Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-148

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 27 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 4
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بسم الله الرحمن الرحيم کل مولانا صنعتِ مشاکلہ ہم نے پڑھی تھی، صنعتِ مشاکلہ کس کو کہتے ہیں کہ ایک شے کو ذکر کرنا غیر کے لفظ کے ساتھ اس وجہ سے کہ یہ جو شے جو ہے اس غیر کی صحبت میں اور اس کے پڑوس میں واقع ہوئی ہے مولانا، اور یہ واقع ہونا یا تحقیقاً ہوگا یا تقدیراً ہوگا۔ جیسے ”قَالُوا اقْتَرِحْ شَيْئًا نُجِدْ لَكَ طَبْخَهُ، فَقُلْتُ اطْبُخُوا لِي جُبَّةً وَقَمِيصًا“ تو شاعر نے یہاں سینے کو تعبیر کیا طبخ، پکانے کے ساتھ بھئی، اس لیے کہ یہ سینا کس کے پڑوس میں واقع ہوا تھا؟ طبخ کے۔ اور اسی طرح جیسے تقدیراً کی مثال جیسے ”صِبْغَةَ اللَّهِ“، یہاں پر مولانا تطہیر اللہ کو تعبیر کیا گیا ”صِبْغَةَ اللَّهِ“ کے ساتھ اس وجہ سے کہ یہ یہ آیت نازل ہوئی تھی مولانا کس کے بارے میں؟ یہ عیسائی جو ہیں وہ اپنی اولاد، اپنے بچوں کو پیدائش کے تیسرے دن کیا کرتے ہیں پانی ایک زعفران والے رنگدار پانی کے اندر غوطہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب یہ پاک ہو گیا اور پکا اور سچا عیسائی بن گیا، تو چونکہ اس عمل کے اندر صبغہ کا معنی پایا جا رہا تھا رنگ دینے کا، تو لہٰذا یہاں تو یہاں پر بھی ایمان باللہ کو جو ہے وہ کیا قرار دیا گیا؟ وہ وہ بھی تطہیر اللہ ہے تو اس کو تعبیر کس سے کر دیا گیا؟ صبغہ کے ساتھ تعبیر کر دیا گیا مولانا۔ اور پھر ہم نے صنعتِ مزاوجہ پڑھی، صنعتِ مزاوجہ یہ ہے کہ ایک معنی شرط میں ذکر کیا جائے اور ایک جزا میں اور پھر ان دونوں معانی کو باہم ملا دیا جائے، جوڑ دیا جائے کس چیز کے ساتھ؟ کہ ان دونوں پر ایک ہی چیز کو مرتب کیا جائے مولانا، جیسے شعر کے اندر نہیِ ناہی اور اصاخة الی الواشی ان دونوں یہ نہیِ ناہی جو ہے شرط تھی اصاخة الی الواشی جزا، تو نہیِ ناہی پر مرتب کیا لجاجِ شے کو اور اسی طرح اصاخة الی الواشی پر بھی کس چیز کو مرتب کیا؟ لجاجِ شے، کہ دونوں میں ایک چیز لازم ہو رہی ہے، البتہ پہلے میں لازم محبت ہو رہی ہے اور دوسرے میں جدائی لازم ہو رہی ہے۔ اور اس کے بعد عکس پڑھا، عکس کس کو کہتے ہیں کہ کلام کا جو مقدم جز تھا اس کو مؤخر کر دیا جائے اور مؤخر جو ہو اس کو کیا کر دیا جائے؟ مقدم کر دیا جائے۔ اس کے بعد صنعتِ رجوع پڑھی مولانا، صنعتِ رجوع کہتے ہیں کلامِ سابق کی طرف رجوع کرنا اس کی نقیض کے ساتھ، یعنی پہلے کلام اپ لے کر آئے اور پھر آپ نے اسی کلام کی طرف رجوع کر کے اگلے کلام میں اس کو کیا کر دیا؟ باطل کر دیا، اس کی نقیض لے آئے، ضد لے آئے مولانا۔ جیسے شاعر کہتا ہے ”قِفْ بِالدِّيَارِ الَّتِي لَمْ يَعْفُهَا الْقِدَمُ“ کھڑے ہو جاؤ ان گھروں کے پاس کہ پرانے ہونے نے ان کے آثار کو ختم نہیں کیا، پھر کہتا ہے ”بَلَى“ کیوں نہیں ”وَغَيَّرَهَا الْأَرْوَاحُ وَالدِّيَمُ“ بدل دیا ہے ان کو ہواؤں نے اور مسلسل کثیر بارشوں نے، تو شاعر پہلے مولانا حیرت کہ جب اس مقام پر سے گزرا تو اس کو وہ اپنا پرانا قدیم زمانہ یاد آیا تو وہ حیرت کا شکار ہوا اور وہ کہنے لگا کہ ان گھروں کے آثار اب بھی موجود ہیں، کسی چیز نے ان کو بدلا نہیں، لیکن پھر اس کو افاقہ ہوا اور پھر وہ اظہارِ تحسر اور تحزن کے طور پر کیا کہنے لگا کہ کیوں نہیں بلکہ یہ تو ان کے آثار اور نشان کیا ہیں؟ ختم ہو چکے ہیں، ہواؤں نے اور بارشوں نے انہیں مٹا ڈالا ہے۔ اس کے بعد صنعتِ توریہ پڑھی اس کو ایہام بھی کہتے ہیں کہ ایک لفظ کے دو معنی ہوں ایک قریب ہو ایک بعید، آپ ارادہ بعید کا کریں اور مخاطب کیا سمجھے؟ معنی قریب سمجھے، اس کو توریہ کہتے ہیں اور پھر یہ دو قسم پر ہے مجردہ اور دوسرا مرشحہ، مجردہ وہ جس میں معنی قریب کا کوئی مناسب ذکر نہ ہو جبکہ مرشحہ وہ ہے جس کے اندر معنی قریب کا کوئی مناسب ذکر ہو۔ ”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”الِاسْتِخْدَامُ“ ”وَهُوَ أَنْ يُرَادَ بِلَفْظٍ لَهُ مَعْنَيَانِ أَحَدُهُمَا“ جی، آج صنعتِ استخدام بتلا رہے ہیں آپ کو۔ صنعتِ استخدام اس کو کہتے ہیں مولانا کہ اپ کلام کے اندر ایک لفظ لے کر آئے اور آگے پھر اس کی ضمیر لے کر آئے بھئی اسی کی طرف لوٹ رہی ہے، اور لیکن لفظ سے ایک ایک معنی کا ارادہ کیا اور ضمیر سے دوسرے معنی کا ارادہ کیا، چاہے دونوں معنی حقیقی ہوں چاہے ایک حقیقی ہو ایک مجازی ہو چاہے دونوں کیا ہوں؟ مجازی ہوں، تو ایک لفظ ہے وہ کئی معانی میں مستعمل ہے اور لفظ لے کر آئے تو ایک معنی کا ارادہ اور ضمیر لے کر آئے تو دوسرے معنی کا ارادہ کیا بھئی۔ یا ایک لفظ ہے مولانا اس کے لیے دو ضمیریں آگے لے کر آئے مولانا، لفظ سے ایک لفظ سے تو جس معنی کا ارادہ تھا لیکن آگے جو دو ضمیریں آ رہی ہیں مولانا، ایک ضمیر سے ایک معنی کا ارادہ اور لفظ سے دوسرے... صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ پہلے میں تھا ایک ضمیر لے کر آئے تو لفظ سے اور معنی کا ارادہ اور ضمیر سے، اور دوسری صورت یہ کہ دو ضمیریں لے کر آئے ایک ضمیر سے ایک معنی کا ارادہ اور دوسری ضمیر سے دوسرے معنی کا ارادہ۔ ”وَمِنْهُ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ الِاسْتِخْدَامُ، وَهُوَ أَنْ يُرَادَ بِلَفْظٍ لَهُ مَعْنَيَانِ أَحَدُهُمَا“ اور وہ یہ ہے کہ ارادہ کیا جائے ایسے لفظ سے جس کے دو معنی تھے ایک معنی کا، لفظ سے ایک معنی کا ارادہ کیا جائے ”ثُمَّ يُرَادُ بِضَمِيرِهِ أَيْ بِالضَّمِيرِ الْعَائِدِ إِلَى ذَلِكَ اللَّفْظِ مَعْنَاهُ الْآخَرُ“ پھر اس کی ضمیر کے وہ ضمیر جو لوٹ رہی ہو اس لفظ کی طرف اس سے معنی آخر کا ارادہ کیا جائے، یہ ایک صورت تھی۔ ”أَوْ يُرَادُ بِأَحَدِ ضَمِيرَيْهِ أَحَدُهُمَا“ یا ارادہ کیا جائے مولانا دو ضمیروں میں سے ایک کے ساتھ ایک معنی کا ”ثُمَّ يُرَادُ بِالْأُخْرَى أَيْ بِضَمِيرِهِ الْآخَرِ مَعْنَاهُ الْآخَرُ“ پھر دوسری ضمیر کے ساتھ دوسرے معنی کا ارادہ کیا جائے، ”وَفِي كِلَيْهِمَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْمَعْنَيَانِ حَقِيقِيَّيْنِ أَوْ مَجَازِيَّيْنِ أَوْ أَنْ يَكُونَا مُخْتَلِفَيْنِ“ کہ یہ دونوں معنی چاہے حقیقی ہوں یا دونوں معنی مجازی ہوں یا دونوں مختلف ہوں ایک معنی حقیقی ہو اور ایک معنی مجازی۔ ”فَالْأَوَّلُ“ پہلے کی مثال جس کے اندر ”وَهُوَ أَنْ يُرَادَ بِاللَّفْظِ أَحَدُ الْمَعْنَيَيْنِ وَبِضَمِيرِهِ مَعْنَاهُ الْآخَرُ“ وہ کہ جس کے اندر لفظ سے ایک معنی کا ارادہ کیا جائے دو میں سے اور ضمیر کے ساتھ دوسرے معنی کا ارادہ کیا جائے، ”كَقَوْلِهِ“ جیسے یہ شعر ہے: ”إِذَا نَزَلَ السَّمَاءُ بِأَرْضِ قَوْمٍ ... رَعَيْنَاهُ وَإِنْ كَانُوا غِضَابَا“ جب بارش نازل ہوتی ہے کسی قوم کی زمین میں تو ہم چراتے ہیں وہاں کے سبزے میں ”وَإِنْ كَانُوا غِضَابَا“ اگرچہ وہ غصے میں کیوں نہ ہوں۔ شاعر کہتا ہے جب کسی قوم کے علاقے میں بارش نازل ہوتی ہے تو پھر ہم اس قوم کے علاقے میں چاہتے ہیں تو اپنے جانوروں کو چراتے ہیں، اگرچہ وہ قوم غضبناک ہی کیوں نہ ہو لیکن ہمارے غلبے کا یہ حال ہے کہ کوئی ہمیں روک نہیں سکتا بھئی۔ تو دیکھو محلِ استشہاد ہے، دیکھیے ”نَزَلَ السَّمَاءُ“ سماء ذکر ہوا اور آگے ”رَعَيْنَاهُ“ یہ ہا ضمیر بھی کس کو راجع ہے؟ سماء کو، لیکن سماء جو لفظ پہلے ذکر ہوا اس سے مراد ہے بارش، ”نَزَلَ السَّمَاءُ“ کیا نازل ہوتی ہے؟ بارش، اور آگے ذکر ہوا اس میں چراتے ہیں، بھئی جانور بارش میں چرائے جاتے ہیں یا گھاس میں بھئی؟ گھاس میں، تو آگے اس سے سبزہ مراد ہوا مولانا، تو دیکھو یہ دونوں مجازی معنی ہیں سماء کے، سماء کا بھی کس معنی میں آتا ہے؟ بارش، اور وہ بارش چونکہ سبب ہے کس چیز کا؟ نبات کا، تو اس سے کبھی کیا معنی مراد لیا جاتا ہے؟ سبزے کا معنی بھی مراد لیا جاتا ہے، تو دیکھو لفظ سے ایک معنی کا ارادہ اور ضمیر سے دوسرے معنی کا ارادہ۔ ”غِضَابًا جَمْعُ غَضْبَانَ“ کہتے ہیں یہ غضبان کی جمع ہے مولانا، ”أَرَادَ بِالسَّمَاءِ الْغَيْثَ“ ارادہ کیا شاعر نے سماء سے غیث کا، بارش کا ”وَبِضَمِيرِهِ فِي رَعَيْنَاهُ النَّبَتَ“ اور اس کی ضمیر تھی رعیناہ کے اندر اس سے نبت کا، سبزے کا ”وَكِلَا الْمَعْنَيَيْنِ مَجَازِيٌّ“ مولانا مجازی ہونا چاہیے یا ہونی چاہیے یہاں پر بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ معنی مجازی ہیں اور وہ دونوں معنی مولانا مجازی ہیں، ”وَالثَّانِي“ دوسری قسم کیا تھی مولانا کہ دو ضمیریں لائی جائیں اور ایک ضمیر سے ایک معنی کا ارادہ ہو اور دوسری ضمیر سے دوسرے... ”وَهُوَ أَنْ يُرَادَ بِأَحَدِ ضَمِيرَيْهِ أَحَدُ الْمَعْنَيَيْنِ“ اور وہ یہ کہ مولانا دو ضمیروں میں سے ایک کے ساتھ ایک معنی کا ارادہ کیا جائے ”وَبِالضَّمِيرِ الْآخَرِ مَعْنَاهُ الْآخَرُ“ اور دوسری ضمیر کے ساتھ دوسرے معنی کا ارادہ کیا جائے ”كَقَوْلِهِ“ جیسے یہ: ”فَسَقَى الْغَضَا وَالسَّاكِنِيهِ وَإِنْ هُمُ ... شَبُّوهُ بَيْنَ جَوَانِحِي وَضُلُوعِي“ پس سیراب کرے غضا جنگلوں کو، پس اے اللہ سیراب فرما الغضا، غضا مولانا درخت کا ہے، درخت کا نام ہے ایک خاص قسم کا، اب سیراب فرمائے اللہ غضا درختوں اور ”وَالسَّاكِنِيهِ“ یہ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ غضا کو، اور اس غضا مقام میں رہنے والوں کو ان کو کیا فرمائے اللہ؟ سیراب فرمائے، ”وَإِنْ هُمُ“ اور اگرچہ انہوں نے ”شَبُّوهُ“، شب کا معنی آگ جلانا، ”شَبُّوهُ“ ہا ضمیر راجع ہے کس کو؟ یہ بھی غضا کو راجع ہے، اگرچہ انہوں نے آگ جلائی ہے ”بَيْنَ جَوَانِحِي وَضُلُوعِي“ میری میری سینے میں، اگرچہ انہوں نے میرے سینے میں کیا جلائی ہے؟ اے اللہ غضا جنگل درختوں کو اور وہاں اس مقام پر رہنے والوں کو سیراب فرما، ان پر بارش نازل فرما اگرچہ انہوں نے میرے سینے میں آگ جلائی ہے یعنی میرے سینے میں کیا؟ محبت کی آگ جلائی ہے بھئی۔ تو دیکھیے غضا ایک لفظ آیا، آگے ”وَالسَّاكِنِيهِ“ یہاں ہا ضمیر لوٹ رہی ہے کس کی طرف؟ غضا کی طرف، لیکن اس ہا ضمیر سے کیا مراد ہے؟ درخت نہیں مراد بلکہ وہ جگہ مراد ہے جہاں پر وہ درخت ہوں اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ غضا کہتے ہیں، اور آگے ”شَبُّوهُ“ ہا ضمیر یہ بھی کس کو راجع ہے؟ غضا کو راجع ہے، لیکن یہاں مراد آگ ہے بھئی، کیونکہ اس درخت کی لکڑیوں سے جو آگ جلائی جاتی ہے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ غضا کہتے ہیں، سمجھ گئے؟ تو دو ضمیریں لوٹ رہی ہیں غضا کی طرف اور ایک سے کیا مراد ہے، ساکنیہ کی ہا ضمیر سے کیا مراد ہے؟ جگہ، اور شبوہ دوسری ہا ضمیر سے کیا مراد ہے؟ آگ۔ تو اے اللہ سیراب فرما غضا جگہ غضا درخت کے درختوں کو اور اس جگہ پر رہنے والوں کو، اور اگرچہ انہوں نے وہ آگ جلائی ہے بین جوانحی وضلوعی، جوانح جمع ہے جانحہ کی مولانا، اور یہ کہتے ہیں یہ چھوٹی پسلیوں کو بھئی، کس کو کہتے ہیں؟ چھوٹی، نیچے والی پسلیاں۔ وضلوع، ضلوع یہ جمع ہے ضلع کی اور یہ بھی پسلیوں کو کہتے ہیں لیکن یہ جو کمر کی جانب ہیں، کس کی جانب؟ کمر کی جانب یہی پسلیاں جو ہیں یہ ضلوع کہلاتی ہیں بھئی۔ تو مراد سینے میں، پسلیوں کے بیچ میں آگ جلائی ہے یعنی سینے میں آگ جلائی ہے۔ تو دیکھو ”أَرَادَ بِأَحَدِ ضَمِيرَيِ الْغَضَا أَعْنِي الْمَجْرُورَةَ فِي السَّاكِنِيهِ الْمَكَانَ الَّذِي فِيهِ شَجَرَةُ الْغَضَا“ ارادہ کیا غضا کی دو ضمیروں میں سے ایک کے ساتھ اعنی المجرورة یعنی کہ وہ جو مجرور ہے ضمیر مجرور فی ساکنیہ کس کے اندر؟ ساکنیہ کے آخر میں آ رہی تھی، کس کا ارادہ کیا؟ ”الْمَكَانَ الَّذِي فِيهِ شَجَرَةُ الْغَضَا“ اس جگہ کا جہاں پر غضا کے درخت ہیں ”وَبِالْآخَرِ“ اور دوسری ضمیر جو تھی ”أَعْنِي الْمَنْصُوبَةَ فِي شَبُّوهُ“ یعنی کہ منصوب ضمیر ہے شبوہ کے اندر، اس سے ارادہ کیا ”النَّارَ الْحَاصِلَةَ مِنْ شَجَرَةِ الْغَضَا“ وہ آگ جو حاصل ہوتی ہے کس سے؟ غضا کے درخت سے، ”وَكِلَاهُمَا مَجَازِيٌّ“ اور یہ دونوں معنی بھی کیا ہیں؟ مجازی ہیں۔ ”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”اللَّفُّ وَالنَّشْرُ“ اور معنوی قسم معنوی میں سے لف و نشر بھی ہے۔ لف و نشر اس کو کہتے ہیں مولانا کہ متعدد چیزوں کو اپ پہلے ذکر کرتے ہیں اور اس کے بعد ان میں سے آگے ہر ایک کا الگ الگ حکم بیان کرتے ہیں یا اس سے متعلق کوئی بات بتلاتے ہیں مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ پہلے متعدد چیزوں کو ذکر کیا اور پھر آگے ان میں سے ہر ایک کے الگ الگ حکم کو بیان کیا، لیکن تعیین نہیں کی کہ یہ پہلا حکم پہلے کا ہے، دوسرا دوسرے کا ہے، تیسرا تیسرے کا، تعیین نہیں کی، تعیین آپ نے سامع کے سپرد کر دی کہ وہ خود سمجھدار ہے سمجھ جائے گا کہ یہ پہلے کا تعلق پہلے سے ہے، دوسرے کا دوسرے سے، تیسرے کا یا پہلے کا تعلق دوسرے سے ہے، دوسرے کا پہلے سے ہے، تیسرے کا تیسرے سے ہے، ترتیب کبھی ہوگی کبھی ترتیب نہیں تو جو پہلے متعدد کو ذکر کیا جاتا ہے اس کو کہتے ہیں لف مولانا، لپیٹ دیا آپ نے اکٹھا لکھ کر دیا ان کو، اور آگے آتا ہے نشر مولانا کہ آپ نے ہر ایک کے الگ الگ حکم کو بیان کر دیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو پہلے متعدد کو ذکر کیا جائے اور پھر آگے ان میں سے ہر ایک کے حکم کو علیحدہ علیحدہ تو پہلے جو متعدد کو ذکر کیا وہ کیا کہلاتا ہے؟ لف، اور جو آگے ہر ایک کا حکم الگ الگ ذکر کیا وہ کیا کہلاتا ہے؟ نشر۔ پھر یہ دو قسم پر ہے مولانا، کبھی پہلے تفصیلاً ذکر ہوگا اور کبھی اجمالاً ذکر ہوگا، جو پہلے لف کیا آپ نے وہ تفصیلاً ہوگا یا اجمالاً۔ تفصیلاً کا یہ معنی کہ وہاں پر بھی آپ نے ہر ایک کا الگ الگ باقاعدہ صراحتاً ذکر کیا، نام لیا مولانا، اور اجمال کا معنی یہ کہ سب کو اکٹھا ہی ذکر کر دیا، سب کو کیا کر دیا؟ اکٹھا ذکر کر دیا، الگ الگ ذکر نہیں کیا۔ دیکھو مثالوں سے بات سمجھ میں آئے گی۔ پھر مولانا یہ لف و نشر دو قسم پر ہے، لف و نشر مرتب اور لف و نشر غیر مرتب یا لف و نشر مشوش۔ لف و نشر مرتب یہ ہے کہ جو متعدد آپ نے ذکر کیے تھے پانچ آگے نشر کے اندر ان کے احکام بھی اسی ترتیب سے، پہلا پہلے کے لیے ہے، ثانی ثانی کے لیے، ثالث ثالث کے لیے۔ جبکہ دوسری قسم ہے غیر مرتب کہ وہاں ترتیب نہیں ہوگی، پہلا کس کے لیے ہو سکتا ہے؟ دوسرے کے لیے بھی، تیسرے کے لیے بھی یا چوتھے، دوسرا کس کے لیے ہو سکتا ہے؟ دوسرا پہلے کے لیے، تو ترتیب نہیں رہے گی اس میں لف و نشر میں۔ ”اللَّفُّ وَالنَّشْرُ، وَهُوَ ذِكْرُ مُتَعَدِّدٍ عَلَى التَّفْصِيلِ أَوِ الْإِجْمَالِ“ وہ متعدد کو ذکر کرنا ہے تفصیلی طریقے پر یا اجمالی ”ثُمَّ ذِكْرُ مَا لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْ آحَادِ هَذَا الْمُتَعَدِّدِ“ پھر ذکر کرنا ہے اس ما کو جو ہر ایک کے لیے ہو اس متعدد کے افراد میں سے ”مِنْ غَيْرِ تَعْيِينٍ“ احاد کا معنی افراد کر لیں، ”مِنْ غَيْرِ تَعْيِينٍ“ بغیر تعیین کے مولانا، وہ جو آگے نشر میں آپ متعدد ذکر کر رہے ہیں آپ تعیین نہیں کر رہے، ”ثِقَةً بِأَنَّ السَّامِعَ يَرُدُّهُ إِلَيْهِ“ یہ اعتماد کرتے ہوئے کہ سامع ہر ایک کو ہر ایک کی طرف ہر حکم کو محکوم کی طرف لوٹا دے گا، ”مِنْ غَيْرِ تَعْيِينٍ ثِقَةً، أَيِ الذِّكْرِ بِدُونِ تَعْيِينٍ“ یعنی ذکر جو آپ نشر کو کرتے ہیں بغیر تعیین کے کرتے ہیں ”لِأَجْلِ الْوُثُوقِ“ اس بات پر اعتماد کی وجہ سے ”بِأَنَّ السَّامِعَ يَرُدُّهُ إِلَيْهِ“ کہ سامع اس کو اس کی طرف لوٹا دے گا ”أَيْ يَرُدُّ مَا لِكُلٍّ مِنْ آحَادِ هَذَا الْمُتَعَدِّدِ إِلَى مَا هُوَ لَهُ“ کہ وہ لوٹا دے گا ان میں سے ہر ایک کو ان متعدد کے افراد میں سے ہر ایک کو لوٹا دے گا الا ما اس چیز کی طرف ھو لہ جس کا وہ ہے، ”لِعِلْمِهِ بِذَلِكَ“ اس وجہ سے کہ اس کو علم ہے سامع کو، ”لِعِلْمِهِ بِذَلِكَ“ اس وجہ سے کہ اس کو پتہ چل جائے گا ”بِالْقَرَائِنِ اللَّفْظِيَّةِ أَوِ الْمَعْنَوِيَّةِ“ قرائن لفظیہ سے یا قرائن معنویہ سے۔ ”فَالْأَوَّلُ“ پہلی قسم مولانا ”وَهُوَ أَنْ يَكُونَ ذِكْرُ الْمُتَعَدِّدِ عَلَى التَّفْصِيلِ“ وہ یہ کہ مولانا متعدد کا ذکر تفصیل سے ہو، بھئی دو صورتیں تھیں نا کہ متعدد کا ذکر علی التفصیل ہو گا یا علی الاجمال، جبکہ متعدد کا ذکر علی التفصیل ہو ”يَكُونُ ضَرْبَيْنِ“ یہ دو قسم پر ہے ”لِأَنَّ النَّشْرَ إِمَّا عَلَى تَرْتِيبِ اللَّفِّ“ اس لیے کہ نشر یا تو لف کی ترتیب پر ہی ہوگا ”بِأَنْ يَكُونَ الْأَوَّلُ مِنَ الْمُتَعَدِّدِ فِي النَّشْرِ لِلْأَوَّلِ مِنَ الْمُتَعَدِّدِ فِي اللَّفِّ“ کہ نشر کے اندر جو پہلا متعدد میں سے آ رہا ہے لف کے اندر متعدد میں سے جو اول ہے اس کے لیے ہو گا، نشر کے اندر جو پہلا ہے متعدد میں سے وہ لف کے اندر بھی جو متعدد آئے تھے ان میں سے کس کے لیے ہوگا؟ پہلے کے لیے، ”وَالثَّانِي لِلثَّانِي“ اور ثانی ثانی کے لیے ہوگا ”وَهَكَذَا إِلَى الْآخِرِ“ اسی طرح آخر تک۔ ”وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ“ اور اللہ کی رحمت میں سے ہے کہ بنایا تمہارے لیے رات کو اور دن کو تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور تاکہ تم اس تاکہ تم اس میں اللہ کے فضل کو تلاش کرو۔ تو دیکھو اللہ نے رات اور دن بنائے مولانا، تو یہاں پر دیکھو علی التفصیل ذکر کر دیا، لیل کو بھی اور نہار کو بھی، الگ الگ ذکر کر دیا نام لے کر۔ آگے حکم بیان ہوا یہ تھا لف، آگے حکم نشر: تاکہ تم اس میں سکون پاؤ اور تاکہ تم اس میں اللہ کا فضل تلاش کرو، تو یہ ہے نشر مولانا دونوں کا الگ الگ حکم بیان کیا، لیکن یہ بتلایا کہ سکون کس میں پاؤ اور اور فضل کس میں تلاش کرو؟ یہ نہیں بتلایا، تو یہ مخاطب کے حوالے کر دیا کہ مخاطب خود سمجھ جائے گا کہ سکون کس میں پائیں گے؟ رات میں، اور فضل تلاش کرنا کس میں ہے؟ دن میں۔ ”ذَكَرَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ عَلَى التَّفْصِيلِ“ ذکر کیا رات کو اور دن کو تفصیلی اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا لیل اور نہار کو تفصیل پر ”ثُمَّ ذَكَرَ مَا لِلَّيْلِ وَهُوَ السُّكُونُ فِيهِ“ پھر ذکر کیا اس چیز کو جو رات کے لیے ہے اور وہ سکون ہے اس کے اندر پانا ”وَمَا لِلنَّهَارِ وَهُوَ الِابْتِغَاءُ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ تَعَالَى فِيهِ“ اور پھر اس کو ذکر کیا جو نہار کے لیے ہے اور وہ اللہ کے فضل کو اس میں تلاش کرنا ہے ”عَلَى التَّرْتِيبِ“ ترتیب سے مولانا، تو دیکھو لیل پہلے تھی تو لتسکنوا فیہ پہلے آیا، نہار دوسرے پر تھا تو لتبتغوا من فضلہ دوسرے پر۔ ”فَإِنْ قِيلَ“ یہ اعتراض ہے مولانا کہ ”لِتَسْكُنُوا فِيهِ“ اس میں یہ جو ہا ضمیر ہے کس کو لوٹ رہی ہے؟ لیل کو، کہتے ہیں بھئی تعیین تو ہو گئی، یہ ہا ضمیر کس کو قطعی طور پر لوٹ رہی ہے؟ لیل کو، تو یہاں تو آپ نے تو کہا تھا تعیین نہ ہو، مخاطب تعیین کرے گا لیکن یہاں تو ضمیر قطعی طور پر لیل کو لوٹ رہی ہے لہٰذا یہاں پر تو تعیین آ چکی ہے۔ تو جواب دے رہے ہیں مولانا اس کو جواب دیں گے، کہتے ہیں بھئی یہ ٹھیک ہے اس کی طرف واقع میں اسی کی طرف لوٹ رہی ہے لیکن احتمال تو تھا یہ تو مذکر کی ضمیر ہے پیچھے لیل اور نہار بھی مذکر ہیں، احتمال تو یہ بھی تھا کہ دونوں کی طرف لوٹ رہی ہو کہ لیل اور نہار میں تم کیا کرتے ہو؟ سکون حاصل کرتے ہو اور تاکہ تم جی۔ ”فَإِنْ قِيلَ عَدَمُ التَّعْيِينِ فِي الْآيَةِ مَمْنُوعٌ“ اگر یہ کہا گیا عدمِ تعیین آیت کے اندر جو عدمِ تعیین ہے یہ آپ نے کہا تعیین نہیں ہے یہ ممنوع یہ کیا ہے؟ ممنوع ہے یعنی ہمیں تسلیم نہیں ہے ”فَإِنَّ الْمَجْرُورَ مِنْ فِيهِ“ اس لیے کہ مجرور فیہ کے اندر ”عَائِدٌ إِلَى اللَّيْلِ لَا مَحَالَةَ“ وہ کس کی طرف لوٹ رہا ہے؟ لیل کی طرف قطعی طور پر، ”قُلْنَا نَعَمْ“ ہم جواب دیتے ہیں ہاں ”وَلَكِنْ بِاعْتِبَارِ احْتِمَالِ أَنْ يَعُودَ إِلَى كُلٍّ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ يَتَحَقَّقُ عَدَمُ التَّعْيِينِ“ لیکن اس اعتبار سے کہ اس میں احتمال تو یہ تھا کہ وہ لوٹے رات اور دن دونوں میں سے ہر ایک کی طرف تو اس میں کیا کس چیز کا تحقق ہوا؟ عدمِ تعیین کا، عدمِ تعیین کا بھئی ہوا۔ سمجھ میں آ گیا۔ یا مولانا یہ غیر ترتیب پر ہوگا، کس پر ہوگا؟ یہ تو تھی ترتیب اور آگے ہے ترتیب نہیں ہوگی، جیسے مولانا شاعر کہتا ہے: ”كَيْفَ أَسْلُو وَأَنْتِ حِقْفٌ وَغُصْنٌ ... وَغَزَالٌ لَحْظًا وَقَدًّا وَرِدْفًا“ سمجھ میں آیا بھئی؟ کون ہے بھئی؟ یہ ہو گیا۔ یہ چودھری ہے بھئی، یہ اس کو اس کا معشوق کہتا ہے بھئی روزانہ ملنے نہ آیا کرو بھئی، کیا کہتا ہے؟ روزانہ ملنے نہ آیا کرو۔ کہتا ہے میں کیسے صبر کروں؟ ”كَيْفَ أَسْلُو“ ”وَأَنْتِ حِقْفٌ“ تو کیا ہے؟ تو ریت کا ٹیلا ہے ”وَغُصْنٌ“ اور شاخ ہے ”وَغَزَالٌ“ اور ہرن ہے ”لَحْظًا“ کس کے اعتبار سے؟ ہرن کس اعتبار سے ہے؟ آنکھوں، تیری آنکھیں کس کی طرح حسین؟ ہرن کی طرح۔ تو ہرن ہرن ہے ”وَقَدًّا“ اور شاخ ہے قد کے اعتبار سے، اور ریت کا ٹیلا ہے ”رِدْفًا“ سرین کے اعتبار سے بھئی۔ تو یہ تشبیہ ہے مولانا آنکھوں کو تشبیہ دی ہرن کی آنکھوں سے حسن کے اندر، قد کو تشبیہ دی شاخ کے ساتھ متوسط درمیانہ قد ہے مولانا، اور سرین کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ ریت کے ٹیلے کے ساتھ، کس چیز میں تشبیہ دی؟ جیسے ریت کا ٹیلا بڑا ہوتا ہے اسی طرح سرین بھی کیا ہے؟ ریت کے دو بڑے بڑے ٹیلے ہیں بھئی، اور یا کس چیز میں تشبیہ ہے؟ نرم ہونے کے اندر، جیسے ریت کا ٹیلا نرم ہوتا ہے اسی طرح۔ ”وَإِمَّا عَلَى غَيْرِ تَرْتِيبِهِ أَيْ تَرْتِيبِ اللَّفِّ“ یا نشر جو ہوگا لف کی ترتیب کے علاوہ ہوگا ”سَوَاءٌ كَانَ مَعْكُوسَ التَّرْتِيبِ“ چاہے وہ معکوس الترتیب ہو مولانا، عکس کیا گیا ہو، وہاں پر ایک، دو، تین تھے تو اس میں عکس ہے بھئی، تیسرے کے لیے پہلے لے آئے، دوسرے کے لیے دوسرے نمبر پر اور پہلے کے لیے تیسرے نمبر پر، جیسے ”كَيْفَ أَسْلُو وَأَنْتِ حِقْفٌ وَغُصْنٌ وَغَزَالٌ لَحْظًا وَقَدًّا وَرِدْفًا“ میں کیسے صبر کروں تجھ سے یعنی میں صبر نہیں کر سکتا ”وَأَنْتِ حِقْفٌ“ اور تو ریت کا ٹیلا ہے ”وَهُوَ النَّقَا“ نقا ٹیلے کو کہتے ہیں من الرمل ریت میں سے، ”وَغُصْنٌ“ اور تو شاخ ہے ”وَغَزَالٌ“ اور ہرن ہے ”لَحْظًا“ بھئی تو دیکھو جو تیسرے نمبر پر غزال آیا تھا اس سے متعلق ہے کہ تو ہرن ہے لحظاً آنکھوں کے اعتبار سے، تیری آنکھیں یعنی ہرن کی طرح حسین و جمیل ہیں، ”وَقَدًّا“ اس کا تعلق غصن سے ہے اور تو شاخ ہے با اعتبار قد کے یعنی کہ تیرا قد بڑا معتدل ہے مولانا، ”وَرِدْفًا“ اور تو ریت کا ٹیلا ہے با اعتبار کس کے؟ سرین کے، تو اس کا تعلق حقف سے ہے مولانا۔ تو دیکھو عکس کیا، وہاں پر حقف پہلے تھا یہاں ردف آخر میں آیا، اور غصن دوسرے پر تھا تو قد دوسرے پر آیا، اور غزال تیسرے پر تھا اور لحظ پہلے پر آیا۔ ”فَاللَّحْظُ لِلْغَزَالِ“ تو شاعر کہتا ہے کہ تو اے معشوقہ تو مجمع حسن و جمال ہے میں تیرے بغیر رہ نہیں سکتا، صبر نہیں کر سکتا۔ ”فَاللَّحْظُ لِلْغَزَالِ“ لحظ جو ہے غزال کے لیے ہے ”وَالْقَدُّ لِلْغُصْنِ وَالرِّدْفُ لِلْحِقْفِ“، ”أَوْ مُخْتَلِطًا كَقَوْلِكَ هُوَ شَمْسٌ وَأَسَدٌ“ یا مولانا مختلط ہوگا، کیا معنی بھئی؟ یعنی پہلے تو تھا ترتیب تو وہی نہیں ہے لیکن کیا تھا ترتیب کبھی معکوس ہوگی یعنی یہاں ایک، دو، تین، چار ذکر ہیں اور ادھر عکس ہو جائے گا چوتھے کا پہلے، تیسرے کا بعد میں، دوسرے کا اس کے بعد اور پہلے کا یا مختلط ملے ہوئے ہوں گے، پہلے دوسرے والے کے لیے لے آئے پھر چوتھے کے لیے لے آئے پھر پہلے کے لیے لے آئے تو ملے ہوئے ہوں گے کوئی ترتیب نہیں ہوگی۔ جیسے اپ کہتے ہیں ”هُوَ شَمْسٌ وَأَسَدٌ وَبَحْرٌ“ وہ سورج ہے اور شیر ہے اور سمندر ہے ”جُودًا“ سخاوت کے اعتبار سے اس کا تعلق بحر سے ہے ”وَبَهَاءً“ اس کا تعلق شمس سے ہے، سخاوت کے اعتبار سے سمندر ہے اور حسن کے اعتبار سے مولانا سورج ہے ”وَشَجَاعَةً“ اور بہادری کے اعتبار شیر ہے کس اعتبار سے؟ بہادری کے اعتبار سے۔ ”وَالثَّانِي“ دوسری قسم بھئی، پہلی قسم کیا تھی جس میں لف میں تفصیل ہو، دوسری قسم ”وَهُوَ أَنْ يَكُونَ ذِكْرُ الْمُتَعَدِّدِ عَلَى الْإِجْمَالِ“ کہ لف میں کیا ہو؟ اجمال، کہ متعدد کا ذکر اجمال پر کے طریقے پر ہو جیسے ”وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَى“ اور کہا انہوں نے کہ ہرگز داخل نہیں ہوگا جنت کے اندر الا مگر وہ جو کان ھوداً جو یہودی ہے او نصاریٰ یا نصرانی ہے۔ یہ مولانا یہود کہتے تھے کہ جنت میں صرف یہودی جائیں گے، نصرانی کہتے تھے کہ جنت میں صرف نصرانی جائیں گے، تو ”قَالُوا“ کے اندر ملا دیا گیا دونوں کو۔ تو دیکھو یہ لف ہے اور اس میں اجمال ہے، یہود اور نصرانیوں کا الگ الگ ذکر ہے؟ بلکہ قالوا کے ذریعے اکٹھا دونوں کو ذکر کر دیا گیا، آگے ذکر کر دیا گیا کہ جنت میں وہی داخل ہوگا جو یہودی ہوگا یہ کون کہتے ہیں؟ یہودی کہتے ہیں، اور وہ دوسرے کے جنت میں وہی داخل ہوگا جو عیسائی ہوگا یہ کون کہتے ہیں؟ تو دیکھو آگے تفصیل آ گئی اور پہلے اجمال تھا مولانا، تو یہ لف و نشر ہوا مولانا۔ اور یہ نہیں بتلایا گیا کہ کون کہتا ہے کہ یہودی صرف جنت میں جائیں گے؟ کون کہتا ہے صرف عیسائی جنت میں جائیں گے؟ اس لیے اور یہ معنی نہیں ہے کہ عیسائی یہ کہتے تھے یہودی اور عیسائی دونوں جائیں گے یہ معنی نہیں، یا یہودی یہ کہتے تھے کہ عیسائی اور یہودی دونوں جائیں گے اس لیے کہ کوئی بھی یہ قول نہیں کرتا تھا، ہر ایک یہی کہتا تھا صرف ہم ہی جنت میں جائیں گے اور دوسرا کوئی جنت میں تو ہر ایک دوسرے کی طرف گمراہی کی طرف نسبت کرتا ہے کہ وہ باقی گمراہ ہیں ہم حق پر ہیں، تو لہٰذا یہاں پر التباس کا بھی کوئی خطرہ نہیں مولانا، تو دونوں کو اکٹھا ذکر کر دیا کہ ”مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَى“۔ ”فَإِنَّ الضَّمِيرَ فِي قَالُوا لِلْيَهُودِ وَالنَّصَارَى“ اس لیے کہ ضمیر قالوا کے اندر یہود اور نصاریٰ دونوں کے لیے ہے تو یہ لف ہے۔ ”فَذُكِرَ الْفَرِيقَانِ عَلَى الْإِجْمَالِ بِالضَّمِيرِ الْعَائِدِ إِلَيْهِمَا“ ذکر کیا گیا دونوں فریقوں کو اجمالی طریقے پر ان کی طرف ضمیر لوٹاتے ہوئے ”ثُمَّ ذُكِرَ مَا لِكُلٍّ“ پھر ذکر کیا گیا وہ جو ہر ایک کے لیے ہے، ”أَيْ أَصْلُ الْمَعْنَى هَذَا: قَالَتِ الْيَهُودُ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا“ اصل یہ معنی یہ ہے قالت الیہود لن یدخل الجنۃ الا من کان ھوداً، یہود کہتے ہیں کہ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا مگر وہ جو یہودی ہے ”وَقَالَتِ النَّصَارَى لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ نَصَارَى“ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا مگر وہ جو نصرانی ہے، ”فَلَفَّ بَيْنَ الْفَرِيقَيْنِ وَالْقَوْلَيْنِ إِجْمَالًا“ اکٹھا کر دیا دونوں فریقوں اور دونوں قولوں کو اجمالی طریقے پر قالوا کے اندر مولانا ”لِعَدَمِ الِالْتِبَاسِ“ اس لیے اس لیے کہ التباس نہیں ہے ”وَثِقَةً بِأَنَّ السَّامِعَ يَرُدُّ إِلَى كُلِّ فَرِيقٍ أَوْ قَوْلٍ مَقُولَهُ“ اور یہ اعتماد کرتے ہوئے کہ سامع سننے والا ہر فریق یا ہر قول کی طرف اس کے مقولے کو لوٹا دے گا، کہ صرف یہودی جنت میں جائیں گے یہ کہنے والا کون؟ صرف نصرانی جنت میں جائیں گے یہ کہنے والا کون؟ یہ خود بخود جان لے گا، ”لِلْعِلْمِ بِتَضْلِيلِ كُلِّ فَرِيقٍ صَاحِبَهُ“ اس لیے کہ یہ بات معلوم ہے کہ گمراہی کی نسبت کرتا ہے ہر فریق اپنے ساتھی کی طرف یعنی دوسرے کی طرف ”وَاعْتِقَادِهِ أَنَّ دَاخِلَ الْجَنَّةِ هُوَ لَا صَاحِبُهُ“ اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ کیونکہ یہ علم ہے اور یہ یہ اعتقاد رکھتا ہے بوجہ اس کے کہ وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ جنت میں داخل ہونے والا وہ ہوگا نہ کہ اس کا ساتھی، یعنی یہود کہتے ہیں ہم جائیں گے عیسائی نہیں، ”وَلَا يُتَصَوَّرُ فِي هَذَا الضَّرْبِ التَّرْتِيبُ وَعَدَمُهُ“ اور تصور نہیں کیا جا سکتا اس قسم کے اندر ترتیب اور عدمِ ترتیب کا، بھئی پہلے بتایا تھا لف و نشر مرتب ہے اور غیر لیکن وہ کس میں تھا جب لف کے اندر تفصیل تھی تو وہاں نشر کے اندر ترتیب اور عدمِ ترتیب کا امکان تھا، لیکن یہاں پر تو لف کے اندر اجمال ہے تو آگے نشر کے اندر ترتیب اور عدمِ ترتیب کا امکان نہیں کیونکہ قالوا ایک ہی ضمیر دونوں کی طرف۔ ”وَمِنْ غَرِيبِ اللَّفِّ“ آگے بتلا رہے ہیں مولانا لف و نشر کی ایک انوکھی قسم یہ ہے کہ آپ دو لفظ ذکر کریں اور آگے ایک ہی نشر ذکر کریں، دو لفظ ذکر کریں اور ایک ہی نشر ذکر کریں اور اس ایک نشر کے اندر ہر وہ ہر ایک کے لیے نشر ہو مولانا، ہر ایک کے لیے کیا ہو؟ نشر ہو، جیسے دیکھیے مثال: ”وَمِنْ غَرِيبِ اللَّفِّ وَالنَّشْرِ أَنْ يُذْكَرَ مُتَعَدِّدَانِ“ لف و نشر غریب میں سے ہے کہ دو متعدد ذکر کیے جائیں یعنی دو لفظ ذکر کیے جائیں ”أَوْ أَكْثَرُ“ یا دو سے زیادہ ”ثُمَّ يُذْكَرَ فِي نَشْرٍ وَاحِدٍ مَا يَكُونُ لِكُلٍّ مِنْ آحَادِ كُلٍّ مِنَ الْمُتَعَدِّدَيْنِ“ پھر ایک ہی نشر کے اندر وہ ذکر کیا جائے گا ما وہ جو ان میں سے ان متعد دونوں متعددین کے ہر ہر دو متعددین کے افراد میں سے ہر ایک کے لیے جو ہے اس کو ذکر کیا جائے گا، ہر دو متعددین کے افراد من احاد کل من المتعددین، آخر سے ترجمہ کریں: ہر دو متعددین کے احاد میں سے ہر ایک کے لیے جو ہے اس کو ذکر کیا جائے گا ”أَوْ أَكْثَرَ“ چاہے دو متعدد ہیں یا زیادہ ہیں، ”كَمَا تَقُولُ الرَّاحَةُ وَالتَّعَبُ وَالْعَدْلُ وَالظُّلْمُ قَدْ سُدَّ مِنْ أَبْوَابِهَا مَا كَانَ مَفْتُوحًا وَفُتِحَ مِنْ طُرُقِهَا مَا كَانَ مَسْدُودًا“ راحت اور تھکن، تکلیف، راحت اور تکلیف اور عدل اور ظلم، اس کے بند دروازے اس کے کھلے ہوئے دروازے بند کر دیے گئے اور کھلے ہوئے راستے کیا اور بند راستے کیا کر دیے گئے؟ کھول دیے گئے۔ ”قَدْ سُدَّ مِنْ أَبْوَابِهَا“ یہ من ابوابھا بیان ہے ما کا جو آگے آ رہا ہے، وہ جو کھلے ہوئے تھے وہ دروازوں میں سے وہ بند کر دیے گئے اور وہ جو کھلے ہوئے تھے راستوں میں وہ کھول دیے گئے جو بند تھے کس میں سے؟ دیکھیے یوں عبارت ہے: ”قَدْ سُدَّ مَا كَانَ مَفْتُوحًا“ بند کر دیے گئے وہ جو کھلے ہوئے تھے ”مِنْ أَبْوَابِهَا“ یعنی کہ دروازے ”وَفُتِحَ مَا كَانَ مَسْدُودًا“ اور کھول دیے گئے جو بند تھے ”مِنْ طُرُقِهَا“ یعنی کہ اس کے راستوں میں سے۔ اب دیکھو دو لفظ تھے مولانا: راحت اور تکلیف، ایک لفظ اور تفصیل ہے مولانا ہر ایک کو الگ الگ ذکر کیا۔ دوسرا لفظ ہے عدل اور ظلم، عدل کے مقابلے میں کیا آ رہا ہے؟ ظلم، تو یہ دو لفظ ہوئے مولانا، اور آگے دو حکم بیان ہو رہے ہیں جو پہلے کیا کہا؟ کھلے ہوئے دروازے بند کر دیے گئے، کس کے کھلے ہوئے دروازے بند کر دیے گئے؟ کہتے ہیں اس کا تعلق راحت سے ہے، کس سے ہے؟ راحت سے، تو راحت کے جو کھلے ہوئے دروازے تھے وہ بند کر دیے گئے اور نیز عدل سے ہے اگلے لفظ کے اندر، عدل کے جو دروازے کھلے ہوئے تھے وہ کیا کر دیے گئے؟ بند کر دیے گئے، اور آگے آ گیا جو راستے بند تھے وہ کھول دیے گئے، کس کے راستے؟ تو کہتے ہیں اولِ لفظ میں اس کا تعلق تعب، تکلیف سے ہے، تکلیف کے جو راستے بند تھے وہ کیا کر دیے گئے؟ کھول دیے گئے، اور دوسرے لفظ میں اس کا تعلق کس سے ہے؟ ظلم سے ہے، ظلم کے جو راستے بند تھے وہ کیا کر دیے گئے؟ کھول دیے گئے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پہلے راحت تھی، اسلام ہر طرف نظر آتا تھا تو تکلیف نہیں تھی، راحت ہی راحت تھی لیکن اب کیا کر دیا گیا؟ راحت کے دروازے بند ہو گئے اور تکلیف کے کھول دیے گئے۔ اسی طرح پہلے عدل و انصاف تھا مولانا، اب کیا عدل کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور ظلم کے راستے کھول دیے گئے ہیں، تو دو لفظ تھے لیکن ایک ہی نشر جو دونوں میں ہر ایک میں سے ایک ایک کی طرف لوٹ رہا ہے۔ بات بھی سمجھ آ رہی ہے یا مشکل ہے بھئی؟ ”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”الْجَمْعُ“ اور قسم معنوی میں سے ایک جمع بھی ہے، جمع یہ مولانا دو تین چیزوں کو اپ جمع کر دیں ایک ہی حکم میں، دو تین چیزیں ذکر کریں ان پر ایک ہی حکم لگا دیں، جیسے مولانا ”وَهُوَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ مُتَعَدِّدَيْنِ“ اور وہ یہ ہے کہ جمع کیا جائے متعدد کو ”اثْنَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ“ دو ہوں یا دو سے زیادہ چیزیں ہوں متعدد ہوں ان کو ”فِي حُكْمٍ“ ایک حکم میں جمع کر دیں ”كَقَوْلِهِ تَعَالَى الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا“ جیسے اللہ کا یہ قول ہے: ”الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا“، تو دیکھو دو چیزیں آئیں مال اور بیٹے مولانا، دنیاوی زندگی کی زینت ہیں، تو دونوں پر کیا حکم لگایا گیا کہ دنیاوی زندگی کی زینت ہیں، یہ جمع ہے اسان بات ہے۔ ”وَنَحْوُهُ قَوْلُ أَبِي الْعَتَاهِيَةِ“ الف لام ہونا چاہیے مولانا، ابی العتاہیہ یہ شاعر کا لقب ہے مولانا، شعر: ”عَلِمْتَ يَا مُجَاشِعَ بْنَ مَسْعَدَةَ ... أَنَّ الشَّبَابَ وَالْفَرَاغَ وَالْجِدَةَ“ ”مَفْسَدَةٌ لِلْمَرْءِ أَيُّ مَفْسَدَةٍ“ ”عَلِمْتَ يَا مُجَاشِعَ بْنَ مَسْعَدَةَ“ جان لیا ہے تو نے اے مجاشع ابن مسعدہ! ”إِنَّ الشَّبَابَ“ دیکھو شاعر کہہ رہا ہے مجاشع ابن مسعدہ کو، یہ اگلا جو شعر ہے مشہور ہے مولانا، اگلا شعر تو شاعر نے اپنی نظم میں اگلے شعر کو ذکر کیا اور گزشتہ شعر کے آخر میں دوسرا مصرع تھا کہ اے مجاشع ابن مسعدہ تو نے جان لیا ہے، کیا جان لیا ہے؟ یہ آگے الگ کسی اور کا شعر اپنے کلام میں ذکر کیا اس لیے یہاں ”إِنَّ“ پڑھیں گے اس شعر میں کیا ہے؟ ”إِنَّ“، ہاں یا علمت کی وجہ سے ”أَنَّ“ بھی آپ پڑھ سکتے ہیں۔ ”إِنَّ الشَّبَابَ وَالْفَرَاغَ وَالْجِدَةَ“ کہ بے شک جوانی اور فرصت اور دولت ”مَفْسَدَةٌ“ یہ باعثِ فساد ہیں، فساد لانے والی ہے ”أَيُّ مَفْسَدَةٍ“ بڑا ہی کامل فساد فساد کا باعث ہیں، یہ فساد کا باعث ہیں اور بڑے ہی کامل فساد کا باعث ہیں، یہ صفت ای کبھی لے کر آتے ہیں مولانا کمال پر دلالت کرنے کے لیے، ”زَيْدٌ رَجُلٌ أَيُّ رَجُلٍ“ زید بڑا ہی کامل ادمی ہے۔ تو یہ جو جوانی ہے، فرصت ہے اور دولت ہے یہ بڑی ہی کامل طور پر فساد کا باعث ہیں بھئی۔ تو جدہ کا معنی کیا ”أَيِ الِاسْتِغْنَاءَ“ مالداری مولانا، ”مَفْسَدَةٌ أَيْ دَاعِيَةٌ إِلَى الْفَسَادِ لِلْمَرْءِ“ فساد کی طرف بلانے والی ہیں شخص کو۔ ”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”التَّفْرِيقُ“ اور معنوی میں سے ایک تفریق ہے، ”وَهُوَ إِيقَاعُ تَبَايُنٍ بَيْنَ أَمْرَيْنِ مِنْ نَوْعٍ“ بھئی جمع کیا تھا کہ دو مختلف چیزوں کو کیا کیا؟ ایک ہی حکم کے اندر جمع کر دیا، اور تفریق اس کو کہتے ہیں کہ ایک ہی نوع کی دو چیزیں ہیں ان کو الگ الگ کر دیں یعنی ہر ایک سے ہر ایک کا الگ حکم بیان کر دیں، ہر ایک کا ہیں ایک ہی نوع کی لیکن ان میں فرق کر دیا جائے تفریق۔ ”وَهُوَ إِيقَاعُ تَبَايُنٍ“ اور وہ تباین کا واقع کرنا ہے ”بَيْنَ أَمْرَيْنِ مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ“ دو ایسے امور میں من نوع واحد جو کس سے ہوں؟ ایک ہی نوع سے ہوں ”فِي الْمَدْحِ أَوْ غَيْرِهِ“ مدح وغیرہ کے اندر ان میں تباین واقع کی جائے ”كَقَوْلِهِ“ جیسے شاعر کہتا ہے: ”مَا نَوَالُ الْغَمَامِ وَقْتَ رَبِيعٍ ... كَنَوَالِ الْأَمِيرِ يَوْمَ سَخَاءِ“ ”فَنَوَالُ الْأَمِيرِ بَدْرَةُ عَيْنٍ ... وَنَوَالُ الْغَمَامِ قَطْرَةُ مَاءِ“ نہیں ہے، نوال کہتے ہیں عطایا، غمام کہتے ہیں بادل، بادل کی عطایا بہار کے موسم میں اتنی نہیں ہے اس طرح نہیں ہے ”كَنَوَالِ الْأَمِيرِ يَوْمَ سَخَاءِ“ جیسے امیر کی عطایا ہے سخاوت والے دن۔ ”فَنَوَالُ الْأَمِيرِ بَدْرَةُ عَيْنٍ“ امیر کی عطایا کیا ہے بدرۃ عین، دس ہزار درہم کی تھیلی ہے، جب وہ سخاوت کرتا ہے تو کیا کیا عطا کرتا ہے؟ ”وَنَوَالُ الْغَمَامِ قَطْرَةُ مَاءِ“ جبکہ بادل کی سخاوت قطرة ماء وہ کیا ہے بارش کا پانی کا ایک قطرہ ہی تو دیتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو ایک ہی چیز دو جو امیر وہ ایک ہی نوع کی دو چیزیں تھیں، ایک بادل کے عطایا اور ایک امیر کے عطایا، تو دونوں ہیں عطایا ایک ہی نوع کی چیز ہیں، لیکن دونوں میں فرق کر دیا کہ کیا ہے وہ عطایا مختلف ہیں، وہ صرف پانی کا ایک قطرہ ہے اور امیر کی عطایا اعلیٰ ہیں وہ کیا ہیں دس ہزار درہم کی تھیلی ہے۔ ”بَدْرَةُ عَيْنٍ“ مولانا یہ دس ہزار درہم کی تھیلی کو کہتے ہیں مولانا، یا بعض کہتے ہیں کہ یہ بھیڑ کے کھال کو دراہم سے بھر دیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ بدرۃ العین کہتے ہیں، ”وَهِيَ عَشَرَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ“ دس ہزار درہم ہے بدرۃ العین، ”وَنَوَالُ الْغَمَامِ قَطْرَةُ مَاءٍ، أَوْقَعَ التَّبَايُنَ بَيْنَ النَّوَالَيْنِ“ تو دونوں عطایا میں تباین واقع کیا شاعر نے۔ ”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”التَّقْسِيمُ“ اور حسن معنوی کے اسباب میں سے کیا ہے مولانا؟ تقسیم ہے، تقسیم کس کو کہتے ہیں؟ بھئی تقسیم بعینہٖ لف و نشر کی طرح ہے، لیکن لف و نشر میں کیا تھا متعدد کو ذکر کیا جاتا تھا پھر آگے نشر میں کیا؟ ہر ایک سے متعلقہ حکم ذکر ہوتا تھا لیکن تعیین نہیں ہوتی تھی پہلا کس کا ہے، ثانی کس کا ہے، ثالث کس کا ہے، مخاطب کے حوالے کر دیا جاتا تھا وہ سمجھ جائے گا اول ثانی کا ہے، ثانی اول کا ہے، ثالث ثالث کا ہے وغیرہ۔ لیکن تقسیم میں صرف یہ فرق ہے کہ یہاں پر تعیین بھی ہوگی کہ اول اول کے لیے ہے، ثانی ثانی کے لیے اور ثالث ثالث، صرف یہاں تعیین ہوگی۔ ”وَهُوَ ذِكْرُ مُتَعَدِّدٍ“ وہ متعدد کا ذکر ہے ”ثُمَّ إِضَافَةُ مَا لِكُلٍّ إِلَيْهِ“ پھر نسبت کرنا ہے ما اس چیز کی ”لِكُلٍّ أَيْ لِكُلِّ وَاحِدٍ“ جو ہر ایک کے لیے ہے ”إِلَيْهِ“ اسی کی طرف، جو ہر ایک کے لیے جو جو کچھ ہے اس کی طرف اس کی نسبت بھی کرنا۔ بھئی اپ نے دیکھو لف کے اندر کتنی چیزیں ذکر کیں؟ چار پانچ چیزیں ذکر کیں، آگے پھر چار پانچ چیزیں ذکر کر رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ بتلا بھی رہے ہیں اس کا تعلق پہلی سے ہے، اس کا دوسری سے، اس کا تیسری سے، ”عَلَى التَّعْيِينِ“ تعیین کے طریقے پر، ”وَبِهَذَا الْقَيْدِ خَرَجَ اللَّفُّ وَالنَّشْرُ“ اور اس قید سے مولانا لف و نشر نکل گئے اس لیے کہ وہاں پر تعیین نہیں ہوتی۔ استاد پہ بھی نظر رکھنا بھئی اگر وہ آئیں بتانا۔ ”وَقَدْ أَهْمَلَهُ السَّكَّاكِيُّ“ یہ قید جو ہے نا علی التعیین اس کو ترک کر دیا ہے علامہ سکاکی نے، ”فَتَوَهَّمَ بَعْضُهُمْ أَنَّ التَّقْسِيمَ عِنْدَهُ أَعَمُّ مِنَ اللَّفِّ وَالنَّشْرِ“ تو بعضوں نے وہم کیا کہ تقسیم شاید علامہ سکاکی کے نزدیک لف و نشر سے عام ہے۔ علامہ سکاکی نے علی التعیین کا لفظ ذکر نہیں کیا تھا مولانا، بعضوں نے پھر کیا وہم کیا؟ کہ یہ لف و نشر سے عام ہے چاہے تعیین ہو چاہے تعیین نہ ہو دونوں صورتوں کو شامل ہے۔ لیکن علامہ تفتازانی آگے بتلا رہے ہیں اور وہم کرنے والوں میں مصنف بھی شامل ہیں اسی لیے انہوں نے علی التعیین کی قید بڑھا دی، علامہ تفتازانی بتلائیں گے کہ نہیں بھئی مصنف نے کیا کیا؟ مصنف سے کوئی ویسے ہی وہم ہو گیا، جب علامہ سکاکی نے بتلا دیا کہ ہر ایک کی نسبت اس کی طرف کر دی جائے گی جس کے ساتھ اس کا تعلق ہے، تو جب اضافت کا ذکر آ گیا تو تعیین خود بخود آ گئی لہٰذا علی التعیین علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہر ایک کی اس کی طرف نسبت کر دی جائے گی تو تعیین آئی یا نہیں آئی مولانا؟ تو علی التعیین کی ضرورت نہیں۔ ”وَأَقُولُ ذِكْرُ الْإِضَافَةِ مُغْنٍ عَنْ هَذَا الْقَيْدِ“ اور میں کہتا ہوں کہ یہ جو اضافت کا ذکر علامہ سکاکی نے کیا تھا یہ بے پرواہ کرنے والا ہے اس قید سے ”إِذْ لَيْسَ فِي اللَّفِّ وَالنَّشْرِ إِضَافَةُ مَا لِكُلٍّ إِلَيْهِ“ اس لیے کہ لف و نشر میں ہر ایک کے وہ جو ہر ایک کے لیے ہے اس کی اس کی طرف نسبت نہیں کی جاتی ”بَلْ يُذْكَرُ فِيهِ مَا لِكُلٍّ“ بلکہ اس کے اندر تو ہر ایک کے لیے جو چیز ہے اس کو ذکر کیا جاتا ہے اس کی نسبت اس کی طرف کی نہیں جاتی، ”حَتَّى يُضِيفَهُ السَّامِعُ إِلَيْهِ وَيَرُدَّهُ عَلَيْهِ فَلْيُتَأَمَّلْ“ یہاں تک کہ سامع اس کو پھر اس کی نسبت اس کی طرف کرتا ہے اور اس پر لوٹاتا ہے، پس چاہیے کہ یہاں غور و فکر۔ ”كَقَوْلِهِ“ جیسے مولانا یہ شعر ہے شاعر کا: ”وَلَا يُقِيمُ عَلَى ضَيْمٍ يُرَادُ بِهِ ... إِلَّا الْأَذَلَّانِ عَيْرُ الْحَيِّ وَالْوَتَدُ“ ”هَذَا عَلَى الْخَسْفِ مَرْبُوطٌ بِرُمَّتِهِ ... وَذَا يُشَجُّ فَلَا يَرْثِي لَهُ أَحَدُ“ ”وَلَا يُقِيمُ“ کوئی اقامت نہیں کرتا ”عَلَى ضَيْمٍ“ ظلم پر، ضیم کس کو کہتے ہیں ”أَيْ ظُلْمٍ“، ”يُرَادُ بِهِ“ جس کے ساتھ اس ایک کا ارادہ کیا جائے۔ کوئی شخص ایسی جگہ کوئی بھی ذات ایسی جگہ نہیں رہتی جہاں پر اس پر کیا کیا جائے؟ ظلم کیا جائے، ”إِلَّا الْأَذَلَّانِ“ مگر دو سب سے حقیر اور بے وقعت چیزیں: ایک کیا ”عَيْرُ الْحَيِّ“ ایک تو کیا ہے؟ گدھا ہے مولانا، کیا ہے؟ ایک تو گدھا ہے ”وَالْوَتَدُ“ اور دوسری چیز میخ ہے، کیل مولانا۔ جس چیز پر بھی ظلم کیا جائے وہ وہاں ٹھہرتی نہیں لیکن یہ دو چیزیں ایسی ہیں ان پر ظلم بھی کیا جائے پھر بھی وہیں پر ٹھہری رہیں گی، وہیں پر قیام کریں گی۔ کیسے؟ کہتے ہیں ”هَذَا عَلَى الْخَسْفِ مَرْبُوطٌ“ یہ علی الخسف حال ہے مربوط سے، یہ جو گدھا ہے یہ بندھا ہوا ہوتا ہے ”بِرُمَّتِهِ“ اپنی بوسیدہ رسی کے ساتھ ذلت پر، ذلت کے ساتھ اپنی رسی سے بندھا ہوا ہوتا ہے، ”وَذَا يُشَجُّ“ اور وہ جو کیل ہے اس کو کوٹا جاتا ہے، اس کے سر پر ہتھوڑے برسائے جاتے ہیں دیوار میں اپ لگائیں، تو اس کے سر پر ہتھوڑے برسائے جاتے ہیں ”فَلَا يَرْثِي لَهُ أَحَدُ“ تو کسی کو اس پر ترس نہیں آتا۔ تو دیکھو اصل میں عبارت یہ ہے: ”وَلَا يُقِيمُ أَحَدٌ عَلَى ضَيْمٍ“ کوئی ایک بھی ظلم میں رہتا نہیں ظلم والی جگہ میں ”إِلَّا الْأَذَلَّانِ“ مگر کون رہتے ہیں؟ دو سب سے حقیر اور بے وقعت چیزیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دو بے وقعت چیزیں وہ رہتی ہیں بھئی۔ تو اصل میں یقیم کا فاعل ہے کون؟ واحد، کوئی ایک بھی نہیں رہتا تو یہاں مستثنیٰ منہ کیا ہے؟ محذوف، اور یہ جو ”بِهِ“ کی ضمیر ہے یہ اس اس کی طرف راجع ہے وہ جو مستثنیٰ منہ محذوف ہے اس کی طرف راجع ہے۔ ”الضَّمِيرُ عَائِدٌ إِلَى الْمُسْتَثْنَى مِنْهُ الْعَامِّ الْمُقَدَّرِ“ ضمیر کس کی طرف عائد ہے؟ اس مستثنیٰ منہ کی طرف جو عام ہے یعنی واحد اور مقدر ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”إِلَّا الْأَذَلَّانِ فِي الظَّاهِرِ فَاعِلُ لَا يُقِيمُ“ ظاہر کے اندر اذلان فاعل ہے کس کا؟ لا یقیم کا، لیکن اصل فاعل تو تھا واحد اور یہ اذلان اس سے تھا بدل مولانا، کیا تھا؟ بدل تھا، لیکن پھر اس جب مستثنیٰ منہ کو حذف کر دیا گیا تو اس اذلان کو کیا کر دیا گیا؟ اس کو فاعل بنایا گیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اصل میں فاعل واحد تھا اذلان اس سے بدل لیکن اس واحد کو حذف کر دیا گیا تو اسی کو کیا بنا دیا گیا؟ فاعل۔ ”فِي الظَّاهِرِ فَاعِلُ لَا يُقِيمُ وَفِي التَّحْقِيقِ بَدَلٌ“ یہ ظاہر کے اندر لا یقیم کا فاعل ہے لیکن حقیقت میں یہ کیا ہے؟ بدل ہے، ”أَيْ لَا يُقِيمُ أَحَدٌ عَلَى ظُلْمٍ يُقْصَدُ بِهِ إِلَّا الْأَذَلَّانِ“ کہ کوئی ایک بھی ظلم کی جگہ پر قیام نہیں کرتا جس کے ساتھ اس کا ارادہ کیا جائے الا الاذلان مگر دو نہا سب سے حقیر اور بے وقعت چیزیں، اور وہ کیا ہیں؟ ”عَيْرُ الْحَيِّ وَهُوَ الْحِمَارُ“ اور وہ گدھا ہے ”وَالْوَتَدُ“ اور ایک میخ ہے۔ ”هَذَا“ یہ جو ہے ”أَيْ عَيْرُ الْحَيِّ“ یہ جو گدھا ہے مولانا ”عَلَى الْخَسْفِ أَيِ الذُّلِّ“ خسف کا کیا معنی؟ ذلت، یہ ”مَرْبُوطٌ“ بندھا ہوا ہوتا ہے ”بِرُمَّتِهِ“ اپنی بوسیدہ رسی کے ساتھ، علی بمعنی مع ”عَلَى الْخَسْفِ أَيْ مَعَ الْخَسْفِ“ بندھا ہوا ہوتا ہے رسی سے کس کے ساتھ؟ ذلت کے ساتھ۔ رمہ کا معنی بتلا رہے ہیں ”هِيَ قِطْعَةُ حَبْلٍ بَالِيَةٌ“ مولانا یہ کس کو کہتے ہیں؟ بوسیدہ رسی کے بوسیدہ رسی کے ٹکڑے کو کیا کہتے ہیں؟ رمۃ، تو یہ بندھا ہوا ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ اپنی بوسیدہ رسی کے ٹکڑے کے ساتھ مع الخسف ذلت کے ساتھ۔ ”وَذَا“ اور وہ جو وتد کیل ہے ”يُشَجُّ أَيْ يُدَقُّ“ اس کو کوٹا جاتا ہے ”وَيُشَقُّ رَأْسُهُ“ اور اس کے سر یہ بھی حرف تفسیری ہے یا اس کے سر کو پھاڑا جاتا ہے، ”فَلَا يَرْثِي“ یرثی کا کیا معنی ہے؟ ترس کھانا، خود بتلا رہے ہیں ”أَيْ لَا يَرِقُّ وَلَا يَرْحَمُ“ کوئی اس پر ترس رحم نہیں کرتا ترس نہیں کھاتا، ”فَلَا يَرْثِي لَهُ أَحَدُ“ تو کوئی ایک اس پر ترس نہیں کھاتا۔ شعر سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اب دیکھو مولانا دو ذکر ہوئے تقسیم کی بات ہو رہی ہے، تقسیم کس کو کہتے ہیں؟ متعدد کو ذکر کیا جائے پھر ہر ایک کا حکم علی التعیین آگے بتلایا جائے۔ تو یہاں پر بھی دو چیزیں ذکر ہوئیں ایک گدھے کا ذکر آیا اور ایک کیل کا ذکر آیا، اور آگے ہر ایک سے متعلقہ بات بتلائی کہ یہ جو گدھا ہے یہ کس کے ساتھ باندھا ہوا ہوتا ہے اپنی رسی سے اور کیل جو ہے اس کو کوٹا جاتا ہے۔ بھئی یہ کیسے آپ کو پتہ چلا کہ اول کا تعلق گدھے سے ہے ثانی کا تعلق کس سے ہے؟ کیل سے، کہتے ہیں بھئی یہ ھذا اور ذا نے بتلایا بھئی، ھذا ھذا میں آپ پڑھا ہے ذا اصل میں اسم اشارہ ہے اور اس کے ساتھ ھائے تنبیہ ملی ہوئی ہے۔ تو پہلے کے اندر ھذا لے کر آئے اسم اشارہ بھی ہے اور ساتھ ھا ہے تنبیہ کی، اور جبکہ ذا آگے صرف اسم اشارہ لے کر آئے اس کے ساتھ تنبیہ والی ھا نہیں ھائے تنبیہ ساتھ نہیں ملائی گئی، تو معلوم ہوا ذا اتا ہے قریب کے لیے، تو جب کہا ھا ضمیر ھائے تنبیہ ساتھ ملائی معلوم ہوا یہ جس کا تذکرہ ہو رہا ہے وہ اقرب کا تذکرہ نہیں ہو رہا بلکہ کس کا تذکرہ ہو رہا ہے؟ قریب کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ دو چیزیں آئیں نا ایک قریب ہے اور ایک اقرب، ایک قریب ہے ایک زیادہ قریب ہے، تو کون زیادہ قریب ہے اس کے مولانا؟ ایک وتد ہے نا، وتد کس کا تذکرہ پہلے آیا؟ گدھے کا اور اس کے بعد کس کا؟ کیل کا، تو زیادہ قریب کون ہوا آگے آنے والی بات کے؟ وتد زیادہ قریب ہوا آگے آنے والی بات کے۔ اچھا، وتد زیادہ قریب ہوا آگے آنے والی بات کے، تو لہٰذا پہلے چونکہ پہلے کا حکم بیان ہو رہا تھا اور وہ تو چونکہ وہ قریب ہے اقرب نہیں تھوڑا دور ہے، جب تھوڑا دور ہے تو ھذا لے آئے اور دوسرا قریب ہے تو صرف اس کے لیے کیا لے آئے؟ ذا لے آئے بھئی۔ ”ذَكَرَ الْعَيْرَ وَالْوَتَدَ ثُمَّ أَضَافَ إِلَى الْأَوَّلِ الرَّبْطَ“ ”عَلَى الْخَسْفِ وَإِلَى الثَّانِي الشَّجَّ عَلَى التَّعْيِينِ“ تو مولانا ذکر کیا شاعر نے پہلے دو چیزوں کو عیر ذکر العیر والوتد، ذکر کیا عیر اور وتد کو پھر اضاف نسبت کر دی مولانا اول کی طرف باندھنے کی علی الخسف ای مع الخسف، ذلت کے ساتھ باندھنے کی نسبت کر دی اس کی طرف، ”وَإِلَى الثَّانِي الشَّجَّ“ اور ثانی کی طرف کوٹنے کی نسبت کر دی ”عَلَى التَّعْيِينِ“ کس طریقے پر؟ تعیین کے طریقے پر۔ اور میں نے بتلایا تھا کیسے کہ دو لفظ ہیں مولانا: ھذا لے کر آئے اور ذا، ذا اسم اشارہ ہے اور اس کے ساتھ کیا ملائی گئی ہے؟ ھائے تنبیہ ساتھ ملی ہوئی ہے تنبیہ کی ھا، اب مولانا ایک دیکھو ایک چیز یہ دو چیزیں ذکر ہوئیں بھئی ایک یہ ذکر ہوئی اور ایک یہ ذکر ہوئی، اس کے فوراً بعد مولانا وہ آگے نشر آ رہا ہے، وہ کون سی صنعت چل رہی ہے؟ صنعتِ تقسیم، تو دو چیزیں ذکر ہوئیں اور آگے ہر ایک سے متعلقہ حکم بیان ہو رہا ہے، تو پہلے کیا ذکر کیا؟ ھذا، اور پھر کیا ذکر کیا؟ ذا، تو ھا تنبیہ کے لیے آئی تو ھا ذا اصل میں اسم اشارہ ہے اس کے ساتھ ھائے تنبیہ ملی، تو اس یہ جو ھذا اور ذا لایا شاعر اس میں اس نے اشارہ کر دیا کہ دیکھو دو چیزیں ذکر ہیں ایک ہے قریب ایک ہے زیادہ قریب بھئی، تو جس میں ھائے تنبیہ نہیں ہے اس کے ذریعے اشارہ کس کی طرف ہے؟ زیادہ قریب کی طرف، اور دوسری والی چیز تھوڑی سی دور ہے اس لیے صرف اس قریب کے اسم اشارے کے ساتھ ساتھ ھائے تنبیہ بھی میں نے کیا کی ہے؟ ساتھ ملا دی ہے بھئی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ”وَقِيلَ لَا تَعْيِينَ“ اور کہا گیا ہے کوئی تعیین نہیں ہے یہاں پر لہٰذا یہ لف و نشر ہے مولانا تقسیم نہیں اس لیے کہ لف و نشر میں تعیین نہیں ہوتی اور تقسیم میں کیا ہوتی ہے؟ تعیین، اور ھذا اور ذا میں بعضوں نے علماء نے کہا کوئی فرق نہیں ہے دونوں ایک ہی چیز ہیں ایک میں ھائے تنبیہ ہے ایک میں ھائے تنبیہ نہیں ہے۔ ”وَقِيلَ لَا تَعْيِينَ لِأَنَّ هَذَا وَذَا مُتَسَاوِيَانِ فِي الْإِشَارَةِ إِلَى الْقَرِيبِ وَكُلٌّ مِنْهُمَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ إِشَارَةً إِلَى الْعَيْرِ وَإِلَى الْوَتَدِ“ اور ان میں سے مولانا ھذا اور ذا میں سے ہر ایک یہ احتمال رکھتا ہے کہ وہ اشارہ ہو عیر کی گدھے کی طرف بھی اور وتد کی طرف بھی، ”فَالْبَيْتُ مِنَ اللَّفِّ وَالنَّشْرِ دُونَ التَّقْسِيمِ“ تو شعر کس سے ہوا؟ لف و نشر سے ہوا نہ کہ تقسیم سے۔ ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں اس میں نظر ہے ”لِأَنَّا لَا نُسَلِّمُ التَّسَاوِيَ“ کہتے ہیں بھئی ان دونوں میں برابری نہیں ہے، بلغاء اپنے کلام میں کوئی چیز بے کار نہیں لے کر اتے، جب وہ ایک جگہ ھائے تنبیہ لے کر ائے ہیں دوسری جگہ ھائے تنبیہ نہیں لے کر ائے معلوم ہوا ایک کے ذریعے اشارہ اقرب کی طرف ہے اور دوسرے کے ذریعے اشارہ قریب کی طرف ہے، یقیناً اسی وجہ سے فرق رکھا گیا ہے۔ ”لِأَنَّا لَا نُسَلِّمُ التَّسَاوِيَ بَلْ فِي حَرْفِ التَّنْبِيهِ إِيمَاءٌ إِلَى أَنَّ الْقُرْبَ فِيهِ أَقَلُّ“ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ برابری ہے بلکہ حرفِ تنبیہ کے اندر اشارہ ہے کہ قرب اس کے اندر تھوڑا کم ہے، قرب کیا ہے تھوڑا کم ”بِحَيْثُ يَحْتَاجُ إِلَى تَنْبِيهٍ مَّا“ اس طور پر کہ یہ محتاج ہوا ہے تنبیہ کا بھی، تنبیہ ما کچھ تنبیہ کا، ”بِخِلَافِ الْمُجَرَّدِ عَنْهَا“ بخلاف وہ اسم اشارہ جو کس سے؟ ھائے تنبیہ سے خالی ہے، ”فَهَذَا لِلْقَرِيبِ“ بخلاف اس کے جو کس کے ہے جو خالی ہے، ”فَهَذَا لِلْقَرِيبِ“ ھذا کس کے لیے ایا؟ قریب کے لیے ”أَعْنِي الْعَيْرَ“ یعنی کہ عیر، ”وَذَا لِلْأَقْرَبِ“ اور ذا کس لیے ایا؟ اقرب کے لیے ایا ”أَعْنِي الْوَتَدَ“ یعنی کہ وتد، ”وَأَمْثَالُ هَذِهِ الِاعْتِبَارَاتِ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُهْمَلَ فِي عِبَارَاتِ الْبُلَغَاءِ“ اور اس قسم کے اعتبارات جو ہیں مناسب ہے کہ ان کو چھوڑا نہ جائے بلغاء کی عبارتوں کے اندر، ”لَيْسَتِ الْبَلَاغَةُ إِلَّا بِرِعَايَةِ أَمْثَالِ ذَلِكَ“ بلکہ بلاغت تو اسی قسم کی چیزوں کی رعایت رکھنے کا نام ہے، اسی قسم کی چیزوں کے ساتھ بلاغت اتی ہے، تو یہ آپ یہ کہیں کہ ھذا اور ذا برابر ہے یہ اپ کی بات صحیح نہیں۔ بات بھی سمجھ میں ائی یا مشکل ہو گئی؟ سب کو ا گئی؟ جی۔ ”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”الْجَمْعُ مَعَ التَّفْرِيقِ“ بھئی جمع کس کو کہتے تھے کہ متعدد چیزوں پر ایک ہی حکم لگا دیا جائے، تفریق کس کو کہتے تھے کہ ایک ہی نوع کی چیزوں کو کیا کر دیا جائے؟ الگ الگ کر دیا جائے۔ تو ایک صنعت ہے جمع مع التفریق یعنی جمع اور تفریق دونوں کا اکٹھا لے کر انا یہ بھی کیا ہے؟ اس سے بھی کلام میں مزید حسن پیدا ہوتا ہے۔ ”وَهُوَ أَنْ يُدْخَلَ شَيْئَانِ فِي مَعْنًى وَيُفَرَّقَ بَيْنَ جِهَتَيِ الْإِدْخَالِ“ جمع مع التفریق کا اسان ہے بھئی، دو چیزوں کو اپ نے ایک حکم میں اکٹھا کر دیا، کیا کیا؟ ایک حکم میں اکٹھا کیا لیکن ایک کو اس راستے سے داخل کیا حکم میں دوسرے کو اس راستے سے، تو حکم میں تو جمع ہیں لیکن کس راستے سے داخل ہوئے وہ راستہ دونوں کا الگ الگ ہے، دیکھیے مثال سے بات سمجھ میں ائے گی۔ ”وَهُوَ أَنْ يُدْخَلَ شَيْئَانِ فِي مَعْنًى“ وہ یہ ہے کہ داخل کیا جائے دو چیزوں کو ایک معنی کے اندر ”وَيُفَرَّقَ بَيْنَ جِهَتَيِ الْإِدْخَالِ“ اور تفریق کی جائے ان میں جہت ادخال کے اندر ”كَقَوْلِهِ“ شاعر کہتا ہے: ”فَوَجْهُكِ كَالنَّارِ فِي ضَوْئِهَا ... وَقَلْبِي كَالنَّارِ فِي حَرِّهَا“ تیرا چہرہ بھی اگ کی طرح ہے، شاعر کہتا ہے تیرا چہرہ بھی اے اپنے محبوب معشوق سے کہتا ہے تیرا چہرہ بھی کیا ہے اگ کی طرح اور میرا دل بھی اگ کی طرح ہے، تو دیکھو دونوں کو جمع کر دیا کہ دونوں کس کی طرح ہیں؟ اگ کی طرح، لیکن کہتا ہے تیرا چہرہ چمک دمک کے اندر اگ کی طرح ہے اور میرا دل جو ہے حرارت کے اندر کس کی طرح ہے؟ کہ اس کے اندر محبت کی حرارت موجود ہے بھئی۔ ”فَوَجْهُكِ كَالنَّارِ“ تو دیکھو داخل کیا دونوں اگ کی طرح ہیں لیکن الگ الگ جہت سے کہ ایک کس اعتبار سے اگ کی طرح ہے روشنی میں، دوسرا کس اعتبار سے اگ کی طرح ہے؟ حرارت میں۔ ”فَوَجْهُكِ كَالنَّارِ فِي ضَوْئِهَا“ پس تمہارا چہرہ اگ کی طرح ہے اس چمک دمک میں ”وَقَلْبِي كَالنَّارِ فِي حَرِّهَا“ اور میرا دل اگ کی طرح ہے اس کے حرارت میں۔ ”أَدْخَلَ قَلْبَهُ وَوَجْهَ الْحَبِيبِ فِي كَوْنِهِمَا كَالنَّارِ“ داخل کیا اپنے دل کو اور حبیب کے محبوب کے چہرے کو اس اگ کی طرح ہونے کے اندر ”ثُمَّ فَرَّقَ“ پھر تفریق کی ”بِأَنَّ وَجْهَ الشَّبَهِ فِي الْوَجْهِ الضَّوْءُ وَاللَّمَعَانُ“ کہ وجہ تشبیہ چہرے کے اندر وہ روشنی ہے اور چمک دمک، چہرے روشنی اور چمک دمک ہے ”وَفِي الْقَلْبِ الْحَرَارَةُ وَالِاحْتِرَاقُ“ اور قلب کے اندر حرارت اور احتراق کیا ہے؟ حرارت اور احتراق ہے، احتراق کا معنی جلنا بھئی۔ ”وَمِنْهُ“ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِيِّ ”الْجَمْعُ مَعَ التَّقْسِيمِ“ اور حسن معنوی کے اقسام میں سے کی قسم میں سے ایک جمع مع التقسیم ہے، جمع کس کو کہتے تھے مولانا؟ دو یا زیادہ چیزوں کو ایک ہی حکم میں جمع کر دینا، اور تقسیم کس کو کہتے تھے کہ متعدد چیزوں کو ذکر کیا جائے اور ہر ایک کے لیے اس کے حکم کو الگ الگ علی التعیین بیان کر دیا جائے۔ تو جمع مع التقسیم اسان ہے کہ جمع کیا جائے دو چیزوں کو ایک یا زیادہ چیزوں کو ایک حکم میں پھر ہر ایک کے لیے الگ الگ حکم کو ذکر کیا جائے۔ تو پہلے جمع ہو پھر تقسیم ہو یا پہلے تقسیم ہو پھر جمع ہو۔ ”وَهُوَ جَمْعُ مُتَعَدِّدٍ تَحْتَ حُكْمٍ ثُمَّ تَقْسِيمُهُ أَوِ الْعَكْسُ“ اور وہ جمع کرنا متعدد کو ایک حکم کے تحت ثم تقسیمہ پھر ان کی کو تقسیم کرنا ہے او العکس یا اس کا عکس، پہلے تقسیم اور پھر جمع، ”أَيْ تَقْسِيمُ مُتَعَدِّدٍ ثُمَّ جَمْعُهُ تَحْتَ حُكْمٍ“ پہلے متعدد کی تقسیم ہو ثم جمعہ تحت حکم پھر جمع کرنا ہے ان کو ایک حکم کے تحت۔ ”فَالْأَوَّلُ“ پہلے کی مثال، پہلے کیا تھا مولانا؟ کہ جمع پہلے ہو اور تقسیم بعد میں ہو۔ جیسے شاعر کہتا ہے: ”حَتَّى أَقَامَ عَلَى أَرْبَاضِ خَرْشَنَةٍ ... تَشْقَى بِهِ الرُّومُ وَالصُّلْبَانُ وَالْبِيَعُ“ ”لِلسَّبْيِ مَا نَكَحُوا وَالْقَتْلِ مَا وَلَدُوا ... وَالنَّهْبِ مَا جَمَعُوا وَالنَّارِ مَا زَرَعُوا“ ”حَتَّى أَقَامَ“ کہتا ہے شاعر کہتا ہے میرا ممدوح چلا بادشاہ چلا یہاں تک کہ اس نے قیام کیا ”عَلَى أَرْبَاضٍ“ ارباض جمع ہے ربض کی، شہر کے ارد گرد کا علاقہ، اس نے خرشنہ روم کا ایک شہر ہے، خرشنہ شہر کے ارد گرد اس نے پڑاؤ ڈال لیا، قیام کیا مولانا۔ ”تَشْقَى بِهِ الرُّومُ“ اور میرے ممدوح کے سبب سے روم والے بدبخت ہو گئے، کیا ہو گئے؟ بدبخت ہو گئے، ”وَالصُّلْبَانُ“ یہ صلیب کی جمع، اور ان کی صلیبیں بھی ”وَالْبِيَعُ“ بیع ان کے عبادت گاہ، بیعۃ کی جمع، اور ان کے عبادت خانے، ان کی صلیبیں اور روم والے سارے کے سارے میرے ممدوح کے سبب سے کیا ہو گئے؟ بدبخت ہو گئے، ”لِلسَّبْيِ مَا نَكَحُوا“ قید کرنے کے لیے ہیں وہ جن سے انہوں نے نکاح کیا۔ یعنی یہ رومیوں نے جن عورتوں سے نکاح کیا ہوا ہے جو ان کی عورتیں ہیں وہ کس لیے ہیں؟ میرے ممدوح نے شہر کے ارد گرد قیام کر لیا ہے اب وہ بدبخت ہو گئے روم والے، اب وہ سارے اس کی قید میں آ گئے تو ان کی بیویوں کو کیا بنائے گا وہ عورتوں کو؟ وہ تو وہ قید کے لیے ہیں جس سے انہوں نے نکاح کیا ہے، ”وَالْقَتْلِ مَا وَلَدُوا“ اور قتل کرنے کے لیے ہیں وہ جس کو انہوں نے پیدا کیے ہیں، جو بچے وغیرہ ہیں ان کو کیا کیا جائے گا؟ قتل کیا جائے گا، ”وَالنَّهْبِ مَا جَمَعُوا“ اور لوٹ مار کے لیے ہے وہ جو انہوں نے جمع کیا ہے، جو مال رومیوں نے جمع کیا وہ سارا کیا کیا جائے گا؟ لوٹا جائے گا، ”وَالنَّارِ مَا زَرَعُوا“ اور آگ کے لیے ہے جو انہوں نے کاشت کر رکھا ہے، جو کچھ انہوں نے کاشت کر رکھا ہے اس کو کیا کر دیا جائے گا؟ جلا دیا جائے گا۔ تو دیکھو شاعر نے پہلے جمع کیا روم مولانا، روم سے سارے روم والے روم والے بھی مراد ہیں، ان کی بیویاں بھی مراد، بچے بھی مراد ہیں مولانا اور ان کی کھیتیاں بھی مراد اور ان کا مال بھی مراد ہے، کیا؟ یا مولانا روم والوں کو اور صلیب والوں کو صلیبوں کو اور بیع سب کو جمع کر دیا مولانا کس چیز کے اندر؟ بدبخت ہونے میں کہ روم والے بھی بدبخت ہو گئے، صلیبیں بھی بدبخت ہو گئیں اور ان کے عبادت خانے بھی کیا ہوئے؟ بدبخت ہو گئے۔ پھر مولانا تقسیم کر دی کہ ہر ایک کے لیے الگ حکم کہ روم والے جو تھے ان میں مرد بھی تھے، عورتیں بھی تھیں، بچے بھی تھے، ان کے مال بھی تھا، ان کی کھیتیاں بھی تھیں تو بتلایا عورتیں جو ہیں ان کو قید کیا جائے گا، بچوں کو قتل کیا جائے گا، مال کو لوٹا جائے گا اور ان کی کھیتیوں کو کیا کیا جائے گا؟ تو ہر ایک کا الگ حکم بھی بیان کر دیا۔ ”حَتَّى أَقَامَ أَيِ الْمَمْدُوحُ“ کہ قیام کیا ممدوح نے، ”وَلِتَضَمُّنِ الْإِقَامَةِ مَعْنَى التَّسْلِيطِ عَدَّاهَا بِعَلَى“ مولانا عربی میں یاد رکھو کبھی کبھار ایک فعل کے اندر دوسرے فعل کے معنی کی رعایت بھی رکھتے ہیں، اس کو کہتے ہیں تضمین، کیا کہتے ہیں؟ اور ایک جس فعل کے معنی کی رعایت رکھی ہے اس کا پتہ صلے سے چلتا ہے، اقام کا صلہ علی نہیں اتا، قیام کیا اس کا صلہ علی لیکن یہاں علی لے کر ائے، اس علی نے بتلا دیا کہ قیام کرنے کے اندر غلبہ پانے کا معنی بھی ہے۔ کیا کیا معنی ہے؟ یعنی قیام کیا اور کیا معنی؟ غلبے کا معنی بھی ہے کہ جو قیام تھا غلبے اس کے ساتھ ہے۔ ”وَلِتَضَمُّنِ الْإِقَامَةِ مَعْنَى التَّسْلِيطِ“ اور چونکہ اقامت یہ متضمن تھا کس کے معنی کو؟ تسلیط کے معنی کو، قبضے کے معنی کو مولانا متضمن تھا اور تسلیط کا صلہ علی اتا ہے ”عَدَّاهَا بِعَلَى“ اسی لیے اس کو متعدی کس کے ساتھ کیا؟ علی کے ساتھ کیا، ”فَقَالَ عَلَى أَرْبَاضٍ جَمْعُ رَبَضٍ“ یہ جمع ہے کس کی؟ ربض کی ”وَهُوَ مَا حَوْلَ الْمَدِينَةِ“ وہ شہر کے ارد کی جگہ مولانا، ”مِنَ السُّورِ“ یعنی کہ فصیل، یہ غلط ہے مولانا، فصیل کو نہیں کہتے، ربض شہر کے ارد گرد کی جگہ۔ ”خَرْشَنَةٍ وَهِيَ بَلْدَةٌ مِنْ بِلَادِ الرُّومِ“ یہ روم کے شہروں میں سے ایک شہر ہے، ”تَشْقَى بِهِ الرُّومُ“ بدبخت ہو گئے میرے ممدوح کی وجہ سے رومی بھی، اس نے ان پر قبضہ کر لیا ہے ان کے سارے شہروں پر، ”وَالصُّلْبَانُ جَمْعُ صَلِيبِ النَّصَارَى“ یہ نصاریٰ کی صلیب کی جمع ہے، ”وَالْبِيَعُ جَمْعُ بِيعَةٍ وَهِيَ مُتَعَبَّدُهُمْ“ اور یہ ان کا عبادت گاہ کہتے ہیں۔ ”وَحَتَّى مُتَعَلِّقٌ بِالْفِعْلِ فِي الْبَيْتِ السَّابِقِ“ اور یہ حتیٰ کہ قیام کر لیا مولانا یہ کس سے متعلق ہے؟ کہتے ہیں اس فعل کے ساتھ جو گزشتہ شعر میں ایا تھا، یہاں تو ذکر نہیں ہے لیکن گزشتہ شعر میں ایا ہے ایک لفظ اعنی وہ کیا لفظ ہے؟ ”قَادَ الْمَقَانِبَ“، قاد کے ساتھ متعلق ہے، مقانب ای العساکر، میرے ممدوح نے قیادت کی لشکروں کی حتیٰ کہ اس نے پڑاؤ ڈال لیا کہاں پر؟ سبق کی طرف توجہ ہے؟ جی، تو میرے ممدوح نے قیادت کی لشکروں کی یہاں تک کہ اس نے پڑاؤ ڈالا شہر کے ارد گرد خرشنہ شہر کے۔ ”جَمَعَ فِي هَذَا الْبَيْتِ شَقَاءَ الرُّومِ بِالْمَمْدُوحِ“ جمع کیا اس شعر کے اندر رومیوں کی بدبختی کو کس کے سبب سے؟ ممدوح کے سبب سے ”ثُمَّ قَسَّمَ فَقَالَ لِلسَّبْيِ مَا نَكَحُوا“ پھر تقسیم کی فرمایا قید کرنے کے لیے ہے وہ جن سے انہوں نے نکاح کیا ہے ”وَالْقَتْلِ مَا وَلَدُوا“ اور قتل کے لیے ہیں جو انہوں نے جنم دیے ہیں۔ بھئی ”مَا نَكَحُوا“ سے کون مراد ہے؟ عورتیں، اور وہ ذوی العقول میں سے ہیں ان کے لیے ما نہیں اتا کیا اتا ہے؟ من، اور اسی طرح ”مَا وَلَدُوا“ جس کو انہوں نے جنم دیا بچے وہ بھی ذوی العقول میں سے ہیں ان کے لیے بھی کیا اتا ہے؟ من، لیکن یہاں شاعر ما لے کر ایا کیوں؟ ما کیوں لے کر ایا؟ کہتے ہیں اہانت کے لیے، سمجھ میں ایا؟ ایک وجہ اہانت، اہانت کرنے کے لیے ان کو غیر ذوی العقول میں شمار کر لیا کہ یہ روم والے کیا ہیں سارے؟ غیر ذوی العقول۔ یا اگے چونکہ نہب اور نار کے ساتھ ما ا رہا تھا تو اس کی مناسبت سے یہاں بھی کیا ذکر کر دیا؟ ما۔ ”ذَكَرَ مَا دُونَ مَنْ إِهَانَةً وَقِلَّةَ الْمُبَالَاةِ بِهِمْ“ ذکر کیا شاعر نے ما کو دون من نہ کہ من کو اہانۃً اہانت کرنے کے لیے ”وَقِلَّةَ الْمُبَالَاةِ بِهِمْ“ اور ان کی کم پرواہ کرتے ہوئے، مبالات کا معنی پرواہ کرنا، ”وَقِلَّةَ الْمُبَالَاةِ بِهِمْ“ اور ان کی کم پرواہ کرتے ہوئے ”حَتَّى كَأَنَّهُمْ مِنْ غَيْرِ ذَوِي الْعُقُولِ“ گویا کہ وہ کس میں سے؟ غیر ذوی العقول، ”وَمُلَائَمَةً لِقَوْلِهِ وَالنَّهْبِ مَا جَمَعُوا وَالنَّارِ مَا زَرَعُوا“ اور اپنے اس قول کے ساتھ مناسبت کے لیے جو اگے ا رہا تھا لوٹ کے لیے ہے جو انہوں نے جمع کیا ہے اور اگ کے لیے ہے جو انہوں نے کاشت کیا ہے۔ ”وَالثَّانِي“ یہ تو تھا مولانا کیا؟ جمع پہلے اور تقسیم بعد میں، اب تقسیم پہلے اور جمع بعد میں ”كَقَوْلِهِ“ شاعر کہتا ہے، شاعر حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کی تعریف کر رہے ہیں فرما رہے ہیں: ”قَوْمٌ إِذَا حَارَبُوا ضَرُّوا عَدُوَّهُمْ ... أَوْ حَاوَلُوا النَّفْعَ فِي أَشْيَاعِهِمْ نَفَعُوا“ ”سَجِيَّةٌ تِلْكَ مِنْهُمْ غَيْرُ مُحْدَثَةٍ ... إِنَّ الْخَلَائِقَ فَاعْلَمْ شَرُّهَا الْبِدَعُ“ ”قَوْمٌ إِذَا حَارَبُوا“ ایسی قوم ہے جب یہ جنگ کرتے ہیں ”ضَرُّوا عَدُوَّهُمْ“ نقصان دیتے ہیں اپنے دشمن کو ”أَوْ حَاوَلُوا“ یا جب وہ ارادہ طلب کرتے ہیں ”النَّفْعَ“ نفع کو طلب کرتے ہیں ”فِي أَشْيَاعِهِمْ“، اشیاع جمع ہے شیعہ کی اور شیعہ کہتے ہیں مددگار اور پیروکاروں کو مولانا، اور جب یہ اپنے نفع کا ارادہ کرتے ہیں اپنے پیروکاروں اور مددگاروں کی جو مدد کرنا چاہتے ہیں ان ان کی کیا کرنا چاہتے ہیں؟ مدد کرنا چاہتے ہیں یہ ایسے لوگ ہیں ”نَفَعُوا“ تو کیا کرتے ہیں ان کو؟ نفع پہنچاتے ہیں، سمجھ میں ایا بھئی؟ تو دو صفات دو صفات دو چیزیں ذکر ہوئیں جب جنگ کرتے ہیں تو دشمن کو کیا کرتے ہیں؟ نقصان پہنچاتے ہیں، اور جب اپنے ساتھیوں کو نفع پہنچانا چاہتے ہیں تو ان کو نفع، تو دو الگ الگ مولانا یہ تقسیم ہے۔ اب اگے جمع کرے گا کیسے؟ ”سَجِيَّةٌ تِلْكَ مِنْهُمْ غَيْرُ مُحْدَثَةٍ“ یہ طبیعت ہے مولانا، عادت ہے ان کی ان میں ”غَيْرُ مُحْدَثَةٍ“ جو کوئی نئی نئی نہیں ہے، یہ ان میں عادت ہے یہ جو دشمن کو نقصان دینا اور اپنوں کو نفع دینا یہ ان کی عادت ہے اور یہ کوئی نئی عادت نہیں ہے، تو دیکھو دونوں کو جمع کر دیا کہ یہ ان کی کیا ہے؟ عادت ہے، دشمن کو نقصان دینا اور اپنوں کو نفع دینا یہ کیا ہے ان کی؟ عادت ہے، تو جمع کر دیا یعنی دونوں کو عادت ہیں دونوں۔ ”أَيْ غَرِيزَةٌ وَخُلُقٌ“ تو یہ ان کی طبیعت ہے اور اخلاق ہیں، ”تِلْكَ“ یہ مبتدا مؤخر ہے، ان کی ”مِنْهُمْ غَيْرُ مُحْدَثَةٍ“ جو کیا ہے منہم یہ صفت ہے یہ ان کی طبیعت ہے مولانا ”غَيْرُ مُحْدَثَةٍ“ اور یہ کوئی نئی طبیعت نہیں ہے، ”إِنَّ الْخَلَائِقَ“ بے شک جو طبیعتیں ہیں ”فَاعْلَمْ“ پس تو جان لے ”شَرُّهَا الْبِدَعُ“ ان میں سب سے بدترین اخلاق کون سے ہیں اور عادتیں کون سی ہیں؟ جو نئی ہوں، جو کیا ہوں؟ نئی ہوں۔ تو بتلایا یہ جو یہ دشمن کو نقصان دیتے ہیں اور اپنوں کو نفع دیتے ہیں یہ ان کی ایسی طبیعت ہے جو کوئی نئی نہیں ہے بلکہ پیدائشی ان میں پائی جاتی ہے۔ ”جَمْعُ بِدْعَةٍ“ یہ بدع جمع ہے بدعت کی ”أَيِ الْمُبْدَعَاتُ وَالْمُحْدَثَاتُ“ یہ نئی بدعتیں مولانا، مبدعات محدثات کا ایک معنی ہے نئے اخلاق، نئے پیدا شدہ۔ ”قَسَّمَ فِي الْأَوَّلِ صِفَةَ الْمَمْدُوحِينَ“ تقسیم کیا اول مولانا جمع کیا اول کے اندر صفتِ ممدوحین ممدوح جو ہیں مولانا ان کی صفت کو ان کو تقسیم کیا کس چیز کی طرف؟ ”إِلَى ضَرِّ الْأَعْدَاءِ وَنَفْعِ الْأَوْلِيَاءِ“ دشمن کو نقصان دینے کی طرف اور مددگاروں کو نفع دینے کی طرف ”ثُمَّ جَمَعَهَا فِي الثَّانِي تَحْتَ كَوْنِهَا سَجِيَّةً“ پھر ان کو جمع کیا ثانی شعر کے اندر تحت کونھا سجیۃ، کس کے تحت جمع کیا؟ ان کے طبیعت ہونے عادت ہونے کے تحت ان کو جمع کر دیا، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
114 approved lectures · 116 of 114