Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-008

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 23 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 24
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ. الْحَمْدُ هُوَ الثَّنَاءُ بِاللِّسَانِ عَلَى قَصْدِ التَّعْظِيمِ، سَوَاءٌ تَعَلَّقَ بِالنِّعْمَةِ أَوْ بِغَيْرِهَا. وَالشُّكْرُ فِعْلٌ يُنْبِئُ عَنْ تعْظِيمِ الْمُنْعِمِ لِكَوْنِهِ مُنْعِمًا، سَوَاءٌ كَانَ بِاللِّسَانِ أَوْ بِالْجَنَانِ أَوْ بِالأَرْكَانِ. الْحَمْدُ سے لے کر الحمد کے بعد جو شرح شروع ہو رہی ہے، لِلهِ تک مولانا! اَلْحَمْدُ لِلهِ، یہ متن ہے؛ یہ درمیان میں جو شرح ہے، اس میں تین باتیں کریں گے علامہ تفتازانی رحمہ اللہ: حمد کی تعریف کریں گے، اور شکر کی تعریف کریں گے؛ پھر حمد اور شکر میں فرق بیان کریں گے، اور پھر ان دونوں کے درمیان نسبت بیان کریں گے۔ تعریف ہوگی، فرق بیان ہوگا، اور پھر ان دونوں کے درمیان نسبت بیان ہوگی بھئی۔ حمد کی تعریف تو اس لیے کریں گے کیونکہ یہ شارح ہیں اور شارح پابند ہوتا ہے متن کا، اور متن میں حمد کا لفظ آیا تو اب یہ کیا کریں گے اس کی؟ تعریف کریں گے۔ اور شکر کی تعریف اس لیے کریں گے کیونکہ یہ حمد آئی ہے کس چیز پر؟ عَلَى مَا أَنْعَمَ، یعنی عَلَى إِنْعَامِهِ، إنعام پر بھئی، نعمت دینے پر؛ اور وہ حمد جو نعمت کے مقابلے میں آئے، وہ کیا ہے؟ شکر ہے۔ شکر کسے کہتے ہیں بھئی؟ وہ حمد جو نعمت… جی آگے تعریف آ رہی ہے؛ تو جو حمد نعمت کے مقابلے میں ہو، وہ شکر بھی ہے، تو شکر کی بھی تعریف کر دیں گے۔ اور مدح کی تعریف نہیں کریں گے کیونکہ مدح کا ذکر نہیں۔ یا مدح کی تعریف اس لیے نہیں کریں گے کیونکہ ان کے مذہب کے مطابق حمد اور مدح ایک ہی چیز ہیں، جیسے کہ علامہ زمخشری کا مذہب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: الْحَمْدُ هُوَ الثَّنَاءُ بِاللِّسَانِ، وہ تعریف کرنا ہے زبان کے ساتھ، عَلَى قَصْدِ التَّعْظِيمِ، تعظیم کے ارادے سے۔ سمجھ میں آیا؟ تعظیم کے ارادے سے، تو انسان… تو اس سے وہ حمد خارج ہوئی جو استہزاء کے طریقے پر ہو بھئی۔ کبھی کبھار دوسرے کی تعریف کرتا ہے، لیکن مقصد کیا ہوتا ہے؟ استہزاء مقصود ہوتا ہے، تعظیم مقصود نہیں ہوتی۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے کوئی آپ کا ساتھی مثلاً، وہ بڑا ڈرنے والا ہے، چھوٹی سی چیز ہو اس سے بھی ڈر جاتا ہے، تو وہ آتا ہے، آپ کہتے ہیں بھئی: شیر آ گیا، شیر بھئی! یہ تو بڑا بہادر ہے بھئی! تو اب آپ کا مقصد کیا ہے؟ اس کے ساتھ استہزاء کر رہے ہیں بھئی جی۔ تو یہ خارج کیا اس کو قَصْدِ التَّعْظِيمِ سے بھئی۔ الْحَمْدُ هُوَ الثَّنَاءُ بِاللِّسَانِ، وہ تعریف ہے زبان کے ساتھ، عَلَى قَصْدِ التَّعْظِيمِ، تعظیم کے ارادے پر، سَوَاءٌ تَعَلَّقَ بِالنِّعْمَةِ أَوْ بِغَيْرِهَا، برابر ہے کہ اس تعریف کا تعلق کس کے ساتھ ہو؟ نعمت کے ساتھ ہو یا غیرِ نعمت کے ساتھ۔ تو یہ تعریف، حمد جو ہے، نعمت کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے اور غیرِ نعمت کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے۔ وَالشُّكْرُ فِعْلٌ يُنْبِئُ عَنْ تعْظِيمِ الْمُنْعِمِ، اور شکر وہ ایسا فعل ہے جو خبر دیتا ہے منعم، نعمت دینے والے کی تعظیم کی؛ کوئی ایسا فعل کرتے ہیں جس سے نعمت کے والد… نعمت دینے والے کی تعظیم ظاہر ہو، تو وہ کیا کہلائے گا؟ شکر۔ تو وہ خبر دیتا ہے نعمت دینے والے کی تعظیم کی، لِكَوْنِهِ مُنْعِمًا، بوجہ اس کے منعم ہونے کے، نعمت دینے والا ہونے کے، سَوَاءٌ كَانَ بِاللِّسَانِ أَوْ بِالْجَنَانِ أَوْ بِالأَرْكَانِ، برابر ہے چاہے یہ زبان کے ساتھ ہو، أَوْ بِالْجَنَانِ، یا دل کے ساتھ ہو، أَوْ بِالأَرْكَانِ، یا اعضاء کے ساتھ ہو بھئی۔ ارکان، اعضاء، جوارح ایک معنی ہے بھئی۔ تو چاہے یہ لسان سے ہو، چاہے یہ قلب سے ہو، اور چاہے یہ اعضاء کے ساتھ ہو بھئی۔ تو شکر ایسا فعل ہے، ایسا امر ہے، جو زبان سے بھی ہو سکتا ہے، قلب سے بھی، اور اعضاء سے بھی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے مولانا ایک ساتھی ہو آپ کا بھئی، اس نے آپ کو چائے پلائی بھئی، تو آپ نے دل میں اس کے بارے میں اچھا خیال قائم کیا کہ یہ تو نیک آدمی ہے، بڑا ولی اللہ آدمی ہے بھئی؛ حاتم طائی ہے، حاتم طائی؛ طلباء کو کیا کرتا ہے؟ چائے پلاتا ہے۔ تو یہ مولانا قلب کے اندر جو آپ نے اچھا اعتقاد رکھا، یہ بھی کیا ہے؟ شکر ہے۔ تو یہ شکرِ قلبی ہوا؛ یا زبان سے یہی الفاظ کہہ دیتے ہیں مولانا، تعریف کرتے ہیں، تو یہ کیا ہوئی؟ لسان کے ساتھ ہوا شکر؛ یا مولانا اعضاء کے ساتھ مولانا، آپ اس کی کچھ خدمت کر دیتے ہیں یا اس کے کچھ احکامات پر کیا کرتے ہیں؟ عمل کر لیتے ہیں، تو یہ شکر بالاعضاء ہوا۔ تو یہ حمد کی بھی تعریف گزر گئی مولانا، شکر کی بھی۔ اب مولانا فرق بیان کر رہے ہیں دونوں میں۔ بھئی حمد کی انہوں نے کیا تعریف کی؟ کس کے ساتھ ہونی چاہیے؟ زبان کے ساتھ؛ تو معلوم ہوا موردِ حمد صرف زبان ہے؛ مورد، جائے ورود، جہاں سے ادا ہو، تو حمد کس سے ادا ہوگی صرف؟ زبان سے؛ قلب اور اعضاء سے نہیں، وہ حمد نہیں کہلائے گی بھئی۔ فَمَوْرِدُ الْحَمْدِ لاَ يَكُونُ إِلاَّ اللِّسَانَ، پس حمد کا مورد نہیں ہوگا مگر زبان ہی، وَمُتَعَلَّقُهُ… اور یہ کس کے مقابلے میں ہے مولانا؟ نعمت کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے حمد، اور غیرِ نعمت… وَمُتَعَلَّقُهُ يَكُونُ النِّعْمَةَ وَغَيْرَهَا، اور اس کا متعلق جو ہے نعمت بھی ہوگا اور غیرِ نعمت بھی۔ وَمُتَعَلَّقُ الشُّكْرِ لاَ يَكُونُ إِلاَّ النِّعْمَةَ، اور شکر کا متعلق صرف نعمت ہی ہوگا؛ شکر ہمیشہ کس کے مقابلے میں آئے گا؟ نعمت کے مقابلے میں آئے گا، غیرِ نعمت کے مقابلے میں نہیں۔ وَمَوْرِدُهُ يَكُونُ اللِّسَانَ وَغَيْرَهُ، جبکہ مورد اس کا جہاں سے یہ ادا ہو، وہ لسان بھی ہو سکتی ہے اور غیرِ لسان، قلب اور جوارح بھی ہو سکتے ہیں۔ تو دیکھو ایک ہے مورد جہاں سے ادا ہو۔ مورد کے اعتبار سے شکر عام ہے مولانا، کیونکہ وہ لسان سے بھی ہے، قلب سے بھی ہے، اور اعضاء سے بھی؛ جبکہ مورد کے اعتبار سے حمد خاص ہوئی کیونکہ وہ صرف کس سے ہے؟ زبان سے ہے۔ اور متعلق کے اعتبار سے مولانا حمد عام ہے اور شکر خاص، کیونکہ شکر صرف کس کے مقابلے میں؟ نعمت کے مقابلے میں، اور حمد نعمت کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے اور غیرِ نعمت کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے۔ یہی بات کر رہے ہیں: وَمُتَعَلَّقُ الشُّكْرِ لاَ يَكُونُ إِلاَّ النِّعْمَةَ وَمَوْرِدُهُ يَكُونُ اللِّسَانَ وَغَيْرَهُ. تو اب آگے نسبت بیان کر رہے ہیں مولانا۔ تو دیکھیے مولانا، حمد کا متعلق کیا ہے؟ کس کے مقابلے میں آئی ہے؟ نعمت بھی اور غیرِ نعمت بھی؛ اور شکر کا متعلق کیا ہے؟ نعمت؛ تو کون عام ہوا بھئی؟ حمد عام ہوئی اور شکر کیا ہوا؟ خاص ہوا۔ فَالْحَمْدُ أَعَمُّ مِنَ الشُّكْرِ بِاعْتِبَارِ الْمُتَعَلَّقِ، پس حمد عام ہے شکر سے متعلق کے اعتبار سے، وَأَخَصُّ بِاعْتِبَارِ الْمَوْرِدِ، اور خاص ہے مورد کے اعتبار سے؛ خاص ہے مولانا، اس لیے کہ مورد شکر کے تین ہیں: زبان بھی، قلبی، اور جوارح، اعضاء بھی؛ اور جبکہ حمد کا مورد صرف کیا ہے؟ زبان، وَالثَّنَاءُ بِاللِّسَانِ، جی، صرف زبان کے ساتھ۔ تو دونوں میں مولانا عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہوئی بھئی، عموم و خصوص مطلق۔ دیکھو، حمد کس کے مقابلے میں آئے گی؟ نعمت اور غیرِ نعمت، اور شکر صرف نعمت؛ تو ہر شکر تو حمد ہے، لیکن ہر حمد شکر نہیں؛ تو عموم و خصوص مطلق کی نسبت آئی دونوں میں مولانا؛ جیسے ہر انسان تو حیوان ہے، لیکن ہر حیوان انسان نہیں؛ تو یہ عموم و خصوص… اور اسی طرح مورد کے اعتبار سے بھی مولانا، موردِ حمد کیا ہے صرف؟ لسان، اور شکر کا مورد کیا ہے؟ لسان بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قلب اور اعضاء بھی ہیں؛ تو ہر حمد، مورد کے اعتبار سے، کیا ہے؟ شکر ہے، کیونکہ حمد زبان سے ہے تو شکر بھی زبان سے ہے، لیکن شکر تو ساتھ ساتھ قلب اور جوارح سے بھی ہوتا ہے اور قلب اور جوارح سے حمد نہیں ہوتی، تو ہر شکر حمد نہیں، مورد کے اعتبار سے۔ تو ان میں بھی عموم و خصوص مطلق کی نسبت مورد کے اعتبار سے بھی بھئی۔ فَالْحَمْدُ أَعَمُّ مِنَ الشُّكْرِ بِاعْتِبَارِ الْمُتَعَلَّقِ، پس حمد عام ہے شکر سے متعلق کے اعتبار سے، وَأَخَصُّ بِاعْتِبَارِ الْمَوْرِدِ، اور خاص ہے مورد کے اعتبار سے، وَالشُّكْرُ بِالْعَكْسِ، اور شکر اس کا عکس ہے؛ یعنی شکر اعم ہوگا مورد کے اعتبار سے، اور اخص ہوگا متعلق کے اعتبار سے۔ جہاں بھی مولانا حمد آئے، وہاں چار چیزوں کا جاننا ضروری ہے: حامد، محمود، محمود علیہ، اور محمود بہ۔ حامد، محمود، محمود علیہ، اور محمود بہ۔ حامد: حمد کرنے والا؛ محمود: جس کی حمد کی جائے؛ محمود علیہ: وہ وصف جس پر حمد کی ہے، مثلاً آپ کے ساتھی نے آپ کو چائے پلائی مولانا، یہ چائے پلانے کا وصف، یہ کیا ہے؟ محمود علیہ ہے؛ اور محمود بہ: وہ الفاظ جن کے ساتھ آپ حمد بیان کرتے ہیں بھئی، آپ نے کیا کہا تھا: یہ تو بڑا نیک آدمی ہے، بڑا ولی اللہ ہے، یہ کیا ہے؟ محمود بہ ہے بھئی۔ حامد: حمد کرنے والا؛ محمود: جس کی حمد کی جائے؛ محمود علیہ: وہ وصف جس پر حمد کی جائے؛ اور محمود بہ: وہ الفاظ جن کے ساتھ حمد کی جائے۔ لِلهِ، یہ خبر ہے مولانا حمد کی، الْحَمْدُ کی؛ الْحَمْدُ مبتدا ہے، لِلهِ اس کی خبر؛ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ اب آگے مولانا، عَلَى مَا أَنْعَمَ، یہاں تک جو شرح آ رہی ہے، اس شرح میں علامہ تفتازانی لفظِ اللہ کی تحقیق کریں گے اور دو اعتراضات یا اشکالات کے جواب دیں گے، دو سوالوں کے جواب دیں گے مولانا۔ لِلهِ، هُوَ اسْمٌ لِلذَّاتِ الْوَاجِبِ الْوُجُودِ الْمُسْتَحِقِّ لِجَمِيعِ الْمَحَامِدِ. اسم یاد رکھو مولانا، تین چیزوں کے مقابلے میں آتا ہے؛ آپ نے پڑھا ہے: کلمے کی کتنی قسمیں ہیں؟ تین: اسم، فعل، اور حرف؛ تو یہاں اسم کس کے مقابلے میں آیا؟ فعل اور حرف، یعنی جب آپ کہیں یہ اسم ہے، معلوم ہوا فعل اور حرف نہیں؛ تو اسم کبھی فعل اور حرف کے مقابلے میں آتا ہے، اور کبھی لقب اور کنیت کے مقابلے میں آتا ہے بھئی، لقب اور کنیت کے مقابلے میں آتا ہے، یعنی نام۔ تو اسم… لقب کس کو کہتے ہیں؟ ہاں، وہ صفاتی نام جو قوم وغیرہ کی طرف سے کسی کو دیا جائے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ لقب کہلاتا ہے، جیسے علامہ تفتازانی کا لقب کیا ہے بھئی؟ سعد الدین، سمجھ میں آیا؟ اور کنیت وہ ہے جس کے شروع میں اب، ام، یا ابن وغیرہ آئیں مولانا، جیسے ہے مولانا: ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ، تو یہ ابو شروع میں آیا مولانا، یہ کیا ہے؟ ابو ہریرہ اب کنیت؛ اسی طرح ابو الدرداء مولانا رضی اللہ تعالی عنہ، یہ بھی کیا ہے؟ کنیت ہے؛ اسی طرح جیسے ابن عمر، یہ بھی کیا ہے مولانا؟ کنیت ہے۔ اور کبھی اسم مقابلے میں آتا ہے لقب اور کنیت کے، اور کبھی اسم مقابلے میں آتا ہے صفت کے، صفت۔ تو یہاں آخری دو میں سے کوئی ایک بھی مراد ہو سکتا ہے، اول نہیں مولانا، فعل اور حرف سے اعتراض نہیں؛ ہاں، اسم کا یہ معنی یعنی یہ لقب یا کنیت نہیں، نام ہے مولانا، نام، علمیت؛ یا، یعنی یہ صفت نہیں ہے مولانا، صفت نہیں ہوئی۔ هُوَ اسْمٌ لِلذَّاتِ الْوَاجِبِ الْوُجُودِ، وہ نام ہے ایسی ذات کا جو واجب الوجود ہے؛ واجب الوجود وہ ذات جو مولانا خود بخود ہو، جو خود بخود ہو، جس کا ہونا ضروری ہو، اپنے ہونے میں کسی کی محتاج نہ ہو، وہ واجب الوجود ہے مولانا؛ جس کا ہونا ضروری، خود بخود ہو، اپنے ہونے میں کسی کا محتاج نہ ہو بھئی۔ الْمُسْتَحِقِّ، جو مستحق ہے، لِجَمِيعِ الْمَحَامِدِ، تمام حمدوں کی؛ وہ نام ہے ایسی ذات کا جو واجب الوجود ہے اور مستحق ہے تمام حمدوں کی؛ تمام حمدوں کی مستحق ہے وہ ذات، کیونکہ اللہ کسی چیز کے اندر کوئی بھی خوبی پائی جاتی ہے جس پر اس کی حمد کی جاتی ہے، تعریف کی جاتی ہے، تو تمام چیزوں کے خالق کون ہیں؟ اللہ تعالی، تو اس کے اندر وہ خوبی بھی اللہ نے پیدا کی، تو اس چیز کی تعریف بھی دراصل کس کی تعریف ہے ذاتِ باری تعالی کی؟ تو کہنا یہ چاہتے ہیں کہ لفظِ اللہ علم ہے مولانا، لفظِ اللہ کیا ہے؟ علم ہے، اس لیے کہ بعض علماء فرماتے ہیں: یہ اصل میں "إِلٰهٌ" تھا، اس پر الف لام داخل ہوا بھئی؛ اور یہ بتلا رہے ہیں: نہیں بھئی، یہ کیا ہے ذاتِ باری تعالی کے لیے؟ علم ہے، نام ہے؛ یہ اسی طرح تھا۔ اچھا جی! وَالْعُدُولُ إِلَى الْجُمْلَةِ الاِسْمِيَّةِ، یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے: اَلْحَمْدُ مبتدا ہے، لِلهِ اس کی خبر ہے، اور یہ جملہ اسمیہ ہوا؛ سوال کہ جملہ فعلیہ کیوں نہیں لائے بھئی؟ جملہ فعلیہ کیوں نہیں لائے؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں مولانا، کہ جملہ اسمیہ کی طرف عدول کیا تاکہ وہ دلالت کرے دوام اور ثبات پر بھئی، دوام اور ثبات کا ایک معنی ہے، یا پھر تفسیری ہے بھئی۔ یاد رکھو مولانا، جملے… جملہ فعلیہ جو ہے، وہ حدوث پر دلالت کرتا ہے، ہونے پر، کسی چیز کے ہونے پر؛ کوئی چیز پہلے نہیں تھی، اس کا حدوث ہوا، ہو گئی؛ جیسے ضَرَبَ زَيْدٌ مولانا، ضرب پہلے نہیں تھی، پھر اس کا حدوث ہوا، ہونا پایا گیا بھئی۔ تو جملہ فعلیہ حدوث پر دلالت کرتا ہے، کبھی کبھار یہ استمرار پر بھی دلالت کرتا ہے کسی قرینے کی وجہ سے۔ تو قرینہ ساتھ مل جائے تو کبھی کس پر دلالت کرتا ہے؟ استمرار پر بھی دلالت کرتا ہے، ایک چیز کا بار بار ہونا پایا جائے جس میں، بشرطیکہ کہ وہ جملہ فعلیہ جو ہے مضارع ہو، یعنی صیغہ مضارع ہو اس میں، ماضی نہ ہو؛ تو جملہ فعلیہ صرف حدوث پر دلالت کرتا ہے، لیکن اگر فعلِ مضارع کے ساتھ آئے تو پھر کبھی کبھی ساتھ قرینہ مل جانے سے وہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ ورنہ صرف حدوث پر۔ جبکہ جملہ اسمیہ جو ہے، شیخ عبد القاہر جرجانی بھئی جو امام ہیں اس فن کے، وہ فرماتے ہیں کہ جملہ اسمیہ صرف ثبوت کے لیے آتا ہے کہ یہ چیز اس کے لیے ثابت ہے؛ میں نے کہا: زَيْدٌ قَائِمٌ، تو اس نے صرف کس چیز… یہ جملہ اسمیہ ہے، اس نے صرف اس بات پر دلالت کی کہ قیام زید کے لیے ثابت ہے، بس؛ ہاں اس کے ساتھ کبھی کبھی کوئی قرینہ مل جاتا ہے، تو وہ قرینہ پھر دوام پر بھی دلالت کرتا ہے، پھر یہ جملہ اسمیہ کس پر دلالت کرے گا؟ دوام پر بھی دلالت کرے گا، ورنہ ویسے صرف نفسِ ثبوت ہوگا ایک چیز کا، دوام پر دلالت نہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں: زَيْدٌ طَوِيلٌ، یہ بھی جملہ اسمیہ ہے: زید طویل ہے، اور جملہ اسمیہ صرف کس پر دلالت کرتا ہے؟ ثبوت پر؛ لیکن یہاں ایک اور قرینہ بھی ساتھ مل گیا، وہ یہ کہ طویل، لمبا ہونا، یہ ایسا وصف ہے جو ایک چیز کے ساتھ کیا ہوتا ہے مولانا؟ دائماً ہوتا ہے، یہ ہو سکتا ہے بھئی کبھی لمبا ہو کبھی لمبا نہ ہو شخص؟ جی، لمبا ہے تو کیا رہے گا؟ دائماً وہ لمبا ہی ہے بھئی، یہ وصف اس کے ساتھ ہی، تو یہاں پر ایک قرینہ ساتھ مل گیا کہ یہ وصف کیسا ہوتا ہے؟ دائماً ساتھ ہو۔ تو معلوم ہوا جملہ اسمیہ کس پر دلالت کرتا ہے صرف؟ ثبوت پر، لیکن ساتھ قرینہ مل جائے تو پھر یہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ دوام… جیسے یہاں اَلْحَمْدُ لِلهِ مولانا، حمد ہو رہی ہے، تو یہ حمد، یہ قرینہ ہے مقامِ حمد کہ یہ دوام کے لیے ہے، کس لیے؟ دوام کے لیے ہے۔ تو مقامِ حمد میں بھی وہ دوام پر دلالت کرتا ہے بھئی، جملہ اسمیہ۔ اور پھر یاد رکھو، جملہ اسمیہ کی خبر بھی کبھی جملہ ہوتی ہے اور کبھی مفرد: زَيْدٌ قَائِمٌ، زَيْدٌ ہے مبتدا، قَائِمٌ اس کی خبر، اور قَائِمٌ مفرد ہے یا جملہ ہے؟ قَائِمٌ مفرد ہے مولانا؛ تو قَائِمٌ مفرد ہے، تو جملہ اسمیہ کی خبر مفرد آئے، تو پھر اس صورت میں وہ کیا کرتا ہے؟ دوام پر دلالت کرے گا بھئی، قرینے کی وجہ سے۔ یا جملہ کی خبر وہ پھر کبھی جملہ ہوتی ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ، اب زَيْدٌ مبتدا ہے، هُوَ قَائِمٌ یہ پھر پورا جملہ ہے، مبتدا خبر ہیں، اور یہ پورا جملہ مل کر پھر زید کے لیے خبر ہے؛ تو اب بھی یہ کس پر دلالت کرے گا قرینے کی وجہ سے؟ دوام پر دلالت کر سکتا ہے؛ لیکن اگر جملہ اسمیہ کی خبر جملہ فعلیہ آ جائے: زَيْدٌ قَامَ، زَيْدٌ مبتدا اور قَامَ جملہ فعلیہ اس کی خبر ہے، تو پھر اس صورت میں جملہ اسمیہ جو ہے مولانا حدوث پر دلالت کرے گا، حدوث اور تجدد پر۔ یا یوں کہیں مولانا، یوں کہیں کہ جملہ فعلیہ کی خبر… جملہ اسمیہ کی خبر اگر مفرد ہو یا جملہ اسمیہ ہو، تو پھر یہ ثبوت پہ دلالت کرے گا، اور اگر جملہ اسمیہ کی خبر فعل ہو، تو پھر یہ حدوث پر دلالت کرے گا۔ وَالْعُدُولُ إِلَى الْجُمْلَةِ الاِسْمِيَّةِ لِلدَّلاَلَةِ عَلَى الدَّوَامِ وَالثَّبَاتِ، اور عدول کیا جملہ اسمیہ کی طرف تاکہ یہ دلالت کرے مولانا دوام اور ثبات پر، دوام اور ثبات کا ایک معنی ہے بھئی۔ تو عدول کیا، معلوم ہوا یہ پہلے کیا تھا جملہ فعلیہ تھا، پھر اس کو کیا بنا دیا جملہ اسمیہ بھئی؛ اصل میں کیا تھا؟ حَمِدْتُ اللهَ حَمْدًا، حَمِدْتُ اللهَ حَمْدًا؛ پھر مولانا حَمِدْتُ، فعل بافاعل حذف کر دیا، اور مصدر کو اس کا قائم مقام بنا دیا، مصدر کو اس کا قائم مقام بنا دیا جو حَمْدًا آ رہا تھا مولانا، اور پھر اس کو جملہ اسمیہ بنا دیا بھئی۔ یہ ایک اشکال کا جواب گزرا بھئی۔ دوسرا اشکال یہ ہوتا ہے کہ یہاں جملہ آیا اَلْحَمْدُ لِلهِ بھئی، ذاتِ باری تعالی کا نام آ رہا ہے مولانا، اور اس جس کو ہم نے کیا بنا دیا؟ خبر بنا دیا، اور حمد کو کیا بنایا؟ مبتدا بنا کر مقدم رکھا بھئی؛ تو اس ذاتِ باری تعالی کا نام اہم ہے، اس کو مقدم کرنا چاہیے تھا، اس کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ مقدم کرنا چاہیے تھا! کہتے ہیں بھئی: ٹھیک ہے، ذاتِ باری تعالی کا نام اہم ہے، لیکن کبھی کبھار مقام کے مناسبت سے دوسری چیز بھی کیا ہوتی… بن جاتی ہے؟ اہم بن جاتی ہے، تو اس صورت میں اس دوسرے لفظ کو مقدم کرنا بھی درست ہے بھئی، تو بلکہ ضروری، موقع و محل کے مطابق کہ وہ مقام اس کا تقاضا کرتا ہے، تو یہ چونکہ مقامِ حمد تھا، تو یہ چونکہ مقامِ حمد ہے، اور مقامِ حمد میں کیا اہم ہے مولانا؟ حمد اہم، تو لہذا اس کو کیا کر دیا اَلْحَمْدُ کو؟ مقدم کر دیا؛ یہ یہ اسی طرح ہے جیسے علامہ زمخشری صاحبِ کشاف جو ہیں، وہ ذکر کرتے ہیں اللہ تعالی کے اس قول کے اندر: اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ، یہاں تو بھئی بِاسْمِ رَبِّكَ بھئی، اس کو کیا ہونا چاہیے؟ مقدم ہونا چاہیے، لیکن اِقْرَأْ کو مقدم کیا گیا، کیوں؟ کیونکہ یہ مقام تقاضا کر رہا تھا، یہ مقامِ قرائت تھی، تو پہلی آیت نازل ہوئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قرائت کا حکم دیا جا رہا ہے، تو اس مقام پر یہ مقام تقاضا کرتا ہے کہ کس کو مقدم کیا جائے؟ اِقْرَأْ فعل کو مقدم کیا جائے، تو اس کو مقدم کیا گیا۔ وَتَقْدِيمُ الْحَمْدِ بِاعْتِبَارِ أَنَّهُ أَهَمُّ، اور حمد کا مقدم کرنا اس اعتبار سے ہے کہ یہ اہم ہے، نَظَرًا إِلَى كَوْنِ الْمَقَامِ مَقَامَ الْحَمْدِ، نظر کرتے ہوئے اس بات کی طرف کہ مقام کون سا ہے؟ مقامِ حمد ہے، كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ صَاحِبُ الْكَشَّافِ، جس کی طرف ذہاب کیا ہے صاحبِ کشاف نے، جس کی طرف صاحبِ کشاف گئے ہیں، فِي تَقْدِيمِ الْفِعْلِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ"، تقديمِ فعل کے بارے میں جو گئے ہیں اللہ کے اس قول میں: اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ، کہ اس میں فعل کو کیوں مقدم کیا گیا، عَلَى مَا سَيَجِيءُ، بناء بر اس کے جو عنقریب آئے گا بھئی، عنقریب وہ ذکر کریں گے اس کو متعلقاتِ فعل وغیرہ میں کہ اس کو کیوں مقدم کیا۔ وَإِنْ كَانَ ذِكْرُ اللهِ أَهَمَّ نَظَرًا إِلَى ذَاتِهِ، اگرچہ ذکرُ اللہ جو ہے وہ اہم ہے مولانا، سب سے، نظر کرتے ہوئے اس کی ذات کی طرف بھئی، کیونکہ وہ ذاتِ باری تعالی کیا ہے؟ خالق ہے تمام چیزوں کی، تمام نعمتیں دینے والی ہے، ہر چیز کو پیدا کرنے والی ہے، تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کو کیا کیا جائے اس کے نام کو؟ سب پر مقدم کیا جائے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ عَلَى مَا أَنْعَمَ، أَيْ عَلَى إِنْعَامِهِ. أَيْ عَلَى إِنْعَامِهِ کے ذریعے علامہ تفتازانی بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ "ما" مصدریہ ہے بھئی۔ بھئی اس "ما" کے اندر دو احتمال تھے: یا تو یہ "ما" مصدریہ ہے، یا یہ "ما" موصولہ ہے۔ تو یہ "ما" مصدریہ بھی بنا سکتے ہیں، "ما" موصولہ بھی؛ اب ان میں سے کون سا بنایا جائے؟ تو علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں: أَيْ عَلَى إِنْعَامِهِ؛ بھئی أَنْعَمَ فعل، اور اس پر "ما" مصدریہ داخل ہوا، اور "ما" مصدریہ مابعد فعل کو کس کے حکم میں کر دیتا ہے؟ مصدر کے؛ تو أَنْعَمَ يُنْعِمُ إِنْعَامًا، تو إِنْعَام مصدر کے معنی میں ہوا، أَيْ عَلَى إِنْعَامِهِ؛ معلوم ہوا یہ "ما" مصدریہ لینا اولیٰ ہے۔ "ما" مصدریہ ہی بنایا جائے گا اس کو مولانا، "ما" موصولہ نہیں بنا سکتے؛ دو وجہیں ہیں: ایک لفظی ہے، اور ایک معنوی۔ اچھا مولانا، علامہ تفتازانی کیا بتلا رہے ہیں بھئی؟ مَا أَنْعَمَ کے اندر "ما" کو کیا بنایا جائے گا؟ مصدریہ بنایا جائے گا، موصولہ نہیں بنا سکتے بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی۔ عَلَى مَا أَنْعَمَ، تو یاد رکھیے مولانا، "ما" مصدریہ جو ہے وہ حرف ہے، اور "ما" موصولہ جو ہے وہ اسم ہے۔ تو وہ ایک اسمِ موصول ہے، "ما" موصولہ کیا ہے؟ اسمِ موصول؛ اور "ما" مصدریہ کیا ہے؟ حرفِ موصول؛ "ما" مصدریہ کیا کہلاتا ہے؟ حرفِ موصول کہلاتا ہے مولانا؛ تو جیسے موصول کے لیے صلہ ضروری ہے، اور موصول کا صلہ ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ ہوگا، ہمیشہ کیا ہوگا؟ جملہ ہوگا؛ اسی طرح "ما" مصدریہ حرفِ موصول ہے، یہ بھی صلہ چاہتا ہے، اور اس کا صلہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ جملہ فعلیہ ہوگا، اس کا صلہ کیا ہوگا جملہ؟ فعلیہ ہوگا؛ لیکن فرق یہ ہے مولانا، کہ "ما" موصولہ جو ہے، وہ اسمِ موصول ہے، وہ عائد چاہتا ہے جملہ صلے کے اندر؛ جبکہ حرفِ موصول جو ہے "ما" مصدریہ، وہ عائد نہیں چاہتا بھئی۔ عائد جانتے ہو بھئی؟ بھئی دیکھیے، یہ ہے اسمِ موصول مولانا، یہ آگے آئے گا اس کا صلہ، اور یہ صلہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ جملہ ہوگا مولانا؛ اور جملہ مستقل ہوتا ہے، وہ کسی کے ساتھ جڑنے کا محتاج نہیں ہوتا؛ لیکن آپ اس جملے کو جوڑ کر کیا بنانا چاہتے ہیں موصول… اسمِ موصول کا صلہ؟ تو درمیان میں ربط چاہیے مولانا، کیا چاہیے؟ ربط چاہیے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جیسے مولانا ریل گاڑی ہے، ایک اس کا آگے انجن ہے اور پیچھے ڈبے ہیں، تو جب تک انجن کے ساتھ ڈبوں کا ربط نہیں آئے گا، وہ اس کو ساتھ لے کر نہیں چلے گی؛ تو یہاں بھی موصول… اسمِ موصول آیا، آگے صلہ آیا، درمیان میں کیا چاہیے؟ ربط چاہیے، اور یہ ربط عموماً ضمیر کی شکل میں ہوگا، کوئی ایسی ضمیر ہوگی اس جملے میں جو اس اسمِ موصول کی طرف لوٹ رہی ہوگی، یہ عائد کہلاتی ہے۔ یہ چیز جو جملے میں موجود ہوتی ہے اور ربط دیتی ہے اسمِ موصول کے ساتھ یا ماقبل کے ساتھ جملے کو، وہ کیا کہلاتی ہے؟ عائد؛ تو اسمِ موصول کا جو صلہ ہے، اس میں عائد کا ہونا ضروری، یعنی کوئی ایسی ضمیر ہو جو کس کی طرف لوٹے؟ اسمِ موصول کی طرف؛ لیکن جو حرفِ موصول ہے "ما" مصدریہ، اس کا بھی آگے صلہ ہی ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر عائد کا ہونا ضروری نہیں، کیونکہ یہ حرف ہے "ما" بھئی۔ تو اب اگر ہم اس کو "ما" موصولہ بنائیں، تو لفظی خرابی یہ لازم آتی ہے کہ مَا أَنْعَمَ، بناء بر اس کے جو اس نے أَنْعَمَ، جو اس نے انعام کیا بھئی، تو هُوَ ضمیر لوٹے گی لفظِ اللہ کو بھئی، انعام کرنے والی ذات کون سی ہے؟ اللہ کی؛ تو أَنْعَمَ کے اندر هُوَ ضمیر ہوگی جو راجع ہے لفظِ اللہ کو، اور عائد کوئی نہیں۔ حالانکہ یہ مَا أَنْعَمَ، یہ أَنْعَمَ کیا ہے مولانا؟ صلہ ہے "ما" کا، اور اس کے اندر کیا ہونا چاہیے؟ عائد ہونا چاہیے، اور کوئی عائد ضمیر ہے؟ نہیں۔ ہاں محذوف بھی نکال سکتے ہیں آپ، محذوف کیا نکالیں؟ مَا أَنْعَمَ بِهِ بھئی، جس کے ساتھ اس نے انعام کیا بھئی؛ اب مثلاً مسئلہ حل ہو گیا۔ اب هٰذَا بِهِ کی هٰذَا ضمیر کس کو راجع ہے؟ بھئی ٹھیک ہے، یہاں تو مسئلہ حل ہو جائے گا، آپ کہتے ہیں: نہیں بھئی، اس کو "ما" موصولہ ہی بناؤ اور آگے بِهِ کو کیا کر لو؟ محذوف نکال لو، تو اب تو عائد آ گیا، اب تو "ما" موصولہ بناؤ اس کو؛ ہم کہتے ہیں مولانا کہ ٹھیک ہے، یہاں مسئلہ حل ہو جائے گا، لیکن آگے آ رہا ہے: وَعَلَّمَ مِنَ الْبَيَانِ مَا لَمْ نَعْلَمْ، اور یہ عَلَّمَ مِنَ الْبَيَانِ مَا لَمْ نَعْلَمْ، یہ اس کا عَلَّمَ کا عطف ہو رہا ہے أَنْعَمَ پر، اور أَنْعَمَ "ما" موصولہ کے لیے آپ نے کیا بنایا تھا؟ صلہ، تو عَلَّمَ بھی کیا بن جائے گا؟ صلہ بن جائے گا، اور جیسے اس صلے کے اندر عائد کا ہونا ضروری تھا، اس صلے کے اندر بھی عائد کا ہونا ضروری؛ تو وہاں تو آپ نے محذوف نکال کر مسئلہ حل کر لیا تھا، لیکن یہاں پر عائد موجود نہیں اور آپ محذوف بھی نہیں نکال سکتے مولانا، تو پھر یہ والا صلہ بغیر عائد کے رہ جائے گا، اور بغیر عائد کے صلہ نہیں آ سکتا؛ تو معلوم ہوا اس "ما" کو موصولہ بنانا درست نہیں ہے۔ یہ تھی لفظی وجہ بھئی۔ اور ایک وجہ ہے معنوی، کہ جس کی وجہ سے اس کو "ما" مصدریہ بنایا جائے گا۔ تو دیکھو یہ بیان ہو رہا ہے مولانا محمود علیہ کا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، کیوں؟ عَلَى مَا أَنْعَمَ، اس کے نعمت دینے پر بھئی، اس کے انعام کرنے پر حمد ہے مولانا؛ اور جس چیز پر حمد کی جائے، وہ کیا کہلاتی ہے؟ ابھی آپ کو بتایا بھئی: محمود علیہ بھئی؛ تو یہ محمود علیہ کا بیان ہو رہا ہے، وہ وصف جس پر… تو اللہ کی حمد ہے کس چیز پر؟ انعام کرنے پر، انعام کرنے پر؛ اور انعام کرنا، نعمت دینا یہ اللہ کا وصف ہوا، اور جب اللہ انعام کریں گے تو آپ کے پاس کیا آئے گی؟ نعمت آئے گی، اس کا اثر کیا ہوگا؟ نعمت آپ کو حاصل ہوگی۔ تو اگر ہم اس "ما" کو مصدریہ بنائیں، تو ہوگا: عَلَى إِنْعَامِهِ، اللہ کی حمد ہے اس کے انعام کرنے پر، وہ اللہ کا فعل ہے مولانا؛ وہ کیا ہے اللہ کا؟ فعل ہے؛ تو اب اللہ کے فعل پر اللہ کی حمد کی آپ نے؛ اور ایک… اگر ہم اس "ما" کو موصولہ بنائیں، تو پھر اس "ما" سے مراد وہ نعمت ہوگی: اللہ کی حمد ہے اس چیز پر جو اس نے انعام کی، اس چیز پر جو اس نے انعام کی، اور وہ نعمت ہے مولانا جو انعام کی، وہ کیا ہے؟ تو اس صورت میں پھر حمد ہوئی نعمت پر؛ اگر "ما" کو مصدریہ بنائیں تو پھر کس پر نعمت ہے؟ اللہ کے نعمت… مصدریہ پر، انعام کر… نعمت دینے پر، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ذرا مشکل ہے۔ اگر "ما" کو مصدریہ بنائیں تو پھر حمد کس چیز پر ہوئی؟ اللہ کے انعام کرنے پر؛ اور اگر اس "ما" کو موصولہ بنائیں، تو اللہ کی حمد کس پر ہوئی؟ نعمت پر؛ کس پر؟ ایک ہے نعمت، اور ایک ہے نعمت دینا؛ نعمت دینا فعل ہے، اور نعمت آگے اس کا اثر ہے بھئی، نعمت کیا ہے اس کا؟ اثر؛ تو اگر اس "ما" کو مصدریہ بنائیں تو یہ نعمت دینے پر حمد ہے، اور اگر اس "ما" کو موصولہ بنائیں تو اس نعمت پر کیا ہے؟ حمد ہے؛ تو اس کو نعمت دینے پر حمد ہو، یہ اولیٰ ہے مولانا، اس حمد سے جو نعمت پر ہو۔ ایک حمد ہے اللہ کی نعمت دینے پر، اور ایک حمد ہے نعمت پر مولانا، تو کون سی اولیٰ ہے؟ نعمت دینے پر، کیونکہ نعمت دینا فعل ہے اللہ کا، تو اللہ کی حمد ہوئی بغیر واسطے کے؛ اور اگر نعمت پر حمد کرتے ہیں، تو یہ نعمت… اس پر حمد بھی اللہ کی حمد ہے، لیکن درمیان میں واسطہ آیا نعمت دینے کا بھئی، کس کا؟ نعمت دینے کا؛ اور کس… حمد اولیٰ کیا ہے؟ واسطے کے ساتھ ہو یا بغیر واسطے کے؟ بغیر واسطے کے؛ سب کو بات سمجھ میں آئی بھئی؟ دو وجہیں ذکر کیں مولانا: کہ اگر اس کو "ما" موصولہ بناتے ہیں تو پھر عائد کے بغیر ہوگا صلہ؛ اگر پہلے میں محذوف بھی نکال لیں، اگلے دوسرے معطوف کے اندر کیا ہے؟ عائد کے بغیر صلہ آ جائے گا بھئی؛ اور اگر تو معنوی وجہ یہ کہ اگر "ما" کو مصدریہ بنائیں تو اللہ کی حمد ہوئی بغیر واسطے کے، اور اگر "ما" کو کیا بنائیں؟ موصولہ بنائیں، تو اللہ کی حمد ہوئی واسطے کے ساتھ؛ اور وہ حمد جو بغیر واسطے کے ہو، وہ کیا ہے؟ اولیٰ ہے، لہذا اس کو "ما" مصدریہ بنانا بھی بہتر ہے۔ عَلَى مَا أَنْعَمَ، أَيْ عَلَى إِنْعَامِهِ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اس کے انعام کرنے پر، وَلَمْ يَتَعَرَّضْ لِلْمُنْعَمِ بِهِ، یہ مولانا ایک شبہے کا جواب دے رہے ہیں۔ شبہ یہ کہ بھئی مصنف نے یہ کہا کہ اللہ کے انعام کرنے پر اللہ کی حمد ہے۔ نعمتیں نہیں ذکر کیں بھئی، کن کن کن نعمتوں پر اللہ کی حمد ہے؟ کتنی نعمتیں اللہ نے ہمیں دی ہیں بھئی! دیکھنے کی نعمت ہے، کھانے کی نعمت ہے مولانا، اور اس کے… کت اتنی نعمتیں ہیں مولانا جن کو ہم شمار نہیں کر سکتے بھئی! تو وہ منعم بہ، وہ نعمتیں جو ہیں، وہ تو مصنف کو وہ شمار کروانی چاہیے تھیں بھئی، وہ کیوں نہیں انہوں نے شمار کروائیں نعمتیں؟ بس اللہ کے نعمت دینے پر… بھئی نعمت کیا دی؟ وہ تو ذکر ہی نہیں کیا۔ کہتے ہیں بھئی: اس لیے ذکر نہیں کیا، مصنف بتلانا چاہتے ہیں آپ کو کہ اللہ کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں، اتنی زیادہ کہ شمار سے باہر ہیں، کوئی عبارت بھی اللہ کی نعمتوں کا احاطہ نہیں کر سکتی؛ تو جب احاطہ ہی نہیں ممکن تھا، تو اس لیے میں نے بھی ان کو ذکر نہیں کیا۔ اور نیز اگر وہاں وہ ذکر بھی کر دیتے، دو چار نعمتیں گنواتے مولانا، تو دو چار نعمتیں صرف وہ گنوا پاتے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اللہ… تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اس کی اس نعمت پر، اس نعمت پر، اور اس نعمت پر، تو مطلب یہ ہوتا کہ ان نعمتوں پر معلوم ہوا آپ نے حمد کی ہے اور نعمتوں پر حمد نہیں کی؛ تو یہ حمد خاص ہو جاتی بعض نعمتوں پر، اور اس لیے انہوں نے کیا کیا اس کو؟ ذکر نہیں کیا منعم بہ کو، دیکھیے۔ وَلَمْ يَتَعَرَّضْ لِلْمُنْعَمِ بِهِ، تعرض کا معنی ہوتا ہے درپے ہونا، کسی چیز کے پیچھے پڑنا مولانا؛ وَلَمْ يَتَعَرَّضْ لِلْمُنْعَمِ بِهِ، منعم بہ مولانا نعمت، جس کے ساتھ انعام کیا۔ اور درپے نہیں ہوئے، پیچھے نہیں پڑے اس نعمت کے مولانا، إِيهَامًا لِقُصُورِ الْعِبَارَةِ، یہ وهم ڈالنے کے لیے کہ عبارت جو ہے وہ کیا ہے؟ قاصر ہے، عَنِ الإِحَاطَةِ بِهِ، ان کا احاطہ کرنے سے، وَلِئَلاَّ يُتَوَهَّمَ اخْتِصَاصُهُ بِشَيْءٍ دُونَ شَيْءٍ، اور تاکہ یہ وهم میں یہ بات نہ پڑے… وهم نہ پڑے کس چیز کا وهم نہ پڑے؟ اخْتِصَاصُهُ، کہ یہ کیا ہے؟ یہ حمد خاص ہے، بِشَيْءٍ دُونَ شَيْءٍ، بعض چیزوں کے ساتھ نہ کہ بعض کے ساتھ، یعنی یہ وهم نہ پڑے ان بعض نعمتوں پر ہم حمد بیان کر رہے ہیں باقی پر حمد نہیں ہے۔ وَعَلَّمَ مِنْ عَطْفِ الْخَاصِّ عَلَى الْعَامِّ رِعَايَةً لِبَرَاعَةِ الِاسْتِهْلَالِ وَتَنْبِيهًا عَلَى فَضِيلَةِ نِعْمَةِ الْبَيَانِ۔ پہلے متن دیکھیے مولانا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں عَلَى مَا أَنْعَمَ اس کے انعام کرنے پر۔ وَعَلَّمَ، عَلَّمَ کا عطف ”أَنْعَمَ“ پر ہے مولانا۔ تو جیسے ”مَا أَنْعَمَ“ کس کے معنی میں ہوا تھا؟ عَلَى إِنْعَامِهِ۔ تو یہاں ”مَا عَلَّمَ“ کس کے معنی میں ہوا؟ عَلَى عَلَّمَ يُعَلِّمُ تَعْلِيمًا۔ تو اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى تَعْلِيمِهِ، اللہ کی حمد ہے اس کے سکھانے پر۔ کیا سکھانے پر؟ مَا لَمْ نَعْلَمْ جو ہم نہیں جانتے تھے۔ اللہ کی حمد ہے وہ جو اس نے ہمیں وہ چیز سکھلائی جو ہم نہیں جانتے تھے۔ بھئی وہ کیا چیز ہے؟ ماقبل میں بیان آ گیا ”مِنَ الْبَيَانِ“ یعنی بیان کرنا۔ اللہ نے ہمیں کیا سکھلایا؟ بیان کرنا مولانا۔ اللہ نے ہمیں کسی چیز کو بیان کرنا سکھلا دیا مولانا۔ ہم تکلم کرتے ہیں، دل میں جو بات ہوتی ہے اس کو زبان کے ذریعے دوسرے تک پہنچاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑی اللہ کی نعمت ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بہت بڑی نعمت ہے۔ حتیٰ کہ خود اللہ نے قرآن میں اس کا ذکر فرمایا: خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَّلَّمَهُ الْبَيَانَ۔ اور اس کو بیان سکھایا۔ اور اللہ کی حمد ہے اس کی تعلیم دینے پر اس چیز کی جو ہم نہیں جانتے تھے یعنی کہ بیان کرنا۔ بیان کرنا ہم نہیں جانتے تھے اللہ نے ہمیں یہ نعمت دی بھئی۔ یہ متن تھا بھئی۔ اب علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں: وَعَلَّمَ مِنْ عَطْفِ الْخَاصِّ عَلَى الْعَامِّ کہ یہ خاص کا عطف ہو رہا ہے کس پر؟ عام پر۔ ایک پہلے عام چیز ذکر کی جائے جو سب کو شامل ہو۔ ایسا لفظ ذکر کیا جائے جو عام ہو سب کو شامل ہو اور بعد میں انہی میں سے ایک فرد کو جو پہلے بھی داخل تھا علیحدہ طور پر ذکر کرنا عطف الخاص علی العام کہلاتا ہے۔ جیسے قرآن میں ہے مولانا: تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ۔ نازل ہوتے ہیں لیلۃ القدر کے اندر فرشتے وَالرُّوحُ، روح سے مراد کون ہے؟ جبرائیل امین، جبرائیل علیہ السلام بھئی۔ تو دیکھیے جب آ گیا فرشتے نازل ہوتے ہیں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی کیا ہیں؟ فرشتے ہیں، تو وہ بھی شامل تھے اس کے اندر۔ تو پہلے ایک عام لفظ ذکر کیا گیا جو ان کو شامل تھا۔ پھر بعد میں ان کو علیحدہ ذکر کر دیا وَالرُّوحُ اور جبرائیل امین نازل ہوتے ہیں بھئی۔ تو دیکھو پہلے ”الْمَلَائِكَةُ“ کا لفظ تھا وہ بھی جبرائیل علیہ السلام کو شامل تھا، لیکن بعد میں ان کو علیحدہ طور پر بھی ذکر کیا۔ تو یہ خاص کا عطف آپ نے کس پر کر دیا؟ عام پر جو اس کو پہلے بھی شامل تھا۔ تو یہاں ایسا اس لیے کیا جاتا ہے، بتلانا یہ مقصد ہوتا ہے کہ یہ جو فرد ہے اس کا، یہ بڑا اعلیٰ و ارفع ہے، اس کی بڑی فضیلت ہے۔ اتنا اعلیٰ و ارفع ہے مولانا کہ یہ گویا ان کا جز ہی نہیں، یہ جنس ہی الگ ہے۔ دیکھو عطف چاہتا ہے مغائرت کو، کہ معطوف معطوف علیہ کیا ہونے چاہئیں؟ غیر ہونے چاہئیں۔ تو یہاں پر تو حالانکہ حضرت جبرائیل امین بھی کیا ہیں؟ فرشتے ہیں۔ تو پھر عطف، کہتے ہیں بھئی عطف کا مطلب یہ ہے کہ یہ حضرت جبرائیل کا درجہ اتنا اعلیٰ ہے، اتنا اعلیٰ ہے، گویا یوں سمجھو فرشتوں کی جنس میں ہیں ہی نہیں، یہ ایک الگ ہی جنس ہے، کوئی ان کی جنس کا اور ہے ہی نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ جی۔ تو یہ اس کی فضیلت کے لیے مولانا، فضیلت کو بیان کرنے کے لیے یوں کیا جاتا ہے کہ خاص کا عطف عام پر کیا جاتا ہے۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے مولانا۔ جب پہلے کہہ دیا اللہ کے، حمد ہے اللہ کی انعام کرنے پر بھئی، نعمتیں دینے پر۔ تو یہ جو اللہ نے بیان کرنا ہمیں سکھلایا کیا یہ اس میں شامل نہیں تھا؟ یہ اللہ کی نعمتوں میں سے نہیں؟ یہ بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔ تو ”عَلَى إِنْعَامِهِ“ جب کہا تو یہ بھی اس میں داخل تھا، لیکن پھر آگے اس کو کیا کر دیا؟ علیحدہ بھی ذکر کر دیا کہ یہ تو اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، بہت اعلیٰ و ارفع ہے، لہٰذا اس کو کیا کر دیا؟ الگ ذکر۔ بات سب کو سمجھ بھی آرہی ہے یا مشکل ہو گئی بھئی؟ آرہی ہے۔ وَعَلَّمَ مِنْ عَطْفِ الْخَاصِّ عَلَى الْعَامِّ، اور یہ ”عَلَّمَ“ کا جو ہے عطف عام کا، خاص کا ہو رہا ہے عام پر۔ یہ کیوں کیا مولانا؟ کہتے ہیں: رِعَايَةً لِبَرَاعَةِ الِاسْتِهْلَالِ وَتَنْبِيهًا عَلَى فَضِيلَةِ نِعْمَةِ الْبَيَانِ۔ بھئی یہ ”عَلَّمَ“ کو ذکر کیا۔ ”عَلَى إِنْعَامِهِ“ کہہ دینا کافی تھا، اس میں تعلیم بھی داخل تھی، اس میں دیگر نعمتیں بھی سب آگئی تھیں، لیکن پھر علیحدہ ذکر کیا۔ کہتے ہیں بھئی براعتِ استہلال کے لیے۔ براعتِ استہلال کس کو کہتے ہیں؟ خطبے کے اندر ایسے الفاظ لانا جو آگے آنے والے مقصود کی طرف اشارہ کر دیں۔ تو یہ دیکھیے آیا کہ عَّلَّمَ مِنَ الْبَيَانِ مَا لَمْ نَعْلَمْ۔ اور یہ آگے ہم کس کو پڑھیں گے مولانا؟ علمِ بیان کو پڑھیں گے۔ تو اس میں اشارہ کر دیا مولانا آنے والے مقصود کی طرف۔ بلکہ مولانا یہاں بیان سے صرف یہ علمِ بیان نہ لیں جو اس کتاب میں ہے۔ میں نے آپ کو بتایا تھا متقدمین علمِ بیان، بیان کا اطلاق کیا کرتے تھے ان تینوں علوم پر: معانی، بیان اور بدیع۔ تینوں پر کیا لفظ بولا کرتے تھے؟ علمِ بیان بولا کرتے تھے۔ تو یہ بھی کتاب بھی علمِ بیان کے اندر وہ لکھ رہے ہیں تو اس کی طرف اشارہ کر دیا بھئی۔ تو یہ براعتِ استہلال ہے۔ رِعَايَةً لِبَرَاعَةِ الِاسْتِهْلَالِ رعایت کرتے ہوئے براعتِ استہلال کی، وَتَنْبِيهًا عَلَى فَضِيلَةِ نِعْمَةِ الْبَيَانِ اور ”عَلَّمَ“ کو کیوں ذکر کیا؟ تنبیہ کرتے ہوئے بیان کی نعمت کی فضیلت پر کہ اس نعمت کی بڑی فضیلت ہے، بہت بڑی نعمت ہے بھئی۔ مِنَ الْبَيَانِ، بَيَانٌ لِقَوْلِهِ مَا لَمْ نَعْلَمْ۔ ”مِنَ الْبَيَانِ“ یہ بیان ہے کس کا؟ ماتن کے اس قول کا: ”مَا لَمْ نَعْلَمْ“۔ دیکھیے اصل عبارت یوں ہے: عَلَّمَنَا مَا لَمْ نَعْلَمْ۔ اور عَلَّمَ سکھلایا اللہ نے، کس کو سکھلایا بھئی؟ ہمیں سکھایا، کس کو سکھایا؟ تو مفعولِ اول محذوف ہے، ”عَلَّمَنَا“۔ اور کیا سکھایا؟ ”مَا لَمْ نَعْلَمْ“ وہ چیز جو کہ ہم نہیں جانتے تھے۔ بھئی کیا چیز ہم نہیں جانتے تھے؟ ”مِنَ الْبَيَانِ“ اس کا بیان ہے بھئی۔ ”مَا لَمْ نَعْلَمْ“ کا بیان کیا ہے، وہ چیز جو ہم نہیں جانتے تھے وہ کیا ہے؟ ”مِنَ الْبَيَانِ“ یعنی کہ بیان۔ عَلَّمَنَا مَا لَمْ نَعْلَمْ اور اللہ نے ہمیں سکھلایا، وہ چیز سکھلائی ”مَا لَمْ نَعْلَمْ“ جو ہم نہیں جانتے تھے ”مِنَ الْبَيَانِ“ یعنی کہ بیان، وہ بیان ہے۔ تو یہ ”مِنَ الْبَيَانِ“ بیان ہے آگے آنے والے قول ”مَا لَمْ نَعْلَمْ“ کا۔ سوال یہ کہ وہ ”مَا لَمْ نَعْلَمْ“ مبین ہے مولانا۔ اور ”مِنَ الْبَيَانِ“ اس کا کیا ہے؟ بیان ہے۔ تو پہلے مبین کو آنا چاہیے، اس کے بعد کس کو آنا چاہیے؟ بیان کو آنا چاہیے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے، مشکل ہے؟ آرہی ہے۔ دیکھیے! اللہ نے ہمیں سکھایا، کیا سکھایا؟ ”مَا لَمْ نَعْلَمْ“ جو ہم نہیں جانتے تھے۔ اب کیا معنی ہم جو کیا، جو ہم نہیں جانتے تھے بھئی؟ ”مِنَ الْبَيَانِ“ یعنی کہ بیان۔ تو اس نے بتلا دیا کہ ”مَا لَمْ نَعْلَمْ“ سے کیا مراد ہے؟ بیان مراد ہے۔ تو یہ اس کے لیے کیا بن گیا؟ بیان بن گیا۔ تو پہلے مبین آیا کرتا ہے، پھر اس کے بعد اس کا کیا آتا ہے؟ بیان آتا ہے۔ اور یہاں پر کیا کیا گیا؟ ”مِنَ الْبَيَانِ“ کو ماتن نے مقدم کر دیا اور ”مَا لَمْ نَعْلَمْ“ کو کیا کر دیا؟ مؤخر کر دیا۔ ایسا کیوں کیا؟ کہتے ہیں: قُدِّمَ یا قَدَّمَ رِعَايَةً لِلسَّجْعِ۔ ماتن نے اس کو مقدم کیا رعایتِ سجع کی وجہ سے۔ سجع جانتے ہیں مولانا؟ نثر کے اندر فقروں کو ایک جیسے حروف پر ختم کرنا۔ ایک جیسے حروف پر ان کو ختم کرنا بھئی۔ ایک جیسے حروف پر ختم کرنا۔ تو ماقبل میں آیا تھا: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى مَا أَنْعَمَ۔ کس پہ ختم ہوا یہ؟ میم پہ۔ وَعَلَّمَ مِنَ الْبَيَانِ مَا لَمْ نَعْلَمْ۔ یہ بھی کس پہ ختم ہوا؟ میم پر۔ تو اگر ہم یوں کہتے، ماتن یوں کہتے: وَعَلَّمَ مَا لَمْ نَعْلَمْ مِنَ الْبَيَانِ، تو پہلا جملہ ختم ہو رہا تھا کس پر؟ میم پر۔ اور یہ کس پر ختم ہوتا؟ نون پر۔ تو پھر تو رعایتِ سجع حاصل نہ ہوتی۔ اس لیے انہوں نے اس کو مقدم کر دیا اور ”مَا لَمْ نَعْلَمْ“ مبین کو مؤخر کیا۔ قُدِّمَ، مقدم کیا ماتن نے یا قُدِّمَ اس کو مقدم کیا گیا رِعَايَةً لِلسَّجْعِ رعایتِ سجع کے لیے۔ وَالْبَيَانُ، بھئی ”الْبَيَانُ“ آیا لفظ، بیان کس کو کہتے ہیں متن میں آیا تھا؟ کہتے ہیں: هُوَ الْمَنْطِقُ الْفَصِيحُ الْمُعْرِبُ عَمَّا فِي الضَّمِيرِ۔ وہ کلام ہے منطق یعنی۔ فصیح جو کیا ہو؟ فصیح ہو، جس کا معنی ظاہر ہو۔ اَلْمُعْرِبُ، أَعْرَبَ يُعْرِبُ إِعْرَابًا کے کیا معنی ہیں؟ ظاہر کرنا۔ جو ظاہر کرنے والا ہے عَمَّا فِي الضَّمِيرِ، وہ چیز جو کس کے اندر ہے؟ دل کے اندر ہے۔ دل کے اندر جو بات ہے اس کو جس فصیح کلام کے ساتھ ذکر کیا جائے وہ کلام کیا کہلاتا ہے؟ بیان کہلاتا ہے۔ بھئی آپ کے دل میں ایک بات تھی، آپ نے دوسرے کے سامنے فصیح کلام کے ساتھ ذکر کر دی۔ یہ کیا کہلائے گا؟ بیان کہلائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا سب کو بھئی؟ جی۔ چلیے مولانا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
114 approved lectures · 8 of 114