Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-001

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 10 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 21
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
عربی ادب میں سبع معلقات ہم پڑھیں گے۔ یہ سات قصائد ہیں لیکن نصاب میں ان میں سے صرف پہلے تین معلقے داخل ‏ہیں۔ تو وہ ہم شروع کریں گے۔ آج اور ہمارے اساتذہ بزرگوں کا طریقہ ہے کہ ہر کتاب کے آغاز میں دعا پڑھتے ہیں۔ اور ‏بزرگوں اساتذہ کے ہر طریقے میں اللہ تعالی نے بڑی برکات بڑے انوارات رکھے ہیں۔ آئیے ہم سب بھی دعا پڑھ لیں بھئی ‏میرے ساتھ ساتھ پڑھیے۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ رَبَّنَا يَسِّرْ لَنَا هَذَا الْكِتَابَ وَلَا تُعَسِّرْ وَتَمِمْ بِالْخَيْرِ وَبِكَ نَسْتَعِينُ يَا فَتَّاحُ يَا عَلِيمُ۔ رَبَّنَا يَسِّرْ لَنَا هَذَا الْعِلْمَ وَلَا تُعَسِّرْ وَتَمِمْ بِالْخَيْرِ وَبِكَ نَسْتَعِينُ يَا فَتَّاحُ يَا عَلِيمُ۔ رَبَّنَا يَسِّرْ لَنَا هَذَا الْعِلْمَ وَلَا تُعَسِّرْ وَتَمِمْ بِالْخَيْرِ وَبِكَ نَسْتَعِينُ يَا فَتَّاحُ يَا عَلِيمُ۔ آمین آمین آمین ثم آمین۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ جی اب تھوڑا سا کتاب میں بھی دیکھیے۔ مُعَلَّقَةُ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ حُجْرٍ الْكِنْدِيِّ . قَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَمْرٍو الْكِنْدِيُّ : قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرَى حَبِيبٍ وَمَنْزِلِ بِسِقْطِ اللِّوَاءِ بَيْنَ الدَّخُولِ فَحَوْمَلِ فَتَوْضِحَ فالمِقْرَاةِ لَمْ يَعْفُ رَسْمُهَا لِمَا نَسَجَتْهَا مِنْ جَنُوبٍ وَشَمَأْلِ تَرَى بَعْرَ الأَرَامِ فِي عَرْصَاتِهَا وَقِيعَانِهَا كَأَنَّهُ حَبُّ فُلْفُلِ كَأَنِّي غَدَاةَ البَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُوا لَدَى سَمُرَاتِ الحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ بھئی عربی کے سات قصائد ہیں بھئی، سبع معلقات۔ اور یہ عربی ادب عربی زبان کا شاہکار ہیں۔ انسان ان شاعروں کا کلام ‏سنتا ہے، یہ عجیب عجیب تشبیہات استعمال کرتے ہیں، عجیب عجیب استعارات استعمال کرتے ہیں، نئے نئے خیالات نئے ‏نئے معانی ذکر کرتے ہیں، انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے۔ ان معلقات وغیرہ کے بارے میں میں ذکر کرتا ہوں، پہلے ایک بات ذہن میں آئی بھئی۔ بھئی بہت سے طلبہ ایسے ہوتے ہیں، ‏جن کو عربی لکھنے کا شوق ہوتا ہے، لیکن ان کے لیے عربی لکھنا بڑا مشکل پہاڑ کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ وجہ اس کی ‏یہ ہوتی ہے کہ ہمارے ذہن میں عربی کے الفاظ موجود نہیں ہوتے، ہمارے ذہن میں عربی کا ذخیرہ نہیں ہوتا، اس لیے جب ‏لکھنے لگتے ہیں، تو جو بھی معنی سوچتے ہیں، اس کے لیے پھر عربی لفظ سوچنا پڑتا ہے، تلاش کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں علم ادب کی کتابیں جو پڑھائی جاتی ہیں، عموماً طلبہ اس میں سے کچھ بھی یاد نہیں کرتے۔ مثلاً آپ نے گزشتہ ‏سال مقامات پڑھی، اور غالباً دس مقامات نصاب میں شامل ہیں، اور آپ میں سے اکثر نے پورے یا ان میں سے اکثر حصہ ‏تو ضرور پڑھا ہوگا، لیکن اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ اس میں سے کچھ سنا دو، کیا پڑھا؟ آپ کہیں گے بھئی بس کچھ ‏پڑھا تھا، وہ گزر گئے۔ اس میں سے ایک سطر، دو سطریں بھی شاید ہی کسی کے ذہن میں ہوں۔ اگر آپ عربی زبان میں یاد رکھیے، مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو یہ جو ادب کی چوٹی کی کتابیں ہیں، ان کو اپنے ‏حافظے میں محفوظ کریں بھئی۔ ہر سال کم از کم عربی کے دس پندرہ صفحات تو ضرور زبانی یاد کریں۔ اور پھر ان کو ‏یاد کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ روز جتنا یاد کرتے جائیں، روزانہ شروع سے دہرایا کریں۔ مثلاً آج آپ نے دو تین سطریں یاد کیں، اگلے دن جب دو تین مزید یاد کریں، تو کل والی بھی ساتھ دہرالیں، اور اس پہ وقت ‏ذرا بھی نہیں لگے گا، کیونکہ وہ تو آپ کو یاد ہے۔ تیسرے دن جب نئی اگلی دو تین سطریں یاد کریں، پھر شروع سے اس ‏سارے کو دہرالیں، ایک منٹ بھی نہیں لگے گا، کیونکہ وہ تو آپ کو یاد ہے۔ اس طرح آگے چلتے جائیں، اور شروع سے ‏دہراتے جائیں، اس سے وہ چیز آپ کے حافظے میں زبردست جب روز دہرائیں گے، بہترین محفوظ ہو جائے گی، بہترین ‏محفوظ ہو جائے گی۔ اور یہ آپ عموماً دیکھتے ہیں، اسکولوں کالجوں کے طالب علم بھئی میٹرک وغیرہ کیا ہو، وہ کچھ نہ کچھ انگریزی لکھ ‏لیتے ہیں، لیکن ہمارے اکثر طلبہ عربی نہیں لکھ سکتے۔ کیوں؟ بھئی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر سال کچھ نہ کچھ انگریزی یاد ‏کرتے ہیں، امتحان کے لیے، امتحان میں کوئی ایک دو کوئی ایک مضمون لکھنا ہوتا ہے یا نہیں لکھنا ہوتا؟ تو ان کو کچھ ‏دو چار مضمون تو ضرور ہی یاد کرنا پڑتے ہیں، ہر سال انگریزی کے۔ پھر امتحان میں درخواست بھی انگریزی میں ‏لکھواتے ہیں، تو وہ کچھ درخواستیں بھی ہر سال یاد کرنا پڑتی ہیں۔ پھر اسی طرح کوئی ایک آدھ خط بھی امتحان میں آ جاتا ہے، تو دو چار خط بھی ہر سال وہ یاد کرتے ہیں۔ اس طرح جب ‏وہ آٹھ دس سال تک ہر سال کچھ نہ کچھ یاد کرتے ہیں، تو آہستگی آہستگی ذہن میں اچھے خاصے الفاظ کا ذخیرہ ہو جاتا ‏ہے۔ اور ہمارے ہاں یہ روایت ہے ہی نہیں کوئی طالب علم خود کر لے تو کر لے، ورنہ ہونا یہ چاہیے بھئی کم از کم ‏مقامات میں سے کچھ نہ کچھ تو زبانی یاد کروایا کروایا جانا چاہیے۔ اسی طرح یہ معلقات میں سے کچھ زبانی بھئی۔ تو اتنی لمبی تقریر کا مقصد یہ ہے کہ آپ میں سے اگر کوئی اچھی عربی لکھنا سیکھنا چاہتا ہے، تو ہر سال کم از کم پندرہ ‏بیس صفحات آسانی سے، اگر حافظہ اچھا ہے، تو زیادہ یاد کرنے چاہئیں، پندرہ بیس صفحے تو سارے سال میں ہر ایک ‏کر سکتا ہے۔ تو پندرہ بیس صفحات عربی کے ضرور یاد کریں بھئی اور اچھی عربی۔ اساتذہ وغیرہ سے پوچھ کر یہ جو ‏اچھی کتاب ہو، اس میں سے یاد کریں اور اس کو دہراتے رہیں اور پھر بھلائیں نہ، ہر سال اس کو ایک دو دفعہ پھر دہرا ‏لیا کریں تاکہ حافظے میں محفوظ رہیں بھئی۔ تو یہ مقامات بھی کچھ نہ کچھ طلبہ کو یاد ہونی چاہئیں، اسی طرح نحوۃ العرب پڑھائی جاتی ہے، اس میں سے بھی کچھ نہ ‏کچھ اس کو زبانی یاد ہونا چاہیے۔ یہ معلقات ہیں، یہ بھی اس کو ایک دو یا تین کم از کم سال بھر میں زبانی یاد کرنے ‏چاہئیں، یہ آہستہ آہستہ عربی کے الفاظ کا ذخیرہ ذہن میں محفوظ ہوگا، اور پھر ان کا استعمال بھی سامنے آتا جائے گا کہ یہ ‏کس طرح استعمال ہوئے ہیں، ان کے ساتھ کون سا حرف جر استعمال ہو، ان کا کیا معنی ہوتا ہے، کس طرح ان کو استعمال ‏کیا جاتا ہے۔ تو یہ اب ہم سب معلقات پڑھیں گے، انشاءاللہ اس کو آپ لوگوں نے ساتھ ساتھ یاد کرنا ہے بھئی، اور بڑا آسان ہے، ہفتے ‏میں ہمارا سبق تین دن ہے، تو ہر روز اگر ہم تین یا چار اشعار بھی پڑھیں، تو تین دن میں زیادہ سے زیادہ بارہ اشعار ہو ‏گئے، اور آپ نے یہ بارہ اشعار پورے ہفتے میں یاد کرنے ہیں، یعنی آپ اس کو تقسیم کر لیں، ہر روز کے دو اشعار یا ‏تین اشعار بنیں گے زیادہ سے زیادہ، ہر روز دو تین اشعار یاد کرتے جائیں، اور اگلے ہفتے جب سبق ہوگا، پھر پچھلے ‏ہفتے کا سبق میں سنا کروں گا بھئی، کہ پچھلے ہفتے میں جتنے اشعار پڑھے تھے، وہ سارے سنائیں۔ مثلاً اگر آج ہم شروع کر دیتے ہیں، ایک یا دو اشعار اگر ہو گئے، اس کو آج سے ہی یاد کرنا شروع کر دیں، اور میں ‏اگلے ہفتے جب ہمارا سبق ہوگا تین دن تو وہاں میں ساتھیوں سے سنتا رہوں گا، اور انشاءاللہ آپ دیکھیں گے بڑی آسانی ‏سے پورا قصیدہ آسانی سے آپ کو یاد ہو جائے گا، اور آپ کے علم کیسے بڑھتا ہے، آپ کو عربی الفاظ کے معانی کا ‏کیسے پتہ چلتا ہے، چند دنوں میں یہ آپ کو پتہ لگ جائے گا، چند اشعار جب آپ یاد کر لیں گے، آگے نئے لفظ آئیں گے، ‏میں آپ سے پوچھوں گا بھئی اس کا کیا معنی ہے، آپ فورا بتا دیں گے جی اس کا تو یہ معنی ہے، ہم نے ابھی پیچھے چند ‏اشعار پہلے پڑھا تھا۔ پھر اگلا لفظ پوچھوں گا بھئی اس کا کیا، یہ جی چند اشعار ہم نے پہلے پڑھا تھا، یہ معنی ہے، تو آپ خود دیکھیں گے آپ ‏کا عربی الفاظ کا ذخیرہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ تو اس یہ طالب علمی کا زمانہ ہے، اس زمانے کی چیز ساری زندگی انسان ‏کو یاد رہتی ہے، اگر تھوڑی سی محنت کر لے۔ تو زبانی یاد کرنا ہے، انشاءاللہ ارادہ ہے سب کا انشاءاللہ؟ انشاءاللہ۔ میرے ‏والد شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ، وہ ان کو جہاں اللہ نے اتنا علم نصیب ‏فرمایا تھا، وہاں وہ عربی زبان کے بہت زبردست ادیب بھی تھے بھئی۔ اور وجہ یہی تھی، کہ ان کو یہ ابتدائی ساری کتابیں ‏زبانی یاد تھیں۔ قافیہ، اصول الشاشی، ہدایۃ النحو، وغیرہ پتہ نہیں یہ مقامات اتنی ہی کتابیں ان کو زبانی یاد تھیں، بلکہ بعض کتابیں تو ‏حاشیے سمیت یاد تھیں ان کو۔ حاشیے سمیت۔ بعض طلبہ نے ان کے حافظے کا واقعہ ذکر کیا، کہتے ہیں ایک مرتبہ درسِ ‏حدیث دے رہے تھے درسِ ترمذی، اور کوئی نحوی مسئلہ آیا، تو ذکر کیا کہ یہ مسئلہ اس طرح ہے۔ تو ایک طالب علم نے ‏ویسے تو ان کی جلالی طبیعت تھی، طلبہ پر بڑا رعب ہوتا، ایک قدرتی رعب اللہ نے ان کو نصیب فرمایا تھا۔ تو انہوں نے ‏مسئلہ ذکر کیا تو ایک طالب علم نے کہیں ہمت کی، اگلی صفوں میں بیٹھے ہوئے اور اس نے کہا کہ استادِ محترم هدایۃ ‏النحو کے اندر تو یہ مسئلہ اور طرح لکھا ہوا ہے۔ تو فرمایا نہیں بھئی هدایۃ النحو میں بھی یہ مسئلہ ایسے ہی لکھا ہے جیسے میں نے بتلایا، یہ فرمایا اور ساتھ ہی هدایۃ ‏النحو کی وہاں سے عبارت پڑھنا شروع کر دی، اور پھر وہیں رکے نہیں پڑھتے پڑھتے تین چار صفحے پڑھ کر سنا ‏دیے اور فرمایا بھئی آگے بھی چلوں یا بس کروں بھئی؟ پھر فرمانے لگے یہ کتابیں کافیہ وغیرہ، ہدایۃ النحو وغیرہ یہ ‏ابتدائی ساری کتابیں ہمیں زبانی یاد ہیں۔ اور کبھی طلبہ سے فرماتے، کہ یہ جو مقامات ہیں کہتے ہیں یہ دس مقامات مجھے قل ہو اللہ کی طرح یاد ہیں، بلکہ قل ہو ‏اللہ میں بھی شاید کچھ شک ہو، الحمدللہ تو ہر نماز میں پڑھنی پڑتی ہے، مجھے یہ الحمدللہ کی طرح یاد ہیں یہ دس مقام ‏مقامات بھئی۔ اسی طرح یہ معلقات وغیرہ اور بیسوں عرب قصیدے جو تھے، ان کو زبانی یاد تھے، ہزارہا اشعار بنتے ہیں ‏بھئی یہ، جو ان کو زبانی یاد تھے۔ ان کی عربی کی فصاحت و بلاغت پر انسان حیران ہوتا تھا بھئی۔ ان کے کئی شاگردوں ‏نے ذکر کیا، ایک نہیں کئی شاگردوں نے، جو مکہ کی یونیورسٹی میں ام القریٰ میں یا مدینہ یونیورسٹی میں پڑھنے جاتے، ‏وہ ذکر کرتے کہ بعض اوقات وہاں کے اساتذہ یہ بات کہتے کہ بھئی برصغیر پاکستان و ہندوستان میں ہم مانتے ہیں بڑے ‏بڑے علماء ہیں، لیکن ان کو عربی نہیں آتی بھئی۔ اور واقعی بات ایسی ہے کہ ہم عربی بول چال ہمارا مقصد ہی نہیں ہے، ہمارا مقصد تو کیا ہے؟ قرآن اور حدیث کو اچھی ‏طرح سمجھنا۔ ہاں عربی بول چال کے لیے تھوڑی سی مشق کی جائے انسان سیکھ لیتا ہے، اور اسی طرح عربی تحریر ‏بھی ہے، وہ بھی انسان تھوڑی مشق کرے، لیکن ہمارے ہاں کوشش اس کی زیادہ نہیں ہوتی۔ اگرچہ بڑے بڑے علماء ‏موجود ہیں، ان کی عربی تصانیف بھی موجود ہیں، لیکن عام علماء میں ایسا نہیں ہے، ان کی کتابیں وغیرہ نہیں۔ تو وہ جب یہ بات کرتے، تو وہ والد صاحب رحمہ اللہ کے شاگرد فرما کہ وہ علماء کہتے کہ بھئی برصغیر کے علماء کو ‏عربی نہیں آتی تو کہتے ہمارے پاس اگر حضرت شیخ رحمہ اللہ کی کوئی ایک آدھ عربی کتاب موجود ہوتی، تو ہم وہ ان ‏کی خدمت میں پیش کرتے، کہ آپ تو کہتے ہیں ہمارے اساتذہ کو عربی نہیں آتی، یہ ہمارے استاد ہیں، اور یہ ان کی ‏تصنیف ہے۔ وہ عرب عالم اس کتاب کے ایک وہیں پر ایک دو صفحے سرسری طور پر پڑھتے، حیران رہ جاتے، اور ‏حیران ہو کر پوچھتے یہ کتاب آج کے زمانے میں لکھی گئی ہے؟ یہ تو اتنی فصیح و بلیغ عربی ہے کہ آج کا عربی کا بڑے سے بڑا ادیب بھی اتنی فصیح و بلیغ عربی نہیں لکھ سکتا۔ آج کل ‏کی عربی تو بالکل ٹیڑھی میڑھی سی، عجیب سی ہے۔ کہتے ہیں یہ تو عربی کا وہی انداز ہے جو آج سے سینکڑوں برس ‏پہلے ائمہ ادب کا، ائمہ لغت کا، وہ بے انتہا ان کی جو فصیح و بلیغ فصیح و بلیغ عربی ہوتی تھی، یہ تو اس جیسا انداز ہے، ‏اس جیسی عربی تو ہمارے آج کل کے زمانے کے عرب ادیب بھی نہیں لکھ سکتے۔ یہ واقعہ اس طرح کا ایک نہیں کئی ان ‏کے والد صاحب کے شاگردوں نے الگ الگ سنائے والد صاحب کے۔ اور پھر میرے بڑے بھئی مولانا زبیر روحانی بازی مدظلہ وہ والد صاحب کا جب انتقال ہوا، وہ اس وقت ام القریٰ ‏یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں پڑھ رہے تھے۔ وہ خود اپنا واقعہ ذکر کرتے ہیں۔ یعنی اتنی فصیح و بلیغ کتابیں اتنی فصیح و ‏بلیغ عربی، کہ جو بھی عرب عالم اس کتاب کو اٹھاتا، فورا ہی حیران رہ جاتا بھئی۔ وہ خود اپنا واقعہ ذکر کرتے ہیں کہ میں ‏ام القریٰ یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا، اور ہمارے اساتذہ میں ایک حرم کے امام بھی تھے۔ مسجد الحرام میں امام بھی تھے، ‏اور ام القریٰ یونیورسٹی میں ہمیں پڑھاتے بھی تھے۔ تو ان سے ویسے ہی میرا قلبی تعلق تھا، کہ یہ مسجد الحرام کے امام بھی ہیں، تو میں والد صاحب کی کچھ چھٹیوں میں کچھ ‏کتابیں لے گیا اپنے ساتھ۔ اور پھر ایک مرتبہ وہ سبق وغیرہ پڑھا کر اب یونیورسٹی سے جا رہے ہیں، برآمدے میں چل ‏رہے ہیں اپنی گاڑی کی طرف کہ گھر جائیں، راستے میں میں نے کتابیں کچھ چار پانچ جو والد صاحب کی اپنے ساتھ لے ‏گیا تھا عربی میں، تو میں راستے میں ان سے ملا اور ان کو وہ کتابیں تحفے کے طور پر پیش کیں۔ کہ یہ میں آپ کے لیے ‏ہدیہ تحفہ لایا ہوں، تو وہ کھڑے ہوئے اور ویسے ہی سرسری طور پر، جیسے کسی کو کتاب دی جائے، اس کو کھول لیتا ‏ہے، تو ویسے اس کی ایک کتاب کو تھوڑا سا کھولا، تو چند سطریں اس کی پڑھیں، تو ایک دم حیران ہو گئے، اور ‏پوچھنے لگے یہ آپ کے والد صاحب کی تصنیف ہے؟ یہ کتاب آج کے زمانے میں لکھی گئی ہے؟ یہ کتاب کسی عجمی ‏نے لکھی ہے؟ میں نے کہا جی یہ والد صاحب مدظلہ اس وقت والد صاحب حیات تھے، ان کی تصانیف ہیں۔ آپ اندازہ لگائیے وہ امامِ حرم ‏جس نے وہیں پر سرسری سی نظر ایک دو صفحات پر ڈالی تھی، اس پر کتنا اثر ہوا، کہتے ہیں وہ امامِ حرم جو میں نے ‏راستے میں کتابیں دینی تھیں، ایک منٹ کا کام تھا، انہوں نے وہ جب ایک دو صفحے دیکھے تو تقریباً میرے ساتھ پونا ‏گھنٹہ وہیں پر کھڑے رہے، اور والد صاحب کے احوال پوچھتے رہے مجھ سے بھئی۔ اندازہ لگائیں، کتنا اثر ہوا تھا ان پر ‏ایک آدھ صفحہ دیکھ کر۔ آپ بھی اللہ آپ سب کو بھی عربی کا بہترین ذوق نصیب فرمائے، آپ جب ان کی کتابیں اٹھائیں گے، آپ کو ان کی فصاحت ‏و بلاغت کا اندازہ ہوگا بھئی۔ ایک ہی معنی دو تین جگہ آتا ہے، ہر ایک کے لیے الگ لفظ استعمال کرتے ہیں، محاورات ‏عربی کے استعمال کرتے ہیں، اور عجیب تشبیہات وغیرہ بھئی۔ تو بہرحال سنانے کا مقصد ترغیب تھا، کہ آپ لوگ کوشش ‏کریں، اور کچھ عربی کو یاد کریں، یہ آپ کے بہت زیادہ کام آئے گی، بہت زیادہ کام آئے گی۔ چاہے آگے عربی بول چال ہو، چاہے عربی تحریر ہو، بس کچھ نہ کچھ بہترین عربی آپ کے حافظے میں ہونی چاہیے، ‏چاہے نظم والی ہو کچھ، اور چاہے نصر ہو، یعنی غیر نظم جو ہے، تو جہاں کہیں بھی کچھ اچھی عربی ملے، اس کو یاد ‏کریں اور پھر خوب پختہ کریں، ذہن میں وہ جم جائے، طالب علمی کی چیز ساری زندگی ذہن میں رہتی ہے۔ بعد میں یاد ‏کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ مصروفیات بڑھ جاتی ہیں، یہ وقت تو آپ کے پاس فارغ سارا صرف تحصیلِ علم کے ‏لیے ہے۔ اچھا چلیے بھئی اب تو آج وقت زیادہ ہو گیا، کل انشاء اللہ تعالی یہ شروع کریں گے۔ چلیے بس واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
11 approved lectures · 1 of 11
Current dars-001
Next Last