Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-027

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 65
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وزيت على أن يوزن بظرفه ويطرح عنه بكل ظرف كذا رتلا. گذشتہ سبق میں ایک ضابطہ آپ نے پڑھا تھا بھئی کہ کسی شخص نے اگر کسی غلام باندی کو بیچا اور وہ غلام تھا تو پھر کیا صورت مسئلہ ضابطہ ذکر کیا تھا کہ جہاں پر اس میں اشارہ اور تسمیہ جمع ہو جائیں بھئی۔ تو کبھی اس میں اشارہ کا اعتبار کیا جائے گا اور کبھی تسمیہ کا اعتبار کیا جائے گا۔ کہتے ہیں دیکھ لیجیے جس کا نام ذکر کیا ہے وہ اور جو چیز نکلی ہے وہ اگر یہ دونوں ایک ہی جنس کی ہیں تو اعتبار اشارے کا ہوگا، کس کا ہوگا؟ اشارے کا ہوگا تو مشار اليه یعنی اس پر عقد واقع ہوا ہے۔ اور مشار اليه تو موجود، لہذا بائے بھی کیا ہو گئی؟ منعقد ہو گئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اشارہ کیا تھا کہ یہ دنبہ ہے اور نکلی بھیڑ، تو دنبے اور بھیڑ کی جنس ایک ہی ہے بھئی، تو اب کس کا اعتبار ہوگا؟ اشارے کا، تو اشارے کے لیے کیا چاہیے؟ مشار اليه، تو مشار اليه تو موجود تھا، جب مشار اليه موجود تھا تو بائے بھی کیا ہو گئی؟ منعقد ہو گئی بھئی۔ اور اگر ان دونوں کی جنس مختلف نکلی جس کا نام ذکر کیا تھا اور جو بعد میں معلوم ہوئی یہ دونوں الگ جنسیں تھیں، تو پھر نام کا اعتبار ہوگا بھئی، نام کا۔ اور نام تو کس کا لیا تھا بھئی؟ غلام کا تو اور مسمى تو معدوم ہے بھئی، مسمى تو معدوم ہے۔ لہذا اس صورت کے اندر بھئی۔ بائے باطل ہو جائے گی اس لیے کہ مبیع موجود نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وزيت على أن يوزن بظرفه ويطرح عنه بكل ظرف كذا رتلا. صورت مسئلہ یہ ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے آپ جاتے ہیں مثلاً گھی خریدنے جاتے ہیں یا تیل خریدنے جاتے ہیں۔ اب اپنے ساتھ مثلاً برتن لے گئے، تو اگر آپ کو ایک کلو گھی چاہیے یا تیل چاہیے، تو وہ برتن سمیت یقیناً تولے گا، تو اب وہ ایک کلو کے برابر ہو جائے، تو کیا آپ کو پورا کلو تیل ملا یا کم ہے بھئی؟ کم کیوں نہیں بھئی؟ کیونکہ برتن کا بھی وزن تو ساتھ شامل ہے، لہذا اب پورے کلو اسی صورت میں ہوگا کہ برتن کے وزن کو اس میں سے نکال کر اتنا ہی تیل اس میں اور شامل کیا جائے یا سمن اتنے کم کر دیے جائیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ مثلاً اگر برتن کا وزن آدھا کلو ہے اور اب تیل سمیت پورا کلو ہو گیا تو معلوم ہوا کتنا گھی ملا آپ کو؟ آدھا کلو گھی ملا تو دیکھا وزن تو کل ہے ایک کلو لیکن اس کل وزن میں سے برتن کا وزن کیا کر دیں گے؟ نکال دیں گے، دور کر دیں گے تو مابقیہ جو ہے وہ کیا ہے؟ گھی مل گیا آپ کو بھئی، گھی مل گیا. تو صورت مسئلہ یہ بھئی۔ صورت مسئلہ یہ ہے۔ کہ ایک شخص گھی خریدنے یا تیل خریدنے گیا اور اس کے اس شرط پر بے کی بھئی۔ کہ ہر برتن کے عوض ہر تول کے عوض اس میں سے مثلاً ایک پاؤ کم کرو گے، کیا کرو گے؟ ایک پاؤ کم کرو گے کیونکہ برتن کا وزن بھی تو ہے بھئی، لہذا کلو تولو گے تو کتنا شمار کرو گے؟ تین پاؤ شمار کرو گے، کہتے ہیں یہ شرط لگی تو یہ عقد فاسد ہو گیا۔ یہ عقد کیا ہوا؟ فاسد کیوں ہوا؟ کہتے ہیں بھئی پاؤ کی قید کیوں لگاتے ہو؟ برتن کے وزن کی قید لگاؤ، ہو سکتا ہے برتن پاؤ کے برابر ہو، ہو سکتا ہے پاؤ سے زیادہ ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہذا آپ نے ویسے ہی پاؤ لگا دیا بھئی برتن، ہاں اگر برتن کے وزن کی قید لگائی کہ ہر تول میں سے کتنا نکالو گے بھئی؟ برتن کے وزن کی مقدار کم کرو گے اور مابقیہ کے میں سمن دوں گا وہ قیمت وہ تیل ہوگا تو پھر صورت صحیح ہے، مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جتنا برتن کا وزن یہ تو ٹھیک بات ہے، بھئی ٹھیک ہے جتنا برتن کا وزن ہے وہ تو اس کے علاوہ برتن کا وزن کتنا تھا؟ مثلاً تین چھٹانک تھا۔ ہاں بھئی ہر کلو میں سے تین چھٹانک کم شمار کرو، کلو خریدا ہے لیکن یہ ہے کتنا؟ تین چھٹانک کم کلو ہے، دوسرا دس برتن بھر کے میں خرید لیتا ہوں یا بیس خرید لیتا ہوں، تو ہر برتن میں سے کتنا کم کرتے جائیں گے؟ تین چھٹانک کیونکہ وزن اتنا ہے۔ وزيت اللا يسح بيع زيتون اور صحیح نہیں ہے تیل کی بے على اس شرط پر کہ ان یوزن بظرفه کہ اس کا وزن کیا جائے گا برتن اس کے برتن کے ساتھ بھئی، بی ظرفہ کہ ہضمیر کس کو راجع ہے؟ زید کو۔ کہ اس کو تیل کے برتن سمیت اس کا وزن کیا جائے گا وطر حو۔ طرح یطرح کے معنی ہوتے ہیں دور کرنا، ہٹانا یا آسان لفظوں میں یوں سمجھو منفی کریں گے کیا کریں گے؟ منفی کریں گے یطرح عنہ تو منفی کیا جائے گا عنہ کس سے؟ ای عن الوزن۔ کل وزن میں سے، کس میں سے؟ ہ ضمیر وزن کو راجع ہے بھئی، ان یوزنا کے ضمن میں آ چکا بھئی وہ۔ تو دور کیا جائے گا، منفی کیا جائے گا کل وزن میں سے بکل ظرف ہر برتن کے بدلے کذا رتلا اتنے رتل بھئی، اتنے رتل کیا کرو گے میں نے کیا مثال پیش کی بھئی؟ مطلب ایک پاؤ کیا کرو گے ہر برتن کے بدلے کم کرو گے، ہر برتن جو مجھے بھر کے دو گے اس کے بدلے ایک پاؤ کم کرتے جاؤ گے تو یہاں رتل ذکر کیا، یہ قدیم زمانے کا ایک وزن تھا پونے چونتیس تولے کے برابر بھئی، پونے چونتیس۔ تو دور کیا جائے گا اس کل وزن میں سے ہر برتن کے بدلے کذا رتلا اتنے رتل بھئی، اتنا وزن اس میں سے کم کرو گے، منفی کرو گے، باقی شمار کرو گے، کہتے ہیں یہ شرط فا یہ بے کیا ہوئی؟ فاسد ہوئی۔ انما یفسدو یہ شرط جو ہے باطل فاسد کر دیتی ہے بے کو ان شرط کیونکہ یہ ایسی شرط ہے کہ جس کا عقد تقاضا نہیں کرتا بل مقتضی العقد بلکہ عقد کا مقتضی تو یہ ہے کہ دور کیا جائے بھئی، منفی کیا جائے ہر برتن کے مقابلے میں۔ مقدار وزنه اس برتن کی وزن کی مقدار، وہ دور کی جائے، وہ منفی کی جائے کما فی المسلاۃ الثانیۃ جیسے کہ مسئلہ ثانیہ کے اندر آ رہا ہے یہ وہما قال اور وہ مسئلہ ثانیہ یہ ہے جو مصنف نے فرمایا بخلاف شرط طرح وزن الظرف عنہ بخلاف شرط لگانے، کون سی شرط بھئی؟ طرح وزن الظرف برتن کے وزن کو دور کرنے کی شرط برتن کے وزن کو دور کرنے کی شرط عنہ ای عن الوزن پورے وزن میں سے کہ پورے وزن میں سے کیا کیا جائے گا؟ برتن کے وزن کی مقدار کم کی جائے گی، منفی کی جائے گی بھئی۔ یہ تو صورت بن گئی بھئی، صورت سب کو سمجھ میں آگئی؟ بھئی رتل کا لفظ آیا بھئی، اوزان شرعیہ آپ کو یاد ہونے چاہیے بھئی۔ تو یاد رکھو۔ میں نے پہلے بھی غالباً ذکر کیا تھا آٹھ چاول کے دانے ہوں یہ برابر ہوتے ہیں ایک رتی کے بھئی۔ اور آٹھ رتی ہو تو یہ برابر ہوتی ہے ایک ماشے کے بھئی۔ اور 12 ماشے ہوں تو یہ بنتا ہے ایک تولہ بھئی، ایک تولہ۔ اور ایک تولہ اور یاد رکھو یہ جو سیر ہے، سیر کے اندر 80 تولے ہوتے ہیں۔ سیر میں کتنے تولے ہوتے ہیں؟ اور کلو کے اندر تقریباً 86 تولے بنتے ہیں بھئی۔ 86 تولے۔ تو کلو سیر سے ذرا بڑا ہوتا ہے۔ اور یہ جو رتل ذکر ہوا بھئی پونے 34 تولے ہوں تو یہ ایک رتل بنتا ہے ایک رتل بھئی۔ ایک رتل۔ اور دو رتل ہوں تو یہ ایک مد بنتا ہے مد بھئی۔ دو رتل ہوں تو ایک مد۔ اور چار مد ہوں تو یہ ایک صاع بنتا ہے بھئی، ایک صاع بنتا ہے۔ صاع۔ اور 60 صاع ہوں تو یہ ایک وسق بنتا ہے بھئی۔ 60 صاع ہوں تو ایک وسق بنتا ہے۔ یہ بنتا ہے تقریبا سے یہ پانچ من اڑھائی سیر بھئی۔ پانچ من اڑھائی سیر یہ ایک وسق بنتا ہے۔ اور 12 وسق ہوں تو ایک قر بنتا ہے بھئی۔ 12 وسق ہوں تو کتنا بنتا ہے؟ ایک قر چھوٹے کاف کے ساتھ را مشدد ہے بھئی، یہ بھی وزن ہے بھئی۔ اسی طرح درہم و دینار آتے ہیں بھئی، یاد رکھو دینار سونے کا ہے اور یہ ساڑھے چار ماشے کے برابر ہوتا ہے۔ اور درہم جو ہے چاندی کا، وہ تین ماشے، ایک رتی اور خمس رتی کے برابر ہے بھئی۔ تین ماشے ایک رتی اور خمس رتی بھئی۔ اور قیراط کا لفظ آتا ہے بھئی قیراط بھئی۔ یاد رکھو پانچ جو کے دانے ہوں تو یہ ایک قیراط بنتا ہے۔ پانچ جو کے دانے ہوں تو ایک قیراط بنتا ہے۔ اور 20 قیراط یہ ایک دینار ہے بھئی۔ 20 قیراط ایک دینار ہے بھئی۔ اور جی۔ ایک دینار۔ یہ بنتا، یعنی یہ بنتا ہے کتنا میں نے بتایا ساڑھے چار ماشے بھئی۔ دینار میں کتنے ماشے ہیں؟ ساڑھے چار ماشے۔ اور دینار اور مثقال بھئی، مثقال وزن بھی آتا ہے، مثقال اور دینار ایک چیز کا نام ہے، ایک وزن کا نام ہے۔ اور صاع بھئی یاد رکھو، صاع حنفی صاع دو تین قسم پر ہے بھئی، صاع حنفی جو ہے وہ صاع جو ہے آٹھ رتل کا بنتا ہے، میں نے بتایا چار ایک صاع برابر ہے کتنے کے؟ چار مد کے اور ایک مد میں کتنے رتل تھے؟ دو رتل تھے تو چار مد کتنے کے برابر ہوئے؟ آٹھ رتل، صاع حنفی بھئی۔ وإن اختلفا فی نفس الظرف وبقدرہ فالقول للمشتری۔ بھئی اگر اختلاف کیا عقد کرنے والوں نے باء اور مشتری نے فی نفس الظرف کس کے اندر بھئی؟ نفس ظرف میں، برتن ہی کے اندر اور بقدر اور اس کی مقدار میں فالقول للمشتری تو قول مشتری کا معتبر ہے بھئی۔ صورت یہ ایک شخص لے گیا گھی بھئی، برتن اپنا تھا نہیں دکاندار کا لے گیا بھئی۔ یا اپنا برتن دکاندار کا بھئی، تو پھر برتن واپس کیا تو دکاندار نے کہا یہ برتن نہیں ہے میرا، میرا برتن تو دوسرا تھا۔ مشتری کہتے ہیں نہیں یہی برتن آپ کا تھا تو اس صورت میں مشتری کا قول معتبر اس لیے کہ مشتری ہے قابض، مشتری کون ہے؟ اور آپ نے پڑھا ہے کہ مقبوض کے اندر کس کا قول معتبر؟ قابض کا بھئی تو بائے کے ذمے بینہ آ جائے گی اور مشتری کے ذمہ قسم آ جائے گی بھئی۔ قول کا مطلب یہ ہے کہ قسم کے۔ اور اگر اس کی مقدار میں اختلاف ہوا مشتری نے واپس کیا مثلاً وہ۔ 10 رتل والا باء کہتا ہے نہیں میں نے جو برتن دیا تھا وہ 15 رتل کا تھا تو پھر اس صورت میں بھی مشتری کا قول معتبر اس لیے کہ بائے ہوا مدعی اور مشتری ہوا منکر اور قول کس کا معتبر؟ منکر کا تو بائے کے ذمے بینہ ہے بھئی۔ وإن اختلفا فی نفس الظرف اور اگر دونوں نے اختلاف کیا نفس برتن کے اندر وبقدرہ اور اس کی مقدار میں فالقول للمشتری تو قول مشتری کا معتبر ہے اي اشترا سمنا في ذق بھئی سمنم بالسكون المیم ہے بھئی خریدا گھی فی ذق کس کے اندر؟ مشکیزے کے اندر بھئی۔ ذق مشکیزے کو کہتے ہیں ورداً ظرف اور برتن لوٹایا و عشرتو ارطال وہوا ہونا چاہیے بھئی یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی و ہوا عشرتو ارطال اس حال میں کہ وہ برتن کتنا تھا بھئی؟ 10 رتل کے برابر تھا فقال البائع تو بائع نے کہا الذق غیر هذا کہ وہ ذق وہ مشکیزہ اس کے علاوہ تھا یہ مشکیزہ نہیں ہے میرا وہوا خمسہ ارطال اس حال میں کہ وہ کتنا تھا؟ پانچ رتل کا تھا فالقول للمشتری تو قول کس کا معتبر؟ مشتری کا معلوم ہوا بائے کے ذمے کیا ہے؟ بینہ ہے بھئی اور مشتری کے ذمے قول قسم ہے بھئی قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہوگا۔ صورت مسئلہ سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بھئی یہاں ایک ادبی نکتہ بھی آپ کو بتلائیں بھئی، ذق کا لفظ آیا مشکیزے کو کہتے ہیں بھئی۔ ذق کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ شراب یا سرکے کا جو مشکیزہ ہو اسے کہتے ہیں بھئی۔ شراب یا سرکے کے مشکیزے کو کیا کہتے ہیں بھئی؟ ذق اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں بھئی ذق کا لفظ عام ہے کسی بھی چیز کا مشکیزہ ہو، اس کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ ذق کہہ دیتے ہیں، ہر مشکیزے کو ذق کہہ سکتے ہیں۔ اور صرف پانی کا مشکیزہ ہو تو اس کو ثقاہ کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ ثقاہ کہتے ہیں اور قربع بھی کہتے ہیں قربعۃ بھئی، اور سقاہ یہ صرف پانی کے مشکیزے کو کہتے ہیں۔ اور شہد کا مشکیزہ ہو تو اس کو رکوہ کہتے ہیں چھوٹے قاف کے ساتھ، رکوہ بھئی۔ شہد کا مشکیزہ۔ اور گھی کا مشکیزہ ہو تو اس کو عکہ کہتے ہیں بھئی چھوٹے قاف کے ساتھ، عین چھوٹا قاف بھئی، عکہ۔ عکہ اور نہیون بھی کہتے ہیں، نون، حا، یا، نہیون۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ پانی کے مشکیزے کو کیا کہتے ہیں؟ قربعۃ اور سقاہ، ذق بعضوں نے کہا کس کے؟ شراب یا سرکے کے مشکیزے کو کیا کہتے ہیں بھئی؟ ذق اور بعضوں نے کیا کہا یہ عام ہے ہر مشکیزے کو ذق کہہ سکتے ہیں بھئی، اور صرف شہد کا جو مشکیزہ ہو وہ کیا کہلاتا ہے بھئی؟ رکوہ بھئی۔ اور گھی کا مشکیزہ ہو تو وہ عکہ اور نہیون کہلاتا ہے بھئی۔ जी و باطل بيع المسيل وهبته۔ اور باطل ہے سیل کی بے بھئی، سیل پانی بہنے کی جگہ۔ باطل ہے پانی بہنے کی جگہ کی بے وهبته اور اس کا ہبہ بھی و صحا اور یہ دو صحا تثنیہ کا صیغہ ہے یہ دونوں صحیح ہیں کون دونوں بھئی؟ بیع اور ہبہ اور یہ بیع اور ہبہ دونوں صحیح ہیں فی طریق راستے کے اندر بھئی۔ صورت مسئلہ یہ۔ فقہائے کرام لکھتے ہیں کہ مسیل بھئی پانی بہنے کی جگہ کی بے بھی باطل، اس کا ہبہ بھی باطل۔ اور راستے کی بے بھی صحیح اور اس کا ہبہ بھی صحیح۔ بھئی صورت یہ آپ کی ایک زمین ہے یا گھر ہے مثلاً مولانا، گھر میں سے گھر کے ساتھ زید کی زمین ہے اب بارش وغیرہ ہوتی ہے آپ کے گھر سے پانی بہہ کر زید کی زمین سے گزر کر جاتا ہے تو آپ اس سے مسیل کی بے کرنا چاہتے ہیں بھئی کہ پانی بہنے کی جگہ مجھے بیچ دو۔ مسیل بیچ دو۔ وہ کہتا ہے میں منظور کرتا ہوں ٹھیک ہے بھئی بیچ دیتا ہوں، نہیں بھئی یہ بے صحیح نہیں۔ یہ بے صحیح نہیں۔ تو آپ اس سے بے کرتے ہیں مسیل کی تو دو صورتیں ہیں، یا تو مسیل سے مراد وہ زمین ہے رقبہ مسیل مراد ہے یا حق تحصیل مراد ہے صرف پانی بہانے کا حق خریدتے ہیں یا مسیل وہ جو جگہ ہے اسی کو کیا کرتے ہیں خریدتے ہیں۔ تو اس صورت میں یاد رکھو نہ تو رقبہ مسیل کی بیع درست ہے اور نہ ہی اس حق تسسیل کی بیع درست ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں آپ کو اپنے گھر جانے کے لیے زید کی زمین سے گزرنا پڑتا ہے، آپ اس سے بیع کرتے ہیں راستے کی تو اس میں بھی دو صورتیں۔ یا تو آپ کیا کرتے ہیں رقبیہ طریق نفس راستے کی بیع کرتے ہیں یعنی اس زمین کی ہی بیع کر لیتے ہیں یا صرف حق المرور کی بیع کرتے ہیں گزرنے کے حق کی بیع کرتے ہیں۔ گزرنے کے حق کی بیع کرتے ہیں۔ کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چار۔ مسل کے اندر یا تو کس کی بیع کرتے ہیں؟ رقبیہ مسل کی بیع کریں گے یا صرف حق حق تسسیل کی بیع کریں گے۔ اور طریق کے اندر بھی یا تو رقبیہ طریق کی بیع کریں گے یعنی وہ زمین کی یا کس کی حق المرور صرف گزرنے کے حق کی بیع کریں گے۔ تو یاد رکھو مسل کے اندر نہ رقبیہ مسل کی بیع صحیح ہے اور نہ ہی اس کی اس تسسیل کے حق کی بیع صحیح ہے اور اسی طرح ان کا ہبہ بھی نہیں صحیح بھئی۔ رقبیہ مسل کا ہبہ بھی نہیں صحیح اور حق تسسیل کا ہبہ بھی نہیں۔ کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں اس لیے کہ آپ نے مسل کی بات کی پانی بہنے تو اب بھئی پتہ نہیں پانی تھوڑا بہتا ہے یا زیادہ۔ اگر تھوڑا ہوگا تھوڑی جگہ گھیرے گا، زیادہ ہوگا تو زیادہ جگہ گھیرے گا۔ آپ نے کوئی تعین نہیں کی بھئی۔ آپ نے صرف کیا بات کی ہے اس سے کہ پانی بہنے کی جگہ مجھے فروخت کر دو تو پانی بارش ہوئی تھوڑی ہوئی تو پانی تھوڑا بہے گا۔ زیادہ ہوئی تو وہ تو کوئی معلوم ہے، متعہین ہے؟ کوئی معلوم اور متعہین۔ ہاں اگر تعین کر دیتے ہیں بھئی اس نے مثلا ایک فٹ کی نالی بنا دی بھئی یہ خرید لیا آپ نے اس سے پھر تو متعہین ہے پھر جھگڑا نہیں ہے۔ بات ہو رہی ہے صرف مسل کی بیع کر رہا ہے تعین نہیں کر رہا بھئی۔ کتنی حد ہوگی؟ کتنے میں سے پانی گزرے گا۔ اب تو یہ مجھول ہے۔ پانی تو ایک فٹ میں سے بھی گزرتا ہے اور 20 فٹ کو بھی گھیر کر گزر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو اب تو اب پتہ نہیں ہے پانی کتنی جگہ گھیرے گا تھوڑی تو آپ نے صرف مسل کی بات کی ہے کوئی تعین نہیں کی۔ اگر آپ تعین کریں پھر میں نے کیا بتلایا مسلہ صحیح ہے کہ ایک فٹ جگہ بیچی ہے اتنی لمبائی کے اندر بھئی یا 20 فٹ جگہ اتنی لمبائی کے اندر پوری زمین کے اندر یا بنا دی ہے پھر جھگڑا نہیں ہے آپ نے صرف مسل کی بات کی بات اس کی ہو رہی ہے وہ مجھول ہے مولانا پانی کتنی جگہ گھیرے گا؟ جب پانی کی مقدار کا ہمیں پتہ نہیں تو جس جگہ کو وہ گھیرے گا اس کا بھی پتہ نہیں۔ تو وہ مجھول ہوئی۔ اور اس لحاظ اب ویسے ہی نہیں مجھول چیز کی بیع تو صحیح نہیں۔ اور اگر حق تسسیل مراد ہے مولانا کیا مراد ہے؟ اگر صرف حق تسسیل مراد ہے تو حق تسسیل بھی مجھول ہے کیا ہے؟ مجھول ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ جب مسل خود مجھول ہے تو حق تسسیل بھی کیا ہوا؟ مجھول ہوا۔ لہذا اس کی بیع بھی صحیح نہیں۔ جبکہ راستے کی بیع بھی صحیح اس کا ہبہ بھی صحیح راستے میں بھی دو صورتیں ہیں یا تو رقبیہ طریق کی بیع کریں گے یا حق المرور کی بیع کریں گے۔ رقبیہ طریق کی بیع کرتے ہیں تو یہ درست ہے اس لیے کہ راستہ معلوم اور متعہین ہوتا ہے بھئی انسان کتنا راستہ استعمال کرتا ہے عموماً بھئی گھر آتے جاتے چار پانچ فٹ کا راستہ ہو تو اس کے لیے کافی ہے بھئی۔ جبکہ پانی بہنے میں تو چار پانچ فٹ کا پتہ نہیں ہے ہو سکتا ہے وہ تھوڑی جگہ لے، ہو سکتا ہے اس سے بھی کافی زیادہ جگہ لے بھئی اس میں بہت اور اگر بھئی تو انسان آتے جاتے اتنا ہی راستہ لیتا ہے اتنا کافی ہوتا ہے اس کے لیے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ضرورت کی چیزیں بھی لے جا سکتا ہے، جانور بھی لے جا سکتا ہے اس کے اندر۔ اگر نہ بھی ہو تو کہتے ہیں پھر بھی دروازے کی چوڑائی کے برابر فقہاء نے بیان کیا ہے جتنے گھر بڑے سامنے والے بڑے دروازے کی گھر چوڑائی ہے اتنی مقدار کس کی ہوگی؟ اس راستے کی چوڑائی کی ہوگی دوسرے کنارے تک کہ وہ دوسری طرف راستے کو جا ملے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو یہ معلوم ہوا مولانا لہذا اس کی رقبیہ طریق کی بیع جائز۔ باقی حق المرور کی بیع جائز ہے یا جائز نہیں؟ وہ آگے آئے گا اس میں دو اقوال ہیں بھئی وہ میں تفصیل سے آپ کو بتلاتا ہوں دیکھیے بھئی۔ اور باطل ہے مسل کی بیع بھئی اور ہبہ تو اور اسی طرح مسل کا ہبہ بھی باطل ہے اور صحا اور یہ دونوں صحیح ہیں کون دونوں بھئی؟ بیع اور ہبہ فی طریق راستے کے اندر خود بتلا رہے ہیں صاحب ہدایہ۔ ای صح البيع والحبتہ بھئی۔ دیکھو ضمیر کا مرجع بتلا دیا صحیح ہے بیع اور ہبہ فی طریق راستے کے اندر۔ قیل کہا گیا ہے ان ارید رقبتہ مسل وال طریق اگر ارادہ کیا گیا ہے اس کے ذریعے رقبتہ مسل کا اور رقبتہ طریق کا یعنی نفس مسل اس نفس جگہ کو ہی خرید رہا ہے یا نفس طریق کو خرید رہا ہے فمقدار مایسیل الماء بھئی عبارت درست نہیں بنتی مایسیل من الماء ہونا چاہیے بھئی مایسیل من الماء مایسیل من الماء کیوں؟ اس لیے کہ ما موصولہ ہے بھئی۔ مصدریا نہیں بنا سکتے یہاں معنی سے نہیں بنتا۔ ما موصولہ ہے اور ما موصولہ کے آگے یسیل الماء صلاہ رہا ہے۔ اور آپ نے پڑھا صلے کے اندر کوئی عائید ہونا، کوئی ضمیر ہونا ضروری جو کس کو لوٹے؟ موصول کی طرف لوٹے اگر یسیل الماء کریں تو یسیل فعل الماء فاعل کوئی ضمیر ہے ہی نہیں جو کس کی طرف لوٹے؟ موصول کی طرف۔ تو لہذا یسیل من کر دو۔ اب الماء فاعل نہیں بن سکتا کیونکہ وہ کس کے تحت آگیا؟ من کے تحت آگیا۔ اب یسیل کے اندر ضمیر نکالیں گے اور وہ کس کو لوٹے گی؟ ما کو اور من بیانیہ بنا لو بھئی۔ ما کا بیان کرے گا۔ دیکھو ترجمہ سنو۔ اور اگر اس سے رقبتہ مسل اور رقبتہ طریق مراد ہے فمقدار مایسیلو تو مقدار اس چیز کی جو بہتی ہے مقدار اس چیز کی جو بہتی ہے بھئی وہ کیا چیز ہے؟ من الماء یعنی کہ پانی وہ چیز جو بہتی ہے یعنی کہ پانی مجھول وہ مجھول ہے جب وہ مجھول ہے تو بہنے کی جگہ بھی کیا ہو گئی؟ مجھول۔ پانی تھوڑا جگہ تھوڑی گھیرے گا، پانی زیادہ جگہ زیادہ گھیرے گا۔ تو جب پانی کی مقدار مجھول ہوئی تو اس مسل کی مقدار بھی مجھول ہوئی جسے پانی مشغول کرے گا۔ فلا یجوز فیہ البیع والحبات۔ اس کے اندر بیع بھی نہیں جائز اور ہبہ بھی نہیں۔ واما الطریق فمعلوم۔ باقی راستہ تو وہ معلوم ہے بھئی۔ کتنا ہوتا ہے عموماً بھئی۔ وان لم یبین اور اگر اگرچہ اس کو بیان اگر اس کو بیان نہ کیا گیا ہو فہو مقدر بعرض باب الدار تو وہ مقرر ہو کیا جائے گا کتنا بھئی؟ گھر کے دروازے کی چوڑائی کے بخدر بھئی۔ فہو مقدر بھئی وہ مقرر کیا جائے گا، مقرر کیا جائے گا گھر کے دروازے کی چوڑائی کے بخدر بھئی۔ کذا فی باب القسمہ جیسے کہ قسمہ کے مسائل میں ہوتا ہے۔ تقسیم کے مسائل میں جیسے کیا جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تقسیم کے مسائل میں فقہاء بیان کرتے ہیں بھئی چار پانچ آدمیوں کی زمین مشترکہ ہے تو ان میں تقسیم کرنے لگے تو ہر ایک کو راستہ بھی دینا ہے آپ نے اور کتنا راستہ دیں گے؟ دروازے کی چوڑائی کے بخدر۔ تو جیسے کہ مولانا تقسیم کے باب میں، تقسیم کے مسائل میں بیان ہوتا ہے یہاں بھی اسی طرح فایجوز فیہ البیع جب راستہ معلوم ہے تو اس کے اندر بیع بھی جائز ہے وال ہبتہ اور ہبہ بھی جائز ہے۔ وان ارید حق التسسیل اور اگر رقبتہ مسل نہیں مراد بلکہ حق تسسیل مراد ہے فان کان علی الارض۔ دیکھو دو صورتیں ہیں مولانا حق تسسیل پانی بہانے کا حق آپ خریدتے ہیں یا تو زمین پر خریدیں گے یا چھت پر بھی۔ کس پر خریدیں گے؟ چھت پر۔ چھت پر بھی۔ بعض کا ایک کے گھر سے دوسرے کی چھت پر سے پانی بہتا ہے اور پھر پرنالے سے نکلتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ ہاں پہاڑی علاقوں میں تو اس طرح ہوتا ہے بھئی ایک کا گھر اوپر ہے، دوسرے کا نیچے ہے تو بعض اوقات ایک کا گھر کا پانی جاتا ہے، دوسرے کی چھت سے گزرتا ہے، پھر نیچے کی طرف چلا جاتا ہے۔ تو اگر آپ حق تسسیل زمین پر مانگ رہے ہیں تو بھئی وہاں بتلایا کہ رقبتہ مسل خود مجھول ہے تو حق تسسیل بھی کیا ہو گیا؟ مجھول۔ تو اس کی اور ہبہ صحیح نہیں۔ اور اگر آپ اس کی بیع کس پر کر رہے ہیں بھئی؟ حق تسسیل کس پر ہے؟ چھت پر۔ تو کہتے ہیں بھئی پھر تو یہ ایسا حق ہے جو متعلق ہے ایسی چیز کے ساتھ جو باقی رہنے والی نہیں۔ چھت کے ساتھ متعلق ہے اور چھت ہمیشہ کے لیے باقی رہنے والی ہے؟ چھت باقی رہنے والی نہیں گر بھی جاتی ہے ختم بھی ہو جاتی ہے۔ تو پہلے ایک ضابطہ یاد رکھو۔ یاد رکھو منافع کی بیع جائز نہیں۔ اعیان کی بیع جائز ہے۔ منافع کی بیع جائز نہیں۔ البتہ اعیان کی بیع جائز ہے۔ کیوں منافع کی بیع کیوں نہیں جائز؟ اعیان کی بیع کیوں جائز ہے؟ اس لیے کہ منافع میں احراز ممکن نہیں۔ اعیان میں احراز ہو سکتا ہے، محفوظ رکھ سکتے ہیں آپ اس کو لیکن منافع کو محفوظ آپ ایسا کر سکتے ہیں بھئی آپ کا ایک مکان ہے آپ اس کے پورے سال کی رہائش اکٹھی کر لیں۔ کر سکتے ہیں؟ نہیں کیونکہ منافع ہر گزرتے دن کے ساتھ اس دن کی رہائش گزرتی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہر ہر لمحے کی رہائش کیا ہے؟ ہر لمحے کے ساتھ ختم ہو رہی ہے۔ تو اب اپ ایک ادمی کو کہتے ہیں بھئی اکٹھی خرید لو ایک رات کے لیے بھئی سارے سال کی میں نے رہائش تمہیں بیچ دی۔ وہ ممکن ہی احراز ہی نہیں ہے اس کے اندر وہ تو جوں جوں وقت گزر رہا ہے وہ منافع بھی کیا ہوتے جا رہے ہیں؟ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ نئے نئے منافع آتے جا رہے ہیں بھئی۔ ہر لمحے ہر لمحے کے اندر نئی سکونت، نیا نفع ہے بھئی۔ تو منافع کے اندر احراز نہیں تو اس کی بیع بھی نہیں، احراز جس چیز میں احراز ہوگا کچھ محفوظ تو رہ سکے اس کو اگلے کو بیچو آپ بھئی۔ جو چیز ٹھہرتی ہی نہیں ہے اس کو بیچتے کیسے ہو؟ جبکہ اعیان کے اندر بقا ہے لہذا اس کی بیع بھی جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ آپ کہیں گے بھئی اجارہ کے اندر تو ہوتا ہے۔ منافع بیچے جاتے ہیں بھئی وہ تفصیل ا جائے گی اجارہ کے اندر بھی استحسانن اور احادیث کی وجہ سے نص کی وجہ سے اجازت دی گئی ورنہ تو اجارہ بھی قیاسا جائز نہیں ہونا کیونکہ یہ تو منافع پر منعقد ہوتا ہے اور منافع میں تو احراز نہیں اور تو ان کی بیع بھی صحیح نہیں۔ وہ تفصیل ا جائے گی بھئی اپنے موقع پر۔ تو لہذا منافع کے اندر بھئی بیع صحیح نہیں لیکن اعیان کے اندر بیع صحیح کیونکہ ان میں احراز ہوتا ہے۔ تو دیکھیے اب دیکھیے بھئی کہتے ہیں اگر یہ حق تسسیل ان کان علی السطح یہ سطح پر تھا تو یہ حق تعالی تو یہ تو صرف اوپر ہونے کا حق ہے وہ حق متعلق بالعین لا یبقا اور یہ کیسا حق ہے جو متعلق ہو رہا ہے ایسی چیز کے ساتھ لا یبقا جو باقی نہیں بھئی چھت باقی رہتی ہے؟ تو یہ پانی چھت پر پانی بہانے کا حق یہ ایسی چیز سے متعلق ہے جس میں خود بقا نہیں۔ تو یہ حق مشابہ ہوا منافع کے منافع کی طرح تو یہ منافع کی مثل ہوا بھئی اور منافع کی بیع صحیح نہیں۔ لہذا اس حق تسسیل کی بیع بھی صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں یہ ایسا حق ہے جو متعلق ہے ایسی چیز کے ساتھ لا یبقا جو باقی نہیں رہتی یعنی وہ چھت بھئی تو یہ مشابہ ہوا منافع کے اور منافع کی بیع صحیح نہیں لہذا اس کی بیع بھی صحیح نہیں۔ و حق المرور باقی حق المرور رہتا تھا بھئی اس میں دو روایتیں ہیں بھئی۔ ایک روایت کے مطابق صحیح ہے ایک روایت کے مطابق حق المرور صحیح نہیں۔ بھئی جنہوں نے کہا حق المرور کی بیع باطل ہے بھئی وہ تو بات واضح ہے اس لیے کہ یہ تو ایک حق ہے صرف اور بیع مال کی کی جاتی ہے حق کی نہیں ہوتی یہ آپ جانتے ہیں۔ اور صحیح ہونے کی وجہ کہتے ہیں اس لیے کہ اس کی ضرورت ہے کیا ہے؟ ضرورت ہے۔ نیز یہ ایک حق معلوم ہے جو متعلق ہے ایسی عین کے ساتھ جو باقی رہنے والی ہے یعنی زمین۔ راستہ کس پہ ہے بھئی؟ زمین پر ہے اور زمین میں کیا ہے؟ بقا ہے تو یہ حق بھی متعلق ہوا ایسی چیز کے ساتھ جس میں بقا ہے তো یہ اعیان کے مشابہ ہوا کیونکہ اعیان میں بھی کیا ہوتی ہے؟ بقا تو یہ حق مشابہ ہوا اعیان کے لہذا اس کی بیع جائز ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ و حق المرور فیہ روایتان اور حق المرور کے اندر دو روایتیں ہیں وجہ البتلان باطل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انہ غیر مال کی یہ کیا ہے؟ مال یہ غیر مال ہے تو اس کی بیع صحیح نہیں۔ وجہ صحت صحت صحیح ہونے کی وجہ الاحتیاج بہ بھئی اس کی حاجت ہے بھئی اس کی حاجت ہونے کی وجہ سے و ہو حق معلوم اور یہ ایک ایسا حق ہے جو معلوم ہے متعلق بعین باقین جو اور متعلق ہے ایسی چیز کے ساتھ جو باقی رہنے والی ہے وہ کیا ہے؟ زمین ہے۔ تو لہذا یہ حق کس کے مشابہ ہو گیا؟ اعیان کے۔ تو لہذا یہ حق مشابہ ہوا اعیان کے لہذا اس کی بیع جائز ہے بھئی۔ خلاصة بحث یہ ہوا کہ مسل کی بیع اور ہبہ جائز نہیں طریق کی بیع اور ہبہ جائز۔ پھر شارح نے آپ کو بتلایا کہ یہاں پر مسل سے مراد یا تو رقبیہ مسل ہے یا حق تسسیل ہے۔ اور طریق سے بھی مراد یا تو رقبیہ طریق ہے یا حق مرور ہے بھئی۔ اگر مسل سے مراد رقبیہ مسل مراد لیں اس سے تو پھر بھی اس کی بیع بھی نہیں صحیح اس کا ہبہ بھی نہیں۔ اس لیے کہ یہ ایک مجھول ہے کیونکہ وہ پانی جو بہے گا اس کی مقدار نہیں معلوم جب اس کی مقدار نہیں معلوم تو جس جگہ کو وہ گھیرے گا وہ بھی نہیں معلوم لہذا یہ بیع درست مجھول چیز کی بیع نہیں۔ اور میں نے بتایا اگر متعین کر دے تو پھر جائز ہے کہ اتنے فٹ چوڑا ہوگا اور اتنے فٹ لمبا یہ مسل ہوگا بھئی۔ اور اگر حق المرور، حق مسل مراد ہے تو حق مسل یا زمین پر ہوگا یا چھت پر۔ اگر یہ زمین پر ہے تو چونکہ رقبیہ مسل مجھول ہے تو حق حق تسسیل بھی کیا ہوا؟ مجھول تو اس کی بحث صحیح نہیں۔ اور اگر یہ چھت پر ہے بھئی تو پھر تو یہ ایسا حق ہے جو متعلق ہے ایسی چیز کے ساتھ جو باقی رہنے والی نہیں۔ چھت کے ساتھ متعلق ہے اور چھت ہمیشہ کے لیے باقی رہنے والی ہے؟ چھت باقی رہنے والی نہیں گر بھی جاتی ہے ختم بھی ہو جاتی ہے۔ تو پہلے ایک ضابطہ یاد رکھو۔ یاد رکھو منافع کی بیع جائز نہیں۔ اعیان کی بیع جائز ہے۔ منافع کی بیع جائز نہیں۔ البتہ اعیان کی بیع جائز ہے۔ کیوں منافع کی بیع کیوں نہیں جائز؟ اعیان کی بیع کیوں جائز ہے؟ اس لیے کہ منافع میں احراز ممکن نہیں۔ اعیان میں احراز ہو سکتا ہے، محفوظ رکھ سکتے ہیں آپ اس کو لیکن منافع کو محفوظ آپ ایسا کر سکتے ہیں بھئی آپ کا ایک مکان ہے آپ اس کے پورے سال کی رہائش اکٹھی کر لیں۔ کر سکتے ہیں؟ نہیں کیونکہ منافع ہر گزرتے دن کے ساتھ اس دن کی رہائش گزرتی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہر ہر لمحے کی رہائش کیا ہے؟ ہر لمحے کے ساتھ ختم ہو رہی ہے۔ تو اب آپ ایک ادمی کو کہتے ہیں بھئی اکٹھی خرید لو ایک رات کے لیے بھئی سارے سال کی میں نے رہائش تمہیں بیچ دی۔ وہ ممکن ہی احراز ہی نہیں ہے اس کے اندر وہ تو جوں جوں وقت گزر رہا ہے وہ منافع بھی کیا ہوتے جا رہے ہیں؟ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ نئے نئے منافع آتے جا رہے ہیں بھئی۔ ہر لمحے ہر لمحے کے اندر نئی سکونت، نیا نفع ہے بھئی۔ تو منافع کے اندر احراز نہیں تو اس کی بیع بھی نہیں، احراز جس چیز میں احراز ہوگا کچھ محفوظ تو رہ سکے اس کو اگلے کو بیچو آپ بھئی۔ جو چیز ٹھہرتی ہی نہیں ہے اس کو بیچتے کیسے ہو؟ جبکہ اعیان کے اندر بقا ہے لہذا اس کی بیع بھی جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ آپ کہیں گے بھئی اجارہ کے اندر تو ہوتا ہے۔ منافع بیچے جاتے ہیں بھئی وہ تفصیل آ جائے گی اجارہ کے اندر بھی استحسانن اور احادیث کی وجہ سے نص کی وجہ سے اجازت دی گئی ورنہ تو اجارہ بھی قیاسا جائز نہیں ہونا کیونکہ یہ تو منافع پر منعقد ہوتا ہے اور منافع میں تو احراز نہیں اور تو ان کی بیع بھی صحیح نہیں۔ وہ تفصیل آ جائے گی بھئی اپنے موقع پر۔ تو لہذا منافع کے اندر بھئی بیع صحیح نہیں لیکن اعیان کے اندر بیع صحیح کیونکہ ان میں احراز ہوتا ہے۔ تو دیکھیے اب دیکھیے بھئی کہتے ہیں اگر یہ حق تسسیل ان کان علی السطح یہ سطح پر تھا تو یہ حق تعالی تو یہ تو صرف اوپر ہونے کا حق ہے وہ حق متعلق بالعین لا یبقا اور یہ کیسا حق ہے جو متعلق ہو رہا ہے ایسی چیز کے ساتھ لا یبقا جو باقی نہیں بھئی چھت باقی رہتی ہے؟ تو یہ پانی چھت پر پانی بہانے کا حق یہ ایسی چیز سے متعلق ہے جس میں خود بقا نہیں۔ تو یہ حق مشابہ ہوا منافع کے منافع کی طرح تو یہ منافع کی مثل ہوا بھئی اور منافع کی بیع صحیح نہیں۔ لہذا اس حق تسسیل کی بیع بھی صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں یہ ایسا حق ہے جو متعلق ہے ایسی چیز کے ساتھ لا یبقا جو باقی نہیں رہتی یعنی وہ چھت بھئی تو یہ مشابہ ہوا منافع کے اور منافع کی بیع صحیح نہیں لہذا اس کی بیع بھی صحیح نہیں۔ و حق المرور باقی حق المرور رہتا تھا بھئی اس میں دو روایتیں ہیں بھئی۔ ایک روایت کے مطابق صحیح ہے ایک روایت کے مطابق حق المرور صحیح نہیں۔ بھئی جنہوں نے کہا حق المرور کی بیع باطل ہے بھئی وہ تو بات واضح ہے اس لیے کہ یہ تو ایک حق ہے صرف اور بیع مال کی کی جاتی ہے حق کی نہیں ہوتی یہ آپ جانتے ہیں۔ اور صحیح ہونے کی وجہ کہتے ہیں اس لیے کہ اس کی ضرورت ہے کیا ہے؟ ضرورت ہے۔ نیز یہ ایک حق معلوم ہے جو متعلق ہے ایسی عین کے ساتھ جو باقی رہنے والی ہے یعنی زمین۔ راستہ کس پہ ہے بھئی؟ زمین پر ہے اور زمین میں کیا ہے؟ بقا ہے تو یہ حق بھی متعلق ہوا ایسی چیز کے ساتھ جس میں بقا ہے تو یہ اعیان کے مشابہ ہوا کیونکہ اعیان میں بھی کیا ہوتی ہے؟ بقا تو یہ حق مشابہ ہوا اعیان کے لہذا اس کی بیع جائز ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ و حق المرور فیہ روایتان اور حق المرور کے اندر دو روایتیں ہیں وجہ البتلان باطل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انہ غیر مال کی یہ کیا ہے؟ مال یہ غیر مال ہے تو اس کی بیع صحیح نہیں۔ وجہ صحت صحت صحیح ہونے کی وجہ الاحتیاج بہ بھئی اس کی حاجت ہے بھئی اس کی حاجت ہونے کی وجہ سے و ہو حق معلوم اور یہ ایک ایسا حق ہے جو معلوم ہے متعلق بعین باقین جو اور متعلق ہے ایسی چیز کے ساتھ جو باقی رہنے والی ہے وہ کیا ہے؟ زمین ہے۔ تو لہذا یہ حق کس کے مشابہ ہو گیا؟ اعیان کے۔ تو لہذا یہ حق مشابہ ہوا اعیان کے لہذا اس کی بیع جائز ہے بھئی۔ خلاصة بحث یہ ہوا کہ مسل کی بیع اور ہبہ جائز نہیں طریق کی بیع اور ہبہ جائز۔ پھر شارح نے آپ کو بتلایا کہ یہاں پر مسل سے مراد یا تو رقبیہ مسل ہے یا حق تسسیل ہے۔ اور طریق سے بھی مراد یا تو رقبیہ طریق ہے یا حق مرور ہے بھئی۔ اگر مسل سے مراد رقبیہ مسل مراد لیں اس سے تو پھر بھی اس کی بیع بھی نہیں صحیح اس کا ہبہ بھی نہیں۔ اس لیے کہ یہ ایک مجھول ہے کیونکہ وہ پانی جو بہے گا اس کی مقدار نہیں معلوم جب اس کی مقدار نہیں معلوم تو جس جگہ کو وہ گھیرے گا وہ بھی نہیں معلوم لہذا یہ بیع درست مجھول چیز کی بیع نہیں۔ اور میں نے بتایا اگر متعین کر دے تو پھر جائز ہے کہ اتنے فٹ چوڑا ہوگا اور اتنے فٹ لمبا یہ مسل ہوگا بھئی۔ اور اگر حق المرور، حق مسل مراد ہے تو حق مسل یا زمین پر ہوگا یا چھت پر۔ اگر یہ زمین پر ہے تو چونکہ رقبیہ مسل مجھول ہے تو حق حق تسسیل بھی کیا ہوا؟ مجھول تو اس کی بحث صحیح نہیں۔ اور اگر یہ چھت پر ہے بھئی تو پھر تو یہ صرف اوپر ہونے کا حق ہے اور اس کا تعلق ایک ایسی چیز کے ساتھ ہے جو خود باقی رہنے والی نہیں اور وہ کیا ہے؟ چھت بھئی۔ تو یہ مشابہ ہوا کس کے ساتھ بھئی؟ منافع کے کیونکہ منافع میں بھی بقا نہیں۔ تو یہ منافع کی مثل ہوا بھئی اور منافع کی بیع صحیح نہیں۔ لہذا اس حق تسسیل کی بیع بھی صحیح نہیں۔ اور طریق کے اندر بھی دو احتمال۔ یا تو رقبیہ طریق مراد ہے یا حق المرور مراد ہے۔ اگر رقبیہ طریق بھی مراد ہو تو بیع صحیح ہے۔ اس لیے کہ وہ معلوم ہے اگرچہ اس کی تعین نہ بھی کی جائے تو کتنی مقدار ہوگی؟ دروازے کی چوڑائی کے مقدار اس دوسرے کی زمین میں آخر تک جہاں تک دوسرا راستہ شروع ہو جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وہاں تک چلا جائے گا جیسے کس میں ذکر کرتے ہیں فقہاء تقسیم کے باب میں مسئلہ ذکر کرتے ہیں کہ وہاں دروازے کی چوڑائی کے مقدار رکھا جاتا ہے راستہ بھئی۔ اور اگر اس سے مراد حق المرور ہے تو اس میں دو روایتیں ایک روایت کے مطابق حق المرور کی بیع صحیح ایک کے مراد ایک روایت کے مطابق اس کی بیع باطل۔ اگر اس کی بیع باطل ہو تو کہتے ہیں اس کی علت یہ ہے کہ یہ صرف ایک حق ہے اور بیع حق کی نہیں ہوتی کس کی ہوتی ہے مال کی تو یہ مال نہیں ہے لہذا اس کی بیع نہیں۔ اور صحیح ہونے کی وجہ یہ کہ اس کی احتیاج ہے بھئی انسان اس کا محتاج ہے بھئی۔ اور نیز یہ ایک معلوم حق ہے جس کا تعلق ایسی چیز کے ساتھ ہے جو باقی رہنے والی ہے بھئی اور وہ کیا ہے؟ زمین۔ راستے کا تعلق کس سے ہے بھئی؟ زمین پر ہے نا راستہ بھئی۔ تو اس کا تعلق زمین سے ہے اور زمین باقی رہنے والی ہے تو یہ حق بھی کس کے مشابہ ہو گیا؟ اعیان کے مشابہ جو باقی رہنے والی چیزیں ہیں اور اعیان میں بیع جائز تو اس حق المرور میں بھی بیع جائز۔ آگے دیکھیے بھئی۔ وامر المسلم ببيع خمر او خنزیر او شرائہما ذمیا بھئی صورت مسئلہ یہ ہے۔ مسلمان تو بھئی خمر اور خنزیر کا نہ مالک بن سکتا ہے نہ کسی کو ان کا مالک بنا سکتا ہے۔ لہذا اس خنزیر اور خمر کی بیع اور شراہ باطل ہے مسلمان کے لیے۔ لیکن اگر ایک مسلمان کسی ذمی کو اپنا وکیل بناتا ہے جاؤ بھئی شراب خرید و، وہ اس کے لیے شراب ۔ خریدتا ہے، بھئی! یا خنزیر خریدتا ہے تو کیا یہ بیع صحیح ہے یا بیع صحیح نہیں؟ کہتے ہیں یہ صحیح ہے۔ یہ کیا ہے؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ صحیح ہے، اس لیے کہ ذمی جو ہے وہ اہلیت ہے اس کے اندر شراب اور خنزیر کی بیع اور شراب وہ کر سکتا ہے۔ تو وہ اپنی اہلیت جب اس کے اندر ہے تو اس کی شراہ بھی صحیح اور اس کی بیع بھی صحیح بھئی وہ مالک بن بھی سکتا ہے، مالک بنا بھی سکتا ہے۔ البتہ شدید کراہت ہے اس کے اندر لہذا کیا کرے اگر خریدتا ہے شراب کو سرکہ بنائے یا اس کو ضائع کر دے اور خنزیر ہے تو اس کو چھوڑ دے آزاد بھئی تو کر سکتا ہے ایسا لیکن کیا ہے کراہت شدید ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں بھئی! یہ نہیں کر سکتا، اس لیے کہ اس نے ذمی کو اپنا وکیل بنایا ہے اور وکیل وہاں بنائے گا جہاں اس میں خود اہلیت و ولایت ہو۔ جب مسلمان کو خود ولایت نہیں ہے شراب کے تملک اور تملیک کی، شراب اور خنزیر کے بیع اور شرا کی تو دوسرے کو اس کی ولایت دے بھی نہیں سکتا، دوسرے کو اس کے وکیل بنا بھی نہیں سکتا بھئی۔ اسی طرح محرم کے بارے میں یاد رکھو بھئی! محرم نہ شکار کر سکتا ہے نہ اسے بیچ سکتا ہے بھئی۔ نہ شکار کر سکتا ہے اور نہ اسے بیچ سکتا ہے۔ شکار کرے گا وہ حرام ہو جائے گا، نجس ہو جائے گا بھئی۔ تو لہذا ایک شخص نے ایک چیز کا شکار کیا ایک جانور کا اور پھر اس نے احرام باندھ لیا اب اس کی بیع کر تو یہ اب تو یہ اس کی بیع نہیں کر سکتا بھئی، محرم بن چکا ہے۔ کسی اور کو وکیل بناتا ہے کہ جو غیر محرم ہے کہ تم میرے لیے یہ شکار بیچ دو، تم وکیل بن جاؤ میری طرف سے، تو کیا وہ وکیل بنا سکتا ہے، اس کی شرا صحیح ہوگی یا شرا صحیح نہیں ہوگی؟ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی! کہ محرم حالت احرام میں تھا اس لیے اس میں تو اہلیت نہیں تھی لیکن غیر میں تو اہلیت ہے لہذا اس کا بیچنا صحیح ہو گیا، صحیح۔ جبکہ صاحبین کیا فرماتے ہیں کہ نہیں، اس لیے کہ محرم کو خود بیچنے کی ولایت نہیں تو دوسرے کو بھی اس چیز کی ولایت وہ نہیں دے سکتا، وکیل نہیں بنا سکتا۔ اور امر المسلم اور مسلمان کا حکم کرنا یعنی صحیح ہے مسلمان کا حکم کرنا، بھئی! صح آپ دیکھیے بھئی! پچھلے متن کے آخر میں کیا آیا تھا؟ صح یہ صحح کے اندر الف تثنیہ ضمیر ہے فاعل ہے بھئی! تثنیہ کی ضمیر ہے اور یہ فاعل ہے اور یہ امر المسلم کا عطف اسی ضمیر پر ہے، کس پر ہے؟ اسی ضمیر پر ہے۔ تو یہ بھی فاعل ہوا بھئی! صحیح ہے وہ دونوں اور صحیح ہے مسلمان کا حکم دینا، امر المسلم مسلمان کا حکم دینا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی! یہ تو آپ ضمیر مرفوع متصل پر عطف کر رہے ہیں اور آپ نے نحو میں ضابطہ پڑھا ہے، مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں ضربت میں نے بھی پٹائی کی اور زید نے بھی پٹائی کی، میں کہتا ہوں ضربت و زید تو زید کا عطف کس پر ہوا؟ ضربت کے آخر میں جو تا ضمیر آرہی ہے اس پر اور وہ تو ہے ضمیر مرفوع متصل تو علماء نحو لکھتے ہیں یہ عطف درست نہیں، یہ عطف درست نہیں ہے بھئی! اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تاکید لے آؤ بھئی! ضربت انا و زید اب بات کیا ہو گئی؟ صحیح ہو گئی، تاکید لانا ضروری ہے ضمیر مرفوع کی یا درمیان میں فصل آ جائے کچھ فاصل کوئی چیز اور آ جائے ضربت الیوم و زید اب بھی بات صحیح ہے، پٹائی کی میں نے آج کے دن اور زید نے، اب زید کا عطف ضربت کی تا ضمیر پر ہے لیکن درمیان میں الیوم کا فصل آ گیا تو عطف صحیح، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے بھئی! صحح کی ضمیر مرفوع متصل کی ضمیر ہے اور اس پر امر المسلم کا عطف ہو رہا ہے اور درمیان میں فی الطریق یہ کیا آ گیا؟ فصل، لہذا یہ جائز ہے۔ وامر المسلم اور مسلمان کا حکم دینا بیع خمر أو خنزیر شراب یا خنزیر کے بیچنے کا او شرائهما یا ان کے خریدنے کا ذمیئن کس کو بھئی؟ کسی ذمی کو۔ اور مسلمان کا حکم دینا بیع خمر أو خنزیر شراب یا خنزیر کی بیع کا او شرائهما یا ان کے خریدنے کا کس کو حکم دینا؟ ذمیئن کسی ذمی کو اور اسی طرح وامر المحرم غیره حکم دینا محرم کا غیرہ ہو آئے غیر المحرم غیر محرم، محرم کا غیر محرم کو حکم دینا بیع صیدہ اپنے شکار کی بیع کا یہ بھی کیا ہے؟ صحیح ہے یہ بھی صحیح۔ فقوالہ تو اس ماتن کا قول جو ہے وامر اوپر آیا نہیں تھا بھئی وہ امر المسلم، یہ امر عطف علی الضمیر المرفوع المتصل یہ عطف ہے کس پر بھئی؟ ضمیر مرفوع متصل پر فی قولہ ماتن کے اس قول کے اندر جو آئی ہے وساحا اس کے اندر جو الف ضمیر مرفوع متصل آئی ہے اس پر عطف ہے اور ہذا العطف جائز اور یہ عطف جائز ہے لوجود الفصل بواجہ فصل کے پائے جانے کے وہو قولہ بھئی فصل کیا کہتے ہیں؟ وہو قولہ اور وہ ماتن کا یہ قول ہے فی الطریق درمیان میں فصل کس کا آیا تھا؟ فی الطریق کا۔ اور کہتے ہیں یہ جو صحیح ہونے کا حکم ہے عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے وعندھما لا یجوز اور صاحبین کے نزدیک جائز نہیں، کیوں نہیں جائز، دلیل ذکر کر رہے ہیں لان الموکل لا یلیہ بنفسه اس لیے کہ موکل جو ہے وہ ولی نہیں ہے اس کا بنفسہ خود بھئی، خود اس چیز کا ولی۔ بھئی! بیع خمر اور خنزیر اور اسی طرح محرم کا بیع سی یہ ان کا خود موکل ولی نہیں ہے فلا یولی غیره تو غیر کو بھی اس کا ولی نہیں بنا سکتا، وکیل نہیں بنا سکتا۔ والہ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ان العاقد وھو الوکیل کہ عقد کرنے والا اور وہ کون ہے؟ اس حال میں کہ وہ وکیل ہے یتصرف بأہلیتہ وہ تو تصرف کرتا ہے اپنی اہلیت کے ساتھ بھئی! اس میں تو اہلیت ہے لہذا وہ تصرف کر سکتا ہے ذمی ہے، وہ تو شراب بیچ بھی سکتا ہے اور خرید بھی سکتا ہے تو اب اس میں اہلیت ہے اسی طرح غیر محرم ہے وہ کیا کر سکتا ہے شکار کو بیچ سکتا ہے لہذا اس کی بیع صحیح ہوئی بھئی۔ ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
110 approved lectures · 27 of 110