Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-045

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 27 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 4
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ کبھی کبھار مسند الیہ کو اسمِ موصول کی صورت میں لایا جاتا ہے تاکہ آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ ہو جائے بھئی۔ یعنی ابتدائے کلام کے ذریعے اشارہ کیا جاتا ہے کس کی طرف؟ انتہائے کلام کی طرف، جیسے: {إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي}، اس کے ذریعے اشارہ ہو گیا کہ آنے والی خبر جنسِ عقاب سے ہے تو بتلایا گیا: {سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ}۔ اور پھر بتلایا تھا کہ بسا اوقات اس اشارے کو ذریعہ اور وسیلہ بنایا جاتا ہے خبر کی عظمتِ شان کے لیے، اس کی طرف تعریض کی جاتی ہے، اشارہ کیا جاتا ہے، جیسے: {إِنَّ الَّذِي سَمَكَ السَّمَاءَ}، جب تو یہاں اس میں مسند الیہ کو اسمِ موصول کی صورت میں لایا گیا جس سے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ ہو گیا کہ آگے آنے والی خبر بھی کس نوع سے ہے؟ رفعت اور تعمیر کی نوع سے ہے، تخریب کی نوع سے نہیں ہے، اور پھر اس کو ذریعہ بنایا گیا کس چیز کا؟ خبر کی عظمتِ شان کا، کہ خبر کیا ہے؟ بنایا گھر، تو اس گھر کی کیا آ گئی مولانا؟ عظمتِ شان آ گئی کہ اس کو بنانے والی وہی ذات ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا ہے، بلند کیا ہے۔ اور یا کبھی کبھار اس کو، اس اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے غیرِ خبر کی عظمتِ شان کے لیے، جیسے: {الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ}۔ {الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا}، وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا حضرت شعیب علیہ السلام کو، تو یہ مسند الیہ کو اسمِ موصول کی صورت میں لایا گیا، اس کے ذریعے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ ہو گیا کہ آگے آنے والی خبر کس قبیل سے ہے؟ خسران کے قبیل سے ہے مولانا، نفع کے قبیل سے نہیں۔ اور پھر اس اشارے کو ذریعہ بنایا گیا حضرت شعیب علیہ السلام کی عظمتِ شان کی طرف تعریض کرنے کے لیے کہ معلوم ہو حضرت شعیب علیہ السلام کوئی معمولی ہستی نہیں، نہایت اونچی ہستی ہیں کہ جن کے، جن کو جھٹلانا کس چیز کا سبب بن رہا ہے؟ خسارے کا سبب بن رہا ہے۔ اور پھر علامہ تفتازانی، یہ تو تھا متن، پھر علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا کہ کبھی کبھار اس کا عکس ہوتا ہے مولانا، یعنی خبر کی عظمتِ شان نہیں بلکہ خبر کی اہانت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، جیسے مولانا: {إِنَّ الَّذِي لَا يُحْسِنُ مَعْرِفَةَ الْفِقْهِ}، وہ شخص جو اچھی طرح فقہ کو نہیں جانتا، تو اس کے ذریعے اشارہ ہو گیا کہ آنے والی خبر بھی کس نوع سے ہے؟ اس میں بھی کس چیز کا ذکر ہوگا؟ فقہ کا ذکر ہوگا، تو آگے خبر آئی: {قَدْ صَنَّفَ فِيهِ كِتَابًا}، اس نے تصنیف کی ہے فقہ کے اندر ایک کتاب۔ اور پھر اس میں اور پھر یہ اشارے، یہ جو اشارہ ہے اس کو ذریعہ بنایا کس چیز کا؟ تعریض کس چیز کی طرف ہے؟ خبر کی اہانت کی طرف تعریض ہو گئی کہ وہ کتاب جو لکھی وہ کس قسم کی ہے؟ نہایت ادنیٰ درجے کی ہوگی، جب وہ فقہ جانتا ہی نہیں ہے اور اس نے کتاب تصنیف کی ہے معلوم ہوا وہ کتاب کیا ہوگی؟ بڑی ادنیٰ درجے کی ہوگی۔ اور کبھی مولانا غیرِ خبر کی اہانت کی طرف تعریض کی جاتی ہے، جیسے: {إِنَّ الَّذِي يَتَّبِعُ الشَّيْطَانَ}، وہ شخص جو اتباع کرتا ہے شیطان کا، اس سے پتہ چل گیا آگے آنے والی خبر کی نوع کون سی ہے؟ جی؟ اس میں نفع کا ذکر ہوگا یا خسارے کا ذکر ہوگا؟ خسارے کا، تو بتلایا گیا: {فَهُوَ خَاسِرٌ}، تو آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ ہوا، اور پھر اس اشارے کو ذریعہ بنایا گیا کس چیز کا؟ اہانتِ غیرِ خبر کا، یعنی شیطان کی کیا ہوئی یہاں پر؟ معلوم ہوا وہ ذات جس کی جس کا اتباع خسارے کا سبب بنے وہ بڑی ہی ادنیٰ درجے کی اور حقیر ذات ہے۔ اور پھر بتلایا تھا کبھی کبھار اس کو، اس اشارے کو ذریعہ بنایا جاتا ہے تحقیقِ خبر کا، کہ خبر واقع میں ہے یا ثابت ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے مولانا شاعر نے کہا تھا: {إِنَّ الَّتِي ضَرَبَتْ بَيْتًا مُهَاجِرَةً ... بِكُوفَةِ الْجُنْدِ غَالَتْ وُدَّهَا غُولُ} کہ وہ جس نے لگایا ہے خیمہ، جس نے اقامت اختیار کی ہے یعنی، {مُهَاجِرَةً} اس حال میں کہ وہ ہجرت کرنے والی ہے کدھر؟ کوفۃ الجند میں، {غَالَتْ} ہلاک کر دیا ہے، ختم کر دیا ہے اس کی محبت کو جنوں بھوتوں نے یا حوادثات نے۔ تو یہاں دیکھو، جب کہا: وہ جس نے اقامت کی ہے اس حال میں کہ وہ ہجرت کی ہے اس نے کس طرف؟ ہجرت کی ہے اور کہاں پر اس نے اقامت اختیار کی ہے؟ کوفۃ الجند میں جس نے اقامت اختیار کی ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب انسان کسی جگہ کے رہنے والوں سے اس کی محبت ختم ہوتی ہے تو پھر وہ کیا کرتا ہے وہاں سے؟ ہجرت کرتا ہے، ہجرت کرتا ہے۔ اور اگر رہنے والوں سے محبت ہو پھر تو اس جگہ کو چھوڑنا نہیں چاہتا بھئی۔ تو یہاں، تو یہ تحقیقِ خبر کے لیے ہے، اور پہلے اس سے دلیلِ لِمّی سمجھ لیں، دلیلِ لِمّی کس کو کہتے ہیں بھئی؟ اور اس سے پہلے علت اور معلول سمجھ لیں، علت کس کو کہتے ہیں؟ جو مفضی الی الشئے ہو بغیر واسطے کے، جب علت پائی جائے گی معلول کا پایا جانا ضروری ہے۔ جب بھی سورج نکلے گا ہمیشہ کیا پایا جائے گا؟ دن بھئی۔ اسی طرح جیسے مولانا جب بھی آگ جلے گی دھواں پایا جائے گا، کیا ہوگا؟ آگ ہوگی تو دھواں ہوگا۔ اب معلول کے ذریعے استدلال کرنا علت پر یہ دلیلِ لِمّی کہلاتا ہے، اور علت کے ذریعے استدلال کرنا معلول پر یہ دلیلِ اِنّی کہلاتا ہے۔ تو یہاں پر دلیلِ لِمّی کے طریقے پر ذکر کیا جاتا ہے بھئی کہ معلول کو ذکر کیا جاتا ہے اور معلول جب پایا گیا اور معلول تو کس کی وجہ سے آتا ہے؟ علت کی وجہ سے، دن کا جب آپ نے، دن جب پایا گیا معلوم ہوا سورج بھی نکلا ہوا ہے، جب دھواں آپ نے دیکھا اس دھوئیں نے کس چیز پر دلالت کر دی؟ آگ پر دلالت کر دی بھئی، تو جب بھی دھواں ہوگا آگ کا ہونا ضروری ہے، تو معلول جب بھی پایا جائے گا علت کا پایا جانا ضروری ہے، یہ دلیلِ لِمّی ہے۔ تو یہاں پر بھی مولانا محبت کا ختم ہونا یہ علت ہے اور ہجرت یہ کیا ہے؟ یہ معلول ہے، اور جب ہجرت پائی گئی معلوم ہوا کہ زوالِ محبت بھی پایا گیا۔ تو دیکھا اب یہاں پر دیکھو کیا کہا گیا کہ وہ جس نے اقامت اختیار کی ہے کوفۃ الجند میں اس حال میں کہ وہ ہجرت کرنے والی ہے، اس سے آگے آنے والی خبر کی نوع کی طرف اشارہ ہو گیا کہ آگے کس چیز کا ذکر ہوگا؟ کس جنس کی ہوگی خبر؟ اس میں زوالِ محبت کا ذکر ہوگا، اور پھر مولانا یہ جو اسمِ موصول کے اندر ہجرت اور اقامت دوسری جگہ ہجرت دوسری طرف ہجرت کرنے اور وہاں اقامت کرنے کا ذکر ہے اور اقامت کرنا تب ہی پایا جاتا ہے جب کیا ہو؟ محبت زائل ہو جائے، تو جب معلول پایا جائے گا علت کا پایا جانا یقینی، تو یہاں معلول کو ذکر کر دیا گیا معلوم ہوا کہ آگے آنے والی خبر بھی کیا ہے؟ جی؟ یقینی ہے، اس میں شک و شبہ اور انکار کی گنجائش نہیں، تو یہ تحقیقِ خبر کے لیے آیا بھئی اشارہ۔ {وَبِالْإِشَارَةِ} أَيْ تَعْرِيفُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ بِإِيرَادِهِ، بِإِيرَادِهِ اسْمَ الْإِشَارَةِ۔ بھئی سب سے پہلے آپ نے حذف کے نکات پڑھے، کبھی کبھار مسند الیہ کو کیا کیا جاتا ہے؟ حذف کیا جاتا ہے، پھر اس کے بعد آپ نے ذکر کے نکات پڑھے کہ مسند الیہ کو کیا کیا جاتا ہے؟ ذکر کیا جاتا ہے۔ پھر جب ذکر کیا جائے گا تو اس کو یا معرفہ ذکر کریں گے یا نکرہ ذکر کریں گے، تو پہلے معرفہ کے نکات ذکر کر رہے ہیں بھئی، اور معرفہ پھر کئی صورتوں میں آتا ہے: کبھی ضمیر کی صورت میں آتا ہے وہ بھی آپ نے نکات پڑھ لیے، کبھی علم کی صورت میں معرفہ کو لایا جاتا ہے وہ بھی آپ نے نکات پڑھ لیے، کبھی اسمِ موصول کی صورت میں ہوگا اور کبھی اسمِ اشارہ کی صورت میں، تو اب وہ بتلانے لگے ہیں کہ مسند الیہ کو کبھی کس طرح لایا جاتا ہے؟ معرفہ لایا جاتا ہے اسمِ اشارہ کے ساتھ، {أَيْ تَعْرِيفُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ} مسند الیہ کو معرفہ لانا، معرفہ بنانا {بِإِيرَادِهِ اسْمَ الْإِشَارَةِ} اس کو اسمِ اشارہ کے ساتھ لاتے ہوئے۔ {لِتَمَيُّزِهِ}، لِتَمَیُّز نہیں ہونا چاہیے مولانا، لِتَمْیِیْز ہونا چاہیے، {لِتَمْيِيزِهِ} اس کو ممتاز کرنے کے لیے، کس کو؟ أَيِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ، مسند الیہ کو ممتاز کرنے کے لیے، {أَكْمَلَ تَمْيِيزٍ} یہ بھی تَمْیِیْز ہونا چاہیے بھئی تفعیل، کامل طور پر اس کو ممتاز کرنے کے لیے، {لِغَرْضٍ مِنَ الْأَغْرَاضِ} کسی غرض کی وجہ سے بھئی، غرضوں میں سے کسی غرض کی وجہ سے۔ تو کبھی کبھار جب مسند الیہ کو آپ کامل طور پر ممتاز کرنا چاہتے ہوں تو کس کے ذریعے لایا جاتا ہے؟ اس کو کس صورت میں لایا جاتا ہے؟ اسمِ اشارہ کی صورت میں لایا جاتا ہے۔ مثلاً آپ نے کہا: ”زَيْدٌ عَالِمٌ“، ”زَيْدٌ عَالِمٌ“ تو آپ کو پتہ چل گیا زید کے عالم ہونے کا، لیکن سننے والے کے ذہن میں ایک احتمال اور بھی آ گیا کہ یہ جو زید کا اس نے ذکر کیا یہ وہی زید ہے جس کو میں جانتا ہوں یا ہو سکتا ہے یہ کوئی اور زید یہاں پر مراد ہو؟ ہو سکتا ہے یہاں پر کوئی اور زید مراد ہو کیونکہ نام ہے، کسی اور کا نام بھی زید ممکن ہے۔ لیکن جب آپ کسی شخص کو بتلا رہے ہیں: ”هَذَا عَالِمٌ“، کیا کر دیا آپ نے؟ اشارہ کر دیا، جب اشارہ کر دیا تو کیا ہوا؟ حساً ایک چیز کا جب مشاہدہ ہوا تو وہ کیا ہوئی؟ کامل طور پر کیا ہو گئی؟ ممتاز، اب وہاں پر کسی قسم کی بھی شرکت وغیرہ کی گنجائش نہیں، وہ کامل طور پر ممتاز ہو گئی وہ چیز، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کامل طور پر کسی چیز کو جب ممتاز کرنا ہو کسی بھی غرض کی وجہ سے تو پھر اس کو کس صورت میں ذکر کیا جاتا ہے؟ اسمِ اشارہ کی صورت میں۔ جیسے اگلے شعر کے اندر مولانا مدح کے اندر مبالغے کے طور پر ممتاز کیا جائے گا، جیسے کہتا ہے: ”هَذَا أَبُو الصَّقْرِ“، یہ کون ہے؟ ابو الصقر ہے، ”فَرْدًا فِي مَحَاسِنِهِ“، یکتا ہے اپنی خوبیوں کے اندر، ”مِنْ نَسْلِ شَيْبَانَ“، شیبان کی نسل سے ہے، ”بَيْنَ الضَّالِ وَالسَّلَمِ“، اور کہاں رہتا ہے؟ نسلِ شیبان کہاں رہتا ہے بھئی؟ ضال اور سلم کے بیچ میں بھئی، ضال اور سلم یہ دو درختوں کے نام ہیں، ضال کہتے ہیں بیری کا درخت، بیری، اور سلم یہ بھی کوئی کانٹے دار درخت ہے بھئی، کانٹے دار۔ تو ضال اور سلم کے درختوں کے بیچ رہتا ہے، وہ رہتا ہے یا یہ شیبان کی جو نسل ہے وہ وہاں رہتی ہے بھئی، تو یہ اس میں سے ہے، اکیلا یکتا ہے اپنی خوبیوں کے اندر۔ تو مقامِ استشہاد ہے مولانا: ”هَذَا“، کیا ہے؟ ”هَذَا“۔ ”هَذَا“ مبتدا، ”أَبُو الصَّقْرِ“ اس کی خبر مولانا، تو ”هَذَا“ مسند الیہ کو اسمِ اشارہ کی صورت میں لایا گیا، کیوں لایا گیا اسمِ اشارہ کی صورت میں؟ اس کو کامل طور پر ممتاز کرنے کے لیے، اور مقصد کیا تھا؟ مدح کے اندر مبالغہ کرنا تھا کہ یہ ان خوبیوں کے اندر یکتا ہے، کوئی اس کے ساتھ اس کا شریک نہیں ہے بھئی۔ تو ”فَرْدًا“ یہ ابو الصقر ہے، ”فَرْدًا“ یکتا ہے، {نُصِبَ عَلَى الْمَدْحِ}، تو یہ کیا ہے؟ منصوب ہے کس بنا پر فَرْدًا بھئی؟ منصوب بنا بر مدح کے ہے، أَعْنِي فَرْدًا، أَعْنِي فَرْدًا، یعنی یکتا ہے۔ {أَوْ عَلَى الْحَالِ} یا یہ منصوب ہے مولانا کس بنا پر؟ حال ہونے کی بنا پر کہ اس حال میں کہ یہ یکتا ہے، {فِي مَحَاسِنِهِ} اپنی خوبیوں میں، {مِنْ نَسْلِ شَيْبَانَ} کس کی نسل میں سے ہے؟ شیبان کی نسل میں سے ہے، {بَيْنَ الضَّالِ وَالسَّلَمِ} اور کہاں رہتے ہیں؟ کہاں رہتا ہے؟ ضال اور سلم کے بیچ، یا نسلِ شیبان کہاں رہتی ہے؟ ضال اور سلم کے درختوں کے درمیان یعنی جنگل میں رہتی ہے بھئی۔ {وَهُمَا} خود بتلا رہے ہیں علامہ تفتازانی: {وَهُمَا شَجَرَتَانِ بِالْبَادِيَةِ} یہ دو درخت ہیں کہاں پر؟ دیہات یا جنگل میں پائے جاتے ہیں، {أَيْ يُقِيمُونَ بِالْبَادِيَةِ} یہ جنگل میں رہتے ہیں بھئی یعنی دیہات میں رہتے ہیں، کس میں رہتے ہیں؟ {لِأَنَّ فَقْدَ الْعِزِّ فِي الْحَضَرِ} اس لیے کہ عزت کا کھونا شہر میں ہوتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ دیہات میں کہتے ہیں عزت زیادہ ہے، شہر میں زیادہ عزت نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ گاؤں کا چودھری گاؤں کا چودھری ہوتا ہے بھئی، پورے گاؤں پر اس کی ایک طرح کی حکومت ہوتی ہے، جبکہ شہر کے اندر جتنا بڑا بھی آدمی ہو اس کو حکام کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی کس کام میں کبھی کس کام میں، اور ہر جگہ کیا ہے؟ ہر مقام پر اس کی عزت ہو ایسا نہیں ہوتا بھئی، تو فقدِ عزت کہاں پر ہے؟ شہر۔ یا یہ مراد ہے مولانا کہ دیہات والوں کی زبان بڑی خالص ہوتی ہے، نہایت فصیح و بلیغ ہوتے ہیں جبکہ شہروں کے اندر تو عجمی لوگ بھی آیا کرتے ہیں اور ان کی زبان میں کیا ہو جاتا ہے؟ اختلاط ہوتا رہتا ہے، خالص زبان اور فصیح زبان نہیں رہتی۔ تو وہ دیہات میں رہتا ہے بتلانا یہ چاہتا ہے، بڑا با عزت ہے یا بڑا ہی فصیح و بلیغ ہے۔ {أَوِ التَّعْرِيضِ بِغَبَاوَةِ السَّامِعِ} یا مولانا کبھی کبھار مسند الیہ کو اسمِ اشارہ کی صورت میں لایا جاتا ہے کہ آپ تعریض کرنا چاہتے ہیں کس چیز پر؟ سامع کی غباوت پر تعریض کرنا چاہتے ہیں، سامع یعنی آپ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ جو سننے والا ہے اتنا غبی ہے، اتنا غبی ہے جب تک کسی چیز کو آنکھوں سے نہ دیکھ لے اس کو بات سمجھ میں نہیں آتی، جب تک آنکھوں سے دیکھ نہ لے اس کو بات سمجھ میں نہیں آتی بھئی۔ تو سامع کی غباوت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے، اس پر تعریض کرنے کے لیے مسند الیہ کو اسمِ اشارہ کی صورت میں لایا جاتا ہے، {حَتَّى كَأَنَّهُ لَا يُدْرِكُ غَيْرَ الْمَحْسُوسِ} یہاں تک کہ گویا جو سامع ہے وہ غیرِ محسوس کا ادراک ہی نہیں کر سکتا، اتنا غبی ہے۔ محسوس سے وہ مراد ہے مولانا جو آنکھوں سے نظر آئے، محسوس سے کیا مراد ہے؟ جو چیز آنکھوں سے نظر آئے بھئی۔ تو غیرِ محسوس یعنی جو چیز غیرِ مرئی ہے اس کا وہ ادراک ہی نہیں کرتا، جو چیز نظر آتی ہے اس کو تو سمجھ لیتا ہے، جو چیز نظر نہیں آتی وہ اس کو سمجھ میں بھی نہیں آتی۔ {كَقَوْلِهِ} جیسے یہ شعر ہے مولانا، یہ بھی فرزدق کا شعر ہے اور فرزدق کس کو کہہ رہا ہے؟ جریر کو کہہ رہا ہے۔ فرزدق کس میں سے ہے؟ قریش میں سے ہے، اور جریر کس میں سے ہے؟ بنو تمیم کے ایک چھوٹے خاندان سے۔ فرزدق اس کو کہتا ہے: {أُولَئِكَ آبَائِي فَجِئْنِي بِمِثْلِهِمْ ... إِذَا جَمَعَتْنَا يَا جَرِيرُ الْمَجَامِعُ} یہ ہیں میرے آبا، یہ ہیں میرے باپ دادا۔ بھئی اپنے باپ دادا کا ذکر کیا بھئی اس نے کہ دیکھو ہم قریش والے ہیں، ہمارے خاندان میں فلاں آدمی گزرا ہے، زید گزرا ہے وہ کتنا بڑا آدمی تھا، بڑا مہمان نواز تھا، فلاں آدمی بکر ہمارے خاندان میں گزرا ہے اور وہ بڑی شجاعت اس کی مشہور تھی، ہر وقت جنگوں میں مصروف رہتا تھا، اور فلاں شخص ہمارے خاندان میں مثلاً خالد گزرا ہے اور وہ کیا تھا؟ بڑا ہی حاجیوں کی خدمت کیا کرتا تھا وغیرہ وغیرہ اور بڑا بہادر تھا، خوبیاں ذکر کیں اور پھر اس کے بعد کہتا ہے: {أُولَئِكَ آبَائِي}، یہ ہیں میرے آبا، یہ ہیں، تو یہاں پر تو کہنا چاہیے تھا: ”هُمْ آبَائِي“، وہ جو میں نے ذکر کیے وہ کیا ہیں؟ میرے آبا، یا یوں کہنا چاہیے تھا کہ یہ زید، عمر، بکر، خالد یہ کیا ہیں؟ میرے آبا، لیکن اس کے بجائے کیا لے کر آئے؟ اسمِ اشارہ۔ جریر کے بارے میں کہنا چاہتا ہے کہ جریر اتنا غبی ہے، اتنا غبی ہے کہ جب تک کوئی چیز اس کے سامنے مشاہد نہ ہو جائے، آنکھوں سے مشاہدہ محسوس چیز نہ ہو، نظر آنے والی چیز جب تک نہ ہو اس وقت تک اس کو بات سمجھ میں نہیں آتی بھئی۔ تو کہتا ہے: {أُولَئِكَ آبَائِي} وہ ہیں میرے آبا، {فَجِئْنِي بِمِثْلِهِمْ} پس تو لے آ میرے پاس ان جیسوں کو، یعنی اپنے ان جیسے کوئی آبا ہیں تو ان کو لے آ یعنی ان کا ذکر کر، کیا کر؟ اے جریر تمہارے تو کوئی ایسے آبا نہیں ہیں، اگر ہیں تو لے کر آؤ ذکر کرو بھئی۔ {إِذَا جَمَعَتْنَا} جبکہ ہم کو جمع کر دیں، {الْمَجَامِعُ} یہ فاعل ہے جمعت کا، کون جمع کر دیں؟ مجلسیں بھئی، کیا جمع کر دیں؟ جب مجالس ہمیں جمع کر دیں یعنی مجلسوں میں ہم اکٹھے ہو جائیں تو تو کیا کر؟ ان جیسے آبا کو لے آ اور ذکر کر کے بتا بھئی تمہارے ایسے آبا کہاں ہیں، {يَا جَرِيرُ} درمیان میں ندا آ گئی، اے جریر، {إِذَا جَمَعَتْنَا يَا جَرِيرُ الْمَجَامِعُ}۔ {أَوْ بَيَانِ حَالِهِ} أَيِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ، ضمیر کا مرجع بتلایا: أَيْ بَيَانِ حَالِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ، کس لیے؟ یا کبھی کبھار مسند الیہ کو اسمِ اشارہ کی صورت میں لایا جاتا ہے کس لیے؟ مسند الیہ کا حال بتلانے کے لیے، کس چیز میں مسند الیہ کا حال؟ {فِي الْقُرْبِ أَوِ الْبُعْدِ أَوِ التَّوَسُّطِ}، قرب میں یا بعد میں یا توسط میں، {كَقَوْلِكَ هَذَا وَذَلِكَ أَوْ ذَاكَ زَيْدٌ}۔ بھئی مسند الیہ کا حال آپ بتلانا چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے قریب ہے، دور ہے یا متوسط ہے تو پھر اسمِ اشارہ کی صورت میں مسند الیہ کو لایا جاتا ہے۔ مثلاً زید میرے قریب ہے تو میں کہوں گا: ”هَذَا زَيْدٌ“، زید مجھ سے دور ہے تو میں کیا کہوں گا؟ ”ذَلِكَ زَيْدٌ“، اور اگر متوسط ہے پھر میں کیا کہوں گا؟ ”ذَاكَ زَيْدٌ“۔ تو اسمِ اشارہ کے ذریعے میں نے مسند الیہ کا حال بتلا دیا کہ وہ میرے قریب ہے یا مجھ سے دور ہے یا وہ متوسط فاصلے پر ہے، کس پر ہے؟ تو اس کے لیے پھر کس کو لایا جاتا ہے یہ فاصلہ بتلانے کے لیے، اس کا حال بتلانے کے لیے؟ اسمِ اشارہ کو۔ اچھا دیکھیے متن کے اندر، جواب دے رہے ہیں ایک اعتراض کا، دیکھو متن میں آیا: {قُرْبِ وَالْبُعْدِ}، پہلے قرب کا ذکر آیا پھر بعد کا ذکر آیا، پھر توسط کا ذکر آیا۔ حالانکہ ترتیب تو یوں ہونی چاہیے تھی: پہلے قرب کا ذکر آتا پھر توسط کا آتا، پھر آخر میں جا کے بعد کا آتا۔ تو یہاں توسط کو مؤخر کر دیا، تو علامہ تفتازانی آپ کو بتلا رہے ہیں آگے بھئی کہ دراصل توسط تو ایک نسبت کا نام ہے، پہلے قرب اور بعد کا پتہ چلے تو پھر متوسط کا پتہ چلے گا، اگر قرب اور بعد کا ہی نہیں پتہ تو توسط کی تعین بھی نہیں ہو سکتی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً ایک شخص میرے سے پانچ فٹ کے فاصلے پر ہے، قریب ہے، میں کیا کہوں گا؟ ”هَذَا زَيْدٌ“۔ دوسرا شخص کتنے فاصلے پر ہے؟ تیس فٹ کے فاصلے پر ہے، اب وہ بعید ہے، اس کو میں کیا کہوں گا؟ ”ذَلِكَ زَيْدٌ“۔ اور وہ اگر درمیان میں ہے، یہ کتنے کے درمیان بھئی؟ پانچ اور تیس کے درمیان جو ہوگا اس کے لیے میں کیا کہوں گا؟ ”ذَاكَ زَيْدٌ“ مثلاً، سمجھ میں آیا؟ تو یہ ان دونوں قرب اور بعد طے ہوئے تو پھر درمیان کا پتہ چلا۔ ہو سکتا ہے بعد کی نسبت سے یہی کیا ہو؟ بعید ہو، یہ کیا ہو؟ بعید بن جائے مثلاً۔ مثلاً اب اگر کوئی شخص پچیس فٹ کے فاصلے پر ہے میں اس کو کیا کہوں گا؟ ”ذَاكَ“، کیونکہ بعید کون سا تھا مثلاً؟ تیس فٹ والا بعید ہے، تو یہ درمیان میں جو آیا وہ ”ذَاكَ“، اس پچیس کے لیے میں ”ذَاكَ“ لے کر آؤں گا۔ لیکن ہو سکتا ہے بعید جو ہے وہ کتنے پر ہے؟ بیس فٹ پر ہے، کتنے پر ہے؟ بیس فٹ پر ہے، تو اب جو بیس سے زائد ہوگا وہ بھی بعید میں آئے گا یا متوسط میں آئے گا؟ بعید میں آئے گا۔ تو دیکھو پہلے وہ پچیس فٹ والا کس پہ تھا؟ توسط تھا اس کے لیے، نسبت کیا تھا؟ وہ درمیان میں تھا قریب اور بعید کے، اور اب وہ کہاں پر ہے؟ بعید میں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پہلے قرب اور بعد تو طے ہو جائیں کہ قرب کون سا ہے، قریب کون سا ہے، بعید کون سا ہے، پھر درمیان میں جو بھی آئیں گے وہ کیا ہوں گے؟ متوسط۔ {وَأَخَّرَ ذِكْرَ التَّوَسُّطِ} اور مؤخر کیا ماتن نے توسط کے ذکر کو، {لِأَنَّهُ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بَعْدَ تَحَقُّقِ الطَّرَفَيْنِ} اس لیے کہ اس کا تحقق کس کے بعد ہوگا؟ طرفین کے تحقق کے بعد ہوگا۔ {وَأَمْثَالُ هَذِهِ الْمَبَاحِثِ} یہاں سے ایک شبہے کا جواب بتلا رہے ہیں بھئی کہ یہاں بھئی آپ نے تو کس کو بتلایا کہ مسند الیہ کو کبھی کس کی صورت میں لایا جاتا ہے؟ ”هَذَا“ کیا بتلانے کے لیے؟ یہ قریب کے لیے ہے، ”ذَلِكَ“ یہ کس کے لیے ہے؟ بعید کے لیے ہے، اور ”ذَاكَ“ کس کے لیے ہے؟ متوسط کے لیے ہے۔ تو یہ تو بھئی یہ تو لغوی کا کام ہے یہ بحث کرنا، یہ آپ علمِ معانی کے اندر آپ کہاں سے اٹھا کر لے آئے؟ لغت میں ہمیں بتلایا جاتا ہے کہ ”هَذَا“ کس کے لیے ہے؟ قریب کے لیے اشارہ، ”ذَلِكَ“ کس کے لیے ہے؟ بعید کے لیے ہے، اور ”ذَاكَ“ کس کے لیے ہے؟ متوسط کے لیے۔ تو یہ تو لغت کی بات تھی، لغوی اس سے بحث کرتا ہے، وہ یہ بات بتلایا کرتا ہے، یہ آپ علمِ معانی کے اندر کہاں سے لے آئے؟ علمِ معانی کے اندر تو اصلِ مراد سے زائد پر بات ہوتی ہے، اصلِ مراد سے زائد پر بات ہوتی ہے۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں آپ کو خبر دینا چاہتا ہوں قیامِ زید کی، کس چیز کی؟ قیامِ زید کی۔ اب یہ قیامِ زید یہ کیا ہے مولانا؟ اصلِ مراد، یہ کیا ہے؟ اصلِ مراد، میں کیا بتلانا چاہتا ہوں آپ کو؟ قیامِ زید۔ لیکن اب اس اصلِ مراد کو مقتضائے حال کے ساتھ مطابق کرنا یہ اس سے علمِ معانی میں بحث ہوتی ہے۔ اگر آپ کیا ہیں؟ دیکھو اب یہ اصلِ مراد کو میں کئی طریقوں سے تعبیر کر سکتا ہوں، میں یوں بھی کہہ سکتا ہوں: ”قَامَ زَيْدٌ“، زید کے لیے کیا ثابت کر دیا میں نے؟ قیام۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، زید کے لیے کیا ثابت کیا؟ قیام۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: ”زَيْدٌ لَقَائِمٌ“، یہ بھی کیا ہے؟ زید کے لیے کیا ثابت ہو رہا ہے؟ قیام۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: ”إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ“، یہاں بھی زید کے لیے کیا ثابت ہے؟ قیام۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں: ”وَاللَّهِ إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ“، تو یہاں بھی زید کے لیے کیا ثابت ہے؟ قیام۔ تو کتنے ہی طریقے تھے اسی اصلِ مراد کو ادا کرنے کے، اصلِ مراد کو ادا کرنے کے کتنے ہی طریقے تھے، لیکن علمِ معانی کے اندر اصلِ مراد سے زائد پر جو چیز ہوگی اس سے بات ہوگی، یعنی مقتضائے حال کے ساتھ کلام کو مطابق بنانا۔ اب اگر میرے سامنے خالی الذہن ہے کوئی شخص تو میں اس کو کیا کہوں گا؟ ”قَامَ زَيْدٌ“ یا کیا کہوں گا؟ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“۔ اگر میرے سامنے جو شخص ہے وہ متردد ہے مولانا تو پھر میں کیا کہوں گا؟ ”زَيْدٌ لَقَائِمٌ“ یا ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“ کہوں گا۔ اور اگر میرے سامنے منکر ہے تو پھر وجوباً تاکید لاؤں گا: ”إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ“، یا جتنا زیادہ انکار ہے اتنی ہی میں تاکیدات بڑھاؤں گا: ”وَاللَّهِ إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ“۔ تو دیکھو اصلِ مراد ادا کر رہا ہوں اسی قیامِ زید کو، لیکن اس کو مقتضائے حال کے ساتھ مطابق کر رہا ہوں کس کے ساتھ؟ تاکیدات لاؤں گا یا تاکیدات نہیں لاؤں گا موقع محل کے مطابق۔ تو یہ جو تاکیدات ہیں کلام کے اندر ان سے بحث ہوگی علمِ معانی کے اندر کہ جن سے کلام کیا ہو رہا ہے؟ مقتضائے حال کے مطابق ہو رہا ہے۔ تو علمِ معانی کے اندر اس چیز سے بحث ہوتی ہے کہ کلام کو کس کے مطابق بنایا جائے؟ مقتضائے حال کے مطابق بنایا جائے۔ تو یہ اصلِ مراد ہے یا اصلِ مراد سے زائد چیز ہے بھئی؟ اصلِ مراد سے زائد چیز ہے، اس سے بحث کی جاتی ہے علمِ معانی کے اندر۔ اور یہ جو آپ کہہ رہے ہیں ”هَذَا“، ”ذَاكَ“ وغیرہ اس سے تو علمِ لغت کے اندر بحث ہوتی ہے۔ جواب دیں گے کہ بھئی اس کی دو جہتیں ہیں، اس ”هَذَا“ وغیرہ کی کتنی جہتیں ہیں؟ دو جہتیں ہیں، دو جہتیں ہیں۔ دیکھو اب میں آپ کو بتلانا چاہتا ہوں کہ زید کھڑا ہے، اس کے بتانے کی کئی صورتیں تھیں: میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں ”هُوَ قَائِمٌ“ جب میں نے اس کی تعبیر پہلے کر دی نام سے اب کیا کہوں گا ”هُوَ قَائِمٌ“، میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں ”الَّذِي فِي الدَّارِ قَائِمٌ“، میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں ”ذَلِكَ“ یا ”هَذَا قَائِمٌ“۔ تو کتنے ہی طریقے ہیں اس مسند الیہ وہ جو ذاتِ زید ہے اس کو ذہن میں حاضر کرنے کے، بھئی اس کو ذہن میں حاضر کرنے کے کئی طریقے ہیں، کئی طریقے ہیں یا نہیں مولانا؟ میں نے زید کے عالم ہونے کا آپ کو بتلانا ہے اور اس کے لیے مسند الیہ یعنی ذاتِ زید کو میں آپ کے ذہن میں حاضر کروں گا، اور اس ذات کو حاضر کرنے کے کئی طریقے ہیں: میں علم کی صورت میں بھی لا سکتا ہوں اس کو، میں اس کو اسمِ موصول کی صورت میں بھی لا سکتا ہوں، میں اس کو مولانا اور کس صورت میں؟ ضمیر کی صورت میں بھی لا سکتا ہوں، میں اس کو کیا کر سکتا ہوں؟ اسمِ اشارہ کی صورت میں، تو کئی صورتیں تھیں جن کے ذریعے میں ذاتِ زید کو آپ کے ذہن میں حاضر کر سکتا تھا۔ اب مثلاً میں کہہ دیتا ”زَيْدٌ عَالِمٌ“ تو آپ کو زید کے عالم ہونے کا کیا؟ پتہ چل جاتا، میں کہتا ”الَّذِي فِي الدَّارِ عَالِمٌ“ اور فی الدار کون ہے مولانا؟ زید، تو آپ کو اس سے بھی کیا پتہ چل جاتا؟ زید کے عالم ہونے کا پتہ۔ یا میں کہتا ”هُوَ عَالِمٌ“ تو ضمیر راجع کی زید کو تو اس سے بھی آپ کو کیا پتہ چل جاتا کہ زید کیا ہے؟ عالم۔ اور میں نے کہا ”هَذَا عَالِمٌ“ تو یہاں بھی آپ کو پتہ چل گیا کہ زید کیا ہے؟ عالم ہے، لیکن اصلِ مراد سے ایک زائد چیز بھی آپ کو پتہ چل گئی اور وہ کیا کہ زید میرے قریب ہے، زید کیا ہے؟ میرے قریب ہے۔ باقی صورتوں میں اس کے قرب، بعد وغیرہ کا پتہ چل رہا تھا؟ نہیں، تو یہ جو قرب اور بعد ہے یہ اصلِ مراد پر زائد ہے، اور علمِ معانی کے اندر بھی جو اصلِ مراد سے زائد ہوتا ہے اسی سے بحث ہوتی ہے، اور یہ قرب اور بعد بھی اصلِ مراد پر زائد ہیں لہٰذا علمِ معانی میں ان کی بحث کرنا صحیح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ {وَأَمْثَالُ هَذِهِ الْمَبَاحِثِ} اور اس قسم کے جو مباحث ہیں، {يَنْظُرُ فِيهَا أَهْلُ اللُّغَةِ} نظر کرتے ہیں اس میں اہل لغت، {مِنْ حَيْثُ إِنَّهَا تُبَيِّنُ} اس حیثیت سے کہ یہ لغت جو ہے وہ بیان کرتی ہے، {أَنَّ هَذَا} کہ ”هَذَا“ جو ہے ”هَذَا“ کا لفظ مثلاً مثال کے طور پر، {لِلْقَرِيبِ} کس کے لیے ہے؟ قریب، لغت یہ بحث کرے گی، یہ بتلائے گی کہ ”هَذَا“ قریب کے لیے ہے، {وَذَاكَ لِلْمُتَوَسِّطِ} اور ”ذَاكَ“ کس کے لیے ہے؟ متوسط کے لیے ہے، {وَذَلِكَ لِلْبَعِيدِ} اور ”ذَلِكَ“ کس لیے ہے؟ بعید کے لیے ہے۔ {وَعِلْمُ الْمَعَانِي مِنْ حَيْثُ} اور علمِ معانی، أَيْ أَهْلُ عِلْمِ الْمَعَانِي، يَنْظُرُ فِيهَا أَهْلُ عِلْمِ الْمَعَانِي جبکہ اس میں نظر کرتے ہیں علمِ معانی والے، {مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ إِذَا أُرِيدَ قُرْبُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ} اس حیثیت سے کہ جب ارادہ کیا جائے مسند الیہ کے قرب کا، {يُؤْتَى بِهَذَا} اس کو کس کے ساتھ لایا جائے گا؟ ”هَذَا“ سے لفظِ ”هَذَا“ مراد ہے، اس کو ”هَذَا“ کے ساتھ لایا جائے گا، {وَهُوَ زَائِدٌ عَلَى أَصْلِ الْمُرَادِ} اور یہ قرب جس کو کس نے بیان کیا؟ ”هَذَا“ نے، یہ اصلِ مراد پر زائد ہے، اور اصلِ مراد کیا تھی؟ {الَّذِي هُوَ الْحُكْمُ عَلَى الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ} وہ تو حکم لگانا تھا کس پر مسند پر، مثلاً زید پر کس چیز کا حکم لگانا تھا؟ عالم ہونے کا، اب کون سا مسند الیہ؟ {الْمَذْكُورِ} جو کیا ہو؟ مذکور ہو، {الْمُعَبَّرِ عَنْهُ} جس کو تعبیر کیا جائے، تعبیر کیا جائے یعنی جس کو تعبیر کرنا ممکن ہو، {بِشَيْءٍ} کسی ایسی چیز کے ساتھ، {يُوجِبُ تَصَوُّرَهُ} جو ثابت کر دے اس کے تصور کو، جو ثابت کر دے اس کے تصور کو。 بھئی دیکھو میں ذاتِ زید کو آپ کے ذہن میں حاضر کرنا چاہتا تھا، اس کے تصور کو آپ کے ذہن میں لانا چاہتا تھا تو کئی طریقے تھے اس کو ذکر کرنے کے: میں ”زَيْدٌ عَالِمٌ“ بھی کہہ سکتا تھا، ”هُوَ عَالِمٌ“ بھی کہہ سکتا تھا، ”الَّذِي فِي الدَّارِ عَالِمٌ“ یہ بھی کہہ سکتا تھا اور ”هَذَا عَالِمٌ“، کئی طریقے تھے اس مسند الیہ کو آپ کے ذہن میں حاضر کرنے کے۔ تو وہ مسند الیہ جو مذکور ہے اور ممکن ہے اس کو تعبیر کرنا کسی بھی ایسی چیز کے ساتھ، تو دیکھو اس مسند الیہ کو کئی طرق سے تعبیر کرنا کیا تھا؟ ممکن تھا ایسی چیز کے ساتھ جو ثابت کر دے اس کے تصور کو۔ تو دیکھو چاہے میں زید کہتا پھر بھی اس کا تصور آ جاتا، ”الَّذِي فِي الدَّارِ“ کہتا پھر بھی اس کا تصور آ جاتا، ”هُوَ“ کہتا پھر بھی اس کا تصور آ جاتا، ”هَذَا“ کہتا پھر بھی تصور آ جاتا۔ تو اس کو ذکر کرنا ممکن ہو کسی ایسی چیز کے ساتھ کہ جو ثابت کر دے اس کے تصور کو {عَلَى أَيِّ وَجْهٍ كَانَ} کسی بھی طریقے پر، کسی بھی طریقے پر، جس طریقے پر بھی ہوتا بھئی، جس طریقے پر بھی۔ اس کو ممکن تھا ذکر کرنا، تو حکم لگانا تھا اس مسند الیہ پر جو مذکور ہے اور جس کو تعبیر کرنا ممکن تھا کسی بھی ایسی چیز کے ساتھ کہ جس کے ساتھ اس کا کیا حاصل ہو جاتا؟ تصور ہو جاتا۔ تو اصلِ مراد کیا تھی کہ بھئی میں نے اس مسند الیہ پر حکم لگانا ہے، تو اس مسند الیہ کو ذکر کرنا ممکن تھا کسی بھی صورت میں، میں اس کو ذکر کر کے اس پر حکم لگا دیتا تو اصلِ مراد کیا ہو جاتی؟ آپ تک پہنچ جاتی، لیکن میں نے کیا استعمال کیا؟ اسمِ اشارہ، تو اب اس حکم کے ساتھ ساتھ مسند الیہ کا قریب یا بعید ہونا بھی آپ کو پتہ چل گیا، یہ اصلِ مراد سے زائد ہے۔ {أَوْ تَحْقِيرِهِ} اور کبھی کبھار مولانا مسند الیہ کو اسمِ اشارہ کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے اس کی تحقیر کے لیے، أَيْ تَحْقِيرِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ بِالْقُرْبِ، کہ آپ مسند الیہ کی کیا کرتے ہیں؟ تحقیر کرتے ہیں قرب کے ساتھ، جیسے: {أَهَذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ} بھئی۔ ابو جہل علیہ اللعنہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دے رہے ہیں تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کرتے ہوئے کہتا ہے: {أَهَذَا الَّذِي} کیا یہ ہے وہ شخص {يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ} جو کیا کرتا ہے؟ تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے، ان کو برا بھلا کہتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ”هَذَا“ کے ذریعے اشارہ کس کی طرف کیا اس نے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، اور اس بدبخت کا کیا مقصد تھا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر مقصود تھی، تو کبھی کبھار مولانا تحقیر کے لیے اسمِ اشارہ قریب کا لایا جاتا ہے، کس چیز کا؟ قریب کا اسمِ اشارہ لایا جاتا ہے اس لیے کہ جو چیز قریب ہوتی ہے اس کا حاصل کرنا آسان ہوتا ہے، اور جس چیز کا حاصل کرنا آسان ہو اس کی قدر بھی تھوڑی ہوتی ہے، اس کی قدر بھی کیا ہوتی ہے؟ اور وہ چیز جو دور ہے، حاصل کرنا مشکل ہے اس کی قدر بھی کیا ہوتی ہے؟ زیادہ ہوتی ہے، تو اسی لیے ”هَذَا“ قریب کا اسمِ اشارہ لایا جاتا ہے کس لیے؟ اس چیز کی تحقیر کے لیے، تو {أَهَذَا الَّذِي} اس نے کہا کیا یہ ہے وہ۔ {أَوْ تَعْظِيمِهِ بِالْبُعْدِ} یا مولانا مسند الیہ کو اسمِ اشارہ کی صورت میں لایا جاتا ہے کیونکہ اس کی تعظیم مقصود ہوتی ہے بالبعد، کس کے ساتھ؟ ”ذَلِكَ“ اسمِ اشارہ لایا جائے گا کسی چیز کے بعد کسی چیز کی تعظیم کے لیے، جیسے قرآن میں ہے: {الم ذَلِكَ الْكِتَابُ}، {الم ذَلِكَ الْكِتَابُ}۔ تو یہ دیکھو {ذَلِكَ الْكِتَابُ} حالانکہ کتاب تو حاضر ہے کیا ہونا چاہیے؟ ”هَذَا الْكِتَابُ“، کیا؟ ”هَذَا الْكِتَابُ“، لیکن یہاں کیا ذکر کیا گیا؟ ”ذَلِكَ“ اسمِ اشارہ بعید کا ذکر کیا گیا، تو اس یعنی بعدِ درجات بتلانا مقصود ہے کہ یہ کتاب بڑے اونچے درجے والی ہے، بڑے ہی اونچے درجے والی ہے۔ کیوں؟ تو جو چیز کیا ہوگی؟ جس چیز کا پانا میں نے بتلایا، جو چیز بعید ہوگی اس کا پانا مشکل ہوگا اور تو پھر اس کی قدر بھی کیا ہوگی دل کے اندر؟ زیادہ ہوگی، اس تک پہنچنا مشکل ہوگا۔ {تَنْزِيلًا لِبُعْدِ دَرَجَتِهِ} اتارتے ہوئے اس کے درجات کے بعد کو، {وَرِفْعَةِ مَحَلِّهِ} اور محل کی بلندی کو، اس کے قرآن کے محل کی بلندی کو اور اس کے درجے کی دوری کو اتارا گیا کس، {مَنْزِلَةَ بُعْدِ الْمَسَافَةِ} کس کے درجے میں اتارتے ہوئے؟ بعدِ مسافت کے درجے میں اتارتے ہوئے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بعدِ معنوی کو بعدِ حسی کے درجے میں اتار لیا گیا۔ ”ذَلِكَ“ تو کس کے لیے آتا ہے؟ بعدِ حسی کے لیے کہ کوئی چیز آپ سے حساً کیا ہو؟ دور ہو، اور یہاں پر تو قرآن کے بعدِ درجات بیان کرنا ہے اور یہ معنوی ہے، تو بعدِ معنوی کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ بعدِ حسی کے درجے میں۔ {أَوْ تَحْقِيرِهِ بِالْبُعْدِ} یا مولانا کبھی کبھار یہ بعد تحقیر کے لیے بھی لایا جاتا ہے، ”ذَلِكَ“ کس لیے لایا جاتا ہے؟ جیسے پچھلی مثال میں تعظیم کے لیے تھا، اگلی مثال میں دیکھیے تحقیر کے لیے ہے: {كَمَا يُقَالُ ذَلِكَ اللَّعِينُ فَعَلَ كَذَا}، اس لعین نے، اس لعین نے ایسا کیا ہے۔ اب ایک شخص ہے وہ آپ کے قریب کھڑا ہے بھئی کوئی کافر، اور اس نے کوئی کام کیا ہے ایسا، اب آپ اس کو کیا کہتے ہیں؟ کہنا تو یہ چاہیے: ”هَذَا اللَّعِينُ فَعَلَ كَذَا“، اس لعین نے ایسا کام کیا ہے، لیکن آپ کیا کہتے ہیں؟ ”ذَلِكَ اللَّعِينُ فَعَلَ كَذَا“، تو ”ذَلِكَ“ لے کر آئے اسمِ اشارہ بعید کا، کیا بتلانے کے لیے؟ کہ یہ شخص بھی کیا ہے؟ بڑا ہی حقیر ہے اور ادنیٰ درجے کا ہے، کیا ہے؟ حقیر ہے اور ادنیٰ درجے کا ہے۔ دیکھیے: {تَنْزِيلًا لِبُعْدِهِ عَنْ سَاحَةِ عِزِّ الْحُضُورِ وَالْخِطَابِ} اتارتے ہوئے اس کے بعد کو، بعد اس کا کہاں سے؟ عن ساحۃ، ساحۃ کہتے ہیں صحن کو صحن کو، عز، عز الحضور، حاضری کی عزت کے صحن سے، حاضری کی عزت کے صحن سے اس کی جو دوری ہے بھئی، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ آخر سے چل رہا ہے۔ حاضری کی عزت کے صحن سے اس کی دوری کو اتارا گیا کس کے درجے میں اتارا گیا؟ {مَنْزِلَةَ بُعْدِ الْمَسَافَةِ} بعدِ مسافت کے درجے میں۔ اور خطاب کا عطف ہے حضور پر، خطاب اور حضور کی عزت کے صحن سے اس کی دوری کو کس کے درجے میں اتارا گیا؟ بعدِ مسافت کے درجے میں اتارا گیا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی کسی شخص سے خطاب کرتے ہیں اور وہ آپ کے سامنے حاضر ہے، یہ بھی اس کی عزت، یہ بھی اس کی عزت ہے، کیا ہے؟ کہ آپ کے نزدیک وہ معزز ہے کہ آپ کے پاس حاضر ہوتا ہے، آپ اس سے کلام کرتے ہیں، تو اب یہاں پر ”ذَلِكَ“ اسمِ اشارہ لایا گیا بتلایا گیا کہ یہ کیا ہے؟ میرے پاس یہ اس لائق ہی نہیں کہ اس کے ساتھ خطاب کیا جائے یا یہ کیا ہو میرے پاس حاضر ہو، یہ نہایت حقیر اور ادنیٰ درجے کا ہے، تو ”ذَلِكَ“ اسمِ اشارہ لایا گیا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ {وَاللَّفْظُ ذَلِكَ} جی یہاں سے آپ کو یہ بتلائیں گے کہ لفظ ”ذَلِكَ“ کا جو اسمِ اشارہ ہے وہ وضع ہے بعید کے حسی کے لیے، کس کے لیے؟ ایک چیز بعید بھی ہو اور حس کے ساتھ یعنی آنکھوں سے نظر بھی آنے والی ہو۔ اور جس وقت اشارہ کریں اس وقت بھی نظر آ رہی ہو، میں جب کہتا ہوں ”ذَلِكَ“ تو کس چیز کی طرف اشارہ کروں گا؟ جی؟ بعید ہو پہلی بات، دوسرا کیا؟ آنکھوں سے نظر آنے والی ہو، اور جس وقت اشارہ کروں اس وقت نظر بھی آ رہی ہو، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اس کے لیے وضع ہے، لیکن اس کو کبھی کبھار ایک غائب چیز کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔ میں نے کیا کہا تھا کہ وہ چیز جب اشارہ کریں اس وقت بھی حاضر ہونی چاہیے، لیکن مجازاً کبھی اس کو کس کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے؟ غائب کے لیے بھی، چاہے اب وہ غائب حسی چیز ہو یا معنوی چیز ہو، یعنی نظر آنے والی ہو یا نظر آنا ممکن ہی نہ ہو، دونوں کے لیے اس کو مجازاً استعمال کر لیا جاتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی۔ اچھا کیا بات ہوئی؟ ”ذَلِكَ“ کا لفظ کس کے لیے وضع ہے؟ بعید کے لیے، اور وہ بعید شئے بھی کیا ہونی چاہیے؟ حسی ہونی چاہیے یعنی نظر آنے والی ہو، اور جس وقت اشارہ کیا جائے اس وقت بھی کیا ہو؟ نظر آ رہی ہو، مشاہد ہو بھئی۔ لیکن کبھی کبھار مجازاً اس کو کس کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے؟ غائبِ حسی کے لیے بھی اور غائبِ معنوی کے لیے بھی۔ اسی طرح کبھی کبھار اس کو حاضرِ معنوی کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے، یہ وضع تو تھا حاضرِ حسی کے لیے لیکن کبھی کبھار حاضرِ معنوی کے لیے بھی مجازاً استعمال کر لیتے ہیں۔ {وَاللَّفْظُ ذَلِكَ صَالِحٌ} اور لفظ ”ذَلِكَ“ جو ہے وہ صلاحیت رکھتا ہے یعنی مجازاً، {لِلْإِشَارَةِ إِلَى كُلِّ غَائِبٍ} اشارہ کرنے کی ہر غائب کی طرف، {عَيْنًا كَانَ أَوْ مَعْنًى} چاہے وہ ذات ہو چاہے وہ معنی ہو، چاہے وہ کیا ہو؟ ذات ہو یا معنی یعنی قابلِ حس ہو یا قابلِ حس نہ ہو، جیسے مولانا حسی ہو اور غائب ہو اس کی مثال: {تِلْكَ الْجَنَّةُ}، {تِلْكَ الْجَنَّةُ}۔ تو دیکھو یہاں پر کیا ایا مولانا؟ ”تِلْكَ“، اور جنت حسی ہے، آنکھوں سے نظر آنے والی ہے یا آنکھوں سے نظر آنے والی نہیں ہے؟ جی؟ آنکھوں سے نظر آنے والی ہے لیکن فی الحال مشاہدہ نہیں ہے بھئی، یہ وضع تھا ایسی چیز کے لیے جو آنکھوں سے نظر آنے کے قابل ہو اور اس وقت بھی حاضر ہو، اور جنت آنکھوں سے نظر آنے والی تو ہے لیکن فی الحال مشاہدہ نہیں، تو اس کے لیے اس کی طرف بھی اشارہ کیا گیا۔ {أَوْ مَعْنًى} یا کیا ہو مولانا؟ ایسا معنی یا معنی کے لیے، کس کے لیے؟ معنی کے لیے بھی۔ {وَكَثِيرًا مَا يُذْكَرُ الْمَعْنَى الْحَاضِرُ الْمُتَقَدِّمُ بِلَفْظِ ذَلِكَ} اور بسا اوقات ذکر کر دیا جاتا ہے ایسے معنی کو جو حاضر ہوتا ہے یعنی سامع کے ذہن میں کیا ہوتا ہے؟ حاضر ہوتا ہے، تو بھئی یہ وضع تو تھا کس کے لیے؟ عین کی طرف اشارہ کرنے کے لیے، لیکن کبھی کبھار کس کو ذکر کیا جاتا ہے اس کے ذریعے؟ معنی کو، ایسا معنی الحاضر جو کیا ہوتا ہے؟ حاضر ہوتا ہے، المتقدم پہلے گزرا ہوتا ہے، اس کو کس کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے؟ بلفظ ذلک، ”ذَلِكَ“ کے لفظ کے ساتھ۔ ”ذَلِكَ“ کے لفظ کے ساتھ کیوں ذکر کیا جاتا ہے بھئی؟ کہتے ہیں: {لِأَنَّ الْمَعْنَى غَيْرُ مُدْرَكٍ بِالْحِسِّ} اس لیے کہ معنی مدرک بالحس نہیں ہے، {فَكَأَنَّهُ بَعِيدٌ} تو گویا کہ وہ کیا ہے؟ بعید ہے۔ مثلاً مولانا میں کہتا ہوں: ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، زید نے عمر کی پٹائی کی، ”فَسُرِرْتُ بِذَلِكَ الضَّرْبِ“، تو میں اس ضرب سے کیا ہوا؟ خوش ہوا۔ تو ”ذَلِكَ“، ”فَسُرِرْتُ بِذَلِكَ الضَّرْبِ“، میں اس ضرب سے خوش ہوا، تو اس ”ذَلِكَ“ کے ذریعے میں اشارہ کر رہا ہوں کس کی طرف؟ اس ضرب کی طرف، اور وہ ضرب ابھی گزری مولانا، کیا ہے؟ پچھلے جملے میں گزری اور ذہن میں حاضر بھی ہے، تو اب یہ حاضر ہے، ابھی گزری ہے، قریب ہے، اس کے لیے کیا ہونا چاہیے؟ جی؟ تو اس کے لیے کیا ذکر کیا جاتا ہے؟ اسمِ اشارہ بعید کا، بعید کا کیوں ذکر کیا جاتا ہے؟ اس لیے کہ یہ معنی کا نام ہے، یہ معنی ہے یہاں اور معنی کیا ہوتا ہے؟ اس کو آنکھوں سے دیکھا نہیں جا سکتا، وہ تو ایک وصف ہے، تو جب وہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی تو گویا کہ وہ کیا ہے؟ بعید ہے، اور جب بعید ہے تو اس کے لیے کیا استعمال کر لیا جاتا ہے؟ ”ذَلِكَ“۔ {أَوِ التَّنْبِيهِ} أَيْ تَعْرِيفُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ بِالْإِشَارَةِ لِلتَّنْبِيهِ عِنْدَ تَعْقِيبِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ بِأَوْصَافٍ، یہ مقام اچھی طرح سمجھ لو بھئی۔ یاد رکھو مولانا بڑا قیمتی اور بڑا پیارا نکتہ ہے بھئی: اسمِ اشارہ کے ذریعے بھی کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور ضمیر کے ذریعے بھی کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، سمجھ میں آیا؟ لیکن فرق یہ ہے کہ اسمِ اشارہ، ضمیر صرف ذات پر دلالت کرتی ہے اور اسمِ اشارہ ذات کے ساتھ ساتھ اوصاف پر بھی دلالت کرتا ہے۔ ذات کے ساتھ ساتھ کس پر دلالت کرتا ہے؟ اوصاف پر بھی دلالت کرتا ہے، اور ضمیر صرف کس پر دلالت کرتی ہے؟ ذات پر دلالت کرتی ہے، یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ دوسری بات: یاد رکھو جب کسی ذات مع الوصف پر حکم لگایا جائے، یرحمک اللہ، جب کسی ذات مع الوصف پر کوئی حکم لگایا جائے تو اس کی علت وہ وصف ہوتا ہے، اس حکم کی علت کیا ہوتا ہے؟ وہ وصف۔ میں نے کہا: ”زَيْدٌ الْعَالِمُ مُكْرَمٌ“، وہ زید جو عالم ہے وہ معزز ہے، وہ زید جو عالم ہے معزز ہے۔ تو میں نے زید پر معزز، تو زید یہاں دیکھو ذات آئی اور اس کے ساتھ ساتھ کیا آ گیا؟ وصف، وہ زید جو کیا ہے؟ عالم ہے، اس پر میں نے حکم لگایا کس چیز کا؟ معزز ہونے کا۔ تو جب میں نے بتایا ذات مع الوصف پر کوئی حکم لگایا جائے تو اس حکم کی علت کیا ہوتی ہے؟ وہ وصف ہوتا ہے، تو معلوم ہوا یہ معزز ہونے کی علت کیا ہے؟ اس کا عالم ہونا، معزز ہونے کی علت کیا ہے؟ اس کا عالم ہونا۔ تو کیا ضابطہ بیان ہوا کہ جب کسی ذات مع الوصف پر کیا کیا جائے؟ حکم لگایا جائے تو اس حکم کی علت کیا ہوا کرتا ہے؟ وہ وصف۔ بات سمجھ میں آئی یا مشکل ہے بھئی؟ دیکھو دوبارہ سنو، میں نے کہا: ”زَيْدٌ الْعَالِمُ مُكْرَمٌ“، وہ زید جو عالم ہے وہ کیا ہے؟ معزز، تو میں ذات مع الوصف لایا، زید ہے اور کون سا زید ہے؟ عالم، اس ذات مع الوصف پر میں نے کیا حکم لگایا کہ وہ کیا ہے؟ معزز، تو معزز ہونے کا حکم میں نے لگایا ذات مع الوصف پر، اور جب بھی ذات مع الوصف پر کوئی حکم لگایا جاتا ہے اس کی علت کیا ہوتی ہے؟ وہ وصف ہوتا ہے، تو یہاں معزز زید کیوں ہے؟ اس کی علت کیا ہے؟ کہ وہ عالم ہے، تو معزز ہونے کی علت کیا ہے؟ اس کا عالم ہونا، اس کا عالم ہونا۔ بات سمجھ میں آئی؟ پہلی بات کیا کی میں نے کہ اسمِ اشارہ کے ذریعے اشارہ، اسمِ اشارہ کے ذریعے بھی اشارہ ہوتا ہے، ضمیر کے ذریعے بھی، لیکن ضمیر صرف کس پہ دلالت کرتی ہے؟ ذات پر، اور اسمِ اشارہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ ذات مع الوصف پر۔ اور جب پھر بتلایا کہ جب کسی ذات مع الوصف پر کوئی حکم لگایا جائے تو اس کی علت کیا ہوتی ہے؟ وہ وصف ہوتا ہے، سمجھ میں آئے؟ تو دیکھیے جیسے مولانا قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، بڑی پیاری مثال ہے، دیکھیے: {الم ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ}، یہ ہدایت ہے کس کے لیے مولانا؟ متقیوں کے لیے۔ آگے بھئی پڑھیے بھئی، کیا پڑھیے بھئی؟ {الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ}، دیکھو متقین کا پہلا وصف کیا ذکر ہوا کہ وہ ایمان بالغیب لاتے ہیں بھئی، ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔ آگے بھئی: {وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ}، دوسرا وصف ذکر ہوا اقامتِ صلاۃ، نماز بھی کیا کرتے ہیں؟ قائم کرتے ہیں۔ آگے بھئی: {وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ} بھئی، جو ہم نے ان کو، انفاق بھئی، جو ہم نے رزق دیا ہے اس میں سے کیا کرتے ہیں؟ انفاق فی سبیل اللہ بھی کرتے ہیں۔ آگے بھئی: ہاں اور وہ کتابیں جو آپ کی طرف نازل ہوئیں اور جو پہلوں کی طرف نازل ہوئیں ان پر بھی کیا کرتے ہیں؟ آسمانی کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ آگے بھئی: {وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ}، آخرت پر بھی کیا کرتے ہیں؟ ایمان رکھتے ہیں، تو دیکھو کتنی صفات ذکر ہوئیں متقین کی: پہلی صفت کیا؟ ایمان بالغیب، دوسری صفت کیا؟ اقامتِ صلاۃ، تیسری صفت کیا؟ جی؟ انفاق بھئی، چوتھی صفت کیا؟ آسمانی کتابوں پر ایمان، اور پانچویں صفت کیا ذکر ہوئی؟ آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اس کے بعد آیت کیا آگے آ رہا ہے؟ {أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ}، {أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ}، وہ لوگ ہیں {عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ}، ہدایت پر ہیں اپنے رب کی طرف سے۔ تو دیکھو یہاں مقامِ استشہاد ہے: {أُولَئِكَ}، {أُولَئِكَ} اسمِ اشارہ لایا گیا اور اس کی یہاں تعبیر یہ بھی ممکن تھی، یوں کہا جاتا: ”هُمْ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ“، وہ لوگ کس چیز پر ہیں؟ ہدایت پر ہیں۔ تو مولانا اب یہ تو پتہ چل جاتا کہ وہ لوگ کس چیز پر ہیں؟ متقی لوگ کس پر ہیں؟ ہدایت پر ہیں، لیکن یہ ہدایت پر کیوں ہیں؟ ”هُمْ“ پر کیا حکم لگایا؟ بھئی ”هُمْ“ وہ لوگ کس چیز پر ہیں؟ ہدایت پر، ہدایت پر ہونے کا حکم لگایا گیا ان پر۔ تو اگر ”هُمْ“ ہوتا تو یہ تو ہمیں پتہ چل جاتا کہ یہ لوگ کس پر ہیں؟ ہدایت پر، لیکن کیوں ہیں ہدایت پر؟ علت کا پتہ نہ چلتا، کیونکہ ”هُمْ“ صرف کس لیے آتا ہے؟ کس پر دلالت کرتا ہے؟ ذات پر، اس کے ذریعے اشارہ تو ہوا متقیوں کی طرف لیکن صرف ان کی ذات پر دلالت ہوئی، صرف ان کی ذات پر دلالت ہوتی، لیکن یہاں پر {أُولَئِكَ} لایا گیا اور {أُولَئِكَ} اسمِ اشارہ ہے، وہ ذات کے ساتھ ساتھ کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟ وصف پر بھی دلالت کرتا ہے، تو {أُولَئِكَ} کے ذریعے اشارہ ہوا متقین کی طرف اور ساتھ ساتھ سارے وصف بھی ملحوظ ہیں، ساتھ ساتھ سارے وصف بھی ملحوظ ہیں۔ تو ذات مع الوصف آ گئی، کیا آ گئی؟ ذات مع الوصف آ گئی، اور اس ذات مع الوصف پر کیا حکم لگایا گیا کہ یہ لوگ ہدایت پر ہیں، یہ لوگ کیا ہیں؟ ہدایت پر۔ اب مولانا اس حکم کی علت بھی پتہ چل گئی، یہ لوگ ہدایت پر کیوں ہیں؟ اس کی علت کیا ہے؟ وہ اوصاف ہیں۔ یہ ہدایت پر کیوں ہیں؟ ذات مع الوصف پر جب کوئی حکم لگایا جائے تو اس حکم کی علت کیا ہوتی ہے؟ وہ اوصاف ہوتے ہیں، تو یہاں بھی اوصاف وہ علت ہیں، یہ لوگ ہدایت پر ہیں، کیا اوصاف تھے؟ کہ یہ ایمان بالغیب رکھتے ہیں، اقامتِ صلاۃ ہے، انفاق فی سبیل اللہ ہے اور آسمانی کتابوں پر ایمان ہے اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، تو اسی وجہ سے یہ لوگ کیا ہیں؟ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اب اگلے، یہ حکم کی علت بھی پتہ چل گئی، اگر ”هُمْ“ کہا جاتا تو علت کا پتہ نہ چلتا، اب {أُولَئِكَ} کے ذریعے علت کا بھی پتہ چل گیا۔ سب کو بات سمجھ میں آئی بھئی؟ {وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}، دیکھا یہ بھی دوسرا ہے، {وَأُولَئِكَ} اور وہ لوگ کیا ہیں؟ وہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔ بھئی وہ لوگ آخرت میں بھی کامیاب، بھئی یہ کیوں ان پر لوگوں پر آخرت میں کامیاب ہونے کا حکم لگایا گیا؟ اس حکم کی علت کیا ہے؟ جی؟ وہ اوصاف ہیں، بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ جی دیکھیے۔ متن دیکھیے صرف بھئی، یہ ذرا مشکل ہے یہاں متن: {أَوِ التَّنْبِيهِ} کبھی کبھار مسند الیہ کو کس سے لایا جاتا ہے اسمِ اشارہ کی صورت میں؟ کیوں؟ تنبیہ کرنے کے لیے، کب؟ {عِنْدَ تَعْقِيبِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ بِأَوْصَافٍ} جبکہ عقب میں لائے جائیں مشار الیہ کے، کیا لائے جائیں مشار الیہ کے عقب میں؟ بھئی مشار الیہ کون تھا؟ ”أُولَئِكَ“ سے کس کی طرف اشارہ تھا؟ متقین کی طرف، کس کی طرف؟ متقین کی طرف اشارہ تھا اور اس متقین کے بعد ان کی کیا ذکر ہو رہی تھیں؟ صفات۔ جبکہ عقب میں لائے جائیں اس مشار الیہ یعنی متقین کے بعد {بِأَوْصَافٍ} کس چیز کو؟ اوصاف کو، {عَلَى أَنَّهُ} کس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے؟ {أَنَّهُ جَدِيرٌ} کہ یہ لوگ لائق ہیں، یہ لوگ لائق ہیں {بِمَا يَرِدُ بَعْدَهُ} اس چیز کے جو اس کے بعد آ رہی ہے یعنی جو اسمِ اشارہ کے، بھئی اسمِ اشارہ کے بعد کیا ذکر ہونے لگا ہے؟ {أُولَئِكَ عَلَى هُدًى} یہ لوگ ہدایت پر ہیں، تو جب وہ صفات، ”أُولَئِكَ“ اسمِ اشارہ لایا گیا اور اسمِ اشارہ کے ذریعے کس چیز کی طرف اشارہ ہو گیا؟ ذات کی طرف بھی اور اوصاف کی طرف بھی، تو اسمِ اشارہ نے دونوں پر دلالت کر دی، تو اب علت معلوم ہو گئی، یہ لوگ کیا ہیں؟ یہ لوگ کس چیز پر، ہدایت پر کس وجہ سے ہیں؟ کیونکہ ان میں یہ چار پانچ اوصاف پائے جاتے ہیں، تو جب یہ علت ان میں پائی جا رہی ہے یہ جو ذکر ہوئے پیچھے تو یہ لائق ہیں کس چیز پر ہونے کے؟ ہدایت پر ہونے کے، کس پر؟ ہدایت پر ہونے کے۔ کہ یہ لائق ہیں اس چیز کے جو اس کے بعد آ رہی ہے یعنی اسمِ اشارہ کے بعد جو خبر آ رہی ہے یہ اس کے لائق ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے یا مشکل ہو گئی؟ اسمِ اشارہ کے بعد کیا آنے والا ہے؟ حکم، وہ حکم ان پر لگایا جائے گا تو علت بھی پتہ چل گئی کہ یہ علت ہے لہٰذا یہ لائق ہیں کہ یہ کس چیز پر ہوں؟ ہدایت پر۔ بھئی یہ کیوں یہ لائق ہیں اس چیز کے جو اس کے بعد آ رہی ہے، وہ کیا ہے؟ {عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ} یہ اس کے لائق ہیں، کیوں لائق ہیں مولانا؟ {مِنْ أَجْلِهَا} ان اوصاف کی وجہ سے، یہ لائق ہیں اس کے ہدایت پر ہونے کے کس وجہ سے؟ ان اوصاف کی وجہ سے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے اب پھر بھئی سبق: {أَوِ التَّنْبِيهِ} أَيْ تَعْرِيفُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ بِالإِشَارَةِ، مسند الیہ کو معرفہ لایا جاتا ہے بالإشارۃ کس کے ساتھ بھئی؟ اسمِ اشارہ کے ساتھ، للتنبیہ تنبیہ کرنے کے لیے، {عِنْدَ تَعْقِيبِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ} جبکہ عقب میں لائے جائیں مشار الیہ کے، {بِأَوْصَافٍ} کیا چیزیں عقب میں لائی جائیں؟ اوصاف عقب میں لائے جائیں۔ دیکھو پہلے متقین آیا پھر اس کے بعد اس کے اوصاف آئے، أَيْ عِنْدَ إِيرَادِ الْأَوْصَافِ عَلَى عَقِبِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ، مشار الیہ کے عقب میں، عقب کا معنی پیچھے، بھئی مشار الیہ کون ہے؟ جی؟ متقین ہے اور اس متقین کے بعد کیا ذکر ہو رہے ہیں؟ آگے اس کے اوصاف۔ جب اوصاف لائے جائیں مولانا مشار الیہ کے بعد۔ علامہ تفتازانی اب اس لفظ کی تحقیق کریں گے بھئی، لغت میں یہ کیسے استعمال ہوتا ہے؟ عَقَّبَ کا بھئی۔ ماتن نے تعقیب ذکر کیا، بابِ تفعیل بھئی، یہ کس طرح مستعمل ہے؟ علامہ تفتازانی کو تحقیق کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ بعض شارحین نے اس کا اور معنی کیا، انہوں نے کیا معنی کیا؟ دیکھو: تَعْقِيب، عَقَّبَ، عَقَّبَ کے معنی ہیں پیچھے آنا، کیا؟ پیچھے آنا، اور یہ ایک مفعول، عَقَّبَ کا یہ، يُقَالُ دیکھو: يُقَالُ عَقَّبَهُ فُلَانٌ، اس کے پیچھے آیا فلاں، اس کے پیچھے آیا فلاں، تو یہ کتنے مفعول چاہتا ہے؟ ایک، عَقَّبَهُ، ہا ضمیر کیا ہے مولانا؟ مفعول ہے۔ مثلاً زید عمر کے پیچھے آیا: عَقَّبَ زَيْدًا عَمْرٌو، عمر زید کے پیچھے آیا، تو یہ عَقَّبَ ایک مفعول چاہتا ہے، کیا چاہتا ہے؟ ایک مفعول چاہتا ہے۔ اور آپ نے پڑھا ہے کبھی کبھار جب ایک با کے ذریعے بھی کسی فعل کو متعدی کیا جاتا ہے، اگر وہ فعلِ لازم تھا اس کا صلہ با لے آئیں تو وہ فعلِ متعدی بن جاتا ہے، جیسے جَاءَ يَجِيءُ کا معنی آنا لیکن اگر اس کا صلہ با آ جائے تو پھر کیا معنی ہوتا ہے؟ لانا۔ تو یہاں پر تو دیکھو فعلِ لازم فعلِ متعدی بن گیا، اور یہاں پر بھی اسی طرح ہے، یہ پہلے سے متعدی ایک مفعول چاہتا ہے اور صلے میں با آ گئی تو اب یہ کتنے مفعول چاہے گا؟ دو چاہے گا، اب کتنے چاہے گا؟ ایک تو پہلے بھی لا رہا تھا اور ایک کس کے واسطے سے آپ لے آئے؟ با۔ تو پہلے معنی تھا پیچھے آنا، اب معنی ہے پیچھے لانا، پیچھے لانا، اب دو مفعول۔ جیسے آپ کہیں گے بھئی، کیسے کہیں گے؟ عَقَّبْتُهُ بِالشَّيْءِ، عَقَّبْتُهُ بِالشَّيْءِ، میں اس کے پیچھے چیز کو لایا، بِالشَّيْءِ، مثلاً میں ایک کتاب کے پیچھے دوسری کتاب لایا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر دیکھو پہلے تھا آنا اب کیا ہوا؟ لانا، اب کتنے مفعول آ گئے؟ دو۔ اب میں کہتا ہوں، اچھا مثلاً: عَقَّبْتُ زَيْدًا بِعَمْرٍو، عَقَّبْتُ زَيْدًا بِعَمْرٍو، میں زید کے پیچھے عمر کو لایا، تو بھئی پیچھے آنے والا کون ہے، زید ہے یا عمر ہے؟ ترجمے پہ غور کرو: عَقَّبْتُ زَيْدًا بِعَمْرٍو، میں زید کے پیچھے عمر کو لایا، پیچھے آنے والا کون؟ عمر، پیچھے آنے والا کون؟ عمر ہے، اور عمر پر کیا داخل ہو رہی ہے؟ با، عمر پر کیا داخل ہو رہی ہے؟ معلوم ہوا جو با کا مدخول ہے وہ مؤخر ہوگا۔ علامہ تفتازانی کیا بتلائیں گے آپ کو بھئی کہ عَقَّبَ ایک مفعول چاہتا ہے لیکن کبھی اس کے صلے میں با لاتے ہیں اور لیکن یاد رکھنا جس پہ با داخل ہوگی وہ مؤخر ہوگا، مقدم نہیں ہوگا، یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے ماتن نے بھی کہا: {عِنْدَ تَعْقِيبِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ بِأَوْصَافٍ}، اوصاف پر کیا لے کر آئے؟ با، اور جس پر با داخل ہوتی ہے وہ کیا ہوتے ہیں؟ مؤخر، معلوم ہوا مشار الیہ پہلے آئے گا اور اس کے پیچھے کیا لائے جائیں گے؟ اوصاف لائے جائیں گے، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ بعض علماء نے اس کا معنی، اور علامہ تفتازانی نے یہ اتنی لمبی تقریر اس لیے کی کہ بعض علماء نے اور معنی کیا، انہوں نے معنی کیا تھا کہ جب مشار الیہ کو عقب میں لایا جائے اوصاف کے، مشار الیہ کو کس کے بعد لایا جائے؟ بھئی علامہ تفتازانی تو کہہ رہے ہیں اوصاف کو کس کے بعد لایا جائے؟ مشار الیہ کے، اور وہ کہہ رہے تھے جو با کا مدخول ہوتا ہے وہ مقدم ہوتا ہے، تو معلوم ہوا مشار الیہ اوصاف پر کیا ہوا؟ مؤخر ہوا، کیا ہوا؟ تو معلوم ہوا کیا ترجمہ کریں گے کہ اوصاف کے پیچھے کس کو لایا جائے؟ مشار الیہ کو۔ علامہ تفتازانی نے کیا ترجمہ کیا تھا؟ مشار الیہ کے پیچھے کس کو لایا جائے؟ اوصاف کو، یہ بات تو ٹھیک ہے، لیکن بعضوں نے کیا ترجمہ کیا کہ اوصاف کے پیچھے کس کو لایا جائے؟ مشار الیہ کو، حالانکہ ایسا تو ہے نہیں۔ مشار الیہ تو اوصاف سے پہلے ہے، اوصاف کے بعد نہیں، تو پھر وہ مجبور ہوئے کہ بھئی معنی تو خراب ہو رہا ہے، مشار الیہ تو پہلے ہے اوصاف تو بعد میں ہے، اور اگر ہم معنی کرتے ہیں تو معنی تو وہ یہ سمجھے کہ با کا مدخول مقدم ہوتا ہے تو اوصاف پہلے بن گئے اور مشار الیہ کیا ہو گیا؟ بعد میں۔ اب یہ بات بن رہی ہے صحیح بھئی؟ جب انہوں نے یہ تقریر کی تو بات بن نہیں رہی کہ با کے مدخول کو مقدم بنا رہے ہیں، تو وہ مجبور ہوئے اور انہوں نے کہا مشار الیہ سے مراد اسمِ اشارہ ہے۔ کیا کہنے لگے؟ مشار الیہ سے کیا مراد ہے؟ اسمِ اشارہ۔ بھئی دیکھو بھئی دیکھو یہ آپ، یہ ذکر ہوا مشار الیہ، اس مشار الیہ کے بعد ذکر ہوئیں آگے صفات، ان صفات کے بعد آگے کیا ذکر ہو رہا ہے؟ اسمِ اشارہ۔ تو یہاں پر اوصاف پر با داخل ہوئی ہے، علامہ تفتازانی کہتے ہیں جس پر با داخل ہوتی ہے وہ بعد میں آئے گا، تو مشار الیہ پہلے اور اوصاف اس کے بعد، بات ٹھیک ہے یہاں پر۔ لیکن بعض علماء نے کیا سمجھا کہ با کا مدخول مقدم ہوتا ہے کہ مشار الیہ کو بعد میں لائیں، کس کے بعد لائیں؟ اوصاف کے، حالانکہ یہ تو بعد میں نہیں ہے یہ تو اوصاف پر مقدم ہے، تو خرابی آ رہی تھی تو مجبور ہوئے، انہوں نے تاویل کی اور کیا کہا: مشار الیہ سے کیا مراد ہے؟ اسمِ اشارہ، اور اب بات ٹھیک بن گئی کہ عقب میں لایا جائے اسمِ اشارہ کو، بعد میں لایا جائے، کس کے بعد لایا جائے؟ اوصاف کے، اور اسمِ اشارہ آئے گا بھی کس کے بعد؟ اوصاف کے بعد ہی آئے گا، اب بات ٹھیک بن گئی یا نہیں بنی؟ تو علامہ تفتازانی کہتے ہیں نہیں بھئی، کہتے ہیں میں نے آپ کو لغت سے بات سمجھا دی کہ انہوں نے جو عبارت سمجھی اور جو معنی کیا وہ صحیح نہیں، بلکہ جو میں نے آپ کو بتلایا باقاعدہ لغت کے ذریعے آپ کو لغت کی بات، لغت کی کتابوں سے بات کر دی کہ با کا جو مدخول ہوتا ہے وہ کیا ہوتا ہے؟ مؤخر ہوتا ہے، اب مشار الیہ اپنے معنی کے اندر رہا، کلام کے اندر کوئی خرابی بھی نہیں۔ {يُقَالُ عَقَّبَهُ فُلَانٌ} پیچھے آیا اس کے فلاں، {إِذَا جَاءَ عَلَى عَقِبِهِ} جب وہ اس کے پیچھے آئے، {ثُمَّ تُعَدِّيهِ بِالْبَاءِ} پھر آپ اس کو متعدی کرتے ہیں کس کے ساتھ؟ با کے ساتھ، {إِلَى الْمَفْعُولِ الثَّانِي} کس کی طرف؟ مفعولِ ثانی کی طرف، {وَتَقُولُ عَقَّبْتُهُ بِالشَّيْءِ} اور آپ کہتے ہیں: ”عَقَّبْتُهُ بِالشَّيْءِ“، میں اس کے پیچھے لایا شئے کو، {إِذَا جَعَلْتَ الشَّيْءَ عَلَى عَقِبِهِ} جب شئے کو اس کے پیچھے لائیں، تو دیکھا با کا مدخول مؤخر ہوا۔ {وَبِهَذَا ظَهَرَ} اور اس ہماری تقریر سے ظاہر ہو گیا، {فَسَادُ مَا قِيلَ} فساد اس قول کا، کیا قول کیا گیا ہے؟ {إِنَّ مَعْنَاهُ} کہ معنی اس کلام کا کیا ہے؟ {عِنْدَ جَعْلِ اسْمِ الْإِشَارَةِ} دیکھا مشار الیہ کو کیا بنا دیا انہوں نے؟ جب اسمِ اشارہ کو بنایا جائے، {بِعَقِبِ أَوْصَافٍ} کس کے پیچھے؟ اوصاف کے پیچھے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، {عَلَى أَنَّهُ} تنبیہ کرنے کے لیے، {عَلَى أَنَّهُ مُتَعَلِّقٌ بِالتَّنْبِيهِ} یہ کس سے متعلق ہے؟ تنبیہ، تنبیہ کرنے کے لیے کس چیز پر؟ أَيْ لِلتَّنْبِيهِ عَلَى أَنَّ الْمُشَارَ إِلَيْهِ جَدِيرٌ، اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے کہ مشار الیہ وہ زیادہ لائق ہے، مشار الیہ بھئی ”أُولَئِكَ“ پہ نظر رکھیں اس کا مشار الیہ کون؟ متقین، وہ زیادہ لائق ہیں {بِمَا يَرِدُ بَعْدَهُ} اس چیز کے، أَيْ بَعْدَ اسْمِ الْإِشَارَةِ، جو آ رہی ہے، وارد ہے کس کے بعد؟ اسمِ اشارہ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ {عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ}، تو وہ متقین زیادہ لائق ہیں علی ہدیٰ پر، ہدایت پر، اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہونے کے۔ کیوں زیادہ لائق ہیں؟ {مِنْ أَجْلِهَا} أَيْ مِنْ أَجْلِ الْأَوْصَافِ، ان اوصاف کی وجہ سے۔ {مُتَعَلِّقٌ بِجَدِيرٍ} یہ ”مِنْ أَجْلِهَا“ جار مجرور ہے یہ ”جَدِيرٌ“ سے متعلق ہے، أَيْ حَقِيقٌ لائق ہونا، قابل ہونا، وہ زیادہ قابل ہیں بذلک اس خبر کے، لِأَجْلِ الْأَوْصَافِ ان اوصاف کی وجہ سے، {الَّذِي ذُكِرَتْ بَعْدَ الْمُشَارِ إِلَيْهِ} جو کس کے بعد ذکر ہو رہے ہیں؟ مشار الیہ کے بعد ذکر ہو رہے ہیں وہ اوصاف بھئی۔ نَحْوُ وہ اوصاف مثال کے طور پر کیا تھے؟ {الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ} جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، {وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ} اور نماز قائم کرتے ہیں، {إِلَى قَوْلِهِ} اللہ کے اس قول تک: {أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ} بھئی، وہ لوگ کیا ہیں؟ وہ لوگ اپنے رب، {عَلَى هُدًى} {مِنْ رَبِّهِمْ} اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہدایت پر ہیں، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہاں پر عجیب مولانا عجیب کلام ذکر کیا گیا، دیکھو بھئی اسمِ اشارہ کے ساتھ کتنی گہری بات کر دی گئی بھئی۔ تو یہ صحابہ ہیں، صحابہ مولانا عجیب لوگ تھے بھئی، عجیب لوگ۔ انسان جتنا سوچتا ہے حیرت اس کی بڑھتی چلی جاتی ہے یہ کس قسم کے لوگ تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر انہوں نے اتنی قربانیاں دیں، اتنی قربانیاں دیں کہ سوچتا ہے انسان تو حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ تو دیکھو یہاں یہ لوگ {عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ} اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں، ”عَلَى“ کا لفظ لایا گیا بھئی، ”عَلَى“ کا معنی ہے کسی چیز کے اوپر ہونا، کسی چیز کے اوپر ہونا۔ معلوم ہوا ہدایت کو تشبیہ دی گئی ہے گھوڑے کے ساتھ کہ ہدایت ایک گھوڑے کی طرح ہے جس پر یہ صحابہ سوار ہیں، اور صحابہ جس طرف کا رخ کرتے ہیں یہ ہدایت بھی ان کے ساتھ ساتھ چلتی جاتی ہے۔ {وَأُولَئِكَ} تو دیکھو یہ لوگ ہدایت پر ہیں اپنے رب کی طرف سے، ہدایت پر ہیں اپنے رب کی طرف سے یہ لوگ ہدایت پر ہیں یعنی دنیا میں، کس میں؟ دنیا میں یہ لوگ ہدایت پر ہیں اپنے رب کی طرف سے، {وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں آخرت میں بھئی۔ دنیا میں بھی ہدایت پر ہیں اور آخرت میں بھی یہ لوگ کیا ہیں؟ فلاح پانے والے ہیں۔ {عُقِّبَ الْمُشَارُ إِلَيْهِ} عقب میں لایا گیا مشار الیہ کو، {وَهُوَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ} مشار الیہ کون ہے مولانا؟ {الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ}۔ بھئی مشار الیہ تو میں نے بتایا تھا متقین ہے، علامہ تفتازانی کیا کہہ رہے ہیں؟ {الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ}، بھئی {الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ} وہ ذات مراد ہے۔ {الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ} وہ لوگ مراد ہیں، کیا ہیں؟ وہ لوگ مراد ہیں جس پر یہ، تو وہ لوگ جو ایمان لائے۔ بھئی ”الَّذِينَ“ کس پہ دلالت کرتا ہے؟ ذات پر نا، ذات پر دلالت کرتا ہے یا نہیں کرتا اسمِ موصول؟ تو یہاں پر بھی بھئی اشکال یہ ہوا کہ مشار الیہ تو متقین ہے تو علامہ تفتازانی کو متقین کہنا چاہیے تھا، یہ {الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ} کیوں کہا؟ تو جواب یہ مولانا صرف ان کی ذات مراد ہے، کیا مراد ہے؟ ذات مراد ہے بغیر اعتبارِ یوں کہو وصف کے، سمجھ میں آیا؟ بغیر وصف کے۔ تو وہ ذاتیں مراد، بھئی وہی ”الَّذِينَ“ سے کون سی ذات مراد ہے؟ وہی جو متقین کی ذات ہے یا کوئی اور ذات ہے؟ ہاں تو وصف کے بغیر صرف ذات مراد ہے، وہ لوگ جو ایمان لائے۔ اچھا تو عقب میں لائے گئے مولانا مشار الیہ کے عقب میں لائے گئے بھئی، کیا لائے گئے؟ {بِأَوْصَافٍ مُتَعَدِّدَةٍ} کیا لائے گئے؟ اوصافِ متعددہ، یعنی کہ ایمان بالغیب اور اقامتِ صلاۃ وغیرہ اس کے علاوہ اور، {ثُمَّ عُرِّفَ الْمُسْنَدُ إِلَيْهِ بِالإِشَارَةِ} پھر مسند الیہ کی معرفہ لایا گیا کس چیز کے ساتھ؟ اس میں ”أُولَئِكَ“ کو، {تَنْبِيهًا} تنبیہ کرنے کے لیے، {عَلَى أَنَّ الْمُشَارَ إِلَيْهِ أَحِقَّاءُ} کہ یہ جو مشار الیہ ہیں یہ، ”أَحِقَّاءُ“ جمع ہے حقیق کی، حقیق لائق ہونا، قابل ہونا، کہ یہ جو مشار الیہ ہیں یہ زیادہ لائق ہیں، {بِمَا يَرِدُ بَعْدَ أُولَئِكَ} اس خبر کے جو وارد ہو رہی ہے کس کے بعد؟ ”أُولَئِكَ“ کے بعد، اور وہ خبر کیا ہے؟ {وَهُوَ كَوْنُهُمْ عَلَى الْهُدَى} ان لوگوں کا ہدایت پر ہونا ہے، {عَاجِلًا} فوری طور پر یعنی دنیا میں، {وَالْفَوْزِ بِالْفَلَاحِ} اور ان لوگوں کا کس پر ہونا؟ کامیاب ہونا، بالفلاح کس کے، فوز بالفلاح کامیاب ہونا بھئی، {آجِلًا} کہاں پر بھئی؟ آخرت میں، دیر سے یعنی آخرت میں، {مِنْ أَجْلِ اتِّصَافِهِمْ بِالأَوْصَافِ الْمَذْكُورَةِ} بوجہ ان کے متصف ہونے کے اوصافِ مذکورہ کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ ان کا ہدایت پر ہونا ہے فوری طور پر، اور کامیاب ہونا ہے فلاح کے ساتھ آجلاً دیر سے، آخر میں یعنی آخرت میں، کیونکہ وہ بوجہ ان کے موصوف ہونے ان اوصاف، وہ ان اوصاف سے مذکور ہیں تو دنیا کے اندر بھی ہدایت پر ہیں اور آخرت میں بھی فلاح کے ساتھ کامیابی پائیں گے۔ چلیں مولانا: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
109 approved lectures · 43 of 109