Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-058

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 60
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
كتاب القضاۃ الاہل للشہادۃ اہل للقضائی و شرط اہلیتھا شرط اھلیتہ والفسق اہل لہ فیسح تقلیدہ ولا یقلد ایجب الا یقلد حتی لو قلید یاسم۔ کتاب القضاۃ، قضا کا معنی ہوتا ہے فیصلے کرنا بھئی، فیصلے کرنا۔ فیصلہ کرنا۔ جی۔ اس کتاب کے اندر ہمیں یہ بتلایا جائے گا کہ کس کس کو قاضی بنایا جائے؟ قاضی کی کیا شرائط ہیں بھئی؟ کس کو بنایا جا سکتا ہے؟ کس کو نہیں بنایا جا سکتا؟ کس کو بنانا بہتر ہے؟ اور اسے کن امور کا خیال رکھنا چاہیے اور کس طرح وہ فیصلہ کرے بھئی۔ جی، تو کہتے ہیں الاہل للشہادۃ اہل للقضائی الاہل للشہادۃ، وہ جو لائق ہے شہادت کے، اہل للقضائی وہ لائق ہے کس کے؟ قضا کے بھی لائق، قاضی بنانے کے بھی وہ لائق ہے بھئی۔ جی، تو قضا کے لائق ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ شہادت کے اندر آپ نے پڑھا ہے بھئی۔ جی۔ کہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، محدود فی القذف نہ ہو وغیرہ بھئی، تو یہ۔ جی، و شرط اھلیتھا شرط اھلیتہ، اھلیتھا یہ ضمیر جو ہے یہ شہادت کو راجع ہے، اور شرط اھلیتہ یہ ضمیر کس کو راجع؟ قضا کو۔ اور شہادت کی اہلیت کی شرط، وہ قضا کی اہلیت کی شرط ہے یعنی شہادت کی اہلیت کے لیے جو شرائط ہیں بھئی آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، محدود فی القذف نہ ہو وغیرہ، وہی شرائط ہیں کس کے لیے؟ قضا کی اہلیت کے لیے بھی وہی شرائط ہیں بھئی۔ جی، اچھی طرح پڑھیے بھئی اس باب کو بھئی، انشاءاللہ آپ سب قاضی بنیں گے بھئی، انشاءاللہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے، بڑی جلدی اللہ تعالی وہ نظام لے آئیں گے بھئی۔ دنیا بھر میں جہاد میں مصروف ہیں مجاہدین۔ یہ امریکہ کی طاقت ہے، انشاءاللہ اللہ اس کو دفع فرما دیں گے۔ جیسے ہی یہ ختم ہوئی، انشاءاللہ ثم انشاءاللہ بس یہ ایک رکاوٹ باقی ہے، باقی رکاوٹیں اللہ دور فرما چکے بھئی۔ تو پھر آپ کو قاضی جیسے دیکھو بھئی، طالبان کا زمانہ دیکھو بھئی۔ عجیب اللہ تعالی نے ہمیں اس زمانے کے اندر دکھلا دیا کہ جتنی کامیابی اسلامی نظام کے اندر ہے کسی نظام کے اندر نہیں ہے۔ اتنا امن و سکون ہے، اتنا امن و سکون ہے کہ انسان تصور نہیں کر سکتا۔ وہ افغانستان جس کے اندر روزانہ روزانہ کم از کم پچاس سے سو قتل ہوا کرتے تھے بلاوجہ۔ بلاوجہ۔ طالبان کا زمانہ آیا تو پھر مہینوں میں کوئی جا کر قتل ہوتا، لڑائی کے علاوہ جو جہاد، معرکہ ہو رہے ہیں، ان کے علاوہ بھئی شہروں وغیرہ میں۔ شاذ و نادر ہی کوئی قتل ہوتا تھا بھئی، کوئی شاذ و نادر، اتنا امن بھئی۔ ڈاکے، چوریاں وغیرہ بالکل ختم ہو گئے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ میں اکثر سناتا ہوں ایک واقعہ بھئی۔ کئی بہت سے واقعات تو بہت زیادہ ہیں، مثلاً بھئی، ایک شخص اپنا واقعہ ذکر کرتا ہے بھئی، اتنا، اتنا امن اندازہ لگائیے، آج آپ یہاں پر دیکھیے جدید ترین گاڑیاں ہیں، پولیس ہے، سارا کچھ بھئی نظام ہے ان کے پاس، پورا ایک بنا ہوا بھئی روابط ہیں، وائرلیس ہے، ٹیلی فون، سارا کچھ لیکن اس کے باوجود آپ جاتے ہیں، آپ کو کوئی دے دے ایک لاکھ روپیہ یا پچاس ہزار، لو بھئی یہ آپ نے فلاں جگہ پہنچانے ہیں بھئی، اب سارا رابطہ کانپتے رہیں گے بھئی، کانپتے رہیں گے یا نہیں کانپتے رہیں گے؟ کہ ابھی کوئی ادھر سے آیا، کوئی ادھر سے آیا بھئی، یہ حالات ہیں۔ بینک کے اندر سے کوئی نکلتا ہے تو اسے زندگی کی امید نہیں ہوتی، بینک والے ہی پیچھے فون کر دیتے ہیں، بھئی یہ آدمی اتنے پیسے لے کر نکل رہا ہے، یہ یہ علامت ہے، ڈاکوؤں کے ساتھ رابطے ہوتے ہیں بھئی، ورنہ ڈاکوؤں کو کوئی وحی تو نہیں ہو جاتی کہ یہ آدمی دس لاکھ روپیہ لے کر نکل رہا ہے یہاں سے۔ سمجھ میں آیا؟ جی، فساد اتنا بڑھ چکا ہے، اتنا بڑھ چکا ہے۔ دس ہزار آپ کو کوئی دے دے، آپ ڈرتے رہتے ہیں بھئی، کیسے لے کر جائیں گے؟ اور وہ افغانستان جہاں کچھ بھی نہیں تھا، طالبان کی حکومت آئی، نہ ان بیچاروں کے پاس بھئی ٹیلی فون کا نظام ہے صحیح، نہ ان کے پاس بھئی بجلی ہے، بجلی بھی نہیں، کہیں کہیں بجلی بھئی۔ کچھ بھی نہیں تھا وہاں پر، لیکن ایسا نظام، ایسا نظام ایک شخص کہتا ہے میں گیا، قندھار گیا بھئی۔ اور وہاں پر ائیرپورٹ پر اترا، ائیرپورٹ قندھار جو کا شہر سے باہر ہے کچھ فاصلے پر۔ اب مجھے کسی نے لینے آنا تھا، کسی ساتھی نے وہیں قندھار کا تھا بھئی۔ لیکن وہ پہنچا نہیں تھا، کسی وجہ سے نہیں پہنچ سکا، اب میرے پاس سامان کافی زیادہ ہے، جہاز سے اترا ہوں، پریشان ہوں، اب کیسے جاؤں وہاں؟ ایک آدمی سے شہر کا پتہ وغیرہ پوچھا، اس نے بتلایا یوں یوں اس طرح جاؤ گاڑی میں اور فلاں طرف کو اور پھر وہاں جا کر پتہ کرو۔ اب نیا شہر ہے، کچھ پتہ نہیں ہے، زبان بھی اجنبی بھئی۔ تو، میں نے ذکر کیا اپنی پریشانی کا، بھئی اب میں کیسے پہنچوں؟ کیسے پہنچوں؟ میرے لیے تو بڑی مصیبت بن گئی، اب کیسے پہنچوں؟ اس نے کہا بھئی، کیا مشکل ہے، آپ آرام سے چلے جائیں اس طرح، یہ یہ اس طرح وہاں جا کر پتہ کر لیں، پوچھ لیں پتے کا، میں نے کہا بھئی میرے پاس تو سامان ہے اتنا زیادہ۔ تو کہتا ہے سامان چلو یہیں چھوڑ جاؤ، پھر آ کر لے جانا، میں نے کہا بھئی، یہ بڑی قیمتی چیزیں ہیں اس میں، بڑی مہنگی چیزیں ہیں، پیسے ہیں، سب کچھ۔ اس نے کہا بھئی، یوں کرو، پیسے نکال کر بیگ کے اوپر رکھ دو، لیکن اوپر کوئی پتھر رکھ دینا، کوئی ہوا نہ اڑا کر لے جائے، دس دن بعد آ جانا یہ پیسے آپ کو یہیں پر پڑے ہوئے ملیں گے۔ کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ ان پیسوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے، جب تک پیسوں، جتنی دیکھے گا دل میں برا خیال آئے گا تو پہلے اپنے ہاتھ کو دیکھے گا بھئی کہ تیری خیر نہیں اگر میں نے اٹھا لیا تو تجھے کاٹ کر الگ کر کے پھینک دیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہاں پر ایسا نظام تھا، یہ صراف جو ہوتے ہیں یہ جو منی چینجر، پیسے تبدیل کرتے ہیں بھئی، دکانیں وغیرہ نماز کا وقت ہوتا، بھئی سارے نماز کے لیے چلے جاتے بھئی۔ دکانیں اسی طرح کھلی چھوڑ کر چلے گئے بھئی۔ پھر واپس آئے، بھئی کوئی، سب کچھ اسی طرح پڑا ہے، کسی کی جرات نہیں ہوتی تھی کہ کوئی چیز نکال لے، صراف اب نوٹوں کے ڈھیر کے ڈھیر وہیں چھوڑ کر جا رہا ہے بھئی۔ سمجھ میں اسی طرح، میں خود اس زمانے میں، بھئی، اللہ نے مجھے بھی وہ نظام دکھلایا، میں خود وہاں گیا بھئی۔ وہی قندھار ائیرپورٹ پر ہم اترے جہاز سے بھئی، اور پھر آگے کافی پیدائش چلنا پڑا بھئی، سڑک، مین سڑک تک پہنچے، وہاں پھر ہمیں گاڑی، کافی انتظار کے بعد گاڑی ملی۔ گاڑی کے اندر سوار ہوئے، بھئی وہ یہ، کس طرح کہیں، بھئی یہ ڈاٹسن سی جس میں پیچھے سامان رکھنے کی جگہ ہوتی ہے، اس طرح کی گاڑی تھی۔ کافی بوریاں اس کے اندر پڑی ہوئی ہیں، لوگ کوئی بوریوں پہ بیٹھا ہے، کوئی سیٹوں پہ بیٹھا ہے، بھری ہوئی ہے۔ اچھا میری توجہ ہوئی، دیکھا تو میں دیکھ کر حیران رہ گیا، وہ جتنی بوریاں تھیں نوٹوں سے بھری ہوئی تھیں بھئی۔ لوگ اوپر بیٹھے ہوئے ہیں، بھئی۔ اوپر سے بس سلائی تھوڑی کی ہوئی ہے کہ نوٹ خود نہ گریں، ورنہ نظر آ رہے ہیں صاف نوٹ بھئی۔ بوریوں کی بوریاں نوٹوں کی بھری ہوئی اور جہاں غربت اور افلاس کا یہ عالم ہے کہ ایک روٹی کے لیے لوگ تڑپتے ہیں، بھئی۔ کچھ ہے ہی نہیں، جنگ نے سب کچھ ختم کر دیا، لیکن وہ نوٹ لے کر جا رہا ہے، بوریاں اس نے گاڑی میں ڈالی ہوئی ہیں، عام سواری کی گاڑی میں ڈالی ہوئی ہیں۔ اسے فکر ہی کوئی نہیں، نہ چوری ہونے کا خطرہ ہے، نہ کسی ڈاکے کا خطرہ ہے۔ تصور کر سکتے ہیں آپ یہاں پر؟ এখানে پر کوئی اس طرح کچھ لے جائے، بھئی۔ بازار میں ایک جھلک کسی کو نظر آ جائے آپ کی جیب میں نوٹوں کی یا کچھ بھئی، اس کی خیر نہیں۔ اور وہ عجیب نظام تھا، یہ سب اسلامی نظام کی برکتیں تھیں۔ سمجھ میں آیا؟ بڑے لوگ لگے ہوئے تھے مولانا، اگر طالبان کو موقع مل جاتا، بھئی مشیعت ایزدی نہیں تھی کوئی، کیا اسباب بنے کہ طالبان کی حکومت ختم ہو گئی، انشاءاللہ پھر آ جائے گی۔ کوئی بات نہیں، اب آئے گی تو زیادہ مضبوطی کے ساتھ آئے گی، اور انشاءاللہ اب یہاں پر بھی آئے گی، انشاءاللہ، ثم انشاءاللہ۔ تو وہاں پر وہ حکومت، وہ ختم ہوا نظام، بھئی۔ عجیب بھئی۔ تو یہاں تک کہ فرانس اور جرمنی والوں نے باقاعدہ طالبان کے وفد کو اپنے پاس بلوایا۔ کہ تم ہمیں بتاؤ تمہارے ہاں یہ امن و امان کا راز کیا ہے؟ हमारे پاس جدید ترین پولیس ہے، اس کی تربیت پر ہم کروڑوں ڈالر خرچ کرتے ہیں، بھئی، اور اس، اور ان کو جدید ترین ہم نے اسلحہ دیا ہوا ہے، جدید ترین گاڑیاں دی ہوئی ہیں، جدید ترین روابط کے آلات ہیں ان کے پاس، بھئی، جدید ترین ہیلی کاپٹر ہیں ان کے پاس، بھئی، گاڑیاں نہیں تو ہیلی کاپٹروں میں پہنچتے ہیں اس جگہ پر۔ اتنا کچھ کر کے اور ایک پورا نظام ہے، لیکن ہمارے ہاں جرائم پر ہم قابو نہیں پا سکتے، جرم ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں، بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ اور تمہارے ہاں، تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، کھانے کو روٹی نہیں ہے، لیکن اتنا امن ہے، اتنا امن ہے کہ ڈاکے کی خبر سننے کو ہمارے کان ترس جاتے ہیں۔ چوری کی خبر سننے کو ہمارے کان ترس جاتے ہیں، کہیں چوری ہوئی کہ نہیں ہوئی۔ سمجھ میں آیا؟ وہ کہتے ہیں بھئی یہ ہمارا کمال نہیں ہے، یہ تو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نظام کا کمال ہے جسے ہم نے نافذ کیا ہے شدت کے ساتھ۔ وہ افغانستان ایسی جگہ تھی مولانا، کہ دن کے وقت بھی مردوں کے ساتھ بھی ایک عورت کا ایک بستی سے دوسری بستی تک جانا بڑا مشکل کام ہوتا تھا، کہ بچ کر چلی جائے بھئی۔ ہر جگہ اسلحہ ہوتا، کوئی نہیں جانے دیتا تھا بھئی۔ اور وہی طالبان، وہی جگہ ہے، وہیں طالبان کا نظام آیا، بھئی۔ چنانچہ قندھار کے گورنر لکھتے ہیں۔ وہ واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں ایک رات میں اسی طرح، بھئی، بھئی یہاں پر تو گورنر ہے، مست ہے، ادھر ادھر گھومتا ہے، اس کے لیے ٹریفک بند کی جاتی ہے، اس سے ملنے کے لیے بڑی سے بڑی سفارشیں کی جاتی ہیں، پھر بھی ملاقات نہیں ہوتی، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ وہاں، حالانکہ امیر قوم کا خادم ہوتا ہے، بھئی، اس کا کام خدمت کرنا ہے، اس کے ذمے تو اتنے بوجھ ہو جاتے ہیں، کہ وہ لوگ بھاگتے ہیں، ہمیں امارت سے، بھئی، اتنے کام ہم نہیں کر سکتے۔ ہم سے اپنے کام نہیں ہوتے تو دوسروں کے کام کہاں سے سنبھالیں، بھئی۔ چنانچہ راتوں کو وہ گشت کرتے تھے، بھئی، خود گھومتے تھے، دن رات لگے ہوئے ہیں، تکلیفیں اٹھا رہے ہیں، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ایک شخص کہتا ہے ایک جگہ بجلی کے کھمبے پر کام ہو رہا ہے، ٹھیک ہوا کر رہے ہیں، بھئی، بجلی کے لیے لوگ لگے ہوئے ہیں۔ میں پہنچا وہاں پوچھ رہا ہوں بھئی یہ کیا ہو رہا ہے، انہوں نے کہا بھئی بجلی کی کچھ یہ تاریں وغیرہ گر گئی تھیں، بارش ہوئی، کھمبے گر گئے، اب اس کو ٹھیک کر رہے ہیں، تاریں لگا رہے ہیں۔ अच्छा، میں نے پوچھا، اچھا، یہ، لوگوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، بات کر رہا ہوں، باتوں باتوں میں کہتے ہیں یہ جو اس ٹائم کھمبے پہ چڑھا ہوا ہے، اس ٹائم یہ وزیر بجلی ہے ہمارا۔ دوسرے مزدور سے کام نہیں ہو رہا تھا، اس نے کہا چل بھئی، تو نیچے اتر، ذرا میں خود تجھے کر کے دکھاتا ہوں۔ یہ مضبوط آدمی ہے، دیکھو بھئی، اس نے لگا بھی دیا۔ خود لگے ہوئے ہیں، ہر کام کر رہے ہیں، بھئی۔ امارت مزے کے لیے نہیں ہے، جیسے یہاں ہے، دفتری لگا ہوا ہے، کرسی گھومنے والی لگی ہوئی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور، بیٹھا ہوا ہے اور، چپراسی باہر بیٹھے ہوئے ہیں، کئی لاکھوں روپے رشوتیں اور لی جا رہی ہیں، اور لاکھوں روپے تنخواہوں کے لیے جا رہے ہیں۔ گاڑیاں ملی ہوئی ہیں، کوٹھیاں ملی ہوئی ہیں۔ ٹیلی فون کا خرچہ بھی حکومت دیتی ہے، بجلی کا خرچہ بھی حکومت دیتی ہے، گیس کا خرچہ بھی حکومت دیتی ہے۔ ملازمین کا خرچہ بھی حکومت دیتی ہے۔ نہیں، یہ انسان ہے یا کیا چیز ہے، بھئی، بتاؤ تو سہی۔ یہ کوئی خلائی مخلوق ہے؟ صلاحیتوں کا امتحان لو تو بدبخت سب سے ادنی نکلے گا، لیکن اس کو، بس بیٹھے ہوئے ہیں اوپر۔ لوٹ مار جاری ہے، آپ سے لوٹ رہے ہیں حکومت، بھئی ٹیکس لگائے ہوئے ہیں ظالمانہ۔ سمجھ میں آیا؟ تو، وہ قندھار کا گورنر، میئر جو ہے، وہ گھوم رہا ہے، بھئی۔ رات کے وقت کہتے ہیں، میں شہر سے باہر نکلے، گاڑی کے اندر، اور بھی لوگ ہیں، بھئی، ساتھ محافظ وغیرہ سارے ہیں۔ ایک دیہات سے دوسرے دیہات کی طرف، بھئی، گاڑیوں پہ ہم چل رہے ہیں، سڑک پر۔ اچانک کہتے ہیں، آدھی رات کا وقت ہے، میں نے دیکھا، ایک عورت ہے، سر پہ گٹھڑی اٹھائی ہوئی ہے، ایک دیہات سے نکل کے دوسرے دیہات کی طرف تن تنہا جا رہی ہے۔ کہتے ہیں، میں نے یہ منظر دیکھا، گاڑی روکی، اسی وقت میں اللہ کے حضور سجدے میں گر گیا، اے اللہ، یہ صرف آپ ہی کی توفیق کی بدولت ہوا۔ یہ آپ کے نظام کا کمال ہے کہ ہم اس قابل ہو سکے، ہو سکے کہ وہ عورت جو دن کو مردوں کے ساتھ بھی سفر نہیں کر سکتی تھی، آج آدھی رات کو اکیلے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں جا رہی ہے۔ حالانکہ یہاں ایسا، شاید پاکستان کے اندر بھی ممکن نہ ہو کہ ایک عورت کیا کرے، ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کی طرف، بلا خوف و خطر چلی جائے۔ خوف کے عالم میں تو جا سکتی ہے، بلا خوف نہیں جا سکتی۔ عجیب نظام تھا، بھئی۔ اگر طالبان کو، کہتے ہیں، دس سال موقع مل جاتا، جنگیں ذرا رک جاتیں، جنگوں پہ سارا جو آتا، ادھر خرچ ہو جاتا۔ دس سال اگر ان کو مل جاتے، تو جیسے اس وقت امریکی سفارت خانے کے باہر لمبی، لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں، کہتے ہیں طالبان کے سفارت خانوں کے گرد اس طرح لائنیں لگی ہونی تھیں، ہر شخص نے چاہنا تھا کہ میں وہاں پہنچوں، بھئی۔ جہاں خطرہ ہی کوئی نہیں، آپ کاروبار کر رہے ہیں، کما رہے ہیں، بھئی، کوئی خطرہ نہیں ہے آپ کو۔ کوئی آپ کو چھیڑ نہیں سکتا، کوئی آپ کو تنگ نہیں کر سکتا۔ کوئی خطرہ نہیں۔ کاش! ہمارے ہاں بھی یہ نظام آ جائے، دعا کرو امید ہے، انشاءاللہ بڑی جلدی آ جائے گا، بھئی۔ انشاءاللہ، ثم انشاءاللہ، بھئی۔ سمجھ میں آیا، اللہ اگر ہمیں دوسرے ملک میں دکھا سکتے ہیں، اس کا نمونہ، تو اس ملک میں بھی اللہ اس نظام کو لا سکتے ہیں، دکھا سکتے ہیں۔ ہمیں زندگی میں ہی ہم دیکھ لیں، اگرچہ، دوسری جگہ تو اللہ نے ہمیں دکھا بھی دیا۔ کہ، دکھا دیا، لیکن اسی جگہ، جو ہے، بھئی، ہم دیکھیں، بھئی، اس کو۔ تو یہ قضا کے مسئلے اچھی طرح پڑھو، بھئی، کل پھر آپ نے، انشاءاللہ، فیصلے کرنے ہیں، بھئی۔ اور، کہ کس، کس کو قاضی بنایا جائے، کس کو نہ بنایا جائے، کیسے فیصلہ کرے، دیکھیے، بھئی۔ سمجھ، دنیا کا جدید ترین نظام ہے، بھئی، امریکہ کے پاس جاسوسی کا۔ جاسوسی کا۔ لیکن طالبان کا عجیب نظام تھا، بھئی۔ ادھر کوئی کام ہوتا، فورا طالبان کے ہیڈ کوارٹر خبر پہنچ جاتی اور فورا اس پر ردعمل ہوتا تھا۔ अच्छा، امریکہ والوں نے، بھئی، بہرحال اوپر سے بمباری وغیرہ کی اور پھر جو ہے، اس کے بعد بالآخر جب انہوں نے اس، طالبان کو، مرکز کو پکڑ لیا، بھئی۔ کیا، مرکز پر قبضہ کر لیا، بھئی۔ کہتے ہیں، مرکز پر قبضہ کیا تو پتہ چلا، مرکز کے اندر ایک، دو ٹوٹی ہوئی چارپائیاں پڑی ہیں۔ جس پہ وہ، جو ہے، سکیورٹی کے چیف، انٹیلی جنس کے چیف بیٹھا کرتے تھے، بھئی۔ اور، ایک، دو وائرلیس سیٹ پڑے ہوئے ہیں، بس۔ یہ مرکز تھا ان کا، بس۔ جہاں آنہ فانہ رپورٹیں بھی پہنچ رہی ہیں اور وہاں سے احکام بھی صادر ہو رہے ہیں۔ نہ یہاں پر چپراسیوں کی ضرورت ہے، نہ لمبی لمبی گاڑیوں کی ضرورت ہے، نہ سینکڑوں کی فوج کی ضرورت ہے کہ کوئی آن نہ جائے۔ مار رکھو گے تو خطرہ ہوگا، مال ہی نہیں ہے، خطرہ ہی نہیں ہے۔ میں نے خود دیکھا، مولانا، عید کا دن تھا۔ صدارتی محل، بھئی، کابل کے اندر، پریزیڈنٹ ہاؤس، جس کی سڑک پر ایک عام آدمی کو گزرنے بھی نہیں دیتے تھے، اتنا ہائی سکیورٹی ایریا تھا وہ، بھئی۔ لیکن طالبان کا نظام تھا، بھئی۔ ایک صدر، ایک امیرالمومنین، ان دو سے ملنا ذرا مشکل کام تھا، باقی جس سے مرضی جا کر، جو مرضی مل لے، کہیں کوئی رکاوٹ نہیں۔ وزیر دفتر میں بیٹھا ہے، بڑے سے بڑا وزیر دفتر میں بیٹھا ہوا ہے، لوگ آ رہے ہیں اندر، سیدھے بھئی جا رہے ہیں، بات کر رہے ہیں۔ ہر آدمی ہر ایک اپنا، اپنا دعویٰ وہاں تک پہنچا رہا ہے بھئی۔ حتیٰ کہ عید کا دن تھا، غربت وہاں بڑی زیادہ ہے بھئی۔ فقیر بھی اندر دفتروں تک پہنچ رہے ہیں بھئی، ہمیں کچھ دے دو بھئی، کچھ دے دو ہمیں! وزیر بھئی کہیں بھئی، ہمارے پاس خود نہیں ہے کھانے کو، تمہیں کہاں سے دیں بھئی؟ چلو، کچھ نہ کچھ جو ہوتا وہ دے دیتے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اللہ! عجیب نظام تھا، عجیب پیارا نظام تھا بھئی! پھر انشاءاللہ آئے گا بھئی۔ عورت کے پردے پر اعتراض کرتے ہیں، طالبان نے سب کو ٹوپی والے برقعے پہنا دیے بھئی۔ اب تو امریکہ کی حکومت ہے، تصویریں تو اب بھی آتی ہیں اخبارات میں، عورتیں وہی برقعے پہن کر گھوم رہی ہیں، وہ کیوں نہیں اتارے آپ نے اب تک؟ حالانکہ وہ اپنی مرضی سے پہن رہی ہوئی تھی بھئی طالبان کے زمانے میں بھی، اور ہاں کچھ شر پسند لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں بھئی، کچھ شر پسند عورتوں کی وجہ سے آپ یہ کہیں کہ ساروں پہ ہم نے سختی کی ہے؟ نہیں بھئی، وہاں کی عورت خود کیا کرتی ہے؟ پردہ کرتی ہے، وہاں کا نظام ہی اس طرح کا ہے بھئی۔ وہاں کا نظام ہی ایسا ہے۔ اللہ! عجیب لوگ تھے بھئی، عجیب لوگ! قاضی مقرر ہوتا تھا، قاضی ایک جگہ عجیب بھئی! ہمارے یہاں مقدمہ کرنے کے لیے آدمی 100 دفعہ سوچتا ہے بھئی! وکیلوں کے پیسے میں کہاں سے ادا کروں گا؟ اور آگے سارے اہلکاروں کو میں رشوتیں کہاں سے دوں گا؟ آپ کی زمین ہے، کوئی آ کر رات کو بیٹھ جاتا ہے بھئی، بس بھئی! اب اس نے قبضہ کر لیا، کہتے ہیں جی اس نے تھوڑی سی چار دیواری کر لی، اب اس کا قبضہ آ گیا، اب اس پہ کیس چلے گا، کیس کرنا پڑے گا آپ کو! اور کیس کب تک چلے گا؟ یہ نہیں پتہ مولانا! آپ کے پوتے کے زمانے میں جا کے فیصلہ ہو، یا پڑپوتے کے زمانے میں، یا اس سے بھی بات آگے چلی جائے، آپ کی زندگی میں تو بڑا ہی مشکل ہے۔ الا یہ کہ آپ کے پاس اتنا مال ہو کہ خوب سب کو کھلا پلا سکیں بھئی! بھئی کیا وجہ ہے؟ میری زمین تھی بھئی! یہ آ کر اوپر بیٹھ گیا ہے، سب کو پتہ ہے، میرے پاس کاغذات ہیں، پھر کس بات کے فیصلے میں تاخیر ہوتی ہے؟ نہیں بھئی، بس نظام ایسا ہے۔ دراصل یہ نظام بنایا تھا انگریزوں نے برِصغیر کے لوگوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بھئی! یہ ظالمانہ نظام انہوں نے بنایا تھا بھئی! ظلم کرتے ہوئے بنایا تھا، کیونکہ برِصغیر کے لوگ انگریزوں کو قبول نہیں کر رہے تھے کہ انگریز ہمارے اوپر کیوں حاکم ہیں، تو انہوں نے سارے ظالمانہ قوانین بنا دیے، تقریباً وہی قوانین آج بھی چل رہے ہیں بھئی! وکیل کرنا پڑے گا آپ کو، بغیر وکیل کے آپ نہیں جا سکتے بھئی! آپ کون ہوتے ہیں قاضی سے بات کرنے والے؟ وکیل صاحب کو لے کے جاؤ بھئی، کوٹ پتلون اس نے پہنا ہو، ہاں ذرا معتبر آدمی ہو، وہ بات کرے گا بھئی! شکل کی نحوسَت نہ دیکھنا، بس پینٹ ہونی چاہیے اس کی بھئی! وہ بات کرے گا بھئی! واہ بھئی! مقدمہ میرا ہے، بات مجھے کرنی چاہیے، بات وہ کرے گا، میں میں اہل ہی نہیں ہوں بات کرنے کا وہاں پر! عجیب نظام ہے بھئی! طالبان کا زمانہ تھا بھئی! کتنا پیارا زمانہ تھا! قاضی کی جگہ سب کو پتہ ہوتی، یہاں قاضی بیٹھے گا، اونچا چبوترا بنا ہوتا، قاضی آ کر بیٹھ گئے بھئی، کرسی لگائی یا چارپائی رکھی، لو بھئی بیٹھ گئے قاضی صاحب! آتے جاؤ بھئی! قاضی صاحب نے: ہاں بھئی! کیا مقدمہ ہے؟ یہ جی قاضی صاحب! میرا یہ یہ مسئلہ ہے۔ فریقِ مخالف کون ہے بھئی؟ وہ یہاں حاضر ہے یا قاضی بھیجے گا بھئی؟ چلو بھئی! اس کو جاؤ بھئی، اس کو لے کر حاضر لاؤ بھئی! فریقِ مخالف بھی آ گیا، قاضی صاحب نے اس کی بھی بات سنی، اس کی بھی سنی، ہاں بھئی! تمہارے پاس بینہ ہے اس بات پر؟ دو گواہ ہیں عادل قسم کے؟ جی، میرے پاس یہ دو گواہ ہیں، تین گواہ ہیں، چار گواہ ہیں۔ قاضی سنے گا، چلو بھئی! فیصلہ سنا دیا۔ تو بینہ نہیں ہے؟ اچھا بھئی، دوسرے پہ قسم آ گئی، قسم کھاؤ بھئی! اس نے قسم اٹھا لی، چلو بھئی، فیصلہ ہو گیا۔ مقدمہ وہیں پہ ختم ہو گیا۔ دوسرے شہر سے کوئی آتا تھا، یہاں پر تو آپ کو ہر چیز میں فیسیں دینا پڑتی ہیں، عدالت میں جانے کی بھی فیس، وکیل کی بھی فیس، درمیان میں اہلکار جو رشوتیں لیں گے وہ الگ ہیں، اور وہاں پر عجیب نظام تھا مولانا! عجیب نظام، یہ اسلامی نظام ہے۔ دوسرے شہر سے اگر کوئی قاضی کے، دوسرے گاؤں سے کوئی قاضی کے پاس آیا بھئی، اب طالبان کے پاس اسباب تو تھے نہیں، ہر شہر میں قاضی مقرر کرنا یا ہر جگہ عدالت لگانا ان کے لیے مشکل تھا، تو جہاں جتنا ان سے ہو سکا وہ کوشش کرتے تھے۔ تو اگر کوئی کہیں کوئی ایسی جگہ ہوتی جہاں پر قاضی نہ ہوتا، وہاں کے لوگ آتے مقدمہ لے کر، تو ان کے آنے جانے کا خرچہ اور جب دو تین دن اگر کیس چلا، آج جس نے کیس کیا، کل وہ مدعا علیہ کو حاضر کیا گیا، پرسوں سنا گیا، پرسوں پھر جا کر پھر دوبارہ سنا اور پھر فیصلہ کر دیا ہے، دو دن، تین دن، چار دن، زیادہ اس سے زیادہ کبھی نہیں لگتے تھے کیس پر بھئی! تین چار دن میں پورا فیصلہ ہو جاتا، گواہوں کی بھی تحقیق ہو جاتی کہ عادل ہیں یا عادل نہیں ہیں بھئی، مدعا علیہ بھی حاضر ہو جاتا اس کے اندر، اور فیصلہ بھی سنا دیا جاتا اور اس کو نافذ بھی کر دیا جاتا تھا۔ اس تین چار دن کے اندر بھئی، وہ جو شخص کیس لے کر آیا ہے وغیرہ، ان ساروں کی رہائش کا اور ان کے کھانے پینے کا بندوبست یہ طالبان کے ذمے ہوتا تھا بھئی! اور ان سے ان کو کھلاتے بھی، پلاتے بھی، رہائش بھی دیتے اور معذرت بھی کرتے تھے کہ بھئی! ہمارا کام تھا آپ کے گھر کے دروازے تک ہم انصاف پہنچاتے، لیکن ابھی ہمارے پاس اسباب نہیں، جب اسباب بنیں گے ہم تب ایسا بھی کریں گے، لہٰذا جب تک اسباب نہیں تو آپ کو یہاں آنا پڑا، زحمت ہوئی، ہم معذرت خواہ ہیں بھئی اس بات پر آپ سے۔ یہ ہے نظام بھئی! سمجھ میں آیا؟ چلیے بھئی! دیکھیے بھئی، بات دور نکل گئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْفَاسِقُ اَہْلٌ لَّہٗ، اور فاسق بھی اہل ہے قضا کا۔ فاسق بھی قضا کا اہل ہے، یعنی اس کی اس کو قاضی بنانا صحیح ہے بھئی، قاضی بنا دیا تو صحیح، یعنی اس کی قضا نافذ ہوگی بھئی۔ بعض علماء فرماتے ہیں نافذ ہی نہیں ہوگی بھئی، اس کو قاضی بنانا ہی صحیح نہیں، لیکن ہمارے نزدیک صحیح ہے بنانا اس کو، اس کی قضا نافذ ہوگی۔ ہاں، یہ الگ بات ہے اس کو بنانا نہیں چاہیے بھئی، اس کو قاضی بنانا سلطان کو چاہیے کہ اس کو قاضی نہ بنائے، لیکن اگر بنا دیتا ہے تو اس کو وہ اس کی قضا کیا ہوگی؟ نافذ ہوگی۔ یہ معنی ہے: وَالْفَاسِقُ اَہْلٌ لَّہٗ، اور فاسق بھی اہل ہے قضا کا، فَيَصِحُّ تَقْلِيْدُہٗ، تو صحیح ہے اس کو عہدۂ قضا سپرد کرنا۔ تقلید، قَلَّدَ يُقَلِّدُ تَقْلِيْد کے معنی ہیں عہدہ سپرد کرنا بھئی، عہدہ سپرد کرنا۔ فَيَصِحُّ تَقْلِيْدُہٗ، تو صحیح ہے اس کو اس کو عہدہ سپرد کرنا، یعنی قضا کا عہدہ اس کے سپرد کرنا صحیح ہے۔ جی، وَلَا يُقَلَّدُ، لیکن اس کو عہدہ سپرد نہ کیا جائے، اَیْ يَجِبُ اَنْ لَّا يُقَلَّدَ، واجب یہ ہے کہ اس کو عہدہ سپرد نہ کیا جائے، حَتّٰى لَوْ قُلِّدَ، یہاں تک کہ اگر اس کو عہدہ سپرد کیا گیا، يَأْثَمُ، تو بادشاہ کیا ہوگا؟ گناہگار ہوگا بھئی! بنانا نہیں چاہیے، لیکن اگر بنا دیا تو صحیح ہے۔ كَمَا صَحَّ قَبُوْلُ شَہَادَتِہٖ، جیسے کہ اس کی شہادت کو قبول کرنا صحیح۔ بھئی! آپ پڑھتے رہتے ہیں کہ مقدمے کے اندر کیا ضروری ہے؟ دو عادل گواہوں کا ہونا؟ بھئی! ضروری بھئی، یہ نہیں کہ فاسق کی گواہی قبول ہی نہیں کر سکتا قاضی۔ بھئی! اگر دو عادل ہوں، پھر تو قبول کرنا واجب اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا واجب ہے بھئی! قاضی پر واجب، اگر نہیں کرتا پھر گناہگار ہے بھئی، پھر وہ صحیح طریقے پر عمل نہیں، صحیح یہ ہے کہ جیسے ہی دو عادل گواہ آئیں، گواہی دے دیں، تو اب قاضی پر واجب ہے، وہ چوں چرا وہ نہیں کر سکتا، اسے کیا کرنا پڑے گا فوراً؟ فیصلہ کرنا پڑے گا، اس پر واجب ہو گیا اس کے مطابق۔ تو اگر فاسق گواہ آئے ہیں، اب قاضی کی مرضی ہے، چاہے تو اس کی گواہی قبول کرے، چاہے تو اس کی گواہی قبول نہ کرے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ ہمیشہ یاد رکھنا، یہ معنی نہیں کہ ہم جو کہتے ہیں گواہ عادل ہونے چاہئیں کہ عادل ہی گواہی دے سکتا ہے، فاسق گواہی نہیں، یہ نہیں، گواہی وہ دے سکتا ہے، ہاں! قاضی پر اس کی بات کو ماننا واجب، اس کی گواہی کو ماننا واجب نہیں! یہی بات کر رہے ہیں: كَمَا صَحَّ قَبُوْلُ شَہَادَتِہٖ، جیسے صحیح ہے اس فاسق کی گواہی کو قبول کرنا، یعنی قاضی چاہے تو اس کو کیا کر سکتا ہے؟ قبول کر سکتا ہے، وَلَا تُقْبَلُ، لیکن قبول نہیں کرنی چاہیے، بِالْمَعْنَى الْمَذْكُوْرِ، اسی معنیِ مذکور میں، یعنی اگر واجب ہے کہ اس کو قبول نہ کرے، اگر اس فاسق کی گواہی کو قبول کرتا ہے تو قاضی کیا ہوگا؟ گناہگار ہوگا۔ وَلَوْ فَسَقَ الْعَادِلُ اسْتَحَقَّ الْعَزْلَ فِيْ ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ، جی! یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں: بادشاہ نے ایک آدمی کو قاضی مقرر کیا، اس وقت تو وہ عادل تھا بھئی، کیا تھا؟ لیکن بعد میں اس نے دنیا کی چمک دھمک دیکھی بھئی، ہر طرف سے آفر ہو رہی ہے مختلف قسم کی، اس نے رشوت لے لی بھئی، فاسق ہو گیا، کیا ہو گیا؟ اس کا فسق ظاہر ہو گیا، تو کیا وہ خود بخود عہدۂ قضا سے الگ ہو جائے گا یا اسے الگ کرنا پڑے گا بھئی؟ تو بھئی! بعض علماء فرماتے ہیں کہ جیسے فاسق ہوگا، خود بخود کیا ہو جائے گا؟ معزول ہو جائے گا، لیکن عام مشائخ کا مذہب یہ ہے کہ نہیں بھئی! خود بخود معزول نہیں ہوگا، ہاں! معزول کیے جانے کا مستحق ہو جائے گا، اسے کیا کر دینا چاہیے اب؟ معزول کر دینا چاہیے۔ وَلَوْ فَسَقَ الْعَادِلُ، اگر فاسق ہو گیا عادل آدمی، اسْتَحَقَّ الْعَزْلَ، تو مستحق ہو گیا وہ معزول کیے جانے کا، فِيْ ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ، ظاہرِ مذہب میں، وَعَلَيْهِ مَشَايِخُنَا رَحِمَهُمُ اللہُ تَعَالٰى، اور اسی پر ہمارے مشائخ رحمہم اللہ ہیں، وَعِنْدَ بَعْضِ الْمَشَايِخِ يَنْعَزِلُ، اور بعض فقہاء کے نزدیک بھئی! وہ خود بخود معزول ہو جائے گا۔ وَالِاجْتِهَادُ شَرْطٌ لِّ لْاَوْلَوِيَّۃِ فَلَوْ قُلِّدَ جَاهِلٌ صَحَّ وَيُخْتَارُ الْاَقْدَرُ وَالْاَوْلٰى، اور اجتہاد شرط ہے اولویت کے لیے۔ اجتہاد کیا ہے؟ شرط ہے اولویت کے لیے، یعنی اولیٰ یہ ہے کہ قاضی کو مجتہد ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ مجتہد ہونا چاہیے۔ جی! اس پر محشی نے بڑی پیاری بات لکھی ہے بھئی، وہ دیکھ لیجیے تین نمبر حاشیہ بھئی! لکھتے ہیں بھئی: الِاجْتِهَادُ عِنْدِي الْمُرَادُ مِنْهُ، کہ میرے نزدیک اس سے مراد، الْعِلْمُ بِمُتَعَلِّقَاتِ الْقَضَاءِ، کیا مراد ہے؟ قضا سے متعلقہ چیزوں کا علم ہونا چاہیے، وَالْفَهْمُ السَّلِيْمُ، اور کیا ہونا چاہیے؟ اور فہمِ سلیم ہونا چاہیے، الْفَهْمُ السَّلِيْمُ، وَقُوَّۃُ الِاسْتِنْبَاطِ، اور کیا ہونی چاہیے؟ استنباط کی قوت ہونی چاہیے، فِي الْحَوَادِثِ، واقعات کے اندر بھئی! وَالْقِيَاسُ فِي الْمَسَائِلِ، اور مسائل میں کیا کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے؟ قیاس، یعنی معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت اس میں ہونی چاہیے، حل کرنے، فیصلہ کرنے کی، قضا سے متعلقہ باتیں اسے معلوم ہوں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ اجتہاد نہیں مراد کہتے ہیں بھئی، اجتہادِ اصطلاحی نہیں مراد، لِاَنَّہٗ قَلَّمَا يُوْجَدُ فِي السَّلَفِ دُوْنَ الْخَلَفِ، اس لیے کہ اس طرح کے اجتہاد تو سلفِ صالحین کے اندر بھی بہت کم لوگوں میں اس کی صلاحیت تھی، تو بعد والوں میں تو اور ہی بالکل ہی کم بھئی! سمجھ میں آیا؟ جی! تو یعنی قضا کے فیصلے جاننے چاہئیں، قرآن اور حدیث کا علم ہو اسے، اور فقہ وغیرہ سے کچھ، فقہ وغیرہ کو جانتا ہو بھئی، علل وغیرہ کو بھئی! احکام کی علتوں پر واقف ہو وغیرہ۔ تو کہتے ہیں: وَالِاجْتِهَادُ شَرْطٌ لِّ لْاَوْلَوِيَّۃِ، اور اجتہاد شرط ہے اولویت کی، اولیٰ ہونے کی شرط ہے، اولیٰ یہ ہے کہ مجتہد ہو۔ فَلَوْ قُلِّدَ جَاهِلٌ صَحَّ، اگر عہدہ سپرد کر دیا گیا بھئی کس کے بھئی؟ جاہل کو بھئی، قاضی بنا دیا گیا، صَحَّ، تو یہ اس کا قاضی بننا صحیح ہے، اس کو قاضی بنانا صحیح ہے، یعنی اس کا اس کی قضا نافذ ہوگی۔ وَيُخْتَارُ الْاَقْدَرُ وَالْاَوْلٰى، اور اختیار کیا جائے گا اس کو جو زیادہ قادر ہو۔ اختیار کس کو کیا جائے گا قضا کے لیے؟ اس کو جو زیادہ قادر ہو، قضا پر زیادہ قادر ہو بھئی، قضا پر کیا ہو؟ وَالْاَوْلٰى، اور جو زیادہ اولیٰ ہو علم، دینداری، امانت وغیرہ کے اعتبار سے، علم کیا ہو؟ علم، دینداری اور امانت وغیرہ میں اولیٰ کے اعتبار سے اولیٰ ہو۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَہُ اللہُ، اور امامِ دنیا جو ہیں، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَا يَصِحُّ تَقْلِيْدُ الْفَاسِقِ وَالْجَاهِلِ، بھئی! فاسق اور جاہل کو قاضی بنانا صحیح نہیں ہے۔ وَاعْلَمْ اَنَّہٗ قَدْ كَانَ الِاحْتِيَاطُ فِيْمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَہُ اللہُ، علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں کہ جان لیجیے آپ یہ بات کہ احتیاط اسی میں ہے جو ذکر کیا امامِ شافعی رحمہ اللہ نے کہ قاضی فاسق اور جاہل کو قاضی نہ، لٰكِنْ بِحَسَبِ الزَّمَانِ لَوْ شُرِطَ الْعِلْمُ وَالْعَدَالَۃُ لَارْتَفَعَ لَارْتَفَعَ اَمْرُ الْقَضَاءِ بِالْكُلِّيَّۃِ، لیکن زمانے کے اعتبار سے اگر شرط لگا دی جائے علم کی اور عدالت کی بھئی! کہ قاضی صرف عادل بن سکتا ہے اور علم والا بن سکتا ہے، لَارْتَفَعَ اَمْرُ الْقَضَاءِ، تو اٹھ جائے گا قضا کا معاملہ، بالامر اٹھ جائے گا بِالْكُلِّيَّۃِ، کلی طور پر۔ قاضی قضا کا معاملہ ہی کلی طور پر کیا ہو جائے گا؟ اٹھ جائے گا بھئی! ایسے لوگ ہمیں ملیں گے ہی نہیں تو قاضی کہاں سے بنائیں گے ہم بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ وَدَفْعُ الشَّرِّ، یا لَارْتَفَعَ اَمْرُ دَفْعِ الشَّرِّ، تو دفعِ شر کا امر پر عطف کر دیں یا قضا پر عطف کر دیں۔ مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں، مجرور بھی۔ اور اٹھ جائے گا دفعِ شر کا امر بھی اٹھ جائے گا۔ دفعِ شر کا امر قضا کے ذریعے تو کیا مقصد ہوتا ہے بھئی؟ شر کو دور کرنا، تو جب قاضی ایسا ہمیں ملے گا ہی نہیں تو اب شر کو دور کرنے کا مسئلہ بھی نہیں ممکن ہوگا۔ وَالْفَسَادُ اَعْظَمُ مِمَّا مِمَّاحْتُرِزَ عَنْهُ، اور فساد بڑھ جائے گا اس چیز سے جس سے بچا جا رہا تھا۔ بھئی! بچا جا رہا تھا کس چیز سے کہ فاسق کو یا جاہل کو کیا نہ کیا جائے؟ قاضی نہ بنایا جائے، کیونکہ اس کی وجہ سے کیا پھیلنے کا خطرہ ہے؟ شر کا، کچھ شر کا خطرہ ہے، لیکن کہتے ہیں بھئی! اگر وہ شرطیں آپ کی مان لی جائیں پھر تو قضا ہی سرے سے ختم ہو جائے گی، پھر تو ہر طرف کیا ہو جائے گا؟ شر ہی شر ہو جائے گا، تو جس سے جس چیز سے بچنا چاہتے تھے اس سے بھی زیادہ بڑا شر، فساد پھیل ہوگا بھئی! سمجھ میں آیا بھئی؟ وَلَا يُطْلَبُ الْقَضَاءُ، اور طلب نہ کیا جائے قضا کو، عہدۂ قضا کو طلب نہ کیا جائے، سمجھ میں آیا بھئی؟ حدیث شریف میں آتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص خود قضا کو طلب کرتا ہے، اس کو اپنے نفس کے سپرد کر دیا جاتا ہے، یعنی من جانبِ اللہ اس کی کوئی مدد نہیں کی جاتی، اور جس کو زبردستی قاضی بنایا جاتا ہے، وہ قبول نہیں کر رہا لیکن بادشاہ کے حکم کے آگے مجبور ہے، بادشاہ جانتا ہے یہ بہتر فیصلہ کر سکتا ہے، تو اس کے پر ایک فرشتہ نازل کیا جاتا ہے جو اس کی تائید کرتا ہے، اس کو قوت دیتا ہے، مضبوط کرتا ہے، یعنی اس کی اعانت وغیرہ کرتا ہے بھئی! تو اسی لیے کہا: وَلَا يُطْلَبُ الْقَضَاءُ، طلب نہ کیا جائے قضا کو، وَصَحَّ الدُّخُوْلُ فِيْهِ، اور صحیح ہے داخل ہونا قضا کے اندر، یعنی اگر داخل ہونا صحیح ہے فِيْهِ، لِمَنْ، اس شخص کے لیے، يَثِقُ عَدْلَهٗ، جس کو یقین ہو، اعتماد ہو بھئی! عَدْلَہٗ، کس پر؟ اپنے عدل پر، عدل پر! جس کو اپنے عدل پر یقین ہو کہ میں کیا کروں گا قاضی بن کر؟ عدل کروں گا بھئی! تو پھر وہ داخل ہو سکتا ہے۔ وَكُرِهَ، اور مکروہ ہے بھئی! داخل ہونا قضا میں اس شخص کے لیے، لِمَنْ خَافَ عَجْزَہٗ وَحَيْفَہٗ، جسے اپنے عاجز ہونے کا خوف ہو، وَحَيْفَہٗ، اور یا ظلم، اپنے ظلم کا خوف ہو کہ میں عہدۂ قضا میں داخل ہو گیا تو میں کیا کروں گا؟ قضا فیصلوں سے عاجز آ جاؤں گا فیصلے نہیں کر سکوں گا سہی طرح یا ظلم کا یقین ہو کہ میں کیا کروں گا میری طبیعت اس قسم کی ہے کہ میرے ساتھ کوئی ضد کرتا ہے تو میں بھی اس کے ساتھ کیا کرنا شروع کر دیتا ہوں کئی گناہ زیادہ ضد شروع کر دیتا ہوں انصاف کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے تو اس قسم کے آدمی کے لیے مکروہ ہے بھئی۔ अच्छा भाई ومن قلدا اب بتلا رہے ہیں ایک قاضی بنا دیا جائے کسی کو تو وہ کیا کرے کہتے ہیں بھئی سب سے پہلے بھئی ومن قلدا اور جس کو قاضی بنا دیا جائے اور ہوتا ہے قضا سپرد کر دیا جائے سال دیوان قاضی قبلہ ہو تو وہ اس طلب کرے اس قاضی کے ایسے اس قاضی کے دیوان کو قبلہ ہو جو اس سے پہلے تھا جو قاضی اس سے پہلے تھا اس کے دیوان کو طلب کرے بھئی دیوان کیا چیز ہے کہتے ہیں وہ الخرائط اللتی فیہا الصقوق والسجلات یہ وہ تھیلا ہے خرائط جمع ہے خریطہ وہ تھیلے ہیں تھیلیاں۔ التی فیہا الصقوق صقوق صک کی جمع ہے بھئی میں نے بتایا تھا دستاویز کو کہتے ہیں بھئی جس میں دستاویزات ہوتی ہیں والسجلات سجل رجسٹر کو کہتے ہیں جس میں رجسٹر وغیرہ ہوں۔ رجسٹر اور دستاویزات جن تھیلیوں میں ہوتی ہیں ان تھیلیوں کو طلب کرے وہ دیوان کہلاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب آپ کو مولانا قاضی بنایا جائے بھئی تو آپ سے جو پہلے والا قاضی ہے اس کے بھئی آج زمانے میں یوں کہو اس کی ساری فائلیں طلب کر لے گا۔ اس نے جو فائلیں وہ آج کے زمانے میں جو فائلیں ہیں وہ بنائی جاتی ہیں وہ فائلیں طلب کر لے گا۔ قیدیوں کی تفتیش کرے بھئی سب سے پہلے قیدی جو قید میں ڈالے گئے ہیں جو ناحق ڈالے گئے ہیں قید میں ان ساروں کو چھوڑ دے گا۔ جو ان کو کسی مقدمے وغیرہ کی وجہ سے جیل میں ڈالا گیا ہے قاضی نے فیصلہ کیا تھا ان کے بارے میں ان کے بارے میں تفتیش کرے، ان سے پوچھے بھئی۔ بھئی آپ پر یہ مقدمہ تھا اس کیس میں آپ کو ڈالا گیا یہ تو پچھلے قاضی نے فیصلہ کیا تھا۔ کیا واقعی آپ نے فلاں آدمی کا حق دینا تھا بھئی؟ تو اگر وہ اقرار کر لیتا ہے پھر تو اسے جیل میں ہی رہنے دے۔ اگر وہ انکار کرتا ہے پھر اعلان کروائے قاضی بھئی کیا کرے؟ اعلان کروائے بھئی فلاں شخص جیل کے اندر ہے جس جس کا حق اس پر ہے وہ قاضی کے پاس فلاں وقت حاضر ہو جائے یا فلاں وقت تک حاضر ہو جائے۔ بھئی اگر کوئی حاضر ہو جاتا ہے تو ٹھیک ورنہ اسے کہتے ہیں اس کا قاضی اسے چھوڑ دے گا۔ اسے کیا کرے گا؟ کہ کوئی بھی نہیں آیا اس کے خلاف حق کا دعویٰ لے کر اسے چھوڑ دے، جانے دے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی۔ والزم اور لازم کر دے، کیا لازم کر دے؟ حق کو وہ حق بھئی آگے ذکر بھی آ رہا ہے جی والزم محبوسا اور لازم کر دے اس شخص پر جو کیا تھا؟ محبوس تھا، قید میں تھا وہ محبوس اقرار بحق جو کیا کرتا ہے کسی حق کا قیدی ہے اور کسی حق کا اقرار بھی کرتا ہے کہ کسی کا حق ہے اس پر، تو اس پر اس حق کو کیا کر دے؟ جی؟ لازم۔ تو کہتا ہے والزم محبوسا اور لازم کر دے ایسے قیدی پر اقرار بحق جو اقرار کرتا ہے کسی حق کا۔ لامنعکرا نہ کہ اس ایسے قیدی پر جو کیا کرتا ہے؟ انکار کرتا ہے الا ببينۃ مگر کس کے ساتھ؟ ہاں جو انکار کرتا ہے اس پر حق کو لازم نہ کرے بلکہ بینہ کے ساتھ لازم کرے۔ وان اخبر بہ المعزول اگرچہ اس کی خبر اس کو معزول قاضی ہی کیوں نہ دے۔ معزول قاضی کہتا ہے بھئی میں نے اس کو ویسے اس کے خلاف فیصلہ نہیں کیا بلکہ اس کو فلاں فلاں حق کی وجہ سے میں نے اس کو جیل میں نہیں۔ بھئی معزول قاضی کی کوئی بات نہ مانے کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ وہ معزول ہو چکا وہ بھی اب اس کی رعایا بن چکا اور رعایا میں سے ایک فرد ہے اور ایک فرد کی گواہی تو قبول نہیں ہو اور نیز وہ گواہی دے بھی اپنے فعل پر رہا ہے کہ میں نے اس کو اس لیے قید کیا تھا اس لیے اس کی گواہی بالکل قبول نہ کرے، وان اخبر بہ المعزول اگرچہ اس کو خبر دے دے وہ معزول قاضی لانھہ بالعدل اس لیے کہ وہ عدل کی وجہ سے معزول کر دیئے جانے کی وجہ سے الالتحاق مل گیا ہے بواحد من الرعایا کس سے؟ رعایا میں سے کسی بھی ایک فرد کے ساتھ یعنی ان میں سے ہو گیا ہے، و شہادۃ الواحد لا تقبل اور ایک آدمی کی گواہی قبول نہیں کی جاتی۔ अच्छा, اگر گواہی نہ ہو والا اور اگر اگر ایسی نہ ہو یعنی بینہ نہ ہو، ینادا علیہ تو اس پر کیا کی جائے گی؟ منادی کروائی جائے گی یعنی اعلانات کروائے جائیں گے۔ ثم یخليه پھر بھی کوئی نہیں آتا تو کیا کر دے؟ اس کا راستہ اسے اکیلا چھوڑ دے یعنی اسے جانے دے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی شامی میں ہے مولانا کہ اس سے ضامن لے کر اس کو چھوڑ دے، کیا کر دے؟ ضامن لے کر اس کو چھوڑ دو، سمجھ میں آیا آپ بھی ہوں تو ضامن لے کر اس کو چھوڑنا یہ نہ ہو کوئی بیچارہ بعد میں پہنچے، اسے خبر دیر سے ذرا ملے تو ضامن دے دے۔ اگر ضامن بھی نہیں ہے اس کا، پھر کہتے ہیں فورا نہ چھوڑو۔ ایک مہینے تک اعلانات کرواتے رہو، فلاں شخص ہے اس کو کسی کا حق ہے وہ آ جائے، اگر ایک مہینے تک بھی کوئی نہیں آتا پھر اسے چھوڑ دے۔ ايلم تقم البينة على المحبوس اگر قائم نہ ہو بینہ قیدی پر المنکر وہ محبوس جو کیا ہے؟ انکار کرنے والا ہے، اس پر اگر بینہ بھی قائم نہ ہو ینادا تو یہ ندا کروائی جائے کہ ان کل من له حق علی فلان ابن فلان کہ ہر وہ شخص جس کا کوئی حق ہو فلاں ابن فلاں پر یعنی اس قیدی پر المحبوس یہ جو فلاں ابن فلاں جو قیدی ہے فليحضر مجلس القاضی پس اسے چاہیے کہ وہ حاضر ہو جائے قاضی کی مجلس میں فأن لم يحضر أحد يخلیہ اگر کوئی بھی حاضر نہ ہو تو کیا کر دے اسے چھوڑ دے، اسے جانے دے، جی۔ چلیے بس مولانا هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام
110 approved lectures · 58 of 110