دیکھیے بھئی، آگے سبق کتاب میں:
فَجِئْتُ وَقَدْ نَضَّتْ لِنَوْمٍ ثِيَابَهَا ... لَدَى السِّتْرِ إِلاَّ لِبْسَةَ الْمُتَفَضِّلِ
فَقَالَتْ يَمِيْنَ اللهِ مَا لَكَ حِيْلَةٌ ... وَمَا إِنْ أَرَى عَنْكَ الْغَوَايَةَ تَنْجَلِي
خَرَجْتُ بِهَا أَمْشِي تَجُرُّ وَرَاءَنَا ... عَلَى أَثَرَيْنَا ذَيْلَ مِرْطٍ مُرَحَّلِ
گزشتہ سبق میں امرؤالقیس ذکر کر رہا تھا کہ بہت سی پردہ نشین، حسیں و جمیل ایسی عورتیں کہ کوئی خوف کی وجہ سے ان کے خیموں کا ارادہ بھی نہیں کرتا، میں ان کے خیموں تک پہنچا اور بڑی دیر تک ان سے جی بہلانے کا لطف اٹھاتا رہا۔ اور میں وہاں تک بغیر خطرے کے نہیں پہنچا تھا، میں ایسے ایسے محافظوں اور قبیلے والوں سے گزر کر ان تک پہنچا تھا جن کی پوری کوشش تھی، جو اس بات پر حریص تھے کہ وہ مجھے قتل کر دیں۔ چاہے جہاراً ٫یُسِرُّونَ٬، میں نے بتایا اَسَرَّ یُسِرُّ یہ اضداد کے قبیل سے ہے اور اس کا معنی ظاہر کرنا بھی اور چھپانا بھی۔
تو ان کی کوشش تھی کہ مجھے وہ جہاراً قتل کر دیں، یعنی علانیہ طور پر قتل کر دیں، یا معنی یہ کہ ان کی کوشش تھی کہ وہ مجھے خفیہ طور پر، پوشیدہ طور پر قتل کر دیں۔ علانیہ طور پر قتل کر دیں، یہ ترجمہ بھی کر سکتے ہیں اور معنی یہ ہوگا کہ ان کی کوشش تھی مجھے علانیہ قتل کر دیں سب کے سامنے کھلا کھلا، تاکہ آئندہ کسی کی جرات نہ ہو ہماری عورتوں کی طرف بری نظر سے دیکھنے کی۔ اور اگر معنی کریں کہ پوشیدہ طور پر، وہ چاہتے تھے کہ مجھے پوشیدہ طور پر قتل کر دیں، تو یہ اور بھی زیادہ لطیف ترجمہ ہو گیا، کیونکہ اس میں گویا امرؤالقیس اپنے بادشاہ ہونے کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ تم جانتے ہو میں بادشاہ ہوں، کیونکہ یہ بادشاہ کا بیٹا تھا۔ تو میں بادشاہ ہوں اور بادشاہوں کو کوئی بھی علانیہ قتل نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے محافظ وغیرہ موجود ہوتے ہیں، تو ان لوگوں کی کوشش تھی کہ مجھے پوشیدہ طور پر قتل کر دیں کیونکہ میں کیا ہوں؟ بادشاہ ہوں۔ تو اس میں اشارہ ہے اپنے بادشاہ ہونے کی طرف۔
اور پھر یہ بھی بتایا کہ میں اس وقت ان کے پاس آیا جس وقت ثریا نے آسمان میں اپنے کنارے ظاہر کر دیے تھے، یعنی جب ثریا ظاہر ہو گیا تھا اور مراد رات کا ابتدائی حصہ ہے۔ میں نے بتایا بعضوں نے لکھا کہ نصفِ رات مراد ہے، لیکن یہاں میرے خیال میں زیادہ مناسب یہی ہے کہ رات کے ابتدائی حصے میں آیا اور خصوصاً اس وقت تو خطرہ بھی زیادہ ہے کیونکہ ہو سکتا ہے ابھی سارے نہ سوئے ہوں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اپنی جرات اور بہادری بیان کر رہا ہے۔
آگے کہتا ہے:
فَجِئْتُ وَقَدْ نَضَّتْ لِنَوْمٍ ثِيَابَهَا ... لَدَى السِّتْرِ إِلاَّ لِبْسَةَ الْمُتَفَضِّلِ
جاء یجیء کا معنیٰ آنا۔
نضت، نَضَّتْ اور نَضَّتْ، تو یہ نَضَّتْ بھی پڑھ سکتے ہیں اور اس کو نَضَّتْ بھی پڑھ سکتے ہیں، ضاد کی تخفیف کے ساتھ بھی اور ضاد کی تشدید کے ساتھ بھی، اور دونوں کا معنیٰ ہے کپڑے اتارنا۔ یعنی انسان کیا کرتا ہے؟ کپڑے اتارت ہے اور دوسرے کپڑے پہن لیتا ہے، کپڑے بدل لیتا ہے، تو یہ نضت کا کیا معنیٰ ہے؟ کپڑے اتارنا یعنی بدلنا۔
لنوعم، نوم نیند کو کہتے ہیں۔
لدى الستر، ستر پردے کو کہتے ہیں بھئی، سترٌ۔ لدى بمعنیٰ عند کے ہے۔
إلا لبسة المتفضل، لبسة، لبسةٌ کہتے ہیں خاص نوع کے لباس کو، خاص قسم کا لباس۔ مثلاً ایک لباس ہے باہر پہننے کے لیے، تو وہ ایک نوع کا ہوا۔ ایک لباس ہے کام کاج کے لیے ہلکا پھلکا لباس، وہ ایک نوع ہوا۔ یا جیسے آپ دیکھ لیں، پولیس والے کی ایک خاص وردی ہے، یہ خاص نوع کا لباس ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ لبسۃ۔ اور اسی طرح فوجی کی اپنی ایک خاص وردی ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ لبسۃ۔ تو خاص نوع کا جو لباس ہو اس کو لبسۃ کہتے ہیں۔
متفضل، متفضل یہ فضلۃ سے ہے بھئی، فضلۃٌ۔ فضلہ کہتے ہیں وہ ہلکا پھلکا لباس جو انسان کام کاج کے وقت یا نیند کے وقت پہنتا ہے۔ بھئی، جب انسان گھر سے باہر جاتا ہے تو پھر خوب خوشنما کپڑے پہنتا ہے، زیب و زینت کو اختیار کرتا ہے، مثلاً وہ کپڑوں کے اوپر بھی بعض اوقات کوئی چیز پہن لیتا ہے، واسکٹ وغیرہ یا کوٹ یا اس جیسی کوئی چیز پہن لیتا ہے یا چوغہ وغیرہ، جب باہر نکلتا ہے تو وہ زیب و زینت اور خوشنما اور زینت والا لباس پہنتا ہے۔ لیکن جب اس نے کوئی کام کاج کرنا ہو یا سونا ہو تو اس وقت ہلکے پھلکے نیند کا، ہلکا پھلکا نیند کا لباس پہنا جاتا ہے یا ہلکا پھلکا کام کاج کا لباس پہنا جاتا ہے تاکہ کام کرنے میں دشواری نہ ہو، تکلیف نہ ہو۔ تو وہ جو کام کاج کے وقت یا نیند کے وقت جو ہلکا پھلکا لباس پہنا جائے، اسے فضلہ کہتے ہیں، فضلہ۔
اور اس کو پہننے والا، متفضل۔ فضلہ اس لباس کو جو ہلکا پھلکا لباس ہے نیند کا یا کام کاج کا، اور اس کو پہننے والے کو کیا کہیں گے؟ متفضل، تو یہ اسمِ فاعل ہے بھئی۔ تو یہ نَضَّتْ پڑھنا بھی صحیح اور نَضَّتْ پڑھنا بھی صحیح، لیکن یہاں شعر کے وزن کے لیے نَضَّتْ، ضاد کی تخفیف کے ساتھ پڑھیں بھئی۔
فَجِئْتُ وَقَدْ نَضَّتْ لِنَوْمٍ ثِيَابَهَا ... لَدَى السِّتْرِ إِلاَّ لِبْسَةَ الْمُتَفَضِّلِ
امرؤالقیس کہتا ہے: فجئت، تو میں آیا اپنی اس معشوقہ کے پاس جس کا وہ ذکر کر رہا ہے، وقد نضت لنوم ثیابها، اس حال میں، یہ واؤ حالیہ ہے، اس حال میں کہ اس نے اتار لیے تھے نیند کے لیے اپنے کپڑے، لدى الستر، کس کے پاس؟ پردے کے پاس، إلا لبسة المتفضل، سوائے نیند کے ہلکے پھلکے لباس کے۔ یعنی اس نے اپنے باقی کپڑے اتار دیے تھے، یعنی نیند کا لباس، ہلکا پھلکا لباس پہنا ہوا تھا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
فَجِئْتُ وَقَدْ نَضَّتْ لِنَوْمٍ ثِيَابَهَا ... لَدَى السِّتْرِ إِلاَّ لِبْسَةَ الْمُتَفَضِّلِ
پس میں آیا اس کے پاس اس حال میں کہ اس نے نیند کے لیے اپنے لباس کو اتار دیا تھا سوائے ہلکے پھلکے نیند کے لباس کے، لدى الستر، کس کے پاس؟ پردے کے پاس۔
تو میں اس کے پاس آیا، اس نے نیند کے لباس کے علاوہ باقی کپڑے اپنے بدل لیے تھے، اتار دیے تھے اور لدى الستر، کس کے پاس تھی؟ پردے کے پاس تھی، پردے کے پاس تھی۔ بھئی، عموماً عورتوں کے آرام کی جگہ پر، عورتوں کا جو بستر ہوتا ہے، ان کے آرام کی جو جگہ ہوتی ہے، اس پر پردے لٹکائے جاتے تھے۔ اس پہ پردہ لٹکایا جاتا تاکہ ہر ایک کی نظر نہ پڑے بھئی، سمجھ میں آیا؟ شرم و حیا وغیرہ کی وجہ سے وہ کیا کرتیں؟ اپنے آرام کی جگہ کے ارد گرد کیا لٹکا دیتیں؟ پردے لٹکا دیتیں تاکہ آرام کرتے ہوئے کسی کی نظر نہ پڑے بھئی، اسی لیے کہا لدى الستر۔
تو امرؤالقیس کہتا ہے: میں آیا اس حال میں کہ اس نے نیند کے ہلکے پھلکے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور پردے کے پاس تھی، بتلانا یہ چاہتا ہے کہ وہ بھی میرا انتظار کر رہی تھی بھئی۔
فَجِئْتُ وَقَدْ نَضَّتْ لِنَوْمٍ ثِيَابَهَا ... لَدَى السِّتْرِ إِلاَّ لِبْسَةَ الْمُتَفَضِّلِ
تو پردے کے پاس تھی اور میرا انتظار کر رہی تھی، اور گھر والوں کو دکھانے کے لیے اس نے اپنے کپڑے بدل کر نیند والا لباس پہن لیا تھا تاکہ سب یہ سمجھیں کہ شاید اب یہ سونے لگی ہے، آرام کرنے لگی ہے، حالانکہ وہ تو میرا انتظار کر رہی تھی۔
فَجِئْتُ وَقَدْ نَضَّتْ لِنَوْمٍ ثِيَابَهَا ... لَدَى السِّتْرِ إِلاَّ لِبْسَةَ الْمُتَفَضِّلِ
پس میں آیا اس حال میں کہ اس نے اپنے کپڑے نیند کے لیے جو ہے اپنے کپڑے اتار دیے تھے پردے کے پاس، إلا لبسة المتفضل، سوائے نیند کے ہلکے پھلکے لباس کے۔
فَقَالَتْ يَمِيْنَ اللهِ مَا لَكَ حِيْلَةٌ ... وَمَا إِنْ أَرَى عَنْكَ الْغَوَايَةَ تَنْجَلِي
فقالت یمین الله، یمین اللہ اس کو چاہیں تو منصوب پڑھیں جیسے ہے یَمِیْنَ اللہِ، اور چاہیں تو اس کو مرفوع پڑھیں یَمِيْنُ اللہِ، تو یہ یمین کے لفظ پر نصب بھی پڑھ سکتے ہیں اور رفع بھی، اور یہ دونوں روایتیں آئی ہیں بھئی، نصب بھی اور رفع بھی۔
اگر آپ اس کے اوپر نصب پڑھیں تو پھر یہ مفعولِ مطلق بنے گا اور اس کے لیے فعل محذوف نکال لیں گے: اُقْسِمُ یَمِیْنَ اللہِ، میں قسم کھاتی ہوں، یمین اللہ، کون سی قسم؟ اللہ کی قسم۔ تو یہ مفعولِ مطلق بنے گا، اور قسم، یمین کا معنی بھی کیا ہوتا ہے؟ قسم، تو معنیٰ ایک ہی ہے بھئی، اگرچہ الفاظ الگ ہیں، ایک قسم ہے اور ایک یمین ہے۔ اُقْسِمُ یَمِیْنَ اللہِ، ترکیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یمین مضاف ہے، لفظِ اللہ مضاف الیہ۔ اقسم، میں قسم اٹھاتی ہوں، یمین اللہ، کون سی قسم؟ اللہ کی قسم اٹھانا، جی یہ مصدری ترجمہ کر رہا ہوں۔
تو میں اللہ کی قسم اٹھاتی ہوں، یا اس کو آپ مرفوع پڑھیں یَمِيْنُ اللہِ، پھر اس صورت میں اس کو یا مبتدا بنائیں گے اور اس کے لیے خبر محذوف نکال لیں گے، یا اس کو خبر بنائیں گے اور مبتدا محذوف نکال لیں گے۔ مبتدا بھی مرفوع اور خبر بھی، تو چاہے آپ مبتدا بنا دیں اور خبر محذوف نکال لیں، اور چاہے تو اس کو خبر بنا دیں اور اس کے لیے مبتدا محذوف نکال لیں، اور مبتدا یا خبر وہ ہو گا قَسَمِی۔
قَسَمِی، میری جو قسم ہے، یَمِیْنُ اللہِ، کون سی قسم ہے؟ اللہ کی قسم ہے۔ یا یَمِيْنُ اللہِ قَسَمِی، اللہ کی قسم جو ہے قسَمی، وہ میری قسم ہے۔ یہ لفظی ترجمہ کر رہا ہوں، معنیٰ یہ ہے کہ میں اللہ کی قسم کھاتی ہوں۔
مَا لَكَ حِیْلَۃٌ، حیلہ کا معنیٰ، دو معنیٰ ہیں بھئی اور دونوں یہاں ہم کریں گے۔ حیلہ کا ایک معنیٰ ہے بہانہ، بہانہ، بہانہ بنانا۔ اور حیلہ کا ایک معنیٰ ہے دلیل، دلیل اور حجت۔
وَمَا اِنْ اَرَى، ما نفی کے لیے ہے۔ اِنْ، یہ ان جو ہے، یہ بھی نفی کے لیے ہے۔ ما بھی نفی کے لیے اور ان بھی نفی کے لیے ہے۔
اور یاد رکھیے، یہ ان زائد ہے، زائد ہے۔ ما بھی نفی کے لیے آتا ہے اور ان بھی کس لیے آتا ہے؟ نفی کے لیے کلامِ عرب میں استعمال ہوتا ہے۔
تو ما کے بعد کبھی کبھی یہ ان کو زائد لے آتے ہیں، تو یہ ان زائد ہے بھئی، توجہ ہے؟ زائد اس لیے ہے کیونکہ اگر آپ اس کو زائد نہیں مانیں گے پھر تو دو نفی جمع ہو گئیں، نفی پر کیا داخل ہو گئی؟ نفی، ان بھی نفی اور اس پر ما کی نفی بھی داخل ہو گئی۔ اور نفی پر نفی داخل ہو یاد رکھو وہ اثبات کا فائدہ دیتی ہے۔
نفی پر نفی داخل ہو تو کس کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا۔ کبھی آپ نے غور کیا نفی پر نفی داخل ہو تو کیسے اثبات ہوتا ہے؟ دیکھو!
مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زید نہیں آئے گا، جی نفی ہے، نفی ہے۔ کیا مطلب ہے؟ زید آئے گا یا نہیں آئے گا؟ دیکھو نفی ہے۔ لیکن اسی پر میں ایک اور نفی لے آتا ہوں: ایسا نہیں ہو سکتا کہ زید نہ آئے!
کیا مطلب؟ معلوم ہوا زید آئے گا، دیکھا نفی پر نفی آئی اب کیا بن گیا؟ ایسا نہیں ہو سکتا کہ زید نہ آئے، دیکھو نفی پر نفی آئی تو کیا بن گیا؟ اثبات بن گیا، معلوم ہوا زید آئے گا۔
تو یہ ان زائد ماننا پڑے گا، اگر زائد نہیں مانیں گے پھر تو یہ اثبات بن جائے گا اور اثبات یہاں نہیں مراد بھئی۔ تو یہ عام استعمال ہوتا ہے، ما کے بعد ان کو بڑھا دیتے ہیں، زائد۔ ارى، اری یری کے معنیٰ ہیں دیکھنا، دیکھنا۔
رؤیت، اس کا مصدر کیا ہے؟ رؤیت، اور رؤیت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک رؤیتِ بصری ہے آنکھوں سے دیکھنا، اس کے لیے ایک مفعول چاہیے، رَاَیْتُ زَیْدًا، میں نے کس کو دیکھا؟ زید کو۔ اور ایک رؤیتِ قلبی ہے دل سے، اور وہ یوں کر لیں سمجھنا، سمجھنا، رَاَیْتُ زَیْدًا عَالِمًا، میں نے زید کو عالم جانا، عالم سمجھا، دیکھا یہ دو مفعول چاہتا ہے، میں نے زید کو جانا، زید کو سمجھا، آگے دوسرا مفعول چاہیے یا نہیں؟ کہ کیا سمجھا بھئی؟ تو دوسرا مفعول بھی چاہیے۔ اور یہاں رؤیتِ قلبی مراد ہے۔
الغواية، غوایہ کہتے ہیں انتہا درجے کی گمراہی، انتہا درجے کی گمراہی، اور یہاں مراد ہے عشق و محبت کی گمراہی بھئی۔
تنجلی، انجلٰی ینجلی کا معنیٰ ہے واضح ہونا، روشن ہونا، کھل جانا، الگ ہو جانا۔
امرؤالقیس کہتا ہے: میں اس کے پاس پہنچا، وہ پردے کے پاس تھی، تو کہنے فقالت، تو وہ کہنے لگی: یمین اللہ، کہ خدا کی قسم، ما لک حیلة، یہ حیلہ کا پہلا ترجمہ ہم کر لیں گے بہانہ، ما لک حیلة، نہیں ہے تیرے لیے کوئی بہانہ، عندی میرے پاس۔
میرے پاس تیرے لیے کوئی بہانہ نہیں، کیا معنیٰ؟ میرے پاس، امرؤالقیس سے اس کی معشوقہ کہہ رہی ہے، کہتا ہے میں اس کے پاس پہنچا تو وہ کہنے لگی کہ خدا کی قسم، میرے پاس تمہارے لیے کوئی بہانہ نہیں، معنیٰ یہ ہے کہنا یہ چاہتی ہے کہ اے امرؤالقیس، اتنے خطرناک حالات میں جبکہ محافظ بھی موجود ہیں، میرے قبیلے والے بھی موجود ہیں، اور کوئی بھی ایسی کوشش کرے اس کی جان بچنا بڑا مشکل ہے، وہ اس کو زندہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن اتنے خطرات کے باوجود تو مجھ سے ملنے آ گیا، میرے دید، میری زیارت کرنے آ گیا، اب میرے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے کہ تجھے میں اپنے سے دور رکھوں۔ میں کیا کروں؟ تجھے اپنے سے دور رکھوں، ویسے تو کبھی ایک بہانہ بنا دیا کہ میں ملنے نہیں آ سکتی کیونکہ کیا ہے؟ قوم والے موجود ہیں، محافظ موجود ہیں، کبھی دوسرا بہانہ، کبھی تیسرا بہانہ، لیکن تو تو آج سارے ہی خطروں سے گزر کر میرے پاس آ گیا ہے، تو اب تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی بہانہ نہیں ہے جس کے ذریعے میں کیا کروں؟ اپنی جان تم سے چھڑا لوں، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟
یا حیلہ کا معنیٰ کر لیں دلیل اور حجت، پھر اس کا الٹ ہو جائے گا معنیٰ، ما لک حیلة، کہ کہنے لگی: اللہ کی قسم، تیرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، معنیٰ یہ، کہ اے امرؤالقیس، محافظ بھی موجود، قوم والے بھی موجود ہیں، ان سب خطرات کے باوجود تو مجھ تک پہنچ گیا میری زیارت کرنے کے لیے، مجھ سے باتیں کرنے کے لیے، معلوم ہوتا ہے تو تو مجھے رسوا ہی کرنا چاہتا ہے۔
تو مجھے کیا کرنا چاہتا ہے؟ تو نے کسی چیز کی پروا نہیں کی اور پھر بھی میرے پاس آ گیا ہے، معلوم ہوا تو مجھے کیا کرنا چاہتا ہے؟ رسوا کرنا چاہتا ہے، اور تیرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ تو اس کا جواب دے سکے کہ نہیں میں تو رسوا نہیں کرنا چاہتا، تو جواب دے دے، نہیں نہیں، تیرے پاس کوئی جواب نہیں ہے، کیونکہ رات کے وقت آیا ہے، قبیلے والے بھی موجود، محافظ بھی موجود، اتنے خطرات ہیں اور رات کے وقت میرے پاس آیا ہے، معلوم ہوا تو تو مجھے کیا کرنا چاہتا ہے؟ رسوا اور بدنام ہی کرنا چاہتا ہے جو یہاں تک پہنچ گیا تو بھئی، تیرے پاس کوئی دلیل نہیں کہ تو جواب دے سکے اس بات کا، بات سمجھ میں آ گئی؟
آگے دیکھیے: وَمَا إِنْ أَرَى عَنْكَ الْغَوَايَةَ تَنْجَلِي
اور میں نہیں سمجھتی کہ تیری یہ جو گمراہی ہے تنجلی، یہ دور ہو جائے گی، میرا یہ نہیں خیال کہ یہ تیری گمراہی تجھ سے، یہ جو عشق و محبت کی گمراہی ہے، تو اتنے خطروں سے گزر کر مجھ تک پہنچ گیا ہے، میرا نہیں خیال کہ تجھ سے یہ عشق و محبت کی گمراہی کبھی دور ہو سکے، تو ان کی خاطر کچھ بھی کر سکتا ہے بھئی۔
فَقَالَتْ يَمِيْنَ اللهِ مَا لَكَ حِيْلَةٌ ... وَمَا إِنْ أَرَى عَنْكَ الْغَوَايَةَ تَنْجَلِي
تو وہ کہنے لگی: خدا کی قسم، تیرے لیے میرے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے، یعنی تجھے اپنے سے روکنے کا، یا معنیٰ یہ ہے کہ خدا کی قسم، تیرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، یعنی تو تو مجھے رسوا ہی کرنا چاہتا ہے، تو اس بات کا جواب دے سکے تیرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، وَمَا إِنْ أَرَى عَنْكَ الْغَوَايَةَ تَنْجَلِي، اور میں نہیں سمجھتی کہ تجھ سے یہ تیری عشق و محبت والی گمراہی کبھی دور ہو گی۔
خَرَجْتُ بِهَا أَمْشِي تَجُرُّ وَرَاءَنَا ... عَلَى أَثَرَيْنَا ذَيْلَ مِرْطٍ مُرَحَّلِ
خرجت بها امشي، مشى یمشی کا معنیٰ ہے چلنا، پیدل چلنا۔
تجر، جرّ َیَجُرُّ کے معنیٰ ہیں کھینچنا۔
وراءنا، وراء کہتے ہیں پیچھے کو، ایک چیز کے پیچھے ہو۔
على اثرینا، اثر کہتے ہیں قدموں کے نشان کو بھئی، قدموں کے نشان کو۔
کیا کہلائے گا کپڑے کا دامن۔
مرط، مرط کہتے ہیں ریشمی چادر کو، ریشمی چادر۔ اسی طرح مرط اونی چادر کو بھی کہتے ہیں۔ تو ریشمی یا اونی چادر کو مرط کہتے ہیں۔
مرحل، مرحل رحل سے ہے، رحل۔ رحل کہتے ہیں کجاوے کو، اونٹ کے اوپر جو رکھا جاتا ہے کجاوہ، اسی سے مرحل ہے۔ یعنی کجاوے والا۔ یہ کپڑوں کو کوئی خاص ڈیزائن ہوگا اس زمانے میں بھئی، جن پر اونٹوں کے کجاووں کے نقش و نگار بنائے جاتے تھے۔ تو اس کو کیا کہتے تھے؟ اس چادر کو مرط مرحل۔ جس پر اونٹ کے کجاووں کے نقش و نگار بنے ہوئے ہوں۔
اسی طرح بعض کپڑے ہوتے ان پر مردوں یا انسانوں کی صورت بنی ہوتی تھی، اس کو کہتے تھے مرط مرجل، رجل سے ہے، رجل آدمی کو کہتے ہیں نا، تو جس کپڑے پر آدمیوں کی صورت اور آدمیوں کے نقش و نگار اور ڈیزائن بنے ہوتے، اس کو کیا کہتے تھے؟ مرط مرجل، تو یہ خاص ڈیزائن مراد ہے۔
امرؤ القیس کہتا ہے: خرجت بہا، میں اس تک پہنچا اب میں اس کو لے کر وہاں سے نکلا۔ خرجت بہا، میں اس کے ساتھ نکلا۔ امشی، اس حال میں کہ میں چل رہا تھا۔ تجر، اور اس حال میں کہ وہ کھینچ رہی تھی۔ وراءنا، ہمارے پیچھے، علی اثرینا، ہمارے قدموں کے نشانات پر، ذیل مرط مرحل، کجاووں کے نقش و نگار والی اونی چادر کے دامن کو۔
بھئی دیہات میں آج بھی لوگ قدموں کے نشان کے ذریعے آنے والے کا پتہ چلا لیتے ہیں۔ کہیں ایک آدھ نشان بھی ان کو مل جاتا ہے، فوراً پتہ لگا دیتے ہیں، چوریاں اس کے ذریعے وہ پکڑ لیتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ دیہات میں آج بھی لوگ کیا کرتے ہیں؟ قدموں کے نشان کے ذریعے پتہ چلا لیتے ہیں کہ یہاں کوئی آیا تھا یا یہ کس نے یہ چوری کی ہے اور چور تک پہنچ جاتے ہیں۔
تو امرؤ القیس کہہ رہا ہے کہ ہاں میں نکلا اس کے ساتھ وہاں سے ہم نکلے اور اس حال میں کہ وہ کیا کر رہی تھی؟ ہم چل رہے تھے، ہمارے قدموں کے نشانات پڑتے جا رہے تھے، تو اس نے اپنی چادر جو ہے پیچھے کی طرف ذرا لمبی کر کے زمین پر لٹکائی ہوئی تھی تاکہ جو ہمارے قدموں کے نشانات ہیں وہ اس چادر کی وجہ سے مٹتے چلے جائیں بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا؟
کہتے ہیں: خرجت بہا امشی تجر وراءنا علی اثرینا ذیل مرط مرحل، میں نکلا اس کے ساتھ اس حال میں کہ میں چل رہا تھا، تجر وراءنا اس حال میں کہ وہ کھینچ رہی تھی ہمارے پیچھے، علی اثرینا ہمارے قدموں کے نشانات پر، ذیل مرط مرحل کجاووں کے نقش و نگار والی اونی چادر کے دامن کو، وہ ہمارے قدموں کے نشانات پر کھینچ رہی تھی۔ آگے دیکھیے:
فلما اجزنا ساحۃ الحی وانتحى
بنا بطن خبت ذي حقاف عقنقل
فلما اجزنا، اجاز یجیز اجازت کا ایک معنی ہے طے کرنا۔ اجزت الوادی، میں نے وادی کو طے کر لیا۔ جب آپ ایک وادی میں سے گزر جائیں تو کیا کہیں گے؟ اجزت الوادی۔ یا کسی جگہ سے گزر گئے تو آپ کہتے ہیں: اجزت المکان، میں نے وہ جگہ طے کر لی، میں اس میں سے گزر گیا۔
ساحۃ، صحن کو کہتے ہیں۔ حی، قبیلے کو کہتے ہیں۔ انتحى بنا، انتحى بالشیء کے معنی ہیں کسی چیز پر اعتماد کرنا، بھروسہ کرنا۔
بطن خبت، بطن کہتے ہیں نشیبی زمین کو، جو زمین ذرا پست ہو، نیچی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بطن الارض، بطن الارض۔ اچھا! اور خبت، خبت کہتے ہیں وسیع جگہ کو، وسیع نشیبی جگہ۔ خبت کا کیا معنی؟ وسیع، کھلی نشیبی جگہ۔ اور چونکہ نشیبی کا ذکر بطن میں آ گیا تو خبت کا معنی صرف کر لیں وسیع جگہ، کیونکہ بطن کا خود نشیبی زمین کا تو پیچھے خود ذکر آ رہا ہے، تو لہٰذا اس معنی سے اس کو خالی کر لو، اب خبت کا معنی کیا کرو؟ وسیع جگہ۔
ذی حقاف، حقاف جمع ہے حقف کی، اور حقف کہتے ہیں ریت کا ٹیلا جو ہے۔ ریت کا ٹیلا اور جمع ہے حقاف، اور ذی حقاف، ذو مال، ذو مال کیا معنی؟ مال والا، حالت نصبی میں کہیں گے ذا مال اور حالت جری میں کہیں گے ذی مال، مال والا، تو یہ یہ ذی، یہ وہ ذو ہے بھئی۔ ذی حقاف، ریت کے ٹیلوں والی، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ عقنقل، اور عقنقل کا معنی ہے تہ بہ تہ جمی ہوئی۔ کوئی چیز تہ بہ تہ ہو اور جمی ہوئی ہو یعنی تھوڑی سی سخت سی ہو، تو اس کو کہیں گے عقنقل۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
اور یہ عقنقل، یہ خبت کی صفت بھی ہو سکتی ہے اور حقاف کی صفت بھی ہو سکتی ہے۔ عقنقل کا کیا معنی؟ تہ بہ تہ جمی ہوئی۔
جی امرؤ القیس کہتا ہے: فلما اجزنا ساحۃ الحی، اور جب ہم نے طے کر لیا قبیلے کے صحن کو، جب ہم گزر گئے قبیلے کے صحن میں سے، مراد ہے وہ قبیلے کی آبادی وغیرہ، قبیلے کی آبادی وغیرہ جس جگہ پہ تھی، خیمے وغیرہ لگے ہوئے تھے، ان سے جب ہم گزر گئے، نکل گئے۔ فلما اجزنا ساحۃ الحی، جب ہم گزر گئے قبیلے کے صحن میں سے یعنی قبیلے کی آبادی میں سے باہر نکل آئے، وانتحى بنا، اور ہم پر اعتماد کر لیا، بطن خبت، یہ فاعل ہے انتحى کا۔ بطن، مرفوع ہے، رفع بتلا رہا ہے یہ کیا ہے؟ انتحى کا فاعل۔
یہاں بھئی قلب ہوا ہے، عربی زبان میں کبھی یوں کرتے ہیں کہ قلب کرتے ہیں، یعنی فاعل کو اٹھا کر مفعول کی جگہ لے گئے اور مفعول کو اٹھا کر فاعل، یا ایک چیز کو اٹھا کر دوسری چیز کی جگہ لے گئے اور دوسری چیز کو اٹھا کر پہلی چیز کی جگہ لے آئے، مثلاً بھئی، مثلاً میں کیا کہتا ہوں، میں نے دیوار پر پلستر کیا۔ میں نے دیوار پر پلستر کیا۔ اب اس میں عرب بعض اوقات قلب کرتے ہیں، دیوار کو لے گئے پلستر کی جگہ اور پلستر کو لے آئے دیوار کی جگہ، میں نے پلستر پر دیوار بنا دی، میں نے پلستر پر دیوار کر دی، دیکھو حالانکہ اصل کلام کیا تھا؟ میں نے دیوار پر پلستر، تو جگہ بدل دی، اس کو کہتے ہیں قلب، قلب، اور یہ کلام میں شیرینی، ملاحت اور حسن پیدا کرنے کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور بعض اوقات کوئی نقطہ وغیرہ مقصود ہوتا ہے۔
نقطہ وغیرہ، مثلاً میں نے پلستر پر دیوار کر دی، بتلانا یہ چاہتا ہے بڑا ہی موٹا پلستر میں نے کیا دیوار پر، یوں سمجھو پلستر اصل تھا اور دیوار اس کے تابع تھی۔
تو یہاں پر بھی انتحى، امرؤ القیس کہتا ہے: ہم پر نشیبی زمین نے اعتماد کر لیا۔ وانتحى بنا، اور اعتماد کر لیا ہمارے اوپر، کس چیز نے اعتماد کر لیا؟ بطن خبت، وسیع وادی کی نشیبی زمین نے، وسیع زمین کی نشیبی، بطن کا کیا معنی؟ نشیبی زمین، خبت کا کیا معنی؟ وسیع، وسیع زمین کی نشیبی جگہ، خوب کھلی جگہ ہے، کچھ جگہ اس میں پست ہے، اس کھلی جگہ کی جو نشیبی زمین ہے، اس نے ہمارے اوپر کیا کر لیا؟ اعتماد کر لیا۔ بھئی اعتماد ہم نے کیا یا زمین نے کیا؟ ہم نے اعتماد کیا، ہم نے کیا کیا؟ اعتماد کیا، لیکن العکس کر دیا کہ زمین نے ہم پر کیا کر لیا؟ اعتماد کر لیا، اور زمین بھی کیسی تھی؟ ذی حقاف، ریت کے ٹیلوں والی تھی، اور عقنقل، وہ زمین کیسی تھی؟ تہ بہ تہ جمی ہوئی تھی، وہ وسیع زمین ریت کے ٹیلوں والی تھی، تہ بہ تہ جمی ہوئی تھی، اس جگہ کی نشیبی زمین نے، یا یوں کہیں، اس زمین کے نشیبی حصے نے ہمارے اوپر کیا کر لیا؟ اعتماد کر لیا۔
کہنا یہ چاہتا ہے کہ میں اس کو لے کر قبیلے کے گھروں سے نکلا اور خوف تھا بھئی ہر طرف محافظ وغیرہ یا قبیلے والے کوئی دیکھ نہ لیں، اور ہم وہاں سے نکلے اور نکل کر جب ہم قبیلے سے باہر آ گئے اور ایسی جگہ پہنچ گئے کہ جہاں دائیں بائیں اونچے ریت کے ٹیلے پھیلے ہوئے تھے اور درمیان والی جگہ کچھ پست تھی، اب کسی کے دیکھنے کا خطرہ کم ہو گیا، تو اب ہماری جان میں جان آ گئی اور ہمارا خوف کیا ہوا؟ ختم ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہم نے اس پر جگہ پر اعتماد کر لیا یعنی ہمارا خوف کیا ہو گیا؟ ختم ہو گیا۔ لیکن قلب کر کے کیا کہہ دیا؟ اس زمین نے ہمارے اوپر کیا کر لیا؟ اعتماد کر لیا، بات سمجھ میں آ گئی؟
فلما اجزنا ساحۃ الحی وانتحى
بنا بطن خبت ذي حقاف عقنقل
پس جب ہم نے طے کر لیا قبیلے کی آبادی کو یعنی اس سے باہر نکل آئے، وانتحى بنا، اور ہم پر اعتماد کر لیا، بطن خبت، وسیع زمین کے نشیبی حصے نے، ذی حقاف، وہ وسیع زمین جو ریت کے ٹیلوں والی تھی، عقنقل، تہ بہ تہ جمی ہوئی تھی۔
تو یاد رکھیے، عقنقل کا ترجمہ میں نے کیا بتلایا؟ تہ بہ تہ جمی ہوئی چیز۔
تو یاد رکھیے، یہ صفت ہے خبت کی۔ خبت موصوف، ذی حقاف اس کی صفت اول، اور عقنقل یہ صفت ثانی۔
تو ترجمہ کیسے کریں گے؟ اعتماد کر لیا ہم پر، آخر سے ترجمہ کریں گے، بلکہ ذی حقاف، ریت کے ٹیلوں والی تہ بہ تہ جمی ہوئی وسیع جگہ کے نشیبی حصے نے، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ اعتماد کر لیا ہم پر ریت کے ٹیلوں والی تہ بہ تہ جمی ہوئی وسیع جگہ کے نشیبی حصے نے۔
وہ وسیع زمین جو تہ بہ تہ جمی ہوئی تھی، جس میں ریت کے ٹیلے تھے، اس زمین کے نشیبی حصے نے ہم پر کیا کر لیا؟ اعتماد کر لیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ ذی حقاف کیا ہے؟ خبت کی صفت اول، اور عقنقل کیا ہے؟ صفت ثانی، ایسی وسیع جگہ جو ریت کے ٹیلوں والی تھی، ایسی وسیع جگہ جو تہ بہ تہ جمی ہوئی تھی یعنی کچھ سخت زمین ہوگی اور تہیں بنی ہوں گی اس کی۔ تو اس زمین، وہ وسیع زمین جو ریت کے ٹیلوں والی تھی، تہ بہ تہ جمی ہوئی تھی، اس کے نشیبی حصے نے ہم پر اعتماد کر لیا۔
اور بعض علماء نے یہ عقنقل کو صفت بنایا حقاف کی، خبت موصوف، ذی حقاف اس کی صفت، اور پھر اس میں سے ذی مضاف، حقاف مضاف الیہ، اور یہ موصوف ہے، اور عقنقل اس کی صفت ہے۔
حقاف، ایسے ریت کے ٹیلے، عقنقل، جو تہ بہ تہ تھے۔ جو، جمے ہوئے کا معنی کو یہاں سے ختم کر دیں، ریت کے ٹیلے جو تہ بہ تہ تھے۔
تو ترجمہ یوں ہوگا: وانتحى بنا بطن خبت ذي حقاف عقنقل، اور اعتماد کر لیا ہم پر تہ بہ تہ ریت کے ٹیلوں والی وسیع جگہ، تہ بہ تہ ریت کے، اب تہ بہ تہ وہ زمین نہیں ہے بلکہ تہ بہ تہ کیا ہیں؟ ریت کے ٹیلے۔ تہ بہ تہ ریت کے ٹیلوں والی وسیع جگہ کے نشیبی حصے نے ہم پر کیا کر لیا؟ جب ہم نے قبیلے کو طے کر لیا اور اس نشیبی زمین نے ہم پر اعتماد کر لیا۔ لما کا جواب آگے آئے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو عقنقل یا تو صفت ہے کس کی؟ خبت کی، یا صفت ہے کس کی؟ حقاف کی، ذی حقاف کی نہیں، حقاف کی، حقاف۔ وہ ریت کے ٹیلے ایسے تھے جو... پھر دیکھیے، خبت ہے مذکر، اور عقنقل بھی کیا ہے؟ مذکر ہے، تو موصوف صفت ایک دوسرے کے مطابق، ذی حقاف صفت اول اور عقنقل صفت ثانی۔
تو جب اس کو خبت کی صفت بنائیں پھر تو کوئی اشکال نہیں ہوتا، لیکن اگر اس کو حقاف کی صفت بنائیں پھر اشکال ہوتا ہے، کیونکہ حقاف ہے جمع، حقف ریت کا ٹیلا اور حقاف اس کی جمع۔ اور جمع کی صفت جمع لاتے ہیں یا واحد مؤنث لاتے ہیں بتاویل جماعت کے، تو لہٰذا اس کی صفت یا تو جمع ہونی چاہیے تھی یا واحد مؤنث، لیکن عقنقل یہ تو مفرد ہے، اگر مفرد ہے تو مؤنث ہونا چاہیے تھا واحد مؤنث، لیکن یہ واحد مؤنث بھی نہیں۔ تو پھر اشکال ہوتا ہے کہ یہ حقاف کی صفت کیسے بن جائے گی؟ جبکہ حقاف جمع ہے اور یہ مفرد ہے مذکر ہے، تو جواب یہ کہ یہاں عقنقل کو اسم کے درجے میں اتار لیا، کس کے درجے میں؟ اسم کے درجے میں اتار لیا، اور تا، تا تب لاتے ہیں، تا لاتے ہیں صفت میں فرق کرنے کے لیے، ضارب مذکر کے لیے کہیں گے اور ضاربة مؤنث کے لیے کہیں گے۔
تو یہاں عقنقل کے ساتھ تا نہیں لائے، اس کو اسم کے درجے میں اتار لیا، اور صفت میں تبدیلی کی جاتی ہے، مذکر کے لیے اور صفت ہوتی ہے، مؤنث کے لیے اور صفت، لیکن جب اسم ہے، اسم میں تو تبدیلی نہیں کی جاتی، اسم اسی طرح رہتا ہے، ایک چیز کا نام ہے، کیا ہے؟ جب نام ہے، نام میں تو کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، تو اس کو اسم کے درجے میں رکھتے ہوئے حقاف کی صفت بنا دیا۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ نہیں سمجھے؟ اسم کی بات کر رہا ہوں، علم نہیں، علم نہیں۔ علم ہوتا ہے خاص چیز کا نام۔
اور اسم نام ہے، اس میں علم ہونا ضروری نہیں، اور علم بھی ہو سکتا ہے اسم، لیکن یہاں علم نہیں مراد، اسم مراد ہے۔ مثلاً دیکھو، ایک طرف تہ بہ تہ جمی ہوئی زمین ہے، یا یوں کہیں، ایک طرف ریت کے ٹیلے ہیں تہ بہ تہ جمے ہوئے، یہ بھی کیا ہیں؟ عقنقل، جمے ہوئے ہیں، تہ بہ تہ جمے ہوئے ہیں، کیا کہیں گے یہ؟ عقنقل۔ دوسری طرف بھی تہ بہ تہ جمے ہوئے ریت کے ٹیلے ہیں، ان کو بھی کیا کہیں گے؟ عقنقل۔ تیسری طرف بھی ریت کے ٹیلے تہ بہ تہ جمے ہوئے ہیں، ان کو کیا کہیں گے؟ عقنقل۔ معلوم ہوا یہ علم نہیں ہے، اسم ہے، علم کا تو دو پر اطلاق نہیں ہوتا، ایک طرف زید کھڑا ہے، کیا کہیں گے؟ زید۔ دوسری طرف بالکل ویسے ہی کپڑے پہنے ہیں، ویسے ہی چہرہ، صورت، شکل سب کچھ ہے، کیا اس کو زید کہیں گے؟ نہیں، علم کا اطلاق ایک خاص معین چیز پر ہوتا ہے، اسم جو ہے وہ عام ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا عقنقل کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ اسم کے درجے میں، اور لہٰذا جب اسم کے درجے میں اتار لیا تو اب تانیث کی علامت اس لیے اس میں نہیں لائے، اس تہ بہ تہ جمی ہوئی زمین کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ عقنقل رکھ دیا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو ہم پر اعتماد کر لیا تہ بہ تہ جمے ہوئے ریت کے ٹیلوں والی وسیع زمین کے نشیبی حصے نے، اس نے ہم پر کیا کر لیا؟ اعتماد، اور یہاں قلب ہے، اصل میں کیا ہے؟ ہم نے اس جگہ پر کیا کر لیا؟ اعتماد کر لیا یعنی اب ہم ذرا محفوظ جگہ پر آ گئے اور ہمارا خوف ختم ہو گیا اور ہماری حالت بہتر ہو گئی بھئی۔ جی پھر دیکھ لیجیے ترجمہ بھئی:
فجئت وقد نضت لنوم ثیابہا
لدى الستر إلا لبسۃ المتفضل
پس میں اس کے پاس آیا اس حال میں کہ وہ نیند کے لیے اپنے کپڑے اتار چکی تھی سوائے ہلکے پھلکے نیند کے لباس کے، لدى الستر، کس جگہ پر؟ پردے کے پاس یعنی وہاں تھی۔
فقالت یمین اللہ ما لک حیلۃ
وما إن أرى عنك الغوایۃ تنجلي
تو وہ کہنے لگی: خدا کی قسم! تیرے لیے میرے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے کہ تجھے میں اپنے آپ سے روک دوں، اپنے سے دور کر دوں، یا معنی یہ کہ خدا کی قسم! تیرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، تو اس حالت میں، اس خطرے میں میرے پاس آیا، معلوم ہوا تو تو مجھے رسوا ہی کرنا چاہتا ہے، اس کا جواب میں تیرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، وما إن أرى عنك الغوایۃ تنجلي، اور میں نہیں سمجھتی کہ تجھ سے یہ عشق و محبت والی گمراہی کبھی دور ہو جائے۔
خرجت بہا امشی تجر وراءنا
على أثرینا ذیل مرط مرحل
پس میں اس کے ساتھ نکلا اس حال میں کہ میں چل رہا تھا اور اس حال میں کہ وہ کھینچ رہی تھی ہمارے پیچھے ہمارے قدموں کے نشانات پر کجاووں کے نشان والی اونی چادر کے دامن کو۔
فلما اجزنا ساحۃ الحی وانتحى
بنا بطن خبت ذي حقاف عقنقل
پس جب ہم نے طے کر لیا قبیلے کے صحن کو اور ہم پر اعتماد کر لیا، ہم پر اعتماد کر لیا ریت کے ٹیلوں والی تہ بہ تہ جمی ہوئی وسیع جگہ کے نشیبی حصے نے، یا یہ ترجمہ، اور ہم پر اعتماد کر لیا تہ بہ تہ جمے ہوئے ریت کے ٹیلوں والی وسیع جگہ کے نشیبی حصے نے ۔ لما کا جواب جو ہے وہ آگے آرہا ہے ۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آگئی ۔ چلئے بس بھئی ہذا ہوا المرام و اللہ اعلم بحقیقۃ الکلام ۔