ گئی بھئی۔
میں نے ہی کوشش کی آپ کی حاجت میں، جبکہ سننے والے کا خیال یہ تھا کہ آپ نے بھی کوشش کی ہے اس کی حاجت کے سلسلے میں اور زید نے بھی کوشش کی ہے، تو اب آپ بتلاتے ہیں اس کو کہ صرف میں نے ہی کوشش کی ہے بھئی، تو آپ کہتے ہیں `أَنَا سَعَيْتُ فِيْ حَاجَتِكَ وَحْدِيْ`، میں نے اکیلے نے ہی آپ کی حاجت میں کوشش کی ہے۔ تو یہ انہوں نے مثال ذکر کی بھئی کس چیز کی، مسند الیہ کی تقریر، کہتے ہیں بھئی اس مثال میں تو مسند الیہ کی تقریر کسی بھی لحاظ سے نہیں ہے، بلکہ یہاں تو کس کی ہے تقریر بھئی، جی تخصیص کی تقریر ہو رہی ہے، کس کی تخصیص کی۔ اس لیے کہ ایک `أَنَا` کو مقدم کرنے کی وجہ سے تخصیص آ گئی، میں نے ہی کوشش کی آپ کی حاجت میں، اور پھر `وَحْدِيْ` ساتھ آ گیا بھئی، تو اس کی وجہ سے کیا ہوئی، اسی تخصیص کی بھئی۔ `أَنَا سَعَيْتُ فِيْ حَاجَتِكَ` بھی یہی معنی تھا کہ میں نے اکیلے نے ہی کوشش کی ہے، میں نے ہی کوشش کی ہے، اور پھر `وَحْدِيْ` آ گیا تو اس سے کیا ہوئی بھئی، تخصیص کی تقریر ہوئی بھئی تخصیص کی۔
اور اسی یا آپ کہتے ہیں `لَا غَيْرِيْ` بھئی `لَا غَيْرِيْ`، میں نے ہی کوشش کی آپ کی حاجت میں `لَا غَيْرِيْ`، میرے علاوہ نے نہیں کی، تو اس میں بھی وہی تخصیص جو `أَنَا سَعَيْتُ` سے حاصل ہو رہی تھی، `لَا غَيْرِيْ` نے اسی کی کیا کر دی تقریر کر دی بھئی۔ `أَنَا سَعَيْتُ` بھی یہی بتلا رہا تھا کہ صرف میں نے کوشش کی ہے، اور `لَا غَيْرِيْ` نے بھی یہی بتلایا کہ صرف میں نے کی ہے، کسی اور میرے علاوہ کسی نے نہیں کی، تو اسی میں تخصیص تقریر ہوئی اسی کی بھئی۔ یا کبھی کبھار بتلایا تھا مولانا کہ تاکید کو لایا جاتا ہے مجاز کے وہم کو دور کرنے کے لیے، جیسے آپ نے کہا `قَطَعَ اللِّصَّ الْأَمِيْرُ الْأَمِيْرُ`، چور کا ہاتھ کاٹا کس نے، امیر نے امیر نے، دو مرتبہ آپ وہ مسند الیہ کو لے کر آتے ہیں بھئی، کس لیے لے کر آتے ہیں دو مرتبہ، یہ بتلانے کے لیے کہ کہیں سننے والا یہ نہ سمجھے کہ یہاں پر اسناد مجازی ہے بھئی، اسناد کیا ہے مجازی ہے۔
اصل میں تو کاٹنے والا ہے جلاد لیکن نسبت کس کی طرف کر دی گئی بھئی، امیر کی طرف کیونکہ وہ سبب ہے، حکم دینے والا ہے، تو اسناد `مَا هُوَ لَهُ` کی طرف نہ ہوئی بلکہ کس کی طرف ہوئی `غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ` کی، لیکن جب آپ نے `الْأَمِيْرُ` دوبارہ کہہ دیا تو آپ نے اس مجاز کے وہم کو دور کر دیا کہ بھئی میں اسناد `غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ` کی طرف نہیں کر رہا بلکہ `مَا هُوَ لَهُ` اور امیر نے خود ہی ہاتھ کاٹا ہے۔ تو یہ ہے تاکید لفظی، یا `قَطَعَ اللِّصَّ الْأَمِيْرُ نَفْسُهُ` یا `قَطَعَ اللِّصَّ الْأَمِيْرُ عَيْنُهُ`، اور یہ `نَفْسُهُ` اور `عَيْنُهُ` یہ کیا ہے تاکید معنوی ہیں بھئی، تو دونوں اس مجاز کے وہم کو دور کرنے کے لیے آتی ہیں۔ یا مولانا کبھی تاکید کو لایا جاتا ہے غلطی کے وہم کو دور کرنے کے لیے، آپ نے کہا `جَاءَنِيْ زَيْدٌ زَيْدٌ`، زید کی تاکید لے کر آئے اس لیے کہ کہیں سننے والا یہ نہ سمجھے کہ آپ نے غلطی سے زید کا لفظ بول دیا ہے، آنے والا زید نہیں بلکہ عمرو ہے، تو زید جب دوبارہ آیا تو آپ نے اس غلطی کے وہم کو دور کر دیا۔
`أَوْ لِدَفْعِ تَوَهُّمِ عَدَمِ الشُّمُوْلِ`، یا مولانا کبھی مسند الیہ کی تاکید لائی جاتی ہے عدم شمول کے وہم کو دور کرنے کے لیے۔ عدم شمول کے وہم کو دور کرنے کے لیے جب آپ نے کہا `جَاءَنِي الْقَوْمُ`، آئی میرے پاس قوم، تو احتمال تھا کہ بھئی اکثر آئے ہوں گے سارے نہیں آئے ہوں گے، لیکن جب آپ نے کہا `كُلُّهُمْ` یا کہا `أَجْمَعُوْنَ` ساتھ بھئی، تو اس کے ساتھ کیا آ گئی بھئی تاکید آ گئی، اور پتہ چل گیا کہ آئی ساری قوم ہے، اکثر افراد یہاں مراد نہیں بلکہ تمام افراد یہاں مراد ہیں، تو دیکھو عدم شمول کے وہم کو کیا کر دیا۔ اس پر اشکال ہوا تھا کہ بھئی عدم شمول یہ تو دفع توہم مجاز ہی میں آ گیا تھا اس کو دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے کہ `الْقَوْمُ` کہا تو `الْقَوْمُ` سے مراد ساری قوم والے ہیں۔
تو اگر سارے مراد لیں تو یہ اس کا حقیقی معنی اور اگر اس سے اکثر قوم والے مراد لیں پھر تو یہ اس کا حقیقی معنی نہیں بلکہ یہ کیا ہے مجازی معنی ہے بھئی مجازی معنی، تو یہاں پر جب `جَاءَنِي الْقَوْمُ كُلُّهُمْ` کہا تو بتلا دیا کہ حقیقی معنی مراد ہے مجازی معنی مراد نہیں ہے، تو یہ تو مجاز کا وہم دور ہوا اور اس کو تو آپ اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ کبھی کبھار تاکید کو کس لیے لایا جاتا ہے مجاز کے وہم کو دور کرنے کے لیے، تو دوبارہ اس کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تو بتلایا تھا میں نے آپ کو کہ بھئی وہ مجاز دو قسم پر ہے بھئی، ایک مجاز عقلی ہے ایک مجاز لغوی ہے، مجاز لغوی کس کو کہتے ہیں بھئی، کہ لفظ کو معنی `غَيْرِ مَوْضُوْعٍ لَهُ` کے اندر استعمال کرنا بھئی۔ لغت کے اندر وضع ہے ایک معنی کے لیے اور آپ استعمال کر رہے ہیں `غَيْرِ مَوْضُوْعٍ لَهُ` کے اندر، یہ کیا ہے مجاز لغوی، جیسے `أَسَدٌ` کا لفظ بول رہے ہیں، یہ وضع تو شیر کے لیے ہے لیکن آپ اس سے کیا مراد لے رہے ہیں `رَجُلٌ شُجَاعٌ` مراد لے رہے ہیں بھئی، تو یہ ہے مجاز لغوی۔
اور ایک ہے مجاز عقلی، وہ اسناد کے اندر ہوتا ہے کہ آپ اسناد `مَا هُوَ لَهُ` کی طرف نہیں کرتے بلکہ کس کی طرف کرتے ہیں `غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ` کی طرف، جیسے آپ کہتے ہیں `نَهْرٌ جَارٍ` بھئی `اَلنَّهْرُ جَارٍ`، نہر کیا ہے بہہ رہی ہے بھئی، حالانکہ بہتی نہر نہیں ہے بلکہ نہر کے اندر پانی بہتا ہے، لیکن آپ نے بہنے کی نسبت `غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ` کی طرف کر دی بھئی، کس کی طرف `غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ` کی۔ تو مجاز دو قسم پر ہوا، ایک مجاز لغوی اور ایک مجاز عقلی، تو وہ جو دفع توہم مجاز تھا وہاں سے صرف مجاز عقلی کے وہم کو دور کیا گیا تھا، اور یہ عدم شمول عام ہے، یہ مجاز لغوی کے وہم کو بھی دور کر رہا ہے اور مجاز عقلی کے وہم کو بھی دور کر رہے ہیں بھئی۔ تو آپ نے جب کہا `جَاءَنِي الْقَوْمُ كُلُّهُمْ` تو بتلا دیا مولانا کہ بعض افراد نہیں مراد بلکہ سارے افراد مراد ہیں بھئی سارے افراد۔
نیز آپ نے کہا `جَاءَنِي الْقَوْمُ كُلُّهُمْ` تو یہ بھی بتلایا کہ یہ اسناد جو ہے یہ، آنے والے تو اکثر تھے لیکن آپ ساروں کی طرف اسناد کر کے کیا کر رہے ہیں، آنے والے تو اکثر ہوں لیکن آپ اسناد کس کی طرف کر دیں ساروں کی طرف کر دیں، تو یہ `مَا هُوَ لَهُ` ہوا یا `غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ`، یہ اسناد ہوا `غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ` کی طرف، تو یہاں وہم پڑ رہا تھا کہ شاید یہاں اسناد کیا ہے مجازی ہے، لیکن جب آپ نے `كُلُّهُمْ` بتلا دیا کہ نہیں بھئی آنے والے تو سارے افراد ہیں، تو اسناد کس کی طرف ہوا `مَا هُوَ لَهُ` کی طرف ہی ہوا `غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ` کی طرف، تو مجاز عقلی کا وہم بھی دور ہوا۔ `وَأَمَّا بَيَانُهُ أَيْ تَعْقِيْبُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ بِعَطْفِ الْبَيَانِ فَلِإِيْضَاحِهِ بِاسْمٍ مُخْتَصٍّ بِهِ نَحْوُ قَدِمَ صَدِيْقُكَ خَالِدٌ`۔
`وَأَمَّا بَيَانُهُ أَيْ تَعْقِيْبُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ بِعَطْفِ الْبَيَانِ`، مسند الیہ کے عقب میں کس کو لے کر آنا، عطف بیان کو لے کر آنا بھئی عطف بیان کو لے کر آنا۔ تو تابع میں سے ایک عطف بیان بھی ہے بھئی عطف بیان، اب اس کے نکات بتلائیں گے کہ یہ عطف بیان کیوں لایا جاتا ہے بھئی۔ کہتے ہیں `فَلِإِيْضَاحِهِ بِاسْمٍ مُخْتَصٍّ بِهِ`، وضاحت کے لیے بھئی، کس کے لیے لایا جاتا ہے، مسند الیہ کے لیے کبھی عطف بیان لایا جاتا ہے اس کی وضاحت کے لیے `بِاسْمٍ مُخْتَصٍّ بِهِ`، ایسے اسم کے ساتھ جو اسی کے ساتھ خاص ہوتا ہے، جیسے آپ نے کہا `قَدِمَ صَدِيْقُكَ خَالِدٌ`۔ دیکھو پہلے ترکیب سن لیجئے، `قَدِمَ` فعل، `صَدِيْقُ` مرفوع لفظا مضاف، کاف ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ، بھئی کسی بھی اسم کے ساتھ ضمیر متصل ہو وہاں ہمیشہ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب کرنا، تو `صَدِيْقُ` مرفوع لفظا مضاف، کاف ضمیر مجرور محلا مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف علیہ، `خَالِدٌ` مرفوع لفظا عطف بیان، معطوف علیہ اپنے عطف بیان کے ساتھ مل کر یہ فاعل ہوا کس کے لیے `قَدِمَ` فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ ہوا بھئی جملہ فعلیہ۔
تو دیکھو عطف بیان، یہ `خَالِدٌ` جو ہے عطف بیان ہے `صَدِيْقُكَ` کے لیے بھئی، تو یہاں پر مولانا عطف بیان اور `صَدِيْقُ` کا کیا ہے مسند الیہ، تو مسند الیہ کے لیے عطف بیان لایا گیا بھئی عطف بیان، اس کی وضاحت کرنے کے لیے، کیا کرنے کے لیے وضاحت کرنے کے لیے بھئی۔ یعنی غیر کے احتمال کو ختم کرنے کے لیے بھئی، آپ نے جب کہا `جَاءَنِيْ صَدِيْقُكَ` میرا دوست آیا، `قَدِمَ صَدِيْقُكَ` آپ کا دوست آیا آپ کا ساتھی آیا، تو اب آپ کا ساتھی عمرو بھی ہے، زید بھی ہے، بکر بھی ہے، خالد بھی ہے، تو یہاں پر احتمال تھا مولانا کہ پتہ نہیں بکر مراد ہے، خالد مراد ہے، عمرو مراد ہے، کون مراد ہے، تو آگے آپ نے وضاحت کر دی مولانا کہ کون مراد ہے، `خَالِدٌ` مراد ہے بھئی اس سے کون مراد ہے، تو دیکھا وضاحت ہو گئی بھئی `صَدِيْقُكَ` کی۔
اور نیز `بِاسْمٍ مُخْتَصٍّ بِهِ`، ایسے اسم کے ساتھ ہے جو اسی کے ساتھ خاص ہے، `خَالِدٌ` دیکھو اس ذات کا اسم ہے اور اس میں کوئی اور اس کے ساتھ شریک نہیں ہے بھئی۔ تو یہ عطف بیان لایا جاتا ہے وضاحت کے لیے مسند الیہ کی اور ایسے اسم کے ساتھ لایا جائے گا جو اسی کے ساتھ خاص ہو بھئی خاص ہو۔ یاد رکھو مولانا عطف بیان ہمیشہ اسم جامد ہوگا معرفہ ہوگا۔ اس میں جامد ہوگا اور معرفہ ہوگا بھئی، جملہ نہیں بن سکتا عطف بیان بھئی۔ تاکید میں اور عطف بیان میں یہ فرق ہے، ماقبل میں تاکید ذکر، اب عطف بیان تاکید جو ہے چند متعین الفاظ کے ساتھ ہوتی ہے، تاکید چند متعین الفاظ کے ساتھ ہوتی ہے جبکہ عطف بیان میں ایسا نہیں۔
اور نیز تاکید مجاز کے وہم کو، تاکید کے ذریعے مجاز کے وہم کو دور کیا جاتا ہے، تو تاکید رفع مجاز کرتی ہے جبکہ عطف بیان رفع اشتراک کرتا ہے بھئی۔ تاکید رفع مجاز کرتی ہے، اوپر آپ نے پڑھا بھئی مجاز کے وہم کو کیا کرتی ہے دور کرتی ہے، جبکہ عطف بیان کیا کرتا ہے رفع اشتراک کرتا ہے، دیکھو `صَدِيْقُكَ` کے اندر اشتراک تھا، زید کو بھی شامل تھا، عمرو کو بھی، بکر کو بھی، خالد کو بھی، لیکن آگے عطف بیان نے اس اشتراک کو کیا کر دیا دور کر دیا ختم کر دیا۔ `وَلَا يَلْزَمُ أَنْ يَكُوْنَ الثَّانِيْ أَوْضَحَ لِجَوَازِ أَنْ يَحْصُلَ الْإِيْضَاحُ مِنْ اجْتِمَاعِهِمَا`۔ یہاں آگے اب جو شرح کا حصہ ہے اس میں علامہ تفتازانی متن پر تین اعتراضات کریں گے بھئی تین اعتراضات۔
متن نے کیا کہا بھئی عطف بیان کو کس لیے لایا جاتا ہے مسند الیہ کی وضاحت کے لیے، معلوم ہوا جو عطف بیان ہوگا وہ معطوف علیہ سے زیادہ واضح ہوگا، کیا ہوگا، جب آپ نے کہا یہ وضاحت کے لیے آ رہا ہے تو لازمی بات ہے کہ یہ ماقبل سے کیا ہوگا زیادہ واضح ہوگا۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ آپ کی یہ بات ہمیں قبول نہیں، یہ ضروری نہیں کہ معطوف علیہ، عطف بیان کیا ہو معطوف علیہ سے زیادہ واضح ہو، بلکہ ہو سکتا ہے دونوں کے ملنے کی وجہ سے وضاحت حاصل ہو رہی ہو، اگرچہ دونوں برابر ہیں مولانا دونوں میں شرکت ہے بھئی۔ مثلا دیکھیے مولانا، دو ساتھی ہیں آپ کے مولانا، ایک کی کنیت بھی ابو عبداللہ، دوسرے کی کنیت بھی ابو عبداللہ، جب آپ نے کہا `جَاءَنِيْ أَبُو عَبْدِ اللّٰهِ` تو اب اس میں کیا ہے دو کا احتمال ہے، کتنے کا۔
اسی طرح آپ کے دو ساتھی بھی ہیں، ایک کا نام بھی زید ہے دوسرے کا نام بھی زید ہے، جب آپ نے کہا `جَاءَنِيْ زَيْدٌ` تو اس میں بھی کتنے احتمال ہیں بھئی دو احتمال ہیں کہ پتہ نہیں کون سا زید آیا ہے بھئی۔ لیکن ابو عبداللہ جو ہے کنیت، ایک زید کی کنیت تو ابو عبداللہ ہے جبکہ دوسری ابو عبداللہ کنیت ہے بکر کی، کس کی کنیت ہے بکر کی۔ تو جب آپ نے کہا `جَاءَنِيْ أَبُو عَبْدِ اللّٰهِ` تو اس میں بھی دو احتمال کہ پتہ نہیں زید مراد ہے یا بکر مراد ہے، اگر آپ کہتے ہیں `جَاءَنِيْ زَيْدٌ` تو اس میں بھی دو احتمال پتہ نہیں کون سا والا زید مراد ہے بھئی۔ لیکن جب آپ نے کہا `أَبُو جَاءَنِيْ أَبُو عَبْدِ اللّٰهِ زَيْدٌ` اب کیا ہوا مولانا، زید کیا ہے عطف بیان ہے اور اس کی وجہ سے کیا ہوا وضاحت ہو گئی کہ یہ ابو عبداللہ سے کون سا ابو عبداللہ مراد ہے، زید مراد ہے، تو دیکھو دونوں کے اندر عموم و اشتراک، دونوں میں اشتراک برابر تھا کیا تھا۔
تو دیکھا مصنف نے تو کہا کہ وضاحت کے لیے آئے گا جس سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ عطف بیان زیادہ واضح ہوگا، لیکن ہم نے آپ کو مثال کے ذریعے بتلا دیا بھئی کہ دونوں کے اندر کیا ہے اشتراک برابر بھی ہو سکتا ہے، لیکن جب دونوں مل جاتے ہیں تو ملنے کی وجہ سے کیا حاصل ہو گئی وضاحت حاصل ہو گئی، تو مصنف کا یہ کہنا کہ ثانی اول سے زیادہ اوضح ہوگا یہ بات ہمیں تسلیم نہیں۔ یہ پہلا اعتراض، `وَلَا يَلْزَمُ أَنْ يَكُوْنَ الثَّانِيْ أَوْضَحَ` اور یہ لازم نہیں آتا کہ ثانی زیادہ واضح ہو، `لِجَوَازِ أَنْ يَحْصُلَ الْإِيْضَاحُ مِنْ اجْتِمَاعِهِمَا` اس لیے کہ ممکن ہے ایضاح حاصل ہو رہا ہو دونوں کے اجتماع کی وجہ سے، مثلا صورت سمجھ میں آئی بھئی۔
دوسری بات مصنف نے یہ کی مولانا کہ عطف بیان کس کے ساتھ آئے گا، `بِاسْمٍ مُخْتَصٍّ بِهِ` ایسے اسم کے ساتھ جو اسی کے ساتھ خاص ہو، کہتے ہیں یہ بات بھی ہمیں قبول نہیں بھئی یہ بات بھی صحیح نہیں۔ کبھی عطف بیان ایسے اسم جو اسی کے ساتھ خاص ہو اس کے بغیر بھی آتا ہے، کا قولہ جیسے مولانا شاعر کا یہ قول `وَالْمُؤْمِنِ الْعَائِذَاتِ الطَّيْرَ يَمْسَحُهَا`۔ واؤ قسمیہ ہے مولانا، `الْمُؤْمِنِ` اسم فاعل ہے بھئی امن دینے والا، یہ نام ہے، اسم ہے ذات باری تعالی کے لیے بھئی۔ امن دینے والا کس کو امن دینے والا بھئی، اس کے لیے مفعول چاہیے، `الْعَائِذَاتِ` اس کے لیے کیا ہے، جیسے فعل کے لیے فاعل اور مفعول چاہیے ہوتے ہیں اسی طرح اسم فاعل کے لیے بھی کیا چاہیے فاعل اور مفعول چاہیے جبکہ وہ فعل متعدی سے بنا ہو، تو قسم ہے اس ذات کی جو پناہ دینے والی ہے، `الْعَائِذَاتِ` پناہ پکڑنے والوں کو، پناہ پکڑنے والوں کو پناہ دینے والی ذات کی قسم بھئی، وہ پناہ پکڑنے والے کون ہیں، `الطَّيْرَ` پرندے ہیں، کیا ہیں پرندے ہیں۔
تو `الْعَائِذَاتِ` یہ جمع مذکر سالم ہے، اس کا نصب ہی کسرے کے ساتھ آتا ہے یہ منصوب ہے بھئی، اور `الطَّيْرَ` اس کے لیے کیا ہے عطف بیان ہے، تو معطوف علیہ اور عطف بیان کا اعراب ایک ہوتا ہے بھئی۔ اب دیکھیے مولانا قسم ہے اس ذات کی جو پناہ دینے والی ہے پناہ پکڑنے والوں کو، اور وہ پناہ پکڑنے والے کون ہیں پرندے ہیں۔ `الطَّيْرَ` عطف بیان ہے `الْعَائِذَاتِ` کے لیے، `يَمْسَحُهَا` کہ ان کو چھوتے ہیں وہ جو مکہ کے سوار آتے ہیں بھئی دیکھو حرم کے اندر بھئی۔ آپ نے پڑھا ہے حرم کے اندر شکار کھیلنا جائز نہیں بھئی، اور اسی طرح کوئی حرم میں پناہ لے لے تو اس کو بھی کچھ کہا، اس کو بھی کچھ نہیں کہا جائے گا بھئی۔
اب یہاں پر پناہ لینے والے دو قسم پر بھئی، یا تو وہ پرندے ہیں یا غیر پرندے ہیں بھئی، انسان اور دوسرے جانور بھی پناہ لینے والے ہیں اور پرندے بھی پناہ لینے والے ہیں، تو عَائِذَات پناہ لینے والے کتنی قسم پر ہوئے، یا پرندے ہوں گے یا غیر پرندے، اور الطَّيْر پرندے بھی دو قسم پر ہوئے مولانا، کچھ وہ پرندے ہیں جو حرم میں پناہ لینے والے ہیں جو حرم میں ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو حرم میں پناہ لینے والے نہیں حرم سے باہر ہیں بھئی۔ تو پرندے بھی دو قسم پر ہوئے، عَائِذَات بھی دو قسم پر ہوئے، تو عَائِذَات کے بعد جب طَيْر آیا تو بتلا دیا بھئی کہ کون سے عَائِذَات مراد ہیں، کون سے پناہ لینے والے پرندے مراد ہیں، غیر پرندے کا احتمال کیا کر دیا ختم کر دیا۔
تو یہاں پر مولانا ان دو، تو دیکھو الطَّيْر عطف بیان ہے اور یہ اسم مختص بھی نہیں ہے مولانا اس میں مختص بھی نہیں ہے جس میں شرکت نہ ہو سکے خالد عمرو بکر کی طرح۔ تو مصنف نے کہا تھا کہ اس میں مختص کے ساتھ آئے گا، علامہ تفتازانی نے دلیل کے ذریعے ثابت کر دیا کہ عطف بیان بغیر اسم مختص کے بھی آ سکتا ہے بھئی۔ تو یہاں مولانا عَائِذَات اور الطَّيْر کے اندر مولانا عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے، عموم و خصوص من وجہ کے اندر آپ نے پڑھا ہے تین مادے ہوتے ہیں بھئی، ایک مادہ اجتماع کا ہوتا ہے اور دو مادے کس کے ہوتے ہیں افتراق کے ہوتے ہیں۔ اجتماع کا مادہ یہ ہے کہ پرندہ بھی ہو اور پناہ لینے والا بھی ہو حرم میں بھئی، تو وہ پرندے جو حرم کے اندر ہیں وہ کیا ہیں پرندے بھی ہیں اور پناہ بھی لینے والے ہیں، تو یہ ہے مادہ اجتماع کا بھئی۔
اور دو مادے ہیں افتراق کے وہ کیسے کہ عَائِذَات پناہ لینے والے تو ہیں لیکن پرندے نہیں جیسے انسان اور جانور دوسرے۔ اور دوسرا مادہ افتراق کا کہ پرندے تو ہیں لیکن پناہ لینے والے نہیں جو باہر حرم سے باہر ہیں بھئی، تو ان میں کون سی نسبت آئی عموم و خصوص من وجہ کی بھئی۔ `فَإِنَّ الطَّيْرَ عَطْفُ بَيَانٍ لِّلْعَائِذَاتِ`، `الطَّيْرُ` جو ہے عطف بیان ہے عَائِذَات کے لیے، `مَعَ أَنَّهُ لَيْسَ اسْمًا مُخْتَصًّا بِهَا`، باوجود اس کے کہ یہ اسم مختص نہیں ہے اس کے ساتھ بھئی۔ `وَقَدْ يَجِيْءُ عَطْفُ الْبَيَانِ لِغَيْرِ الْإِيْضَاحِ`، تیسرا اعتراض کر رہے ہیں بھئی، انہوں نے کیا کہا تھا بھئی عطف بیان وضاحت ایضاح کے لیے آئے گا، علامہ تفتازانی اس بات کو بھی رد کرتے ہیں کہ عطف بیان ہمیشہ ایضاح کے لیے نہیں آئے گا بلکہ کبھی کبھار مدح کے لیے بھی آ سکتا ہے، دیکھیے `وَقَدْ يَجِيْءُ عَطْفُ الْبَيَانِ لِغَيْرِ الْإِيْضَاحِ كَمَا فِيْ قَوْلِهِ تَعَالَى جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ`۔
تو دیکھیے `الْكَعْبَةَ` آیا بھئی `الْبَيْتَ الْحَرَامَ` یہ اس سے عطف بیان ہے لیکن یہاں وضاحت کے لیے نہیں کیونکہ کعبہ کے اندر کوئی اور احتمال ہے ہی نہیں مولانا، تو یہاں وضاحت کے لیے نہیں بلکہ علامہ زمخشری صاحب کشاف جو ہیں انہوں نے کشاف کے اندر لکھا ہے کہ یہ `بَيْتَ الْحَرَامَ` عطف بیان ہے `كَعْبَةَ` کے لیے، اور اس کو یہاں صرف مدح کے لیے ذکر کیا گیا ہے وضاحت کے لیے ذکر نہیں، کیونکہ وضاحت تو وہاں ہوتی ہے جہاں غیر کا احتمال ہو، اور کعبہ کے اندر تو غیر کا احتمال ہی نہیں، تو یہاں صرف مدح کے لیے اس کو ذکر کیا گیا یہ بتلانے کے لیے کہ یہ ایسا گھر ہے ایسی جگہ ہے جہاں پر شکار وغیرہ کھیلنا حرام اور کسی کو کچھ کہنا حرام ہے بھئی۔ `ذَكَرَ صَاحِبُ الْكَشَّافِ أَنَّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ عَطْفُ بَيَانٍ لِّلْكَعْبَةِ جِيْءَ بِهِ لِلْمَدْحِ لَا لِلْإِيْضَاحِ كَمَا يَجِيْءُ الصِّفَةُ لِذٰلِكَ`، جیسے صفت مدح کے لیے آیا کرتی ہے یہاں عطف بیان کو بھی کس لیے لایا گیا مدح کے لیے۔
یہاں علامہ زمخشری صاحب کشاف جو ہیں، کشاف میں نے آپ کو بتلایا عظیم شرح ہے عظیم تفسیر انہوں نے قرآن کی لکھی، اور علماء لکھتے ہیں کہ یہ ایسی تفسیر ہے قیامت تک آنے والے تمام علماء اس کے محتاج ہیں بھئی تفسیر کے سلسلے میں۔ تو یہ علامہ زمخشری جو ہیں انہوں نے لکھا ہے کشاف کے اندر کہ یہ بیت الحرام کیا ہے عطف بیان ہے کعبہ کے لیے، اور اس کو یہاں صرف مدح کے لیے ذکر کیا گیا ہے، وضاحت کے لیے ذکر نہیں۔ ذکر صاحب الکشاف ان البیت الحرام عطف بیان للکعبۃ جیء بہ للمدح لا للایضاح کما یجیء الصفۃ لذلک، جیسے صفت مدح کے لیے آیا کرتی ہے یہاں عطف بیان کو بھی کس لیے لایا گیا مدح کے لیے۔
جواب یہ مولانا، تین اعتراضات کیے، پہلا کیا اعتراض کیا کہ آپ نے کیا کہا کہ وضاحت کے لیے لایا جاتا ہے، معلوم ہوا عطف بیان زیادہ واضح ہوگا ماقبل سے، کہتے ہیں یہ بات ہمیں تسلیم نہیں بلکہ کبھی دونوں کے ملنے سے کیا حاصل ہوتی ہے وضاحت۔ دوسری بات آپ نے کہا اسم مختص کے ساتھ لے کر آتے ہیں، یہ بات بھی ہمیں قبول نہیں بلکہ کبھی ایسے اسم کے ساتھ بھی لاتے ہیں جو مختص نہیں ہوتا جیسے اس شعر کو ذکر کیا۔ اور تیسری بات آپ نے یہ کی کہ عطف بیان کو وضاحت کی ایضاح کے لیے لایا جاتا ہے، کہتے ہیں یہ بات بھی ہمیں قبول نہیں، کبھی کبھار کس لیے لایا جاتا ہے مدح کے لیے بھی آ سکتا ہے۔ تو تین اعتراضات کیے، جواب مولانا یہ کہ مصنف نے اکثری بات کی ہے، کلی بات نہیں کی، لہذا تمام اعتراضات ختم ہوئے بھئی۔ مصنف نے کیا کی ہے اکثر، اکثر لایا جائے گا کس لیے وضاحت کے لیے، اور اکثر کس کے ساتھ ہوگا اسم مختص کے ساتھ ہوگا، اور اکثر کیا ہوگا ثانی اول سے زیادہ واضح ہوگا۔
وَأَمَّا الْإِبْدَالُ مِنْهُ أَيْ مِنَ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ فَلِزِيَادَةِ التَّقْرِيْرِ، اور کبھی کبھار مسند الیہ سے بدل لایا جاتا ہے، فَلِزِيَادَةِ التَّقْرِيْرِ کس لیے تقریر کی زیادتی کے لیے۔ ماقبل میں ذکر ہوا عطف بیان، اور اب ذکر کر رہے ہیں بدل کو بھئی۔ اور مثال ذکر ہوئی تھی `قَدِمَ صَدِيْقُكَ خَالِدٌ`، اور آگے بدل کی مثال ذکر کریں گے بدل الکل کی `جَاءَنِيْ أَخُوْكَ زَيْدٌ`، `جَاءَنِيْ أَخُوْكَ زَيْدٌ`۔ دیکھیے دونوں مثالیں بالکل ایک جیسی ہیں بھئی، دوسری مثال چاہے آپ اسی کو بنا لیں بھئی، `قَدِمَ صَدِيْقُكَ خَالِدٌ` اسی کو آپ بدل کی بھی مثال بنا سکتے ہیں، اسی کو آپ عطف بیان کی بھی مثال بنا سکتے ہیں۔ یاد رکھو جب موصوف جاری ہو صفت پر، تو اس میں عطف بیان بنانا بھی جائز اور بدل بنانا بھی جائز، ہاں اولیٰ کیا ہے اس میں اختلاف، بعض کہتے ہیں بدل بنانا اولیٰ ہے اور بعض کیا کہتے ہیں عطف بیان بنانا اولیٰ ہے۔ کیا کہا میں نے کب، جبکہ موصوف کو کس پر جاری کیا جائے صفت پر جاری کیا جائے۔
دیکھیے آپ نے کہا `قَدِمَ صَدِيْقُكَ خَالِدٌ`، آیا آپ کا دوست، کون ہے آپ کا دوست خالد ہے، تو خالد دراصل موصوف ہے اور اس کی صفت کیا ہے آپ کا دوست ہے وہ، آپ کا دوست ہے بھئی۔ تو صَدِيْقُكَ یہ آپ کا دوست ہونا یہ صفت ہے خالد کی، عبارت پہ نظر رکھنا بھئی، تو موصوف دراصل کون ہے خالد اور صَدِيْقُكَ یہ کیا ہے اس کی صفت، تو پہلے موصوف کو لایا جاتا ہے پھر اس کے بعد کس کو لایا جاتا ہے صفت کو، لیکن اگر صفت کو مقدم کر دیا جائے اور موصوف کو کیا کر دیا جائے مؤخر تو آپ نے صفت پر موصوف کو جاری کر دیا، حالانکہ موصوف پر صفت کو جاری کیا جاتا ہے۔ تو جب بھی موصوف کو صفت پر جاری کیا جائے اس میں عطف بیان بنانا بھی جائز اور بدل بنانا بھی جائز ہے۔ اس لیے دونوں کی مثالیں اسی پہلی کو بھی مثال بنا سکتے ہیں۔
یہ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی، کہ جب بھی موصوف کو کس پر جاری کیا جائے صفت پر، تو اس میں بدل بنانا بھی جائز اور عطف بیان بنانا بھی جائز۔ یاد رکھو، عطف بیان اور بدل میں کئی فروق ہیں مولانا، یہ لکھ لیجئے بھئی۔ عطف بیان اور بدل میں کئی فروق ہیں۔ فرق اول: بدل میں ہمیشہ تابع مقصود ہوتا ہے۔ بدل میں ہمیشہ تابع مقصود ہوتا ہے۔ مبدل منہ کو صرف تمہید کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ مبدل منہ کو صرف تمہید کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ جبکہ عطف بیان میں متبوع مقصود ہوتا ہے۔ جبکہ عطف بیان میں متبوع مقصود ہوتا ہے۔
فرق ثانی: بدل تکرار عامل کے درجے میں ہوتا ہے۔ بدل تکرار عامل کے درجے میں ہوتا ہے۔ یعنی بدل کے لیے عامل کو دوبارہ مقدر نکالا جاتا ہے۔ یعنی بدل کے لیے عامل کو دوبارہ مقدر نکالا جاتا ہے۔ تو `جَاءَنِيْ أَخُوْكَ زَيْدٌ`، تو `جَاءَنِيْ أَخُوْكَ زَيْدٌ` اگر زید کو بدل بنائیں، اگر زید کو بدل بنائیں تو اس کے لیے عامل کو دوبارہ مقدر ماننا پڑے گا۔ تو اس کے لیے عامل کو دوبارہ مقدر ماننا پڑے گا۔ یعنی دراصل کلام یوں ہوا، دراصل کلام یوں ہوا `جَاءَنِيْ أَخُوْكَ جَاءَنِيْ زَيْدٌ`، `جَاءَنِيْ أَخُوْكَ جَاءَنِيْ زَيْدٌ`۔ جبکہ عطف بیان میں ایسا نہیں ہوگا۔ جبکہ عطف بیان میں ایسا نہیں ہوگا۔
فرق ثالث: عطف بیان ہمیشہ معرفہ ہوگا، عطف بیان ہمیشہ معرفہ ہوگا، جبکہ بدل نکرہ بھی ہو سکتا ہے۔ جبکہ بدل معرفہ و نکرہ دونوں طرح آ سکتا ہے۔ فرق رابع: عطف بیان میں ماقبل کے ساتھ تعریف میں مطابقت ضروری ہے۔ عطف بیان میں ماقبل کے ساتھ تعریف میں مطابقت ضروری ہے۔ یعنی اگر معطوف علیہ معرفہ ہے، معطوف علیہ کا معرفہ ہونا بھی ضروری، یعنی معطوف علیہ کا معرفہ ہونا بھی ضروری۔ جبکہ بدل میں مطابقت ضروری نہیں۔ جبکہ بدل میں مطابقت ضروری نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی، تو بدل میں مبدل منہ اگر معرفہ ہے تو بدل معرفہ بھی آ سکتا ہے نکرہ بھی آ سکتا ہے، اور اسی طرح اگر مبدل منہ نکرہ ہے تو بھی بدل معرفہ بھی آ سکتا ہے اور نکرہ۔
فرق خامس: عطف بیان عین اول ہوگا۔ عطف بیان عین اول ہوگا۔ یعنی معطوف علیہ اور عطف بیان کی ذات ایک ہی ہوگی۔ یعنی معطوف علیہ اور عطف بیان کی ذات ایک ہی ہوگی۔ جبکہ بدل میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔ جبکہ بدل میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی، تو بدل میں مبدل منہ اگر معرفہ ہے تو بدل معرفہ بھی آ سکتا ہے، نکرہ بھی آ سکتا ہے، اور اسی طرح اگر مبدل منہ نکرہ ہے تو بھی بدل معرفہ بھی آ سکتا ہے اور نکرہ۔
نے بہار نے سبزی اگائی، تو یہ بات اس کے اعتقاد کے تو مطابق ہے، لیکن واقعے کے مطابق نہیں۔ جاہل کا ترجمہ کافر کے کیے کیونکہ یہ بمقابلہ مومن کے آ رہا ہے، معلوم ہوا جاہل سے کیا مراد ہے؟ کافر مراد ہے۔ وَالثَّالِثُ، تیسری صورت، مَا يُطَابِقُ الْوَاقِعَ فَقَطْ، جو صرف واقعے کے مطابق ہو، اعتقاد کے مطابق، كَقَوْلِ الْمُعْتَزِلِيِّ لِمَنْ لَا يَعْرِفُ حَالَهُ، اس شخص سے جو اس کے حال کو نہیں جانتا۔ دوسرے شخص کو نہیں پتہ یہ معتزلی ہے۔ اب یہ معتزلی اس کو کہتا ہے، وَهُوَ يُخْفِيهَا، اور اس حال میں کہ یہ اس سے اپنے حال کو کیا کرتا ہے؟ چھپاتا ہے، معتزلی اسے کہتا ہے، خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْأَفْعَالَ كُلَّهَا، اللہ نے پیدا کیا ہے تمام افعال کو۔ تو اب یہ مولانا واقعے کے تو مطابق ہے لیکن اعتقاد کے مطابق نہیں۔ لیکن اس کا ظاہر حال کیا بتلا رہا ہے کہ وہ اسناد مَا هُوَ لَهُ کی طرف کر رہا ہے یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ کی طرف؟ مَا هُوَ لَهُ کی طرف۔
وَهَذَا الْمِثَالُ مَتْرُوكٌ فِي الْمَتْنِ، اور یہ مثال متروک ہے متن میں۔ مصنف نے تین مثالیں ذکر کیں، پہلی أَنْبَتَ اللهُ الْبَقْلَ، دوسری أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ، اور تیسری آگے آ رہی ہے، جَاءَ زَيْدٌ۔ تین مثالیں، چوتھی مثال جو واقعے کے تو مطابق تھی لیکن اعتقاد کے مطابق نہیں، اس کو مصنف نے ذکر نہیں کیا، پڑھنے والوں کے حوالے کر دیا کہ وہ خود بنا سکیں گے بھئی۔ وَالرَّابِعُ، اور چوتھی صورت، مَا لَا يُطَابِقُ الْوَاقِعَ وَلَا الِاعْتِقَادَ جَمِيعًا، جو نہ واقعے کے مطابق ہو اور نہ اعتقاد دونوں کے، نَحْوَ قَوْلِكَ، جیسے آپ کا کہنا، جَاءَ زَيْدٌ، زید آ گیا۔ وَأَنْتَ، آگے دیکھیے متن، وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يَجِئْ، اور آپ ہی خاص طور پر جانتے ہیں کہ وہ نہیں آیا۔ یعنی سننے والے کو اس بات کا پتہ نہیں، جب اس کو پتہ نہیں تو وہ کیا سمجھے گا کہ آپ اسناد مَا هُوَ لَهُ کی طرف کر رہے ہیں یا غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ کی طرف؟ وہ ظاہر حال سے تو یہی سمجھے گا کہ اسناد کس کی طرف ہو رہا ہے؟ مَا هُوَ لَهُ کی طرف ہو رہا ہے۔
وَأَنْتَ أَيْ وَالْحَالُ، یہاں سے علامہ تفتازانی نے بتلا دیا کہ أَنْتَ سے پہلے واؤ جو ہے، یہ واؤ حالیہ ہے، اور یہ جملہ کیا بنے گا؟ حال بنے گا۔ اور حال یہ، أَنَّكَ خَاصَّةً، کہ آپ خاص طور پر بھئی، خَاصَّةً کیوں کہا؟ بھئی آپ نے پڑھا تھا وہاں جہاں بحث آئی تھی خطبے کے اندر، وَأَنَا أَسْأَلُ اللهَ، وہاں بحث ہوئی تھی کہ یہ أَسْأَلُ پر أَنَا کو کیوں مقدم کیا؟ أَسْأَلُ کے اندر تو خود أَنَا موجود ہے۔ میں کہتا ہوں أَضْرِبُ، أَضْرِبُ کے اندر کیا موجود؟ أَنَا۔ تو پھر اس أَنَا کو مقدم کر کے میں یوں کہتا ہوں، أَنَا أَضْرِبُ۔ تو یہ أَنَا کو کیوں مقدم کیا بھئی؟ تو یہ مولانا أَضْرِبُ کے اندر أَنَا ہے، اور یہ أَنَا کیا ہے؟ فاعل۔ اور فاعل کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ۔ تو یہ مسند الیہ ہے، اور مسند کیا ہے مولانا؟ أَضْرِبُ، اور أَضْرِبُ ہے فعل۔
تو جب مسند فعلی پر مسند الیہ کو مقدم کیا جائے، میں اس أَنَا کو اٹھا کر مقدم کر دیتا ہوں، کیا بن گیا؟ أَنَا أَضْرِبُ۔ تو مسند الیہ کو میں نے مقدم کر دیا کس پر؟ مسند فعلی پر۔ مسند کون ہے مولانا؟ فعل ہے۔ تو مسند الیہ کو میں نے مقدم کیا مسند فعلی پر، اور اس پر کوئی حرف نفی بھی داخل نہ ہو مولانا۔ یہاں کوئی حرف نفی داخل ہے؟ کوئی حرف نفی بھی داخل نہ ہو، تو اس صورت میں یا یہ تاکید کا فائدہ دیتا ہے یا تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ مسند الیہ کو جب مقدم کیا جائے مسند فعلی پر، اور اس پر کوئی حرف نفی بھی داخل نہ ہو، تو یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے یا تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، تَعْلَمُ کے اندر أَنْتَ ضمیر مسند الیہ کی تھی، اس مسند الیہ کو کیا کر دیا گیا مولانا؟ مسند فعلی پر مقدم کر دیا گیا، وَأَنْتَ تَعْلَمُ۔ تو یہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ اور کوئی حرف نفی بھی نہیں، تو کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تخصیص یا تاکید کا فائدہ دے گا۔ اور یہاں بتلایا کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ تخصیص کا فائدہ دے رہا ہے۔ خَاصَّةً کے ذریعے یہ بتلایا بھئی، اور حال یہ ہے کہ خاص طور پر آپ ہی جانتے ہیں أَنَّهُ لَمْ يَجِئْ کہ وہ زید آیا نہیں، سمجھ میں آئی بات بھئی؟
دُونَ الْمُخَاطَبِ، نہ کہ مخاطب، مخاطب نہیں جانتا بھئی۔ إِذْ لَوْ عَلِمَهُ الْمُخَاطَبُ أَيْضًا، اگر مخاطب کو بھی اس بات کا پتہ ہو کہ زید نہیں آیا، لَمَا تَعَيَّنَ كَوْنُهُ حَقِيقَةً، تو پھر اس کا حقیقت ہونا متعین نہیں پھر۔ لِجَوَازِ أَنْ يَكُونَ الْمُتَكَلِّمُ قَدْ جَعَلَ عِلْمَ السَّامِعِ بِأَنَّهُ لَمْ يَجِئْ قَرِينَةً عَلَى أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ ظَاهِرَهُ، اس لیے کہ بھئی میں نے آپ کے سامنے کیا کہا؟ آپ جانتے ہیں کہ زید نہیں آیا، میں پھر آپ کے سامنے کہتا ہوں جَاءَ زَيْدٌ۔ اب بھئی آپ تو جانتے ہیں زید نہیں آیا، اور میں پھر آپ کے سامنے کیا کہہ رہا ہوں، جَاءَ زَيْدٌ؟ معلوم ہوا آپ کے جاننے ہی کو میں نے قرینہ بنا دیا کہ میں نے کلام کے ظاہر کا ارادہ نہیں، میرا ارادہ، آپ کو تو پتا ہے زید نہیں آیا، پھر میں کیا کہہ رہا ہوں جَاءَ زَيْدٌ۔ تو آپ کے اس علم کو میں نے قرینہ بنا دیا کس چیز کا؟ کہ میرے کلام سے ظاہر کا ارادہ نہیں ہے کوئی اور ارادہ ہے، سمجھ میں آیا؟ پھر تو ظاہر کا ارادہ ہی نہیں ہے۔
لِجَوَازِ أَنْ يَكُونَ الْمُتَكَلِّمُ، لجواز ہونے اس بات کی کہ متکلم جو ہے، قَدْ جَعَلَ عِلْمَ السَّامِعِ، اس نے تحقیق بنا دیا ہے کس چیز کو؟ سامع کے جاننے کو۔ سامع کا کیا جاننا؟ بِأَنَّهُ لَمْ يَجِئْ، کہ وہ زید، سامع کا یہ جاننا کہ زید نہیں آیا، اس کو کیا بنایا ہے؟ قَرِينَةً، قرینہ بنایا ہے، عَلَى أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ ظَاهِرَهُ، کہ اس نے اس کلام سے ظاہر کا ارادہ نہیں کیا۔ فَلَا يَكُونَ الْإِسْنَادُ إِلَى مَا هُوَ لَهُ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ، پھر تو اسناد مَا هُوَ لَهُ کی طرف نہیں ہوا مولانا، کس کی طرف ہوا؟ آپ کو تو پتہ ہے مجیئت کا فعل زید نے سرانجام، اور میں کہہ رہا ہوں جَاءَ زَيْدٌ۔ تو اب یہ آپ کے جاننے ہی کو میں نے قرینہ بنا دیا کہ میں اسناد مَا هُوَ لَهُ کی طرف نہیں کر رہا، بلکہ کس کی طرف کر رہا ہوں؟ غَيْرِ مَا هُوَ... فَلَا يَكُونَ الْإِسْنَادُ إِلَى مَا هُوَ لَهُ، پس اسناد نہیں ہوگا مَا هُوَ لَهُ کی طرف، عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ، متکلم کے نزدیک اس کے ظاہر حال میں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
بھئی یہاں تک یہ تقریر ہوئی کہ اس کی چار صورتیں ہیں، ان چار میں سے تین صاحب کتاب نے متن میں ذکر کیں اور چوتھی کتاب مثال کو کیا کر دیا؟ چھوڑ دیا۔ علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا کہ وَهَذَا الْمِثَالُ مَتْرُوكٌ فِي الْمَتْنِ، یہ مثال متن میں متروک ہے۔ ملا عبدالحکیم سیالکوٹی مولانا، بڑے محقق گزرے ہیں، بہت بڑے محقق بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بڑے محقق، ملا عبدالحکیم سیالکوٹی بھی لکھتے ہیں ان کو اور ملا عبدالحکیم لاہوری بھی ان کو لکھتے ہیں، بڑے محقق گزرے ہیں، جن پر بجا طور پر پنجاب کی سرزمین فخر کر سکتی ہے۔ انہوں نے عجیب تقریر کی، کہتے ہیں چاروں مثالیں متن میں ہیں۔ علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں تین دی ہیں، تین نہیں، چاروں مثالیں متن میں ہیں۔ کس طرح؟ کہتے ہیں یہ تیسری مثال جو دی، یہ دراصل دو مثالیں بن جاتی ہیں۔ جَاءَ زَيْدٌ وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يَجِئْ، یہ کتنے کے قائم مقام ہے؟ دو کے قائم مقام۔ وہ اس طرح کہ تَعْلَمُ کا معنی جاننے کے نہ کریں، تَعْلَمُ کا معنی کریں یقین کے، اعتقاد کے۔
زید آ گیا، اچھا کون سی نہیں تھی مولانا؟ کون سی دو مس... کون سی مثال متن میں نہیں ہے؟ جو واقعے کے تو مطابق ہو لیکن اعتقاد کے مطابق نہ ہو، یہ مثال انہوں نے کہا متن میں نہیں۔ اور یہ جو مثال متن میں آئی ہے، یہ نہ واقعے کے مطابق ہے اور نہ اعتقاد کے مطابق ہے۔ اب اس کو ہم مثال بنائیں گے، دونوں صورتیں بن جائیں گی۔ واقعے، اعتقاد کے تو یہ مطابق... اعتقاد کے تو مطابق ہے ہی نہیں۔ خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْأَفْعَالَ كُلَّهَا، یہ اعتقاد کے مطابق ہے؟ نہیں۔ جَاءَ زَيْدٌ، یہ اعتقاد کے مطابق ہے؟ اعتقاد کے مطابق تو... اعتقاد کے ساتھ تو دونوں میں عدم مطابقت ہے۔ البتہ ایک میں واقعے کے ساتھ مطابقت ہے، دوسرے میں واقعے کے ساتھ مطابقت نہیں۔ ہم اسی ایک کو ایسا بنا دیں گے کہ اس کی واقعے کے ساتھ مطابقت ہوگی بھی اور... تو یہ دونوں کی کس طرح؟ ترجمہ یوں کرو، زید آیا اور خاص طور پر آپ کو یقین ہے کہ زید نہیں آیا۔
تو بتلائیے مولانا، آپ کے کسی چیز کے بارے میں یقین کرنے یا نہ کرنے سے اس چیز پر اثر پڑتا ہے؟ آپ کو یقین ہے زید نہیں آیا، تو کیا ضروری ہے زید نہ آیا ہو؟ جی؟ آپ بتلائیے بھئی، آپ کو یقین ہے کہ زید نہیں آیا، لیکن کیا آپ کے یقین ہونے سے ضروری ہے کہ زید واقعے میں بھی نہ آیا ہو؟ بھئی کتنی کلام آپ کرتے ہیں کہ مجھے یقین ہے ایسا ہے، لیکن پھر آپ دیکھتے ہیں تو اس کے مخالف ہوتا ہے۔ تو یقین کے ہونے سے کسی چیز کا ہونا یا نہ ہونا لازم نہیں۔ تو آپ کو یقین ہے کہ زید نہیں آیا، لیکن واقعے میں ہو سکتا ہے زید آیا ہو، ہو سکتا ہے زید نہ آیا ہو، تو دونوں صورتیں آ گئیں۔
واقعے کے ساتھ مطابقت بھی آ گئی، ایک کہ ہو سکتا ہے زید آیا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ زید نہ آیا ہو، تو واقعے کے ساتھ عدم مطابقت۔ تو آپ نے کہا جَاءَ زَيْدٌ، آپ کو یقین ہے کہ زید نہیں آیا، ہو سکتا ہے زید آیا ہو۔ تو یہ کون سی صورت بن گئی؟ اعتقاد کے مطابق تو نہیں لیکن واقعے کے، اور ہو سکتا ہے وہ واقعے آیا بھی نہ ہو، تو یہ مولانا اعتقاد کے بھی مطابق نہیں اور واقعے کے مطابق بھی نہیں۔ تو یہ کتنے کے قائم مقام ہو گئی یہ مثال؟ دو۔ تو اس میں دونوں صورتیں بن جاتی ہیں بھئی۔
وَمِنْهُ أَيْ مِنَ الْإِسْنَادِ، اور اسناد میں سے بعض مَجَازٌ عَقْلِيٌّ ہیں، مجاز عقلی ہے۔ وَيُسَمَّى مَجَازًا حُكْمِيًّا وَمَجَازًا فِي الْإِثْبَاتِ وَإِسْنَادًا مَجَازِيًّا، اور اس مجاز عقلی کو اور کیا نام ہے بھئی؟ اس کو مجاز حکمی بھی کہتے ہیں، مجاز فی الاثبات بھی کہتے ہیں، اور اسناد مجازي بھی کہتے ہیں۔ وَهُوَ إِسْنَادُهُ أَيْ إِسْنَادُ الْفِعْلِ أَوْ مَعْنَاهُ إِلَى مُلَابِسٍ لَهُ، وہ اسناد ہے فعل یا معنی فعل کا إِلَى مُلَابِسٍ لَهُ، اس کے کسی متعلق کی طرف، ایسا متعلق غَيْرِ مَا هُوَ لَهُ، جو مَا هُوَ لَهُ سے غیر ہو، مَا هُوَ لَهُ سے غیر ہو۔ أَيْ غَيْرِ الْمُلَابِسِ الَّذِي ذَلِكَ الْفِعْلُ أَوْ مَعْنَاهُ مَبْنِيٌّ لَهُ، یعنی وہ ملابس غیر ہو، اس فعل یا معنی فعل کو جس کے لیے وہ فعل یا معنی فعل کیا ہو؟ اس کی بنا کی گئی ہے۔ فعل یا معنی فعل کی بنا جس کے لیے کی گئی ہے اس کے غیر ہو۔
فعل معروف کی بنا کس کے لیے کی گئی ہے؟ فاعل کے لیے، اور یہ اس سے غیر ہو، فاعل نہ ہو۔ اور فعل مجہول کی بنا کس کے لیے کی گئی ہے؟ مفعول کے لیے۔ اور اس کا اسناد مفعول کی طرف نہ ہو بلکہ کس کی طرف ہو؟ غیر کی طرف۔ يَعْنِي غَيْرَ الْفَاعِلِ فِي الْمَبْنِيِّ لِلْفَاعِلِ وَغَيْرَ الْمَفْعُولِ بِهِ فِي الْمَبْنِيِّ لِلْمَفْعُولِ، یعنی غیر فاعل کی طرف ہو مبنی للفاعل میں، اور غیر مفعول کی طرف ہو مبنی للمفعول میں۔ سَوَاءٌ كَانَ ذَلِكَ الْغَيْرُ غَيْرًا فِي الْوَاقِعِ أَوْ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ، برابر ہے چاہے کہ وہ غیر، غیر ہو واقعے کے اندر أَوْ عِنْدَ الْمُتَكَلِّمِ فِي الظَّاهِرِ، یا متکلم کے نزدیک اس کے ظاہر حال میں۔ استاد آ گئے ہیں بھئی۔
چلیے مولانا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔