حَصَرْتُ بِفَوْدَيْ رَأْسِهَا فَتَمَايَلَتْ عَلَيَّ هَضِيمَ الْكَشْحِ رَيَّا الْمُخَلْخَلِ
مُهَفْهَفَةٌ بَيْضَاءُ غَيْرُ مُفَاضَةٍ تَرَائِبُهَا مَصْقُولَةٌ كَالسَّجَنْجَلِ
كَبِكْرِ الْمُقَانَاةِ الْبَيَاضَ بِصُفْرَةٍ غَذَاهَا نَمِيرُ الْمَاءِ غَيْرُ مُحَلَّلِ
حَصَرْتُ بِفَوْدَيْ رَأْسِهَا
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کو کوکھ کہتے ہیں۔
ہظیم کا معنی: پتلی بھئی۔ رَيَّ الْمُخَلْخَلِ، رَیا یہ مونث ہے ریان کی۔ اور ریان کا کہتے ہیں تروتازہ، بھرا ہوا۔ تروتازہ اور بھرا ہوا۔
مثلاً چہرہ ہو۔ چہرہ خوب بھرا ہوا اور تروتازہ ہو تو کہتے ہیں وَجْهٌ رَيَّانٌ، وَجْهٌ رَيَّانٌ۔ یا اسی طرح مثلاً گھوڑا ہے اور اس کی کمر گوشت سے پر ہو، بیٹھنے میں آسانی ہو، تو کہتے ہیں فَرَسٌ رَيَّانٌ۔ یعنی اس کی کمر کیا ہے؟ گوشت سے پر ہے۔ تو اسی کی مونث ہے رَیا بھئی، رَیا۔
اور مخلخل، مخلخل، مخلخل خلخال کی جگہ، خلخال کی جگہ اور خلخال کہتے ہیں پازیب کو۔ وہ جو عورت زینت کے لیے پاؤں میں زیور پہنتی ہے، پازیب بھئی۔ اور تو خلخال کی جگہ، پازیب کی جگہ کیا ہے؟ پنڈلی ہے بھئی، پنڈلی۔ تو مخلخل: پنڈلی۔
تو امرؤالقیس کہتا ہے: حصرت، کہ جب ہم اس جگہ پر پہنچ گئے اور اطمینان ہو گیا، خوف ختم ہو گیا، حَصَرْتُ بِفَوْدَيْ رَأْسِهَا، تو میں نے اس کو کھینچا، بِفَوْدَيْ رَأْسِهَا، اس کے سر کی دونوں جانبوں سے پکڑ کر، یعنی دونوں جانب کے بالوں سے پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچا۔ فَتَمَايَلَتْ، تو وہ میری، فَتَمَايَلَتْ عَلَيَّ، تو وہ میری طرف جھک آئی، اس نے میری فرمانبرداری کی۔
حَصَرْتُ بِفَوْدَيْ رَأْسِهَا، تو میں نے اس کو کھینچا اس کے سر کے دونوں طرف کے بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف، فَتَمَايَلَتْ عَلَيَّ، تو وہ میری طرف جھک آئی۔ هَضِيمَ الْكَشْحِ، یہ منصوب ہے، حال ہے۔ اس حال میں کہ اس کے پہلو بڑے پتلے تھے۔
آسان لفظوں میں کہیں پہلو پتلے، معنی یہ ہے یعنی کمر پتلی تھی، کیا تھی؟ اور آپ جانتے ہیں پتلی کمر کا ہونا کیا ہے؟ حسن و جمال کی علامت ہے بھئی، حسن و جمال کی علامت ہے۔
اور یہ حسن و جمال کی علامت اور تو شعراء اپنے عاشق محبوب اور عاشقہ کے حسن و جمال کو پتلی کمر کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ اور بعض تو پھر اس میں اتنا مبالغہ کرتے ہیں کہ حد سے گزر جاتے ہیں۔
ایک شاعر اپنے محبوب کی پتلی کمر بیان کر رہا ہے۔ تو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: صنم صنم محبوب صنم سنا ہے تیری بھی کمر ہے صنم سنا ہے تیری بھی کمر ہے کہاں ہے؟ کدھر ہے؟ کس طرف ہے؟ مطلب اتنی پتلی کمر ہے کہ مجھے تو آج تک پتہ ہی نہیں تھا کہ اس کی کمر بھی ہے بھئی۔ اچھا بھئی، تو شعراء کا کلام اس طرح ہوتا ہے بھئی۔
تو هَضِيمَ الْكَشْحِ، جی! اب دیکھیے، سنیے ذرا بھئی! امرؤالقیس ان کے حسن و جمال اور صفات کو بیان کرتا چلا جاتا ہے۔ انسان حیران رہتا ہے کہ کتنی گہری نظر وہ رکھتا ہے اور کیسی کیسی صفات عرب یہ صرف وہ نہیں بیان کر رہا، عرب کے ہاں یہ چیزیں، یہ چیزیں حسن کا معیار سمجھی جاتی تھیں بھئی۔ تو ان کی دیکھیے بھئی!
هَضِيمَ الْكَشْحِ، پتلے پہلو والی یعنی پتلی کمر والی۔ رَيَّا الْمُخَلْخَلِ، اور بھری ہوئی پنڈلی والی، تروتازہ بھری ہوئی پنڈلی والی۔ ہاں! تو کمر تو پتلی پسندیدہ، لیکن پنڈلی پتلی اور سوکھی سی ہو وہ پسندیدہ نہیں ہے، بلکہ پنڈلی کیا ہو؟ موٹی، کچھ موٹی اور بھری ہوئی ہو، یہ عورتوں میں حسن و جمال کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
حَصَرْتُ بِفَوْدَيْ رَأْسِهَا فَتَمَايَلَتْ عَلَيَّ هَضِيمَ الْكَشْحِ رَيَّا الْمُخَلْخَلِ
کہتے ہیں جب ہم اس جگہ میں پہنچے جہاں اردگرد ریت کے ٹیلے تھے، جگہ کچھ نیچی تھی، ہمیں اطمینان ہو گیا، خوف کچھ ختم ہوا، خطرہ کم ہوا کہ اب کسی کی نظر نہیں پڑے گی، تو حَصَرْتُ بِفَوْدَيْ رَأْسِهَا، میں نے اس کو کھینچا اس کے سر کے دونوں جانبوں سے پکڑ کر، یعنی سر کے دونوں طرف کے بالوں سے پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچا، فَتَمَايَلَتْ عَلَيَّ، تو وہ میرے اوپر جھک آئی، میری طرف جھک گئی یعنی اس نے میری فرمانبرداری کی۔
حَصَرْتُ بِفَوْدَيْ رَأْسِهَا فَتَمَايَلَتْ عَلَيَّ، میں نے اس کو سر کی دونوں جانب کے بالوں سے پکڑ کر کھینچا، فَتَمَايَلَتْ عَلَيَّ، تو وہ میرے اوپر جھک آئی۔ هَضِيمَ الْكَشْحِ، یہ منصوب ہے، یہ حال ہے، اس حال میں کہ وہ پتلی کمر والی تھی، رَيَّا الْمُخَلْخَلِ، اور بھری ہوئی پنڈلی والی تھی، یا یوں کہیں گداز پنڈلی والی تھی، وہ پتلی کمر اور گداز پنڈلی والی تھی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وہی بھری ہوئی پنڈلی کے لیے گداز پنڈلی بہترین لفظ ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آیا؟ پھر سنیں: حَصَرْتُ بِفَوْدَيْ رَأْسِهَا فَتَمَايَلَتْ عَلَيَّ هَضِيمَ الْكَشْحِ رَيَّا الْمُخَلْخَلِ، میں نے اس کو سر کی دونوں جانبوں سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا، فَتَمَايَلَتْ عَلَيَّ، تو وہ میرے اوپر جھک آئی، اس حال میں کہ وہ پتلی کمر والی تھی اور گداز پنڈلی والی تھی، اس حال میں۔
اردو میں عموماً یہ ترجمہ اس طرح نہیں ہوتا، تو اس کو ذرا درمیان میں لے آؤ۔
حصرت، میں نے اس کو سر کی دونوں جانب کے بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا، تو وہ پتلی کمر والی، گداز پنڈلی والی، میری طرف جھک آئی۔ وہ پتلی کمر والی اور بھری ہوئی پنڈلی والی، گداز پنڈلی والی، میری طرف جھک آئی۔
مُهَفْهَفَةٌ بَيْضَاءُ غَيْرُ مُفَاضَةٍ تَرَائِبُهَا مَصْقُولَةٌ كَالسَّجَنْجَلِ
مُهَفْهَفَةٌ، اس کا پھر وہی معنی: پتلی کمر والی۔ وہی جس کے پہلو کیا ہوں؟ پتلے ہوں، اس کو مهفهفة کہتے ہیں۔ تو پہلے هَضِيمَ الْكَشْحِ دو لفظ جس معنی کو ادا کر رہے تھے، اب مُهَفْهَفَةٌ اکیلا ایک ہی لفظ اس معنی کو ادا کر رہا ہے۔
بَيْضَاءُ، بیضاء، ابیض کی مونث، سفید یعنی گورے رنگ والی۔
غَيْرُ مُفَاضَةٍ، مفاضۃ وہ عورت جس کا پیٹ بڑھا ہوا ہو اور جسم کی کھال اور گوشت لٹک گیا ہو، اور یہ کیا عورتوں میں حسن شمار ہوتا ہے یا عیب شمار ہوتا ہے؟ عیب۔ ہاں، یہ تو آپ بھی جانتے ہیں یہ عیب شمار ہوتا ہے۔ تو اس کہہ دیا غَيْرُ مُفَاضَةٍ کہ وہ مفاضۃ نہیں تھی، بڑھے ہوئے پیٹ والی اور لٹکے ہوئے گوشت والی نہیں۔
تَرَائِبُهَا مَصْقُولَةٌ كَالسَّجَنْجَلِ، ترائب جمع ہے تریبۃ کی۔ اور تریبۃ یہ سینے کا اوپر والا حصہ گلے کے ساتھ جہاں پر یہ ہار پہنتی ہیں عورتیں بھئی، یہ حصہ کیا کہلاتا ہے؟ تریبۃ، اسی کی جمع ترائب ہے ترائب۔ تو ترائب جمع استعمال کی، حالانکہ تریبۃ تو ایک ہوتا، اوپر والا حصہ سینے کا، تو بتلانا یہ چاہتا ہے کہ اس کا سینے کا یہ اوپر والا حصہ بھی کشادہ تھا، یعنی اعتدال کے درجے میں کشادہ اور وسیع تھا جو پسندیدہ اور اچھی صفت ہے، بجائیکہ کہ یہ تنگ ہو اس کے بجائے یہ جگہ کیا تھی؟ اعتدال کے درجے میں کشادہ اور وسیع تھی۔
مَصْقُولَةٌ، صقول کا معنی ہے: روشن اور چمکدار۔
كَالسَّجَنْجَلِ، سجنجل یہ رومی زبان کا لفظ ہے جسے عربی میں لایا گیا، عربی میں نقل کیا گیا اور یہ آئینے کو کہتے ہیں، شیشہ بھئی جس میں آپ چہرہ دیکھتے ہیں، آئینہ۔
مُهَفْهَفَةٌ بَيْضَاءُ، تو مهفهفة خبر ہے، مبتدا محذوف ہے بھئی، هِيَ مُهَفْهَفَةٌ۔ اور بیضاء وغیرہ آگے اسی کی صفات ہیں بھئی۔ هِيَ، تو وہ جو عاشق میری عاشقہ تھی، مُهَفْهَفَةٌ، پتلی کمر والی تھی۔
بیضاء، سفید رنگ گورے رنگ والی تھی، غیر مفاضۃ، بڑھے ہوئے پیٹ اور لٹکے ہوئے گوشت والی نہیں تھی، ترائبہا مصقولۃ کالسجنجل، اور اس کے سینے کا اوپر والا حصہ ایسا روشن اور چمکدار تھا جس طرح کہ آئینہ ہوتا ہے، آئینہ ہوتا ہے۔
معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ کبکر المقانات البیاض بالصفرۃ غذاہا نمیر الماء غیر محلل۔ آپ کی کتابوں میں غیرُ المحلل ہوگا، ہاں یہ الف لام بھی آیا ہے لیکن جو مستند کتابیں زیادہ ان میں المحلل نہیں ہے الف لام کے بغیر ہے، غیرَ محلل۔
کبکر المقانات، بکرِ شئے کہتے ہیں اولِ شئے کو، ابتدائی شئے، ابتدائی شئے۔ اسی سے باکورہ ہے باکورہ، باکورہ وہ پھل جو موسم شروع ہوا پھلوں کا تو اول اول جو پھل پک کر تیار ہوا درختوں پر اس کو کیا کہتے ہیں؟ باکورہ۔ مثلاً عام کا موسم شروع ہوا تو ابتداء کے اندر جو کچھ عام پک گئے وہ کیا ہیں؟ باکورہ۔ حدیث میں بھی اس کا ذکر آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باکورہ لایا جاتا یعنی نیا موسم کا پھل لایا جاتا تو حضور علیہ السلام بچوں سے ابتداء فرماتے ان میں تقسیم کرتے ان کو دیتے بھئی۔
تو بکر، اولِ شئے کو کہتے ہیں ابتدائی حصہ۔ مقانات، قانا یقانی مقاناتاً فهو مقانٍ وقونی یقانی مقاناتاً فهو مقانً۔ تو مقانات، قانا یقانی کا معنیٰ ہوتا ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا، مکس کرنا بھئی مکس کرنا۔ مثلاً آپ ایک چیز کو دوسری کے ساتھ ملائیں اور مکس کریں تو عربی میں کہیں گے قنیت بین الشیئین، میں نے ان دو چیزوں کو کیا کیا؟ ملا دیا، قنیت۔
اسی سے مقانات ہے لیکن یہ جو مقانات آ رہا ہے لفظ یہ مصدر نہیں ہے، مصدر بھی اسی وزن پر آتا ہے بلکہ یہ اسمِ مفعول ہے۔ اور اسمِ مفعول کیا تھا؟ مقناً تھا، ابھی آپ نے گردان میں پڑھا مقناً، لیکن وہ مذکر ہے، مونث ہوگا تو گول تا بھی ساتھ آ جائے گی بھئی، تو کیا بن جائے گا؟ مقانات۔
تو قانا یقانی کے معنیٰ ملانا، تو مقانات وہ جس کو ملایا گیا ہو، تو وہ جو مکسچر بنا اس کو کہیں گے مقانات۔ مصدر بھی ہے اور اسمِ مفعول بھی ہے، تو یہ اسمِ مفعول ہے یہاں پر، وہ جو مکسچر بن گیا، وہ جو دو چیزیں ملا دی گئیں اس کو کیا کہیں گے؟ مقانات بھئی۔
البیاض، بیاض سفیدی۔ بالصفرۃ، صفرۃ کہتے ہیں زردی کو، زردی، زرد رنگ۔ غذاہا، غذا کا معنیٰ، غذاہا نمیر الماء، آگے اس چونکہ پانی کا ذکر آ رہا ہے تو یہاں غذاہا کھلانے کے معنیٰ میں نہیں بلکہ پلانا یعنی سیراب کرنا، کھلانا۔ غذاہا کہ اس کو پلایا یعنی اس کو سیراب کیا ہو، نمیر الماء، نمیر الماء، نمیر وہ پانی جو خوب صاف و شفاف اور میٹھا ہو اور جسم کے لیے انتہائی نافع ہو۔ آپ جانتے ہیں بدن کو خوراک سے زیادہ ضرورت پانی کی ہوتی ہے اور پانی زیادہ استعمال ہوتا ہے، تو یہ پانی جتنا عمدہ اور اعلیٰ ہوگا اتنی ہی بدن کی پرورش بھی اچھے طریقے سے ہوگی، بدن کی نشوونما بھی اچھے طریقے سے ہوگی۔
تو اس لیے نمیر الماء کہا، وہ صاف و شفاف میٹھا پانی جانتے ہو یا نہیں؟ جی، یہ شربت نہیں مراد، یہ جو پانی ہم پیتے ہیں یہ کیا ہے؟ میٹھا پانی ہے۔ ایک نمکین پانی، سمندر کا پانی جو ہے وہ اتنا نمکین ہو سکتا ہے کہ آپ ایک گھونٹ اپنے حلق سے نہیں اتار سکتے بھئی، اتنا نمک ہوتا ہے۔ تو اس کے مقابلے میں یہ جو ہم پانی پیتے ہیں یہ کیا ہے؟ میٹھا پانی ہے۔
غیرِ محلل، محلل حلول سے ہے، تو محلل حلول سے ہے، حلول کا معنیٰ ہے کسی جگہ آنا، کسی جگہ نازل ہونا۔ تو محلل وہ جگہ جہاں پر نازل ہوا جائے، اور کہا غیرِ محلل، جس پر کوئی آیا نہ ہو۔ بھئی دیکھیے! پانی، پانی کا کہیں ذخیرہ ہے، اس ذخیرے پر اگر انسان اور حیوانات سارے آتے ہیں اور تو اس کا یقیناً اس کا پانی اتنا صاف نہیں ہوگا، کیونکہ جو بھی حیوان وغیرہ پانی کے کنارے پر اترے گا اس کی وجہ سے مٹی اس میں شامل ہوگی یا نہیں شامل ہوگی؟ اس کی وجہ سے اس میں مٹی شامل ہوگی، تو پانی اس طرح کا صاف و شفاف نہیں رہے گا۔ لیکن اگر ایک پانی ایسا ہو جس پر کوئی بھی نہ آتا ہو تو یقیناً اس میں اس طرح کی کوئی آمیزش نہیں ہوگی اور خوب صاف و شفاف پانی ہوگا۔ تو غیرِ محلل کہا، وہ پانی جس پر کوئی آیا نہ ہو یعنی خوب صاف و شفاف ہو۔
کبکر المقانات البیاض بالصفرۃ غذاہا نمیر الماء غیر محلل، کبکر المقانات، جیسے کہ نیا نیا وہ اچھا، مقانات کا معنیٰ؟ ملایا ہوا، ملایا ہوا۔ اب اس سے کیا مراد ہے؟ تو علماء بعض علماء نے کہا اس سے مراد شتر مرغ کا انڈا ہے، اور بعضوں نے کہا کہ اس سے موتی مراد ہے، وہ جو سیپی سے موتی نکلتا ہے۔ اور بعضوں نے کہا اس سے یہ نرکل مراد ہے، خاص قسم کا نرکل، یہ نرکل جانتے ہیں بھئی؟ جس کو کانا کہتے ہیں آپ، جس سے لکھتے ہیں، قلم وغیرہ بناتے ہیں بھئی، چک وغیرہ بناتے ہیں بھئی۔ قلم اور چک وغیرہ بناتے ہیں اس کو نرکل کہتے ہیں، نرکل۔ جی، اس کو نرکل کہتے ہیں اردو میں۔ تو یہ کانا یہ یہ ایسی جگہ پر اگتا بعض قسمیں ہیں جو ایسی جگہ پر اگتی ہیں جہاں پانی خوب بکسرت ہو بھئی، خوب بکسرت۔
تو بعضوں نے کہا اس مقانات سے کیا مراد ہے؟ شتر مرغ کا انڈا۔ اور بعضوں نے کہا اس سے مراد سیپی کا موتی مراد ہے۔ اور بعضوں نے کہا اس سے نرکل مراد ہے۔ المقانات البیاض بالصفرۃ، کہ ملایا گیا ہو جس کی سفیدی کو بالصفرۃ زردی کے ساتھ، وہ چیز جس کی سفیدی کو، وہ ملائی ہوئی چیز جس کی سفیدی کو کس کے ساتھ ملایا گیا ہو؟ زردی کے ساتھ ملایا گیا ہو، شتر مرغ کا انڈا بھی ایسا ہوتا ہے، اس کے اس میں وہ سفید ہوتا ہے لیکن اس میں کچھ زرد رنگ کی ہلکی سی آمیزش ہوتی ہے، اور عورتوں کے رنگ کو اس کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے حسن و جمال کے اندر بھئی۔ میں نے پہلے بیان کیا تھا، عورتوں میں کون سا رنگ پسندیدہ؟ سفید ہو جس میں ہلکی سی زردی ہو، اور مردوں میں کون سا رنگ پسندیدہ؟ کہ سفید رنگ ہو اور اس میں سرخی کی آمیزش ہو بھئی۔
تو شتر مرغ کا جو انڈا ہے اس میں بھی سفیدی کے ساتھ کچھ ہلکی سی زردی ہوتی ہے، تو وہ مراد ہے۔ اور بکرِ مقانات کہا، بکرِ مقانات، اولِ وہ انڈا جب شتر مرغ انڈا دینا شروع کرے، اولِ انڈا، کیوں؟ کیونکہ جب ابتداء میں وہ انڈے دینا شروع کرتا ہے یقیناً وہ قوی ہوگا، جوان ہے، طاقتور ہے، اور اس کے بعد کچھ آ گیا جوں جوں وقت بڑھتا ہے ضعف بڑھتا چلا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اولِ، وہ اولِ انڈا شتر مرغ کا جس کے سفیدی کے ساتھ کیا ملی ہوئی ہو؟ زردی۔ اس کے رنگ کو بیان کر رہا ہے نا کبکر المقانات البیاض بالصفرۃ، کہ وہ عاشقہ اس کا رنگ کس کی طرح ہے؟ شتر مرغ کے اولِ انڈے کے رنگ کی طرح ہے جس کے ساتھ کیا ملی ہوئی ہوتی ہے؟ سفیدی کے ساتھ زردی ملی ہوئی ہوتی ہے یعنی بہت خوبصورت رنگ ہے اس کا گورا رنگ۔
یا اس کا معنیٰ کر بعضوں نے کیا مقانات، مقانات کا معنیٰ جس میں ملائی گئی ہو سفیدی اور زردی۔ بعضوں نے کہا اس سے مراد سیپی کا موتی مراد ہے، سیپی کا موتی۔ کہ سیپی کا وہ موتی جس میں سفیدی کے ساتھ کیا ملائی گئی ہو؟ سفیدی کے ساتھ کچھ ہلکا سا کچھ ہلکے سے زرد رنگ کی آمیزش ہو۔ اور بکرِ مقانات کہا، تو یہاں پھر بکر اول کے معنیٰ میں نہ لیں، پھر معنیٰ ہوگا یکتا موتی، کہ پہلا ایسا موتی ہے اس جیسا تو اور کوئی موتی ہے ہی نہیں، معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بکرِ مقانات البیاض بالصفرۃ کا معنیٰ کہ وہ یکتا اور منفرد موتی جس میں سفید رنگ کے ساتھ زرد رنگ کی آمیزش ہو اور ایسا اور کوئی موتی نہ ہو۔
اس پر اشکال ہوتا ہے، یہ جن شارحین نے مقانات سے موتی مراد لیا ان پر اشکال ہوتا ہے کہ آگے امرؤالقیس نمیر الماء کہہ رہا ہے، اس سے موتی آپ مراد نہیں لے سکتے، کیونکہ موتی جو ہے وہ نمکین پانی میں یعنی سمندر میں بنتا ہے اور میٹھے پانی یعنی دریاؤں میں نہیں بنتا۔ تو لہٰذا نمیر الماء آگے آ رہا ہے، آپ موتی مراد نہیں لے سکتے۔ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ بھئی! جیسے ہمارے لیے میٹھا پانی نہایت نافع اسی طرح موتی کے لیے وہ نمکین پانی نہایت نافع، تو یہاں نمیر الماء سے وہ نمکین پانی مراد ہے، اور اس کو اس لیے نمیر الماء کہا کیونکہ وہ موتی کے لیے نمیر الماء کی جیسی خاصیت رکھتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
اور بعضوں نے مقانات کا معنیٰ کیا نرکل بھئی کانا، اس میں بھی آپ دیکھتے ہیں سفید رنگ کے ساتھ زرد رنگ کی آمیزش، اور پھر وہ پانی کے اندر جو خاص اس کی قسم پانی میں اگنے والا ہے یقیناً اس کا رنگ اور زیادہ ہلکا ہوگا کیونکہ پانی کثرت کے ساتھ وہاں ہوتا ہے۔
تو کبکر المقانات البیاض بالصفرۃ، جیسے کہ وہ نرکل بھئی، جس کے اولِ نرکل جس کے سفیدی کے ساتھ زردی ملی ہوئی ہو، غذاہا نمیر الماءِ، جس کو صاف و شفاف میٹھے پانی نے سیراب کیا ہو، ایسا پانی غیرِ محللٍ جس پر کوئی آیا نہ ہو۔
معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہ جس کو کس نے سیراب کیا ہو؟ صاف و شفاف پانی نے، ایسا پانی جس پر کوئی آیا نہ ہو بھئی، آیا نہ ہو۔ یعنی میری عاشقہ کا ایسا صاف ستھرا سفید رنگ ہے زردی مائل، اور وہ ایسی ہے جس کو سیراب کیا ہو صاف و شفاف صاف و شفاف عمدہ جسم کو خوب نفع دینے والے پانی نے، اور یقیناً جب ایسا پانی استعمال ہوگا تو بدن کی میں نے پہلے ذکر کیا نشوونما بہت اچھے طریقے سے ہوگی۔
تو پہلی صورت میں کیا ہوگا؟ وہ شتر مرغ کا انڈا اور اس کو سیراب کیا ہے کس طرح کے پانی نے؟ نمیر الماء نے، یقیناً جب شتر مرغ ایسا پانی پیتا ہے نشوونما زیادہ ہوگی اور انڈے اتنے ہی اچھے ہوں گے۔ اور اگر اس سے موتی مراد لیں تو پھر ہے تو نمکین پانی مراد لیکن نمکین پانی اس کے لیے کس کے درجے میں ہے سیپی کے لیے؟ نمیر الماء کے درجے میں، اور اگر اس کا معنیٰ وہ نرکل کے کریں، کبکر المقانات، جیسے کہ اولِ کانے جو نرکل جو ہوتے ہیں جن میں سفیدی کے اندر زردی کی آمیزش ہو، اور ان کو سیراب کیا ہو صاف و شفاف ایسے پانی نے جس پر کوئی نازل نہ ہوا ہو، جہاں کوئی آیا نہ ہو۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ ایک نرکل ویسے زمین میں ہے اور ایک پانی والی زمین میں ہے، وہ ظاہر سی بات ہے وہ اعلیٰ ہوگا، اس کو خوب پانی مل رہا ہے۔
اور پھر وہ پانی اگر صاف و شفاف ہوگا جس پر کوئی آیا ہی نہیں، تو نرکل بھی بڑا صاف ستھرا ہوگا اور اگر پانی میلا ہے، تو میلے پانی کے تو نشان پڑتے چلے جائیں گے اور وہ نرکل صاف ستھرا نہیں ہوگا- تو کیا کہا؟ ایسا نرکل جس زردی میں سفیدی کی آمیزش ہے اور اس کو
ایسے صاف و شفاف پانی نے سیراب کیا ہے جس پر کوئی اترا نہیں ہے، یعنی بڑا صاف ستھرا ہے- معنی سمجھ میں آ گیا؟
کبکر المقانات البیاض بصفرۃ غذاہا نمیر الماء غیر محلل
جیسے کہ شتر مرغ کا ابتدائی انڈا جس کی سفیدی زردی کے ساتھ ملی ہوئی ہو اور جس کو سیراب کیا ہو خوب صاف و شفاف اور جسم کو نفع دینے والے پانی نے-
تو البیاض جو ہے البیاض، یاد رکھیے یہاں پر البیاض پر رفع پڑھنا بھی ٹھیک ہے، نصب پڑھنا بھی ٹھیک ہے اور جر پڑھنا بھی ٹھیک ہے- کبکر المقانات البیاض، کبکر المقانات البیاض، کبکر المقانات البیاض بصفرۃ-
تو اگر اس کو مجرور پڑھیں تو یاد رکھیے اس صورت میں یہ مضاف الیہ ہے- المقانات ہے مضاف اور البیاض کیا ہے؟ مضاف الیہ- اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ یہاں تو مضاف پر بھی الف لام داخل ہے، حالانکہ مضاف پر تو الف لام داخل نہیں- نہیں بھئی، ایسا نہیں ہے مضاف پر بھی الف لام آ جاتا ہے اور تفصیل اس کی آپ کو ملے گی صفت مشبہ کی بحث میں- قافیہ میں اس میں فاعل کی بحث میں بھی مل جائے گی اور صفت مشبہ کی بحث کے اندر بھی
جیسے الحسن الوجہ
الحسن الوجہ، تو یہ الوجہ پر جو جر آ رہا ہے یہ کس کی وجہ سے ہے؟ اضافت، اور اس میں آپ دیکھ رہے ہیں الحسن صفت مشبہ جو مضاف ہے اس پر بھی کیا داخل ہے؟ الف لام- تو اس میں ایک شرط یہ ہے کہ
مضاف پر بھی الف لام داخل ہو سکتا ہے بشرطیکہ مضاف الیہ پر بھی الف لام ہو-
کیا ہو؟
تو یہاں پر بھی آپ دیکھ رہے ہیں المقانات البیاض، مضاف پر اگر الف لام ہے تو مضاف الیہ پر بھی کیا ہے؟ الف لام ہے بھئی الف لام ہے-
تو یہ اس میں فاعل کی بحث میں بھی یہ بات مل جائے گی قافیہ کے اندر آپ کو اور صفت مشبہ کے اندر بھی-
اور اگر اس پر نصب پڑھیں
البیاض
تو پھر یاد رکھیے یہ شبیہ مفعول بنے گا- کیا بنے گا؟ شبیہ- صفت مشبہ کے اندر بھی آپ پڑھیں گے
الحسن الوجہ
الحسن الوجہ، اب یہ الوجہ کو نصب کون دے رہا ہے؟ الحسن، اور الحسن کیا ہے؟ صفت مشبہ، اور صفت مشبہ یہ اس کو نصب دے رہی ہے، یہ اس کے لیے کیا بن رہا ہے؟ بھئی صفت مشبہ تو نصب نہیں دیتی، اس کے لیے تو مفعول نہیں آتا-
تو پھر علماء نحو فرماتے ہیں کہ اس کے لیے چونکہ مفعول نہیں آتا لیکن یہ نصب یہاں دے رہی ہے تو اس کو پھر وہ شبیہ مفعول کہتے ہیں، یعنی مفعول کے مشابہ ہے، مفعول نہیں لیکن مفعول کے مشابہ ہے-
اور اگر اس پر رفع پڑھیں بھئی رفع البیاض،
تو پھر اس صورت میں اسی کے لیے فعل محذوف مجهول فعل نکال لیں گے المقانات کے مطابق- المقانات، فعل اس سے کیا بنے گا؟ قانی یقانی، اور اسی سے مجهول بنا لو، قونی-
قونی البیاض بصفرۃ، تو یہ تینوں روایتیں اس کے اندر آئی ہیں بھائی- رفع بھی، نصب بھی، جر بھی- جر کس کی وجہ سے؟ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے- نصب کس وجہ سے؟ شبیہ مفعول ہونے کی بنا پر، اور رفع کس بنا پر؟
کہ نائب فاعل بنے گا کس کے لیے؟ فعل محذوف کے لیے بھائی-
جبکہ آگے غیر محلل، یہ حال بن جائے گا بھئی، حال نمیر الماء سے بھائی-
جی آگے دیکھیے:
تصد وتبدي عن أسيل وتتقي بناظرة من وحش وجرة مطفل
صد یصد کے معنی ہیں اعراض کرنا، اعراض کرنا، منہ موڑنا، رخ پھیرنا، صد یصد- ابدى يبدي کے معنی ظاہر کرنا- عن أسيل، یہ صفت ہے موصوف محذوف ہے، أي عن خد أسيل- خد کہتے ہیں رخسار کو، رخسار کو- اسیل، اسیل جو مائل بہ طول ہو، یعنی جس میں کچھ لمبائی ہو، کچھ لمبائی ہو-
یعنی ایسا رخسار جس میں کچھ قدرے لمبائی ہو اعتدال کے درجے میں جو پسندیدہ ہو- بھئی آپ جانتے ہیں، بالکل گول چہرہ، یہ بھی حسن کی علامت نہیں اور زیادہ لمبا چہرہ، یہ بھی حسن کی علامت نہیں، بلکہ اعتدال کے درجے میں اس میں لمبائی ہو، یہ کیا ہے؟ حسن کی علامت- تو وہی بیان کر رہا ہے عن خد أسيل، ایسا رخسار جو اعتدال کے درجے میں لمبا ہے- وتتقي، اتقی یتقی کے معنی ہیں بچنا- بناظرۃ، ناظرہ دیکھنے والی، یعنی آنکھ مراد ہے، آنکھ، نگاہ- من وحش وجرة مطفل-
وحشی،
وحشی، جنگلی کو کہتے ہیں بھئی، اور یہ جمع ہے وحشی کی، جیسے
رومی، یہ مفرد ہے اور روم، یہ جمع ہے- زنجی، یعنی حبشی، زنجی، یہ مفرد ہے اور زنج، یہ کیا ہے؟ جمع ہے- اسی طرح وحشی، یہ کیا ہے؟ مفرد ہے، اور وحش، یہ کیا ہے؟ تو کبھی مفرد کے لیے یا بھی لاتے ہیں جیسے عربی اور عرب، عربی ایک عرب، اور عرب اس کی جمع-
اسی طرح وحشی کی جمع وحش بھائی-
تو وحشی، یعنی جنگلی- وجرۃ،
وجرہ، یاد رکھیے یہ مکہ اور بصرہ کے درمیان ایک جنگل ہے اس کا نام ہے- جنگل ہے- میلوں تک پھیلا ہوا جنگل ہے جہاں کسی قسم کی کوئی آبادی نہیں بھائی- اب تو علم نہیں لیکن اس زمانے میں یہ ایسا تھا- میلوں تک پھیلا ہوا جنگل تھا
اور اس میں کسی قسم کی آبادی نہیں تھی اور جنگلی جانور خوب بثرت تھے وہاں-
اور یہ وجرہ، یہ غیر منصر ف ہے اسی لیے اس پر جر نہیں آیا ورنہ تو یہ مضاف الیہ بن رہا ہے وحش کے لیے- ایک علمیت ہے اور ایک تانيث ہے-
مطفل، مطفل طفل سے ہے، طفل کہتے ہیں بچے کو، تو مطفل
وہ حیوان جو بچوں والا ہو، جس کے بچے ہوں-
معنی سمجھ میں آ گیا ایک ایک لفظ کا؟ جی، امرؤ القیس کہتا ہے: تصد، وہ عاشقہ جو ہے وہ رخ پھیرتی ہے، منہ موڑ کے اعراض کرتی ہے مجھ سے وتـبدي عن أسیل اور اپنے
اعتدال کے درجے میں لمبے رخسار کو ظاہر کرتی ہے-
بھئی دیکھیے ایک ہے بالکل آمنے سامنے ہونا اور ایک یہ جب انسان رخ موڑے گا تو ظاہر سی بات ہے اب ایک رخسار دوسرے کے سامنے آ گیا، تو کہتا ہے یہ بھی کیا کرتی ہے؟ اعراض کرتی ہے، رخ پھیرتی ہے اور کس کو ظاہر کرتی ہے؟ اعتدال کے درجے میں اپنے لمبے رخسار کو ظاہر کرتی ہے- وتتقي اور یہ بچتی ہے، یہ مجھ سے اپنا بچاؤ کرتی ہے بناظرۃ ایسی نگاہ کے ذریعے یا یہ بچتی ہے یعنی
کوئی بھی قبیلے والا، قوم والا، یا وہ ہمیں نہ دیکھ لے تو یہ بچتی ہے کس کے ساتھ؟ بناظرۃ ایسی آنکھ کے ساتھ من نواظر وحش وجرۃ، یہاں ناظرہ کی جمع نواظر آگے نکال لیں بھئی من کے بعد، من نواظر، ایسی آنکھ من نواظر جو
ان آنکھوں میں سے ہے وحش وجرۃ جو مقام وجرہ کے وحشی جانوروں کی ہیں- مقام وجرہ کے وحشی جانوروں کی آنکھوں میں سے ایک آنکھ کے ذریعے یہ کیا کرتی ہے؟ اپنا بچاؤ کرتی ہے- مطفل اور مقام وجرہ کے وہ وحشی جانور بھی کس قسم کا ہو؟ بچوں والا ہو-
اور وحشی جانور سے مراد ہے، مراد جو ہے وہ ہرن ہے بھئی جی ہرن، کیونکہ آگے اس کا ذکر بھی آ رہا ہے، ہرن یا جنگلی گائے مراد ہے- اور عرب جو ہے آنکھوں کے حسن و جمال میں عموماً ہرن کی آنکھ کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں- کسی کی آنکھیں بے انتہا حسین ہوں تو اس کو تشبیہ کس سے دیتے ہیں؟ ہرن کی آنکھ سے بھائی-
سمجھ میں آیا؟
اور آپ حیران ہوں گے ہرن کی آنکھوں میں ایسی کیا خوبصورتی ہے؟ بھئی آپ عام ہرن کو دیکھیں نا،
اس کی آنکھوں میں بھی خوبصورتی لیکن اتنی خوبصورتی نہیں ہے- اگر آپ عرب کے ریگستانوں میں پائے جانے والے ہرن کو دیکھ لیں آپ اس کی آنکھوں کی خوبصورتی دیکھ کر حیران رہ جائیں گے بھائی- وہ بڑا دبلے پتلے جسم والا بڑا ہی حسین سفید رنگ کا ہوتا ہے- یہ عام ہرن تو سفید رنگ کا نہیں، وہ
سفید رنگ کا ہوتا ہے بہت خوبصورت رنگ ہوتا ہے اور اس کی اتنی موٹی اور اتنی خوبصورت آنکھیں ہوتی ہیں کہ انسان دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے بھائی- تو اس کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے عورتوں کی آنکھوں کو، حسن کو، تشبیہ دیتے ہیں کس چیز میں؟ حسن و جمال میں-
تو امرؤ القیس کہتا ہے کہ وہ مجھ سے اپنا بچاؤ کرتی ہے اور رخ پھیرتی ہے اور اپنے لمبے رخسار کو ظاہر کرتی ہے یا اور لوگوں سے اپنا، اپنے آپ کو بچاتی ہے محفوظ رکھتی ہے ایک ایسی آنکھ کے ذریعے من نواظر وحش وجرة مطفل جو کہ مقام وجرہ کے کسی بچوں والی ہرنی کی آنکھوں میں سے ایک آنکھ کے ذریعے یہ کیا کرتی ہے؟
یعنی اس کی آنکھ بھی ان کی آنکھوں میں سے ایک آنکھ ہے تو ان مقام وجرہ کے بچوں والی ہرنی کی آنکھوں میں سے ایک آنکھ کے ذریعے یہ کیا کرتی ہے؟ اپنا، یعنی اس کی آنکھ بھی انہی کی طرح انہی میں سے ہے بھائی- اور بچوں والی ہرنی کو بالخصوص ذکر کیا اس لیے کیونکہ ہرنی کے جب بچے ہوں اور تو پھر
اور بچے اس کے آس پاس چر رہے ہوں تو وہ بڑی ہی چوکنا ہو کر دائیں بائیں دیکھتی ہے کہ کسی قسم کا کوئی شکاری نہ آ جائے بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے- تو ایک تو بے انتہا چوکنا ہوتی ہے اور دوسرا بچے بھی ساتھ ہوتے ہیں تو ان کی طرف نظر کرتے ہوئے آنکھوں میں وہ محبت اور وہ شفقت ہوتی ہے جو عام نگاہ کے اندر نہیں ہوتی- اور یہ اس کی نگاہوں میں سے سب سے بہترین نگاہ ہے تو اس کے ساتھ تشبیہ دی کہ
میری عاشقہ جو ہے یہ اس کی طرح بے انتہا چوکنی بھی ہے اور اس کی نگاہوں کے اندر میرے لیے بے انتہا محبت بھی ہے بھئی، معنی سمجھ میں آیا بچوں؟
تصد وتـبدي عن أسيل وتتقي بناظرة من نواظر وحش وجرة مطفل
وہ اعراض کرتی ہے رخ پھیرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے اپنے بے انتہا حسین و جمیل لمبے رخسار کو اور وہ بچاؤ کرتی ہے اپنا ایک ایسی نگاہ کے ذریعے جو مقام وجرہ کے بچوں والی ہرنی وحشی ہرنی کی نگاہوں میں سے ایک نگاہ ہے-
ہاں، یہ انہوں نے سوال کیا یہ غیر محلل ہے یا غیر؟ بھئی یہ غیر محلل ہے- غیر الف لام بھی بے شک آپ پڑھ لیں بعض روایات میں، بعض کتابوں میں الف لام بھی ہے، لیکن جو مستند اور قدیم کتابیں ان میں دیکھنے سے، ان میں دیکھیں تو الف لام کے بغیر ہے یہ بھائی-
غیر محلل اور یہ غیر منصوب ہے، یہ حال ہے-
وہ نمیر الماء اس حال میں کہ اس پر کوئی نازل نہ ہوا ہو، کوئی آیا نہ ہو-
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وہ پانی اس حال میں ہے کہ اس پر کوئی آیا نہیں-
چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام-