Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-117

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 29 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابٌ مِنَ الْإِجَارَةِ. اَلْأَجِيرُ الْمُشْتَرَكُ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ بِالْعَمَلِ فَلَهُ أَنْ يَعْمَلَ لِلْعَامَّةِ، إِنَّمَا أَدْخَلَ الْفَاءَ فِي قَوْلِهِ فَلَهُ لِأَنَّ هَذَا مَبْنِيٌّ عَلَى مَا سَبَقَ، لِأَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ أَنْ يَعْمَلَ هَذَا الْعَمَلَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَصِيرَ مَنَافِعُ الْأَجِيرِ لِلْمُسْتَأْجِرِ، فَسُمِّيَ بِهَذَا أَيْ بِالْأَجِيرِ الْمُشْتَرَكِ كَالصَّبَّاغِ وَنَحْوِهِ. اچھا! اجیرِ مشترک بھئی، یاد رکھو اجیر دو قسم پر ہیں؛ ایک اجیرِ خاص، ایک اجیرِ مشترک۔ اجیرِ خاص وہ ہے جو ایک آدمی کے لیے کام کرتا ہے مولانا، اور اجیرِ مشترک وہ ہے جو عام لوگ، سب لوگوں کے لیے کام کرتا ہے۔ اجیرِ خاص جیسے بھئی آپ کا کوئی ملازم ہے، آپ نے ایک شخص کو ملازم رکھا، تو یہ اجیرِ خاص ہے، یہ سب کے لیے کام کرتا ہے یا صرف آپ کے لیے کام کرے گا؟ صرف آپ کے لیے۔ تو اس کے منافع آپ کے مملوک ہو گئے بھئی۔ اب یہ کام کرے یا نہ کرے، یہ اجرت کا مستحق ہوگا۔ مثلاً آپ نے ایک شخص کو ملازم رکھا ہوا ہے، آپ کو ایک ماہ کے لیے سفر پر جانا پڑ گیا، آپ ایک ماہ سفر کے لیے گئے، واپس آئے، آپ نے کہا بھئی، میں نے اس مہینہ تو آپ سے کچھ کام ہی نہیں لیا، لہذا آپ کو پیسے بھی نہیں لینا۔ اس کو اجرت کام کی وجہ سے نہیں ملتی، بلکہ اس کے منافع مملوک ہو گئے، وہ کسی اور کا کام نہیں کر سکتا، اس وجہ سے اس کو کیا دی جاتی ہے کہ وہ اپنے نفس کو اس نے آپ کے سپرد کر دیا۔ اگر آپ کوئی کام کہتے، تو وہ ضرور کیا کرتا، اس کام کو پورا کرتا۔ جبکہ اجیرِ مشترک وہ ہے جس کے منافع مملوک نہیں ہوتے، وہ اپنے نفس کو سپرد نہیں کرتا، بلکہ وہ عام سب کے لیے کام کرتا ہے، مثلاً جیسے دھوبی ہے مولانا، عام دھوبی، اس کے پاس سب لوگ کیا کرتے ہیں، کپڑے لے کر جاتے ہیں اور وہ سب کے لیے کام کرتا ہے، کپڑے دھوتا ہے، یا درزی ہے مولانا، اس کے پاس سارے لوگ کیا کرتے ہیں، کپڑے لے کر جاتے ہیں، وہ ہر ایک کے لیے سوٹ سیتا ہے، تو کسی ایک کے لیے اس کے منافع خاص نہیں ہیں۔ تو کہتے ہیں یہ اجیرِ مشترک ہے۔ اَلْأَجِيرُ الْمُشْتَرَكُ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ بِالْعَمَلِ. اجیرِ مشترک مستحق ہوتا ہے اجرت کا عمل کی وجہ سے۔ بھئی دھوبی اور درزی ہے، وہ اجرت کا مستحق کس کی وجہ سے ہوتا ہے؟ عمل کی وجہ سے۔ معلوم ہوا عمل مأخوذ عليہ ہے۔ عمل کیا ہے؟ عقد کس پہ ہوا ہے؟ عمل پر۔ وہ یہ کام کرے گا، وہ آپ کے لیے یہ سوٹ سیئے گا، تو آپ پیسے دیں گے۔ وہ آپ کے لیے سوٹ نہیں سیئے گا تو پیسے بھی نہیں دیں گے۔ بھئی دھوبی آپ کے لیے یہ سوٹ دھوئے گا تو اجرت کا مستحق ہوگا، یہ نہیں دھوئے گا تو اجرت کا مستحق بھی نہیں ہوگا۔ تو لہذا اجیرِ مشترک جو ہے، وہ مستحق ہوتا ہے اجرت کا عمل کی وجہ سے، یعنی عمل مأخوذ عليہ ہوتا ہے۔ فَلَهُ أَنْ يَعْمَلَ لِلْعَامَّةِ. تو لہذا جائز ہے اس کے لیے کہ وہ عام لوگوں کے لیے کام کرے۔ بھئی جب وہ عمل کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے، معلوم ہوا اس کے منافع آپ کے مملوک نہیں۔ اس کے منافع آپ کے مملوک نہیں آکے کسی اور کا کام نہ کر سکے، صرف آپ کا ہی کام کرے، ایسا ہے؟ ایسا نہیں ہے تو اس کے منافع گویا آپ کے مملوک نہیں۔ جب آپ کے مملوک نہیں، تو اب وہ کیا کر سکتا ہے؟ عام لوگوں کے لیے بھی کام کر سکتا ہے، کیونکہ اجرت کا مستحق عمل کی وجہ سے ہوتا ہے، تو جس کے لیے عمل کرے، جس کے لیے چاہے وہ عمل کر سکتا ہے۔ تو فَلَهُ تو جائز ہے اس کے لیے أَنْ يَعْمَلَ لِلْعَامَّةِ کہ وہ عمل کرے عام لوگوں کے لیے۔ دیکھو فَلَهُ، فا لے کر آئے مولانا۔ فا کس لیے آیا کرتی ہے؟ تفریع کے لیے، کہ ایک چیز دوسری پر متفرع ہوتی ہے، مرتب ہوتی ہے۔ تو یہاں ماتن فا کیوں لے کر آئے؟ علامہ صدر الشریعہ بتائیں گے۔ کہتے ہیں إِنَّمَا أَدْخَلَ الْفَاءَ فِي قَوْلِهِ فَلَهُ لِأَنَّ هَذَا مَبْنِيٌّ عَلَى مَا سَبَقَ، لِأَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ أَنْ يَعْمَلَ هَذَا الْعَمَلَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَصِيرَ مَنَافِعُ الْأَجِيرِ لِلْمُسْتَأْجِرِ، فَسُمِّيَ بِهَذَا أَيْ بِالْأَجِيرِ الْمُشْتَرَكِ كَالصَّبَّاغِ وَنَحْوِهِ. ماتن نے فا کو داخل کیا اپنے قول فَلَهُ میں، لِأَنَّ هَذَا مَبْنِيٌّ عَلَى مَا سَبَقَ، اس لیے کہ یہ بھی اس کلام کی بنیاد کس پر ہے؟ اس حکم کی بنیاد کس پر ہے؟ عَلَى مَا سَبَقَ ما قبل پر ہے، کس پر؟ وہ چیز جو پہلے گزری، اس پر ہے۔ وہ ما قبل میں کیا گزرا تھا؟ کہ وہ اجرت کا مستحق کس وجہ سے ہوتا ہے؟ عمل کی وجہ سے۔ تو اس پر اس کی بنا ہے، اور تو معلوم ہوا یہ اس پر مسئلہ متفرع ہوا۔ جب اس پر متفرع ہوا تو تفریع کے لیے کیا لاتے ہیں؟ فا، تو لہذا فا لے کر آئے۔ لِأَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ اس لیے کہ واجب ہے اجیرِ مشترک پر أَنْ يَعْمَلَ هَذَا الْعَمَلَ کہ وہ یہ کام کرے مِنْ غَيْرِ أَنْ يَصِيرَ مَنَافِعُ الْأَجِيرِ لِلْمُسْتَأْجِرِ بغیر اس کے کہ اجیر کے منافع مستاجر کے ہو جائیں۔ یعنی اجیر کے منافع یہاں پر مستاجر کے مملوک نہیں ہوتے۔ تو اس لیے اس کے لیے جائز ہے کہ وہ عام لوگوں کے لیے کام کرے۔ فَسُمِّيَ بِهَذَا پس اس لیے اس کا یہ نام رکھا گیا أَيْ بِالْأَجِيرِ الْمُشْتَرَكِ یعنی کہ اجیرِ مشترک كَالصَّبَّاغِ جیسے رنگریز ہے، رنگریز ہے، کپڑوں کو رنگ لگاتا ہے، اس سے جب آپ کے لیے کپڑوں کو رنگ لگائے گا یا جو بھی اس کے پاس کپڑا لائے گا، تو یہ بھی جو اجیرِ مشترک ہے، جیسے رنگریز ہے وَنَحْوِهِ اور اس جیسے دھوبی ہے وغیرہ۔ وَلَا يَضْمَنُ مَا هَلَكَ فِي يَدِهِ اور وہ ضامن نہیں ہوگا اس چیز کا جو ہلاک ہو جائے اس کے قبضے میں۔ بھئی آپ دھوبی کے پاس کپڑے لے گئے، دھوبی کے پاس آپ کے کپڑے خراب ہوئے، چوری ہوئے، پھٹ گئے، جل گئے، کچھ ہوا، تو کیا اب اس پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ امام صاحب فرماتے ہیں اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ اس لیے کہ یہ امانت ہے اس کے پاس، اور امانت کا ضمان نہیں۔ کہتے ہیں بھئی اگر شرط لگا دیں ہم پہلے سے ہی، بھئی اگر یہ میرا کپڑا خراب ہوا تو تمہیں اس کی قیمت دینی پڑے گی، اب تو شرط لگا دی، اب تو ضمان آنا چاہیے، کہتے ہیں نہیں بھئی، اگرچہ شرط بھی لگا دو پھر بھی ضمان نہیں آئے گا، کیونکہ عین اس کے پاس کیا ہے؟ امانت ہے، اور امانت میں ضمان کی شرط باطل ہے، امانت کے اندر ضمان کی شرط نہیں لگائی جا سکتی۔ یہ معنیٰ وَلَا يَضْمَنُ اور وہ ضامن نہیں ہوگا، مَا هَلَكَ فِي يَدِهِ جو ہلاک ہو جائے اس کے قبضے میں، وَإِنْ شُرِطَ عَلَيْهِ الضَّمَانُ اگرچہ اس پر ضمان کی شرط لگائی جائے، وَبِهِ يُفْتَى اور اسی پر فتویٰ دیا جائے گا۔ اِعْلَمْ انَّ الْمَتَاعَ فِي يَدِهِ أَمَانَةٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، جَان لے تو کہ سامان جو ہوتا ہے وہ اجیرِ مشترک کے قبضے میں امانت ہوتا ہے امام صاحب کے نزدیک، فَلَا يَضْمَنُ وہ ضامن نہیں ہوگا اِلَّا بِالتَّعَدِّي مگر کس کے ذریعے؟ تعدی کی وجہ سے۔ اگر وہ تعدی زیادتی کوئی کرتا ہے، كَمَا فِي الْوَدِيعَةِ جیسے امانت میں بھی ضمان نہیں آتا، مگر اگر وہ تعدی کرے، تو پھر ضمان آیا کرتا ہے، وَعِنْدَهُمَا يَضْمَنُ إِلَّا أَنْ يَهْلِكَ بِسَبَبٍ لَّا يُمْكِنُ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ اور صاحبین فرماتے ہیں ضمان آئے گا۔ ہاں اگر ایسا سبب پایا گیا ہلاکت کا، جس سے بچنا ممکن ہی نہ تھا، تو اب اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ کوئی ایسا سبب پایا گیا جس کی وجہ سے جس سے بچنا ممکن ہی نہ ہو، مثلاً آگ لگ گئی بہت زیادہ، اب اس کو موقع ہی نہیں بچنے کا، سبب ہی نہیں تھا، اس کی دکان بھی جل گئی، موقع ہی نہیں ملا، تو اب اس صورت میں اس پر ضمان نہیں، دکان جل گئی، آپ کا کپڑا یا سوٹ آپ کے جل گئے، اب ضمان نہیں، بھئی کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں۔ یا اسی طرح مولانا اب اس کے اچانک اس پر موت آ گئی، اور وہ مر گیا، اب اس سے بچنا موت سے بچنا ممکن تھا اس کے لیے؟ نہیں، تو اس صورت میں بھی ضمان نہیں آئے گا، وہ مر گیا اور کپڑا ضائع ہوا۔ وَعِنْدَهُمَا صاحبین کے نزدیک يَضْمَنُ اجیرِ مشترک ضامن ہوگا، اِلَّا إِذَا هَلَكَ بِسَبَبٍ لَّا يُمْكِنُ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ مگر یہ کہ ہلاک ہو جائے وہ سامان ایسے سبب کی وجہ سے کہ ممکن نہ ہو اس سے بچنا، كَالْمَوْتِ حَتْفِ انْفِهِ جیسے قدرتی موت ہے، وَالْحَرْقِ الْغَالِبِ اور غالب آگ کا لگنا، جلنا، سمجھ میں آیا؟ خوب کثیر آگ لگ جائے، پھیل جائے، بچنا ممکن نہ ہو۔ معنا سمجھ میں آیا بھئی کلام کا کہ نہیں سمجھ میں آیا؟ انھوں نے ذکر کیا كَالْمَوْتِ حَتْفِ انْفِهِ یہ قدرتی موت کو، طبعی موت کو کیا کہتے ہیں؟ بھئی کوئی شخص قدرتی موت مر جائے، عربی میں کہتے ہیں مَاتَ فُلَانٌ حَتْفَ انْفِهِ، فلاں طبعی موت مر گیا، قدرتی موت مر گیا، معلوم ہوا نہ اسے کسی نے قتل کیا ہے، نہ وہ کہیں پانی میں غرق ہوا ہے، نہ کوئی اور مسئلہ، بس طبعی موت مرا ہے۔ بھئی کیوں؟ اس کو مَاتَ حَتْفَ انْفِهِ کیوں کہتے ہیں؟ بھئی یاد رکھو، یہ عرب کا قدیم عقیدہ تھا، زمانہ جاہلیت میں، عرب کا یہ عقیدہ تھا کہ کسی شخص کو جب قتل کیا جائے تلوار وغیرہ سے، تو جہاں تلوار کا زخم لگا، وہیں سے اس کی روح نکلتی ہے۔ جب کسی شخص کو تلوار یا تیر یا نیزے سے قتل کیا جائے، تو جہاں زخم لگا ہے وہیں سے اس کی روح نکلتی ہے، لیکن جو شخص قدرتی موت مرتا ہے، اس کی روح ناک سے نکلتی ہے۔ کہاں سے نکلتی ہے؟ ناک سے نکلتی ہے۔ یہ عقیدہ تھا ان کا ویسے جاہلیت کا، سمجھ میں آیا؟ تو جو قدرتی موت مرتا تھا، کہتے تھے وہ اپنی ناک کی موت مرا ہے۔ أَنف کس کو کہتے ہیں؟ ناک، وہ اپنی ناک کی موت مرا ہے یعنی ناک سے اس کی روح نکلی ہے۔ تو حتف موت کو کہتے ہیں، کَالْمَوْتِ حَتْفِ انْفِهِ ایسی موت، جو ناک کی موت مرا ہے، فلاں ناک کی موت۔ أَمَّا إِذَا سُرِقَ اسی طرح مولانا، اگر چوری کر لیا گیا، آپ نے درزی کو سوٹ دیا تھا، کپڑا دیا تھا، سینے کے لیے، کپڑا اس سے چوری ہوا، اس پر ضمان آئے گا یا ضمان نہیں آئے گا؟ صاحبین فرماتے ہیں؛ اس نے اگرچہ پوری حفاظت کی تھی، دکان کو تالا لگا کر گیا تھا، بند کر کے گیا تھا، اچھی طرح، لیکن پھر کوئی چور آیا، اور اس نے دکان کا تالا توڑا اور سوٹ لے گیا، تو کہتے ہیں پھر بھی اس پر ضمان آئے گا۔ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ ضمان آئے گا، کوتاہی اگرچہ اس نے نہیں کی، پھر بھی یہاں ضمان آئے گا، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہاں پر جو ہے، جب اجیرِ مشترک کو ہم سامان دیتے ہیں، کام، اس پر، کام کے لیے، بس دھوبی کو دھونے کے لیے دیا یا درزی کو سینے کے لیے دیا، تو اس پر دو کام ہوتے ہیں، ایک اس کا، وہ عمل بھی کرنا ہوتا ہے، اور چیز کی حفاظت بھی اس پر ضروری ہوتی ہے، کیونکہ بغیر حفاظت کے، وہ اس پر اپنا عمل پورا کر سکتا ہے؟ عمل نہیں۔ تو حفاظت بھی اس پر ضروری تھی، اور عمل بھی، تو گویا یہ جو ہم اس کو اجرت دے رہے ہیں، یہ دو چیزوں کے بدلے میں دے رہے ہیں، ایک عمل پر، اور ایک حفاظت پر، کیونکہ بغیر حفاظت کے عمل نہیں ہو سکتا۔ تو لہذا اب چیز چوری ہوئی، معلوم ہوا اس کی طرف سے کوتاہی پائی گئی۔ اس نے جس چیز کی اجرت لی تھی، اس کام کو پورا نہیں کیا، کوتاہی ہوئی، تو اس پر کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا۔ وَأَمَّا إِذَا سُرِقَ وَالْحَالُ أَنَّهُ لَمْ يَقْصُرْ فِي الْمُحَافَظَةِ باقی اگر کپڑا، وہ چیز چرا لی جائے، اور حال یہ ہے کہ اس نے کوتاہی بھی نہیں کی ہے، حفاظت کرنے میں، يَضْمَنُ عِنْدَهُمَا تو بھی ضامن ہوگا صاحبین کے نزدیک، كَمَا فِي الْوَدِيعَةِ الَّتِي تَكُونُ بِأَجْرٍ جیسے اس امانت کے اندر ہے جو اجرت کے بدلے ہو۔ بھئی دیکھو، میں نے ایک آدمی کو ایک کپڑا اس کے پاس رکھوایا یا کوئی سامان رکھوایا، میں نے کہا بھئی، میں تمہیں مہینے کے دس درہم دوں گا، ایک مہینہ اس کو اپنے پاس رکھو، حفاظت کے ساتھ۔ اب یہ امانت ہے اس کے پاس، لیکن یہ امانت کس کے ساتھ ہے؟ اجرت کے بدلے ہے، اور یہ امانت جو اجرت کے بدلے ہو، اس میں ضمان آیا کرتا ہے، تو یہاں بھی اجرت کس کے مقابلے میں آ گئی؟ حفظ کے لیے اجرت آ گئی، اور حفظ کے لیے جب اجرت آ جائے تو کیا کرتا ہے؟ ضمان۔ كَمَا فِي الْوَدِيعَةِ الَّتِي تَكُونُ بِأَجْرٍ جیسے کہ اس ودیعت کے اندر ہوتا ہے جو اجرت کے ساتھ ہو، فَإِنَّ الْحِفْظَ مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهِ اس لیے کہ حفاظت کرنا یہ مستحق علیہ ہے، کیا ہے؟ اس کا بھی استحقاق ہے، یعنی یہ بھی اس پر ضروری ہے۔ وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَرَى أَنَّ الْأُجْرَةَ فِي مُقابَلَةِ الْعَمَلِ دُونَ الْحِفْظِ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجرت صرف عمل کے مقابلے میں ہے، حفظ کے مقابلے میں نہیں۔ صاحبین تو فرما رہے تھے دونوں کے مقابلے میں ہے، تو یہ صرف عمل کے مقابلے میں ہے، حفظ کے مقابلے میں نہیں، فَصَارَ كَالْوَدِيعَةِ بِلَا أَجْرٍ تو یہ کس کی طرح ہوا؟ ودیعت بلا اجر کی طرح، کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے بغیر اجرت کے، اور جب امانت رکھوائی جائے بغیر اجرت کے، تو اس میں ضمان نہیں آتا۔ تو یہ اس کی طرح ہے، لہذا ضمان نہیں آئے گا۔ أَمَّا إِنْ شُرِطَ الضَّمَانُ، فَعِنْدَ بَعْضِ الْمَشَايِخِ أَنَّهُ يَضْمَنُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَعِنْدَ الْبَعْضِ أَنَّهُ لَا يَضْمَنُ، وَفِي الْمَتْنِ اخْتَارَ هَذَا؛ لِأَنَّ شَرْطَ الضَّمَانِ فِي الْوَدِيعَةِ بَاطِلٌ. باقی اگر ضمان کی شرط لگا دی جائے، اچھا، بھئی، اگر ضمان کی شرط لگا دی، پھر؟ ضمان آئے گا یا ضمان نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں اس بارے میں فقہاء کے دو قول ہیں۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ امام صاحب اس صورت میں بھی فرماتے ہیں کہ ضمان نہیں آئے گا، اور بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ امام صاحب کے نزدیک اس صورت میں ضمان آئے گا، اور متن نے کون سی صورت اختیار کی؟ کہ اگر شرط لگا دو، پھر بھی ضمان نہیں آئے گا؛ کیونکہ ضمان کی شرط لگانا امانت کے اندر باطل ہے۔ لَكِنْ يُمْكِنُ أَنْ يُقَالَ: إِنَّهُ إِذَا شُرِطَ الضَّمَانُ فَكَأَنَّ الْأُجْرَةَ فِي مُقابَلَةِ الْعَمَلِ وَالْحِفْظِ جَمِيعًا، فَفَارَقَ الْوَدِيعَةَ الَّتِي لَا أَجْرَ فِيهَا. لیکن ممکن ہے کہ کہا جائے بھئی، اس کے جواب میں علامہ صدر الشریعہ جواب دے رہے ہیں۔ کیا ذکر کیا؟ کہ ودیعت کے اندر ضمان کی شرط لگانا باطل ہے، تو اس کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ جب اس نے شرط لگا دی، تو گویا اب وہ اجرت جو ہے، وہ صرف عمل پہ نہیں دے رہا، بلکہ عمل اور حفظ دونوں پر دے رہا ہے، تو یہ ودیعت بلا اجر ہوئی یا ودیعت باجر ہوئی؟ یہ ودیعت باجر ہوئی، اور ودیعت باجر میں تو ضمان آیا کرتا ہے، تو لہذا یہاں بھی ضمان آئے گا۔ بَلْ مَا تَلِفَ بِعَمَلِهِ كَدَقِ الْقَصَّارِ وَنَحْوِهِ كَزَلْقِ الْحَمَّالِ وَشَدِّ الْمُكَارِي وَمَدِّ الْمَلَّاحِ مَضْمُونٌ عَلَيْهِ. بلکہ وہ چیز جو تلف ہو جائے اس کے عمل کی وجہ سے، یعنی چیز کے تلف کر دینے میں اگر اس کے عمل کا دخل ہوگا، تو پھر اس پہ ضمان آئے گا۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ بھئی اس کے پاس سامان رکھا تھا، چوری ہو گیا، تو اس کا کوئی دخل ہے؟ امام صاحب فرماتے ہیں ضمان نہیں آئے گا، لیکن اگر اس کے اپنے عمل کا دخل ہوا، مثلاً آپ نے کپڑا کس کو دیا تھا؟ دھوبی کو دھلنے کے لیے، اس نے کپڑے کو اتنا کوٹا، اتنا کوٹا کہ کپڑا پھٹ گیا، تو اس صورت میں اس پر کیا آئے گا؟ کیونکہ کپڑے کے خراب ہونے میں، ہلاک ہونے میں اس کے عمل کا دخل آیا، اور جب اس کے عمل کا دخل آئے گا تو اس پر ضمان آئے گا۔ یہ معنی ہے، بَلْ مَا تَلِفَ بِعَمَلِهِ بلکہ وہ چیز جو تلف ہو گئی اس کے عمل کی وجہ سے، كَدَقِ الْقَصَّارِ جیسے دھوبی کا کوٹنا ہے، دَقَّ کا معنی کوٹنا، وَنَحْوِهِ اور اس جیسی اور چیزیں جو ہیں، كَزَلْقِ الْحَمَّالِ جیسے بوجھ اٹھانے والے کا پھسل جانا۔ زَلَق کا کیا معنی؟ پھسلنا۔ بھئی دیکھو، میں نے ایک شخص کو کہا بھئی اجیر! کہ بھئی یہ مٹکے اٹھاؤ اور فلاں جگہ پر پہنچا دو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اب وہ مٹکے اٹھا کر چل پڑا، راستے میں اس کا پاؤں پھسلا، وہ گرا، سارے مٹکے ٹوٹ گئے، اب اس پر ضمان آئے گا بھئی۔ کیا ہوگا؟ ضمان آئے گا۔ زَلَقُ الْحَمَّالِ جیسے حمال بوجھ اٹھانے والے کا پھسل جانا ہے، وَشَدُّ الْمُكَارِي۔ مُكَارِي کہتے ہیں کرایہ پر چیز دینے والا۔ مُكَارِي کسے کہتے ہیں؟ کرایہ پر چیز دینے والا۔ تو ہر شخص جو کوئی بھی چیز کرایہ پر دینے والا ہے وہ مُكَارِي ہے، لیکن اب یہ غالب ہو گیا استعمال ہوتا ہے حَمَّار اور بَغَّال پر، مولانا! کس پر؟ حَمَّار یعنی گدھے کرایہ پر دینے والا اور بَغَّال خچر کرایہ پر دینے والا، اس کے لیے لفظ مُكَارِي بولا جاتا ہے۔ مُكَارِي عام تھا، ہر وہ شخص جو کوئی چیز کرایہ پر، لیکن اب غالب استعمال کس میں ہونے لگا ہے؟ حَمَّار اور بَغَّال، جو گدھے کرایہ پر دیتا ہے اور جو خچر کرایہ پر دیتا ہے، اس کو ہم مُكَارِي کہتے ہیں۔ اور شَدّ کا معنی ہے باندھنا، شَدّ کا معنی باندھنا۔ بھئی میں نے ایک گدھے والے کو کہا یہ مٹکے آپ اپنے گدھے پر رکھیں اور فلاں جگہ پہنچا دیں بھئی۔ اس سے گدھا کرایہ پر لیا بھئی، اس نے کیا کیا؟ گدھے پر کیا کیے؟ مٹکے باندھ دیے، لے کر چل پڑا، رسّی سے اس نے مٹکے باندھے ہوئے تھے بھئی، وہ رسّی کیا ہوئی؟ ٹوٹ گئی یا کھل گئی اور وہ گھڑے گھڑے مٹکے نیچے گرے اور ٹوٹ گئے، تو اس پر کیا آئے گا؟ ضمان کیونکہ اس کے عمل کا دخل آیا، باندھے کس نے تھے؟ اس نے باندھے تھے بھئی۔ یہ معنی ہے وَشَدُّ الْمُكَارِي اور کرایہ پر دینے والے کے باندھنے کے، باندھنا ہے جیسے، وَمَدُّ الْمَلَّاحِ، مَدّ کا معنی ہے کھینچنا، مَلَّاح کشتی چلانے والا بھئی۔ بھئی میں نے کیا کیا؟ سامان لے کر آیا، مَلَّاح کے حوالے کیا۔ کیا کیا؟ مَلَّاح کے حوالے کیا اور اسے کہا یہ فلاں جگہ پہنچا دو بھئی، دوسری طرف فلاں آدمی کو پہنچا دو بھئی۔ اس نے وہ سامان کشتی میں رکھا اور اب کھڑا ہوا اور کشتی کو رسی سے کھینچا بھئی۔ سمجھ میں آئے، آپ نے دیکھا ہو بھئی کشتی کو کھینچ کر کنارے کی طرف ذرا لے آتے ہیں، باندھ دیتے ہیں، پھر جب چلنے لگتے ہیں اسے کھینچتے ہیں رسی سے۔ اب اس نے رسی سے کشتی کو کھینچا گہرے پانی کی طرف، یا وہ دوسرے کنارے پہ پہنچ گیا تھا اور گہرے سے کس کی طرف کھینچ رہا ہے؟ تھوڑے پانی کی طرف، بس اس نے رسی کھینچی، کھینچنے اس نے ذرا کھینچا اور کشتی کا توازن صحیح نہ رہا اور کشتی ڈوب گئی، سامان سارا خراب ہوا، ضائع ہو گیا، تو اب اس صورت میں بھی اس پر ضمان آئے گا کیونکہ اس کے عمل کا دخل آگیا۔ یہ معنی ہے وَمَدُّ الْمَلَّاحِ اور مَلَّاح کا کھینچنا، مَضْمُونٌ عَلَيْهِ یہ کیا ہے؟ مَضْمُونٌ عَلَيْهِ ہے یعنی اس پر اس کا ضمان آئے گا بھئی۔ وَهَذَا عِنْدَنَا یہ ہمارے نزدیک ہے مولانا، وَعِنْدَ زُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمُ اللَّهُ لَا يَضْمَنُ۔ امام زُفر امام شافعی فرماتے ہیں یہ ضامن نہیں ہوگا، لِأَنَّهُ يَعْمَلُ بِإِذْنِ الْمَالِكِ اس لیے کہ وہ عمل کرتا ہے کس کی اجازت سے؟ مالک کی اجازت سے۔ بھئی یہاں پر دھوبی ہے، یہاں پر بوجھ اٹھانے والا ہے، کرایہ پر جانور دینے والا ہے یا مَلَّاح ہیں، انہوں نے جو بھی عمل کیا کس کی اجازت سے کیا؟ مالک کی اجازت سے انہوں نے کپڑے کو کوٹا تھا یا اس نے سامان سر پر رکھا تھا یا اس نے جانور پر باندھا تھا یا اس نے کشتی میں رکھا تھا۔ تو لہذا جب مالک کی اجازت سے رکھا ہے تو مالک کی طرف سے ان اچیجوں کی اجازت تھی گویا۔ کیا تھی؟ اس کے عمل کی اجازت ہو گئی، جب عمل کی اجازت ہو گئی تو عمل کبھی ٹھیک ہوتا ہے کبھی خراب ہوتا ہے، دونوں کی اس کی کیا ہے؟ اجازت ہے۔ اس کو مطلقا اس کے عمل کی اجازت ہو گئی، چاہے ٹھیک عمل ہو چاہے خراب کر دینے والا عمل ہو، دونوں کی اجازت ہو گئی۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی! اجازت اس کو ٹھیک عمل کی تو ہے، ایسے عمل کی نہیں ہے جس سے چیز کیا ہو جائے؟ خراب ہو جائے۔ تو کہتے ہیں مولانا ہماری دلیل یہ ہے ان المأمور به العمل الصالح کہ مأمور به (یعنی وہ چیز جس کا حکم دیا گیا ہے) وہ عمل صالح ہے (یعنی ٹھیک عمل کا حکم دیا گیا ہے، خراب کر دینے والے عمل کا حکم نہیں)۔ اقُولُ مَاتِن صاحب علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ مَا تَلِفَ بِعَمَلِهِ عَمَلًا جَاوَزَ فِيهِ الْقَدْرَ الْمُعْتَادَا۔ بھाई علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں کہ اس میرے خیال میں اس سے کیا مراد ہے؟ یہ جو عمل ہیں، کہتے ہیں ان پر ضمان اس صورت میں آئے گا جب وہ معمول کے مطابق جو عمل ہوتا ہے اس سے تجاوز کر جائیں۔ کیا کر جائیں؟ عادت کے موافق اگر وہ کپڑے کو کوٹ رہا ہے، پھر تو اس کی طرف سے تعدی نہیں، لیکن اگر خوب زور لگا کر کوٹ رہا ہے تو یہ کیا کر رہا ہے؟ تعدی، تو اب ضمان آئے گا۔ تو اگر اس کا عمل معمول کے مطابق ہے، عادت کے موافق ہے تو اس پر ضمان۔ تو لہذا متن میں جو عمل آیا کہ جو چیز اس کے عمل سے ضائع ہو جائے، اس کا اس پر ضمان آئے گا۔ اس عمل سے کون سا عمل مراد ہے؟ معتاد یا غیر معتاد؟ تو غیر معتاد بھئی۔ یا وہ عمل مراد ہے جس میں معتاد کا پتہ ہی نہیں چلتا بھئی۔ بھئی یہ کپڑے کے کوٹنے میں تو معتاد اور غیر معتاد کا پتہ ہے بھئی، پتہ ہے لوگوں کو کہ اس مرتبہ اس نے زور سے کوٹ رہا ہے، یہ تو بھئی عموما کوٹتے ہیں اتنے زور سے، اور اس سے زیادہ زور سے کوٹا ہے، دیکھنے والا فورا بتا دے گا کہ یہ معتاد عمل سے زیادہ متعدی کر رہا ہے۔ لیکن بعض کاموں کے اندر معتاد اور غیر معتاد کا پتہ نہیں چل سکتا، تو عمل اس کا اگر معتاد سے تجاوز کر جائے تو بھی اس پر ضمان آئے گا اور یا اس کا عمل ایسا ہے جس میں معتاد اور غیر معتاد کا پتہ تو اس عمل کے یہ دو قسم کے اگر عمل ہوں تو اس پر ضمان آئے گا یہ دو عمل مراد ہیں متن میں۔ کون کون سے؟ ایک وہ جو معتاد سے زائد ہو اور ایک وہ جس میں معتاد کا پتہ ہی نہ چلتا ہو۔ باقی معتاد اس میں داخل نہیں۔ اقُولُ میں کہتا ہوں يَنْبَغِي مناسب یہ ہے أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ مَا تَلِفَ بِعَمَلِهِ کہ مناسب یہ ہے کہ مَاتِن کی مراد اپنے اس قول کے ساتھ جو اس نے ذکر کیا کہ مَا تَلِفَ بِعَمَلِهِ اس سے کیا مراد ہے؟ عَمَلًا ایسا عمل مراد ہے جَاوَزَ فِيهِ الْقَدْرَ الْمُعْتَادَا کہ جس میں تجاوز کر جائے مقدار معتاد سے تجاوز کر جائے، کر جائے عَلَى مَا يَأْتِي فِي الْحَجَّامِ جیسے کہ بنا جیسے کہ کس میں آئے گا؟ بنا پر اس کے جو حجام کے مسئلے میں آئے گا آگے حجام بھئی۔ حجام کس کو کہتے تھے؟ بچنے لگا جاتا تھا ایک خاص آلے کے ذریعے خون کھینچ کر جسم سے نکالتا تھا۔ تو حجام کو اگر کسی نے بلوایا اور اس کی اس نے خون کھینچا، اگر معتاد طریقے سے اس نے سینگی لگائی یا خون کھینچا تو اس پر ضمان نہیں، اور اگر غیر معتاد طریقے سے سینگی لگائی اور خون کھینچا اور اس کی وجہ سے وہ شخص ہلاک ہوا تو اس پر کیا ہوگا؟ ضمان آئے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ ہلاک ہو گیا اس کو کوئی نقصان ہوا تو اس کا اس پر ضمان آئے گا مولانا۔ تو معلوم ہوا حجام کے اندر متن میں بتلائیں گے کہ ایک معتاد عمل ہے، ایک غیر تو یہاں پر بھی کون سا عمل مراد ہونا چاہیے؟ معتاد ہونا چاہیے بھئی۔ أَوْ عَمَلًا يَا ایسا عمل لَا يُعْتَادُ فِيهِ الْمِقْدَارُ الْمَعْلُومُ کہ جس میں معتاد نہیں ہے کوئی معلوم مقدار، یعنی کسی معلوم مقدار کے کا پتہ نہیں کہ وہ معتاد ہے یا معتاد کتنی معلوم مقدار معتاد ہے اور کتنی معلوم مقدار معتاد نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دو عمل مراد وَلَا يَضْمَنُ بِهِ آدَمِيًّا غَرَقَ فِي السَّفِينَةِ أَوْ سَقَطَ مِنْ دَابَّةٍ بَيّ۔ بھाई صورت مسئلہ یہ ہے بھئی، حمال نے کیا کیا؟ حمال کی رسی بندھی ہوئی تھی، سامان بندھا ہوا تھا، اور سامان بھی اوپر پڑا ہے، آدمی بھی اوپر بیٹھا ہوا ہے، وہ رسی ٹوٹ گئی، آدمی گر پڑا اور ہلاک ہوا، تو کیا اس آدمی کا اس پر ضمان آئے گا یا ضمان نہیں؟ کہتے ہیں اس کا آدمی کا ضمان نہیں، سامان کا ضمان آئے گا، آدمی کا ضمان نہیں آئے گا۔ یہ اسی طرح مولانا مُلَّاح نے کشتی کھینچی، اس کھینچنے کی وجہ سے کشتی الٹی، سامان بھی ڈوب گیا اور ایک آدمی بھی ڈوب گیا، تو کیا اس پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں سامان کا ضمان تو آئے گا، آدمی کا ضمان نہیں۔ یہ معنی ہے وَلَا يَضْمَنُ بِهِ اور ضامن نہیں ہوگا اس عمل کی وجہ سے آدَمِيًّا ایسے آدمی کا غَرَقَ فِي السَّفِينَةِ جو غرق ہو گیا ہے کس میں؟ کشتی میں، أَوْ سَقَطَ مِنْ دَابَّةٍ یا گرا ہے کس سے بھئی؟ جانور سے۔ اَي آدَمِيًّا غَرَقَ بِسَبَبِ مَدِّ السَّفِينَةِ ایک ایسا آدمی جو گر گیا ڈوب گیا ہے کشتی کو کھینچنے کی وجہ سے أَوْ سَقَطَ مِنْ دَابَّةٍ یا گرا ہے جانور سے بِسَبَبِ شَدِّ الْمُكَارِي اس کرایہ پر دینے والے کے باندھنے کی وجہ سے (سمجھیں؟ یعنی اس کی رسی ٹوٹ گئی وہ باندھنا اس سے تھا اور رسی ٹوٹ گئی) لِأَنَّ الْآدَمِيَّةَ غَيْرُ مَضْمُونٍ بِالْعَقْدِ اس لیے کہ آدمی مضمون بالعهد نہیں ہے مولانا، عقد کی وجہ سے اس کا ضمان بھئی آدمی کا ضمان عقد کی وجہ سے نہیں آیا کرتا، بل بِالْجِنَايَةِ بلکہ کس کی وجہ سے آتا ہے؟ جنایت کی وجہ سے آتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَلِهَذَا تَجِبُ عَلَى الْعَاقِلَةِ الضَّمَانُ اور اسی وجہ سے عاقلہ پر ضمان آیا کرتا ہے، آپ نے پڑھا ہے بھئی اس کے قبیلے والے، قوم والے بھئی، یہ عاقلہ ہیں اس کی۔ دیت جب بھی آتی ہے، ایک آدمی نے دُو ایک آدمی سے دوسرا آدمی غلطی سے مر گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، مثلاً بھئی آپ نے ایک وزیر کے سر پر جوتا لگایا اور اس جوتے کی وجہ سے وہ مر گیا بھئی۔ کیا ہوا؟ جوتے کی وجہ سے مر گیا، تو اب بھئی یہ قتل خطا ہے، کیونکہ آپ کا مقصد تو اسے مارنا نہیں تھا، جوتے سے اس لیے پٹائی کر رہے تھے۔ اب بھئی اب اس کی دیت، لیکن قتل چونکہ آپ کے ہاتھوں ہوا تو اب آپ کو دیت دینی پڑے گی، لیکن یہ دیت آپ پر نہیں آئے گی بلکہ آپ کے پورے قبیلے پر آئے گی اور تین سال کی مدت میں دینی پڑے گی۔ سو اونٹ اور تین سال کے عَرصے میں دینے پڑیں گے بھئی، تو یہ کوئی زیادہ ہے مولانا؟ پورے قبیلے پر آ رہی ہے اور تین سال میں آہستہ آہستہ دیں گے، یہ تو معلوم ہوا ہر شخص پر چند روپے ہی آئیں گے بھئی یا چند ہزار ہی، دو دو ہزار، ایک ایک ہزار آ جائے سال میں مولانا، تو یہ کوئی دیت زیادہ نہیں بھئی، دیکھو شریعت کا عجیب نظام ہے بھئی۔ یہ معنی نہیں کہ سو اونٹ اب ایک دم دو مولانا، نہیں بھئی تین سال میں آہستہ آہستہ اور تو لہذا کہتے ہیں یہ جو آدمی کا ضمان ہے یہ عقد کی وجہ سے نہیں آیا کرتا، آدمی کا ضمان کس کی وجہ سے صرف آتا ہے؟ جنایت کی وجہ سے آتا ہے، اسی لیے اگر کسی سے کوئی جنایت ہو جائے تو اس کا ضمان اس پر آتا ہے، لیکن کس پر واجب ہوتا ہے؟ اس پر نہیں بلکہ اس کی عاقلہ پر واجب ہوتا ہے، اور جب کہ یہاں پر جو ضمان آ رہا ہے وہ کس کی وجہ سے ہے؟ اگر ہم فرض کر لیں یہاں بھی ضمان آنا چاہیے تو یہ ضمان کس کی وجہ سے آئے گا؟ عقد کی وجہ سے۔ بھئی وہ رسی کس نے باندھی تھی؟ اس نے باندھی تھی۔ عقد ہوا ہے، رسی اس نے باندھی اور اس کے عمل کا دخل آیا اور وہ آدمی گر گیا، تو یہاں پر اگر ہم کہیں ضمان آنا چاہیے، تو یہ ضمان کس کی وجہ سے آئے گا؟ عقد کی وجہ سے آئے گا، کیوں؟ کیونکہ اس نے حفاظت ترک کر دی تھی۔ اس کے ذمے تو تھا حفاظت بھی کرے اور اس نے حفاظت کو کیا کر دیا؟ ترک، اسی لیے تو آدمی گرا اور ہلاک ہو گیا، اگر وہ حفاظت کرتا تو آدمی گرتا اور ہلاک ہوتا نہیں، معلوم ہوا یہاں پر اگر اس پر ہم کہیں ضمان آئے گا بھی، تو یہ ضمان آئے گا کس کی وجہ سے؟ عقد کی وجہ سے، کیونکہ عقد میں کیا تھا کہ حفاظت بھی کرو اور اس نے تو پوری طرح حفاظت نہیں کی، لہذا اس پر ترک حفظ کی وجہ سے ضمان آئے گا، جبکہ عاقلہ پر حفظ عقد کی وجہ سے کوئی ضروری تھا؟ عقد اس نے کیا تھا تو اس پر تو حفظ ضروری تھا، لیکن کیا عاقلہ پر بھی حفظ اس عقد کی وجہ سے ضروری تھا؟ عاقلہ کی بھی ذمہ داری تھی کہ عقد کی وجہ سے اب اس چیز کی کیا کرے؟ اس آدمی اور ایک اس سامان کی حفاظت کرے، یہ صرف اس کی اپنی ذمہ داری تھی، عاقلہ کی ذمہ داری نہیں تھی، تو لہذا عاقلہ پر ضمان نہیں آ سکتا، تو اس پر بھی ضمان نہیں مولانا! اس کیونکہ کیا بتلایا بھئی؟ آدمی کا ضمان جنایت کی وجہ سے آتا ہے، جب کوئی شخص جنایت کرے گا، کوئی جرم کرتا ہے، کسی کو قتل کرتا ہے، وغیرہ، خطاً بھئی، تو اس صورت میں عاقلہ پر کیا آتا ہے؟ ضمان آتا ہے تو تو یہاں پر آدمی کے اندر جو ضمان آتا ہے جنایت کی وجہ سے آیا، اسی لیے وہ عاقلہ پر واجب ہوتا ہے اور عاقلہ وہ دینا پڑتا ہے۔ عاقلہ سے مراد اس کے خاندان والے، قبیلے والے ہیں، مولانا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہذا کہتے ہیں آدمی جو ہوتا ہے وہ مضمون عقد اس کا وہ عقد کی وجہ سے مضمون نہیں ہوتا بلکہ جنایت کی وجہ سے مضمون ہوتا ہے، اور اسی لیے چونکہ وہ جنایت کی وجہ سے مضمون ہے تو عاقلہ پر بھی کیا ہے اس کا ضمان آتا ہے اور عاقلہ اور قبیلے والے خاندان والے وہ ادا کرتے ہیں۔ وَزَمَانُ الْعُقُودِ لَا يَحْتَمِلُهُ الْعَاقِلَةُ کہ عقود کا جو ضمان ہے وہ عاقلہ اس کو نہیں اٹھاتی بھئی، عاقلہ پر وہ نہیں آتا بھئی، اس کا بوجھ نہیں پڑتا۔ تو کہتے ہیں لِأَنَّ الْآدَمِيَّ غَيْرُ مَضْمُونٍ بِالْعَقْدِ اس لیے کہ آدمی وہ مضمون نہیں ہے عقد کی وجہ سے، بل بِالْجِنَايَةِ بلکہ وہ مضمون کس کی وجہ سے ہوتا ہے؟ جنایت کی وجہ سے اور اسی لیے چونکہ وہ جنایت کی وجہ سے مضمون ہے تو عاقلہ پر بھی کیا ہے اس کا ضمان آتا ہے اور عاقلہ قبیلے والے خاندان والے وہ ادا کرتے ہیں وَزَمَانُ الْعُقُودِ لَا يَتَحَمَّلُهُ الْعَاقِلَةُ کہ عقود کا جو ضمان ہے وہ عاقلہ اس کو نہیں اٹھاتی بھئی، عاقلہ پر وہ نہیں آتا بھئی، اس کا بوجھ نہیں پڑتا۔ لِأَنَّ الْآدَمِيَّ غَيْرُ مَضْمُونٍ بِالْعَقْدِ اس لیے کہ آدمی وہ مضمون نہیں ہے عقد کی وجہ سے، بل بِالْجِنَايَةِ بلکہ وہ جنایت کی وجہ سے مضمون ہوتا ہے، وَلِهَذَا تَجِبُ عَلَى الْعَاقِلَةِ الزَّمَانُ اسی وجہ سے عاقلہ پر بھی ضمان آیا کرتا ہے جنایت کی وجہ سے، وَزَمَانُ الْعُقُودِ لَا يَتَحَمَّلُهُ الْعَاقِلَةُ کہ عقود کا جو ضمان ہے وہ عاقلہ برداشت نہیں کر سکتی، وہ نہیں اٹھا عاقلہ اٹھ نہیں سکتی۔ کیوں کہ ان پر ذمہ داری نہیں تھی، تو ذمہ داری نہیں تو ان پر ضمان بھی نہیں۔ وَلَا حِجَّامٍ أَوْ بَزَّاضٍ أَوْ فَصَّادٍ لَمْ تُجَاوِزِ الْمُعْتَادَا لَمْ تُجَاوِزِ الْمُعْتَادَا۔ حجام کسے کہتے ہیں بھئی؟ بچنے لگاتا ہے، سینگی لگاتا ہے، خاص آلہ ہوتا ہے اس کے لگا کر بدن سے خون کھینچتا ہے۔ فَصَّاد، فَصَّاد، فَصَّاد بھی اسی طرح ہے مولانا بدن سے خون نکالتا ہے، لیکن یہ حجام تو آلہ لگا کر منہ سے خون کھینچتا ہے، فَصَّاد کیا کرتا ہے؟ تیز دھار کا آلہ ہوتا ہے بلیڈ وغیرہ مثلاً دیکھ لیں، اور اس کے ذریعے وہ کوئی خاص مقام ہوتا ہے وہاں پر رگ کاٹتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ رگ کاٹتا ہے، مثلاً یہ ایڑی کے قریب مولانا، ایڑی کے قریب کیا ہے؟ رگ کاٹتا ہے، پنڈلی سے نیچے چلے جائیں بھئی، ایڑی سے اوپر یہ جو ٹخنوں کے ساتھ باریک حصہ جو آ جاتا ہے، یہاں پر بعض کہتے ہیں یہاں پر بعض وہ رگ کاٹتے ہیں اور بھی جسم کے حصے مثلاً یہ ایک مقام ہے، یہاں پر خاص رگ ہوتی ہے اس کو کاٹتا ہے بلیڈ سے اور پھر اس سے کافی سارا فاسد خون جسم سے نکل جاتا ہے اور اس سے بڑا جسم کو نفع ہوتا ہے مولانا، کئی بیماریوں سے شفا حاصل ہو جاتی ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں فَصَّاد، فصد لگاتا ہے مولانا، رگ کاٹتا ہے۔ اسی طرح بَزَّاض ہے، بَزَّاض بھی اسی طرح کرتا ہے رگ کاٹتا ہے، لیکن بَزَّاض وہ ہے جو جانوروں کی رگ کاٹے خاص طور پر، فَصَّاد وہ ہے جو انسانوں میں رگ کاٹتا ہے، خون فاسد نکالتا ہے، اور بَزَّاض کسے کہتے ہیں؟ جو جانوروں میں رگ کاٹتا ہے اور خون نکالتا ہے۔ اچھا اوپر کیا آیا بھئی؟ وَلَا يَضْمَنُ بِهِ بھئی کہ اجیر مشترک کیا ہے؟ ضمان نہیں ہوگا آدمی کا، اسی طرح وَلَا حِجَّامٌ اور حجام بھی ضامن نہیں ہوگا۔ او نہیں ہوگا، اور بَزَّازٌ یا جانوروں میں رَق کاٹنے والا بھی ضامن نہیں ہوگا، اور فَسَّادٌ یا انسانوں میں رَق کاٹنے والا وہ بھی ضامن نہیں ہوگا۔ لَمْ تُجَاوِزِ الْمُعْتَادَةَ، دیکھا نکرہ ہے مولانا! اور نکرہ کے بعد کیا رہی ہے؟ اس کے بعد فعل آ رہا ہے بھئی وہ۔ بھئی دیکھو! حَجَّام، بَزَّاز، فَسَّاد ان کا عطف ہو رہا ہے ایک دوسرے پر اور یہ نکرہ ہیں اور نکرہ کے بعد فعل آ رہا ہے، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کی کیا بنتا ہے؟ صِفَت مولانا! صِفَت۔ تو ان سے پہلے کیا لفظ لے آئیں؟ ایسا۔ تو ایسا حَجَّام یا بَزَّاز یا فَسَّاد بھی ضامن نہیں ہوگا لَمْ تُجَاوِزِ الْمُعْتَادَةَ جس نے مُعْتَاد سے تجاوز نہیں کیا، عادت کے موافق عمل کیا ہے، اس سے تجاوز نہیں کیا بھئی۔ فَإِنْ انْكَسَرَ دَنٌّ فِي طَرِيقِ الْفُرَاتِ؛ ضَمِنَ الْحَمَّالُ۔ ضَمَّنَ الْحَمَّالَ، ضَمَّنَ پڑھیں اس کو! ضَمَّنَ الْحَمَّالُ قِيمَتَهُ فِي مَكَانِ حَمْلِهِ بِلَا أَجْرٍ، أَوْ فِي مَوْضِعِ كَسْرِهِ مَعَ حِصَّةِ أَجْرِهِ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی؛ میں نے ایک بوجھ اٹھانے والے سے کہا بھئی کہ یہ مٹکا اٹھاؤ اور اس کو فلاں مقام پر پہنچا دو۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً بھئی کہاں بھئی! مارکیٹ کدھر ہے مٹکوں کی بھئی؟ یہ شالمی میں ہے؟ اچھا بھئی! وہ شالمی میں، مثلاً میں نے کہا بھئی! مثلاً یہ مٹکا اٹھاؤ بھئی اور اس کو اب کہاں پہنچاؤ؟ اور شالمی سے تو وہ اٹھا رہا ہے بھئی! اس کو اٹھاؤ اور اس کو پہنچاؤ، مثلاً گلبرگ میں فلاں جگہ پر مٹکا پہنچانا ہے آپ نے۔ وہ مٹکا اس نے اٹھایا لے کر چل پڑا بھئی۔ اب آگے راستے میں پہنچا تھا، اِچھرے کے قریب پہنچا تھا کہ اس سے وہ مٹکا گرا اور ٹوٹ گیا۔ مٹکا گرا اور ٹوٹ گیا، تو اب مولانا! مٹکے والے کو اختیار ہے چاہے تو اس کو ضامن بنا دے مٹکے کی اس قیمت کا جو شالمی میں تھی، جو کہاں پر تھی؟ اور شالمی میں تھا یہ گھڑا مثلاً 15 روپے کا، تو میں چاہوں تو اس سے کیا لےلوں؟ 15 روپے زمان لےلوں بھئی، 15 روپے زمان مٹکے کی قیمت۔ اور جب میں نے وہ قیمت لگائی جو شالمی میں ہے، تو اس کے عمل آیا؟ بھئی شالمی کے اندر جب مٹکا تھا تو اس کا عمل تھا؟ نہیں، تو اس کا عمل نہیں، لہٰذا اس کو اجرت نہیں ملے گی، اور میں چاہوں تو میں مٹکے کی وہ قیمت اس سے وصول کروں جو کہاں پر تھی؟ جہاں مٹکا ٹوٹا ہے یعنی اِچھرے میں، اور یہاں تو مثلاً وہ مٹکا کتنے کا تھا؟ 20 روپے کا تھا، تو میں چاہوں تو اس سے پھر 20 روپے لے لوں، لیکن چونکہ اِچھرے تک مٹکا آ گیا، معلوم ہوا اس نے کچھ عمل بھی کر لیا، تو اب اس عمل کی بھی اسے پھر اجرت دینی پڑے گی۔ کیا کرنی پڑے گی؟ اجرت۔ تو لہٰذا اب اس تو خلاصہ بحث یہ ہے کہ مٹکے والے سے مٹکا ٹوٹ جائے تو چاہے تو مٹکے والے کو اختیار ہے یا تو اس کو اس سے ضامن بنا دے مٹکے کی اس قیمت کا جو جہاں پر اس نے مٹکا اٹھایا تھا اور اس صورت میں اس کو اجرت نہیں ملے گی، اور چاہے تو اسے ضامن بنا دے اس قیمت کا جہاں پر مٹکا ٹوٹا ہے اور اس صورت میں پھر اس کو عمل کی اجرت بھی ملے گی۔ فَإِنْ انْكَسَرَ دَنٌّ، دَنٌّ مٹکے کو کہتے ہیں نون مشدد ہے مولانا! فَإِنْ انْكَسَرَ دَنٌّ اگر مٹکا ٹوٹ گیا فِي طَرِيقِ الْفُرَاتِ دریائے فرات کے راستے میں۔ بھئی دریائے فرات کو کیوں ذکر کر دیے؟ کہتے ہیں ویسے ہی ذکر کیا کیونکہ مٹکے اس کے پاس بکتے تھے عموماً بھئی۔ زیادہ مٹکے عموماً وہاں بکا کرتے تھے، تو مسئلہ اسی طرح ذکر ہوا تو پھر اسی طرح اس کو برقرار رکھا، متون والے اسی طرح ذکر کرتے چلے جاتے ہیں۔ اگر کوئی مٹکا ٹوٹ گیا دریائے فرات کے راستے میں؛ ضَمِنَ الْحَمَّالُ تو ضامن بنا دے حَمَّال کو قِيمَتَهُ فِي مَكَانِ حَمْلِهِ اس مٹکے کی اس قیمت کا جو کہاں پر تھی؟ اس کے اٹھانے کی جگہ کے اندر بِلَا أَجْرٍ بغیر اجرت کے یعنی اجرت نہ دے اس صورت میں، أَوْ فِي یا اس کو ضامن بنا دے قیمت کا اس مقام کے اندر كَسَرَهُ جہاں پر اس نے مٹکے کو توڑا ہے، مَعَ حِصَّةِ أَجْرِهِ ساتھ اجرت کے اس صورت میں یعنی اجرت کا حصہ بھی دینا پڑے گا۔ لِأَنَّهُ لَمَّا أَوْجَبَ الزَّمَانَ فَلَهُ وَجْهَانِ اچھا بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ ہم نے اسے اختیار کیوں دیا؟ کہ جہاں مٹکا اٹھایا تھا وہاں کی آپ قیمت وصول کر سکتے ہیں اور اجرت نہیں دیں گے، یا چاہیں تو جہاں مٹکا توڑا ہے وہاں کی قیمت وصول کر لیں اور پھر اسے اجرت بھی نہیں۔ تو دونوں کا اختیار کیوں دیا؟ کہتے ہیں لِأَنَّهُ لَمَّا أَوْجَبَ الزَّمَانَ اس لیے کہ جب اس نے واجب کر دیا زمان کو فَلَهُ وَجْهَانِ تو اس کی دو وجہیں ہیں، دو صورتیں ہیں، أَحَدُهُمَا ایک صورت یہ کہ أَنْ يَجْعَلَ فِعْلَهُ تَعَدِّيًا مِنَ الِبْتِدَاءِ۔ بھئی کون سی جب وہ مٹکا لے کر وہ کہاں سے چلا تھا؟ شالمی سے تو ہم اس پر کون سی قیمت لگا دیتے ہیں؟ شالمی کی قیمت ہی لگا دیتے ہیں، کیوں؟ کہ کیونکہ کہتے ہیں یہ جو عمل تھا وہ تھا اٹھانا۔ مٹکے کا اٹھانا اور پہنچانا، اور یہ سارا ایک ہی عمل ہے، اس میں تجزی ہو سکتی ہے؟ یہ تو سارا ایک ہی عمل ہے، وہاں سے شروع ہو اور گلبرگ میں جا کر ختم ہونا تھا تو یہ سارا ایک ہی عمل تھا، اور اس عمل میں تعدی پائی گئی تو چونکہ ایک ہی عمل ہے، تو گویا یوں سمجھا گیا شروع سے ہی تعدی پائی گئی۔ کہاں سے تعدی پائی گئی؟ اور شروع کہاں پر ہو رہا تھا؟ شالمی سے لہٰذا گویا وہیں پر تعدی پائی گئی، جب وہاں تعدی پائی گئی تو وہیں کی قیمت اس پر آ جائے گی۔ وہیں کی قیمت اس پر آ جائے گی۔ یہ معنی ہے کہ أَنْ يَجْعَلَ فِعْلَهُ تَعَدِّيًا کہ مُسْتَاجِر کیا کر لیتا ہے؟ بنا دیتا ہے اس فعل کو مُتَعَدِّي، کیا بناتا ہے؟ کہ اس کے فعل میں جو ہے وہ تعدی ہے مِنَ الِابْتِدَاءِ کہاں سے؟ ابتدا سے تعدی ہے، کیونکہ فعل کون سا ہے؟ بھئی ایک ہی فعل ہے نا؟ تو اس میں کیا رہی ہے؟ تعدی۔ تو جب فعل ایک ہے تو یوں سمجھو گویا تعدی کہاں سے ہے؟ شروع سے ہی پائی جا رہی ہے اور شروع کہاں سے ہوا تھا؟ شالمی تو قیمت بھی وہیں۔ تو گویا اس کے فعل کو تعدی بنا دے گا مِنَ الِابْتِدَاءِ شروع ہی سے فَإِنَّ الْحَمْلَ شَيْءٌ وَاحِدٌ اس لیے کہ حمل کیا ہے؟ ایک ہی چیز ہے جب اس میں تجزی نہیں تو ایک فعل ہے تو اس میں جب تعدی آئی تو گویا شروع سے تعدی آئی اور جو تو لہٰذا جہاں سے شروع ہوا وہیں کی قیمت آ جائے گی، أَوْ يُجْعَلَ، أَوْ يَجْعَلَ الْأَوَّلَ بِِإِذْنِهِ ثُمَّ صَارَ تَعَدِّيًا یا یوں سمجھا جائے گا کہ گویا کہ یہاں سے وہاں سے لے کر اِچھرے تک یہ کام اجازت سے ہوا اور جب گھڑا ٹوٹا ہے وہاں سے تعدی شروع ہوئی۔ اس سے پہلے تعدی نہیں تھی، تو یہاں تک عمل پورا تو اس کی اجرت بھی دیں گے، اور یہاں پر تعدی ہے تو قیمت بھی یہاں کی واجب ہوگی، صورت سمجھ میں آگئی۔ أَوْ يَجْعَلَ الْأَوَّلَ بِِإِذْنِهِ یا اول حصے کو بھئی کر دے گا اپنی اس کی اپنی اجازت کے ساتھ ثُمَّ صَارَ تَعَدِّيًا پھر تعدی ہو جائے گی عِنْدَ الْكَسْرِ گھڑا توڑنے کے وقت میں، فَيُخْتَارُ أَنْ يَشَاءَ تو اختیار کیا کرے وہ جس کو بھی چاہے، فَيُخْتَارُ أَنْ يَشَاءَ تو لہٰذا گھڑے والا یا مُسْتَاجِر جس کو صورت کو بھی اختیار کرنا چاہے، اختیار کر سکتا ہے۔ وَالْأَجِيرُ الْخَاصُّ اب اجیر خاص کے بارے میں بتلا رہے ہیں، وَالْأَجِيرُ الْخَاصُّ اجیر خاص جو ہے يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ وہ اجْر کا مستحق ہوتا ہے بِتَسْلِيمِ نَفْسِهِ مُدَّتَهُ کہ وہ اپنے کس وجہ سے کہ اپنے نفس کو سپرد کرے مُدَّتَهُ اس مدت کے اندر، مدّتِ مدتِ عقد کے اندر وہ اپنے نفس کو سپرد کر دے۔ بھئی! آپ کا ملازم ہے۔ آپ نے اس کو ملازم رکھا ہوا ہے وہ ایک مہینے سے روزانہ آتا ہے آپ اس سے کوئی کام ہی نہیں لے رہے۔ اب مہینے بعد آپ کہتے ہیں میں تمہیں اجرت نہیں دوں گا کیونکہ تم نے کوئی کام نہیں کیا۔ بھئی! کام کے عوض میں اسے اجرت نہیں مل رہی، بلکہ اس کو اجرت کس بات سے مل رہی ہے؟ کہ اس نے اس مدت کے دوران اپنے نفس کو آپ کے سپرد کر دیا تھا، آپ چاہتے تو خدمت وغیرہ اس سے کام لے سکتے تھے آپ نے خود نہیں لی۔ لہٰذا وہ اجرت کا مستحق ہوتا ہے بِتَفْصِيلِ نَفْسِهِ مُدَّتَهُ جب وہ اپنے نفس کو سپرد کرے اس عقد کی مدت کے اندر، وَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ اگرچہ وہ کام نہ کرے، كَالْأَجِيرِ لِلْخِدْمَةِ سَنَةً جیسے وہ ملازم جو خدمت کے لیے ہو پورا سال، أَوْ لِرَعْيِ الْغَنَمِ یا بھیڑ بکریوں کو چرانے کے لیے، غنم بھیڑ بکریاں بھئی، وَيُسَمَّى أَجِيرَ وَحْدٍ، أَجِيرًا وَاحِدًا نہیں مولانا! اس کو أَجِيرُ وَحْدٍ کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ وَيُسَمَّى أَجِيرَ وَحْدٍ، وَحْد بمعنى واحد کے ہے یعنی أَجِيرَ وَحْدٍ بھئی، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ أَجِيرَ وَحْد کہتے ہیں یعنی أَجِيرَ وَاحِد کہتے ہیں، یعنی ایک کا اجیر ہے، ایک آدمی کا اجیر ہے، لِأَنَّهُ لَا يَعْمَلُ لِغَيْرِهِ اس لیے کہ وہ کسی اور کے لیے عمل نہیں کرتا، وَلَا يَضُومُ مَا تَلَفَ فِي يَدِهِ بِعَمَلِهِ اور ضامن نہیں ہوگا اس چیز کا جو تلف ہو جائے ہلاک ہو جائے اس کے ہاتھ سے بِعَمَلِهِ یا اس کے عمل سے۔ اس کے پاس ساری چیزیں کیا ہوتی ہیں؟ امانت ہوتی ہیں۔ ہاں تعدی کرے گا تو پھر اس پر زمان آئے گا۔ تو معلوم ہوا أَجِيرِ خَاص جو ہے اس میں بِالِاتِّفَاق چیزیں اس کے پاس امانت ہیں، جبکہ أَجِيرِ مُشْتَرَك میں صاحبين اور امام صاحب کا اختلاف، امام صاحب کے نزدیک وہاں بھی چیزیں امانت جبکہ صاحبين فرماتے ہیں وہاں چیزیں امانت نہیں بلکہ زمان آئے گا۔ وَصَحَّ تَرْدِيدُ الْأَجْرِ بِالتَّرْدِيدِ فِي خِيَاطَةِ الثَّوْبِ فَارِسِيًّا أَوْ رُومِيًّا۔ یہاں سے مولانا مطلق اجارہ کی بات کر رہے ہیں، اب اجیر خاص کی اور اجیر مشترک کی بات ختم ہوئی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اجیر خاص کی بات اب نہیں کر رہے مولانا! پھر مطلق اجارہ کی بات شروع کر رہے ہیں۔ وَصَحَّ تَرْدِيدُ الْأَجْرِ بِالتَّرْدِيدِ فِي خِيَاطَةِ الثَّوْبِ فَارِسِيًّا أَوْ رُومِيًّا وَصِبْغِهِ بِعُصْفُورٍ أَوْ زَافَرَانٍ وَفِي إِسْكَانِ الْبَيْتِ عَطَّارًا أَوْ حَدَّادًا حَدَّادًا وَفِي حَمْلِ أَوْ فِي حَمْلِ الدَّابَّةِ إِلَى الْكُوفَةِ أَوْ وَاسِطٍ وَفِي هَذِهِ الدَّارِ أَوْ هَذِهِ۔ اچھا و پڑھیں بھئی و! وَفِي هَذِهِ الدَّارِ أَوْ هَذِهِ وَفِي حَمْلِ كُرِّ بُرٍّ أَوْ شَعِيرٍ عَلَيْهَا وَيَجِبُ أَجْرُ مَا وُجِدَ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی! میں نے آپ کے ساتھ میں ایک کپڑا درزی کے پاس لے گیا اور اس سے میں نے کہا بھئی! اگر آپ اس کی شلوار قمیض سیئیں گے تو میں آپ کو 100 روپے دوں گا، اور اگر آپ اس کا شلوار کرتا سیئیں گے تو میں آپ کو 150 روپے دوں گا۔ شلوار قمیض میں کتنا تھا؟ 100 روپيہ اور کرتا شلوار پر 100، 150 روپے بھئی! تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ کہتے ہیں ایسا کرنا صحیح ہے اور وہ تو یہ اجارہ صحیح اور وہ جو بھی عمل کرے گا اس کے مطابق اجرت کا مستحق ہوگا، اگر شلوار قمیض سیئ تو اس کو 100 روپے اجرت دی جائے گی، اگر شلوار کرتا سیا تو اس کو 150 روپے اجرت دی۔ تو دیکھا میں نے اجرت کو بھی دائر کر دیا 150 اور 100 میں، کہ اجرت میں آپ کو 100 دوں گا یا 150 اور عمل کو بھی دائر کر دیا دو چیزوں کے اندر، یا تو عمل کیا کریں آپ شلوار قمیض سیئں یا شلوار کرتا سیئں تو دیکھو عمل بھی میں نے دائر کر دیا دو چیزوں میں سے یہ کرو یا یہ، اور اجرت بھی دائر کر دی دو چیزوں میں کہ یہ اجرت ملے گی یا یہ، یعنی یہ کرو گے تو یہ اجرت، یہ کرو گے تو یہ اجرت ملے گی، صورت سمجھ میں آئے تو یہ صحیح ہے، ایسا کرنا صحیح ہے۔ لیکن تین چیزوں تک یہ صحیح ہے، تین سے زیادہ کے اندر صحیح، مثلاً میں کہتا ہوں کہ اس کپڑے سے آپ نے یہ چیز بنائی تو 100 روپے اجرت، یہ چیز بنائی تو 200 روپے اجرت، یہ چیز بنائی تو 300 روپے اجرت، بس تین تک کے اندر ایسا کرنا جائز، چار کے اندر ایسا دائر کرنا، تردید کرنا جائز نہیں کہ چوتھی چیز اگر یہ چیز بنائی تو 400 دوں گا، یہ مولانا درست نہیں بھئی۔ قیاس کرتے ہوئے بَعْ پر، بَع کے اندر جیسے مولانا! ایک آدمی دوسرے کو خیارِ تعین دیتا تھا بھئی، کہتا تھا بھئی! میں یہ تین چار چیزیں لے جا رہا ہوں، جو مجھے ان میں سے پسند آئی وہ میں نے آپ سے خرید لی، وہ کہتا ہے ٹھیک ہے، وہ لے گیا مولانا اور ان میں سے پھر ایک چیز متعین کر لیتا ہے اور جو چیز متعین کرتا ہے، اس کے پیسے اس کو دینے پڑتے ہیں، مثلاً تین کپڑے گھر لے گیا کہ ان میں سے میں نے ایک آپ سے خرید لیا، ایک ان دونوں ان میں سے میں نے ایک آپ سے خرید لیا کس شرط پر؟ کہ تعین کا اختیار مجھے ہے، خیارِ تعین کے ساتھ، تو آپ نے پڑھا تھا یہ زیادہ سے زیادہ کتنی چیزوں میں ہو سکتا ہے؟ تین میں، کیونکہ تین کے اندر ادنی، اعلیٰ اور متوسّط تینوں قسمیں آ گئیں، لہٰذا چار کے اندر چونکہ حاجت نہیں تو چار میں جائز، تو بَعْ کے اندر جیسے تین سے زائد میں جائز نہیں تھا، اجارہ کے اندر بھی تین سے زائد کے اندر اجازت نہیں ہے۔ یہ معنی ہے وَصَحَّ تَرْدِيدُ الْأَجْرِ اور صحیح ہے مولانا اجرت کی تردید کرنا (یعنی اس کو دائر کرنا دو تین کے اندر) اور صحیح ہے اجرت کی تردید کرنا بِالتَّرْدِيدِ کے ساتھ تردید کرنے کے فَخِيَاطَةِ الثَّوْبِ کس کے ساتھ؟ کپڑے کی سلائی میں۔ اجرت کی تردید کرنا ساتھ کپڑے کی سلائی کی تردید کے کہ یہ فاریسی ہو یا رومی ہو، مثلاً اگر آپ نے یہ کپڑا فارسی طرز کا سیا، ایران والوں کے طرز کا سیا تو آپ کو اتنی اجرت، روم والوں کے طرز کا سیا تو اتنی اجرت۔ تو دیکھو سلائی میں بھی تردید کر دی اور اجرت میں بھی تردید کر دی، تو یہ معنی ہے کہ صحیح کرنا ہے اجرت کی تردید کرنا ساتھ کپڑے کی، فارسی یا رومی سلائی کی تردید کے ساتھ وَصِبْغِهِ بِعُصْفُورٍ أَوْ زَافَرَانٍ یا میں کپڑا لے گیا رنگریز کے پاس، میں نے کہا اگر آپ اسے عُصْفُر ایک بوٹی ہے جسے رنگ رنگتے ہیں جیسے زعفران ایک گھاس ہے مولانا اس کے ذریعے بھی کیا کرتے ہیں؟ رنگتے ہیں چیزوں کو، سمجھ میں آیا؟ تو اگر آپ نے اس کپڑے کو عُصْفُر بوٹی کے ساتھ رنگا تو آپ کو میں 100 روپے دوں گا اور اگر آپ نے زعفران کے ذریعے رنگا تو 150 روپے دوں گا، تو یہ درست ہے۔ یہ معنی ہے وَصِبْغِهِ اور تردید کرنا مولانا بھئی! کس کے ساتھ؟ وَصِبْغِهِ بِعُصْفُورٍ عُصْفُر کے ساتھ رنگنے کے ساتھ أَوْ زَافَرَانِ یا زعفران کے ساتھ رنگنے کے ساتھ بھئی، وَفِي إِسْكَانِ الْبَيْتِ عَطَّارًا أَوْ حَدَّادًا میں نے آپ کو مکان کرائے پر دیا، میں نے کہا بھئی! اس مکان کے اندر اگر عطر فروش کرنے والے کو ٹھہرائیں گے تو آپ کو 100 روپے اجرت مہینے کی دینا پڑے گی، اور اگر آپ اس کے اندر بھئی لوہار کو ٹھہرائیں گے تو آپ کو 150 روپے اجرت دینا پڑے گی، تو یہ بھی صحیح ہے۔ سارے تردید کی صورتیں مختلف آ رہی ہیں، وَفِي إِسْكَانِ الْبَيْتِ عَطَّارًا أَوْ حَدَّادًا اور مکان کے اندر عِطّار یا حدّاد کے ٹھہرانے میں میں بھی تردید صحیح ہے وَفِي حَمْلِ أَوْ فِي حَمْلِ الدَّابَّةِ إِلَى الْكُوفَةِ أَوْ وَاسِطٍ بھئی! میں نے کہا بھئی! یہ جو میرا سامان ہے، اگر آپ نے کوفہ تک پہنچایا تو میں آپ کو 100 روپے اجرت دوں گا، اور اگر آپ نے اس کو کہاں تک پہنچایا؟ کوفہ سے آگے بھئی بصرہ تک پہنچایا تو میں آپ کو 200 روپے اجرت دوں گا، تو یہ تردید بھی یہ معنی ہے! أَوْ فِي وَفِي وَفِي حَمْلِ دَابَّةٍ إِلَى كُوفَةٍ أَوْ وَاسِطٍ اور وہ سامان کے لے جانے میں، جانور جانور کے سامان لے جانے میں إِلَى الْكُوفَةِ کوفہ تک أَوْ وَاسِطِ یا واسط تک وَفِي هَذِهِ الدَّارِ أَوْ هَذِهِ میں نے آپ کو کہا بھئی! بھئی یہ دو مکان ہیں، اگر اس مکان کے اندر آپ ٹھہر وگے تو آپ کو 100 روپے اجرت دینا پڑے گی ایک مہینے کا 100 روپے مہینے کا کرایہ ہوگا، اور اگر اس مکان میں ٹھہر وگے تو 150 روپے مہینے کا کرایہ ہوگا، تو یہ بھی صحیح ہے۔ یعنی وَفِي هَذِهِ الدَّارِ اَوْ هَذِهِ اس مکان کے اندر یا اس مکان کے اندر ٹھہرنے کی صورت میں۔ وَفِي حَمْلِ كُرِّ بُرٍّ أَوْ شَعِيرٍ عَلَيْهَا وَيَجِبُ أَجْرُ مَا وُجِدَ میں نے کہا بھئی! یہ جانور ہے، اس جانور پر اگر آپ ایک کر گندم لے جاتے ہو اسلام آباد تک بھئی، تو اس پر آپ کو 100 روپے اجرت دینا پڑے گی، اور اگر آپ اس کو جو لاد کر لے جاتے ہو ایک کر بھئی، تو آپ کو 50 روپے اجرت دینا پڑے گی، تو یہ تردید بھی صحیح ہے۔ وَفِي حَمْلِ كُرِّ بُرٍّ أَوْ شَعِيرٍ عَلَيْهَا اور اس جانور پر ایک کر گندم یا ایک کر جو لادنے کی صورت میں بھی۔ وَيَجِبُ اور واجب ہو گا اَجْرُ مَا وُجِدَ، اَجْر اس چیز کا جو پائی گئی بھئی۔ ان میں سے مذکورہ چیزوں میں سے جو چیز پائی جائے گی اس کی اجرت کیا ہو جائے گی؟ واجب ہو جائے گی۔ مثلاً میں نے کہا تھا بھئی اگر تم اس کپڑے کو فارسی سیو گے تو سو روپیہ، رومی سیو گے تو ایک پچاس، تو جس قسم کی وہ سلائی کرے گا اتنی اجرت کا مستحق۔ یا مثلاً میں نے کہا تھا اس گھر کے اندر بھئی میرے اس کپڑے کو اگر آپ ہوسپور سے رنگو گے تو سو روپے، زعفران سے رنگو گے تو ایک پچاس، تو اس نے جو عمل کیا وہ اس کو اجرت ملے گی، سب میں اسی طرح ہے۔ أُيْ قِيلَ، اَجِیر سے کہا گیا اِنْ خِطْتَهُ فَارِسِیًّا فَبِدِرْهَمٍ وَاِنْ خِطْتَهُ رُومِیًّا فَبِدِرْهَمَیْنِ۔ اگر تو نے یہ کپڑا سیا فارسی طرز کا تو ایک درہم کے ہوگا، وَاِنْ خِطْتَهُ رُومِیًّا فَبِدِرْهَمَیْنِ اور اگر تو نے اس کو رومی سیا تو پھر دو درہموں کے بدلے۔ وَاَجَرْتُكَ هَذِهِ الدَّارَ شَهْرًا اور میں نے اجرت پر دیا آپ کو یہ والا مکان، یہ والا گھر ایک ماہ کے لیے بِدِرْهَمٍ کتنے کے عوض میں؟ ایک درہم کے عوض میں، وَهَذِهِ الدَّارَ شَهْرًا یہ والا گھر ایک ماہ کے لیے بِدِرْهَمَیْنِ کتنے کے عوض میں؟ دو درہم کے عوض میں۔ وَهَكَذَا إِذَا كَانَ فِي ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ اسی طرح کتنے میں؟ جبکہ تین چیزوں کے اندر ہو، وَفِي أَرْبَعَةِ أَشْيَاءَ لَا اور چار چیزوں کے اندر صحیح نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی، مسئلہ یہ اس لیے ذکر کیا کہ بھئی یہ تردید اجرت کے اندر اور تردید عمل کے اندر صحیح ہے یا صحیح نہیں، کیونکہ چیزیں مجہول ہو گئیں، اجرت بھی مجہول ہو گئی، عمل بھی مجہول ہو گیا۔ میں نے کہا تھا بھئی یہ کپڑا اگر رومی طرز کا سیو گے تو سو روپیہ دوں گا، فارسی طرز کا سیو گے تو ایک سو پچاس روپیہ، تو اجرت مجہول ہے ابھی مولانا! سو طے ہوئی ہے یا ایک پچاس طے ہوئی ہے؟ کچھ ابھی طے نہیں۔ اچھا، تو سلائی کون سی وہ کرے گا؟ رومی کرے گا یا فارسی؟ طے ہو گیا؟ نہیں بھئی۔ تو عمل بھی مجہول اور اجرت بھی مجہول، لیکن کہتے ہیں اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی، اس لیے کہ وہ اجرت کا مستحق عمل کی وجہ سے ہوگا، اور عمل جب پورا کرے گا، جب عمل کرے گا تو اس وقت عمل کا بھی پتہ لگ گیا اور اجرت کا بھی۔ جب اس نے رومی سی لیا تو عمل متعین ہوا کون سا عمل کیا اس نے؟ رومی سلائی کی ہے، اور اجرت کا بھی پتہ لگ گیا کہ اس کے مقابلے میں جو ذکر کیا تھا، مثلاً سو روپے یا ایک پچاس، سو ذکر کیا تھا تو اسے کتنا مل جائے گا؟ سو بھئی۔ تو یہ تین میں ہے، تین سے زیادہ میں نہیں۔ كَمَا فِي الْبَيْعِ جیسے کہ بیع کے اندر۔ غَيْرَ أَنَّهُ يُشْتَرَطُ خِيَارُ التَّعْيِينِ فِي الْبَيْعِ دُونَ الْإِجَارَةِ علاوہ اس کے کہ خیار تعیین کی شرط لگائی جائے گی بیع کے اندر نہ کہ اجارہ کے اندر۔ بھئی بیع کے اندر بھی تین چیزوں کے اندر اس سے تین چیزیں، میرے سے کوئی ایک میں آپ سے لے لوں گا، ایسی بیع صحیح ہے، لیکن اس میں خیار تعیین ضروری ہے، کیا ضروری ہے؟ جبکہ اجارے کے اندر خیار تعیین کی ضرورت نہیں۔ بھئی بیع کے اندر کیوں خیار تعیین ضروری ہے؟ اجارے کے اندر خیار تعیین کیوں نہیں ضرورت؟ کہتے ہیں اس لیے کہ بیع کے اندر نفس عقد سے انسان بدل یا اجرت یا ثمن کا مستحق ہو جاتا ہے۔ عقد ہوتے ہی کس کا مستحق ہوتا ہے؟ بھئی میں نے آپ کو تین کپڑے دکھائے تھے، یہ کپڑا دیکھو، یہ دس روپے والا ہے، یہ بیس روپے والا ہے، یہ تیس روپے والا ہے، آپ نے کہا میں نے آپ سے، میں ان تینوں میں تینوں کپڑے لے جاتا ہوں، ان میں سے میں نے ایک آپ سے خرید لیا۔ ان تینوں میں سے ایک میں نے آپ سے خرید لیا، لیکن خیار تعیین مجھے ہے، میں لے جاؤں گا، دیکھوں گا جو مجھے پسند آئے گا ان میں سے لے لوں گا بھئی۔ آپ نے کہا میں نے کہا مجھے قبول ہے، منظور ہے، تو دیکھو، میں یہاں پر مبیع معلوم ہے یا مجہول ہے؟ پہلا کپڑا ہے، دوسرا ہے یا تیسرا ہے؟ ابھی مجہول ہے مبیع، مبیع کیا ہے؟ جب مبیع مجہول ہے تو بدل بھی مجہول، تو جھگڑا آئے گا۔ تو لہذا اس جھگڑے سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ مشتری کو خیار تعیین دے دیا جائے۔ جب اسے خیار ہم نے تعیین دے دیا تو اب اس کا اختیار ہے مولانا، شرعاً جب اس کو اختیار مل گیا، تینوں میں سے جس کو مرضی پسند کر لے، تو اب جھگڑا ہوگا؟ نہیں بھئی، اس کا اختیار تھا جب اس کے لیے خیار تعیین ثابت ہو گیا، تو اب مولانا دوسرا شخص نہیں جھگڑے گا، کیونکہ خود دوسرے نے اسے کیا کیا ہے؟ خیار تعیین دیا ہے۔ اگر خیار تعیین نہ ہو، پھر تو کیا آئے گا؟ جھگڑا آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہاں خیار تعیین ثابت کرنا ضروری تھا، اس لیے کہ مشتری وہاں اجرت کس کی وجہ سے آتی ہے؟ وहां पर بھئی، بیع کے اندر بھئی، جو ثمن ہوتا ہے، کس کی وجہ سے آ جاتا ہے؟ عقد کرتے ہی ثمن آ جاتے ہیں، اور ثمن تو ہیں سَمَنٌ مَجْهُولٌ کیونکہ مبیع کیا ہے؟ مجہول ہے، تو لہذا جھگڑا آئے گا، جھگڑے سے بچنے کی کیا صورت ہے؟ کہ کیا دے دیا جائے اسے؟ خیار۔ تو یہاں چونکہ سَمَنٌ نفس عقد سے آئے ہیں، کس سے؟ نفس عقد سے آئے ہیں اور مبیع ہے مجہول تو جھگڑا آنے کا خطرہ، لہذا اختیار خیار تعیین دے دیا جائے گا، لیکن اجارے کے اندر وہاں خیار تعیین کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ اگرچہ وہاں پر بھی اجرت مجہول ہے اور عمل بھی مجہول ہے، لیکن وہ اجرت کا مستحق کب ہوتا ہے؟ عقد کرتے ہی ہو جاتا ہے یا عمل کے بعد مستحق ہوتا ہے؟ عمل کے بعد اجرت کا مستحق ہوگا، اور جب عمل کر لے گا تو عمل کا بھی پتہ چل چکا، اجرت بھی معلوم ہو چکی، سمجھ میں آیا؟ جبکہ بیع کے اندر ایسا نہیں بھئی، یہاں پتہ نہیں چل سکتا، یہاں تو عقد ہوتے اجرت کا مستحق یعنی سَمَن کا مستحق ہوتا ہے، اور وہ مبیع مجہول ہے، پتہ نہیں چل رہا تو خیار تعیین دے دو تاکہ جھگڑا نہ آئے ورنہ جھگڑا آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی! غَيْرَ أَنَّهُ يُشْتَرَطُ خِيَارُ التَّعْيِينِ فِي الْبَيْعِ دُونَ الْإِجَارَةِ خیار تعیین کی شرط لگائی جائے گی بیع کے اندر نہ کہ اجارے کے اندر لِأَنَّ فِي الْإِجَارَةِ تَجِبُ الْأُجْرَةُ بِالْعَمَلِ اس لیے کہ اجارہ کے اندر اجرت واجب ہوتی ہے عمل کی وجہ سے وَعِنْدَ الْعَمَلِ يَتَعَيَّنُ اور عمل کے وقت متعین ہو جائے گی، جب وہ عمل کر لے گا تو اجرت کیا ہو جائے گی؟ متعین ہو جائے گی، کوئی جھگڑے کا خطرہ نہیں۔ بِخِلَافِ الْبَيْعِ بخلاف بیع کے فَإِنَّ الثَّمَنَ يَجِبُ بِنَفْسِ الْعَقْدِ اس لیے کہ یہاں پر سَمَن نفس عقد سے ہی آ جاتے ہیں، کس سے؟ نفس عقد سے سَمَن واجب ہو جاتے ہیں وَالْمَبِيعُ مَجْهُولٌ اور حال یہ ہے کہ مبیع مجہول ہے، تو یہاں پر بھئی اس صورت کے اندر تو لہذا جھگڑا ختم نہیں ہوگا، جب تک کہ ہم خیار تعیین ثابت نہ کر دیں۔ وَذَكَرَ فِي الْهِدَايَةِ فِي مَسْأَلَةِ الْعَطَّارِ وَالْحَدَّادِ وَقُرِّ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ خِلَافُ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى اور صاحبِ ہِدایہ نے ذکر کیا ہے ہدایت کے اندر کہ یہ جو مسئلہ عطار اور حدّاد ہے، جو اوپر ذکر ہوا، عطار اور حدّاد والا مسئلہ اور اسی طرح گندم اور شعیر کے کور والا، تو اس میں اختلاف ہے کس کا؟ امام ابویوسف اور امام محمد رحمتہ اللہ علیہ کا، بھئی وہ امام صاحب تو فرماتے ہیں یہ جائز، وہ فرماتے ہیں صاحبین فرماتے ہیں جائز نہیں۔ وَفِي الدَّابَّةِ إِلَى كُوفَةٍ أَوْ وَاسِطٍ احْتِمَالُ الْخِلَافِ اور یہ جو ذکر کیا کہ جانور پر کوفہ تک لے جائے گا سامان یا واسط تک لے جائے گا، اس کے اندر اختلاف کا احتمال ہے۔ ہدایت میں کیا ذکر کیا اس مسئلہ کے اندر اختلاف کا، اس لیے کہ صاحبِ ہدایت نے یہ مسئلہ ذکر کیا ہے جامع صغیر کے حوالے سے۔ امام محمد رحمتہ اللہ کی کتاب ہے جامع صغیر، وہاں سے یہ مسئلہ امام صاحبِ ہدایت نقل کرتے ہیں، اور وہاں پر امام محمد نے یہ مسئلہ مطلقا ذکر کیا ہے۔ یہ واسط یا کوفہ تک سامان لے جانے والا مسئلہ مطلقا ذکر کیا ہے، یہ نہیں ذکر کیا کہ یہ امام صاحب کا قول ہے یا صاحبین کا قول ہے یا دونوں کا قول ہے، بھئی! تینوں کا قول ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو احتمال آ گیا اس میں ہو سکتا ہے امام صاحب کا تو یہ قول ہو، ہو سکتا ہے صاحبین کا بھی یہی قول ہو، ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ قول نہ ہو تو اختلاف کا احتمال ہے اس کے اندر۔ وَمَسْأَلَةُ الْخِيَاطَةِ وَالصَّبْغِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِمَا اور خیاطت کا مسئلہ اور رنگ رنگنے کا مسئلہ یہ کیا ہے؟ متفق علیہ ہے۔ متفق علیہ ہے بھئی، سمجھیں، امام صاحب کے نزدیک بھی اسی طرح ہے اور صاحبین کے نزدیک بھی۔ وَلَوْ رَدَّتْ فِي خِيَاطَةِ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔ میں درزی کے پاس اپنا سوٹ لے گیا، میں نے درزی سے کہا اگر آپ نے آج یہ کپڑا سیا تو آپ کو ایک درہم دوں گا، اور اگر کل اس کو آپ نے سیا تو آپ کو آدھا درہم دوں گا۔ کتنا دوں گا؟ نصف درہم۔ یا یوں کہو آج سیا تو سو روپیہ دوں گا، کل سیا تو پچاس روپے دوں گا۔ تو کہتے ہیں بھئی اس صورت کے اندر امام صاحب فرماتے ہیں اگر درزی نے آج سیا تو اس کو آج کتنا دین دینے کا میں نے ذکر کیا تھا؟ تو اسے وہ سو روپے کا مستحق ہوگا، اور اگر اس نے کل سیا تو پھر، کہتے ہیں پھر اجرِ مثل ملے گا۔ کتنا ملے گا؟ لیکن وہ اجرِ مثل بھئی اس پچاس سے زاید نہیں ہونا چاہیے جو میں نے ذکر کیا تھا، پچاس سے کم کم ہوا تو مل جائے گا، پچاس سے زاید بھی ہوا تو کتنا ملے گا؟ پچاس ہی ملے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں جتنا جس دن سیئے گا اس کے مطابق اجرت ملے گی۔ آج سیا تو آج میں نے سو روپے کا کہا تھا، سو ملے گا۔ کل سیا تو کل میں نے پچاس روپے کا کہا تھا، پچاس ملیں گے۔ لیکن امام زفر رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اجارہ ہی فاسد ہے۔ یہ اجارہ ہی فاسد ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ صاحبین کے نزدیک بھئی جس دن سیئے گا اسی دن کی اجرت ملے گی، دونوں تسمیے صحیح ہیں، جبکہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کے نزدیک آج سیئے تو آج کی اجرت ملے گی، لیکن کل سیئے تو کل کی اجرت نہیں ملے گی بلکہ اجرِ مثل ملے گا، لیکن وہ اجرِ مثل بھی کل کی اجرت سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، اور جبکہ امام زفر فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں اجارہ یہ اجارہ فاسد ہے، دونوں تسمیے فاسد ہیں۔ یہ معنی ہے وَلَوْ رَدَّتْ فِي خِيَاطَةِ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ اور اگر تردید کی آج کے دن کی سلائی میں أَوْ غَدٍ یا کل کی سلائی میں، کہ آج سیا تو یوں اور کل سیا تو یوں۔ إِذَا قَالَ دیکھیے خود بتلا رہے ہیں کیسے تردید کی آج اور کل میں، إِذَا قَالَ اگر یوں کہا اِنْ خِطْتَهُ الْيَوْمَ فَبِدِرْهَمٍ اگر آج تو نے سیا تو درہم کے ساتھ ہوگا، وَإِنْ خِطْتَهُ غَدًا فَبِنِصْفِ دِرْهَمٍ اور کل سیا تو نصف درہم کے عوض میں ہوگا، فَلَهُ مَا سُمِّيَ اِنْ خَاطَهُ الْيَوْمَ تو اس کے لیے وہ مسمّی ہی ہوگا اگر اس نے آج کے دن سیا وَأَجْرُ مِثْلِهِ اِنْ خَاطَهُ غَدًا اور اس کے لیے اجرِ مثل ہوگا اگر اس نے کل سیا، هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، وَعِنْدَهُمَا صاحبین فرماتے ہیں اِشَّرْطَانِ جَائِزَانِ دونوں شرطیں جائز ہیں، جس کے مطابق سیا وہ اجرت ملے گی اسے، وَعِنْدَ زُفَرَ فَاسِدَانِ اور امام زفر رحمتہ اللہ کے نزدیک دونوں شرطیں فاسد ہیں۔ اس لیے دونوں شرطیں... وہ فرماتے ہیں بھئی یہ خیات یہاں ذکر ہوئی، کیا ذکر ہوئی؟ سلائی، اور سلائی ایک ہی چیز ہے، آج ہو یا کل ہو، ایک چیز ہے یا الگ الگ چیزیں ہیں؟ ایک ہی چیز ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو چیز ایک ہی ذکر ہوئی، عمل ایک ہی ذکر ہوا اور بدل دو ذکر ہو گئے۔ بدل کتنے ذکر ہو گئے؟ سو یا ایک سو پچاس، یا درہم یا نصف درہم۔ بھئی اس نے تو دو چیز دن بھی تو ذکر کیے ہیں آج یا کل کا، آج اور کل، آج یا کل کا۔ کہتے ہیں بھئی یہ جو دن ذکر کیے، یہ آج کے دن کو ذکر کیا جلدی کے لیے، اور کل کے دن کو ذکر کیا آسانی کے لیے۔ سہولت کے لیے۔ آج کے دن کو ذکر کس لیے کیا؟ تاکہ وہ کام جلدی کر دے، اور کل کے دن کو کیوں ذکر کیا؟ تاکہ اس کے لیے سینے والے کے لیے سہولت اور آسانی ہو جائے، آرام سے سیکھ سکے، تو یہ جو دنوں کا ذکر ہے، یہ جلدی یا سہولت کے لیے ہے، باقی عمل تو ایک ہی ذکر ہو رہا ہے سلائی، اور اس سلائی کے بدلے میں کتنے عوض؟ دو عوض ذکر ہو رہے ہیں، تو عمل ایک، عوض دو ذکر ہوئے، اور پتہ نہیں کون سا عوض ہے ان میں سے، تو عوض مجہول ہو گیا، عوض کیا ہو گیا؟ مجہول ہو گیا، لہذا یہ اجارہ کیا ہوا؟ فاسد ہوا۔ وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَاسِدَانِ یہ دونوں شرطیں فاسد ہیں، لِذِكْرِ الْيَوْمِ لِلتَّعْجِیلِ اس لیے کہ آج کے دن کا جو ذکر ہے وہ تعجیل جلدی کرنے کے لیے ہے، وَذِكْرُ الْغَدِ لِلتَّرْفِيعِ اور کل کا ذکر جو ہے وہ ترفیع سہولت کے لیے ہے، آسانی کے لیے ہے، لَا لِلتَّوْقِیتِ یہ وقت مقرر کرنے کے لیے نہیں ہیں یہ دونوں بھئی، فَيَجْتَمِعُ فِي كُلِّ يَوْمٍ تَسْمِیَتَانِ تو دونوں دنوں کے اندر دو تسمیہ اکٹھے ہو گئے بھئی، دونوں دنوں میں دو تسمیہ اکٹھے ہو گئے، وہی عمل ہے دو تسمیاں ہیں۔ آج سیا تو سو روپے دوں گا یا پچاس روپے دوں گا، کل سیا تو سو روپے دوں گا یا پچاس روپے دوں گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ لَهُمَا صاحبین کی دلیل یہ ہے، أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَقْصُودٌ کہ ان دونوں میں سے ہر چیز مقصود ہے، یعنی تعجیل و تاخیر۔ تعجیل بھی مقصود ہے اور تاخیر بھی۔ تاخیر بھی مقصود ہوتی ہے، تاخیر بھی مقصود ہوتی ہے، تعجیل مقصود ہوئی۔ آج کے دن کام کیا تو معلوم ہوا مقصود کیا ہے؟ بھئی درزی نے آج سیا، یہ دونوں چیزیں مقصود بن جاتی ہیں۔ آج سیا تو معلوم ہوا درزی کا مقصد کیا ہے؟ جلدی کرنا، اگر کل سیا تو درزی کا مقصد کیا ہے؟ تاخیر کرنا۔ صورت سمجھ میں، تو جب یہ دونوں مقصودی چیزیں ہو گئیں، تو یہ دو انواع کی طرح ہو گئیں، کس کی طرح ہو گئیں؟ دو انواع کی طرح، جیسے پیچھے گزرا تھا، دو انواع کے اندر مولانا تردید صحیح تھی، مثلاً دو انواع کیا تھیں؟ مثلاً اگر تو نے رومی طرز کا سیا تو سو روپے، فارسی طرز کا سیا تو ایک سو... تو وہاں دیکھو دو انواع کے اندر تردید صحیح تھی، تو یہاں پر بھی تعجیل اور تاخیر دونوں مقصود ہوئیں، تو یہ دو انواع کی طرح ہو گئیں، اور دو انواع میں تردید صحیح تھی، تو ان دونوں میں تردید... ان میں بھی تردید صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَقْصُودٌ صاحبین فرماتے ہیں کہ تعجیل اور تاخیر دونوں میں سے ہر ایک مقصود ہوتی ہے، مقصود بن جائے گی۔ وَصَارَ كَاِخْتِلَافِ النَّوْعَيْنِ تو یہ دونوں کس کی طرح ہوئے؟ دو انواع کے اختلاف کی طرح ہوئے، جیسے پیچھے گزرا تھا، اور وہ جائز تھی تردید، تو یہ تردید بھی جائز ہے۔ وَلَهُو امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّ ذِكْرَ الْيَوْمِ لَيْسَ لِلتَّوْقِيتِ آج کا دن جو ذکر کیا کہنے والے نے، یہ وقت کی قید لگانے کے لیے نہیں ہے، لِذِكْرِ اجْتِمَاعِ الْوَقْتِ وَالْعَمَلِ مُفْسِدُونَ بھئی اس لیے کہ وقت اور عمل دونوں کا اجتماع، یہ کیا ہے؟ اجارے کو فاسد کر دینے والا ہے، كَمَا مَرَّ جیسے کہ گزر گیا، بَلْ ذِكْرُهُ لِلتَّعْجِیلِ بلکہ یوم کا ذکر تو کس لیے ہے صرف؟ جلدی کے لیے ہے، وَذِكْرُ الْغَدِ لِلتَّرْفِيعِ اور کل کا ذکر وہ ترفیع کے لیے ہے۔ اچھا، فَيَجْمَعُ فِي الْغَدِ تَسْمِیَتَانِ تو غد کے اندر آنے والے دن کے دو تسمیہ اکٹھے ہو گئے۔ کیا ہو گئے؟ آج کے دن میں تو دو تسمیہ اکٹھے نہیں ہوئے، ہاں کل کے دن میں کیا ہو گئے؟ دو تسمیہ اکٹھے ہو گئے۔ تو آج کے دن میں اجارہ صحیح، کل کے دن میں اجارہ صحیح نہیں۔ یوم میں ائی یا غد میں ائی بھئی؟ غد میں۔ تو غد کے اندر بھئی تعلیق آگئی اور کتنے بدل ذکر ہوئے تھے عبارت میں؟ دو بدل، اگر آج سیا تو سو، کل سیا تو ایک سو پچاس... کل سیا تو صرف پچاس بھئی، تو دو چیزیں ذکر ہوئیں۔ تو ان میں سے جو یوم کا ذکر ہے وہ صرف کس لیے ہے؟ وہ وقت کے لیے نہیں ہے، بلکہ تعجیل کے لیے ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو آج کے دن میں دو تسمیے اکٹھا نہیں... اکٹھے نہیں ہوئے، لیکن کل کے دن میں دو تسمیے اکٹھے ہو گئے، اور جب دو تسمیے اکٹھے ہوئے تو اجارہ وہاں پر اجارہ فاسد، اور جب اجارہ فاسد ہو جائے تو وہاں کیا دیا جاتا ہے؟ اجر مثل دیا جاتا ہے، اور وہ اجر مثل مسمی پر زائد نہیں ہوتا۔ یہ معنی ہے وَذِكْرُ الْغَدِ لِلتَّعْلِيقِ اور کل کا ذکر جو ہے وہ تعلیق کے لیے ہے، فَيَجْمَعُ فِي الْغَدِ تَسْمِيَتَانِ تو جمع ہو گئے کل کے دن کے اندر دو تسمیے۔ جی تو اجارہ فاسد ہوا۔ تو وہاں اجر مثل دیا جائے گا۔ وَلَا يُجَاوَزُ بِهِ الْمُسَمَّى اور تجاوز نہیں کیا جائے گا اس کے ساتھ مسمی پر، جو کل کے دن کیا ا جائے گا؟ اجر مثل آئے گا، اور اجر مثل کے ساتھ تجاوز مسمی پر یعنی مقررہ یعنی پچاس روپے پر تجاوز نہیں کیا جائے گا۔ اچھا۔ أَيْ أَجْرُ الْمِثْلِ إِنْ كَانَ زَائِدًا عَلَى نِصْفِ دِرْهَمٍ لَا يَجِبُ زِيَادَتُهُ یعنی اجر مثل اگر وہ زائد ہوا کس پر بھئی؟ بھئی میں نے کہا تھا اگر آج سیا تو ایک درہم دوں گا، کل سیا تو نصف درہم دوں گا۔ اب کل کے دن میں کیا آئے گا اگر سیا؟ اجر مثل آئے گا۔ اجر مثل کہتے ہیں اگر نصف درہم سے زائد ہوا تو زیادتی واجب نہیں ہوگی، بلکہ صرف کتنا دینا پڑے گا؟ یہی بات کر رہے ہیں کہ أَيْ أَجْرُ الْمِثْلِ إِنْ كَانَ زَائِدًا عَلَى نِصْفِ دِرْهَمٍ لَا يَجِبُ زِيَادَتُهُ اجر مثل اگر وہ زائد ہوا نصف درہم پر لَا يَجِبُ زِيَادَتُهُ تو زیادتی واجب نہیں ہوگی۔ وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ جامع صغیر کے اندر یہ مسئلہ ہے کہ لَا يُزَادُ عَلَى دِرْهَمٍ وَلَا يُنْقَصُ عَنْ نِصْفِ دِرْهَمٍ بھئی کہ زائد نہیں کیا جائے گا ایک درہم پر اور کم نہیں کیا جائے گا نصف درہم سے۔ اچھا، کہتے ہیں بھئی جامع صغیر کے اندر ہے کہ اجر مثل دیا جائے گا لیکن وہ اجر مثل اس نے بھئی کتنی اجرتیں ذکر کی تھیں؟ دو۔ ایک نصف درہم اور ایک ایک درہم۔ تو لہٰذا جو اجرت دی جائے وہ نصف درہم جو اجر مثل دیا جائے، وہ نصف درہم سے کم نہیں ہونا چاہیے اور ایک درہم سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں جامع صغیر میں ہے لَا يُزَادُ عَلَى دِرْهَمٍ کہ وہ اجر مثل زائد نہیں ہونا چاہیے الدرہم پر وَلَا يُنْقَصُ عَنْ نِصْفِ دِرْهَمٍ اور وہ کم نہ کیا جائے نصف درہم سے۔ لَكِنَّ الصَّحِيحَ هُوَ الْأَوَّلُ لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے کہ نصف درہم سے زائد نہیں دیا جائے گا۔ لِأَنَّ الْمُسَمَّى فِي الْغَدِ نِصْفُ دِرْهَمٍ اس لیے کہ مسمی مقررہ جو کل کے اندر ہے وہ نصف درہم ہے۔ وَفِي الْإِجَارَةِ الْفَاسِدَةِ أَجْرُ الْمِثْلِ لَا يُزَادُ عَلَى الْمُسَمَّى اور اجارہ فاسدہ کے اندر اجر مثل اس کو زائد نہیں کیا جاتا کس پر؟ مسمی پر۔ وَإِنْ خَاطَهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ اور اگر اس نے تیسرے دن میں سیا، فَأَجْرُ الْمِثْلِ لَا يُزَادُ عَلَى نِصْفِ دِرْهَمٍ پھر بھی اجر مثل نصف درہم سے زائد نہیں دیا۔ جب دوسرے دن کے اندر نصف درہم سے زائد نہیں مل رہا اجر مثل تو تیسرے دن میں بطریق اولی نصف درہم سے زائد نہیں ملے گا۔ چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
121 approved lectures · 117 of 121