ولطالب مطالبة من شاء من أصيل وكفيل ومطالبتهما فإن طالب أحدهما فله مطالبة الآخر جی یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں بھئی کہ طالب جو ہے کفیل سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے اور اصیل یعنی جس پر اصل دین تھا اس سے بھی کیا کر سکتا ہے؟ مطالبہ کر سکتا ہے بھئی۔
اصيل سے تو اس لیے کہ اس پر تو دین ہے اور کفیل سے اس لیے کہ اس نے کیا دی تھی؟ ضمانت دی تھی تو دونوں سے کر سکتا ہے بھئی۔ یعنی کہ ایک سے مطالبہ کر لے تو اب دوسرے سے نہیں کر سکتا چاہے تو اصیل سے مطالبہ کرے چاہے تو کفیل سے مطالبہ کرے اور چاہے تو کیا کر دے؟ دونوں سے مطالبہ کرے بھئی اور ایک سے مطالبہ کر لے تو اس کے بعد بھی دوسرے سے مطالبہ کر سکتا ہے۔
ولطالب مطالبة من شاء من أصيل وكفيل اور طالب کے لیے جائز ہے مطالبہ کرنا من شاء جس سے وہ چاہے یا جی من أصيل وكفيل یعنی اصیل اور کفیل ان دونوں میں سے جس کو چاہے بھئی۔ ومطالبتهما اور اس کے لیے جائز ہے دونوں سے مطالبہ کرنا بھی۔
فإن طالب أحدهما اگر اس نے کسی ایک سے مطالبہ کر لیا فله مطالبة الآخر تو اس کے لیے جائز ہے دوسرے سے مطالبہ کرنا۔ هذا بخلاف المالک بخلاف مالک کے بھئی۔
صورت مسئلہ یہ ہے ایک شخص کی ایک چیز ایک آدمی نے غصب کر لی تو اس غاصب سے آگے ایک اور دوسرے شخص نے غصب کر لی بھئی۔ تو مثلاً آپ کی ایک چیز ہے زید نے غصب کی تو وہ ہوا غاصب اور زید سے آگے عمر نے غصب کر لی وہ چیز تو عمر کیا ہوا غاصب الغاصب ہوا اب عمر کے پاس وہ چیز ہلاک ہو گئی بھئی۔
تو اب مالک کو حق ہے کہ ضمان کا مطالبہ جس سے چاہے کرے چاہے تو غاصب سے کر لے چاہے تو غاصب الغاصب سے کر لے لیکن جب ایک سے مطالبہ کر لے گا تو اب وہ دوسرے سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔
اس لیے کہ جس سے وہ مطالبہ کر رہا ہے گویا اس نے اس چیز کا مالک اسے بنا دیا جب اسے مالک بنا دیا تو اب دوسرے کو اسی چیز کا مالک کیونکہ مالک ایک چیز کا ایک وقت میں وہ ایک ہی کو بنا سکتا ہے تو جب ایک سے مطالبہ کیا تو اسے مالک بنا دیا اور جب مالک بنا دیا تو اس سے مطالبہ ہو رہا ہے اب دوسرے کو وہ مالک نہیں بنا سکتا تو اس سے مطالبہ بھی نہیں کر سکتا بھئی۔
تو کہتے ہیں هذا بخلاف المالک یہ بخلاف مالک کے إذا اختار أحد الغاصبين جب اس نے اختیار کر لیا دو غصب کرنے والوں میں سے کسی ایک کا فین اختیارہ أحدہما اس لیے کہ مالک کا ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لینا یتضمن تمليكه یہ تو یہ متضمن ہے اس کی تملیک کو (یعنی مالک اس کو کیا بنا دیا ہے؟) اس چیز کا مالک بنا دیا ہے۔
جی جی علامہ صدر الشریعہ بتلا رہے ہیں یعنی إذا قضى القاضي بذلك یعنی جب قاضی نے اس پر فیصلہ کر دیا اب دوسرے سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوا اس سے پہلے کر سکتا ہے بھئی معلوم ہوا اس سے پہلے کر سکتا ہے لیکن جب قاضی نے فیصلہ کر دیا ہے تو اب جب قاضی کا فیصلہ آگیا ہے تو اس نے اس چیز کا اسے کیا کر دیا؟ مغصوب شے کا اس غاصب کو مالک بنا دیا۔ تو لہذا اب اس سے کیا لیا جائے گا؟ اس کا ضمان۔
کذا جی حوالہ بھی دے رہے ہیں بھئی علامہ صدر الشریعہ کہتے ہیں كذا في مبسوط شیخ الإسلام جیسے کہ شیخ الإسلام کی کتاب مبسوط کے اندر ہے بھئی۔
فإذا ملك أحدهما لا يمكنه أن يملك أن يملك الآخر پس جب مالک نے مالک بنا دیا ایک ان دونوں میں سے ایک کو تو اب ممکن نہیں ہے اس کے لیے کہ وہ دوسرے کو بھی کیا بنا دے؟ مالک۔ وتصح بأمر الأصيل وبلا أمره اور کفالت صحیح ہے اصیل کے حکم سے بھی اور اس کے حکم کے بغیر بھی بھئی۔
بھئی زید نے عمر کا دین دینا ہے بھئی سمجھ میں آیا دین دینا ہے تو اب زید آپ کو کہتا ہے کہ آپ میری ضمانت دے دیں آپ نے ضمانت دے دی تو دیکھیے یہ ضمانت زید کے کہنے پر ہوئی اور ایک ضمانت ویسے آپ خود ہی دے دیتے ہیں بھئی اپنی مرضی سے تو دونوں میں فرق ہے۔
فرق یہ ہے مولانا کہ اگر آپ نے زید کے کہنے پر ضمانت دی تھی تو اب اگر آپ کو وہ مال ادا کرنا پڑا تو آپ کس پر رجوع کر سکتے ہیں؟ اصیل یعنی زید پر رجوع کر سکتے ہیں اس لیے کہ کفالت یا ضمانت آپ نے کس کے کہنے پر دی تھی؟ زید کے کہنے پر دی تھی جب مال آپ نے ادا کر دیا تو اب آپ رجوع کر کے اصیل سے اپنا وہ مال وصول کر لیں گے۔
لیکن اگر اس کے کہنے کے بغیر آپ نے ضمانت دی تھی تو اب آپ اصیل پر رجوع نہیں کر سکتے بلکہ یہ آپ کی طرف سے گویا ایک احسان سمجھا جائے گا بھئی۔ آپ نے اپنی مرضی سے ضمانت دی ہے اس نے تو آپ کو نہیں کہا تھا مال آپ کو ادا کرنا پڑ گیا تو اب آپ ادا کریں اور اس سے مطالبہ بھی نہیں کر سکتے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟
یہ معنی ہے وتصح اي تصح الكفالة بأمر الأصيل اصیل کے حکم سے بھی صحیح ہے وبلا أمره اور اس کے حکم کے بغیر بھی۔ ثم إن أماره رجع عليه پھر اگر کفیل نے اصیل نے اسے حکم دیا تھا ضمانت دینے کا رجع عليه تو کفیل اس پر کیا کرے گا؟ رجوع کرے گا بعد أدائه إلى طالبیہ بعد اس کے کہ وہ اس کو ادا کر دے کس کی طرف؟
طالب کو وہ مال کیا کر دے؟ ادا کر دے ولا يطالبه قبله اور اس اداءگی سے پہلے وہ مطالبہ نہیں کر سکتا بخلاف الوكيل بالشراء بخلاف وکیل بالشراء کے بھئی۔ ایک آدمی کو آپ نے وکیل بنایا کہ جاؤ میرے لیے گاڑی خرید کر لاؤ بھئی۔ اب وہ وکیل اس نے ثمن ابھی گاڑی خرید لی ثمن ابھی ادا نہیں کیا وہ آ کر آپ سے مطالبہ کر سکتا ہے۔
کفیل تو جب تک طالب کو پیسے ادا نہ کر دے اصیل سے مطالبہ نہیں کر سکتا لیکن وکیل اداءگی سے پہلے ہی کیا کر سکتا ہے؟ موکل سے مطالبہ کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے بخلاف الوكيل بالشراء بخلاف وکیل بالشراء کے فإنه إذا اشترى اس لیے کہ جب وہ کوئی چیز خرید لیتا ہے کان له مطالبہ مطالبة الثمن من موكله اس کے لیے جائز ہے ثمن کا مطالبہ کرنا اپنے موکل سے قبل أدائه بھئی اس ثمن کے ادا کرنے سے پہلے بھئی یہ مطالبہ کر سکتا ہے۔
قبل أدائه إلى البائع قبل اس کے کہ وہ ثمن ادا کرے کس کو بھئی؟ بائع کو کیونکہ ان عقد بين الوكيل والموكل مبادلة حكمية اس لیے کہ وکیل اور موکل کے درمیان مبادلہ حکمیہ پایا جاتا ہے بھئی۔
یعنی گویا وکیل اور موکل کے درمیان بھی بیع ہو رہی ہے حکماً بھئی حقیقتاً تو نہیں ہے حکماً ہو رہی ہے۔ دیکھیے بھئی آپ نے ایک شخص کو کیا بنایا؟ کہ جاؤ میرے لیے کیا لے کر آؤ کیا خریدو؟ گاڑی خریدو تو وہ آپ کو گاڑی لا کر دے گا تو آپ کیا کرتے ہیں؟ ثمن اس کے حوالے کرتے ہیں تو دیکھو مبادلة المال آیا یا نہیں آیا تو یہ حقیقتاً تو بیع نہیں ہے بھئی کیونکہ وکیل نے جو چیز خریدی وکیل کا قبضہ بھی گویا کس کا قبضہ تھا؟
موکل ہی کا قبضہ تو حقیقتاً تو بیع نہیں لیکن حکماً کیا ہے؟ بیع ہے کیونکہ مبادلہ پایا جا رہا ہے تو یہ مبادلہ حکمیہ ہے بھئی سمجھ میں آیا بھئی حقیقتاً نہیں بھئی۔
تو وہاں چونکہ وکیل اور موکل کے درمیان مبادلہ حکمیہ پایا جا رہا ہے تو وہاں پر وہ کیا کر سکتا ہے؟ ثمن کا مطالبہ ادا کرنے سے پہلے کر سکتا ہے۔ مثلاً بھئی وکیل وہ چیز لے آیا بھئی خرید لایا اور ابھی اس نے پیسے ادا نہیں کیے چیز آپ کے حوالے کر دی تو اب آپ اوپر سے وہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ لاؤ بھئی ثمن دے دو میں اس آدمی کو ادا کر دوں۔
آپ یہ نہیں کہہ سکتے ابھی تو اس کو ادا کیے نہیں تم ادا کرو گے تو پھر میں تمہیں اپنی طرف سے دے دوں گا یہ نہیں بھئی وہ مطالبہ آپ سے کر سکتا ہے۔
اس لیے کہ منقد ہے وکیل اور موکل کے درمیان مبادلہ حکمیہ وإن لم يأمره لم يرجع اور اگر بھئی اصیل نے کفیل کو حکم نہیں دیا تھا کفالت کا لم يرجع تو کفیل بھی اس پر رجوع نہیں کر سکتا۔
فإن لزم الكفيل بالمال فله ملازمة أصيله بھئی آپ نے ضمانت دی تھی عمر کو کیا ضمانت دی تھی؟ زید زید نے زید کے کہنے پر آپ نے عمر کو کیا دی تھی؟ ضمانت دی تھی بھئی کہ اے عمر! آپ پریشان نہ ہوں میں ضمانت دیتا ہوں یہ زید کیا کرے گا آپ کا مال فلاں دن تک دے دے گا اگر اس نے نہ دیے تو میں آپ کو دے دوں گا بھئی۔
اب بھئی وہ اس نے دیا نہیں اب وہ دوسرا شخص جو عمر تھا وہ کفیل کے آپ کے پیچھے لگ گیا ہر وقت آپ سے دین کا مطالبہ کرتا رہتا ہے بھئی ساتھ ساتھ چل پھرتا ہے آپ کے آپ جہاں جاتے ہیں بھئی وہ آپ کے ساتھ ساتھ جا رہا ہے بھئی لاؤ بھئی میرا مال دو میرا مال دو۔
تو کہتے ہیں اگر وہ کفیل کے ساتھ ملازمت اختیار کر لے بھئی تو کفیل کیا کرے اپنے اصیل کے ساتھ ملازمت کر سکتا ہے یعنی خود کے پیچھے پیچھے پھرے بھئی۔
طالب ہے کفیل کے پیچھے اور کفیل کس کے پیچھے ہو جائے گا؟ اصیل۔ لاؤ بھئی مال دو بھئی میں نے ضمانت دی تھی تمہاری طرف سے تم مال دو اس کا ادا کرو بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ معنی ہے۔
فإن لزم الكفيل اگر کفیل کے ساتھ کیا کیا جائے لزوم کو اختیار کیا جائے یا لازم پکڑا جائے کفیل کو بالما کفیل بالمال کو فله ملازمة أصيله تو اس کو بھی اپنے اصیل کی ملازمت کا حق ہے وإن حبس فله حبسه اور اگر بھئی طالب نے کفیل کو جیل میں ڈلوا دیا قاضی کے پاس گیا کہ اس شخص نے ضمانت دی تھی اس کی وجہ سے بھئی میں نے زید پر زید سے مال زید کے ساتھ بیع کی تھی یا فلاں جو بھی معاملہ کیا تھا اس کی ضمانت کی وجہ سے اور یہ میرا مال ادا نہیں کر رہا قاضی کیا کرے گا کفیل کو جیل قید میں ڈالے گا کہ اس کا مال ادا کرو بھئی ادا کیوں نہیں کر رہے؟
تو کفیل کو بھی یہ حق ہے یہ مصیبت اس پر کس کی وجہ سے آئی ہے؟ اصیل کی وجہ سے اس نے تو اصیل کے نفع کے لیے وہ کفالت دی تھی اب لہذا اس کے لیے بھی جائز ہے کہ یہ اصیل کو بھی قید کروا دے کیا کر دے؟ کہ قاضی وہ میرے ادا نہیں کر رہا بھئی۔
وإن حبس اور اگر کفیل کو قید کر لیا جائے فله حبسه تو کفیل کو اس کو قید کرنے کا حق ہے جی اصیل کو لأنہ لحقه هذا الضرر بأمره اس لیے کہ کفیل کو یہ جو ضرر لاحق ہوا ہے یہ کس کے حکم سے ہوا ہے؟ اصیل کے حکم سے یہ چاہے اس کے ساتھ ملازمت اس نے کی یا اس کو کیا کیا ہے؟ قید میں ڈلوایا ہے تو یہ ضرر اس چونکہ اصیل کی وجہ سے آیا ہے فيعامله بمثله তো یہ بھی کیا کرے اسی کے مثل اس کے ساتھ معاملہ کرے وإن أبرأ الأصيل أو أو فالمال برئ الكفيل جی۔
صورت مسئلہ یہ ہے بھئی دیکھو آپ نے کس کی طرف سے ضمانت دی تھی؟ زید کی طرف سے مثلاً آپ نے ضمانت دی تھی اور کس کو دی تھی؟ عمر کو دی تھی۔
عمر نے زید کو کہا میں نے تجھے بری کر دیا دین سے جب اس نے اصیل کو بری کر دیا تو کفیل بھی خود بخود کیا ہوا کفالت سے بری ہو گیا۔
یا مولانا آپ نے کس کی طرف سے ضمانت دی تھی؟ زید۔ زید نے وہ مال ادا کر دیا جب ادا کر دیا تو وہ بری ہوا یا بری نہیں ہوا بھئی؟ بری جب وہ بری ہوا تو کفیل بھی کیا ہو گیا؟ بری ہو گیا۔
بخلاف اس کے کہ عامر نے آپ کو کفیل کو بری کر دیا کہ میں تجھے کیا کرتا ہوں؟ بری کرتا ہوں تو کہتے ہیں اس صورت میں اصیل بری نہیں ہوگا اس لیے کہ آپ کو تو اس نے کس چیز سے بری کیا ہے؟ مطالبے سے کیونکہ کفیل پر کیا ہوتا آتا ہے؟ اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے اس پر دین نہیں تو آپ کو جو اس نے بری کیا وہ مطالبے سے بری کیا ہے دین سے بری نہیں تو لہذا اب اصیل سے وہ کیا اصیل بری نہیں ہوگا بھئی۔
وإن أبرأ الأصيل اور اگر جو ہے طالب نے بری کر دیا اصیل کو أو أو فالمال برئ الكفيل یا اصیل نے مال ادا کر دیا کفیل بھی کیا ہو جائے گا؟ بری۔ وإن أُبْرئ هو اور اگر کفیل کو بری کیا گیا ہو ضمیر راجع ہے کفیل کو اور اگر کفيل کو بری کیا گیا لا يبرأ الأصيل بھئی تو اصیل بری نہیں ہوگا لأن الدين على الأصيل اس لیے کہ دین کس پر ہے؟ اصیل پر ہے فالبرأة عنه توجبرء البراءة عن المطالبة فالبراءة عنه اي البراءة عن الدين الدين سے براءة توجبرء البراءة عن المطالبة یہ ثابت کرتی ہے براءة عن المطالبة کو بھی بھئی۔
بھئی دین کس پر تھا؟ اصیل پر اور کفیل پر صرف کیا ہے؟ مطالبہ ہے۔ تو جب دین کو ہی کیا کر دیا اس نے معاف کر دیا تو مطالبہ بھی خود بخود کیا ہو جائے گا؟ معاف یہ معنی ہے۔ فالبرأة عنه اي البراءة عن الدين الدين سے براءة توجبرء البراءة عن المطالبة یہ ثابت کرتی ہے براءة عن المطالبة کو بھی بخلاف العكس بخلاف اس کے اس کے عکس کی صورت میں بھئی کہ وہاں پر اگر اب کفیل کو بری کرتا ہے تو کس سے بری ہوگا وہ؟ مطالبے سے تو مطالبے سے بری ہونے سے دین سے براءة لازم نہیں ہے لیکن اگر دین سے براءة آئے تو پھر مطالبے سے بھی براءة اجائے گی بھئی۔
وإن أخر عن الأصيل صورت مسئلہ یہ ہے بھئی اصیل کون ہے بھئی؟ زید اور کفیل ہیں آپ بھئی اگر طالب نے اصیل سے دین کو مؤخر کر دیا چلو بھئی میں تمہیں چھ مہینے کا مزید وقت دیتا ہوں تو کفیل سے بھی مطالبہ مؤخر ہو جائے گا اس سے بھی چھ مہینے تک مطالبہ نہیں ہو صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
اگر کفیل اگر اصیل سے کیا کر دیا جائے دین کو مؤخر کر دیا جائے تو کفیل سے بھی مطالبہ کیا ہو جائے گا؟ مؤخر ہو جائے گا۔ لیکن اگر کفیل سے مطالبے کو مؤخر کر دیا تو اصیل سے دین مؤخر نہیں ہوگا بھئی صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے۔
وإن أخر عن الأصيل اور اگر مؤخر کر دیا کوئی مطالبے کو یا دین کو اصیل سے تأخر عنه بھئی تو مؤخر ہو جائے گا کس سے؟ کفیل سے بھی بخلاف عكسه جب بخلاف اس کے عکس کی صورت میں (یعنی کفیل سے مؤخر کرے তো اصیل سے مؤخر نہیں ہوگی) اعتبارا للإبراء المؤقت بالمؤبد اعتبار کرتے ہوئے ابراء مؤقت کو ابراء مؤبد کے ساتھ بھئی۔
দেখো بھئی انہوں نے کیا کہا تھا؟ اگر اصیل سے کیا کر دیا جائے دین کو مؤخر یہ مؤخر کیا تو ہمیشہ کے لیے دین ختم کیا یا مؤقت ہے کچھ وقت کے لیے بھئی؟ کچھ وقت کے لیے کچھ وقت کے لیے اور وہ صورت جس میں دین مؤبد کیا مؤخر کرتا تھا یعنی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا تھا اصیل کو کہتا تھا میں نے تجھے بری کر دیا তো کفیل بھی کیا ہو جاتا تھا؟ بری ہو جاتا تھا تو وہ تھا مؤبد ہمیشہ کے لیے کیا کر دیا؟ بری کر دیا۔
اور یہ ہے مؤقت تو اس مؤقت کو بھی اس مؤبد پر کیا کیا؟ قیاس کیا۔ کیا کیا؟ وہاں پر اصیل سے دین کو بالکل بری کرتا تھا ہمیشہ کے لیے تو کفیل بھی کیا ہو جاتا تھا مطالبے سے بری ہو جاتا تھا۔
تو لہذا یہاں پر بھی جب اصیل سے دین کو مؤخر کرے گا تو کفیل سے بھی مطالبہ خود بخود کیا ہو جائے گا؟ مؤخر ہو جائے گا مؤقت میں بھئی۔ اور مؤبد کے اندر بھئی کفیل سے اگر مطالبے کفیل کو مطالبے سے بری کرتا تھا ہمیشہ کے لیے کہ تم کفالت سے بری ہو میں تم سے مطالبہ تو وہاں دیکھو کفالت سے جب ہمیشہ کے لیے بری کرتا تھا તો کیا اصیل سے دین اصیل دین سے بری ہوتا تھا؟ نہیں تو وہاں مؤبد کے اندر جیسے کفیل کی براءة سے اصیل کی براءة نہیں تھی؛ تو یہاں پر مؤقت کے اندر بھی اگر اصیل کفیل سے دین کو کیا مطالبے کو کیا کر دے؟ مؤخر کر دے تو اصیل پر سے دین مؤخر نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آئی ہے سب کو؟
یہ معنی اعتباراً اي قياساً قياس کرتے ہوئے ابراء مؤقت کو ابراء مؤبد پر۔
فإن صالح الكفيل الطالب ألفا على مئة برئ الكفيل والاصيل ورجع على الأصيل بھئی۔
صورت مسئلہ دیکھو بھئی۔ صورت یہ بھئی۔ زید ہے طالب اور عمر کون ہے؟ عمر ہے اصیل اور آپ میں آپ کون ہیں؟ کفیل بھئی آپ نے کفالت دی ہے۔
تو آپ نے طالب کے ساتھ صلح کر لی اس نے اصیل سے لینے ہیں ہزار روپے آپ نے اس سے کہا بھئی یہ لے لو میری طرف سے 500 روپے لے لو یا 100 روپے لے لو صلح کر لو بھئی اس ہزار کے بدلے اس نے کہا لو بھئی 100 دے دو یہ بس ٹھیک ہے بھئی۔
تو آپ نے کیا کر لی اس سے بھئی ہزار میں ہزار کے بدلے 100 کے ساتھ صلح کر لی جب آپ نے ہزار کے ساتھ صلح کر لی تو اب بقیہ دین جیسے آپ سے ختم ہوا اسی طرح اصیل سے بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ 100 اگر یہ اس میں آپ بھئی اصیل پر رجوع کریں گے یا نہیں کریں گے؟ کہتے ہیں بھئی اگر اس کے حکم سے کفالت ضمانت دی تھی تو اس پر رجوع کریں گے اگر اس کے حکم سے کفالت ضمانت نہیں دی تھی تو اب اس پر رجوع بھی نہیں کر سکتے۔ یہ معنی ہے۔
فإن صالح الكفيل الطالب عن ألف على مئة برئ الكفيل والأصيل ورجع على الأصيل بھئی۔
صورت مسئلہ دیکھو بھئی۔ صورت یہ بھئی۔ زید ہے طالب اور عامر کون ہے؟ عامر ہے اصیل اور آپ نے کہ آپ کون ہیں؟ کفیل بھئی آپ نے کفالت دی ہے تو آپ نے طالب کے ساتھ صلح کر لی اس نے اصیل سے لینے ہیں ہزار روپے آپ نے اس سے کہا بھئی یہ لے لو میری طرف سے 500 روپے لے لو یا 100 روپے لے لو صلح کر لو بھئی اس ہزار کے بدلے اس نے کہا لو بھئی 100 دے دو یہ بس ٹھیک ہے بھئی۔
تو آپ نے کیا کر لی اس سے بھئی ہزار میں ہزار کے بدلے 100 کے ساتھ صلح کر لی جب آپ نے ہزار کے ساتھ صلح کر لی تو اب بقیہ دین جیسے آپ سے ختم ہوا اسی طرح اصیل سے بھی کیا ہو جائے گا ختم ہو جائے گا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ 100 اگر یہ اس میں آپ بھئی اصیل پر رجوع کریں گے یا نہیں کریں گے؟ کہتے ہیں بھئی اگر اس کے حکم سے کفالت ضمانت دی تھی تو اس پر رجوع کریں گے اگر اس کے حکم سے کفالت ضمانت نہیں دی تھی تو اب اس پر رجوع بھی نہیں کر سکتے۔ یہ معنی ہے۔
إن كفل بأمره اگر وہ کفیل ہوا تھا کس کے حکم سے؟ اصیل کے حکم سے۔ وإن قال لامرأة اگر کسی نے اور عورت کو یا اس طرح کے معاملات میں بھئی اس پر ایک اشکال ہوتا ہے۔ ضابطہ ہے یاد رکھو مولانا دین کا مالک صرف اسی کو بنایا جا سکتا ہے جس پر دین ہو کسی اور کو اس کا مالک نہیں بنایا جا سکتا۔
ضابطہ کیا ہے بھئی؟ دین کا مالک اسی شخص کو بنایا جا سکتا ہے جس پر دین ہو دوسرے کسی کو اس کا مالک نہیں بنایا جا سکتا اب آپ بتائیے دین کس پر ہے؟ اصیل پر ہے اور مالک کس کو بنا رہے ہیں آپ؟ آپ کہہ رہے ہیں کفیل مالک بن گیا حالانکہ کفیل پر تو دین نہیں ہے تو کفیل تو مالک بن ہی نہیں سکتا مالک تو صرف کون بن سکتا ہے؟ اصیل بن سکتا ہے صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟
مثلاً بھئی آپ نے میرا ایک ہزار روپیہ دینا ہے میں آپ کو کہتا ہوں بھئی میں آپ کو اپنا قرضہ معاف کیا چھوڑ دیا تو دیکھو اس دین کا میں نے آپ کو کیا بنا دیا مالک بنا دیا کہ وہ ہزار کے مالک آپ ہو تو جس پر دین ہو اسی کو مالک بنا سکتے ہیں کسی غیر کو تو یہاں پر کفیل کو کیسے مالک بنایا؟ تو صاحب شرح وقایہ کہیں گے بھئی دیکھیے کفالت کہتے کس کو ہیں بھئی؟ دو قول ذکر کیے تھے ضم ذمة إلى ذمة في المطالبة کس کے اندر؟ ذمہ کو ذمہ کے ساتھ ملانا ہے کس کے اندر؟ مطالبہ اور بعض علماء کے نزدیک ذمے کو ذمے کے ساتھ ملانا ہے کس چیز کے اندر؟ دین کے اندر تو یعنی جیسے اصیل پر دین ہوتا ہے کفیل پر بھی کیا ہوتا ہے؟ دین تو جب اس پر بھی دین ہے اسی کو تو مالک بنا رہے ہیں ہم۔
صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو ان علماء کے نزدیک جن کے نزدیک کفالت نام ہے ضم ذمة إلى ذمة في الدين कि ذمے کو ذمے کے ساتھ ملانا کس چیز میں؟ یعنی جیسے اصیل پر دین ہوتا ہے اسی طرح کفیل پر بھی کیا آ گیا دین آ گیا جب کفیل پر دین آیا تو دین کفیل پر ہوا اور اسی کو کیا بنا رہے ہیں ہم مالک بنا رہے ہیں کوئی اشکال ہی نہیں۔
ہاں باقی ان علماء کے اقوال پر جو جمہور ہیں وہ کیا کہتے ہیں بھئی؟ کہ کفالت کس چیز کا نام ہے؟ ضم ذمة إلى ذمة في المطالبة ذمے کو ذمے کے ساتھ ملانا مطالبے کے اندر نہ کہ دین کے اندر یعنی کفیل پر صرف مطالبہ ہوتا ہے دین نہیں ہوتا کہتے ہیں ان کے قول پر اشکال یہ ہوتا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں بھئی وہاں پر بھی دین کو پہلے کفیل پر ثابت کیا جائے گا گویا کہ یہ دین کس پر ہے؟ کفیل پر بھی کفیل پر ہے بھئی کفیل پر بھی ہے تو یہاں بھی پہلے کفیل کو کیا بنانا کفیل پر کیا ثابت کرنا پڑے گا؟ تو یہاں ہم کہتے ہیں گویا کفیل پر بھی دین ہے جب دین ہے تو اس کو مالک بنانا دین کا صحیح ہے۔
تو دونوں صورتوں میں کفیل پر کو دین کا مالک بنانا تو پہلے اس کے ذمے دین ثابت ہوگا اور پھر وہ اس کا کیا بن جائے گا؟ مالک ورنہ درست نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
فإن قلت اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ ان الدين على الأصيل کہ دین تو اصیل پر تھا فكيف يملكه الكفيل تو کیسے اس کا مالک بن جائے گا کفیل؟ فإن لأن تمليك الدين من غير من عليه الدين لا يصح کیونکہ دین کا مالک بنانا من غیر من عليه دین کے علاوہ کو دین کا مالک بنانا لا يصح یہ درست نہیں ہے۔
قلت میں کہتا ہوں جواب دے رہے ہیں بھئی علامہ صدر الشریعہ أما عند من جعل الكفالة وہ علماء ان کے نزدیک جنہوں نے کفالت کو کیا قرار دیا ہے؟ ضم ذمة إلى ذمة في الدين ملانا ایک ذمے کو دوسرے ذمے کے ساتھ کس چیز کے اندر؟ دین کے اندر جنہوں نے اس کو کفالت قرار دیا ہے فظاہر ان کے نزدیک تو بات ہے اس لیے کہ کفیل بھی دین کا اس پر بھی دین ہے تو وہ دین کا مالک بن سکتا ہے۔
وأما عند الآخرين باقی دوسروں کے نزدیک فأن المفقول له إذا ملك الدين من الكفيل اس لیے کہ مفقول لہ یعنی طالب جو ہے جب اس نے مالک بنا دیا دین کا کس کو؟ کفیل کو اما بالہبۃ یا تو کس کے ذریعے؟ ہبہ کے ذریعے کہ بھئی وہ دین میں نے تمہیں دے دیا اور بالمواوضة يا کس طریقے پر معاوضہ یعنی اس سے جنس اخر لے لی فدين يجعل ثابتا في ذمة الكفيل تو دین کو ثابت مانا جائے گا کس کے ذمے میں؟ کفیل کے ذمے میں بھی کیوں ضرورت صحة التمليك تملیک کے صحیح ہونے کی کی ضرورت کی بنا پر کہ تملیک کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے بھئی۔
کذا قالو اسی طرح فقہاء نے فرمایا ہے۔ چلیے بس مولانا هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام