دَكِّيرْ بَيَّ كِتَابَ فَكْ:
أَلَا رُبَّ يَوْمٍ لَكَ مِنْهُنَّ صَالِحٍ وَلَا سِيَّمَا يَوْمٌ بِدَارَةِ جُلْجُلِ
وَيَوْمَ عَقَرْتُ لِلْعَذَارَى مَطِيَّتِي فَيا عَجَبًا مِنْ كُورِهَا المُتَحَمَّلِ
فَظَلَّ العَذَارَى يَرْتَمِينَ بِلَحْمِهَا وَشَحْمٍ كَهُدَّابِ الدَّمَاثِ المُفَتَّلِ۔
امرؤ القيس اپنے عشق و محبت کی داستان ذکر کر رہا ہے، غم کا اظہار کر رہا ہے، پھر اچانک وہ چونک اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اے امرؤ القيس! ہمیشہ تجھ پر اس محبت کے راستے میں غم ہی نہیں آئے، اس راستے کے اندر تو جہاں جدائی ہوتی ہے، وہاں کبھی نہ کبھی وصال کا موقع بھی میسر آجاتا ہے اور وصال کی وہ گھڑیاں بڑی پرلطف اور بڑی خوشگوار ہوتی ہیں جن کی یاد عرصے تک انسان کے دماغ میں محفوظ رہتی ہے، اور تیرے اوپر اگر یہ اتنے غم آئے ہیں، تکلیفیں آئی ہیں، مصیبتیں اور پریشانیاں آئی ہیں اس راستے میں، تو کبھی تو وصال کا موقع بھی ملا ہے، کبھی تو خوشگوار لمحات بھی آئے ہیں، چنانچہ انہی کو اب ذکر کرنے لگا ہے اور کہتا ہے: أَلَا رُبَّ يَوْمٍ لَكَ مِنْهُنَّ صَالِحٍ۔ سنو! تیرے بہت سے دن ان کی وجہ سے خوشگوار بھی تھے، اچھے بھی تھے، وَلَا سِيَّمَا يَوْمٌ بِدَارَةِ جُلْجُلِ، اور خاص طور پر دارۂ جلجل کا دن کہ وہ دن تو بڑا ہی خاص تھا۔
دارۂ جلجل کا واقعہ میں نے ذکر کر دیا بھئی، پھر اس شعر کے اندر وَلَا سِيَّمَا کی ترکیب ہم ذکر کر رہے تھے بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ لَا سِيَّمَا ما بعد کو فضیلت دینے کے لیے آتا ہے ما قبل پر، ما قبل میں بھی دنوں کا ذکر، ما بعد میں بھی دن کا ذکر اور اس کو فضیلت دی جارہی ہے، اس کا اختصاص ذکر کیا جا رہا ہے، اور میں نے بتلایا تھا کہ اس کی ترکیب ذکر کی تھی کہ یہ لَا سِيَّمَا کا ما بعد جو ہے اس کے اندر تین اعراب جائز ہوتے ہیں بھئی، يَوْمٌ، يَوْماً، يَوْمٍ، اور اس شعر کے اندر بھی تین طرح کی روایات آئی ہیں، نصب بھی، رفع بھی اور جر بھی۔
اب ترکیب کیا ہے؟ میں نے بتلایا تھا کہ جو سِيَّن ہے اس کا معنی ہے مثل، مشابہ بھئی، اور کوئی چیز دوسری کے مشابہ ہو تو عرب میں کہتے ہیں: هَذَا سِيُّ ذَالِكَ، دو آدمی ایک دوسرے کے مثل ہوں تو کہتے ہیں: هُمَا سِيَّانِ، وہ ایک دوسرے کے مثل ہیں، ایک دوسرے جیسے ہیں، اور یہ لَا جو ہے، یہ لَا نفی جنس ہے اور یہ سِيَّمَا اس کا اسم ہے اور آگے اس کی خبر مَوْجُودٌ یا حَاصِلٌ آخر میں نکالیں گے وہ محذوف ہے، اور یہ جو مَاہے، اس یہ مَاں یا تو اسمی ہے یا حرفی ہے، یعنی حرف ہے۔
اور تو ایک یہ صورت یہ کہ یہ حرف ہے، دوسری صورت یہ کہ یہ اسم ہے، اور اسم میں پھر تین صورتیں ہیں، یہ مَاں موصولہ ہے یا مَاں موصوفہ ہے یا مَاں تامَّہ ہے، یعنی نکرہ غیر موصولہ۔ مَاں موصولہ جو ہوتا ہے وہ معرفہ ہوتا ہے، جبکہ مَاں موصوفہ اور مَاں تامَّہ وہ نکرہ ہیں دونوں بھئی۔ مَاں موصولہ جو ہے وہ اَشَّيْءُ کے معنی میں ہو گیا، الَّذِي، یہ الَّذِي کے معنی، وہ چیز جو کہ، وہ جو کہ، اور مَاں موصوفہ اور مَاں تامَّہ جو ہے وہ شَيْءٌ کے معنی میں ہے، کوئی چیز، نکرہ ہے بھئی۔
البتہ فرق یہ ہے کہ مَاں موصوفہ نام سے پتہ چل رہا ہے، اس کے آگے صفت آتی ہے، اور مَاں تامَّہ جو ہے اس کے آگے صفت نہیں آتی۔ تو مَاں موصولہ کے لیے آگے ایک جملہ چاہیے جو اس کا صلہ بنے، اور مَاں موصوفہ کے لیے آگے جملہ چاہیے جو اس کی صفت بنے، اور مَاں تامَّہ کے لیے آگے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔
تو اگر آپ اس کو مَاں موصولہ بنا لیں تو آگے صلہ چاہیے اور یہ معرفہ ہے، اور اگر آپ اس کو مَاں موصوفہ بنا لیں تو آگے اس کے لیے صفت چاہیے اور یہ نکرہ ہے، تو آگے جو ہے يَوْمٌ، اس میں رفع آپ پڑھیں گے، اس کو مبتدا بھی بنا سکتے ہیں اور خبر بھی، خبر بنا لو اور حُوَا مبتدا محذوف نکال لو: هُوَ يَوْمٌ، اور یہ مبتدا خبر مل کر یہ صلہ ہوا موصول کے لیے، یا یہ صفت ہوئی مَاں موصوفہ کے لیے، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ یہ پورا جملہ۔ اور آپ چاہیں تو اس کو مبتدا بنا دیں، آگے اس کی خبر محذوف نکال لیں، لیکن وہ ترکیب یہاں نہیں ہو سکتی کیونکہ مبتدا کے لیے ضروری ہے وہ معرفہ ہو اور یہ يَوْمٌ تو کیا ہے؟ نکرہ، لیکن یہاں کبھی معرفہ بھی آجاتا ہے تو وہاں آپ معرف وہ پھر یہ ترکیب کر سکتے ہیں کہ جو معرفہ تو اس کو چاہے مبتدا بنا دو، چاہے خبر بنا دو۔
اگر مَاں موصولہ تھا، تو یہ جملہ اس کے اس کا صلہ، اور اگر مَاں موصوفہ تھا، تو یہ جملہ اس کی صفت بنے گا، اور موصوف صفت مل کر، یا موصول صلہ مل کر یہ مضاف اليه ہوئے سِيًّا کے لیے، اور مضاف اپنے مضاف اليه سے مل کر لَا کا اسم، اور آگے مَوْجُودٌ یا حَاصِلٌ کیا؟ اس کی خبر۔ یہ تھی رفع کی دو صورتیں کہ اس کو مبتدا بناؤ یا خبر۔
جر کی بھی دو صورتیں، جر کی دو صورتیں کیا؟ ایک تو یہ کہ سِيًّا کو بناؤ مضاف اور يَوْمٍ کو بناؤ مضاف اليه، اس صورت میں یہ جو مَاں ہے یہ حرف ہے، یہ زائد ہے، زائد ہے، اور تو اس سے آپ نئی بات کا پتہ چل گیا کہ کبھی کبھار مبتدا اور خبر کے درمیان بھی ایک لفظ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے اور عموماً وہ زائد حرف ہوتا ہے، اور اس کی مثال میں نے قرآن سے بھی ذکر کی تھی: أَيُّهُمُ الْأَجَلُ، مفسرین حضرات وہاں لکھتے ہیں: أَيُّ مضاف اور یہ مَاں کیا ہے؟ زائدہ اور الْأَجَلَيْنِ مضاف اليه بھئی۔ تو یہاں بھی اسی طرح سِيًّا مضاف اور يَوْمٍ مضاف اليه، مضاف مضاف اليه مل کر یہ لَا کا اسم اور آگے مَوْجُودٌ یا حَاصِلٌ کیا؟ اس کی خبر۔
يا اس کو بدل بناؤ اور مَاں کو تامَّہ بناؤ، سِيًّا مضاف، مَاں تامَّہ مضاف اليه، اور مبدل منہ، اور يَوْمٍ اس سے بدل، اور بدل کا وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ مبدل منہ اور وہ تو مضاف اليه تھا مجرور تو یہ بھی مجرور۔ پھر مبدل منہ اپنے بدل سے مل کر یہ مضاف اليه ہوا کس کا؟ سِيًّا کا، مضاف اپنے مضاف اليه سے مل کر لَا کا اسم اور آگے مَوْجُودٌ یا حَاصِلٌ کیا کریں گے؟ اس کی خبر نکال لیں گے۔
یہ جر کی دو صورتیں تھیں کہ یا تو اس کو مضاف اليه بناؤ یا بدل بناؤ، اور اگر آپ اس پر نصب پڑھنا چاہتے ہیں تو اس کی تین وجہیں ہو سکتی ہیں، یا تو اس کو بنا لو تمیز يَوْماً اور مَاں کو بناؤ تامَّہ، سِيًّا مضاف، مَاں مضاف اليه مبہم مُمَيِّز، اور يَوْماً اس کی تمیز۔ مبہم مُمَيِّز اپنی تمیز سے مل کر مضاف اليه اور مضاف اپنے مضاف اليه سے مل کر لَا کا اسم۔
لَا سِيَّمَا خاص طور پر وہ چیز، اچھا کیا چیز؟ يَوْماً اس حیثیت سے کہ وہ کیا ہے؟ دن ہے، تو یہ تمیز ہے، ابهام کو دور کر دیا، مَاں کا معنی تھا شَيْئٌ وہ چیز، کوئی چیز بھئی، اور يَوْماً نے ابهام دور کر دیا۔ لیکن یہ ترکیب صرف اسی جگہ ہوگی جب مَاں کا ما بعد نکرہ ہو، اگر معرفہ ہو، پھر اس کو تمیز نہیں بنا سکتے، یہاں اگر اليَوْم ہوتا، پھر تمیز نہیں بنا سکتے کیونکہ تمیز کے لیے نکرہ ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو یہ ایک وجہ ہو گئی نصب کی۔
نصب کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کو مَفْعُول بنا دو أَعْنِي فعل کے لیے، اس صورت میں بھی مَاں تامَّہ ہے۔ لَا سِيَّمَا خاص طور پر وہ چیز أَعْنِي يَوْماً میری مراد دن سے ہے، تو أَعْنِي فعل، أَنَا ضمیر فاعل اور يَوْماً اس کے لیے مَفْعُولُ بِهِ، فعل اپنے فاعل مَفْعُول بِهِ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ کیا ہوا؟ بیان بن جائے گا اس کے لیے، صورت سمجھ میں آگئی؟ اس کا بیان بن جائے گا بھئی۔
اور لَا مَحَلَّ لَهُ مِنَ الْإِعْرَابِ، محلِ اعراب نہیں ہوگا کیونکہ یہ صفت نہیں ہے، صفت ہوتی تو صفت کا وہی اعراب ہوتا ہے جو کس کا ہوتا ہے؟ موصوف۔ اسی طرح جو اسمِ موصول کا صلہ ہو، صلے کا بھی کوئی محلِ اعراب نہیں ہوتا۔ بہرحال چلیں اتنی گہرائی میں ابھی نہ جائیں۔ اچھا تو ایک وجہ نصب کی کیا؟ تمیز بناؤ، دوسری وجہ نصب کی کیا؟ مَفْعُول بِهِ بناؤ، تیسری وجہ نصب کی یہ کہ اس کو مُسْتَثْنَى بناؤ، یہ بالکل الگ قول ہے باقی قولوں سے، کہ بعض نحوی حضرات فرماتے ہیں: یہ لَا نفی جنس نہیں ہے، لَا سِيَّمَا یہ کیا ہے؟ یہ اِسْتِثْنَاء کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے إِلَّا کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ اِسْتِثْنَاء کے لیے اور اس کے بعد مُسْتَثْنَى کا ذکر آتا ہے، تو لَا سِيَّمَا بھی تو یہ لَا سِيَّ ہے اور اس میں بھی مَاں زائدہ ہے، حرف ہے، تو بہرحال یہ اِسْتِثْنَاء کے لیے استعمال ہوا اور يَوْماً مُسْتَثْنَى ہونے کی بنا پر منصوب ہوگا۔ وجہیں پتہ چل گئیں؟
تو پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ أَلَا رُبَّ يَوْمٍ لَكَ مِنْهُنَّ صَالِحٍ، وَلَا سِيَّمَا يَوْمٌ بِدَارَةِ جُلْجُلِ، سنو! تمہارے بہت سے دن ان کی وجہ سے اچھے بھی تھے، وَلَا سِيَّمَا يَوْمٌ بِدَارَةِ جُلْجُلِ، اور خاص طور پر دارۂ جلجل کا دن، کہ وہ دن تو بڑا ہی خاص تھا۔
وَيَوْمَ عَقَرْتُ لِلْعَذَارَى مَطِيَّتِي فَيَا عَجَبًا مِنْ كُورِهَا المُتَحَمَّلِ
عَقَرْتُ، عَقَرَ يَعْقِرُ کے معنی، عَقَرَ يَعْقِرُ کے معنی اونٹ کے کونچے کاٹنا یعنی اس کے گھٹنوں پر تلوار مارنا، عرب کا طریقہ تھا بھئی، اونٹ کو نحر کرنے لگے، اب ظاہر سی بات ہے اس کو نحر یا ذبح کرنے وہ تو قابو میں نہیں آئے گا، تو وہ تلوار سے اس کے گھٹنے کو زخمی کر دیتے اور اس طرح وہ اونٹ گر جاتا اور وہ زیادہ حرکت نہ کر سکتا تھا تو جلدی سے اس کو نحر کر دیتے تھے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگ گئی بھئی، تو یہ اونٹ کی کونچے کاٹنا یعنی اس کے گھٹنوں پر تلوار پاؤں پر تلوار مارنا گھٹنوں پر یہ ہے عَقَرَ بھئی عَقَر۔
اور ایک عَقَرَ کا معنی ہے حیوان کو ذبح کرنا، اونٹ ہو یا کوئی اور حیوان، اس کو ذبح جو کیا جائے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ عَقَرَ یہ دوسرا معنی، اور ایک عَقَرَ کا معنی ہے کمر کو زخمی کرنا، جانور کی کمر کو زخمی کرنا یہ بھی عَقَرَ کا معنی ہے، یہ آگے بھی آئیں گے تو یہ تینوں معنی یاد رکھیں، ایک معنی تو کیا گھٹنوں پر تلوار مارنا، دوسرا ہے ذبح کرنا، اور تیسرا ہے کمر کو زخمی کرنا۔
لِلْعَذَارَى، عَذَارَى جمع ہے عذراء کی، الف اور ہمزہ آخر میں ہے، عَذْرَاءُ، عَذْرَاء کہتے ہیں کنواری لڑکی کو بھئی، کنواری لڑکی، تو اس کی جمع ہے عَذَارَى۔ مَطِيَّةٌ، مَطِيَّةٌ سواری کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ سواری کو کہتے ہیں۔ اور یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا، مَطِيَّةٌ بغیر تا کے جمع بھئی۔ سواریاں، تو مَطِيَّةٌ کی جمع مَطِيٌّ۔
فَيَا عَجَبًا، عَجَب کہتے ہیں تعجب کو بھئی، تعجب کو۔ مِنْ كُورِهَا، كُور کہتے ہیں اونٹ کے کجاوے کو۔ كُورِهَا، ھَا ضمیر راجع ہے مَطِيَّةً کو، سواری۔ آپ جانتے ہیں بھئی، دیکھا ہوگا اونٹ پر ایک بیٹھنے وغیرہ یا چیزیں رکھنے کے لیے ایک مخصوص چیز بنائی ہوتی ہے اس کی کمر کے اوپر تاکہ بیٹھنے میں آسانی ہو، چیزیں رکھنے میں آسانی ہو، اس کو کجاوا کہتے ہیں۔
المُتَحَمَّلِ، مُتَحَمَّل یہ بمعنے محمول کے ہے، لادا گیا، لدا ہوا بھئی۔ بھئی امرؤ القیس نے اپنی اونٹنی تو ان کے لیے ذبح کر دی، اب ذبح کر دی تو اس کے سامان وغیرہ جو تھا، وہ انہوں نے آپس میں تقسیم کر لیا، وہ جو لڑکیاں تھیں، انہوں نے واپس چلنے لگی تو سامان تقسیم کر لیا، کچھ چیزیں ایک کے پاس آگئیں، کچھ چیزیں دوسری کے پاس کیونکہ اس کے پاس تو اونٹنی ہی نہیں ہے، اب سامان اس کا بھی ساتھ لے کر چلنا ہے واپس، اور جو کجاوا رہ گیا تھا، تو وہ کجاوے کو بھی ایک اونٹنی پر لڑکیوں نے اپنے ساتھ لاد لیا، ایک ان کا اپنا کجاوا تھا، اس پر بیٹھی ہوں گی، اور پھر ساتھ امرؤ کا کجاوا بہت بڑا ہوتا ہے، بڑا وزنی ہوتا ہے بھئی، تو اس کو بھی انہوں نے اپنے ساتھ لاد لیا بھئی، لاد لیا۔
تو اسی کو ذکر کر رہا ہے: مِنْ كُورِهَا المُتَحَمَّلِ، اس سواری کا جو کجاوا جو کہ لدا ہوا تھا، جو کہ اس اونٹنی پر، ان لڑکیوں کی اونٹنی پر لادا گیا تھا بھئی۔ تو کہتا ہے:
وَيَوْمَ عَقَرْتُ لِلْعَذَارَى مَطِيَّتِي فَيَا عَجَبًا مِنْ كُورِهَا المُتَحَمَّلِ
وَيَوْمَا، اس يَوْم کا عطف بھی ما قبل والے يَوْم پر ہے: وَلَا سِيَّمَا يَوْمٌ، اور اُس يَوْم پر تینوں طرح کے اعراب آئے ہیں، تو اس کا عطف اس پر ہے تو اس پر بھی وہی تینوں صورتیں جائز ہوں گی۔ اس پر اگر رفع پڑھتے ہیں تو اس پر بھی رفع پڑھیں گے، اور اس پر نصب پڑھتے ہیں تو اس پر بھی نصب، اور اس پر جر پڑھتے ہیں تو اس پر بھی جر پڑھیں گے۔
ہاں، اس میں ایک اور صورت بھی جائز ہے، اور وہ یہ کہ یہ مضاف ہو رہا ہے مبنی کی طرف، وَيَوْمَ عَقَرْتُ، ماضی ہے آگے، اور ماضی کیا ہے؟ مبنی، تو گویا جملے کی طرف ہے اور جملہ مبنی ہوتا ہے، تو اور جملے کی طرف جو مضاف ہو، یاد رکھیے اس کو بھی مبني على الفتح پڑھنا جائز ہے۔ اس کو بھی مبني على الفتح پڑھنا جائز ہے۔
تو یہ يَوْم پر یہ مبني على الفتح بھی پڑھ سکتے ہیں اور ما قبل والا اعراب بھی، اس پر رفع تو اس پر بھی رفع، اس پر نصب تو اس پر بھی نصب، اس پر جر تو اس پر بھی جر، اور ایک وجہ زائد بھی آگئی، وہ کیا؟ مبني على الفتح بھی پڑھ سکتے ہیں، تو معرب جب مبنی کی طرف مضاف ہوا تو اس پر کیا پڑھ، اس کو بھی مبني على الفتح پڑھ سکتے ہیں۔ لہٰذا اسی لیے پیچھے تو آپ نے پڑھا يَوْمٌ، اعراب تو يَوْمٌ کے ہیں، لیکن یہاں پر کیا ہے يَوْمَ کیونکہ مبني على الفتح ہے۔
اور خاص طور پر وہ دن کہ عَقَرْتُ لِلْعَذَارَى مَطِيَّتِي، میں نے ذبح کر دیا کنواری لڑکیوں کے لیے اپنی سواری کو، اپنی اونٹنی کو: فَيَا عَجَبًا مِنْ كُورِهَا المُتَحَمَّلِ، تو تعجب ہے اس اونٹنی کے کجاوے پر جس کو لادا گیا تھا۔
یعنی کتنے حیرت کی بات ہے کہ اس کس بات پر حیرت ہے؟ اس اونٹنی کے کجاوے پر جس کو کیا کیا گیا تھا؟ لادا گیا تھا، لادا گیا تھا۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
اچھا بھئی فَيَا عَجَبًا، یا عَجَبًا، اس کو یا عَجَبًا پڑھنا بھی ٹھیک اور یا عَجَبَا، بغیر تنوین کے پڑھنا بھی ٹھیک۔ اگر اس کو پڑھتے ہیں یا عَجَبًا تنوین کے ساتھ، تو یہ منادی ہے، اور منادی نکرہ غير معين ہو تو وہ منسوب ہوتا ہے۔ کیا پڑھا آپ نے؟ يَا رَجُلاً خُذْ بِيَدِي، کیا پڑھا ہے؟ کہ منادی کیا ہو؟ نکرہ غیر معین ہو تو وہ منسوب ہوتا ہے، لہٰذا یہ بھی منسوب ہے، فَيَا عَجَبًا۔
یا منسوب پڑھیں تنوین کے ساتھ، تو اس کو مَفْعُول مطلق بناؤ، اور کلام اصل میں گویا یوں ہے: يَا قَوْمِي اعْجَبُوا عَجَبًا، اعْجَبُوا عَجَبًا، اے میری قوم والو! تم تعجب کرو مِنْ كُورِهَا المُتَحَمَّلِ، کس کی وجہ سے؟ میری اس اونٹنی کے کجاوے کی وجہ سے جس کو لادا گیا تھا، تم اس کی وجہ سے کیا کرو؟ تعجب کرو، کتنے تعجب والی بات ہے۔
تنوین کی دو وجہیں سمجھ میں آگئیں؟ یا تو یہ منادی غیر معين ہے یا پھر یہ مَفْعُول مطلق ہے اور منادی محذوف ہے يَا قَوْمِي، یا یا هَؤُلَاءِ، ہاؤلاء قریب کے لیے کیا ہے؟ اس میں اشارہ ہے، ان لوگوں کو کہہ رہا ہے، ساتھیوں کو کہہ رہا ہے کہ تم سب کیا کرو اس پر تعجب کرو۔
اور یا اس کو بغیر تنوین کے پڑھیں: يَا عَجَبَا، يَا عَجَبَا بغیر تنوین کے پڑھیں تو پھر اس صورت میں یاد رکھیے، یہ الف يَا سے بدل کر آیا ہے، اصل میں تھا يَا عَجَبِي، يَا متكلم کی ہے بھئی، اے میرے تعجب! اور آپ نے پڑھا ہے کہ منادی جب مضاف ہو یا متكلم کی طرف يَا غُلَامِي، تو اس يَا کو الف سے بدلنا بھی جائز ہے: يَا غُلَامَا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ الف کس سے بدل کر آیا ہے؟ یا متكلم سے: يَا عَجَبِي، اے میرے تعجب! اے میرے تعجب تو حاضر ہو جا، کیونکہ تیرے حاضر ہونے کا وقت ہے، یہ عرب کا طریقہ ہے بھئی۔
تعجب کو ندا دیتے ہیں، ویسے ہی مجازاً جب کوئی بڑی ہی تعجب والی بات ہو، آگے تعجب والی بات آ رہی ہے، تو اس پر اظہارِ تعجب کے لیے ان کا یہ طریقہ کار ہے، وہ تعجب کو ندا دیتے ہیں، تو علماء پھر لکھتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ اتنی آگے انوکھی بات آ رہی ہے، اے تعجب تو کیا ہو جا؟ حاضر ہو جا، آ جا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کیونکہ یہی تو تیرے آنے کا وقت ہے، تو تعجب کب آتا ہے؟ تعجب جب کوئی انوکھی بات ہو اور آگے کیا آنے والی ہے؟ انوکھی بات، تو تعجب کو ندا دی جاتی ہے مجازاً بھئی، اور کیوں؟ جب آگے کوئی بڑی انوکھی بات آنے والی ہو، اور یہ بات بڑی انوکھی ہے کہ وہ میری، وہ میری اونٹنی کا کجاوا، اس کو میری اونٹنی پر لدا ہونا چاہیے تھا، لیکن میں نے تو اپنی اونٹنی ذبح کر دی، اب وہ ان لڑکیوں کی اونٹنی پر ہے، ایک ان کا اپنا کجاوا بھی ہے، اور پھر ساتھ امرؤ کا کجاوا بہت بڑا ہوتا ہے، بڑا وزنی ہوتا ہے بھئی، تو اس کو بھی انہوں نے اپنے ساتھ لاد لیا بھئی، لاد لیا۔
تو ندا یا تو کس بڑا کس کو ہے؟ تعجب کو ہی ہے کہ اے تعجب تو حاضر ہو جا، یہ تیرے حاضر ہونے کا وقت ہے، یا منادی محذوف ہے يَا قَوْمِي، اے میری قوم والو! يَا هَؤُلَاءِ، اے لوگوں! جو وہاں موجود ہیں، اے لوگو! اور یہ عَجَبًا کو کیا بنا لو؟ مَفْعُول مطلق بنا لو، اعْجَبُوا عَجَبًا۔
یا یہ معنی: اے میری قوم! اشْهَدُوا عَجَبًا، اشْهَدُوا عَجَبِي، تم کیا کرو؟ میرے تعجب کا مشاہدہ کرو، ترکیبیں سمجھ میں آ رہی ہیں؟ تو پھر یہ مَفْعُول بن جائے گا بھئی، تو مَفْعُولِ مطلق بھی بنا سکتے ہیں اس کو، اور مَفْعُولِ بھی بھئی۔
پھر سنو! يَا عَجَبًا، یہ عَجَبًا اس میں میں نے بتایا تنوین بھی پڑھ سکتے ہیں اور تنوین کے بغیر بھی يَا عَجَبَا، اگر تنوین پڑھیں بھئی، پھر یا تو یہ کیا ہے؟ منادی نکرہ غير معين ہے، یا یہ مَفْعُولِ بِهِ ہے بھئی، مَفْعُولِ بِهِ ہے کس کے لیے؟ اشْهَدُوا کے لیے يَا قَوْمِي اشْهَدُوا عَجَبًا۔
اور یا پھر اس کو عَجَبَا پڑھو، اس صورت کے اندر یہ يَا سے بدل کر آیا ہے، اور اصل میں تھا يَا عَجَبِي، اور منادی مضاف ہو یا متكلم کی طرف تو اس میں الف پڑھنا بھی جائز تو کیا پڑھیں گے؟ يَا عَجَبَا، یا یہ منادی ہے ہی نہیں، یہ مَفْعُولِ بِهِ ہے، اور خطاب قوم کو ہے يَا قَوْمِي، يَا هَؤُلَاءِ اشْهَدُوا عَجَبًا، اشْهَدُوا عَجَبَا، اشْهَدُوا عَجَبْ، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
کہ مشاہدہ کرو تعجب کا تم۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ امرؤ القیس یہ تعجب کا اظہار کس بات پر کر رہا ہے؟ تو وجہ ظاہر ہے بھئی۔ امرؤ القیس تعجب کا اظہار اس لیے کر رہا ہے کہ کہتا ہے کہ یہ دیکھو میری اونٹنی کا کجاوا ہے، اس کو ہونا کہاں چاہیے تھا؟ میری اونٹنی پر، لیکن یہ لدا کہاں پر ہوا ہے؟ ان لڑکیوں کی اونٹنی پر لدا ہوا ہے، اور لڑکیاں وہ تو کمزور ہیں تخلیق کے اندر بھئی، وہ وہ تو کمزور مخلوق ہیں، اور وہ تو طاقت والا کوئی کام سرانجام نہیں دے سکتیں، لیکن اس کے باوجود حیرت کی بات ہے کہ اتنا بڑا کجاوا انہوں نے اپنے ساتھ، اپنے کجاوے کے ساتھ اونٹ پر کیا کیا ہوا ہے؟ لاد کر اس کو تھام کر رکھا ہوا ہے، کتنی حیرت کی بات ہے، کتنا کتنا مشکل کام وہ کر رہی ہیں بھئی، معنی سمجھ میں آگیا؟
تو اس پر تعجب کا اظہار کر رہا ہے کہ ایک اونٹنی پر دیکھو دو کجاوبے ہو گئے، اور ایک کمزور مخلوق اتنا مشکل کام سرانجام دے رہی ہے، واقعی یہ تعجب کا مقام ہے۔
جبکہ بعض علماء نے لکھا کہ امرؤ القیس جو ہے وہ حیرت کا اظہار اس بات پر کر رہا ہے کہ اے لوگو! میری جوانی کے ایام تو دیکھو ذرا، اور میری نادانیوں کا مشاہدہ تو کرو ذرا، کہ میں نے عشق و محبت میں آ کر کیا کر دیا؟ اپنی اونٹنی ہی کو ان کے لیے ذبح کر دیا، تو اپنی جوانی کے ان ایام کو یاد کر کے، اور اپنی نادانیوں پر وہ حیرت کا اظہار کر رہا ہے بھئی۔
معنی سمجھ میں آیا؟ لیکن یہ معنی یہاں پر مناسب نہیں بنتے بھئی، وہ تو عشق و محبت کی باتیں بیان کر رہا ہے، اور محبت میں وہ اس حد تک چلا گیا تھا ان چیزوں کو بیان کر رہا ہے، اپنے عاشقوں کا ذکر کر رہا ہے، تو اس پر پھر اس کو نادانی قرار دینا یہ موقع کے مناسب نہیں ہے بھئی، ابھی تو آگے وہ چل کر اور باتیں بیان کرے گا، ان کا حسن و جمال وغیرہ کیا چیزیں ذکر کرے گا، تو یہاں ان افعال کو نادانی قرار نہیں دے سکتا بھئی۔
وَيَوْمَ عَقَرْتُ لِلْعَذَارَى مَطِيَّتِي فَيَا عَجَبًا مِنْ كُورِهَا المُتَحَمَّلِ
اور وہ خاص طور پر وہ دن، کہ جس دن میں نے کنواری لڑکیوں کے لیے اپنی سواری کو ذبح کر دیا، پس تعجب ہے اس سواری کے کجاوے پر جو لدا ہوا تھا۔
فَظَلَّ العَذَارَى يَرْتَمِينَ بِلَحْمِهَا وَشَحْمٍ كَهُدَّابِ الدَّمَاثِ المُفَتَّلِ
ظَلَّ يَظِلُّ کے معنی ہیں دن گزارنا، دن گزارنا۔ ظَلَّ زَيْدٌ كَاتِبًا، زید نے کتابت کرتے ہوئے دن گزارا۔ بَاتَ يَبِيتُ کے معنی ہیں رات گزارنا، بَاتَ زَيْدٌ كَاتِبًا، زید نے کتابت کرتے ہوئے رات گزاری۔ معنی سمجھ میں آیا؟ ظَلَّ کا کیا معنی؟ دن گزارنا کوئی فعل کرتے ہوئے، اور با ت کا معنی رات گزارنا۔
اور کبھی دن میں کوئی کام کرنے کے لیے بھی ظَلَّ آتا ہے، ظَلَّ زَيْدٌ كَاتِبًا، زید نے دن میں کتابت کی۔ پہلا ترجمہ کیا تھا؟ دن گزارا کتابت کرتے ہوئے، دوسرا معنی کیا ہے؟ زید نے دن میں کتابت کی۔ فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور بَاتَ زَيْدٌ كَاتِبًا، پہلا ترجمہ کیا تھا؟ رات گزاری کتابت کرتے ہوئے، دوسرا ترجمہ؟ رات میں کتابت کی۔
اور کبھی کبھار یہ صَارَ کے معنی میں بھی آ جاتا ہے: ظَلَّ زَيْدٌ كَاتِبًا، زید کاتب ہوا، یعنی زید نے کتابت کی۔
اب یہاں دن یا رات والا معنی نہیں، بس ظَلَّ زَيْدٌ كَاتِبًا، زید نے زاید کاتب ہوا، زید کاتب بن گیا یعنی کتابت کی اس نے۔ بَاتَ زَيْدٌ كَاتِبًا، یہاں بھی اب رات والا معنی نہیں، زید نے کتابت کی۔
عَذَارَارَ، اس کا معنی اوپر بیان ہو چکا، یہ جمع ہے عذراء کی بھئی۔ يَرْتَمِينَ، يَرْتَمِينَا رَمَا يَرْمِي سے ہے بھئی۔ رَمَایَرْمِي کے معنی پھینکنا، اسی سے اِرْتِمَاء ہے باب افتعال بھئی۔ تو اور يَرْتَمِينَا کا معنی پھینکنا بھی اور باہم ایک دوسرے کی طرف پھینکنا بھی یعنی جانبين سے بھی فاعل کے لیے یہ استعمال ہوتا ہے۔
بِلَحْمِهَا، لحم گوشت کو کہتے ہیں، لحمها اس سواری کا گوشت، یعنی میری اونٹنی کا گوشت، وَشَحْمٍ، شَحْم کہتے ہیں چربی کو بھئی، چربی۔ کَهُدَّابِ الدَّمَقثِ المُفَتَّلِ، هُدَّاب جھالر کو کہتے ہیں۔ هُدَّاب بھی، اور ہودبُن بھی۔ جھالر، بھئی یہ رومال وغیرہ کے کنارے پر وہ دھاگے ہوتے ہیں لمبے لمبے بھئی۔
تو مخصوص طریقے سے بنے ہوتے ہیں، تو یہ اس کو جھالر کہتے ہیں۔ اور هُدَّاب اس کا مفرد هُدَابَةٌ ہے بھئی، تو ہدداب جمع ہے، جیسے اسی کو ہدبتُن بھی کہتے ہیں، اور جمع کیا ہے؟ ہدبُن۔ دِمَقْ، بھئی دِمَقْ کہتے ہیں ریشم کو، ریشم کو۔
اور بعضوں نے کہا کہ عام ریشم کو دِمَقْ سن نہیں کہتے، خالص سفید ریشم جو ہو، اس کو دِمَقْ سن کہتے ہیں، عمدہ خالص سفید ریشم۔ مُفَتَّلُ، مُفَتَّل فَتْلُن سے ہے بھئی۔ بٹنا مفتول بھئی، بٹی ہوئی مُفَتَّل کا معنی۔ بٹی ہوئی بل دیا ہوا، بھئی رسی کو کیسے تیار کرتے ہیں؟ اس کو بٹتے ہیں، اس کو بل دیتے ہیں، تو وہ کیا ہے؟ مفتول ہے، یا یوں کہیں، مفَتَّل ہے بھئی۔
معنی ایک ایک لفظ کا سمجھ میں آ گیا:
فَظَلَّ العَذَارَى يَرْتَمِينَ بِلَحْمِهَا وَشَحْمٍ كَهُدَّابِ الدَّمَاثِ المُفَتَّلِ
پس دن گزارا ان کنواری لڑکیوں نے يَرْتَمِينَا بِلَحْمِهَا کہ وہ باہم ایک دوسرے کی طرف اس کے گوشت کو پھینک رہی تھیں، وَشَحْمٍ، اور کس کو؟ چربی کو۔ شَحْم نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد كَهُدَّبٍ جار مجرور آ رہا ہے، اور جار مجرور میں نے بتلایا نکرہ کے بعد آئے اور کسی سے جڑ نہ رہا ہو، تو وہ اسی کے لیے صفت بنتا ہے۔
اور موصوف صفت کا ترجمہ بھئی۔ اچھا، چلیے وہ ترجمے کا طریقہ میں پھر سبق میں کسی وقت ذکر کروں گا۔ تو یہاں ایسا کا لفظ لائیں گے موصوف سے پہلے وَشَحْمٍ، اور ایسی چربی كَهُدَّابِ الدَّمَاثِ المُفَتَّلِ، جیسے کہ بنے ترجمہ پھر سے ہوگا، جیسے کہ بٹے ہوئے سفید ریشم کی جھالر ہوتی ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ وَشَحْمٍ، اور ایسی چربی جو کہ بٹے ہوئے سفید عمدہ ریشم کی جھالر جیسی، کی طرح۔
تو امرؤ القيس کہتا ہے کہ وہ وہیں پر گوشت کو بھونا آگ پر اور وہ کھانے میں مشغول ہو گئیں، اب ساری سہیلییں ہیں، جب سارے ساتھی اکٹھے ہوں، تو بسا اوقات تفریح ایک دوسرے کے ساتھ جو ہیں، ہنسی مذاق بھی کرنے لگتے ہیں، تو وہ بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کر رہی ہیں اور ہنسی مذاق میں اس کے گوشت کو ایک دوسرے کی طرف اچھال رہی ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
تو ارتَمَاء کا معنی ایک دوسرے کی طرف پھینک رہے ہیں، یعنی معنی بھی یہی ارتَمَاء کا معنی بھی پھینکنا، جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ یہاں پھینکنے کو ویسے ذکر کیا ہے، حقیقت میں پھینک نہیں رہی تھیں، بلکہ کیونکہ سب سہیلییں ہیں، تو خود بھی کھا رہی ہیں، اور ایک دوسرے کو بھی دے رہی ہیں کہ لو تم یہ بھی کھاؤ اور یہ بھی کھاؤ، تو اس دینے کو ہی کس کے ساتھ تعبیر کر دیا؟ پھینکنے کے ساتھ تعبیر کر دیا۔
فَظَلَّ العَذَارَى يَرْتَمِينَ بِلَحْمِهَا وَشَحْمٍ كَهُدَّابِ الدَّمَاثِ المُفَتَّلِ، تو دن گزارا ان کنواری لڑکیوں نے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی طرف اس کے گوشت کو اور اس کی بٹی ہوئی سفید ریشم کی جھالر جیسی چربی کو ایک دوسرے کی طرف پھینک رہی تھیں۔ معنی سمجھ میں آگیا؟
تو دن گزارا، بھئی سارا دن تو اس کام میں نہیں گزارا۔ یعنی کہ تھوڑا بہت تو تھوڑا سا وقت لگا، لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ وقت تو لگا، تو اسی کو وہ فرسٹ پہ کام لیتے ہوئے کس سے تعبیر کر دیا؟ دن گزارنے کے ساتھ تعبیر کر دیا۔
یا ظَلَّ کو وہ معنی سارا کے کر لیں، وہ ایک دوسرے کی طرف پھینکنے لگیں۔
یا اس ظَلَّ کا وہ دوسرا معنی کر لیں، دن میں اس دن میں ہی کیا نا یہ کام، دن گزارنے والا ترجمہ نہ کریں، دن میں، دن میں انہوں نے کیا کیا؟ پھینکنے لگیں۔
اب یاد رکھیے قیمتی بات بھئی۔ یہ امرؤ القیس اپنے قصیدے کی ابتدا میں اپنی عاشقہ کا ذکر کر رہا ہے، اس کے حسن و جمال کو اور اپنے عشق و محبت کو بیان کر رہا ہے، یاد رکھیے اس کو کہتے ہیں تشبیب۔
شَبَّ يَشُبُّ تَشْبِيبًا، اس کو کہتے ہیں تشبیب، یا یوں کہیں تشبیب الشاعر۔ تشبیب یہ ہے، عرب شعراء عموماً یوں کرتے تھے کہ اپنے قصیدے کی ابتدا کے اندر عورتوں کے حسن و جمال کو ذکر کرتے تھے، اپنے جوانی کے ایام کا تذکرہ کرتے، اپنے عاشقاؤں کے حسن و جمال کو ذکر کرتے تھے، اور اپنے عشق کی باتیں ذکر کیا کرتے تھے، اس کو کہتے ہیں تشبیب بھئی، کیا کہتے ہیں؟ تشبیب۔
اور مقصد اس کا یہ ہوتا تھا کہ عام لوگ جو ہیں، وہ ان باتوں کو بہت پسند کرتے ہیں، چنانچہ جب وہ یہ ان عورتوں کی باتیں شروع کر دیتا، قصیدے کی ابتدا میں شاعر عورتوں کے حسن و جمال کو ذکر کر رہا ہے، اپنے عشق و محبت اور اپنی جوانی کے ایام کو ذکر کر رہا ہے، تو سارے لوگ متوجہ ہو جاتے بھئی، کان کھڑے ہو جاتے، دماغ متوجہ ہو جاتا اور کامل توجہ اس کی طرف ہو جاتی۔
تو پھر جب لوگوں کی کامل توجہ ہو جاتی تھی، پھر اس کے بعد آگے وہ اب اس حسن و جمال اور عشق و محبت وغیرہ کی باتوں کو چھوڑ کر، پھر اپنا مقصد بیان کرنا شروع کر دیتا تھا، جس کے لیے اس نے وہ قصیدہ کہا ہوتا تھا۔
تو اب جب لوگوں کی توجہ کے بعد اب وہ باتیں ذکر کرے گا، تو لوگوں کے ذہن میں اچھی طرح جم جائیں گی اور بیٹھ جائیں گی بھئی۔ تو یہ آپ جتنے بھی عرب کے قصیدے اٹھائیں، عموماً آپ کو ملے گا شروع کے اندر وہ عورتوں کے، اپنے عاشقاؤں کے حسن و جمال کو ذکر کرتے ہیں، اپنی محبت کی باتیں ذکر کرتے ہیں، اپنی جوانی کے ایام کا تذکرہ کرتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تشبیب، اور مقصد سمجھ میں آیا؟ کہ کیونکہ لوگ ان چیزوں کو پسند کرتے ہیں، تو جب یہ چیزیں شروع میں ذکر کی جائیں گی، تو لوگ قصیدے کی طرف متوجہ ہو جائیں گے، غور سے سنیں گے، اور پھر اس کے بعد شائر اپنے مقصد کی طرف عدول کرتا تھا، اور پھر وہ بیان کر دیتا تھا، جب لوگوں کی کامل توجہ حاصل کر لیتا۔
تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تشبیب بھئی، تشبیب۔ تو یہ لفظ ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونا چاہیے، یہ نہیں کہ صرف سبق کے لیے ذہن میں ہو۔ جہاں کہیں بھی ذکر آئے گا، بس صرف اتنا وہ لکھ دیں گے کہ یہ تشبیب ہے، یہ شروع میں تشبیب ہے، آپ سمجھ جائیں کہ تشبیب سے کیا مراد ہے؟ یہ جوانی کے ایام، عشق کا ذکر، عورتوں کے حسن و جمال کا ذکر وغیرہ بھئی۔
بس! اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ آپ کے ہر وقت ذہن میں ہونا چاہیے کہ تشبیب کسے کہتے ہیں؟ تو یہ ابھی تشبیب چل رہی ہے قصیدے کی ابتدا کے اندر بھئی۔ چلیے بس! ہذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔