Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-009

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَيَوْمَ دَخَلْتُ الْخِدْرَ خِدْرَ عُنَيْزَةٍ فَقَالَتْ لَكَ الْوَيْلَاتُ إِنَّكَ مُرْجِلِ ‏ تَقُولُ وَقَدْ مَالَ الْغَبِيطُ بِنَا مَعًا عَقَرْتَ بَعِيرِي يَا امْرَأَ الْقَيْسِ فَانْزِلِ فَقُلْتُ لَهَا سِيرِي وَأَرْخِي زِمَامَهُ وَلَا تُبْعِدِينِي مِنْ جَنَاكِ الْمُعَلَّلِ امرو القیس دارا جلجل کا ذکر کر رہا ہے بھئی اور بتلاتا ہے کہ میری ان عشیقاؤں کی وجہ سے، ان محبوبوں کی وجہ سے ‏میرے اوپر بڑے اچھے دن بھی ائے ہیں اور خاص طور پر دارا جلجل کا دن۔ اور جس دن کہ میں نے کنواری لڑکیوں کے لیے اپنی اونٹنی، اپنی سواری کو ذبح کیا اور کتنے تعجب کی بات ہے کہ ‏میری اس اونٹنی کا کجاوا ان لڑکیوں کی اونٹنی پر لدا ہوا تھا، لدا ہوا تھا۔ اور ان لڑکیوں نے وہ دن گزارا ایک دوسرے کی طرف گوشت پھینکتے ہوئے اور اس کی چربی جو کہ بٹے ہوئے خالص ‏سفید ریشم کی جھالر کی طرح تھی۔ تو آگے کہتا ہے: ‏ وَيَوْمَ دَخَلْتُ الْخِدْرَ خِدْرَ عُنَيْزَةٍ فَقَالَتْ لَكَ الْوَيْلَاتُ إِنَّكَ مُرْجِلِ ‏ وَيَوْمَ اس کا عطف کیسی ماقبل والے یوم پر ہے بھئی۔ اور اس پر بھی وہی اعراب آئیں گے اس پر جو اس پر تھے اور اس کو مبنی علی الفتح پڑھنا بھی جائز ہے کیونکہ اس کی ‏اضافت ہو رہی ہے دخلت ماضی کی طرف اور ماضی کیا ہے؟ مبنی اور مبنی کی طرف جب معرب کی اضافت ہو جائے ‏تو اس کو بھی مبنی علی الفتح پڑھنا جائز ہے۔ خدْر خدْر کہتے ہیں ہودج کو بھئی، خدْروم، حودج۔ عرب کا طریقہ تھا کیونکہ ریگستانی علاقہ تھا، دھوپ بڑی شدید ہوتی ‏تھی۔ تو دھوپ وہاں بڑی شدید ہوتی ہے تو وہ یوں کرتے ہیں کہ اس اونٹ کے اوپر ہی کچھ لکڑیاں وغیرہ نصب کر کے ‏اور پھر اس پر پردے پھر ان پر کپڑا ڈال لیتے ہیں تو یہ ایک چھوٹا سا کمرہ نما اور پردے کی جگہ بن جاتی ہے اور پھر ‏اس کے اندر وہ دھوپ سے محفوظ رہتے ہیں۔ تو عام لوگ تو زیادہ اس کو نہیں بناتے لیکن جس نے کوئی سفر کرنا ہو یہ اسی طرح عورتیں جو ہیں وہ سختی کو ‏برداشت نہیں کر سکتیں تو ان کے لیے پھر وہ ہودج بنا دیا جاتا تھا تاکہ دھوپ کی شدت اور تیزی سے حفاظت رہے بھئی۔ اور وہ بڑا ہلکا پھلکا سا ہوتا تھا بھئی، بس لکڑیاں کھڑی کی اور ان کے اوپر کپڑا وغیرہ ڈال دیا بھئی تو ان کا تو خاص ‏طریقہ تھا کہ وہ گرے بھی نہ اور مضبوطی سے قائم رہے۔ تو اس کو ہودج کہتے ہیں عربی میں خدْروم اور اردو میں ہودج بھئی، حودج۔ اور اسی طرح یہ جو خدْر ہے یہ پردے وغیرہ کو بھی کہتے ہیں۔ ہودج میں بھی کیا ہوتا ہے؟ چاروں طرف پردے لٹکے ‏ہوتے ہیں۔ عُنَيْزَة عُنَيْزَة یہ شاعر کی امرو القیس کی عاشقہ ہے بھئی، اس کے چچا کی بیٹی اور میں نے پہلے بتلاایا کہ اس کے ساتھ ‏اس کا معاشقہ بڑا مشہور تھا اور اس کے بارے میں یہ بڑے اشعار کہتا ہے۔ فَقَالَتْ لَكَ الْوَيْلَاتُ ویل ویل کے معنی ہیں ہلاکت، ہلاکت بھئی۔ ویل اور ویلتہم اور اسی کی جمع پھر ویلات بھئی۔ إِنَّكَ مُرْجِلِ یاد رکھیے رَجِلَ يَرْجُلُ رَجْلًا کے معنی ہیں پیدل ہونا، پیدل چلنا۔ جو پیدل چلنے والا ہو اس کو کہتے ہیں راجل۔ ‏ایک تو ہے نا راکِب سوار اور ایک جو پیدل چلنے والا ہے اس کو کیا کہیں گے؟ راجل بھئی، راجل۔ تو راجل کا معنی خود پیدل چلنے والا، رَجِلَ يَرْجُلُ کا معنی خود پیدل چلنا۔ وَأَرْجَلَ يُرْجِلُ إِرْجَالًا باب افعال میں لے گئے، اس کا معنی ہے دوسرے کو پیدل کرنا۔ اسی سے مُرْجِلٌ اسم فاعل ہے، پیدل ‏کرنے والا۔ وَیَا متکلم کی ہے: مُرْجِلِ مجھے پیدل کرنے والا۔ تو امرو القیس کہتا ہے: ‏ وَيَوْمَ دَخَلْتُ الْخِدْرَ خِدْرَ عُنَيْزَةٍ فَقَالَتْ لَكَ الْوَيْلَاتُ إِنَّكَ مُرْجِلِ تو امرو القیس اس دن کا واقعہ ذکر کر رہا ہے دارا جلجل میں میں نے اس طرح کیا اور پھر میں نے ان کے لیے اپنی ‏اونٹنی ذبح کر دی۔ اونٹنی کے ذبح کرنے کے بعد کھانا وغیرہ کھا لیا، اب واپس چلنے لگے تو ان میرا سامان وغیرہ ان ‏لڑکیوں نے اپنے اونٹوں پر لاد لیا۔ اور اسی طرح میرا جو کجاوا تھا وہ بھی ایک اونٹ پر لاد دیا گیا بھئی۔ اور پھر میں رہ گیا تو، تو وہ جو عُنَيْزَة کی سہیلیاں تھیں وہ عُنَيْزَة سے کہنے لگیں امرو القیس کو تم اپنے ساتھ اونٹ پر ‏سوار کرو۔ سہیلیاں تھیں، مذاق کر رہی ہیں تو اس نے انکار کیا لیکن سب نے بہت اصرار کیا نہیں اس کو تو اب تمہیں اپنے ساتھ اونٹ ‏پر سوار کرنا پڑے گا۔ ہودج اس کے اونٹ پر بنا ہوا تھا تو چنانچہ اس نے ہودج سے آگے باہر کے حصے میں کس کو سوار کر لیا؟ امرو القیس ‏کو سوار کر لیا۔ اب اونٹ پر امرو القیس سوار ہو گیا اور اگلے حصے پر وہ سوار ہے اور ساتھ ہی پیچھے وہ ہودج چھوٹا سا کمرہ نما ‏پردوں سے بنا ہوا ہے جس میں عُنَيْزَة بیٹھی ہوئی ہے۔ تو امرو القیس پیچھے کو مڑتا، پردے وغیرہ ہٹاتا، اس کے ساتھ باتوں میں بھی مصروف رہتا اور اس کے دیدار کے ‏ذریعے بھی لذت اٹھاتا اور پھر کبھی اس کو گلے لگانے کی کوشش کرتا، کبھی اس کے ساتھ بوس و کنار کی کوشش کرتا ‏اور وہ عُنَيْزَة اپنے آپ کو بچانے کے لیے کبھی ایک طرف ہو رہی ہے، کبھی دوسری طرف ہو رہی ہے۔ تو وہ جو کجاوا تھا وہ جو اوپر جو ہودج تھا جس کے اوپر رکھا ہوا تو وہ دائیں اور بائیں ظاہر سی بات ہے جب وہ زور ‏لگا رہا ہے تو کبھی ایک طرف وہ جھک جاتا ہے، کبھی دوسری طرف جھک جاتا ہے۔ تو عُنَيْزَة اسے کہتی ہے: اے امرو القیس تیرے لیے ہلاکتیں ہوں، تو تو مجھے پیدل ہی کر دے گا۔ تو تو مجھے پیدل ہی کر دے گا یعنی جب اس طرح تو کر رہا ہے تو وہ کجاوا اور وہ ہودج بار بار ادھر ادھر ہلے گا تو ‏اس سے تو اونٹ کی کمر زخمی ہو جائے گی اور جب اونٹ کی کمر زخمی ہو جائے گی پھر تو ہمیں کیا کرنا پڑے گا ‏نیچے اتر کر پیدل چلنا پڑے گا بھئی معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہی ذکر کر رہا ہے: وَيَوْمَ دَخَلْتُ الْخِدْرَ خِدْرَ عُنَيْزَةٍ فَقَالَتْ ‏لَكَ الْوَيْلَاتُ إِنَّكَ مُرْجِلِي اور خاص طور پر وہ دن کہ جس دن میں داخل ہوا اس ہودج میں خِدْرَ عُنَيْزَةٍ یعنی کہ عُنَيْزَة کے ہودج میں۔ یہ خِدرِ ثانی جو ‏آ رہا ہے یہ اول سے بدل ہے، بدل ہے۔ اور جس دن کہ میں داخل ہوا الْخِدْرَا اس ہودج میں (الف لام آیا نا؟) اس ہودج میں تو آگے پھر بتلا رہا ہے خِدْرَ عُنَيْزَةٍ یعنی ‏کہ عُنَيْزَة کے ہودج میں۔ فَقَالَت تو وہ کہنے لگی لَكَ الْوَيْلَاتُ تیرے لیے ہلاکتیں ہوں إِنَّكَ مُرْجِلِ یقیناً تو مجھے، تو تو مجھے پیدل کرنے والا ہے، ‏یقیناً تو تو مجھے پیدل ہی کر دے گا۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو خِدْرَ عُنَيْزَةٍ خِدْرَ عُنَيْزَةٍ یہ عُنَيْزَة یاد رکھیے غیر منصرِف ہے کیونکہ ایک تانیث ہے اور ایک عالمیت ہے اور غیر ‏منصرِف پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے بھئی۔ لیکن یہاں پر کسرہ اور تنوین آ رہے ہیں بھئی۔ تنوین لائی گئی بھئی۔ یہ ‏ضرورتِ شعری کی بنا پر، کس بنا پر؟ ضرورتِ شعری بھئی۔ بھئی یاد رکھیے اشعار کا اپنا مخصوص وزن ہوتا ہے۔ ایک حرف بھی آگے پیچھے ہو جائے شعر کا سارا وزن خراب ہو ‏جاتا ہے۔ اشعار بہت زیادہ انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اندر ایک خاص قسم کی ترنم، روانی اور فصاحت ہوتی ہے ‏بھئی۔ آپ اردو کے اشعار میں بھی دیکھ لیں ہر زبان میں اسی طرح ہیں، جو اشعار ہیں ان میں ایک خاص قسم کا ترنم اور ‏روانی ہوتی ہے بھئی۔ اور جن کو اللہ نے ذوق دیا ہوتا ہے وہ فورا اس کو پہچان لیتے ہیں بھئی، فورا پہچان لیتے ہیں۔ چنانچہ اسی لیے بعض اوقات آپ دیکھتے ہیں لوگ بڑے شاعر کے پاس اپنا کلام لے کر جاتے ہیں اور وہ پھر اس میں ‏اصلاح کرتا ہے، وہ ترنم اور روانی جہاں نہیں ہو رہی اس کو صحیح کرتا ہے بھئی، الفاظ وغیرہ بھی اور بھی چیزیں، تو ‏یہ خاص قسم کا ترنم اور روانی ہوتی ہے اور یہ ایک حرف آگے پیچھے ہو جائے سارے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے۔ اور یہ اگلے سال اپ پڑھیں گے بھئی علم عروض بھئی جس میں اشعار کے اوزان ذکر کیے جاتے ہیں۔ یہ فن ایجاد کیا امام خلیل بن احمد نے بھئی، سب سے پہلے اللہ نے ان کو یہ علم نصیب فرمایا۔ امام خلیل بن احمد رحمہ اللہ انہوں نے اللہ سے دعا کی تھی اللہ مجھے کوئی ایسا علم نصیب فرما جو اس سے پہلے آپ نے ‏کسی کو نہیں دیا۔ چنانچہ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور وہ ایک دن بازار سے لوہاروں کے بازار سے گزر رہے تھے تو چلتے چلتے ‏اچانک ان کی توجہ ہوئی غور کیا تو لوہاروں کے جو ہتھوڑے چل رہے ہیں ہر طرف ٹھک ٹھک ہو رہی ہے ہتھوڑے چل ‏رہے ہیں، غور کیا تو ان میں سارے ہتھوڑوں کے اندر ایک خاص قسم کا ترنم اور ایک روانی تھی، ایک خاص ترتیب ‏سے چل رہے تھے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ ادھر اس طرف دو تین اکٹھے ہتھوڑے چلے ساتھ ہی اس طرف دو تین اکٹھے چلے یعنی ان ‏میں وہ جو وقت ہوتا تھا بالکل برابر اسی وقت کے لحاظ سے تو جو پہلے ہے وہ پہلے ہے جو بعد میں ہے وہ بعد وہ بار ‏بار چل رہے ہیں وہ خاص ترنم ان کے اندر مسلسل اسی طرح آ رہا ہے۔ تو اس ایک دم اللہ نے ان کے ذہن میں یہ اوزان جو ہے ذہن میں اشعار کا وزن ڈالے اور پھر آکر انہوں نے اشعار پر غور ‏شروع کر دیا بھئی۔ کہ ان کے اندر بھی خاص ترنم اور روانی ہے اور پھر غور کرتے گئے اشعار کے اوزان نکالتے گئے بھئی۔ اور اشعار کے بہت سے اوزان ہیں، یہ ایک وزن نہیں، بہت سے اوزان ہیں اور وہ غور کرتے خوب غور و فکر کرتے تو ‏بہت سے اوزان ہیں آپ پڑھیں گے اور بڑا مشکل فن ہے بھئی، بہت مشکل فن ہے۔ تو انہوں نے ایک ایک شعر کے اوزان نکالنا شروع کیے اور دیکھ کر حیران رہ گئے بھئی، یہ زمانہ جاہلیت کے اشعار ‏دیکھتے وہ دیکھو تو یہ تو اسلام سے بھی پہلے کے اشعار ہیں اور یہ فن کون کس کو دیا اللہ نے؟ امام خلیل بن احمد کو ‏اتنے عرصے کے بعد تو وہ جو پرانے اشعار ہیں جو صدیاں پہلے یا بیسیوں سال پہلے جنہوں نے کہے تھے ان اشعار کو ‏پکڑتے ہیں اور ایک وزن وہ غور کر کے انہوں نے وزن نکالے پھر اس وزن پر پرکھنا شروع کرتے ہیں، قصیدے کے ‏پہلے شعر سے وزن پرکھنا شروع کیا اور آخری شعر تک چلے گئے، حیران رہ گئے، ساروں میں ایک ہی وزن چل رہا ‏ہے، ایک ہی ترنم ہے بھئی، باتیں بدل رہی ہیں، الفاظ بدل رہے ہیں لیکن ترنم اور روانی میں ذرا بھی فرق نہیں آ رہا۔ قصیدے کے آغاز سے اختتام تک وہی ترنم، وہی روانی، وہی فصاحت ہے بھئی۔ تو یہ تو وہ لوگ جنہوں نے یہ اشعار ‏کہے تھے یہ امرو القیس وغیرہ انہیں تو اس فن کا علم نہیں تھا لیکن اللہ نے ان کو ذوق دیا ہوا تھا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ان کو ذوق دیا ہوا تھا اور اسی ذوق کے ذریعے وہ فیصلے بھی کرتے تھے، وہ میں نے بتایا ‏صُوکِ عُکاظ میں سارے اپنے اپنے اشعار لاتے تھے بھئی اور وہاں جو ان کے ماہرین ہوتے تھے وہ ان اشعار کو سن کر ‏فیصلہ کرتے تھے کہ کون سے اشعار بہترین ہیں، کون سے اشعار خراب ہیں اور پھر ان کو رد کرتے تھے اور پھر ‏بالآخر چنتے ہوئے انہوں نے یہ سات معلقات چنے کہ یہ سب سے بہترین کلام ہے اور میں نے بتایا ان کا انتخاب آج تک ‏مسلم ہے، آج بھی عرب دیہاتوں کے اندر لوگوں کی زبانوں پر یہ امرو القیس وغیرہ کے اشعار ہوتے ہیں، پورے پورے ‏قصیدے ان کو زبانی یاد ہوتے ہیں اور ان کو پڑھتے ہوئے وہ بے انتہا لطف محسوس کرتے ہیں اور اپنی فصاحت و ‏بلاغت پر ناز کرتے ہیں کہ یہ دیکھو یہ ہمارے اشعار ہیں عربی سے بھئی۔ میں ذکر یہ کر رہا تھا کہ خدرِ عُنَيْزَةٍ جو ہے یہ عُنَيْزَةٍ جو ہے یہ غیر منصف ہے کیونکہ ایک تانیث ہے اور ایک عالمیت ‏ہے اور غیر منصف پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے بھئی، لیکن یہاں اس پر کسرہ اور تنوین تنوین پڑھی گئی بھئی، ‏ضرورتِ شعری کی بنا پر، کس بنا پر؟ ضرورتِ شعری بھئی۔ بھئی عام کلام میں بہت سی چیزیں ایسی جو جائز نہیں ہوتیں اشعار کے اندر ان کی گنجائش ہوتی ہے شعر کے وزن کو ‏برقرار رکھنے کے لیے۔ اگر یہ عُنَيْزَة کے آخر میں تنوین نہ ہو تو سارے شعر کا وزن ہی خراب ہو جاتا ہے۔ تو مجبوری تھی بھئی شعر کا وزن برقرار رکھنے کے لیے کیا کرنا پڑا؟ ان کو منصرف پڑھنا پڑا۔ جیسے حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی شان میں کوئی شاعر کہتا ہے: أَعِذْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَنَا فَإِنَّ ذِكْرَهُ هُوَ الْمِسْكُ مَا كَرَّرْتَهُ ‏يَتَضَوَّعُ أَعِذْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَنَا نُعْمَانِنْ نُعْمَان یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نام ہے اور یہ غیر منصرف ہے، ایک عالمیت ہے اس کے ‏اندر اور ایک الف نون زائدتان ہیں تو نُعْمَانٍ یہاں پر بھی اس کو منصرف پڑھا گیا بھئی، منصرف پڑھا گیا کس بنا پر؟ ‏ضرورتِ شعری کی شعر کا وزن ٹھیک رہتا ہے اگر اس کو ہم تنوین نہیں پڑھتے تو شعر کا وزن ہی ٹھیک نہیں رہتا، ‏شعر خراب ہو جاتا ہے۔ تو یہ ضرورتِ شعری کہلاتی ہے یا صرف لفظ ذکر کر دیتے ہیں ضرورت کی بنا پر، کس بنا پر؟ کہ عُنَيْزَة پر تنوین ‏پڑھی گئی کس بنا پر؟ ضرورتِ شعری کی آپ سمجھ جائیں ضرورت سے ضرورتِ شعری مراد ہے۔ اور یہ صرف اشعار میں گنجائش ہے عام کلام کے اندر اس کی گنجائش نہیں ہے بھئی۔ تو کہتا ہے: ‏ وَيَوْمَ دَخَلْتُ الْخِدْرَ خِدْرَ عُنَيْزَةٍ فَقَالَتْ لَكَ الْوَيْلَاتُ إِنَّكَ مُرْجِلِ ‏ اور خاص طور پر وہ دن کہ جس دن میں داخل ہوا اس ہودج میں خِدْرَ عُنَيْزَةٍ یعنی کہ عُنَيْزَة کے ہودج میں۔ یہ خِدرِ ثانی جو آ رہا ہے یہ اول سے بدل ہے، بدل ہے۔ اور جس دن کہ میں داخل ہوا الْخِدْرَا اس ہودج میں (الف لام آیا نا؟) اس ہودج میں تو آگے پھر بتلا رہا ہے خِدْرَ عُنَيْزَةٍ یعنی ‏کہ عُنَيْزَة کے ہودج میں فَقَالَت تو وہ کہنے لگی لَكَ الْوَيْلَاتُ تیرے لیے ہلاکتیں ہوں إِنَّكَ مُرْجِلِ یقیناً تو مجھے، تو تو مجھے ‏پیدل کرنے والا ہے، یقیناً تو تو مجھے پیدل ہی کر دے گا۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ توقِدْر عُنَيْزَةٍ خِدْر عُنَيْزَةٍ یہ عُنَيْزَة یاد رکھیے غیر منصرِف ہے کیونکہ ایک تانیث ہے اور ایک عالمیت ہے اور غیر ‏منصرِف پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے بھئی لیکن یہاں پر کسرہ اور تنوین آ رہے ہیں بھئی۔ تنوین لائی گئی بھئی یہ ‏ضرورتِ شعری کی بنا پر، کس بنا پر؟ ضرورتِ شعری بھئی۔ بھئی یاد رکھیے اشعار کا اپنا مخصوص وزن ہوتا ہے ایک حرف بھی آگے پیچھے ہو جائے شعر کا سارا وزن خراب ہو ‏جاتا ہے۔ اشعار بہت زیادہ انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اندر ایک خاص قسم کی ترنم، روانی اور فصاحت ہوتی ہے ‏بھئی۔ آپ اردو کے اشعار میں بھی دیکھ لیں ہر زبان میں اسی طرح ہیں جو اشعار ہیں ان میں ایک خاص قسم کا ترنم اور ‏روانی ہوتی ہے بھئی۔ اور جن کو اللہ نے ذوق دیا ہوتا ہے وہ فورا اس کو پہچان لیتے ہیں بھئی، فورا پہچان لیتے ہیں۔ چنانچہ اسی لیے بعض اوقات آپ دیکھتے ہیں لوگ بڑے شاعر کے پاس اپنا کلام لے کر جاتے ہیں اور وہ پھر اس میں ‏اصلاح کرتا ہے وہ ترنم اور روانی جہاں نہیں ہو رہی اس کو صحیح کرتا ہے بھئی، الفاظ وغیرہ بھی اور بھی چیزیں، تو ‏یہ خاص قسم کا ترنم اور روانی ہوتی ہے اور یہ ایک حرف آگے پیچھے ہو جائے سارے شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے۔ وَيَوْمَ دَخَلْتُ الْخِدْرَ خِدْرَ عُنَيْزَةٍ فَقَالَتْ لَكَ الْوَيْلَاتُ إِنَّكَ مُرْجِلِ ‏ لَكَ الْوَيْلَاتُ تیرے لیے ہلاکتیں ہوں۔ بعضوں نے لکھا کہ یہ بددعا دے رہی ہے بھئی، ویل کا معنی کیا ہے؟ ہلاکت، بددعا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور جبکہ بعض نے کہا نہیں یہ بددعا نہیں دے رہی یہ گویا دعا ہی دے رہی ہے ویسے محبت اور شفقت کے طور پر یہ ‏کہہ رہی ہے اور اور یہی یہاں مناسب بھی بنتا ہے بھئی، مناسب بھی بنتا ہے۔ عام کلام کے اندر بھی ہم دیکھتے ہیں بعض اوقات محبت میں بھی اس طرح کے لفظ بول دیے جاتے ہیں بھئی۔ جیسے اردو میں کہہ دیتے ہیں مثلا کہ کمبخت یہ تو نے کیا کر دیا؟ محبت کے اندر ایک تو ہے نا غصے میں کہنا وہ الگ ہے ایک محبت کے اندر بھی اس طرح کا لفظ بول دیا جاتا ہے یا ‏نہیں؟ تو یہ یہاں پر بھی اسی طرح ہے بھئی، تو یہ بددعا نہیں ہے۔ آگے دیکھیے بھئی: تَقُولُ وَقَدْ مَالَ الْغَبِيطُ بِنَا مَعًا عَقَرْتَ بَعِيرِي يَا امْرَأَ الْقَيْسِ فَانْزِلِ وَقَدْ مَالَ مَالَ يَمِيلُ کے معنی ہیں مائل ہونا، جھکنا، جھکنا۔ الْغَبِيطُ غَبِيط جو ہے یہ ہودج کو ہی کہتے ہیں، ہودج کو۔ جبکہ ‏بعضوں نے کہا کہ غَبِيط یہ کجاوے کی ایک خاص قسم ہے، اس کو کہتے ہیں بھئی۔ مَالَ تو مَالَ کا معنی جھکنا، جھکنا اور آگے بِنا با آ رہی ہے اور با کے ذریعے کسی فعل کو متعدی بنایا جاتا ہے تو اب ‏معنی کر دیں گے متعدی والا مَالَ الْغَبِيطُ بِنَا وہ ہودج ہمیں جھکا رہا تھا۔ مَالَ الْغَبِيطُ جھکا رہا تھا الْغَبِيطُ یہ فاعل ہے کون؟ ہودج بِنَا کس کو؟ ہمیں مَعًا مَعًا یہ حال ہے بنا کی نا ضمیر سے، ای جميعاً ‏‏(یعنی یہ ہم دونوں کو یہ کیا کر رہا تھا ہودج جھکا رہا تھا)۔ عَقَرْتَ عَقَرَا کا معنی میں نے کل ذکر کیے تھے، ایک معنی کیا ‏تھا؟ ذبح کرنا اور ایک پاؤں کو زخمی کرنا، تلوار مارنا گھٹنوں پر تاکہ وہ گر پڑیں اور تیسرا اور کمر زخمی کرنا، یہاں ‏یہ وہ کمر زخمی کرنے کے معنی میں ہے۔ عَقَرْتَ بَعِيرِي بَعِير کہتے ہیں اونٹ کو بھئی۔ عَقَرْتَ بَعِيرِي تو نے زخمی کر دیا ‏بَعِيرِي میرے اونٹ کی کمر کو، يَا امْرَأَ‏الْقَيْسِ اے امرو القیس، فَانْزِلِ پس تو اتر جا۔ میں نے بتلاایا تھا اِمْرُؤٌ لفظ بھئی اس میں اخری دونوں حروف اعراب ایک جیسا آئے گا۔ اعراب تو ایک حرف پر آتا ہے ‏لیکن یہاں پر جس جو اعراب ہوگا (یعنی ہمزہ پر امرؤٍ کے را پر بھی ویسے ہی حرکت آئے گی تو یہ امرو القیس منادی ‏ہے اور مضاف ہے، امرا مضاف القیس مضاف اليه یا عبداللہ اور منادی مضاف ہو تو وہ کیا ہوتا ہے؟ منصوب، تو اس ‏لیے نصب پڑھیں گے یَمْرَأَ الْقَيْسِ اے امرو القیس۔ فَانْزِلِ امر ہے، نَزَلَ يَنْزِلُ سے اِنْزِلْ اِنْزِل اور پھر کسرہ بڑھایا گیا کسرہ اور یا بڑھا دی گئی یہ قافیے کی رعایت رکھنے ‏کے لیے کیونکہ سارے اشعار کے آخر میں کیا آ رہی ہے؟ زیر اور یا ہے بھئی۔ وَشَحْمِكَ هُوَ الضَّابِطُ بِمَقْصِ الْمُفْتَلِي دیکھا ‏لام کے نیچے زیر ہے اور اس زیر کو لمبا کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ ہاں تو گویا زیر اور یا ہے آخر میں اور اسی طرح ‏مُرْجِلِ اور فَانْزِلِ تو یہاں پر بھی اسی طرح اس کو لمبا کریں گے تو یہ کس لیے کیا؟ حالانکہ فَنْزِلْ یہ تو ساکن ہونا چاہیے ‏امر ہے قافیے کو برقرار رکھنے کے لیے بھئی، قافیے کی رعایت رکھنے کے لیے یوں کہیں بھئی۔ یہ جو شعر کے آخر ‏میں ایک جیسے وزن آتے ہیں اس کو قافیہ کہتے ہیں۔ ہر شعر کے ایک شعر میں ایک خاص وزن آ رہا ہے تو ہر شعر کے ‏اندر اسی طرح پورے قصیدے میں چلے گا اس کو قافیہ کہتے ہیں بھئی۔ تَقُولُ وہ کہہ رہی تھی وَقَدْ مَالَ الْغَبِيطُ بِنَا مَعًا یہ حال ہے، حال۔ اس حال میں کہ ہودج ہم دونوں کو اکٹھا جھکا رہا تھا، اس ‏حال میں کہ ہودج ہم دونوں کو اکٹھا جھکا رہا تھا وہ کیا کہہ رہی تھی؟ یہ مقولہ اگلے مصرعے میں آ رہا ہے: عَقَرْتَ ‏بَعِيرِي يَا امْرَأَ‏الْقَيْسِ فَانْزِلِ کہ اے امرو القیس تو نے میرے اونٹ کی کمر زخمی کر دی ہے تو نیچے اتر جا۔ یہ ہے مقولہ ‏تَقُولُ کے لیے مقولہ۔ تَقُولُ وَقَدْ مَالَ الْغَبِيطُ بِنَا مَعًا عَقَرْتَ بَعِيرِي يَا امْرَأَ‏الْقَيْسِ فَانْزِلِ ترکیب سمجھ میں آئی؟ وَقَدْ مَالَ الْغَبِيطُ بِنَا مَعًا یہ کیا ہے؟ حال ‏تَقُولُ کے اندر ھیا ضمیر سے۔ اور یہ بنا کے اندر با کس لیے آئی؟ متعدی بنانے کے لیے اور مَعًا کس لیے حال ہے؟ بنا ‏کی نا ضمیر سے اور یہ مَعًا کس معنی میں ہے؟ جميعاً جميعاً تَقُولُ وہ کہہ رہی تھی اس حال میں کہ ہودج ہم دونوں کو اکٹھا ‏جھکا رہا تھا کیا کہہ رہی تھی؟ یہ آگے مقولہ آ گیا کہ عَقَرْتَ بَعِيرِي کہ تو نے میرے اونٹ کی کمر زخمی کر دی يَا ‏امْرَأَ‏الْقَيْسِ اے امرو القیس فَانْزِلِ پس تو اتر جا۔ فَقُلْتُ لَهَا سِيرِي وَأَرْخِي زِمَامَهُ وَلَا تُبْعِدِينِي مِنْ جَنَاكِ الْمُعَلَّلِ فَقُلْتُ لَهَا سِيرِي سَارَ يَسِيرُ سَيْرًا کا معنی ہے چلنا، چلنا۔ سِيرْ تو چل ‏مر تو کہیں گے، امر ہے مذکر حاضر کے لیے۔ اور عورت کے لیے کیا کہیں گے؟ سِيرِي تو یہ مؤنث کا صیغہ ہے: سير ‏سِيرَا سيرو سِيرِي سِيرَا سيرنا، گردان یاد ہے بھئی؟ جی اچھا، تو سِيرِي یہ واحد مؤنث حاضر کا صیغہ ہے: سِيرِي تو چلتی ‏رہ وَأَرْخِي أَرْخَى يُرْخِي کا معنی ہے ڈھیلا چھوڑ دینا، کھلا چھوڑ دینا، زِمَامَهُ زِمَام کہتے ہیں لگام کو، لگام بھئی، لیکن یہ ‏تو اونٹ ہے تو اونٹ کے لیے مہار ہوتی ہے: وَأَرْخِي زِمَامَهُ اور اس اونٹ کی مہار ڈھیلی چھوڑ دے یعنی کھلی چھوڑ دے ‏اس کو چلنے دے۔ وہ عُنَيْزَة تو کیا کہہ رہی تھی؟ تو نیچے اتر جا، امرو القیس اسے کیا کہتا ہے؟ اونٹ کی مہار چھوڑ دو اور اس کو چلنے ‏دو۔ وَلَا تُبْعِدِينِي أَبْعَدَ يُبْعِدُ کے معنی ہیں دور کرنا وَلَا تُبْعِدِينِي نہیں ہے، وہ مجھے دور نہ کر مِنْ جَنَاكِ الْمُعَلَّلِ جنا يَجْنِي کے ‏معنی ہوتے ہیں پھل چننا، پھل درخت پر لگے ہوئے ہیں ان پھلوں کو توڑنا، اتارنا، یہ ہے جنا يَجْنِي۔ اور جو پھل چُنا جائے ‏اس کو کہتے ہیں جنا کیا کہتے ہیں؟ چُنا ہوا پھل۔ اور اسی سے، تو یہ جنا چُنا ہوا پھل اور اس کی اضافت ہے کاف ضمیر کی طرف بھئی یاد رکھیے جس اسم کے ساتھ بھی ‏اسم فعل کی بات نہیں کر رہا اسم کے ساتھ بھی ضمیر متصل آ جائے تو وہ اپس میں مضاف مضاف الیہ بنتے ہیں۔ جَنَاكِ تیرا چُنا ہوا پھل جَنَاكِ تیرا چُنا ہوا پھل تو یہ مضاف مضاف الیہ ہیں اپس میں الْمُعَلَّلْ بھئی مُعَلَّلْ علَّلَ يُعَلِّلُ تعلیل کا ‏معنی ہوتا ہے یکے بعد دیگرے پھل چننا۔ (یعنی بار بار چننا) یوں کہیں مکرر چننا، پھل کو مکرر چننا، مکرر توڑنا۔ اور اسی طرح علَّلَ يُعَلِّلُ تعلیل کا معنی ہے جی بہلانا، دل بہلانا۔ توجہ ہے؟ علَّلَ يُعَلِّلُ تعلیل کا ایک معنی کیا؟ مکرر پھل چننا اور ایک معنی کیا؟ جی بہلانا۔ اور یہاں اس شعر کے اندر معلل اور معلل لام پر فتحہ بھی روایات میں آیا ہے اور لام پر کسرہ بھی۔ اگر اس کو پڑھیں ‏معلل تو جناکل معلل تیرے مکرر چنے ہوئے پھل جناکل معلل اس میں مفعول، مکرر چنے ہوئے پھل۔ تو جناکل معلل اس میں مفعول پڑھیں گے۔ اور اگر اس کا معنی کریں جی بہلانے دل بہلانے کے، تو پھر اس کو پڑھیں گے ‏معلل من جناکل معلل تیرے وہ پھل المعلل جو میرا جی بہلانے والے ہیں۔ جو میرا جی بہلانے والے ہیں۔ جِیْ فَقُلْتُ لَهَا سِيرِي وَأَرْخِي زِمَامَهُ وَلَا تُبْعِدِينِي مِنْ جَنَاكِ الْمُعَلَّلِ فَقُلْتُ لَهَا تو میں نے اس سے کہا عُنَيْزَة سے کہا: سِيرِي تو ‏چلتی رہ وَأَرْخِي زِمَامَهُ اور اس اونٹ کی مہار ڈھیلی چھوڑ دے، اس اونٹ کی مہار کھلی چھوڑ دے۔ وَلَا تُبْعِدِينِي مِنْ جَنَاكِ الْمُعَلَّلِ اور تو مجھے دور نہ کر اپنے اس پھل سے الْمعلل جس کو مکرر چنا جا رہا ہے۔ معلل معلل ‏جس کو مکرر چنا جا رہا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ کر لیں: وَلَا تُبْعِدِينِي مِنْ جَنَاكِ الْمُعَلَّلِ اور تو مجھے دور نہ کر اپنے اس پھل سے جو جی بہلانے والا ہے، ‏جو میرا جی بہلا رہا ہے۔ جِیْ بہلانے والا نہیں بھئی یوں ترجمہ نہ کرو اپنے اس پھل سے المعلل جو میرا جی بہلا رہا ہے۔ عموما طلبہ اس میں فاعل کا ترجمہ والا کے ساتھ کرتے ہیں زید ضارب کیا ترجمہ کرتے ہو؟ زید مارنے والا ہے نہیں ‏بھئی یہ ترجمہ نہیں مناسب اردو کے اندر۔ موقع کے مطابق ترجمہ ہوگا۔ زيد ضارب اگر اس وقت وہ پٹائی کر رہا ہے اور ‏میں کہتا ہوں زید ضارب تو ترجمہ ہوگا زید پٹائی کر رہا ہے۔ اور اگر اس کا انہوں نے اعلان کیا میں کل پٹائی کروں گا تو آپ دوسرے کو بتاتے ہیں زید ضارب ترجمہ کیا کریں گے؟ ‏زید پٹائی کرے گا پٹائی کرنے والا نہیں، کرنے والے کا تو اس میں تو یوں لگتا ہے معنی مناسب بعض جگہ نہیں بنتا مثلاً ‏زید اس وقت پٹائی کر رہا ہے تو زید ضارب ہے یا نہیں؟ ضارب ہے کہ نہیں؟ ضارب تو ہے اب میں کسی کو بتاتا ہوں ‏زید ضارب اور آپ وہی پرانا ترجمہ کریں کیا ترجمہ ہوگا؟ زید مارنے والا ہے، زید پٹائی کرنے والا ہے اس سے تو ‏بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ مستقبل میں کرے گا، لگتا ہے یا نہیں؟ حالانکہ وہ کیا کر رہا ہے؟ ہاں تو اس میں فاعل کا ترجمہ ‏موقع کے مطابق کیا کرو، میں کہتا ہوں زید قائم کیا مطلب؟ ہاں یہاں آپ صحیح ترجمہ کرتے ہیں زید کھڑا ہے حالانکہ ‏ہونا چاہیے تھا زید کھڑا ہونے والا ہے اور لگتا ہے جیسے مستقبل میں ایک بات ہو گی ابھی نہیں، تو اس میں فاعل کا ‏ترجمہ موقع کے مطابق کیا کرو، زید ضارب زید پٹائی کر رہا ہے یا زید پٹائی کرے گا اور اگر ماضی میں کی تھی تو ‏زید نے پٹائی کی تھی یہ ترجمہ کریں گے صورت سمجھ میں آگئی تو یہاں پر بھی معلل وہ پھل جس کو مکرر چنا گیا (نہیں ‏چنا گیا نہیں چنا جا رہا ہے اس وقت اس وقت کی بات کر رہا ہے جس وقت وہ امرو القیس یہ بات کر رہا ہے، کس کو کہہ ‏رہا ہے؟ عُنَيْزَة کو کہ تو مجھے دور نہ کر کس سے؟ اپنے اس پھل سے جس کو مکرر چنا جا رہا ہے)۔ یا معلل کا ترجمہ کر لیں: تو مجھے دور نہ کر اپنے اس پھل سے الْمعلل جو میرا جی بہلا رہا ہے، جو میرا جی بہلا رہا ‏ہے۔ جِیْ تو امرو القیس جو ہے اپنی عاشقہ کو عُنَيْزَة کو ایک پھل دار درخت کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہے اور جیسے اس درخت ‏سے اس کے پھل توڑ کر اس کا نفع اٹھایا جاتا ہے اسی طرح عُنَيْزَة کے ساتھ جو کبھی اس کے دیدار کی لذت سے اپنی ‏آنکھوں کو ٹھنڈا کرتا ہے، کبھی اس کے ساتھ کچھ گوار گپ شپ لگا کر جو ہے لذت حاصل کر رہا ہے، کبھی اس کے ‏ساتھ بوس و کنار کر کے لذتیں سمیٹ رہا ہے اور کبھی اس کو جو گلے لگانے کی کوشش کر رہا ہے ان ساروں کو اس ‏کے پھل قرار دیا جیسے درخت سے اس کے پھل کا نفع اٹھایا جاتا ہے اسی طرح تجھ سے میں یہ نفع حاصل کر رہا ہوں ‏جیسے کہ درخت پھل دار درخت سے نفع حاصل کیا جاتا ہے، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں اس عاشقہ کو تشبیہ دے ‏رہا ہے ایک پھل دار درخت سے جس کے پھلوں سے نفع اٹھایا جاتا ہو۔ ترجمہ دیکھیے: فَقُلْتُ لَهَا سِيرِي میں نے اس سے کہا تو چلتی رہ۔ سوال بھئی چل وہ اس کا اونٹ رہا تھا یا وہ عُنَيْزَة خود ‏چل رہی تھی؟ اونٹ چل رہا تھا لیکن امرو القیس کیا کہتا ہے؟ سِيرِي تو چلتی رہ۔ تو یاد رکھیے بھئی عرب اسی طرح بولتے ہیں چاہے کوئی خود چل رہا ہو اس کے لیے بھی کیا کہتے ہیں؟ تو چل رہا ہے ‏اور اونٹ پر اگر کوئی سواری پر چل رہا ہو تو اس میں بھی یہی کہتے ہیں آپ کیا ہیں؟ چل رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی ‏بھئی؟ تو اسی کے اعتبار سے کلام کیا۔ فَقُلْتُ لَهَا سِيرِي تو میں نے اس سے کہا تو چلتی رہ وَأَرْخِي زِمَامَهُ اور کھلا چھوڑ ‏دے اس اونٹ کی لگام، اس اونٹ کی مہار کو وَلَا تُبْعِدِينِي مِنْ جَنَاكِ الْمُعَلَّلِ اور تو مجھے دور نہ کر اپنے اس پھل سے جس ‏کو مکرر چنا جا رہا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ کرے: وَلَا تُبْعِدِينِي مِنْ جَنَاكِ الْمُعَلَّلِ اور تو مجھے دور نہ کر اپنے اس پھل سے جو جی بہلا رہا ہے، جو ‏میرا جی بہلا رہا ہے۔ فَمِثْلِ كُبْلَا قَدْ تَرَكْتُ وَمُرْضِعٍ فَأَلْحَيْتُهَا عَنْ ذِي طَمَائِمَ مُحْوِلِ معلوم ہوتا ہے عُنَيْزَة نے کچھ زیادہ ہی نخرے دکھائے بھئی، ‏قریب بھی نہیں آنے دے رہا وہ بڑی کوشش کر رہا ہے بھئی اس کو گلے لگانے کی بوس و کنار کی وہ کبھی ایک طرف ‏زور لگا کر ہٹ جاتی ہے کبھی دوسری طرف تو آخر امرو القیس اب دیکھو آگے کیا کہتا ہے: فَمِثْلِ كُبْلَا قَدْ تَرَكْتُ وَمُرْضِعٍ ‏فَأَلْحَيْتُهَا عَنْ ذِي طَمَائِمَ مُحْوِلِ فَمِثْلِ کی یہ مجرور ہے بھئی، یہ فا کے بعد رب محذوف ہے اي فَرُبَّ مِثْلِ کی۔ خُبْلَا خُبْلَا کا معنی ہے حاملہ، حاملہ عورت۔ ‏قَدْ تَرَكْتُ تَرَكَ يَتْرُكُ کے معنی ہیں رات کو آنا، طارق رات کو آنے والا۔ طارق بات سمجھ میں آ گئی؟ تو والد صاحب رحمہ اللہ اس لیے طارق نام پسند نہیں فرماتے تھے اردو میں تو عام استعمال ہوتا ہے کیونکہ طارق کا کیا ‏معنی ہے؟ رات کو آنے والا بھئی، رات کو آنے والا۔ وَمُرْضِعٍ مُرْضِعٌ أَرْضَعَ يُرْضِعُ ارضاع کا معنی بچے کو دودھ پلانا، ‏تو وہ جو دودھ پلانے والی ہے وہ کیا ہے؟ مُرْضِعٌ ہے، مُرْضِعٌ ہے۔ اور چونکہ یہ صرف عورتوں کا وصف ہے اس لیے یہاں تا لانے کی ضرورت بھی نہیں ورنہ تو آپ کہتے ہیں ضَارِبٌ ‏اور ضَارِبَةٌ کیونکہ ظرف کا وصف دونوں میں پایا جا سکتا ہے مرد میں بھی اور عورت میں بھی، لیکن ارضاع کا وصف ‏چونکہ خاص ہے عورتوں کے ساتھ اس لیے یہاں تا لانے کی ضرورت بھی نہیں ورنہ تو آپ کہتے ہیں ضَارِبٌ اور ‏ضَارِبَةٌ۔ جبکہ بعض علماء نے فرق لکھا کہ ایک مُرْضِعٌ بھی عربی میں استعمال ہوتا ہے اور مُرْضِعَةٌ تا کے ساتھ بھی استعمال ہو ‏جاتا ہے تو وہ فرماتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جو بالفعْل دودھ پلا رہی ہے اس کے لیے کہیں گے مُرْضِعَةٌ کیا کہیں گے؟ ‏اور جو ویسے کسی کے بارے میں بتلانا ہو یہ بچوں کو دودھ پلانے والی ہے (یعنی دودھ پلاتی ہے) تو وہاں مُرْضِعٌ بغیر ‏تا کے استعمال کریں گے، بغیر تا کے اور لیکن بالفعْل اگر دودھ پلا رہی ہے تو کہیں گے کہ وہ مُرْضِعَةٌ ہے۔ تو لہذا یہ چونکہ وصف خاص ہے مؤنث کے ساتھ اس لیے اس میں تا نہیں لائی جاتی جیسے حَائِضٌ۔ حیض بھی کیا ہے؟ ‏عورت کے ساتھ خاص لہذا وہاں بھی اسی طرح ہے تا نہیں۔ اور وہاں بھی اسی طرح کریں گے بالفعْل جو حیض جس کو آ رہا ہے تو وہاں تا ملا دیں گے حَائِضَةٌ اور ویسے حَائِضُ ‏والی ہے یعنی بالغہ ہے تو پھر کہیں گے حَائِضٌ بھئی۔ فَأَلْحَيْتُهَا عَنْ أَلْحَى يُلْحِي إلحاء اس کا صلہ جب عن آجائے اس کا صلہ جب عن آجائے تو اس کا معنی ہے غافل کر دینا۔ توجہ ‏ہے؟ الحا کا صلہ جب کیا آئے؟ عن جیسے یہاں آگے عن لفظ آ رہا ہے تو پھر اس کا معنی ہوتا ہے غافل کرنا۔ ذِي طَمَائِمَ ‏طَمَائِم جمع ہے تميمتُن کی اور تمیمہ کہتے ہیں تعویذ کو۔ تو ذِي طَمَائِم تعویذوں والا۔ جیسے ذُو مال کا کیا مطلب؟ مال والا تو ذي طَمَائِم تعویذوں والا اور یہ صفت ہے موصوف محذوف ہے أي صبي ذي ‏طَمَائِم وہ بچہ جو تعویذوں والا ہو۔ مُحْوِلْ مُحْوِل مُحْوِل حَوْل سے ہے بھئی حَول سے حَول سال کو کہتے ہیں آپ نے بھی ‏پڑھا ہوگا حولانِ حول بھئی زکوۃ آئے گی کب؟ حولانِ حول مال پر ہو۔ (یعنی پورا سال اس پر گزر جائے)۔ اسی سے ہے ‏أَحْوَلَ يُحْوِلُ إِحْوَالًا بچہ بچے پر سال کا گزر جانا تو مُحْوِل وہ بچہ جس پر پورا ایک سال گزر گیا۔ مُحْوِل اور اسی میں ‏مُحِيل بھی عرب استعمال کرتے ہیں، مُحِيل قانون کے مطابق ہے مُحْوِل میں اعلال ہوا کیسے؟ واؤ پر کسرہ سخی آپ نے ‏پڑھا ہے واؤ اور یا پر ذمہ اور کسرہ کیا ہوتے ہیں؟ سخی تو واؤ کا کسرہ کس کو دیا؟ حا کو اور ماقبل کسرہ کی وجہ سے ‏پھر واؤ کو کس سے بدلا؟ یا سے کیا بن گیا؟ مُحِيل تو مُحِيل بھی عربی میں استعمال اور مُحْوِل بھی اور یہ اس بچے کو ‏کہتے ہیں جس پر ایک سال گزرا ہو جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں نہیں ایک سال شرط نہیں ہے اس کے اندر بس ہر ‏چھوٹے بچے کو عرب کیا کہہ دیتے ہیں؟ مُحْوِل اور مُحِيل کہتے ہیں۔ کہتے ہیں امرو القیس کہتا ہے: فَمِثْلِ کی ربما میں نے بتایا یہاں محذوف ہے کہ بہت سی تیرے جیسی خُبْلَا حاملہ عورتیں قَدْ ‏تَرَكْتُ تحقیق میں ان کے پاس رات کے وقت آیا وَمُرْضِعٍ اس کا عطف بھی اسی خُبْلَا پر ہے اور تیرے جیسی بہت سی دودھ ‏پلانے والی عورتیں میں ان کے پاس رات کے وقت آیا فَلْحَيْتُهَا عَنْ ذِي طَمَائِمَ مُحْوِلِي تو میں نے ان کو غافل کر دیا کس ‏سے؟ عن صبی ذي طَمَائِم تعویذ تعویذ بچوں کو پہنائے جاتے ہیں نا عموماً تو اس لیے صبي محذوف نکالیں گے۔ تعویذوں ‏والے بچے مُحْوِل چھوٹے تعویذوں والے ایک سالہ چھوٹے بچے سے یا مطلقا چھوٹے کے معنی میں کر لیں تو میں نے ان ‏کو غافل کر دیا ان کے چھوٹے بچوں سے۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ فَمِثْلِ كُبْلَا قَدْ تَرَكْتُ وَمُرْضِعٍ فَأَلْحَيْتُهَا عَنْ ذِي طَمَائِمَ مُحْوِلِي تیرے جیسی بہت سی حاملہ اور ‏مُرْضِعَ عورتوں کے پاس میں رات کے وقت آیا تو میں نے ان کو غافل کر دیا ان کے چھوٹے تعویذوں والے بچوں سے۔ اے عُنَيْزَة تو اتنے نخرے دکھا رہی ہے اور حالانکہ میں تو ایسا ہوں میرے اندر تو عورتیں اتنی رغبت رکھتی ہیں اتنی ‏میرے ساتھ محبت کرنے والی ہیں کہ بہت سی حاملہ اور مُرْضِعَ عورتوں کے پاس رات کے وقت آیا اور وہ مُرْضِعَ عورت ‏جس کی سب سے زیادہ توجہ اپنے بچے کی طرف ہوتی ہے وہ بھی اپنے بچوں سے غافل ہو گئی اور میری طرف ان کی ‏توجہ ہو گئی تو اے عُنَيْزَة تجھے بھی اتنے ناز اور نخرے نہیں دکھانے چاہییں بھئی۔ إِذَا مَا بَكَى مِنْ خَلْفِهِ انصَرَفَتْ لَهُ بِشِقٍّ وَتَحْتِ شِقِّهَا لَمْ يُحْوَلِ بَقَا يَبْكِي کے معنی رونا، خَلْ پیچھے، انصَرَفَا کا معنی پلٹنا، پھرنا۔ ‏بِشِقٍّ یہ شِق ہے لفظ بھئی اور شِق کہتے ہیں آدھا حصہ، نصف کو بھئی نصف کو۔ حَوَّلَ يُحَوِّلُ تحویل کا معنی پھیرنا، پلٹنا۔ إِذَا مَا یہ ما کیا ہے؟ زائد ہے، زائد ہے۔ امرو القیس کیا کہتا ہے؟ کہ میں ان کے پاس آیا اور پھر میں ان کے ساتھ صحبت میں مشغول ہو گیا إِذَا مَا بَكَى مِنْ خَلْفِهِ ‏انصَرَفَتْ لَهُ تو میں اس کے ساتھ مشغول ہوں وہ حاملہ یا مُرْضِعَ کے ساتھ اور إِذَا مَا بَكَى مِنْ خَلْفِهَا اور جب ان کا وہ چھوٹا ‏بچہ تعویذوں والا، وہ روتا تھا ان کے پیچھے بچا روتا تھا انصَرَفَتْ لَهُ بِشِقٍّ تو یہ عورت جو ہے اپنے آدھے حصے کو اس ‏کی طرف موڑ دیتی تھی دودھ پلانے کے لیے تاکہ بچہ کیا ہو؟ بچے کو خاموش کروانے کے لیے وَتَحْتِ شِقِّهَا اور اس ‏عورت کا نَفْسِ آدھا نیچے والا آدھا حصہ جو میرے نیچے ہوتا تھا لَمْ يُحْوَلِي وہ نہیں پھیرا جاتا تھا (یعنی مجھ سے اتنا ‏شغف رکھتی تھیں وہ بچہ رو رہا ہے مرضیہ جس کی ساری توجہ اپنے بچے کی طرف ہے وہ بچہ رونے بھی لگتا تھا تو ‏وہ کیا کرتی تھی صرف اپنے اوپر والے آدھے حصے کو اس کی طرف موڑ دیتی تھی اس کو خاموش کروانے کے لیے ‏یا دودھ پلانے کے لیے لیکن نیچے والے آدھے حصے کو وہ میرے میں مجھ میں بہت زیادہ شغف کی وجہ سے اس کو ‏موڑتی ہی نہیں تھی بھئی)۔‏ تو محشی بھی لکھتے ہیں کہ یہ دو اشعار تو دائرہ تہذیب سے ہی باہر ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا، چلیے بس بھئی۔ اچھا چلیں جلدی سے ایک دفعہ سارے اشعار پھر دیکھ لیں۔ وَيَوْمَ دَخَلْتُ الْخِدْرَ خِدْرَ عُنَيْزَةٍ فَقَالَتْ لَكَ الْوَيْلَاتُ إِنَّكَ مُرْجِلِ اور جس دن کہ میں عُنَيْزَة کے ہودج میں داخل ہوا تو وہ مجھے ‏کہنے لگی تیرے لیے ہلاکتیں ہوں تو تو مجھے پیدل ہی کر دے گا تَقُولُ وَقَدْ مَالَ الْغَبِيطُ بِنَا مَعًا عَقَرْتَ بَعِيرِي يَا امْرَأَ‏الْقَيْسِ ‏فَانْزِلِ اس حال میں کہ ہودج ہم دونوں کو جھکا رہا تھا وہ کہہ رہی تھی کہ اے امرو القیس تو نے تو میرے اونٹ کی کمر ‏زخمی کر دی ہے فَانْزِلِ پس تو اتر جا۔ فَقُلْتُ لَهَا سِيرِي وَأَرْخِي زِمَامَهُ وَلَا تُبْعِدِينِي مِنْ جَنَاكِ الْمُعَلَّلِ تو میں نے اس سے کہا تو چلتی رہ اور اس اونٹ کی مہار کھلی ‏چھوڑ دے اور تو مجھے دور نہ کر اپنے اس پھل سے جس کو مقرر چنا جا رہا ہے یا وَلَا تُبْعِدِينِي مِنْ جَنَاكِ الْمُعَلَّلِ اور تو ‏مجھے دور نہ کر اپنے اس پھل سے جو میرا جی بہلا رہا ہے۔ فَمِثْلِ كُبْلَا قَدْ تَرَكْتُ وَمُرْضِعٍ فَأَلْحَيْتُهَا عَنْ ذِي طَمَائِمَ مُحْوِلِ فترے جیسی بہت سی حاملہ اور مُرْضِعَ عورتوں کے پاس میں ‏رات کے وقت آیا تو میں نے ان کو تعویذوں والے ایک سال کے چھوٹے بچوں سے بھی غافل کر دیا۔ إِذَا مَا بَكَى مِنْ خَلْفِ ‏هَنْ صَرَفْتَ لَهُ بِشِقٍّ وَتَحْتِ شِقِّهَا لَمْ يُحْوَلِي جب وہ بچہ روتا تھا اس کے پیچھے تو وہ پھیر دیتی تھی اس کی طرف بِشِقٍّ با ‏متعدی بنانے کے لیے انفر کا معنی پھیرنا اب معنی کیا کریں گے؟ پھیرنا تو وہ پھیر دیتی تھی اس کی طرف اپنے نصف ‏حصے کو وَتَحْتِ شِقِّهَا اور میرے نیچے اس کا جو نصف ہوتا تھا لَمْ يُحْوَلِي وہ نہیں پھیرا جاتا تھا چلیے بس ہذا والامر و اللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
11 approved lectures · 9 of 11