آگے سبق دیکھیے بھئی۔
وَجِيدٍ كَجِيدِ الرِّئْمِ لَيْسَ بِفَاحِشٍ، إِذَا هِيَ نَصَّتْهُ وَلاَ بِمُعَطَّلِ
وَفَرْعٍ يَزِينُ المَتْنَ أَسْوَدَ فَاحِمٍ، أَثِيثٍ كَقِنْوِ النَّخْلَةِ المُتعَثْكِلِ
غَدَائِرُهُ مُسْتَشْزِرَاتٌ إِلَى العُلاَ، تَضِلُّ العِقَاصُ فِي مُثَنًّى وَمُرْسَلِ
امرؤ القيس کا معلقہ ہم پڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ سبق میں امرؤ القيس اشعار میں یہ ذکر کر رہا تھا کہ میں محافظوں سے اور قبیلے والوں سے گزر کر اپنی معشوقہ تک پہنچا، اور پھر ہم وہاں سے نکلے اور جب ہم تہہ بہ تہہ ریت کے ٹیلوں والی وسیع زمین کی نشیبی جگہ، نشیبی حصے پر پہنچے، تو ہمیں اطمینان ہوا اور میں نے اس کو سر کے دونوں جانب کے بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا، تو وہ میری طرف جھک آئی۔ هَضِيمِ الكَشْحِ رَيَّا المُخَلْخَلِ، اس حال میں کہ وہ پتلی کمر والی اور موٹی پنڈلی والی تھی، بھری ہوئی پنڈلی والی تھی۔ مُهَفْهَفَةٌ بَيْضَاءُ، پتلی کمر والی تھی، گورے رنگ والی، غَيْرُ مُفَاضَةٍ، بڑھے ہوئے پیٹ اور لٹکی ہوئی کھال والی نہیں تھی، تَرَائِبُهَا مَصْقُولَةٌ كَالسَّجَنْجَلِ، اور اس کے سینے کا اوپر کا حصہ جہاں ہار پہنا جاتا ہے، وہ اس طرح روشن اور چمکدار تھا جیسے آئنہ ہوتا ہے۔ كَبِكْرِ المَقَانَاةِ البَيَاضَ بِصُفْرَةٍ، غَذَاهَا نَمِيرُ المَاءِ غَيْرُ مُحَلَّلِ، جیسے کہ شتر مرغ کا اولیں انڈا کہ جس کی سفیدی زردی کے ساتھ ملی ہوئی ہو اور جسے غَذَاهَا نَمِيرُ المَاءِ غَيْرُ مُحَلَّلِ، اسے ایسے صاف و شفاف میٹھے پانی نے سیراب کیا ہے جس پر کوئی اترا نہیں، یعنی جس پر کوئی آیا نہیں۔ تَصُدُّ وَتُبْدِي عَنْ أَسِيلٍ وَتَتَّقِي، بِنَاظِرَةٍ مِنْ وَحْشِ وَجْرَةَ مُطْفِلِ، وہ اعراض کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے اپنے رخسار کو، اپنے اعتدال کے درجے میں خوبصورت رخسار کو، اور وہ اپنا بچاؤ کرتی ہے بِنَاظِرَةٍ مِنْ نَوَاظِرِ وَحْشِ وَجْرَةَ مُطْفِلِ، میں نے بتایا تھا وَحْشِ سے پہلے نَوَاظِرِ کا لفظ محذوف ہے۔ مقامِ وجرہ کے بچوں والی وحشی ہرنی کی نگاہوں میں سے ایک نگاہ کے ذریعے وہ اپنا بچاؤ کرتی ہے۔
آگے دیکھیے بھئی، آگے وہ کہتا ہے: وَجِيدٍ كَجِيدِ الرِّئْمِ لَيْسَ بِفَاحِشٍ، إِذَا هِيَ نَصَّتْهُ وَلاَ بِمُعَطَّلِ۔ جِيدٌ، گردن کو کہتے ہیں۔ رِئْمٌ، یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا۔ کہاں گزرا ہے؟ تَرَى بَعَرَ الأَرَامِ فِي عَرَصَاتِهَا، یہ الأَرَامِ کسی رِئْمٌ کی جمع ہے۔ رِئْمٌ کی جمع الأَرَام بھی آتی ہے اور أَرْآم بھی۔ أَرْآم ہو تو یہ تو قیاس کے مطابق ہے، أَرْآم ، أَفْعَال۔ اور اگر الأَرَام ہو تو یہ خلافِ قیاس ہے۔ اور رِئْمٌ جو ہے، سفید رنگ کا ہرن ہے جو عرب کے ریگستانوں میں پایا جاتا ہے اور یہ بے انتہا حسین و جمیل ہوتا ہے، خصوصاً اس کی آنکھیں حد سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہیں۔ لَيْسَ بِفَاحِشٍ، فاحش کہتے ہیں حد سے بڑھی ہوئی چیز، یعنی جو ایک چیز کی پسندیدہ حد ہوتی ہے، اس پسندیدہ حد سے جو چیز بڑھ جائے، یعنی ناگوار لگے، ناپسندیدہ ہو جائے، اس کو کہتے ہیں فاحش۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ فاحش کسے کہتے ہیں؟ جو پسندیدہ حد سے آگے بڑھ جائے، اس سے نکل جائے، یعنی ناگوار، ناپسندیدہ ہو۔ إِذَا هِيَ نَصَّتْهُ، نَصَّ يَنُصُّ کا معنی ہے اونچا کرنا، بلند کرنا۔ مُعَطَّل، عَطَّلَ يُعَطِّلُ تَعْطِيل کا معنی ہے زیور اتارنا، تو مُعَطَّل جس سے زیور اتار لیا گیا ہو، یعنی بے زیور، بغیر زیور کے۔
امرؤ القيس کہتا ہے: وَجِيدٍ كَجِيدِ الرِّئْمِ لَيْسَ بِفَاحِشٍ، إِذَا هِيَ نَصَّتْهُ وَلاَ بِمُعَطَّلِ۔ یہ جِيدٍ مجرور ہے اور اس کا عطف ہے أَسِيلٍ پر، تَصُدُّ وَتُبْدِي عَنْ أَسِيلٍ، وہ ظاہر کرتی ہے اپنے لمبے رخسار کو، وَجِيدٍ، اور ظاہر کرتی ہے اپنی گردن کو، تو یہ اس پر عطف ہے۔ وَجِيدٍ كَجِيدِ الرِّئْمِ، اور وہ ظاہر کرتی ہے ایسی گردن، كَجِيدِ الرِّئْمِ جیسے کہ ہرن کی گردن ہوتی ہے۔ ہرن کی گردن، میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ نکرہ کے بعد جار مجرور آ جائے اور وہ جار مجرور کسی سے جڑ نہ رہے ہوں، تو پھر اسی کی صفت بنتے ہیں۔ تو یہاں بھی كَجِيدِ الرِّئْمِ یہ جار مجرور جو ہیں، جِيدٍ کی صفت ہیں اور پھر ترجمہ کرنے کا طریقہ میں نے بتلایا تھا کہ موصوف سے پہلے 'ایسا' یا 'ایسی' کا لفظ لے آؤ۔ تو وَجِيدٍ، اور وہ ظاہر کرتی ہے ایسی گردن، كَجِيدِ الرِّئْمِ جیسے کہ ہرن کی گردن ہوتی ہے، لَيْسَ بِفَاحِشٍ، اور وہ حد سے لمبی نہیں ہے، یعنی اعتدال کے درجے میں بڑی خوبصورت ہے اس کی گردن، حد سے بڑھی ہوئی نہیں، کیونکہ گردن اعتدال سے زیادہ لمبی ہو، وہ بھی ناپسندیدہ، اور گردن بہت چھوٹی ہو اور یوں لگے سر سیدھا کندھے پر جڑا ہوا ہے، وہ بھی کیا ہے؟ ناپسندیدہ۔ لیکن کہتا ہے: میری معشوقہ کی گردن جو ہے، وہ حد سے تجاوز کرنے والی نہیں، یعنی اعتدال کے درجے میں بڑی خوبصورت ہے۔ إِذَا هِيَ نَصَّتْهُ، جب وہ اس کو بلند کرے۔ ایک تو یہ ہے گردن جھکائی ہوئی ہے یا ایک طرف موڑی ہوئی ہے، نہیں، جب وہ اس کو سیدھا کر لے، گردن کو بلند کر لے، سیدھا کر لے، تب بھی وہ اعتدال کے درجے سے نکلی ہوئی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ إِذَا، یہ ظرف ہے فاحش کے لیے، وہ حد سے بڑھی ہوئی نہیں ہے، کب؟ إِذَا هِيَ نَصَّتْهُ، جب وہ اس کو بلند کر لے اور سیدھا کر لے، تب بھی وہ حد سے بڑھی ہوئی نہیں ہے، بڑی خوبصورت اعتدال کے درجے میں ہے۔
وَلاَ بِمُعَطَّلِ، اچھا، تو یہاں امرؤ القيس جو ہے، اپنی معشوقہ کی گردن کو ہرن کی گردن کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہے خوبصورتی اور حسن کے اندر۔ تو کہتا ہے کہ میری معشوقہ جو ہے، اس کی گردن ہرن کی گردن کی طرح ہے اور جب وہ اس کو سیدھا کر لے، اوپر کر لے، تو بھی وہ حد سے بڑھی ہوئی نہیں ہے بلکہ بڑی ہی خوبصورت اور اعتدال کے درجے میں ہے، وَلاَ بِمُعَطَّلِ، اور بغیر زیور کے بھی نہیں ہے۔ کہنا یہ چاہتا ہے: میں اس کو ہرن کی گردن کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہوں اور ہرن کی گردن تو بغیر زیور کے ہوتی ہے، تو تم یہ نہ سمجھنا کہ اس کی گردن بھی بغیر زیور کے ہے، نہیں، وہ خوب آسائشوں میں زندگی گزارنے والی ہے، مال و دولت ان کے پاس موجود ہے اور اس کی گردن، میں نے ہرن کے ساتھ تشبیہ دی تو یہ معنی نہیں کہ وہ بغیر زیور کے ہے بلکہ اس کی گردن میں زیور موجود ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
وَفَرْعٍ يَزِينُ المَتْنَ أَسْوَدَ فَاحِمٍ، أَثِيثٍ كَقِنْوِ النَّخْلَةِ المُتعَثْكِلِ۔ وَفَرْعٍ، فَرْعٌ کہتے ہیں پورے بالوں کو بھئی۔ پورے لمبے بال جو ہیں، ان کو فَرْعٌ کہتے ہیں، اوپر سر سے لے کر بالوں کے کناروں تک، پورے لمبے بال، ان کو کیا کہتے ہیں؟ فَرْعٌ۔ زَانَ يَزِينُ کا معنی مزین کرنا، خوبصورت بنانا۔ مَتْنٌ، متن کمر کو کہتے ہیں بھئی، کمر۔ أَسْوَد، أَسْوَد کا معنی ہے سیاہ، سیاہ۔ جی، یہ أَسْوَد کون سا صیغہ ہے؟ طلباء سنتے ہی فوراً کہہ دیتے ہیں اسمِ تفصیل ہے، نہیں بھئی، یہ اسمِ تفصیل نہیں۔ ورنہ تو اس کا معنی ہونا چاہیے تھا 'زیادہ کالا'۔ اسمِ تفصیل میں تو زیادتی بیان ہوتی ہے کسی چیز کے مقابلے سے۔ یہ اسمِ تفصیل نہیں ہے، أَسْوَد کا معنی ہے کالا، یہ صفتِ مشبہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ صفتِ مشبہ۔ یہ یاد رکھیے، یہ أَفْعَلُ وزن، یہ اسمِ تفصیل میں بھی آتا ہے اور یہی أَفْعَلُ وزن صفتِ مشبہ میں بھی آتا ہے اور اس کو أَفْعَلُ الصِّفْتِي کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ ایک تو أَفْعَلُ اسمِ تفصیل والا ہے اور یہ أَفْعَلُ اسمِ تفصیل والا نہیں بلکہ صفتی ہے، یعنی صفتِ مشبہ۔ اسی لیے أَسْوَد کا معنی 'زیادہ کالا' نہیں بلکہ 'کالا'۔ اور اسی طرح أَبْيَض کا معنی 'سفید'، 'زیادہ سفید' نہیں، أَحْمَر کا معنی 'سرخ' ہے، 'زیادہ سرخ' نہیں۔ تو یہ کیا ہے؟ أَفْعَلُ الصِّفْتِي۔ تو یہی أَفْعَلُ وزن اسمِ تفصیل کے لیے بھی اور صفتِ مشبہ کے لیے بھی۔
أَسْوَدَ فَاحِمٍ، فَاحِم، کوئلے جیسا۔ فَحْمٌ کوئلے کو کہتے ہیں، کوئلے کو۔ تو فَاحِم، فَاعِل وزن بنا لیتے ہیں بعض اوقات تشبیہ کے لیے بھئی، کسی چیز سے تشبیہ بیان کرنے کے لیے۔ تو فَحْم سے فَاعِل وزن بنا لیا، کیا بن گیا؟ فَاحِم، اور معنی کیا ہے؟ کوئلے جیسا، تشبیہ کے لیے ہے، کوئلے جیسا۔ تو أَسْوَدَ فَاحِم کہتے ہیں خوب گہری کالی چیز ہو، اس کو أَسْوَدَ فَاحِم کہتے ہیں بھئی، کوئلے جیسی کالی۔ أَثِيثٍ، أَثِيث کا معنی ہے گھنے بھئی، گھنے۔ گھنے بھئی، خوب کثیر بھئی، بہت زیادہ۔ كَقِنْوِ النَّخْلَةِ، قِنْوٌ، قِنْوٌ کہتے ہیں کھجور کے خوشے کو جبکہ اس کے اندر پختہ، یوں کہیں، قِنْوٌ کہتے ہیں پختہ کھجوروں سے بھرا ہوا کھجور کا خوشہ۔ پختہ کھجوروں کا بھرا ہوا خوشہ، اس کو کہتے ہیں قِنْوٌ، قِنْوٌ۔ النَّخْلَةِ، نَخْلَةٌ کہتے ہیں کھجور کے درخت کو بھئی، نَخْلَةٌ، اور اس کی جمع جو ہے نَخْل آتی ہے بھئی، بغیر تا کے ہو تو وہ جمع ہے۔ المُتعَثْكِلِ، مُتَعَثْكِل کہتے ہیں جو خوب گھنا ہو، خوب زیادہ ہو۔ اور نَخْلَة مُتعَثْكِلَة، نَخْلَة مُتعَثْكِلَة کہتے ہیں جو جو خوشوں سے بھری ہوئی ہو، جس کے خوشے نکل آئے ہوں، پھل لگا ہوا ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نَخْلَة مُتعَثْكِلَة۔ لیکن یہاں یہ جو مُتَعَثْكِل ہے، یہ نَخْلَة کی صفت نہیں، کیونکہ نَخْلَة کے ساتھ تو تا جڑی ہوئی ہے، مُتَعَثْكِل کے ساتھ تا نہیں۔ یہ مُتَعَثْكِل صفت ہے قِنْوٌ کی، كَقِنْوِ النَّخْلَةِ، قِنْوٌ مضاف، النَّخْلَةِ مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر یہ موصوف اور المُتعَثْكِل اس کی صفت۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ وَفَرْعٍ يَزِينُ المَتْنَ أَسْوَدَ فَاحِمٍ، أَثِيثٍ كَقِنْوِ النَّخْلَةِ المُتعَثْكِلِ۔ وَفَرْعٍ، اس کا عطف بھی جِيدٍ پر ہے اور وہ مجرور تھا تو یہ بھی مجرور۔ اور میری وہ معشوقہ ظاہر کرتی ہے ایسے لمبے پورے بالوں کو، يَزِينُ المَتْنَ، جو کمر کو زینت بخشتے ہیں۔
لمبے بال بھی عورت میں حسن و جمال کی علامت ہیں۔ تو امرؤ القيس بیان کر رہا ہے کہ میری معشوقہ کے بال بڑے لمبے ہیں اور بڑے گھنے ہیں۔ کہتا ہے: وَفَرْعٍ يَزِينُ المَتْنَ، وہ ظاہر کرتی ہے ایسے لمبے پورے بال يَزِينُ المَتْنَ، جو اس کی کمر کو زینت بخشتے ہیں یعنی اس کی کمر پر بڑے حسین و جمیل معلوم ہوتے ہیں۔ أَسْوَدَ فَاحِمٍ، یہ بھی صفت ہے فَرْعٍ کی بھئی۔
یہ ساری صفات چل رہی ہیں فَرْعٍ کی۔ يَزِينُ المَتْنَ، نکرہ کے بعد فعل آیا اور نکرہ کے بعد میں نے بتلایا تھا فعل آ جائے وہ کیا بنتا ہے اس کے لیے؟ صفت بنتا ہے۔ تو یہاں بھی یہ صفت ہے۔
اور اسی طرح بھئی پچھلے شعر میں آیا تھا لَيْسَ بِفَاحِشٍ، یہ پورا جملہ ہے اور یہ پورا جملہ بھی جِيدٍ کی صفت ہے بھئی۔ جِيدٍ یہ موصوف اور كَجِيدِ الرِّئْمِ یہ پہلی صفت، اور لَيْسَ بِفَاحِشٍ یہ کیا ہے اس کی؟ دوسری صفت ہے اور وَلاَ بِمُعَطَّلِ، بِمُعَطَّل کا عطف بِفَاحِشٍ پر ہے۔ لَيْسَ بِفَاحِشٍ اور لَيْسَ بِمُعَطَّلِ۔
اور یہ لا جو ہے یہ زائد ہے زائد ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ورنہ تو لَيْسَ میں بھی نفی اور لا میں بھی نفی، اور نفی پر نفی داخل ہو تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات۔ یہ تو معنی بن جائے گا اس کی گردن معطل ہے یعنی اس میں کوئی زیور وغیرہ نہیں، تو یہ لا زائد ہے جیسے قرآن میں ہے: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، یہ لا کیا ہے؟ زائد ہے زائد ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
اور جو زائد ہو اس کے لیے قرآن میں صلہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو یوں کہیں یہ لا کیا ہے؟ صلہ ہے۔ ورنہ پیچھے غیر آ رہا ہے اور غیر کس لیے آتا ہے؟ نفی کے لیے آتا ہے تو پھر تو نفی پر نفی داخل ہوگی وہ اثبات بن جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو وَلاَ بِمُعَطَّلِ میں یہ لا کیا ہے؟ زائد ہے۔ اسی طرح وَفَرْعٍ یہ ہے موصوف، يَزِينُ المَتْنَ یہ اس کی صفتِ اول، أَسْوَدَ فَاحِمٍ یہ صفتِ ثانی، أَثِيثٍ یہ کیا ہے؟ تیسری صفت اسی کی، كَقِنْوِ النَّخْلَةِ یہ کیا ہے اس کی؟ چوتھی صفت۔ اور وہ ظاہر کرتی ہے ایسے لمبے بالوں کو جو اس کی کمر کو زینت بخشتے ہیں، اس کی کمر پر بڑے حسین معلوم ہوتے ہیں، أَسْوَدَ فَاحِمٍ وہ خوب گہرے کالے سیاہ ہیں، أَثِيثٍ خوب گھنے ہیں، خوب کثیر ہیں، كَقِنْوِ النَّخْلَةِ الْمُتَعَثْكِلِ جیسے کھجور کے، یوں کہیں، کھجور کے درخت کا پختہ کھجوروں سے خوب بھرا ہوا خوشہ ہوتا ہے۔
کھجور کے درخت کا پختہ کھجوروں سے خوب بھرا ہوا خوشہ ہوتا ہے۔ قِنْوٌ کسے کہتے تھے؟ پختہ کھجوروں سے بھرا ہوا، اور متعثکل کسے کہتے ہیں؟ جو خوب بھرا ہوا ہو، خوب کثیر ہو۔ تو قِنْوٍ مُتَعَثْكِلٍ کا کیا معنی ہوا؟ پختہ کھجوروں کا خوب بھرا ہوا خوشہ، معنی سمجھ میں آگیا۔
اور وہ وہ بڑے گھنے ہیں كَقِنْوِ النَّخْلَةِ الْمُتَعَثْكِلِ، جیسے کہ کھجور کے درخت کا پختہ کھجوروں سے خوب بھرا ہوا خوشہ ہوتا ہے۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ قِنْوِ النَّخْلَةِ یہ ہے موصوف، الْمُتَعَثْكِلِ یہ اس کی صفت۔ کھجور کا پختہ کھجوروں سے بھرا ہوا وہ خوشہ الْمُتَعَثْكِلِ جو خوب گھنا ہو، جس میں خوب زیادہ کھجوریں ہوں۔
غَدَائِرُهُ مُسْتَشْزِرَاتٌ إِلَى العُلاَ، تَضِلُّ العِقَاصُ فِي مُثَنًّى وَمُرْسَلِ۔ یہ شعر تو آپ نے مختصر المعانی میں بھی پڑھا ہوگا بھئی۔ غَدَائِرُهُ، غدائر جمع ہے غدیرۃ کی اور غدیرۃ کہتے ہیں بالوں کے گچھے کو، بالوں کا گچھا، بالوں کی لٹھ بھئی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟
یعنی بھئی لمبے بال ہیں عورت کے یا کسی آدمی نے زلفیں مثلاً رکھی ہوئی ہیں، مرد ہے تو وہ بالوں کی لٹیں بن جاتی ہیں بھئی، گچھے سے بن جاتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ وہ ہے۔ تو اس کی جمع ہے غدائر بھئی۔ غدیرہ کہتے ہیں وہ بالوں کی لٹ کو اور غدائر اس کی جمع ہے۔
آگے ایک لفظ آ رہا ہے عقاص بھئی۔ یاد رکھیے یہ عقاص یہ وہی جو بالوں کی لٹ ہے اس کو کہتے ہیں، تو غدائر اور عقاص کا ایک معنی ہوا بھئی۔ اور یہ عقاص جمع ہے عقیصۃ کی، تو عقیصہ بھی بالوں کا گچھا اور غدیرہ بھی بالوں کا گچھا۔ غدائر بھی کیا؟ وہ بالوں کی لٹ، اور عقاص بھی کیا ہے؟ بالوں کی لٹ، تو یہ ایک ہی چیز ہے بھئی۔
ہاں البتہ عقاص وہ لٹ جو بالوں کی وہ لٹ جس کو دھاگے وغیرہ یا کسی چیز ڈوری سے باندھا گیا ہو۔ عورتیں کیا کرتی ہیں؟ بعض اوقات بالوں کو بالوں کے جو گچھے ہیں، بالوں کی لٹیں بنا کر ان کو دھاگے سے سر کے اوپر باندھ دیتی ہیں۔ کیا کرتی ہیں؟ مختلف لٹیں بنا کر سر کے اوپر باندھ، کبھی تو اس سارے کو جمع کرکے سر کے اوپر ایک گول گیند نما صورت بنا لیتی ہیں اونچی سی، غالباً اس کو جوڑا کہتے ہیں؟ ہاں، وہ بالوں کا جوڑا بنا لیتی ہیں، تو اس میں بھی دیکھو بالوں کے جو گچھے ہیں وہ دھاگے کے ساتھ اکٹھے کرکے پھر سارے گچھے اکٹھے کر دیے بالوں کے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
ایک ایک بالوں کی لٹ علیحدہ دھاگے سے باندھی اور پھر ساری لٹوں کو کہاں اکٹھا کر دیا؟ سر کے اوپر اور پھر اس کو بھی دھاگے سے باندھ دیا۔ یا بعض اوقات اوپر گیند نما نہیں بناتیں، ویسے سر کے اوپر وہ لٹیں بنا لیں اور پھر سر کے اوپر درمیان میں بھی دھاگے سے باندھ کر پھر پیچھے کی طرف کھلا ان کو چھوڑ دیا۔ عقیصہ کون سی لٹ؟ جس کو کس سے باندھا گیا ہو؟ دھاگے وغیرہ یا ڈوری سے۔
مُسْتَشْزِرَاتٌ، یہ ہے استشذر يستشذر استشذاراً، اور یہ متعدی بھی آیا ہے اور لازمی بھی۔ استشذر کا معنی اوپر ہونا بھی، اور استشذر کا معنی اوپر کرنا بھی، تو یہ لازمی بھی ہے اور متعدی بھی۔ اور اگر آپ اس کا معنی کرتے ہیں: اوپر ہونا، تو پھر پڑھیں گے مُسْتَشْزِرَاتٌ، اس کی بالوں کی لٹیں مُسْتَشْزِرَاتٌ اوپر کو اٹھی ہوئی ہیں۔ لازمی ہے نا، خود اوپر کو اٹھی ہوئی ہیں۔ اور اگر آپ اس کو بنائیں متعدی، تو پھر پڑھیں گے مُسْتَشْزَرَاتٌ اسمِ مفعول، اس کی جو بالوں کی لٹیں ہیں مُسْتَشْزَرَاتٌ ان کو اوپر کیا گیا ہے، دیکھو اسمِ مفعول والا ترجمہ۔ تو اگر لازمی ترجمہ کریں تو پھر کیا پڑھیں گے؟ مستشذرات اسمِ فاعل، اور اگر متعدی ترجمہ کریں تو پھر کیا پڑھیں گے؟ مستشذرات، اور اس شعر میں دونوں روایتیں آئی ہیں، مستشذرات بھی آیا ہے لفظ اور مستشذرات بھی۔ إِلَى العُلاَ، علا کہتے ہیں بلندی، اونچائی، اوپر کی طرف۔ تَضِلُّ، ضل یضل کا معنی ہے غائب ہو جانا، چھپ جانا۔ عقاص، میں نے بتایا وہی عقاص کا بھی وہی معنی جو غدائر کا معنی بھئی۔ فِي مُثَنًّى وَمُرْسَلِ، مثنیٰ کہتے ہیں بٹے ہوئے بال، اور مرسل کہتے ہیں کھلے چھوڑے ہوئے بال۔
بھئی عورتیں اپنے بالوں کو رسی کی طرح بٹ لیتی ہیں، وہ جو چوٹی بنا لیتی ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ مثنیٰ، جیسے رسی بٹی ہوئی ہوتی ہے اس کے اندر دو تین تہہوں کو کیا کیا جاتا ہے؟ بٹا جاتا ہے پھر رسی تیار ہوتی ہے، تو اسی طرح بالوں کو بھی عورتیں رسی کی طرح بٹ لیتی ہیں، تو اس کو کہتے ہیں وہ بٹے ہوئے بال جو ہیں اس کو کہیں گے مثنیٰ، اور مرسل کھلے چھوڑے ہوئے جن کو کھلا چھوڑ دیا ہے یعنی بٹے ہوئے جو نہیں ہیں بھئی، جن کو بل وغیرہ نہیں دیے۔ اچھا، آپ نے اگر دیکھا ہو، عورتیں بعض اوقات ایک تو سر کے پیچھے بالوں کو وہ رسی نما صورت دے دیتی ہیں، بالوں کی چوٹی بنا لیتی ہیں کبھی ایک کبھی دو، اور بعض اوقات عورتیں ایسا کرتی ہیں کہ یہ جو سر کے اگلے حصے کے بال ہیں ان کی باریک باریک اسی طرح بنا لیتی ہیں بھئی، وہ بل دیا رسی نما صورتیں، بہت ساری بنا لیتی ہیں، یہ تو یہ کیا ہیں؟ مثنیٰ، سارے کیا ہیں؟ جن کے وہ بل دے کر وہ رسی نما باریک باریک بنا لیے، یہ ہیں مثنیٰ۔
ترجمہ ایک ایک لفظ کا پتہ چل گیا؟ دیکھیے اب شعر کا ترجمہ، امرؤ القيس کہتا ہے: غَدَائِرُهُ، یہ غدائرہ بھی لفظ آیا ہے روایات میں اور غدائرہا بھی مؤنث کی ضمیر کے ساتھ بھی۔ اگر مذکر کی ضمیر ہو غدائرہ، تو یہ ہا ضمیر راجع ہے فرع کو، کس کو راجع ہے؟ کون سی ضمیر ہو اگر؟ ہاں، ہا ضمیر ہو، سارے یہی کہتے ہیں، ہو کوئی ضمیر نہیں ہے اس کو پڑھیں گے ہا ہا، ہا ضمیر۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جب کوئی کلمہ ایک، کلمہ کسے کہتے ہیں؟ جی؟ کلمہ کسے کہتے ہیں؟ جی؟ آسان لفظوں میں کلمہ کہتے ہیں با معنی لفظ کو۔ جو بھی زبان سے آپ بولیں یہ ہے لفظ، اگر اس کا کچھ معنی بھی ہو تو اس کو کہیں گے کلمہ، اور ضمیر کا بھی کچھ معنی ہوتا ہے یا نہیں؟ جی؟ معنی ہوتا ہے نا ضمیر مذکر مراد ہوگا کبھی مؤنث، کبھی مخاطب، کبھی متکلم، تو کوئی نہ کوئی معنی تو اس کا ہوگا۔ تو جس لفظ کا بھی کوئی معنی ہو اس کو کہتے ہیں کلمہ۔ کلمہ، اور جب کلمہ ایک حرف پر مشتمل ہو تو پھر اس کا جب نام لینا ہو تو وہ نام لیتے ہیں جو حروفِ تہجی کے اندر اس کا نام تھا۔ تو یہ حروفِ تہجی میں غدائرہ کے آخر میں یہ جو حرف آ رہا ہے، یہ جو ضمیر ہے اس کو حروفِ تہجی میں کیسے پڑھتے ہیں؟ ہا، دیکھا وہاں وہ جو نام ہے وہ لیں گے، کیونکہ یہ ایک حرف پر مشتمل ہے اور جب، اور اس کا معنی بھی ہے تو یہ کیا ہوا؟ کلمہ، اور جب بھی کوئی کلمہ ہو اور ایک حرف پر مشتمل ہو اس کا نام لینا ہو تو وہ نام لیتے ہیں جو کہاں پر تھا؟ حروفِ تہجی میں۔ آپ نے بھی کبھی غور نہیں کیا، آپ بھی اسی طرح کرتے ہیں۔ بسم اللہ کی ترکیب آتی ہے؟ شروع کرو ذرا، کیسے؟ با جارہ، با جارہ کہتے ہیں بی جارہ کیوں نہیں کہتے؟ کیوں؟ کیونکہ با ایک حرف ہے اور اس کا معنی ہے یا نہیں؟ معنی بھی ہے کیونکہ حرفِ جار ہے کسی معنی کے لیے ہے، تو جب ایک حرف ہو اور کلمہ ہو تو اس کا معنی ہے، نام لینا ہے تو وہ جو حروفِ تہجی میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ با، اس لیے وہاں با نام لیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ ہا ضمیر کہیں گے غدائرہ، مذکر کی ہو پھر بھی کہیں گے ہا، مؤنث کی ہو پھر بھی کہیں گے ہا ضمیر، تو بولنے میں ایک جیسے ہی ہیں دونوں بھئی۔
یہ اگر ہا ضمیر مذکر کی ہو غدائرہ کے آخر میں، تو پھر یہ اوپر والے شعر میں جو فرع آ رہا ہے اس کو راجع ہے۔ غَدَائِرُهُ، ان بالوں کے جو گچھے ہیں، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور اگر اس کی آخر میں ہا ضمیر مؤنث والی ہو غَدَائِرُهَا، تو پھر اس صورت میں یہ ضمیر راجع ہوگی معشوقہ کی طرف، غَدَائِرُهَا، میری اس معشوقہ کے جو بالوں کے گچھے ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟
تو کہتا ہے: غَدَائِرُهُ مُسْتَشْزِرَاتٌ إِلَى العُلاَ، میری اس معشوقہ کے بالوں کے گچھے جو ہیں مُسْتَشْزِرَاتٌ إِلَى العُلاَ، اوپر کی طرف اٹھے ہوئے ہیں۔ اس میں فاعل پڑھا میں نے، اور اگر اس میں مفعول پڑھوں: غَدَائِرُهُ مُسْتَشْزَرَاتٌ إِلَى العُلاَ، میری معشوقہ کے بالوں کے جو گچھے ہیں وہ اوپر کی طرف اٹھائے گئے ہیں، اوپر کی طرف بلند کیے گئے ہیں یعنی اس نے ان کیا کیا ہے؟ ان کو اوپر کی طرف بلند کیا ہے۔ تَضِلُّ العِقَاصُ فِي مُثَنًّى وَمُرْسَلِ، غائب ہو جاتے ہیں وہ بالوں کے گچھے مثنیٰ اور مرسل بالوں میں۔ کس میں غائب ہو جاتے ہیں؟ امرؤ القيس بتلانا یہ چاہتا ہے کہ میری معشوقہ نے کیا کیا ہے؟ بالوں کے گچھے ہیں، ان کو ڈوری سے باندھا ہے سر کے اوپر اور پھر سر کے جو اگلے حصے کے بال ہیں وہ کچھ مثنیٰ ہیں، کچھ مرسل ہیں، کچھ کھلے ہوئے ہیں، کچھ کے وہ بل دے کر وہ رسی نما صورت بنائی ہے۔ تو وہ معشوقہ جو آگے سر کے اگلے حصے کے کھلے اور وہ بل دیے ہوئے بال ہیں، ان کو پیچھے کی طرف جب ڈالتی ہے تو جو سر کے اوپر بال باندھے تھے بالوں کے گچھے، وہ گچھے ان بالوں میں چھپ جاتے ہیں۔
یہ بل دیے ہوئے اور کھلے ہوئے بالوں میں چھپ جاتے ہیں۔ تو کہتا ہے غدائرہ مستشزرات الى العلى تضل العقاص في مثنى ومؤرسل۔ میری معشوقہ کے بالوں کے گچھے جو ہیں وہ اوپر کی طرف اٹھے ہوئے ہیں۔ تضل العقاص في مثنى ومؤرسل اور چھپ جاتے ہیں وہ بالوں کے گچھے بٹے ہوئے اور کھلے بالوں میں۔ ترجمہ سمجھ میں اگیا؟ اب یہ جو امرؤالقيس ہے اتنی تفصیل بیان کر رہا ہے اس کا مقصد کیا ہے؟
تو یاد رکھیے علماء لکھتے ہیں یہاں پر کہ امرؤالقيس کوئی اس کا فیشن یا ڈیزائن نہیں بتلانا چاہ رہا کہ اس انداز میں اس نے بال تیار کیے ہوئے ہیں اور اس طرح کیے ہوئے ہیں نہیں، وہ بالوں کی کثرت بیان کر رہا ہے۔ اوپر بتلا دیا خوب گھنے اور بال ہیں جیسے کھجور کا خوشہ بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اپ نے کھجور کا خوشہ کبھی دیکھا ہے؟ کھجور کا خوشہ تو ویسے کھجوروں سے بھرا ہوتا ہے اور لیکن بعض خوشے ہوتے ہیں وہ تو حد سے زیادہ بھرے ہوتے ہیں اور اتنے حسین و جمیل لگتے ہیں اور خوب وزن کی وجہ سے نیچے کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں بھئی۔ تو امرؤالقيس کہتا ہے اس کے بال اس کھجور کے خوشے کی طرح جو خوب کھجوروں سے بھرا ہوا ہو اور پھر تفصیل بیان کرتا ہے دیکھو کہ کتنے کثیر بال ہیں، تین طرح پہ اس نے ان کو تقسیم کیا ہوا ہے پھر بھی بہت زیادہ ہیں بھئی۔ وہ اوپر گچھا باندھا اور پھر اگے والے بال جب ان پر ڈالے وہ بھی اتنے زیادہ کہ وہ ان کو اپنے اندر چھپا لیتے ہیں۔ تو مقصد یہاں کیا ہے؟ بالوں کی کثرت کو بیان کرنا۔
وكشح لطيف كالجذيل مخصر وساق كانبوب السقي المظلل
وكشح لطيف، کشح یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے کس کو کہتے ہیں؟ جی پہلو، پہلو، کوکھ میں نے بتایا تھا کوکھ کو، پہلو کو۔ اور بہرحال یہاں مراد اس سے کمر ہے بھئی، کمر۔ وكشح لطيف، عرب نے کسی چیز کی جب اچھائی بیان کرنی ہو، صفت بیان کرنی ہو تو عموماً لطیف کے ساتھ بیان کرتے ہیں، کوئی چیز اچھی ہو، خوبصورت ہو، بہترین ہو تو اس کی صفت لطیف لےاتے ہیں۔ تو كشح لطيف یعنی خوبصورت کمر، نرم و نازک کمر۔ كالجذيل، جذيل کہتے ہیں بھئی چمڑے کی لگام، چمڑے کی لگام۔
اور اپ نے اگر دیکھا ہو بعض اوقات چمڑا جو ہے اس کو باریک باریک تسموں کی صورت میں کاٹ لیا جاتا ہے اور پھر ان تسموں کو بل دے کر لگام وغیرہ اور اس جیسی چیز چمڑے کی بنا لی جاتی ہے۔ یعنی یوں سمجھیں وہ جو چمڑا بھی ہوتا ہے وہ رسی کی طرح بل دیا ہوا ہوتا ہے۔ چمڑے کے کئی تسمے اور پھر ان کو بل دے کر رسی نما صورت بنا لی جاتی ہے تو اس طرح سے جو تسموں سے بنی ہوئی لگام ہوتی ہے اس کو کہتے ہیں جدید بھئی، تو یہ بڑی عمدہ اور اعلیٰ قسم کی۔
مخصر، مخصر کہتے ہیں پتلی کمر والا اور اسی طرح لیکن یہاں یہ صرف پتلی کے معنی میں ہے۔ وساق، ساق کا معنی ہے پنڈلی، پنڈلی۔ كانبوب، انبوب کہتے ہیں پورے کو، پورے کو۔ جیسے یہ ہماری انگلی ہے ہر انگلی کے اندر تین پورے ہیں، تین پورے ہیں۔ اسی طرح اپ نے دیکھا ہوگا بانس بھئی، بانس کا درخت جو ہے بانس کے اس میں بھی ہر ایک ڈیڑھ فٹ کے بعد جو ہے وہ گرہ سی بنی ہوتی ہے تو درمیان میں بانس کے جو حصہ ہے اس کو پورا کہیں گے، پورا۔ صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ ہاں تو یہ بانس کے اندر وہ پورے۔ اور یہاں جو ہے پورے وہ نرکل کے پورے مراد ہیں بھئی۔ نرکل کو کہتے ہیں بردی۔ نرکل بھی چونکہ بانس کی نسل میں سے ہے، نرکل بھئی وہ جس سے قلم وغیرہ بناتے ہیں کاتب اور لکھتے ہیں اس کو نرکل کہتے ہیں، چک وغیرہ بھی بناتے ہیں دروازوں کے اگے لٹکانے کے لیے یا کھڑکیوں میں لٹکانے کے لیے۔ تو یہ جو نرکل ہے اس کے پورے۔ انبوب سے نرکل کے پورے مراد ہیں۔
السقي، سقي بمعنی مسقی کے ہے، سیراب کیا ہوا یعنی یہ فعيل بمعنی مفعول کے ہے، مسقی اس میں مفعول ہے نہ؟ رما يرمي رميا فهو رام ورمي يرمى رميا فذاك مرمي مسقي جس کو سیراب کیا گیا ہو۔ اور اصل میں عبارت یوں ہے: كانبوب بردي نخل السقي المظلل۔ شارحین فرماتے ہیں کہ یہ جو سقي صفت ہے نخل کی اور نخل کسے کہتے ہیں؟ کھجور کے درخت، اور یہ کھجور کے جو درخت ہیں ان کے ساتھ باوقات یہ نرکل اگائے جاتے ہیں، نرکل۔ یا ان کھجور کے درختوں کے ساتھ نرکل اگاتے ہیں۔ تو وہ نرکل مراد ہے۔ تو عبارت کیسے ہوئی؟ كانبوب بردي نخل السقي۔ انبوب کے بعد بردی کا لفظ نکال لیں اور اگے اس کا مضاف الیہ النخل نکال لیں اور السقي اس نخل کی صفت ہے۔
عبارت پہ نظر ہے؟ كانبوب بردي نخل السقي المظلل۔ جیسے کہ پورے، کون کس چیز کے پورے؟ بردي نخل، بردي نخلي، کھجور کے درختوں کے جو نرکل ہیں یعنی ان کے ساتھ جو اگے ہوئے نرکل ہیں ان کے پورے۔ النخل السقي اور وہ کھجور کیسی ہے؟ المطي کہ اس کو سیراب کیا جاتا ہے۔ المظلل اور وہ مظلل ہے، شجر مظلل کہتے ہیں وہ درخت جس کا پھل ہر ایک کھا سکتا ہے یعنی پھل نیچے لگے ہوئے ہیں، قریب ہیں، اسانی سے انسان ان تک پہنچ جاتا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ شجر مظلل۔ تو یہ کھجور بھی کیسی ہے؟ كانبوب بردي نخل السقي المظلل، وہ کھجور جس کو سیراب کیا جاتا ہے اور مظلل ہے یعنی جھکائی گئی ہے یا جھکی ہوئی ہے، یا تو وہ کھجور کا درخت ہی نیچا ہے یا بعض اوقات اگر تھوڑا سا اونچا ہے تو کچھ وزن وغیرہ اس کے ساتھ باندھ کر اہستہ اہستہ تھوڑا اس کو جھکا لیا جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ زیادہ تو نہیں جھکایا جا سکتا لیکن کچھ نہ کچھ بہرحال فرق پڑ جاتا ہوگا۔
عبارت سمجھ میں اگئی؟ وساق كانبوب بردي، اصل میں بردی کیوں نکالا؟ کیونکہ پورے کس کے ہوتے ہیں؟ بردی، نرکل کے ہوتے ہیں۔ اور سقي مظلل سے پہلے نخل کا لفظ نکالا کیونکہ یہ سیراب کیا جاتا ہے، جھکی ہوئی ہے، ہر ایک اس کے پھل سے نفع اٹھاتا ہے تو وہ کیا چیز ہے؟ کھجور ہے، تو عبارت کیا ہو گئی؟ كانبوب بردي نخل السقي المظلل۔
امراؤالقیس کہتا ہے: وكشح لطيف، اس کا عطف بھی اسی پر ہے، کس پر؟ یا تو اس کا عطف ہوگا فرع پر یا اس کا عطف ہوگا اسيل پر، درمیان میں وجيد ایا تھا اس پر عطف نہیں ہو سکتا۔ اپ کہیں گے یہ کیا معنی؟ سارے اسيل پر ہی تو عطف ہو رہا ہے۔ بھئی یاد رکھو ایک جو معطوف علیہ ہے سب سے پہلے یا تو اس پر عطف کر سکتے ہیں کیونکہ یہ سارے کیا ہیں اس کے تابع، جيد کا بھی اس پر عطف، فرع کا بھی اس پر عطف اور کشح کا بھی اسی اسيل پر عطف۔ یا اپنے سب سے قریب والے پر عطف کریں گے اور وکشح کے قریب کیا ہے؟ فرع ہے، درمیان والے وجيد وغیرہ پر عطف نہیں کر سکتے۔ تو اسيل پر بھی عطف کر سکتے ہیں کیونکہ وہ اصل معطوف علیہ ہے اور جو اخری معطوف ہوتا ہے اس قریب ترین جو معطوف ہوتا ہے اس پر بھی کیا کر سکتے ہیں؟ عطف کر سکتے ہیں۔
وكشح لطيف اور میری عاشوقہ جو ہے وہ ظاہر کرتی ہے ایسی پتلی نرم و نازک کمر كالجذيل جو کس کی طرح ہے؟ چمڑے کے بٹی ہوئی لگام کی طرح ہے، چمڑے کے تسموں سے بنائی ہوئی بٹی ہوئی لگام کی طرح ہے، مخصر پتلی ہے۔ معنی سمجھ میں ارہا ہے؟ كشح لطيف كالجذيل مخصر، مخصر کو کشح کے قریب لے ائیں۔ ایسی پتلی کمر جو خوبصورت، نرم و نازک ہے كالجذيل کس کی طرح ہے؟ چمڑے کی بٹی ہوئی لگام کی طرح، یعنی اس کی طرح خوبصورت اور باریک ہے۔ وساق اس کا عطف بھی کشح پر ہے اور وہ ظاہر کرتی ہے ایسی پنڈلی كانبوب جو نرکل کے پورے کی طرح ہے، كانبوب البردي نرکل کے پورے کی طرح ہے، کون سا نرکل؟ بردي نخلي جو کھجور کے درختوں کے پاس جو ان کے ساتھ جو اگا ہوا ہو، وہ کھجور کے درخت السقي جن کو کیا کیا جاتا ہو؟ سیراب کیا جاتا ہو، المظلل اور اور وہ جھکی ہوئی ہے، جھکائی گئی ہے۔ مظلل کا ویسے میں نے جھکائی ہوئی لیکن یہاں با محاورہ ترجمہ کر لیں جھکی ہوئی، جھکی ہوئی.
تو جیسے وہ کھجور جس کو سیراب کیا جاتا ہو اور جو جھکی ہوئی ہو یا جس کو جھکایا گیا ہو جیسے اس کے نرکل کے پورے ہوتے ہیں اس کی طرح کی پنڈلی کو وہ ظاہر کرتی ہے۔ تو پنڈلی کو تشبیہ دے رہا ہے اس نرکل کے پورے کے ساتھ۔ کس چیز میں؟ خوبصورتی میں اور رنگ کی صفائی کے اندر، رنگ کی صفائی کے اندر۔ یقیناً ایک عام نرکل ہے اور ایک وہ نرکل ہے جو ایسی کھجور کے پاس ہے جس کو سیراب کیا جاتا ہے۔ جب کھجور کو سیراب کیا جاتا ہے تو ظاہر سی بات ہے اس پانی سے وہ نرکل بھی خوب فائدہ اٹھاتا ہے اور جب وہ فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ عام نرکل کے مقابلے میں زیادہ عمدہ اور اعلیٰ ہوگا بھئی۔ تو اس نرکل کے پورے کے ساتھ کس چیز میں تشبیہ دے رہا ہے؟ صفائی اور رنگ کے اندر، وہ پورہ بھی کس رنگ کا ہوتا ہے؟ زردی مائل سفید ہوتا ہے بھئی اور میں نے بتایا تھا عورت کو میں بھی کون سا رنگ پسندیدہ؟ زردی مائل سفید، تو وہ نرکل بھی اسی رنگ کا ہے اور پھر وہ نرکل ہے بھی ایسی کھجور کے پاس جس کو پانی پلایا جاتا ہے، سیراب کیا جاتا ہے تو یہ نرکل بھی بڑا عمدہ اور اعلیٰ ہوا۔ تو ایک نرکل کا ویسے رنگ عمدہ اور اعلیٰ، زردی مائل سفید اور پھر جب اس کو پانی سے سیراب بھی کیا جاتا ہے تو وہ اور زیادہ اعلیٰ قسم کا ہوگا تو اس کے ساتھ پنڈلی کو رنگ میں اور ہموار ہونے میں تشبیہ دے رہا ہے، معنی سمجھ میں ایا؟
جبکہ بعضوں نے یہ مظلل جو ہے اس کو نخل کی صفت نہیں بنایا، اس کو بردی کی صفت ہی بنا دیا۔ كانبوب البردي السقي المظلل، وہ نرکل ایسا جس کو سیراب کیا جاتا ہے اور مظلل، اب مظلل کا معنی کریں گے نرم اور ہموار، نرم اور وہ نرکل جس کو سیراب کیا گیا ہے اور وہ ہموار ہے، نرم ہے، ظاہر سی بات ہے ایک عام نرکل ہے، ایک نرکل جس کو پانی پہنچتا رہتا ہے وہ اس نرکل کے مقابلے میں کیا ہوگا؟ نرم ہوگا بھئی، بات سمجھ میں اگئی؟
تو وہ وكشح لطيف كالجذيل مخصر وساق كانبوب السقي المظلل، وہ ظاہر کرتی ہے ایسی خوبصورت پتلی کمر جو چمڑے کے تسموں سے بنی ہوئی لگام کی طرح ہے تو اس کے ساتھ تشبیہ دی بھئی، پتلا ہونے میں، خوبصورت ہونے میں۔ وساق كانبوب السقي المظلل اور ظاہر کرتی ہے ایسی پنڈلی جو کہ سیراب کی ہوئی، جھکی ہوئی کھجور کے نرکل کے پوروں کی طرح ہے یعنی صفائی میں اور خوبصورتی میں۔ معنی سمجھ میں اگیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔