Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-074

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 18 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 67
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَالذِّمِّيِّ عَلَى مِثْلِهِ وَإِنْ خَالَفَ مِلَّةً وَعَلَى الْمُسْتَأْمَنِ وَالْمُسْتَأْمَنِ عَلَى مِثْلِهِ إِنْ كَانَ مِنْ دَارٍ وَاحِدَةٍ اچھا بھئی، وَالذِّمِّيِّ اس کا عطف مولانا اهل الأهواء پر ہے۔ أَيْ تُقْبَلُ الشَّهَادَةُ مِنْ الذِّمِّيِّ۔ تو قبول کی جائے گی شہادت کس سے؟ ذمی سے۔ عَلَى مِثْلِهِ اسی کے مثل پر یعنی ذمی پر یعنی ذمی کے خلاف۔ دیکھو بھئی، ایک ہے مسلمان، ایک ہے ذمی۔ ایک ذمی وہ یہودی، عیسائی وغیرہ جو جزیہ دے کر اسلامی حکومت کے تحت رہتے ہیں۔ اور کچھ یہودی یا نصرانی وغیرہ وہ ہیں جو دار الحرب سے آتے ہیں امان لے کر آپ کے ملک میں بھئی۔ ان کو مستأمن کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مستأمن۔ تو یاد رکھو مولانا، مسلمان گواہی دے سکتا ہے کسی بھی مسئلے میں، مسلمان کے بھی خلاف دے سکتا ہے، ذمی کے خلاف بھی دے سکتا ہے، اور مستأمن کے خلاف بھی۔ جی، کیونکہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے اس کا۔ اچھا، اس کے بعد درجہ آتا ہے ذمی کا بھئی۔ ذمی ذمی کے خلاف بھی گواہی دے سکتا ہے، اور مستأمن کے خلاف بھی گواہی دے سکتا ہے۔ لیکن ذمی مسلمان کے خلاف کسی مسئلے میں گواہی نہیں دے سکتا۔ اور سب سے نچلا درجہ مستأمن کا ہے۔ مستأمن نہ مسلمان کے خلاف گواہی دے سکتا ہے، نہ کسی ذمی کے خلاف گواہی دے سکتا ہے۔ وہ صرف کس کے خلاف گواہی دے سکتا ہے؟ مستأمن ہی کے خلاف گواہی دے سکتا ہے بشرطیکہ دونوں ایک ہی وطن کے ہوں۔ کس کے ہوں؟ ایک ہی وطن کے ہوں۔ مثلاً بھئی، دونوں روم کے رہنے والے ہیں بھئی۔ اب ایک دونوں مستأمن رومی ہیں، تو ایک کی گواہی دوسرے کے خلاف سنی جائے گی۔ لیکن اگر ایک روم کا ہے، دوسرا مثلاً کسی اور وطن کا ہے، تو اب بھی اس کی گواہی دوسرے کے خلاف قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ یہ معنی تو قبول کی جائے گی گواہی ذمی سے عَلَى مِثْلِهِ اسی کے مثل پر یعنی ذمی پر یعنی ذمی کے خلاف قبول کی جائے گی۔ وَإِنْ خَالَفَا اگرچہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں مِلَّةً باعتبار دین کے۔ ایک ذمی یہودی ہے، دوسرا ذمی عیسائی ہے، لیکن پھر بھی کیا کی جائے گی، ایک کی گواہی دوسرے کے خلاف سنی جائے گی۔ وَعَلَى الْمُسْتَأْمَنِ اور اسی طرح ذمی کی گواہی قبول کی جائے گی مستأمن کے پر بھی یعنی اس کے خلاف بھی۔ وَالْمُسْتَأْمَنِ عَلَى مِثْلِهِ اور مستأمن کی گواہی قبول کی جائے گی عَلَى مِثْلِهِ اسی کے مثل یعنی مستأمن پر ہی یعنی اسی کے خلاف إِنْ كَانَان مِنْ دَارٍ وَاحِدَةٍ اگر وہ دونوں کیا ہوئے، ایک ہی دار سے ہوئے، ایک ہی وطن سے ہوئے۔ ایک ہی ملک سے ہوئے۔ تو کہتے ہیں شَهَادَةُ الذِّمِّيِّ تُقْبَلُ عِنْدَنَا وَعِنْدَ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى لا تُقْبَلُ۔ ذمی کی شہادت قبول کی جائے گی ہمارے نزدیک۔ بھئی، ہم نے کیا کہا بھئی؟ ذمی کی شہادت ذمی کے خلاف بھی قبول اور مستأمن کے خلاف بھی۔ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ، یہ دونوں فرماتے ہیں لا تُقْبَلُ، ان دونوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ وہ فرماتے ہیں بھئی، یہ دونوں یہ فاسق ہیں مولانا۔ یہ کیا ہیں؟ فاسق۔ اسلام نہیں قبول کیا انہوں نے، یہ فاسق ہیں۔ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں الكَافِرُونَ هُمُ الفَاسِقُونَ۔ کافر ہی فاسق ہیں۔ تو جب یہ فاسق ہیں، تو فاسق کی گواہی تو قبول نہیں کی جاتی۔ جی، ثُمَّ عِنْدَنَا إِنَّمَا تُقْبَلُ عَلَى الذِّمِّيِّ وَالْمُسْتَأْمَنِ۔ پھر ہمارے نزدیک ان کی گواہی قبول کی جائے گی ذمی اور مستأمن ہی کے خلاف بھئی۔ یعنی مسلمان کے خلاف ذمی کی گواہی قبول نہیں، صرف ذمی اور مستأمن کے خلاف ہی قبول ہوگی۔ وَإِنْ خَالَفَا مِلَّةً اگرچہ یہ مخالف ہوں یہ آپس میں ایک دوسرے کے باعتبار ملت کے كَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ جیسے ایک نصرانی ہو عیسائی اور مجوسی آتش پرست، فارسی ہو، فارسی۔ سمجھ میں آیا؟ مجوسی کو آج کل فارسی کہتے ہیں بھئی، آتش پرست ہیں بھئی۔ ان کی تعداد دنیا میں نہایت قلیل ہے بھئی اس وقت۔ جی، تو ایک نصرانی ہے، دوسرا مجوسی ہے۔ ملتِ دین ایک دوسرے کے مخالف ہے، لیکن گواہی ان کی ایک دوسرے کے خلاف قبول ہے۔ کیوں؟ فَإِنَّ الْكُفْرَ كُلَّهُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ اس لیے کہ کفر سارا کا سارا ایک ہی ملت ہے مولانا۔ فَإِنَّ الْكُفْرَ كُلَّهُ یہ تاکید ہے کُفْرَ کی بھئی۔ وَلَا تُقْبَلُ عَلَى الْمُسْلِمِ اور گواہی ذمی کی قبول نہیں کی جائے گی مسلمان پر یعنی مسلمان کے خلاف بھئی۔ وَشَهَادَةُ الْمُسْتَأْمَنِ تُقْبَلُ عَلَى الْمُسْتَأْمَنِ اور مستأمن کی گواہی قبول کی جائے گی مستأمن پر۔ کب؟ إِنْ كَانَا مِنْ دَارٍ وَاحِدَةٍ اگر دونوں کیا ہوں، مِنْ دَارٍ وَاحِدَةٍ بھئی، وَاحِدَةٍ، دار مؤنث ہے بھئی۔ اگر دونوں ایک ہی دار سے ہوں۔ وَإِنْ كَانَا مِنْ دَارَيْنِ اور اگر دونوں دو مختلف داروں سے ہوں كَالتُّرْكِ وَالرُّومِ جیسے ترک اور، ایک مستأمن ترکی ہے، دوسرا رومی ہے، فَلَا تُقْبَلُ پھر ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ وَلَا تُقْبَلُ أَيْضًا عَلَى الْمُسْلِمِ وَلَا أَيْضًا عَلَى الذِّمِّيِّ اور مسلمان کے خلاف بھی مستأمن کی گواہی نہیں سنی جائے گی اور ذمی کے خلاف بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ وَعَدُوٍّ أَيْ تُقْبَلُ الشَّهَادَةُ مِنْ عَدُوٍّ دشمن سے گواہی، ایک دشمن کی قبول کی جائے گی بِسَبَبِ الدِّينِ دین کے سبب سے۔ بھئی، وہ جو دشمن ہے دین کے سبب سے۔ بھئی، ایک دنیاوی دشمنی ہے۔ ایک نے دوسرے کا قتل کیا ہے یا مال کھایا ہے، نقصان پہنچایا، اب ان کے درمیان بھی دشمنی آگئی، پیدا ہوگئی۔ ایک یہ دشمنی ہے۔ ایک مولانا دینی دشمنی ہے، جیسے بھئی ایک بریلوی ہے بھئی، ایک دیوبندی ہے یا ایک شیعہ ہے۔ ان کے درمیان میں بھی باہم کیا ہوگی؟ دشمنی ہوگی۔ تو دینی دشمنی اگر ہو، ایک مسلمان دوسرے کا دینی دشمن ہے، لیکن کسی مسئلے میں اس کے خلاف گواہی دینا پڑی اس کو، تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ یہاں دشمنی کا سبب دین ہے۔ ہر ایک اپنے آپ کو دین پر سمجھتا ہے، حق پر سمجھتا ہے۔ تو اس لیے دوسرے کے ساتھ دشمنی کرتا ہے، اور یہ بات اس کو جھوٹ بولنے پر آمادہ نہیں کرے گی بھئی۔ ہاں، اگر دنیاوی دشمنی ہو، پھر وہ اس کو ہر حال میں کیا کرنا چاہتا ہے؟ دنیاوی دشمنی ہے، آگے اس کا حکم آ جائے گا۔ پھر ہو سکتا ہے ممکن ہے وہ اس کے خلاف جھوٹی گواہی دے دے۔ لیکن جہاں دشمنی کا سبب دین ہے، تو وہاں تو دشمنی ہے ہی اس وجہ سے کہ ہر ایک کیا سمجھتا ہے؟ میں زیادہ دین پر ہوں اور یہ درست راستے پر دوسرا نہیں۔ جب میں زیادہ دین پر ہوں، تو یقیناً وہ کیا کرے گا؟ جھوٹ بولنا بھی پسند نہیں کرے گا اس کے لیے جھوٹ۔ وَعَدُوٍّ بِسَبَبِ الدِّينِ۔ وَمَنْ اجْتَنَبَ اور اسی طرح اس شخص سے، قبول کی جائے گی شہادت اس شخص سے اجْتَنَبَ عَنْ الْكَبَائِرِ جو بچتا ہے کس سے؟ کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے وَلَمْ يُصِرَّ عَلَى الصَّغَائِرِ اور اصرار نہیں کرتا صغیرہ گناہوں پر۔ یعنی بار بار نہیں کرتا، مسلسل نہیں کرتا صغیرہ گناہ۔ یاد رکھو، چھوٹا گناہ کوئی بھی ہو، لیکن اگر اس کو بار بار کیا جائے، وہ کیا بن جایا کرتا ہے؟ کبیرہ بن جاتا ہے بھئی۔ وَغَلَبَ صَوَابُهُ اور اس شخص کے درست کام غالب ہوں۔ درست کام اس کے غلط پر کیا ہوں؟ غالب ہوں۔ یہ بھئی، یہی اس کو ایسا شخص جو کبیرہ سے بچتا ہو، صغیرہ پر اصرار نہیں کرتا، اور اس کی نیکیاں گناہوں سے بڑھ کر ہوں، اس کی گواہی کو کیا کیا جائے گا؟ اور یہی تعریف ہے مولانا عادل کی۔ عادل بھی کس کو کہتے تھے؟ جو کبیرہ سے بچتا ہو، صغیرہ پر اصرار نہ کرتا ہو، اور اس کی نیکیاں گناہوں پر غالب ہوں۔ اب مولانا، کبائر کا ذکر آ گیا۔ علامہ صدر الشریعہ بتلانا چاہتے ہیں کبیرہ گناہ کون کون سے ہیں بھئی۔ چنانچہ کئی حدیثیں ذکر کریں گے۔ علماء کے اقوال ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں اخْتَلَفُوا فِي تَفْسِيرِ الْكَبَائِرِ اختلاف کیا ہے علماء نے کبیرہ گناہوں کی تفسیر میں۔ قِيلَ کہا گیا ہے، ایک قول یہ ہے، هِيَ سَبْعٌ کبیرہ گناہ کتنے ہیں؟ سات۔ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانا۔ وَالْفِرَارُ مِنْ الزَّحْفِ زحف کہتے ہیں قتال، لڑائی، مقابلے کو۔ کفار سے لڑائی میں سے بھاگنا بھئی۔ کفار سے جنگ ہو رہی ہے اور جنگ میں پشت پھیر کر بھاگ جانا، یہ بہت بڑا گناہ ہے، بہت بڑا گناہ بھئی۔ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ اور والدین کی نافرمانی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ بڑا گناہ ہے بھئی، کبیرہ گناہ۔ وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ اور کسی نفس کو قتل کر دینا بغیر حق کے بھئی۔ ناحق کسی کو قتل کر دینا۔ وَنَهْبُ مَالِ الْمُؤْمِنِ نہب کا معنی لوٹنا۔ مؤمن کے مال کو لوٹنا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ آئیے جی۔ وَالزِّنَا اور اسی طرح زنا ہے بھئی۔ وَشُرْبُ الْخَمْرِ اور شراب کا پینا۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں یہ سات کبیرہ گناہ ہیں بھئی۔ وَزَادَ الْبَعْضُ اور بعض علماء نے ان میں یہ بھی بڑھا دیے۔ أَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ یتیم کے مال کو کھانا بِغَيْرِ حَقٍّ ناحق طور پر۔ وَأَكْلُ الرِّبَا اور اسی طرح سود کھانا۔ بعضوں نے کہا یہ بھی کبیرہ ہیں، ان سات کے ساتھ ساتھ یہ دو بھی بھئی۔ وَقَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ اور تحقیق وارد ہوا ہے حدیث کے اندر۔ حدیث میں آیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ بچو تم سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے۔ موبق ہلاک کر دینے والی چیز۔ تو سات ہلاک کر دینے والے گناہوں سے بچو یعنی یہ بہت بڑے گناہ ہیں بھئی۔ وہ کیا ہیں سات بھئی؟ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ اللہ کے ساتھ شریک کرنا۔ وَالسِّحْرُ اور جادو کرنا۔ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ اور قتل کرنا اس نفس کو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کے ساتھ۔ حق کے ساتھ تو پھر ٹھیک ہے، ہاں ناحق ہو تو یہ بڑا گناہ ہے۔ وَأَكْلُ الرِّبَا اور سود کا کھانا۔ وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ بِغَيْرِ حَقٍّ اور یتیم کا مال ناحق طور پر کھانا۔ وَالتَّوَلِّي تولّی کا معنی ہے پشت پھیرنا۔ وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ اور لڑائی والے دن پشت پھیرنا، بھاگنا میدان سے۔ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ محصنات پاک دامن، عفیف۔ غافلات جو سادہ ہوں، سادہ۔ سیدھی سادھی پاک دامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا بھئی، زنا کی تہمت لگانا۔ یہ کبیرہ گناہوں میں سے۔ جی، یہ حدیث دیکھا، یہ حدیث میں آیا ہے۔ تو دیکھو اس میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا بھئی، دو کا۔ جادو کا بھی ذکر آ گیا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا بھی آ گیا۔ اسی طرح وَقَدْ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، ایک اور حدیث ذکر کر رہے ہیں۔ حضور فرماتے ہیں الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ کبیرہ کیا ہیں؟ اللہ کے ساتھ شریک کرنا، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ اور والدین کی نافرمانی، وَقَتْلُ النَّفْسِ اور نفس کو قتل کرنا، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ اور جھوٹی قسم اٹھانا۔ بھئی، جھوٹی قسم ماضی کے بارے مستقبل کے بارے میں کوئی قسم اٹھائے اس کو پورا کیا جاتا ہے، پورا نہ کرے تو اس پر کفارہ آتا ہے۔ لیکن ماضی کے بارے میں اگر کسی کام پر جھوٹی قسم اٹھا لی بھئی، پتہ ہے یہ کام اس طرح نہیں ہے، پھر اس پر قسم جھوٹی اٹھا لی، اسے یمینِ غموس کہتے ہیں بھئی۔ جی، تو اسے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہِ کبیرہ میں شمار کیا بھئی۔ تو اب دیکھیے بھئی، مختلف احادیث میں مختلف چیزیں آ رہی ہیں، تو کون سے کبیرہ ہیں، کون سے نہیں بھئی؟ بعض میں آیا سات ہیں، بعض میں کچھ۔ تو کہتے ہیں فَالصَّحِيحُ صحیح بات، قول یہ ہے کہ أَنَّ هَذِهِ الأَحَادِيثَ لَيْسَتْ لِبَيَانِ الْحَصْرِ کہ یہ احادیث جو ہیں، یہ حصر کے لیے، بیانِ حصر کے لیے نہیں ہیں۔ ان حدیثوں کا مقصد یہ نہیں کہ یہی چھ یا سات یا جتنے بھی ذکر ہوئے، یہی کبیرہ ہیں۔ جی، فَالْكَبِيرَةُ تو کبیرہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں فَالْكَبِيرَةُ كُلُّ مَا سُمِّيَ فَاحِشَةً کبیرہ ہر وہ گناہ ہے جسے فاحشہ کہا جائے۔ جو کیا ہو؟ جو فاحشہ ہو، انتہائی درجے کی بے حیائی ہو كَاللِّوَاطَةِ جیسے لواطت ہے۔ وَنِكَاحِ مَنْكُوحَةِ الأَبِ اور باپ کی منکوحہ سے نکاح بھئی۔ باپ کی کئی بیویاں ہیں بھئی، تو باپ کے بعد کیا کر لیا، اس کی منکوحہ ایک جو سگی ماں نہیں ہے، دوسری بھئی، سوتیلی ماں، اس سے کیا کر لینا؟ نکاح کر لینا۔ تو یہ فاحش تو کبیرہ وہ ہے جسے فاحشہ کہا جائے، جس کی دو مثالیں ذکر کر دیں فاحشہ کی۔ یا أَوْ ثَبَتَ لَهَا بِنَصٍّ قَاطِعٍ عُقُوبَةٌ فِي الدُّنْيَا أَوْ فِي الآخِرَةِ یا اس کے لیے ثابت ہو نصِ قاطع سے، قطعی نص کے ذریعے، کیا ثابت ہو؟ یعنی ظنی نہ ہو مولانا۔ عُقُوبَةٌ کیا ثابت ہو؟ سزا ثابت ہو فِي الدُّنْيَا دنیا میں أَوْ فِي الآخِرَةِ یا کس میں؟ وہ گناہ جس کے لیے دنیا میں کوئی سزا ثابت ہو يا آخرت میں کیا ہو اس کی سزا کوئی ذکر کی جائے، ایسی حدیث جو قطعی ہو، ظنی نہ ہو۔ تو یہ مولانا، یہ کبیرہ گناہ ہیں۔ تو کبیرہ کسے کہتے ہیں؟ جو فاحشہ ہو یا جس کے لیے حدیث میں کوئی، قرآن و حدیث میں کوئی سزا آئی ہو دنیا اور آخرت میں۔ وَقَالَ الإِمَامُ الْحَلْوَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى اور امام حلوانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: كُلُّ مَا كَانَ شَنِيعًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ جی، یہ، یہ بھی اور تعریف کرتے ہیں، دیکھیے بھئی۔ بات اور واضح ہو جاتی ہے۔ كُلُّ مَا كَانَ شَنِيعًا ہر وہ چیز جو قابلِ نفرت ہو۔ شنیع کا کیا معنی؟ قابلِ نفرت۔ ہر وہ چیز جو قابلِ نفرت ہو بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ مسلمانوں کے بیچ وَفِيهِ هَتْكُ حُرْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَالدِّينِ فَهِيَ كَبِيرَةٌ۔ ہتک کہتے ہیں پردہ دری کو مولانا۔ ہتک کس کو کہتے ہیں؟ پردہ دری، پردہ پھاڑنا بھئی، بے حرمتی کرنا۔ ہتکِ حرمت کا کیا معنی ہوا؟ پردہ دری کرنا یعنی بے حرمتی کرنا۔ تو کہتے ہیں، ہر وہ چیز جو مسلمانوں میں قابلِ نفرت ہو اور اس میں بے حرمتی ہو اللہ تعالی کی وَالدِّينِ اور دینِ اسلام کی، فَهِيَ كَبِيرَةٌ بھئی، یہ کیا ہے؟ کبیرہ ہے۔ تعریف سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ کبیرہ گناہوں کی بحث ہے۔ ثُمَّ بَعْدَ الاِجْتِنَابِ عَنْ الْكَبَائِرِ پھر کبیرہ گناہوں سے اجتناب کے بعد بھئی، عَنْ الْكَبَائِرِ كُلِّهَا سارے کبیرہ گناہوں سے اجتناب کے بعد لَا بُدَّ مِنْ عَدَمِ الإِصْرَارِ عَلَى الصَّغِيرَةِ یہ بھی ضروری ہے کہ صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ ہو۔ فَإِنَّ الإِصْرَارَ عَلَى الصَّغِيرَةِ كَبِيرَةٌ اس لیے کہ صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنا، ان کو مسلسل کرنا، بار بار کرنا، یہ بھی کبیرہ ہے۔ وَقَوْلُهُ اور متن میں آیا تھا وَغَلَبَ صَوَابُهُ، اس کا کیا معنی ہے؟ أَيْ غَلَبَ أَيْ حَسَنَاتُهُ اس کی نیکیاں کیا ہوں؟ غالب ہوں۔ أَيْ حَسَنَاتُهُ أَغْلَبُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ اس کی نیکیاں زیادہ غالب ہوں کس پر؟ اس کے گناہوں پر، برائیوں پر۔ فَإِنَّ الْإِلْمَامَ بِالصَّغِيرَةِ، معلوم تھوڑے بہت صغیرہ ہوں بھی تو اس سے کوئی حرج نہیں۔ فَإِنَّ الْإِلْمَامَ، المام کا معنی مبتلا ہونا، مبتلا ہونا۔ فَإِنَّ الْإِلْمَامَ بِالصَّغِيرَةِ، اس لیے کہ صغیرہ میں مبتلا ہونا لَا يُسْقِطُ الْعَدَالَةَ، یہ عدالت کو ساقط نہیں کرتا۔ بھئی! کیا بتلایا بھئی؟ اس کی نیکیاں کیا ہوں برائیوں پر؟ غالب، مطلب برائیاں کچھ ہوں بھی تو اس سے کوئی حرج نہیں پڑتا، کیونکہ یہ صغیرہ ہیں اور صغیرہ میں انسان تھوڑا بہت مبتلا بھی ہو جائے تو اس کی وجہ سے کسی کی عدالت ساقط نہیں ہوتی۔ فَقَوْلُهُ، ماتن کا یہ جو قول آیا تھا: وَمَنِ اجْتَنَبَ سے لے کر إِلَى قَوْلِهِ: وَغَلَبَ صَوَابُهُ بھئی، وَمَنِ اجْتَنَبَ سے لے کر ماتن کے اس قول تک: وَغَلَبَ صَوَابُهُ بھئی، تَفْسِيرُ الْعَدْلِ، یہ سارا کیا ہے بھئی؟ عدل کی تفسیر ہے، یہ عادل اسی کو کہتے ہیں جس میں یہ صفات ہوں۔ أَقُولُ، اب علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں: ان باتوں کے ساتھ ساتھ ایک چیز اور بھی ملحوظ رکھنا بھئی، کیا؟ أَقُولُ، کہتے ہیں: میں کہتا ہوں: لَا بُدَّ مِنْ قَيْدٍ آخَرَ، ایک اور قید بھی کیا ہے؟ ضروری ہے، وَهُوَ أَنْ يَجْتَنِبَ الْأَفْعَالَ الْخَسِيسَةَ، کہ وہ شخص بچتا ہو گھٹیا افعال سے، خسیس، رذیل قسم کے، گھٹیا درجے کے افعال سے بچتا ہو، الدَّالَّةَ عَلَى الدَّنَاءَةِ، وہ گھٹیا افعال جو کس پر دلالت کرتے ہیں؟ دناءت، گھٹیا پن پر۔ جی! دناءت، معنیٰ خود کر رہے ہیں: أَيْ عَدَمِ الْمُرُوءَةِ، کس پر دلالت کرتے ہیں؟ بے مروتی پر دلالت کرتے ہیں بھئی، بے مروتی پر۔ بے مروتی؟ بے مروت کس کو کہتے ہیں بھئی؟ جس جو جس میں احساس نہ ہو کسی کا، کسی کا لحاظ نہ رکھتا ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ احساس جس میں ہو، دوسروں کا خیال رکھتا ہے بھئی۔ بے مروت وہ جو کسی کا لحاظ نہیں رکھتا، بے لحاظ شخص۔ اس کی گواہی، وہ ان افعال سے بھی بچتا ہو، كَالْأَكْلِ فِي الطَّرِيقِ، جیسے راستے میں کھانا، راستے میں چلتا ہوا کھاتا ہوا جا رہا ہے یا راستے میں بیٹھا ہوا کھا رہا ہے بھئی، یہ نہیں بھئی۔ جو معزز آدمی ہو گا وہ کبھی بھی اس طرح کا کام نہیں کرے گا بھئی۔ وَالْبَوْلِ عَلَى الطَّرِيقِ، راستے میں پیشاب کرنا بھئی، راستے میں جہاں پیشاب آتا ہے بھئی، ایک طرف ہو کے پیشاب شروع کر دیتا ہے بیٹھ کر بھئی۔ یہ معزز، عزت والا آدمی، عادل آدمی کبھی ایسا نہیں کرتا بھئی۔ وَالْأَقْلَفِ، أَيْ تُقْبَلُ الشَّهَادَةُ مِنَ الْأَقْلَفِ، اقلف وہ شخص ہے جس کے ختنے نہ ہوئے ہوں بھئی، اس کی گواہی بھی قبول کی جائے گی۔ إِلَّا إِذَا تَرَكَ الْخِتَانَ اسْتِخْفَافًا بِالدِّينِ، مگر اس وقت اس کی گواہی بھی قابلِ قبول نہیں اگر اس نے یہ ختنے کو کیوں ترک کیا ہے؟ اسْتِخْفَافًا بِالدِّينِ، دین کو ہلکا سمجھتے ہوئے، پروا ہی نہیں ہے بھئی، کوئی فکر نہیں کہ کوئی حکم، دین کی پروا نہیں کی دین کے حکم کی، اور ختنے نہیں کروائے بھئی، تو اس نے معلوم ہوا دین کو بڑا ہلکا سمجھا بھئی۔ اس کی پروا نہیں کی، اب اس کی گواہی قابلِ قبول نہیں بھئی۔ وَالْخَصِيِّ، اور گواہی قبول کی جائے گی، أَيْ تُقْبَلُ الشَّهَادَةُ مِنَ الْخَصِيِّ، خصصی کی شہادت قبول کی جائے گی بھئی۔ وَوَلَدِ الزِّنَا، اور اسی طرح جو ولد الزنا ہے بھئی، زنا سے پیدا ہوا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جی، ولد الزنا ہے۔ تو وہ شخص جو زنا سے پیدا ہوا تھا اس کی گواہی بھی قبول کی جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ یہ اس کا گناہ نہیں ہے، اس کے والدین بھئی، ان کا گناہ ان کا تھا، تو اس کے اس میں۔ وَالْعُمَّالِ، اور عمال جو عامل بھئی، عمال جمع ہے عامل کی بھئی۔ عامل کس کو کہتے ہیں؟ وہ لوگ جو حکومت کی طرف سے مقرر ہوتے ہیں، جزیہ لیتے ہیں، ٹیکس وصول کرتے ہیں، زکوٰۃ، عشر وغیرہ یہ چیزیں اکٹھی کرتے ہیں بھئی۔ ان کو عامل کہتے ہیں، جمع عمال ہے، ان کی گواہی قبول کی جائے گی بھئی۔ دراصل یہ لوگ جو ہوتے ہیں عموماً حلال و حرام کی پروا نہیں کرتے، لوگوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ظلم کرتے ہیں اس سے، تو اگر یہ ظلم کرنے میں بادشاہ، حکومت کے مددگار ہیں، ظالم ہیں پھر تو ان کی گواہی قبول نہیں، پھر تو یہ فاسق ہو گئے، لیکن اگر ایسے نہیں تو پھر ان کی گواہی کیا کی جائے گی؟ ہاں، صرف عامل ہونے کی بناء پر ان کی گواہی کو ترک کیا جائے، ایسا نہیں ہے۔ وَعِنْدَ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً لَا تُقْبَلُ شَهَادَةُ وَلَدِ الزِّنَا عَلَى الزِّنَا، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی: کہ بھئی! ولد الزنا جو ہے، جو زنا سے پیدا ہوا، اس کی گواہی باقی معاملات میں تو قبول کی جائے گی، زنا کے مسئلے میں اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ کیوں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ غَيْرُهُ كَنَفْسِهِ، اس لیے کہ وہ پسند کرتا ہے اس بات کو کہ اور بھی اس کی طرح ہوں۔ بھئی! وہ زنا پر گواہی دے گا تاکہ اور بھی کیا ہوں؟ اس جیسے ہوں، زنا سے جو ہو گا پیدا وہ بھی کیا ہو گا آگے؟ ولد۔ تو اس کے تو لوگوں کی نظر میں وہ حقیر ہو گا بھئی کہ یہ تو زنا سے پیدا ہوا ہے، تو وہ چاہتا ہے اور لوگ بھی کیا ہوں؟ میرے جیسے ہوں، تو زنا کے مسئلے میں امکان ہے وہ جھوٹی گواہی دے دے، باقی باتوں میں نہیں بھئی۔ ہم کہتے ہیں: نہیں بھئی! ہمارے نزدیک ہر مسئلے میں اس کی گواہی قبول کی جائے گی، اگر وہ عادل ہے تو پھر وہ اس قسم کی جرات نہیں کرے گا۔ وَأَمَّا الْعُمَّالُ بھئی! باقی عمال جو ہیں، فَإِنَّ نَفْسَ الْعَمَلِ لَيْسَ بِفِسْقٍ، نفسِ عمل جو ہے یہ فسق، بھئی! یہ لوگ ہوتے ہیں عموماً کیا ہیں؟ میں نے بتلایا، حلال و حرام کی پروا نہیں کرتے، ظلم کرتے ہیں، لوگوں سے جبراً وصول کرتے ہیں، زیادتیاں کرتے ہیں ان کے ساتھ۔ تو اگر وہ ایسے ہیں، ظلم کرنے والے ہیں، ظلم کے اندر حکومت کی مدد کرنے والے ہیں، پھر تو ٹھیک، پھر تو یہ فاسق ہوئے، گواہی قابلِ قبول نہیں، لیکن اگر ایسے نہیں تو صرف عامل ہیں، تو صرف عامل ہونے کی وجہ سے ان پر کوئی اثر، گواہی پر کوئی اثر، تو نفسِ عمل جو ہے لَيْسَ بِفِسْقٍ، یہ فسق نہیں ہے، إِلَّا إِذَا كَانُوا أَعْوَانًا عَلَى الظُّلْمِ، مگر یہ کہ وہ مددگار ہوں کس چیز پر؟ ظلم، پھر پھر ان کی قبول۔ وَقِيلَ، اور کہا گیا ہے: الْعَامِلُ إِذَا كَانَ وَجِيهًا، عامل جو ہے اگر وہ وجیہ ہو، وجیہ جو مولانا! صاحبِ قدر و منزلت کو کہتے ہیں، وجیہ کس کو کہتے ہیں؟ صاحبِ قدر و منزلت کو کہتے ہیں وجیہ بھئی۔ اور کہتے ہیں: اگر عامل صاحبِ مرتبہ ہو بھئی، بلند مرتبے والا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ لوگوں میں بڑا عزت والا شمار ہوتا ہے، معزز ہے، ذَا مُرُوءَةٍ، اور کیسا ہے؟ مروت والا ہے، لوگوں کا لحاظ رکھتا ہے، لَا يُجَازِفُ فِي كَلَامِهِ، جازف يجازف کا معنیٰ بے سوچے سمجھے بولنا۔ بے سوچے سمجھے کوئی کلام نہیں کرتا، سچ بول رہا ہوں، جھوٹ بول رہا ہوں، صحیح بات کر رہا ہوں، غلط بات کر رہا ہوں، نہیں بھئی! ہر بات کیا کرتا ہے؟ خوب سوچ سمجھ کر کرتا ہے، معزز شخص ہے بھئی، لوگوں کے سامنے بلا وجہ ہی بے سوچے سمجھے نہیں بولتا بھئی۔ مروت والا ہے، اپنے کلام بے سوچے سمجھے کلام نہیں کرتا، تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ، تو اس کی شہادت کیا کی جائے گی؟ اس کی کہتے ہیں شہادت قبول کی جائے گی، وَإِنْ كَانَ فَاسِقًا، اگرچہ وہ فاسق ہی کیوں نہ ہو، اس لیے، آگے وجہ ذکر کریں گے کہ بھئی! جب یہ لوگوں میں معزز ہے، لوگ اس کو کیا کرتے ہیں؟ مرتبے والا ہے، لوگوں کا لحاظ رکھتا ہے، تو لوگوں میں معزز ہے، اگرچہ فاسق ہی کیوں نہ ہے، گناہ وغیرہ بھی ہیں اس کے کافی، لیکن لیکن بھئی! پھر بھی یہ شخص عموماً اس قسم کا آدمی جھوٹی گواہی نہیں دے گا، کیونکہ وہ اپنے وقار کو لوگوں میں خراب نہیں کرنا چاہے گا۔ وَإِنْ كَانَ، اگرچہ وہ فاسق ہو، فَقَدْ يُرْوَى عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، اس لیے کہ تحقیق روایت کیا گیا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، أَنَّ الْفَاسِقَ إِذَا كَانَ لِوَجَاهَتِهِ، کہ اگر فاسق جو ہے لِوَجَاهَتِهِ، اپنی وجہات کی وجہ سے، اپنے مرتبے کی وجہ سے، لَا يُقْدِمُ عَلَى الْكَذِبِ، اگر وہ جرات، اقدم تقدم کا معنیٰ پیش قدمی کرنا، جرات کرنا، اگر وہ جرات نہیں کرتا، پیش قدمی نہیں کرتا جھوٹ پر۔ اپنے مرتبے کی وجہ سے جھوٹ نہیں بولتا، تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ، تو اس کی شہادت کیا کی جائے گی؟ قبول کی جائے گی، تو جو بھی فاسق ہو، اگر وہ اپنے مرتبے کی وجہ سے جھوٹ نہیں بولتا تو اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔ تُقْبَلُ الشَّهَادَةُ وَلِأَخِيهِ، اور شہادت قبول کی جائے گی کسی شخص کی لِأَخِيهِ، کس کے لیے؟ اپنے اپنے بھئی کے لیے، بھئی کے لیے بھئی کی گواہی قابلِ قبول ہے۔ وَعَمِّهِ، اور اسی طرح اپنے چچا کے، آگے آئے گا مولانا! میاں کے خاوند کی شہادت بیوی کے لیے، بیوی کے خاوند کے لیے، باپ کی بیٹے کے لیے، بیٹے کی باپ کے لیے، یہ شہادتیں قبول نہیں ہیں بھئی۔ کیونکہ یہ شہادت میں اس کا اپنا ہی نفع ہے، اپنا ہی نفع ہوتا ہے۔ لیکن بھئی وغیرہ اور چچا ان میں اس طرح نہیں ہے، تو یہاں گواہی قابلِ قبول ہے۔ وَعَمِّهِ، اور چچا کے لیے بھی کسی شخص کی گواہی قبول ہے، وَمَنْ حَرُمَ رَضَاعًا، یرحمک اللہ! اور اس شخص کے لیے جو حرام ہو وجہِ رضاعت کے۔ رضاعت کی وجہ سے جو حرمت آئی ہے وہاں بھی ایک شخص کی دوسرے کے لیے گواہی، مطلب یعنی کہ رضاعی ماں کے لیے، رضاعی رضاعی کس کے لیے؟ اولاد وغیرہ کے لیے سب کے لیے گواہی، بھئی ایک آدمی ہے اس نے ایک عورت کا دودھ پیا، ایک مسئلے میں اس کو اس عورت کے لیے ہی گواہی دینا پڑ گئی، وہ کیا کر سکتی ہے؟ وہ آدمی کیا کر سکتا ہے؟ گواہی، یا ایک عورت نے ایک بچے کو دودھ پلایا تھا، آگے کسی مسئلے میں اس عورت کو اس کے لیے گواہی دینا پڑ گئی اپنے رضاعی اولاد کے لیے، تو وہ گواہی دے سکتی ہے۔ أَوْ مُصَاهَرَةً، یا جو حرام ہے مصاہرت کی وجہ سے، سسرالی رشتے کی وجہ سے، مصاہرت کسے کہتے ہیں؟ سسرالی رشتہ بھئی۔ تو جو حرام ہے رضاعت کی وجہ سے یا جو حرام ہے کس کی وجہ سے؟ مصاہرت کا عطف رضاعاً پر ہے، سسرالی رشتے کی وجہ سے۔ بھئی دیکھو! آپ نے پڑھا ہے، جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے اس کی ساس اس پر کیا ہو جاتی ہے؟ ابد الآباد کے لیے حرام ہو گئی مولانا! اب تو وہاں کوئی نکاح کی گنجائش، بیوی کو طلاق بھی دے دے اب بھی ساس سے نکاح نہیں ہو سکتا، وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ اسی طرح اس کی جو نانیاں ہیں، دادیاں ہیں وہ ساری بھی کیا ہو گئیں؟ حرام ہو گئیں اس عورت کی۔ تو یہ بھی ان کے ساتھ بھی۔ تو ان میں سے ایک کو دوسرے کے لیے، سمجھ میں آیا؟ ساس کے لیے یا سسر وغیرہ کے لیے کیا کرنا پڑا بھئی؟ گواہی دینی پڑی یا ان کو اس کے لیے گواہی دینی پڑی، یہ سب قبول کی جائیں گی۔ لَا مِنْ أَعْمَى، أَيْ لَا تُقْبَلُ الشَّهَادَةُ مِنْ أَعْمَى، اعمیٰ اندھے کی طرف سے گواہی قبول نہیں کی جائے گی بھئی۔ اندھا ہے، گواہی دینا چاہتا ہے، گواہی نہیں دے سکتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کیوں؟ کیونکہ گواہی کے اندر ضروری ہوتا ہے مدعی علیہ کو دیکھے بھی تو صحیح گواہ کہ میں کس کے خلاف گواہی دے رہا ہوں، وہی آدمی ہے یا کوئی اور آدمی ہے بھئی۔ آپ کہیں گے آواز سن کے پہچان لے گا بھئی اندھا، نہیں بھئی! بعض اوقات آوازیں بھی کیا ہوتی ہیں؟ ایک دوسرے کے اس میں اشتباہ ہو سکتا ہے بھئی، لہٰذا درست نہیں بھئی، تو اندھے کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے بھئی۔ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، اور ایک روایت میں ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے: كَ تُقْبَلُ فِيمَا يَجْرِي فِيهِ التَّسَامُعُ، کہ قبول کی جائے گی اس معاملات کے اندر جن کے اندر تسامع جاری ہوتا ہے۔ ان معاملات میں اندھے کی گواہی کیا کی جائے گی؟ بھئی جس میں سننا ہوتا ہے، دیکھنے کی جہاں ضرورت نہیں پڑتی، مثلاً اقرار ہے گزر گیا۔ تو اقرار کے اندر دیکھنا ضروری ہوتا ہے یا سننا ضروری ہے بھئی؟ سننا۔ اسی طرح بیع میں ایجاب و قبول کو سن لیا، قاضی کے فیصلے کو سن لیا، تو وہ چیزیں جہاں تسامع سننا کافی ہوتا ہے، ان مسئلوں میں اندھے کی گواہی ایک روایت کے مطابق کیا کی جائے گی؟ قبول کی جائے گی۔ وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، اور یہ قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا بھئی، وہ بھی فرماتے ہیں: قبول کی جائے گی تسامع والوں میں۔ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى تُقْبَلُ إِذَا كَانَ بَصِيرًا عِنْدَ التَّحَمُّلِ۔ اچھا! یاد رکھو، ایک ہے ادائے شہادت، ایک ہے تحملِ شہادت، ایک ہے ادائے شہادت۔ تحملِ شہادت کا معنیٰ گواہ ہونا، گواہ بن جانا، آپ کے سامنے ایک واقعہ ہوا تو آپ اب گواہ بن گئے اس واقعے کے، آپ جب گواہی دینا چاہیں۔ تو تحملِ شہادت کب ہو گا؟ جب آپ اس واقعے کو دیکھ لیں یا سن لیں۔ اور ادائے شہادت کہاں پر ہو گا؟ قاضی کے پاس۔ تو ایک ہے تحملِ شہادت، ایک ہے ادائے شہادت بھئی۔ اچھا! تو امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اگر تحملِ شہادت کے وقت انسان بینا تھا اور ادائے شہادت کے وقت تک وہ کیا ہو گیا؟ نابینا ہو گیا، اعمیٰ ہو گیا، اندھا ہو گیا، تو اب اس کی گواہی سنی جائے گی، کیونکہ تحمل، گواہ بنتے وقت وہ کیا تھا؟ بینا تھا، اب اگرچہ ادا کرتے ہوئے وہ نابینا ہو چکا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک نہیں مولانا! تحمل کے وقت بھی اس کا کیا ہونا چاہیے؟ بینا، اور ادائے شہادت کے وقت بھی اس کو بینا ہونا چاہیے۔ معلوم ہوا نابینا ہوا تو ادائے شہادت نہیں کر سکتا، اور ضابطہ یاد رکھو مولانا! جو چیز ادائے شہادت سے مانع ہے، وہ قضا سے بھی مانع ہے۔ جو چیز ادائے شہادت سے مانع ہے وہ قضا سے بھی مانع ہے۔ دیکھو بھئی! ایک شخص تھا، اس کے سامنے ایک واقعہ ہوا، اس وقت وہ بینا تھا، دکھائی دیتا تھا اسے۔ بعد میں کچھ عرصے کے بعد وہ نابینا ہوا اور اسے اس مسئلے کے اندر ادائے شہادت کی ضرورت پڑی قاضی کے پاس، کیا وہ ادائے شہادت کر سکتا ہے؟ جی؟ نہیں! ادائے شہادت کے لیے بھی ہمارے نزدیک کیا ضروری ہے؟ بینا ہونا ضروری ہے۔ اچھا! تو لہٰذا وہ ادائے شہادت نہیں کر سکتا، معلوم ہوا نابینا ہونا یہ مانع ہے، کس چیز سے؟ ادائے شہادت سے۔ لیکن فرض کرو ادائے شہادت کے وقت بھی وہ بینا تھا۔ اس وقت بھی اس نے قاضی کے پاس جا کر گواہی دے دی۔ لیکن ابھی قاضی نے فیصلہ نہیں کیا، دو چار دن بعد فیصلہ ہونا ہے بھئی، اور یا کل ہونا ہے فیصلہ، یہ رات کو نابینا ہو گیا بھئی۔ اب مولانا! اب اس کے شہادت پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ ضابطہ میں نے آپ کو بتلایا: جو چیز مانع ہو ادائے شہادت سے، اور نابینا ہونا مانع تھا کس سے؟ تو وہی وہ مانع ہے کس سے؟ قضا سے بھی۔ قضا سے بھی مانع ہے، اب قضا بھی نہیں کی جا سکتی، کیونکہ وہ شخص گواہ کیا ہو چکا؟ اندھا ہو چکا۔ تو امام شافعی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تُقْبَلُ إِذَا كَانَ بَصِيرًا عِنْدَ التَّحَمُّلِ، قبول کی جائے گی گواہی جبکہ وہ بصیر دیکھنے والا تھا تحملِ شہادت کے وقت، وَإِنْ عَمِيَ بَعْدَ الْأَدَاءِ، اگرچہ وہ اندھا ہو گیا ادائے شہادت۔ وَإِنْ عَمِيَ، اور اگر وہ ادا اندھا ہو گیا ادائے شہادت کے بعد قَبْلَ الْقَضَاءِ، فیصلے سے پہلے، لَا يَقْضِي الْقَاضِي، تو قاضی فیصلہ نہیں کرے گا، کر سکتا، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى، طرفین رحمہما اللہ کے، اور اسی پر فتویٰ ہے مولانا! اسی پر کیا ہے؟ خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ، بخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں: قاضی فیصلہ کر سکتا ہے، وَقَوْلُهُ أَظْهَرُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول کیا ہے؟ زیادہ ظاہر ہے لیکن میں نے کیا بتلایا کہ فتوی کس پر ہے طربین کے قول پر ہے تو کیا کہا بھئی متن میں کیا آیا تھا؟ وَلَا مِنْ أَعْمَى اندھے سے گواہی قبول نہیں۔ وَمَمْلُوكٍ اسی طرح غلام سے بھی گواہی قبول نہیں، غلام کی گواہی قابلِ قبول نہیں بھئی۔ اس لیے کہ اس کو اپنے نفس پر ولایت حاصل نہیں، اور یہاں پر گواہی کے اندر تو کیا ہوتا ہے غیر پر گواہ کا قول نافذ ہوتا ہے۔ تو جب اسے اپنے نفس پر ولایت نہیں تو غیر پر بھی بطریقِ اولیٰ ولایت حاصل نہیں۔ تو غیر کے خلاف اس کا قول بھی نافذ نہیں ہوگا بھئی۔ وَمَمْلُوكٍ تو غلام مملوک جو ہے اس کی گواہی بھی قابلِ قبول نہیں کی جائے گی۔ وَمَحْدُودٍ فِي قَذْفٍ اور وہ شخص جو محدود فی القذف ہو بھئی۔ کسی مسلمان پر اس نے کیا لگائی تھی زنا کی تہمت اور اس پر پھر حد جاری کی گئی، اسے اسی کوڑے لگائے گئے۔ تو اس کے لیے تو اللہ تعالیٰ قرآن میں کیا فرماتے ہیں وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا کبھی بھی اس کی شہادت قبول نہ کرو۔ اسے اسی کوڑے بھی لگائے جائیں گے اور اس کی شہادت کبھی بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ ہمارے نزدیک حد کا باقاعدہ حصہ ہے۔ حد کیا ہے بھئی حدِ قذف ہمارے نزدیک؟ اسی کوڑے بھی اور کہ آئندہ کبھی بھی اس کی گواہی قبول نہیں، اگرچہ توبہ کیوں نہ کر لے بھئی۔ توبہ کیوں نہ کر لے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر توبہ کر لے تو اب کیا کی جائے گی اس کی گواہی؟ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ حد کا حصہ ہے، توبہ کر بھی لے پھر بھی اس کی گواہی نہیں قبول بھئی۔ یہ معنی ہے وَمَحْدُودٍ فِي قَذْفٍ اور قذف کے اندر جو جس پر حد جاری ہوئی ہے اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی جائے گی وَإِنْ تَابَ اگرچہ وہ کیا کر لے؟ توبہ کر لے۔ إِنَّمَا قَالَ هَذَا ماتن نے یہ اس لیے فرمایا لِأَنَّهَا تُقْبَلُ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِذَا تَابَ اس لیے کہ گواہی قبول کی جائے گی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی إِذَا تَابَ جب وہ کیا کر لے توبہ۔ إِلَّا مَنْ حُدَّ فِي كُفْرِهِ فَأَسْلَمَ مگر اس شخص کی، بھئی ایک محدود فی القذف ہے اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ کون سا محدود؟ بھئی ایک شخص تھا کافر، اسلام ابھی نہیں لایا، اور اس نے ایک مسلمان پر زنا کی تہمت لگائی، اس پر حدِ قذف جاری کر دی گئی۔ بعد میں وہ ایمان لے آیا بھئی، تو کیا اب اس کی گواہی ہوگی قبول یا نہیں؟ ہاں بھئی، گواہی کیا ہوگی قبول ہو جائے گی، کیونکہ وہ حد جو جاری ہوئی تھی وہ اس پر اسلام کے زمانے میں جاری نہیں ہوئی تھی۔ تو إِلَّا مگر وہ کافر وہ شخص جو حُدَّ فِي كُفْرِهِ کہ جس پر حد لگائی گئی تھی اس کے کفر کی حالت میں فَأَسْلَمَ پھر وہ اسلام لے آیا، تو اب اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ اگرچہ یہ محدود فی القذف ہے۔ اسی طرح وَعَدُوٍّ بِسَبَبِ الدُّنْيَا وہ دشمن وہ دشمن جو کس کی وجہ سے ہو؟ دنیا کی وجہ سے جو دشمن ہے اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی جائے گی مولانا۔ وَلَا لِأَصْلِهِ اسی طرح گواہی قبول نہیں کی جائے گی کسی شخص کی لِأَصْلِهِ اپنی اصل کے لیے۔ اپنے باپ، دادا، نانا، نانی، دادا، دادی وغیرہ کسی کے لیے اس کی گواہی جو اصول ہیں اوپر کی طرف آدمی کے بھئی۔ وَفَرْعِهِ اسی طرح جو فرع ہے اس شخص کی اس کے لیے بھی گواہی قبول نہیں۔ فرع کیسے مثلاً بھئی؟ فرع کسے کہیں؟ جو نیچے کی طرف، اولاد اور اولاد کی اولاد اور ان کی اولاد، یہ نیچے فرع ہے بھئی۔ تو کسی کی اپنی اولاد وغیرہ کے لیے گواہی قبول نہیں، پوتے ہیں، نواسے ہیں، پڑپوتے ہیں، کسی کسی کے لیے نہیں۔ وَزَوْجِهِ اور کسی کی گواہی اپنے خاوند کے لیے وَعِرْسِهِ اور اپنی بیوی کے لیے، یہ بھی قبول نہیں، کیونکہ ان کے ساروں کے مفادات مشترک ہوتے ہیں، ایک کا نفع دراصل کیا ہوتا ہے دوسرے کا بھی نفع ہی ہوتا ہے بھئی۔ کہتے ہیں فِي الْعَدُوِّ لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ عَلَى مَنْ يُعَادِيهِ وَتُقْبَلُ لَهُ۔ کہتے ہیں دشمن کے اندر لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ اس شخص کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی عَلَى اس شخص کے خلاف مَنْ يُعَادِيهِ جو اس سے کیا کرتا ہے؟ دشمنی کرتا ہے۔ بھئی دیکھو، مثلاً بھئی میری اور زید کی دشمنی ہے، تو میری گواہی زید کے خلاف، وہ شخص جو میرے ساتھ کیا کرتا ہے دشمنی، کون کر رہا ہے میرے ساتھ دشمنی؟ میں زید میرے ساتھ کر رہا ہے، میں اس کے ساتھ بھئی۔ تو میری گواہی زید کے خلاف نہیں سنی جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن وَتُقْبَلُ لَهُ اس کے حق میں سنی جائے گی۔ اگر کسی مسئلے میں مجھے زید سے میری دشمنی ہے، لیکن میں اس کے خلاف گواہی دینے نہیں جا رہا، کیونکہ اگر میں خلاف دینے جاؤں تو ہو سکتا ہے میں جھوٹ بول دوں، لیکن میں کس کیا کر رہا ہوں اس کے حق میں گواہی دینے جا رہا ہوں، تو اب کیا کی جائے گی گواہی؟ وَفِي الْأَصْلِ إِلَى آخِرِهِ عَلَى الْعَكْسِ اور وہ جو متن میں اصل کے اندر آخر تک جو ہے، اصل، فرع، زوج، بیوی، ان سب میں عَلَى الْعَكْسِ معاملہ کیا ہے؟ برعکس ہے بھئی، اس میں عکس ہے۔ یعنی کیا معنی؟ حق میں ہو تو قبول نہیں، اور مخالفت میں ہو تو ایک شخص اپنے بیٹے کے حق میں گواہی دینا چاہتا ہے قبول نہیں، لیکن بیٹے کے خلاف دینا چاہتا ہے تو قبول ہے۔ وَفِي الزَّوْجِ وَالْعِرْسِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور بیوی اور خاوند اور بیوی کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان کے نزدیک قبول کی جائے گی، ہمارے نزدیک قبول نہیں کی جائے گی۔ وَسَيِّدٍ لِعَبْدِهِ اور آقا کی گواہی لِعَبْدِهِ کس کے لیے؟ اپنے غلام کے لیے، یہ بھی قبول نہیں مولانا۔ کیونکہ غلام کا نفع دراصل کس کا نفع ہے؟ آقا کا۔ وَمُكَاتَبِهِ آقا کی گواہی اپنے مکاتب کے لیے، یہ بھی نہیں، کیونکہ مکاتب نے پیسے کما کر کس کو لا کر دینے ہیں؟ آقا ہی کو تو دینے ہیں۔ وَشَرِيكِهِ اسی طرح ایک شخص کی گواہی، ایک شریک کی گواہی اپنے ساتھی شریک، ایک شخص کی گواہی اپنے شریک کے لیے، دیکھو بھئی۔ زید اور عمر مشترکہ کاروبار کر رہے ہیں۔ اب اسی کاروبار کے سلسلے میں زید کا بكر سے جھگڑا آیا۔ کس کا آیا؟ بكر سے۔ اب عمر چاہتا ہے کہ میں زید کی طرف سے گواہی دے دوں اس مسئلے میں، نہیں دے سکتا، کیونکہ کس مسئلے میں گواہی دے رہا ہے؟ مالِ مشترکہ کے سلسلے میں گواہی دے رہا ہے، اور مالِ مشترکہ کے اندر جو نفع ہوگا وہ صرف زید کا ہوگا یا عمر کا بھی ہوگا نصف؟ عمر کا بھی ہوگا، تو اس میں بھی اس کا اپنا ہی نفع ہے، آدھا مال اسی کو ملنا ہے، اسی لیے اس کی گواہی قابلِ قبول، ہاں اس کے علاوہ کسی اور چیز میں دینا چاہتا ہے زید کے لیے تو پھر دے سکتا ہے۔ زید کی اپنی ذاتی جائیداد تھی، اس کا کسی سے جھگڑا آیا اور عمر اس کا کاروبار میں شریک ہے، تو عمر کیا کر سکتا ہے؟ زید کے لیے گواہی۔ یہ معنی ہے وَشَرِيكِهِ اور کسی شخص کی اپنے شریک کے لیے فِيمَا کس چیز کے اندر؟ قابلِ قبول نہیں ہے گواہی کسی شخص کی اپنے شریک کے لیے فِيمَا اس چیز کے اندر يَشْتَرِكَانِهِ جس کے اندر وہ دونوں شریک ہیں۔ إِنَّمَا قَالَ هَذَا ماتن نے یہ کیوں فرمایا فِيمَا يَشْتَرِكَانِهِ اس چیز کے اندر جس میں دونوں شریک؟ کہتے ہیں لِأَنَّهَا تُقْبَلُ لِلشَّرِيكِ فِي غَيْرِ مَالِ الشِّرْكَةِ اس لیے کہ مالِ شرکت کے علاوہ میں شریک کی گواہی کیا کی جائے گی؟ قبول کی جائے گی۔ وَكَذَا لَا تُقْبَلُ شَهَادَةُ الْأَجِيرِ اسی طرح اجیر کی گواہی، مزدور کی گواہی بھی قبول نہیں۔ بھئی اجیر، آپ کے پاس ایک شخص ہے، ملازم ہے بھئی، اجرت آپ اسے دیتے ہیں۔ اس کی گواہی آپ کے حق میں قابلِ قبول نہیں۔ اس کی گواہی آپ کے حق میں قابلِ قبول نہیں۔ وَقِيلَ جی، اور کہا گیا ہے يُرَادُ بِهِ کہتے ہیں ہر اجیر بھئی، ایک قول یہ ہے کہ ہر اجیر مراد نہیں۔ بھئی اجیر تو آپ کا ہے، آپ کا ملازم ہے۔ تو بھئی وہ تو آپ کے حق میں گواہی دے گا، کیونکہ اسے کیا آگے ملنے کی امید ہے؟ مال ملنے کی امید ہے۔ لیکن ایک قول یہ ہے کہ اس سے ہر مزدور نہیں مراد، ہر ملازم آپ کا مراد نہیں ہے، آپ کا خاص شاگرد مراد ہے۔ بھئی مکینک ہے، مکینک کے شاگرد ہوتے ہیں یا نہیں؟ درزی کے شاگرد ہوتے ہیں یا نہیں؟ ہر پیشے والے کے شاگرد ہوتے ہیں۔ تو تلمیذ سے وہ تلمیذ مراد ہے پیشوں والوں کے تلمیذ۔ سمجھ میں آیا؟ تو پیشوں والوں کے جو مزدور ہوتے ہیں ان کے پاس، لیکن ہر اجیر مراد نہیں ہے، ہر ملازم مراد نہیں ہے۔ کہتے ہیں وہ خاص تلمیذ مراد ہے، خاص ملازم مراد ہے جو استاد کا بڑا ہی وفادار ہے، اس کے نفع کو اپنا نفع سمجھتا ہے، اس کے نقصان کو اپنا نقصان سمجھتا ہے۔ تو کہتے ہیں وَقِيلَ اور کہا گیا ہے يُرَادُ بِهِ التِّلْمِيذُ الْخَاصُّ الَّذِي اس سے وہ خاص تلمیذ مراد ہے الَّذِي يَعُدُّ ضَرَرَ أُسْتَاذِهِ ضَرَرَ نَفْسِهِ جو شمار کرتا ہے اپنے استاد کے نقصان کو اپنا نقصان وَنَفْعَهُ نَفْعَ نَفْسِهِ اور استاد کے نفع کو اپنے ذات کا نفع شمار کرتا ہے۔ وَقِيلَ یہ ایک قول تھا۔ دوسرا قول یہ ہے يُرَادُ بِهِ الْأَجِيرُ مُسَانَهَةً أَوْ مُشَاهَرَةً وہ ملازم مراد ہے مُسَانَهَةً جو بطور بطور سالانہ اجرت کے ہو یا ماہانہ اجرت کے ہو۔ بھئی مشاہرہ کس کو کہتے ہیں؟ ماہانہ جو اجرت ہوتی ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ مشاہرہ۔ یومیہ ہو بھئی اسے کہتے ہیں میاومہ۔ جس کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟ دہاڑی کہیں گے بھئی میاومہ۔ اور مشاہرہ اردو میں کیا کہیں گے؟ تنخواہ بھئی۔ اسی طرح مسانہہ ہے، وہ سالانہ، پورے سال کی کیا دی جاتی ہے اکٹھی اجرت، مسانہہ اسے کہتے ہیں۔ تو وہ مراد اجیر ہے جو مسانہہ یعنی سالانہ اجرت پر ہو أَوْ مُشَاهَرَةً یا ماہانہ اجرت پر ہو۔ وَمُخَنَّثٍ اور گواہی قبول نہیں ہے مخنث کی بھئی۔ وَمُخَنَّثٌ يَفْعَلُ الرَّدِيَّ جو کیا کرتا ہے ردی افعال انجام۔ مخنث وہ ہے بھئی جو عورتوں جیسی ہیئت بناتا ہے، عورتوں جیسے افعال کرتا ہے۔ تو ہر مخنث بھئی، تو ایک ہے بھئی کہ اس کی قدرتی بھئی اور عورتوں جیسے اس میں حرکات ہیں، ایک قدرتی ہے، ایک وہ ہے جو کیا کرتا ہے؟ خود بناتا ہے عورتوں جیسی اپنی حرکتیں وغیرہ بناتا ہے اور ردی افعال کرتا ہے، مراد ہے مولانا لواطت کرواتا ہے بھئی، وہ مخنث بھئی۔ فَإِنَّهُ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ الرَّدِيَّ اگر وہ ردی افعال نہیں کرتا یعنی عورتوں جیسے جان کر فعل نہیں کرتا یا لواطت وغیرہ نہیں کرتا تو تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ پھر اس کی شہادت کیا ہے؟ قبول ہے، کی جائے گی۔ فَإِنَّ عَدَمَ الْقُدْرَةِ عَلَى الْجِمَاعِ وَلِينَ الْكَلَامِ وَتَكَسُّرَ الْأَعْضَاءِ غَيْرُ مَانِعٍ لِلْقَبُولِ اس لیے کہ اگر قدرتی عورت جیسی حرکتیں ہیں اس میں، مثلاً یعنی جماع پر وہ قادر نہیں ہے، مرد پورا نہیں ہے بھئی۔ وَلِينَ الْكَلَامِ اور کلام میں کیا ہے اس کے؟ نرمی ہے، عورتوں کے سے انداز میں بات کرتا ہے۔ وَتَكَسُّرَ الْأَعْضَاءِ اور اعضاء میں کیا ہے؟ تکسر کا معنی ہے ٹوٹنا بھئی، مراد ہے نرمی عورتوں کی طرح کیا ہے؟ اعضاء وغیرہ ہیں۔ تو یہ چیزیں اگر ہیں تو یہ تو غَيْرُ مَانِعٍ لِلْقَبُولِ، یہ کوئی شہادت کی قبولیت سے مانع نہیں، ہاں اگر وہ ردی افعال کرتا ہے وہ مانع ہیں پھر قبول نہیں کی جائے گی ۔ چلیے بس مولانا ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
121 approved lectures · 74 of 121