دیکھیے بھئی آگے سبق:
تَرٰى بَعَرَ الْاَرَامِ فِي عَرَصَاتِهَا وَقِیْعَانِهَا کَاَنَّهُ حَبُّ فُلْفُلِ
کَاَنِّي غَدَاةَ الْبَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُوْا لَدٰى سَمُرَاتِ الْحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ
وُقُوْفًا بِهَا صَحْبِي عَلَيَّ مَطِيُّهُمْ يَقُوْلُوْنَ لَا تَهْلِكْ اَسًى وَّتَجَمَّلِي
امرؤ القیس کا معلقہ چل رہا ہے بھئی۔
اور امرؤ القیس اس مقام سے گزرا جہاں کسی زمانے میں اس کی معشوقہ رہتی تھی اور وہ لوگ وہاں سے جا چکے تھے، صرف ان کے وہ بچے کچھے کھنڈر نما کچھ نشانات باقی تھے۔
تو امرؤ القیس کو وہ زمانہ یاد آ گیا، وہ غمزدہ ہوا، دکھی ہوا تو اس مقام پر وہ خود بھی رو رہا ہے اور اپنے ساتھیوں کو بھی روک کر ان سے بھی کہہ رہا ہے کہ تم بھی روؤ، میرے ساتھ غم کا اظہار کرو۔
یہ وہ مقام ہے جہاں کسی زمانے میں میری معشوقہ رہتی تھی، اس کا گھر تھا اور یہ جگہ آباد تھی، لیکن اب یہ بیابان بن چکی ہے۔
تو گزشتہ سبق میں آیا تھا:
قِفَا نَبْکِ مِنْ ذِکْرٰى حَبِيْبٍ وَّمَنْزِلِ بِسِقْطِ اللِّوٰى بَيْنَ الدَّخُوْلِ فَحَوْمَلِ
اے میرے دوستو! ٹہھر جاؤ تاکہ ہم رو لیں محبوب کو اور اس کے گھر کو یاد کر کے۔
ریت کے بل کھاتے ہوئے ٹیلے کے کنارے پر دخول، حومل، توضح اور مقرات کے درمیان۔
لَمْ يَعْفُ رَسْمُهَا لِمَا نَسَجَتْهَا مِنْ جَنُوْبٍ وَّشَمْئَلِي
اس کے نشانات نہیں مٹے اس پر جنوبی اور شمالی ہواؤں کے بدلنے کی وجہ سے۔
اس کے میں نے تین معنی بیان کیے تھے: لَمْ يَعْفُ رَسْمُهَا لِمَا نَسَجَتْهَا مِنْ جَنُوْبٍ وَّشَمْئَلِي۔
بعض علماء فرماتے ہیں: معنی یہ ہے کہ اس کے نشانات نہیں مٹے، وہ نشانات اب بھی موجود ہیں کیونکہ ہوائیں بدلتی ہیں، ایک طرف کی ہوا اگر ریت میں اس کو چھپا دیتی ہے تو دوسری طرف کی ہوا ریت کو اڑا کر اسے پھر ظاہر کر دیتی ہے اور غم کا اظہار کر رہا ہے کہ یہ نشانات جب میں دیکھتا ہوں تو میرے زخم ہرے ہو جاتے ہیں اور میری معشوقہ کی یاد آتی ہے اور میرا دل جو ہے غم کے اندر ڈوب جاتا ہے۔
اگر یہ نشانات مٹ جاتے، چھپ جاتے تو شاید میرا غم بھی آہستہ آہستہ کم ہو جاتا، ختم ہو جاتا، لیکن ہواؤں کے اختلاف کی وجہ سے یہ نشانات مٹتے نہیں اور بار بار میرے غم کو تازہ کرتے رہتے ہیں۔
تو ایک معنی کیا ہوا؟ لَمْ يَعْفُ رَسْمُهَا: وہ نشانات مٹے نہیں۔
بعض علماء فرمانے لگے کہ معنی یہ نہیں بلکہ معنی یہ ہے وہ نشانات مٹ چکے ہیں اور یہ جو آیا لَمْ يَعْفُ رَسْمُهَا لِمَا نَسَجَتْهَا مِنْ جَنُوْبٍ وَّشَمْئَلِي کہ وہ نشانات ہواؤں کے بدلنے کی وجہ سے نہیں مٹے، یعنی سے ان کے مٹنے میں صرف ہواؤں کا دخل نہیں ہے بلکہ بارشوں کا بھی دخل ہے، زمانے کے گزرنے کا بھی دخل ہے اور بھی چیزوں کا دخل ہے، تو نشانات تو مٹ چکے ہیں لیکن صرف ہواؤں کے بدلنے کا اس میں دخل نہیں۔
جبکہ بعض علماء نے تیسرا معنی بیان کیا: لَمْ يَعْفُ رَسْمُ حُبِّهَا کہ رسم کے بعد حب کا لفظ مضاف نکال لیں: لَمْ يَعْفُ رَسْمُ حُبِّهَا کہ میری معشوقہ کی محبت کے نشان نہیں مٹے۔
یعنی کہنا یہ چاہتا ہے کہ میرے دل میں آج بھی اس محبت اسی طرح ہے جیسے اس زمانے میں تھی اور لَمْ يَعْفُ رَسْمُ حُبِّهَا میرے دل سے اس محبت کے نشان نہیں مٹے۔ اگرچہ ان جگہوں پر ہواؤں کا اختلاف ہے، ہوائیں بدلتی ہیں، ہوائیں ان کے نشانات کو مٹاتی ہیں لیکن میرے دل میں اس کی محبت آج بھی اسی طرح تازہ ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا؟
جی۔
آگے دیکھیے بھئی:
تَرٰى بَعَرَ الْاَرَامِ فِي عَرَصَاتِهَا وَقِیْعَانِهَا کَاَنَّهُ حَبُّ فُلْفُلِ
تَرٰى يَرَا کا معنی ہوتا ہے دیکھنا، رویت سے ہے۔
رَاٰ يَرٰى رُؤيَةً: دیکھنا بھئی، دیکھنا۔
بَعَر بَعَر یہ جمع ہے عِن کے فتحہ کے ساتھ، یہ جمع ہے بَعَرَةٌ کی۔
اور بَعَرَةٌ مېنگنی کو کہتے ہیں بھئی، یہ بکری وغیرہ ہرن کی جو مېنگنی ہے۔
تو مفرد کیا ہے؟ بَعَرَةٌ اور جمع: بَعَر۔
آرام یہ جمع ہے رِئْمٌ کی بھئی، رِئْمٌ۔
اور رِئْمٌ کہتے ہیں خالص سفید ہرن کو۔ یہ عرب کے ریستانوں میں یہ ہرن کی قسم خاص پائی جاتی ہے جو سفید رنگ کی ہوتی ہے اور اس کی آنکھیں بے انتہا حسین و جمیل ہوتی ہیں۔
تو اس کو کہتے ہیں رِئْمٌ، رِئْمٌ اور اس کی جمع آرام بھی ہے اور اَرّام بھی۔
اَرّام بھی اور اَرّام بھی۔
اَرّام یہ تو قیاس کے مطابق ہے، جیسے فِعْل کی جمع اَفْعَال، رِئْم کی جمع اَرّام۔
لیکن یہ جو آرام ہے، یہ بھی اسی کی جمع ہے لیکن یہ خلاف القیاس ہے بھئی، خلاف القیاس۔
فِي عَرَصَاتِهَا: عرصات جمع ہے عَرَصَةٌ کی۔
اور عَرْصَة کہتے ہیں کھلی جگہ کو، اسی طرح گھر کے صحن کو بھی عَرَصَةٌ کہتے ہیں، عرصہ۔
تو عَرْصَة کا کیا معنی؟ صحن اور کھلی جگہ، کھلا میدان۔
وَقِیْعَانِهَا: قِیْعَان جمع ہے قَاع کی، قَاع۔
اور قَاع جو ہے، وہ پہاڑوں کے درمیان کھلی اور وسیع نشیبی زمین جہاں بارش وغیرہ کا پانی جمع ہو جاتا ہو، تو چٹیل میدان لیکن کچھ نشیب میں ہو، جہاں بارش کا پانی جمع ہو جائے، یہ جگہ چھوٹی بھی ہو سکتی ہے اور خوب وسیع بھی ہو سکتی ہے بھئی، جہاں بارش کا پانی جمع ہو جائے بھئی۔
تو اسے قَاعٌ کہتے ہیں اور جمع ہے قِیْعَان۔
حَبُّ فُلْفُلِ: حَبٌّ یہ جمع ہے حَبَّةٌ کی اور حبہ کہتے ہیں دانے کو، دانہ۔
گندم کا دانہ، چنے کا دانہ وغیرہ، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حَبَّةٌ اور جمع: حَبٌّ۔
فُلْفُل، فُلْفُل اور فِلْفِل بھئی، اس میں دونوں لغتیں ہیں بھئی اور یہ کالی مرچ کو کہتے ہیں بھئی۔
البتہ اعلیٰ لغت جو ہے وہ فُلْفُل ہے بھئی، فا کے ضمہ کے ساتھ۔
فِلْفِل بھی لغت ہے لیکن اعلیٰ لغت فُلْفُل ہے۔
تَرٰى بَعَرَ الْاَرَامِ فِي عَرَصَاتِهَا وَقِیْعَانِهَا کَاَنَّهُ حَبُّ فُلْفُلِ
تَرٰى اے مخاطب! تو دیکھ رہا ہے بَعَرَ الْاَرَامِ ہرنوں کی مېنگنیوں کو فِی عَرَصَاتِهَا اس گھر کے صحنوں میں، بھئی گھر کا تو ایک علیحدہ صحن ہی ہوتا ہے تو جمع، بھئی مراد گھر کے آس پاس کی کھلی جگہ ہے، تو تو دیکھ رہا ہے ہرنوں کی مېنگنیوں کو اس کی کھلی جگہوں کے اندر۔
اور ها ضمیر اسی منزل کو راجع، منزل کو اور کس تاویل میں؟ دَار ان کی تاویل میں۔ یا ها ضمیر ان چار جگہوں کو راجع، دخول، حومل، توضح اور مقرات۔
اور وہ جمع ہے اور جمع بتاویلِ جَمَاعَةٌ واحد مؤنث کے حکم میں ہے تو اس کی طرف واحد مؤنث کی ضمیر لوٹائی جاتی ہے۔
تَرٰى بَعَرَ الْاَرَامِ فِي عَرَصَاتِهَا
اے میرے ساتھی! تو دیکھ رہا ہے ہرنوں کی مېنگنیوں کو اس گھر کی کھلی جگہوں میں، وَقِیْعَانِهَا اور اس کے میدانوں میں کَاَنَّهُ حَبُّ فُلْفُلِ گویا کہ وہ کالی مرچ کے دانے ہیں۔
اے میرے مخاطب! تو ہرنوں کی مېنگنیوں کو اس گھر کی کھلی جگہوں میں اور اس کے میدانوں کے اندر دیکھ رہا ہے، وہ مېنگنیاں اسی طرح تمہیں دکھائی دیں گی جس طرح کہ کالی مرچ کے دانے ہوتے ہیں۔
تو ان مېنگنیوں کو تشبیہ دے رہا ہے شاعر کالی مرچ کے ساتھ۔
اور یہ تشبیہ ہے رنگ کے اندر بھی، کالا ہونے میں کہ وہ بھی کالی اور یہ بھی کالی اور نیز گول ہونے کے اندر اور نیز کثرت میں، کثرت کے اندر کہ خوب کثرت سے مېنگنیاں ہیں جیسے کالی مرچ کسی نے خوب کثرت سے پھیلائی ہو۔
کہتا ہے تو دیکھ رہا ہے ہرنوں کی مېنگنیوں کو فِی عَرَصَاتِهَا اس گھر کی خالی جگہوں کے اندر یا اس ان مقامات کے خالی جگہوں میں وَقِیْعَانِهَا اور ان کے میدانوں کے اندر، گویا کہ وہ کالی مرچ کے دانے ہیں۔
کَاَنَّهُ: یہ ها ضمیر راجع ہے بَعَر کو، بَعَر پیچھے گزرا۔
وہ مېنگنیاں، گویا کہ وہ مېنگنیاں کس کی طرح ہیں؟ حَبُّ فُلْفُل کالی مرچ کے دانے۔
سوال بَعَر تو جمع ہے اور کَاَنَّهُ کی تو مفرد مذکر کی ضمیر راجع کی ہے۔
تو یہ تیرا سمجھ میں آ رہا ہے؟
تو یاد رکھیے بھئی! عموماً جمع کی طرف جمع کی ضمیر لوٹاتے ہیں یا واحد مؤنث کی ضمیر بتاویلِ جَمَاعَةٌ کے۔ توجہ ہے؟
دیکھو بھئی! جمع کے اندر کم از کم کتنے افراد ہیں؟ تین تو تین یا زیادہ افراد ہو گئے تو ایک جماعت بن گئی، کیا بن گئی؟ جماعت اور جماعت کا لفظ عربی میں گول تا کے ساتھ لکھتے ہیں جَمَاعَةٌ۔
اور یہ گول تا مفرد کی علامت ہے یا جمع کی علامت ہے؟ مفرد کی علامت تو جب تین یا زیادہ افراد ہوئے تو ایک جماعت بن گئی یعنی دیکھو واحد مؤنث بن گیا۔
کیا بن گیا؟ لہٰذا اسی لیے اس کی طرف واحد مؤنث کی ضمیر راجع کر دیتے ہیں، یہ معنی ہے جمع بتاویلِ جَمَاعَةٌ کے کہ زیادہ افراد ہوئے تو ایک جماعت بن گئی اور جماعت تو مفرد ہے، اس مؤنث ہے کیونکہ گول تا آخر میں آ رہی ہے تو واحد مؤنث کی ضمیر راجع کریں گے اور جماعت مفرد ہے، جمع اس کی جماعات آتی ہے بھئی۔
تو سوال پیدا ہوا کَاَنَّهُ اس میں تو مذکر کی ضمیر راجع کر دی کس کی طرف؟ جمع کی طرف۔ یاد رکھیے ایسا بھی کبھی ہوتا ہے لیکن کم ہوتا ہے، بہت کم ہوتا ہے۔
تو اگر کَاَنَّهَا ہو ہو بعض نسخوں میں کَاَنَّهَا ہو تو پھر تو اشکال ہی نہیں لیکن اگر کَاَنَّهُ ہو پھر اشکال ہوتا ہے کہ واحد مؤنث کی ضمیر جمع کی طرف کیسے راجع کی؟
تو یاد رکھیے اس ایسا کم ہوتا ہے لیکن اس صورت میں پھر یہ جَمْعٌ کی تاویل میں کر لیتے ہیں۔
پیچھے جو جمع ہے وہ کس تاویل میں؟ جَمْعٌ۔
اور جَمْعٌ مذکر ہے مؤنث ہے؟ مذکر ہے۔ مفرد ہے، تثنیہ ہے، جمع ہے؟ مفرد ہے۔
کیا ہے؟ مفرد ہے جَمْعٌ لفظ کی بات کر رہا ہوں نہ جَمْعٌ لفظ کیا ہے؟ مفرد ہے۔
اور اس کی جمع کیا آتی ہے جُمُوع وغیرہ آتی ہے تو جَمْعٌ مفرد ہے، واحد مؤنثِ واحد مذکر کی تاویل (یعنی جَمْعٌ کی تاویل) میں پھر اس کی طرف واحد مذکر کی ضمیر لوٹا دیتے ہیں۔
تو کہتا ہے تَرٰى بَعَرَ الْاَرَامِ فِي عَرَصَاتِهَا وَقِیْعَانِهَا کَاَنَّهُ حَبُّ فُلْفُلِ تو ہرنوں کی مېنگنیوں کو دیکھ رہا ہے اس گھر کے خالی جگہوں کے اور اس کے میدانوں میں گویا کہ وہ کالی مرچ کے دانے ہیں۔
امرؤ القیس غم کا اظہار کر رہا ہے کہ ایک زمانہ تھا، یہ جگہ بڑی آباد تھی اور جیسے محبوب انسان کو محبوب ہوتا ہے، اس کی جگہ بھی انسان کو محبوب ہوتی ہے۔
تو یہ جگہ مجھے بڑی محبوب ہے اور یہ جگہ کسی زمانے میں آباد تھی، میری معشوقہ اور اس کے خاندان والے یہاں رہا کرتے تھے، لیکن اب وہ یہاں سے چلے گئے ہیں اور یہ جگہ اتنی اجاڑ و بیابان ہو گئی ہے کہ ہرن جو انسانوں سے بہت دور بھاگتا ہے، اتنی یہ جگہ اجاڑ و بیابان ہو گئی کہ ہرنوں نے اس جگہ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے اور جگہ جگہ تمہیں ان کی بکھری ہوئی مېنگنیاں بتلا رہی ہیں کہ یہ اب کس کا مسکن بن چکا ہے؟ ہرنوں کا مسکن بن چکا ہے اور بالکل اجاڑ و بیابان ہو چکا ہے۔
معنی سمجھ میں آیا؟
تو گویا غم کا اظہار کر رہا ہے، غم کا اظہار۔
اس جگہ کے اجاڑ و بیابان ہونے پر اور وحشت زدہ ہونے پر۔
یا معنی یہ ہے کہ امرؤ القیس کہنا یہ چاہتا ہے کہ یہ مقام میری وہ مقام ہے جہاں میری معشوقہ رہتی تھی
اور یہ بڑا پیارا مقام ہے، حتّی کہ وہ لوگ یہاں سے چلے گئے، لیکن یہ جگہ اتنی پرامن ہے، اتنی پرسکون ہے کہ اب اس جگہ کو کس نے اپنا مسکن بنا لیا؟ ہرنوں نے اپنا مسکن بنا لیا ہے، وہ ہرن جو خطرے کی جگہ سے بہت دور بھاگتے ہیں، ان کا یہاں رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جگہ کیسی ہے؟ بڑی ہی بڑی امن والی اور بڑی پرسکون جگہ ہے اور کیسے نہ ہو پرسکون، یہ میرے معشوقہ کے رہنے کی جگہ تھی بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
آگے دیکھیے کَاَنِّي غَدَاةَ الْبَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُوْا لَدٰى سَمُرَاتِ الْحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ
کَاَنِّي غَدَاةَ الْبَيْنِ غَدَاة کہتے ہیں صبح کو بھئی، صبح طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب کے درمیان کا جو وقت ہے، توجہ ہے؟
طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب کے درمیان کا جو وقت ہے، اس کو غَدَاة کہتے ہیں، غَدَاة۔
بَيْن بھئی۔
بَيْن یہ جدائی کو کہتے ہیں۔
تو بین مصدر ہے جدا ہونا بھی اس کا معنی اور ملنا اور وصل بھی اس کا معنی۔
بَيْن کا کیا معنی؟ جدا ہونا بھی اور ملنا اور وصل بھی اس کا معنی ہے بھئی۔
اور عربی میں آپ کو بہت سے الفاظ ایسے ملیں گے کہ جن کے دو معنی ہوتے ہیں ایک دوسرے کے متضاد، ایک دوسرے کے مخالف۔
جیسے یہ لفظ ہے، بین کا معنی دیکھو، ایک معنی کیا ہے؟ جدا ہونا اور ایک اس کا ضد، کیا؟ ملنا وصل۔
اسی طرح شِرَا، شِرَا کا معنی کیا معنی؟ بیچنا بھی اور خریدنا بھی، اس کے دونوں معنی آتے ہیں۔
اسی طرح بَيْع، بَيْع کا باع، اس کا معنی بیچنا بھی اور خریدنا بھی، دونوں معنی اس کے آتے ہیں۔
اور دونوں معنی ایک دوسرے کی ضد ہیں، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ ایک تو ویسے ایک لفظ کے دو یا تین یا زیادہ معنی ہوں وہ تو ہوتے ہی ہیں، بعض اوقات وہ جو معنی ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ضد ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے بالکل خلاف ہوتے ہیں۔
تو ایسے لفظوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اضداد کے قبیل سے ہے۔
کس قبیل سے ہے؟ ضد۔
ضد۔
ضد کا کیا معنی ہے؟ مخالف ہونا، مقابل ہونا، تو ضد کی جمع ہے اضداد، تو یہ لفظ جس کے دو بالکل مخالف معنی ہوں، اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اضداد کی قبیل سے ہے۔
تو یہاں یہ بین بھی کس قبیل سے ہے؟ اضداد کی قبیل سے ہے، اس کے دو معنی ہیں دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں، ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
تو بین کا معنی ملنا بھی اور جدا ہونا بھی، تحمُّل، تحَمَّلُو، تحَمُّل کا معنی ہے کوچ کرنا، سفر پر نکلنا، روانہ ہونا۔
روانہ ہونا۔
لَدٰى سَمُرَاتِ الْحَيِّ لَدٰى کا معنی ہے، لَدٰى کا معنی ہے پاس، قریب، بمعنی عِنْدَ کے، عِنْدَ۔
سَمُرَات، سمُرَات جمع ہے سَمُرَةٌ کی، اور سَمُرَة کہتے ہیں کیکر کے درخت کو۔
کیکر کا درخت دیکھا ہوگا آپ نے، بڑے بڑے کانٹے ہوتے ہیں اس کے تو اس کو سَمُرَة کہتے ہیں بھئی۔
اَلْحَيُّ، حَيّ یہ قبیلے کو کہتے ہیں بھئی، قبیلے کو اور اس کی جمع اَحْيَاء آتی ہے۔
نَاقِف
نَقَفَ يَنْقُفُ نَقْفًا کے معنی ہوتے ہیں چھیلنا، کسی چیز کو چھیلنا، اس کو توڑنا بھئی۔
حَنْظَل، حَنْظَل جو ہے، یہ اس کو اردو میں اندرائن کہتے ہیں اندرائن۔
اور یہ پھل آپ نے نہیں دیکھا ہوگا یا کم کسی نے دیکھا ہوگا، یہ عموماً ریتلے علاقوں میں پایا جاتا ہے، ریستانی اور ریتلے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
اور یہ تربوز کی نسل کا ایک پھل ہے، اس کی زمین پر بیل ہوتی ہے، تربوز نسل کا ہے لیکن چھوٹا ہوتا ہے بھئی، حتّی کہ یہ خربوزے سے بھی چھوٹا ہوتا ہے لیکن نسل کونسی ہے؟ تربوز۔
ایک تو نسل ہے نا تربوز کی، ایک نسل کونسی ہے خربوزے کی۔
دییکھو تربوز کے اندر اس کا جو گودا ہوتا ہے، اس کے اندر جگہ جگہ بیج ہوتے ہیں اور خربوزے کے مرکز میں الگ بیج ہوتے ہیں، تو فرق سمجھ میں آیا دونوں میں؟ تو یہ جو حَنْظَل ہے اندرائن، یہ تربوز کی نسل سے ہے یعنی اس کے اندر بھی اسی طرح بیج ہوتے ہیں گودے کے اندر جگہ جگہ بھئی۔
البتہ یہ خربوزے سے چھوٹا ہوتا ہے اور خربوزے سے چھوٹا ہوتا ہے اور بی انتہا کڑوا ہوتا ہے بھئی، بی انتہا کڑوا اور نقصان دہ ہوتا ہے۔
انسان تو چھوڑیئے، حیوانات بھی اس کو نہیں کھاتے بھئی۔
وہ بے انتہا کڑوا اور نقصان دہ۔
ہاں حکیم وغیرہ اس کے بیج وغیرہ جو ہیں، ان کو دوائیوں میں استعمال کرتے ہیں، دوائیوں میں۔
اور رنگ اس کا شروع میں تو سبز ہوتا ہے، بعد میں پیلے رنگ کا ہو جاتا ہے تو دیکھنے میں یہ خربوزے جیسا پھر لگتا ہے، لیکن چھوٹا ہوتا ہے۔
یوں سمجھیے یہ جو بڑا سیب ہے، بڑا سیب، اس کے برابر ہوتا ہے تقریبا یہ۔
اور حکیم وغیرہ اس کو دوائیوں میں استعمال اور یہ جب خشک ہو جاتا ہے تو اس کے اندر جو گودا ہوتا ہے، وہ ختم ہو جاتا ہے تو اندر بیج صرف رہ جاتے ہیں، اوپر والا چھلکا گیند کی طرح سخت ہو جاتا ہے اور اندر وہ بیج ہوتے ہیں تو ان کو پھر یہ دوائیوں وغیرہ میں حکماء استعمال کرتے ہیں۔
تو یہ اندرائن جو ہے، اس کو عربی میں حَنْظَل کہتے ہیں۔
اور بعضوں نے لکھا ہے کہ اس کو توڑا جائے، چھیلا جائے تو اس کی پیاز کی طرح خاصیت ہے کہ جیسے پیاز کاٹیں تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں، اسی طرح اس کے بھی بخارات وغیرہ ہوتے ہیں، توڑا جائے، چھیلا جائے تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔
اور جبکہ بعض کہنے لکھا کہ نہیں، آنسو وغیرہ نہیں بہتے بھئی۔
تو بہرحال بعض نے لکھا ہے بہنے کا اور بعض نے آنسوں کے بہنے کا نہیں لکھا۔
اچھا بھئی الفاظ کے معنی پتہ چل گئے؟
جی۔
اب دیکھیے
کَاَنِّي غَدَاةَ الْبَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُوْا لَدٰى سَمُرَاتِ الْحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ
کَاَنِّي گویا کہ میں غَدَاةَ الْبَيْنِ جدائی کی صبح کو، گویا کہ میں جدائی کی صبح کو يَوْمَ تَحَمَّلُوْا یہ بدل ہے غَدَات سے، یعنی کہ وہ دن جس دن وہ سفر پر نکلے، جب وہ یہاں سے روانہ ہوئے، جب انہوں نے یہاں سے کوچ کیا۔
تو گویا کہ میں اس روز لَدٰى سَمُرَاتِ الْحَيِّ قبیلے کے کیکر کے درختوں کے پاس، ناقِف و حَنْظَلِ گویا کہ میں وہاں کیکر کے درختوں کے پاس حَنْظَل، اندرائن چھیل رہا تھا، اندرائن توڑ رہا تھا۔
معنی سمجھ میں آگیا؟
کَاَنِّي غَدَاةَ الْبَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُوْا لَدٰى سَمُرَاتِ الْحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ
گویا کہ میں جدائی کی صبح (یعنی وہ وہ دن جس دن وہ روانہ ہوئے کبھی قبیلے کے کیکر کے درختوں کے پاس حَنْظَل چھیل رہا تھا۔
شاعر اپنے غم کا اظہار کر رہا ہے کہ میری معشوقہ اور اس کے قبیلے والے جب انہوں نے یہاں سے کوچ کیا اور یہاں سے وہ نکلے اس جگہ کو چھوڑ کر تو اس روز میں بڑا ہی غم زدہ تھا اور اس صبح کو جب وہ نکلے سفر پر، میں کھڑا ہوا اور غم اور دکھ کی وجہ سے میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہ رہے تھے، گویا کہ میں ایسا ہی معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی شخص اندرائن چھیل رہا ہو، جیسے اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہتے رہتے ہیں تو میری بھی وہی حالت تھی غم اور دکھ کی وجہ سے، میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہ رہے تھے۔
معنی سمجھ میں آگیا؟
گویا کہ میں جدائی کی صبح کو (یعنی جس روز انہوں نے، جس روز وہ سفر پر روانہ ہوئے) میں قبیلے کے درختوں کے پاس حَنْظَل چھیل رہا تھا، یعنی اس کی طرح میری آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے جیسے حَنْظَل چھیلنے والے کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔
یہ تو وہ صورت ہے اگر یہ بات تسلیم کی جائے کہ حَنْظَل کو توڑنے اور چھیلنے سے آنسو بہنے لگتے ہیں اور اگر وہ قول لیا جائے کہ آنسو نہیں بہتے پھر کیا معنی؟
کہ اس جدائی کی صبح کو جس روز وہ سفر پر روانہ ہوئے، قبیلے کے کیکر کے درختوں کے پاس، گویا کہ میں حَنْظَل چھیل رہا تھا۔
پھر کیا معنی؟ بھئی معنی یہ ہے اپنے غم کو، اپنی حیرت کو اور اپنی مدہوشی کو بیان کر رہا ہے، جیسے حَنْظَل اس کو نہ کھایا جاتا ہے نہ کچھ اور اس کو کوئی شخص چھیل رہا ہو تو دیکھو ایک لایعنی کام کر رہا ہے، بیکار کام کر رہا ہے، تو اپنے غم کا اظہار کر رہا ہے کہ جب وہ لوگ جا رہے تھے، میں اتنا غم میں ڈوبا ہوا تھا، مجھے اپنا ہوش ہی نہیں تھا اور اس طرح میں حیران و سرگردہ کھڑا تھا جیسے کوئی انسان کھڑا ہوا حَنْظَل چھیل رہا ہو، اسے اپنا گویا اسے اپنا ہوش ہی نہیں ہے، مدہوشی کی حالت میں ایک بیکار کام کر رہا ہے، اسی طرح میں بھی حیرت و استعجاب کے عالم میں غم میں ڈوبا ہوا تھا، مجھے کچھ اپنا ہوش نہیں تھا۔
معنی سمجھ میں آگیا؟
کَاَنِّي غَدَاةَ الْبَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُوْا لَدٰى سَمُرَاتِ الْحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ
اب دیکھیے یہ غَدَاتُ الْبَيْنِ یہ مَبْدَلٌ مِّنْہُ ہے اور يَوْمَ تَحَمَّلُوْا یہ اس سے بدل ہے۔
یہ کیا ہے؟ اسی لیے دونوں منصوب ہیں آپ دیکھ رہے ہیں، کیونکہ بدل اور مَبْدَلٌ مِّنْهُ کا اعراب ایک ہوتا ہے۔
تو جدائی کی صبح یہ کیا ہے؟ مَبْدَلٌ مِّنْهُ اور يَوْمَ تَحَمَّلُوْا وہ جس دن وہ سفر پر نکلے یہ کیا ہے؟ بدل ہے۔
آپ نے پڑھا ہے کہ بدل جو ہے چار قسم پر ہے بدلُ الکل بدلُ البعض بدلُ الاشتمال اور بدلُ الغَلَط
تو ایک بدلُ الکل آپ نے پڑھا ہے۔
بدلُ الکل کسے کہتے ہیں؟
کہ بدل اور مَبْدَلٌ مِّنْهُ دونوں کا مدلول ایک ہی ہو، ایک ہی ذات ہو، جَاءَنِي زَيْدٌ اَخُوْكَ
آپ کا بھئی ہے، اس کا نام زید ہے تو میں زید کہوں یا اخوك کہوں ایک ہی بات ہے یا نہیں؟ ایک ہی بات تو میں نے کہا جَاءَنِي زَيْدٌ اَخُوْكَ دیکھا زید اور اخوك دونوں ایک ہی ذات پر دلالت کر رہے ہیں تو یہ اخوك بدل ہے زید سے۔
اور کل ہے، بدلُ الكل من الكل
زيد جس پوری ذات پر دلالت کر رہا ہے اَخُوْكَ یہ بھی اس پوری ذات پر دلالت آپ تو مختصر کہہ دیتے ہیں بدل الكل، اصل میں پورا کلام کیا ہے بدل الكل من الكل
اور بعض اوقات بدل البعض ہوتا ہے، وہ بھی دراصل ہے بدل البعض من الكل
ضَرَبْتُ زَيْدًا رَاْسَهُ میں نے زید کو مارا یعنی اس کے سر کو۔
معلوم ہوا کل مراد نہیں ہے بلکہ اس کا جو سر پہ میں نے مارا۔
تو اس پہلے کو کیا کہیں گے؟ جَاءَنِي زَيْدٌ اَخُوْكَ بدل الكل من الكل اور دوسرے کو کہیں گے بدل البعض من الكل
زَرَبْتُ زَيْدًا رَاْسَهُ مبدل من هو کون؟
زید اور رَاْسَهُ اس کا سر جو یہ اس کا بعض تو بدل دیکھو بعض ہے بھئی، بعض ہے۔
نحوی حضرات یہی دو قسمیں بناتے ہیں بعضوں نے ایک اور قسم بھی بنائی اور وہ کیا؟
بَدَلُ الْکُلِّ مِنَ الْبَعْضِ
بَدَلُ الْکُلِّ مَنِ الْبَعْضِ یعنی ما قبل میں بعض کا ذکر اور ما بعد میں کل کا ذکر۔
توجہ ہے؟
جیسے یہاں پر ہے غَدَاتَ الْبَيْنِ جدائی کی صبح اور آگے ہے یوم کا ذکر اور یوم تو سارے دن کو کہتے ہیں اور صبح اس کا جز ہے، اس کا بعض ہے۔ تو ماقبل میں مبدل منہ کون؟ بعض اور ما بعد میں بدل جو ہے وہ کل ہے۔ تو یہ وہ مثال پیش کرتے ہیں وہ نحوی حضرات کہ یہ دیکھو کہ ایک قسم بدل کی بَدَلُ الْکُلِّ مِنَ الْبَعْضِ بھی ہے، پہلی قسم کیا تھی؟ بَدَلُ الْکُلِّ مِنَ الْکُلِّ دوسری تھی بَدَلُ الْبَعْضِ مِنَ الْکُلِّ اور یہ قسم ہے بَدَلُ الْکُلِّ مِنَ الْبَعْضِ بھی ہے یہ قسم۔
تو یہ قسم وہ بیان کرتے ہیں لیکن عام نحوی حضرات فرماتے ہیں کہ نہیں بدل کی وہی چار قسمیں ہیں اور اس کا جواب وہ دیتے ہیں کہ یہاں یوم سے پہلے غدات کا لفظ مضاف محذوف ہے اور گویا عبارت یوں ہے: کَاَنِّي غَدَاةَ الْبَيْنِ غَدَاتَ يَوْمِ تَحَمَّلُوْا
اب مسئلہ حل ہو گیا۔
تو ماقبل میں کیا ہے غَدَاتَ الْبَيْنِ اور ما بعد میں کیا ہے؟ غَدَاتَ يَوْمِ تَحَمَّلُوْا تو ماقبل میں بھی غَدَات، ما بعد میں بھی غَدَات تو دونوں کیا ہے یہ بدلُ الكل من الكل ہے۔ ایک ہی چیز کا ذکر ہے دونوں کا مدلول ایک ہے ماقبل میں غَدَات، ما بعد میں بھی غَدَات تو ایک ہی چیز کا ذکر ہو رہا ہے اور اس کو کیا کہتے ہیں بدلُ الكل من الكل کہتے ہیں۔
آگے دیکھیے بھئی۔
وُقُوْفًا بِهَا صَحْبِي عَلَيَّ مَطِيُّهُمْ يَقُوْلُوْنَ لَا تَهْلِكْ اَسٰى وَتَجَمَّلِي
وُقُوْف
معنی الفاظ کے بھئی، وُقُوْف
یا تو یہ مصدر ہے، مصدر بھی وُقُوْف آتا ہے بھئی۔
ٹھہرنا، رکنا۔
شروع میں آیا تھا: قِفَا نَبْکِ، وَقَفَ يَقِفُ کے کیا معنی ہیں؟ ٹھہرنا، رکنا، کھڑے ہونا۔
تو اسی سے مصدر کیا ہے؟ وُقُوْف، وُقُوْف۔
یا یہ وُقُوْف جمع ہے واقف کی، واقف۔
وَقَفَ يَقِفُ وُقُوْفًا فَهُوَ وَاقِفٌ رکنے والا، ٹھہرنے والا، جو رکا ہوا ہے، ٹھہرا ہوا ہے وہ کیا ہے؟ واقف ہے۔
تو یہ واقف کی جمع ہے، تو یہ وُقُوْف جمع ہے کس کی؟ واقف، جیسے رُکُوْع یہ جمع ہے راکِع کی، جیسے شُهُوْد جمع ہے شاہِد کی۔
صَحْبِي، صَحْب جمع ہے صاحب کی،
صحب جمع ہے صاحب کی، ساتھی کو کہتے ہیں۔
اور اسی کی جمع صاحب کی اصحاب بھی آتی ہے اور یہ صحب بھی، جیسے رَاكِب کی جمع ركْب آتی ہے۔
عَلَيَّ بَي یہ شد لآم پر غلط ڈالا ہوا ہے، یہ یا پر ہونا چاہیے علیا۔ مطيَّهُمْ
مَطِيٌّ یہ جمع ہے مَطِيَّةٌ کی،
اور مَطِيَّةٌ کہتے ہیں سواری کو بھئی، سواری۔
تو یہ اس کی جمع ہے مطِيٌّ۔
يَقُوْلُوْنَ لَا تَهْلِكْ اَسَنْ
ھَلَكَ يَھْلِكُ کا معنی ہلاک ہونا، ختم ہونا۔
اَسَنْ، اس یہ مصدر ہے۔
اَسِيَ يَأْسَى اَسَنَّا کا معنی ہے غمزدہ ہونا، غمگین ہونا، دکھی ہونا، رنجیدہ ہونا۔
تَجَمَّل، تَجَمَّلَ يَتَجَمَّلُ تَجَمُّلًا کا معنی ہے خوبصورت ہونا، زینت اختیار کرنا۔
وُقُوْفًا بِهَا صَحْبِي عَلَيَّ مَطِيُّهُمْ يَقُوْلُوْنَ لَا تَهْلِكْ اَسَنْ وَتَجَمَّلِي
وُقُوْفًا یہ منصوب ہے اور
یہ اگر مصدر بنائیں تو یہ مَفْعُولِ مطلق ہے جو پیچھے قِفَا آیا تھا۔
قِفَا، اے میرے دوستو! ٹھہر جاؤ، قِفَا وُقُوْفًا بِهَا صَحْبِي عَلَيَّ مَطِيُّهُمْ
اور مفعول مطلق کبھی تشبیہ کے لیے آتا ہے بھئی، کس کے لیے آتا ہے؟ تشبیہ۔
ضَرَبْتُهُ ضَرْبَ الْقَارِي اى كَضَرْبِ الْقَارِي میں نے اس کی پٹائی کی جیسے کون پٹائی کرتا ہے؟ قاری، یہ تشبیہ کے لیے ہے تو یہاں بھی وُقُوْفًا تشبیہ کے لیے ہے کہ اے میرے دو ساتھیو! ٹھہر جاؤ جیسے کہ میرے اور ساتھیوں نے یہاں سواریاں روکی ہوئی ہیں اور کھڑے ہیں، تم تم بھی ٹھہر جاؤ۔ معنی سمجھ میں آیا؟
اور زیادہ آسان ترکیب یہ ہے کہ اس کو حال بنا لیں اور جمع بنا لیں واقف کی وُقُوْفًا۔
اور یہ حال ہے نَبْکِي کے اندر جو نحنو ضمیر ہے۔
نَبْكِي تا کہ ہم رو لیں، تو نبکی کے اندر کون سی ضمیر؟ نحن، وذوالحال، اور یہ حال ہے تاکہ ہم رو لیں اس حال میں کہ میرے ساتھیوں نے بھی یہاں پر سواریاں کھڑی کی ہوئی ہیں بھئی۔
اور وہ مجھے تسلی دے رہے ہیں۔ معنی سمجھ میں آیا؟
وُقُوْفًا بِهَا صَحْبِي بِهَا هَا ضمیر راجع ہے اسی دار کو، اسی دار کو۔
یا ان چار جگہوں کو کہ ان کے پاس بھئی اور یہ باء بمعنی فِی کے ہے اَيْ فِيْھَا۔
اس حال میں کہ کھڑے ہیں اس جگہ میں صَحْبِي میرے ساتھی عَلَيَّ میرے پاس
کھڑے ہیں مَطْنِي، انہوں نے روکی ہوئی ہیں
فعل متعدی والا ترجمہ کرو۔
تو وُقُوْفًا جو ہے، یہ وُقُوْفًا یہ مصدر بھی ہے اور یہ اسِم فاعل واقف کی جمع بھی۔
یاد رکھیے وَقَفَ يَقِفُ وَقْفًا وَّوُقُوْفًا یہ لازمی بھی استعمال ہوتا ہے اور متعدی بھی۔
تو وَقَفَ يَقِفُ وَقْفًا وَّوُقُوْفًا کا معنی رکنا، ٹھہرنا، کھڑے ہونا۔
اور اسی طرح اس کا معنی ہے دوسرے کو روکنا، ٹھہرانا، دوسرے کو کھڑا کرنا، یہ بھی کیا ہے؟ وُقُوْف کا معنی۔ اور یہاں یہ متعدی استعمال ہے، یعنی دوسرے کو روکنا، ٹھہرانا۔ میرے ساتھیوں نے کیا کیا ہے؟ اپنی سواریوں کو ٹھہرایا ہے، روکا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
فعل متعدی والا ترجمہ کرو۔
روکی ہوئی ہیں مَطِيَّهُمْ اپنی سواریاں۔
اس حال میں کہ اس جگہ پر اس جگہ پر میرے ساتھیوں نے اپنی سواریاں میرے پاس روکی ہوئی ہیں
اس حال میں يَقُوْلُوْنَ وہ کہہ رہے ہیں:
لَا تَهْلِكْ اَسَنْ وَتَجَمَّلِي کہ اے امرؤ القیس! لَا تَهْلِكْ تو ہلاک نہ ہو، تو اپنے آپ کو ہلاک نہ کر اسَنْ یہ مَفْعُول لَهُ ہے۔
یہ کیا ہے؟ مَفْعُول لَهُ۔
وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت اور وجہ بیان کرے
ضَرَبْتُهُ تَادِيْبًا میں نے اس کی پٹائی کی، کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے۔
ادب سکھانے کے لیے۔
تو مَفْعُول لَهُ کسے کہتے ہیں؟
وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان کرے، علت بیان کرے، وجہ بیان کرے
ضَرَبْتُهُ تَادِيْبًا میں نے اس کی پٹائی کی، کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے۔
جی دہراؤ زبان سے مَفْعُول لَهُ کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان کرے اور یاد رکھیے یہ دو قسم پر ہوتا ہے۔
ادھر دیکھئے، دیکھو یہ ہے یہ ہے فعل
اور یہ اس کے آگے آ رہا ہے مَفْعُول مطلق، توجہ ہے؟ یہ پہلے کون ہے؟ فعل، پھر کون ہے؟ مَفْعُول مطلق۔
یاد رکھو کبھی کبھار یہ جو فعل ہوتا ہے، یہ علت اور سبب ہوتا ہے مَفْعُول مطلق کے لیے، یعنی فعل پہلے آتا ہے اور مَفْعُول مطلق اس کے بعد اور کبھی برعکس ہوتا ہے، جو مَفْعُول مطلق ہوتا ہے وہ سبب ہوتا ہے کس کے لیے؟ فعل کے لیے، پہلے مَفْعُول مطلق ہوتا ہے اور اس کے بعد کون پایا جاتا ہے؟ فعل۔ مثال سے بات واضح ہوگی، جیسے ضَرَبْتُهُ تَادِيْبًا میں نے اس کی پٹائی کی، ادب سکھانے کے لیے۔ مجھے بتائیے ضرب پہلے ہے یا ادب پہلے ہے؟ ضرب پہلے ہے، ادب اس کے بعد ہے، جوں جوں ضرب لگ رہی ہے ادب وہ سیکھتا جا رہا ہے بھئی، تو ضرب علت ہے کس کے لیے؟ ادب کے لیے۔
اور دوسری طرف دیکھیں، قَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ جُبْنًا میں جنگ سے بیٹھ گیا بزدلی کی وجہ سے، یعنی میں نے جنگ میں شرکت نہیں کی تو ایک ہے قُعُوْدٌ عَنِ الْحَرْبِ میں بیٹھا جنگ سے، یہ ہے فعل اور ما بعد میں کیا ہے؟ جُبْنًا بزدلی۔ اب مجھے بتائیے جنگ سے بیٹھنا پہلے ہے یا بزدلی پہلے ہے؟ بزدلی پہلے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بزدلی سبب ہے جنگ سے بیٹھنے کے لیے۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے: لَا تَهْلِكْ اَسَنْ
ایک ہے ہلاکت، ایک ہے غم، کون پہلے؟
غم پہلے، غم کرو گے تو کیا ہو جاؤ گے؟ ہلاک ہو جاؤ گے۔ تو اس لیے کہا: لَا تَهْلِكْ اَسَنْ تو ہلاک نہ ہو، تو اپنے آپ کو ہلاک نہ کر اسن غم کرتے ہوئے، اتنا غم نہ کرو، اتنی پریشانی اور تکلیف اور اس طرح جزا و فزا رونا نہ کرو، کہیں تم اپنے آپ کو ہی ہلاک نہ کر لو وَتَجَمَّلِي اور صبر کی زینت اختیار کرو۔
زینت اختیار کرو یعنی صبر کی زینت۔
تو ساتھی کہ تو امرؤ القیس کہتا ہے، قِفَا نَبْكِي یہ اس سے حال بنا لیں، سنے ترجمہ: اے میرے دو ساتھیو! ٹہھر جاؤ تاکہ ہم رو لیں، اس حال میں کہ میرے ساتھیوں نے بھی اس مقام پر میرے پاس اپنی سواریاں روکی ہوئی ہیں اس حال میں کہ وہ کہہ رہے ہیں: لَا تَهْلِكْ اَسَنْ وَّتَجَمَّلِي کہ تو ہلاک نہ ہو غم کرتے ہوئے، غم کی وجہ سے، تو غم کی وجہ سے ہلاک نہ کر اپنے آپ کو وَتَجَمَّلِي اور صبر کی زینت اختیار کر۔
معنی سمجھ میں آگیا؟
جی۔
آجب پھر جلدی جلدی ترجمہ دیکھ لیجیے۔
تَرٰى بَعَرَ الْاَرَامِ فِي عَرَصَاتِهَا وَقِیْعَانِهَا کَاَنَّهُ حَبُّ فُلْفُلِ اے میرے ساتھی تو دیکھ رہا ہے ہرنوں کی مېنگنیوں کو اس مقام کی کھلی جگہوں میں اور اس کے میدانوں میں گویا کہ وہ کالی مرچ کے دانے ہیں۔
کَاَنِّي غَدَاةَ الْبَيْنِ يَوْمَ تَحَمَّلُوْا لَدٰى سَمُرَاتِ الْحَيِّ نَاقِفُ حَنْظَلِ اے میرے دو ساتھیو! ذرا ٹھہرو تاکہ ہم رو لیں، اس حال میں کہ میرے ساتھیوں نے بھی اس مقام پر میرے پاس اپنی سواریاں روکی ہوئی ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں: لَا تَهْلِكْ اَسَنْ وَتَجَمَّلِي کہ تو غم کی شدت کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر وَتَجَمَّلِي اور صبر کی زینت اور خوبصورتی اختیار کر۔
چلیے بس بھئی, هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْکَلَامِ