مسند الیہ کے توابع کبھی کبھار لائے جاتے ہیں، ان توابع کے لانے میں کیا نکات ہوتے ہیں یہ ہم پڑھ رہے تھے۔ سب سے پہلے آپ نے وصف کے بارے میں پڑھا کہ کبھی کبھار مسند الیہ کا وصف لایا جاتا ہے، اس لیے کہ وہ وصف اس کے معنیٰ کو بیان کرنے والا ہوتا ہے، یا وصفِ مخصص ہوتا ہے مسند الیہ میں تخصیص پیدا کرتا ہے، یا وہ مدح کے لیے ذکر ہوتا ہے یا ذم کے لیے، اور کبھی تاکید کے لیے ذکر ہوتا ہے۔
اس کے بعد تاکید کے نکات پڑھے آپ نے کہ تاکید مسند الیہ کی لائی جاتی ہے تقریر کے لیے، یعنی اس کو سامع کے ذہن میں پختہ کرنے کے لیے، یا مجاز کے وہم کو دور کرنے کے لیے، یا غلطی کے وہم کو دور کرنے کے لیے، یا عدمِ شمول کے وہم کو دور کرنے کے لیے۔
اس کے بعد کل کے سبق میں آپ نے پڑھا کہ کبھی کبھار مسند الیہ کے لیے عطفِ بیان لایا جاتا ہے، عطفِ بیان اس کی وضاحت کے لیے، بِاسْمٍ مُخْتَصٍّ بِهِ، ایسے اسم کے ساتھ جو اسی کے ساتھ خاص ہو۔ جیسے: ”قَدِمَ صَدِيقُكَ خَالِدٌ“، تو ”صَدِيقُكَ“ معطوف علیہ ہے اور ”خَالِدٌ“ اس کے لیے عطفِ بیان ہے۔ تو اس نے صدیق کے اندر کئی احتمال تھے کہ ہو سکتا ہے آپ کا ساتھی بکر مراد ہو، یا عمرو مراد ہو، یا خالد مراد ہو، تو آگے خالد کے لفظ نے آ کر اس کی وضاحت کر دی کہ یہ صدیق سے کون مراد ہے؟ خالد مراد ہے۔
تو صاحبِ کتاب نے کیا ذکر کیا، ماتن نے کہ مسند الیہ کے لیے عطفِ بیان لایا جاتا ہے اس کی وضاحت کے لیے، اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دوسرے اسم کا اول سے زیادہ واضح ہونا ضروری ہے۔ تو علامہ تفتازانی نے اس کو رد کیا اور بتلایا کہ ضروری نہیں کہ ثانی اول سے زیادہ اوضح ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ دونوں کے ملنے کی وجہ سے کیا حاصل ہو رہی ہو؟ توضیح حاصل ہو رہی ہو۔ اور دوسری بات مصنف نے کی تھی کہ اسمِ مختص کے ساتھ لایا جاتا ہے عطفِ بیان کو، علامہ تفتازانی نے اس کو بھی رد کیا کہ اسمِ مختص کے ساتھ ہی نہیں لایا جاتا بلکہ کبھی غیرِ اسمِ مختص کے ساتھ بھی لایا جاتا ہے۔ تیسرا اعتراض یہ کیا کہ انہوں نے کہا عطفِ بیان کس لیے ہوگا؟ وضاحت کے لیے ہوگا، کہتے ہیں نہیں بھئی ہمیشہ وضاحت کے لیے ہی نہیں ہوگا بلکہ کبھی کبھار مدح کے لیے بھی اس کو ذکر کیا جائے گا۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ جواب ان تینوں کا کیا ہے کہ مصنف نے جو بات کی وہ اکثری اور اغلبی ہے کلی بات نہیں کی۔
اس کے بعد بدل کے نکات پڑھے تھے کہ بدل کو لایا جاتا ہے زیادتِ تقریر کے لیے۔ یہاں پر بتلایا تھا علامہ تفتازانی نے آپ کو کہ یا تو یہ إِضَافَةُ الْمَصْدَرِ إِلَى الْمَفْعُولِ ہے، کیونکہ زیادت وہی صیغہ جو مصدر کے لیے استعمال ہوتا ہے وہی حاصل بالمصدر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو اگر زیادت کے وہی مصدری معنیٰ مراد لیں تو پھر اس صورت میں اضافت ہے مصدر کی مفعول کی طرف، زیادتی کرنا یہ فعل کس کا ہے؟ متکلم کا، اور زیادتی کس چیز کی کر رہا ہے؟ تقریر کی، تو یہ کیا ہے؟ مفعول ہے، تو ”لِزِيَادَةِ التَّقْرِيرِ“ یہ اضافت ہوئی زیادت کی مفعول کی طرف۔ یا یہ زیادت جو ہے مصدر کے بجائے اس کو اگر حاصل بالمصدر بنائیں تو پھر اس صورت میں یہ اضافت بیانی ہوگی، اضافتِ بیانی وہ ہے جس میں مضاف الیہ بیان ہوا کرتا ہے مضاف کا، تو وہ زیادتی کیا چیز ہے؟ وہ زیادتی تقریر ہے، تو بدل لایا جاتا ہے زیادتی کے لیے اور وہ زیادتی کیا ہے؟ تقریر ہے تقریر۔
اور علامہ تفتازانی نے آپ کو یہ بتلایا کہ یہ صاحبِ مفتاح کی عادت ہے وہ تفنن کرتے ہیں عبارت کے اندر۔ تفنن کا کیا معنیٰ ہے؟ ایک ہی بات دو یا تین مرتبہ آئے تو اس کو ہر مرتبہ الگ انداز سے تعبیر کیا جائے؛ تو یہی بات تاکید کے اندر آئی تھی تو وہاں انہوں نے صرف ”فَلِلتَّقْرِيرِ“ کہا، اور یہاں بدل میں بھی وہی بات آئی تو پھر ”فَلِزِيَادَةِ التَّقْرِيرِ“ کہا، عبارت کو بدل دیا تھوڑا سا۔ لیکن اس کے باوجود کہتے ہیں یہ ایک باریک نکتے سے خالی نہیں اور وہ نکتہ یہ کہ یہاں اشارہ ہو گیا اس بات کی طرف کہ یہاں پر یہ تقریر جو ہے اصل مقصود نہیں ہے بلکہ یہ ایک زیادت ہے زائد چیز ہے، بتلا دیا یہ تقریر کیا ہے؟ زائد چیز ہے، کیونکہ بدل کو تقریر کے لیے نہیں لایا گیا اصل مقصد تو یہ تھا کہ بدل ہی مقصود تھا اس کو تو ذکر کرنا ہی تھا، مبدل منہ جو تھا اس کو تو بطورِ تمہید کے ویسے ہی ذکر کیا آگے اصل مقصود کون ہے؟ بدل ہے، تو وہ تو مقصود ہونے کی وجہ سے اس کو ذکر کیا گیا، ہاں طبعاً تاکید بھی تقریر بھی آ گئی اس لیے کہ ایک چیز جب پہلے ذکر ہو چکی اور دوبارہ ذکر ہو تو اس کی وجہ سے کیا حاصل ہو جائے گی؟ زیادتِ تقریر حاصل ہو جائے گی۔ جبکہ تاکید کے اندر غرض ہی تقریر ہوا کرتی تھی، ایک لفظ کی آپ تاکید لاتے ہیں وہاں غرض ہی کیا ہوا کرتی ہے؟ تقریر، اس کو پختہ کرنا۔
نَحْوُ: ”جَاءَنِي أَخُوكَ زَيْدٌ“، فِي بَدَلِ الْكُلِّ۔ جیسے آپ کہیں: ”جَاءَنِي أَخُوكَ“، تو ”أَخُوكَ“ یہ مبدل منہ ہوا اور ”زَيْدٌ“ اس سے بدل ہوا، تو یہ بدل الکل ہوا کیونکہ جو ”أَخُوكَ“ کی ذات ہے زید کی بھی بعینہٖ اسی ذات پر زید بھی دلالت کر رہا ہے۔ تو دیکھیے ایک مرتبہ وہ ذات ”أَخُوكَ“ کے ساتھ ذکر ہوئی اور دوسری مرتبہ ”زَيْدٌ“ کے لفظ کے ساتھ ذکر ہوئی، تو دو مرتبہ جب ایک چیز ذکر ہو گئی تو کیا آ گئی زیادتِ تقریر آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَحْصُلُ التَّقْرِيرُ بِالتَّكْرِيرِ“، تو تقریر آ گئی تکرار کی وجہ سے۔
”وَجَاءَنِي الْقَوْمُ أَكْثَرُهُمْ“، یہ بدل البعض ہے، بدل کی آپ نے چار قسمیں پڑھیں: ایک بدل الکل ہے کہ جس میں ثانی کی ذات بعینہٖ وہی اول کی ذات ہوتی ہے؛ ایک بدل البعض ہے کہ جس میں ثانی اول کا کیا ہوتا ہے؟ بعض ہوتا ہے جز ہوتا ہے۔ تو ”جَاءَنِي الْقَوْمُ أَكْثَرُهُمْ“، آئے میرے پاس قوم یعنی ان کے اکثر آئے، تو یہ ”أَكْثَرُهُمْ“ یہ بدل البعض ہے۔ ”الْقَوْمُ“ وہ تو صادق آ رہا تھا پوری ساری جماعت پر اور ”أَكْثَرُ“ کیا ہے؟ اس کا بعض ہے۔ دیکھیے میں کہتا ہوں خامسہ والے، تو یہ اب سارے خامسہ والے ہیں، تو ان میں سے جو اکثر ہیں وہ بھی خامسہ میں شامل ہیں یا وہ خارج ہیں؟ وہ بھی، وہ جو اکثر ہیں کچھ کو نکال کر باقی سارے وہ بھی تو جز ہیں خامسہ والے میں ان میں داخل ہیں۔ تو یہاں پر جب قوم کہا اس کے بعد تو یہ اکثر اس کا جز ہے، تو یہ بدل البعض ہوا۔
”وَجَاءَنِي الْقَوْمُ أَكْثَرُهُمْ فِي بَدَلِ الْبَعْضِ، وَسُلِبَ عَمْرٌو ثَوْبُهُ“، اور سلب کیا گیا چھینا گیا عمرو کو یعنی اس کے کپڑے کو، ”فِي بَدَلِ الِاشْتِمَالِ“، یہ کیا ہے؟ بدل الاشتمال ہے۔ بدل الاشتمال اسے کہتے ہیں کہ بدل کی ذات متعلق ہو مبدل منہ کی ذات کے، اور مبدل منہ میں کچھ نہ کچھ اشارہ ہو رہا ہو بدل کی طرف۔ بدل الاشتمال وہ ہے کہ جہاں مبدل منہ محل نہیں ہوتا وقوعِ فعل کا اور قیامِ فعل کا، ذہن منتظر رہتا ہے کہ کوئی ایسا لفظ ذکر ہو جو فعل کو قبول کرے۔
تو بدل الاشتمال کسے کہتے ہیں؟ کہ جہاں مبدل منہ محل نہیں ہوتا وقوعِ فعل اور قیامِ فعل کا، ذہن منتظر رہتا ہے کوئی ایسا لفظ ذکر ہو جو وقوعِ فعل کو کیا کرے؟ قبول کرے۔ دیکھو مثال دیکھیے: ”وَسُلِبَ عَمْرٌو ثَوْبُهُ“، چھینا گیا عمرو، عمرو محل ہے چھیننے کا؟ محل ہی نہیں، تو عمرو کے آنے کے باوجود یہ سُلِبَ کو فعل کو قبول ہی نہیں کر رہا، ذہن منتظر ہے کہ اس کے بعد کوئی ایسا کلمہ ذکر ہو جو کیا کرے؟ اس فعل کو قبول کر لے، تو ”ثَوْبُهُ“ آگے آ کر بدل الاشتمال بنے گا۔
”وَبَيَانُ التَّقْرِيرِ فِيهِمَا“، یہ بات تو واضح ہوئی کہ ایک بات انہوں نے ضابطہ کیا ذکر کیا، نکتہ کیا ہے؟ بدل کو کس لیے لایا جاتا ہے؟ زیادتِ تقریر کے لیے۔ زیادتِ تقریر بدل الکل میں تو واضح ہے، ایک ہی چیز دو دفعہ ذکر ہوئی: پہلے ایک ذات ”أَخُوكَ“ کے ساتھ ذکر ہوئی پھر وہی ذات ”زَيْدٌ“ کے لفظ کے ساتھ ذکر ہوئی تو دو دفعہ ذکر ہوئی اور دو دفعہ ذکر ہونے سے کیا آ گئی؟ زیادتِ تقریر آ گئی۔ لیکن یہ ”جَاءَنِي الْقَوْمُ أَكْثَرُهُمْ“ یہ بدل البعض کے اندر کیسے زیادتِ تقریر آئی؟ ”سُلِبَ عَمْرٌو ثَوْبُهُ“ یہاں پر زیادتِ تقریر کیسے آئی؟ یہاں تو ایک دفعہ قوم ذکر ہے دوسری مرتبہ اکثرہم ذکر ہے تو اکثر تو ایک مرتبہ ذکر ہوا، اور ”سُلِبَ عَمْرٌو ثَوْبُهُ“ یہاں بھی ثوبہ تو ایک مرتبہ ذکر ہوا تو پھر یہاں زیادتِ تقریر کیسے آئی؟ دو دفعہ چیز ذکر ہی نہیں ہوئی۔ اب علامہ تفتازانی آپ کو بتلائیں گے کہ ان میں بھی دیکھیے تقریر ہے، پختگی کس طرح ہے؟ دو مرتبہ ذکر ہو رہی ہیں۔
”وَبَيَانُ التَّقْرِيرِ فِيهِمَا أَنَّ الْمَتْبُوعَ يَشْتَمِلُ عَلَى التَّابِعِ إِجْمَالًا“، اور بیانِ تقریر ان دونوں کے اندر یہ ہے کہ متبوع مشتمل ہوتا ہے تابع پر اجمالی طور پر، ”حَتَّى كَأَنَّهُ مَذْكُورٌ“، گویا کہ وہ مذکور ہے، ”أَمَّا فِي الْبَعْضِ فَظَاهِرٌ“، بدل البعض کے اندر تو یہ بات ظاہر ہے۔ جب میں نے کہا ”جَاءَنِي الْقَوْمُ أَكْثَرُهُمْ“، اعتراض کیا پڑتا ہے یہاں زیادتِ تقریر کیسے آئی اکثرہم تو ایک ہی مرتبہ ذکر ہے؟ علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں نہیں بھئی ایک مرتبہ ذکر نہیں، یہی اکثر کیا ہے قوم کا جز ہے قوم کا بعض ہے۔ تو اب جب آپ نے ”الْقَوْمُ“ کہا تو اس میں اکثر آ گئے یا نہیں آئے؟ ان میں اکثر آ گئے، اجمالاً آ گئے مولانا تفصیل کے ساتھ تو نہیں آئے لیکن اجمالاً آ گئے؛ جب ایک مرتبہ اجمالاً آئے دوسری مرتبہ تفصیلاً آئے تو کتنی دفعہ چیز ذکر ہوئی؟ دو مرتبہ ذکر ہوئی، تو کیا آ گئی زیادتِ تقریر آ گئی۔
”وَأَمَّا فِي الِاشْتِمَالِ“، اور باقی بدل الاشتمال کے اندر بھئی، ”سُلِبَ عَمْرٌو ثَوْبُهُ“ یہاں پر زیادتِ تقریر کیسے آئی؟ کہتے ہیں بھئی یہاں پر وہ تعریف میں نے آپ کو لکھوائی بدل الاشتمال کی، جب میں نے کہا ”سُلِبَ عَمْرٌو“، چھینا گیا عمرو، عمرو محل ہے چھیننے کا؟ عمرو چھیننے کا محل ہی نہیں۔ تو جب عمرو چھیننے کا محل ہی نہیں تو ذہن ابھی بھی منتظر ہے کوئی ایسا لفظ آئے جو کیا کرے؟ وقوعِ فعل کو قیامِ فعل کو قبول کرے۔ تو جب میں نے ”عَمْرٌو“ کہا تو آگے آنے والے کلمے کی طرف اجمالاً اشارہ ہو گیا، کیونکہ یہ کلمہ تو وقوعِ فعل اور قیامِ فعل کو قبول جب نہیں کر رہا تو لازمی بات ہے آگے آنے والے کلمے کی طرف کیا ہو گیا؟ اشارہ ہو گیا کہ کوئی اور کلمہ آنا چاہیے جو کیا کرے اس فعل کے قیام کو اور اس کے وقوع کو قبول کر لے؛ تو اجمالاً پہلے اشارہ آیا اور پھر آگے اس کا صراحتاً ذکر ہو گیا تو کتنی دفعہ چیز آ گئی؟ دو مرتبہ آ گئی اور اس کی وجہ سے کیا حاصل ہوئی؟ زیادتِ تقریر حاصل ہوئی۔
”وَأَمَّا فِي الِاشْتِمَالِ فَلِأَنَّ مَعْنَاهُ أَنْ يَشْتَمِلَ الْمُبْدَلُ مِنْهُ عَلَى الْبَدَلِ“، باقی بدل الاشتمال کے اندر اس لیے کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ مبدل منہ مشتمل ہوتا ہے بدل پر، عمرو مشتمل ہے کس پر؟ ثوبہ پر، ”لَا كَاشْتِمَالِ الظَّرْفِ عَلَى الْمَظْرُوفِ“، اس طرح نہیں جیسے ظرف مظروف پر مشتمل ہوتا ہے، برتن اپنے اندر والی چیز پر مشتمل ہوتا ہے، ”بَلْ مِنْ حَيْثُ يَكُونُ مُشْعِرًا بِهِ إِجْمَالًا“، بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ اس کی خبر دے رہا ہے اجمالی طور پر۔ جب آپ نے کہا ”سُلِبَ عَمْرٌو“ تو عمرو تو فعل کو قبول ہی نہیں کر رہا تو اجمالاً اس نے خبر دے دی کہ آگے کیا آ رہا ہے ایک اور کلمہ آنا چاہیے جو اس فعل کو کیا کرے؟ قبول کرے؛ تو اجمالی طور پر اس نے اس کی خبر دے دی، ”مُتَقَاضِيًا لَهُ بِوَجْهٍ مَّا“، اور اس کا تقاضا کرنے والا ہوا کسی نہ کسی درجے میں، ”بِحَيْثُ تَبْقَى النَّفْسُ عِنْدَ ذِكْرِ الْمُبْدَلِ مِنْهُ مُتَشَوِّقَةً إِلَى ذِكْرِهِ مُنْتَظِرَةً لَهُ“، اس طور پر کہ نفس باقی رہتا ہے مبدل منہ کے ذکر کے وقت، جب میں نے ”سُلِبَ عَمْرٌو“ کہا تو ذہن اب بھی باقی ہے اس حال میں کہ وہ بے تاب ہے اس کے ذکر کی طرف اور اس کا منتظر ہے، ذہن کیا ہے ابھی بھی منتظر ہے کوئی ایسا لفظ آئے۔
”وَبِالْجُمْلَةِ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ الْمَتْبُوعُ فِيهِ بِحَيْثُ يُطْلَقُ وَيُرَادُ بِهِ التَّابِعُ“، حاصلِ کلام یہ کہ متبوع کا اس کے اندر اس طور پر ہونا ضروری ہے کہ اس کا اطلاق کیا جائے اور ارادہ اس سے تابع کا ہو، یعنی وہ فعل کو قبول ہی نہ کرے۔ اگر وہ فعل کو قبول کرے گا تو پھر اس کو بدل الاشتمال بنانا صحیح نہیں۔ جیسے مثلاً اسی کی ایک اور مثال میں کہتا ہوں: ”أَعْجَبَنِي زَيْدٌ“، تعجب میں ڈالا مجھے زید نے۔ ذاتِ زید کوئی چیز اپنی ذات کے اعتبار سے کسی کو تعجب میں نہیں ڈالتی، معلوم ہوا یہ زید کا لفظ محل نہیں ہے قیامِ فعل کا، ذہن ابھی بھی منتظر ہے کوئی ایسی چیز ذکر ہو جو اس فعل کو کیا کر لے؟ قبول کر لے، کیونکہ کسی کی ذات مِنْ حَيْثُ الذَّات کسی کو تعجب میں نہیں ڈالتی بلکہ اس کا کوئی فعل یا اس کا کوئی وصف دوسرے کو تعجب کے اندر ڈالتا ہے، تو آگے میں نے پھر ذکر کر دیا: ”عِلْمُهُ“، ”أَعْجَبَنِي زَيْدٌ عِلْمُهُ“۔ تو زید کے آنے کے باوجود ذہن منتظر تھا کہ آگے کوئی اور کلمہ آئے جو اس ”أَعْجَبَنِي“ کے فعل کو کیا کر لے؟ قبول کر لے۔
تو اس میں متبوع کا اس طور پر ہونا ضروری ہے کہ اس کو بولا جائے اور ارادہ کس کا کیا جائے؟ تابع کا کیا جائے یعنی تابع کی طرف ذہن منتظر رہے۔ نَحْوُ: ”أَعْجَبَنِي زَيْدٌ“ إِذَا أَعْجَبَكَ عِلْمُهُ، جیسے آپ کہتے ہیں ”أَعْجَبَنِي زَيْدٌ“ جب تعجب میں ڈالے آپ کو اس کا علم۔ بِخِلَافِ: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، آپ کہتے ہیں ”ضَرَبْتُ زَيْدًا حِمَارَهُ“، کیا بنانا چاہتے ہیں اس کو بدل الاشتمال؟ نہیں بھئی یہ بدل الاشتمال نہیں بن سکتا، اس لیے کہ ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“ آپ نے کہا اور کیا زید ضرب کو قبول کر رہا ہے یا نہیں کر رہا؟ زید تو محلِ ضرب ہو سکتا ہے، یہاں ذہن آگے کسی آنے والے کلمے کا منتظر نہیں رہتا۔ بِخِلَافِ: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“ إِذَا ضَرَبْتَ حِمَارَهُ، بخلاف ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“ کے جب آپ نے اس کے حمار کی پٹائی کی ہو۔
”وَلِهَذَا صَرَّحُوا بِأَنَّ نَحْوَ: جَاءَنِي زَيْدٌ أَخُوهُ بَدَلُ غَلَطٍ لَا بَدَلُ اشْتِمَالٍ“، اسی لیے علماء نے تصریح کی ہے کہ ”جَاءَنِي زَيْدٌ أَخُوهُ“ یہ بدل الغلط ہے بدل الاشتمال نہیں۔ ”جَاءَنِي زَيْدٌ أَخُوهُ“، تو یہاں دیکھیے مجیئت کا اسناد ہوا کس کی طرف؟ زید کی طرف، اور کیا مجیئت کو زید قبول کرتا ہے، زید مجیئت کو قبول کر رہا ہے یا نہیں کر رہا؟ زید مجیئت کو قبول کر رہا ہے۔ اب آگے ذہن منتظر ہے کسی اور کلمے کا؟ جب منتظر نہیں ہے تو آگے ”أَخُوهُ“ کو بدل الاشتمال بنانا صحیح نہیں بلکہ یہ بدل الغلط ہوگا کیا ہوگا؟ بدل الغلط ہوگا۔ یہ دراصل اعتراض کر رہے ہیں رد کر رہے ہیں صاحبِ کافیہ علامہ ابن حاجب پر جنہوں نے اس کو کیا قرار دیا ہے؟ بدل الاشتمال قرار دیا ہے، علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں کہ یہ بدل الغلط ہے بدل الاشتمال نہیں ہے۔
”وَلِهَذَا صَرَّحُوا بِأَنَّ نَحْوَ: جَاءَنِي زَيْدٌ أَخُوهُ بَدَلُ غَلَطٍ لَا بَدَلُ اشْتِمَالٍ كَمَا زَعَمَ بَعْضُ النُّحَاةِ“، جیسے کہ بعض نحویوں نے گمان کیا ہے یعنی علامہ ابن حاجب رحمہ اللہ نے۔
”ثُمَّ بَدَلُ الْبَعْضِ وَالِاشْتِمَالِ بَلْ بَدَلُ الْكُلِّ أَيْضًا لَا يَخْلُو عَنْ إِيضَاحٍ وَتَفْسِيرٍ“، یہاں سے پھر متن پر ایک اعتراض کرنا چاہتے ہیں کہ بدل البعض اور بدل الاشتمال بلکہ بدل الکل بھی وہ خالی نہیں ہے ایضاح و تفسیر سے، ان سے کیا ہو جاتی ہے؟ وضاحت ہو جاتی ہے تفسیر ہو جاتی ہے۔ جب میں نے کہا ”جَاءَنِي أَخُوكَ زَيْدٌ“، تو اخوک کے بعد جب میں زید لایا تو اخوک کی کیا ہو گئی؟ تفسیر ہو گئی وضاحت ہو گئی؛ میں نے کہا ”جَاءَنِي الْقَوْمُ أَكْثَرُهُمْ“، میں نے جب اکثرہم کہا تو القوم کی کیا ہو گئی؟ تفسیر ہو گئی کہ سارے نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہیں؟ اکثر مراد ہیں؛ ”سُلِبَ عَمْرٌو ثَوْبُهُ“، جب میں نے عمرو کے بعد ثوبہ کہا تو تفسیر ہو گئی کہ عمرو نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ اس کے کپڑے مراد ہیں۔ تو یہاں پر ان سب میں وضاحت بھی آ رہی ہے تفسیر بھی آ رہی ہے، تو مصنف کو کہتے ہیں یوں کہنا چاہیے تھا: ”فَلِزِيَادَةِ التَّقْرِيرِ وَالْإِيضَاحِ“، کہ بدل کو کس لیے لایا جاتا ہے؟ زیادتِ تقریر اور ایضاح کے لیے۔
”وَلَمْ يَتَعَرَّضْ لِبَدَلِ الْغَلَطِ لِأَنَّهُ لَا يَقَعُ فِي فَصِيحِ الْكَلَامِ“، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ بدل کی ایک اور چوتھی قسم بھی تو ہے بدل الغلط، اس کو تو آپ نے ذکر ہی نہیں کیا نہ مصنف نے؟ تو جواب دے رہے ہیں علامہ تفتازانی کہ بات فصاحت کی چل رہی ہے، اور بدل الغلط کا سبب غلطی ہوتی ہے، آپ نے کہنا تھا زید غلطی سے منہ سے عمرو نکل گیا: ”جَاءَنِي عَمْرٌو“، فوراً پھر کہتے ہیں ”زَيْدٌ“، ”جَاءَنِي عَمْرٌو زَيْدٌ“؛ تو یہ کیا ہے؟ بدل الغلط ہے، اس کا سبب کیا بنا؟ غلطی بنا۔ تو کہتے ہیں بدل الغلط کو ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ فصاحت کی بات چل رہی ہے اور فصاحت کے اندر غلطی کی گنجائش نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ لَا يَقَعُ فِي فَصِيحِ الْكَلَامِ“، اس لیے کہ بدل الغلط فصیح کلام میں واقع نہیں ہوتا۔
لیکن یاد رکھو بدل الغلط دو قسم پر ہے: ایک بدل الغلط وہ ہے جس کا سبب سبقتِ لسانی یا نسیان وغیرہ ہوتا ہے، آپ نے کہنا عمرو تھا غلطی سے منہ سے کیا نکل گیا؟ زید، ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، پھر فوراً آپ کہتے ہیں ”عَمْرٌو“، ”جَاءَنِي زَيْدٌ عَمْرٌو“؛ یہ اس کا سبب کیا بنا؟ سبقتِ لسانی یا نسیان اس کا سبب بنا۔ یہ تو فصیح کلام میں استعمال نہیں ہوتا۔ ہاں ایک اور بدل الغلط بھی ہے جس میں جان بوجھ کر کیا کیا جاتا ہے ایک کلمے کو ذکر کیا جاتا ہے گویا کہ آپ سے غلطی سے یہ کلمہ ذکر ہوا، آپ ظاہر یہ کرتے ہیں کہ کیا ہے یہ کلمہ غلطی سے ذکر ہوا، لیکن اصل مقصد وہاں ہوتا ہے التَّرَقِّي مِنَ الْأَدْنَى إِلَى الْأَعْلَى، ادنیٰ سے آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اعلیٰ کی طرف ترقی کرنا چاہتے ہیں مبالغہ کرنے کے لیے، اور اس قسم کا بدل الغلط فصیح کلام میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً آپ اپنے ممدوح کی تعریف کرنا چاہتے ہیں کسی شخص کی تعریف کرتے ہوئے آپ کہتے ہیں: ”جَاءَنِي بَدْرٌ شَمْسٌ“، تو پہلے آپ نے بدر ذکر کیا چاند آیا، پھر فوراً شمس سورج ذکر کیا، تو بدر کو آپ نے یہ اب بدل الغلط ہوا لیکن یہاں نسیان یا سبقتِ لسانی سے یہ غلطی نہیں ہوئی بلکہ آپ نے جان بوجھ کر کی ہے کیونکہ آپ التَّرَقِّي مِنَ الْأَدْنَى إِلَى الْأَعْلَى کرنا چاہتے ہیں، پہلے اس کو بدر قرار دیا پھر فوراً اس کو چھوڑا کہ نہیں بھئی بدر تو معمولی چیز ہے، کس کی طرف چلے گئے؟ شمس کہ یہ تو سورج ہے سورج۔ یہ مبالغے کے لیے ہوتا ہے۔
”وَأَمَّا الْعَطْفُ أَيْ جَعْلُ الشَّيْءِ مَعْطُوفًا عَلَى الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ“، توابع میں سے توابع کتنے ہیں؟ پانچ ہیں: وصف کے نکات بھی ذکر ہوئے، تاکید کے نکات بھی ذکر ہوئے، عطفِ بیان کے نکات بھی ذکر ہوئے، بدل کے نکات بھی ذکر ہوئے۔ اب پانچواں تابع رہ گیا معطوف بالحرف، کبھی حرفِ عطف کے ذریعے آپ کیا کرتے ہیں؟ عطف کیا کرتے ہیں۔ تو اب یہ جو معطوف ہے یہ بھی تابع ہے، اس کو کس لیے لایا جاتا ہے؟ آپ کہتے ہیں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، آیا میرے پاس زید اور عمرو، تو یہاں واو کے ذریعے آپ نے عطف کیا زید پر، اور زید چونکہ مرفوع ہے تو معطوف جو ہے اس کا تابع وہ بھی کیا ہوگا؟ مرفوع ہوگا، تو یہ بھی تابع ہوا کرتا ہے۔ اب اس کے نکات بیان ہوں گے، اور حروفِ عطف دس ہیں، سب کے نکات باری باری یہ ذکر کریں گے کہ کس لیے واو وغیرہ کو لایا جائے گا، ثم وغیرہ کو۔
”وَأَمَّا الْعَطْفُ أَيْ جَعْلُ الشَّيْءِ مَعْطُوفًا عَلَى الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ فَلِتَفْصِيلِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ مَعَ اخْتِصَارٍ“، کس لیے کیا جاتا ہے؟ مسند الیہ کی تفصیل کے لیے مع اختصار، ساتھ کس کے؟ اختصار کے بھی، کہ کلام مختصر بھی رہے اور مسند الیہ کی تفصیل بھی ہو جائے۔ تفصیلِ مسند الیہ کا کیا معنیٰ؟ تفصیلِ مسند الیہ کا یہ معنیٰ کہ آپ مسند الیہ کے ہر فرد کو اس کے خاص نام کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ آپ کے پاس زید بھی آیا ہے اور عمرو بھی آیا ہے، اب اسی بات کو آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں: ”جَاءَنِي رَجُلَانِ“، میرے پاس دو آدمی آئے تھے، بات آپ کی اب بھی صحیح ہے لیکن کیا مسند الیہ کی تفصیل ہوئی؟ ہر ایک کا پتہ چلا کہ وہ رجلان کون تھے؟ یہ پتہ نہیں، لیکن جب آپ نے کہا ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، اب کیا آ گئی مسند الیہ کی تفصیل آ گئی، اس کے ہر ایک کو اس کے خاص نام سے ذکر کر دیا کہ یہ دونوں افراد میرے پاس آئے تھے۔ اور اختصار بھی ہوا، اس کے بجائے جاء کو تو یہاں جاء کو آپ ایک ہی مرتبہ لے کر آئے؛ اگر حرفِ عطف کے بغیر کہتے یا دو دفعہ لاتے تو پھر اختصار نہ ہوتا جیسے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَجَاءَنِي عَمْرٌو“، تو یہاں دیکھو اس کے اندر بھی کیا ہے مسند الیہ کی تفصیل ہے کہ آنے والے کون کون ہیں؟ زید بھی ہے اور عمرو بھی ہے، لیکن اختصار نہیں ہے۔
”فَلِتَفْصِيلِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ مَعَ اخْتِصَارٍ، نَحْوُ: جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو، فَإِنَّ فِيهِ تَفْصِيلًا لِلْفَاعِلِ بِأَنَّهُ زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، اس کے اندر جو ہے فاعل کی تفصیل ہے کہ وہ کون ہیں؟ زید ہیں اور عمرو ہیں، ”مِنْ غَيْرِ دَلَالَةٍ عَلَى تَفْصِيلِ الْفِعْلِ“، تو یہاں مسند الیہ کی تفصیل ہے مسند کی تفصیل نہیں؛ کیونکہ واو آیا اور واو کس لیے آیا کرتا ہے؟ مطلقِ جمع کے لیے، یعنی آنے کے اندر یہ دونوں جمع ہیں، زید بھی آیا ہے اور عمرو بھی آیا ہے۔ باقی تفصیل کچھ نہیں معلوم کہ دونوں اکٹھے آئے، یا دونوں الگ الگ آئے، پہلے زید آیا بعد میں عمرو آیا، یا پہلے عمرو آیا بعد میں کون آیا؟ زید آیا، اور اگر ایک پہلے آیا ایک بعد میں ہے تو دوسرا اس کے فوراً بعد آیا یا کچھ تاخیر سے آیا، یہ کوئی چیز اس کے اندر ذکر نہیں۔ بس واو نے اتنا بتلا دیا کہ وہ مجیئت جو زید کے لیے ثابت ہے وہی مجیئت کس کے لیے ثابت ہے؟ عمرو کے لیے۔ اب یہ تمام صورتوں کو شامل ہے: چاہے دونوں اکٹھے آئے ہوں پھر بھی یہ کلام صحیح، چاہے زید پہلے آیا ہو عمرو بعد میں آیا ہو پھر بھی یہ کلام صحیح، عمرو پہلے آیا ہو زید بعد میں آیا ہو پھر بھی یہ کلام صحیح، زید کے آتے ہی فوراً عمرو آ گیا تھا پھر بھی یہ کلام صحیح، زید کے آنے کے ایک سال بعد عمرو آیا پھر بھی یہ کلام صحیح، کیونکہ مجیئت دونوں کے لیے ثابت ہو رہی ہے۔ تو واو نے صرف اتنا بتلایا کہ مجیئت میں یہ دونوں جمع ہیں، مجیئت میں یہ دونوں جمع ہیں۔ تو مسند الیہ کی تو تفصیل آئی واو کے ساتھ لیکن مسند کی کوئی تفصیل نہیں آئی۔
”مِنْ غَيْرِ دَلَالَةٍ عَلَى تَفْصِيلِ الْفِعْلِ بِأَنَّ الْمَجِيئَيْنِ كَانَا مَعًا أَوْ مُتَرَتِّبَيْنِ مَعَ مُهْلَةٍ أَوْ بِلَا مُهْلَةٍ“، بغیر کسی دلالت کے فعل کی تفصیل پر، بایں صورت کہ یہ تفصیل یوں ہوتی کہ دونوں کیسے آئے تھے؟ اکٹھے آئے تھے، یا کیسے آئے تھے؟ ترتیب سے آئے تھے ایک پہلے آیا تھا اور ایک بعد میں، اور پھر اس صورت میں مہلت کے ساتھ آئے تھے یا بغیر مہلت کے، اس بات کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔
”وَاحْتَرَزَ بِقَوْلِهِ: مَعَ اخْتِصَارٍ عَنْ نَحْوِ: جَاءَنِي زَيْدٌ وَجَاءَنِي عَمْرٌو“، اور احتراز کیا ماتن نے اپنے اس قول ”مَعَ اخْتِصَارٍ“ کے ساتھ اس مثال سے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَجَاءَنِي عَمْرٌو“۔ تو دیکھو اس کے اندر بھی مسند الیہ کی تفصیل ہے لیکن اختصار نہیں ہے، دیکھا ”جَاءَنِي“ دو دفعہ ذکر ہو رہا ہے حالانکہ اوپر والی مثال میں ”جَاءَنِي“ ایک مرتبہ ذکر ہوا تھا۔ ”فَإِنَّ فِيهِ تَفْصِيلًا لِلْمُسْنَدِ إِلَيْهِ مَعَ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ عَطْفِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ بَلْ مِنْ عَطْفِ الْجُمْلَةِ“، اس لیے کہ اس میں بھی مسند الیہ کی تفصیل ہے ساتھ اس کے کہ یہ پھر مسند الیہ کے عطف کے قبیل سے بھی نہیں رہے گا، پھر تو یہ کیا ہو جائے گا؟ عطف الجملہ کے قبیل سے ہو جائے گا، ایک جملے کا عطف جملے پر ہو جائے گا تو یہ تابع مسند الیہ کا نہ رہا، اور ہم کس کی بات کر رہے ہیں؟ مسند الیہ کے توابع کی جس کا عطف مسند الیہ پر ہو۔
”وَمَا يُقَالُ مِنْ أَنَّهُ احْتِرَازٌ عَنْ نَحْوِ: جَاءَنِي زَيْدٌ جَاءَنِي عَمْرٌو مِنْ غَيْرِ عَطْفٍ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ“، بعض علماء نے اور تقریر کی، علامہ تفتازانی نے کیا کہا ”مَعَ اخْتِصَارٍ“ اختصار کے ساتھ، اس کے ذریعے احتراز کیا کس سے؟ ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَجَاءَنِي عَمْرٌو“ اس سے احتراز کیا۔ اور شارحین کہتے ہیں اس سے احتراز کیا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ جَاءَنِي عَمْرٌو“، بغیر حرفِ عطف کے ذکر ہیں، اس سے احتراز کیا ہے۔ تو علامہ تفتازانی اس کو رد کریں گے کہ نہیں بھئی، یہ احتراز ہے بعض علماء نے کہا ”جَاءَنِي زَيْدٌ جَاءَنِي عَمْرٌو“ بغیر کسی عطف کے۔ تو جب ہم نے کہا ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“ اس کے اندر اختصار ہے، اگر اس کے بجائے یوں کہا جاتا ”جَاءَنِي زَيْدٌ جَاءَنِي عَمْرٌو“ بغیر حرفِ عطف کے تو اس صورت میں اختصار باقی نہ رہتا، تو یہ احتراز ہوا اس سے۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں نہیں بھئی یہ آپ کی بات صحیح نہیں اس سے احتراز نہیں، ”فَلَيْسَ بِشَيْءٍ“، یہ کوئی چیز نہیں کہتے۔ ”إِذْ لَيْسَ فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى تَفْصِيلِ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ، بَلْ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ إِضْرَابًا عَنِ الْكَلَامِ الْأَوَّلِ“، اس لیے کہ اس میں مسند الیہ کی تفصیل پر کوئی دلالت نہیں، بلکہ یہ احتمال ہے اس کے اندر کہ اس میں اضراب اعراض ہو کلامِ اول سے پھرنا ہو۔ آپ نے پہلے کہا ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، پھر فوراً اعراض کیا اس کو چھوڑ کر کہا ”جَاءَنِي عَمْرٌو“۔ آپ نے مجیئتِ عمرو کو بیان کرنا تھا، پہلے غلطی سے کہہ دیا آپ نے ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، فوراً اس کو چھوڑ کر آپ نے کہا ”جَاءَنِي عَمْرٌو“، تو پہلے کلام کو چھوڑ دیا اور دوسرے کو ذکر کیا تو پہلا مسکوت عنہ کے حکم میں ہوا، اس کے بارے میں کوئی ذکر ہی نہیں کہ وہ آیا ہے یا زید آیا ہے یا زید نہیں آیا۔ تو جب زید کا آنا قطعی نہ رہا تو وہ مسند الیہ نہ رہا، جب مسند الیہ نہ رہا تو مسند الیہ صرف عمرو بن گیا۔ جب پہلے کو چھوڑ دیا تو اب زید جو پہلے کے اندر تھا وہ مسند الیہ رہا؟ اس کلام سے تو اعراض کر دیا، جب زید مسند الیہ نہ رہا تو مسند الیہ صرف کون ہوا؟ عمرو۔ تو یہاں پر مسند الیہ کی تفصیل ہے؟ مسند الیہ تو ایک ہی ہے، یہاں تو مسند الیہ کی تفصیل ہی نہیں ہے، تو اس سے احتراز کی بات صحیح نہیں۔ ہاں اگر یہاں مسند الیہ کی بھی تفصیل ہو اور یہاں واو کو مقدر مانا جائے پھر آپ کی بات صحیح بن جاتی ہے۔ تو انہوں نے کہا نا مسند الیہ کی بھی تفصیل ہو اور ساتھ کیا ہو؟ اختصار بھی ہو۔ تو علامہ تفتازانی نے کہا وہ جو میں نے مثال ذکر کی اس سے احتراز ہے، کیا مثال میں نے ذکر کی تھی؟ ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَجَاءَنِي عَمْرٌو“، تو دیکھو وہاں مسند الیہ کی تفصیل تھی البتہ اختصار نہیں تھا، یہاں پر تو مسند الیہ کی سرے سے تفصیل ہی نہیں ہے۔
”نَصَّ عَلَيْهِ الشَّيْخُ فِي دَلَائِلِ الْإِعْجَازِ“، تصریح کی ہے اس کی الشیخ نے دلائل الاعجاز کے اندر۔ الشیخ کا لفظ جب بلاغت اور نحو کی کتابوں میں آ جائے تو اس سے مراد شیخ عبدالقاہر جرجانی رحمہ اللہ ہوتے ہیں۔
”أَوْ لِتَفْصِيلِ الْمُسْنَدِ كَذَلِكَ“، یا عطف کیا جاتا ہے مسند کی تفصیل کے لیے، آگے متن میں ہے ”كَذَلِكَ“، اسی طرح یعنی اختصار کے ساتھ۔ میں نے کہا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو“، آیا میرے پاس کون؟ زید پھر عمرو، تو فا آئی، اور فا کس لیے آیا کرتی ہے؟ تعقیب مع الوصل کے لیے، بلا تراخی کے ہو دوسرا بھی آیا، یعنی زید آیا اور بغیر تراخی کے ہی فوراً کون آ گیا؟ عمرو بھی آ گیا۔ تو یہاں دیکھو مسند کی تفصیل ہو گئی، مسند کی کیا تفصیل ہوئی کہ یہ مجیئت پہلے کس کے لیے ثابت ہے؟ زید کے لیے، پھر کس کے لیے ثابت ہے؟ عمرو کے لیے۔ یا میں کہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو ثُمَّ بَكْرٌ“، آیا میرے پاس زید پھر عمرو پھر بکر، تو یہاں یہ مجیئت جو مسند ہے اس کی تفصیل آئی کہ سب سے پہلے مجیئت کس کے لیے ثابت ہے؟ زید کے لیے، پھر بغیر تراخی کے یہ مجیئت کس کے لیے ثابت ہے؟ عمرو کے لیے، پھر تراخی کے ساتھ یہ کس کے لیے ثابت ہے؟ بکر کے لیے۔ تو دیکھو مسند کی تفصیل آئی اور اختصار بھی ہے، اس کے بجائے اگر میں یوں کہتا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ ثُمَّ بَكْرٌ بَعْدَ سَنَتَيْنِ“، زید آیا پھر اس کے بعد بکر کتنے عرصے کے بعد آیا؟ دو سال کے بعد، تو اب اس کے اندر اختصار نہ رہتا۔ تو ثم نے تراخی کے ساتھ ساتھ اختصار کا بھی فائدہ دیا۔
”أَوْ لِتَفْصِيلِ الْمُسْنَدِ بِأَنَّهُ قَدْ حَصَلَ بِأَحَدِ الْمَذْكُورَيْنِ“، دیگر نسخوں میں ”مِنْ أَحَدِ الْمَذْكُورَيْنِ“ موجود ہے اور عبارت یوں ہی صحیح بنتی ہے، کہ حاصل ہو رہا ہے مسند، دیکھو میں نے کہا ”جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو“، تو یہ مجیئت پہلے کس کو حاصل ہو رہی ہے؟ زید کو، پھر کس کو حاصل ہو رہی ہے؟ عمرو کو۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: ”بِأَنَّهُ قَدْ حَصَلَ مِنْ أَحَدِ الْمَذْكُورَيْنِ أَوَّلًا وَعَنِ الْآخَرِ بَعْدَهُ مَعَ مُهْلَةٍ أَوْ بِلَا مُهْلَةٍ، كَذَلِكَ أَيْ مَعَ اخْتِصَارٍ“، کہ حاصل ہوئی ہے دو مذکورین میں سے ایک کو اولاً اور دوسرے کو بعد میں مہلت کے ساتھ یا بغیر مہلت کے، اسی طرح یعنی اختصار کے ساتھ۔
”وَاحْتَرَزَ بِذَلِكَ عَنْ نَحْوِ: جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو بَعْدَهُ بِيَوْمٍ أَوْ سَنَةٍ“، اور احتراز ہے اس کے ذریعے، اختصار کی جو قید لگائی ”كَذَلِكَ“ کی جو قید لگائی، وہ اس قسم کی مثال سے احتراز ہے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو بَعْدَهُ بِيَوْمٍ أَوْ سَنَةٍ“، آیا میرے پاس زید اور عمرو اس کے بعد ایک دن کے بعد یا ایک سال کے بعد آیا۔ تو دیکھو یہاں پر مسند کی تفصیل کے اعتبار سے اختصار نہیں ہے، ”بَعْدَهُ بِيَوْمٍ“ یا ”بَعْدَهُ بِالسَّنَةِ“ بڑی لمبی بات ہو گئی۔ تو اگر واو کے بجائے صرف ثم ہی کہہ دیا جاتا تو یہ فائدہ ہمیں حاصل ہو جاتا کہ تراخی کے ساتھ آیا ہے۔ ”وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ“، اور اس جیسی مثالوں سے احتراز کیا ہے۔
”نَحْوُ: جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو، أَوْ: ثُمَّ عَمْرٌو، أَوْ: جَاءَنِي الْقَوْمُ حَتَّى خَالِدٌ“، آیا میرے پاس زید پھر عمرو، یا: ”ثُمَّ عَمْرٌو“، آیا میرے پاس زید پھر کون آیا؟ عمرو، یا: ”جَاءَنِي الْقَوْمُ حَتَّى خَالِدٌ“، آئی میرے پاس قوم یہاں تک کہ کون آیا؟ خالد آیا۔
”فَالثَّلَاثَةُ تَشْتَرِكُ فِي تَفْصِيلِ الْمُسْنَدِ“، تو یہ تین حروف فا، ثم اور حتیٰ یہ مشترک ہیں شریک ہیں کس کے اندر؟ تفصیلِ مسند کے اندر یہ شریک ہیں، ان تینوں سے مسند کی تفصیل حاصل ہوتی ہے۔ ”إِلَّا أَنَّ الْفَاءَ تَدُلُّ عَلَى التَّعْقِيبِ مِنْ غَيْرِ تَرَاخٍ، وَثُمَّ عَلَى التَّرَاخِي، وَحَتَّى عَلَى أَنَّ أَجْزَاءَ مَا قَبْلَهَا مُتَرَتِّبَةٌ فِي الذِّهْنِ مِنَ الْأَضْعَفِ إِلَى الْأَقْوَى أَوْ بِالْعَكْسِ“، مگر فا دلالت کرتی ہے تعقیب پر بغیر کسی تراخی کے، اور ثم دلالت کرتا ہے تراخی پر، اور حتیٰ اس بات پر کہ اس کے ماقبل کے جو اجزاء ہیں وہ ذہن کے اندر مرتب ہیں اضعف سے اقویٰ کی طرف یا اقویٰ سے اضعف کی طرف۔
یاد رکھو تین حروف یہاں آپ نے پڑھے: فا، ثم، اور حتیٰ۔ یاد رکھو فا بھی مسند کی تفصیل کے لیے، ثم بھی مسند کی تفصیل کے لیے، اور حتیٰ بھی مسند کی تفصیل کے لیے۔ لیکن ان تینوں میں فرق انہوں نے ایک فرق یہ ذکر کیا کہ فا کس لیے آئے گا؟ تعقیب مع الوصل کے لیے، اور ثم کس لیے آئے گا؟ تعقیب مع التراخی کے لیے، اور حتیٰ کس لیے آئے گا؟ تعقیب کے لیے آئے گا، لیکن فا اور ثم کے اندر جو تعقیب ہے ترتیب ہے وہ خارج کے اندر ہوگی۔ میں نے کہا: ”جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو“، معلوم ہوا مجیئت پہلے زید کے لیے ثابت ہے پھر اس کے بغیر تراخی کے اس کے فوراً بعد کس کے لیے ثابت ہے؟ یہ خارج میں اس طرح ہے، مجیئت پہلے زید آیا اور پھر کون آیا؟ عمرو۔ اور پھر میں کہتا ہوں: ”جَاءَنِي زَيْدٌ ثُمَّ عَمْرٌو“، یہاں پر بھی پہلے زید آیا اور پھر کچھ دیر کے بعد کون آیا؟ عمرو آیا، تو یہاں بھی جو تراخی ترتیب ہے وہ کس کے اندر ہے؟ خارج کے اندر ہے۔ لیکن حتیٰ کے اندر جو ترتیب ہوتی ہے وہ ذہن کے اندر ہوتی ہے خارج میں ترتیب کا ہونا ضروری نہیں۔ میں کہتا ہوں میرے پاس مجاہدین آئے حتیٰ کہ خالد بھی آیا، خالد جو ان کا مثلاً کمانڈر انچیف ہے وہ بھی میرے پاس آیا۔ تو یہاں پر دیکھو اب یہ ضروری نہیں کہ مجاہدین پہلے ائے ہوں اور کمانڈر انچیف بعد میں آئے، بلکہ میں نے ذہن کے اندر ترتیب دے دی خود اضعف سے اقویٰ کی طرف کہ ان میں جو عام ہیں جو کمانڈر وغیرہ نہیں وہ اضعف وہ بھی ائے حتیٰ کہ جو ان میں سب سے قوی ہے کون؟ خالد وہ بھی میرے پاس آیا، تو یہ ترتیب میں نے کس میں بنائی؟ ذہن کے اندر۔ تو پہلے میں نے اضعف کی طرف فعل کا اسناد کیا اور پھر کس کی طرف کر دیا؟ اقویٰ کی طرف کر دیا۔ تو خارج کے اندر ترتیب ہونا ضروری نہیں یہاں ذہن میں ترتیب ہے، ہاں خارج میں ترتیب ہو بھی سکتی ہے اور خارج میں ترتیب نہیں بھی ہو سکتی۔
یا اس کا عکس کرتے ہیں: میں کہتا ہوں ”جَاءَنِي الْقَوْمُ حَتَّى خَالِدٌ“، میرے پاس قوم آئی یہاں تک کہ کون آیا؟ خالد، تو خالد ان میں نہایت ضعیف ہے مثلاً نابینا ہے کمزور ہے، میرے پاس دولت والے صحت والے سارے ائے یہاں تک کہ ان میں سب سے غریب اور کمزور اور ضعیف وہ خالد جو ہے وہ بھی میرے پاس۔ اب یہ ضروری نہیں کہ خالد سب کے آخر میں ایا ہو، ہاں ذہن میں میں نے ترتیب دے دی اس قوم کے اجزاء کو، سب سے پہلے میں نے فعل کا اسناد کس کی طرف مان لیا؟ اقویٰ کی طرف کہ اقویٰ تو ائے یہاں تک کہ سب سے جو ضعیف ہے اضعف جو ہے وہ بھی کیا ہے میرے پاس، تو یہ ترتیب کس میں بنائی میں نے؟ ذہن کے اندر ترتیب بنائی۔
تو یہ حتیٰ عموم کا فائدہ دیتا ہے، اور اس میں جو حتیٰ عاطفہ ہے اس میں ما بعد کا ما قبل کا جز ہونا ضروری ہے۔ ”جَاءَنِي الْقَوْمُ حَتَّى خَالِدٌ“، یہ خالد بھی کیا ہے؟ قوم کا جز ہے۔ تو یہ عموم کا فائدہ دیتا ہے حتیٰ۔
تو یہ ترتیب کے لیے اتا ہے اور یہ ترتیب کہاں ہوگی؟ خارج میں ہوگی یا ذہن کے اندر؟ ذہن کے اندر، اور ذہن کے اندر پھر یا تو یہ اقویٰ سے اضعف کی طرف ترتیب ہوگی یا اضعف سے اقویٰ کی طرف ترتیب ہوگی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”مَاتَ النَّاسُ حَتَّى الْأَنْبِيَاءُ“، لوگ مر گئے یہاں تک کہ انبیاء کا بھی انتقال ہوا۔ اب اپ مجھے بتائیے کہ لوگوں کا انتقال پہلے ہوا انبیاء کا بعد میں یا انبیاء کا بھی ساتھ ہی ہوا ہے؟ ساتھ ہی ہوا ہے انتقال، لیکن میں نے ذہن کے اندر ترتیب بنا لی: پہلے اضعف کی طرف موت کی نسبت کی اور پھر کس کی طرف؟ اقویٰ کی طرف اعلیٰ کی طرف فعل کی نسبت کی، تو یہ کیا ہے؟ ترتیب ذہن میں ہے خارج کے اندر نہیں۔ یا اضعف اقویٰ سے اضعف کی طرف نسبت ہوگی، جیسے میں کہتا ہوں: ”قَدِمَ الْحَاجُّ حَتَّى الْمُشَاةُ“، کہ حاجی ا گئے یہاں تک کہ جو پیدل چلنے والے تھے وہ بھی پہنچ گئے۔ تو سوار حاجی تو پہنچے ہی، تو پیدل جو تھے وہ بھی اب تک پہنچ چکے ہیں، تو یہاں پر بھی میں نے ترتیب بنائی لیکن کس طرح؟ پہلے انے کی نسبت کس کی طرف کر دی؟ اقویٰ کی طرف، پھر کس کی طرف کی؟ اضعف کی طرف، تو یہ ترتیب میں نے ذہن میں بنائی۔
”فَمَعْنَى تَفْصِيلِ الْمُسْنَدِ فِيهَا أَنْ يُعْتَبَرَ تَعَلُّقُهُ بِالْمَتْبُوعِ أَوَّلًا وَبِالتَّابِعِ ثَانِيًا مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ أَقْوَى أَجْزَاءِ الْمَتْبُوعِ أَوْ أَضْعَفُهَا، وَلَا يُشْتَرَطُ فِيهَا التَّرْتِيبُ الْخَارِجِيُّ“، تو تفصیلِ مسند کا معنیٰ ان کے حتیٰ کے اندر یہ ہے کہ یہاں پر مسند کا تعلق کس کے ساتھ؟ متبوع کے ساتھ اولاً اس کا اعتبار کیا جائے، متبوع کون ہے ”جَاءَنِي الْقَوْمُ حَتَّى خَالِدٌ“؟ قوم کیا ہے؟ متبوع، اور خالد کیا ہے؟ تابع۔ اول کو کہتے ہیں متبوع اور ثانی کو کیا کہتے ہیں؟ تابع کہتے ہیں۔ تو فعل کا تعلق پہلے متبوع یعنی قوم سے مانا جائے اولاً، اور ثانیاً تابع کے ساتھ، اس حیثیت سے کہ یہ متبوع کا سب سے قوی جز ہے یا اس اعتبار سے کہ یہ متبوع کا سب سے ضعیف جز ہے، اور اس کے اندر ترتیبِ خارجی کی شرط نہیں لگائی گئی۔
”فَإِنْ قُلْتَ: فِي هَذِهِ الثَّلَاثَةِ أَيْضًا تَفْصِيلٌ لِلْمُسْنَدِ إِلَيْهِ، فَلِمَ لَمْ يَقُلْ: أَوْ تَفْصِيلِهِمَا مَعًا؟“، اس پر اب اشکال ذکر کریں گے۔ انہوں نے کیا کہا، کیا بات کی؟ واو کے اندر تو ذکر کیا تھا کہ مسند الیہ کی تفصیل کے لیے اتا ہے، فا کے اندر اور ثم کے اندر حتیٰ کے اندر انہوں نے صرف یہ کہا مسند کی تفصیل ہوتی ہے، حالانکہ مسند الیہ کی تفصیل بھی ساتھ ہو رہی ہے! میں نے کہا ”جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو“، تو مسند الیہ کی بھی تفصیل ائی کہ دو افراد ہیں اور ایک زید ہے اور ایک عمرو۔ تو مصنف کو یوں کہنا چاہیے تھا: ”لِتَفْصِيلِهِمَا“، مسند کی بھی تفصیل اور مسند الیہ کی بھی تفصیل دونوں کو ذکر کرتے، انہوں نے صرف مسند کی تفصیل ذکر کیا!
”قُلْتُ: فُرِّقَ بَيْنَ أَنْ يَكُونَ الشَّيْءُ حَاصِلًا مِنَ الشَّيْءِ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ مَقْصُودًا مِنْهُ“، جواب دے رہے ہیں کہ فرق کیا اس میں کہ ایک شے حاصل ہو کسی شے سے بغیر ارادے کے، اور ایک شے وہ جو کہ اس سے مقصود ہو۔ فرق کرنے کے لیے مصنف نے اس انداز کو اختیار کیا۔ بتلایا کہ جو چیز حاصل ہوگی وہ دو قسم پر ہے: یا تو حاصل ہوگی بلا قصد یا حاصل ہوگی بالقصد۔ تو یہاں پر مسند کی تفصیل بالقصد حاصل ہو رہی ہے اور مسند الیہ کی تفصیل بلا قصد حاصل ہو رہی ہے۔ مثلاً اپ کے ساتھی سامنے کھڑے ہیں، اپ نے نظر اٹھا کر زید کی طرف دیکھا، جب زید کو دیکھیں گے تو اس کے ساتھ والے نظر ائیں گے یا نہیں نظر ائیں گے اپ کو؟ ساتھ والے بھی نظر ائیں گے، لیکن زید کا دیکھنا ہے بالقصد اور باقیوں کا نظر انا ہے بلا قصد۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح مسند کی جو تفصیل حاصل ہو رہی ہے وہ بالقصد ہے اور مسند الیہ کی جو تفصیل حاصل ہو رہی ہے وہ بلا قصد کے ہے، اسی فرق کو بتلانے کے لیے مصنف نے کیا کہا کہ یہ فا، ثم، حتیٰ کس لیے ایا کرتے ہیں؟ مسند کی تفصیل، یعنی مسند کی تفصیل بالقصد ہے اور جو مسند الیہ کی تفصیل ا رہی ہے وہ بلا قصد ہے۔
”وَتَفْصِيلُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ فِي هَذِهِ الثَّلَاثَةِ وَإِنْ كَانَ حَاصِلًا لَكِنْ لَيْسَ الْعَطْفُ بِهَذِهِ الثَّلَاثَةِ لِأَجْلِهِ“، اور مسند الیہ کی تفصیل بھی ان تینوں میں اگرچہ حاصل ہے لیکن عطف ان تینوں کے ساتھ جو ہوتا ہے وہ اس کی وجہ سے نہیں کیا جاتا یعنی مسند الیہ کی تفصیل کے لیے نہیں کیا جاتا۔ دیکھیے عجیب بات بتلا رہے ہیں: ”لِأَنَّ الْكَلَامَ إِذَا اشْتَمَلَ عَلَى قَيْدٍ زَائِدٍ عَلَى مُجَرَّدِ الْإِثْبَاتِ أَوِ النَّفْيِ فَهُوَ الْغَرَضُ الْخَاصُّ وَالْمَقْصُودُ الْأَصْلِيُّ مِنَ الْكَلَامِ“، کہتے ہیں دیکھو اس لیے کہ کلام جب مشتمل ہو ایک زائد قید پر، ایک کلام کے اندر یا تو صرف اثبات ہوگا یا صرف نفی ہوگی: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، یا ”مَا زَيْدٌ بِقَائِمٍ“؛ لیکن اگر اثبات اور اس نفی پر کوئی زائد قید بھی ہو تو یاد رکھنا وہ قید غرضِ اصلی ہوگی، وہ قید کیا ہوگی؟ غرضِ اصلی ہوگی مقصودِ اصلی ہوگی کلام سے۔ تو یہاں پر کیا کہا کہنے والے نے: ”جَاءَنِي زَيْدٌ فَعَمْرٌو“، تو یہ فا کیا ہے؟ اگر اس کے بجائے واو کہہ دیا جاتا تو مجیئت دونوں کے لیے ثابت ہوتی، صرف اثبات اتا مجیئت زید کے لیے بھی ثابت ہے اور مجیئت عمرو کے لیے بھی، تو یہ تفصیلِ مسند الیہ ہو جاتی؛ لیکن یہاں پر فا ہے اور اس فا اثبات کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز کا بھی فائدہ دے رہا ہے کیا؟ ترتیب کا، کہ پہلے زید ایا اور پھر بغیر مہلت کے فوراً کون ایا؟ عمرو ایا۔ تو یہ قیدِ زائد ہوئی ایک زائد فائدہ ہوا، اور کلام میں جب وہ زائد فائدہ ا جائے تو وہ اس کلام کی کیا ہوتی ہے؟ غرضِ اصلی۔ گویا اپ کو یہ پہلے سے پتہ تھا کہ مجیئت زید کے لیے بھی ثابت ہے اور مجیئت عمرو کے لیے بھی ثابت ہے، اب میں نے اپ کو صرف یہ بتلانے کے لیے یہ کلام ذکر کیا ہے کہ پہلے زید ایا اور اس کے فوراً بعد کون ایا ہے؟ عمرو ایا ہے۔
”فَفِي هَذِهِ الْأَمْثِلَةِ تَفْصِيلُ الْمُسْنَدِ إِلَيْهِ كَأَنَّهُ أَمْرٌ كَانَ مَعْلُومًا، وَإِنَّمَا سِيقَ الْكَلَامُ لِبَيَانِ أَنَّ مَجِيءَ أَحَدِهِمَا كَانَ بَعْدَ الْآخَرِ“، پس ان مثالوں کے اندر مسند الیہ کی جو تفصیل ہے گویا ایسی چیز ہے جو پہلے سے ہی اپ کو معلوم تھی، اور کلام گویا اسی لیے چلایا گیا ہے یہ بیان کرنے کے لیے کہ ان میں سے ایک کا انا دوسرے کے بعد ہے۔ گویا یہ انا تو اپ کو پہلے سے پتہ تھا لیکن یہ کلام کس لیے چلایا گیا؟ اس زائد فائدے کے لیے یہ بتلانے کے لیے کہ پہلے زید ایا تھا اور پھر کون ایا؟ عمرو ایا۔
”فَلْيَتَأَمَّلْ“، پس چاہیے کہ غور و فکر کرے، یہ اس لیے فلیامل کہا کہ یہ قانون کلی نہیں ہے اغلبی ہے۔
”وَهَذَا الْبَحْثُ مِمَّا أَوْرَدَهُ الشَّيْخُ فِي دَلَائِلِ الْإِعْجَازِ وَوَصَّى بِالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِ“، اور یہ بحث ان ابحاث میں سے ہے جن کو لے کر ائے ہیں شیخ عبدالقاہر دلائل الاعجاز کے اندر، اور وصیت فرمائی ہے اس کی حفاظت کرنے کی، اس پر توجہ دینے کی۔ انہوں نے کیا کیا اس پر توجہ دینے کی اور اس کی حفاظت کرنے کی اسے محفوظ کرنے کی۔
هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔