Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

المعلقات السبع · dars-018

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Adil
📍 Location Manchester, UK
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 3
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی، فَقُلْتُ لَهُ لَمَّا عَوَى إِنَّ شَأْنَنَا، قَلِيلُ الْغِنَى إِنْ كُنْتَ لَمَّا تَمَوَّلِ۔ كِلَانَا إِذَا مَا نَالَ شَيْئاً أَفَاتَهُ، وَمَنْ يَحْتَرِثْ حَرْثِي وَحَرْثَكَ يُهْزَلِ۔ وَقَدْ أَغْتَدِي وَالطَّيْرُ فِي وُكُنَاتِهَا، بِمُنْجَرِدٍ قَيْدِ الأَوَابِدِ هَيْكَلِ۔ امرؤ القیس کا معلقہ آپ پڑھ رہے ہیں۔ سب سے پہلے آغاز میں تشبیہ آئی۔ تشبیہ کے بعد، تشبیہ کے بعد امرؤ القیس جو ہے ‏اس نے اپنی ہمت کو بیان کیا کہ میرے اوپر بڑی سیاہ غموں والی راتیں آئیں اور انہوں نے میرے جانچنے اور پرکھنے ‏کی کوشش کی۔ ان کی تاریکیوں نے مجھے ڈھانپ لیا اور وہ طرح طرح کے غم لے کر آئیں۔ میں نے ان کا خندہ پیشانی ‏سے، بہادری سے، جرات سے ان کا مقابلہ کیا۔ اور وہ رات جب بڑی طویل ہو گئی تو میں نے اس سے کہا کہ اے رات! تو ‏صبح ہو کر روشن ہو جا۔ اور پھر مجھے خیال آیا کہ صبح ہونے سے کون سے میرے غم ختم ہو جائیں گے؟ تو میں نے ‏کہا صبح بھی تجھ سے کوئی افضل نہیں، وہ بھی تیری طرح ہے اور پھر وہ رات اتنی طویل تھی، گزر ہی نہیں رہی تھی، ‏یوں معلوم ہوتا تھا اس کے ستاروں کو مضبوط رسیوں کے ساتھ، ٹھوس چٹانوں کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے، وہ ایک ہی ‏جگہ پر رکے ہوئے ہیں، وقت گزر ہی نہیں رہا۔ پھر اس کے بعد اپنی خدمت کو بیان کرتا ہے کہ میں جب بھی سفر وغیرہ میں ہوتا ہوں، اپنے ساتھیوں کے مشکیزے میں ‏اٹھاتا ہوں، ان کی خدمت کرتا ہوں۔ تو بعضوں نے کہا اس سے مشکیزے اٹھانا ہی مراد ہے، بعضوں نے کہا اس سے مراد ‏یہ ہے کہ میں ان سب ساتھیوں کے، میں اپنے رشتہ داروں کے، اپنے ساتھیوں کے، اپنے مہمانوں کے، اپنے جاننے والوں ‏کے سب کے حقوق ادا کرتا ہوں، ان کو میں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ اور پھر کہا میں ایسی بہت سی وادیوں میں سے گزرا جو کہ جنگلی گدھے کے پیٹ کی طرح بے فائدہ تھیں اور ان میں ‏بھیڑیا چلا رہا تھا، جیسے کہ کثیر العیال جوئے میں ہارنے والا جواری چیختا چلاتا ہے، کیونکہ اس کے پاس مال نہیں ‏ہوتا اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کے لیے۔ تو اس وادی کو تشبیہ دی جنگلی گدھے کے پیٹ کے ساتھ، میں نے بتایا ‏جنگلی گدھا کسے کہتے ہیں؟ زیبرے کو کہتے ہیں۔ اور یہ جنگلی گدھے کے ساتھ تشبیہ دی بے فائدہ ہونے میں، کیونکہ ‏ایک پالتو گدھا ہے اس سے تو اچھا خاصا فائدہ ہے اور یہ جنگلی گدھے کا تو کوئی فائدہ نہیں، نہ اس پر کوئی سواری کر ‏سکتا ہے، نہ ان کے دودھ کو کوئی استعمال کر سکتا ہے، نہ کوئی اور فائدہ ہے، تو وہ وادیاں بھی ایسے ہی بے فائدہ تھیں ‏جن یعنی اجاڑ اور سنسان تھیں، جس طرح کہ جنگلی گدھے کا پیٹ ہوتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ یا یا یہ جوف جو آیا، یہ ایک وادی کا باقاعدہ نام ہے نام ہے۔ اور یہ حمار ابن مویلع یمن میں ایک شخص گزرا، بڑا ‏خوشحال تھا، موحد تھا، مومن تھا۔ اس کے بچے کہیں سفر وغیرہ پر گئے اور وہاں آسمانی بجلی ان پر گری اور وہ بچے ‏سب ہلاک ہو گئے۔ اس کو خبر ملی تو اس نے توحید کا ہی انکار کر دیا کہ میں اس خدا کو نہیں مانتا جس نے میرے ‏سارے بچوں کو مار دیا۔ چنانچہ شرک کرنے لگ پڑا اور پھر اللہ کی طرف سے مزید عذاب آیا۔ اس کے پاس جو مال ‏وغیرہ تھا، مویشی، آگ نے ان سب کو جلا کر ان کو بھی ختم کر دیا اور یہ جو وادی تھی، بے آب و گیاہ، سنسان، ویران ‏پڑی رہ گئی۔ تو اس وادی کا نام جوف ہے اور وہ جو آدمی تھا حمار، اس کا لقب عیر تھا، تو یہ جوف العیری، عیر کی وہ ‏جو جوف وادی ہے، وہ مراد ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جبکہ بعضوں نے کہا کہ عیر اس کا لقب نہیں تھا، اس کا نام حمار تھا اور حمار یہاں لفظ لاتے ‏تو شعر کا وزن خراب ہو جاتا تھا، تو حمار کا ایک نام کیا ہے؟ عیر بھی ہے، تو اس لیے یہاں حمار کے بجائے عیر کا ‏لفظ استعمال کر لیا۔ بہرحال وادی وہی حمار ابن مویلع کی جوف وادی ہی مراد ہے۔ تو وادیوں کو تشبیہ دے رہا ہے حمار ابن مویلع کی وہ جوف وادی کے ساتھ، بے آب و گیاہ اور سنسان و ویران ہونے کے ‏اندر، کہ وہ وادیاں جو ہیں وہ بے آب و گیاہ اور سنسان اور ویران تھیں، جس طرح کہ حمار ابن مویلع کی جو وادی تھی وہ ‏بھی بے آب و گیاہ تھی، نہ کوئی سبزہ وغیرہ تھا اور سنسان اور ویران تھی، کوئی انسان بھی اس کے اندر نہیں بستا تھا۔ ‏تو تشبیہ ہے کس چیز کے اندر؟ ویران اور سنسان ہونے میں اور بے آب و گیاہ ہونے میں۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو امرؤ القیس کہتا ہے آگے: فَقُلْتُ لَهُ لَمَّا عَوَى إِنَّ شَأْنَنَا، قَلِيلُ الْغِنَى إِنْ كُنْتَ لَمَّا تَمَوَّلِ۔ عوى، عوى يعوی بھیڑیے کا چلانا، ‏عوى الذئب بھیڑیا چلایا، بھیڑیا چیخا، تو اس کے لیے عوى فعل استعمال ہوتا ہے، عوى يعوی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا ‏تھا بھیڑیا جو ہے یہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر ایک لمبی آواز چیخنے اور چلانے جیسی نکالتا ہے، وہ بھیڑیے کی آواز ‏جو ہے اس کو ذکر کیا جاتا ہے عوى يعوی کے ساتھ بھئی۔ شأننا، شان حال کو کہتے ہیں، حال۔ حال، یعنی حالت۔ قليل الغنى، تھوڑی مالداری۔ غنى، غنى عربی میں مالداری کو کہتے ‏ہیں۔ یاد رکھیے اردو میں تو جو مالدار ہو آپ اس کو کہتے ہیں امیر، امیر، کہ وہ بڑا امیر ہے۔ اور لیکن عربی میں اس کے ‏لیے لفظ ہے غنی، جو مالدار ہو کہتے ہیں یہ غنی ہے، غنی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اب آپ نے یاد رکھنا ہے جہاں غنی ‏کا لفظ آ جائے، معنی کیا ہے کہ مالدار ہے۔ اور اردو میں اسے مالدار کو کیا کہتے ہیں؟ امیر، لیکن امیر عربی میں مالدار ‏کو نہیں کہتے، عربی میں امیر سردار کو کہتے ہیں بھئی، سردار۔ إِنْ كُنْتَ لَمَّا تَمَوَّلِ، تمول کا معنی ہے مالدار ہونا، کوئی آدمی مالدار ہو جائے تو کہتے ہیں تمول فلان، فلاں کیا ہو گیا؟ مالدار ‏ہو گیا، مال والا ہو گیا، تمول دیکھو لفظوں سے ہی پتہ چل رہا ہے تمول فلاں مال والا ہو گیا، مالدار ہو گیا۔ فَقُلْتُ لَهُ، امرؤ القیس کہتا ہے میں ایسی بہت سی وادیوں میں سے گزرا کہ جن میں بھیڑیا چلا رہا تھا، فَقُلْتُ لَهُ تو میں نے ‏اس بھیڑیے سے کہا لَمَّا عَوَى جب وہ چلایا، تو میں نے اس سے کہا إِنَّ شَأْنَنَا قَلِيلُ الْغِنَى کہ یقیناً ہماری شان جو ہے، شان ‏یعنی حال، حال۔ إِنَّ شَأْنَنَا ہماری حالت جو ہے وہ تو یہ ہے، قَلِيلُ الْغِنَى کہ ہم قلیل الغنی ہیں، تھوڑی مالداری والے ہیں، یعنی ‏ہم غریب لوگ ہیں، ہمارے پاس کبھی زیادہ مال نہیں آتا۔ کہ إِنَّ شَأْنَنَا قَلِيلُ الْغِنَى کہ یقیناً ہماری حالت جو ہے وہ تھوڑی ‏مالداری ہے، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ شان کا کیا معنی ہوتا ہے؟ حال، جگہ جگہ آپ یہ پڑھتے ہیں بھئی، یہ ضمیر شان ‏ہے، یہ شان صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو شان کا معنی ہوتا ہے حال، حال۔ تو إِنَّ شَأْنَنَا قَلِيلُ الْغِنَى، ہمارا حال یہ ہے کہ ہم قلیل الغنی، تھوڑی مالداری والے ہیں، إِنْ كُنْتَ لَمَّا تَمَوَّلِ اگر تو ابھی تک ‏مالدار نہیں ہوا۔ اگر تو ابھی تک مالدار نہیں ہوا۔ لم اور لما، بھئی ایک ہے لم، ایک ہے لما۔ لم آتا ہے فعل مضارع پر داخل ‏ہوتا ہے اور اس کے معنی میں نفی پیدا کر دیتا ہے اور نیز اس کو مستقبل سے بدل کر کس کے ساتھ خاص کر دیتا ہے؟ ‏ماضی کے ساتھ، لم يضرب زيد کیا معنی؟ زید نے زمانہ ماضی میں پٹائی نہیں کی۔ اور اسی طرح لما بھی ہے، لما فعل ‏مضارع پر جب داخل ہوتا ہے تو اس میں نفی پیدا کر دیتا ہے اور اس کو ماضی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے، تو لما يضرب، ‏اس کا بھی کیا معنی؟ پٹائی نہیں کی، لیکن فرق یہ ہے کہ لم جو ہے وہ پوری ماضی کا استغراق نہیں کرتا جبکہ لما پوری ‏ماضی کا استغراق کر لیتا ہے، اس کو گھیر لیتا ہے یا بالفاظ دیگر یوں کہو کہ لما میں مستقبل میں اس فعل کی امید ہوتی ‏ہے۔ میں مثلاً میں کہتا ہوں لم يضرب زيد، تو ترجمہ ہوگا زید نے پٹائی نہیں کی۔ اور ایک ہے لما، تو لما اگر ہو لما يضرب زيد، تو پھر ترجمہ ہوگا زید نے ابھی تک پٹائی نہیں کی۔ دیکھو ساری ماضی ‏کو گھیر لیا، ابھی تک زمانہ ماضی میں زید نے پٹائی نہیں کی اور معلوم ہوا آگے امید ہے۔ ابھی تک نہیں کی، معلوم ہوا ‏آگے امید ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتا ہے فَقُلْتُ لَهُ، تو امرؤ القیس وہ بھیڑیے کو کہتا ہے، بھیڑیا چلا رہا ہے بھوک کی وجہ سے، امرؤ القیس کہتا ہے ‏بھیڑیے اس کو تسلی دے رہا ہے۔ کہہ بھیڑیے! میری اور تیری حالت ایک جیسی ہے اور ہم دونوں قلیل الغنی ہیں، تھوڑا مال ہوتا ہے ہمارے پاس اور اگر ‏تو بھوکا ہے، تیرے پاس کچھ کھانے کو نہیں تو فکر کی ضرورت نہیں بھئی، اور بھی تیرے جیسے لوگ ہیں، میرے ‏پاس بھی مال وغیرہ نہیں ہے۔ تو کہتا ہے ہم دونوں کی حالت ایک جیسی ہے، ہم دونوں تھوڑی مالداری والے ہیں، إِنْ كُنْتَ لَمَّا تَمَوَّلِ اگر تو ابھی تک ‏مالدار نہیں ہوا۔ تو تو پہلے مالدار نہیں تھا، میرے جیسا تھا، اگر ابھی تک بھی مالدار نہیں ہوا تو اب بھی کیا ہے؟ تو میرے ‏جیسا ہے، تو ہم دونوں کی ایک جیسی حالت ہے، تو میں زیادہ غم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جبکہ بعض شارحین نے لکھا کہ یہ لما، لم کے معنی میں ہے، لم کے معنی میں، تو پھر بس پھر ماضی کا ترجمہ کر لیں ‏گے کہ اگر تو مالدار نہیں ہوا، تو میں نے اس سے کہا جب وہ بھیڑیا چلایا کہ ہماری حالت جو ہے وہ تھوڑی مالداری ہے ‏إِنْ كُنْتَ لَمَّا تَمَوَّلِ اگر تو مالدار نہیں ہوا۔ كِلَانَا إِذَا مَا نَالَ شَيْئاً أَفَاتَهُ، وَمَنْ يَحْتَرِثْ حَرْثِي وَحَرْثَكَ يُهْزَلِ۔ كِلَانَا ہم دونوں، إِذَا مَا نَالَ شَيْئاً، نال ينال کے معنی ہیں کسی چیز ‏کو پا لینا، حاصل کر لینا، أَفَاتَهُ، أفات يفيت کا معنی ہے کسی چیز کا کھو دینا، ہاتھ سے نکل جانا، ختم ہو جانا، وَمَنْ يَحْتَرِثْ، ‏احترث يحترث کا معنی ہے زمین کو کاشت کے قابل بنانا، اس میں ہل وغیرہ چلانا، یہ کیا ہے؟ احتراث بھئی۔ کاشت کے قابل بنانا زمین کو۔ حرث، حرث کا بھی یہی معنی ہے۔ لیکن یہاں احترث کا معنی یہاں ہے کمانے کے، کمانے۔ ‏زمین کو قابلِ کاشت بنانا نہیں بلکہ کس معنی میں ہے؟ مال وغیرہ کمانا بھئی۔ اور حرث بھی اسی کو کہتے ہیں۔ يُهْزَلِ، اس کو مجہول پڑھنا بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے، معروف لکھا ہوا ہے۔ عربی ‏میں یہ مجہول استعمال ہوتا ہے، جب کوئی شخص کمزور ہو جائے، دبلا پتلا ہو جائے تو کہتے ہیں هذل زيد، زید کیا ہو ‏گیا؟ کمزور ہو گیا۔ تو یہ مجہول استعمال ہوتا ہے، هذل زيد، زید۔ اچھا جی، كِلَانَا ہم دونوں جو ہیں إِذَا مَا نَالَ شَيْئاً جس وقت ہم کوئی چیز پا ‏لیتے ہیں، أَفَاتَهُ تو ہم اس کو فوت کر دیتے ہیں، اس کو کھو دیتے ہیں۔ اس چیز کو گم کر دیتے ہیں، معنی یہ ختم کر دیتے ہیں، اس چیز کو کھو دیتے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس مال تو ہے نہیں، ‏تو تھوڑا بہت مال آیا بھی، وہ فوراً ختم ہو جاتا ہے۔ کھایا پیا اور ختم ہو گیا، کچھ بچانے کے لیے رہتا ہی نہیں، ہوتا ہی ‏نہیں، معنی سمجھ میں آ گیا؟ كِلَانَا إِذَا مَا نَالَ شَيْئاً ہم دونوں جب کوئی چیز پا لیں، أَفَاتَهُ تو ہم اس کو فوت کر دیتے ہیں، یعنی وہ ختم ہو جاتی ہے، وَمَنْ ‏يَحْتَرِثْ حَرْثِي وَحَرْثَكَ اور جو شخص بھی کمائی کرتا ہے، حرثی میرے جیسی کمائی، وحرثك اور تیرے جیسی کمائی، ‏يُهْزَلِ تو وہ لاغر ہو جاتا ہے۔ جو شخص بھی میرے اور تمہارے جیسی کمائی کرتا ہے، وہ دبلا پتلا، کمزور اور لاغر ہو ‏جاتا ہے۔ جو بھی ہمارے جیسی کمائی کرتا ہے، یعنی جس کی تھوڑی سی کمائی ہوتی ہے، تو مشکل پیٹ ہی جس سے ‏بھرا جا سکے، جب پیٹ ہی بھرا جاتا ہے، زیادہ ہے ہی نہیں کچھ مال، تو یقیناً کیا ہوگا؟ دبلا پتلا اور کمزور ہوگا، یعنی ‏جس سے صرف بھوک ختم ہو۔ ترجمہ سب کو سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ كِلَانَا إِذَا مَا نَالَ شَيْئاً أَفَاتَهُ، وَمَنْ يَحْتَرِثْ حَرْثِي وَحَرْثَكَ يُهْزَلِ، ہم دونوں جب کوئی ‏چیز پا لیں تو وہ ختم ہو جاتی ہے اور جو کوئی میرے اور تمہارے جیسی کمائی کرتا ہے، يُهْزَلِ وہ لاغر ہو جاتا ہے، وہ ‏دبلا پتلا ہو جاتا ہے، وہ کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ چار اشعار بھئی، وقربة نظر رکھیں پچھلے چار اشعار، وقربة اقوام جعلت عصامها سے لے کر وَمَنْ يَحْتَرِثْ حَرْثِي ‏وَحَرْثَكَ يُهْزَلِ، یہ چار اشعار۔ ائمہ اور علمائے ادب فرماتے ہیں کہ یہ چار اشعار امرؤ القیس کے نہیں ہیں۔ یہ چار اشعار امرؤ القیس کے نہیں ہیں۔ تو بعض ائمہ نے ان کو اس قصیدے میں ذکر کیا تھا اور وہاں سے یہ اسی طرح نقل ہوتے چلے آئے، ورنہ کہتے ہیں یہ ‏دراصل اور جو روایات نقل کی گئی ہیں ان قصیدوں کو نقل کیا گیا ہے، ان میں یہ چار اشعار موجود نہیں۔ اور ظاہر تو ظاہری طور پر پتہ چل رہا ہے یہ امرؤ القیس کے اشعار نہیں ہیں بھئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے، کیسے پتہ چل رہا ہے کہ امرؤ القیس کے اشعار نہیں ہیں؟ کہتے ہیں آپ دیکھ نہیں رہے؟ کیا کہہ رہا ہے؟ کہ امرؤ القیس تو شہزادہ تھا، بادشاہ تھا بھئی، اس کا کلام تو بڑا اونچا ہے، وہ تو بڑی اونچی اونچی اور ہمت و جرات ‏والی باتیں کرتا ہے اور یہ کیا کہہ رہا ہے؟ میں لوگوں کے مشکیزے اٹھا کر ان کے ساتھ سفر میں چلتا ہوں، جیسے کوئی ‏خادم وغیرہ ہوتا ہے، اور کیا کہتا ہے؟ میں ایسی وادیوں سے گزرتا جہاں بھیڑیے چلا رہے ہوتے، تو میں ان کو کہتا ‏تمہارے پاس بھی مال نہیں ہے، میرے پاس بھی مال نہیں ہے اور تو بھی لاغر ہے۔ ‏ میں لاغر ہوں کیونکہ کھانے پینے کو پورا نہیں ملتا۔ تو کہتے ہیں، یہ، یہ تو کسی کمزور مسکین آدمی کے اشعار معلوم ‏ہوتے ہیں، یہ امرؤالقیس کے اشعار نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں یہ اشعار ہیں، تأبط شرا، شاعر گزرا ہے، تأبط ‏شرا، یہ شاعر گزرا ہے، یہ اس کے اشعار ہیں، امرؤالقیس کے اشعار نہیں ہیں۔ وہ تو عربی زبان کا شاعروں کا بے تاج ‏بادشاہ ہے بھئی، اور اس کا کلام اس بے انتہا فصیح و بلیغ اور بڑی اونچے اونچے خیالات پر مشتمل ہوتا ہے، اس طرح ‏کی چھوٹی باتیں وہ نہیں کرتا اپنے اشعار میں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ بادشاہ، یہ امرؤالقیس کے شان کے لائق ہو تو بڑی اونچی، وہ تو عربی کا بے تاج بادشاہ ‏ہے، اپ کو، اپ نے پڑھا بھئی، بہت اونچے اونچے خیالات، بہت اونچی اونچی باتیں کرتا ہے بھئی، تو شاعر کا کمال ہی ‏یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ جتنے عمدہ اور اعلیٰ خیالات دے۔ لیکن بہرحال، شاعر ہے، عجیب شاعر ہے علامہ اقبال بھئی، عجیب شاعر ہے۔ انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی، شاید کئی ‏صدیوں کے اندر ایسا دماغ مسلمانوں میں نہ گزرا ہو بھئی، ایسا دماغ اللہ نے اس کو دیا تھا۔ اور وہ اشعار کہتا ہے قرآن ‏سے، قرآن کا معنیٰ اور مفہوم بیان کرتا ہے، اتنی گہری باتیں کرتا ہے انسان حیران رہ جاتا ہے، انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ‏وہ انسان کو کہتا ہے کہ یہ مالداری یہ تمہیں خراب کر دے گی۔ تم مسلمان ہو، فقر تمہارا شیوہ ہے، فقر کے ساتھ زندگی گزارو بھئی، غربت کے ساتھ زندگی گزارو، غربت تمہاری شان ‏ہی غربت ہے، اور اس غربت کے ساتھ جدوجہد کرو، تم وہ مقام حاصل کر لو گے کہ کوئی تمہارے مقام تک نہیں پہنچ ‏سکے گا۔ سمجھ میں آیا؟ کیا ہے، کس طرح ہے وہ شعر؟ نہیں تیرا نشیمن کیا ہے؟ تو بلبل نہیں، تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر۔ تو ‏پہاڑوں کی چٹانوں پر رہ، فقر کو اختیار کر، یہ بادشاہوں کے محلات، یہ آسائشیں، یہ سہولتیں، یہ تیرے لیے نہیں ہیں ‏بھئی، یہ تیری صلاحیتوں کو زنگ لگا دیں گی۔ تو شاہیں ہے، پہاڑوں پر رہ، اور شاہیں ایسا پرندہ ہے جس کا کوئی مقابلہ ‏ہی نہیں کر سکتا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ شاہیں، اور اس کی طرح دیکھو اونچے بلند خیالات ہوں، پہاڑوں کی چوٹیوں ‏پر رہو بھئی، یہ نیچے کیا زمین پر رینگتے پھر رہے ہو کیڑوں کی طرح، پہاڑوں پر رہو، اور پھر عجیب عجیب باتیں، ‏ایسی باتیں انسان حیران رہ جاتا ہے، کہتا ہے تو انسان اگر غور کرے، یہ سارا کچھ اللہ نے تیرے لیے بنایا ہے۔ کسی کی ہمت نہیں ہے کہ تمہارے راستے میں آ سکے بھئی، تم اللہ کے نائب ہو اس زمین کے اندر، یہ ساری زمین اللہ نے ‏تمہارے لیے بنائی ہے، تمہیں اپنا خلیفہ بنایا ہے بھئی، اور کسی چیز کی ہمت نہیں تمہارے راستے میں آ جائے، لیکن ‏تمہارے خیالات اونچے ہونے چاہئیں، تمہارا راستہ وہی ہونا چاہیے جو صحابہ کا راستہ تھا، صحابہ کو دیکھو حضور ‏صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت کی، بڑی سے بڑی فوج سے ٹکرا جاتے تھے، تاریخ میں ایسی بھی فوجیں ہیں کہ ‏صحابہ کی تعداد چند ہزار تھی اور کفار کی تعداد کئی لاکھ تھی بھئی، بلکہ آپ غزوہ بدر میں ہی دیکھ لیں مسلمان صرف ‏‏313 ہیں، تلواریں بھی نہیں ہیں، آٹھ 10 تلواریں ہیں، باقی ڈنڈے وغیرہ پکڑے ہوئے ہیں، اور گھوڑے، اونٹ وغیرہ کچھ ‏بھی نہیں ہے کسی کے پاس، آپ سوچیں تو سہی 10 15 یا 30 یا 70 جتنی بھی تھوڑی سی تلواریں تھیں، اتنی تلواروں کے ‏ساتھ سامنے دشمن 1000 لوگ ہیں بھئی، 1000 آدمی ہیں، اور وہ سارے اسلحہ میں ڈوبے ہوئے ہیں، زبردست ہر ایک ‏کے پاس تلوار، تلوار، زرہ سب کچھ موجود ہے، آپ سوچیں تو سہی یہ لڑائی کی جگہ ہے؟ یہ مقابلے کا میدان ہے؟ آپ نے ‏ڈنڈے پکڑے ہوئے ہیں، انہوں نے تلواریں پکڑی ہوئی ہیں، مقابلے کا میدان ہی نہیں ہے، مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا، کوئی ‏سوچ بھی نہیں سکتا، ایک تو تین گنا زیادہ ہیں وہ، آپ 313 ہیں تو وہ کتنے ہیں؟ 1000، اور پھر آپ کے پاس کچھ ہے ‏بھی نہیں ہے، گھوڑے بھی ایک دو یا تین ہیں، اسی طرح اونٹ بھی تھوڑے سے ہیں، اور وہ سارے گھوڑے بھی ہیں، ‏اونٹ بھی ہیں، سب کے پاس تلواریں، نیزے، زرہ پہنی ہوئی ہے، آپ سوچیں تو سہی، یوں سمجھیں فوج آ گئی پوری ‏مقابلے میں، اور یہ کوئی کھیل تماشا نہیں ہو رہا، آپ کو قتل کریں گے، ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے بھئی، کتنی ‏خوفناک صورتحال تھی، لیکن مسلمان، صحابہ، حضور نے وہی، وہ پیغام جو اقبال دے رہا ہے، صحابہ سے ہی سیکھ کر ‏ہمیں پیغام دے رہا ہے، صحابہ ٹکرا گئے، کیا سوچ کر؟ بھئی ہم اللہ کے نائب ہیں، ہم اللہ کے بندے ہیں، کسی کی ہمت ہے ہمارا مقابلہ کر سکے؟ یہ ہیں کیا؟ یہ ہیں کون جو ہمارا ‏مقابلہ کریں گے؟ آئیں تو سہی ذرا، تو وہاں اعتماد اپنی ہمت، جرأت اور اللہ کی مدد پر ہوتا ہے، وہاں پھر کوئی چیز اس کا ‏مقابلہ نہیں کر سکتی بھئی، تو اقبال وہ پیغام دیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی، کہتا ہے اقبال چونکہ اس نے ‏مغرب، مغرب کو بھی دیکھا، وہاں بھی رہا اور ان سے بھی چیزیں سیکھیں، اور وہ عجیب وہ پیغام دیتا ہے بھئی، وہ کہتا ‏ہے یہ سارا کچھ تمہارے لیے ہے بھئی، تم اپنی ہمت اونچی کرو، تم اپنے اندر اخلاص لاؤ، اپنے اندر کوشش تو لاؤ، ‏کوئی چیز تمہارے مقابلے میں ٹھہر ہی نہیں سکتی، وہ صحابہ، پھر ایران کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے، ایران کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہے، درمیان میں دریا تھا، ادھر سے کفار کا لشکر آیا، ادھر سے مسلمانوں کا لشکر آیا، وہ ‏کئی لاکھ، یہ مسلمان چند ہزار بھئی، 20 30 ہزار، 20 30 ہزار سے زیادہ کبھی اکٹھے ہوئے ہی نہیں، اس جنگ میں بھی ‏دیکھ لیں آپ، تو مسلمان اس طرف ہیں، تو صحابہ نے مشورہ کیا کیا کیا جائے؟ ان کو ادھر آنے دیں، دریا پار کر کے ادھر ا جائیں یا ہم ‏ادھر چلیں؟ فیصلہ ہوا نہیں، ہم ادھر جائیں گے، عجیب عجیب بھئی، وہی شان، وہی شان، یہ سارا کچھ ہمارے لیے ہے، ہم اللہ کے بندے ہیں، ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں، ‏یہ سارا کچھ ہمارے لیے ہے، اور یہ فوج، یہ کیا چیز ہے؟ یہ کہاں سے ہمارا مقابلہ کریں گے؟ ان کی ہمت ہے؟ تو کہا ہم ادھر چلیں گے، اور پھر کہا لشکر میں آؤ بھئی، چلو دریا کے اوپر، اور دریا کے اوپر چل پڑے، اور سارا لشکر چل رہا ہے، دریا کے اوپر گھوڑے چل رہے ہیں بھئی، تاریخ نے کبھی ایسا ‏منظر ہی نہیں دیکھا ہوگا، گھوڑے دریا کے اوپر چل رہے ہیں، کیوں؟ وہ اللہ کی مدد پہ یقین تھا، ہم اللہ کے بندے ہیں، اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے، یہ سب کچھ، یہ دریا، پانی، پہاڑ سب ‏ہمارے لیے ہیں، یہ کیسے ہمارے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں؟ سیدھے گھوڑے ڈال دو، چلو، کوئی کشتی کی ضرورت نہیں، دریا کے اوپر کہتے ہیں گھوڑے چل رہے تھے بھئی، وہ ادھر اتنا بڑا لشکر تھا، انہوں ‏نے یہ منظر دیکھا، یہ کیا ہو رہا ہے بھئی؟ دریا کے اوپر چلتے ہوئے آ رہے ہیں، ساروں نے دوڑ لگا دی، جن آ گئے ‏بھئی، دیو آ گئے، جن آ گئے، جن آ گئے بھئی، بھاگ گئے، سارا لشکر بھاگ گیا، سارے صحابہ پہنچ گئے پیچھے اور تو یہ تھی صحابہ کی شان بھئی، اقبال یہ پیغام دیتا ہے بھئی، عجیب شاعری ہے اس کی، انسان پڑھتا ہے، حیران رہ جاتا ‏ہے۔ اچھا جی، تو سمجھ میں آیا؟ تو ائمہ کیا فرماتے ہیں؟ یہ چار اشعار امرؤالقیس کے نہیں ہیں بھئی، امرؤالقیس کے نہیں ہیں، یہ کوئی ‏شاعر تھا تعبط شرا بھئی، کوئی غریب مسکین سا شاعر، اور یہ اس کے اشعار ہیں۔ آگے دیکھیے بھئی، وقَدْ اَغْتَدِي وَالطَّيْرُ فِي وُكُنَاتِهَا بِمُنْجَرِدٍ قَيْدِ الأَوَابِدِ هَيْكَلِ وَقَدْ اَغْتَدِي اِغْتَدَى يَغْتَدِي کا کیا معنیٰ؟ جی، جی، یہ لفظ پہلے کہیں گزرا ہے، جی، کَاَنِّیْ غَدَاۃَ الْبَیْنِ یَوْمَ تَحَمَّلُوْا لَدٰی سَمُرَاتِ الْحَیِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ کَاَنِّیْ غَدَاۃَ الْبَیْنِ، یہ غداۃ، یہ لفظ آیا تھا دیکھا؟ یہ وہی مادہ ہے، اور غداۃ کسے کہتے تھے؟ صبح کا وقت بھئی، طلوعِ فجر ‏سے لے کر طلوعِ آفتاب تک، یہ درمیان کا جو وقت ہے صبح صبح کا، یہ ہے غداۃ، تو یہاں اسی سے یہ ہے، اَغْتَدِي کا ‏معنیٰ ہے صبح سویرے نکلنا، خوب صبح سویرے نکلنا بھئی، روانہ ہونا۔ وَالطَّيْرُ، طیر جمع ہے طائر کی، پرندوں کو کہتے ہیں۔ فِي وُكُنَاتِهَا، وکنات جمع ہے وُکْنَةٌ یا وَکْنَةٌ کی، دونوں طرح یہ لفظ استعمال ہوتا ہے، وُکْنَةٌ بھی اور وَکْنَةٌ بھی، اور یہ ‏گھونسلے کو کہتے ہیں، گھونسلے کو۔ مُنْجَرِدٍ، منجرد، اِنْجَرَدَ یَنْجَرِدُ کے دو معنیٰ اور معنیٰ بھی آتے ہیں، لیکن یہاں دو معنیٰ ہیں اور ان دونوں وہ دونوں معانی یہاں ‏درست ہیں بھئی، دونوں علماء نے ذکر کیے ہیں۔ ایک اِنْجَرَدَ کا معنیٰ ہے بالوں کا چھوٹا ہونا، بھئی گھوڑے کے بدن پر بال چھوٹے ہوتے ہیں اور جبکہ آپ بھیڑ وغیرہ یا بکری کے بدن پر دیکھتے ہیں بال لمبے ‏ہوتے ہیں، تو گھوڑے کے اندر چھوٹے بال پسندیدہ ہیں، لمبے بال پسندیدہ نہیں، تو یہ منجرد کا معنیٰ چھوٹے بالوں والا، یا اِنْجَرَدَ کا ایک معنیٰ جو ہے تیز چلنے کے بھی آتے ہیں، تیز چلنے کے، اچھا، تو منجرد کا ایک معنیٰ کیا ہوا؟ بالوں کا چھوٹا ہونا اور دوسرا معنیٰ ہے تیز چلنا۔ قَيْدِ الأَوَابِدِ، قید کہتے ہیں بیڑی کو بھئی، بیڑی، جس کے ساتھ قیدی وغیرہ کسی کو باندھا جاتا ہے، وہ زنجیر بھئی۔ الأَوَابِدِ، اوابد جمع ہے عابد کی ہمزہ کے ساتھ، الف کے ساتھ، اور یہ جنگلی اور وحشی جانوروں کو کہتے ہیں۔ قَيْدِ الأَوَابِدِ، جنگلی جانوروں کی بیڑی، ہیکل، ہیکل کہتے ہیں بڑے قد والا، بڑے ڈیل ڈول والا، بڑے جسم والا، اس کو کہتے ہیں ہیکل، اور جمع اس کی ہے ‏ہیاکل، ہیاکل۔ بھئی شروع میں امرؤالقیس نے تشبیہ ذکر کی، عیش و محبت کی باتیں، اس کے بعد اس نے اپنے اوپر آنے والے غم ‏وغیرہ اور تکالیف کو ذکر کیا، اب اپنے بے انتہا صبح سویرے اٹھنے کو بیان کر رہا ہے اور اپنے گھوڑے کی صفات ‏ذکر کر رہا ہے کہ میرے گھوڑے میں یہ یہ صفات ہیں، ایسا گھوڑا ہے۔ تو کہتا ہے وَقَدْ اَغْتَدِي، دیکھو وہی عام باتیں ہیں، یہ سب کے ساتھ پیش بھی آتی ہیں، اور ان چیزوں کا دیہات والے سب مشاہدہ بھی کرتے ہیں، تو وہی عام باتیں ہیں لیکن انہی کو بڑے فصیح و بلیغ پیرائے ‏میں ذکر کرتا ہے بھئی، کہتا ہے وَقَدْ اَغْتَدِي اور تحقیق میں صبح سویرے روانہ ہوتا ہوں، وَالطَّيْرُ فِي وُكُنَاتِهَا یہ جملہ حال ہے، اس حال میں کہ ‏پرندے اپنے گھونسلوں میں ہوتے ہیں، میں اتنا سویرے سویرے روانہ ہوتا ہوں کہ پرندے بھی ابھی اپنے گھونسلوں میں ‏ہوتے ہیں، وَقَدْ اَغْتَدِي وَالطَّيْرُ فِي وُكُنَاتِهَا بِمُنْجَرِدٍ قَيْدِ الأَوَابِدِ هَيْكَلِ ای بمُنْجَرِدٍ ایک ایسے گھوڑے پر جو چھوٹے بالوں والا ہے، اور چھوٹے بال کیا ہیں گھوڑے میں؟ وصفِ محمود ہے ‏بھئی، اور چھوٹے، یا معنیٰ کر لیں ایسے گھوڑے پر مُنْجَرِدٍ جو کیا ہے؟ بہت تیز چلنے والا ہے، قَيْدِ الأَوَابِدِ جنگلی جانوروں کی بیڑی ‏ہے، تو یہ قید بمعنیٰ مقید کے ہے، یعنی جنگلی جانوروں کو قید کرنے والا ہے، کیا کرنے والا ہے؟ قید کرنے والا ہے، کیا معنیٰ؟ معنیٰ یہ ہے کہ میرا گھوڑا اتنا برق رفتار ہے کہ جب یہ کسی جنگلی جانور کے پیچھے لگ ‏جائے، تو یوں سمجھو وہ جانور جکڑا گیا، اب اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں، جیسے بیڑی کے اندر باندھا ہوا ‏کوئی، باندھی ہوئی کوئی چیز نکل نہیں سکتی، جا نہیں سکتی، اسی طرح میرے اس گھوڑے کی رفتار کے سامنے پھر ‏کوئی جانور بچ کر نہیں جا سکتا، جب ایک جانور کے پیچھے وہ پڑ جائے، تو بس وہ قابو ہی میں سمجھو، وہ اسی طرح ‏سمجھو جیسے بیڑی میں جکڑا گیا، قابو میں آ گیا بھئی، جس شکار کے پیچھے میرا گھوڑا لگ جائے اس کے نکلنے کی ‏بھی کوئی صورت نہیں ہے، تو قید بمعنیٰ مقید کے ہے، قید کرنے والا ہے، الأَوَابِدِ کس کو؟ جنگلی جانوروں کو، ہَيْكَلِ، اور بڑے ڈیل ڈول والا، بہت طاقتور گھوڑا ہے میرا، میں صبح سویرے نکلتا ہوں اس حال میں کہ پرندے اپنے گھونسلوں میں ہوتے ہیں، ایک ایسے گھوڑے پر جو چھوٹے ‏بالوں والا ہے، یا یوں کہیں ایسا گھوڑا جو بڑا ہی تیز رفتار ہے، قَيْدِ الأَوَابِدِ جنگلی جانوروں کے پاؤں کی بیڑی ہے، ‏جنگلی جانوروں کو بیڑی میں جکڑنے والا ہے، ہَيْكَلِ بڑے جسم والا ہے، معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ تو مُنْجَرِدٍ ہے موصوف، قَيْدِ الأَوَابِدِ اس کی صفت، اور ہَيْكَلِ صفتِ ثانی، یہاں اشکال ہوتا ہے کہ قَيْدِ ‏الأَوَابِدِ، قید مضاف، الأَوَابِدِ مضاف الیہ، اور نکرہ کی اضافت جب معرفہ کی طرف ہو جائے، تو وہ بھی کیا بن جاتا ہے؟ ‏معرفہ، تو الأَوَابِدِ پر الف لام ہے، معرفہ، اور قید کی اضافت جب الأَوَابِدِ کی طرف ہوئی تو یہ بھی کیا بن گیا؟ معرفہ، تو ‏مُنْجَرِدٍ ہے نکرہ، اور قَيْدِ الأَوَابِدِ بن گیا معرفہ، تو نکرہ کی صفت معرفہ کیسے آ سکتی ہے؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو جواب ‏یہ کہ یہاں مثل کا لفظ محذوف ہے، بِمُنْجَرِدٍ مِثْلِ قَيْدِ الأَوَابِدِ ایک ایسا تیز رفتار گھوڑا یا ایک ایسا کم بالوں والا گھوڑا مِثْلِ ‏قَيْدِ الأَوَابِدِ جو وحشی جانوروں کو بیڑیوں میں جکڑنے والے جیسا ہے، جو وحشی جانوروں کو بیڑیوں میں جکڑنے والے جیسا ہے، مثل کا لفظ آ گیا، اور مثل کا لفظ آپ لوگ جانتے ہیں، معرفہ کی طرف مضاف ہو ‏جائے پھر بھی نکرہ ہی رہتا ہے، کیا رہتا ہے؟ نکرہ ہی رہتا ہے، معرفہ نہیں بنتا، آپ حیران ہوں گے بھئی کیسے معرفہ کی طرف مضاف ہو جائے پھر بھی نکرہ رہتا ‏ہے؟ بھئی آپ خود غور کر لو، ایک ہے معرفہ، ایک ہے نکرہ، معرفہ جس کی آپ کو پہچان ہو، یہ معرفت سے ہے، معرفت کا کیا معنیٰ؟ پہچاننا، میں نے آپ کے ساتھی کا نام زید ہے، ‏میں نے کہا زید کل میرے پاس آیا تھا، میں نے جیسے اس کا نام لیا آپ سمجھ گئے کہ کس کی بات ہو رہی ہے۔ سمجھے یا ‏نہیں سمجھے؟ جی یہ ہے معرفہ۔ معرفہ وہ ہے کہ جیسے ہی بولا جائے سننے والا اس کو سمجھ جائے۔ اگر وہ نہیں ‏سمجھتا تو پھر اس کا مطلب ہے یہ معرفہ ہی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ معرفہ ہی نہیں۔ مثلاً آپ کے تین ساتھی ہیں تینوں کا نام کیا ہے؟ زید۔ اب میں آپ سے کہتا ‏ہوں کل میرے پاس زید آیا تھا۔ آپ کو کچھ پتہ چلا؟ نہیں بھئی۔ زید کا نام ہوا تو تاریخ ہی گویا ختم ہو گئی بھئی اب پتہ ہی ‏نہیں چل رہا کس کی بات ہو رہی ہے۔ معارفہ وہ ہے جیسے ہی بولا جائے سننے والا سمجھ جائے۔ کیونکہ یہ معرفت سے ہے معرفت سے ہے۔ اور نکرہ نکرہ ‏وہ تو انکار سے ہے جس کو آدمی نہیں جانتا۔ پہچانتا ہی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ مثلاً میں آپ سے کہता‏ ہوں کل رات میرے پاس ایک آدمی آیا تھا۔ جاءنی رجل امسی۔ کل میرے ‏پاس ایک آدمی آیا تھا۔ رجل میں نکرہ لایا کیونکہ آپ اس کو جانتے نہیں پہچانتے نہیں آپ کو کچھ پتہ نہیں۔ میں نے کہا کل میرے پاس کوئی ‏آدمی آیا تھا یا ایک آدمی آیا تھا۔ اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ تو میں اب اس کو معرفہ ‏لادوں گا۔ فاکرمت الرجل الف لام لے آیا۔ تو میں نے اکرام کیا۔ الرجل اس آدمی کا الف میں نے بتلایا تھا آپ کو الف لام کے ‏ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ اشارہ فاکرمت الرجل تو میں نے اس آدمی کا اکرام کیا۔ میں معرفہ لایا الرجل۔ ‏آپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھے کون آدمی کس آدمی کی بات کر رہا ہوں؟ کس آدمی کی؟ جو کل آیا تھا دیکھا نہ آپ کو اس ‏کے نام کا پتہ نہ اس کے چہرہ کا پتہ نہ اس کے کپڑوں کا پتہ نہ اس کے حلیہ کا پتہ کسی چیز کا پتہ نہیں لیکن میں نے ‏جیسے ہی ذکر کیا آپ سمجھ گئے کہ اس کی بات ہو رہی ہے۔ یعنی جو ابھی جو کل آیا تھا۔ اس کو کہتے ہیں معرفہ کہ جس کا ذکر کیا جائے تو دوسرا سمجھ جائے کہ کس کی بات ہو رہی ہے اس میں نام کا جاننا ‏پہچاننا حلیہ کا پتہ ہونا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی بس صرف پہچان ہو کہ فلاں کی بات ہو رہی ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ معرفہ۔ اور مثل کا لفظ اس کی اضافت کر دو۔ تو بھی یہ معرفہ نہیں بنتا۔ مثلاً میں کہتا ہوں جاءنی ‏رجل کل میرے پاس ایک آدمی آیا تھا مثل زید۔ کس جیسا؟ اب مجھے بتاؤ زید جیسا آپ کچھ سمجھے کون ہے؟ بھئی زید ‏جیسا تو عمر بھی ہو سکتا ہے، بکر بھی ہو سکتا ہے، خالد بھی ہو سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ زید جیسا تو ‏کوئی بھی آدمی ہو سکتا ہے جس میں زید کی صفات پائی جائیں تو مثل زید۔ مثل کا لفظ کس کی طرح مضاف ہو رہا ہے؟ ‏زید اور زید کیا ہے؟ معرفہ۔ اور معرفہ کی طرف جو لفظ مضاف ہو جائے وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ معرفہ۔ تو اس کو مثل کو ‏معرفہ ہونا چاہیے تھا لیکن معرفہ ابھی بھی نہیں ہے۔ میں نے کہامثل زید زید جیسا کوئی متعین آپ کے ذہن میں آیا؟ نہیں ‏کوئی بھی نہیں آیا۔ تو دیکھا یہ مثل کا لفظ یہ کچھ لفظ ہیں مثل غیر اور احد وغیرہ تو یہ معرفہ کی طرح مضاف ہو جائیں پھر بھی معرفہ نہیں ‏بنتے۔ معرفہ نہیں بنتے۔ میں نے کہا مثلاً احد کا لفظ ہے احدھم ان میں سے کوئی ایک۔ ان میں سے ایک آپ سمجھ گئے ان میں سے کون سا ایک ‏مراد ہے؟ میں مثلاً وہ دس آدمی ہیں میں کہتا ہوں احدھم ان میں سے آپ نہیں سمجھے دیکھا معلوم ہوا یہ بھی معرفہ کی ‏طرح مضاف ہو جائے تو معرفہ نہیں بنتا۔ تو یہاں پر بھی بمجرد منجرد کیا ہے موصوف نکرہ اور قید الاوابد سے پہلے ‏کیا لفظ ہے؟ مثل۔ ای مثل قید الاوابد۔ ایسا کمبالوں والا گھوڑا جو وحشی جانوروں کو جکڑنے والے جیسا ہے ہیکلی بڑے ‏ڈول ڈیل ڈول والا ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگیا۔ یہاں قید کا لفظ آیا بھئی قید کا لفظ۔ اور میں نے بتایا یہ قید بمقید کے ہے اس میں فاعل کے معنی میں ہے۔ کس معنی میں ‏ہے؟ اس میں فاعل میں۔ یعنی یہ جنگلی جانوروں کو قید کرنے والا ہے ان کو بیڑی میں جکڑنے والا ہے وہ نکل نہیں ‏سکتے اس سے۔ یہاں ایک قیمتی بات یاد رکھیے۔ کہ کتابوں میں جگہ جگہ آپ پڑھتے ہیں لکھا ہوا ہوتا ہے مصدر کا کبھی ذکر آتا ہے اور آگے لکھا ہوتا ہے ھذا مبنی ‏للفاعل۔ کیا معنی ہوتا ہے؟ یہ اس میں فاعل کے معنی میں ہے۔ کبھی لکھا ہوتا ہے ھذا مصدر مبنی للمفعول کیا معنی؟ نہیں غلط ‏ترجمہ کر رہے ہو لیکن تمام طلبہ اس کا یہی معنی سمجھتے ہیں۔ تو یہ ایک ایسی غلطی ہے جو سب میں رائج ہے۔ یہ معنی ‏نہیں۔ یہ معنی نہیں۔ یہ مصدر اس میں فاعل کے معنی میں ہے اس میں مفعول کے معنی میں۔ جب کہا جائے ھذا مصدر مبنی للفاعل تو معنی کہ یہ مصدر معروف ہے۔ جب کہا جائے ھذا مصدر مبنی للمفعول تو معنی یہ ہے کہ یہ مصدر مجھول ہے۔ کیا ہے؟ تفصیلی یاد رکھیے۔ جیسے فعل دو قسم پر ہے ضرب زید اس کا کیا معنی؟ مارا زید نے۔ اور ضرب زید یہ فعل مجھول ہے اس کا کیا معنی؟ ‏زید مارا گیا تو دیکھو ایک معروف ہے اور ایک مجھول اور فعل معروف جو ہے اس کا اسناد کس کی طرف ہوتا ہے؟ ‏کس کی صفت ہوتا ہے؟ فاعل کی ضرب زید یہ زید نہ ہوتا تو ضرب یہ والی ضرب ہونی تھی؟ یہ تو کی ہی زید نے ہے ‏تو یہ جو فعل معروف ہے اس کا اسناد ہوتا ہے فاعل کی طرف یعنی یہ اس کی صفت ہے اس کے ساتھ قائم ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ تو فعل تو فعل معروف کا اسناد کس کی طرف؟ فاعل کی طرف اور فعل مجھول کا اسناد کس کی طرف ہوتا ‏ہے؟ مفعول یعنی جسے پھر ہم نائب الفاعل کہتے ہیں۔ تو فعل معروف کا اسناد ہوتا ہے فاعل کی طرف اور فعل مجھول کا اسناد ہوتا ہے مفعول کی طرف اسی کو ہم نائب فاعل ‏کہتے ہیں لیکن ہے تو وہ مفعول اس کو زرتو واقع ہوئی ہے تو ہے نائب الفاعل۔ تو دیکھیے بھئی ضرب زید یہ فعل معروف ہے کس کی طرف اسناد ہوگا؟ تو رہا ہے بھئی زبان سے میں تکرار کروا رہا ‏ہوں فاعل کی طرف اسناد ہے۔ تو یوں کہیں گے یہ جو ضرب ہے اس فعل کو فاعل کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا اسناد کس کی طرف کرنا ہے؟ فاعل کی طرف اور ضرب یہ فعل مجھول ہے تو کہیں گے اس فعل کو مجھول کے ‏لیے بنایا گیا ہے یعنی اس فعل کو مفعول کے لیے بنایا گیا ہے یعنی اس کا اسناد کس کی طرف کرنا ہے؟ مفعول کی طرف ‏کرنا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی تو تو عربی میں بنانے کے لیے کہتے ہیں بنا یبنی۔ بنا یبنی اسی سے صیغہ ہے مبنی۔ ‏مبنی۔ مبنی کون سا صیغہ ہے؟ جی اس میں مفعول شاباش کس وزن پر؟ آپ نے کیا پڑھا ہے؟ مرمیان شاباش اس میں ‏مفعول ہے مرمیان۔ تو مبنی بنایا گیا ہے جس کو تو جو فعل معروف کے بارے میں ہم کہیں گے ضرب مبنی للفاعل اس ضرب کو بنایا گیا ہے ‏کس کے لیے؟ فاعل کے لیے اور ضرب مبنی للمفعول ضرب کو بنایا گیا ہے کس کے لیے؟ مفعول یعنی اس کی طرف ‏اسناد ہوگا۔ اور اسی کو مبنی ضربہ کیا ہے؟ مبنی للفاعل اسی کو آپ آسان لفظوں میں کہتے ہیں یہ معروف ہے یہ فعل ‏معروف ہے اور جب آپ کہتے ہیں ضرب مبنی للمفعول اسی کو آپ آسان زبان میں کیا کہتے ہیں؟ یہ فعل مجھول ہے بات ‏سمجھ میں آگئی؟ تو یہ فعل معروف تو اسی طرح یاد رکھو جیسے فعل معروف اور مجھول ہوتا ہے اسی طرح مصدر بھی معروف اور ‏مجھول ہوتا ہے لیکن فعل معروف کا وزن الگ ضربہ مثلاً اور مجھول کا وزن الگ جیسے ضرب تو دونوں کے وزن الگ ‏الگ لیکن جو مصدر معروف اور مجھول ہے ان دونوں کا وزن ایک ہی ہوتا ہے وہی مصدر معروف کے لیے بھی ‏استعمال ہوتا ہے اور مجھول کے لیے بھی جیسے شرب شرب کا معنی پینا بھی اور پیا جانا بھی ضرب کا معنی مارنا بھی ‏اور مارے جانا بھی بات سمجھ میں آرہی ہے؟ اور تو لہٰذا جب عبارت میں آجائے ھذا مصدر مبنی للفاعل آپ سمجھ گئے کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ کہ یہ مصدر معروف ہے ‏اس کو معروف والا ترجمہ کرنا اور جب آرہا ہے ھذا مصدر مبنی للمفعول آپ سمجھ گئے یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ مصدر ‏مجھول ہے مجھول والا ترجمہ کرنا۔ پھر اس سے آگے ایک اور قدم کبھی کبھی مصدر اس میں فاعل یا اس میں مفعول میں معنی میں بھی ہوتا ہے کبھی ضرب ‏ضارب کے معنی میں ہوگا کبھی ضرب مضروب کے معنی میں ہوگا لیکن آپ کو پتہ چل گیا کہ جب مصنف یہ کہہ دے کہ ‏یہ ضرب کس معنی میں ہے؟ ضارب کے معنی میں ہے تو آپ سمجھ گئے یہ کون سا ضرب ہے؟ یہ معروف ہے یہ کون ‏سا ہے؟ مصدر معروف ضارب کے اس معنی میں ہوتا ہے مصدر مجھول نہیں اور اگر مصنف کہہ دے کہ یہ مصدر اس ‏میں مفعول کے معنی میں ہے تو آپ سمجھ گئے کہ یہ کون سا مصدر ہے؟ مصدر مجھول ہے۔ تو معروف اور مجھول ہونا ‏اور چیز اور پھر آگے اس میں فاعل یا اس میں مفعول کے معنی میں ہونا اور چیز کبھی یہ دونوں آجائیں جب شارح یہ کہہ ‏دے ہالا مصدر مبنی للفاعل کتنی باتوں کا پتہ چلا؟ صرف ایک بات کیا؟ کہ یہ مصدر معروف ہے آگے اس میں فاعل کے معنی میں ہے یا نہیں وہ تو اس نے ذکر نہیں کیا صرف کیا پتہ چلا یہ ‏مصدر یہ اس میں مصدر معروف اور جب شارح کہہ دے ھذا مصدر مبنی للمفعول تو کیا معنی؟ یہ مصدر مجھول ہے یہ ‏مصدر مجھول ہے کیا یہ آگے اس میں مفعول کے معنی میں ہے یہ پتہ چلا؟ نہیں یہ نہیں پتہ چلا ہاں اگر شارح یہ کہہ دے ‏کہ یہ مصدر جو ہے اس میں فاعل کے معنی میں ہے اب کتنی باتیں پتہ چلیں؟ اب دو پتہ چل گئیں ایک تو یہ کہ یہ کیا ہے ‏مصدر معروف اور دوسری بات یہ کہ ایک کس معنی میں ہے؟ اس میں فاعل ضارب کے معنی میں ہے اور اب کہہ دے ‏کہ یہ مصدر اس میں مفعول کے معنی میں ہے تب بھی کتنی باتوں کا پتہ چلا؟ دو ایک تو یہ کہ مصدر مجھول ہے اور ‏دوسرا یہ کہ ایک کس معنی میں ہے؟ اس میں مفعول کے معنی میں بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو لہٰذا طلبہ عموماً ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ یہ اس میں فاعل کے معنی میں ہے نہیں آج آپ کو پتہ چل گیا کہ ھذا مبنی للفاعل ‏کے معنی میں کیا کا کیا معنی ہوتا ہے؟ معروف ہے اور ھذا مبنی للمفعول کا معنی کیا ہوتا ہے؟ سورۃ سمجھ چنانچہ آپ ‏دیکھیں گے کتابوں میں ضرب لکھا ہوگا یعنی فعل ہوگا اور فعل کے آگے وہ لکھ دیں گے مبنی للفاعل۔ مبنی للفاعل اب فعل تو کبھی اس میں فاعل کے معنی میں نہیں ہوتا لیکن پھر بھی وہ آگے کیا کہہ رہے ہیں؟ مبنی للفاعل ‏معلوم ہوا وہی معنی بیان ہو رہا ہے جو میں نے ذکر کیا کہ یہ فعل کون سا ہے؟ معروف ہے اور کبھی ضرب کے ضربہ ‏ہوگا اعراب تو اعراب میں تو غلطی کا احتمال ہوتا ہے تو لہٰذا وہ آگے لکھ دیتے ہیں کہ مبنی للمفعول اب چاہے کاتب اعراب ‏غلط بھی ڈال دے مبنی للمفعول آپ کو بتا دے گا یہ کون سا فعل ہے؟ فعل مجھول ہے بات سمجھ میں آگئی؟‏ اسی سے ایک اور قیمتی نقطے کا بھی آپ کو پتہ چل گیا بزرگوں کا کوئی کام بھی بلاوجہ نہیں ہوتا ان کے ہر چیز میں ‏عجیب و غریب نقطے ہوتے ہیں۔ آپ صرف صغیر پڑھتے ہیں اور صرف صغیر نام سے پتہ چل رہا ہے چھوٹی گردان ‏ہے۔ ماضی کے کچھ ضربہ کے کتنے صیغے؟ 14 لیکن آپ صرف صغیر پڑھیں ضرب یضرب ضربا دیکھو 14 ‏صیغوں میں سے صرف ایک ضربہ لیا پوری گردان کی طرف اشارہ کر دیا کہ اس وزن پہ گردان چلے گی باقی خود کر ‏لینا ہم نے یہ بتا دیا پہلا صیغہ کیا آئے گا؟ ضرب۔ مضارع کے کتنے صیغے؟ 14 صرف یضرب ایک صیغہ لیا پوری گردان کی طرف اشارہ کر دیا کہ گردان خود کر لینا ‏اس یضرب وزن پر پوری گردان چلے۔ آگے ضربن یہ مصدر آیا یہ منسوب آیا منسوب ہے کیونکہ یہ مفعول مطلق بن رہا ہے کیا بن رہا ہے؟ مفعول مطلق جانتے ‏ہو وہ مصدر جو ماقبل فعل کے ضربت ضربن تو یہاں بھی ماقبل میں وہی فعل تھے اس لیے بزرگوں نے اس پر کیا پڑھا؟ ‏نصب مفعول مطلق بنا دیا۔ آگے ضرب ضرب یضرب ضرب فہو ضارب وضرب یضرب ضرب فذاک مضروب دیکھو ‏ضرب کے کتنے صیغے؟ 14 لیکن ایک ذکر یضرب کے کتنے صیغے؟ 14 لیکن ایک ذکر کیونکہ یہ صرف صغیر ‏ہے اس میں بس اشارہ دینا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟‏ بہرحال ایک اور چھوٹی بات اسی سے پتہ چل گیا ہمارے ہاں رائج گردانیں ہیں۔ صرف صغیر ہوتی ہے لیکن اس میں پورا اس میں آلے کے سارے صیغے ڈال دیتے ہیں بعض یوں کرتے ہیں اس میں ‏ضرب کے سارے صیغے ڈال دیتے ہیں بھئی یہ صرف صغیر ہے اس میں صرف کیا کرنا ہے؟ اشارہ کرنا ہے ایک یا ‏دو یا تین صیغے ذکر کر دو اگر کوئی فرق آ رہا ہے ان میں باقی پوری گردان نہیں ذکر کرنی چاہیے اس کے اندر۔ تو بہرحال یہ صرف صغیر چل رہی ہے اس میں صرف اشارہ ہوتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے ضرب یضرب ضربن آپ ‏نے ہمیں ایک دفعہ بتا دیا اس کا مصدر کیا آتا ہے؟ ضرب آتا ہے پھر ضرب یضرب ضربن دوبارہ مصدر کیوں لے کر ‏آئے؟ یہ تو صرف صغیر ہے یہاں تو صرف اشارہ ہوتا ہے اور یہاں تو باقاعدہ آپ دو دفعہ ایک ہی چیز کو دو دفعہ ذکر ‏کر رہے ہیں تو آج آپ کو نقطے کا پتہ چل گیا کہ جو پہلا ضربان آیا تھا وہ مصدر معروف تھا اور دوسرا مجھول فعل ‏ضربہ کے بعد آیا ہے یہ کیا ہے؟ مصدر مجھول ہے اور بزرگوں نے یہ بھی بتا دیا کہ عربی میں معروف اور مجھول کے ‏معنی الگ ہوتا ہے لیکن وہی صیغہ معروف کے لیے بھی آتا ہے اور وہی صیغہ مجھول کے لیے بھی آتا ہے ان دونوں ‏میں کوئی فرق نہیں ہوتا بات سمجھ میں آگئی؟‏ جی ووقاد غتددی والطیر فی وکناتھا بمجرد قید الاوابد ہیکلی اور تحقیق میں صبح سویرے اٹھتا ہوں اس حال میں کہ پرندے ‏ابھی اپنے گھونسلوں میں ہوتے ہیں تو میں صبح سویرے میں روانہ ہوتا ہوں ایک ایسے گھوڑے پر جس کے جو چھوٹے ‏بالوں والا ہے جنگلی جانوروں کے لیے بیڑی ہے اور بڑے جسم والا ہے۔ چلیے بس بھئی ہارا ہوا المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔ ‏ ‏
20 approved lectures · 18 of 20