Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-017

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 4
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَيَا لَكِ مِنْ لَيْلٍ كَأَنَّ نُجُومَهُ ... بِأَمْرَاسِ كَتَّانٍ إِلَى صُمِّ جَنْدَلِ وَقِرْبَةِ أَقْوَامٍ جَعَلْتُ عِصَامَهَا ... عَلَى كَاهِلٍ مِنِّي ذَلُولٍ مُرَحَّلِ وَوَادٍ كَجَوْفِ العَيْرِ قَفْرٍ قَطَعْتُهُ ... بِهِ الذِّئْبُ يَعْوِي كَالخَلِيعِ المُمَيَّلِ گذشتہ اشعار کے اندر امرؤ القیس اپنی معشوقہ کے حسن و جمال کو ذکر کر رہا تھا اور اپنے عشق و محبت کو بیان کر رہا ‏تھا، اور میں نے بتلایا اس کو تشبیہ کہتے ہیں، اور وہ تشبیہ گذشتہ سبق میں مکمل ہوئی۔ اور اس کے بعد امرؤ القیس اپنے ‏صبر اور ہمت کو بیان کرنے لگا کہ میرے اوپر بڑی آزمائشیں تکلیفیں آئی ہیں، ایسی ایسی ہولناک راتیں میرے اوپر آئی ‏ہیں کہ جو بڑی ہی غموں سے بھری ہوئی تھیں، تکالیف سے بھری ہوئی تھیں، اور اتنی طویل معلوم ہوتی تھیں کہ وہ ‏گزرنے میں ہی نہیں آ رہی تھیں۔ میں نے ان سب کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔ اور کہنے لگا کہ ان راتوں نے میرے اوپر اپنے پردے لٹکا دیے مختلف قسم کے غموں کے ساتھ تاکہ میری آزمائش کریں، ‏تو میں نے اس رات سے کہا جب اپنے اس، جب اس نے اپنی پشت لمبی کی اور اس کا سینہ دور ہو گیا اور وہ اپنے پچھلے ‏دھڑ کو پیچھے لے کر آئی۔ رات کے پہلے حصے کو اس کا سینہ کہا اور اس کے آخری حصے کو اس کا دھڑ کہا، یعنی ‏رات بڑی طویل تھی میں نے ذکر کیا کہ خوشی کے عالم میں وقت کے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا، لیکن جب انسان غم میں ‏ہوتا ہے، تکلیف میں ہوتا ہے، بیماری میں ہوتا ہے تو وقت گزرتا ہی نہیں، یوں لگتا ہے وقت تھم گیا ہو۔ تو وہی ذکر کر رہا ہے کہ رات اتنی طویل لگ رہی تھی اس کا سینہ یعنی اگلا حصہ یعنی ابتدائی رات کو گزرے بڑی دیر ‏گزر گئی تھی، اور وہ پچھلا حصہ لا رہی تھی اور وہ تھا کہ گزرنے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا رات نے ‏اپنی کمر لمبی کر لی ہے جس طرح کہ کوئی جانور جب وہ کیا کرتا ہے اٹھنے لگتا ہے تو وہ اپنی کمر کو کچھ لمبا کر لیتا ‏ہے، یا جب وہ انگڑائی لینے لگتا ہے وہ اپنے بدن کو لمبا کر لیتا ہے، تو یہ رات بھی اسی طرح تھی ایک ایسے حیوان کی ‏طرح جس نے اپنی کمر لمبی کر لی تھی گزرنے میں ہی نہیں آ رہی تھی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو جب ایسا ہوا رات بڑی طویل ہو گئی تو میں نے رات سے کہا کہ اے لمبی طویل رات! تو صبح ہو کر روشن ہو جا، اور ‏پھر چونک کر کہتا ہے کہ اگر تو صبح ہو بھی جائے، صبح سے بدل بھی جائے تو بھی صبح تیرے سے کوئی افضل ‏نہیں، کیونکہ میں جن غموں کے اندر تکالیف اور مشکلات میں گرفتار ہوں، یہ صبح ہونے سے یہ غم کوئی کم نہیں ہو ‏جائیں گے، میری بیماری عشق و محبت کی بیماری ہے اور یہ بیماری جس طرح رات کے اندر تکلیف دینے والی ہے، ‏اسی طرح دن کے اندر بھی یہ غم اور دکھ کا باعث ہے، تو صبح ہو بھی جائے تو میرا کوئی غم دور نہیں ہو جائے گا، ‏صبح بھی تیری طرح ہی ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے کہتا ہے: فَيَا لَكِ مِنْ لَيْلٍ كَأَنَّ نُجُومَهُ ... بِأَمْرَاسِ كَتَّانٍ إِلَى صُمِّ جَنْدَلِ۔ فَيَا لَكِ، يا نداء کے لیے ہے، اور لَكِ حرف نداء کے ‏بعد یہ لام لاتے ہیں کبھی کبھار، یہ تعجب کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ تعجب کے لیے ہے، أَيْ يَا عَجَبًا لَكِ۔ کہ اے مخاطب! تیرے اوپر تعجب ہے، بھئی یہ مخاطب کون ہے؟ مِنْ لَيْلٍ کے ساتھ اس کو بیان کر دیا یعنی کہ رات، یعنی ‏اے رات! تیرے اوپر تعجب ہے۔ كَأَنَّ نُجُومَهُ، نجوم جمع ہے نجم کی اور یہ ستارے کو کہتے ہیں۔ بِأَمْرَاسِ كَتَّانٍ، امراس جمع ‏ہے مرس کی اور مرس رسی کو کہتے ہیں بھئی، رسی۔ جس کے ساتھ چیزوں کو باندھا جاتا ہے، تو اس کی جمع ہے امراس۔ اور کتان، کتان جو ہے یہ کوئی خاص ریشہ ہے جس ‏سے رسیاں بنائی جاتی ہیں، اور اس کو سن کا ریشہ کہتے ہیں، سین نون بھئی، سن کا ریشہ۔ جبکہ اسی طرح کتان سوتی ‏کپڑے کو بھی کہتے ہیں یعنی وہ کپڑا جو کپاس سے بنایا گیا، روئی سے، روئی کے دھاگوں سے بنایا گیا، تو اس کو بھی ‏کتان کہتے ہیں۔ تو یا تو کتان سے مراد وہ سن کا ریشہ ہے یا مراد جو دھاگے سے بنی ہوئی رسی ہے، سوتی رسی، سوتی رسی۔ اور آپ ‏جانتے ہیں مختلف رسیاں جو ہیں مختلف چیزوں سے بنائی جاتی ہیں، جیسے آج کل آپ دیکھتے ہیں کچھ رسیاں جو ہیں وہ ‏پلاسٹک کی بنی ہوتی ہیں، اور اسی طرح بعض رسیاں جو ہیں وہ دھاگوں سے بنائی جاتی ہیں، اسی طرح انہوں نے بتلا ‏دیا بعض رسیاں جو ہیں سن کے ریشوں سے بنائی جاتی ہیں، اسی طرح بعض رسیاں جو ہیں یہ کھجور کے جو پتے ہوتے ‏ہیں ان سے بنائی جاتی ہیں، اسی طرح بعض رسیاں جو ہیں یہ جو کانا جو ہوتا ہے نرکل، جس سے قلم وغیرہ بھی بنائے ‏جاتے ہیں، ان کے جو چھلکا ہوتا ہے ان کے اوپر، ان سے رسیاں بعض بنائی جاتی ہیں، تو مختلف قسم کی رسیاں ہر ‏علاقے کے اندر استعمال ہوتی ہیں، بنائی جاتی ہیں جو چیزیں ان کو میسر ہوتی ہیں۔ یہاں پر خاص طور پر شاعر نے سوتی رسی کو ذکر کیا ہے یا سن کے ریشے والی رسی کو، کیونکہ یہ رسیاں بہت ‏مضبوط ہوتی ہیں۔ ایک اور چیزوں سے بنی ہوئی رسی اور ایک دھاگوں کی بنی ہوئی رسی، تو یہ رسی جو دھاگوں سے ‏بنی ہوئی ہو بڑی ہی مضبوط ہوتی ہے، اس لیے خاص طور پر اس کو ذکر کیا۔ إِلَى صُمِّ جَنْدَلِ، صم جمع ہے اصم کی، ‏اصم، اور اصم کا ایک معنی آپ جانتے ہیں اس کا معنی ہے بہرا، اور اس کی جمع کیا؟ صم، قرآن میں بھی آیا ہے: صُمٌّ بُكْمٌ ‏عُمْيٌ بھئی۔ تو یہ صم بھی اصم کی جمع ہے، لیکن اصم یہاں بہرے کے معنی میں نہیں، اصم کا ایک اور معنی بھی آتا ہے ‏اور وہ ہے سخت، ٹھوس بھئی، سخت اور ٹھوس اور مضبوط جو ہے۔ تو وہ بھی اصم کا معنی ہے۔ اور جندل جو ہے یہ ‏چٹان کو کہتے ہیں بھئی، چٹان کو، اس کی جمع ہے جنادل۔ تو امرؤ القیس اس رات کی ہولناکی کو اور اس کے لمبا ہونے کو بیان کر رہا ہے: فَيَا لَكِ مِنْ لَيْلٍ أَيْ فَيَا عَجَبًا لَكِ مِنْ لَيْلٍ، ‏اے رات! تیرے اوپر تعجب ہے، اس رات کو نداء دے رہا ہے، بتلانا یہ چاہتا ہے کہ میرے غم کا، میری تکلیف اور میری ‏حیرت کا یہ عالم تھا کہ مجھے یہ بھی نہیں پتہ چلا کہ میں کس چیز کو خطاب کر رہا ہوں، میں نے رات کو خطاب کرنا ‏شروع کر دیا حالانکہ خطاب تو صرف ذوی العقول کو کیا جاتا ہے، تو یہ غم اور ہولناکی کی وجہ سے اور حیرت کی ‏وجہ سے شاعر بتلانا یہ چاہتا ہے کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ میں کس چیز کو خطاب کر رہا ہوں۔ اور یہ، یہ طریقہ، یہ طریقہ فصحاء کے ہاں بڑا پسندیدہ ہے کہ انسان اپنے غم اور حزن کو اس طریقے سے بیان کرے کہ ‏حیرت کے عالم میں اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کس چیز کو خطاب کر رہا ہے۔ چنانچہ کہتا ہے: فَيَا لَكِ مِنْ لَيْلٍ، اے رات! تیرے اوپر تعجب ہے، كَأَنَّ نُجُومَهُ بِأَمْرَاسِ كَتَّانٍ، اچھا، آپ دیکھتے ہیں سورج ‏مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں غروب ہو جاتا ہے، اسی طرح اگر آپ نے ستاروں پر غور کیا ہو، رات جوں ‏جوں گزرتی ہے وہ مشرق سے مغرب کی طرف سفر کرتے چلے جاتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ستارے بھی آپ کو مشرق سے مغرب کی طرف حرکت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے، اور ‏جوں جوں رات گزرتی ہے وہ مغرب کی طرف چلتے چلے جاتے ہیں، لیکن امرؤ القیس کہتا ہے: یہ رات اتنی ہولناک تھی، ‏یہ اتنی تکلیف والی اور غموں سے بھری ہوئی تھی کہ اس کے ستارے بھی ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے، بالکل حرکت ہی ‏نہیں کر رہے تھے، یوں معلوم ہوتا تھا ان ستاروں کو کسی نے سوتی رسیوں کے ساتھ، مضبوط چٹانوں کے ساتھ باندھ دیا ‏ہے، یہ تو حرکت کرنا چاہتے ہیں لیکن ان رسیوں اور چٹانوں کی وجہ سے حرکت کر ہی نہیں رہے، ایک جگہ پر سارے ‏تھمے ہوئے ہیں، وقت گویا گزر ہی نہیں رہا بھئی۔ تو معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو فَيَا لَكِ مِنْ لَيْلٍ كَأَنَّ نُجُومَهُ، اے رات! تیرے اوپر تعجب ہے گویا اس رات کے ستارے جو ہیں، ‏بِأَمْرَاسِ كَتَّانٍ، وہ سوتی رسیوں کے ساتھ، إِلَى صُمِّ جَنْدَلِ، آگے فعل محذوف ہے کیونکہ واضح سمجھ میں آ رہا ہے، سوتی ‏رسیوں کے ساتھ، مضبوط چٹانوں کے ساتھ، ساتھ، یعنی باندھے گئے ہیں، کیا کیے گئے ہیں؟ تو یہاں فعل محذوف ہے ‏شُدَّتْ، بِأَمْرَاسِ كَتَّانٍ شُدَّتْ إِلَى صُمِّ جَنْدَلِ، شدّ یشدّ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ باندھنا، شُدَّتْ إِلَى صُمِّ جَنْدَلِ، یا یوں ترجمہ کر لو: ‏رُبِطَتْ، ربط یربط کا معنی بھی کیا ہوتا ہے؟ جوڑنا، تو رُبِطَتْ إِلَى صُمِّ جَنْدَلِ، ان کو باندھا گیا ہے کس کے ساتھ، جوڑا گیا ‏ہے کس کے ساتھ؟ مضبوط چٹان کے ساتھ، یا اس کا یہاں فعل نکال لیں: عَلَّقَ، علّق یعلّق تعلیق کا کیا معنی ہوتا ہے؟ ‏جوڑنا، لٹکانا، عُلِّقَتْ إِلَى صُمِّ جَنْدَلِ، کہ جن کو سوتی رسیوں کے ساتھ لٹکا دیا، یعنی جوڑ دیا گیا، باندھ دیا گیا ہے إِلَى صُمِّ ‏جَنْدَلِ کس کے ساتھ؟ مضبوط چٹانوں کے ساتھ۔ اور صُمِّ جَنْدَلِ، صم کا کیا معنی؟ مضبوط اور ٹھوس، اور جندل کسے کہتے ہیں؟ چٹان کو، اور یاد رکھیے یہ صفت کی ‏اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف، عربی میں آپ دیکھتے ہیں موصوف پہلے آتا ہے اور صفت بعد، لیکن کبھی ‏صفت کو اٹھا کر موصوف پر مقدم کر دیتے ہیں اور موصوف کی طرف اس کی اضافت کر دیتے ہیں، تو یہاں بھی ایسا ‏ہے، جندل موصوف اور صم اس کی صفت، پھر اس کو مقدم کر کے اس کی طرف اضافت کر دی گئی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور پھر اشکال آپ کے ذہن میں آئے گا کہ جندل موصوف جو ہے مفرد ہے اور صم صفت اس کی جمع ہے۔ تو مفرد کی صفت تو مفرد آنی چاہیے، اور جمع کی جمع، تو یہ مفرد کی صفت جمع کیسے آ گئی؟ تو شارحین حضرات ‏فرماتے ہیں کہ جندل یہاں جنس کے معنی میں ہے، کس کے معنی میں؟ یعنی جنس سے جندل جو ہے، یعنی جنس سے ‏چٹانیں جو ہیں، اور جنس سے چٹانیں، اس میں تو ساری چٹانیں اس کے اندر آ گئیں کیونکہ وہ سب کس جنس سے ہیں؟ ‏چٹان کی جنس سے ہیں، تو جب سب اس کے اندر آ گئیں تو معنی کے اعتبار سے گویا یہ کیا بن گیا؟ جمع بن گیا، تو جب ‏جمع ہوا تو اس اعتبار سے اس کی صفت صم لائی گئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جندل کو کس تاویل میں لے لیا؟ کہ ‏جنس کے معنی میں لے لیا، اور جنس اس کا تو اطلاق ہر جندل پر ہوتا ہے، ہر جندل اس کے اندر آ گئے، ہر چٹان آ گئی، ‏تو یہ کیا بن گیا؟ بایں اعتبار یہ جمع ہوا، تو لہذا اس کی صفت صم لانا ٹھیک ہو گئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ فَيَا لَكِ مِنْ لَيْلٍ كَأَنَّ نُجُومَهُ ... بِأَمْرَاسِ كَتَّانٍ إِلَى صُمِّ جَنْدَلِ اے رات! تیرے اوپر تعجب ہے گویا کہ اس رات کے ستارے جو ہیں ان کو سوتی رسیوں کے ساتھ مضبوط چٹانوں کے ‏ساتھ باندھ دیا گیا ہو، یعنی وہ حرکت ہی نہیں کر رہے۔ اللہ! تو دیکھو یہ عام چیزیں ہیں جن کا مشاہدہ آپ میں سب کرتے ہیں، لیکن انہی کو وہ کیسے عمدہ پیرائے میں بیان کر رہا ‏ہے کہ وقت گزر ہی نہیں رہا، ستارے اپنی جگہ پر ٹھہرے ہوئے ہیں، اور پھر وہ رات کو خطاب کرتا ہے حالانکہ خطاب ‏صرف ذوی العقول کو کیا جاتا ہے، لیکن امرؤ القیس بتلانا چاہتا ہے مجھ پر اتنا غم طاری ہے، اتنا تکلیف اور مصیبت ‏میں مبتلا ہوں، مجھے یہ بھی نہیں پتہ چلا کس کو خطاب کرنا ہے اور کس کو خطاب نہیں کرنا، تو غم اور حیرت کے ‏اندر ڈوبے ہوئے وہ کس کو خطاب کر رہا ہے؟ رات کو خطاب کر رہا ہے۔ آگے دیکھیے:‏ وَقِرْبَةِ أَقْوَامٍ جَعَلْتُ عِصَامَهَا ... عَلَى كَاهِلٍ مِنِّي ذَلُولٍ مُرَحَّلِ وَقِرْبَةِ، یہ واؤ بمعنی ربّ کے ہے، ربّ کے، اسی لیے یہ قربۃ کو جر دے رہا ہے۔ اور قربۃ، یہ قربۃ کہتے ہیں مشکیزے کو بھئی، وہ چمڑے کا بنا ہوا تھیلا، وہ چمڑے کا بنا ہوا ظرف جس کے اندر پانی ‏کو رکھا جاتا ہے، پانی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا ہے، اس کو قربۃ کہتے ہیں، مشکیزہ بھئی، اور جمع اس ‏کی ہے قراب، قِرَابٌ۔ یاد رکھیے یہ جب الفاظ آپ یاد کریں گے تو زیادہ فائدے کے لیے یاد رکھیں، ساتھ مفرد کے ساتھ کچھ جمع کو بھی کوشش ‏کریں یاد کر لیں، اور جمع اگر آئی ہو تو اس کا مفرد یاد کر لیں، تاکہ فائدہ پورا ہو جائے، جہاں کہیں وہ لفظ آئے آپ کو ‏فوراً پتہ چل جائے بھئی، اور مفرد کی کہیں ضرورت آپ کو لکھنے کی پیش آئے تو آپ اس کا مفرد بھی لکھ سکیں اور ‏جمع بھی۔ تو قربۃ کی جمع آتی ہے قِرَابٌ بھئی، مشکیزے۔ جَعَلْتُ عِصَامَهَا عصام کہتے ہیں مشکیزے کی وہ رسی جس کے ساتھ مشکیزے کو باندھ کر کندھے سے لٹکاتے ہیں تو وہ ہے عصام ‏بھئی اور اس کی جمع آتی ہے عصم ۔ عَلَى كَاهِلٍ مِنِّي کاہل جو ہے یہ کندھے کو کہتے ہیں، کندھے کو اور جمع ہے اس کی کواہل بھئی۔ تو کاہل کندھے کو کہتے ہیں اور کاہلٍ مِنِّي نکرہ کے بعد منی جار مجرور آیا تو یہ کیا ہوگی اس کی صفت۔ کاہلٍ ثَابِتٍ مِنِّي ‏یعنی میرے کندھے، میرے کندھے۔ ذَلُولٍ ذلول ذل سے ہے جس کا معنی فرمانبرداری کرنا۔ تو ذلول بہت فرمانبرداری کرنے والے۔ مبالغے کا صیغہ ہے نا ذلول، بہت زیادہ فرمانبرداری کرنے والے۔ اور مُرَحَّلٍ رحل سے ہے رحل، اور رحل کہتے ہیں اونٹ پر جو کجاوا رکھا جاتا ہے اس کجاوے کا کیا نام ہے رحل۔ اسی ‏سے فعل بنا لیا رَحَلَ يَرْحَلُ، رَحَلَ يَرْحَلُ، رَحَلَ يَرْحَلُ کا معنی ہے اونٹ پر کجاوا لادنا، اونٹ پر کجاوا رکھنا۔ پھر اسی کے ‏اندر بعض اوقات مبالغہ کرتے ہیں اور باب تفعیل لے آتے ہیں رَحَّلَ يُرَحِّلُ تَرْحِيلًا۔ تو رحل کا معنی تھا کجاوا رکھنا اور ‏رحل اسی میں مبالغہ آگیا بار بار کجاوا رکھنا۔ تو مرحل اسم مفعول ہے جس پر بار بار کجاوا لادا جاتا ہو۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ اور یاد رکھیے یہ ذلول یہ صفت ہے کاہل کی اور مرحل یہ بھی صفت ہے کاہل کی بھئی۔ کاہل کی۔ تو کاہلٍ ذَلُولٍ مُرَحَّلِ میرے ایسے کندھے ذلول جو بڑی فرمانبرداری کرنے والے ہیں یعنی میں جیسا چاہتا ہوں ‏ویسا ہی یہ کرتے ہیں بھئی، یعنی میں ان پر بوجھ لادتا ہوں تو یہ کیا کرتے ہیں بوجھ کو اٹھاتے ہیں۔ مرحل ان پر بار بار ‏کجاوا لادا جاتا ہے، یہاں کجاوے سے مراد بوجھ ہے بوجھ کیونکہ انسانی کندھے پر تو کجاوا نہیں لادا جاتا اس پر تو بوجھ ‏وغیرہ لادا جاتا ہے تو کجاوا بول کر کیا مراد ہے بوجھ۔ تو مرحل سے مراد یہ ہے جس پر بار بار بوجھ لادا جاتا ہو۔ تو عَلَى كَاهِلٍ مِنِّي ذَلُولٍ مُرَحَّلِ میرے وہ کندھے جو بڑے فرمانبردار ہیں اور جن پر بار بار بوجھ لادا جاتا ہے۔ کیا کہا شاعر نے بڑے فرمانبردار ہیں مرحل ان پر بار بار بوجھ لادا جاتا ہے یعنی کہنا یہ چاہتا ہے کہ مجھے اس بوجھ ‏کے اٹھانے کی عادت ہے بار بار اٹھاتا ہوں یعنی اس کی عادت ہے۔ وَقِرْبَةِ أَقْوَامٍ جَعَلْتُ عِصَامَهَا عَلَى كَاهِلٍ مِنِّي ذَلُولٍ مُرَحَّلِ اور لوگوں کے بہت سے مشکیزے جَعَلْتُ عِصَامَهَا کہ میں نے رکھیں ‏ان کی رسیاں عَلَى كَاهِلٍ مِنِّي اپنے ایسے کندھوں پر ذَلُولٍ مُرَحَّلِ جو بڑے فرمانبردار ہیں اور جن پر بار بار بوجھ لادا جاتا ‏ہے۔ لوگوں کے بہت سے مشکیزوں کی رسیاں میں نے اپنے ان کندھوں پر رکھیں جو بڑے فرمانبردار ہیں اور جو بار بار ‏بوجھ اٹھانے والے ہیں یعنی جن کو بوجھ اٹھانے کی عادت ہے۔ اب اس سے کیا مراد ہے بار بار میں نے لوگوں کے مشکیزے اٹھائے اپنے کندھوں پر؟ تو بعض شارحین فرماتے ہیں کہ یہی معنی ہے جو ظاہر میں ہے، یعنی عربوں کا طریقہ تھا آج کل تو اللہ نے آسانیاں فرما ‏دیں عربوں کا طریقہ تھا جب وہ سفر پر جاتے تھے تو راستے میں تو پانی ہر جگہ نہیں ملتا تھا تو وہ پانی کا مشکیزہ ‏وغیرہ اپنے ساتھ لے کر چلتے تھے۔ ایک تو یہ عام مشکیزہ ہے نا جو بہت بڑا ہوتا ہے جس میں کافی پانی ہوتا ہے، تو ‏سفر میں جب جاتے تھے اتنا بڑا مشکیزہ تو نہیں اٹھا سکتے ہاں بقدر ضرورت اچھا خاصا جس میں کچھ پانی ہو اور کئی ‏وقت کے لیے کافی ہو جائے پینے وغیرہ کے لیے تو وہ اپنے ساتھ لے کر چلتے تھے، تو وہ متوسط درجے کا جو ‏مشکیزہ جس کو انسان اٹھا سکے آسانی سے سفر بھی اس میں کر سکے۔ تو وہ ان کو ذکر کر رہا ہے کہ میں نے لوگوں کے مشکیزے دوران سفر، میں اپنے ساتھیوں کا خیال رکھتا ہوں ان کی ‏خدمت کرتا رہتا ہوں اور ان کے مشکیزے میں اٹھا کر ان کے ساتھ چلتا ہوں تاکہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو اور ‏کوئی پریشانی نہ ہو بھئی۔ تو اسی کو امرؤالقیس بیان کر رہا ہے کہ بار بار میں اس طرح کرتا ہوں یعنی میں ہمیشہ کیا ‏کرتا ہوں اپنے ساتھیوں کی تکلیف کا خیال رکھتا ہوں اور ان کی خدمت کرتا ہوں۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ یہ معنی ہے کہ میں ان کی رسیاں اپنے کندھوں پر رکھتا ہوں میرے وہ کندھے جو فرمانبردار ہیں اور ان پر بار بار بوجھ ‏لادا جاتا ہے یعنی وہ اس خدمت کے عادی ہیں، اس خدمت کے عادی ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ ان کے مشکیزے اٹھاتا ہے۔ جبکہ بعضوں نے کہا نہیں مشکیزے اٹھانے سے مشکیزے اٹھانا مراد نہیں ہے اس سے مراد ہے حقوق ادا کرنا، تمام ‏لوگوں کے حقوق ادا کرنا یہ مراد ہے۔ یعنی امرؤالقیس کہنا یہ چاہتا ہے کہ میں سب کے حقوق ادا کرتا ہوں ہر ایک کا حق ‏میں ادا کرتا ہوں، میں اپنے رشتہ داروں کا حق بھی ادا کرتا ہوں، میں اپنے ساتھیوں کا حق بھی ادا کرتا ہوں، میں اور ‏جاننے والا کوئی بھی ہو میں سب کے کیا کرتا ہوں حق کو ادا کرتا ہوں۔ تو کندھوں پر بوجھ اٹھانا یہ کنایہ ہے حق ادا ‏کرنے سے کہ ان سب لوگوں کے حق میرے کندھوں پر ہیں یعنی میں ان سب کو اٹھاتا ہوں اور احسن طریقے سے ان کو ادا ‏کرتا ہوں، تو مشکیزے اٹھانے سے مشکیزے اٹھانا نہیں مراد بلکہ ان کے حقوق ادا کرنا مراد ہیں۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ وَقِرْبَةِ أَقْوَامٍ جَعَلْتُ عِصَامَهَا عَلَى كَاهِلٍ مِنِّي ذَلُولٍ مُرَحَّلِ اور لوگوں کے بہت سے مشکیزے کہ میں نے ان کی رسیاں اپنے ‏ایسے کندھوں پر اٹھائیں، اپنے ایسے کندھوں پر رکھیں جو کہ بڑے ہی فرمانبردار ہیں اور جن پر بار بار بوجھ لادا جاتا ‏ہے۔ وَوَادٍ كَجَوْفِ الْعَيْرِ قَفْرٍ قَطَعْتُهُ بِهِ الذِّئْبُ يَعْوِي كَالْخَلِيعِ الْمُعَيَّلِ وادی، وادی کہتے ہیں دو پہاڑوں کے درمیان کا حصہ۔ دو پہاڑوں کے درمیان، یہ تنگ سی جگہ بھی ہو سکتی ہے راستے کی طرح اور میلوں تک وسعت بھی ہو سکتی ہے اگر ‏درمیان میں ایک پہاڑ دوسرے سے کئی میل کے فاصلے پر ہے تو یہ سارا علاقہ وادی کہلائے گا بھئی۔ كَجَوْفِ الْعَيْرِ جوف پیٹ کو کہتے ہیں بھئی پیٹ، جمع اجواف۔ اچھا اور العیر، عیر یاد رکھیے عیر یہ گدھے کو کہتے ہیں گدھا بھئی، اور یہ عام گدھے کو بھی کہتے ہیں اور جنگلی ‏گدھے کو بھی کہتے ہیں۔ عام گدھا یعنی حمار، جسے حمارِ اھلی کہتے ہیں حِمَارٌ أَهْلِيٌّ، پالتو گدھا جو گھروں میں لوگوں ‏نے کام کاج کے لیے رکھا ہوتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں حمارِ اھلی، اھلی اھل سے ہے۔ گھر والوں کی طرف جو منسوب ہے یعنی گھر میں رکھا جاتا ہے حِمَارٌ أَهْلِيٌّ اسی کو حمارِ عادی بھی کہتے ہیں، عادی ‏عادت سے ہے عام جس کو عام چیزوں، کام کاج میں استعمال کیا جاتا ہے، وہ کیا ہے حمارِ عادی اس کو بھی عیر کہتے ‏ہیں، اور جنگلی گدھا یعنی حمارِ وحشی جو ہے اس کو بھی عیر کہا جاتا ہے بھئی اور یہ زیادہ تر پھر جنگلی گدھے کے ‏معنی میں استعمال ہوتا ہے بھئی عیر کا لفظ۔ اور جنگلی گدھا کسے کہتے ہیں؟ زیبرے کو بھئی، زیبرا دیکھا ہے آپ نے بھئی چڑیا گھر میں دیکھا ہوگا، سفید رنگ کا اس پر سیاہ رنگ کی دھاریاں ‏ہوتی ہیں یہ حمارِ وحشی ہے بھئی حمارِ وحشی۔ تو اس کو حمارِ وحشی کہا جاتا ہے بھئی، تو یہ بھی گدھے کی نسل سے ‏ہے اور گدھے سے معمولی سا یہ کچھ بڑا ہوتا ہے تھوڑا سا البتہ گھوڑے سے چھوٹا ہوتا ہے بھئی، تو حمارِ وحشی کسے ‏کہتے ہیں زیبرے کو بھئی زیبرے۔ قفر، قفر کہتے ہیں بے آب و گیاہ زمین۔ قفر کا کیا معنی؟ بے آب و گیاہ، آب پانی، گیاہ سبزی، بے آب و گیاہ زمین یعنی وہ ‏زمین جس میں نہ پانی وغیرہ بھی نہیں اور سبزی وغیرہ بھی نہ ہو بنجر زمین تو وہ قفر ہے بھئی۔ آپ بھی پڑھ چکے ہوں ‏گے بھئی مختصر المعانی میں، وَلَيْسَ قُرْبَ قَبْرِ حَرْبٍ قَبْرُ اسی کا پہلا مصرع کیا ہے؟ وَقَبْرُ حَرْبٍ بِمَكَانٍ قَفْرٍ، سمجھ میں آیا ‏اور یہ جنات کا شعر ہے بھئی۔ جن اس کے قائل جن ہیں بھئی، جن نے کہا یہ شعر وَقَبْرُ حَرْبٍ بِمَكَانٍ قَفْرٍ وَلَيْسَ قُرْبَ قَبْرِ ‏حَرْبٍ قَبْرُ۔ یہ جنات کا شعر ہے بھئی جنات جنہوں نے حرب کو قتل کیا تھا اور پھر اس پر یہ شعر کہا جنات نے بھئی، ‏واقعہ آپ نے پڑھا ہوگا مختصر المعانی کے اندر بھئی۔ اچھا، قفر کہتے ہیں بے آب و گیاہ زمین بھئی، اور لیکن یہاں مراد ہے غیر آباد زمین بھئی، یوں کہیں سنسان اور ویران ‏زمین بھئی جہاں کوئی انسان نہ بستا۔ قَطَعْتُهُ، قطاع کے معنی طے کرنا، گزرنا۔ بِهِ الذِّئْبُ، ذئب کہتے ہیں بھیڑیے کو بھئی بھیڑیے کو اور اس کی جمع ذئاب بھی ‏آتی ہے ذیاب بھی اور ذؤبان بھی بھئی۔ عَوَى يَعْوِي، عوى یعوی بھیڑیے کے چیخنے کو کہتے ہیں بھئی۔ بھیڑیا جو ہے خاص چلانے کی آواز نکالتا ہے اگر آپ نے کتے کو دیکھا ہو کبھی، جب بھی کتے پر کوئی ایسی مصیبت ‏آئے جس کا وہ مقابلہ نہ کر سکے، تو وہ ایک چیخنے جیسی آواز نکالتا ہے بھئی۔ آپ نے دیکھا ہوگا ویسے تو بھونکتا ‏رہے گا لیکن کوئی پتھر وغیرہ اٹھا کر مارا، مارے اس کو تو وہ چیختا ہوا واپس دوڑ جاتا ہے بھئی تو وہ جو اس کے ‏چیخنے کی آواز ہے وہ خاص آواز، اسی طرح سردی جب شدید سردی ہو اور کتا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو وہ خاص ‏وہ یہی آواز نکالتا ہے یا بعض اوقات رات کو وہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر اس طرح لمبی سی آواز نکالتا ہے چلانے کی ‏بھئی۔ تو بھیڑیا بھی اس طرح کی آواز نکالتا ہے لمبی آواز بھئی۔ تو اس کے لیے یہ عوى یعوی فعل استعمال کرتے ہیں عوى الذئب بھیڑیا چلا رہا ہے، بھیڑیا چلایا بھئی، معنی سمجھ میں ‏آگیا؟ كَالْخَلِيعِ خلیع جو ہے وہ شخص جو جوئے میں ہار گیا ہو یعنی ہارا ہوا جواری بھئی، اس کو کہتے ہیں خلیع، اور اس کی ‏بھیڑیے کے ساتھ مناسبت بھی ہے کیونکہ بھیڑیے کا بھی ایک نام عربی میں خلیع ہے خلیع ہے۔ الْمُعَيَّلِ، معیل عیال سے ہے بھئی عیال، بال بچے وغیرہ بھئی، اہلو گھر والے۔ معیل جس کے جو کثیر العیال ہو جس کے بال بچے وغیرہ زیادہ ہوں بھئی وہ کیا ہے معیل ہے۔ وَوَادٍ كَجَوْفِ الْعَيْرِ قَفْرٍ قَطَعْتُهُ بِهِ الذِّئْبُ يَعْوِي كَالْخَلِيعِ الْمُعَيَّلِ، یہاں بھی واؤ بمعنی ربّ کے ہے، اور بہت سی ایسی وادیاں ‏كَجَوْفِ الْعَيْرِ جیسے، بہت سی ایسی وادیاں كَجَوْفِ الْعَيْرِ توجه ہے؟ وَوَادٍ كَجَوْفِ الْعَيْرِ وادٍ ہے موصوف اور كَجَوْفِ الْعَيْرِ نکرہ کے بعد کیا آیا؟ جار مجرور، وادٍ نکرہ ہے۔ اور اس کے بعد كَجَوْفِ الْعَيْرِ جار مجرور آیا اور میں نے بتایا تھا آپ کو جار مجرور کے بعد اگر نکرہ آ جائے اور ‏پیچھے سے جڑ نہ رہا ہو تو وہ اسی کی صفت بنتا ہے، اور موصوف صفت کا نکرہ میں موصوف صفت کا ترجمہ کرنے ‏کا کیا طریقہ ہے؟ کہ موصوف، نہیں ایسے پوری بات کرو، موصوف سے پہلے کیا لے آتے ہیں ایسا یا ایسی۔ تو وَوَادٍ ‏كَجَوْفِ الْعَيْرِ ایسی وادی جیسے کہ جنگلی گدھے کا پیٹ ہوتا ہے جنگلی گدھے کا پیٹ۔ قَفْرٍ یہ صفتِ ثانی ہے وادی کی، ایسی وادی جو سنسان، ویران اور بنجر ہے۔ تو دو صفتیں آ گئیں، اب ترجمہ کیسے کریں گے؟ یاد رکھیں نکرہ میں موصوف صفت کے ترجمے کا ایک طریقہ تو یہ ‏جو ابھی ذکر ہوا۔ ویسے تو عربی میں دیکھیں عربی میں رَجُلٌ شُجَاعٌ، رجلٌ موصوف شجاعٌ اس کی صفت۔ اردو میں ترجمہ کریں، بہادر ‏آدمی، دیکھا؟ اردو میں صفت مقدم ہو گئی تو عربی میں صفت مؤخر ہوتی ہے اور اردو میں صفت مقدم ہوتی ہے۔ تو رجل ‏شجاع کا اردو میں کیا ترجمہ؟ بہادر آدمی۔ اور آپ چاہیں تو وہی ضابطہ لگائیں جو میں نے ابھی ذکر کیا تھا کہ موصوف ‏صفت کی وہی ترتیب رکھو۔ عربی میں موصوف پہلے ہے اردو میں بھی موصوف کو پہلے رکھو لیکن اس سے پہلے کیا ‏لفظ لے آؤ؟ ایسا یا ایسی۔ تو رجل شجاع ترجمہ کریں؟ ایسا آدمی جو کہ بہادر ہے۔ تو یہ دو طریقے ہیں نکرہ کے ترجمے کے موصوف صفت کے جو عام استعمال ہوتے ہیں۔ اب یہاں دو صفتیں آ گئیں تو ‏دونوں کو اکٹھا کر لو۔ یوں کرو ایک صفت کو مقدم کر لو اور ایک کو مؤخر ہی رکھو، اس کے لیے ایسا یا ایسی کا لفظ ‏لے آؤ۔ تو قفرین کو ہم مقدم کر دیتے ہیں۔ ویران اور سنسان وادی دیکھا ویران اور سنسان کو میں نے مقدم کر دیا وادی پر۔ ‏اور دوسرا جو دوسری صفت ہے اس کے لیے شروع میں ایسا کا لفظ لے آؤ اور اس کو مؤخر ہی رکھو۔ ایسی سنسان اور ‏ویران وادی کا جوف العیر جو کس کی طرح ہے؟ جنگلی گدھے کے پیٹ کی طرح ہے۔ دیکھا کتنا بہترین ترجمہ ہو گیا۔ بہت سی ایسی سنسان وادیاں جو جنگلی گدھے کے پیٹ کی طرح تھیں قطعتہ میں نے ان کو طے کیا۔ بہزئب یعوی اس وادی ‏کے اندر، ان وادیوں کے اندر بھیڑیا جو ہے وہ چلا رہا تھا۔ کلمخلی علم وعیلی۔ جیسے کہ کثیر العیال جوئے میں ہارنے ‏والا جواری ہوتا ہے۔ جیسے کثیر العیال جوئے میں ہارنے والا جواری ہوتا ہے۔ کیا معنی؟ بھئی جوا جو ہے نا جوا یاد ‏رکھو یہ ایک بہت بری لت ہے، نشے کی طرح ہے۔ اللہ سب کی اس سے حفاظت فرمائے۔ یہ نشے کی طرح ہے جس کو ‏لگ جائے پھر چھوٹتا نہیں۔ حتی کہ اپنا ساری جائیداد، سارا مال اس میں انسان لٹا دیتا ہے لیکن پھر بھی یہ نشہ نہیں جاتا۔ ‏حتی کہ آپ نے یہ واقعات بھی سنے ہوں گے کہ اپنے بیوی بچوں کو بھی جوئے کے اندر ہار جاتا ہے۔ تو یہ ایسی لت ‏ہوتی ہے انسان سوچتا ہے کہ میں کچھ جیتوں گا اور پھر اور جوا کھیلتا ہے اور کھیلتا ہے اور ہارتا چلا جاتا ہے، کبھی ‏تھوڑا بہت جیت بھی جاتا ہے، کبھی جیت بھی جاتا ہے بس وہ تھوڑی بہت جو جیت ہوتی ہے، اس کی لذت میں بار بار ‏اپنے پیسے لٹاتا چلا جاتا ہے کہ اب جیتوں گا اب جیتوں گا ہوتے ہوتے سب کچھ ختم ہو جاتا ہے لیکن یہ عادت نہیں جاتی ‏پھر بھی بھئی تو اللہ سب کی اس سے حفاظت فرمائے۔ تو جیسے کہتے ہیں کثیر العیال جوئے میں ہارنے والا ہوتا ہے اس ‏کی طرح بھیڑیا چلا رہا تھا۔ بھئی جو شخص جوئے میں ہار گیا اور بچے وغیرہ گھر والے اس کے بہت زیادہ ہیں، جب جوئے میں وہ ہار گیا ہے، گھر ‏آئے گا تو ظاہر سی بات ہے بیوی جو ہے بیوی بچے کھانا مانگیں گے اور ضروریات اس سے طلب کریں گے اور اس ‏کے پاس تو کچھ ہے نہیں وہ تو پہلے ہی سب کچھ ہار چکا ہے، تو ظاہر سی بات ہے خوب لڑائی جھگڑا ہوگا اور یہ خوب ‏چلائے گا، چیخے گا، جھگڑا کرے گا۔ تو بھیڑیا بھی گس جواری کی طرح جو کثیر العیال ہو اور جوئے میں ہار چکا ہو، ‏اس کی طرح چلا رہا تھا جیسے وہ آدمی چلاتا ہے، چیختا ہے کیونکہ اور کوئی راستہ ہی نہیں ہوتا جھگڑے اور لڑائی ‏کے علاوہ اس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں بیوی بچوں کو کہاں سے لا کر کھلائے تو جھگڑا ہوتا ہے چیختا چلاتا ہے۔ تو ‏میں ایسی بہت سی وادیوں سے گزرا جن میں بھیڑیا اسی طرح چلا رہا تھا جیسے جوئے میں ہارنے والا کثیر العیال ‏جواری چلا رہا ہوتا ہے۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ تو اس کے ساتھ اس کو تشبیہ اس بھیڑیا کو اس کے ساتھ تشبیہ دی کہ ‏جیسے وہ چیختا اور چلاتا ہے، یہ بھیڑیا بھی اسی کی طرح چیخ اور چلا رہا ہے۔ بہزئب یعوی کلمخلی علم وعیلی کہ اس میں بھیڑیا چلا رہا تھا جیسے کہ کثیر العیال جوئے میں ہارنے والا جواری ہوتا ‏ہے۔ وواد کجوف العیر قفر قطعتہ بہزئب یعوی کلمخلی علم وعیلی اور میں نے ایسی بہت سے سنسان اور ویران وادیوں کو طے ‏کیا میں ان میں سے گزرا جو کہ جنگلی گدھے کے پیٹ جیسی تھیں اس حال میں کہ ان میں بھیڑیا جو ہے وہ چلا رہا تھا ‏جس طرح کہ کثیر العیال جوئے میں ہارنے والا جواری ہوتا ہے یعنی جیسے وہ چلاتا ہے بھیڑیا بھی اس کی طرح خوب ‏زیادہ چلا رہا تھا۔ تو کہتے ہیں ایسی بہت سی بے آب و گیاہ وادیاں جو جنگلی گدھے کے پیٹ کی طرح تھیں قطعتہ ہو میں نے ان کو طے ‏کیا۔ بہزئب یعوی اس حال میں بہزئب یعوی یہ پورے جملے کو یہ قطعتہ ہو سے حال بنا لیں۔ قطعتہ ہو کی ہا ضمیر سے ‏کیا کر لیں؟ حال اس کی ہا ضمیر سے حال بنا لیں۔ میں نے ان کو طے کیا یعنی میں ان میں سے اس طرح کی وادیوں میں ‏سے گزرا اس حال میں کہ بہزئب یعوی کہ ان میں بھیڑیا ان میں چلا رہا تھا۔ میں ایسی بہت سی سنسان اور ویران وادیوں ‏میں سے گزرا جو جنگلی گدھے کے پیٹ جیسی تھیں اس حال میں کہ ان میں بھیڑیا چلا رہا تھا کلمخلی علم وعیلی جیسے ‏کہ کثیر العیال جوئے میں ہارنے والا جواری ہوتا ہے۔ وواد کجوف العیر قفر قطعتہ بہزئب یعوی کلمخلی علم وعیلی اور میں نے ایسی بہت سے سنسان اور ویران وادیوں کو طے ‏کیا میں ان میں سے گزرا جو کہ جنگلی گدھے کے پیٹ جیسی تھیں اس حال میں کہ ان میں بھیڑیا جو ہے وہ چلا رہا تھا ‏جس طرح کے کثیر العیال جوئے میں ہارنے والا جواری ہوتا ہے یعنی جیسے وہ چلاتا ہے بھیڑیا بھی اس کی طرح خوب ‏زیادہ چلا رہا تھا۔ تو بہزئب یعوی ایک ترکیب کیا کی، یہ پورا جملہ کیا ہے؟ حال ہے کس سے؟ قطعتہ ہو سے۔ حال ہے کس سے؟ قطعتہ ہو ‏کی ہا ضمیر۔ یا بہزئب یعوی اس پورے جملے کو وادی کی صفت بنا دیں کیونکہ پورا جملہ ہے اور میں نے آپ کو ضابطہ ‏بتلایا تھا نکرہ کے بعد فعل آجائے تو فعل اس کے لیے عموماً کیا بنتا ہے؟ صفت۔ نکرہ کے بعد فعل آجائے وہ عموماً اس ‏کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ جاءنی رجل ضربکا جاءنی رجل میرے پاس ایک آدمی آیا۔ رجل نکرہ ہے ضربکا اس کے بعد فعل آگیا اور نکرہ کے بعد ‏فعل آئے تو عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو اب ترجمہ کریں میرے پاس سے ایسا آدمی آیا ضربکا جس نے آپ ‏کی پٹائی کی تھی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے تو نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے ‏صفت بنتا ہے کیونکہ وہ نو وہ جو فعل ہے وہ اپنے فاعل سے مل کر جملہ بنے گا اور یاد رکھو قیمتی ضابطہ جملہ جو ‏ہوتا ہے وہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے۔ جملہ کس کے حکم میں؟ جبھی نکرہ کی صفت بنے گا نا کیونکہ موصوف صفت ‏میں تنکیر و تعریف میں مطابقت ضروری ہے موصوف معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ موصوف نکرہ ہو تو صفت بھی ‏نکرہ تو یہ جو جملہ ہوتا ہے یہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے۔ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے چاہے جملہ ‏فعلیہ ہو چاہے جملہ اسمیہ ہو۔ جملے کے اپنے اندر چاہے بیس معرفہ آرہے ہوں لیکن جب سارے مل جل کر جملہ بن جائے ‏گا تو اب یہ نکرہ کے حکم میں ہے۔ پورا جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے۔ بے شک اس کے اندر کئی معرفہ ہیں لیکن ‏جب پورا جملہ بن گیا اب یہ نکرہ کے حکم میں لہٰذا یہ نکرہ کے لیے صفت بنے گا۔ لہٰذا بہزئب یعوی کیا ہے؟ جملہ اور یہ ‏ماقبل میں کیا تھا وادن وادن موصوف کجوف العیری صفت اول قفرین صفت ثانی اور بہزئب یعوی صفت ثالث بن جائے ‏گی۔ اور یہ جو قطعتہ ہو ہے یہ جواب ربہ ہے رب وادن بہت سی ایسی وادیاں قطعتہ ہو میں نے ان کو طے کیا میں ان میں سے ‏گزرا۔ تو اب دیکھیے ترجمہ اور ایسی بہت سے سنسان اور ویران وادیاں جو جنگلی گدھے کے پیٹ کی طرح تھیں جن میں ‏بھیڑیا جو ہے وہ چلا رہا تھا جیسے کہ کثیر العیال جوئے میں ہارنے والا جواری جو ہے ہوتا ہے قطعتہ ہو میں نے ایسی ‏وادیوں کو طے کیا یعنی میں ان میں سے گزرا۔ اچھا اب یہاں آیا ووادن کجوف العیری ایسی وادی جو جنگلی گدھے کے پیٹ ‏کی طرح تھی کیا معنی؟ معنی یہ جن میں کوئی فائدے والی چیز نہیں تھی ویران سنسان نہ اس میں پانی ہے نہ سبزہ ہے نہ ‏انسان ہے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کو تشبیہ دے دی جنگلی گدھے کے ساتھ جنگلی گدھے کے پیٹ کے ساتھ کیونکہ جیسے ‏وہ بے فائدہ ہے جنگلی گدھے کا پیٹ اسی طرح یہ وادیاں بھی کیا تھیں بالکل ہی بے فائدہ اور وہ کس طرح بے فائدہ بھئی ‏دیکھو ایک ہے پالتو گدھا، پالتو گدھا یہ تو انسان کے بڑے کام آتا ہے بھئی ہر مشکل کام کے لیے ہر بوجھ لادنے کے لیے ‏کوئی چیز لانے لے جانے کے لیے انسان اس کو استعمال کرتا ہے اور اسی طرح اسلام نے تو منع کر دیا اس لیکن عرب ‏کے لوگ جاہلیت کا زمانہ وہ لوگ تو اس گدی کا دودھ بھی استعمال کرتے تھے بھئی تو اس میں گویا ان کے لیے دو فائدے ‏ہو گئے دودھ کا بھی فائدہ اور سواری وغیرہ کا بھی فائدہ اور بوجھ لادنے کا بھی فائدہ تو یہ پالتو گدھے کے تو کئی فائدے ‏لیکن جو جنگلی گدھا ہے اس کا تو کوئی بھی فائدہ نہیں نہ اس پر کوئی سواری کر سکتا ہے جنگل میں ہے نہ بوجھ لاد ‏سکتا ہے نہ اس سے کوئی دودھ کا نفع کوئی بھی فائدہ نہیں تو یہ وادیاں بھی جیسے وہ جنگلی گدھا بے فائدہ ہوتا ہے اسی ‏طرح یہ وادیاں بھی کیا ہیں بالکل ہی بے فائدہ اور وہ کس طرح بے فائدہ بھئی عیر سے مراد ہے خمار بھئی یہ کوئی ‏شخص تھا خمار ابن موالع بھئی اور قوم عاد میں سے تھا یمن کے اندر اسی وادی کے اندر رہتا تھا اور موحد تھا بھئی اللہ ‏پر ایمان رکھتا تھا اللہ پر ایمان رکھتا تھا۔ اس کا نام جو تھا خمار تھا خمار ابن موالع اور اس کا لقب عیر تھا عیر بھئی اور وہ جو وادی تھی جس میں وہ رہتا تھا اس ‏کا نام تھا جوف بھئی جوف اس کو کیا کہتے تھے جوف تو جوف العیر اس عیر کی وادی، اس خمار ابن موالع کی وادی۔ تو ‏یہ شخص جو تھا موحد تھا لیکن پھر اس کے بیٹے کہیں سفر پر گئے وہاں کہیں ان پر بجلی گرے اور وہ سارے بیٹے جو ‏ہیں وہ اس کے مر گئے۔ جب اس کو خبر ملی سارے بیٹے مر گئے ہیں بجلی گری ہے تو یہ اس نے اللہ کی وحدانیت کا ہی ‏انکار کر دیا کہ میں ایسے اللہ کو نہیں مانتا جس نے میرے سارے بچوں کو مار دیا اور شرک کرنے لگا جیسے بھئی ابھی ‏کشمیر میں زلزلہ آیا تھا تو لوگ ذکر کرتے ہیں کہ وہاں پر بھی بہت سے لوگوں نے اس طرح کے کفریہ کلمات کہنے ‏شروع کر دیے لیکن کس کا نقصان کر رہے ہیں اپنا صرف اپنا نقصان کر رہے ہیں اللہ کی وحدانیت کا انکار کریں گے تو ‏اپنا ہی نقصان ہے اپنی ہی آخرت تباہ کر رہے ہیں۔ تو اس شخص نے بھی اللہ کی وحدانیت کا انکار شروع کر دیا اور ‏شرک شروع کر دیا اور پھر اللہ کی طرف سے مزید عذاب آیا اور پھر اس کی وادی جو ہے اس میں بھی آگ لگی سارا اس ‏کا سامان بچے تو گئے تھے مال وغیرہ تو تھا اس کے پاس پھر بھی اس کا مال وغیرہ سامان وہ سارا کچھ بھی جل گیا اور ‏پھر وہ وادی بھی ایسی رہ گئی کہ اس میں کچھ اگتا ہی نہیں تھا۔ تو وہ جو خمار ابن موالع کی جو وادی تھی جوف بھئی اس ‏کی طرف اشارہ ہے کہ بہت سی ایسی وادیاں جو خمار ابن موالع کے وادی کی طرح تھیں میں نے ان کو طے کیا اور میں ‏ان سے گزرا میں ان سے گزرا۔ تو وادیوں کو تشبیہ دے رہا ہے خمار ابن موالع کی وہ جوف وادی کے ساتھ بے آب و گیا ‏اور سنسان و ویران ہونے کے اندر کہ وہ وادیاں جو ہیں وہ بے آب و گیا اور سنسان اور ویران تھیں جس طرح کہ خمار ‏ابن موالع کی جو وادی تھی وہ بھی بے آب و گیا تھی نہ کوئی سبزہ وغیرہ تھا اور سنسان اور ویران تھی کوئی انسان بھی ‏اس کے اندر نہیں بستا تھا تو تشبیہ ہے کس چیز کے اندر ویران اور ویران اور سنسان ہونے میں اور بے آب و گیا ہونے ‏میں۔ بات سب کو سمجھ میں آگئی۔ تو بعضوں نے کیا لکھا کہ خمار ابن موالع وہ اس آدمی کا نام تھا اور عیر اس کا لقب تھا جبکہ بعضوں نے کہا نہیں عیر ‏اس کا لقب نہیں تھا بس نام اس کا خمار تھا۔ اور خمار کس کو کہتے ہیں گدھے کو خمار کسے کہتے ہیں گدھے کو اور ‏عیر بھی کسے کہتے ہیں وہ پالتو گدھے کو بھی کہتے ہیں جنگلی گدھے کو بھی کہتے ہیں تو یہاں چونکہ شعر کا وزن ‏برابر نہیں ہو رہا تھا اس لیے خمار کی بجائے کیا کہہ دیا عیر کہہ دیا اور اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ بات سمجھ میں آگئی۔ ‏چلیے بس بھئی ہارا ہوا المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔ ‏ ‏
20 approved lectures · 17 of 20