Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-116

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 29 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَيُجْبَرُ الْمُسْتَأْجِرُ عَلَى دَفْعِ مَا قِيلَ وَيُحْبَسُ بِهِ وَعَلَى الْحَلْوَاءِ الْمَرْسُومَةِ. جی۔ بھئی گذشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا بھئی، پہلے متن میں یہ ذکر کیا تھا کہ تعلیم القرآن اور فقہ وغیرہ پر اجرت لینا صحیح نہیں، لیکن پھر علامہ تاج الشریعہ نے بتلایا کہ آج کے دن کیا کیا جائے گا؟ کہ تعلیم القرآن اور فقہ پر اجارے کو صحیح قرار دیا جائے گا، یہ اجارہ جائز ہے تاکہ کہیں یہ چیزیں رفتہ رفتہ مٹ نہ جائیں، اس سے متاخرین نے اس کی اجازت دے دی، اسی طرح امامت پر بھی اجرت مولانا اور اسی طرح اذان پر بھی اجرت لینا یہ متاخرین نے اس کو جائز قرار دے دیا مولانا، سمجھ میں آیا کیونکہ یہ ضرورتین کی، کے لیے بھئی۔ تو کہتے ہیں، جھادا جب یہ چیزیں جائز ہو گئیں تو ان کا اجارہ صحیح ہوا، لہذا جب ان کا اجارہ ہوا تو اب مولانا، آہ مستاجِر کو مجبور کیا جائے گا کہ جو عوض طے ہوا تھا اب وہ حوالے کرے، وَيُجْبَرُ الْمُسْتَأْجِرُ عَلَى دَفْعِ مَا قِيلَ اور مجبور کیا جائے گا مستاجِر کو اس چیز کے دینے پر جو کہی گئی تھی، یعنی جو مقرر ہوئی تھی، وَيُحْبَسُ بِهِ اور اس کی وجہ سے اسے محبوس بھی کیا جائے گا، قید بھی کیا جائے گا جیل میں بھی۔ سمجھ میں آیا، مستاجِر نے بھئی اس نے ایک شخص کو تعلیم القرآن کے لیے رکھا کہ میرے بچوں کو قرآن کی تعلیم دو گے اور بعد میں وہ اجرت نہیں دیتا کہ تعلیم القرآن پر تو اجرت جائز نہیں، تو اس پر قاضی اسے مجبور کرے گا یہ اجرت دینے پر، اور اگر وہ نہیں دیتا اور وہ دوسرا شخص جو ہے، جِس تعلیم القرآن جس نے دی، وہ کیا تقاضا کرتا ہے کہ اس کو جیل میں ڈالا جائے، تو اس کو جیل میں بھی ڈالا جائے گا، محبوس کیا جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ معنی وَيُحْبَسُ بِهِ اور اس کی وجہ سے محبوس بھی اسے کیا جائے گا وَعَلَى الْحَلْوَاءِ الْمَرْسُومَةِ اور حلوائے مرسومہ پر بھی بھئی۔ مرسوم کا معنی نشان زدہ حلوہ مولانا، یعنی کوئی رسمی حلوہ۔ بھئی یہ رسماً مٹھائی دی جاتی تھی بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی ماوراء النہر بھئی۔ ماوراء النہر افغانستان کے اس طرف کا علاقہ ماوراء النہر کہلاتا ہے مولانا، یہ بڑی زرخیز زمین، علم خیز زمین تھی بھئی۔ جتنے ہمارے بڑے بڑے محدثین گزرے ہیں، فقہاء گزرے ہیں، سارے اس تقریباً اس علاقے سے تعلق رکھتے تھے بھئی۔ اب یہ جو روس کا علاقہ ہے، سمجھ میں آیا؟ یہ روس کا علاقہ ہے جہاں آج مولانا کلمہ پڑھنے والے بھی آپ کو مشکل سے ملیں گے بھئی، اتنی سختی کی گئی دین کو مٹادیا گیا، مدارس کو ختم کر دیا گیا بھئی۔ سمجھو اور یہی سازشیں آج یہاں ہمارے وطن میں بھی کی جا رہی ہیں کہ مدارس کا نام و نشان مٹ دیا جائے، کیونکہ جہاں مدارس ختم ہوئے وہاں سے دین مٹ گیا مولانا۔ یہ مدارس چھاؤنیاں ہیں اسلام کی، جہاں مدارس ہیں اسلام ہیں، جہاں مدارس ختم اسلام بھی ختم ہو گیا مولانا۔ تو یہ اللہ نے دیکھئے، اس خطے کو فضیلت نصیب فرمائی تھی، بڑے بڑے محدثین وہاں کے تھے مولانا، روس کے علاقے کے بھئی۔ امام بخاری وہاں کے ہیں مولانا، امام ترمذی وہاں کے ہیں بھئی، صاحبِ ہدایہ وہاں کے ہیں، وغیرہ بڑے بڑے جتنے جبال العلوم آپ دیکھیں، سارے وہیں کے آپ کو اکثر وہاں کے نظر آئیں گے بھئی۔ جی، تو وہاں پر بھئی یہ رسماً دیا جاتا تھا، مٹھائی دی جاتی، ہدیہ دیا جاتا تھا معلم کو بھئی، سمجھ میں آیا؟ بات خاص خاص سورتیں تھیں، ان کے شروع میں جب معلم وہ سورتیں اس کے بچے کو شروع کروانے لگتا تو کیا دی جاتی تھی اس کو؟ خاص ہدیہ دیا جاتا تھا اور ہدیے میں مٹھائی دی جاتی تھی بھئی، مٹھائی وغیرہ، سب دیتے تھے مولانا، سب دیتے تھے، یہ رسم جاری تھی بھئی۔ تو یہ بھی اجرت کی طرح ہے، کیونکہ عرف میں جب یہ جاری ہے تو اب جس جو بھی متعلم ہے، اس کے گھر والوں کو یہ دینا پڑے گی، اگر وہ انکار کرتے ہیں تو قاضی کیا کرے گا ان کو دینے پر مجبور کرے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی، تو باب خاص خاص صورتوں کے شروع کرواتے ہوئے پھر یہ ہدیہ دیتے تھے۔ اور اس کو حلوائے مرسومہ کیوں کہتے ہیں بھئی؟ مقررہ حلوہ، رسمی حلوہ، کہتے ہیں اس لیے کہ مٹھائی دی جاتی تھی ایسے موقع پر، اور مٹھائی کو عربی میں حلوہ کہتے ہیں بھئی۔ وَالْحَلْوَاءِ الْمَرْسُومَةِ اَی یعنی محبوس کیا جائے گا اس اجرت کی وجہ سے بھی اور حلوائے مرسومہ کی وجہ سے بھی بھئی۔ اَلْحَلْوَوُ بِفَتْحِ الْحَاءِ الْغَيْرِ الْمُعْجَمَةِ یہ ح کے فتح کے ساتھ ہے، وہ ح الْغَيْرِ الْمُعْجَمَةِ جو بغیر نقطے کے ہو بھئی، سمجھ میں آیا؟ ح ہے۔ هَدِيَّةٌ یہ ایسا ہدیہ ہدیہ ہے تُهْدَى إِلَى الْمُعَلِّمِينَ جو بھیجا جاتا تھا، دیا جاتا تھا معلمین کو عَلَى رُءُوسِ بَعْضِ السُّوَرِ الْقُرْآنِ قرآنِ مجید کی بعض سورتوں کے رُءُوس یعنی ابتدا، شروع پر بھئی۔ ان کے شروع کروانے پر دیا جاتا تھا، سُمِّيَتْ بِهَا اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا لِأَنَّ الْعَادَةَ إِهْدَاءُ الْحَلَاوَةِ اس لیے کہ عادت کیا جاری تھی؟ مٹھائی کے، مٹھائیوں کے ہدیہ دینے کی۔ فَهِيَ لُغَةً يَسْتَعْمِلُهَا أَهْلُ مَوَارَا النَّهْرِ یہ وہ لغت ہے جسے ماوراء النہر والے استعمال کرتے تھے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَلَا إِجَارَتُ الْمُشَاعِ مشاع چیز کا اجارہ جائز نہیں، مشترک چیز کا اجارہ صحیح نہیں بھئی۔ میری اور زید کی مشترکہ زمین ہے، ابھی حد بندی نہیں ہوئی، مثلاً ایک کنال کا پلاٹ ہے، نصف اس کا ہے، نصف میرا۔ کون سا نصف میرا، کون سا نصف اس کا، یہ طے نہیں ہے، بس پورا پلاٹ ہے، نصف میرا اور نصف اب میں اپنے حصہ نصف کرائے پر دینا چاہتا ہوں، یہ جائز نہیں کیونکہ یہ زمین مشترکہ ہے۔ کسی اور کو میں کرائے پر نہیں دے سکتا، ہاں! زید کو کرائے پر دے سکتا ہوں، یا مثلاً کھیت ہے، میرا اور زید کا مشترکہ ہے، تو یہ کھیت میں کسی اور کو کرائے پر نہیں دے سکتا، بلکہ صرف کس کو دے سکتا ہوں؟ زید جو شریک ہے، اسی کو دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اور شریک نہ ہوں مولانا۔ وَلَا إِجَارَتُ الْمُشَاعِ اور جائز نہیں ہے اشارہ مشترک چیز کا إِلَّا مِنَ الشَّرِيكِ مگر کسے؟ شریک کو ہی جائز ہے۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمتہ اللہ علیہ امام صاحب کے نزدیک ہے بھئی، وَقَالَ صَاحِبَيْنِ فرماتے ہیں يَصِحُّ إِجَارَةُ الْمُشَاعِ مِنَ الشَّرِيكِ وَغَيْرِهِ کہ مشترک چیز کا اشارہ جائز ہے شریک پر بھی اور غیرِ شریک پر بھی، ہر ایک کو دے سکتے ہیں۔ وَلَوْ دَفَعَ إِلَى آخَرَ غَزْلًا لِيَنْسَجَهُ بِنِصْفِهِ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، میرے پاس دھاگا پڑا ہوا ہے بھئی، دھاگا بھئی، سمجھ میں آیا؟ ان سے میں نے دھاگا تیار کروایا، وہ دھاگا میں ایک شخص کو دیتا ہوں کہ لو بھئی، اس سے کپڑا بن دو، کپڑا بنا دو۔ اور پھر اس میں سے آدھا کپڑا تم لے لینا اجرت کے طور پر۔ یہ جائز نہیں ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح یا ایک شخص کو میں کہتا ہوں کہ لو بھئی، یہ سامان ہے، یہ گندم ہے اتنی، یہاں سے فلاں جگہ تک پہنچانی ہے، تم پہنچا دو گے تو اس میں سے نصف تم لے لینا، صورت سمجھ میں آگئی؟ تم لے لینا، یہ بھی جائز نہیں ہے مولانا۔ یا مولانا کسی شخص سے میں نے بیل لیا کہ میں اس کے ذریعے اپنی گندم پیسوا پیسوں گا، تو جب گندم پیس جائے گی، اس میں سے آدھا آٹا پھر میں آپ کو دے دوں گا، یا اتنا آٹا آپ کو دے دوں گا، یہ جائز نہیں مولانا، یہ جائز، اسے قَفِيزُ الطَّحَّانِ کہتے ہیں مولانا، قَفِيزُ الطَّحَّانِ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ طحَّان بھئی وہ گندم پیسنے والا بھئی، بھئی یہ اب بھی رسم جاری ہے مولانا، یہ جائز نہیں ہے، اب بھی یہ طریقہ جاری ہے، جائز نہیں ہے کیا؟ آپ گندم پسوانے کے لیے لے جاتے ہیں، وہ ہر من کے پیچھے دو تین کلو آٹا خود رکھ لیتا ہے۔ ایسا ہے یا نہیں مولانا؟ ہاں۔ ہر من پر دو تین، ہاں اگر پہلے سے ہی بھئی گندم ایک من میں سے تین کلو نکال کر اپنے الگ کر لے کہ یہ تمہاری اجرت ہو گئی، پھر تو ٹھیک ہے، لیکن اگر کیا کہتا ہے؟ پیس لیتا ہے اور پھر پیس کر اس میں سے ایک قَفِيز، دو قَفِيز یا جتنا ہوتا ہے وہ نکال لیتا ہے تو یہ جائز نہیں، یہ قَفِيزُ الطَّحَّانِ کہلاتا ہے، پیسنے والے کا قَفِيز، اور یہ جائز نہیں، حدیث میں اس سے منع آئی ہے بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قَفِيزُ الطَّحَّانِ سے منع فرمایا ہے بھئی۔ بھئی کیا معنی قَفِيزُ الطَّحَّانِ؟ یعنی مطلب یہ ہے کہ جو چیز کام کرنے والے، جو اجیر ہے، اس کے عمل سے جو چیز پیدا ہو یا اس کے عمل کا اس میں دخل ہو، اس میں سے اجرت دینا ٹھیک نہیں ہے۔ بھئی میں نے آپ کو دھاگا دیا تھا، تو کیا کہا تھا اس کا کپڑا بنا لو اور نصف کپڑا پھر آپ کیا کر لینا اجرت کے طور پر؟ تو بھئی یہ کپڑے کے حاصل ہونے میں اجیر کا عمل، کیا عمل کا دخل ہے یا دخل نہیں ہے بھئی؟ دخل ہے، وہی تو کپڑا بن رہا ہے بھئی، تو جب اس کے اپنے عمل کا دخل آ جائے جس چیز کے اندر بھئی، اس کے اندر سے اس کو حصہ دینا صحیح نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ یا میں نے ایک شخص کو کہا میرا سامان یہاں سے فلاں جگہ پہنچا دو، اس میں سے نصف گندم آپ لے لینا بھئی وہاں پر، تو اس میں بھی اس کے عمل کا دخل آیا بھئی، اس نے گندم وہاں پر کس نے پہنچائی ہے؟ اس نے پہنچائی، اب اسی میں سے کیا کر رہا ہے؟ صورت سمجھ میں آگئی۔ یا میں ایک شخص سے بیل لے کر آیا کہ اس سے میں نے اپنی گندم پیسنی ہے، جب پس جائے گی، اس میں سے آدھی گندم میں آپ کو دے دوں گا، تو یہ آدھا آٹا جو میں اس کو دے رہا ہوں، اس میں اسی اجیر کے کیا ہے؟ بیل کا عمل آ گیا، لہذا یہ جائز نہیں۔ تو جس چیز کے اندر اجیر کے عمل کا دخل ہو، اسی میں سے اجرت دینا صحیح، یہ ضابطہ سمجھ میں آگیا؟ معلوم ہوا آج کل جو یہ کیا جاتا ہے، یہ درست نہیں ہے بھئی۔ وَلَوْ دَفَعَ إِلَى آخَرَ غَزْلًا لِيَنْسَجَهُ بِنِصْفِهِ اگر حوالے کیے کسی نے دوسرے کے غَزْلًا، غزل کہتے ہیں کاتی ہوئی سوت مولانا۔ کاتنا، سوت کاٹنا جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ اون ہوتی تھی، یہ بال وغیرہ ہوتے تھے، وہ بھئی وہ سوت کاٹنے والا ان کو، ان سے دھاگا بنایا کرتا تھا بھئی۔ فِر اس دھاگے سے آگے کیا بنتا تھا؟ اب تو دھاگے بھئی مشینوں پر بنتے ہیں، پہلے کیا کرتے تھے؟ بھئی وہ کس پر چرخة ہوتا تھا، اس پر بنایا کرتے تھے دھاگا بھئی، اسے سوت کاتنا کہتے ہیں، سوت کاتنا۔ تو کسی نے دوسرے کو کاتی ہوئی سوت دی (یعنی دھاگا دیا) لِيَنْسَجَهُ تاکہ وہ اس کو گوندھ دے، بِنِصْفِهِ کتنے کے عوض میں؟ اس کے نصف کے عوض میں (کہ کاٹ دو گے تو اس میں سے نصف کپڑا تمہارا)۔ اَوِ اسْتَاجَرَ حِمَارًا بھئی یہ اس پر عطف کر لیں، حِمَارًا پر عطف کر لیں تو کسی نے، جی، اجرت پر رکھا کسی آدمی کو لِيَخْبِزَ لَهُ كَذَا تاکہ اس کے لیے روٹی بنائے اتنی بھئی، اتنے آٹے کی، کذا کیا ہے کنایہ ہے مقدار سے، مطلب ایک من آٹا ہے، اس کی اس کے لیے روٹیاں بنائے گا الْيَوْمَ آج کے دن بَكَذَا اتنے عوض میں۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے، بھئی میں نے زید کو پانچ من آٹا دیا کہ بھئی اس سے مجھے آج کے دن آپ اس کی روٹیاں بنا دیں دس درہم کے عوض میں، یعنی میں عوض کیا دوں گا؟ دس درہم بھئی۔ تو امام صاحب کے نزدیک یہ جائز نہیں۔ اور صاحبین کے نزدیک جائز ہے۔ امام صاحب کے نزدیک کیوں نہیں جائز؟ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس نے آٹے کی مقدار بھی ذکر کر دی اور اس نے دین کو بھی ذکر کر دیا، اب پتا نہیں محفوظ عنہ کیا ہے؟ محفوظ عنہ وہ آٹا ہے یا محفوظ عنہ وقت ہے مولانا، کیونکہ دونوں میں صلاحیت ہے محفوظ عنہ بننے کی۔ اگر آٹا محفوظ عنہ ہے تو مطلب کہنے والے کا یہ ہے کہ یہ دس من آٹے کی روٹیاں لگا دو، بنا دو تو میں تمہیں کتنے درہم دوں گا؟ دس۔ ابھی بناؤ، گھنٹے میں بناؤ، دو گھنٹے میں بناؤ، دس گھنٹے میں بناؤ، بیس گھنٹے میں بناؤ۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جتنا وقت بھی تمہارے لگے، لیکن اس سارے آٹے کی مجھے روٹیاں بنا دو، تو پھر میں تمہیں دس درہم دوں گا۔ اور جو الْيَوْمَ کو ذکر کیا، تو یہ یہ بھی محفوظ عنہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، یعنی یہ بھی محفوظ عنہ ہو سکتا ہے، کیسے؟ الْيَوْمَ کو اگر محفوظ عنہ الیہ تو بنائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آج سارا دن تم میرے لیے روٹیاں بناؤ، صبح سے شام تک تو میں تمہیں کتنے دے دوں گا؟ دس درہم دے دوں گا۔ تو دو احتمال نکل آئے بھئی، ہو سکتا ہے محفوظ عنہ کیا ہو؟ وہ آٹا ہو بھئی، وہ آٹے کی مقدار، اور ہو سکتا ہے محفوظ عنہ کیا ہو؟ وقت ہو سارا دن بھئی، اور اگر وقت کو محفوظ عنہ بنائے، تو پھر اجیر کا نفع ہے، اور اگر اس آٹے کو محفوظ عنہ بنائے تو مستاجِر کا نفع ہے۔ دیکھو کیسے؟ دیکھو، میں نے اگر آٹے کو محفوظ عنہ بنایا، کیا بنایا؟ آٹے کو محفوظ عنہ بناؤں گا، تو اس میں میرا نفع ہے۔ میں نے کہا بھئی یہ دس من آٹے کی روٹیاں بنانی ہیں آپ نے اور کتنے درہم دوں گا؟ دس۔ تو اب میرا نفع ہے، جب تک یہ روٹیاں پوری نہیں ہو جاتیں، وہ اجرت کا مستحق تو میرا فائدہ، لیکن اگر میں اس کو وقت کو محفوظ عنہ بنا لوں، تو مطلب ہے سارا دن تم میرے لیے روٹیاں بناؤ، تو تمہیں میں کیا کروں گا؟ دس درہم۔ اب سارا دن اس کو اپنی خدمت سپرد کرنا ضروری ہے، ساری روٹیاں پوری کرنا ضروری، سارا دن وہ حاضر رہا، کام پہ لگا رہا، آرام آرام سے کرتا رہا، اور صرف پانچ من کی روٹیاں بنیں، پھر بھی اب مجھے اسے کیا دینے پڑیں گے؟ دس درہم۔ تو اس میں کس کا نفع آ گیا؟ اجیر کا نفع، کس کا آیا؟ اجیر کا نفع آیا۔ تو اگر وقت کو بنائے محفوظ عنہ تو اجیر کا نفع ہے، اور اگر آٹے کو محفوظ عنہ بنائے تو کس کا نفع ہے؟ مستاجِر کا نفع ہے، اور یہاں پر دونوں میں صلاحیت ہے کہ وہ محفوظ عنہ بن سکیں، تو لہذا کچھ پتا نہیں، تو محفوظ عنہ مجہول ہوا بھئی۔ محفوظ عنہ کیا ہوا؟ اب جھگڑا آئے گا بھئی، لہذا یہ عقد کیا ہوا؟ اور جو عقد مفسداً نزاع ہو، وہ فاسد ہے، تو یہ عقد بھی کیا ہوا؟ فاسد ہوا۔ اجیر کہے گا بھئی یہاں پر وقت محفوظ عنہ تھا، تم نے مجھے یہ کلام کہا تھا کہ روٹیاں بناؤ میرے لیے اتنے آٹے کی آج کے دن میں اتنے کے عوض میں، تو یہاں پر الْيَوْمَ منصوب کو ظرف آپ نے بنایا تھا مولانا، اور منصوب لے کر آئے تھے فی کے بغیر، تو لہذا یہ وقت محفوظ عنہ ہے بھئی، میں صرف سارا دن روٹیاں پکانے کا پابند ہوں، دس من آٹے کی روٹیاں پکانے کا پابند نہیں ہوں۔ اور مستاجِر کہے گا نہیں نہیں، میرا مقصد تو یہ تھا کہ تم سارے دس من آٹے کی کیا کرو؟ روٹیاں بناؤ گے پھر تمہیں دس درہم دوں گا، وہ کہے گا نہیں میں صبح سے شام تک کام کروں گا، جتنی بھی بن گئیں تو میں دس درہم کا مستحق ہوں گا، لہذا جھگڑا آئے گا بھئی۔ اور دونوں کو محفوظ عنہ نہیں بنا سکتے بھئی، دونوں کو محفوظ عنہ نہیں بنا سکتے بھئی، کیوں؟ کہتے ہیں پھر تو ممکن ہی نہیں ہے کوئی انسان یہ کام کر سکے، دونوں کو بنائیں۔ کیسے؟ دس من آٹا بھی محفوظ عنہ اور سارا دن بھی محفوظ عنہ، یعنی سارے دن میں تم نے دس من آٹے کی روٹیاں بنانی ہیں، یعنی یہ دس من آٹے کی روٹی۔ رٹیاں بنانے کا عمل جو ہے، یہ سارے دن کو گھیر لے ایک لمحہ بھی اس میں سے نہ بچے۔ اِدھر سورج غروب ہو رہا ہو، عین اسی لمحہ میں آخری روٹی پوری ہو رہی ہو۔ کسی میں یہ طاقت ہے کہ بِعَیْنِهِ اس طرح برابر کر لے؟ لازمی بات ہے یا کچھ پہلے کام پورا ہو جائے گا یا کچھ اوپر چلا جائے گا، بالکل برابر نہیں کر سکتا۔ تو لہٰذا دونوں کو مَعْقُود عَلَیْہ بنائیں، پھر تو ممکن ہی نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور رجلاً کسی نے اُجرت پر کسی شخص کو رکھا لِیَخْبِزَ لَهُ كَذَا، کہ وہ اس کے لیے روٹیاں بنائے اتنے آٹے کی الْیَوْمَ آج کے دن میں بھی كَذَا اتنے عِوَض کے بدلے میں۔ یہ ساری صورتیں چل رہی ہیں، آگے سارے کی جزا آئے گی فَسَدَتْ۔ ان ساری صورتوں میں اجارہ فَاسِد ہے۔ إِذَا اسْتَأْجَرَ رَجُلًا جس کسی نے اجرت پر رکھا کسی آدمی کو لِیَخْبِزَ لَهُ عَشْرَةَ أَمْنَانٍ الْیَوْمَ بِدِرْهَمٍ، کہ وہ اس کے لیے روٹیاں بنائے دس من آٹے کی آج کے دن میں ایک درہم کے بدلے میں، فَإِنَّ هَذَا فَاسِدٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ۔ امام صاحب کے نزدیک فَاسِد ہے، وَعِنْدَهُمَا يَصِحُّ۔ اور صَاحِبَیْن کے نزدیک صحیح۔ بھئی صَاحِبَیْن کے نزدیک کیسے صحیح ہے؟ دونوں مَعْقُود عَلَیْہ بن رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں صَاحِبَیْن فرماتے ہیں نہیں، مَعْقُود عَلَیْہ وہ آٹے کی مقدار ہے، اتنی روٹیاں بنانی ہیں۔ بھئی یہ دن بھی تو ہے؟ وہ فرماتے ہیں دن کا ذکر صرف جلدی کے لیے ہے۔ کس لیے ہے؟ یعنی کوشش جلدی کرو، آج ہی آج یہ کام کر دو، یہ جلدی کے لیے بس۔ وَعِنْدَهُمَا يَصِحُّ ان کے نزدیک عَقْد إِجَارَة صحیح ہے، إِذْ الْمَعْقُودُ عَلَیْهِ إِلَّا الْعَمَلُ اس لیے کہ مَعْقُود عَلَیْہ کیا ہے؟ عمل ہے، کام ہے، یعنی روٹیاں بنانا ہے۔ وَذِكْرُ الْوَقْتِ لِلتَّعْجِیلِ اور یہ وقت کا ذکر کس لیے ہے؟ جلدی کے لیے۔ وَلَهُمَا امام صاحب فرماتے ہیں ان کی دلیل یہ ہے أَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْعَمَلِ وَالْوَقْتِ کہ اس نے جمع کر دیا بھئی مستاجر نے عمل اور وقت دونوں کو جمع کر دیا۔ وَالْأَوَّلُ يُوجِبُ كَوْنَ الْعَمَلِ مَعْقُودًا عَلَیْهِ اور اول یہ واجب کرتا ہے بھئی كَوْنَ الْعَمَلِ مَعْقُودًا عَلَیْهِ بھئی جمع کیا عمل اور وقت کو بھئی، تو اب عمل کو بھی لے کر آیا تو یہ تقاضا کرتا ہے کیا؟ یہ ثابت کرتا ہے کہ عمل مَعْقُود عَلَیْہ ہے۔ وَفِيهِ نَفْعٌ لِلْمُسْتَأْجِرِ اور اس میں کس کا نَفْع ہے؟ مُسْتَأْجِر کا نَفْع ہے۔ وَالثَّانِي يُوجِبُ كَوْنَ تَسْلِيمِ النَّفْسِ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعْقُودًا عَلَیْهِ اور ثانی واجب کرتا ہے وقت ثابت کرتا ہے کہ اپنے نفس کو سپرد کرنا اس دن کے اندر یہ کیا ہے؟ مَعْقُودٌ عَلَیْہ۔ بھئی یَوْم کا مطلب یہ ہے کہ تو سارا دن تم نے یہ کام کرنا ہے، یعنی اپنے نفس کو سپردِ خدمت کے لیے سپرد کرنا ہے۔ کام پورا ہو یا نہ ہو، نفس کو سپرد کرنا ہے سارے دن میں، تو یہ مَعْقُود عَلَیْہ ہے۔ وَفِيهِ نَفْعٌ لِلْأَجِيرِ اور اس صورت میں کس کا نَفْع ہے؟ أَجِير کا کہ سارا دن حاصر رہے، کام چاہے تھوڑا ہی کیا ہو، پھر بھی اس کو اُجرت دینی ہی پڑتی ہے۔ فَيُبْزِلُ الْمُنَازَعَةَ تو یہ کسی طرح پہنچانے والی ہے بات جھگڑے کی طرف۔ وَلَوْ كَانَ الْمَعْقُودُ عَلَیْهِ كِلَيْهِمَا اور اگر مَعْقُود عَلَیْہ دونوں ہو جائیں أَنْ يَعْمَلُوا هَذَا الْعَمَلَ یعنی کہ وہ کام کرے گا یہ والا مُسْتَرْقَقًا لِهَذَا الْيَوْمِ اس حال میں کہ یہ کام گھیرنے والا ہو اس سارے دن کو، وَذَلِكَ مِمَّا لَا قُدْرَةَ عَلَیْهِ لِأَحَدٍ تو یہ کیسا کام ہے جس کی قُدْرَت کسی ایک کو بھی نہیں ہے، عَادَةً عادت کے اعتبار سے، حَتَّى لَوْ قَالَ یہاں تک کہ اگر کسی نے، جی، کسی کو بھی عَادَةً کوئی بھی اس پر قادر نہیں ہے، ہو جائے، امکان تو ہے شاید ہو جائے، لیکن عَادَةً ایسا ممکن نہیں۔ حَتَّى لَوْ قَالَ لِيَخْبِزَ لَهُ عَشْرَةَ أَمْنَانٍ فِي الْيَوْمِ اگر یوں کہا کہ وہ اس کے لیے روٹیاں بنائے دس من آٹے کی فِي الْيَوْمِ، فِی کو لے کر آیا مولانا! بھئی اصولِ فقہ میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ فِی اگر کلام میں ذکر ہو تو اور مسئلہ ہوگا، ظرف پر داخل ہوتا ہے۔ فِی ظرفیت کے لیے آتا ہے تو ظرفِ زمان پر اگر فِی داخل ہو، فِی داخل ہو یا فِی کو حَذَف کر لیا جائے اس سے مولانا! کس سے؟ ظرف اَلْیَوْم کیا ہے؟ ظرفِ مکان ہے، ظرفِ زمان ہے؟ ظرفِ زمان ہے۔ ظرفِ زمان کے بارے میں آپ نے مسئلہ پڑھا ہے اصولِ فقہ میں کہ اس پر کبھی فِی داخل کرتے ہیں، کبھی فِی کو حَذَف کر لیتے ہیں۔ کیا کر لیتے ہیں؟ جیسے ابھی دیکھو لِيَخْبِزَ لَهُ كَذَا الْيَوْمَ، فِی ہے؟ فِی نہیں، اور آگے نیچے بھی آیا فِلْيَوْمِ تو فِی آگیا، تو اس میں فِی کبھی ذکر کیا جاتا ہے، کبھی اس کو صَاحِبَیْن فرماتے ہیں فِی کو ذکر کریں یا فِی کو حَذَف کریں، دونوں صورتوں میں ایک ہی حکم ہوگا، اختلاف نہیں۔ لیکن امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر فِی ذکر کریں تو پھر اور حکم، اگر فِی کو حَذَف کریں تو پھر۔ کہتے ہیں اگر فِی کو ذکر کریں کیا کریں؟ فِی کو ذکر کریں تو مَا بَعْدَ، مَا بَعْدَ، مَا قَبْل کے لیے ظَرْف بنے گا، اور ظَرْف کے لیے مَظْرُوف کا پورا احاطہ کرنا ضروری نہیں۔ مَا بَعْد کیا بنے گا؟ ظَرْف بنے گا، اور ظَرْف کے لیے اور مَظْرُوف پھر اس صورت میں جب یہ ظرف بنا، تو مَظْرُوف کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ ظرف کا کیا کر لے؟ احاطہ کر لے، جیسے مولانا ظُہر کی نماز کا وقت، ظُہر کی نماز کے لیے ظرف ہے، کیا ہے؟ جب آپ ظُہر کی نماز ادا کرتے ہیں، تو ظُہر کا وقت کچھ زائِد بچتا ہے یا نہیں بچتا؟ بچتا ہے، تو ظرف وہ ہوتا ہے کہ مَظْرُوف اس کا پورا احاطہ نہ کرے، بلکہ کچھ وقت زائِد، اور کبھی کبھار وہ عمل پورے وقت کا احاطہ کر لیتا ہے، اس سے پھر کہتے ہیں مِعْیَار۔ وقت اس کے لیے کیا ہے؟ جیسے روزہ، روزہ کب شروع ہوتا ہے؟ صُبحِ صادِق سے، اور کب تک رہتا ہے؟ غروبِ آفتاب تک، تو روزے کا وقت ہے دن، اور جب روزہ ادا کرو گے، دن میں سے کچھ بچے گا یا یہ روزہ پورے دن کو گھیر لے گا؟ پورے دن کو گھیر لے گا، تو یہاں یہ وقت جو ہے ذُو مِعْیَار کے لیے، ذُو مِعْیَار جو ہوتا ہے وہ پورے مِعْیَار کو کیا کر لیتا ہے؟ گھیر لیتا ہے، کچھ بھی نہیں بچتا۔ سمجھ میں آیا؟ تو ظرف وہ ہوتا ہے جو کچھ بچ جائے، مِعْیَار وہ ہے جو کچھ بھی نہ بچے، تو لہٰذا مَاقَبْل میں کیا تھا؟ يَوْم ذکر کیا تھا، یعنی فِی کے بغیر، اور فِی کے بغیر ہو تو اس صورت میں یہ کیا بنتا ہے؟ مِعْیَار بنتا ہے، اور فِی کے ساتھ ہو تو یہ کیا بنتا ہے؟ ظَرْف بنتا ہے۔ تو مَاقَبْل میں مَتْن میں جو آیا الْيَوْمَ وہاں پر یَوْم کا لفظ بغیر فِی کے ہے، تو لہٰذا وہ کیا بنے گا؟ مِعْیَار یعنی روٹیاں پکانے کا عمل گھیر لے سارے دن کو، اس میں سے کوئی بھی وقت نہ بچے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو فِی جب آجائے تو یہ اسْتِغْرَاق کا تقاضا نہیں کرتا، لیکن فِی کو حَذَف کر دیں تو یہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ اسْتِغْرَاق کا تقاضا کرتا ہے، بشرطیکہ اسْتِغْرَاق ممکن ہو۔ اگر اسْتِغْرَاق ممکن نہ ہو پھر تو الگ بات ہے، وہ کام ہی ایسا ہے کہ اس میں طُول نہیں ہو سکتا، لمبائی نہیں ہو سکتی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے تفصیل اُصولِ فقہ کی کتابوں میں، بس اتنا یاد رکھنا، فِی آئے گا ظرفِ زمان پر، تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ ظرفِ زمان کیا بنے؟ ظرف بنے، اور فِی کے بغیر آئے تو یہ کیا تقاضا کرتا ہے کہ یہ ظرفِ زمان کیا بنے؟ مِعْیَار بنے بھئی۔ تو لو، والحاصل، لَوْ قَالَ اگر کسی نے یوں کہا لِيَخْبِزَ لَهُ عَشْرَةَ أَمْنَانٍ فِلْيَوْمِ کسی نے کرائے پر، اُجرت پر لیا کسی آدمی کو تاکہ اس کے لیے دس من روٹیاں بنائے فِلْيَوْمِ دن میں، فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ تو امام صاحب فرماتے ہیں أَنَّهُ يَصِحُّ یہ إِجَارَة صحیح ہے، لِأَنَّ كَلِمَةَ فِي لَا يَقْتَضِي الِاسْتِغْرَاقَ اس لیے کہ فِی کا کلمہ اسْتِغْرَاق کا تقاضا نہیں کرتا کہ سارے دن کو گھیر لے کام بھئی۔ أَوْ عَرْضًا، أَيْ اسْتَأْجَرَ عَرْضًا، یا کسی نے مولانا اجارے پر زمین لی بِشَرْطِ اس شرط کے ساتھ أَنْ يُسَنِّيَهَا کہ کیا کرے گا؟ سَنَّا يُسَنِّي کا معنی کسی کام کو دو مرتبہ کرنا، یعنی دو مرتبہ اسے کاشت کرے گا، دو مرتبہ اس میں ہل چلائے گا، کیا کرے گا؟ دو ہل چلانا کرو اس کا، دو مرتبہ ہل چلائے گا، تو اس صورت میں بھی إِجَارَة فَاسِد۔ کیا ہوگا؟ إِجَارَة فَاسِدَة کی کچھ صورتیں چل رہی ہیں، آخر میں فَسَدَتْ جزا آئے گی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ بھی إِجَارَة فَاسِدَة کی ایک صورتوں میں سے ہے، کہ بھئی میں نے آپ کو زمین دی، لیکن یہ شرط لگا دی، بھئی آپ کو ہل کتنی دفعہ چلانا پڑے گا؟ دو مرتبہ تو یہ إِجَارَة فَاسِد، إِجَارَة کیا ہے؟ فَاسِد۔ لیکن اس میں پھر تفصیل بتلا رہے ہیں علامہ صدر الشریعہ کہتے ہیں نہیں بھئی ساری صورتوں میں فَسِد نہیں ہے۔ اگر اس میں احد مَعْقُود مْتَعَاقِدَيْن میں سے کسی کا فائدہ ہو تو پھر إِجَارَة فَاسِد ہے، ورنہ فَسِد نہیں، کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں جو عَقْد جو شَرْط مُقْتَضَى عَقْد کے خلاف ہو، اس سے عَقْد إِجَارَة کیا ہوتا ہے؟ فَاسِد۔ تو لہٰذا مَسْن میں یہ شرط لگاتا ہوں، میں نے زمین کرائے پر دی آپ کو اُجرت پر، اور آپ سے کہا کہ بھئی دو مرتبہ ہل چلانا ہے، تو اگر میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ تو ابھی تم کیا کرنے لگے ہو؟ کاشت کرنے لگے ہو، ابھی جو بونا چاہتے ہو وہ اس میں کاشت کرو، اور ہل چلاؤ گے پہلے لازمی بات ہے، تو ایک مرتبہ یہ ہل چلا لیا، دوسری مرتبہ جب تم مجھے زمین واپس دینے لگو بھئی، تو اس وقت بھی کیا کر کے دینا؟ ہل چلا کر دینا، تو اس میں کس کا فائدہ ہوا؟ مُوجِر کا فائدہ ہوا، کس کا؟ مُوجِر، لہٰذا مْتَعَاقِدَيْن میں سے کسی ایک کا فائدہ ہو تو ایسی شرط لگانا صَحِیح نہیں، إِجَارَة فَاسِد۔ دوسری صورت، میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک ابھی کا ہل چلاؤ، ایک مرتبہ آخر میں چلاؤ، بلکہ میرے کہنے کا مطلب ہے ابھی دو دفعہ ہل چلاؤ گے۔ فصْل کاشت کرنے سے پہلے کیا کرو گے؟ ایک دفعہ نہیں ہل چلاؤ گے بلکہ دو دفعہ چلاؤ گے۔ کہتے ہیں اگر یہ زمین ایسی ہے کہ دو دفعہ ہل چلائے بغیر پیداوار دیتی نہیں ہے، تو پھر تو مُقْتَضَى عَقْد کے خلاف آ، یہ شرط نہیں۔ کیونکہ عَقْد جب اس میں کاشت کا کیا ہے، تو اس میں کاشت ہوتی ہی کس طریقے سے ہے؟ دو دفعہ ہل چلانا پڑتا ہے، تو اس صورت میں إِجَارَة فَاسِد، لیکن اگر اس دو دفعہ ہل چلانے کا اثر، یا زمین ایسی نہیں ہے، اور اس دو دفعہ ہل چلانے کا اثر مُدَّت کے بعد بھی باقی رہے گا، تو پھر بھی إِجَارَة فَاسِد۔ دو دفعہ ابھی ہل چلا لو گے، فصْل کاشت کر لو گے، فصْل کاٹ لو گے، وقت پورا ہو جائے گا، زمین آپ مجھے واپس کر دیں گے، لیکن اب بھی اس دو دفعہ ہل چلانے کا اثر باقی ہے، زمین میرے لیے بہتر ہو گئی ہے، تو مولانا اب یہ إِجَارَة بھی کیا ہے؟ فَاسِد ہے، کیونکہ اس میں میرا کیا ہو گیا؟ مُوجِر کا فائدہ ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ بِشَرْطِ أَنْ يُسَنِّيَهَا اس شرط پر کہ اس میں دو مرتبہ ہل چلائے گا، أَنْ يَقْرُبَهَا مَرَّتَيْنِ یعنی قَرَبَ يَقْرُبُ کے معنی ہل چلانا، یعنی اس میں دو مرتبہ کیا کرے گا؟ يُسَنِّي کا معنی کر رہے ہیں أَنْ يَقْرُبَهَا مَرَّتَيْنِ کہ اس زمین میں دو مرتبہ ہل چلائے گا۔ فَإِنْ كَانَ الْمُرَادُ اگر کہنے والے کی مُرَاد یہ ہے، أَنْ يَرُدَّهَا مَكْرُوبَةً کہ وہ یہ زمین واپس کرے گا اس حال میں مَكْرُوبَةً کہ اس میں کیا چلا ہوگا؟ یعنی آخر میں ایک مرتبہ پھر ہل چلا کر دے گا، فَلَا شَكَّ فِي فَسَادِهِ پھر تو اس کے فَاسِد ہونے میں کوئی شک ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ فَإِنَّهُ شَرْطٌ لَا يَقْتَضِيهِ الْعَقْدُ اس لیے کہ یہ ایسی شرط ہے جس کا تَقَاضَا عَقْد نہیں کرتا، وَفِيهِ نَفْعٌ لِأَحَدِ الْعَاقِدَيْنِ اور اس میں یہ دونوں عَقْد کرنے والوں میں سے ایک کا نَفْع بھی ہے، وَهُوَ الْمُوجِر اور وہ کون ہے؟ مُوجِر یعنی زمین کا مالک ہے بھئی، کرائے پر جو دے رہا ہے۔ وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْمُرَادُ هَذَا اور اگر یہ مُرَاد نہیں ہے کہ واپس کرتے ہوئے ہل چلا کے دو گے، بلکہ کیا مطلب ہے؟ کہ پہلے سے ہی دو مرتبہ ہل چلاؤ گے، پھر دو صورتیں ہیں، فَإِنْ كَانَتِ الْأَرْضُ لَا تُخْرِجُ الزَّرْعَ إِلَّا بِالْكِرَابِ پس اگر زمین ایسی ہے کہ وہ رَع کہتے ہیں پیداوار کو، رَع کس کو کہتے ہیں؟ پیداوار کو کہتے ہیں، فَزَمِين اگر ایسی ہے کہ وہ پیداوار دیتی ہی نہیں إِلَّا بِالْكِرَابِ مَرَّتَيْنِ مگر دو مرتبہ ہل چلانے سے، فَلَا يُفْسِدُ الْعَقْدَ تو یہ شَرْط عَقْد کو فَسِد نہیں کرے گی، لِأَنَّ شَرْطٌ مِمَّا يَقْتَضِيهِ الْعَقْدُ اس لیے کہ یہ وہ شرط ہے جس کا عَقْد تَقَاضَا کرتا ہے۔ وَإِنْ كَانَتْ تُخْرِجُ بِدُونِهِ اور اگر زمین دو مرتبہ ہل چلائے بغیر بھی کیا کرتی ہے؟ پیداوار دے دیتی ہے، فَإِنْ كَانَ أَثَرُهُ يَبْقَى بَعْدَ انْتِهَاءِ الْعَقْدِ يُفْسِدُ پھر اگر اس ہل چلانے کا اثر عَقْد کے بعد بھی باقی رہتا ہے، يُفْسِدُ تو یہ شرط کیا کر دے گی؟ فَاسِد کر دے گی، إِذْ فِيهِ مَنْفَعَةُ رَبِّ الْأَرْضِ اس لیے کہ اس کے اندر نَفْع ہے زمین والے کا، وَإِنْ كَانَ أَثَرُهُ لَا يَبْقَى اور اگر اس دو دفعہ ہل چلانے کا اثر باقی نہیں رہتا عَقْد کے وقت پورا ہو جانے کے بعد، فَلَا يُفْسِدُ تو پھر یہ شرط فَسِد نہیں کرتی۔ صورت، تفصیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ أَوْ يُكْرِيَ أَنْهَارَهَا أَوْ يُكْرِقَ أَنْهَارَهَا، أَوْ يُكْرِيَ، كَرَا يَكْرِي کا معنی کھودنا، کھودنا۔ بھئی میں نے آپ کو اپنی زمین دی، لیکن شرط لگا دی ساتھ کہ آپ زمین میری زمین کی نہروں کی کھودائی بھی کرو گے، کیا کرو گے؟ بھئی نہروں میں مٹی بڑی جم گئی ہے، تم وہ بھی صفائی کر کے میرے حوالے کرو گے، خود کر دو گے وہ بھئی۔ کہتے ہیں یہ بھی إِجَارَة فَاسِد ہوا، اس لیے کہ اس میں کیا ہے؟ زمین کے مالک کا فائدہ ہے، اس کا نَفْع بعد میں بھی باقی رہے گا بھئی، پانی خوب اچھی طرح آئے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ بڑی نہریں مراد ہیں جو برقرار رہتی ہیں، الگ بنی ہوئی ہیں بھئی، اور جس کو کیا کہتے ہیں بھئی؟ کھالا کہتے ہیں غالباً اور؟ کھالا کہتے ہیں یا کیا کہتے ہیں بھئی؟ جی کھالا تو یہ برقرار رہتا ہے بھئی، اور اسی طرح رہے گا۔ لیکن اگر بعض اوقات بھئی یہ مستقل ہی رہتا، زمین میں پانی لگاتے ہوئے بھئی عارضی طور پر چھوٹی چھوٹی پانی کی نالیاں بنا دی جاتی ہیں بھئی۔ لیکن وہ تو فصْل کے بعد کیا ہو جائیں گی؟ ختم ہو جائیں گی، لہٰذا اگر ان کی شرط لگائی، تو پھر إِجَارَة فَاسِد نہیں، کیونکہ اس کی تو ویسے ہی اس کے اندر زِراعت کے لیے اس شخص کو ضرورت پڑے گی، اس کو بنانا پڑیں گے مولانا، اور وہ ان کا نَفْع بعد میں نہیں رہتا، بلکہ وہ تو ختم ہو جاتی ہیں۔ یا یہ شرط لگائی کہ يُكْرِيَ أَنْهَارَهَا يُسَنِّیَا پر اس کا عَطْف ہے بِشَرْطِ أَنْ يُكْرِيَ أَنْهَارَهَا، ایک شرط پر کہ اس کی نہروں کی کھودائی کرے گا اس زمین کی۔ ذُكْرَا ذِكْر کیا گیا ہے کہ أَنَّ الْمُرَادَ کہ اس سے مُرَاد کیا ہے؟ اَلْأَنْهَار الْعِظَام بڑی نہریں مراد ہیں بھئی، فَإِنَّ مَنْفَعَةَ كَرْيِهَا يَبْقَى بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعَقْدِ اس لیے کہ ان کی کھودائی کا نَفْع باقی رہتا ہے مُدَّت کے گزر جانے کے بعد بھی، بِخِلَافِ الْجَدَاوِلِ بخلاف کس کے؟ جَدَاوِل کے، چھوٹی نہریں، چھوٹی نہریں جو بعد میں جن کا اثر باقی نہیں رہتا، میں نے بتلایا بھئی۔ تَفْصِیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ أَوْ يُسَرْقِنَهَا اس کا عطف بھی يُسَنِّیَا پر ہے بِشَرْطِ أَنْ يُسَرْقِنَهَا، کس بھئی میں نے آپ کو زمین دی، لیکن ساتھ شرط لگا دی کہ آپ اس میں کھاد بھی ڈالیں گے، گوبر وغیرہ کی کھاد، سرقنا يُسَرْتِنُ کے معنی کیا ہیں؟ گوبر کی کھاد ڈالنا، جس سے زمین کی پیداواری صلاحیت بڑھ جاتی ہے بھئی۔ اچھا، تو میں نے یہ شرط لگائی کہ تم اس میں کیا کرو گے؟ گوبر کی کھاد بھی ڈالو گے، تو إِجَارَة فَاسِد۔ کیوں؟ کیونکہ اس کھاد کے اثرات اور نَفْع عَقْد کے بعد بھی باقی رہے گا، تو زمین کے مالک کا فائدہ ہوا۔ یہی یہ شرط لگائی أَنْ يُسَرْقِنَهَا بھئی، کہ اس میں گوبر وغیرہ کی کھاد ڈالے گا، فَإِنَّ مَنْفَعَتَهُ يَبْقَى بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعَقْدِ تو پھر بھی إِجَارَة فَاسِد کیونکہ اس کا نَفْع جو ہے باقی رہتا ہے مُدَّت کے پورا ہو جانے کے بعد۔ أَوْ يَزْرَعَهَا بِزِرَاعَةِ أَرْضٍ أُخْرَى یا یہ کہ کاشت کرے گا بھئی، بھئی دیکھو بھئی! میں نے آپ کو اپنی زمین کرائے پر دی، آپ اس میں کیا کر لیجیے گا؟ کاشت کر لیجیے گا۔ بھئی عِوَض کیا دیں گے آپ اس کا؟ آپ نے کہا بھئی میری فُلَاں زمین ہے، آپ اس میں کاشت کر لیجیے۔ کیا کر لیجیے؟ تو زمین ایک، إِجَارَة کس پر ہوا ہے؟ مَعْقُود عَلَیْہ کیا ہے؟ جی؟ إِجَارَة کیا ہے؟ کس پر ہوا؟ زمین کے کاشت کرنے پر، اور عِوَض بھی کیا دے رہا ہے؟ زمین کا کاشت کرنا کہ میں آپ کی زمین میں کاشت کر رہا ہوں تو آپ کیا کر لیجیے؟ میری زمین میں فصْل اگا لیجیے۔ کہتے ہیں فَسَدَتْ، تو إِجَارَة کیا ہوگا؟ فَاسِد۔ یہ ساری صورتوں سے متعلق ہیں مولانا، جو آیا تھا ان کاتنے کے لیے دی، یا گدھا کرائے پر لیا، یا بیل دیا آٹا پیسنے کے لیے، لیا روٹیاں پکانے کے لیے، ایک آدمی کو اجیر رکھا، یا زمین کو دیا، ان ساروں کی جزا آگئی فَسَدَتْ، ان تمام صورتوں میں إِجَارَة کیا ہوگا؟ فَاسِد۔ دیکھیے تفصیل بتلا رہے ہیں، أَيْ تَاجَرَ أَرْضًا کسی نے کرائے پر لی زمین لِیَزْرَعَهَا تاکہ اس میں کاشت کرے گا، وَيَكُونُ الْأُجْرَةُ اور اُجْرَت یہ ہوئی أَنْ يَزْرَعَ الْمُوجِرُ أَرْضًا أُخْرَى هِيَ لِلْمُسْتَأْجِرِ کہ مُوجِر جو ہے جو کہ زمین کا مالک جو کرائے پر دینے والا ہے، وہ کاشت کرے گا أَرْضًا أُخْرَى دوسری ایسی۔ زمِين هِيَ لِلْمُسْتَأْجِرِ جو کس کی ہے؟ مستاجر کی ہے۔ لَا يَجُوزُ عِنْدَنَا یہ ہمارے نزدیک جائز نہیں، وَعِنْدَ الشَّافِعِيَّةِ وَلَا يَجُوزُ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے، لِأَنَّ الْمَنَافِعَ بِمَنْزِلَةِ الْأَعْيَانِ عِنْدَهُ اس لیے کہ ان کے نزدیک منافع کس کے مرتبے میں ہیں؟ منافع کس کے درجے میں ہیں؟ أَعْيَانٍ کے درجے میں ہے تو ایک زراعت بھی عَيْنٌ ہے، دوسری زراعت بھی عَيْنٌ ہے مولانا تو ان کا ایک دوسرے کا عوض بن سکتی ہیں؟ کیا ایک دوسرے کا عوض بن سکتی ہیں؟ تو مولانا! ہماری دلیل ہے کہ أَنَّ الْجِنْسَ بِفْرَادِهِ يَحْرُمُ النَّسَاءَ کہ جنس اکیلی جو ہے أَنَّ الْجِنْسَ بِفْرَادِهِ بھئی، ادھار سود کے لیے کتنی چیزیں تھیں؟ سود کب آتا ہے؟ جب جِنْس بھی پائی جائے اور قَدْر بھی، جنس بھی دونوں طرف ایک ہو ایک طرف گندم ہے دوسری طرف بھی گندم ہے اور قَدْر بھی ہو یعنی ایک کیلی چیز ہے تو دوسری بھی کیلی ہو یا ایک وزنی ہے تو دوسری بھی وزنی ہو۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس صورت میں آپ نے پڑھا تھا کمی بیشی بھی حَرَام اور ادھار بھی حَرَام، لیکن اگر ان میں سے ایک چیز پائی جائے مثلاً دونوں طرف کیل تو ہے جنس ایک نہیں، مثلاً ایک طرف گندم ہے دوسری طرف جو ہے مولانا، یا دونوں طرف وزنی تو ہیں لیکن جنس ایک نہیں ایک طرف تانبا ہے ایک طرف لوہا ہے تو وزنی تو دونوں ہیں لیکن جنس ایک نہیں۔ تو سمجھ میں آیا؟ تو اگر دونوں میں سے ایک چیز پائی جائے جنس ایک ہو، جِنْس ہو یا قَدْر ہو، جنس پائی جائے یا قَدْر پائی جائے۔ تو پھر ادھار حَرَام ہے، تَفَاضُل جائز ہے۔ جب جِنْس اور قَدْر دونوں ہوں تو ادھار بھی جائز نہیں اور تَفَاضُل بھی جائز نہیں۔ لیکن دونوں میں سے جب ایک چیز پائی جائے تو تَفَاضُل تو جائز ہے، لیکن ادھار جائز نہیں۔ اور یہاں پر بھی ہم کہتے ہیں جِنْس ایک ہے، ایک طرف سے زراعت ہے تو دوسری طرف سے بھی زراعت ہے، لِهَذَا جِنْس آگئی اور جِنْس کی صورت میں ادھار حَرَام تو یہاں پر بھی ادھار آیا تو لہٰذا ادھار کیسے بھئی؟ بھئی! آپ نے، میں نے آپ کو زمین دی کاشت کرنے کے لیے، آپ نے مجھے اپنی زمین دے دی کاشت کرنے کے لیے، تو کیا میں نے کاشت فوراً کر لی یا اس کا نفع مجھے آہستہ آہستہ کاشت کروں گا اور نفع اٹھاؤں گا اس سے بھئی؟ آہستہ آہستہ۔ فوری نفع تو وصول نہیں ہوا، نفع تو کیا ہوگا؟ آہستہ آہستہ وصول ہوگا، صورت سمجھ میں آئی؟ زمین تیار کروں گا، ہل چلاؤں گا، اس میں بیج ڈالوں گا، فصل تیار ہوگی، کٹے گی، اس طرح میرے مجھے منافع حاصل ہوں گے بھئی۔ تو یہ منافع ایک دم ہوئے یا با تدریج آہستہ آہستہ حاصل ہو رہے ہیں؟ با تدریج آہستہ آہستہ۔ تو ذَيْن ہوگیا مولانا! جِنْس اور جِنْس جب ایک ہو جائے تو پھر ذَيْن یعنی ادھار جائز نہیں بھئی۔ يُحَرِّمُ بڑے مولانا! وَلَنَا أَنَّ الْجِنْسَ بِفْرَادِهِ يُحَرِّمُ النَّسَاءَ اور ہمارے نزدیک جِنْس جو ہے، اکیلی جِنْس جو ہے وہ نسا ادھار کو حرام کر دیتی ہے عِنْدَنَا ہمارے نزدیک، كَبَعْيِرٍ بِبَرِيرٍ بِمِثْلِهِ جیسے بیچا جائے مولانا! ایک ہیروی کپڑے کو دوسرے ہیروی اسی کی مثل یعنی دوسرے ہیروی کپڑے کے بدلے میں، دیکھا ایک طرف جِنْس ہے مولانا تو جِنْس اکیلی آگئی، اگرچہ یہاں پر قَدْر نہیں ہے وَأَحَدُهُمَا نِسْيَةٌ اور ان دونوں میں سے ایک کیا ہو؟ ادھار ہو، تو یہ صورت جائز نہیں ہے بھئی تو جیسے یہ جائز نہیں وہ بھی جائز نہیں۔ وَقَوْلُهُ اور ماتی نے جو اوپر کہا نا وَفَسَدَتْ وَفَسَدَتْ جو کہا کہتے ہیں جَوَابُ الشَّرْطِ یہ شرط کا جواب ہے، بھئی شرط کیا ہے؟ کہتے ہیں وَقَوْلُهُ اور ماتی کا یہ قول تھا پچھلے صفحے پر وَلَوْ دَفَعَ إِلَى آخِرِهِ وَلَوْ دَفَعَ سے لے کر آخر تک یہ ساری شرطیں ہیں مولانا، اور فَسَدَتْ جزا ہے بِخِلَافِ اسْتِيجَارِهَا عَلَى أَنْ يَقْرُبَهَا وَيَزْرَعَهَا أَوْ يَسْقِيَهَا أَوْ يَزْرَعَهَا۔ بھئی صورت مسئلہ یہ ہے، میں نے آپ کو زمین کرائے پر دی اور ساتھ شرط لگا دی کہ بھئی تم اس میں فصل تو کاشت کر رہے ہو لیکن شرط یہ ہے تمہیں ہل بھی چلانا پڑے گا اور کاشت بھی کرنا پڑے گی بھئی بیج بھی ڈالنا پڑے گا وغیرہ۔ یا میں نے کہا بھئی آپ زمین کرائے پر تو لے رہے ہو لیکن شرط یہ ہے آپ کو پانی بھی لگانا پڑے گا اس سے اور اس میں فصل بھی کاشت کرنا پڑے گی، تو کیا یہ اجارہ صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ کہتے ہیں یہ اجارہ صحیح بھئی۔ کیونکہ یہ شرط مقتضائے عقد کے خلاف، جب زمین وہ کاشت کے لیے لے رہا ہے تو کاشت بغیر ہل چلائے اور فصل کاشت کیے بغیر فصل مل سکتی ہے اسے؟ نہیں، بیج ڈالے بغیر فصل نہیں ملے گی تو کاشت کرنا، تو ہل چلانا یا پانی پلانا وغیرہ یہ ایسی شرطیں ہیں جو مقتضائے عقد کے خلاف نہیں۔ بِخِلَافِ اسْتِيجَارِهَا بِخِلَافِ اس کے بھئی اوپر والی صورتیں تو اجارہ فاسد تھا لیکن یہ ان صورتوں کے خلاف کہ ان میں اجارہ جائز ہوگا۔ بِخِلَافِ اسْتِيجَارِهَا بِخِلَافِ اس کے کہ کرائے پر لیا جائے زمین کو عَلَى هَذَا الشَّرْطِ اس شرط پر أَنْ يَقْرُبَهَا وَيَزْرَعَهَا کہ اس میں ہل بھی چلائے گا اور اس کو کاشت بھی کرے گا ایک صورت یہ کر لے، أَوْ يَسْقِيَهَا وَيَزْرَعَهَا ہونا چاہیے یا اس شرط پر کہ اسے کیا کرے گا سیراب بھی کرے گا، پانی بھی پلائے گا وَيَزْرَعَهَا اور اسے کاشت بھی کرے گا جی، تو اس صورت میں اجارہ صحیح، کیوں؟ فَإِنَّهُ يَصِحُّ یہ اجارہ صحیح ہے لِأَنَّ هَذَا الشَّرْطَ یہ عقد صحیح ہے لِأَنَّ هَذَا الشَّرْطَ يَقْتَضِيهِ الْعَقْدُ اس لیے کہ یہ ایسی شرط ہے جس کا تقاضا عقد کر رہا ہے۔ فَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ زَرَاعَتَهَا أَوْ مَا يَزْرَعُ فِيهَا لَمْ يَصِحَّ۔ وَاِغْرُ اِسْتِيجَارِ... اور اگر اس نے ذکر نہ کیا بھئی، زَرَاعَتَهَا اس کی زراعت کا، کاشت کرنے کا ذکر نہیں کرتا بھئی، أَوْ مَا يَزْرَعُ فِيهَا یا اس چیز کا ذکر نہیں کرتا جو سے جو وہاں کاشت کرے گا لَمْ يَصِحَّ تو اجارہ صحیح نہیں، إِلَّا أَنْ يَعُمَّهُ مگر یہ کہ اسے عام کر دے، عام کر دے، عموم کر دے، تعمیم کر دے اس کے اندر بھئی، کیسے بھئی؟ بھئی آپ نے مجھ سے زمین لی کاشت کر رہی اس کھیت مجھ سے کرائے پر لیا لیکن آپ نے یہ ذکر نہیں کیا کہ اس میں کیا کریں گے؟ فصل کاشت کریں گے یا آپ نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کون سی فصل کاشت کریں گے تو اجارہ صحیح نہیں۔ اجارہ ضروری ہے ذکر کرے کون سی فصل کاشت کریں گے۔ ہاں! اگر میں نے آپ کو یہ کہہ دیا تھا جو مرضی کاشت کرو، اب یہ ذکر کرنا ضروری نہیں کہ کون سی فصل آپ کاشت کریں گے، کیونکہ میں نے تعمیم کر دی جو بھی آپ کرنا چاہیں فصل کاشت، کر سکتے ہیں تو یہ اب جائز ہے۔ اگر تعمیم کیسے ہے؟ بِأَنْ قَالَ بَعِيدٍ اور کہ اس نے یوں کہا إِذْرَعْ فِيهَا مَا شِئْتَ کاشت کر لے اس کے اندر جو بھی تو چاہتا ہے تو اجارہ صحیح ہو گیا۔ وَهَذَا بِخِلَافِ الدَّارِ اور یہ بخلاف گھر کے ہے بھئی کہ گھر میں تو بھئی یہ ذکر... بھئی زمین کرائے پر لی تو یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ میں کاشت کے لیے لے رہا ہوں یا یہ اس کے اندر میں اس کے اندر فلاں فصل کاشت کروں گا، لیکن گھر کرائے پر لیا تو وہاں یہ ذکر کرنا ضروری نہیں کہ میں گھر کس لیے لے رہا ہوں، کیونکہ گھر لیا ہی کس لیے جاتا ہے؟ رہائش کے لیے، جبکہ زمین رہائش کے زمین ہمیشہ فصل کے لیے تو نہیں ہوتی، کبھی تو اس میں تعمیر بھی کی جاتی ہے، کبھی تو اس کے اندر باغ بھی لگایا جاتا ہے، تو لہٰذا اب یہ ذکر زمین میں ذکر کرنا ضروری ہے کہ کاشت کے لیے لے رہے ہو یا درخت کاٹنے کے لیے یا بلڈنگ بنانے کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اگر اس نے کسی چیز کو ذکر نہیں کیا تو اجارہ فاسد، یا یہ تو کہا میں فصل کاشت کروں گا لیکن یہ نہیں کہ بتایا کون سی فصل کاشت کروں گا تو بھی اجارہ فاسد۔ وَهَذَا بِخِلَافِ الدَّارِ بخلاف گھر کے فَإِنَّ اسْتِيجَارَهَا تَفَقُ عَلَى السُّكْنَى اس لیے کہ اس کا اجارہ وہ اس کا کرائے پر لینا جو ہے وہ سکنا پر ہی واقع ہوگا یعنی رہائش پر ہی ہوگا، رہائش ہی اس سے مراد ہوتی ہے عَلَى مَا مَرَّ بِنَا پر اس کے جو گزر گیا۔ فَإِنْ زَرَاعَتْهَا وَمَضَى الْأَجَلُ عَادَ صَحِيحًا۔ بھئی آپ نے میرے سے زمین کرائے پر لی اور آپ نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ کون سی فصل کاشت کریں گے، لیکن آپ نے اس میں ایک فصل کاشت کر لی۔ کیا کر لی؟ فصل کاشت کر لی۔ یا آپ نے زمین لی اچھا چلیے! ٹھیک ہے آپ نے اس میں کیا کیا بھئی؟ فصل کاشت کر لی، تو اب اور مدت پوری ہوئی اجارے کی تو اجارہ صحیح ہو گیا اگرچہ یہ صحیح نہیں تھا کیونکہ آپ نے یہ ذکر نہیں کیا تھا کہ کون سی فصل کاشت کریں گے، لیکن جب آپ نے فصل کاشت کر لی، فصل اگ گئی تو جہالت ختم ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ جہالت کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی۔ فَإِنْ زَرَاعَتْهَا اگر اس نے زمین کو کاشت کیا وَمَضَى الْأَجَلُ اور مدت گزر گئی عَادَ صَحِيحًا تو یہ عقد صحیح ہو جائے گا، لوٹ آئے گا پھر صحیح ہو کر۔ يَادَ بِمَنَى السَّارَا یہ عقد پھر، یہ عقد صحیح ہو جائے گا۔ وَهُوَ الِاسْتِحْسَانِ اور یہی استحْسَان ہے، یہی تو یہ عقد سارا، عَادَ بِمَنَى السَّارَا صحیح ہو جائے گا وَهُوَ الِاسْتِحْسَانِ اور یہی استِحْسَان ہے، وَوَجْهُ وَاسْتِحْسَانِ کی وجہ یہ ہے کہ أَنَّ الْجَهَالَةَ اِرْتَفَعَتْ قَبْلَ تَمَامِ الْعَقْدِ اس لیے کہ جہالت اٹھ گئی ختم ہو گئی قَبْلَ تَمَامِ الْعَقْدِ عقد کے پورا ہونے سے پہلے، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَعُودُ صَحِيحًا اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک عقد پھر صحیح نہیں ہوگا، وَهُوَ الْقِيَاسُ اور یہی قیاس ہے کہ جب بھئی ایک مرتبہ فاسد ہے تو پھر پھر دوبارہ اسے صحیح نہیں ہونا چاہیے، لیکن اِسْتِحْسَانًا صحیح قرار دیا کہ جہالت مرتفع ہو گئی۔ وَمَنِ اسْتَأْجَرَ جَمَلًا إِلَى مِصْرٍ وَلَمْ يُسَمِّ حَمْلَهُ وَحَمَلَ الْمُعْتَادَ فَنَفَقَ لَمْ يَضْمَن لِأَنَّ الْإِجَارَةَ فَاسِدَةٌ۔ صورت مسئلہ یہ ہے بھئی، ایک آدمی نے ایک اونٹ کرائے پر لیا کسی شہر تک سامان کو لے جانے کے لیے، لیکن کتنا سامان، کتنا بوجھ لے کر آئے گا؟ یہ اس نے ذکر نہیں کیا بھئی۔ یہ ذکر نہیں کیا بھئی تو اجارہ فاسد ہوا۔ اجارہ کیا ہوا؟ فاسد ہوا۔ لیکن پھر اس نے اس پر بوجھ لادا اتنا بوجھ جتنا عادتاً اس جیسے جانور پر لادا جاتا ہے بھئی، اتنا بوجھ عام طور پر لوگ لادتے ہی ہیں، اتنا بوجھ اس نے اس جانور پر لادا اور چل پڑا اور وہ جانور پھر راستے میں ہلاک ہوا تو کیا اس پر ضمان آئے گا یا ضمان نہیں آئے گا؟ فرماتے ہیں بھئی اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اگرچہ اجارہ فاسد ہو جا تو اجارہ فاسد ہے لیکن اجارہ فاسد کے اندر بھی عَيْن امانت ہوتی ہے، جیسے کہ اجارہ صحیحہ کے اندر عَین کیا ہوتی ہے؟ عَيْن امانت ہوتی ہے۔ تو دونوں کا حکم ایک ہے، دونوں میں عَيْن کیا ہے؟ امانت، اور اس کی طرف سے تعدی نہیں پائی گئی، اس نے اتنا ہی بوجھ لادا جتنا لادا جاتا ہے، پھر جانور ہلاک ہوا، تو اب اگرچہ اجارہ فاسد ہے، لیکن پھر بھی ضمان نہیں آئے گا۔ وَمَنِ اسْتَأْجَرَ جَمَلًا اور جس نے کرائے پر لیا ایک اونٹ إِلَى مِصْرٍ کسی شہر تک وَلَمْ يُسَمِّ حَمْلَهُ اور ذکر نہیں کیا اس کے بوجھ کو کہ کتنا بوجھ لاد دے گا، وَحَمَلَ الْمُعْتَادَا اور بوجھ لادا اس نے بھئی معمول کے مطابق، بھئی عادت کے موافق بھئی، فَنَفَقَ پس وہ جانور مر گیا ہلاک ہوا، لَمْ يَضْمَن تو یہ شخص ضامن مستاجر ضامن نہیں ہوگا، لِأَنَّ الْإِجَارَةَ فَاسِدَةٌ اس لیے کہ اجارہ کیا ہے؟ فاسد ہے، فَالْعَيْنُ أَمَانَةٌ كَمَا فِي الصَّحِيحَةِ تو عَيْن امانت ہی ہے جیسے کہ اجارہ صحیحہ کے اندر ہوتی ہے، وَإِنْ بَلَغَ فَلَهُ الْمُسَمَّى اور اگر یہ پہنچ گیا اس شہر تک تو اس کے لیے جو مقررہ اجر ہے وہی اس پر واجب ہے۔ وہ اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ ہاں، تو مجر کے لیے وہی مُسَمَّى اجر ہوگا وہ اس کو ملے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اِسْتِحْسَانًا كَمَا ذَكَرْنَا فِي مَسْأَلَةِ الزُّرَاعَةِ یعنی اِسْتِحْسَانًا اس کو وہی مقررہ اجرت ملے گی جیسے کہ ہم نے زراعت کے مسئلے میں ذکر کیا بھئی۔ زراعت کے جی جی ذکر کیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ اگرچہ بوجھ اس نے ذکر نہیں کیا تھا، جیسے وہاں پر زراعت میں اس نے ذکر نہیں کیا تھا کہ زراعت کرے گا یا کیا چیز کاشت کرے گا، لیکن جب اس نے کاشت کر لی تو جہالت کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی، تو جہالت ختم ہو گئی تو اجارہ کیا ہوا؟ صحیح ہو گیا۔ تو یہاں پر بھی اجارہ اولاً تو بوجھ مجہول تھا، اجارہ فاسد تھا، لیکن بعد میں بوجھ کیا ہو گیا؟ معلوم ہو گیا تو اجارہ کیا ہوا؟ صحیح ہو گیا، لہٰذا اور اس صورت میں اس کو اِسْتِحْسَانًا وہی اجرت دی جائے گی۔ اِسْتِحْسَانًا كَمَا یعنی اِسْتِحْسَانًا اس کو وہی اجرت ملے گی كَمَا ذَكَرْنَا فِي مَسْأَلَةِ الزُّرَاعَةِ جیسے اوپر ہم نے زراعت کے مسئلے میں ذکر کیا کہ جہالت ختم ہوئی تمام عقد سے پہلے بھئی اِسْتِحْسَانًا اگرچہ قیاس صحیح نہیں ہونا چاہیے، جب ایک دفعہ اجارہ فاسد ہو گیا پھر صحیح نہیں ہونا چاہیے، لیکن اِسْتِحْسَانًا صحیح ہو جائے گا اور معقود علیہ حاصل ہوا تو اب اجرت دینی پڑے گی بھئی۔ فَإِنْ خَاصَّ مَا قَبْلَ الزَّرْعِ اچھا، اچھا بھئی اوپر لفظ جَمَل آیا مولانا! جَمَل۔ جَمَل اونٹ کو کہتے ہیں مولانا، اونٹ، اسی کا ایک اور نام اِبِل بھی ہے، اِبِل۔ اونٹ عجیب و غریب جانور ہے جس میں اللہ تعالی نے بہت سی خصوصیات رکھی ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ بہت سی خصوصیات رکھی ہیں۔ علماء نے ذکر کی بھئی، مثلاً ایک خصوصیت اس کی یہ ہے کہ اس کو بٹھا کر اس پر بوجھ لادا جاتا ہے اور پھر یہ اس بوجھ کو لے کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ دوسرے کسی جانور پر ایسا نہیں کیا جاتا، ان پہ جب بھی بوجھ لادا جاتا ہے کھڑے کھڑے لادا جاتا ہے۔ بیٹھے بیٹھے بوجھ لاد دیا پھر وہ کبھی بھی نہیں کھڑا نہیں ہو سکتا، لیکن اونٹ کو بٹھا کر اس پر خوب بوجھ لاد دیا جاتا ہے وہ پھر بھی اس کو لے کر کھڑا ہو جاتا ہے، یہ اونٹ کی خصوصیت ہے۔ جی، اسی طرح اس اونٹ کی خصوصیت ہے آٹھ، آٹھ، نو، نو، دس، دس دن تک یہ پانی پيئے بغیر کیا کرتا ہے؟ گزارا کرتا ہے زندہ رہتا ہے بھئی۔ حالانکہ اور جانور اس طرح نہیں گزار سکتے۔ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح اس کی ایک خصوصیت ہے مولانا سہیل ستارہ ہے ایک بھئی آسمان میں سال کے بعد ایام میں دکھائی دیتا ہے اونٹ اس کی طرف رخ نہیں کرتا، اس کی طرف نظر نہیں ڈالتا، اگر اس پر اونٹ کی نظر پڑ جائے تو اونٹ یا تو شدید بیمار ہو جاتا ہے یا مر جاتا ہے۔ تو جن ایام میں وہ ستارہ نکلتا ہے اونٹ اس کی طرف رخ ہی نہیں کرتا بھئی منہ نہیں کرتا اس کے ساتھ دیکھتا نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ بڑی خصوصیات یہ دو تین میں نے بطور مثال کے ذکر کر دیں، بڑی خصوصیات علماء نے ذکر کی ہیں اس جانور کی بھئی۔ بڑا فرمانبردار ہے مولانا، اتنا فرمانبردار ہے ایک چھوٹے سے بچے کے ہاتھ میں اس کی مہار دے دو بچہ جِدھر جِدھر اس کو لے کر جائے گا آرام سے اس کے پیچھے چلتا رہے گا سکون۔ اتنا فرمانبردار کوئی جانور نہیں ہے۔ تو اس کے دو نام ذکر کیے مولانا، ایک جَمَل اور ایک اِبِل، تو جیسے یہ جانور عجیب و غریب ہے اس کے نام بھی عجیب و غریب ہیں مولانا، اِبِل بر وزن فِعْل ہے، پورے کلام عرب میں اس وزن پر اور کوئی لفظ نہیں آیا بھئی۔ فِعْل وزن پر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بعض نے ایک آدھ اور لفظ ذکر کیا لیکن علماء نے اسے صحیح نہیں قرار دیا بھئی، بس ایک ہی لفظ ہے فِعْل وزن پر اِبِل بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح اس کا ایک نام جَمَل ہے بھئی، جَمَل بھی عجیب لفظ ہے۔ جَمَل کلام عربی کا واحد لفظ ہے جو پے در پے چھ مرتبہ جمع ہو آتی ہے جس کی بھئی۔ پے در پے کتنی جمعیں آتی ہیں؟ چھ جمعیں آتی ہیں مولانا۔ جیسے جَمَل کی جمع آتی ہے اجْمُل بھئی۔ اَجْمُل، اجْمُل کی جمع آتی ہے اَجْمَال، اَجْمَال کی جمع آتی ہے جَامِل، جَامِل بھئی، اور جَامِل کی جمع آتی ہے جِمَال، جِمَال کی جمع جِمَالَات، جِمَالَات کی جمع جِمَالَاتَات بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو پے در پے ایک جمع کی دوسری، دوسری کی تیسری اسی طرح چھ جمعیں پے در پے آتی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جَمَل کی جمع اجمل، اجمل کی جمع اجمال، اجمال کی جمع جامل، جامل کی جمع جیمال، جیمال کی جمع جیمالات، جیمالات کی جمع جیمالات آتی ہے۔ , چلیے! یہ تو ایک ادبی فائدہ تھا آپ کو بتلا دیا بھئی۔ فائن خَاصَّ مَا قَبْلَ الزَّرْعِ اویل الحَمْل نُقِذَ عَقْدُ الإِجَارَةِ بس اگر بھئی اگر دونوں نے جھگڑا کر لیا، بھئی کاشت کے لیے زمین کرائے پر لی اور یہ ذکر نہیں کیا کہ میں اس میں کیا کاشت کروں گا یا کاشت کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا، تو اجارہ فاسد ہوا، اور اسی طرح بھئی اگر بوجھ لادنے کے لیے جانور کرائے پر لیے لیا، لیکن بوجھ کا ذکر نہیں کیا کہ کیا بوجھ ہے، کتنا بوجھ ہے، تو اجارہ فاسد ہوا، اور اس میں اگر اب جھگڑا آ گیا بھئی۔ جھگڑا آیا، مثلاً موجر کہتا ہے کہ فلاں چیز کاشت کرو گے، مستاجر کہتا ہے نہیں میں فلاں چیز کاشت کروں گا، تو اس اجارے کو قاضی کیا کر دے گا؟ توڑ دے گا ختم کر دے گا بھئی اس عقد اجارہ کو۔ اسی طرح اگر بوجھ میں اختلاف آ جاتا ہے اس کے اندر بھئی، موجر کہتا ہے اتنا بوجھ لادو گے صرف اور مستاجر کہتا ہے نہیں میں تو اتنا بوجھ لادوں گا تو اس صورت کے اندر بھی اس قاضی کیا کرے گا اس عقد اجارہ کو توڑ دے گا مولانا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں فَإِنْ خَاصَمَا اگر دونوں موجر اور مستاجر جھگڑ پڑے قَبْلَ الزَّرْعِ کاشت کرنے سے پہلے اَبِ الْحَمْلِ یا بوجھ لادنے سے پہلے لڑ پڑے نُقِضَ عَقْدُ الْإِجَارَةِ تو توڑا جائے گا عقد اجارہ کو۔ إِنْ خَاصَمَ الْمُتَعَاقِدَانِ اگر جھگڑ پڑے دونوں عقد کرنے والے قَبْلَ الزَّرْعِ زراعت کاشت سے پہلے بھئی فِي مَسْأَلَةِ إِجَارَةِ الْأَرْضِ زمین کے اجارے کے مسئلے میں بِلَا ذِكْرِ الزَّرْعِ بغیر ذکر زرع کاشت کی ذکر کیے بغیر جو زمین کا اجارہ تھا اس میں زراعت سے پہلے دونوں جھگڑ پڑے وَقَبْلَ الْحَمْلِ اور بوجھ لادنے سے پہلے فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ اس مسئلے کے اندر تو يَنْقُضُ الْقَاضِي الْعَقْدَ تو قاضی کیا کرے گا اس عقد کو توڑ دے گا بھئی توڑ دے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
120 approved lectures · 116 of 120