Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-007

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 19
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگِے دِیکھئے بھئی۔ ‏ ألا رُبَّ یَوْمٍ لَكَ مِنْهُنَّ صَالِحٌ وَلَاسِيَّمَا يَوْمُ بِدَارَةِ جُلْجُلِ وَيَوْمَ عَقَرْتُ لِلْعَذَارَى مَطِيَّتِي فَيَا عَجَبًا مِنْ كُورِهَا الْمُتَحَمَّلِ فَظَلَّ الْعَذَارَى يَرْتَمِينَ بِلَحْمِهَا وَشَحْمٍ كَهُدَّابِ الدِّمَقْسِ الْمُفَتَّلِ۔ امرؤ القیس کا معلقہ چل رہا ہے بھئی، قصیدہ لامیہ کہ ہر شعر کے آخر میں لام آ رہا ہے۔ امرؤ القیس ایک مقام پر سے گزرا، جہاں کسی زمانے میں اس کی عشیقہ رہتی تھی اور اب صرف اس گھر کے نشانات ‏باقی تھے تو اس کو وہ گزرا ہوا زمانہ یاد آگیا وہ خود بھی وہاں ٹھہر گیا رونے لگ پڑا اور اپنے ساتھیوں کو بھی غم کی ‏یہ باتیں سنانے لگا۔ اور کہنے لگا کہ یہ جگہ بالکل اجاڑ و بیابان ہو چکی ہے اور مجھے وہ دن یاد ہے جس دن وہ لوگ یہاں سے سفر پر نکل ‏رہے تھے، میں زار و قطار رو رہا تھا اور میرے ساتھیوں نے میرے پاس اپنی سواریاں روکی ہوئی تھیں اور وہ مجھے ‏صبر کی تلقین کر رہے تھے لیکن انہیں کیا خبر کہ میرا اب غم جو ہے وہ تو صرف آنسوؤں کے ذریعے ہی کم ہو سکتا ‏ہے اس درد کی اور کوئی دوا نہیں۔ اور پھر اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اے امرؤ القیس! یہ تجھ پر کوئی پہلا غم نہیں آیا بلکہ اس عشق و محبت ‏کے میدان میں اس طرح کی آزمائشیں تم پر پہلے بھی آ چکی ہیں اور پھر وہ ام الحویرث اور ام الرباب کو یاد کرتا ہے اور ‏کہتا ہے کہ وہ ایسی صاف ستھری اور ایسی نعمتوں میں رہنے والی عورتیں تھیں کہ جب وہ اٹھتی تھیں تو ان سے مشک ‏کی خوشبو ہر طرف پھیل جایا کرتی تھی اور پھر ان کی یاد میں امرؤ القیس کہتا ہے میرے آنسو بہنے لگ پڑے یہاں تک ‏اتنے آنسو بہے، اتنے آنسو بہے کہ ان آنسوؤں نے میرے سینے پر میری تلوار کے پرتلے کو بھی گیلا کر دیا۔ آگے کہتا ہے ‏ ألا رُبَّ یَوْمٍ لَكَ مِنْهُنَّ صَالِحٌ وَلَاسِيَّمَا يَوْمُ بِدَارَةِ جُلْجُلِ۔ الفاظ کے معنی دیکھ لیں بھئی، ألا حرف تنبیہ ہے۔ حرف تنبیہ ہے اور اردو میں اس کا کوئی مترادف نہیں تو کبھی اس کا ‏ترجمہ خبردار کے ساتھ کر دیا جاتا ہے، کبھی اس کا ترجمہ سنو اس لفظ کے ساتھ کر دیا جاتا ہے کہ سنو اور کبھی اس کا ‏ترجمہ کر دیا جاتا ہے آگاہ رہو یعنی دوسرے کو متنبہ کرنے کے لیے کوئی ایک معنی جو آپ کو اگر اس سے بہتر مناسب ‏ملتا ہے آپ وہ ترجمہ بھی کر سکتے ہیں۔ تو یہاں اس کا ترجمہ کر لیں گے سنو! یا آگاہ رہو۔ رُبَّ يَوْمٍ رُبَّ جو ہے وہ تقلیل ‏کے لیے وضع ہے لیکن اب یہ استعمال ہمیشہ تکثیر میں ہوتا ہے بھئی جہاں بھی رُبَّ استعمال ہوگا تکثیر کے لیے ہوگا۔ ‏ہاں اگر کہیں تقلیل کے لیے استعمال ہوگا تو وہاں کوئی قرینہ وغیرہ آپ کو بتلا دے گا کہ یہ یہاں تقلیل کے لیے ہے ورنہ ‏عموماً یہ جہاں بھی آئے گا کس کے لیے آئے گا؟ تکثیر کے لیے۔ صالح کا معنی اچھے، اچھے، خوش۔ وَلَاسِيَّمَا وَلَاسِيَّمَا یہ ما بعد کو ما قبل پر فضیلت دینے کے لیے آتا ہے۔ ما قبل میں بھی ‏ایک چیز کا ذکر، ما بعد میں بھی ایک چیز کا ذکر تو یہ کیا کرتا ہے؟ ما بعد کو فضیلت دیتا ہے کس پر؟ ما قبل پر۔ اور ‏دارہ جُلجُل دارہ جُلجُل یہ ایک تالاب کا نام ہے بھئی، ایک تالاب کا نام ہے۔ تو امرؤ القیس جو ہے وہ رو رہا ہے، آنسو بہا رہا ہے اور پھر اسے خیال آتا ہے اور کہتا ہے کہ اے امرؤ القیس! اتنا غم ‏کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی وجہ سے اگر تجھ پر بڑے بڑے غم آئے ہیں تو کوئی بات نہیں یہ عشق و محبت ‏کے میدان میں جدائی اور وصال ساتھ ساتھ چلتے ہیں اگرچہ جدائی کا زمانہ بڑا طویل ہے لیکن پھر بھی کبھی نہ کبھی تو ‏وصال کا موقع بھی مل جاتا ہے اور اس وصال کی جو ہے وہ یادیں انسان کے ساتھ رہتی ہیں اگر ان کی وجہ سے تجھ پر ‏بڑے غم آئے تو ان کی وجہ سے بعض اوقات وصال کا موقع بھی میسر آیا اور بڑے خوشگوار لمحے بھی میسر آئے۔ تو کہتا ہے ألا رُبَّ يَوْمٍ لَكَ مِنْهُنَّ صَالِحٌ کہ ان کی وجہ سے بہت سے اچھے دن بھی تجھے ملے اور خاص طور پر دارہ ‏جُلجُل کا دن کہ وہ تو بڑا ہی اچھا دن تھا۔ دارہ جُلجُل کا واقعہ یہ ہے میں نے بتایا یہ ایک تالاب کا نام ہے۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کا کوئی سال کے اندر ‏جشن وغیرہ کا دن آیا کرتا تھا اور پھر اس دن سارے لوگ جو ہیں بستی سے جگہ سے باہر نکلتے کھلی جگہ پر اور سارا ‏دن وہاں کھیل تماشوں میں مشغول رہتے تھے۔ تو وہ دن آیا اور سارے بستی والے نکلے بستی سے باہر کھلی جگہ پر جشن ‏منانے کے لیے، کھیل تماشوں کے لیے، تفریح کے لیے تو مرد حضرات وہاں چلے جاتے اور عورتیں بھی بستی سے ‏نکلتی وہ بستی کے قریب ہی کوئی جگہ ہوتی وہاں پر سارا دن کھیل تماشوں میں مصروف رہتیں۔ تو یہ جشن والا دن آیا، سارے بستی والے مرد حضرات نکل کر چلے اور اس میدان کی طرف گئے، امرؤ القیس درمیان ‏میں وہ تو اپنی عاشق کی تلاش میں رہتا تھا وہ درمیان میں چھپ کر پیچھے رہ گیا۔ ادھر بستی سے عورتیں بھی نکلیں اور ‏وہ دارہ جُلجُل تالاب جو بستی کے ذرا قریب تھا اس کے پاس آئیں اور وہاں کھیل تماشوں میں مشغول ہوئیں۔ انہوں نے ارادہ ‏کیا تالاب میں نہائیں اور عرب کے اندر وہ زمانہ بھئی جاہلیت کا زمانہ تھا ننگا ہونا تو کوئی عیب سمجھا ہی نہیں جاتا تھا ‏اور پھر خصوصاً جب وہ خود آپس میں سہیلییاں وغیرہ ہیں بس عورتیں ہی ہیں مرد وہاں ہے ہی نہیں تو یہ ساروں نے ‏کپڑے ‏उतارے اور تالاب کے اندر نہانے لگ پڑیں۔ نہا رہی ہیں، کھیل رہی ہیں۔ ادھر امرؤ القیس تو اپنی معشوقہ کی تاک ‏میں تھا بھئی وہ پیچھے چھپا ہوا تھا وہ خاموشی سے ان کا پیچھا کرتا رہا جب یہ ساری نہانے کے لیے تالاب کے اندر ‏گھس گئیں یہ خاموشی سے گیا جا کر ان کے ساروں کے کپڑے سمیٹ کر اکٹھے کیے ایک اونچی جگہ پہ بیٹھ گیا اور پھر ‏ان کو کہتا ہے بھئی یہ دیکھو تمہارے ساروں کے کپڑے میرے پاس ہیں۔ ساروں کے کپڑے اب تو وہ ساری بڑی پریشان ہوئیں کہ یہ کیا ہو گیا منت سماجت کرنے لگیں اور بڑی دیر گزر گئی بڑی منت سماجت کی ‏لیکن امرؤ القیس نے قسم اٹھا لی کہ میں تم میں سے کسی کو بھی اس کے کپڑے نہیں دوں گا جب تک وہ تالاب سے نکلے ‏اور پھر پورا ایک چکر لگائے تاکہ میں اس کو مقبلا، مدبرا، آگے پیچھے سے اچھی طرح دیکھ لوں اس کے بعد میں اس ‏کے کپڑے اس کو دوں گا۔ وہ تو بڑی پریشان ہوئیں یہ کیسی شرط تم نے رکھ دیں، بہت دیر گزر گئی، بڑی منت سماجت ‏کی لیکن امرؤ القیس کہنے لگا نہیں اب تو میں قسم اٹھا چکا ہوں اب ایک کو بھی کپڑے ویسے نہیں ملیں گے۔ آخر تھک ہار کر ان میں جو بڑی بے حیا تھی وہ باہر نکلی تو اس نے اسی طرح پورا ایک چکر لگایا اور پھر امرؤ القیس ‏نے اس کے کپڑے اس کو دے دیے اس کو دیکھ کر پھر ایک اور نکلی اس نے بھی اسی طرح چکر لگایا امرؤ القیس نے ‏اس کے کپڑے بھی اسے دے دیے کرتے کرتے ساری عورتوں کو ان کے کپڑے دے دیے اور البتہ اس کی جو عشیقہ تھی ‏چچا کی بیٹی عنیزہ وہ آخر میں باقی رہ گئی تو وہ کہنے لگی کم از کم میرے ساتھ تو اس طرح نہ کرو مجھے تو کپڑے ‏دے دو اس نے کہا تمہارے لیے ہی تو میں یہاں بیٹھا ہوں تو تمہیں کیسے کپڑے دے دوں تمہاری وجہ سے ان کو باقیوں ‏کو چکر لگانے پڑے تو انکار کر بڑی منت سماجت وہ بعد میں بھی کرتی رہی لیکن انکار کر آخر اس کو بھی اسی طرح ‏نکلنا پڑا چکر لگانا پڑا اور پھر اس کے کپڑے بھی اسے دے دیے تو یہ تھا دارہ جُلجُل کا دن بھئی۔ تو پھر جب سب کے کپڑے دے دیے اب اس میں کافی وقت گزر گیا وہ عورتیں امرؤ القیس کو ملامت کرنے لگیں کہ ‏تمہاری وجہ سے ہمیں اتنی دیر ہو گئی کھانے کا وقت ہو گیا اب کھانا پکائے گا کون اور کیا انتظام ہم اس کا کریں گے تو ‏امرؤ القیس کہنے لگا فکر کی کوئی ضرورت نہیں میں تمہارے لیے اپنی اونٹنی ذبح کر دیتا ہوں لیکن مجھے فکر ہے کہ ‏کہیں تم اس کے کھانے سے انکار نہ کر دو تو انہوں نے کہا نہیں اگر تم ذبح کر دو ہم کھا لیں گی چنانچہ امرؤ القیس نے ‏فورا اپنی اونٹنی ان کے لیے ذبح کر دی اور پھر وہیں پر آگ جلائی اور وہ اس آگ پر گوشت بھون کر کھاتے رہے تو ‏وہیں بیٹھ کر پھر انہوں نے کھانا کھایا اور تو اسی کو اب امرؤ القیس ذکر کر رہا ہے بھئی امرؤ القیس۔ کہتا ہے ألا رُبَّ يَوْمٍ لَكَ مِنْهُنَّ صَالِحٌ، وَلَاسِيَّمَا يَوْمُ بِدَارَةِ جُلْجُلِ۔ ألا سنو رُبَّ يَوْمٍ لَكَ مِنْهُنَّ صَالِحٌ بعض نسخوں میں یہ لکا کی ‏جگہ کانا آیا ہے کانا دونوں طرح ٹھیک ہے بھئی۔ یہ جتنے اشعار ہیں ان میں بعد میں الفاظ کا اختلاف ذکر ہوتا ہے بھئی ‏چونکہ بہت قدیم اشعار ہیں تو بعض روایات میں لفظوں کا تھوڑا تھوڑا کہیں فرق بھی آیا ہے وہ علماء نے ان کو بھی ذکر ‏کیا ہے لیکن اس تفصیل میں زیادہ جانے کی ضرورت نہیں بس کم از کم یہی اشعار آپ کو بہترین یاد ہونے چاہئیں بھئی۔ ألا رُبَّ يَوْمٍ لَكَ مِنْهُنَّ صَالِحٌ سنو! بہت سے دن لکا تمہارے لیے مِنْهُنَّ ان کی جانب سے (یعنی ان وہ جو عاشقائیں تھیں ان کی ‏طرف سے) صَالِحٌ اچھے بھی تھے۔ بہت سے دن تمہارے لیے ان کی طرف سے اچھے بھی تھے وَلَاسِيَّمَا يَوْمٌ بِدَارَةِ جُلْجُلِ ‏اور خاص طور پر وہ دن جو کہ دارہ جُلجُل میں تھا۔ معنی سمجھ میں آگیا۔ یاد رکھیے یہ يَوْمٍ نکرہ ہے اور یہ لکا نکرہ کے بعد جار مجرور یاد رکھو نکرہ کے بعد کبھی جار مجرور آتا ہے اور وہ ‏کسی سے جُڑ نہیں سکتا تو پھر وہ اسی نکرہ کی صفت بنتا ہے۔ اسی نکرہ کی صفت اور براہ راست صفت نہیں بنے گا ‏متعلق بھی اس کا نکالنا پڑے گا ألا رُبَّ يَوْمٍ صَابِتٍ لَكَ تمہارے بہت سے ایسے دن اور مِنْهُنَّ یہ متعلق ہے صالح سے کس ‏سے متعلق ہے؟ صالح تو لکا یہ صفت اول ہے یوم کے لیے اور صالح یہ صفت ثانی ہے یوم کے لیے اسی لیے یہ بھی ‏مجرور ہے کیونکہ موصوف پر جو اعراب آتا ہے وہی اعراب کس پر؟ صفت پر بھی اور یہ مِنْهُنَّ صالح سے متعلق ہے ‏ألا رُبَّ يَوْمٍ صَابِتٍ لَكَ صَالِحٌ مِنْهُنَّ اچھے تھے کن کی طرف سے؟ ان عاشقاؤں کی طرف سے جو۔ تو ألا رُبَّ يَوْمٍ لَكَ مِنْهُنَّ صَالِحٌ سنو! بہت سے دن تمہارے لیے ان کی جانب سے اچھے بھی تھے وَلَاسِيَّمَا يَوْمٌ بِدَارَةِ جُلْجُلِ ‏اور خاص طور پر وہ دن جو کہ دارہ جُلجُل میں تھا۔ میں نے بتلایا لاسيما یہ ما بعد کی فضیلت اور تخصیص کرتا ہے ما قبل سے ما قبل میں بھی دنوں کا ذکر بہت سے اچھے ‏دن، ما بعد میں بھی دن کا ذکر لیکن ما بعد کو کیا کر رہا ہے؟ فضیلت دے رہا ہے کس پر؟ ما قبل پر۔ اور یاد رکھو یہ ‏لاسيما کے بعد جو لفظ آئے لاسيما يوم اس لاسيما کے بعد جو لفظ آئے اس میں تینوں طرح کے اعراب جاری ہوتے ہیں رفع ‏بھی، نصب بھی، جَر بھی۔ لاسيما يوم، لاسيما يوماً اور لاسيما يَوْمٍ تینوں طرح کے اعراب جاری ہوتے ہیں اور اس شعر ‏کے اندر بھی اس یوم میں تینوں طرح کی روایات آئی ہیں بھئی تینوں طرح کی روایات رفع کے ساتھ بھی یہ روایت کیا گیا ‏ہے، نصب کے ساتھ بھی مروی ہے اور جَر کے ساتھ بھی۔ اب اس کی ترکیب سمجھ لو جگہ جگہ یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یاد رکھو لاسيما لا لا نفی جنس ہے لا کون سا ہے؟ لا نفی جنس اور لا نفی جنس ایک اسم چاہتا ہے اور ایک خبر بھئی لا ‏رُجُلَ فِي الدَّارِ اس گھر میں کوئی آدمی نہیں۔ دیکھو جنسِ رجل کی نفی کر دی اس گھر میں ہونے سے لا رُجُلَ فِي الدَّارِ کوئی ‏آدمی نہیں ہے فِي الدَّارِ اس گھر میں اس گھر میں الدَّارَ یعنی نا الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے کوئی ‏معین گھر بات سمجھ میں آرہی ہے؟ یاد رکھو یہ جو الف لام ہے اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اشارہ کیا جاتا ہے اور تو یہ ہاں پہلے ‏یاد رکھو یہ الف لام دو قسم پر ہے ایک الف لام اسمی اور ایک الف لام حرفی۔ الف لام اسمی وہ اسم ہے اسم ہے اور اس ‏میں موصول ہے یعنی معرفہ ہے اور وہ کون سا ہے جو اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہو بھئی۔ اَضَّارِب یہ ‏الف لام کیا ہے؟ اسمی ہے اَّلَّذِي يَضْرِبُ یہ الَّذي کے معنی میں ہے معرفہ ہے اسم ہے حرف ہے ہی نہیں۔ اسی طرح ‏المضروب کا کیا معنی؟ الَّذي يُضْرِبُ یہ الَّذي یہ کس کا ترجمہ میں کر رہا ہوں؟ الف لام کا تو یہ الف لام اسمی ہے اور ایک ‏الف لام حرفی ہے اس میں فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں کے علاوہ باقی الفاظ پر جو الف لام آئے وہ الف لام حرفی ہے ‏اور الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ تو چنانچہ کبھی اشارہ افراد کی طرف ہوتا ہے کبھی اس چیز کی حقیقت اور ماہیت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ اگر حقیقت ‏اور ماہیت کی طرف اشارہ ہو تو اسے الف لام جنسی کہتے ہیں کیا کہتے ہیں؟ الف لام جنسی مثلاً الرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ الْمَرْأَةِ ‏مرد عورت سے بہتر ہے یہ اب الف لام الرَّجُلُ پر داخل ہو رہا ہے یہ اس میں فاعل یا اس میں مفعول ہے؟ نہیں تو معلوم ہوا ‏یہ الف لام اسمی نہیں تو پھر یہ الف لام حرفی ہوگا اور الف لام حرفی کے لیے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے دہرایو ‏بھئی زبان سے یہ بہترین تعبیر ہے آپ کو بہت کام آئے گی جگہ جگہ الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا ‏جاتا ہے اگر اشارہ جنس کی طرف ہو تو وہ الف لام جنسی ہے اور اگر افراد کی طرف ہو وہ آگے میں تفصیل بیان کرتا ‏ہوں بھئی تو الرَّجُلُ پر الف لام آیا اور یہ اس میں فاعل یا اس میں مفعول ہے نہیں معلوم ہوا یہ الف لام حرفی ہے۔ اب ہم ‏دیکھتے ہیں یہ کون سا ہے حرفی تو یا جنسی ہوتا ہے یا استغراقی یا عہدیذہنی یا عہدیخارجی تو دیکھو ترجمہ کرو۔ مرد ‏عورت سے بہتر ہے اب اس سے یہ مراد نہیں لے سکتے کہ مرد کے جو افراد ہیں خارج میں پائے جاتے ہیں ایک ہے ‏حقیقت رجل اس کی ماہیت اور ایک اس کے خارج میں جو افراد پائے جاتے ہیں حقیقت اور ماہیت جس سے وہ چیز بنے ‏خارج میں جو افراد پائے گئے اب یہاں افراد مراد نہیں ہو سکتے کہ یہ جو مرد کے افراد ہوتے ہیں وہ عورتوں سے اب ‏بہتر ہوتے ہیں یہ نہیں لے سکتے کیوں؟ کیونکہ پھر تو بات خراب ہو جائے گی کیونکہ بس آپ دیکھتے ہیں ایک کافر مرد ‏ہے اور ایک مومنہ عورت ہے کون افضل ہے؟ مومنہ عورت اور اس میں تو کیا کہا جا رہا ہے الرَّجُلُ خَيْرٌ مِنَ الْمَرْأَةِ تو ‏بات غلط ہو گئی یا نہیں؟ معلوم ہوا یہاں افراد نہیں مراد اسی طرح نیک عورت اور فاسق مرد ہو تو نیک عورت اس سے ‏افضل ہے تو معلوم ہوا یہاں افراد نہیں مراد یہاں حقیقت مراد ہے معنی یہ ہے کہ حقیقت رجل یا یوں کہو جنس رجل یہ ‏افضل ہے کس سے؟ جس سے عورت سے یعنی اس جنس کو اللہ نے اس جنس پر فضیلت بخشی ہے بات سمجھ میں آگئی۔ پھر کبھی کبھار الف لام کے ذریعے یا تو جنس اور ماہیت کی طرف اشارہ ہوگا یا افراد کی طرف اگر افراد کی طرف ‏اشارہ ہے پھر یا تو تمام افراد کی طرف اشارہ ہوگا یا بعض کی طرف اگر تمام کی طرف اشارہ ہو تو یہ الف لام استغراقی ‏ہے الف لام استغراقی جیسے قرآن میں ہے وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ یقیناً تمام انسان کس میں ہیں؟ خسارے میں یہ آپ ‏سے کوئی پوچھے یہ تمام کا لفظ آپ کہاں سے نکال کر لے آئے؟ قرآن میں تو ہے إِنَّ الْإِنْسَانَ تمام کا لفظ ہی نہیں آپ کہیں ‏گے یہ الف لام کا ترجمہ کر رہا ہوں یہ الف لام کیا ہے؟ استغراقی تمام افراد مراد ہیں اور کیوں تمام کیوں مراد ہیں؟ کیونکہ ‏آگے استثناء آ رہا ہے إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا اگر تمام مراد نہیں لو گے تو استثناء صحیح نہیں بنتا بھئی بات سمجھ میں آرہی ہے؟ ‏سب کو بیان کیا اور اس میں سے کچھ کو نکال دیا سب کا حکم بیان کیا تمام انسان خسارے میں ہیں کچھ کو نکال کر کہا ‏لیکن جنہوں نے اچھے عمل کیے اور ایمان لائے وہ ان کا یہ حکم نہیں ہے وہ خسارے میں نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے تو یہ الف لام کون سا ہوا؟ استغراقی اور اگر الف لام کے ذریعے بعض افراد کی طرف اشارہ ہو ‏تو پھر وہ بعض خارج میں متعین ہوں گے یا متعین نہیں ہوں گے اگر خارج میں متعین ہیں تو یہ الف لام عہدی خارجی ہے ‏عہد کا معنی متعین ہونا عہدی خارجی جو خارج میں متعین ہیں مقرر ہیں مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کل میرے پاس ایک ‏آدمی آیا تھا جَاءَنِي رَجُلٌ أَمْسِ کل رات میرے پاس رَجُلٌ نکرہ لایا کیونکہ آپ نہیں جانتے آپ کو پتہ ہی نہیں میں ویسے ‏ایک نئی بات آپ کو بتا رہا ہوں جب نہیں جانتے تو پھر معرفہ نہیں لاؤں گا کیا لاؤں گا؟ نکرہ لاؤں گا۔ اگر میں یوں کہہ ‏دوں کل میرے پاس وہ والا آدمی آیا تھا کچھ پتہ چلا آپ کو؟ نہیں معرفہ کی صورت ہی نہیں آئی یہاں پر تو میں کیا کہوں ‏گا کل میرے پاس کوئی میرے پاس ایک آدمی آیا تھا پھر میں آگے کہنا چاہتا ہوں پھر میں نے اس آدمی کا اکرام کیا اب میں ‏معرفہ لاؤں گا۔ فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ الرَّجُلَ پھر میں نے اس آدمی کا اکرام کیا اب سمجھ گئے یا نہیں سمجھے؟ سمجھ گئے کہ جو ‏پہلے آدمی کا ذکر ہو رہا تھا اسی کی طرف اشارہ ہے الرَّجُلُ الف لام لایا الف لام کے ذریعے کیا ہوتا ہے؟ اشارہ ہوتا ہے ‏کیا ہوتا ہے؟ اشارہ آپ سمجھ گئے کون سا آدمی مراد ہے؟ تو ترجمہ کیسے کریں گے؟ فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ تو میں نے اس آدمی ‏کا اکرام کیا دیکھا ایک دفعہ نکرہ آ جائے پھر متعین ہو جاتا ہے دوسرا سمجھ متعین ہونے کا یہ معنی نہیں کہ آپ کو اس ‏کے نام کا پتہ چل گیا اس کے چہرے کا پتہ چل گیا اس کے لباس کا نہیں نہیں بس ذکر کرتے ہوئے آپ کو پتہ چل رہا ہے ‏بات کس کی ہو رہی ہے۔ پتہ چل رہا ہے یا نہیں چل رہا؟ بس یہ ذکر کا یہ معنی ہے کہ متعین ہو گیا۔ تو لہٰذا جَاءَنِي رَجُلٌ أَمْسِ کل رات میرے پاس ایک آدمی آیا تو فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ تو میں نے اس کا اکرام کیا۔ اگر دو آدمی آئے ‏تھے تو میں رَجُلَانِ کہوں گا اور الرَّجُلَانِ الف لام لے آؤں گا اگر زیادہ تھے تو میں رجال کہوں گا پھر آگے کہوں گا کچھ ‏لوگ آئے تھے تو فَأَكْرَمْتُ الرِّجَالَ تو میں نے ان لوگوں کا کیا؟ اکرام تو خارج میں سارے نہیں بعض افراد ہیں وہ بعض ‏ایک بھی ہو سکتا ہے دو بھی ہو سکتا ہے دو سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اور اگر وہ افراد خارج میں متعین نہیں تو پھر الف لام عہدی ذہنی ہے وہ الف لام عہدی ذہنی جیسے اس کی مثال ہے قرآن ‏کے اندر حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس ان کے بیٹے آئے اور کہا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو ہمارے ساتھ ‏بھیجیں تو وہ انکار کرنے لگے اور فرمانے لگے أَخَافُ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ أَخَافُ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ الذِّئْبَ الف لام آگیا اور الف لام ‏یہ اس میں فاعل ہے الذِّئْب ذیب فاعل ہے اس میں مفعول ہے؟ نہیں تو یہ تو پھر معلوم ہوا الف لام حرفی ہے اور الف لام ‏حرفی کے لیے تو یا جنس کی طرف اشارہ ہوتا ہے یا افراد تو کیا یہاں جنس مراد لے سکتے ہیں کیا؟ بھیڑیے کی جنس ‏لوگوں کو کھاتی ہے یا بھیڑیے کے افراد جو خارج میں ہیں وہ کھاتے ہیں؟ جو خارج میں افراد ہیں وہ کھاتے ہیں تو معلوم ‏ہوا یہاں الف لام جنسی مراد نہیں تو پھر الف لام استغراقی مراد لے لیتے ہیں وہ بھی نہیں لے سکتے کیونکہ پھر تو معنی ‏یہ ہو جائے گا أَخَافُ أَنْ يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ مجھے یہ خوف ہے کہ سارے بھیڑیے ان کو کھا جائیں گے اور یہ تو ممکن ہی نہیں ‏ساری دنیا کے بھیڑیے وہاں اکٹھے ہو سکتے ہیں یا سارے جنگل کے بھیڑیے اکٹھے ہو کر کھا سکتے ہیں یہ تو بات ‏سمجھ میں آرہی ہے تو بڑا ہی مشکل ایسا ہو جائے۔ تو لہٰذا الذِّئْب سے معلوم ہوا یہ الف لام جِنسی بھی نہیں اور استغراقی ‏بھی نہیں۔ معلوم ہوا بعض افراد مراد ہیں اب بعض کوئی خارج میں متعین ہے؟ کوئی اس کی طرف اشارہ ہو جائے مجھے ‏خوف ہے کہ ان کو وہ والا بھیڑیا کھا جائے گا؟ کسی خاص بھیڑیے کی طرف اشارہ تھا؟ نہیں معلوم ہوا خارج میں بھی ‏متعین نہیں ہے تو پھر معلوم ہوا یہ الف لام عہدی ذہنی ہے ذہن میں بھیڑیے کے کسی ایک کا ویسے تصور کر کے اس کی ‏طرف الف لام کے ذریعے اشارہ کر دیا۔ اور یہ یاد رکھو اس کا ترجمہ نکرہ والا ہی ہوتا ہے یہ نکرہ ہی ہے لفظوں میں معرفہ ہے معنی میں نکرہ ہے مجھے ‏خوف ہے کہ کوئی بھیڑیا ان کو کھا جائے گا دیکھا رَجُلٌ کا معنی کوئی آدمی، ذیب کا معنی کوئی بھیڑیا دیکھا نکرہ والا ‏ترجمہ میں کر رہا ہوں۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگئی۔ تو معلوم ہوا الف لام دو قسم پر ہے الف لام اسمی اور الف لام حرفی۔ الف لام اسمی وہ ہے جو اس میں فاعل اور اس میں ‏مفعول کے صیغوں پر داخل ہو۔ اس میں فاعل اور اس میں مفعول وہ جو گردانوں میں آپ نے پڑھے ہیں ضارب، فاتح، ‏مکرم، مستخرج یہ ہے اسم فاعل اور مَروب، مفتوح، مکرم، مستخرج یہ سارے کیا ہیں؟ اسم مفعول تو ان پر جو الف لام ‏آئے گا وہ الف لام اسمی ہے وہ اس میں موصول ہے۔ اور ان کے علاوہ باقی لفظوں پر آئے تو پھر وہ الف لام حرفی ہوگا ‏اور الف لام حرفی کے لیے کسی لفظ کو معرفہ بناتے ہیں اور اس کے لیے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ اگر اشارہ جنس کی طرف ہو تو یہ الف لام جنسی، اگر افراد کی طرف ہو تو پھر دیکھیں گے سارے افراد یا بعض، اگر ‏سارے افراد تو الف لام استغراقی، اگر بعض افراد پھر دیکھیں گے وہ بعض افراد خارج میں متعین ہیں یا نہیں؟ اگر خارج ‏میں متعین ہیں تو یہ الف لام عہدی خارجی ہے عہد کا معنی متعین ہونا، عہدی خارجی جو خارج میں متعین ہیں مقرر ہیں ‏مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا جَاءَنِي رَجُلٌ أَمْسِ کل رات میرے پاس رَجُلٌ نکرہ لایا کیونکہ آپ ‏نہیں جانتے آپ کو پتہ ہی نہیں ہے میں ویسے ایک نئی بات آپ کو بتا رہا ہوں جب نہیں جانتے تو پھر معرفہ نہیں لاؤں گا ‏کیا لاؤں گا؟ نکرہ لاؤں گا۔ اگر میں یوں کہہ دوں کل میرے پاس وہ والا آدمی آیا تھا کچھ پتہ چلا آپ کو؟ نہیں معرفہ کی ‏صورت ہی نہیں آئی یہاں پر تو میں کیا کہوں گا کل میرے پاس کوئی میرے پاس ایک آدمی آیا تھا پھر میں آگے کہنا چاہتا ‏ہوں پھر میں نے اس آدمی کا اکرام کیا اب میں معرفہ لاؤں گا۔ فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ الرَّجُلَ پھر میں نے اس آدمی کا اکرام کیا اب ‏سمجھ گئے یا نہیں سمجھے؟ سمجھ گئے کہ جو پہلے آدمی کا ذکر ہو رہا تھا اسی کی طرف اشارہ ہے الرَّجُلُ الف لام لایا ‏الف لام کے ذریعے کیا ہوتا ہے؟ اشارہ ہوتا ہے کیا ہوتا ہے؟ اشارہ آپ سمجھ گئے کون سا آدمی مراد ہے؟ تو ترجمہ ‏کیسے کریں گے؟ فَأَكْرَمْتُ الرَّجُلَ تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا دیکھا ایک دفعہ نکرہ آ جائے پھر متعین ہو جاتا ہے ‏دوسرا سمجھ متعین ہونے کا یہ معنی نہیں کہ آپ کو اس کے نام کا پتہ چل گیا اس کے چہرے کا پتہ چل گیا اس کے لباس ‏کا نہیں نہیں بس ذکر کرتے ہوئے آپ کو پتہ چل رہا ہے بات کس کی ہو رہی ہے۔ پتہ چل رہا ہے یا نہیں چل رہا؟ بس یہ ‏ذکر کا یہ معنی ہے کہ متعین ہو گیا۔ چنانچہ اصول و شاشی وغیرہ میں آپ مثال پڑھتے ہیں کتاب کے اندر کہ خاوند اپنی بیوی سے کہता‏ ہے إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ ‏فَأَنْتِ طَالِقٌ۔ جی کیا ترجمہ ہے؟ ترجمہ سب یہی کریں گے إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ اگر تو گھر میں داخل ہوئی فَأَنْتِ طَالِقٌ تو تجھے ‏طلاق غلط ترجمہ ہے إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ الف لام آ رہا ہے الف لام آ رہا ہے بھئی إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ اگر تو اس گھر میں گئی تو ‏تجھے طلاق دیکھا کسی آپ ترجمہ بہترین ہو گیا یا نہیں؟ کسی معین گھر کی طرف اشارہ ہے اگر تو اس گھر میں گئی ہاتھ ‏سے نہیں اشارہ الف لام کے ذریعے اشارہ ہے اور کسی گھر کی پہلے بات چل رہی ہوگی اس کو پتہ ہوگا کس گھر کی بات ‏ہو رہی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ اچھا۔ یہ بات کہاں سے چلی تھی؟ ہاں اچھا تو یہ بات میں ذکر کر رہا تھا لاسيما کے اندر بھئی۔ لاسيما لاسيما ما بعد کو ما قبل پر ‏فضیلت دینے کے لیے آتا ہے اس میں یہ جو لا ہے یہ لا نفی جنس ہے لا نفی جنس ایک اسم چاہتا ہے اور ایک خبر۔ اس کا ‏اسم کبھی منصوب ہوتا ہے اور کبھی مبنی ہوتا ہے، مبنی علی الفتح ہوتا ہے لا رُجُلَ فِي الدَّارِ لا رُجُلَ فِي الدَّارِ گھر میں ‏کوئی آدمی نہیں۔ گھر میں یا اس گھر میں اس گھر میں لا رُجُلَ فِي الدَّارِ اس گھر میں کوئی آدمی نہیں ہے تو دیکھو جنس ‏کے جنس سے رَجُل کی نفی کر دی اس گھر کے اندر ہونے سے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں لا نفی جنس یہ ایک اسم ‏چاہتا ہے اور ایک خبر۔ تو یہ سيما یہ ہے اس کا اسم یہ کیا ہے اس کا اسم اور اس کی خبر محذوف ہوتی ہے بھئی خبر وہ کیا ہے موجودٌ یا حاصلٌ ‏لاسيما يَوْمٌ بِدَارَةِ جُلْجُلِ حاصلٌ یا موجودٌ تو خبر لا کی کیا ہے؟ محذوف ہے حاصلٌ یا موجود اور یاد رکھو یہ سيون کا معنی ‏ہے مثل مثل مشابہ ہونا عرب میں ایک چیز دوسری کے مشابہ ہو تو کہتے ہیں ہذا سي هَذَا یہ چیز یا یوں کہیں ہذا سي ذَٰلِكَ ‏یہ چیز اس چیز کے مشابہ ہے دو آدمی ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو پھر کہتے ہیں ہُمَا سِيَّانِ وہ دونوں ایک دوسرے ‏کے مشابہ ہیں تو سيون کا کیا معنی؟ مثل ایک دوسرے کے مثل ہیں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ اب سيما یہ جو ما ہے ما کے اندر یاد رکھیں یہ ما حرف بھی ہو سکتا ہے حرف ہو اور اسم بھی ہو سکتا ہے یعنی یوں کہو ‏یہ اسمی بھی ہو سکتا ہے اور حرفی بھی۔ اگر یہ اسمی ہو پھر اس کے اندر تین احتمال یا یہ ما موصولہ ہوگا یا یہ ما ‏موصوفہ ہوگا یا یہ ما تامَّہ ہوگا تامَّہ تو چار کل احتمال ہو گئے یا تو یہ ما کیا ہے؟ حرفی، یا یہ ما کیا ہے؟ اسمی ہے اور ‏پھر کتنے احتمال؟ تین یا تو ما موصولہ، یا ما موصوفہ، یا ما تامَّہ ہے یہ جو ما موصولہ ہوتا ہے نا اس میں موصول تو ‏آپ جانتے ہیں معرفہ ہے پھر اس صورت میں یہ معرفہ ہوگا۔ اگر یہ ما موصوفہ ہو تو ما موصوفہ نکرہ ہوتا ہے لیکن ‏آگے اس کی صفت آتی ہے موصوف نام سے ہی پتہ چل رہا ہے موصوف ہو رہا ہے آگے اس کی صفت آ رہی ہے۔ اور جو ما تامَّہ ہوتا ہے وہ اس کو یوں کہہ لیں نکرہ غیر موصوفہ نکرہ غیر تو ما موصولہ معرفہ اور اس کے لیے کیا ‏چاہیے آگے صلہ آگے جملہ آئے گا وہ اس کا صلہ اور ما موصوفہ نکرہ ہے اور آگے اس کی صفت آئے گی جملہ آئے گا ‏جو اس کی صفت بنے گا اور ایک ما تامَّہ ہے نکرہ غیر موصوفہ آگے اس کی صفت نہیں آئے گی۔ تو یہ جو ما موصولہ ہے یہ الشَّيْءُ کے معنی میں ہوا وہ چیز وہ جو کہ اور جو نکرہ ہے وہ شَيْءٌ کے معنی میں ہوا توجہ ‏ہے میں بار بار تکرار کرواؤں گا بس توجہ سے آپ نے سننا ہے انشاءاللہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے گی۔ اس نام ‏میں کل کتنے احتمال ہو گئے؟ کل چار ہو گئے اولاً دو ہیں یا یہ حرفی ہے یا اسمی اور اگر اسمی ہے پھر تین احتمال یا ما ‏موصولہ ہے یا ما موصوفہ یا ما تامَّہ ہے یعنی نکرہ غیر موصوفہ۔ ما موصولہ جو ہوتا ہے وہ معرفہ ہے اور اس کے ‏آگے جملہ آتا ہے جو اس کا صلہ اور ما موصوفہ نکرہ ہے اور آگے اس کی صفت آئے گی جملہ آئے گا جو اس کی صفت ‏بنے گی اور ایک ما تامَّہ ہے نکرہ غیر موصوفہ آگے اس کی صفت نہیں آئے گی۔ تو یہ جو ما موصولہ ہے یہ الشَّيْءُ کے معنی میں ہوا وہ چیز جو کہ اور جو نکرہ ہے وہ شَيْءٌ کے معنی میں ہوا توجہ ہے ‏میں بار بار تکرار کرواؤں گا بس توجہ سے آپ نے سننا ہے انشاءاللہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے گی۔ اس نام میں ‏کل کتنے احتمال ہو گئے کل چار ہو گئے اولاً دو ہیں یا حرفی ہے یا اسمی اور اگر اسمی ہے پھر تین احتمال یا تو ما ‏موصولہ، یا ما موصوفہ، یا ما تامَّہ ہے (نکرہ غیر موصوفہ)۔ ما موصولہ جو ہوتا ہے وہ معرفہ ہے اور اس کے آگے ‏جملہ آتا ہے جو اس کا صلہ، ما موصوفہ نکرہ ہے اور آگے اس کی صفت آئے گی جملہ آئے گا جو اس کی صفت بنے گی ‏اور ایک ما تامَّہ ہے نکرہ غیر موصوفہ آگے اس کی صفت نہیں آئے گی۔ تو یہ جو ما موصولہ ہے یہ الشَّيْءُ کے معنی میں ہوا وہ چیز وہ جو کہ اور جو نکرہ ہے وہ شَيْءٌ کے معنی میں ہوا توجہ ‏ہے میں بار بار تکرار کرواؤں گا بس توجہ سے آپ نے سننا ہے انشاءاللہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے گی۔ اب یاد رکھیے یہاں میں نے بتلایا يومٌ بھی پڑھ سکتے ہیں يَوْمًا بھی پڑھ سکتے ہیں اور يَوْمٍ بھی تینوں اعراب کی وجہ میں ‏ذکر کر دیتا ہوں۔ پہلی وجہ کہ يومٌ پڑھو رفع پڑھو رفع پڑھو تو رفع اس صورت میں یہ خبر ہوگا مبتدا محذوف کی أَي هو ‏يومٌ لاسيما هو هو مبتدا اور يومٌ اس کی خبر اور بعض جگہوں کے اندر اگر یہ معرفہ بھی آ جاتا ہے یہ يومٌ تو نکرہ ہے نا ‏نکرہ ہے اور بعض جگہ معرفہ بھی آ جاتا ہے تو اگر معرفہ آ جائے پھر چاہے اس کو آپ اس کے ادھر دیکھیے یہ معرفہ آ ‏گیا آپ چاہیں اس کے لیے مبتدا محذوف نکال لیں چاہے اس کو خود مبتدا بنائیں اور آگے اس کی خبر نکال لیں اگر یہاں ‏اليَوْمُ ہوتا اليَوْمُ تو پھر آپ اس کو مبتدا بھی بنا سکتے تھے خبر بھی بنا سکتے ہیں اور مبتدا خبر بنائیں گے کیسے؟ هو اليَوْمُ ‏هو مبتدا اور اليَوْمُ اس کی خبر اور اگر اليَوْمُ کو مبتدا بنانا چاہیں تو معرفہ ہے بن سکتا ہے تو اس کے لیے اليَوْمُ حاصلٌ یا ‏موجودٌ الگ خبر نکالیں گے ایک وہ لا کی خبر الگ محذوف ہے ایک اس کی اپنی الگ خبر محذوف نکال لیں گے صورت ‏سمجھ میں آرہی ہے تو رفع کی دو وجہیں آ گئیں رفع کی دو وجہیں۔ تو آپ چاہیں اس کو مبتدا بنائیں، مبتدا بھی مرفوع ہوتا ہے آپ چاہیں تو اس کو خبر بنا لیں خبر بھی کیا ہوتی ہے مرفوع ‏لیکن یہاں تو یہ نکرہ ہے مبتدا تو یہ بن نہیں سکتا تو اس کو خبر بنائیں گے ہو اس کے لیے محذوف نکال لیں گے۔ پھر یہ ‏مبتدا خبر مل کر ما موصولہ، ما کو اگر موصولہ بنایا ہے تو یہ اس کا صلہ بن جائے گا کیا بن جائے گا؟ صلہ۔ سي مضاف اور ما موصولہ مضافٌ إليه موصول اپنے صلے سے مل کر یہ مضافٌ إليه ہوا کس کے لیے؟ سي کے لیے ‏اور مضاف اپنے مضافٌ إليه سے مل کر لا کا اسم اور لا کا اسم یہاں پر کیا ہوگا؟ منصوب ہوگا منصوب ہوگا مضاف ہے ‏نا تو یہ منصوب بعض اوقات مبنی علی الفتح ہوتا ہے اور بعض اوقات منصوب ہوتا ہے تو یہاں منصوب ہوگا۔ تو لاسيما مضاف مضافٌ إليه مل کر لا نفي جنس کا اسم اور موجودٌ یا حاصلٌ اس کی خبر۔ يومٌ رفع پڑھا تو ما کو کیا بنایا؟ ‏موصولہ یا موصوفہ۔ اور موصولہ اور موصوفہ میں فرق سمجھ آگیا؟ موصولہ ہو تو معرفہ اور موصوفہ ہو تو نکرہ تو وہ اس آگے جملہ اس کی ‏صفت بنے گا موصوف صفت مل کر یہ مجرور کس کے لیے؟ سي کے لیے مضافٌ إليه۔ صورت سمجھ میں آگئی اور معرفہ ہو تو الشَّيْءُ کے معنی میں اور نکرہ ہو تو شَيْءٌ کے معنی میں اب جَر والی وجہ لاسيما ‏يَوْمٍ جَر پڑھیں گے آپ مجرور کہ آج اس کو مضافٌ إليه بنا لیں سيَّ کے لیے اور یہ ما حرف ہے، زائد ہے۔ حرف ہے، ‏زائد ہے۔ سيَّا مضاف يومٍ مضافٌ إليه دیکھا آج آپ کو پتہ چل گیا کہ کبھی کبھار مضاف اور مضافٌ إليه کے درمیان بھی ‏ایک حرف زائد آ جایا کرتا ہے قرآن میں بھی ہے أَيُّمَا الْأَجَلَيْنِ أَيُّمُّ مضاف الْأَجَلَيْنِ مضافٌ إليه اور یہ ما کیا ہے؟ زائد کبھی ‏پڑھا دیتے ہیں کلام میں تاکید اور حسن پیدا کرنے کے لیے۔ وَلَا سِيَّا يَوْمٍ یوں عبارت گویا ہو گئی اور یہ ما حرف ہوا، زائد ہوا۔ دوسری ترکیب جَر والی کہ یہ ما کو طامَّة بناؤ (نکرہ ‏غير موصوفَة) اور یہ یہ مُّبدَل منہ اور یوم اس سے بدل اور آپ نے پڑھا ہے مُّبدَل منہ اور بدل کا اعراب ایک اور ما تو ‏نکرہ غير موصوفہ ہے تامَّہ ہے مضافٌ إليه ہے تو اس سے جو بدل ہوگا وہ بھی اسی کی طرح مجرور آئے گا کیونکہ ‏مضافٌ إليه کیا ہوتا ہے؟ مجرور وجہ سمجھ میں آگئی؟ جَر کی کتنی وجہ؟ دو یا کیا بناؤ؟ مضافٌ إليه بناؤ اور اس صورت ‏میں ما کیا ہوگا؟ حرف اور زائد ہوگا اور یا اس کو کیا بناؤ؟ ما سے بدل بناؤ اور ما خود مضافٌ إليه ہے تامَّہ ہے مضافٌ ‏إليه ہے اور يومٌ اس سے بدل اور بدل کا بھی وہی اعراب کہ یہ بھی مجرور ہوگا۔ اور نصب نصب پڑھنے کی تین صورتیں ہیں يومن ہو تو پھر اس کو تمیز بنا سکتے ہیں کیا بنا سکتے ہیں؟ ما جو ہے ما ‏تامَّہ ہے شَيْءٍ کے معنی میں خصوصاً وہ چیز ابہام ہے یا نہیں؟ تو يومن نے آ کر ابہام کو دور کر دیا کہ وہ کون سی چیز؟ ‏وہ جو یوم ہے۔ خاص طور پر وہ چیز اس حیثیت سے کہ وہ دن ہے۔ بھئی شَيْء مبہم ہے نا شَيْء سے کیا مراد ہے پتہ چلا؟ کوئی چیز تو آگے يومن نے آ کر کہ تمیز کیا کرتی ہے آ کر ابہام کو ‏دور کر دیتی ہے صورت سمجھ میں آگئی۔ یا اس کو مفعول بناؤ أَعْنِي فعل کے لیے يَوْمًا میں وَلَاسِيَّمَا اس صورت میں بھی ما نکرہ موصوفہ خاص طور پر وہ چیز ‏بھئی وہ کیا چیز؟ أَعْنِي يَوْمًا میری مراد اس دن سے ہے۔ تو أَعْنِي فعل، أَنَا ضَمِير فاعل اور يَوْمًا اس کے لیے مفعول بنے گا۔ اور یا بعض نحوی حضرات فرماتے ہیں کہ لاسيما یہ یہ لا نفی جنس نہیں ہے یہ سارا حرف استثناء ہے جیسے إِلَّا استثناء ‏کے لیے آتا ہے لاسيما بھی کس کے لیے آتا ہے؟ استثناء کے لیے آتا ہے اور آگے مستثنىٰ آ رہا ہے اور مستثنىٰ منصوب ‏ہوتا ہے تو يَوْمًا بھی کیا ہوگا؟ منصوب ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی رفع کی بھی دو وجہیں، نصب کی تین وجہیں اور جَر ‏کی بھی دو وجہیں رفع کی دو وجہیں کیا؟ یا مبتدا بناؤ یا خبر لیکن یہاں صرف خبر ہی بنے گی مبتدا نہیں۔ اور جَر کی بھی دو وجہیں یا کیا بناؤ مضافٌ إليه بناؤ یا ‏اس کو بدل بناؤ۔ اور نصب کی تین صورتیں یا تو اس کو تمیز بناؤ يَوْمًا یا اس کو مفعول بِهِ بناؤ أَعْنِي فعل کے لیے یا اس کو مستثنىٰ بناؤ ‏اور لاسيما کیا ہو جائے گا حرف استثناء ہو جائے گا اب یہ لا نفی جنس نہیں ہے بات سمجھ میں آگئی۔ لیکن ایک اور بات یاد رکھو یہاں تو تمیز بنا سکتے ہیں کیونکہ یوم نکرہ ہے لیکن اگر کبھی یہاں پر معرفہ ہو پھر یہ تمیز ‏والی ترکیب وہاں نہیں چلے گی کیونکہ تمیز میں شرط ہے کہ وہ نکرہ ہونا چاہیے۔ باقی ترکیبیں آ جائیں گی لیکن تمیز والی ‏ترکیب وہاں نہیں کریں گے صورت سمجھ میں آگئی۔ بہرحال یہ ترکیبیں تھیں اور لیکن معنی وہی ہے خصوصاً، خاص ‏طور پر، لاسيما خصوصاً وہ دن۔ چلیے باقی پھر اگلے سبق میں کریں گے چلیے بس پڑھا ہوا المرأة اللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
11 approved lectures · 7 of 11