Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-002

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 10 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 21
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی کتاب پر۔ قفا نبک ‏من ذکرى حبیب ومنزل بسقط اللواء بین الدخول فحومل ‏ فتوضح فالمقراۃ لم یعف رسمہا لما نسجتہا من جنوب وشمأل ‏ ترى بعر الآرام ‏فی عرصاتها وقیعانها كانہ حب فلفل ‏ كأني غداة البین یوم تحملوا لدى سمراۃ الحی ناقف حنظل بھئی یہ سات معلقات ہیں سات۔ عرب کے مشہور و معروف قصیدے جو عرب کی فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہیں۔ نسان ان کی فصاحت و بلاغت پر حیران رہ جاتا ہے۔ میں نے ذکر کیا تھا اس میں شعراء جو ہیں وہ نئے نئے معنی، نئے نئے خیالات، نئی نئی تشبیہات، استعارات، تمثیلات ‏وغیرہ ذکر کرتے ہیں۔ یہ اور یہ سات قصائد جو ہیں، سب معلقات کہلاتے ہیں معلق۔ معلق اس کو لٹکایا گیا ہو تو یہ سات قصائد ان کو معلقات کہتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ کہ ان کو سوق عکاظ کے اندر لٹکایا گیا تھا ان کی فصاحت اور بلاغت کی وجہ سے۔ جبکہ بعضوں نے کہا کہ یہ ان کو معلقات اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ان کو بیت اللہ کے کونوں پر لٹکایا گیا تھا ان کی ‏فصاحت و بلاغت کی وجہ سے۔ عرب جو اپنی زبان پر بڑا ناز کرتے تھے، اپنی فصاحت و بلاغت پر، اپنی زبان کی وسعت پر اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ‏عربی زبان اتنی وسیع ہے، اتنی وسیع ہے کہ جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری زبانیں اس کے سامنے کچھ حیثیت بھی نہیں رکھتیں۔ ایک ایک چیز کے اس زبان میں سیکڑوں نام ملتے ہیں بھئی، سیکڑوں نام۔ جیسے والد صاحب رحمہ اللہ ان کا ایک قصیدہ ہے، فتح الصمد اور اس میں انہوں نے شعر کے نام اور اس کے جو ‏متعلقات ہیں وہ چھ سو سے زیادہ جمع کیے ہیں۔ وہ ایک عجیب شاہکار قصیدہ ہے جس پر حتی کہ مدینہ منورہ کے جامعہ اسلامیہ کے عرب شیوخ وغیرہ نے اس قصیدے ‏کو دیکھا تو حیران رہ گئے اور بعض ان میں سے والد صاحب سے کہنے لگے کہ اتنی زبردست قصیدہ، اتنا عظیم قصیدہ ‏لکھا جس سے عربی زبان کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ آپ کو اس پر پی ایچ ڈی کی ڈگری دیں مدینہ یونیورسٹی کی طرف سے۔ لیکن والد صاحب رحمہ اللہ نے انکار فرما دیا کہ یہ میں نے یہ قصیدہ پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے کے لیے نہیں لکھا بلکہ یہ ‏میں نے اپنے استاد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لکھا ہے۔ انہوں نے والد صاحب نے وہ قصیدہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم مولانا عبدالحق رحمہ اللہ جو والد صاحب کے استاد تھے، ‏ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لکھا تھا۔ تو یہ میں ذکر کر رہا تھا کہ عربی زبان بے انتہا وسیع زبان ہے۔ اندازہ لگائیے ایک جانور ایک حیوان شیر کے چھ سو سے کہ لگ بھگ نام ہوں ایک زبان میں وہ کتنی وسیع زبان ہوگی۔ اسی طرح تلوار کے کہتے ہیں اسی سے زیادہ نام ہیں۔ ایک ہی چیز کے اسی سے زیادہ نام۔ سانپ کے بھی اسی طرح بہت ‏سے نام ہیں۔ مختلف چیزیں یہ تو ویسے بطور مثال کے میں نے چند ایک ذکر کر دیے۔ تو عرب کو اپنی فصاحت و بلاغت اور اپنی زبان پر بڑا ناز تھا۔ چنانچہ ان قصیدوں کو انہوں نے بیت اللہ کے کونوں پر ‏لٹکایا تھا بھئی بیت اللہ کے پردوں سے تاکہ جو بھی باہر سے آئے وہ آکر ذرا ہماری فصاحت و بلاغت کا مشاہدہ کرلے، ‏ہمارے اشعار کو ذرا دیکھ لے، اس کو پتہ لگے۔ تو لہذا ان کو معلقات کیوں کہتے ہیں؟ بیت اللہ کے کونوں پر ان کو لٹکایا گیا تھا اور بعض کیا کہتے ہیں ان کو سوق عکاظ ‏میں، ان کا انتخاب بھی سوق عکاظ میں ہوا تھا۔ سوق عکاظ کا ذکر آیا۔ بھئی یاد رکھو عرب کے ہاں قدیم زمانے میں مختلف علاقوں میں بازار اور میلے لگتے تھے۔ اور انہی میلوں میں سے ایک میلہ عکاظ کے مقام پر لگتا تھا، اسے سوق عکاظ کہتے ہیں سوق بازار بھئی۔ تو یہ میلے کی طرح ہوتا ہے اس میں لوگ ہر طرح کی تجارت بھی کرتے، کپڑے کی تجارت ہوتی، چمڑے کی تجارت ‏ہوتی، غلے کی، غلاموں کی، باندیوں کی، جانوروں کی، ہر طرح کی تجارت اس میں کرتے۔ اور نیز ہر فن والا اپنا اپنا فن لے کر وہاں پہنچتا اور اس کا مظاہرہ کرتا۔ تلوار بازی کے مظاہرے ہوتے، نیزہ بازی کے ‏مظاہرے ہوتے، مختلف مقابلے ہوتے۔ اور اسی طرح خطیب حضرات اپنی خطابت کے جوہر دکھلاتے تھے وہاں پر۔ اور مختلف قبیلے اپنے اپنے شعراء کو لے کر آتے تھے اور ان کے کلام کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔ یاد رکھو عرب کے ہاں اشعار جو ہیں اشعار اشعار میں چونکہ ایسا کلام ہوتا ہے جو بڑی جلدی دل پر اثر کرتا ہے اور ‏بڑی آسانی سے یاد ہو جاتا ہے تو عرب کے ہاں شاعر کی بڑی اہمیت تھی بھئی۔ اور کسی بھی قبیلے کا شاعر اس قبیلے کا بے تاج بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ سارے قبیلے والے اس کی اس طرح عزت اور ‏احترام کرتے جیسے وہ ان کا بادشاہ ہو۔ اور وہ شاعر اپنے قبیلے کی صفات ذکر کرتا، ان کی تعریفیں ذکر کرتا اور وہ آنند فانند پورے عرب کے اندر اشعار ‏مشہور ہو جاتے تھے۔ تو سوق عکاظ کے اندر بھی شعراء آتے، عرب میں مختلف مواقع پر، مختلف جگہوں پر بازار لگتے تھے بھئی، مختلف ‏جگہوں پر۔ چھوٹے بڑے مختلف قسم کے بازار لگتے لیکن یہ سوق عکاظ سب سے بڑا تھا بھئی، سب سے بڑا میلہ۔ اور یہ تقریباً بعضوں نے لکھا پندرہ دن تک پندرہ ذیقادہ سے لے کر آخر ذیقادہ تک یہ ہوتا تھا۔ جبکہ بعضوں نے لکھا کہ یہ یکم ذیقادہ سے بیس ذیقادہ تک یہ بیس دن جاری رہتا تھا بھئی بیس دن۔ اور وہ اس زمانے میں سفر وغیرہ بڑا مشکل تھا۔ ہر جگہ راستے میں ڈاکوؤں وغیرہ کا خطرہ رہتا اور عرب کے ہاں تو معمولی معمولی بات پر قتل کر دیا کرتے تھے، ‏بعض قبیلے والے ڈاکے وغیرہ ڈالتے، معمولی باتوں پر لوگوں کو قتل کیا کر دیا کرتے تھے۔ تو اس زمانے میں سفر بڑا مشکل تھا۔ لیکن اللہ نے ان پر خاص رحمت فرمائی تھی اور انہیں حرم والے چند مہینے عطا فرما دیے۔ آپ نے بھی پڑھا ہوگا اشہر حرم بھئی، حرم والے مہینے، یہ چار مہینے ہیں۔ بھئی ایک رجب ہے، رمضان سے قبل، شوال ‏سے قبل۔ اور تین مہینے اکٹھے ہیں ذوقادہ، ذوالحجہ اور محرم۔ تو یہ چار مہینے اور عرب کے دلوں میں ان مہینوں کی حرمت بے انتہا زیادہ تھی۔ وہ اتنا ان مہینوں کا احترام کرتے تھے ‏کہ بیان سے باہر ہے۔ جیسے آپ حضرات کے دلوں میں بیت اللہ کی محبت، عقیدت اور حرمت ہے بھئی یا جیسے آپ لوگوں کے دلوں میں قرآن ‏کی محبت اور عظمت ہے۔ اسی طرح ان کے دلوں میں ان مہینوں کی محبت اور عقیدت تھی۔ بلکہ اس تعظیم کے سلسلے میں وہ مسلمانوں سے بھی آگے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں کیونکہ آج کل آپ دیکھتے ہیں ‏بہت سے مسلمان بھی کیا کرتے ہیں ان شعائر اسلام کی پرواہ نہیں کرتے، ان کی تعظیم نہیں کرتے۔ لیکن وہ قبیلے اس زمانے میں بہت ہی نادر کوئی ایک آدھ واقعہ ملتا ہے کہ کسی نے ان مہینوں کی حرمت نہیں کی ورنہ ‏اتنا احترام تھا ان مہینوں کا کہ عرب والے جو معمولی معمولی بات پر قتل کر دیتے تھے اور ایک قتل کے بدلے کئی کئی ‏قتل جب تک نہیں کرتے تھے اس وقت تک ان کے غصے کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوتی تھی۔ ان مہینوں کے اندر اگر کسی کے باپ یا بھئی کا قاتل بھی اس کے سامنے آجاتا تھا تو وہ ان مہینوں کی تعظیم کرتے ہوئے ‏اس کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے۔ اتنی زیادہ تعظیم تھی ان کے دلوں میں۔ تو اللہ نے ان کو یہ انعام دے دیا تھا اور چنانچہ اسی وجہ سے ان مہینوں کے اندر وہ بلا خوف و خطر سارے عرب میں ‏لوگ سفر کرتے اور تجارت کرتے کیونکہ ان مہینوں میں کوئی خطرہ نہیں محسوس کرتے۔ اگر یہ حرمت والے مہینے بھی نہ ہوتے تو پھر تو سارا عرب قید خانہ بن جاتا بھئی کوئی کوئی سفر کر ہی نہیں سکتا، ‏جدھر نکلو گے ڈاکو ٹکرا جائیں گے اور پھر کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے، مال بھی لوٹ لیں گے اور جان کا بھی ‏خطرہ ہے پتہ نہیں چھوڑتے ہیں زندہ یا نہیں چھوڑتے۔ تو یہ اللہ کا بڑا انعام تھا ان پر تو سوق عکاظ تھا یہ اشہر حرم میں یعنی میں نے ذکر کر دیا ذوقادہ کے مہینے میں لگتا تھا۔ تو اور بھی بعض بازار لگا کرتے تھے میلے وغیرہ عرب کے اندر اور اس میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی قبیلہ اس کا نگران ‏ہوتا تھا۔ اور نگران ہوتا تھا اور وہ تاجروں وغیرہ سے آنے والوں سے ٹیکس لیا کرتا تھا ان کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہوئے ‏کہ ہم تمہاری جب تک تم اس میں ہو ہم تمہاری حفاظت کریں گے اور ان سے ٹیکس لیتے تھے اس کا۔ اور صرف اسی کے ٹیکس نہیں دینا پڑتا تھا بلکہ آپ نے اس بازار تک پہنچنا ہے تو راستے میں جس جس قبیلے کی ‏زمین سے گزریں گے، وہ بھی حفاظت کا ٹیکس لیا کرتے تھے کہ ہمارے علاقے میں تمہیں کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔ تو وہ ایک راستے کا بھی ٹیکس دینا پڑتا اور پھر وہاں میلے میں شرکت کے بھی ٹیکس دینا پڑتا تھا لیکن سوق عکاظ میں ‏ایسی کوئی بات نہیں تھی، راستے کا بھی ٹیکس نہیں کیونکہ کیونکہ یہ حرم والے مہینے تھے جن میں کوئی کسی کو کچھ ‏نہیں کہتا تھا اور پھر وہ جو جگہ تھی وہ بھی بڑی امن والی تھی وہاں پر بھی کوئی ٹیکس وغیرہ قبیلہ نہیں لیتا تھا۔ اس عکاظ جو ہے عکاظ، یہ مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ ہے، بعضوں نے لکھا عرفات کے قریب ہے، ‏جبکہ بعضوں نے کہا کہ یہ طائف اور مکہ کے درمیان ایک جگہ ہے، مکہ سے تین رات کے فاصلے پر ہے اور طائف ‏سے ایک رات کے فاصلے پر ہے، یعنی طائف کے قریب ہے یہ جگہ۔ اور تو یہ ایک نخلستان ہے، یہاں پر یہ میلہ لگتا تھا اور اس کے اس کے اندر بڑا دخل قریش والوں کا بھی تھا لیکن اس ‏میلے کے، اس بازار کے نگران اعلی جو تھے، وہ بنو تمیم والے تھے، بنو تمیم عرب کا ایک بڑا قبیلہ تھا بھئی۔ بنو تمیم والے اور بنو تمیم والے جو تھے وہ اس کے نگران اعلی تھے۔ بنو تمیم کے رئیس کی مجلس وہاں ہوا کرتی تھی ‏جو بڑی ہی محترم تھی اور کہیں پر بھی کوئی کسی کے لوگوں میں کہیں جھگڑا ہوتا یا کہیں چیزوں کے نرخ وغیرہ قیمت ‏کے اندر اختلاف ہوتا تو بنو تمیم کا رئیس جو ہے وہ فیصلہ کیا کرتا تھا بھئی۔ اور سارے اس کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کیا کرتے تھے بھئی۔ تو بڑے بڑے سب لوگ اس میں پیش ہوتے اور اپنی اپنی فنون کا مظاہرہ کرتے، شاعر حضرات بھی آتے اور اپنا کلام ‏پیش کرتے۔ تو اسی بازار کے اندر یہ سات قصائد کا انتخاب کیا گیا تھا بھئی۔ سات قصائد کا۔ اور ان بازار والوں کا انتخاب آج تک مصلّم ہے، آج تک تمام عرب تسلیم کرتے ہیں کہ یہ جو سات قصیدے ہیں ہماری ‏فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہیں۔ ان کے دیہات کے دیہات میں آج بھی آپ چلے جائیں آپ کو وہاں بچوں کی زبان پر یہ اشعار ملیں گے بھئی، پورے پورے ‏قصیدے ان کو زبانی یاد ہوتے ہیں بھئی۔ یہ ہیں بھی چھوٹے چھوٹے قصیدے کوئی کسی میں اسی شعر ہیں، کسی میں سو شعر ہیں۔ اور یہ جو سوق عکاظ ہے اس کی ابتدا ہوئی تھی کوئی مؤرخین فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک ‏جب پندرہ سال تھی اس زمانے میں یہ سوق عکاظ شروع ہوا جبکہ بعضوں نے کچھ سال بیشتر کا لکھا کہ حضور کی ‏پیدائش سے کچھ سال پہلے اس کا آغاز ہوا۔ اور پھر یہ ایک سو انتیس ہجری تک اسلام کے آنے کے بعد بھی یہ جاری رہا لیکن ایک سو انتیس ہجری میں خوارج کے ‏حملوں کی وجہ سے یا ان کے خوف کی وجہ سے یہ منعقد نہ ہوا اور پھر اس کے بعد بھی کبھی منعقد نہ ہو سکا۔ تو یہ بازار ان عربوں کی تجارتی سرگرمیوں کا بہت بڑا مرکز ہوتے تھے، ان دنوں میں وہ خوب کھل کر تجارت کیا ‏کرتے تھے، غلے وغیرہ مال ہر چیز کی تجارت کرتے اور پھر اس میں جو مقابلے ہوتے، شاعروں کے خطیبوں کے ‏وغیرہ اس سے اس عربی زبان کی نشوونما میں بھی اس کا بہت بڑا حصہ تھا، عربی زبان جو ہے وہ ترقی کرتی چلی گئی ‏ان چیزوں کی وجہ سے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ سوق عکاظ میں اور بعض دوسرے اسواق کے اندر دعوت اسلام دینے کے لیے تشریف ‏لے جایا کرتے تھے۔ اور آپ نے وہ قرآن میں سورہ جن کے اندر آتا ہے قالو اھیا انی استمعا نفر من الجن۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے اپنے چند صحابہ کے ساتھ تو یہ وہ ‏سوق عکاظ کی طرف تشریف لے جا رہے تھے اور وہیں پر اس کے قریب راستے میں فجر کی نماز اپنے چند ساتھیوں ‏صحابہ کے ساتھ ادا فرما رہے تھے کہ جنات کی ایک جماعت جنات تو آسمانوں پر جاتے تھے اور وہاں کی خبریں لایا ‏کرتے تھے تو اس زمانے میں بڑی سختی شروع ہو گئی، فرشتوں نے سخت حفاظتی انتظامات کیے، جنات کا اوپر جانا بند ‏ہو گیا، اگر ان میں سے کوئی ایک خبر ان کی اڑانے کی کوشش کرتا تو آگ کا گولہ اسے جلا کر ختم کر دیتا اس جن کو۔ تو جنات حیران تھے، پریشان تھے کہ یہ کیا ہوا ہے، اتنے سخت حفاظتی انتظامات ہوئے ہیں، یقیناً کوئی خاص بات ہوئی ‏ہے، چنانچہ انہوں نے اپنی جماعتیں روانہ کیں کہ جاؤ گھومو چکر لگاؤ دنیا کے اندر کہ کیا خاص بات ہوئی ہے کہ ہمارا ‏آسمانوں پر جانا بند کر دیا گیا، اب ہمیں کوئی خبر سننے نہیں دی جاتی تو وہاں جنات کی ایک جماعت گزری اور حضور ‏صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہوں اور قرآن جیسا ‏کلام ہو، ان جنات نے سنا تو وہیں پر ایمان لے آئے اور پھر جا کر اپنی قوم کو بھی انہوں نے دعوت دی جس کا ذکر قرآن ‏کے اندر بھی آتا ہے۔ تو یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تشریف لے جا رہے تھے؟ سوق عکاظ کے اندر بھئی، عکاظ عین کاف چھوٹا ہے، ‏الف اور ضاد ہے ط ض، عکاظ۔ تو اس بازار میں خطیب حضرات بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے، خطیبوں کے بھی مقابلے ہوتے، شعراء کے بھی مقابلے ‏ہوتے تھے لیکن نظم کا چرچہ زیادہ تھا۔ عرب اشعار کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ تو وہیں پر ان سات قصیدوں کا انتخاب ہوا۔ ہاں البتہ ایک بات رکھیے کہ ابتدائی ابتدا ابتدائی میں یہ قصائد جو ہیں معلقات نہیں کہلاتے تھے بھئی۔ ایک اسلام آنے کے بعد بھی ایک دو صدیوں تک یہ قصائد معلقات نہیں کہلاتے تھے اور قصائد مشہورا وغیرہ کے نام ‏سے ان کو ذکر کیا جاتا تھا کہ عرب کے وہ جو مشہور قصیدے ہیں۔ لیکن پھر بعد میں آہستہ آہستہ ان کا نام معلقات سے مشہور ہو گیا۔ اور ان میں سے یہ پہلا قصیدہ جو ہے امرؤالقیس کا ہے بھئی آپ کے سامنے، قفان اب کی من ذکر حبیب ومنزلی بسقط اللوا ‏بین الدخول فحوملی۔ امرؤالقیس یہ شہزادہ تھا بھئی، شہزادہ۔ اور اس کا نام یہ امرؤالقیس اس کا لقب ہے، اس کا نام نہیں ہے، اس کا نام اصل میں ہے خندج۔ خندج، خ ن د ج، خندج۔ اور یہ شہزادہ تھا، یہ بیٹا ہے حجر بن حارث بن عمر کا۔ حجر، ح پر ضمہ ہے، حجر ابن حارث ابن عمر۔ اس کا باپ حجر جو ہے وہ بنو اسد اور بنو غطفان کا رئیس تھا، ان کا ‏بادشاہ تھا اور تقریباً ساٹھ سال تک وہ ان کا رئیس رہا بھئی۔ اس کا باپ حجر بھئی۔ تو یہ جو امرؤالقیس تھا یہ اس کا بیٹا تھا اور یہ ابتدا ہی میں غلط صحبت کے اندر پڑ گیا اور باپ نے اسے تنگ لا کر گھر ‏سے نکال دیا۔ شراب نوشی کی لت اسے پڑ گئی، اسی طرح یہ عورتوں کے پیچھے گھومتا پھرتا اور ان کے عشق و محبت میں اشعار ‏کہتا اور بنو اسد وغیرہ کی عورتوں کے بارے میں اشعار کہتا۔ انہوں نے آکر باپ سے شکایت کی، باپ نے سمجھایا لیکن یہ نہ مانا تو باپ نے اسے گھر سے نکال دیا۔ اس نے آوارہ دوستوں کی ٹولی بنائی، جنگل میں رہنے لگے، لوٹ مار کرتے، ڈاکے ڈالتے اور پھر ان اس مال کے ذریعے ‏جنگل میں وقت گزارتے، شراب نوشی کرتے، بدکاریاں کرتے اور کھیل تماشوں میں اپنا وقت گزارتے۔ اس کے باپ انہوں نے بنو اسد والوں نے کسی موقع پر کچھ لوگوں نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا، اس کے باپ نے ان ‏پر حملہ کیا اور ان کے بہت سے لوگوں کو مار دیا۔ बाद में उन लोगों ने हमला करके इसके बाप को कत्ल कर दिया। امرؤالقیس کو جب یہ باپ کے قتل کی خبر ملی تو یہ شراب نوشی میں مشغول تھا، اس وقت تو اس نے کچھ نہیں کہا لیکن ‏بعد میں کہنے لگا کہ میں اس وقت تک جو ہے شراب کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا، گوشت نہیں کھاؤں گا اور سر پر تیل نہیں ‏لگاؤں گا، عورتوں کے قریب نہیں جاؤں گا اور اپنا سر نہیں دھوؤں گا جب تک میں اپنے باپ کا قتل کا بدلہ نہ لوں۔ چنانچہ یہ شہزادہ تھا، ایک ایک قبیلوں کے پاس گیا اور ان سے مدد مانگتا رہا اور کچھ لوگوں کو اکٹھا کر کے اس نے بنو ‏اسد پر حملہ بھی کیا اور ان کے بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا لیکن اس کے غصے کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی۔ پھر ادھر ادھر اور قبیلوں سے مدد مانگتا رہا، مدد مانگتے مانگتے قیصر روم تک پہنچا، اس زمانے کی سپر پاور جو ‏تھی، قیصر نے اس کی بہت عزت کی اور اس کو ایک لشکر دے کر اس کے روانہ کیا بھئی۔ یہ قیصر سے لشکر لے کر چلا تو قیصر کو کسی نے پیچھے بتایا کہ اس کا تو اپ کی بیٹی کے ساتھ بھی تعلق تھا، اس ‏کے بارے میں بھی یہ اشعار کہتا ہے، اپ کو بھی بدنام کرتا ہے اور اپ کی بیٹی کو بھی بدنام کرتا ہے۔ یہ سن کر قیصر کو بڑا غصہ آیا کہ اچھا میں اس کے ساتھ احسان کر رہا ہوں اور اس نے یہ کیا!‏ چنانچه قیصر نے ایک زہریلا ریشمی جوڑا اس کی طرف، یہ تو وہاں سے نکل چکا تھا فوج لے کر، تو ایک زہریلا ‏ریشمی جوڑا جو ہے وہ اس کی طرف بھجوایا اور کہا کہ امرؤالقیس جہاں بھی ملے اس کو یہ کہنا کہ یہ بادشاہ کا پہنا ہوا ‏جوڑا ہے، اس نے تمہارے لیے بطور تحفے کے طور پر بھیجا ہے اور اسے ذرا پہن کر دکھاؤ ہمیں ۔ چنانچه وہ اس کے پاس لے کر پہنچے، امرؤالقیس نے وہ جوڑا پہنا اور اس جوڑے کی وجہ سے، وہ لباس پہننے کی وجہ ‏سے اس زہر کی وجہ سے، اس کے جسم پر آب لے پڑ گئے، زخم بن گئے اور جسم گلنے لگا اور پھر اس اسی وجہ سے ‏اس کا جلد ہی انتقال ہو گیا اور کہتے ہیں کہ یہ ترکی میں انقرہ کے قریبی جو واپس آ رہا تھا، قیصر سے مل کر تو وہاں ‏اس کا انتقال ہوا۔ تو یہ بہرحال بہت بڑا شاعر تھا، عرب کی شاعری میں اکثر علماء کہتے ہیں یہ سب سے بڑا شاعر تھا بھئی سب سے بڑا ‏شاعر عرب کا۔ اور حدیث میں بھی اس کا ذکر آتا ہے، حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس امرؤالقیس کے بارے میں ‏یجیء یوم القیامۃ حامل لواء الشعراء الی النار۔ کہ قیامت کے دن یہ شعراء کا جھنڈا تھامے ہوئے آئے گا یعنی ان کی قیادت کرے گا، سارے شاعر اس کے ساتھ ہوں گے ‏اور ان سب کو لے کر یہ جہنم کی طرف چلا جائے گا، ان کو جہنم میں اپنے ساتھ لے جائے گا۔ تو یہ اسلام سے کچھ پہلے گزرا ہے بھئی، کچھ ہی پہلے بالکل اسلام کے قریب کے زمانے میں۔ اور اس کو ملک ذلیل بھی کہتے تھے۔ ملک ذلیل، کیونکہ یہ بہت شراب پیتا تھا، عورتوں کے پیچھے گھومتا پھرتا، ان کی محبت کے اشعار کہتا رہتا تھا، اس لیے ‏اس کو ملک ذلیل کہتے تھے کہ بڑا گمراہ بادشاہ۔ بڑا گمراہ۔ اور اس کے اشعار انسان پڑھتا ہے، اس کی فصاحت و بلاغت پر انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ جن اشعار کے اندر وہ اپنے عشق کو ذکر کرتا ہے، اپنی آوارگی کو ذکر کرتا ہے، اپنے عاشقہ کے حسن و جمال کو ذکر ‏کرتا ہے اور اسی طرح عام چیزیں جن کا عام دیہات والے لوگ مشاہدہ کرتے ہیں، جیسے بارش ہے، بجلی ہے، بادل ہیں، ‏سیلاب ہے، گھوڑا ہے وغیرہ، ان چیزوں کی وہ، ان چیزوں کا وہ ذکر کرتا ہے، ان کو بیان کرتا ہے لیکن ایسے فصیح و ‏بلیغ انداز میں کہ انسان سر دھننے لگتا ہے، عجیب خوشگوار انداز میں ان کو ذکر کرتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ وہی عام چیزیں دیہات والے سب دیکھتے ہیں، ان چیزوں کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں لیکن یہ کیا کرتا ہے ان کو بڑے ہی ‏حسین و جمیل اور فصیح و بلیغ پیرائے میں ان کو بیان کرتا ہے۔ جی اب دیکھیے بھئی کتاب پر بھئی۔ اس کا یہ قصیدہ، قفان اب کی من ذکر حبیب ومنزلی بسقط اللوا بین الدخول فحوملی، یہ اکاسی اشعار ہیں بھئی یہاں پر، اکاسی ‏اشعار۔ اور اس کو قصیدہ لامیہ کہتے ہیں لامیہ۔ چونکہ اس کے ہر شعر کے آخر میں لام آ رہا ہے، اس لیے اس کو قصیدہ لامیہ کہتے ہیں۔ تو آخری حرف کے اعتبار سے اس کا نام رکھا جاتا ہے۔ مثلاً اگر آخر میں دال آئے گا تو قصیدہ دالیہ، تو آخری حرف کے اعتبار سے اس کا نام رکھا جاتا ہے۔ ہاں اب میں سے کسی کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ جب حدیث میں آ گیا یجیء یوم القیامۃ حاملا لواء الشعراء الی النار کہ جب یہ جہنمی شخص ہے تو پھر اس کی اشعار ہم پڑھتے کیوں ہیں؟ تو بھئی بات یہ ہے کہ یہاں جہنمی یا جنتی ہونے کی بات نہیں ہو رہی، اصل میں عربی ادب کے اندر جو ان کا سب سے ‏عمدہ کلام ہے، تمام عرب کے ہاں مسلّمہ یہ ان کلاموں میں سے ہے تو ہم اس عرب کے بہترین کلام کو پڑھیں گے تو ہمیں ‏عربوں کی فصاحت و بلاغت کا پتہ چلے گا۔ جب عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کا ہمیں پتہ چلے گا، پھر ہم اس کے ساتھ قرآن کا جب موازنہ کریں گے تو دیکھیں ‏گے قرآن کی تو یہ گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا، قرآن تو اس سے اتنا اعلی ہے کہ بیان ہی نہیں کیا جا سکتا تو لہذا قرآن کی ‏فصاحت و بلاغت کو کامل طور پر پہچاننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ عربوں کے اعلیٰ ترین کلام کے نمونے دیکھیں، ‏ان کی فصاحت و بلاغت کو دیکھیں اور ان کے کلام کی خوبیاں دیکھیں اور پھر اس کے بعد جب آپ قرآن میں دیکھیں گے ‏تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ قرآن تو ان کے کلام سے کئی گنا بہتر ہے بھئی۔ تو یہاں عربی کی فصاحت و بلاغت کو ہم نے جاننا ہے، ان کے کلام کی بلندی کو پہچاننا ہے کہ ان کا اعلیٰ سے اعلیٰ کلام ‏یہ ہے، سب سے زبردست ان کا کلام یہ ہے، وہ خود تمام عرب مانتے ہیں اور سینکڑوں سال سے آج تک چودہ پندرہ سو ‏سال گزر گئے، عرب آج بھی کہتے ہیں ہمارا سب سے بہترین کلام یہی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو لہذا اس کو پڑھیں گے تو ہمیں ہم عربی کی فصاحت و بلاغت کا اندازہ ہو سکے گا اور پھر اس کے ذریعے قرآن کی ‏فصاحت و بلاغت اور اس کے اعجاز کا ہمیں پتہ چلے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، اشعار پھر اگلے سبق میں شروع کریں گے، چلیے بس بھئی، ہذا هو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
11 approved lectures · 2 of 11