وما ذرفت عيناك إلا لتضربي بسهميك في أعشار قلب مقتل
وبيضة خدر لا يرام خباءها تمتعت من لهو بها غير معجل
تجاوزت أحراسا إليها ومعشرا علي حراسا لو يصرون مقتلي
گذشتہ اشعار میں آیا تھا، امرؤالقیس کہتا ہے کہ ایک دن میری معشوقہ نے ریت کے ایک ٹیلے پر مجھ پر بڑی سختی کی اور مجھے چھوڑنے کی ایسی پکی قسم اٹھا لی جس میں اس نے کسی قسم کا کوئی استثناء نہیں کیا، کوئی حلال ہونے کی یا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔
تو پھر امرؤالقیس نے اس سے کہا کہ اے فاطمہ! ذرا صبر سے کام لو اور یہ تھوڑا ناؤ نخرے کچھ کم کر لو، اور اگر تو نے مجھے چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لیا ہے تو اچھے طریقے سے چھوڑ۔
کیا تیرا یہ خیال ہے کہ تیری محبت مجھے مار رہی ہے، قتل کر رہی ہے اور تو جو بھی میرے دل کو حکم دے گی وہ ویسا ہی کرے گا تو بات ایسی ہی ہے، اور اگر تجھے مجھ میں کوئی میری عادت بری لگی ہے تو میرے تو اپنے کپڑوں کو میرے کپڑوں سے جدا کر دے تو وہ جدا ہو جائے یعنی میری اپنی ذات کو اور میری ذات کو اپنی ذات سے جدا کر دے تو وہ جدا ہو جائے۔
آگے امرؤالقیس کہتا ہے:
وما ذرفت عيناك إلا لتضربي بسهميك في أعشار قلب مقتل
ذرف یذرف کے معنی ہوتے ہیں، آنسو بہانا، آنسو بہانا۔
عيناك اصل میں تھا عينان کی، عينان عين آنکھ کو کہتے ہیں یہ تثنیہ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔
ضرب یضرب کے مارنے کا معنی ہے مارنا۔ سهمی کی سهم تیر کو کہتے ہیں بھئی، یہ بھی تثنیہ تھا اصل میں سهمینی کی، نون اضافت کی وجہ سے یہ تو یہ تثنیہ ہے نون اضافت سے گر گیا ہے بھئی۔
أعشار قلب مقتل، أعشار ٹکڑوں کو کہتے ہیں بھئی ٹکڑے، ٹکڑے، اچھا قلب مقتل، قلب مقتل کہتے ہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا دل، محبت کے اندر ٹکڑے ٹکڑے ہوا دل، محبت کے اندر پارہ پارہ دل، پارہ پارہ ہو چکا دل۔
وما ذرفت عيناك، بھئی آپ جانتے ہیں کہ جب عورت کے سارے حربے ناکام ہو جائیں، اس کا اخری حربہ یہ ہے کہ وہ رونا شروع کر دیتی ہے اور آنسو بہانے لگتی ہے اور اس کا یہ حربہ پوری طرح کامیاب ہوتا ہے اور دوسرے کا دل نرم ہو جاتا ہے اور وہ اس کی بات مان لیتا ہے۔
تو یہاں پر بھی امرؤالقیس کی معشوقہ نے کچھ آنسو بہائے ہوں گے تو امرؤالقیس کہتا ہے: وما ذرفت عيناك اور تیری دونوں آنکھوں نے آنسو نہیں بہائے إلا لتضربي مگر اس لیے تاکہ تو مارے بسهمي کی اپنے دو تیروں کو، یعنی اپنی نگاہوں کے دو تیروں کو۔
دو تیروں سے مراد نگاہوں کے دو تیر ہیں یا آنسوؤں کے جو دو تیر ہیں بھئی، تو اپنی نگاہوں کے یا آنسوؤں کے دو تیروں کو مارنا چاہتی ہے في أعشار قلب مقتل قلب مقتل کے أعشار میں، قلب مقتل کے ٹکڑوں میں، وما ذرفت عيناك إلا لتضربي بسهمي کی في أعشار قلب مقتل، اور تیری دونوں آنکھوں نے آنسو نہیں بہائے مگر اس لیے تاکہ تو اپنے نگاہوں کے تیر مارے میرے پارہ پارہ دل کے ٹکڑوں میں یا تو اپنے آنسوؤں کے دو تیروں کو مارے میرے پارہ پارہ دل کے ٹکڑوں میں۔
تو یہاں پر نگاہوں کو تشبیہ دی تیروں کے ساتھ یا آنسوؤں کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ تیروں کے ساتھ۔
اور اس وجہ سے کہ یہ نگاہیں اور یہ آنسو دلوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں، جس طرح کہ تیر جو ہے بدن پر بڑا اثر انداز ہوتا ہے، تیر مارے تو انسان دوسرا ختم ہو جاتا ہے، زخمی ہو جاتا ہے تو جیسے تیر بدن پر اثر کرتا ہے اسی طرح یہ جو نگاہیں ہیں اور آنسو ہیں یہ کس طرح اثر کرتے ہیں؟ یہ دل پر اثر کرتے ہیں۔
وہ کہتا ہے: وما ذرفت عيناك اور نہیں بہائے تیری دونوں آنکھوں نے آنسو إلا لتضربي مگر اس لیے تاکہ تو مارے بسهمي کی اپنے نگاہوں کے دو تیروں کو في أعشار قلب مقتل، محبت کے اندر میرا دل جو پارہ پارہ ہو چکا ہے اس کے ٹکڑوں میں تاکہ اس کے ٹکڑوں میں تو اپنے نگاہوں کی اپنی نگاہوں کے دو تیر مارے، یعنی میں جو پہلے ہی تیرا تیری محبت کا شکار ہو چکا ہوں، میرا دل جو پہلے ہی تیری محبت کا شکار ہو چکا ہے، تاکہ اسے اور تو پوری طرح اپنے قابو میں کر لے اس لیے تو کیا کر رہی ہے اپنے آنسوؤں اور نگاہوں کے تیر چلا رہی ہے۔
و اچھا یہ تو تھا ما اور الا کے ساتھ ترجمہ اور نہیں بہائے تیری دونوں آنکھوں نے آنسو إلا مگر یہ کہ مگر یہ کہ تو مارے۔
یہ ما اور الا کس لیے آتے ہیں؟ استثناء کے لیے، تو ما اور الا کو ختم کر دو۔
اور اور حصر لے آؤ، ویسے ہی لے آؤ۔
کیسے کریں گے پھر ترجمہ؟ ہاں تیری آنکھوں نے تو اسی لیے آنسو بہائے ہیں تاکہ وہ میرے محبت کے اندر پارہ پارہ دل کو اس کے ٹکڑوں اور تیر مارے۔
معنى سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو ما اور الا ختم کر دیا تو ترجمہ بڑا بہترین ہو گیا۔
وبيضة خدر لا يرام خبائها تمتعت من لهو بها غير معجل
و یہ واؤ بمعنے ربہ کی ہے، ای رب بیضۃ، بیضہ کہتے ہیں انڈے کو بھئی۔
خدر، خدر کا کیا معنی؟ جی؟ ہودج، شاباش! دیکھا یہ آپ کو جوں جوں آپ آگے بڑھتے جائیں گے آپ کو اندازہ ہوگا۔
خدر ہودج کو بھی کہتے ہیں یاد رکھیے اور خدر پردے کو بھی کہتے ہیں اور یہاں یہ پردے کے معنی میں ہے۔
ہودج کو بھی ہودج اس لیے کیونکہ اس پر بھی دیکھتے ہیں آپ چاروں طرف کیا لٹکے ہوتے ہیں؟ پردے لٹکے ہوتے ہیں۔
تو یہ خدر پردے کو کہتے ہیں یہاں پردے کے معنی میں ہے۔
لا يرام، رام يروما کا معنی ہوتا ہے ارادہ کرنا، ارادہ کرنا۔
خبائها، خباء کہتے ہیں خیمے کو، خیمے کو۔
تمتعت، تمتع کا معنی ہے نفع اٹھانا، نفع اٹھانا۔
لهو بها، لهو الشے کا معنی ہے کسی چیز سے دل بہلانا، کسی چیز سے دل لگی کرنا، کسی چیز کے ساتھ کھیلنا۔
غير معجل، أعل یعجل إعجالا کا معنی ہے جلدی کروانا۔
تو أعل یعجل إعجالا فهو معجل، جلدی کروانے والا معجل اور معجل جسے جلدی کروائی جائے تو یہ اس میں مفعول کا صیغہ ہے۔
اور بیضۃ خدر جی، کون چھین رہا ہے؟ الحمدللہ کیوں نہیں کہتے بھئی؟ اونچا کہو، سخت سنیں۔
جی، چھین رہا ہے کوئی کہ نہیں چھین رہا؟ ہاں تو اونچا کہنا الحمدللہ سخت سنیں۔
الحمدللہ اچھا جی و بیضۃ خدر، و بيضة خدر، اور بہت سے پردوں کے انڈے یہ تو لفظی ترجمہ ہے۔
بیضہ کی اضافت ہو رہی ہے خدر کی طرف۔
لیکن یاد رکھیے! بیضہ عرب کے اندر وہ طریقہ یہ ان کے اندر تھا کہ وہ حسین و جمیل عورت کو تشبیہ دیتے ہیں بیضہ انڈے کے ساتھ اور عام انڈا نہیں شتر مرغ کے انڈے کے ساتھ۔
اور تو حسین و جمیل عورت جو ہو اس کو تشبیہ دی جاتی ہے شتر مرغ کے انڈے کے ساتھ اور تین وجہ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
ایک تو صحیح اور سلامت ہونے کے اندر۔
جیسے انڈا پرندے کے گھونسلے میں صحیح سالم ہوتا ہے اسی طرح حسین و جمیل عورت جو ہے وہ بھی جبکہ وہ کنواری ہو تو وہ سلامت ہے کسی کے ہاتھ تک اس کے کسی کے ہاتھ اس تک نہیں پہنچے۔
تو صحت اور سلامتی کے اندر۔
اور نیز تشبیہ دی جاتی ہے۔
اس کے رنگ کے اندر بھئی رنگ کے اندر۔
شتر مرغ کا جو انڈا ہے وہ کچھ زردی مائل ہوتا ہے اور عورتوں کے اندر یہ رنگ پسندیدہ ہے کہ عورت کا رنگ سفید ہو گورا ہو اور زردی مائل ہو گئی، زردی مائل جبکہ مردوں کے اندر سفید رنگ جو سرخی کی طرف مائل ہو وہ پسندیدہ ہے۔
اور تیسرا جو تشبیہ دی جاتی ہے حفاظت کے اندر بھئی۔
جیسے پرندہ گھونسلے کے اندر اپنے انڈوں کی حفاظت کرتا ہے اس طرح ان حسین و جمیل لڑکیوں اور عورتوں کی بھی کیا کی جاتی ہے؟ حفاظت کی جاتی ہے۔
تو امرؤالقیس کہتا ہے: و بيضة خدر ای رب بيضة خدر۔
میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ رب کس لیے آتا ہے؟ تقلیل کے لیے وضع ہے لیکن یہ اب استعمال ہمیشہ تکثیر میں ہوتا ہے۔
کبھی کبھار تقلیل کے لیے آئے گا تو وہاں کوئی قرینہ موجود ہوگا بھئی ورنہ ویسے یہ تکثیر کے لیے۔
ای رب بیضہ اور بہت سی پردہ نشین حسین و جمیل عورتیں، اب معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ اور پردہ نشین خدر کا کیا معنی؟ پردوں میں جن کو چھپایا گیا ہو۔
اور بہت سی پردہ نشین حسین و جمیل عورتیں کہ لا يرام خباءها، جی لا يرام کہ ارادہ نہیں کیا جاتا خباءها ان کے خیموں کا۔
یعنی کوئی ان کے خیموں تک نہیں جاتا اس لیے کیونکہ اس کو پتہ ہے اگر میں نے وہاں جانے کی کوشش کی تو مجھے کوئی زندہ نہیں چھوڑے۔
اور یاد رکھیے! لا يرام فعل ہے اور میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا نکرہ کے بعد فعل اجائے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت ایک اور بات یاد رکھنا نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف ہو تو وہ معرفہ بنتا ہے غلام زید، اب غلام بھی کیا بن گیا؟ معرفہ۔
لیکن اگر نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو وہ معرفہ نہیں بنتا وہ نکرہ ہی رہتا ہے تو یہاں بھی بيضة خدر نکرہ کی اضافت کیا ہے؟ نکرہ کی طرف ہے تو بیضا ابھی بھی نکرہ ہے اور اس کے بعد کیا آ گئی فعل تو یہ اس کے فعل آیا اس کے بعد تو یہ اس کے لیے صفت ترجمہ کیسے کریں گے موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی اور بہت سی ایسی حسین و جمیل پردہ نشین عورتیں کہ لا يرام خباءها جن کے خیموں کا ارادہ نہیں کیا جاتا۔
تمتعت میں نے ان سے نفع اٹھایا من لهو بها ان کے ساتھ دل لگی کا۔
میں نے ان کے ساتھ دل لگی کا نفع اٹھایا۔
غير معجل اس حال میں، یہ غیر منصوب ہے حال ہونے کی بنا پر۔
اس حال میں کہ مجھ سے جلدی نہیں کروائی گئی۔
مجھ سے جلدی نہیں کروائی گئی۔
امرؤالقیس اپنی جرات اور شجاعت بیان کر رہا ہے کہ اگر کوئی ایسے عورتوں کے خیموں تک جانے کی کسی کی ہمت ہی نہیں ہوتی اور اگر کوئی ہمت کر بھی لے وہاں سے جلدی سے جلدی نکلنے کی کوشش کرتا ہے لیکن میری ہمت اور جرات دیکھو میں ان خیموں تک بھی پہنچا اور مجھے کسی کا خوف بھی نہیں تھا میں بڑی دیر تک ان سے دل لگی کرتا رہا۔
اچھا جی تو کہتے ہیں: وبيضة خدر لا يرام اور بہت سی ایسی حسین و جمیل پردہ نشین عورتیں کہ جن کے خیموں کا ارادہ نہیں کیا جاتا میں نے ان سے دل لگی کا فائدہ نفع اٹھایا غير معجل اس حال میں کہ مجھ سے جلدی نہیں کروائی گئی۔
بمحاورہ ترجمہ کر لیں بہت دیر تک۔
جلدی نہیں کروائی گئی معلوم ہوا بہت دیر تو میں نے ان سے دل لگی کا نفع اٹھایا بہت دیر تک۔
اور تو غیر ہوں میں نے بتایا منصوب پڑھے اور اسی میں غیر روایت بھی آئی ہے۔
اس صورت میں یہ لھوین کی صفت بنے گی۔
لھوین مجرور ہے تو غیر معجلی یہ بھی کیا ہوا؟ مججرور۔
میں نے ان سے نفع اٹھایا ایسی دل لگی کا جس میں مجھ سے جلدی نہیں کروائی گئی تھی۔
جی؟ نہیں تمتعت تمتعت اس حال بنے گا۔
متکلم کی ضمیر سے۔
میں نے نفع اٹھایا اس حال میں کہ مجھ سے جلدی نہیں کروائی۔
اچھا جی معنی سمجھ میں آگیا بھئی آگے دیکھیے بھئی۔
تجاوزت أحراسا إليها ومعشر علي حراسا لو يصرون مقتلي۔
تجاوزت تجاوزت أحراسا إليها تجاوزا الی شے کا معنی ہے کسی چیز کی طرف تجاوز کرنا، کسی چیز کی طرف بڑھنا۔
أحراسا، أحراسا جمع ہے حارس کی، محافظ کو کہتے ہیں بھئی۔
وماشرا، معشر جو ہے قوم کو کہتے ہیں بھئی، قوم والے، خاندان والے۔
علي، یہ لام پر شد غلط لگا ہوا ہے بھئی یا پر شد ہونا چاہیے، علي۔
حراسا، حراس جمع ہے حارث کی، حرس کرنے والا۔
کوشش کرنے والا۔
لو يصرون مقتلي، أصر يصر کے معنی ظاہر کرنا بھی اور اس کا معنی چھپانا بھی۔
أصر يصر اصرار کا معنی ظاہر کرنا بھی اور چھپانا بھی۔
اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایسا لفظ جس کے دو متضاد معنی آتے ہوں، دیکھو چھپانا اور ظاہر کرنا ایک دوسرے کی ضد ہیں تو ایسا لفظ جس کے دو متضاد معنی آتے ہوں اس کے تو اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یہ کس قبیل سے ہے؟ ازداد کی قبیل سے ہے تو یہ أصر بھی ازداد کی قبیل سے ہے۔
ویسے تو ہر لفظ کے کئی کئی معنی آتے ہیں لیکن ان کو ازداد نہیں کہتے۔
ازداد میں سے تب کہتے ہیں جب وہ دو معنی کیا ہوں ایک دوسرے کی ضد ہوں۔
مقتلي، مقتل یہ مصدر میمی ہے۔
مصدر میمی ہے۔
آپ نے پڑھا ہے صرف کے اندر کہ یہ جو اس میں مفعول کا صیغہ ہوتا ہے مزید فی میں اکرم يكرم إكراما فهو مكرم وأكرم يكرم اكرم يكرم إكراما فذاك مكرم یہی مكرم اس میں مفعول بھی آتا ہے اور یہ یہ اس میں ظرف کا بھی یہی صیغہ آتا ہے دیکھ لیں مکرم اور یہی مصدر میمی بھی آتا ہے بعض اوقات بھئی تو یہ جو اس میں مفعول کا صیغہ ہوتا ہے سارے مزید فی میں آپ دیکھ لیں اسی طرح ہے، وہ اس میں مفعول اور ظرف کا ایک ہی صیغہ ہوگا اور اسی وزن پر بعض اوقات ان کے مصادر بھی آتے ہیں۔
تو یہ مقتل بمعنے قتل کے ہے بھئی قتل کے معنوں میں ہے۔
اي قتلي، میرا قتل بھئی۔
امرؤالقیس کہتا ہے: تجاوزت أحراسا إليها میں اس تک پہنچا أحراسا کن سے گزر کر؟ محافظوں سے، میں محافظوں سے تجاوز کر کے اس تک پہنچا ومعشرا اور قوم والوں سے گزر کر اس تک پہنچا عليا حراسا، یہ عليا متعلق ہے حراسا سے، لہذا اس کو حراسا سے ذرا مؤخر کرو۔
حراسا عليا وہ مجھ پر حریص تھے، وہ مجھ پر حریص یعنی میرے بارے میں حرص کرتے تھے لو يصرون مقتلي، لو بمعنے ان کے ہے، شرط کے لیے نہیں ہے بلکہ ان، أن يصرون أن يصروا مك کہ وہ مجھے پوچھ میرے قتل کو پوشیدہ کریں، یعنی پوشیدہ طور پر مجھے قتل کریں۔
یا معنی کر لیں کہ وہ مجھے ظاہراً جهارا بھئی سب کے سامنے قتل کریں۔
تو امرؤالقیس کہتا ہے کہ بہت سی ایسی پردہ نشین عورتیں کہ ان کے خیموں کا کوئی ارادہ نہیں کرتا میں نے بہت دیر تک ان سے دل لگی کا فائدہ نفع اٹھایا۔
اور یہ نہ سمجھنا کہ کوئی خطرہ نہیں تھا اور میں ویسے وہاں پہنچ گیا تھا، نہیں نہیں تجاوزت أحراسا إليها ومعشرا میں بڑے محافظوں اور حفاظت کرنے والوں اور اس کے خاندان والوں سے گزر کر اس تک پہنچا تھا اور وہ سارے اس بات پر حریص تھے، سب یہ چاہتے تھے کہ وہ پوشیدہ طور پر مجھے قتل کر دیں یا وہ سب چاہتے تھے کہ ظاہراً جهارا کیا کر دیں مجھے؟ قتل کر دیں بھئی۔
تجاوزت أحراسا إليها ومعشرا عليا حراسا لو يصرون مقتلي، وہ میں بہت سے اچھا اور پھر یہ حراسا یہ صفت ہے معشرا اور أحراسا کی۔
یہ حراسا کس کی صفت ہے؟ معشرا اور وہ دونوں بھی نکرہ ہیں نا، أحراسا بھی نکرہ معشرا بھی اور حراسا بھی کیا ہے؟ نکرہ۔
تو بہت سے ادھر دیکھیے، بہت سے ایسے محافظ اور ایسے قبیلے والے حراسا عليا جو مجھے قتل کرنے پر حریص تھے، جو مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔
تو میں بہت سے ایسے محافظوں اور قوم والوں سے گزر کر اس تک پہنچا جو اس بات پر حریص تھے کہ وہ مجھے پوشیدہ طور پر قتل کر دیں یا اس بات پر حریص تھے کہ مجھے جهارا اعلانیہ جو ہیں وہ قتل کر دیں۔
بھئی اس جهارا قتل کر دیں، وہ اس بات پر حریص تھے کہ مجھے کھلم کھلا قتل کر دیں۔
تاکہ سب کو عبرت ہو جائے آئندہ کوئی ہماری عورتوں تک آنے کی ہمت نہ کرے بھئی۔
اس لیے وہ چاہتے تھے مجھے اعلانیہ قتل کر دیں اور اگر آپ چاہیں تو پوشیدہ کا معنی کر دیں، جو اس بات پر حریص تھے کہ مجھے پوشیدہ طور پر قتل کر دیں۔
کیوں؟ کیونکہ آپ سب جانتے ہیں میں شہزادہ ہوں میں بادشاہ ہوں، بادشاہ کا بیٹا ہوں۔
اور بادشاہوں کو کوئی شخص اعلانیہ قتل نہیں کر سکتا، کسی کی ہمت ہے؟ بادشاہ تک کوئی پہنچ نہیں سکتا تو اعلانیہ قتل کرے گا تو جائے گا کدھر پھر وہاں اس کے محافظ ہوتے ہیں، تو بادشاہوں کو جب بھی قتل کیا جاتا ہے کیسے قتل کرتے ہیں؟ چھپ کر، پوشیدہ طور پر کوئی سازش کر کے اس کو قتل کیا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔
تو یہاں تو دونوں معنی آپ کر سکتے ہیں کہ وہ چاہتے تھے مجھے اعلانیہ قتل کر دیں تاکہ کسی کی پھر ہمت نہ ہو اور چاہے دوسرا ترجمہ کر لیں کہ وہ چاہتے تھے کہ مجھے پوشیدہ طور پر قتل کر دیں۔
اور یہ معنی زیادہ پسندیدہ کیونکہ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ میں کون ہوں؟ شہزادہ اور بادشاہ ہوں۔
إذا مست ثريا في السماء تعرضت تعرض اثناء الوشاح المفصل۔
اچھا، ثريا ثريا جو ہے، یہ ستاروں کا ایک مجموعہ ہے بھئی، بہت چھوٹے اور باریک ستارے ہیں۔
اور ایک گچھے کی شکل میں ہیں۔
اور اردو میں اس کو پروین کہتے ہیں، ثريا بھی استعمال ہوتا ہے اور پروین بھی کہتے ہیں بھئی اور ستاروں کا ایک مجموعہ ہے۔
شہروں میں تو آج کل روشنی ہے ستارے نظر ہی نہیں آتے، ہاں وہ لوگ جو ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں بھی بجلی نہیں پہنچی۔
یا کم ہے تو وہاں اگر آپ چلے جائیں اور آسمان کو دیکھیں تو اتنا حسین و جمیل کے بیان سے باہر ہے۔
اور ایسے ستاروں سے بھرا ہوتا ہے کہ بہت ہی پرنما معلوم ہوتا ہے، شہر میں تو اٹھ دس بیس سے زیادہ شاید ستارے نظر ہی نہیں آتے بھئی۔
تو یہ جو پروین ستاروں کا مجموعہ ہے یہ تو شہر میں نظر ہی نہیں آئے گا یہ بہت باریک ستارے ہیں، بہت چھوٹے چھوٹے ہیں لیکن ہیں اکٹھے گچھے کی صورت میں۔
اور عرب لوگ اس کے ذریعے نظر کی تیزی ججانچا کرتے تھے بھئی۔
عام آدمی کو اس میں سات ستارے نظر آتے ہیں بھئی، سات ستارے۔
کوئی تیز نظر والا ہو تو اس کو نو طرف ستارے نظر آتے ہیں بھئی، نو ستارے۔
اور غالباً غالباً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کو اس میں تیرہ ستارے نظر آتے تھے بھئی۔
حضور علیہ السلام کی نگاہ اتنی تیز تھی۔
سمجھ میں آیا، غلوس اور ویسے قوت کے اندر حضور علیہ السلام کو چالیس جنتیوں کے برابر طاقت دی گئی تھی۔
اور ایک جنتی کو دنیا کے سو آدمیوں کے برابر قوت حاصل ہوگی۔
ایک جنتی میں کتنی طاقت؟ دنیا کے سو سو اور حضور کو کتنی طاقت؟ چالیس جنتی تو اس کو سو سے ضرب دیں کتنا ہو گیا؟ چار ہزار، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چار ہزار آدمیوں جتنی طاقت دی گئی، چار ہزار۔
چنانچہ آپ نے وہ واقعہ پڑھا ہے؟ وہ رکانا پہلوان تھا بھئی عرب کا۔
بہت بڑا پہلوان، پورے عرب میں اس کی شہرت تھی۔
اتنا طاقتور اور اتنا ڈیل ڈھول جسم تھا اس کا کہ آپ صرف اس سے اندازہ لگائیں باقی طاقت کو چھوڑیں، وہ اونٹ کی کھال پر جم کر کھڑا ہو جاتا تھا۔
دس آدمی مل کر اس کھال کو کھینچتے تھے وہ کھال پھٹ جاتی تھی اس کے پاؤں کے نیچے سے نہیں نکال سکتے تھے۔
یہ کتنا جسم ہوگا اور کتنی طاقت ہوگی، عام طاقت کو تو بیان ہی نہ کریں بھئی۔
حالانکہ بڑا پہلوان بھی کھڑا ہو تو میرا خیال ہے دو آدمی کھینچیں تو وہ آرام سے کھینچ لیں گے پاؤں کے نیچے سے۔
تو وہ اتنا طاقتور اور پہلوان تھا۔
اور اس کو حضور علیہ السلام نے دعوت ایمان دی۔
تو کہنے لگا کہ آپ میرے ساتھ کشتی لڑیں، آپ مجھے ہرا دیں تو میں ایمان لے آؤں گا۔
حضور علیہ السلام نے فرمایا: آ جاؤ بھئی! ابھی آ جاؤ۔
تیاری کی ضرورت نہ کچھ، ابھی آ جاؤ۔
چنانچہ حضور علیہ السلام کے ساتھ وہ سامنے آیا بھئی، آیا دونوں نے ایک دوسرے کو پکڑا۔
حضور علیہ السلام نے اس کو اس طرح پکڑا، جیسے تین چار سال کا بچہ دیکھتے ہیں آپ بھئی، آپ کہیں اس کو گرانا ہے، آپ کیسے گرائیں گے اس کو؟ آرام سے اس کو پکڑیں گے، آرام سے لٹا، حضور علیہ السلام نے اس طرح اس کو پکڑا نیچے لٹا دیا۔
وہ گھبرا کر ایک دم کہتا ہے، یہ کیا ہوا؟ دوبارہ آؤ، دوبارہ آؤ۔
تو پتہ نہیں کیا ہو گیا؟ بس وہ گمان بھی نہیں تھا، دوبارہ آیا، حضور علیہ السلام نے پھر بڑے ارام سے اس کو پکڑا آرام سے نیچے لٹا دیا۔
پھر اس نے کہا نہیں یہ کیا، دوبارہ آؤ۔
مجھے نہیں پتہ چلا یہ کیا ہوا۔
تیسری دفعہ پھر حضور علیہ السلام نے ارام سے لٹا دیا۔
کہا چار ہزار آدمیوں جتنی طاقت تھی بھئی حضور علیہ السلام کے پاس بھئی۔
چنانچہ پھر رکانا ایمان لے آئے بھئی رضی اللہ تعالی عنہ۔
اللہ صحابہ عجیب لوگ ہیں ان کا ذکر بھی کرو تو دل میں عجیب قسم کی لذت اور مٹھاس محسوس ہوتی ہے، الحمدللہ اللہ نے ہمیں صحابہ کی محبت نصیب فرمائی بھئی۔
تو تجاوزت أحراسا إليها إليها ومعشر علي حراس، اچھا جی، بات چل رہی تھی ثريا سے بھئی، ثريا وہ ستاروں کا مجموعہ ہے بھئی۔
إذا مست ثريا في السماء تعرضت، تعرض کا معنی ایک معنی ہے سامنے آنا، سامنے آنا۔
اسی طرح تعرض کا ایک معنی ہے کنارے ظاہر کرنا، کنارے ظاہر کرنا۔
حالانکہ پھر یہی تعرض لفظ آ رہا ہے۔
أثناء بھئی، أشنا جمع ہے ثینن یا ثنن کی بھئی، یا کے ساتھ لکھتے ہیں حاشیے میں دیکھ لیجیے گا، ثا، نون، یا۔
اسی نون پر دو زبریں ڈال دیں، ثینن یا ثنن۔
تو اس کی جمع ہے اور ثینن یا ثنن، اس کا معنی کنارے کے بھی آتے ہیں اور اس کا معنی درمیان کے بھی آتے ہیں، دونوں معنی اس کے آتے ہیں بھئی۔
تو أسنا کا کیا معنی ہوا؟ کنارے یا کیا معنی ہوا؟ درمیان دونوں معنی ہو سکتے ہیں۔
اچھا یہاں کنارے کا معنی کر لیں گے، وہ تعرض کے تاکہ تعرض کی طرح، کیونکہ پیچھے تعرض کا ذکر آ رہا ہے۔
وشاح بھئی، وشاح۔
وشاح بھئی، یہ عورتیں زیب و زینت کے لیے ایک پیٹی پہنتی ہیں بھئی، جو ایک طرف تو کندھے پر سے گزرتی اور دوسری طرف سے پہلو پر سے گزرتی بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ پیٹی ہو، ایک طرف کندھے پر ہو اور دوسری جانب کہاں سے گزر رہی ہو؟ پہلو سے، یہ پیٹ کے پاس سے گزرتی ہوئی سینے پر سے گزرتے ہوئے، تو یہ زیب و زینت کے لیے آج بھی عورتیں استعمال کرتی ہیں اور اسی طرح بہت سے آپ نے یہ بعض ملکوں کے بادشاہ وغیرہ ہیں وہ بھی اس طرح کی زینت والی ایک پیٹی پہنتے ہیں بھئی، اگر آپ نے دیکھا ہو، ان کا جو فاخر لباس ہوتا ہے۔
اور اس پیٹی پر پھر جواہرات وغیرہ اور سونا اور اس طرح کی چیزیں لگائی جاتی ہیں زیب و زینت کے لیے بھئی۔
تو اس کو وشاح کہتے ہیں، وہ پیٹی کیا ہے؟ وشاح اور وشاح مفصل، مفصل جس کے اندر فصل کیا گیا ہو۔
تو وشاح مفصل وہ پیٹی جس کے اوپر جو جواہرات لگے ہیں وہ مسلسل نہیں لگے بلکہ درمیان میں فصل ہے۔
کچھ جواہرات لگے ہیں، پھر سونا یا کوئی اور چیز لگی ہے، پھر کچھ جواہرات لگے ہیں بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وشاح مفصل۔
تو إذا مست ثريا، إذا ظرفیت کے لیے آتا ہے، یہ ظرف ہے تجاوزت کے لیے۔
میں اس کے پاس آیا، کس وقت؟ إذا مست ثريا في السماء تعرضت، جس وقت کہ ثريا ستارے جو ہیں، آسمان میں تعرضت انہوں نے اپنے کنارے ظاہر کیے۔
جس وقت ثريا ستاروں نے ستارہ ثريا کے جھرمٹ نے اپنے کنارے ظاہر کیے۔
جب ثريا نے آسمان میں اپنے کنارے ظاہر کیے۔
بھئی علماء نے لکھا اس کا معنی یہ ہے کہ وہ بڑی دیر سے گیا، رات کو۔
نصف کے زیادہ نصف یا اس سے زیادہ رات گزر چکی تھی، تب گیا۔
امرؤالقیس ان کے خیموں میں، بتلانا یہ چاہتا ہے میں اس وقت گیا ان کے خیموں میں، لیکن یہ معنی نہیں۔
بلکہ معنی یہ ہے کہ ابتداء رات میں، رات کے ابتدائی حصے میں ہی میں ان کے پاس پہنچ گیا۔
یعنی جس وقت اور بھی زیادہ خطرہ ہے سب ابھی جاگ رہے ہیں۔
اور تو، تو جس وقت ثريا نے اپنے کنارے ظاہر کیے یعنی پوری طرح ظاہر ابھی نہیں ہوئی ثريا، مشرق سے ستارے بھی مشرق سے طلوع کرتے ہیں اور مغرب میں غروب ہو جاتے تو ستارے جس وقت ثريا ابھی ظاہر ہی ہوا، یعنی رات کا ابتدائی حصہ ہی تھا۔
سورج سمجھ میں آ گئی؟ اور آگے اس کی دلیل آگے اشعار میں بھی آ جائے گی کہ ابھی سوئے بھی نہیں تھے کہ میں اس کے پاس پہنچ گیا بھئی۔
جس میں پہنچا اس کے پاس، جس وقت ثريا نے آسمان میں اپنے کنارے ظاہر کیے تعرض اثناء الوشاح المفصل۔
تعرض کا کیا معنی؟ کنارے ظاہر کرنا، اور اثناء، اثناء کناروں کو بھی کہتے ہیں اور وسط کو بھی کہتے ہیں، یہاں کناروں کے معنی میں کر لیں، کس معنی میں؟ تو اثناء کا معنی ہوا کنارے، اور تعرض کا کیا معنی تھا؟ کنارے ظاہر کرنا، تو جب کنارے کا لفظ آگے خود آ رہا ہے تو اس کو کنارے سے خالی کر لو، یعنی صرف اس کا معنی کر لو ظاہر کرنا، ظاہر کرنا۔
تعرض اثناء الوشاح المفصل، جس طرح کے وشاح مفصل کے کنارے ظاہر ہوتے ہیں۔
جس طرح کیا ہوتے ہیں؟ وشاح مفصل کے جس وقت ثريا آسمان میں اس نے اپنے کنارے ظاہر کیے جیسے کہ وشاح مفصل کے کنارے ظاہر ہوتے ہیں۔
جس طرح تعرض اثناء الوشاح المفصل، جس طرح کے وشاح مفصل وہ جو پٹی ہوتی ہے جس کے جواہرات میں فصل کیا گیا ہوتا ہے جیسے وہ اپنے جیسے اس کے کنارے ظاہر ہوتے ہیں۔
جیسے اس پیٹی کے کنارے ظاہر ہوتے ہیں، کیونکہ کناروں پر کیا لگے ہیں؟ جواہرات لگے ہیں تو وہ خوب ظاہر ہوتے ہیں۔
تو میں اس وقت آیا جب ثريا نے بھی اپنے کنارے اس طرح ظاہر کر دیے تھے، یعنی نظر آنے لگی تھی بھئی، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی رات کے ابتدائی حصے میں میں اس کے پاس آیا بھئی۔
چلیے بس، هذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔