Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-047

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 27 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 5
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں مولانا آپ نے پڑھا تھا کہ الف لام دو قسم پر ہے: ایک الف لام اسمی ہے اور دوسرا الف لام حرفی ہے۔ اور الف لام اسمی وہ ہے جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر داخل ہوتا ہے اور بِمَعْنَى الَّذِي کے ہوتا ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ الف لام اسمی کہتے ہیں کہ وہ دراصل اسمِ موصول ہے جو بصورتِ الف لام کے آیا ہے بھئی۔ اور جو آگے اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کا صیغہ ہے: ضَارِبٌ یا مَضْرُوبٌ، وہ دراصل اس کا صلہ ہے اور وہ دراصل فعل ہے جو بصورت کس کے آیا ہے؟ اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کے، تو الضَّارِبُ بمعنیٰ ہوا: اَلَّذِي يَضْرِبُ کے، اور اَلْمَضْرُوبُ بمعنیٰ ہوا: اَلَّذِي يُضْرَبُ کے بھئی。 یہ میں نے آپ کو بتلایا تھا زائد بھئی، اور باقی کتاب کے اندر جو بحث ہوئی وہ الف لام حرفی کی ہوئی بھئی۔ الف لام حرفی کی تقسیم آپ نے پڑھی تھی بھئی کہ الف لام حرفی وہ ہے جس کے ذریعے کسی اسم کو معرفہ بنایا جاتا ہے بھئی؛ جب وہ کسی اسم پر داخل ہو تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ بن جاتا ہے اور اس کے ذریعے اشارہ کیا جاتا ہے مولانا۔ اب اشارہ یا تو اس کی جنس اور ماہیت کی طرف اشارہ ہوگا مولانا، افراد مراد نہیں ہوں گے، تو یہ الف لام جنسی اور الف لام حقیقی کہلاتا ہے بھئی۔ اور یا پھر مولانا افراد کی طرف اشارہ ہوگا؛ اگر افراد کی طرف اشارہ ہے تو پھر تمام افراد مراد ہوں گے یا بعض افراد؟ اگر تمام افراد مراد ہوں تو یہ الف لام استغراقی ہے بھئی، اور اگر بعض افراد مراد ہوں تو پھر یہ دو حال سے خالی نہیں: یا بعضِ متعین افراد مراد ہوں گے یا بعضِ غیرِ متعین۔ اگر متعین افراد مراد ہیں تو یہ الف لام عہدِ خارجی ہے، اور اگر غیرِ متعین مراد ہیں تو یہ الف لام عہدِ ذہنی ہے بھئی。 یہ تو آپ نحو میں پڑھ چکے ہیں بھئی۔ اب یہاں پر صاحبِ کتاب نے یہی قسمیں آپ کو بتلائیں لیکن انداز ذرا مختلف ہے بھئی۔ انہوں نے بتلایا کہ الف لام حرفی کی دو قسمیں ہیں بھئی: کتنی؟ دو قسمیں ہیں: ایک الف لام عہدِ خارجی اور ایک الف لام حقیقی بھئی۔ الف لام عہدِ خارجی وہ کون سا ہے جس کے ذریعے کیا مراد ہو مولانا؟ اشارہ کیا جائے کس کی طرف؟ فردِ متعین کی طرف اشارہ کیا جائے؛ مثلاً میں نے کہا: جَاءَنِي رَجُلٌ، نکرہ لے کر آیا، جب ایک دفعہ آ گیا، ذکر ہو گیا، متعین ہو گیا، اب میں اس کی طرف اشارہ کرتا ہوں الف لام کے ذریعے اور کہتا ہوں: فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ، تو یہ الف لام کون سا ہے؟ عہدِ خارجی ہے بھئی، وہ جو رجل متعین ہو گیا تھا اس کی طرف اشارہ ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور دوسری قسم کیا ہے؟ الف لام حقیقی، جس کے ذریعے حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے، کس کی طرف؟ پھر آگے اس کی تقسیم کی تھی کہ الف لام جنسی، الف لام استغراقی اور الف لام عہدِ ذہنی، یہ تینوں اسی الف لام حقیقی ہی کی قسمیں ہیں بھئی، یہ نئی بات انہوں نے آپ کو بتلائی تھی۔ کیسے؟ کہ یہ الف لام حقیقی کے ذریعے اشارہ ہوگا کس چیز کی طرف؟ حقیقت کی طرف، کس چیز کی طرف؟ حقیقت کی طرف۔ اب یا تو حقیقت مراد ہوگی مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم، یا حقیقت مراد ہوگی مِنْ حَيْثُ الْوُجُود بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اگر حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم مراد ہو تو پھر یہ الف لام جنسی کہلاتا ہے بھئی، یعنی حقیقت ہی مراد ہے، کیا مراد ہے؟ حقیقت ہی مراد ہے، اس کا مفہوم ہی مراد ہے بھئی۔ اور اگر مِنْ حَيْثُ الْوُجُود مراد ہو، یعنی حقیقت کا خارج میں وجود ہے مولانا افراد کے ضمن میں، جیسے حَیَوَانٌ نَاطِقٌ انسان کی حقیقت ہے اور اس حقیقت کا وجود خارج میں افراد کے ضمن میں پایا جاتا ہے؛ کس کے ضمن میں؟ جیسے زید، عمرو، بکر، یہ سارے افراد ہیں مولانا اس انسان کے اور ان سب کی حقیقت کیا ہے؟ حَیَوَانٌ نَاطِقٌ۔ تو الف لام حقیقی کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے حقیقت کی طرف؛ اگر حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم، حقیقت ہی مراد ہو، ماہیت ہی مراد ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ الف لام جنسی، اور اگر حقیقت مِنْ حَيْثُ الْوُجُود مراد ہو مولانا، اور وجود کس کا ہوتا ہے بھئی؟ افراد کا، کس کا؟ تو اگر ماہیت مِنْ حَيْثُ الْوُجُود مراد ہو تو پھر یہ حقیقت اور ماہیت فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ مراد ہوگی یا فِي ضِمْنِ جَمِيعِ الْأَفْرَادِ مراد ہوگی؟ اگر یہ حقیقت اور ماہیت فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ مراد ہو تو پھر یہ کیا ہے؟ الف لام عہدِ ذہنی ہے، اور اگر ماہیت مراد ہو فِي ضِمْنِ جَمِيعِ الْأَفْرَادِ تو پھر یہ کیا ہے؟ الف لام استغراقی ہے بھئی، الف لام۔ اس لیے مولانا کہ جب بھی ماہیت اور حقیقت کا تصور ذہن کے اندر آئے گا ساتھ ہی اس کے افراد بھی آ جائیں گے، ساتھ ہی کیا آ جائیں گے؟ تو یہ دراصل یہ جو الف لام عہدِ ذہنی ہے اور الف لام استغراقی ہے، یہ دونوں ان کا الف لام کون سا ہے؟ وہی الف لام حقیقی ہے، کون سا الف لام ہے؟ وہی الف لام حقیقی ہے جس کے ذریعے حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے، لیکن جب بھی کوئی حقیقت ذہن میں آتی ہے ساتھ ہی کس کا تصور آ جاتا ہے؟ اس کے افراد کا۔ اب یہی حقیقت بعض افراد کے اعتبار سے کے ضمن میں مراد ہو تو یہ کیا ہے؟ الف لام عہدِ ذہنی، اور اگر یہی حقیقت جمیع افراد کے ضمن میں مراد ہو تو یہ کیا ہے؟ الف لام استغراقی ہے بھئی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اور پھر میں نے آپ کو تو الف لام حقیقی کی کتنی قسمیں ہوئیں بھئی؟ تین قسمیں، کتنی قسمیں؟ الف لام جنسی، الف لام عہدِ ذہنی، اور الف لام استغراقی۔ اب الف لام حقیقی دلالت کرتا ہے کس پر؟ حقیقت پر۔ تو اب بغیر قرینے کے آ جائے تو اس سے کیا مراد لی جائے گی؟ حقیقت مراد لی جائے گی، کوئی قرینہ وہاں پر موجود نہیں تو الف لام حقیقی سے کیا مراد ہوگا؟ حقیقت مراد ہوگی۔ لیکن اگر ساتھ کوئی قرینہ آ جائے جو یہ بتلا دے کہ یہاں حقیقت مراد نہیں ہو سکتی تو پھر اس صورت میں کیا لینا پڑے گا؟ الف لام عہدِ ذہنی یا الف لام استغراقی مراد لینا پڑے گا، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ الف لام استغراق。 جیسے دیکھو، میں اپ کسی شخص کے ساتھ آیا بھئی، ایک نیا شہر ہے ہمیں نہ اس کے بازار وغیرہ کسی کا نہیں پتہ، اب میں اس کو کہتا ہوں: اُدْخُلِ السُّوقَ، بازار میں داخل ہو جاؤ۔ اب یہاں پر مولانا الف لام، کوئی بازار متعین ہے؟ جی؟ نہیں، تو معلوم ہوا یہ الف لام عہدِ خارجی نہیں، کیونکہ الف لام عہدِ خارجی کے ذریعے تو اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ کسی متعین کی طرف، اور یہاں تو کوئی بازار متعین نہیں، معلوم ہوا الف لام عہدِ خارجی نہیں؛ جب الف لام عہدِ خارجی نہیں تو متعین ہو گیا، کون سا الف لام ہے؟ الف لام حقیقی ہے، کون سا ہے؟ الف لام حقیقی، یعنی فردِ متعین نہیں مراد، حقیقت مراد ہے۔ اب حقیقت کے اندر پھر کتنی قسمیں تھیں؟ تین قسمیں تھیں: یا تو حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم مراد ہوگی یا حقیقت مِنْ حَيْثُ الْوُجُود مراد ہوگی، تو تین قسمیں بنی تھیں: الف لام جنسی، الف لام عہدِ ذہنی، الف لام استغراقی。 اب جب یہ طے ہو گیا کہ یہ الف لام حقیقی ہے تو اب پھر غور کریں گے مولانا کہ یہاں حقیقت مراد ہے، ماہیت مراد ہے، یعنی حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم مراد ہے یا مِنْ حَيْثُ الْوُجُود مراد ہے؟ تو غور کیا تو دیکھا اُدْخُل کا قرینہ بتلا رہا ہے کہ یہاں حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم مراد نہیں، کیونکہ اگر مفہوم مراد ہو پھر تو معنیٰ یہ ہوگا: اُدْخُلِ السُّوقَ، بازار کی حقیقت میں داخل ہو جاؤ، اور ایسا ہو سکتا ہے کوئی کسی چیز کی حقیقت میں داخل ہو کر اس کا جزء بن جائے؟ اس کا جزء نہیں بن سکتا، اس کی حقیقت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ جب حقیقت میں داخل نہیں ہو سکتا تو یہ اُدْخُل کے قرینے نے بتلا دیا کہ حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم نہیں مراد بلکہ حقیقت مِنْ حَيْثُ الْوُجُود مراد ہے۔ اب مِنْ حَيْثُ الْوُجُود کے اندر پھر دو احتمال تھے مولانا: یا یہ حقیقت مراد ہوگی بعض افراد کے ضمن میں یا جمیع افراد کے۔ اب یہاں جمیع افراد بھی مراد نہیں لے سکتے اس لیے کہ میں نے کیا کہا ہے: اُدْخُلِ السُّوقَ، اگر استغراق ہو تو پھر معنیٰ ہوگا: تمام بازاروں میں داخل ہو جاؤ، اور تمام بازاروں میں داخل ہو سکتا ہے وہ بھئی؟ تمام بازاروں میں داخل نہیں، دنیا بھر کے تمام بازاروں میں داخل ہو جائے ایسا تو ممکن نہیں، پھر تو پھر معلوم ہوا کہ یہ حقیقت مِنْ حَيْثُ الْوُجُود مراد ہے فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ، فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ، یعنی کوئی ایک فردِ غیرِ متعین اس کا مراد ہوا کہ کسی بازار میں داخل ہو جاؤ، کسی بازار میں داخل ہو جاؤ。 تو یہاں آپ کو یہ پتہ چل گیا مولانا کہ یہ جو الف لام عہدِ ذہنی ہے، یہ بھی کس کی قسم ہے؟ الف لام حقیقی ہی کی قسم ہے۔ اور جو الف لام استغراقی ہے، وہ بھی کس کی قسم ہے؟ الف لام حقیقی ہی کی قسم ہے۔ یہ بات سمجھ میں آئی بھئی کہ الف لام عہدِ ذہنی اور عہدِ خارجی دونوں الف لام حقیقی ہی کی قسمیں ہیں، اور یہ جب قرینہ قائم ہوگا تب پتہ چلے گا کہ یہاں حقیقت نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہیں؟ افراد، اب وہ بعض افراد مراد ہوں گے یا جمیع افراد مراد ہوں گے۔ اور پھر یہ بات آپ کو بتلائی تھی بھئی کہ یہ معنیٰ کے اندر نکرہ کی طرح ہوتا ہے یہ جو الف لام عہدِ ذہنی ہے بھئی۔ الف لام عہدِ ذہنی کس کی طرح ہے؟ معنیٰ میں نکرہ کی طرح ہے، ہاں لفظوں میں معرفہ ہی ہے، معرفہ ہی کے احکام اس پر جاری ہوں گے؛ جیسے معرفہ مبتدا بن سکتا ہے یہ بھی مبتدا بن سکتا ہے، جیسے معرفہ معرفہ کی صفت بنتا ہے یہ بھی معرفہ کی صفت بنے گا، جیسے معرفہ کی صفت معرفہ لائی جاتی ہے اس کی صفت بھی کیا لائی جائے گی؟ معرفہ لائی جائے گی وغیرہ。 اور پھر بتلایا تھا علامہ تفتازانی نے کہ متن میں آیا: كَالنَّكِرَةِ، نکرہ جیسا ہے، یہ نہیں کہا کہ یہ نکرہ ہے، یہ معنیٰ کے اندر نکرہ ہے بلکہ معنیٰ میں نکرہ جیسا ہے۔ بھئی یہ کاف کیوں لے کر آئے تشبیہ کے لیے؟ تو جواب دیا تھا علامہ تفتازانی نے کہ بھئی اس لیے کہ دونوں بالکل ایک جیسے نہیں ہیں، دونوں میں کچھ فرق ہے۔ بایں لحاظ تو دونوں ایک جیسے ہیں کہ یہ بھی فرد کہ نکرہ، نکرہ بھی فردِ غیرِ معین پر دلالت کرتا ہے جیسے رَجُلٌ، رَجُلٌ یہ بھی کس پر دلالت کر رہا ہے؟ فردِ غیرِ معین پر، اور اس رجل پر الف لام عہدِ ذہنی لے آؤ: اَلرَّجُلُ، یہ بھی کس پر دلالت کر رہا ہے؟ فردِ غیرِ معین پر، لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ نکرہ دلالت کرتا ہے باعتبارِ وضع کے، اور یہ دلالت کر رہا ہے کس کی وجہ سے؟ قرینے کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ قرینے کی وجہ سے۔ قرینے نے بتلایا تھا کہ یہاں حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم نہیں مراد بلکہ مِنْ حَيْثُ الْوُجُود مراد ہے، اور فِي ضِمْنِ جَمِيعِ الْأَفْرَادِ نہیں مراد بلکہ فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ مراد ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو دونوں میں فرق ہے، تو دونوں ایک جیسے ہیں بایں لحاظ کہ دونوں فردِ غیرِ متعین پر دلالت کرتے ہیں، اور دونوں مختلف ہیں بایں لحاظ کہ نکرہ دلالت کرتا ہے فردِ غیرِ معین پر وضع کے اعتبار سے اور یہ دلالت کرتا ہے قرینے کی وجہ سے بھئی。 یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ تکرار کرتے ہو بھئی؟ اچھی طرح تکرار کیا کرو بھئی، مشکل مسائل ہیں۔ ”وَلِكَوْنِهِ فِي الْمَعْنَى كَالنَّكِرَةِ قَدْ يُعَامَلُ مُعَامَلَةَ النَّكِرَةِ“، اور بوجہ ہونے اس کے نکرہ کے معنیٰ میں، اور وجہ ہونے اس کے معنیٰ کے اندر نکرہ جیسے، یعنی یہ نکرہ میں ہے معنیٰ کے اعتبار سے، اس وجہ سے ”قَدْ يُعَامَلُ مُعَامَلَةَ النَّكِرَةِ“ کبھی کبھار اس کے ساتھ کون سا معاملہ کیا جاتا ہے؟ نکرہ والا معاملہ کیا جاتا ہے، یہ جو معرف بلام الحقیقت ہوتا ہے اور جس سے مراد کیا ہوتا ہے؟ بعضِ فرد، جس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ بعضِ فردِ غیرِ معین، یعنی یہ جو الف لام عہدِ ذہنی جس پر داخل ہوا یوں کہو، یہ جو الف لام عہدِ ذہنی جس پر داخل ہوتا ہے اس کے ساتھ کبھی کس کا معاملہ کیا جاتا ہے؟ نکرہ والا معاملہ کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ معنیٰ میں نکرہ کی طرح ہے۔ ”وَيُوصَفُ بِالْجُمْلَةِ“، اور اس کو موصوف کیا جاتا ہے کس کے ساتھ؟ جملے کے ساتھ اس کو موصوف کیا جاتا ہے۔ بھئی یہ آپ جانتے ہیں کہ جملہ جو ہوتا ہے یہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے، اور نکرہ تو لہٰذا جب یہ نکرہ کے حکم میں ہے تو یہ نکرہ ہی کی صفت بن سکتا ہے، معرفہ کی صفت نہیں بن سکتا۔ اور ضابطہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکرہ کے بعد جملہ آ جائے یا نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائے تو اس نکرہ کے لیے کیا بنتے ہیں؟ صفت بنتے ہیں، اور اگر معرفہ کے بعد جملہ آ جائے یا جار مجرور آ جائیں تو وہ اس معرفہ کے لیے کیا بنتے ہیں؟ حال بنا کرتے ہیں بھئی۔ معرفہ کے بعد کیا آ جائے؟ جملہ آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ حال، اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو یہ جو الف لام جس پر عہدِ ذہنی آیا، یہ بھی معنیٰ میں کس کی طرح ہے؟ نکرہ کی طرح ہے، لہٰذا کبھی کبھار اس کے ساتھ نکرہ والا ہی معاملہ کرتے ہوئے جملے کو اس کی صفت بنا دیا جاتا ہے، حالانکہ جملہ تو نکرہ ہے، اس کو تو کس کی صفت بننا چاہیے؟ نکرہ کی، اور اس پر تو کیا داخل ہو گیا؟ الف لام، اور الف لام کی وجہ سے یہ کیا بن گیا ہے؟ معرفہ، تو جملے کو اس کی صفت نہیں بننا چاہیے؛ تو بھئی کہتے ہیں یہ لفظوں کے اعتبار سے معرفہ بن گیا ہے، معنیٰ کے اعتبار سے یہ اب بھی کیا ہے؟ نکرہ، جب معنیٰ کے اعتبار سے نکرہ ہے تو جملہ بھی نکرہ کے حکم میں ہے تو جملے کو اس کے کیا بنا دیا جاتا ہے؟ صفت بنا دیا جاتا ہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”كَقَوْلِهِ“، جیسے شاعر کا قول ہے: ”وَلَقَدْ أَمُرُّ عَلَى اللَّئِيمِ يَسُبُّنِي“ دوسرا مصرع ہے: ”فَمَضَيْتُ ثُمَّتَ قُلْتُ لَا يَعْنِينِي“ ”وَلَقَدْ أَمُرُّ عَلَى اللَّئِيمِ يَسُبُّنِي ... فَمَضَيْتُ ثُمَّتَ قُلْتُ لَا يَعْنِينِي“ یہاں شاعر کہتا ہے بھئی: ”وَلَقَدْ أَمُرُّ“، اور تحقیق میں گزرتا ہوں، ”عَلَى اللَّئِيمِ“، اللئیم پر بھئی الف لام عہدِ ذہنی ہے، تو معنیٰ بھی نکرہ والا کریں گے: جب میں گزرتا ہوں کسی ایسے کمینے پر، بھئی ”يَسُبُّنِي“ اس کے بعد فعل آ رہا ہے، جملہ، اور فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بنتا ہے؟ جملہ بنتا ہے، تو لہٰذا اس جملے کو لئیم کے لیے صفت بنا دیا، کیا بنا دیا؟ کیوں بنایا؟ کیونکہ اللئیم پر الف لام عہدِ ذہنی ہے اور یہ معنیٰ کے اندر نکرہ کی طرح ہے اور جملہ بھی نکرہ کے حکم میں ہے، تو اس جملے کو نکرہ کے لیے کیا بنا دیا؟ صفت بنا دیا۔ تو شاعر کہتا ہے: تحقیق میں گزرتا ہوں ”عَلَى اللَّئِيمِ“ کسی ایسے کمینے پر، ”يَسُبُّنِي“ جو مجھے گالیاں دیتا رہتا ہے، ”فَمَضَيْتُ“، تو میں گزر جاتا ہوں، ماضی بمعنیٰ مضارع کے، تو میں گزر جاتا ہوں، ”ثُمَّتَ قُلْتُ“، پھر میں کہتا ہوں اپنے جو ساتھی میرے ساتھ ہوتے ہیں ان کو کہتا ہوں: ”لَا يَعْنِينِي“، اس نے میرا ارادہ یہ میرا ارادہ نہیں کرتا، یہ میرا ارادہ نہیں کر رہا، یہ مجھے نہیں کہہ رہا。 شاعر کیا کہتا ہے؟ اپنے حلم اور بردباری کی تعریف کر رہا ہے کہ میں بڑا حلیم الطبع شخص ہوں، جب میں کسی ایسے کمینے پر گزرتا ہوں جو مجھے گالیاں دے رہا ہوتا ہے تو میں بڑے اطمینان اور سکون سے گزر جاتا ہوں، اس کی گالیوں کی پروا ہی نہیں کرتا، اتنا بردبار آدمی ہوں۔ اور میں گزر جاتا ہوں اور میرے جو ساتھی احباب میرے ساتھ ہوتے ہیں آگے گزر کر میں انہیں بھی یہی کہتا ہوں کہ یہ شخص مجھے نہیں گالیاں دے رہا تھا یہ کسی اور کو گالیاں دے رہا ہے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی。 تو ”فَمَضَيْتُ ثُمَّتَ قُلْتُ“، یہ ثُمَّتَ وہی حرفِ عطف ہے مولانا ثُمَّ، آپ نے پڑھا ہے نا؟ حروفِ عاطفہ میں سے ایک ثُمَّ ہے۔ اس ثُمَّ کے ساتھ کبھی تا ملا دی جاتی ہے: تا بھئی۔ اور جب ثُمَّ آتا ہے عطف کے لیے، اس کے ذریعے مفرد کا عطف مفرد پر بھی ہوتا ہے اور جملے کا عطف جملے پر بھی، لیکن جب اس کے ساتھ تا مل جائے تو پھر اس کے ذریعے صرف جملے کا عطف جملے پر ہوگا، مفرد کا عطف مفرد پر نہیں ہوگا بھئی。 تو دیکھیے شاعر مولانا اپنے حلم اور بردباری کی تعریف کر رہا ہے، توجہ سے سنو بھئی، بردباری کی تعریف کر رہا ہے۔ آگے ”يَسُبُّنِي“ کو ہم نے صفت نہیں بنایا، حال نہیں بنایا بھئی، اللئیم میں مولانا ہم نے الف لام عہدِ ذہنی بنایا، الف لام عہدِ خارجی نہیں؛ کیونکہ اگر الف لام عہدِ خارجی مراد لیں تو کوئی متعین کمینہ مراد ہوگا، کیونکہ الف لام عہدِ خارجی کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوتا ہے؟ کسی متعین کی طرف، تو پھر متعین کمینہ مراد ہوگا اور ”يَسُبُّنِي“ کو پھر حال بنانا پڑے گا کہ جب میں اس فلاں کمینے پر گزرتا ہوں اس حال میں کہ وہ مجھے کیا کرتا ہے؟ گالیاں دیتا ہے تو میں گزر جاتا ہوں اور اس کی پروا بھی نہیں کرتا اور ساتھیوں سے بھی کہتا ہوں اس نے میرا ارادہ نہیں کیا۔ اگر یہاں الف لام کو عہدِ خارجی کے لیے بنا لیں تو پھر مولانا بات صحیح نہیں رہتی یہاں پر، زیادہ مناسب نہیں بنتی، اس لیے کہ یہ مقامِ مدح ہے، یہاں شاعر اپنی تعریف کر رہا ہے کہ میں بڑا ہی حلیم الطبع شخص ہوں۔ تو اگر مراد یہ ہو کہ وہ فلاں کمینہ جب مجھے گالیاں دیتا ہے تو میں برداشت کر لیتا ہوں، معلوم ہوا کوئی اور گالیاں دے تو یہ برداشت نہیں کرتا؛ تو حلم اور بردباری پوری طرح اس میں مبالغہ کس صورت کے اندر ہے کہ الف لام عہدِ خارجی بنائیں یا الف لام عہدِ ذہنی بنائیں بھئی؟ عہدِ خارجی بنانے کی صورت میں مبالغہ نہیں، معلوم ہوا صرف اسی متعین کمینے کی گالیاں برداشت کرتا ہے اور کسی کی برداشت نہیں کرتا؛ تو جب الف لام عہدِ ذہنی بنایا تو اب کوئی بھی کمینہ گالیاں دیتا ہے وہ کہتا ہے میں اس کو کیا کر لیتا ہوں؟ برداشت کر لیتا ہوں۔ اور نیز مولانا ”يَسُبُّنِي“ کو حال بھی نہیں بنایا، اس لیے کہ اگر حال بنایا جاتا تو حال کا کیا معنیٰ ہے؟ یہ حال ہے حَالَ يَحُولُ حَوْلَانًا سے، گزر جاتا ہے، کچھ دیر کے لیے آتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے؟ گزر جاتا ہے؛ تو اس کے اندر بھی اتنا مبالغہ نہیں، کیونکہ معنیٰ یہ ہو جائے گا: جب میں گزرتا ہوں اس حال میں مجھے وہ گالیاں دیتا ہے۔ جب میں گزرتا ہوں صرف اس وقت وہ معلوم ہوا مجھے گالیاں دیتا ہے، باقی اوقات میں گالیاں نہیں دیتا۔ اور ایک اگر اس کو صفت بنائیں پھر اس کا معنیٰ ہوتا ہے جو ہر وقت مجھے کیا دیتا رہتا ہے؟ گالیاں، تو کس کے اندر مولانا بردباری زیادہ ہے بھئی؟ وہ جو ہر وقت گالیاں دینے کو برداشت کرے یا صرف وہ تھوڑی دیر مرور کے وقت برداشت کرے بھئی؟ جی سمجھ میں آیا؟ تو اگر حال بنائیں تو پھر بھی اس کے اندر مبالغہ نہیں، مبالغہ اسی صورت میں بنتا ہے کہ الف لام کون سا بنائیں؟ عہدِ ذہنی کا بنائیں اور ”يَسُبُّنِي“ کو اس کے لیے کیا بنائیں؟ صفت بنائیں۔ تو دیکھا اللئیم جو ہے اس پر الف لام داخل ہوا لیکن یہ الف لام ہے عہدِ ذہنی، اور الف لام عہدِ ذہنی معنیٰ میں کس کی طرح ہوتا ہے؟ نکرہ، تو اس کے ساتھ معاملہ بھی نکرہ والا کر دیا گیا اور فعل کو اس کی کیا بنا دیا گیا؟ جملے کو کیا بنا دیا گیا اس کی؟ صفت بنا دیا گیا۔ ”وَقَدْ يُفِيدُ الْمُعَرَّفُ بِاللَّامِ الْمُشَارِ بِهَا إِلَى الْحَقِيقَةِ الِاسْتِغْرَاقَ“، اور کبھی کبھار فائدہ دیتا ہے معرف باللام، کون سا معرف باللام؟ ”الْمُشَارِ بِهَا إِلَى الْحَقِيقَةِ“ جس کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ حقیقت کی طرف، وہ فائدہ دیتا ہے: ”الِاسْتِغْرَاقَ“، کس چیز کا؟ استغراق کا بھی فائدہ دیتا ہے۔ ”نَحْوُ: إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ“، یقیناً انسان جو ہے خسارے میں ہے۔ تو یہاں پر الإنسان پر جو الف لام آیا یہ استغراقی ہے بھئی، کیا ہے؟ اور الف لام استغراقی کس کی قسم ہے؟ الف لام حقیقی کی؛ تو دیکھو یہاں یہ معرف ہے بلام الحقیقت، یہ کیا ہے؟ معرف ہے بلام الحقیقت، اور اس نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ استغراق کا، کس چیز کا؟ تو یقیناً تمام انسان خسارے کے اندر ہیں، آگے آتا ہے: ”إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ“، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ تو کہتے ہیں: ”أُشِيرَ بِاللَّامِ إِلَى الْحَقِيقَةِ“، اشارہ کیا گیا ہے لام کے ذریعے حقیقت کی طرف، معلوم ہوا یہ الف لام کون سا ہے؟ حقیقی ہے۔ ”لَكِنْ لَمْ يُقْصَدْ بِهَا الْمَاهِيَّةُ مِنْ حَيْثُ هِيَ هِيَ“، لیکن ارادہ نہیں کیا گیا اس کے ساتھ ماہیت کا مِنْ حَيْثُ هِيَ هِيَ، یعنی اپنے مفہوم کے اعتبار سے کہ یہی مقصود ہو، ”وَلَا مِنْ حَيْثُ تَحَقُّقُهَا فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ“، بھئی الف لام حقیقی ہو تو اس میں پھر کتنے احتمال تھے؟ یا تو حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم مراد ہوگی یا حقیقت مِنْ حَيْثُ الوجود۔ تو کہتے ہیں یہاں پر الإنسان پر بھئی الف لام کون سا آیا؟ جی؟ الف لام حقیقی آیا، کون سا آیا؟ اب الف لام حقیقی کے ذریعے یا تو اشارہ ہوتا ہے حقیقت کی طرف یعنی حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم مراد ہوتی ہے یا حقیقت مِنْ حَيْثُ الْوُجُود، یہاں حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم مراد نہیں ہو سکتی۔ کیوں نہیں ہو سکتی؟ کیونکہ آگے استثناء آ رہا ہے: ”إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا“، مگر وہ لوگ، معلوم ہوا کچھ افراد کو نکالا جا رہا ہے، جب افراد کو نکالا جا رہا ہے تو معلوم ہوا ماقبل میں بھی افراد ہی مراد ہیں حقیقت مراد نہیں، کیونکہ استثناء اسی صورت میں بن سکتا ہے کہ ماقبل بھی کیا مراد ہوں؟ افراد مراد ہوں، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو معلوم ہوا الف لام حقیقی تو ہے لیکن حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم مراد نہیں بلکہ حقیقت مِنْ حَيْثُ الْوُجُود مراد ہے۔ اب حقیقت مِنْ حَيْثُ الْوُجُود کے اندر پھر کتنے احتمال تھے؟ دو احتمال تھے: یا فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ یا فِي ضِمْنِ جَمِيعِ الْأَفْرَادِ۔ فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ بھی حقیقت مراد نہیں ہو سکتی اس لیے کہ اس صورت میں استثناء کا پتہ ہی نہیں چلے گا، استثناء کرنا صحیح ہی نہیں رہے گا بھئی۔ کیا معنیٰ ہو جائے گا؟ کچھ انسان کیا ہیں؟ خسارے میں ہیں، اور آگے کیا آیا؟ استثناء، اور استثناء کی تو دو ہی قسمیں ہیں: یا مستثنیٰ متصل ہوتا ہے یا مستثنیٰ، مستثنیٰ متصل کس کو کہتے ہیں مولانا؟ کہ جو ماقبل میں داخل تھا لیکن الا کے ذریعے اس کو کیا کر دیا گیا؟ نکال دیا گیا، اور مستثنیٰ منقطع کس کو کہتے ہیں بھئی؟ جس کو الا جو حرفِ استثناء کے بعد ذکر کیا جائے اور وہ اس میں پہلے بھی داخل نہ ہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً بھئی، میں کہتا ہوں: میرے پاس درجہ خامسہ والے آئے لیکن زید نہیں آیا۔ دیکھو میں نے زید کا استثناء کر دیا، اب آپ کیا مجھے بتلا سکتے ہیں کہ زید یہ مستثنیٰ متصل ہے یا یوں کہو: میرے پاس کچھ لوگ آئے لیکن زید نہیں آیا، میرے پاس کچھ لوگ آئے لیکن زید نہیں آیا، دیکھو میں نے زید کا استثناء کر دیا، اب آپ مجھے بتائیے یہ مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع ہے؟ جی؟ اس کا کوئی بھی نہیں بتا سکتا یہ مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع ہے جب تک یہ طے نہ ہو جائے یہ جو لوگ آئے تھے زید ان میں شامل تھا یا شامل نہیں تھا؛ اگر زید بھی انہی لوگوں میں سے تھا پھر آپ نے اس کو نکالا ہے تو یہ کیا بن جائے گا؟ متصل، اور اگر یہ پہلے ہی ان میں شامل نہیں تھا تو پھر کیا بن جائے گا؟ مستثنیٰ منقطع۔ تو جب تک آپ کو یہی نہیں پتہ کہ زید ان لوگوں میں شمار تھا یا شمار نہیں تھا، نہ آپ متصل کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور نہ مستثنیٰ متصل کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور نہ مستثنیٰ منقطع کا، سمجھ میں آیا؟ تو اگر الإنسان سے بعض افراد مراد لے لیے جائیں تو پھر اس صورت میں آگے آنے والا استثناء صحیح نہیں رہ سکتا، کیونکہ یا تو اسے مستثنیٰ متصل بنانا پڑے گا یا منقطع بنانا پڑے گا، دو ہی صورتیں ہیں، اور یہ پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ ان میں داخل تھے یا داخل نہیں تھے؛ اگر داخل تھے تو کیا بنا دیں؟ جی؟ داخل تھے لیکن الا کے ذریعے نکال دیا گیا تو کیا بن گیا مستثنیٰ؟ متصل، اور اگر داخل نہیں تھا اور الا کے بعد ذکر ہوئے ہیں تو پھر کیا بنا دیں گے؟ مستثنیٰ منقطع، سمجھ میں آیا؟ تو الإنسان سے اگر بعض افراد مراد لے لیے جائیں یعنی الف لام کون سا بنا لیا جائے؟ عہدِ ذہنی بنا لیا جائے، تو پھر تو مستثنیٰ استثناء ہی صحیح نہیں رہتا۔ تو معلوم ہوا الف لام عہدِ ذہنی بھی یہاں پر نہیں ہے بلکہ کیا تو حقیقت فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ بھی مراد نہیں ہوئی، تو طے ہو گیا مولانا: حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم بھی نہیں مراد، حقیقت فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ بھی نہیں مراد، تو معلوم ہوا حقیقت فِي ضِمْنِ جَمِيعِ الْأَفْرَادِ مراد ہے، جَمِيعِ الْأَفْرَادِ، اب استثناء صحیح ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ استثناء صحیح ہو جائے گا کہ مابعد جو ذکر ہوئے وہ پہلے داخل تھے پھر الا کے ذریعے ان کو کیا کر دیا گیا؟ نکال دیا گیا۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”أُشِيرَ بِاللَّامِ إِلَى الْحَقِيقَةِ“، اشارہ کیا گیا لام کے ساتھ حقیقت کی طرف، ”لَكِنْ لَمْ يُقْصَدْ بِهَا الْمَاهِيَّةُ مِنْ حَيْثُ هِيَ هِيَ“، لیکن ارادہ نہیں کیا گیا اس کے ساتھ ماہیت کا مِنْ حَيْثُ هِيَ هِيَ، یعنی مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم جو ہے اس کا ارادہ نہیں کیا گیا کہ یہی مراد ہو یہی مقصود ہو مفہوم کے اعتبار سے، ”وَلَا مِنْ حَيْثُ تَحَقُّقُهَا فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ“، اور نہ ہی ماہیت کا ارادہ کیا گیا ہے اس حیثیت سے کہ اس کا تحقق ہو فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ، ”بَلْ فِي ضِمْنِ الْجَمِيعِ“، بلکہ یہاں ماہیت مراد ہے فِي ضِمْنِ جَمِيعِ الْأَفْرَادِ، ”بِدَلِيلِ صِحَّةِ الِاسْتِثْنَاءِ“، کس دلیل کے ساتھ؟ استثناء کے صحیح ہونے کی دلیل کے ساتھ، ”الَّذِي شَرْطُهُ دُخُولُ الْمُسْتَثْنَى فِي الْمُسْتَثْنَى مِنْهُ“، جس کے صحیح ہونے کے لیے کیا شرط تھی کہ مستثنیٰ کس میں داخل ہو؟ مستثنیٰ منہ میں داخل ہو، ”لَوْ سُكِتَ عَنْ ذِكْرِهِ“، اگر سکوت کیا جائے اس کے ذکر سے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھو، میں کہتا ہوں: درجہ خامسہ والے میرے پاس آئے لیکن زید نہیں آیا، اور زید بھی درجہ خامسہ میں ہے، تو اگر میں صرف یہ کہتا: میرے پاس درجہ خامسہ والے آئے، استثناء نہ کرتا، زید کے ذکر سے میں سکوت اختیار کرتا، تو زید بھی شامل ہوتا یا نہ ہوتا؟ زید بھی ان کے اندر شامل ہوتا، یہ معنیٰ ہے: ”لَوْ سُكِتَ عَنْ ذِكْرِهِ“، اگر اس کے ذکر سے سکوت کیا جاتا تو وہ بھی کیا ہوتا؟ مستثنیٰ بھی کس میں داخل ہوتا؟ مستثنیٰ منہ میں داخل ہوتا لیکن اس کو ذکر کیا گیا الا کے بعد تو اب وہ خارج ہوا ان سے، کیا ہوا ان سے؟ خارج ہوا۔ ”فَاللَّامُ الَّتِي لِتَعْرِيفِ...“، اچھا، اب یہاں سے علامہ تفتازانی اپ نے اتنی لمبی تقریر کی، اب اپ کو بتلائیں گے کہ ہم نے جو اتنی لمبی تقریر کی اتنا اپ کو پتہ چل گیا کہ یہ جو الف لام عہدِ ذہنی ہے، یہ جو الف لام استغراقی ہے، یہ کس کی قسمیں ہیں؟ یہ کس کی قسمیں ہیں؟ الف لام حقیقی ہی کی قسمیں ہیں، الف لام حقیقی ہی کی قسمیں ہیں۔ ہاں ان سے ہم نے بعض افراد یا جمیع افراد مراد لیے کس وجہ سے؟ قرینے کی وجہ سے، کس وجہ سے؟ یہی بات کر رہے ہیں: ”فَاللَّامُ الَّتِي لِتَعْرِيفِ الْعَهْدِ الذِّهْنِيِّ“، پس وہ لام جو تعریفِ عہدِ ذہنی کے لیے آتا ہے، ”أَوِ الِاسْتِغْرَاقِ“، یا وہ لام جو تعریفِ استغراق کے لیے آتا ہے، ”هِيَ لَامُ الْحَقِيقَةِ“، یہ دراصل کیا ہے؟ وہی لامِ حقیقت ہے، ”حُمِلَتْ عَلَى مَا ذَكَرْنَا“، اور اس کو محمول کیا گیا ہے اس چیز پر جس کو ہم نے ذکر کیا، یعنی بعض فرد پر یا تمام افراد پر اس کا حمل کیا گیا، ”بِحَسَبِ الْمَقَامِ وَالْقَرِينَةِ“، کس اعتبار سے؟ مقام اور قرینے کے اعتبار سے۔ مقام اور قرینہ بتلاتا ہے کہ یہاں حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم نہیں مراد بلکہ حقیقت مِنْ حَيْثُ الْوُجُود مراد ہے، اور پھر مِنْ حَيْثُ الْوُجُود فِي ضِمْنِ جَمِيعِ الْأَفْرَادِ ہے یا فِي ضِمْنِ بَعْضِ الْأَفْرَادِ۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے یا ویسے ہی خاموش بیٹھے ہو سارے بھئی؟ ساری بحث اس نقشے کے گرد گھوم رہی ہے اگر وہ اپ کے ذہن میں ہو بھئی。 ”وَلِهَذَا قُلْنَا“، اسی بناء پر ہم کہتے ہیں، جی، یہاں سے علامہ تفتازانی اپ کو بتلا رہے ہیں: بھئی انہوں نے علامہ تفتازانی نے کیا بات کی کہ یہ الف لام عہدِ ذہنی اور یہ جو الف لام کیا ہے؟ استغراقی، یہ کس کی قسمیں ہیں؟ الف لام حقیقی کی قسمیں ہیں۔ کہتے ہیں اسی لیے وہ جو متن میں ایا تھا بھئی دیکھو صفحہ 80 کے شروع میں متن ایا تھا دوسری سطر میں: ”وَقَدْ يَأْتِي“، کیا ایا تھا؟ ”وَقَدْ يَأْتِي“، اچھا ایک یہ، اور يَأْتِي کے اندر ضمیر تھی جو لوٹ رہی تھی معرف باللام کو، لیکن اگے علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا یہ مطلق معرف باللام کو نہیں لوٹ رہی بلکہ معرف بلام الحقیقت کو لوٹ رہی ہے۔ اسی طرح اگلے صفحے پر صفحہ 81 پر متن ا رہا ہے: ”وَقَدْ يُفِيدُ“، یہ بھی ضمیر لوٹ رہی تھی معرف باللام کو، لیکن علامہ تفتازانی نے اگے اپ کو بتلایا کہ یہ مطلق معرف باللام کو نہیں لوٹ رہی یہ ضمیر بلکہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ معرف بلام الحقیقت کو لوٹ رہی ہے، سمجھ میں ایا بھئی؟ تو یہاں علامہ تفتازانی نے اس ضمیر کو مطلق معرف باللام کی طرف نہیں لوٹایا بلکہ معرف بلام الحقیقت کی طرف لوٹایا۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اگر ہم اس ضمیر کو مطلق معرف باللام کی طرف لوٹا دیتے تو پھر یہ پتہ نہ چلتا کہ یہ جو الف لام عہدِ ذہنی ہے اور الف لام استغراقی ہے، یہ دونوں الف لام حقیقی ہی کی قسمیں ہیں، یہ پتہ نہ چلتا؛ لیکن جب ہم نے يَأْتِي اور يُفِيدُ کی ضمیر کو کس کی طرف لوٹا دیا؟ معرف بلام الحقیقت کی طرف لوٹایا تو اب وہی معرف بلام الحقیقت کبھی فائدہ دے رہا ہے کس چیز کا؟ کیا مراد ہوتا ہے اس سے؟ بعض فرد مراد ہوتے ہیں اور کبھی اس سے تمام افراد مراد ہوتے ہیں، معلوم ہوا یہ دونوں الف لام عہدِ ذہنی اور الف لام استغراقی اسی الف لام حقیقی کی قسمیں ہیں، کیا ہیں؟ بات سمجھ میں ائی؟ کیا بتلانا چاہ رہے ہیں؟ کہ الف لام عہدِ ذہنی اور الف لام استغراقی کس کی قسمیں ہیں؟ حقیقی کی قسمیں ہیں۔ تو لہٰذا ”قَدْ يَأْتِي“ اور ”قَدْ يُفِيدُ“ کے اندر ضمیر کس کو لوٹاؤ؟ معرف بلام الحقیقت کو لوٹاؤ، پھر ہی پتہ چلے گا کہ یہ اس کی قسمیں ہیں، اگر مطلق معرف باللام کی طرف لوٹاؤ گے تو پھر پتہ نہیں چلے گا۔ ”وَلِهَذَا قُلْنَا“، اسی بناء پر ہم نے کہا کہ ”إِنَّ الضَّمِيرَ فِي قَوْلِهِ“، کہ ضمیر جو ہے ماتن کے اس قول کے اندر: ”وَقَدْ يَأْتِي“، یہ وہ جو متن گزرا، ”وَقَدْ يُفِيدُ“، اور دوسرا قول کیا ہے ماتن کا؟ ”وَقَدْ يُفِيدُ“، ان کے اندر جو ضمیریں ہیں ”عَائِدٌ إِلَى الْمُعَرَّفِ بِاللَّامِ“، یہ ضمیریں کس کی طرف لوٹ رہی ہیں بھئی؟ معرف باللام کی طرف، لیکن مطلق معرف باللام نہیں، ”الْمُشَارِ بِهَا إِلَى الْحَقِيقَةِ“، وہ معرف باللام جس کے ذریعے اشارہ کیا جائے کس کی طرف؟ حقیقت کی طرف۔ یہاں تک بات سمجھ میں ائی بھئی؟ ”وَلَا بُدَّ فِي لَامِ الْحَقِيقَةِ“، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی، توجہ سے سنو مشکل اعتراض ہے بھئی۔ پہلے ایک بات سمجھ لیں مولانا: یہ اسمِ جنس بھئی، اسمِ جنس۔ اسمِ جنس یاد رکھو یا تو مصدر ہوتا ہے اور یا مولانا غیرِ مصدر ہوتا ہے۔ اسمِ جنس کی بات کر رہا ہوں جو نکرہ ہے، نکرہ ہے جس پر الف لام داخل نہیں ہوا۔ مصدر جیسے ضَرْبٌ، أَكْلٌ، شُرْبٌ وغیرہ، یہ مصدر بھی کیا ہے؟ اسمِ جنس ہے، کیا ہے؟ اسمِ جنس ہے بھئی۔ کیا بات ہوئی؟ اسمِ جنس، کس کی بات کر رہا ہوں اسمِ جنس؟ نکرہ کی۔ اسمِ جنس نکرہ یا تو مصدر ہوتا ہے جیسے أَكْلٌ، شُرْبٌ، ضَرْبٌ وغیرہ، یا مولانا یہ غیرِ مصدر ہوگا جیسے، يَرْحَمُكَ اللّٰهُ، جیسے أَسَدٌ، رَجُلٌ وغیرہ۔ یا غیرِ مصدر ہوگا جیسے اسد اور رجل وغیرہ۔ اب یہ جو مصدر ہے اسمِ جنس نکرہ مصدر، یہ بالاتفاق وضع ہے ماہیت اور حقیقت کے لیے۔ ماہیت اور حقیقت کے لیے، جو حاضر فی الذہن نہ ہو اور متعین فی الذہن نہ ہو۔ جلدی لکھو بھئی جلدی جو لکھ رہے ہیں بھئی۔ کیا کہا؟ کیا بات ہوئی مولانا علی؟ اسمِ جنس کتنی قسم پر ہوا؟ دو قسم پر، یا مصدر ہوگا یا غیرِ مصدر۔ یہ جو مصدر ہے یہ بالاتفاق وضع ہے کس کے لیے مولانا؟ ماہیت اور حقیقت کے لیے، لیکن وہ ماہیت اور حقیقت بایں لحاظ کہ وہ ذہن کے اندر حاضر نہیں، متعین نہیں۔ اور اسمِ جنس غیرِ مصدر ہے جیسے رَجُلٌ اور أَسَدٌ، اس کے اندر علماء کا اختلاف ہے، بعض علماء فرماتے ہیں یہ بھی حقیقت و ماہیت کے لیے وضع ہے، یہ أَسَدٌ، رَجُلٌ یہ بھی کس کے لیے وضع ہے؟ ماہیت اور حقیقت کے لیے، اور اسی طرح جیسے وہ مصدر کے لیے تھا، مصدر میں بھی حقیقت اور ماہیت مراد ہوتی ہے لیکن بایں لحاظ کہ وہ ذہن میں متعین اور حاضر نہیں؛ نکرہ ہے نا، نکرہ متعین ہے ذہن کے اندر؟ حاضر ہے؟ نہیں حاضر نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ جب متعین ہوگا تو ذہن میں حاضر ہوگا معلوم ہوگا بھئی۔ تو جیسے مولانا مصدر جو ہے وہ کس کے لیے وضع ہے؟ ماہیت اور حقیقت کے لیے، لیکن کس اعتبار سے؟ کہ وہ ذہن کے اندر حاضر نہیں، ذہن کے اندر متعین نہیں۔ اسی طرح یہ جو دوسرے اسمِ جنس ہیں جو مصدر نہیں جیسے رَجُلٌ، أَسَدٌ وغیرہ، اس میں بھی دو قول ہیں: اس میں ایک قول تو وہی مصدر کی طرح ہے کہ یہ بھی وضع ہے کس کے لیے؟ ماہیت اور حقیقت کے لیے اور اسی لحاظ سے، یعنی وہ اس اعتبار سے کہ وہ ماہیت اور حقیقت ذہن کے اندر جی؟ ذہن کے اندر حاضر، ذہن کے اندر حاضر نہ ہو۔ اور بعض کہتے ہیں نہیں یہ جو ہے یہ اسمِ جنس جو ہے غیرِ مصدر جو ہے یہ وضع ہے فردِ غیرِ معین کے لیے، یہ کس کے لیے وضع ہے؟ فردِ غیرِ معین کے لیے، ہاں کبھی کبھار یہ حقیقت اور ماہیت پر بھی دلالت کر دیتا ہے، وضع لیکن ماہیت اور حقیقت کے لیے نہیں ہے بلکہ کس کے لیے وضع ہے؟ جی؟ فردِ غیرِ معین کے لیے۔ یہ بات سمجھ میں آئی؟ کیا بات ہوئی بھئی؟ اسمِ جنس کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے: اول کیا ہے؟ مصدر، دوسرا کیا ہے؟ غیرِ مصدر۔ مصدر کی مثال: ضَرْبٌ، شُرْبٌ، أَكْلٌ جتنے بھی مصادر ہیں؛ اور غیرِ مصدر کی مثال: أَسَدٌ، رَجُلٌ وغیرہ۔ یہ جو مصدر ہیں یہ بالاتفاق کس کے لیے وضع ہیں؟ حقیقت اور ماہیت کے لیے، لیکن کس اعتبار سے؟ کہ وہ ذہن کے اندر حاضر نہ ہو، متعین نہ ہو؛ اور جو دوسرے غیرِ مصدر ہیں ان کے اندر کتنے قول ہیں؟ دو قول ہیں: بعض کے نزدیک کیا ہے کہ یہ بھی مصدر کی طرح ہے، جیسے مصدر ماہیت اور حقیقت کے لیے وضع تھا یہ بھی کس کے لیے وضع ہے؟ ماہیت اور حقیقت کے لیے، اور اسی طرح جیسے وہ بایں لحاظ کہ وہ ماہیت اور حقیقت ذہن کے اندر متعین اور حاضر نہ ہو؛ اور بعض کیا کہتے ہیں کہ یہ کس کے لیے ہے؟ فردِ غیرِ متعین کے لیے وضع ہے، ہاں کبھی کبھار کس پر دلالت کر دیتا ہے؟ ماہیت اور حقیقت پر بھی دلالت کر دیتا ہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ تھی تمہید بھئی، یہ کیا تھی؟ تمہید تھی۔ اب اعتراض سنو بھئی اعتراض۔ علامہ تفتازانی صرف جواب ذکر کریں گے بھئی کتاب میں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے بھئی: بھئی یہ جو اسمِ جنس ہے اس پر جب الف لام عہدِ ذہنی داخل ہوا بھئی، کیا داخل ہوا؟ عہدِ ذہنی نہیں، الف لام حقیقی رکھیں، الف لام حقیقی۔ اب بھئی جس پر الف لام حقیقی داخل ہوا، اس کے ذریعے بھی اشارہ کس کی طرف ہوتا ہے؟ بولو بھئی، الف لام حقیقی جس پہ داخل ہو اس کے ذریعے اشارہ کس کی طرف ہوگا؟ حقیقت اور ماہیت کی طرف۔ پھر آگے آپ نے پڑھی تھی تقسیم کہ وہ حقیقت مِنْ حَيْثُ الْمَفْهُوم مراد ہوگی یا مِنْ حَيْثُ الوجود، ہاں اس کی طرف ابھی نہیں جانا، اوپر جو پہلا تھا کہ وہ اسم جس پر الف لام حقیقی داخل ہو تو اس کی الف لام کے ذریعے اشارہ کس کی طرف ہوگا؟ حقیقت اور ماہیت کی طرف۔ تو معلوم ہوا یہ ماہیت اور حقیقت پر دلالت کرے گا، کیا کرے گا؟ اب یہ ماہیت اور حقیقت کس اعتبار سے مراد ہے؟ دو اعتبار ہیں: یا تو بایں لحاظ مراد ہے کہ ذہن میں حاضر ہے، متعین ہے، یا بایں لحاظ کہ ذہن میں حاضر نہیں، متعین نہیں۔ کیا بات ہوئی کہ الف لام حقیقی جس پر داخل ہو اس کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوگا؟ حقیقت اور ماہیت کی، بھئی سب بھئی جواب دیا کرو بھئی، سمجھ میں آ جائے بات تو مجھے پتہ چلے بھئی۔ الف لام حقیقی کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوگا؟ حقیقت اور ماہیت کی طرف۔ اب یہ حقیقت اور ماہیت پر جو یہ دلالت کر رہا ہے کس اعتبار سے کر رہا ہے؟ یا تو بایں لحاظ دلالت کرے گا کہ وہ حقیقت ذہن میں حاضر ہے اور متعین ہے، یا بایں لحاظ دلالت کرے گا کہ وہ ذہن کے اندر حاضر اور متعین نہیں۔ دونوں صورتوں میں خرابی لازم آتی ہے۔ تو الف لام حقیقی کے ذریعے اشارہ تو حقیقت کی طرف ہوگا لیکن حقیقت پر دلالت دو طرح سے ہی ہو سکتی ہے: یا تو بایں لحاظ کہ وہ ذہن میں حاضر اور متعین ہوگی، یا بایں لحاظ کہ ذہن میں حاضر اور متعین نہیں، دونوں صورتوں میں خرابی لازم آتی ہے۔ اگر یہ کیا کرتا ہے ماہیت پر دلالت کرتا ہے بایں لحاظ کہ ذہن میں وہ حاضر نہیں، متعین نہیں، تو پھر تو نکرہ بھی ایسا تھا اور یہ معرف باللام بھی ایسا ہی ہوا۔ ضَرْبٌ کس چیز پہ دلالت کر رہا تھا؟ حقیقت اور ماہیت پر، نکرہ بھئی اسمِ جنس ہے، اور کس لحاظ سے؟ کہ وہ ذہن میں حاضر اور متعین نہیں؛ اور الضَّرْبُ پر الف لام حقیقی آیا اور آپ نے بھی یہی مراد لیا کہ یہ بھی دلالت اس الف لام کے ذریعے بھی اشارہ ہے حقیقت اور ماہیت کی طرف لیکن بایں لحاظ کہ وہ حقیقت اور ماہیت ذہن کے اندر حاضر اور متعین نہیں، تو الضَّرْبُ اور ضَرْبٌ میں کوئی فرق رہا؟ نہیں، نکرہ اور معرفہ ایک جیسے ہو گئے۔ خرابی سمجھ میں آئی بھئی؟ اور اگر اس سے اشارہ کیا جائے ماہیت اور حقیقت کی طرف بایں لحاظ کہ ذہن میں وہ حاضر بھی ہے اور متعین بھی ہے، تو معلوم ہوا یہ دلالت کر رہا ہے حاضر فی الذہن پر اور متعین فی الذہن پر، تو اس کا فرق الف لام عہدِ خارجی سے نہ رہا، کیونکہ الف لام عہدِ خارجی کے ذریعے بھی اشارہ ہوتا ہے حاضر فی الذہن کی طرف اور متعین فی الذہن کی طرف۔ الف لام عہدِ خارجی کے ذریعے بھی کس کی طرف اشارہ ہوتا ہے؟ حاضر فی الذہن اور متعین فی الذہن کی طرف، اور یہ الف لام حقیقی کے ذریعے بھی مولانا اشارہ ہو رہا ہے کس کی طرف؟ حاضر فی الذہن اور متعین فی الذہن، پھر تو دونوں میں فرق نہ رہا، ان دونوں میں فرق نہ رہا، بات سمجھ میں آئی؟ تو جواب یہ مولانا کہ ہم شقِ ثانی کو اختیار کرتے ہیں کہ الف لام حقیقی کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے حقیقت اور ماہیت کی طرف بایں لحاظ کہ وہ ذہن میں حاضر ہے اور متعین ہے۔ آپ نے اس پر کہا کہ اس کو پھر تو اس کا التباس آ رہا ہے الف لام عہدِ خارجی کے ساتھ، کیونکہ الف لام خارجی کے ذریعے بھی حاضر فی الذہن اور متعین فی الذہن کی طرف اشارہ ہوتا ہے جیسے یہاں حقیقی کے ذریعے حاضر فی الذہن اور متعین فی الذہن کی طرف کیا ہو رہا ہے؟ اشارہ۔ تو جواب دیں گے کہ بھئی وہاں پر حقیقت کیا ہوتی ہے؟ حاضر اور متعین ذہن میں کیا ہوتی ہے؟ حقیقت، الف لام حقیقی میں؛ جبکہ الف لام عہدِ خارجی کے اندر اشارہ کس کی طرف ہوتا ہے؟ متعین افراد کی طرف ہوتا ہے، اور اس میں متعین حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے، تو دونوں میں فرق آ گیا، دونوں میں فرق آ گیا۔ بات سمجھ میں آئی؟ خلاصۂ اعتراض و جواب پھر سن لو بھئی: کہ الف لام، بھئی سب سے پہلے میں نے بتایا اسمِ جنس بھئی، اسمِ جنس جو ہے وہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ ماہیت اور حقیقت پر اس اعتبار سے کہ وہ ماہیت اور حقیقت ذہن کے اندر حاضر نہیں ہوتی، متعین نہیں ہوتی۔ اب یہ معرف بلام الحقیقت ہے اس کے ذریعے بھی اشارہ ہوتا ہے حقیقت اور ماہیت کی طرف۔ اب یہ حقیقت اور ماہیت کی طرف اشارہ دو لحاظ سے ہی ممکن ہے: یا تو بایں لحاظ کہ ذہن میں وہ حقیقت وہ حاضر اور متعین ہے، یا بایں لحاظ کہ ذہن میں وہ حاضر اور متعین نہیں۔ اگر بایں لحاظ اشارہ ہے کہ وہ ذہن میں حاضر اور متعین نہیں تو پھر تو اسمِ جنس نکرہ اور اسمِ جنس معرف باللام میں فرق نہ رہا، اسمِ جنس بھی نکرہ بھی دلالت کرتا ہے ماہیت اور حقیقت پر بایں لحاظ کہ ذہن میں حاضر اور متعین نہیں، اور یہ معرف بلام الحقیقت بھی دلالت کر رہا ہے حقیقت اور ماہیت پر بایں لحاظ کہ ذہن میں حاضر اور متعین نہیں، تو ضَرْبٌ اور الضَّرْبُ کے اندر کوئی فرق ہی نہیں رہا، حالانکہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں ان دونوں میں فرق ہے۔ اور اگر دوسری شق اختیار کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے حقیقت اور ماہیت کی طرف بایں لحاظ کہ ذہن میں وہ حاضر اور متعین ہوتی ہے، تو جو حاضر فی الذہن اور متعین فی الذہن کی طرف اشارہ ہوا تو یہ تو پھر عہدِ خارجی سے ممتاز نہ ہوا، کیونکہ وہاں بھی حاضر فی الذہن اور متعین فی الذہن کی طرف کیا ہوتا ہے؟ اشارہ ہوتا ہے۔ تو جواب دیا کہ ہم شقِ ثانی کو اختیار کرتے ہیں کہ معرف بلامِ عہدِ ذہنی جو ہوگا اس کے ذریعے اشارہ ہوگا کس کی طرف؟ حاضر فی الذہن اور متعین فی الذہن کی طرف اشارہ ہوگا، لیکن یہ عہدِ خارجی سے ممتاز ہوا بایں لحاظ کہ اس میں اشارہ ہے حقیقت کی طرف اور اس میں اشارہ ہے افراد کی طرف، ”أَيْ حِصَّةٍ مِنْ أَفْرَادِ الْحَقِيقَةِ“ بھئی، تو دونوں میں فرق ہو گیا بھئی۔ ”وَلَا بُدَّ فِي لَامِ الْحَقِيقَةِ“، اور ضروری ہے لامِ حقیقت کے اندر دیکھو کہ وہ پہلے شق جواب دے رہے ہیں بھئی: ”وَلَا بُدَّ فِي لَامِ الْحَقِيقَةِ“، اور ضروری ہے لامِ حقیقت کے اندر ”مِنْ أَنْ يُقْصَدَ بِهَا الْإِشَارَةُ إِلَى الْمَاهِيَّةِ“، کہ اس کے ذریعے ارادہ کیا جائے اشارہ کرنے کا ”إِلَى الْمَاهِيَّةِ“ کس کی طرف؟ ماہیت کی طرف، لیکن کس اعتبار سے؟ ”بِاعْتِبَارِ حُضُورِهَا فِي الذِّهْنِ“، بایں اعتبار کہ وہ ذہن میں حاضر ہے، تو نکرہ سے ممتاز ہو گیا، نکرہ میں وہ ذہن میں حاضر نہیں۔ ”لِيَتَمَيَّزَ عَنْ أَسْمَاءِ الْأَجْنَاسِ النَّكِرَاتِ“، تاکہ یہ ممتاز ہو جائے کس سے مولانا؟ ان اسمائے اجناس سے جو کیا ہیں؟ نکرہ ہیں۔ ”مِثْلُ الرُّجْعَى وَرُجْعَى“، یہ مصدر ہے مولانا اب دونوں میں فرق آ گیا۔ رُجْعَى بھی دلالت کر رہا ہے ماہیت اور مفہوم پر لیکن بایں لحاظ کہ وہ ذہن میں حاضر اور متعین نہیں، اور الرُّجْعَى بھی ماہیت اور حقیقت پر دلالت کر رہا ہے لیکن بایں لحاظ کہ وہ ذہن میں حاضر اور متعین ہے۔ ”وَإِذَا اعْتُبِرَ الْحُضُورُ فِي الذِّهْنِ“، اور جب اعتبار کیا گیا حضور فی الذہن کا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور حضور فی الذہن کا اعتبار کیا تو پھر کس سے التباس لازم آ رہا تھا؟ جی؟ الف لام عہدِ خارج، کہ وہ بھی حاضر فی الذہن ہوتا ہے اور یہ بھی حاضر فی الذہن پر دلالت کر رہا ہے تو کیا فرق ہے؟ تو اب بتلائیں گے کہ ایک سے حقیقت مراد ہے اور ایک سے افراد۔ ”وَإِذَا اعْتُبِرَ الْحُضُورُ فِي الذِّهْنِ“، اور جب حضور فی الذہن کا اعتبار کیا گیا، ”فَوَجْهُ امْتِيَازِهِ عَنْ تَعْرِيفِ الْعَهْدِ“، تو وجہِ امتیاز کیا ہے اس کی؟ یہ لامِ حقیقت کی جو تعریف ہے یہ ممتاز ہوگی اس کے ممتاز ہونے کی وجہ کس سے؟ تعریفِ عہدِ خارجی سے، وہ الف لام عہدِ خارجی کی وجہ سے جو تعریف آئی اس سے ممتاز ہونے کی وجہ یہ: ”أَنَّ اللَّامَ الْعَهْدِيَّ إِشَارَةٌ إِلَى حِصَّةٍ مُعَيَّنَةٍ مِنْ حَقِيقَةٍ“، کہ لامِ عہدی جو ہے، لامِ عہدِ خارجی، اس کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ ایک معین حصے کی طرف من حقیقت، کس میں سے؟ یعنی حقیقت کے افراد میں سے کسی متعین فرد کی طرف کیا ہوتا ہے؟ اشارہ ہوتا ہے، ”وَاحِدًا كَانَ أَوِ اثْنَيْنِ أَوْ جَمَاعَةً“، چاہے وہ ایک ہو، چاہے دو ہوں، چاہے جماعت ہو۔ ”وَلَامَ الْحَقِيقَةِ إِشَارَةٌ إِلَى نَفْسِ الْحَقِيقَةِ“، اور لامِ حقیقت کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ تو وہاں پر فرد کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور یہاں نفسِ حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے، ”مِنْ غَيْرِ نَظَرٍ إِلَى الْأَفْرَادِ“، بغیر نظر کیے کس کی طرف؟ افراد کی طرف، ”فَلْيَتَأَمَّلْ“، چاہیے غور و فکر کر لیں بھئی، یہ باریک بات ہے بھئی۔ یہاں تک بحث سمجھ میں آئی بھئی؟ ”وَهُوَ أَيِ الِاسْتِغْرَاقُ ضَرْبَانِ: حَقِيقِيٌّ، وَهُوَ أَنْ يُرَادَ كُلُّ فَرَدٍ مِمَّا يَتَنَاوَلُهُ اللَّفْظُ بِحَسَبِ اللُّغَةِ، نَحْوُ: عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَيْ عَالِمِ كُلِّ غَيْبٍ وَشَهَادَةٍ، وَعُرْفِيٌّ، نَحْوُ: جَمَعَ الْأَمِيرُ الصَّاغَةَ، أَيْ صَاغَةَ بَلَدِهِ أَوْ أَطْرَافِ مَمْلَكَتِهِ“، یہ مولانا الگ بحث ہے۔ ہم بحث کر رہے ہیں اس وقت مسند الیہ کے احوال سے بھئی، لیکن اس بحث کا تعلق مسند الیہ کے احوال سے نہیں ہے۔ ابھی ماقبل میں بھئی الف لام کی قسمیں گزری تھیں، وہاں استغراقی ایک قسم آئی تھی، تو استغراق کا تذکرہ آ گیا تھا مولانا، تو اب ماتن آپ کو تھوڑی سی استغراق کے بارے میں بتلانا چاہتے ہیں کہ استغراق کتنی قسم پر ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ استغراق کی بات کر رہے ہیں، اس کا مسند الیہ کے احوال سے کوئی تعلق نہیں۔ اور میں نے بتایا تھا استغراق دو قسم پر ہے: ایک استغراقِ حقیقی اور ایک استغراقِ عرفی۔ استغراقِ حقیقی وہ کہ وہ لفظ لغت کے اعتبار سے اپنے تمام افراد کو لغت کے اعتبار سے جن پر بولا جاتا ہے ان تمام افراد کو شامل ہو۔ میں الرَّجُلُ بولتا ہوں اور اس سے تمام دنیا کے رجل مراد ہوں تو یہ کیا ہے؟ استغراقِ حقیقی۔ اور میں الرَّجُلُ بولتا ہوں اور اس سے مراد لوں عرف کے اندر بھئی، مثلاً میں کہتا ہوں کہ کسی عالم کا مثلاً جنازہ ہے، میں کہتا ہوں کہ تمام، تمام لوگ جنازے میں آئے تھے، میں کیا کہتا ہوں؟ تمام لوگ جنازے میں آئے تھے، تو کیا آپ بتائیے تمام دنیا کے لوگ آئے تھے اس کے اندر؟ تو میں تو استغراق کر رہا ہوں لیکن یہاں استغراقِ حقیقی نہیں مراد بلکہ استغراقِ عرفی مراد ہے، یعنی اس شہر یا اس علاقے کے تمام لوگ کیا ہیں؟ آئے تھے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جیسے تو استغراق دو قسم پر ہے: ایک حقیقی کہ کوئی ایک فرد بھی باہر نہ رہے، اور ایک استغراقِ عرفی کہ عرف کے اندر جو ہے اس جو اپنے تمام افراد کو شامل ہو۔ جیسے مولانا ”عَالِمُ الْغَيْبِ“، ”عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ“، اللہ جاننے والے ہیں ہر ہر غیب کو، یعنی جو بھی چیز ہم سے غائب ہے اور ہر ہر اس چیز کو جو ہمارے لیے مشاہد ہے ہمارے مشاہدے میں ہے۔ تو اللہ ہر ہر غیب کو جاننے والے ہیں، یہ استغراقِ حقیقی ہے، کوئی ایک فردِ غیب بھی ایسا نہیں جو اللہ کے علم سے خارج ہو۔ اور ہر ہر مشاہد کو جاننے والے ہیں، کوئی ایک بھی مشاہد چیز کا فرد ایسا نہیں جو اللہ کے علم سے خارج ہو۔ تو یہ استغراق کون سا ہوا؟ استغراقِ حقیقی۔ اور ایک استغراقِ عرفی ہے، مثلاً آپ کہتے ہیں: امیر نے شہر، امیر نے تمام زرگروں کو جمع کیا: ”جَمَعَ الْأَمِيرُ الصَّاغَةَ“، امیر نے تمام زرگروں کو جمع کیا، تو یہاں مولانا یہ ممکن ہے کہ امیر تمام دنیا کے زرگروں کو جمع کر لے؟ جی؟ معلوم ہوا یہاں استغراقِ حقیقی نہیں مراد، تو پھر کیا مراد ہے؟ یعنی اپنے شہر کے تمام زرگروں کو یا اپنی مملکت کے تمام زرگروں کو، تو یہ استغراقِ حقیقی ہوا یا عرفی ہوا؟ عرفی ہوا۔ ”وَهُوَ أَيِ الِاسْتِغْرَاقُ ضَرْبَانِ“، اور استغراق جو ہے دو قسم پر ہے مولانا: ”حَقِيقِيٌّ“، ایک حقیقی ہے، ”وَهُوَ أَنْ يُرَادَ كُلُّ فَرَدٍ“، اور وہ یہ کہ ارادہ کیا جائے ہر فرد کا، ”مِمَّا“، ان افراد میں سے ”يَتَنَاوَلُهُ اللَّفْظُ بِحَسَبِ اللُّغَةِ“، کہ جن کو شامل ہو لفظ لغت کے اعتبار سے، کوئی ایک بھی باقی نہ رہے۔ ”نَحْوُ: عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ“، ”أَيْ عَالِمِ كُلِّ غَيْبٍ“، جاننے والے ہیں ہر غیب کو، ”وَشَهَادَةٍ“، اور ہر شہادت کو۔ ”وَعُرْفِيٌّ“، اور ایک کیا ہے؟ استغراقِ عرفی ہے، ”وَهُوَ أَنْ يُرَادَ كُلُّ فَرَدٍ“، کہ ارادہ کیا جائے ہر اس فرد ہر فرد کا، ”مِمَّا“، ان افراد میں سے ”يَتَنَاوَلُهُ اللَّفْظُ بِحَسَبِ مُتَفَاهِمِ الْعُرْفِ“، کہ جو جس کو لفظ شامل ہو باعتبار عرف کے سمجھنے کے، کس کے؟ عرف کے سمجھنے کے، عرف میں جو سمجھا جائے بھئی۔ ”نَحْوُ“، مثال کے طور پر ”جَمَعَ الْأَمِيرُ الصَّاغَةَ“، الصَّاغَةُ جمع ہے صَائِغٌ کی، زرگر کو کہتے ہیں۔ جمع کیا امیر نے زرگروں کو، ”أَيْ صَاغَةَ بَلَدِهِ“، یعنی اپنے شہر کے زرگروں کو، ”أَوْ أَطْرَافِ مَمْلَكَتِهِ أَيْ صَاغَةَ أَطْرَافِ مَمْلَكَتِهِ“، اپنی مملکت کے کناروں کے، یعنی گوشہ ہائے مملکت کے سناروں کو جمع کیا۔ ”لِأَنَّهُ الْمَفْهُومُ عُرْفًا“، اس لیے کہ یہی مفہوم ہے عرفاً، ”لَا صَاغَةَ الدُّنْيَا“، تمام دنیا کے زرگر مراد نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”قِيلَ“، کہا گیا، یہ ایک اشکال کا جواب ہے بھئی، بعضوں نے جو ذکر کیا جس کو علامہ تفتازانی رد کریں گے۔ اشکال یہ بھئی: انہوں نے کہا الصَّاغَةَ، الصَّاغَةَ پر الف لام کون سا ایا؟ استغراقی، اور استغراقِ حقیقی مراد ہے یا استغراقِ عرفی مراد ہے؟ استغراقِ عرفی مراد ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی یہ الصَّاغَةَ کو اپ نے استغراق کے لیے بطورِ مثال کے کیسے ذکر کر دیا؟ اس لیے کہ ضابطہ ہے مولانا، میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ الف لام دو قسم پر ہے: ایک اسمی ہے ایک حرفی۔ اسمِ فاعل پر جو الف لام داخل ہو وہ کون سا ہوا کرتا ہے؟ اسمی ہوتا ہے، اور ہم نے جو ابھی تک کتاب میں بحث پڑھی وہ کون سی تھی؟ الف لام حرفی کی، الف لام استغراقی کس کی قسم تھی؟ الف لام حرفی کی، اور الصَّاغَةَ تو صاغہ جمع ہے صائغ کی، تو یہ تو اسمِ فاعل ہے اور اسمِ فاعل پر جو الف لام اتا ہے وہ تو اسمی ہوا کرتا ہے حرفی نہیں؛ تو جب یہ الف لام اسمی ہے تو اس کو استغراق کے لیے بطورِ مثال کے ذکر کرنا صحیح نہیں، بات سمجھ میں ائی بھئی؟ اشکال سمجھ میں ایا؟ تو جواب دیتے ہیں کہ بھئی مثال مبنی ہے امام مازنی کے مذہب پر بھئی، کہ امام مازنی کے نزدیک الف لام چاہے اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر ہی کیوں نہ داخل ہو وہ اسمی نہیں ہے وہ بھی حرفی ہی ہے، اسمِ موصول نہیں ہے بھئی، سمجھ میں ایا؟ امام مازنی کیا فرماتے ہیں کہ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر جو الف لام داخل ہو وہ بھی کیا ہوا کرتا ہے؟ حرفی ہی ہوتا ہے، اور یہاں الف لام استغراقی بھی کون سا تھا؟ حرفی تھا، تو لہٰذا اس کو بطورِ مثال کے ذکر کرنا کیا ہوا؟ صحیح ہوا۔ اشکال سمجھ میں ایا بھئی؟ کہ اپ اس کو بطور جی، بطورِ مثال کے ذکر کر رہے ہیں کس کے لیے؟ استغراق کے لیے، اور استغراق کا فائدہ کون سا الف لام دیا کرتا تھا؟ الف لام حرفی، اور یہ تو ہے الف لام اسمی، یہ تو استغراق کا فائدہ نہیں دیتا بھئی، پھر اپ نے اس کو کیسے بطورِ مثال کے ذکر کر دیا؟ تو جواب دیا یہ امام مازنی کے مذہب پر ہے، ان کے نزدیک جو اسمِ فاعل اسمِ مفعول پر الف لام داخل ہوتا ہے وہ بھی کون سا ہوتا ہے؟ حرفی، اور الف لام حرفی کبھی کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ استغراق کا فائدہ دیتا ہے، لہٰذا اس کو بطورِ مثال کے ذکر کرنا صحیح ہے بھئی۔ جبکہ جمہور کے نزدیک تو یہ مثال صحیح نہیں بنتی، کیونکہ جمہور کے نزدیک اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر جو الف لام داخل ہو وہ کون سا ہوتا ہے؟ اسمی ہوتا ہے، اسمی ہوتا ہے۔ ”قِيلَ: الْمِثَالُ مَبْنِيٌّ عَلَى مَذْهَبِ الْمَازِنِيِّ“، کہا گیا ہے کہ مثال جو ہے مبنی ہے امامِ مازنی کے مذہب پر، ”وَإِلَّا“، أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ اگر ایسا نہ ہو تو، ”فَاللَّامُ فِي اسْمِ الْفَاعِلِ عِنْدَ غَيْرِهِ مَوْصُولٌ“، تو الف لام جو ہے اسمِ فاعل کے اندر ان کے علاوہ کے نزدیک، امام مازنی کے علاوہ جو ہیں جمہور ہیں ان کے نزدیک کیا ہے؟ اسمِ فاعل کا الف لام کیا ہوتا ہے؟ اسمِ موصول ہوتا ہے، تو لہٰذا اس کو بطورِ مثال کے ذکر کرنا ہی صحیح نہیں، لہٰذا یہ مثال مبنی ہے امام مازنی کے مذہب پر۔ ”وَفِيهِ نَظَرٌ“، علامہ تفتازانی فرماتے ہیں اس قول کے اندر نظر ہے، اشکال ہے بھئی، ”لِأَنَّ الْخِلَافَ“، اس لیے کہ اختلاف ”إِنَّمَا هُوَ فِي اسْمِ الْفَاعِلِ بِمَعْنَى الْحُدُوثِ“، اس اسمِ فاعل کے اندر ہے جو حدوث کے معنیٰ میں ہو، ”دُونَ غَيْرِهِ“، نہ کہ اس کے علاوہ جو ہے، یعنی جو دوام اور ثبوت کے معنیٰ میں ہے اس میں اختلاف ہی نہیں۔ علامہ تفتازانی اپ کو ایک نئی بات بتلا رہے ہیں بھئی، قیمتی بات بتلا رہے ہیں کہ بعضوں اشکال یہ ہوا تھا کہ الصَّاغَةَ پر تو الف لام جو ہے اسمی ہے اور ہماری بحث کس میں چل رہی ہے؟ الف لام حرفی میں کہ وہ استغراق کا فائدہ دیتا ہے، یہ درمیان میں اسمی اپ کہاں سے لے ائے؟ استغراق کا تو یہ فائدہ نہیں دیتا۔ تو جواب دیا بعضوں نے کہ یہ مبنی ہے امام مازنی کے مذہب پر، کیونکہ ان کے نزدیک اسمِ فاعل اسمِ مفعول پر جو الف لام ا جائے وہ بھی کون سا ہوتا ہے؟ حرفی ہی ہوتا ہے، جبکہ جمہور کے نزدیک تو وہ کیا ہے؟ تو یہ مذہبِ مازنی پر مبنی ہے۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ امام مازنی اور جمہور کا اختلاف اس اسمِ فاعل کے اندر ہے جو بمعنیٰ حدوث کے ہو، وہ اسمِ فاعل جو بمعنیٰ ثبوت اور دوام کے ہو اس میں تو جمہور بھی کہتے ہیں کہ الف لام کیا ہے؟ حرفی ہی ہے بھئی۔ تو یاد رکھو مولانا یہ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول دو قسم پر ہیں: ایک اسمِ فاعل اسمِ مفعول وہ جس میں حدوث کا معنیٰ پایا جائے، اور ایک اسمِ فاعل اسمِ مفعول وہ جس میں دوام اور ثبوت کا معنیٰ پایا جائے، حدوث کا کیا معنیٰ؟ جی؟ حدوث کا معنیٰ ہونا، ایک چیز پہلے نہیں تھی پھر ہوئی بھئی، اور ہوئی اور گزر گئی بھئی، سمجھ میں ایا بھئی؟ الضَّارِبُ کس کو کہتے ہیں مولانا؟ کیا پٹائی کرنے الضارب کا معنیٰ پٹائی کرنے والا، تو کیا الضارب شخص جو ہے ہر وقت دوام کے ساتھ پٹائی کرتا رہتا ہے اس کو ضارب کہتے ہیں؟ نہیں، بلکہ اس میں حدوثِ ضرب ہوتا ہے، ضرب ہوئی بھئی، ضرب کیا ہوئی؟ ضرب اس نے لگائی، ضرب لگانے والا، تو اس میں استمرار اس میں دوام نہیں ہوتا، اس میں دوام اور ایک اسمِ فاعل ہے جو دوام کے معنیٰ میں ہوتا ہے۔ اچھا بتلائیے، میں نے کہا الضَّارِبُ، کیا یہ ہر وقت ضرب لگانے والا ہے؟ جی؟ نہیں، کبھی ضرب لگانے والا ہے کبھی نہیں۔ اور ایک میں کہتا ہوں: الْمُؤْمِنُ، یہ بھی اسمِ فاعل ہے، اور یہ مولانا یہ حدوث پر دلالت نہیں کر رہا بلکہ یہ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ ثبوت اور ایمان والا، تو کیا ایمان ایسا ہوتا ہے کبھی ہے کبھی نہیں، کبھی ہے کبھی نہیں، یا دائماً ساتھ ہوتا ہے شخص کے بھئی؟ دائماً کیا ہے؟ ساتھ ہوتا ہے۔ تو اسمِ فاعل دو قسم پر ہے: ایک وہ جس میں حدوث کا معنیٰ پایا جائے، ایک وہ جو کس معنیٰ میں ہو؟ دوام اور ثبوت کے معنیٰ میں ہو۔ تو وہ اسمِ فاعل جو دوام اور ثبوت کے معنیٰ میں ہو اس میں تو جمہور بھی کہتے ہیں کہ اس پر جو الف لام داخل ہوا وہ حرفی ہی ہے، جیسے کہ امام مازنی فرماتے ہیں۔ البتہ وہ اسمِ فاعل جو بمعنیٰ حدوث کے ہو اس پر جو الف لام ایا وہ کون سا ہے؟ وہ اسمی ہے۔ تو اسمِ فاعل کی کتنی اسمِ مفعول کی کتنی قسمیں ہوئیں بھئی؟ ایک اسمِ فاعل بمعنیٰ حدوث، دوسرا اسمِ فاعل بمعنیٰ دوام۔ اور کون سا الف لام اسمی ہوگا؟ کون سے اسمِ فاعل پر جو کس معنیٰ میں ہے؟ حدوث کے معنیٰ میں ہے بھئی، سمجھ میں ایا بھئی؟ حدوث کے معنیٰ میں ہے، وہ الف لام اسمی ہے، باقیوں کے بارے میں تو جمہور بھی کہتے ہیں جو کہ اس کے اندر الف لام کون سا ہے؟ حرفی ہے، تو اختلاف صرف اس اسمِ فاعل میں اگیا جو بمعنیٰ حدوث کے ہو، جو بمعنیٰ ثبوت کے ہے اس کے اندر کوئی اختلاف نہیں۔ اور یہ بتلائیے، متن میں ایا الصَّاغَةُ، صاغہ کس کی جمع؟ صائغ کے، صائغ کا کیا معنیٰ؟ زرگر، اور یہ حدوث پہ دلالت کر رہا ہے یا ثبوت پر؟ جی؟ کیا ایسا ہے ایک شخص ابھی زرگر ہے پھر نہیں ہے، پھر ہو گیا پھر نہیں ہے، یا دوام کے ساتھ زرگر ہے بھئی؟ دوام کے ساتھ یہ صفت اس کے لیے ثابت ہے، کوئی کام کر رہا ہے، بنا رہا ہے سونے وغیرہ کو یا نہیں بنا رہا، ارام سے بیٹھا ہوا ہے، پھر بھی اپ اس کو کیا کہتے ہیں؟ زرگر کہتے ہیں، جبکہ ضرب لگانے والا جب ارام سے بیٹھا ہے اب کوئی اس کو ضارب کہتا ہے؟ اب اس کو ضارب نہیں کہتا۔ تو معلوم ہوا یہ جو ہے یہ الف لام کون سا ہے؟ یہ اسمِ فاعل کس معنیٰ میں ہے؟ ثبوت کے معنیٰ میں، اور جب یہ ثبوت اور دوام کے معنیٰ میں ہے تو اس پر الف لام جو داخل ہوا وہ کون سا ہوا؟ وہ حرفی ہوا، اور استغراق کا فائدہ بھی کون سا الف لام دے رہا تھا؟ حرفی ہی دے رہا تھا، تو مثال مطابق ہوئی یا غیرِ مطابق بھئی؟ مطابق ہوئی بھئی۔ ”وَفِيهِ نَظَرٌ“، اور اس قول کے اندر اشکال ہے، ”لِأَنَّ الْخِلَافَ إِنَّمَا هُوَ فِي اسْمِ الْفَاعِلِ بِمَعْنَى الْحُدُوثِ دُونَ غَيْرِهِ“، اس لیے کہ اختلاف تو اس اسمِ فاعل میں ہے جو حدوث کے معنیٰ میں ہوتا ہے نہ کہ اس کے علاوہ میں، ”نَحْوُ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ“، جیسے کیا ہے مولانا؟ مومن، یہ کیا ہے؟ ثبوت پہ دلالت کر رہا ہے اسمِ فاعل یا حدوث پر؟ ثبوت پر۔ الکافر، یہ کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ یہ بھی ثبوت پر۔ العالم، یہ بھی کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ یہ بھی علم جب ہے تو ہر وقت ساتھ ہے یہ وصف ثابت ہے۔ اور جاہل بھئی، یہ بھی کیسا وصف ہے؟ ثبوت پر دلالت کر رہا ہے۔ ”لِأَنَّهُمْ قَالُوا“، اس لیے کہ یہ باقی علماء، امام مازنی کے علاوہ جو علماء ہیں وہ فرماتے ہیں: ”هَذِهِ الصِّلَةُ فِعْلٌ فِي صُورَةِ الِاسْمِ“، بھئی انہوں نے کہا کہ وہ الف وہ اسمِ فاعل جو بمعنیٰ حدوث کے ہو اس پر جو الف لام ایا وہ کون سا الف لام ہے؟ اسمی ہے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ وہ اسمِ فاعل جو بمعنیٰ حدوث کے ہو اس پر جو الف لام داخل ہو وہ کون سا ہوتا ہے؟ اسمی ہوتا ہے، اسمی ہوتا ہے۔ کیوں اسمی ہوتا ہے؟ کہتے ہیں یہ جو اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول ہے یہ دراصل اس کا صلہ ہے، یہ الف لام اسمی ہے موصول ہے اور اگے ضارب یا مضروب اس کا صلہ ہے، اور یہ ضارب اور مضروب دراصل فعل ہیں جو بصورت کس کے ائے ہیں؟ اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کے۔ تو الضَّارِبُ میں ضارب کس معنیٰ میں ہے؟ يَضْرِبُ، اور الْمَضْرُوبُ میں مضروب کس معنیٰ میں ہے؟ يُضْرَبُ کے معنیٰ میں ہے، اور اس کو يَضْرِبُ اور يُضْرَبُ کے معنیٰ میں تبھی لے سکتے ہیں جبکہ ان کے اندر حدوث کا معنیٰ پایا جائے، کیونکہ فعل بھی کس پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث پر دلالت کرتا ہے، ثبوت اور دوام پر دلالت نہیں کرتا، سمجھ میں ایا؟ تو لہٰذا ان کا حدوث کے معنیٰ میں ہونا ضروری تبھی الف لام اسمی بن سکے گا ورنہ تو وہ حرفی ہی رہے گا۔ ”لِأَنَّهُمْ قَالُوا: هَذِهِ الصِّلَةُ فِعْلٌ“، اس لیے کہ وہ فرماتے ہیں باقی علماء کہ یہ صلہ جو ہے فعل ہے دراصل، ”فِي صُورَةِ الِاسْمِ“، کس کی صورت میں ایا ہے؟ اسم کی صورت میں ایا ہے، تو جب یہ فعل ہے تو ”فَلَا بُدَّ فِيهِ مِنْ مَعْنَى الْحُدُوثِ“، تو ضروری ہے اس کے اندر حدوث کے معنیٰ کا ہونا۔ ”وَلَوْ سُلِّمَ“، اگر اپ کی بات مان بھی لی جائے کہ ہر قسم کے کہ وہ تمام اس الف لام میں اختلاف نہیں ہے جو اس اسمِ فاعل پر داخل ہو جو بمعنیٰ حدوث کے ہو بلکہ ہر الف لام میں اختلاف ہے جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر داخل ہو، چاہے حدوث کے معنیٰ میں ہو چاہے ثبوت کے معنیٰ میں ہو، امام مازنی فرماتے ہیں سب کے بارے میں: یہ کیا ہیں؟ الف لام حرفی، اور جمہور سب کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ یہ کیا ہے؟ اسمی۔ اگر یہ بات مان بھی لی جائے علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ بھئی میں نے تو اپ کو بتلا دیا کہ اختلاف ہر اسمِ فاعل میں نہیں ہے بھئی بلکہ کس کے اندر ہے؟ جو صرف کس معنیٰ میں ہو؟ حدوث کے معنیٰ میں ہو، لیکن اگر اپ کی بات مان بھی لی جائے کہ ہر اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر جو الف لام داخل ہوتا ہے ہر ایک میں اختلاف ہے، امام مازنی فرماتے ہیں یہ الف لام کون سا ہے؟ حرفی، جمہور ہر ایک کے بارے میں کہتے ہیں چاہے حدوث کے معنیٰ میں ہے چاہے ثبوت کے معنیٰ میں ہے ہر ایک کے بارے میں کیا کہتے ہیں یہ؟ یہ الف لام اسمی ہے، اگر یہ بات مان بھی لی جائے، کہتے ہیں پھر بھی اعتراض لازم نہیں اتا، پھر بھی اعتراض لازم زیادہ سے زیادہ یہ بات ہوگی کہ الصَّاغَةُ کے اندر الف لام کون سا ا جائے گا؟ اسمی بن جائے گا، کیا بن جائے گا؟ اسمی بن جائے گا، تو معلوم ہوا یہ اسمِ موصول ہو گیا، تو اپ کہہ رہے ہیں یہ تو حرفی کی مثال ہونی چاہیے تھی یہاں پر، کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ بحث ہو رہی ہے استغراق کی، کس کی بحث ہو رہی ہے؟ الف لام کی بحث ختم ہو چکی، استغراق کی بحث ہو رہی ہے، اور استغراق جیسے الف لام کے ذریعے ایا کرتا ہے اسی طرح کبھی اسمِ موصول کے ذریعے بھی ا جاتا ہے، تو یہاں پر چاہے الف لام حرفی کے ذریعے تو نہ ایا لیکن الف لام اسمی یعنی اسمِ موصول کے ذریعے کیا ا گیا؟ استغراق ا گیا، جیسے کہتے ہیں اگے میں مثالیں ذکر کروں گا کہ اسمِ موصول بھی کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ استغراق کا فائدہ دیتا ہے، تو یہ صرف استغراق کی مثال ہے الف لام استغراقی کی مثال نہیں ہے۔ ”وَلَوْ سُلِّمَ“، اور اگر اپ کی بات مان بھی لی جائے کہ اختلاف ہر قسم کے اسمِ فاعل اسمِ مفعول میں ہے، ”فَالْمُرَادُ تَقْسِيمُ مُطْلَقِ الِاسْتِغْرَاقِ“، تو مراد کیا ہے مولانا؟ مطلق استغراق کی تقسیم مراد ہے، ”سَوَاءٌ كَانَ بِحَرْفِ التَّعْرِيفِ أَوْ غَيْرِهِ“، برابر ہے چاہے وہ حرفِ تعریف کے ساتھ استغراق ائے یا غیرِ حرفِ تعریف کے ساتھ ائے یعنی اسمِ موصول وغیرہ کے ساتھ ائے۔ ”وَالْمَوْصُولُ أَيْضًا مِمَّا يَأْتِي لِلِاسْتِغْرَاقِ“، اور اسمِ موصول بھی ان چیزوں میں سے ہے جو کس لیے ایا کرتے ہیں؟ استغراق کے لیے اتے ہیں۔ ”نَحْوُ: أَكْرِمِ الَّذِينَ يَأْتُونَكَ إِلَّا زَيْدًا“، ایک ساتھی ہے اپ کو، ساتھی ہے اپ کا، اپ اس کو کہتے ہیں: ”أَكْرِمِ الَّذِينَ“، اکرام کر تو ان سب لوگوں کا، ”يَأْتُونَكَ“، جو تیرے پاس ائیں، ”إِلَّا زَيْدًا“، مگر زید کا اکرام نہ کر۔ تو دیکھو یہ الَّذِينَ نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ استغراق کا کہ ہر انے والے کا اکرام کر۔ اور اسی طرح اپ کہتے ہیں: ”اضْرِبِ الْقَائِمِينَ إِلَّا عَمْرًا“، کہ ہر کھڑے ہونے والے کی پٹائی کر مگر عمرو کی پٹائی نہ کر۔ تو دیکھو یہاں بھی القائمین نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ اس پر بھی الف لام ایا اور الف لام کون سا ہے؟ اسمِ فاعل پر داخل ہے اور اسمِ فاعل کس معنیٰ میں ہے؟ حدوث کے معنیٰ میں ہے، تو لہٰذا اس پر بھی کیا ہے؟ الف لام اسمی ایا اور الف لام اسمی کیا ہے؟ دراصل اسمِ موصول ہے، اور اس اسمِ موصول نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ استغراق کا فائدہ دیا۔ چلیے مولانا، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
115 approved lectures · 47 of 115