Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-144

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 27 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 5
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مولانا آپ نے پڑھا کہ کنایہ جو ہے وہ تین قسم پر ہے: یا اس کے ذریعے مطلوب موصوف ہوگا، یا اس کے ذریعے مطلوب صفت ہوگی، اور تیسری قسم کل پڑھی کہ یا جس کے ذریعے مطلوب کیا ہوگی؟ نسبت ہوگی مولانا، یعنی ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے اثبات ہوگا یعنی صفت کا موصوف کے لیے اثبات ہوگا، یا صفت کی موصوف سے نفی ہوگی۔ تو یہاں پر مقصود دراصل کنائے سے کیا ہے؟ نسبت ہے، یعنی صفت کا اثبات ہے یا صفت کی نفی ہے۔ اثبات کی مثال یہ شعر جیسے: ”إِنَّ السَّمَاحَةَ وَالْمُرُوءَةَ وَالنَّدَى ... فِي قُبَّةٍ ضُرِبَتْ عَلَى ابْنِ الْحَشْرَجِ“ بے شک عالی ظرفی یعنی کشادہ دلی، اور مروت یعنی کامل مردانگی، اور سخاوت ایسے خیمے میں ہے جو لگایا گیا ہے کس پر؟ ابن الحشرج پر۔ تو یہاں پر شاعر نے صراحتاً یہ نہیں کہا کہ ابن الحشرج وہ سمیح ہے، یا وہ با مروت ہے، یا وہ سخی ہے، بلکہ کنایۃً یہ صفات کس کے لیے ثابت کیں اس نے؟ ابن الحشرج کے لیے۔ تو یہاں پر نہ مطلوب صفات ہیں کیونکہ صفات ذکر ہیں اور کنائے کے ذریعے کیا ہوگا؟ جو مطلوب ہے وہ تو ذکر نہیں ہوگا، تو یہاں تو صفات ذکر ہیں۔ اسی طرح موصوف بھی مذکور ہے، تو دراصل مقصد ہے ان صفات کا اثبات ابن الحشرج کے لیے، لیکن صراحتاً اثبات نہیں کیا بھئی بلکہ کس طریقے پر کیا؟ کنایہ کے طریقے پر کہ کہا یہ صفات اس خیمے کے اندر ہیں جو کس پر لگایا گیا ہے؟ ابن الحشرج پر۔ تو جب یہ صفات خیمے کے اندر ہیں تو یہ صفات تو خود قائم نہیں رہتیں، یہ لازمی طور پر کسی محل کو چاہتی ہیں، اور محل وہ خیمہ تو ہو نہیں سکتا تو یقیناً پھر وہ ہوگا جس پر اس خیمے کو لگایا گیا ہے یعنی ابن الحشرج، تو معلوم ہوا یہ صفات کس کے اندر ہیں؟ ابن الحشرج میں ہیں۔ تو دیکھو ابن الحشرج کے لیے صفات ثابت کیں لیکن صراحتاً نہیں بلکہ کنایہ کے طریقے پر۔ اور علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا کہ یہاں اختصاص کا لفظ آئے گا اور اختصاص سے مراد ثبوت ہے، حصر کے معنی یہاں پر مراد نہیں۔ اور دلیل کے طور پر علامہ سکاکی کا قول ذکر کیا جو مفتاح میں انہوں نے پانچ چھ مثالیں ذکر کیں کہ شاعر نے یہ نہیں کہا: ”سَمَاحَةُ ابْنِ الْحَشْرَجِ“ اضافت کے ساتھ بھی ذکر نہیں کیا، یا ”السَّمَاحَةُ لِابْنِ الْحَشْرَجِ“ کہ سخاوت ابن الحشرج کے ساتھ خاص ہے یہ بھی نہیں کہا، ”سَمُحَ ابْنُ الْحَشْرَجِ“ ابن الحشرج سخی ہوا یہ بھی نہیں کہا، یا ”حَصَلَتِ السَّمَاحَةُ“ کوئی ان میں سے کسی قسم کا کوئی جملہ استعمال نہیں کیا بلکہ کنایۃً اس نے یہ صفات ثابت کی ہیں کس کے لیے؟ ابن الحشرج کے لیے۔ اور یہ جو پانچ چھ مثالیں ذکر کیں یہ ساری کی ساری حصر پر دلالت نہیں کرتیں، معلوم ہوا اختصاص سے مراد یہاں حصر نہیں۔ اختصاص سے مراد یہاں صرف ثبوت کے معنی میں ہے۔ اور نیز کنایہ کیا اس لیے کہ ضمناً ایک اور فائدہ بتلا دیا اور وہ فائدہ یہ کہ میرا ممدوح ابن الحشرج جو ہے وہ قبے والا ہے، کیا ہے؟ قبے والا ہے، معلوم ہوا وہ عام آدمی نہیں ہے بلکہ قبے والا ہے، اور قبہ تو لگایا جاتا ہے رئیس کے لیے، معلوم ہوا وہ بھی کیا ہے؟ رئیس ہے بھئی۔ اور اسی طرح یہ مثال بھی ہے: ”الْمَجْدُ بَيْنَ ثَوْبَيْهِ، وَالْكَرَمُ بَيْنَ بُرْدَيْهِ“ بزرگی اس کے دو کپڑوں میں ہے اور سخاوت اس کی دو چادروں میں ہے بھئی۔ تو یہاں پر دیکھو جب بزرگی کو کہا اس کے دو اس کے دو کپڑوں میں ہے، بردین اور ثوبین قریب قریب ہیں ایک معنی کیونکہ انسان کتنے دو کپڑے استعمال کرتا ہے عام طور پر۔ تو بزرگی اس کے دو کپڑوں میں ہے تو بزرگی بھی کوئی محل چاہتی ہے صفت ہے خود قائم نہیں رہتی، کرم بھی کوئی محل چاہتا ہے خود قائم نہیں رہتا، اور کپڑے اور چادر کے ساتھ تو وہ قائم ہو نہیں سکتا، معلوم ہوا جس چیز پر وہ چادریں مشتمل ہیں جس چیز کا ان چادروں نے ان کپڑوں نے احاطہ کیا ہوا ہے معلوم ہوا اس کے اندر وہ صفات پائی جا رہی ہیں۔ تو دیکھو بزرگی کو اس کپڑوں والے کے لیے ثابت کر دیا، اس چادروں والے کے لیے ثابت کر دیا، لیکن صراحتاً نہیں بلکہ کنایہ کے طریقے پر بھئی۔ پھر اس کے بعد اعتراض ذکر کیا کہ آپ نے تین قسمیں ذکر کیں کنایہ کی کہ مطلوب اس کے ذریعے یا موصوف ہوگا یا صفت ہوگی یا نسبت ہوگی، یہاں تو ایک چوتھی قسم بھی ہے وہ آپ ذکر کرنا بھول گئے اور وہ کیا؟ کہ ایک کنائے کے ذریعے مطلوب صفت بھی ہو اور نسبت بھی ہو، دونوں مطلوب ہوں۔ کہتے ہیں بھئی نہیں، وہ کوئی الگ قسم نہیں ہے بلکہ یہی دو قسمیں اکٹھی ہو گئیں تو یہ آپ نے اس کو کیا سمجھا کہ یہ شاید چوتھی قسم ہے، یہ الگ قسم نہیں ہے بلکہ یہ دراصل دو کنائے ہیں۔ جیسے آپ کہتے ہیں: ”كَثُرَ الرَّمَادُ فِي سَاحَةِ زَيْدٍ“ زید کے صحن میں راکھ زیادہ ہے۔ تو کثرت رماد یہ کنایہ ہے کس چیز سے؟ سخاوت سے، اور آپ نے کہا کہ یہ سخاوت کہاں پر ہے مولانا؟ زید کے صحن میں ہے، تو جب زید کے صحن میں کہا تو یہ کوئی محل چاہتی ہے تو صحن زید کا، تو معلوم ہوا یہ صفت کس میں ہے؟ یہ صفت زید میں ہے۔ تو دیکھو آپ نے صفت سے بھی کنایہ کیا اور نسبت سے بھی کیا کیا؟ کنایہ کیا بھئی۔ تو یہ وہی دو کنائے مل گئے آپس میں بھئی۔ اس کے بعد پھر انہوں نے آپ کو بتلایا کہ موصوف ان دو قسموں میں یعنی ثانی اور ثالث یعنی جس میں کنایہ صفت سے ہو یا کنایہ نسبت سے ہو، ان میں موصوف کبھی مذکور ہوگا اور کبھی مذکور نہیں ہوگا، اور پھر علامہ سکاکی نے وہ کنایہ جو نسبت سے ہو اور جس کے اندر موصوف مذکور نہ ہو اس کو عرضیہ قرار دیا، کیا قرار دیا؟ عرضیہ، یعنی اس میں تعریض ہے، تعریض اس لیے کہ موصوف مذکور نہیں ہے اس کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں، اس کے لیے صفت کو کیا کر رہے ہیں؟ ثابت کر رہے ہیں۔ جیسے ”الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ“، مسلمان وہ ہے، ایک شخص ہے وہ مسلمانوں کو تکلیف دیتا ہے تو آپ اس کے لیے کہتے ہیں: ”الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ“ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، تو آپ نے کنایۃً نفی کر دی اسلام کی ہر اس شخص سے جو مسلمانوں کو اذیت دیتا ہے، اور اس فرد معین سے بھی آپ نے اسلام کی کیا کر دی مولانا؟ نفی کر دی، اور وہ شخص جس سے اسلام کی نفی کی کیا وہ مذکور تھا اس جملے کے اندر موصوف؟ وہ مذکور نہیں ہے۔ تو یہ نفی کی مثال ہے کیونکہ نفی کی مثال انہوں نے کہا تھا نا کہ ایک چیز کو دوسری کے لیے ثابت کرنا ایک صفت کو، یا دوسری سے صفت کی نفی کرنا، تو یہ صفت کی نفی کی مثال ہے مولانا۔ اچھا ایک مصنف نے مطلقاً کہا تھا کہ جو کنایہ صفت سے ہو یا جو کنایہ نسبت سے ہو ان میں کبھی موصوف مذکور ہوگا اور کبھی موصوف مذکور نہیں، اس پر علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ وہ کنایہ جو نسبت سے ہو اس میں تو کبھی واقعی موصوف مذکور ہوگا اور کبھی موصوف مذکور نہیں، لیکن آپ نے جو صفت کے بارے میں کہا کہ اس میں کبھی موصوف مذکور ہوگا اور کبھی موصوف مذکور نہیں، یہ مطلق بات کہی حالانکہ یہ مطلق نہیں ہے بلکہ آپ کو اس کو مقید ذکر کرنا چاہیے تھا، اس لیے کہ اس کی دو قسمیں ہیں، وہ کنایہ جو صفت سے ہو دو قسم پر ہے: اس میں یا تو نسبت کی تصریح ہوگی یا نسبت کی تصریح نہیں ہوگی۔ اگر نسبت کی تصریح ہے پھر تو موصوف لازماً ذکر ہوگا کیونکہ نسبت کی تصریح ہے، تو جب نسبت کی تصریح ہے تو کس کے لیے نسبت آئے گی؟ موصوف کے لیے، تو موصوف بھی لازمی طور پر وہاں ذکر ہوگا، ہاں کبھی صراحتاً ہوگا کبھی لفظوں میں ذکر ہوگا اور کبھی کیا ہوگا؟ تقدیراً۔ ہاں وہ قسم جس کے اندر نسبت کی تصریح نہ ہو، اس صفت کے اس کنائے میں کبھی موصوف مذکور ہوگا اور کبھی مذکور نہیں ہوگا۔ اس کے بعد انہوں نے ذکر کیا کہ علامہ سکاکی نے تقسیم کی ہے کنایہ کی کہ کنایہ جو ہے وہ متنوع ہوتا ہے تعریض، تلویح، رمز، ایماء اور اشارہ کی طرف۔ پانچ نام ذکر کیے، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایماء اور اشارہ یہ عطف تفسیری ہے اشارہ کا ایماء پر۔ تو دراصل یہ چار قسمیں ہیں: تعریض ایک، نمبر دو تلویح، نمبر تین رمز اور نمبر چار ایماء اور اشارہ۔ اور پھر اس پر اشکال ہوتا تھا کہ علامہ سکاکی نے یہ کیوں فرمایا ”تَتَفَاوَتُ“، یہ کیوں نہیں فرمایا ”تَنْقَسِمُ“؟ تو اس کا علامہ قطب الدین شیرازی جو شارح ہیں مولانا کس کے؟ مفتاح العلوم کے، انہوں نے جواب دیا کہ چونکہ یہ اقسام اقسام کیا ہیں؟ عام ہیں، حالانکہ قسم کو مقسم سے خاص ہونا چاہیے، تو یہ تعریض وغیرہ جو ہیں کنائے کے بغیر بھی پائی جاتی ہیں، تو ان کے عام ہونے کی وجہ سے علامہ سکاکی نے تنقسم نہیں فرمایا بلکہ کیا فرمایا؟ تتفاوت فرمایا، کیونکہ قسم کو مقسم سے عام نہیں ہونا چاہیے بلکہ خاص ہونا چاہیے بھئی۔ لیکن علامہ تفتازانی فرماتے ہیں ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ کہہ کر اس کو رد کیا اور اعتراض کیا کہ یہ بات آپ کی صحیح نہیں، بلکہ قسم اپنے مقسم سے عام من وجہ ہو سکتی ہے مولانا، عام من وجہ ہو سکتی ہے، جیسے مولانا آپ حیوان کی تقسیم کرتے ہیں ابیض اور غیر ابیض کی طرف، تو دیکھو ابیض حیوان کی قسم اور غیر ابیض بھی حیوان کی، لیکن یہ ابیض حیوان سے عام من وجہ ہے، ایسا ہو سکتا ہے کوئی چیز ابیض ہو اور حیوان نہ ہو۔ تو کہتے ہیں زیادہ حق کے قریب بات یہ ہے کہ علامہ سکاکی نے تتفاوت اس لیے فرمایا کیونکہ یہ اقسام اعتباری ہیں حقیقی نہیں، اقسام دو قسم پر ہیں: ایک اعتباری اور ایک حقیقی۔ اقسام حقیقی وہ ہیں جو آپس میں مبائن ہوں جن میں تداخل نہیں ہوتا، جیسے حیوان کی تقسیم آپ کرتے ہیں ناطق کی طرف، صاہل کی طرف، ناہق کی طرف، تو یہ اقسام کیا ہیں؟ اقسام حقیقی ہیں، متباین ہیں، جمع نہیں ہو سکتیں بھئی۔ جبکہ بعض اقسام اعتباری ہوتی ہیں جو اعتبارات کے بدلنے سے بدل جاتی ہیں، جیسے آپ مکان کی تقسیم کرتے ہیں فوق اور تحت کی طرف بھئی، تو ایک تحت کی طرف دیکھتے ہوئے دوسرا حصہ فوق، اور فوق کی طرف دیکھتے ہوئے پہلا حصہ تحت، لیکن تیسری چیز کی طرف دیکھتے ہوئے اگر وہ مکان اوپر ہے تو وہی فوق اب کیا بن گیا؟ تحت ہے، تو ایک ہی مکان تحت کی طرف نسبت کرتے ہوئے فوق اور فوق کی طرف نسبت کرتے ہوئے تحت ہے، تو یہ اقسام اعتباری کے اندر تداخل ہوتا ہے۔ تو چونکہ یہ جو تعریض، تلویح، رمز، ایماء، اشارہ یہ بھی اقسام اعتباری ہیں ان میں تداخل ہوتا ہے، ایک ہی قسم ایک مخاطب کے اعتبار سے تلویح ہے تو دوسرے کے اعتبار سے وہ رمز ہوگی، تیسرے کے اعتبار سے وہ اشارہ ہوگی، تو دیکھو ایک ہی قسم وہ اعتبار کے بدلنے سے بدل رہی ہے مولانا، تو یہ تداخل آ رہا ہے۔ اس لیے چونکہ یہ اعتباری اقسام تھیں تو علامہ سکاکی نے کیا فرمایا؟ تتفاوت فرمایا، تنقسم نہیں فرمایا، ورنہ تنقسم سے تو یہ سمجھ میں آتا کہ شاید یہ کیا ہیں؟ اقسام حقیقی ہیں، حالانکہ یہ اقسام حقیقی نہیں ہیں۔ پھر اس کے بعد چنانچہ علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ وہ کنایہ جو عرضیہ ہو، عرضیہ کا کیا معنی مولانا؟ کہتے ہیں جو چلایا گیا ہو ایسے موصوف کے لیے جس کا ذکر عبارت میں نہ ہو، یعنی صفت کا اثبات کر رہے ہیں آپ کس کے لیے؟ ایسے موصوف کے لیے جو غیر مذکور ہے، تو دیکھو یہ تعریض کے مانند ہوا، تعریض کس کو کہتے تھے کہ اشارہ کیا جائے مولانا، اشارۃً دوسرے کی طرف کیا کیا جائے؟ لفظ کو استعمال کیا جائے موضوع لہٗ میں اور اشارہ ہو کس کی طرف؟ غیر موضوع لہٗ کی طرف۔ تو اس میں بھی چونکہ اشارہ ہوتا ہے غیر مذکور کی طرف، تو لہٰذا مناسب ہے کہ اس کا نام کیا رکھا جائے؟ انہوں نے کہا تعریض رکھا جائے، کنایہ عرضیہ کا کیا نام رکھا جائے؟ تعریض رکھا جائے۔ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ کلام کو مائل کرنا ہے ایسے کنارے کی طرف جو دلالت کر رہا ہو مقصود پر بھئی، کیونکہ آپ کیا کر رہے ہیں بھئی؟ کنایہ کر رہے ہیں۔ تو کلام کو مولانا ایسے کنارے کی طرف دیکھو موضوع لہٗ میں استعمال کر رہے ہیں اور اشارہ کر رہے ہیں ایسے کنارے کی طرف، ایسی جانب کی طرف جو کس پر دلالت کر رہی ہے؟ مقصود پر دلالت کر رہی ہے۔ اسی طرح عربی میں کہتے ہیں: ”عَرَّضْتُ لِفُلَانٍ وَبِفُلَانٍ“ میں نے فلاں کے لیے تعریض کی یا فلاں کے سبب سے تعریض کی، یہ کب کہتے ہیں؟ جب آپ کوئی ایسا قول ذکر کریں جس کے اندر مولانا فلاں کا ذکر نہیں لیکن اس فلاں کی طرف کیا ہے؟ اشارہ ہو رہا ہے اور آپ کا ارادہ اس فلاں کا ہے۔ تو گویا آپ نے اس کی جانب اشارہ اشارہ کیا اس کی طرف ایک جانب سے ایک جانب سے ایک جانب سے اور سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک جانب سے دوسری جانب کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، دیکھو کلام کر رہے ہیں ایک کی طرف اور اشارہ ہے تو ایک جانب سے دوسری جانب کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ اور پھر جو غیر عرضیہ ہے مولانا اس کے اندر پھر علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ واسطے کثیر ہوں گے یا واسطے قلیل ہوں گے۔ اگر واسطے کثیر ہیں تو اس کا نام تلویح ہو کیونکہ تلویح بھی کس کو کہتے ہیں؟ دور سے کسی چیز کی طرف اشارہ کرنا، تو یہاں بھی کثیر واسطے ہیں دور سے آپ کیا کر رہے ہیں؟ اس چیز کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد اگر واسطے کم ہوں، واسطے کم ہونے کا یہ معنی کہ کثیر نہ ہوں۔ کم ہونے کا کیا معنی؟ کثیر نہ ہوں، تو کثیر چاہے سرے سے کوئی واسطہ ہی نہ ہو یا ہو تو لیکن کیا ہو؟ کثیر نہ ہوں۔ تو پھر اس صورت کے اندر مولانا خفاء ہوگا یا خفاء نہیں؟ اگر خفاء ہے انتقال کے اندر تو اس کو رمز کہتے ہیں بھئی، اس لیے کہ رمز لغت میں بھی حقیقت میں بھی کس کو کہتے ہیں مولانا؟ ہونٹوں سے یا ابروؤں سے کسی کی طرف اشارہ کرنا، تو جیسے وہ اشارہ خفی ہوتا ہے جو ہونٹوں اور ابروؤں سے کیا جائے اسی طرح یہاں بھی کیا ہے؟ خفاء ہے۔ اور اگر واسطے قلیل ہوں بغیر خفاء کے تو پھر اس کو کیا کہتے ہیں؟ ایماء اور اشارہ، جیسے یہ شعر تھا: ”أَوَمَا رَأَيْتَ الْمَجْدَ أَلْقَى رَحْلَهُ ... فِي آلِ طَلْحَةَ ثُمَّ لَمْ يَتَحَوَّلِ“ رحل کا معنی میں نے بتلایا تھا وہ سامان وہ تھیلا سامان کا جس میں جس میں سفر کا سامان ہو، وہ تھیلا جس میں سفر کا سامان ہو، اسی طرح خیمے کو بھی کہتے ہیں، تو کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بزرگی نے ڈال دیا اپنا خیمہ طلحہ کی آل کے اندر پھر وہاں سے گئی نہیں؟ تو کیا ثابت ہوا مولانا کہ بزرگی کس کے اندر ہے؟ طلحہ کی آل کے اندر بزرگی موجود ہے اور یہاں پر کوئی خفاء بھی نہیں مولانا۔ ”ثُمَّ قَالَ السَّكَّاكِيُّ: وَالتَّعْرِيضُ قَدْ يَكُونُ مَجَازًا كَقَوْلِكَ: آذَيْتَنِي فَسَتَعْرِفُ“ اب بتلا رہے ہیں مولانا علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ تعریض جو ہے، تعریض کس کو کہتے ہیں مولانا؟ اشارہ کرنا دوسرے کی طرف بھئی۔ ”آذَيْتَنِي فَسَتَعْرِفُ“ تو نے مجھے تکلیف دی ہے پس عنقریب تو جان لے گا، تجھے پتہ چل جائے گا بھئی۔ اب جیسے علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ تعریض کبھی کبھار مجاز ہوگی یا کنایہ ہوگی مولانا، مجاز اور کنایہ مثال کے طور پر آپ ایک شخص کو کہتے ہیں ”آذَيْتَنِي فَسَتَعْرِفُ“ تو نے مجھے تکلیف، اس شخص نے آپ کو کوئی تکلیف دی تو آپ اس کو کیا کہہ رہے ہیں بھئی؟ ”آذَيْتَنِي فَسَتَعْرِفُ“ تو نے مجھے تکلیف دی ہے تو عنقریب تو جان لے گا۔ تو اگر اس نے تکلیف دی اور آپ کا ارادہ اسی شخص کا ہے پھر تو حقیقت ہے مولانا، لیکن اگر اس کو کہہ اس کو رہے ہیں اور سنانا اس کے ساتھ والے کو مقصود ہے، سنانا اس کے ساتھ والے کو، تو مراد وہ نہیں ہے بلکہ مراد غیر ہے، تو دیکھو ”آذَيْتَنِي“ یہ آپ مولانا مخاطب کا صیغہ لا رہے ہیں، ”فَسَتَعْرِفُ“ مخاطب کا صیغہ لا رہے ہیں، لیکن یہاں موضوع لہٗ مراد ہے؟ بلکہ کون مراد ہے؟ غیر موضوع لہٗ مراد ہے، تو پھر اس صورت تو یہ مولانا مجاز ہے، یہ کیا ہے؟ مجاز، کیونکہ آپ لفظ بول رہے ہیں اور ارادہ کس کا ہے؟ غیر موضوع لہٗ کا ہے۔ اور اگر آپ کا ارادہ دونوں کا ہے، مخاطب کو بھی کہہ رہے ہیں اور ساتھ والے کو بھی سنانا چاہتے ہیں، اس کی طرف بھی اشارہ مقصد ہے اس نے بھی آپ کو تکلیف دی ہے، تو پھر اس صورت میں یہ کنایہ بن جائے گا بھئی، کیونکہ معنی حقیقی بھی مراد اور غیر حقیقی بھی مراد، اور کنائے میں بھی یہی ہوتا ہے مولانا کہ غیر موضوع لہٗ مراد ہوتا ہے اور ساتھ موضوع لہٗ کا ارادہ بھی جائز، تو یہاں بھی غیر موضوع لہٗ مراد ہے اور ساتھ موضوع لہٗ کا بھی ارادہ ہو رہا ہے بھئی۔ ”ثُمَّ قَالَ السَّكَّاكِيُّ: وَالتَّعْرِيضُ قَدْ يَكُونُ مَجَازًا“ پھر علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ تعریض کبھی کبھار مجاز ہوگی ”كَقَوْلِكَ آذَيْتَنِي فَسَتَعْرِفُ“ جیسے آپ کہتے ہیں تو نے مجھے تکلیف دی ہے تو عنقریب تو جان لے گا، ”وَأَنْتَ تُرِيدُ بِتَاءِ الْخِطَابِ إِنْسَانًا مَعَ الْمُخَاطَبِ“ اور آپ چاہتے ہیں تائے خطاب کے ساتھ آپ کا ارادہ جو ہے ایسا انسان ہے جو مخاطب کے ساتھ ہے ”دُونَهُ“ نہ کہ مخاطب، مخاطب کا ارادہ نہیں ہے بلکہ مخاطب کے ساتھ والے کا، ”أَيْ لَا تُرِيدُ الْمُخَاطَبَ“ یعنی آپ مخاطب کا ارادہ نہیں کرتے۔ ”لِيَكُونَ اللَّفْظُ مُسْتَعْمَلًا فِي غَيْرِ مَا وُضِعَ لَهُ فَقَطْ فَيَكُونُ مَجَازًا“ تاکہ لفظ استعمال ہو جائے غیر موضوع لہٗ کے اندر فقط تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ مجاز۔ ”وَإِنْ أَرَدْتَهُمَا“ اور اگر آپ نے دونوں کا ارادہ کیا ہے ”أَيِ الْمُخَاطَبَ وَإِنْسَانًا آخَرَ مَعَهُ جَمِيعًا“ مخاطب بھی اور اس کے ساتھ ایک اور انسان کا بھی ان دونوں کا اکٹھے، ”كَانَ كِنَايَةً“ تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ کنایہ بن جائے گا ”إِذْ كَأَنَّكَ أَرَدْتَ بِاللَّفْظِ الْمَعْنَى الْأَصْلِيَّ وَغَيْرَهُ مَعًا“ گویا کہ آپ نے ارادہ کیا لفظ سے معنی اصلی کا بھی اور اس کے غیر کا بھی اکٹھا، ”وَالْمَجَازُ يُنَافِي إِرَادَةَ الْمَعْنَى الْأَصْلِيِّ“ اور مجاز تو منافی ہے ارادہ معنی اصلی کے۔ بھئی مجاز کی صورت میں صرف غیر موضوع لہٗ مراد تھا موضوع لہٗ مراد نہیں تھا، مخاطب نہیں تھا مراد غیر مراد تھا، اور جبکہ کنائے میں مخاطب بھی مراد ہوا۔ ”وَلَا بُدَّ فِيهِمَا أَيْ فِي الصُّورَتَيْنِ مِنْ قَرِينَةٍ دَالَّةٍ“ اور ضروری ہے ان دونوں صورتوں میں یعنی مجاز اور کنایہ کی صورتوں میں کسی ایسے قرینے کا ہونا جو دلالت کر رہا ہو اس بات پر ”عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ فِي الصُّورَةِ الْأُولَى هُوَ الْإِنْسَانُ الَّذِي مَعَ الْمُخَاطَبِ وَحْدَهُ لِيَكُونَ مَجَازًا“ کہ صورت اولیٰ میں وہ انسان مراد ہے جو مخاطب کے ساتھ ہے اکیلا تاکہ یہ کیا بن جائے؟ مجاز بن جائے، ”وَفِي الثَّانِيَةِ كِلَاهُمَا جَمِيعًا لِتَكُونَ كِنَايَةً“ اور ثانیہ میں دونوں قرینہ ہونا چاہیے جو یہ بتلائے کہ دونوں مراد ہیں تاکہ کیا بن جائے؟ کنایہ۔ ”وَتَحْقِيقُ ذَلِكَ“ بعضوں نے کہا مولانا کہ نہیں یہاں کنایہ نہیں ہے شبہ کنایہ ہے اور اسی طرح شبہ مجاز ہے، اس لیے کہ کنایہ اور مجاز کے اندر انتقال ہوتا ہے ملزوم سے کس کی طرف؟ لازم کی طرف انتقال ہوتا ہے اور یہاں تو علاقہ ہی نہیں ہے۔ علامہ سکاکی فرماتے ہیں نہیں بھئی یہ آپ کا قول صحیح نہیں ہے، کسی نے ایسا قول نہیں کیا بلکہ مجاز اور کنایہ ہی ہے اور انتقال بھی ہو رہا ہے اور درمیان میں علاقہ بھی موجود ہے، اور علاقہ کیا ہے کہ جیسے مخاطب نے آپ کو تکلیف دی ہے ساتھ والے نے بھی آپ کو تکلیف دی ہے۔ ”وَتَحْقِيقُ ذَلِكَ أَنَّ قَوْلَكَ آذَيْتَنِي فَسَتَعْرِفُ كَلَامٌ دَالٌّ عَلَى تَهْدِيدِ الْمُخَاطَبِ بِسَبَبِ الْإِيذَاءِ“ تحقیق اس بات کی یہ ہے کہ آپ کا یہ قول ”آذَيْتَنِي فَسَتَعْرِفُ“ یہ کلام ایسا کلام ہے جو دلالت کر رہا ہے مخاطب کو دھمکی دینے پر ایذاء کے سبب سے، ”وَيَلْزَمُهُ تَهْدِيدُ كُلِّ مَنْ صَدَرَ عَنْهُ الْإِيذَاءُ“ اور اس کے ساتھ لازم ہے کہ دھمکی ہو ہر اس شخص کے لیے جس سے کیا واقع ہوا ہے؟ ایذاء کا صدور ہوا ہے، ”فَإِنِ اسْتَعْمَلْتَهُ وَأَرَدْتَ بِهِ تَهْدِيدَ الْمُخَاطَبِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُؤْذِينَ كَانَ كِنَايَةً“ پس جب آپ نے اس کو استعمال کیا اور مخاطب کو دھمکی دینے کا ارادہ کیا اور مخاطب کا بھی اور غیر مخاطب دونوں کا ارادہ کیا تکلیف دینے والوں میں سے تو یہ کیا بن جائے گا؟ کنایہ بن جائے گا، ”وَإِنْ أَرَدْتَ بِهِ تَهْدِيدَ غَيْرِ الْمُخَاطَبِ بِسَبَبِ الْإِيذَاءِ لِعَلَاقَةِ اشْتِرَاكِهِ لِلْمُخَاطَبِ فِي الْإِيذَاءِ“ اور اگر آپ کا ارادہ ہے مخاطب کے علاوہ کو دھمکی دینے کا تکلیف دینے کے سبب سے بوجہ علاقہ اشتراک کیونکہ دونوں کیا ہیں؟ مشترک ہیں، دونوں شریک ہیں تکلیف دینے میں، اس لیے کہ اس کا اشتراک ہے مخاطب کے ساتھ کس چیز کے اندر مولانا؟ ایذاء، تو ایذاء میں مخاطب کے ساتھ اشتراک کا علاقہ ہونے کی وجہ سے آپ غیر مخاطب کو دھمکی دے رہے ہیں ”إِمَّا تَحْقِيقًا وَإِمَّا فَرْضًا أَوْ تَقْدِيرًا“ یعنی وہ کیا ہے؟ تحقیقاً ہے یا کیا ہے؟ فرض اور تقدیر کے طریقے پر ہے مولانا، ”مَعَ قَرِينَةٍ دَالَّةٍ عَلَى عَدَمِ إِرَادَةِ الْمُخَاطَبِ كَانَ مَجَازًا“ اور ساتھ ایسا قرینہ ہو جو دلالت کر رہا ہو کہ مخاطب کا ارادہ نہیں تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ مجاز بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اشتراک وہ حقیقتاً ہوگا یعنی اس نے بھی حقیقتاً تکلیف دی ہے، یا فرض اور تقدیر کے طریقے پر اشتراک ہوگا، فرض کر لیا۔ ”فَصْلٌ: أَطْبَقَ الْبُلَغَاءُ عَلَى أَنَّ الْمَجَازَ وَالْكِنَايَةَ أَبْلَغُ مِنَ الْحَقِيقَةِ“ ”أَطْبَقَ أَيِ اتَّفَقَ“ اتفاق ہے بلغاء کا اس بات پر۔ بھئی یہ مختصر فصل ہے، فن ثانی کے اختتام پر لے کر آئے، یہاں سے مصنف آپ کو بتلائیں گے کہ کنایہ افضل ہے کس سے؟ تصریح سے، اور مجاز افضل ہے کس سے؟ حقیقت سے، اور استعارہ افضل ہے کس سے؟ تشبیہ سے۔ کتنی چیزیں ہوئیں بھئی؟ چھ چیزیں ہیں کل، تو ان میں سے کنایہ ایک ہوتا ہے کنایہ کنایۃً کلام کرنا ایک صراحتاً کرنا تو کون افضل ہے؟ کنایہ افضل ہے۔ اسی طرح ایک ہے حقیقت لانا ایک ہے مجاز لانا کون افضل ہے؟ مجاز۔ اور ایک ہے استعارے کے طور پر کلام کرنا اور ایک ہے تشبیہ کے طور پر تو کون سا افضل ہے؟ استعارے کے طور پر۔ اس لیے کہ یہ جو مجاز ہے یہ جو کنایہ ہے اور یہ جو استعارہ ہے ان کے ذریعے مقصود اچھے طور پر بیان ہوتا ہے، اور حقیقت، تصریح اور تشبیہ کی صورت میں اتنے اچھے انداز میں مقصود بیان نہیں ہو سکتا جتنے اچھے انداز میں کنائے، مجاز اور استعارے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور نیز مولانا یہ افضل کیوں ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ دعویٰ مع الدلیل کی طرح ہے بھئی۔ جب آپ نے کنایہ کیا، جب آپ نے مولانا تصریح کی ایک بات کی: زید سخی ہے، زید کیا ہے؟ تو یہ صرف دعویٰ ہے، لیکن جب آپ مجاز لے کر آئے، کنایہ لے کر آئے کہ زید کثیر الرماد ہے، یہ بھی وہی معنی کہ زید سخی ہے لیکن کلام ہے کنایۃً، تو یہ دلیل کے ساتھ کلام ہوا۔ آپ نے دلیل بھی ساتھ ذکر کر دی، گویا آپ نے یوں کہا زید سخی ہے، کیوں سخی ہے؟ کیونکہ وہ کثیر الرماد ہے۔ دلیل ہے یا نہیں مولانا؟ میں کہتا ہوں زید لمبے قد والا ہے، یہ تو دعویٰ ہوا تصریح مولانا۔ میں کنایہ کرتا ہوں: ”زَيْدٌ طَوِيلُ النِّجَادِ“ زید لمبی حمائل والا ہے، زید لمبی حمائل والا ہے یہ مولانا کنایہ ہے، اور معنی اس کا بھی کیا ہے؟ زید لمبے قد والا ہے، لیکن ساتھ دلیل موجود ہے۔ دلیل کیا ہے بھئی زید لمبے قد والا ہے؟ بھئی اس کی حمائل لمبی ہے، اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا قد بھی لمبا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح مجاز میں جیسے کہتے ہیں قرآن میں آتا ہے: ”يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ“ وہ اپنے پوروں کو، اپنی انگلیوں کو ڈالتے ہیں کس میں؟ کانوں میں، اور انگلیاں بول کر کیا مراد ہے؟ پورے مراد ہے، تو یہ مجاز ہے اور مجاز یہ اعلیٰ ہے کس سے؟ حقیقت سے، کیونکہ اس کے اندر دلیل ہوتی ہے دعوے کے ساتھ۔ بھئی دلیل کیا؟ دعویٰ یہ مولانا اگر ویسے یوں کہہ دیا جاتا کہ وہ اپنے پوروں کو کانوں میں ڈالتے ہیں، تو پھر تو تصریح تھی لیکن مجازاً کیا کہا گیا؟ انگلیوں کو، تو یہ مولانا دعویٰ مع الدلیل کے ہو گیا۔ دعویٰ یہ کہ وہ اپنے پوروں کو کانوں میں ڈالتے ہیں، دلیل اس کی کیا ہے؟ کیونکہ وہ اپنی انگلیوں کو کانوں میں ڈالتے ہیں۔ جب انگلیاں کانوں میں ڈال رہے ہیں تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ پوروں کو کیا کر رہے ہیں؟ کانوں میں ڈال رہے ہیں۔ ”أَطْبَقَ الْبُلَغَاءُ عَلَى أَنَّ الْمَجَازَ وَالْكِنَايَةَ أَبْلَغُ مِنَ الْحَقِيقَةِ وَالتَّصْرِيحِ“ اتفاق کیا ہے بلغاء نے اس بات پر کہ مجاز اور کنایہ وہ زیادہ افضل وہ زیادہ ابلغ ہیں، ابلغ کس معنی میں مولانا؟ افضل کے معنی میں، وہ افضل ہیں حقیقت اور تصریح سے، کیوں؟ ”لِأَنَّ الِانْتِقَالَ فِيهِمَا مِنَ الْمَلْزُومِ إِلَى اللَّازِمِ“ اس لیے کہ ان میں جو انتقال ہوتا ہے وہ ملزوم سے کس کی طرف ہوتا ہے؟ لازم کی طرف ہوتا ہے، ”فَهُوَ كَدَعْوَى الشَّيْءِ بِبَيِّنَةٍ“ تو وہ اسی طرح ہے گویا ایک چیز کا دعویٰ کیا جائے بینہ ساتھ کس کے؟ دلیل کے۔ ”فَإِنَّ وُجُودَ الْمَلْزُومِ يَقْتَضِي وُجُودَ اللَّازِمِ لِامْتِنَاعِ انْفِكَاكِ الْمَلْزُومِ عَنْ لَازِمِهِ“ اس لیے کہ انتقال ہوتا ہے ملزوم سے لازم کی طرف تو جب بھی ملزوم کا وجود آئے گا وہ تقاضا کرے گا کس کے وجود کا؟ لازم کا۔ کیونکہ ملزوم اپنے لازم سے جدا نہیں ہو سکتا۔ ”وَأَطْبَقُوا أَيْضًا عَلَى أَنَّ الِاسْتِعَارَةَ التَّحْقِيقِيَّةَ وَالتَّمْثِيلِيَّةَ أَبْلَغُ مِنَ التَّشْبِيهِ“ اور اس بات پر بھی انہوں نے اتفاق کیا ہے کہ استعارہ تحقیقیہ اور تمثیلیہ، استعارہ تحقیقیہ کس کے اندر تھا مولانا؟ مفرد میں، اور استعارہ تمثیلیہ کس کے اندر تھا؟ مرکب میں، ”أَبْلَغُ مِنَ التَّشْبِيهِ“ یہ افضل ہے کس سے؟ تشبیہ سے افضل ہے، ”لِأَنَّهَا نَوْعٌ مِنَ الْمَجَازِ“ اس لیے کہ یہ بھی کس کی انواع ہیں؟ مجاز کی، اور جب مجاز خود حقیقت سے افضل ہے تو جو اس کی انواع ہوں گی وہ بھی غیر سے افضل ہوں گی۔ ”وَقَدْ عُلِمَ أَنَّ الْمَجَازَ أَبْلَغُ مِنَ الْحَقِيقَةِ“ اور تحقیق یہ جانا جا چکا ہے کہ مجاز وہ زیادہ بلیغ ہے کس سے؟ حقیقت سے، تو لازمی بات ہے استعارہ تحقیقی اور تمثیلیہ بھی ابلغ ہوگا کس سے؟ تشبیہ سے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ آگے یہ بتلانا چاہتے ہیں، کہتے ہیں بھئی ہم نے یہ کہا کہ مجاز افضل ہے کس سے؟ حقیقت سے، کنایہ افضل ہے کس سے؟ تصریح سے، اور استعارہ افضل ہے کس سے؟ تشبیہ سے۔ ہمارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو جس چیز کا فائدہ جو معنی ہمیں تصریح سے حاصل ہوتا تھا اور جو حقیقت سے حاصل ہوتا تھا، مجاز اور کنائے سے بھی وہی معنی حاصل ہوگا کوئی زائد چیز ہمیں حاصل نہیں ہوگی۔ بھئی میں نے کہا: ”زَيْدٌ طَوِيلٌ“ اور ایک میں کہتا ہوں: ”زَيْدٌ طَوِيلُ النِّجَادِ“، تو ایک ہے تصریح اور ایک کیا ہے؟ کنایہ۔ دونوں ایک ہی معنی کا فائدہ دے رہے ہیں، افضل ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ کنائے سے کوئی زائد معنی ہمیں حاصل ہو رہا ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو جس معنی کا فائدہ حقیقت نے دیا اسی معنی کا فائدہ کس نے دیا؟ مجاز نے۔ جس معنی کا فائدہ تصریح نے دیا اسی معنی کا فائدہ کس نے دیا؟ کنائے نے۔ صرف یہ فرق ہے کہ کنائے اور مجاز کے اندر تاکید ہوگی تھوڑی سی، ان میں تھوڑا سا مبالغہ ہوگا۔ ان میں کیا ہوگا تھوڑا سا؟ مبالغہ اور تاکید ہوگی اور کوئی زائد چیز ہمیں حاصل نہیں ہوگی، دونوں کا معنی بالکل کیا ہوگا؟ ایک ہوگا، بس ایک میں ذرا تاکید اور مبالغہ زیادہ ہوگا۔ تو افضل ہونے کا یہ معنی نہیں کہ کنائے سے کوئی ہمیں زائد معنی حاصل ہو رہا ہے اور مجاز سے ہمیں کوئی زائد معنی حاصل ہو رہا ہے۔ ”وَلَيْسَ مَعْنَى كَوْنِ كُلٍّ مِنَ الْمَجَازِ وَالْكِنَايَةِ أَبْلَغَ أَنَّ شَيْئًا مِنْهُمَا يُوجِبُ أَنْ يَحْصُلَ فِي الْوَاقِعِ زِيَادَةٌ فِي الْمَعْنَى“ اور یہ معنی نہیں ہے مجاز اور کنائے کے ابلغ ہونے کا کہ ان میں سے کوئی ایک چیز جو ہے وہ واجب کرتی ہے یا ثابت کرتی ہے کہ حاصل ہو اس سے واقع کے اندر معنی کے اندر زیادتی حاصل ہو، اس بات کو ثابت نہیں کرتے ایسا معنی ”لَا تُوجَدُ فِي الْحَقِيقَةِ وَالتَّصْرِيحِ“ جو حقیقت اور تصریح میں نہ پائے، ایسے معنی کا فائدہ نہیں دیتے جو حقیقت اور تصریح میں نہ پایا جائے بلکہ اسی معنی کا فائدہ دیتے ہیں جو حقیقت اور تصریح میں تھا، ”بَلِ الْمُرَادُ أَنَّهُ يُفِيدُ زِيَادَةَ تَاكِيدٍ لِلْإِثْبَاتِ“ بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ فائدہ کس چیز کا دیتے ہیں؟ زیادہ تاکید کا فائدہ دیتے ہیں اثبات میں، ”وَيُفْهَمُ مِنَ الِاسْتِعَارَةِ أَنَّ الْوَصْفَ فِي الْمُشَبَّهِ بَالَغَ حَدَّ الْكَمَالِ“ اسی طرح استعارے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے، دیکھو مولانا ایک ہے استعارہ اور ایک ہے تشبیہ، میں کہتا ہوں: ”زَيْدٌ كَالْأَسَدِ“ زید کس کی طرح ہے؟ شیر کی طرح، معلوم ہوا تشبیہ ہے، تشبیہ ہمیشہ دی جاتی ہے ادنیٰ کی اعلیٰ کے ساتھ، معلوم ہوا زید شجاعت میں ادنیٰ ہے اور شیر شجاعت میں اعلیٰ ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں: ”رَأَيْتُ أَسَدًا يَضْحَكُ“ میں نے ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا، تو میں نے زید کو ہی کیا بنا دیا؟ شیر بنا دیا، تو دیکھو زید کو میں نے شیر کی جنس میں داخل کر دیا، تو ادنیٰ کو میں نے اعلیٰ کی جنس میں بنا دیا مولانا، تو مبالغہ آیا، کیا آیا؟ مبالغہ آیا۔ بھئی زید تو تھا ادنیٰ، اب اگر میں تشبیہ ذکر کرتا تو آپ کو پتہ چل رہا تھا زید ادنیٰ ہے اور شیر کیا ہے شجاعت میں؟ اعلیٰ ہے، کیونکہ تشبیہ میں ادنیٰ کو کس سے ملاتے ہیں؟ اعلیٰ سے۔ اور جبکہ استعارے کے اندر تو میں نے اس ادنیٰ کو کس کی جنس میں داخل کر دیا؟ اعلیٰ کی جنس میں، تو مبالغہ آیا، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ زید ادنیٰ نہیں ہے بلکہ شیر کے برابر ہے، شیر کے برابر ہے۔ تو دیکھو تشبیہ میں وہ مبالغہ نہیں آیا جو کس کے اندر آیا؟ استعارے کے اندر آیا بھئی۔ ”وَيُفْهَمُ مِنَ الِاسْتِعَارَةِ أَنَّ الْوَصْفَ فِي الْمُشَبَّهِ بَالَغَ حَدَّ الْكَمَالِ كَمَا فِي الْمُشَبَّهِ بِهِ“ اور سمجھا جاتا ہے استعارے سے کہ یہ وصف جو ہے جو وجہ تشبیہ تھی وہ مشبہ کے اندر حد کمال کو پہنچ گیا ہے جیسے کہ وہ مشبہ بہ کے اندر تھا، ”وَلَيْسَ بِقَاصِرٍ فِيهِ كَمَا يُفْهَمُ مِنَ التَّشْبِيهِ“ اور مشبہ کے اندر وہ وصف کم نہیں ہے، شجاعت زید میں کچھ کم نہیں ہے شیر سے بلکہ اسی کے برابر ہے، جیسے کہ تشبیہ سے سمجھ میں آتی ہے، تشبیہ سے تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ زید کی شجاعت کیا ہے؟ ادنیٰ ہے۔ ”وَالْمَعْنَى لَا يَتَغَيَّرُ حَالُهُ فِي نَفْسِهِ بِأَنْ يُعَبَّرَ عَنْهُ بِعِبَارَةٍ أَبْلَغَ“ اور معنی کا اپنا حال فی نفسہٖ نہیں بدلتا، جیسے اس نے ایک معنی کا فائدہ دیا تھا تشبیہ نے اسی معنی کا فائدہ کس نے دیا؟ استعارے نے، ہاں البتہ مبالغہ کس کے اندر ہے؟ استعارے میں۔ تو معنی کا اپنا حال فی نفسہٖ نہیں بدلتا بہ ایں طور کہ اس کو تعبیر کیا جائے کس سے؟ افضل عبارت سے، تو اچھی عبارت سے تعبیر کر دینے سے کوئی معنی میں زیادتی نہیں آ جاتی۔ ”وَهَذَا مُرَادُ الشَّيْخِ عَبْدِ الْقَاهِرِ بِقَوْلِهِ“ اور یہی مراد ہے علامہ شیخ عبد القاہر کی ان کے اس قول سے، شیخ عبد القاہر بھی یہی بات کہنا چاہتے ہیں اپنے اس قول کے اندر بھئی، وہ فرماتے ہیں: ”لَيْسَتْ مَزِيَّةُ قَوْلِنَا: رَأَيْتُ أَسَدًا، عَلَى قَوْلِنَا: رَأَيْتُ رَجُلًا هُوَ وَالْأَسَدُ سَوَاءٌ فِي الشَّجَاعَةِ، أَنَّ الْأَوَّلَ أَفَادَ زِيَادَةً فِي مُسَاوَاتِهِ لِلْأَسَدِ فِي الشَّجَاعَةِ لَمْ يُفِدْهَا الثَّانِي، بَلِ الْفَضِيلَةُ هِيَ أَنَّ الْأَوَّلَ أَفَادَ تَاكِيدَ الْإِثْبَاتِ“ مزیت کہتے ہیں فضیلت کو، نہیں ہے فضیلت ہمارے اس قول کی ”رَأَيْتُ أَسَدًا“ اس کی کوئی فضیلت نہیں ہے ہمارے اس قول پر ”رَأَيْتُ رَجُلًا هُوَ وَالْأَسَدُ سَوَاءٌ فِي الشَّجَاعَةِ“۔ دیکھیے دو قول ہیں: ایک آپ کہتے ہیں ”رَأَيْتُ أَسَدًا“ میں نے شیر دیکھا، اور ارادہ کس کا ہے؟ زید کا مثلاً، ایک شخص کا جو رجل شجاع ہے، اور دوسرا یہ ہے مولانا استعارہ۔ اور دوسرا آپ مولانا صریح کلام ایک لے کر آتے ہیں مولانا: ”رَأَيْتُ رَجُلًا هُوَ وَالْأَسَدُ سَوَاءٌ فِي الشَّجَاعَةِ“ میں نے ایک ایسا آدمی دیکھا جو کیا ہے کہ شیر اور وہ بہادری کے اندر برابر ہیں۔ تو کہتے ہیں دیکھو دونوں کلام بالکل ایک چیز کا فائدہ دے رہے ہیں، جیسے ”رَأَيْتُ أَسَدًا“ بتلا رہا تھا کہ یہ شخص جس کو میں نے دیکھا شیر کے ساتھ بہادری میں برابر ہے، اسی طرح یہ جملہ جس کے اندر استعارہ نہیں ہے یہ بھی اسی چیز کا فائدہ دے رہا ہے کہ وہ رجل شجاع اور شیر بہادری کے اندر برابر ہیں بھئی۔ کہتے ہیں نہیں ہے فضیلت ہمارے اس قول کی ”رَأَيْتُ أَسَدًا“ اس کی فضیلت نہیں ہے اس ثانی پر کہ پہلے نے فائدہ دیا ہو کسی زیادتی کا کس چیز پر مولانا کہ وہ شخص شیر کے برابر ہے، تو کوئی فضیلت نہیں ہے کہ پہلے نے کسی زائد معنی کا فائدہ دیا ہو جس کا فائدہ ثانی نے نہیں دیا، بلکہ ثانی نے جو فائدہ دیا وہی اول نے دیا، جو اول نے دیا وہی ثانی نے دیا۔ ”بَلِ الْفَضِيلَةُ هِيَ أَنَّ الْأَوَّلَ أَفَادَ تَاكِيدَ الْإِثْبَاتِ، إِثْبَاتِ تِلْكَ الْمُسَاوَاةِ لَهُ، لَمْ يُفِدْهُ الثَّانِي“ بلکہ فضیلت یہ ہے کہ پہلا کلام جو تھا اس نے فائدہ دیا کس چیز کا؟ اس معنی کے اثبات کے اس مساوات کے اثبات جو دونوں کلام کس چیز کا فائدہ دے رہے ہیں؟ مساوات کا اثبات کر رہے ہیں، لیکن اول نے مساوات کے اثبات میں تاکید کا فائدہ دیا، پہلے میں صرف کیا زیادہ ہے؟ تاکید زیادہ ہے، جس کا فائدہ ثانی نے نہیں دیا، واللہ اعلم بھئی۔ اللہ خوب ہم نے پوری تشریح کر دی، علامہ تفتازانی فرماتے ہیں اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ ”كَمُلَ الْقِسْمُ الثَّانِي، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى جَزِيلِ نَوَالِهِ، وَالصَّلَاةُ عَلَى نَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ“ پوری ہو گئی قسم ثانی، نوال نعمتیں، جزیل کثیر مولانا، اللہ کی حمد ہے اس کی کثیر نعمتوں پر، اور رحمت ہو ان کے نبی پر جن کا نام محمد ہے اور ان کی آل پر مولانا۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
110 approved lectures · 107 of 110