اچھا مولانا گزشتہ سبق میں صدقِ خبر اور کذبِ خبر کی بحث چل رہی تھی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک طرف جمہور ہیں اور ان کے مقابلے میں جاحظ ہے۔ جمہور کہتے ہیں کہ کلامِ خبری بند ہے صدق و کذب میں، یعنی جو بھی کلامِ خبری ہو گا وہ یا صادق ہو گا یا کاذب ہو گا، کوئی ایسا کلامِ خبری ممکن نہیں جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جاحظ وہ کہتے ہیں کہ نہیں، ایسا کلامِ خبری بھی ممکن ہے جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو، تو وہ واسطہ ثابت کرتے ہیں صدق اور کذب کے درمیان۔
پھر جمہور جو یہ کہتے تھے کہ کلامِ خبری بند ہے صدق و کذب میں، ان میں پھر مولانا نظام معتزلی جو استاذ ہیں جاحظ کے وہ اختلاف کرتے ہیں صدق و کذب کی یا کلامِ خبری صادق اور کلامِ خبری کاذب کی تعریف میں بھئی۔ تو نظام معتزلی کے مقابلے میں اہلِ سنت والجماعت ہیں بھئی۔ تو اہلِ سنت والجماعت کیا کہتے ہیں کہ کلامِ خبری صادق کون سا ہو گا؟ وہ کلامِ خبری جو مطابق ہو کس کے؟ واقع کے۔ اور کلامِ خبری کاذب وہ ہو گا جو مطابق نہ ہو واقع کے۔ یعنی اگر نسبتِ کلامیہ نسبتِ خارجیہ کے مطابق ہے تو کلام صادق، اور اگر نسبتِ کلامیہ نسبتِ خارجیہ کے مطابق نہیں تو کلام کاذب۔ جبکہ نظام معتزلی کہتے ہیں نہیں، واقع اور خارج کا لحاظ نہیں بھئی خبر کے صادق اور کاذب ہونے میں، بلکہ لحاظ ہو گا نسبتِ ذہنیہ کا یعنی اعتقادِ مخبر کا۔ اگر کلامِ خبری اعتقادِ مخبر کے مطابق ہے تو کلام کیا ہے؟ صادق، اور اگر کلامِ خبری اعتقادِ مخبر کے مطابق نہیں تو کلام کاذب ہے۔
تو تفسیر میں اختلاف ہوا۔ ہاں اس میں اتفاق ہے دونوں کا مولانا، اہلِ سنت والجماعت اور نظام کا، کہ کلامِ خبری یا تو صادق ہو گا یا کاذب، ایسا کلامِ خبری ممکن نہیں جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب، البتہ تفسیر میں اختلاف کیا دونوں نے۔ اور نظام معتزلی نے دلیل پیش کی قرآن کی آیت بھئی۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں بھئی؟ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ، منافقین حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پاس آئے اور کہا: نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ، ہم گواہی دیتے ہیں کہ یقیناً آپ اللہ کے رسول ہیں، وَاللّٰهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ اللہ جانتے ہیں کہ آپ اس کے رسول ہیں، وَاللّٰهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ اور اللہ گواہی دیتے ہیں کہ یقیناً منافقین جھوٹے ہیں۔
تو یہاں دیکھو منافقین نے کیا کہا تھا؟ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ، حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے کیا کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو نظام معتزلی کہتے ہیں دیکھا، یہ بات اگرچہ واقع کے مطابق ہے، تو اگر واقع کا لحاظ ہوتا تو منافقین کو کیا کہنا چاہیے تھا؟ صادق کہنا چاہیے تھا، لیکن آگے اللہ کیا فرما رہے ہیں ان کو؟ کاذب فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں وجہ اس کی یہ کہ یہ خبر ان کے اعتقاد کے مطابق نہیں تھی، معلوم ہوا اعتبار کس کا کیا جائے گا؟ ان کا یہ اعتقاد نہیں تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اس لیے ان کو کیا کہا گیا؟ کاذب کہا گیا بھئی۔
اس کے پھر مولانا تین جوابات ذکر ہوئے تھے۔ میں نے بتلایا اصل میں جوابات دو ہیں مولانا: ایک منعی اور ایک تسلیمی بھئی۔ اور پھر منعی کے طرق دو ہیں، تو کل کتنے جوابات ہو گئے؟ تین ہو گئے بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ آیت جو آئی اس کے اندر جو ان کا قول ذکر ہوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ، اس میں یہ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ یہ کیا ہے؟ مشہود بہ ہے بھئی۔ تو نظام نے کیا کہا تھا کہ منافقین کو کاذب کہا گیا کس اعتبار سے؟ مشہود بہ کے اعتبار سے کہا گیا، یعنی جو انہوں نے إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ کہا اس کے اعتبار سے ان کو کہا گیا کاذب ہے کیونکہ یہ خبر ان کے اعتقاد کے مطابق نہیں تھی۔ ہم جواب دیتے ہیں منعی جواب: لَا نُسَلِّمُ، ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں، اس کے اعتبار سے ان کو کاذب نہیں کہا گیا، بلکہ یہ جو اس شہادت کے اندر انہوں نے تاکیدات ذکر کیں تین تاکیدات: إِنَّ لے کر آئے، لام لے کر آئے، اور جملہ اسمیہ لے کر آئے، تین تاکیدات ذکر کیں، اور کلام میں تاکید لائی جاتی ہے کیا بتلانے کے لیے؟ اپنا اعتقاد بتلانے کے لیے۔ کلام میں جب بھی کوئی تاکید ذکر کرتا ہے وہ کیا بتلانا چاہتا ہے کہ میرا اعتقاد بھی یہی ہے، اور انہوں نے تاکیدات ذکر کیں وہ کہنا گویا یہ چاہتے تھے کہ یہ جو بات ہماری زبان پر ہے یہی ہمارے دل میں ہے۔ تو یہاں پر ایک جملہ ضمنیہ آ گیا ان تاکیدات سے، وہ کیا؟ إِنَّ هٰذِهِ الشَّهَادَةَ مِنْ صَمِيمِ الْقَلْبِ کہ یہ شہادت کیا ہے ہمارے خلوصِ قلب سے ہے، دل کی گہرائی سے ہے بھئی۔ اور آپ بتلائیے مولانا کیا ان کی یہ خبر یا جو انہوں نے کہا کہ یہ بات خلوصِ قلب سے ہے، کیا یہ واقع کے مطابق ہے؟ کیا یہ کلام خلوصِ قلب سے تھا؟ نہیں۔ تو ان کا یہ دعویٰ رد ہوا، اس اعتبار سے ان کو کیا کہا گیا؟ کاذب کہا گیا بھئی۔ تو ان تین تاکیدات سے ایک جملہ ضمنیہ حاصل ہوا کہ یہ کلام، یہ شہادت ہمارے دل کی گہرائی سے ہے، تو اللہ نے فرمایا إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ جھوٹے ہیں، کس بات میں جھوٹے ہیں؟ یہ کہنے میں کہ یہ بات ہمارے خلوصِ قلب سے ہے۔ تو مشہود بہ کے اعتبار سے ان کو کاذب نہیں کہا گیا۔
یا مولانا یہ جو إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ سے پہلے انہوں نے کیا کہا؟ نَشْهَدُ ہم گواہی دیتے ہیں، تو انہوں نے اپنی اس خبر کا نام گواہی رکھا، اور اس خبر کا نام گواہی رکھنے میں وہ کیا ہیں؟ جھوٹے ہیں، کیونکہ گواہی کس کو کہتے ہیں جس میں زبان اور دل ایک ہوں، جو زبان پر ہو وہی اعتقاد میں ہو، اور ان کی جو زبان پر تھا وہ دل میں نہیں تھا، تو اس بات کا نام شہادت رکھنا یہ صحیح نہیں، اس میں جھوٹے ہیں بھئی۔
تیسرا جواب جو تسلیمی ہے کہ ہم تسلیم کرتے ہیں ان کو جو کاذب کہا گیا کس اعتبار سے کہا گیا؟ مشہود بہ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ کے اعتبار سے کہا گیا، لیکن ان کے اپنے گمان کے مطابق۔ انہوں نے آ کر جب یہ کلام کیا تو انہوں نے کہا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللّٰهِ، تو ان کا اپنا کیا خیال تھا کہ یہ کلام جو وہ کر رہے ہیں کیا واقع کے مطابق ہے؟ ان کا اپنا یہ خیال تھا کہ یہ جو ہم کلام کر رہے ہیں یہ واقع کے مطابق نہیں، تو ہم کیا کر رہے ہیں اس وقت؟ جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ ہمارا کلام واقع کے مطابق نہیں۔ تو دیکھا، مطابقت واقع کے ساتھ ہی معتبر ہے، واقع کے مطابق ہے کلام تو صادق، واقع کے مطابق نہیں تو کاذب ہے۔ تینوں جوابات سمجھ میں آ گئے اچھی طرح؟
اس کے بعد علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا بھئی: وَالْمُرَادُ بِالِاعْتِقَادِ الْحُكْمُ الذِّهْنِيُّ الْجَازِمُ أَوِ الرَّاجِحُ۔ میں نے یہاں آپ کو بتلایا تھا پانچ چیزیں ہیں مولانا: ایک علم ہے، ایک اعتقاد ہے، ایک ظن ہے، ایک وہم ہے اور ایک شک ہے بھئی۔ تو وہ حکم جس کا ادراک کیا جائے اگر وہ یقینی ہو اور تشکیک کو قبول نہ کرتا ہو، تشکیکِ مشکک سے زائل نہ ہو مولانا، کوئی شک نہ دلا سکے اس میں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ علم کہتے ہیں۔ اور اگر وہ حکم جس کا ادراک کیا ہے وہ یقینی تو ہے لیکن تشکیکِ مشکک سے کیا ہو جاتا ہے؟ زائل ہوتا ہے، تشکیک کو قبول کر لیتا ہے، تو وہ کیا کہلاتا ہے؟ اعتقاد کہلاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو علم اور اعتقاد یہ دونوں کس چیز کا نام ہیں؟ ادراک کرنا ایسے حکم کا جو کیا ہو؟ یقینی ہو۔ تو دونوں میں حکم کس قسم کا ہو گا؟ یقینی ہو گا، علم میں بھی حکم یقینی اور اعتقاد میں بھی حکم یقینی۔ لیکن پھر فرق دونوں میں یہ ہے کہ علم کیا ہے تشکیک کو قبول نہیں کرتا اور اعتقاد کیا کرتا ہے تشکیک کو قبول کر لیتا ہے۔ اور اگر وہ حکم جس کا ادراک کیا وہ یقینی نہیں مولانا بلکہ اس میں تردد ہے، تو پھر اس میں دو صورتیں ہوں گی: یا دونوں جانبین برابر ہوں گی یا ایک راجح ہو گی اور دوسری کیا ہو گی؟ مرجوح۔ اگر دونوں جانبین برابر ہیں، تردد اس قسم کا ہے کہ دونوں جانبین کیا ہیں برابر ہیں، مثلاً قیامِ زید میں تردد ہے کہ پتہ نہیں زید کھڑا ہے یا کھڑا نہیں اور دونوں جانبین برابر ہیں مولانا ثبوتی بھی اور سلبی بھی، تو پھر یہ کہلاتا ہے شک بھئی۔ اور اگر ایک جانب راجح ہے مولانا تو وہ کیا کہلاتا ہے؟ ظن کہلاتا ہے، اور جانبِ مرجوح کیا کہلاتی ہے؟ وہ وہم کہلاتا ہے بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ شک اور وہم یہ تصور کے قبیل سے ہیں مولانا، جبکہ علم، اعتقاد اور ظن جو ہیں یہ کس قبیل سے ہیں؟ تصدیق کے قبیل سے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
اب مولانا انہوں نے جب کہا، نظام کی تعریف کیا آئی بھئی؟ اس میں اعتقاد کا لفظ آیا کہ کلامِ خبری اگر اعتقادِ مخبر کے مطابق ہو تو کیا ہے؟ صادق، اور اگر کلامِ خبری اعتقادِ مخبر کے مطابق نہ ہو تو وہ کیا ہے؟ کاذب ہے۔ تو یہاں اعتقاد کا لفظ آیا مولانا، حالانکہ تصدیق تو دو اور قسم پر بھی ہے: ایک علم کہلاتی ہے اور ایک کیا کہلاتی ہے؟ ظن بھی ہے مولانا۔ تو یہاں تو صرف اعتقاد کی بات انہوں نے کر دی، معلوم ہوا وہ کلامِ خبری جو علم کے مطابق ہے وہ بھی خارج، وہ بھی نہ صادق ہے اور نہ کاذب! اسی طرح وہ کلامِ خبری جو ظن کے مطابق ہے یا ظن کے مطابق نہیں ہے وہ بھی نہ صادق ہے اور نہ کاذب ہے، کیونکہ انہوں نے صرف اعتقاد کا لفظ ذکر کیا بھئی، تو وہ دونوں تو خارج ہوئے بھئی۔ تو علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں بھئی کہ اعتقاد سے وہ اعتقادِ مشہور مراد نہیں ہے جو آپ نے پڑھا، کیا؟ ادراک ایسے حکم کا جو کیا ہو یقینی ہو اور تشکیک کو کیا کر لیتا ہو قبول کر لیتا ہو، وہ مراد نہیں ہے بھئی کیونکہ اگر وہ مراد لیں تو علم اور ظن کیا ہو جائیں گے؟ خارج ہو جائیں گے۔ اس سے مراد مطلق حکمِ ذہنی ہے بھئی، بس حکمِ ذہنی کا ادراک ہو بس، چاہے وہ یقینی ہو، جب یقینی کہا تو کون کون داخل ہو گئے بھئی؟ وہ اعتقادِ مشہور جو تھا وہ بھی داخل ہو گیا کیونکہ وہ بھی کیا ہوتا ہے یقینی، اور علم بھی داخل ہوا کیونکہ وہ بھی کیا ہے یقینی ہے، یا راجح ہو مولانا، اور جب راجح کہا تو کون داخل ہوا؟ ظن بھی داخل ہو گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اعتقاد سے مراد حکمِ ذہنی ہے، بس حکم کا ادراک ہونا چاہیے بس، اب چاہے وہ یقینی ہو اور چاہے راجح ہو۔ یقینی کہا تو کون کون داخل ہوئے؟ اعتقاد اور علم، اور راجح کہا تو کون داخل ہوئے؟ ظن داخل ہوئے۔ جی، اسی لیے کہا: وَالْمُرَادُ بِالِاعْتِقَادِ اور اعتقاد سے مراد کیا ہے؟ حکمِ ذہنی ہے الْجَازِمُ أَوِ الرَّاجِحُ جازم یا راجح بھئی، فَيَعُمُّ الْعِلْمَ وَالظَّنَّ تو وہ عام ہوا علم کو بھی اور ظن کو بھی، دونوں کو یہ اعتقاد شامل ہوا بھئی۔
وَهٰذَا يُشْكَلُ بِخَبَرِ الشَّاكِّ، اس پر اشکال ہوتا ہے خبرِ شاک کے ساتھ بھئی۔ بھئی ابھی میں نے آپ کو بتلایا بھئی شک کس قبیل سے ہے؟ تصور کے قبیل سے ہے، تصدیق کے قبیل سے نہیں۔ اس لیے کہ اس میں مولانا نہ آپ کو ثبوتِ حکم کا ادراک ہے اور نہ سلبِ حکم کا ادراک ہے۔ جب حکم کا ادراک ہی نہیں ہے، نہ ثبوت کا ادراک ہے نہ سلب کا ادراک ہے، تو پھر کیا ہوا؟ حکم کا ادراک جب نہیں ہے تو کیا ہوا یہ؟ تصور ہے، تصدیق میں تو کیا ہونا چاہیے مولانا؟ حکم ہونا چاہیے، اس میں حکم ہی نہیں تو یہ تصور ہوا۔ اب ایک شخص ہے اس کو شک ہے، تردد ہے کہ پتہ نہیں زید کھڑا ہے یا زید کھڑا نہیں، لیکن وہ کسی مخاطب کے سامنے کہہ دیتا ہے زَيْدٌ قَائِمٌ۔ اب یہ زَيْدٌ قَائِمٌ مولانا جو متکلم ہے مولانا شاک جو ہے شک کرنے والا اس کے اعتبار سے یہ تصور ہے۔ لیکن دوسری جہت سے دیکھا جائے تو سننے والا کس چیز کو سن رہا ہے؟ کلامِ خبری کو سن رہا ہے مولانا، کلامِ خبری، اس کے سامنے تو ایک پورا جملہ آ گیا، مبتدا آیا، خبر آئی۔
تو سامع جو کلام سن رہا ہے اس کے لحاظ سے تو یہ کلامِ خبری ہے اور مقصود بھی کیا ہے؟ خبر ہی مقصود ہے مولانا۔ تو یہ ہوا کلامِ خبری۔ اور ابھی ہم نے پیچھے قاعدہ پڑھا جمہور کا، جمہور کیا کہتے ہیں کہ جو بھی کلامِ خبری ہو گا یا صادق ہو گا یا کاذب ہو گا، کوئی کلامِ خبری ایسا ممکن نہیں جو نہ صادق ہو اور نہ کاذب ہو۔ اور جمہور میں کون کون داخل ہیں بھئی؟ اہلِ سنت والجماعت بھی اور نظام معتزلی بھی۔ اب یہ شخص جس کو شک ہے، تردد ہے کہ زید کھڑا ہے یا نہیں کھڑا، جب اس نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ، تو اب یہ بھی تو کیا ہے کلامِ خبری ہے بھئی، آپ کے قاعدے کے مطابق یا اس کو کیا ہونا چاہیے؟ صادق، یا کیا ہونا چاہیے؟ کاذب۔ لیکن اے نظام آپ کا جو قاعدہ ہے اس قاعدے کے مطابق نہ یہ کلام صادق بنتا ہے اور نہ کاذب بنتا ہے! دونوں کے قاعدوں پر چلیں گے بھئی، پہلے اہلِ سنت والجماعت کے قاعدے پر آؤ: ایک شاک شخص کو شک ہے کہ پتہ نہیں زید کھڑا ہے یا نہیں کھڑا، اور کہہ دیتا ہے کیا؟ زَيْدٌ قَائِمٌ۔ اہلِ سنت والجماعت کے ہاں کس کا اعتبار ہے؟ واقع اور خارج کا اعتبار ہے۔ اگر واقع کے مطابق اس کا یہ کلام نکل آیا تو کلام صادق، اور اگر واقع کے مطابق نہ نکلا تو کلام کاذب۔ ان پر تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، ان کے مسلک کے مطابق تو شاک کی خبر بھی یا صادق بن جاتی ہے یا کاذب بن جاتی ہے۔ لیکن اے نظام، وہ جو شاک کی خبر ہے اس نے کہہ دیا زَيْدٌ قَائِمٌ حالانکہ اس کو تردد ہے کہ زید کھڑا ہے یا کھڑا نہیں، تو نہ تو اس کو قیامِ زید کا اعتقاد ہے اور نہ عدمِ قیام کا اعتقاد ہے۔ تو اس کے اعتقاد کے مطابق تو کوئی بھی نہ ہوا! آپ اس کلام کو صادق بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ صادق تو تب ہو جب اس کا اعتقاد ہو کہ زید کھڑا ہے، تب تو اس کے اعتقاد کے مطابق ہو گا، اور جب تردد ہے تو کوئی اعتقاد نہیں بھئی۔ تو آپ نے ابھی قاعدہ بیان کیا کہ کلامِ خبری یا صادق ہو گا یا کاذب ہو گا، یہ شاک نے جب کلامِ خبری ذکر کیا ہے تو یہ نہ صادق بنتا ہے آپ کے مذہب کے مطابق اور نہ کاذب، کیونکہ وہاں پر تو کوئی اعتقاد ہے ہی نہیں بھئی! اشکال سمجھ میں آ گیا بھئی؟
وَهٰذَا اور یہ جو نظام کا مذہب ہے بھئی يُشْكَلُ، مجہول کا صیغہ پڑھنا ہے افعال سے، اشکال کیا جاتا ہے اس پر بِخَبَرِ الشَّاكِّ کس کے ساتھ؟ شاک کی خبر کے ساتھ، لِأَنَّهُ لاَ اعْتِقَادَ لَهُ اس لیے کہ اس کا تو کوئی اعتقاد ہی نہیں کہ اس کے مطابق ہو تو آپ صادق کہہ دیں اس کے مطابق نہ ہو تو آپ کیا کہہ دیں کاذب کہہ دیں۔ اس کا تو کوئی اعتقاد ہی نہیں کہ کلامِ خبری کو اس کے اعتقاد کے ساتھ، اس کی مطابقت کو دیکھا جائے۔ لاَ اعْتِقَادَ لَهُ اس کا کوئی اعتقاد نہیں ہوتا بِأَنَّهُ مُطَابِقٌ کہ یہ کلامِ خبری کیا ہے؟ مطابق ہے، فَيَكُونَ صَادِقًا پس کیا ہو جائے وہ؟ صادق ہو جائے۔ أَوْ غَيْرُ مُطَابِقٍ اور یہ اعتقاد بھی نہیں ہوتا کہ یہ کلامِ خبری کیا ہے؟ غیرِ مطابق ہے، فَيَكُونَ كَاذِبًا تو کیا ہو جائے یہ؟ کاذب ہو جائے بھئی۔ باوجود اس بات کے مَعَ أَنَّ النَّظَّامَ باوجود اس بات کے کہ نظام کس بات کے قائل ہیں؟ مِمَّنْ يَجْزِمُ ان لوگوں میں سے ہیں جو جزم و یقین رکھتے ہیں اس بات پر بِانْحِصَارِ الْخَبَرِ فِي الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ کہ خبر جو ہے وہ منحصر اور بند ہے کس میں؟ صدق اور کذب میں۔ آپ کا تو یہ دعویٰ ہے کہ ہر کلامِ خبری بند ہے کس میں؟ صدق اور کذب میں، اور یہاں پر نہ آپ اس کو صادق کہہ سکتے ہیں اپنے مذہب کے مطابق اور نہ کاذب کہہ سکتے ہیں، اس لیے کہ صادق یا کاذب اس وقت کہیں جب شاک کا کیا ہو کوئی اعتقاد ہو، شاک کا تو کوئی اعتقاد ہوتا ہی نہیں، نہ مطابقت کا اعتقاد نہ عدمِ مطابقت کا اعتقاد بھئی۔ شاک کو تو کیا ہے؟ تردد ہے، تردد کہتے کس کو ہیں جس کو نہ ثبوتِ حکم کا اعتقاد ہو نہ سلبِ حکم کا اعتقاد ہو، اعتقاد ہوتا ہی نہیں شاک کا۔ تو یہ آپ پر اعتراض وارد ہوا بھئی۔
نظام معتزلی اس کا جواب دینے لگے ہیں مولانا۔ نظام معتزلی کیا کہتے ہیں کہ آپ نے یہ جو کہا کہ شاک نے کیا دی؟ خبر دی، کہتے ہیں میں اس کو تسلیم ہی نہیں کرتا کہ شاک کا جو کلام ہے یہ خبر بھی ہے! اس لیے کہ جب شاک کو شک ہے اور باوجود شک کے وہ کہہ رہا ہے زَيْدٌ قَائِمٌ، تو اب یہ کلام اس نے بطورِ خبر کے نہیں کہا بھئی، اس کا قصد خبر دینے کا ہے ہی نہیں۔ بھئی آپ مجھے بتلاؤ ایک شخص کو تردد ہے کسی چیز کے بارے میں، پکا یقین نہیں، اعتقاد نہیں ہے کہ زید کھڑا ہے یا نہیں کھڑا، اگر اس نے خبر دینی ہو کیا وہ کہے گا زید کھڑا ہے؟ جس کو خود یقین اور اعتقاد نہ ہو کیا وہ خبر دیتے ہوئے یوں کہے گا کہ زید کھڑا ہے؟ تو معلوم ہوا جب وہ باوجود شک ہونے کے کہہ رہا ہے کہ زید کھڑا ہے تو اس کا قصد خبر دینے کا ہے ہی نہیں! جب قصد اس کا خبر دینے کا نہیں ہے تو یہ کلامِ خبری نہیں ہے بلکہ کس قبیل سے چلا گیا؟ انشاء کے قبیل سے چلا گیا، کلامِ انشائیہ بن گیا، اور ہمارا دعویٰ کس کے بارے میں تھا؟ کلامِ خبری کے بارے میں کہ جو کلامِ خبری ہو گا وہ بند ہو گا صدق اور کذب میں، اور شاک جو یہ کہہ رہا ہے زَيْدٌ قَائِمٌ یہاں تو اس کا قصد ہی خبر دینے کا نہیں ہے اور جب خبر دینے کا قصد نہیں ہے تو یہ کلامِ خبری رہا ہی نہیں بھئی! سمجھ میں آیا بھئی؟
پھر دیکھو میں نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں بھئی جس شخص کو تردد ہوتا ہے کہ زید کھڑا ہے یا نہیں کھڑا وہ اگر خبر دے گا تو کیا یوں کہے گا کہ زید کھڑا ہے؟ تو اگر وہ کہہ رہا ہے کہ زید کھڑا ہے باوجود کس چیز کے؟ شک ہونے کے، تو معلوم ہوا یہاں اس کا ارادہ خبر دینے کا ہے ہی نہیں، وہ کسی اور غرض سے یہ کلام ذکر کر رہا ہے، خبر دینے کی غرض سے یہ کلام نہیں کر رہا۔ جب اس کا قصد اخبار کا نہیں ہے تو پھر یہ کلامِ خبری ہوا بھی نہیں، اور جب کلامِ خبری نہیں ہوا تو ہمارے دعوے پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوا کیونکہ ہم کس کو منحصر مانتے ہیں صدق و کذب میں؟ کلامِ خبری کو، اور یہ کلامِ خبری ہے ہی نہیں۔ وَأُجِيبَ اور جواب دیا گیا ہے نظام کی طرف سے بِأَنَّ الشَّاكَّ کہ بے شک شک کرنے والا لَيْسَ بِمُخْبِرٍ وہ مخبر ہی نہیں ہے، خبر دینے والا ہی نہیں ہے، إِذْ لاَ قَصْدَ لَهُ إِلَى الْإِخْبَارِ اس لیے کہ اس کو قصد ہی نہیں کس طرف؟ خبر دینے کی طرف بھئی۔ تو یہ خبر ہوئی ہی نہیں، جب خبر نہیں ہوئی تو آپ یہ اعتراض نہیں کر سکتے کہ دیکھو یہ کلامِ خبری ہے اور نہ یہ صادق ہے اور نہ کاذب ہے، یہ کلامِ خبری ہے ہی نہیں بھئی۔
وَفِيهِ نَظَرٌ، علامہ تفتازانی کہتے ہیں تمہارا یہ جواب صحیح نہیں ہے، اس میں نظر ہے، اس میں اشکال ہے۔ إِذِ الْقَصْدُ إِلَى الْإِخْبَارِ لَيْسَ مُعْتَبَرًا فِي مَفْهُومِ الْخَبَرِ۔ کہتے ہیں تم نے کہا کہ شاک کو اخبار کا قصد نہیں ہوتا، ہم کہتے ہیں خبر کے مفہوم میں تو اخبار کا قصد معتبر ہی نہیں! ہم یہ نہیں دیکھیں گے کہ متکلم کو خبر کا قصد ہے یا نہیں ہے، بلکہ ہم کس کو دیکھیں گے؟ منطوق کو دیکھیں گے، جو کلام اس نے بولا ہے اس کو دیکھیں گے بھئی۔ اگر یہ منطوق احتمال رکھتا ہے صدق اور کذب کا تو یہ خبر ہے، چاہے متکلم کا قصد ہو یا قصد نہ ہو بھئی، متکلم کے قصد کا اس کے اندر اعتبار ہی نہیں خبر میں۔ ہم منطوق کو دیکھیں گے اگر وہ منطوق احتمال رکھتا ہے صدق اور کذب کا تو کیا ہے؟ خبر، اور اگر احتمال ہی نہیں رکھتا صدق و کذب کا تو وہ کیا ہے؟ انشاء۔ اب شاک نے جب کہا زَيْدٌ قَائِمٌ، آپ کا کیا خیال ہے یہ منطوق جو ہے یہ زَيْدٌ قَائِمٌ یہ خبر اور انشاء کا احتمال رکھتا ہے یا نہیں رکھتا؟ صدق و کذب کا احتمال رکھتا ہے یا نہیں رکھتا؟ جب صدق و کذب کا احتمال رکھتا ہے تو پھر کیا ہے یہ؟ خبر ہے بھئی! چاہے متکلم کا قصد ہو خبر کا یا نہ ہو اس کو نہیں دیکھا جاتا۔ اس لیے خبر کی تعریف میں پیچھے کیا الفاظ پڑھے آپ نے بھئی؟ خبر وہ کلام ہے کہ اَلَّذِي يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ جو احتمال رکھتا ہے صدق اور کذب کا۔ وہاں یہ تو کسی نے نہیں کہا کہ متکلم کو قصد ہو خبر کا تو پھر خبر ہو گی اور متکلم کو قصد نہ ہو تو خبر نہیں ہو گی، قصد کا تو اعتبار کیا ہی نہیں کسی نے مولانا، منطوق کو دیکھا بھئی۔ اس لیے یہ اشکال بدستور آپ کے اس جواب پر وارد ہے کہ یہ جو شاک نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ ہم اس منطوق کو دیکھیں گے، اس جملے کو دیکھیں گے، کیا یہ جملہ فی نفسہ صدق و کذب کا احتمال رکھتا ہے یا نہیں رکھتا؟ رکھتا ہے، تو یہ خبر تو ہے! جب خبر ہے، آپ نے کہا ہر خبر یا صادق ہو گی یا کاذب، چلو بتلاؤ اب یہ شاک نے جب یہ جملہ کہا ہے یہ صادق ہے یا کاذب ہے؟ آپ اپنے مذہب کے مطابق کیا اس کو صادق یا کاذب بنا سکتے ہیں؟ نہیں بنا سکتے کیونکہ آپ نے اعتبار کیا تھا اعتقاد کا اور شاک کا کوئی اعتقاد ہوتا ہی نہیں، نہ مطابقت کا اعتقاد نہ عدمِ مطابقت کا اعتقاد۔ اس لیے علامہ تفتازانی کہتے ہیں آپ کا یہ جواب دینا کہ شاک مخبر ہی نہیں ہے اس کو اخبار کا قصد ہی نہیں ہے، یہ صحیح نہیں۔ إِذِ الْقَصْدُ إِلَى الْإِخْبَارِ لَيْسَ مُعْتَبَرًا فِي مَفْهُومِ الْخَبَرِ اس لیے کہ خبر دینے کی طرف جو قصد ہے یہ معتبر نہیں ہے خبر کے مفہوم میں۔
لِأَنَّهُ، دلیل دے رہے ہیں کہ کیوں معتبر نہیں بھئی خبر کے مفہوم میں؟ لِأَنَّهُ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ اس لیے کہ خبر تو ایک ایسا قول ہے جو احتمال رکھے کس کا؟ صدق اور کذب کا، یہ مفہوم ہے کس کا؟ خبر کا، خبر کے مفہوم میں تو قصد کی قید ہے ہی نہیں۔ نَعَمْ، لیکن کسی جہت سے اس جواب کو درست کرنے لگے ہیں مولانا۔ ہاں، ہاں اگر ہم آپ کی پچھلی تعریف کو دیکھیں نا تو پھر آپ کا جواب کیا ہو جائے گا؟ کسی طریقے سے درست ہو جائے گا۔ دیکھیے پچھلے صفحے کے آخر میں دیکھیں انہوں نے کیا تعریف کی تھی صدقِ خبر اور کذبِ خبر کی بھئی۔ متن میں دیکھیں: وَقَالَ النَّظَّامُ صِدْقُهُ مُطَابَقَتُهُ لِاعْتِقَادِ الْمُخْبِرِ۔ کون سی خبر صادق اور کاذب ہو گی بھئی؟ جو خبر کس نے دی ہو؟ مخبر نے دی ہو۔ مُطَابَقَتُهُ لِاعْتِقَادِ الْمُخْبِرِ جو مخبر کے اعتقاد کے کیا ہو؟ مطابق ہو۔ اور مخبر کس کو کہتے ہیں بھئی؟ جو قصد رکھے کس چیز کا؟ خبر دینے کا۔ تو اگر آپ اپنی تعریف کے اس لفظ کو پکڑیں گے نا تو پھر تو جواب درست ہے کہ ہماری بحث اس خبر کے اندر چل رہی ہے جس خبر کے بولنے والے کا قصد کیا ہو؟ خبر دینے کا قصد ہو تب اس کا نام کیا رکھا جائے گا؟ مخبر۔ جس کا خبر دینے کا قصد ہی نہ ہو اس کو مخبر نہیں کہا جاتا بھئی۔ اور ہم نے کیا لفظ استعمال کیا تھا؟ لِاعْتِقَادِ الْمُخْبِرِ استعمال کیا تھا۔ تو ہماری بحث اس خبر کے اندر چل رہی ہے جو خبر کس سے صادر ہو رہی ہو؟ مخبر سے صادر ہو رہی ہو اور مخبر وہ ہوتا ہے جس کو خبر دینے کا قصد ہو، اور شاک کو خبر دینے کا قصد نہیں تو وہ مخبر نہیں تو اس کی خبر سے تو ہم بحث بھی نہیں کر رہے کہ وہ صادق ہوتی ہے یا کاذب ہوتی ہے۔ ہاں اس طریقے سے اگر جواب دیتے، پچھلی اپنی تعریف کا حوالہ دیتے کہ ہم نے تو وہاں مخبر کا لفظ ذکر کیا ہے، تو پھر تو بات درست تھی بھئی۔ نَعَمْ، ہاں هُوَ مُعْتَبَرٌ یہ جو قصد ہے نا قصد إلی الاخبار، یہ معتبر ہے فِي مَفْهُومِ الْمُخْبِرِ کس کے مفہوم میں معتبر ہے؟ مخبر کے مفہوم میں معتبر ہے خبر کے مفہوم میں معتبر نہیں۔ شاک کی خبر خبر تو کہلائے گی لیکن شاک کو مخبر نہیں کہیں گے ہم بھئی کیونکہ اس کو خبر کا قصد نہیں۔ وہ خبر صادق و کاذب ہو گی نظام کے ہاں جو خبر کس سے صادر ہو؟ مخبر سے یعنی قصد کرنے والے سے صادر ہو۔ اور شاک مخبر نہیں ہے بھئی، اس لیے اس کی خبر نہ صادق ہے اور نہ کاذب ہے بھئی۔ اور انحصار بھی کس میں ہے ہمارا کہ خبر بند ہے صدق و کذب میں؟ جو خبر کس سے صادر ہو؟ مخبر سے۔ وہ خبر بند ہے صدق و کذب میں کہ یا وہ صادق ہو گی یا کاذب ہو گی۔ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
چلیں جی آگے بھئی۔ وَالْجَاحِظُ أَنْكَرَ انْحِصَارَ الْخَبَرِ فِي الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ، چلیں مولانا اس کو کل کریں گے، وقت ذرا کم رہ گیا ہے اور بحث ذرا تفصیل طلب ہے۔ هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔