Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-110

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 29 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 1
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
كِتَابُ الْعَارِيَّةِ هِيَ تَمْلِيكُ مَنْفَعَةٍ بِلَا بَدَلٍ فَإِنَّ اللَّفْظَ يُنْبِئُ عَنْ التَّمْلِيكِ فَإِنَّ الْعَرِيَّةَ الْعَطِيَّةُ وَالْمَنَافِعُ قَابِلَةٌ لِلتَّمْلِيكِ كَالْوَصِيَّةِ بِخِدْمَةِ الْعَبْدِ وَعِنْدَ الْبَعْضِ هِيَ إِبَاحَةُ الِانْتِفَاعِ بِمِلْكِ الْغَيْرِ. عاریت کے بارے میں ہم پڑھیں گے۔ عاریت کہتے ہیں کسی کو استعمال کے لیے کوئی چیز دینا بھئی یہ کیا کہلاتا ہے؟ عاریت سمجھ میں آیا؟ مثلاً آپ نے مجھ سے کتاب کوئی مانگی مطالعے کے لیے میں نے آپ کو دے دی تو یہ عاریت کتاب میں نے آپ کو نفع اٹھانے کے لیے بھئی سمجھ میں آیا؟ یا آپ مولانا آپ نے ٹیوشن پڑھانے جانا تھا آپ کی سائیکل پنکچر ہو گئی آپ نے مجھ سے سائیکل لی تھوڑی دیر کے لیے اور اس پر پڑھانے چلے گئے اور پھر لا کر واپس دے دی تو یہ جو آپ استعمال کے لیے نفع اٹھانے کے لیے چیز لے لیتے ہیں کسی سے یہ کیا کہلاتا ہے؟ عاریت کہلاتا ہے۔ اچھا بھئی۔ یہاں چند لفظ ہیں وہ یاد رکھنا بھئی ایک ہے اعارة، اعارة کا معنی ہے عاریت دینا، اعارہ اس کا معنی ہے عاریت کوئی چیز کسی کو دینا، ایک لفظ ہے استعارة، استعارہ کہتے ہیں عاریت کوئی چیز لینا تو عاریت کوئی چیز لینا طلب کرنا، معیر وہ شخص جو عاریت کوئی چیز دے، مستعیر وہ جو عاریت کوئی چیز لے بھئی، مستعیر عاریت چیز لینے والا، طلب کرنے والا، اور مستعار وہ چیز جو عاریت دی جائے بھئی، لی جائے، مستعار وہ چیز جو عاریت لی گئی بھئی۔ اچھا بھئی دیکھیے اب کہتے ہیں ہِيَ تَمْلِيكُ مَنْفَعَةٍ بِلَا بَدَلٍ یہ مالک بنانا ہے نفع کا دیکھا بھئی آپ نے مجھ سے سائیکل لی بھئی تو میں نے آپ کو کس کا مالک بنایا سائیکل کا یا سائیکل کے نفعوں کا مالک بنایا؟ کہ نفع کے آپ اس پر سواری کر سکتے ہیں بھئی تو یہ مالک بنانا ہے نفع کا اور میں نے آپ سے کوئی بدل لیا؟ بدل نہیں لیا بھئی تو بِلَا بَدَلٍ، ہِيَ تَمْلِيكُ مَنْفَعَةٍ بِلَا بَدَلٍ تو یہ مالک بنانا ہے نفع کا بغیر کسی بدل کے اگر بدل کے ساتھ مالک بنانا ہو نفع کا تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ اجارہ یہ کیا کہلاتا ہے؟ اجارہ میں اگر آپ سے پیسے بھی لیتا اس کے تو پھر یہ اجارہ بن جاتا پھر تو میں نے کرائے پر دی ہے عاریت نہیں دی۔ اچھا فَإِنَّ اللَّفْظَ يُنْبِئُ عَنْ التَّمْلِيكِ بھئی، بھئی یاد رکھو عاریت کے بارے میں بھئی ہمارے نزدیک اس یہ تملیک منافع ہے بھئی دوسرے کو نفع کا مالک بنایا جاتا ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مالک نہیں بنایا جاتا دوسرے کے لیے نفع اٹھانے کو مباح کر دیا جاتا ہے اس کی اجازت دی جاتی ہے کیا اس کی اجازت دی جاتی ہے؟ فرق سمجھ میں آیا؟ ہمارے نزدیک عاریت کسے کہتے ہیں؟ دوسرے کو نفع کا مالک بنانا اور ان کے نزدیک مالک بنانا نہیں بلکہ اس کے لیے نفع اٹھانے کو مباح کرنا جائز قرار دینا بھئی۔ اچھا تو اب بھئی چونکہ ہمارے نزدیک نفع کا مالک بنایا ہے تو اس پر آپ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی فَإِنَّ اللَّفْظَ يُنْبِئُ عَنْ التَّمْلِيكِ اس لیے کہ یہ اس کا جو لفظ ہے وہ خبر دیتا ہے تملیک کی۔ عاریت کا لفظ ہی کس چیز کی خبر دے رہا ہے؟ تملیک۔ اسی سے تملیک کا معنی مفہوم ہو رہا ہے بھئی کیسے مفہوم ہو رہا ہے؟ کہتے ہیں فَإِنَّ الْعَرِيَّةَ الْعَطِيَّةَ تو عاریہ عطیے کو کہتے ہیں عاریت عاریت سے ہے اور عاریہ کس کو کہتے ہیں؟ عطیے کو کہتے ہیں اور عطیہ جب کسی کو دیا جاتا ہے مالک بنایا جاتا ہے یا نہیں بنایا جاتا؟ مالک بنایا جاتا ہے تو عاریت کے اندر بھی یہ تملیک بنانے والے معنی ملحوظ ہیں البتہ اس میں یہ فرق ہے کہ کیا کیا جاتا ہے؟ نفع کا مالک بنایا جاتا ہے عین اس شے کا مالک نہیں بنایا جاتا۔ وَالْمَنَافِعُ قَابِلَةٌ لِلتَّمْلِيكِ بھئی، اچھا اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی منافع میں تو بقا ہی نہیں ہے۔ منافع کے لیے میں تو مالک تو اس چیز کا بنایا جاتا ہے جس میں بقا ہو میں نے آپ کو کتاب دی یہ کتاب آپ کی ہو گئی بھئی اس کتاب میں بقا ہے آج بھی ہے کل بھی ہے پرسوں بھی ہے لیکن منافع کے اندر تو بقا نہیں مولانا سمجھ میں آیا؟ مثلاً بھئی مکان میں نے آپ کو دیا عاریت بھئی چند دن رہنے کے لیے تو اب اس کے منافع میں بقا نہیں آج کی رہائش الگ ہے کل کی رہائش الگ ہوگی پرسوں کی رہائش الگ ہوگی۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ سارے مہینے کی رہائش اکٹھی کر لیں؟ نہیں بھئی ہر ہر آن کی رہائش کیا ہے؟ الگ ہے اور آتی جا رہی ہے اور گزرتی جا رہی ہے بھئی سمجھ میں آیا؟ اس آن کی جو رہائش ہے وہ پہلے نہیں تھی ابھی آئی اور پھر فورا ہی گزر گئی اب جو رہائش ہے وہ جدید اب پھر وہ گزر گئی مولانا اگلے آن میں کیا ہوا پھر جدید تو منافع میں تو بقا ہی نہیں منافع تو وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ کیا ہوتے ہیں؟ ختم ہوتے چلے جاتے ہیں وقت سے پہلے ان کا وجود نہیں اور وقت کے بعد بھی ان کا وجود نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو کوئی گھر آپ نے کسی کو سال کے لیے کرایہ پر دیا بھئی تو جو ابھی آنے والے منافع ہیں ان کا تو ابھی وجود ہی نہیں اور جو گزر گئے وہ بھی ختم ہو گئے صرف اس آن کے منافع ہیں جو پھر گزر گئے اب اگلے آن کے آئے وہ بھی گزر گئے پھر اگلے آن کے آئے وہ بھی گزر گئے تو منافع میں تو بقا ہی نہیں بھئی منافع میں بقا ہی نہیں بھئی۔ تو پھر جب اس میں بقا نہیں ہے تو پھر اس کے اندر مالک بنانا صحیح ہے یا مالک بنانا صحیح نہیں بھئی؟ اچھا بھئی بحث تو آپ اصول فقہ کی کتابوں میں پڑھ चुके ہیں کہ ضابطے کے قیاس سے یہی تقاضا کرتا ہے کہ منافع میں کہ تملیک جائز نہیں ہونی چاہیے جائز نہیں ہونی چاہیے لیکن آپ بحث پڑھ چکے ہیں کہ اجارہ کے اندر کیا کرتے ہیں؟ احادیث وغیرہ سے چونکہ اس کا ثبوت ہے حدیث میں آتا ہے اجیر کو کیا کرو اس کی اجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو اور اجارہ میں کیا ہوتا ہے دوسرے کو نفع کا مالک بنایا جاتا ہے اور عوض دیا جاتا ہے تو اس حاجت کی وجہ سے اور حدیث کی وجہ سے کیا کیا گیا؟ اجارے کی اجازت دی گئی سمجھ میں آیا؟ تو جیسے اجارے کے اندر نفع کا مالک بنایا جاتا ہے البتہ اس میں عوض ہوتا ہے تو عاریت بھی جائز اس کا ثبوت بھی احادیث سے ہے اس میں نفع اس میں بھی نفع کا مالک بنایا جاتا ہے اور بغیر کسی عوض کے بھئی صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ قیاساً تو اجارہ اور عاریت جائز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس میں نفع کا مالک بنایا جاتا ہے اور نفع میں بقا نہیں اور جس چیز میں بقا نہیں اس کا مالک کیسے بناتے ہیں لیکن احادیث سے کیا اس کا ثبوت آیا تو احادیث کی وجہ سے اس کی کیا کی گئی اجازت دی گئی یعنی اس حاجت تھی اس کی بھئی ایک آدمی ایک چیز خرید نہیں سکتا تو لازمی بات ہے کسی سے عاریت لے گا یا اجارے کے طور پر لے گا تو اس اس حاجت کی وجہ سے بھی کیا ہوا اس کی اجازت دی گئی اور تو اس کی اجازت ہوئی مولانا اس کا ثبوت آ گیا تو لہذا ثابت ہوا کہ منافع کیا ہیں تملیک کے قابل ہیں کَالْوَصِيَّةِ بِخِدْمَةِ الْعَبْدِ بھئی۔ جیسے وصیت کرنا غلام کی خدمت کے بارے میں بھئی ایک آدمی تھا اس کا غلام تھا بھئی اس آدمی نے مرتے وقت وصیت کر دی کہ میرا یہ غلام زید کی خدمت کیا کرے میرے مرنے کے بعد کس لیے خدمت کرے گا یہ غلام زید کی تو دیکھو یہ وصیت درست ہے مولانا معلوم ہو غلام کے منافع کا مالک کس کو بنا دیا؟ زید کو صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ معنی ہے وَالْمَنَافِعُ قَابِلَةٌ لِلتَّمْلِيكِ اور منافع جو ہیں وہ تملیک کے قابل ہیں یعنی اس میں دوسرے کو مالک بنایا جا سکتا ہے جیسے کہ وصیت ہے غلام کی خدمت کی تو یہ وصیت درست ہے۔ وَعِنْدَ الْبَعْضِ اور بعض علماء کے نزدیک بھئی ہی اِبَاحَةُ الِانْتِفَاعِ بِمِلْكِ الْغَيْرِ یہ مباح کرنا ہے نفع اٹھانے کو غیر کی ملک سے۔ میں نے آپ کو سائیکل دی تھی مولانا تو یہ آپ کی ملک تھی یا میری ملک تھی؟ تو یہ غیر کی ملک سے نفع اٹھانے کو جائز قرار دینا ہے تو میں نے اپنی سائیکل آپ کے حوالے کی کہ آپ اس سے کیا کر سکتے ہیں؟ نفع اٹھا سکتے ہیں تو یہ معنی ہے اِبَاحَةُ الِانْتِفَاعِ بِمِلْكِ الْغَيْرِ مباح ہونا ہے مباح کرنا ہے نفع اٹھانے کو غیر کی ملک کے ساتھ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ سب کو سمجھ میں آ رہی ہے بات کہ نہیں بھئی؟ وَاعْلَمْ اور جان لے ان التَّمْلِيكَاتِ أَرْبَعَةُ أَنْوَاعِ کہ تملیکات جو ہیں مولانا چار قسم پر ہیں۔ چار قسم پر بھئی۔ فَتَمْلِيكُ الْعَيْنِ بِالْعِوَضِ یہی تملیک یا عین کی ہوگی مالک عین کا بنایا جائے گا یا عوض کا او نفع کا کس کا؟ یا عین کا مالک بنائیں گے یا نفع کا مالک بنائیں گے پھر دونوں میں دو دو صورتیں ہیں بدل کے ساتھ ہوگا یا بدل کے عوض یعنی کوئی لیا جائے گا یا عوض نہیں تو اگر عین کا مالک بنائے کسی چیز کا کسی کو مالک بنایا جائے اور عوض بھی لیا جائے یہ کیا کہلاتا ہے؟ یہ بیع کہلاتا ہے اور اگر بغیر بدل کے بغیر عوض کے مالک بنایا جائے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ یہ ہبہ کہلاتا ہے اور اگر نفع کا مالک دوسرے کو بنایا تو اگر بدل کے ساتھ ہو عوض کے ساتھ ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ اجارہ اور اگر بغیر عوض کے ہو تو عاریت بھئی عاریت کہلاتا ہے۔ یہی بات کہہ رہے ہیں جی جی غالباً یہ عبارت میں آپ کو لکھوا بھی چکا ہوں بھئی۔ کتاب البیوع کے ابتدا کے اندر بھئی میں نے یہ عبارت لکھਵਾਈ تھی بھئی اور حوالہ دوسری کتاب کا آپ کو دیا تھا بھئی۔ وَاعْلَمْ جان لے تو ان التَمْلِيكَاتُ اربعة انواعِ تملیکات چار انواع پر ہیں فَتَمْلِيكُ الْعَيْنِ بِالْعِوَضِ عین کا مالک بنانا کسی کو عوض کے ساتھ بیع یہ بیع ہے وَبِلَا عِوَضٍ هِبَةٌ اور بغیر عوض کے یہ ہبہ ہے یعنی عین کا مالک بنانا بغیر عوض کے ہبہ ہے وَتَمْلِيكُ الْمَنْفَعَةِ بِعِوَضِ إِجَارَةٌ اور مالک بنانا نفع کا بغیر عوض کے ساتھ اجارہ یہ اجارہ ہے وَبِلَا عِوَضٍ عاریت اور بغیر عوض کے عاریت ہے یعنی عین کا مالک بنانا بغیر عوض کے ہبہ ہے وَتَمْلِيكُ الْمَنْفَعَةِ بِعِوَضٍ إِجَارَةٌ اور مالک بنانا نفع کا عوض کے ساتھ اجارہ یہ اجارہ ہے وَبِلَا عِوَضٍ عاریت اور بغیر عوض کے عاریت یہ کیا ہے عاریت ہے۔ وَلْمُصَحِّحُوا اب الفاظ بتا رہے ہیں کن لفظوں کے ساتھ عاریت صحیح ہے اور کن کے ساتھ صحیح کن کے ساتھ صحیح ہے وہ لفظ بتلا رہے ہیں بھئی وَتَصِحُّ بِأَعَرْتُكَ اور عاریت صحیح ہے أعرتك کے لفظ کے ساتھ بھئی۔ أعرتك میں نے تجھے عاریت کے طور پر دی یہ لفظ تو صریح ہے بھئی کیا ہے عاریت میں صریح ہے ہاں میں نے تجھے عاریت کے طور پر دی وَمَنَحْتُكَ منح کا معنی ہوتا ہے عطا کرنا بھئی۔ منح کا کیا معنی ہے عطا کرنا ہتیہ دینا بھئی اس عاریت کیسے صحیح؟ کہتے ہیں یاد رکھو اس کے اندر ہبہ بھی اس کے ذریعے ہبہ کی نیت بھی صحیح ہے عاریت کی نیت بھی کیونکہ منح کا معنی کیا بیان کیا میں نے؟ ہتیہ کرنا عطا کرنا سمجھ میں آیا؟ تو بھئی پھر اس کے ساتھ عاریت کیسے صحیح ہوئی؟ کہا لفظ منحتك یہ میں نے آپ کو ہتیہ کیا اور اس سے ارادہ کس کا کیا؟ عاریت کا تو علامہ صدر الشریعہ بتلانے لگے ہیں کہ یہاں اس کا اصل معنی کا لحاظ رکھا گیا کس کا؟ اصل وضع کے اعتبار سے اس کو اصل وضع میں یہ کس کے لیے معنی وضع تھا یہ لفظ بھئی کس معنی کے لیے؟ ہتیہ کے لیے نہیں تھا وضع بلکہ منحۃ کہتے تھے کب جب کوئی کسی کو اونٹنی دے دیتا یا بکری بھیڑ بکری دے دیتا تاکہ وہ اس کو اس کا نفع اٹھائے دودھ وغیرہ اس کا پیے اور پھر بعد میں واپس کر دے تو اس فعل کے لیے منحہ وضع تھا اس فعل کے لیے یہ جو اونٹنی وغیرہ دودھ پینے کے لیے دی جاتی تھی اور پھر واپس لے لی جاتی تھی تو دیکھو اس کے اندر اونٹنی کا مالک بنایا جاتا تھا یا اس کے نفع کا مالک بنایا جاتا تھا؟ اس کے نفع کا مالک بنایا گیا بھئی تو لہذا اب تو یہ لفظ عطیہ کے اندر استعمال ہوتا ہے لیکن اصل وضع میں یہ کس کے لیے وضع تھا؟ اونٹ یا بھیڑ بکری وغیرہ کو دودھ پینے کے لیے کسی کو دینا تو یہاں پر کس معنی کی رعایت رکھی گئی؟ اصل وضع کی بھئی کس کی؟ اصل۔ یہ معنی ہے کہتے ہیں اصل المنح اصل منع کی اصل یہ ہے أَنْ يُعْصِيَ نَاقَةً أَوْ شَاةً کہ دے دے کوئی شخص کسی کو اونٹنی یا بکری بھئی کیا دے دے؟ اونٹنی یا بکری لِيَشْرَبَ لَبَنَهَا تاکہ وہ کیا کر لے اس کا دودھ پیے ثُمَّ تُرَدُّ پھر اس کو کیا کیا جائے واپس لوٹایا جائے فَرُوعِيَ فِيهِ أَصْلُ الْوَضْعِ تو اس میں رعایت دی گئی رکھی گئی کس کی بھئی؟ عاریت کے لیے منحہ کا لفظ استعمال ہوا اس میں اصل وضع کی رعایت رکھی گئی ہے فحمِلَ عَلَى الْعَارِيَّةِ تو اس حمل محمول کیا گیا کس پر؟ عاریت پر وأطعمتك أرضي بھئی زمین کسی جی میں نے تجھے اپنی زمین کھلا دی کیا کی میں نے تجھے اپنی زمین کھلائی بھئی اطعام میں ارض ذکر کرتا ہے تو یہ بھی عاریت میں استعمال ہوتا ہے وحملتك علی دابتي میں نے تجھے اپنی سواری پر سوار کیا یہ بھی کس میں استعمال ہوتا ہے عاریت عربی زبان کے ضابطے چل رہے ہیں مولانا وأخدمتك عبدي اور میں نے خدمت کے لیے تجھے اپنا غلام دیا یہ بھی کس میں استعمال ہوتا ہے عاریت میں وداري لك سكنا اور میرا گھر آپ کے لیے ہے بہ اعتبار رہائش کے میرا گھر کس کے لیے ہے؟ ورنہ سکنا نہ کہتا تو معنی یہ تھا داري لك میرا گھر آپ کا ہوا یعنی لفظ تملیک کے لیے آیا تخصیص کے لیے آیا یعنی آپ اس کے مالک بن گئے کیا ہیں؟ لیکن آگے کہا سکنا یہ گھر آپ کا ہے کس اعتبار سے ملک کے اعتبار سے یا صرف رہائش کے اعتبار سے؟ رہائش تو لہذا یہ عاریت کا لفظ ہے۔ أي داري لك بطريق السكنا میرا گھر آپ کے لیے ہے رہائش کے اعتبار سے اب ترکیب بتلا رہے ہیں فدار مبتدا دار مضاف یا ضمیر مضاف الیہ یہ مبتدا ہے واللقا خبر اور لقا جار مجربون مل کر کس سے متعلق ہوئے ثابت سے متعلق ہو کر یہ خبر ہے واللقا خبر ہو یہ خبر ہے وسكنا تمييز عن النسبة إلى المخاطب اور سکنا تمييز ہے کس سے تمیيز ہے؟ عن النسبۃ الی الفاعل وہ جو نسبت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ فاعل کی لقا کے اندر کیا ہے لام تملیک کے لیے آیا سمجھ میں آیا؟ تو وہ جو تملیک کی نسبت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ مخاطب کی طرف اس نسبت سے کیا ہے؟ تمیيز ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ نسبت سے تمیيز بھئی۔ وَعُمُرَا سُكْنَى عمرا بھئی یہ پوری عبارت نہیں ہے پچھلی عبارت بھی کچھ ساتھ ملائیں أي داري لك عمرا سكنا بھئی سمجھ میں آیا آگے علامہ صدر شریعہ نے خود بتلا دیا داری لك عمرا سكنا میرا گھر کیا ہے آپ کے لیے ہے عمر بھر کے لیے بہ اعتبار رہائش کے میرا گھر آپ کے لیے ہے عمر بھر کے لیے بہ اعتبار رہائش کے یعنی عمر بھر کے لیے جب تک تم زندہ ہو میرا گھر آپ کے لیے ہے بطور رہائش یعنی اس کی رہائش آپ کے لیے ہے۔ فعمرا بھئی اب ترکیب بتا رہے ہیں کہتے ہیں عمرا مفعول مطلق ہے مفعول مطلق جانتے ہیں یا نہیں وہ مصدر جو ما قبل فعل کے معنی میں ہوتا ہے بھئی ضربت ضرباً ضربتو میں نے اس کی پٹائی کی سمجھ میں آیا تو یہ ضرباً مفعول مطلق ہے کس کے معنی میں ہے ما قبل فعل کے تو یہاں پر بھی عمرا اسی طرح ہے بھئی ما قبل میں تو کوئی اس جیسا فعل نہیں گزرا کہتے ہیں محذوف ہے فعل کیا ہے؟ محذوف ہے فعمرا مفعول مطلق لِفِعْلٍ محذوف یہ اس میں مفعول مطلق ہے فعل محذوف کے لیے وتتقدیرہ اور تقدیر کلام یوں ہے مولانا أعمرتُها یوں داری بھی شروع میں لگا لیں مولانا داری أعمرتُها لك عمرا سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ میرا گھر جو ہے کہ میں نے عمر بھر کے لیے وہ تو دے دیا عمرہ عمر بھر کے لیے دینا یہ مفعول مطلق ہے بھئی سمجھ میں آیا؟ ترکیب سمجھ میں آئی کہ نہیں آئے بھئی؟ وَالْعُمْرَا بھئی عمرا کا کیا معنی ہے کہتے ہیں جعل الدار لأحد مدة عمره کسی گھر کو بنانا کسی شخص کے لیے مدت اس کی مدت عمر کے لیے یعنی اس کی ساری زندگی کے لیے گھر کو کسی کے لیے قرار دے دینا بھئی رہائش وسكنا تمييز اور سکنا یہاں پر بھی کیا ہے؟ تمیيز ہے۔ وَيَرْجِعُ الْمُعِيرُ فِيهَا مَتَى شَاءَ وَلَا يَضْمَنُ بِلَا تَعَدٍّ. اچھا بھئی آپ میرے سے میں نے آپ کو اپنا گھر رہائش کے طور پر دیا کہ لیجیے آپ اس میں رہائش رکھیے۔ تُو مَیں کس وَقْت لے سکتا ہوں کس وَقْت نہیں، کہتے ہیں جَبْ چاہُے۔ مُعِيرٌ عَارِيَةً دینے والا، عَارِيَةً میں کیا کر سکتا ہے؟ رُجُوع کر سکتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ رُجُوع کر سکتا ہے۔ یہ معنی وَيَرْجِعُ المُعِيرُ اور رُجُوع کر سکتا ہے مُعِيرٌ فِيهَا یا فِي العَارِيَةِ، عَارِيَةً کے اندر مَتَى شَاءَ جَبْ چاہُے۔ وَلَا يَضْمُنُ بِلَا تَعَدٍّ إِنْ هَلَكَتْ۔ اچھا بھئی، میں نے آپ کو اپنی سائیکل دی تھی عَارِيَةً بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہ سائیکل آپ کے پاس سے چوری ہو گئی۔ تو کیا آپ پر ضَمَان آئے گا یا نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں اگر آپ نے کوئی تَعَدِّي نہیں کی تو آپ پر ضَمَان نہیں ہے۔ اگر آپ نے تَعَدِّي کی ہے، تو پھر آپ پر کیا آئے گا؟ ضَمَان آئے گا۔ یہ معنی وَلَا يَضْمُنُ، مُسْتَعِير ضَامِن نہیں ہوگا بِلَا تَعَدٍّ بغیر تَعَدِّي کے إِنْ هَلَكَتْ اگر وہ عَارِيَةً کیا ہو جائے؟ ہلاک ہو جائے۔ ہٰذَا عِنْدَنَا یہ ہمارے نزدیک ہے، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: العَارِيَةُ مَضْمُونَةٌ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عَارِيَةً مضمون ہے، یعنی اس کی وجہ سے کیا آئے گا؟ ضَمَان آئے گا، ضَمَان دینا پڑے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو کسی کی کوئی چیز آپ نے لی ہے، اور آپ کے پاس وہ بغیر تَعَدِّي کے ہلاک ہو گئی، تو شَرْعاً آپ پر کچھ نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ لیکن بہرحال بھئی! اگرچہ ہے تو کچھ نہیں، لیکن کیا کرنا چاہیے؟ تَالِیفِ قَلْب کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور دینا چاہیے، سمجھ میں آیا؟ آپ کیا کہیں؟ جی، شَرْعاً میرے اوپر کچھ نہیں ہے، اس نے آپ کے ساتھ احسان کیا تھا، اب آپ کو بھی کیا کرنا چاہیے؟ احسان کرنا چاہیے۔ وَلَا تُؤْجِرُ، اور اُجْرَت پر نہیں دے سکتا مولانا! بھئی میں نے آپ کو سائیکل دی تھی عَارِيَةً بھئی کہ چند دن آپ اس پر کیا کریں؟ تِشَنیں پڑھائیں۔ آپ نے آگے سائیکل کرائے پر دے دی۔ کیا آپ کرائے پر دے سکتے ہیں یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی! کرائے پر نہیں۔ بھئی، چیز اپنے مِثْل کو نہیں شامل ہوتی، تو اپنے سے أَعْلَى کو تو بطریقِ أَوْلَى شامل، اور إِجَارَة تو عَارِيَةً سے أَعْلَى ہے، اس سے اوپر ہے، کیوں؟ کیونکہ عَارِيَةً میں عِوَض نہیں ہوتا، اور إِجَارَة میں تو کیا ہوتا ہے؟ عِوَض۔ عَارِيَةً لازِم نہیں ہوتا، جَبْ چاہوں میں رُجُوع کر لوں، یا آپ کو کہا ہے میں سائیکل دوں گا اور پھر کہتا ہوں میں نہیں دیتا بھئی، تو یہ آپ کے لیے لازِم نہیں ہے، جبکہ إِجَارَة تو کیا ہے؟ عَقْد لازِم ہے۔ وَلَا تُؤْجِرُ اور إِجَارَة پر نہیں دے سکتا، لِأَنَّ الشَّيْءَ لَا يَسْتَضْبِعُ مَا فَوْقَهُ، (یہ لفظ مَا فَوْقَهُ ہے بھئی، يَسْتَضْبِعُ کے معنے تابع بنانا، يَسْتَضْبِعُ کا کیا معنی ہے؟ تابع) لِأَنَّ الشَّيْءَ اس لیے کہ جو چیز ہوتی ہے، لَا يَسْتَضْبِعُ تابع نہیں بناتی، مَا فَوْقَهُ اس کو جو اس سے اوپر ہو۔ تو عَارِيَةً، عَارِيَةً سے اوپر ہے، اس کو اتنا تابع نہیں بنا سکتا، تو وہ اس میں داخل نہیں ہے۔ فَإِنْ عَارَرَهَا فَاعَاتَبَتْ ضَمَّنَهُ المُعِيرُ۔ اچھا بھئی! میں نے آپ کو سائیکل دی تھی، آپ نے آگے اس کو کرائے پر دے دیا، تو کرائے پر دینا تو آپ کے لیے جائز نہیں تھا، لیکن آپ نے کرائے پر دے دی، کہتے ہیں اب اگر ہلاک ہوئی، تو اس صُورَت میں مُسْتَعِير پر ضَمَان آئے گا، کس پر ضَمَان آئے گا؟ مُسْتَعِير پر ضَمَان آئے گا۔ تو آپ ہوئے مُسْتَعِير، میں ہوا مُعِير، عَارِيَةً دینے والا کون؟ مُعِير، آپ کون؟ مُسْتَعِير، اور آگے جس کو آپ نے سائیکل دی، وہ کون ہوا؟ مُسْتَاجِر، وہ کون ہوا؟ مُسْتَاجِر۔ تو مُعِير کی مرضی ہے، چاہے تو ضَامِن کس کو بنا دے؟ مُسْتَعِير کو، جس نے عَارِيَةً لی تھی، یا مُسْتَاجِر کو، جس نے کیا کیا تھا؟ اُجْرَت پر۔ سمجھ میں آیا؟ جس سے مرضی لے لے۔ تو اب میں اپنی سائیکل میری چوری ہوئی ہے مُسْتَاجِر کے پاس، تو اب میں آپ سے بھی ضَمَان لے سکتا ہوں، مُسْتَعِير سے بھی، اور اس مُسْتَاجِر سے بھی۔ اچھا! آپ سے لے لیا، پھر تو ٹھیک، ضَمَان آپ پر ہی آتا ہے، لیکن اگر مُسْتَاجِر سے میں ضَمَان لے لوں، تو کیا وہ آپ پر، مُسْتَعِير پر رُجُوع کرے گا یا رُجُوع؟ کہتے ہیں دیکھو! اگر اس کو پَتָہ تھا، کہ آپ نے یہ سائیکل مجھ سے بَطَوْرِ عَارِيَةً کے لی ہے، پھر بھی وہ آگے إِجَارَة پر آپ سے لے لیتا ہے، تو اب وہ آپ پر رُجُوع نہیں کرے گا، اب وہ بھی تَعَدِّي میں شَرِيك ہے، تَعَدِّي میں کیا ہوا؟ شَرِيك ہوا۔ لیکن اگر اس کو پَتָہ نہیں تھا، اسے کیا پَتָہ میں نے آپ کو عَارِيَةً دی ہے، وہ تو آپ کی سائیکل سمجھ کر آپ سے کرائے پر لے گیا، تو اس صُورَت میں اب اس کا کوئی قُصُور نہیں، لِہٰذَا اگر اُس پر میں نے رُجُوع کیا اور مُسْتَاجِر سے میں نے پیسے وُصُول کر لیے سائیکل کے، تو مُسْتَاجِر پھر کس پر رُجُوع کرے گا؟ مُسْتَعِير پر۔ صُورَت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: فَإِنْ عَارَرَهَا، اگر وہ عَارِيَةً جو ہے کرائے پر دے دی، فَاعَاتَبَتْ، پس وہ سواری کیا ہوئی؟ ہلاک ہو گئی، وہ چیز ہلاک ہو گئی، فَضَمَّنَهُ المُعِيرُ بھئی، تو کیا کرے گا مُعِير، اس مُسْتَعِير کو کیا بنا دے گا؟ اسے ضَامِن بنائے گا۔ وَلَا يَرْجِعُ، اچھا بھئی! کس کو ضَمَان بنایا؟ مُسْتَعِير کو، بھئی میں نے آپ سے پیسے وُصُول کر لیے، اب آپ کسی پر رُجُوع کریں گے؟ جِی؟ نہیں بھئی! قُصُور آپ کا ہے، آپ کیوں کسی پر رُجُوع کرتے ہیں؟ یہ معنی ہے وَلَا يَرْجِعُ عَلَى أَحَدٍ، اور یہ مُسْتَعِير کسی پر بھی رُجُوع نہیں کرے گا، وَلَا المُسْتَاجِرَ بِالنَّصْبِ، یہ کس کے ساتھ ہے؟ نَصْب پڑھنا ہے اس پر بھئی یہ نَصْب کے ساتھ ہے، عَطْفٌ عَلَى الضَّمِيرِ المَنْصُوبِ، یہ عَفْط ہے کس پر بھئی؟ ضَمِيرِ مَنْصُوب پر، فِى زَمَنَهُ، کس کے اندر جو آئی ہے؟ زَمَنَهُ۔ بھئی آیا تھا یا نہیں اس سَطْر کے شُروء میں آیا تھا؟ زَمَنَهُ۔ یہ زَمَنَهُ کے ساتھ ہَاء ضَمِير کون سی ہے؟ مَفْعُول کی، مَنْصُوب ضَمِير ہے، یہ مُسْتَاجِر بھی اسی پر عَطْف ہے، وہ مَنْصُوب ہے تو مُسْتَاجِر بھی کیا ہوا؟ تو تَرْجَمَہ کیا ہوا؟ زَمَنَهُ المُعِيرُ مُعِير کیا کرے؟ اس مُسْتَعِير کو کیا کرے؟ ضَامِن بنا دے، أَوِ المُسْتَاجِرَ یا کس کو ضَمَان بنا دے؟ یعنی جس سے مرضی چاہے کیا کرے؟ رُجُوع کر لے۔ لیکن اگر مُسْتَاجِر کو ضَمَان بنایا، آگے کیا کہتے ہیں؟ وَيَرْجِعُ عَلَى مُوجِرِهِ، وہ مُسْتَاجِر کس پر رُجُوع کرے گا؟ اپنے مُوجِر پر، اپنے اُس اسے کرائے پر دینے والے پر، اور مُوجِر کون تھا مولانا؟ مُسْتَعِير تھا، کون تھا؟ مُسْتَعِير تھا۔ وہ اس مُسْتَعِير پر رُجُوع کرے گا، کب رُجُوع کرے گا؟ اِلَّا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُ عَارِيَةٌ مَعَهُ، اگر اسے یہ پَتָہ نہ ہو کہ یہ اس کے پاس بَطَوْرِ عَارِيَةً کے ہے۔ اگر اسے یہ پَتָہ نہ ہو کہ یہ کیا ہے؟ بَطَوْرِ عَارِيَةً۔ مُسْتَاجِر کو پَتָہ نہیں تھا کہ یہ سائیکل آپ کے پاس بَطَوْرِ عَارِيَةً کے ہے، تو پھر تو وہ آپ پر کیا کرے گا؟ رُجُوع۔ لیکن اگر اسے پَتָہ تھا کہ آپ نے عَارِيَةً میرے سے لی ہوئی ہے، پھر بھی آپ سے إِجَارَة کے تَوْر پر لے گیا، تو اب اس صُورَت میں وہ بھی تَعَدِّي میں شَرِيك، لِہٰذَا رُجُوع نہیں کرے گا۔ اچھا، کہتے ہیں إِنْ لَمْ يَعْلَمِ المُسْتَاجِرُ أَنَّهُ عَارِيَةٌ مَعَ مُوجِرِهِ، اگر نہ جانتا ہو، کون نہ جانتا ہو؟ ضَمِير کا مَرْجِع بَتْلَایا، يَعْلَم کی ضَمِير کس کو راجِع ہے؟ مَتْن میں مُسْتَاجِر کو راجِع ہے، اگر مُسْتَاجِر نہ جانتا ہو أَنَّهُ عَارِيَةٌ، کہ یہ چیز کیا ہے؟ عَارِيَةٌ ہے۔ مَتْن میں کیا آیا تھا؟ مَعَهُ، ہَاء ضَمِير کا مَرْجِع بَتْلَادِیا عَلَّامَہ صدر شَرِيعَہ نے مَعَ مُوجِرِهِ، کس کے پاس ہے؟ مُوجِر یعنی مُسْتَعِير بھئی وہی ایک شَخْص ہے، مُوجِر کے پاس یا مُسْتَعِير کے پاس، وَإِنَّمَا يَرْجِعُ عَلَيْهِ المُسْتَاجِرُ لِلْغُرُورِ، اچھا بھئی! میں نے آپ کو سائیکل کرائے پر دی تھی، آپ نے آگے إِجَارَة پر دے دی، اور اس کو پَتָہ نہیں تھا، تو اب سائیکل اس کے پاس چوری ہوئی، اور میں نے اسی سے ضَمَان لے لیا، تو وہ کس پر رُجُوع کرے گا؟ اپنے مُوجِر پر، یعنی یوں کہے کس پر؟ مُسْتَعِير پر۔ کیوں بھئی؟ رُجُوع کیوں کرے گا؟ کہتے ہیں وَإِنَّمَا يَرْجِعُ عَلَيْهِ المُسْتَاجِرُ، مُسْتَاجِر اس لیے اس پر رُجُوع کرے گا لِلْغُرُورِ، بَوَجْهِ دھوکے کے، کہ اس نے کیا کیا اس کے ساتھ؟ دھوکا کیا، وہ اس چیز کا مالِک ہی نہیں تھا، تو عَارِيَةً کیسے دے دی؟ بِخِلَافِ مَا إِذَا عَلِمَ، بِخِلَافِ اس کے کہ اگر وہ جانتا ہو، تو رُجُوع تھا دھوکا دینے کی وَجْہ سے، لیکن جب اس کو پَتָہ ہے، تو اِذْ لَا غُرُورَ مِنَ المُوجِرِ، اس صُورَت میں مُوجِر کی طَرَف سے کوئی دھوکا نہیں پایا گیا، یہ تو اس کو پَتָہ تھا، جان بوجھ کر پھر لے گیا۔ وَيُعَارُ مَا اخْتَلَفَ اسْتِعْمَالُهُ أَوْلَىٰ، إِنْ لَمْ يُعَيَّنْ مُنْتَفِعًا بِهِ، وَمَا لَا يَخْتَلِفُ إِنْ عَيَّنَا۔ اچھا بھئی! اب آپ کو مَسْئَلَہ بَتْلَا رہے ہیں: بھئی آپ مجھ سے سائیکل عَارِيَةً لے گئے، کیا ہوا؟ سائیکل عَارِيَةً لے گئے، اچھا! یا آپ مجھ سے کوئی جانوَر، مَسْلَباً گھوڑی بھئی سَوَارِی کے تَوْر پر عَارِيَةً لے گئے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ عَارِيَةً لے گئے، یا مولانا گَدھا لے گئے آپ مجھ سے عَارِيَةً، آپ نے کراچی تک جانا تھا، تو آپ مجھ سے گَدھا کیا ہوا؟ عَارِيَةً لے گئے بھئی، عَارِيَةً لے گئے۔ تو کیا آپ کسی کو یہ عَارِيَةً آگے دے سکتے ہیں یا عَارِيَةً نہیں دے سکتے؟ کسی سے مانگی ہوئی چیز آگے کسی کو دینا جائِز ہے یا دینا جائِز؟ کہتے ہیں اس میں دو صُورَتیں ہیں، یا تو میں نے تَعْيِين کی ہوگی کہ اس سے نَفْع کون اٹھائے، یا تَعْيِين نہیں کی ہوگی۔ میں نے آپ سے، مَسْلَباً آپ نے مجھ سے کیا لیا؟ گَدھا لیا عَارِيَةً سَوَار ہونے کے لیے، تو یا تو میں کہوں گا بھئی! اس پر آپ ہی سَوَار ہو سکتے ہو، کوئی اور سَوَار، کسی اور کو اس گَدھے پر سَوَار ہونے کی اِجَازَت نہیں ہے، تو اب اس صُورَت میں، سمجھ میں آیا؟ تو یا میری طَرَف سے تَعْيِين ہوگی یا تَعْيِين نہیں ہوگی۔ اگر تَعْيِين نہیں، نَفْع اٹھانے والے کی تَعْيِين نہیں، پھر اس صُورَت میں آپ جِس کو چاہیں یہ گَدھا آگے عَارِيَةً دے سکتے ہیں۔ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ نے مجھ سے عَارِيَةً لیا، اور میں نے تَعْيِين کی کہ آپ ہی سَوَار ہوں گے، کوئی اور سَوَار نہیں ہوگا، میں نے تَعْيِين نہیں کی، تو جب میں نے تَعْيِين نہیں کی، تو اب تَعْيِين کا اِخْتِيَار آپ کو آ گیا، اب آپ کسی اور کو آگے کیا کر سکتے ہیں؟ یہ گَدھا عَارِيَةً دے سکتے ہیں۔ سُورَت سمجھ میں آگئی؟ چاہے بھئی! چاہے، اُس، وہ چیز مختلف ہوتی ہو اس سے، بَدَلنے استعمال کرنے والوں کے بَدَلنے سے بھئی، وہ چیز کیا ہو؟ مختلف۔ مَسْلَباً دیکھیے بھئی! مختلف ہوتی ہو، یا یوں کہو، مختلف ہوتی ہو یا مختلف نہ ہوتی ہو، اِس، اِستعمال کرنے والوں کے بَدَلنے سے بھئی۔ یعنی استعمال کرنے والوں کے بَدَلنے سے اس پر کوئی اَثَر پڑتا ہو یا اَثَر نہ پڑتا ہو، بَعْضِ أَوْقَات بھئی! استعمال کرنے والوں کے بَدَلنے سے کوئی اَثَر نہیں پڑتا۔ مَسْلَباً آپ مجھ سے گَدھا لے گئے تھے، کہ آپ نے اس پر دس قَفِیز گَنْدُم رکھوا، ااا... دس قَفِیز گَنْدُم لود کرنی ہے، یہاں سے کہاں تک بھئی؟ کراچی تک لے کر مَسْلَباً جانا ہے، اب یہ دس قَفِیز گَنْدُم اس پر چاہے آپ اپنی گَنْدُم لود کریں، یا آپ کیا کریں آگے کس کے حوالے کر دیں۔ زَيْد کو عَارِيَةً دے دیں، وہ آگے دس قَفِیز گَنْدُم اس پر لود کر لیتا ہے بھئی، تو اب کوئی فَرْق پڑے گا بھئی؟ نہیں بھئی! تو دیکھا، وہ چاہے وہ آپ کا ہو، چاہے بوجھ، اس سے کوئی فَرْق نہیں پڑتا۔ لیکن بَعْضِ أَوْقَات استعمال کرنے والے کے بَدَلنے سے چیز پر اَصَر پڑتا ہے، اور وہ مختلف ہو جاتی ہے۔ مَسْلَباً سَوَار ہونا، ایک ہے آپ کا سَوَار ہونا، ایک ہے زَيْد کا سَوَار ہونا بھئی، آپ ایک ہفتے تک بھی گَدھے پر سَوَار ہوں، کوئی اَثَر نہیں پڑتا، لیکن زَيْد اگر دو دن بھی سَوَار ہو جائے، تو ایک ہفتے تک گَدھا اُٹھنے کے قابل نہیں رہتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھا، یہ فَرْق ہوا بھئی۔ تو بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں استعمال کرنے والا بدلے، تو فَرْق پڑتا ہے، باج میں استعمال کرنے والا بدلے تو فَرْق نہیں پڑتا۔ تو اگر میں نے تَعْيِين نہیں کی تھی، میں نے آپ کو ایک چیز عاریتاً دی اور تَعْيِين نہیں کی بھئی، تو اس صُورَت کے اندر، چاہے استعمال کرنے والے کے بَدَلنے سے فَرْق پڑتا ہو، یا فَرْق نہ پڑتا ہو، دونوں صُورَتوں میں آپ کو آگے عَارِيَةً دینے کی اِجَازَت ہے، سمجھ میں آیا؟ اور اگر میں نے تَعْيِين کر دی، آپ نے کہا میں نے دس قَفِیز گَنْدُم اس پر لے کر جانی ہے فلاں جَگَہ سے فلاں جَگَہ تک، سمجھ میں آیا؟ میں نے تَعْيِين کر دی بھئی! کہ آپ صِرْف اپنی ہی گَنْدُم اس پر اٹھا سکتے، لاد سکتے ہیں، کسی اور کی گَنْدُم نہیں لا سکتے، تو اب یاد رکھو، اس کو اگر اگر زَيْد اتنی گَنْدُم اس پر لاد دے، کوئی فَرْق پڑے گا؟ کوئی فَرْق نہیں پڑ سکتا۔ تو اگر ایسا فِعْل ہے، جس میں فَرْق نہیں پڑتا، تو اب بھی، اگرچہ میں نے تَعْيِين کر دی، لیکن پھر بھی، آپ کو آگے عَارِيَةً دینے کی اِجَازَت ہے، لیکن اگر فَرْق پڑتا ہے، اور میں نے تَعْيِين کر دی، سَوَار ہونا، میں نے کہا آپ ہی اس پر سَوَار ہو سکتے ہیں، کوئی اور سَوَار نہیں ہوگا، آپ صِرْف آپ ہی کیا ہوں؟ اس پر سَوار ہوں۔ اب مولانا، اب اس سَوَارِی تو، سَوَار کے بَدَلنے سے مختلف ہوتی ہے، تو اس صُورَت میں میں نے جب تَعْيِين کر دی، تو اب کسی اور کو سَوَار کروانے کی آپ کو اِجَازَت نہیں۔ سُورَت سمجھ میں آگئی؟ کہ یا تو عَارِيَةً دینے والا تَعْيِين کرے گا یا تَعْيِين اگر تَعْيِين نہیں کی تو پھر تو مُطْلَقاً اِجَازَت ہے، آپ عَارِيَةً دے سکتے ہیں، خواہ استعمال کرنے والے کے بَدَلنے سے وہ چیز بدلتی ہو یا بدلتی نہ ہو، اور اگر میں نے تَعْيِين کر دی، تو پھر بھی آپ عَارِيَةً دے سکتے ہیں آگے، بشرطیکہ کہ بَدَلنے سے، استعمال کرنے والے کے بَدَلنے سے اس پر کوئی فَرْق نہ، لیکن اگر استعمال کرنے والے کے بَدَلنے سے وہاں فَرْق آتا ہے، تو پھر آپ کو عَارِيَةً دینے کی اِجَازَت نہیں بھئی۔ یہ معنی ہے: وَيُعَارُ، اور عَارِيَةً دی جا سکتی ہے، ما وہ چیز اِخْتَلَفَ اِسْتِعْمَالُهُ کہ جس کا اِستعمال کیا ہوتا ہو؟ مختلف ہوتا ہو أَوْلَى، اِلَّا لَمْ يُعَيَّنْ مُنْتَفِعًا بِهِ، وَمَا لَا يَخْتَلِفُ إِنْ عَيَّنَا۔ وَرَكَذَا المُوجِرُ، اور اسی طَرَح ہے مُوجِر بھی۔ اسی طَرَح کون ہے؟ مُوجِر بھی۔ دیکھو بھئی! آپ مجھ سے سائیکل کِرَایہ پر لے گئے، کیا کیا؟ کِرَایہ پر لے گئے، تو کیا اب آپ آگے اس سائیکل کو عَارِيَةً کسی کو دے سکتے ہیں یا عَارِيَةً نہیں دے سکتے، اس میں بھی یہی تَفْصِیل جَارِی ہوگی، اگر تَعْيِين نہیں کی مُنْتَفِع کی، نَفْع اُٹھانے والے کی، تو اور وہ چیز... تو دوسرے کو عَارِيَةً دینا جائِز ہے، چاہے وہ مختلف ہوتی ہو اِستعمال سے یا مختلف نہ ہوتی ہو، اور اگر تَعْيِين کر دی، تو پھر دیکھو، اگر مختلف ہوتی ہے، تو پھر تو آگے عَارِيَةً دینا جائِز نہیں، اور اگر مختلف نہیں ہوتی، تو پھر عَارِيَةً دینا جائِز ہے۔ وَرَكَذَا المُوجِرُ، اور اسی طَرَح کِرَایہ پر دینے والا بھی ہے، اِذَا أَجَرَ شَيْئاً جب کسی نے کِرَایے، جب مُوجِر نے کِرَایے پر دی کوئی چیز، فَلَمْ يُعَيَّنْ، اگر اس نے تَعْيِين نہیں کی مَنْ يَنْتَفِعُ بِهِ، کہ کون نَفْع اُٹھائے گا اس چیز سے جو کِرَایے پر دی گئی ہے، فَلِلْمُسْتَاجِرِ تو کِرَایے پر لینے والے کے لیے جَائِز ہے أَنْ يُعَيِّرَهُ، کہ وہ اس کو کیا کرے؟ عَارِيَةً دے دے، سَوَاءٌ اِنْ خَالَفَ اِسْتِعْمَالُهُ أَوْلَى، برابر ہے کہ مختلف ہوتا ہو اس کا اِستعمال یا مختلف نہ ہوتا ہو، وَلَمْ يَخْتَلِفْ، یا اِستعمال مختلف نہ ہوتا ہو، جَازَا، تو کیا ہے؟ جائِز ہے، فِی نِخْتَلَفَ فَلَا، اور اگر اِستعمال مختلف ہوتا ہے، تو پھر نہیں۔ صُورَت سمجھ میں آگئی، مَسْئَلَہ سمجھ میں آیا؟ تو بس! اب آپ کو بھی ضَابِطَہ پَتَا لَگ گیا، کسی سے کوئی چیز مانگیں، اب آگے کِس صُورَت میں آگے آپ دیسَکتے ہیں اور کِس صُورَت میں نہیں دیسَکتے، ہَر ایک نے اس پر قِيَاس کر سکتے ہیں۔ وَیُعَارُ، اور عَارِيَةً دی جا سکتی ہے مَا وہ چیز اِخْتَلَفَ اِسْتِعْمَالُهُ، کہ جس کا اِستعمال کیا ہوتا ہو؟ مختلف ہوتا ہو أَوْلَى، اِلَّا لَمْ يُعَيَّنْ مُنْتَفِعًا بِهِ وَمَا لَا يَخْتَلِفُ، اِنْ عَينَا۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نَزْدِيك لَيْسَ لِلْمُسْتَعِيرِ الْإِعَارَةُ، مُسْتَعِير کے لیے عاریتًا دینا جائز نہیں لِأَنَّ الْعَارِيَةَ عِنْدَهُ إِبَاحَةُ الِانْتِفَاعِ اس لیے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عاریت کیا ہے؟ نفع کا، نفع اٹھانے کو مباح کرنا ہے۔ وَالْمُبَاحُ لَهُ لَا يَمْلِكُ الْإِبَاحَةَ اور مباح لہ، وہ شخص یعنی جس کے لیے مباح کیا گیا، وہ مالک نہیں ہے کہ آگے کیا کرے کسی اور کے لیے... بھئی میں نے امام شافعی... ہمارا مذہب تو یہ ہے، میں نے آپ کو سائیکل دی... تو میں نے دراصل کیا کیا سائیکل کے منافع کا آپ کو مالک... امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مالک نہیں بنایا، بلکہ آپ کے لیے اس سائیکل سے نفع اٹھانے کو جائز کر دیا میں نے۔ کیا کر دیا؟ تو میں نے آپ کے لیے نفع اٹھانے کو جائز کیا ہے، آپ آگے کسی اور کے لیے نفع اٹھانے کو جائز کر دیں، ایسا نہیں کر سکتے۔ لیکن ہمارے نزدیک بھئی، ہم میں نے آپ کو مالک بنا دیا ہے نفعوں کا، جب آپ ایک چیز نفعوں کے مالک بن گئے تو آپ کسی اور کو بھی آگے کیا کر سکتے ہیں ان نفعوں کا مالک بنا سکتے ہیں۔ یہ معنی ہے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وَالْمُبَاحُ لَهُ لَا يَمْلِكُ الْإِبَاحَةَ، مباح لہ جس وہ شخص جس کے لیے مباح کیا گیا ہے، وہ مالک نہیں ہے آگے مباح کرنے کا۔ وَعِنْدَنَا يَتَمَلَّكُ الْمَنَافِعَ ہمارے نزدیک یتملک المنافع عاریت کیا ہے؟ منافع کا مالک بنانا ہے۔ وَالْمُسْتَعِيرُ لَمَّا مَلَكَ الْمَنَافِعَ اور مستعیر جب کیا بن گیا؟ لَمَّا مَلَكَ الْمَنَافِعَ جب وہ مالک بن گیا منافع کا، كَانَ لَهُ تو جائز ہے اس کے لیے أَنْ يُمَلِّكَهَا غَيْرَهُ کہ اپنے علاوہ کسی اور کو کیا کرے اس کا مالک بنا دے۔ فَمَنِ اسْتَعَارَ دَابَّةً أَوِ اسْتَأْجَرَ مُطْلَقًا يَحْمِلُ وَيُعِيرُ لَهُ أَيْ لِلْحَمْلِ۔ اچھا بھئی، کسی شخص نے دوسرے سے کے لیے کوئی سواری عاریتًا لی یا کرائے پر لی۔ دونوں مسئلے آ گئے بھئی اکٹھے۔ ایک شخص نے کیا کیا؟ آپ نے مجھ سے گدھا لیا مولانا عاریتًا لیا یا کرائے پر لیا لیکن مطلقًا بھئی، میں نے اس کو اس میں کسی قسم کی قید نہیں لگائی بھئی کہ اس پر کیا سواری کرنی ہے یا بوجھ لادنا ہے۔ آپ نے سوار ہونا ہے یا کسی اور نے سوار ہونا ہے، میں نے کسی قسم کی قید نہیں لگائی یا وقت کی بھی قید نہیں لگائی کہ صبح سے شام تک اس پہ بوجھ لاد سکتے ہو، اس کے بعد لادنے کی اجازت، تو میں نے کسی وقت کی بھی قید نہیں لگائی، کسی نوع کی بھی قید نہیں لگائی کہ سواری کے لیے ہے یا بوجھ لادنے کے لیے۔ تو اس صورت میں بھئی، جو مستعیر ہے، یا جو مستاجر ہے، اس کے لیے جائز ہے، اپنا بوجھ بھی لاد سکتا ہے، کسی اور کو بھی عاریتًا بوجھ لادنے کے لیے دے سکتا ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی۔ لیکن جب ایک کے لیے دے دیا اس نے، اپنا بوجھ لاد لیا تو اب کسی اور کا بوجھ نہیں لا سکتا، کسی اور کو دے دیا اس نے بوجھ لاد لیا تو اب یہ اپنا بوجھ اس پر لاد نہیں سکتا۔ اور اگر خود سوار ہو گیا تو سوار ہو گیا بھئی، تو اب اس پر بوجھ جب فعل بھی تا یا تو شخص بوجھ کس کا تھا اس میں بھی تعیین معلوم ہوا آپ نے اپنا بوجھ لاد لیا تو اب زید کا بوجھ اس پر نہیں۔ اور اگر زید کا بوجھ اگر آپ نے عاریتًا اس کو دیا اس نے اپنا بوجھ لاد لیا تو اب آپ اس پر اپنا بوجھ نہیں۔ یا آپ اس پر سوار ہوئے اگر آپ خود سوار ہوئے تو اب زید اس پر سوار، اور اگر زید کو اس پر سوار کروا دیا تو اب آپ اس پر سوار نہیں ہو سکتے۔ نیز جب ایک فعل کر لیا تو وہی فعل کر سکتے ہیں دوسرا فعل نہیں۔ مثلاً بھئی آپ سواری بھی اس پر کر سکتے تھے اس نے قید نہیں لگائی تھی، آپ اس پر بوجھ بھی لاد سکتے تھے، لیکن اگر سواری کر لی تو اب بوجھ نہیں لاد سکتے۔ بوجھ لاد لیا تو اب سواری نہیں کر سکتے۔ فَمَنِ اسْتَعَارَ دَابَّةً جس نے عاریتًا لیا دابہ کو أَوِ اسْتَأْجَرَ یا کرائے پر لیا مُطْلَقًا بھئی، مطلق تھا یعنی اس میں کوئی قید نہیں تھی، يَحْمِلُ اپنا وہ خود بھی بوجھ لاد سکتا ہے، وَيُعِيرُ لَهُ أَيْ لِلْحَمْلِ ضمیر کا مرجع بتلایا۔ اور عاریتًا بھی دے سکتا ہے دوسرے کو بوجھ لادنے کے لیے۔ وَبِرُكُوبِهِ تَعَيَّنَ لیکن اگر اس پر سوار ہوا، اس کے سوار ہونے سے تَعَيَّنَ کیا متعین ہو گیا؟ وہ خود متعین ہو گیا، اب زید کو سوار نہیں کر سکتا یا اس کا فعل متعین ہو گیا اب رکوع بھی ہو سکتا ہے اس پر اور بوجھ نہیں لادا جا سکتا۔ وَبِرُكُوبِهِ اور اس کے سوار ہونے سے تَعَيَّنَ وہ متعین ہو گیا بطور راکب کے وَضَمِنَ بِغَيْرِهِ اور اپنے علاوہ کی وجہ سے کیا ہوگا؟ ضامن، کسی اور کو اگر سوار کرتا ہے۔ وَإِنْ أَطْلَقَ الِانْتِفَاعَ فِي الْوَقْتِ وَالنَّوْعِ اور اگر عاریتًا دینے والے نے کیا کیا ہے؟ عاریتًا دینے والے نے مطلق نفع مطلق کر دیا نفع اٹھانے کو، فِي الْوَقْتِ وَالنَّوْعِ وقت کے اندر بھی بھئی، جتنی دیر تک نفع اٹھانا چاہو اٹھا سکتے ہو اس سے، وَالنَّوْعِ اور نوع کو بھی مطلق کر دیا بھئی، نفع اٹھانے میں کہ چاہے سواری کرو چاہے اس پر... ہاں اگر اس نے اجازت دے دی تو مطلق کر دیا جو چاہو کر سکتے ہو۔ انْتَفَعَ بِهِ تو اسے نفع اٹھا سکتا ہے مَا شَاءَ جو بھی نفع جو نوع بھی اٹھانا چاہے نفعے کی، أَيَّ وَقْتٍ شَاءَ اور جس وقت بھی چاہے۔ وَإِنْ قَيَّدَ اور اگر اس نے مقید کر دیا، کہ اس سے صرف کیا کر سکتے ہو؟ جی؟ اگر مقید کر دیا کہ مثلاً اس پر یہی بوجھ ہی لاد سکتے ہو اور کوئی کام نہیں بھئی۔ تو اس صورت میں اگر وہ اس کے خلاف کرتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ مثلاً بھئی میں نے گدھا دیا آپ کو، کہ آپ اس پر صرف گندم ہی لاد سکتے ہیں۔ کیا کر سکتے ہیں؟ گندم ہی لاد سکتے ہیں، تو اگر آپ اس کے خلاف کرتے ہیں، تو وہ خلاف کرنا یا خیر کی صورت ہوگی یا شر والی، اس میں اچھائی ہوگی یا برائی ہوگی۔ اگر اچھائی ہے پھر تو آپ پر ضمان نہیں۔ لیکن اگر برائی ہے تو آپ پر ضمان، مثلاً میں نے کیا کس لیے دیا تھا بھئی؟ گندم کو بوجھ لادنے کے لیے، آپ اس پر نمک یا لوہا لاد لیتے ہیں، تو اس صورت میں تو جانور کیا ہوگا؟ جانور کو تکلیف ہوگی بھئی زیادہ، تو لہٰذا آپ نے کس کی طرف خلاف کیا اور خیر کی طرف یا شر کی طرف؟ شر، تو شر کی طرف اگر خلاف کیا تو ضامن ہیں۔ لیکن اگر خیر کی طرف خلاف کیا، آپ نے لیا کس لیے تھا؟ کہ اس پر لادیں گے گندم لیکن آپ نے اس پر روئی لاد لی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ خلاف کیا لیکن کس کی طرف ہے؟ خیر کی طرف۔ اس میں جانور کا نقصان نہیں بلکہ اس کے اور اس میں یہ تو فائدہ ہے۔ تو لہٰذا وَإِنْ قَيَّدَ اگر کیا کیا بھئی؟ مقید کیا بھئی انتفاع کو، ضَمِنَ بِالْخِلَافِ تو مستعیر کیا ہوگا؟ ضامن ہوگا خلاف کرنے کی صورت میں إِلَّا شَرًّا جبکہ وہ خلاف کس کی طرف کرے؟ شر کی طرف۔ فقط بھئی، صرف شر کی طرف کے میں ہوگا یعنی خیر کی طرف خلاف کرے تو پھر ضامن نہیں۔ الْقَيْدُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ فِي الْوَقْتِ دُونَ النَّوْعِ قید جو لگائی یا تو صرف وقت کے اندر ہوگی نوع کے اندر نہیں ہوگی، مثلاً میں وقت کی قید لگاتا ہوں کہ صبح سے شام تک نفع اٹھا سکتے ہو اور شام کے بعد نفع نہیں۔ أَوْ فِي النَّوْعِ یا صرف نوع کے اندر میں نے قید لگائی وقت میں قید نہیں لگائی بھئی، کہ صرف اس پر گندم لاد سکتے ہو، اور کوئی چیز نہیں لاد سکتے وقت کی قید نہیں لگائی۔ أَوْ فِيهِمَا یا قید کس میں ہوگی؟ دونوں میں ہوگی کہ صرف گندم لاد سکتے ہو اور صبح سے شام تک۔ فَإِنْ عَمِلَ عَلَى مُوَافَقَةِ الْقَيْدِ اگر اس نے عمل کیا، علی موافقۃ القید، قید کے موافق، فَظَاهِرٌ تو پھر تو ظاہر ہے کہ ضمان نہیں۔ وَإِنْ خَالَفَ اگر اس نے مخالفت کی، فَإِنْ كَانَ الْخِلَافُ إِلَى مِثْلٍ اگر خلاف اسی کے مثل کی طرف ہوا، کس کی طرف؟ آپ نے مثلاً بھئی مجھ سے گندم لادنے کے لیے کیا لیا تھا؟ کیا لیا تھا؟ گدھا لیا تھا، آپ نے کہا تھا میں نے اپنی دس قفیز گندم اس پر لادنی ہے، لیکن آپ نے اپنی قفیز کے بجائے، زید کی دس قفیز گندم اس پر لاد لی۔ تو آپ نے خلاف کیا، اور خلاف خیر کی طرف کیا، شر کی طرف کیا یا اسی کے مثل کی طرف؟ اسی کے مثل کی طرف، تو مثل کی طرف خلاف ہو تو بھی ضمان نہیں۔ زید کی دس قفیز گندم ہو یا آپ کی ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ معنی ہے فَإِنْ كَانَ الْخِلَافُ إِلَى مِثْلٍ اگر خلاف مثل کی طرف ہوا، أَوْ إِلَى خَيْرٍ یا کس کی طرف ہوا؟ خیر کی طرف ہوا تو لَا يَضْمَنُ تو ضامن نہیں ہوگا، أَوْ إِلَى شَرٍّ يَضْمَنُ اور شر کی طرف ہو تو ضامن ہوگا۔ وَكَذَا تَقْيِيدُ الْإِجَارَةِ بِنَوْعٍ أَوْ قَدْرٍ اور اسی طرح مقید کرنا اجارہ کو بھی کسی نوع یا کسی مقدار کے ساتھ، اجارے میں بھی جب نوع یا مقدار کی قید لگائی، تو وہاں پر بھی کیا کیا جائے گا؟ خیر کی طرف اگر خلاف ہوا تو ضمان نہیں، اور اگر شر کی طرف ہوا تو ضمان۔ أَيْ إِنْ وَافَقَ أَوْ خَالَفَ إِلَى مِثْلٍ أَوْ خَيْرٍ لَا يَضْمَنُ یعنی اجارے کے اندر بھی اگر موافقت کی یا مخالفت کی مثل کی طرف یا بہتر کی طرف تو ضامن نہیں ہوگا، وَإِلَى شَرٍّ اور اگر شر کی طرف کی تو ضامن ہوگا۔ وَرَدُّهَا إِلَى إِصْطَبْلِ مَالِكِهَا أَوْ مَعَ عَبْدِهِ أَوْ أَجِيرِهِ مُسَانَهَةً أَوْ مُشَاهَرَةً أَوْ مَعَ أَجِيرِ رَبِّهَا أَوْ عَبْدِهِ يَقُومُ عَلَى دَابَّتِهِ أَوْ لَا، تَسْلِيمٌ۔ تَسْلِيمٌ یہ خبر ہے۔ رَدُّهَا مبتدا ہے۔ صورت مسئلہ یہ بھئی۔ آپ مجھ سے بھئی گدھا لے گئے تھے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ گدھا لے گئے تھے۔ آپ بھئی پھر آپ نے گدھا مجھے لا کر نہیں دیا، آپ گدھے کو لے گئے، آپ نے میرے اصطبل میں اس کو باندھ دیا۔ تو اصطبل میں باندھنے کے بعد کیا آپ ضمان سے بری ہو گئے یا بری نہیں ہوئے؟ کہتے ہیں بھئی اصطبل میں باندھ دیا تو ضمان سے بری ہو گئے۔ اصطبل میں باندھ دیا تو گویا آپ نے سپرد کر دیا مالک کے۔ کیا کر دیا؟ کیونکہ اگر مالک کے پاس مالک کو لے جا کر بھی دیتے، اس نے بالآخر کہاں باندھنا تھا؟ لہٰذا آپ نے جا کر اصطبل میں باندھ دیا اور گدھا اصطبل میں پھر مر گیا تو اب مالک آپ سے ضمان لینا چاہتا ہے، ضمان نہیں کیونکہ آپ سپرد کر چکے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یا مولانا میں نے گدھا اپنے غلام کے ہاتھ واپس بھجوا دیا۔ کیا کیا؟ اپنے غلام کے ہاتھ واپس بھجوایا، گدھا ابھی آپ تک پہنچا نہیں تھا کہ گدھا ہلاک ہو گیا، تو کیا میرے اوپر ضمان آئے گا یا ضمان نہیں آئے گا بھئی؟ کہتے ہیں ضمان نہیں آئے گا، اس لیے کہ میں نے کوئی تعدی نہیں کی۔ بھئی آپ نے اپنے ملازم کے سپرد کیا ہے۔ کہتے ہیں بھئی ملازم بھی تو میرے عیال میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ لوگ گدھے وغیرہ کو ملازم ہی کے ہاتھ بھیجا کرتے ہیں کہ ہر روز ہمیشہ خود ہی جا کر دیتے ہیں بھئی؟ سمجھ میں آیا تو ملازم کے ہاتھ ہی یہ کام کروائے جاتے ہیں بھئی۔ تو میں نے کوئی تعدی نہیں کی۔ ملازم کے ہاتھ، اپنے غلام کے ہاتھ بھجوایا یا اپنے ملازم کے ہاتھ بھجوایا۔ کیا کیا؟ غلام نہیں ہے میرا، آزاد آدمی ہے، لیکن میرا ملازم ہے۔ اس کے ہاتھ میں نے بھجوایا، تو کہتے ہیں کیا اس صورت میں بھی، غلام اب اس کے بعد ہلاک، وہ جانور اس کے بعد ہلاک ہوا، تو ضمان آئے گا یا ضمان... کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ اعارہ ہے، عاریت ہے، اور عاریت کس کے حکم میں ہے؟ عاریت کیا ہے مضمون نہیں ہے بلکہ یہ تو امانت ہے، اور میں نے کوئی تعدی نہیں کی، اپنے ملازم کے ہاتھ بھجوائی ہے۔ لیکن یاد رکھو، آگے بتلائیں گے، وہ ملازم ایسا ہونا چاہیے جسے ماہانہ اجرت پر رکھا گیا ہو یا سالانہ اجرت پر رکھا گیا ہو۔ اس لیے کہ جو ماہانہ اجرت پر ہے یا جو سالانہ اجرت پر ہے، وہ تو عیال میں داخل ہے، لیکن جو شخص یومیہ اجرت پر ملازم رکھا گیا ہے، وہ عیال میں داخل نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ایک ملازم ہے میرا لیکن میں اس کو روز کے پیسے اسے دیتا ہوں، یہ عیال میں داخل نہیں۔ ایک ہے جسے میں مہینے کے مہینے پیسے دیتا ہوں، یہ عیال میں داخل ہے۔ یا ایک ہے جسے میں سال کے سال اجرت دیتا ہوں، یہ بھی کس میں داخل ہے؟ عیال میں داخل ہے۔ تو لہٰذا اگر ایسے ملازم کے ہاتھ بھیجا جسے سالانہ اجرت دیتا ہے یا ایسے ملازم کے ہاتھ بھیجا جسے ماہانہ اجرت دیتا ہے، تو یہ بھی کسی اور کو نہیں دیا گویا خود ہی دینے آ رہا ہے کیونکہ یہ بھی کیا ہے اس کے عیال میں سے ہے۔ یا مولانا، تیسری صورت۔ آپ نے وہ گدھا اپنے ملازم کے ہاتھ بھی نہیں بھجوایا، اپنے غلام کے ہاتھ بھی نہیں بھجوایا، بلکہ معیر کے ملازم کے ہاتھ بھجوا دیا۔ گدھا میں نے آپ کو دیا تھا۔ آپ کو کیا تھا، آپ نے مجھے واپس کرنا تھا، آپ نے مجھے واپس کرنے کے بجائے کس کو دے دیا؟ میرے ملازم کو دے دیا لا کر۔ تو کیا یہ اب اس کے بعد ہلاک ہوا تو ضمان آئے گا یا ضمان؟ کہتے ہیں بھئی سپرد ہو گیا۔ کیا ہوا؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا میں پر آپ کے غلام کو لا کر دے دیا، تو اس صورت میں بھی یہ کیا ہوا؟ سپرد ہو گیا۔ پھر کہتے ہیں غلام دو قسم پر ہیں، بعض غلام وہ ہوتے ہیں جو مویشیوں پر مقرر ہوتے ہیں، بعض وہ غلام ہیں جو مویشیوں پر مقرر نہیں ہوتے۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں اگر اس کے ایسے غلام کو دیا جو مویشیوں پر مقرر ہے پھر تو ادا ہے، سپرد ہے اور اگر دوسرے غلام کو دے دیا جو گھر کے اور کام کاج کرتا ہے مویشیوں والا کام نہیں کرتا، تو اس صورت میں یہ تسلیم نہیں، لہٰذا اس پر ضمان آئے گا بھئی، لیکن کہتے ہیں صحیح قول یہی ہے کہ کسی بھی غلام کو دے دے بھئی۔ جو غلام گھر کا کام کرتا ہو، تو کیا کبھی اس کے حوالے مویشی نہیں کیا جاتا یا کبھی کر دیے جاتے ہیں؟ کبھی کبھی تو اس کو بھی کر دیے جاتے ہیں، تو لہٰذا اس صورت میں بھی یہ بھی کیا ہے؟ سپرد ہے۔ صورتیں ساری سمجھ میں آ گئیں؟ یہی دیکھیں متن میں ہے۔ وَرَدُّهَا إِلَى إِصْطَبْلِ مَالِكِهَا اور لوٹانا اس عاریت کا کس کی طرف بھئی؟ اس کے مالک کے اصطبل کی طرف، ایک صورت۔ أَوْ مَعَ عَبْدِهِ یا کس کے ساتھ بھیجنا اس کو؟ لوٹانا واپس کرنا اس کے غلام کے ساتھ یعنی جو لے کر گیا تھا مستاجر کے غلام کے ساتھ، أَوْ أَجِيرِهِ یا اپنے ملازم کے ساتھ اس کو لوٹانا، مُسَانَهَةً أَوْ مُشَاهَرَةً کہ وہ عبد کس وہ ملازم کیا ہے؟ سالانہ اجرت پر ہے یا ماہانہ اجرت پر ہے۔ أَوْ مَعَ أَجِيرِ رَبِّهَا یا ایسا اجیر ہو جسے اجرت کیسے دی جاتی ہے؟ سالانہ دی جاتی ہے یا ماہانہ دی جاتی ہے، أَوْ مَعَ أَجِيرِ رَبِّهَا أَيْ رَبِّ الْعَارِيَةِ عاریت کا جو مالک ہے، اس کے ملازم کے ہاتھ کیا کیا؟ بھیجا۔ أَوْ عَبْدِهِ یا وہ جو عاریت کا مالک ہے اس کے غلام کے ہاتھ بھیجا، اور اس حال میں وہ غلام کیا ہے؟ يَقُومُ عَلَى دَابَّتِهِ مقرر ہے اس کے جانور پر بھئی، وہ کیا کرتا ہے؟ ان مویشیوں کا خیال رکھتا ہے، ان پر مقرر ہے۔ أَوْ لَا یا مقرر ہو چاہے، چاہے مقرر نہ ہو، دونوں صورتوں میں تَسْلِيمٌ یہ کیا ہے؟ تسلیم ہے۔ یہ ساری صورتوں میں تسلیم ہے۔ دیکھیے اب بتلائیں گے۔ أَيْ رَدَّ الدَّابَّةَ إِلَى إِصْطَبْلِ مَالِكِهَا لٹایا دابہ کو الی اصطبل مالکِہا اس کے مالک کے اصطبل میں، فَهَلَكَتْ قَبْلَ الْوُصُولِ إِلَى مَالِكِهَا پس وہ جانور ہلاک ہوا مالک تک پہنچنے سے پہلے ہی، لَا يَضْمَنُ تو اس صورت میں مستعیر ضامن نہیں، لِأَنَّ هَذَا تَسْلِيمٌ اس لیے کہ یہ کیا ہے؟ تسلیم ہے۔ وَكَذَا إِنْ أَرْسَلَهَا الْمُسْتَعِيرُ مَعَ عَبْدِهِ إِلَى الْمَالِكِ اسی طرح اگر بھیجا مستعیر نے اس دابہ کو کس کے ساتھ بھیجا؟ مَعَ عَبْدِهِ اپنے غلام کے ساتھ إِلَى الْمَالِكِ مالک کی طرف، فَهَلَكَتْ قَبْلَ الْوُصُولِ إِلَيْهِ تو وہ ہلاک ہو گئی وہ عاریت مالک تک پہنچنے سے پہلے، وَكَذَا إِنْ أَرْسَلَهَا مَعَ أَجِيرِهِ اسی طرح ہے اگر بھیجا اس کو اپنے اجیر اپنے ملازم کے ساتھ مُسَانَهَةً أَوْ مُشَاهَرَةً اور وہ ملازم کیا ہے؟ سالانہ اجرت پر کام کرتا ہے یا ماہانہ اجرت پر ہے، بِخِلَافِ أَجِيرِهِ مُيَاوَمَةً بخلاف اس اجیر کے جو کس پر ہے؟ روزانہ کی اجرت پر ہے۔ إِذْ لَيْسَ فِي عِيَالِهِ اس لیے کہ یہ جو یومیہ اجرت والا ہے، یہ اس کے عیال میں سے نہیں ہے۔ فَيَضْمَنُ بِالتَّسْلِيمِ إِلَيْهِ لہٰذا اس کے سپرد کرنے پر یہ کیا ہوگا؟ ضامن ہوگا۔ یہ کیا ہوگا؟ بھئی آپ مجھ سے جانور اجرت پر لے گئے تھے یا یہ جانور آپ مجھ سے عاریتًا لے گئے تھے، اب آپ اپنے ایسے ملازم کے ہاتھ بھجوا رہے ہیں جو یومیہ اجرت پر ہے، تو اس صورت میں آپ پر کیا آئے گا؟ اور اس کے پاس وہ جانور ہلاک ہوا، تو آپ پر کیا آئے گا؟ ضمان۔ آگے چل کر بتائیں گے، اس مَسْأَلَة سے ایک بات کا پتا چل گیا کہ مُسْتَعِير وہ کسی کے پاس عاریت کو أَمَانَة نہیں رکھوا سکتا۔ کیا کس مَسْأَلَة کا پتا چلا؟ آپ نے مجھ سے ایک چیز عاریتًالے گئے ہیں معلوم ہوا آپ کے لیے جائز نہیں ہے کہ یہ عاریت کسی کے پاس بطور أَمَانَة کے رکھوائیں۔ سمجھ میں آیا؟ کس مَسْأَلَة سے پتہ چلا؟ کہ یہ جو یومیہ اجرت والے ملازم کے ہاتھ سپرد کرنے کی صورت میں کیا ہوتا تھا؟ ضَمَان۔ دیکھو بھئی! آپ نے مجھے غلام جانور مجھے واپس کرنا ہے۔ آپ نے کس کے سپرد کیا؟ یومیہ اجرت والے ملازم کے سپرد بھئی! تو یہ تو آپ کے عِيَال میں نہیں تو گویا آپ نے اس کے پاس عاریت بطور أَمَانَة کے دے دی۔ کس طور پر دے دی؟ أَمَانَة کے طور پر دے دی اور اب یہ أَمَانَةً دینا تو آپ کے لیے جائز نہیں تھا تو آپ پر ضَمَان آیا۔ معلوم ہوا عاریتًا أَمَانَةً کی طرح رکھوانا آپ کے لیے جائز ورنہ آپ پر ضَمَان نہیں آنا چاہیے تھا بھئی! کیونکہ آپ نے تو بطور أَمَانَة کے اس کو دیا ہے کہ وہ آگے پہنچا دے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جبکہ مُشَاهَرَة پر جو ملازم ہے، وہ تو عِيَال میں داخل ہے مولانا! تو گویا کسی اور کے پاس اس نے بطور أَمَانَة کے نہیں رکھوایا بلکہ اپنے ہی پاس سے۔ یہ مَعْنًى ہے اِيس لَيْسَ فِي عِيَالِهِ اس لیے کہ وہ جو یومیہ اجرت والا ہے وہ اس کے عِيَال میں سے نہیں ہے فَيَضْمَنُ بِالتَّسْلِيمِ إِلَيْهِ تو اس کے ضَامِن ہوگا اس کے سپرد کرنے سے وَكَذَا إِنْ سَلَّمَهَا إِلَى أَجِيرِ الْمَالِكِ اسی طرح یہ مَسْأَلَة اگر کس کے سپرد کیا؟ مالِک کے ملازم کے سپرد کر دیا وَعَبْدِهِ یا اس کے غلام کے سپرد کر دیا سَوَاءٌ يَقُومُ عَلَى الدَّوَابِّ أَوْ لَا چاہے وہ مویشیوں پر مقرار ہو یا مقرار نہ ہو۔ فَهَلَكَتْ تو وہ جانور کیا ہوا؟ ہلاک ہوا قَبْلَ الْوُصُولِ إِلَى الْمَالِكِ مالک تک پہنچنے سے پہلے تو اسی طرح ہے یعنی یہ بھی ضَامِن ہے یہ بھی کیا ہے؟ ضَامِن ہے وَهُوَ الْأَصَحّ اور یہی کیا ہے؟ أَصَحّ قَوْل ہے اب بھئی! أَصَحّ سے معلوم ہوا یہاں ایک اور قَوْل بھی ہے وہ ذِكْر کرنے لگے ہیں وَقِيلَ اور کہا گیا ہے يَضْمَنُ ضَامِن ہوگا بِالتَّسْلِيمِ بوجہ سپرد کرنے کے إِلَى رَبِّهِ اس کے اس غلام کے الَّذِي لَا يَقُومُ عَلَى الدَّوَابِّ جو جانوروں پر مقرار نہیں اس کے سپرد کرنے سے ضَامِن ہوگا لیکن معلوم ہوا یہ صَحِيح قَوْل نہیں دوسرا قَوْل أَصَحّ ہے۔ فَدَلَّتِ الْمَسْأَلَةُ اس مَسْأَلَة نے اس بات پر بھی دلالت کر دی کہ عَلَى أَنَّ الْمُسْتَعِيرَ کہ مُسْتَعِير جو ہے لَا يَمْلِكُ الْإِيدَاعَ وہ کسی کے پاس أَمَانَة رکھوانے کا مالِک نہیں کس کے پاس بطور أَمَانَة کے رکھوانے اس کے لیے جائز نہیں اگر بطور أَمَانَة کے رکھوائے گا تو اس پر کیا آ جائے گا؟ ضَمَان بھئی! کس مَسْأَلَة سے پتا چلا؟ یومیہ اجرت والے مَسْأَلَة سے بھئی۔ رَدّ مُسْتَعَارٍ غَيْرِ نَفِيسٍ غَيْرِ نَفِيسٍ إِلَى دَارِ مَالِكِهِ۔ اچھا بھئی اوپر والے مسئلوں میں کیا پڑھا آپ نے؟ کہ وہ جو اس نے غلام کو دیا تھا یا ملازم کے سپرد کیا تھا یا اس کے اصطبل میں جانور پہنچایا تھا تو یہ سارے کیا تھے؟ یہ تَسْلِيم تھے یہ کیا تھے؟ تَسْلِيم۔ اسی طرح ہے كَرَدّ مُسْتَعَارٍ کہ بھئی! آپ جو ہے مجھ سے کوئی چیز لے گئے تھے عاریتًا اور پھر مجھے لانے کے بجائے میرے گھر پہنچا دی تو یہ تَسْلِيم ہے یا تَسْلِيم نہیں؟ کہتے ہیں بھئی! اس چیز کو دیکھ لو اگر وہ غَيْرِ نَفِيس ہے تو پھر یہ ضُورْد ہے اور اگر وہ چیز نَفِيس ہے تو پھر ضُورْد نہیں۔ غَيْرِ نَفِيس مثلاً جانور لے گئے تھے آپ گدھا لے گئے تھے آپ نے میرے گھر پہنچا دیا تو یہ ضُورْد ہے مالِک کے ضُورْد کرنا ضروری نہیں۔ لیکن اگر آپ مجھ سے ہیروں کا ایک ہار لے گئے تھے عاریتًا بھئی! اب لا کر میرے گھر دے دیتے ہیں یہ ضُورْد نہیں لہٰذا اگر وہ مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہلاک ہوا تو اس صورت میں آپ پر کیا آئے گا؟ ضَمَان آئے گا۔ صُورَت سمجھ میں آگئی؟ یہ مَعْنًى ہے كَرَدّ كَرَدّ مُسْتَعَارٍ جیسے کہ لوٹانا ہے ایسی مانگی ہوئی چیز کا غَيْرِ نَفِيسٍ جو نَفِيس نہیں ہے إِلَى دَارِ مَالِكِهِ کہاں لوٹانا؟ اس کے مالک کے گھر بھئی! یہ بھی کیا ہے؟ تَسْلِيم ہے فَإِنَّ هَذَا تَسْلِيمٌ یہ بھی تَسْلِيم ہے بِخِلَافِ الْمُسْتَعَارِ النَّفِيسِ بخلاف ایسی مانگی ہوئی چیز وہ مانگی ہوئی چیز جو نَفِيس ہو کر جواہرات جیسے جواہرات ہیں حَيْثُ لَا رَدَّ إِلَّا إِلَى الْمُعِيرِ کہ وہاں رَدّ نہیں ہے مگر کس کے؟ مُعِير یعنی مالک ہی کو واپس کی جائے گی۔ بِخِلَافِ رَدّ الْوَدِيعَةِ وَالْمَغْصُوبِ إِلَى دَارِ مَالِكِهَا بخلاف أَمَانَة مَغْسُو یا مَغْسُوب کو مالِک کے گھر پہنچانا اس سے ضَمَان نہیں بھئی! صُورَت مَسْأَلَة کی ہے بھئی! بھئی! میں نے آپ کو کیا آپ کے پاس أَمَانَة رکھوائی تھی ایک چیز کیا تھی؟ میں نے اپنا گدھا آپ کے پاس أَمَانَة رکھوایا تھا آپ نے وہ گدھا لائے اور لا کر میرے گھر والوں کے سپرد کر دیا۔ تو کیا یہ تَسْلِيم ہے یا تَسْلِيم نہیں؟ کہتے ہیں تَسْلِيم نہیں۔ جب آپ کے پاس أَمَانَة رکھوائی تھی معلوم ہوا میں اپنے گھر والوں پر بھی اس سلسلے میں اعتماد نہیں کر رہا تھا تو میں اس پر راضی نہیں بھئی لہٰذا اب کیا ہوا؟ اس صورت میں یہ تَسْلِيم آپ پر ضَمَان آئے گا اگر مجھ تک پہنچنے سے پہلے وہ ہلاک ہو گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا! یا دوسری بھئی! آر آپ میرے گدھے کو غَصْب کر کے لے گئے اور پھر آپ نے وہ گدھا میرے گھر پہنچا دیا تو کیا آپ سے ضَمَان ختم ہوا یا نہیں ختم ہوا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی! آپ غَصْب کر کے لے کے گئے ہیں تو آج مالِک تک پہنچانا ضروری ہے اب اس کے صرف گھر پہنچانے سے ضَمَان سے بَرِی نہیں۔ لہٰذا اگر مجھ تک پہنچنے سے پہلے وہ گدھا ہلاک ہوا تو آپ پر کیا آئے گا؟ ضَمَان آئے گا بھئی! سمجھ میں آیا؟ بِخِلَافِ رَدّ الْوَدِيعَةِ وَالْمَغْصُوبِ بخلاف وَدِيعَت أَمَانَة کے لوٹانے کے وَالْمَغْصُوبِ اور مَغْسُوب شدہ چیز کے لوٹانے کے إِلَى دَارِ مَالِكِهَا اس کے مالک کے گھر کہ یہ تَسْلِيم نہیں ہے فَإِنَّ هَذَا لَا يَكُونُ تَسْلِيمًا اس لیے کہ یہ تَسْلِيم نہیں ہے بَلْ لَابُدَّ مِنَ الرَّدِّ إِلَى الْمَالِكِ بلکہ ضروری ہے کس کو واپس دینا؟ مالک کو لوٹانا۔ وَعَارِيَةُ النَّقْدَيْنِ وَالْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ وَالْمَعْدُودِ قَرْضٌ۔ اچھا بھئی! آپ نے مجھ سے کہا بھئی! مجھے سو روپے عاریتًادے دو۔ اور روپے کیا کرو؟ عاریتًادے دو۔ تو یاد رکھو مولانا! دونوں نَقْدَيْن (یعنی درہم و دینار) یہ کسی سے عاریتًاکوئی لے یا کوئی مَكِيل یا مَوْزُون لے لے۔ مَكِيل آپ نے مجھ سے کیا لیا بھئی؟ دس کَفِیز گندُم عاریتًالے لیے یا مَوْزُون مولانا! آپ نے مجھ سے دس کِلو چینی عاریتًالے لی یا مَعْدُود مولانا! آپ نے مجھ سے ایک درجن انڈے عاریتًالے لیے قَرْضٌ یہ سارے کیا ہیں؟ قَرْض ہیں، یہ عاریت نہیں۔ یہ عاریت نہیں۔ کیوں بھئی؟ یہ قَرْض کیوں ہے؟ عاریت کیوں نہیں؟ کہتے ہیں بھئی! عاریت نَفَع اٹھانے کے لیے ہوتی ہے اور ان جتنی چیزیں یہاں لی گئیں یہاں ان کا نَفَع نہیں ہو سکتا جب تک ان کی عَيْنَ کو ہلاک نہ کیا جائے۔ بھئی! آپ مجھ سے دَرَاهِم لے گئے تو ان دراہم سے اب آپ کوئی نَفَع اٹھا سکتے ہیں؟ جب تک ان کو خرچ نہیں کریں گے ان کا نَفَع بھی آپ کو حاصل نہیں ہوگا چینی آپ مجھ سے لے گئے جب تک آپ اس کو استعمال نہیں کریں گے اس کو ہلاک نہیں کریں گے خرچ نہیں کریں گے اس سے کوئی نَفَع نہیں۔ گندُم آپ لے گئے جب تک آپ اس کو پیس کر اس سے روٹی نہیں بنائیں گے تو اس کا کوئی نَفَع نہیں۔ تو ان چیزوں میں نَفَع ہوتا ہی کس طرح ہے؟ کہ عَيْنَ کو ہی کیا کرنا پڑتا ہے؟ ہلاک تو وہ عَيْنَ اب واپس آئے گی میرے پاس؟ وہ عَيْنَ واپس نہیں آ سکتی۔ تو نا آپ لے گئے نَفَع کے لیے تو ان کا نَفَع ان کی عَيْنَ کو ہلاک کرنا پڑے گا تو ان کی عَيْنَ واپس نہیں آئے گی بلکہ آپ اس کا کیا دینا پڑے گا آپ کو؟ اس کا مِثْل تو لہٰذا یہ چیزیں جب کوئی لے جائے تو یہ عاریت نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ قَرْض۔ کیا ہے؟ بھئی! یہ کیوں یہ کیوں آپ کہہ رہے ہیں یہ عاریت نہیں ہے اس کا فائدہ کیا ہوا یہ کہنے کا؟ یہ عاریت نہیں ہے بلکہ قَرْض کہتے ہیں بھئی! اس کو ہم نے قَرْض قرار دے دیا فائدہ یہ کہ اب یہ چیزیں مضموں ہو گئیں کیا ہو گئیں؟ عاریت میں ضمان آتا ہے؟ نہیں لیکن ان چیزوں کو آپ لے گئے آپ نے کہا بھئی! عاریتًامجھے گندُم دے دو۔ میں نے آپ کو گندُم دے دی لیکن یہ عاریت نہیں ہے یہ کیا ہے؟ قَرْض آپ کے لیتے ہی آپ کے ہاتھ سے گری اور دریا میں غرق ہو گئی اب آپ پر کیا آئے گا؟ ضمان حالانکہ عاریت میں تو ضمان تو ہم نے قَرْض کا حکم دیا تو فائدہ یہ ہوا کہ یہ چیزیں اب کیا ہو گئیں؟ مضموں ہو گئیں۔ ہاں! اگر وہی چیز واپس ہو سکتی ہے نَفَع کوئی بتلا دیتا ہے تو پھر یہ عاریت کی ہے۔ مثلاً بھئی! آپ مجھ سے آپ نے کیا کیا؟ آپ نے مجھ سے ایک دِرْهَم مانگا عاریتً ایک دِرْهَم دے دو۔ بھئی! کس لیے چاہیے آپ کو ایک دِرْهَم؟ آپ نے کہا بھئی! میرا ایک دِرْهَم وزن والا جو باٹ تھا سمجھ میں آیا؟ وہ مجھ سے کھو گیا ہے اور میں نے ایک چیز کا وزن کرنا ہے ایک دِرْهَم کی مقدار تو اس کو میں بطور باٹ کے استعمال کروں گا پھر کیا کروں گا آپ کو؟ واپس کر دوں گا۔ تو اب وہی دِرْهَم میرے پاس واپس آئے گا یا نہیں آئے گا؟ تو اب مولانا! یہ عاریت کی ہے اب اگر وہ ہلاک ہو گیا تو آپ پر ضمان نہیں ہے۔ یا مولانا! آپ آئے میرے پاس بھئی! کہ بھئی! مجھے ایک لاکھ دِرْهَم دے دو عاریتًادے دو۔ میں نے کہا کیا کرنا ہے؟ آپ نے کہا میں نے اپنی دکان سجانی ہے۔ کیا کرنی ہے؟ دکان میں بھئی! دکان میں ایک ڈھیر ایک طرف لگاؤں گا، دوسرا دوسری طرف، تیسرا تیسری طرف اب جو آئے گا اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بھئی! اتنی زبردست دکان بھئی! یہ تو بڑا امیر کبیر شخص معلوم ہوتا ہے یہ معلوم ہوا معاملات بڑے ٹھیک کرتا ہوگا چلو بھئی! اس سے سودا خریدنا چاہیے اس سے میری دکان خوب چلے گی بھئی کیا ہوگی؟ تو آپ تھوڑی دیر آر یا مولانا! آپ نے دِرْهَم لیے کہ بھئی! میں دکان میں لٹکا دوں گا ادھر ادھر کچھ رکھوں گا کچھ لٹکا دوں گا زیب و زینت دکان کی بڑھے گی اس سے تو یہ مولانا! عاریت ہے کیونکہ آپ پھر کیا کریں گے وہی چیز واپس کریں گے۔ یہ مَعْنًى ہے وَعَارِيَةُ النَّقْدَيْنِ اور عاریت دو نقدیوں کی کونسی دو نقدیاں؟ درہم اور دینار وَالْمَكِيلِ اور ماپی جانے والی چیزیں جیسے گندُم وغیرہ وَالْمَوْزُونِ اور وزن کی جانے والی چیزیں جیسے چینی وغیرہ وَالْمَعْدُودِ اور گنی ہوئی آنے والی چیز جیسے انڈے وغیرہ قَرْضٌ ان کی عاریت کیا ہے؟ قَرْض ہے لِأَنَّهُ لَا يُنْتَفَعُ بِهَذِهِ الْأَشْيَاءِ اسی لیے کہ نَفَع نہیں اٹھایا جا سکتا ان چیزوں سے إِلَّا بِالْاسْتِهْلَاكِ مگر کس کے ذریعے؟ استهلاك کے ذریعے إِلَّا أَنْ يُعَيَّنَ لِلْانتِفَاعِ تو یہ قَرْض ہے مگر اس وقت جبکہ انتفاح نَفَع اٹھانے کو کیا کر دے؟ متعین کر دے كَاسْتِعَارَةِ الدِّرْهَمِي جیسے کہ درہم ایک درہم استعارة دَرَاهِمِي دَرَاهِم کا تَلَق کرنا لِيَعْتَبِرَ الْمِيزَانَا تاکہ اندازہ کرے کس کا؟ ترازو کا۔ یعنی ترازو سے کیا کرے؟ تولے وغیرہ۔ اَوْ يُزَيِّنَ الدُّكَانَا یا مزین کرے اس کے ذریعے کس کو؟ دکان کو سمجھ میں آیا؟ تو اس صورت میں إِعَارَة ہی ہے وَفَائِدَةُ كَوْنِهَا قَرْضًا بھئی! اس کے قَرْض ہونے کا فائدہ کیا ہے؟ کہتے ہیں أَنَّهَا لَوْ هَلَكَتْ فِي يَدِ الْمُسْتَعِيرِ کہ اگر یہ چیزیں ہلاک ہوگئیں کس کے ہاتھ میں؟ مستعیر کے ہاتھ میں قَبْلَ الْانْتِفَاعِ نَفَع اٹھانے سے پہلے پہلے تَكُونُونَ مَضْمُونَةً تو یہ کیا ہوں گی؟ مضمون ہوں گے ضمان آئے گا۔ وَصَحَّةُ إِعَارَةِ الْأَرْضِ اچھا! یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں زمین کو عاریتًادینا جائز ہے یا جائز نہیں بھئی؟ کہتے ہیں بھئی! زمین کو عاریتًادینا جائز ہے میں نے آپ کو زمین دی عاریتًابھئی! کہ آپ نے کہا بھئی! میں اس میں فصل اگانا چاہتا ہوں ایک میں نے آپ کو دے دی بھئی! تو یہ صحیح ہے یا آپ نے کہا میں اس میں ایک بلڈنگ بنانا چاہتا ہوں میں نے عاریتًاکچھ عرصے کے لیے آپ کو زمین دے دی یا آپ نے کہا میں اس میں باغ لگانا چاہتا ہوں درخت بونا چاہتا ہوں میں نے آپ کو عاریتًادے دی تو یہ ساری کیا ہیں؟ صورتیں صحیح ہیں۔ अच्छा जब मैंने आपको दे दी आपने उसमें बिल्डिंग बना ली باغ لگا لیا تو کیا میں رجوع کر سکتا ہوں اب رجوع نہیں کر سکتا کہتے ہیں ہاں! جب مرضی چاہے کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے۔ اچھا بھئی! جب میں رجوع کروں گا وہ کہے گا میرا باغ ہے اس کے اندر میری بلڈنگ ہے کہتے ہیں ہم اس کو حکم دیں گے اپنی بلڈنگ لے جاؤ اپنے باغ کو کیا کرو یہاں سے لے جاؤ۔ اور ضمان اس پر آئے گا بھئی! یہ نقصان اس کا کس کی وجہ سے ہو رہا ہے؟ مالک کی وجہ سے تو کیا اس سے ضمان لے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی! ضمان کس بات کا لے گا بھئی! ضمان اس پر ہاں ایک صورت میں ضمان آئے گا اس پر۔ اگر زمین دی تھی مثلاً میں نے ایک سال کے لیے اور میں پہلے سے اس کو کہتا ہوں اپنی بلڈنگ اکھاڑ کر لے جاؤ۔ اس نے کہا تھا عاریتًادو ایک سال کے لیے میں نے کہا لو بھئی! میں نے آپ کو عاریتًایک سال کے لیے دے دی اس نے بلڈنگ بنا لی اور ابھی چھ ماہ گزرے تھے میں نے کہا چलो بھئی! زمین خالی کرو مجھے واپس دو میری زمین اب میرے اوپر ضمان آئے گا اس لیے کہ میں نے اس کو دھوکا دیا ہے میں نے بات کتنے وقت کی کی تھی؟ ایک سال کی اور پہلے سے ہی ہاں! اگر وقت طے ہی نہیں ہوا تھا مطلق تھا تو اس صورت میں میں جب مرضی چاہوں کیا کر سکتا ہوں اپنی زمین خالی کروا سکتا ہوں۔ وَصَحَّةُ إِعَارَةِ الْأَرْضِ لِلْبِنَاءِ وَالْغَرْسِ اور صحیح ہے زمین کو عاریتًادینا لِلْبِنَاءِ یعنی تعمیر کے لیے بھی یا عمارت کے لیے بھی وَالغَرْسِ اور درخت بونے کے لیے بھی درخت لگانے کے لیے بھی وَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَنْهَا اور مالک کے لیے حق ہے کہ وہ رجوع کر لے عاریت سے وَيُكَلِّفَ قَلْعَهُمَا اور دوسرے کو مکلف بنائے گا ان چیزوں کے اکھاڑنے کا کہ یہ اکھاڑ کر لے جاؤ۔ وَلَا يَضْمَنُ اور ضامن بھی نہیں ضمان نہیں ہوگا اِنْ أَتْلَقَ اگر اس نے عاریت کو کیا کیا تھا؟ مطلق کیا تھا أَيْ لَا يَضْمَنُ الْمُعِيرُ اب ضامن نہیں ہوگا مُعِير ما اس چیز کا نَقَصَ مِنَ الْبِنَاءِ وَالْغَرْسِ جو کم ہو گیا کس میں سے؟ عمارت میں سے اور وہ جو کل درخت درختوں میں سے بِالْقَلْعِ کس کی وجہ سے؟ اکھاڑنے کی وجہ سے۔ بھئی دیکھو! بنی ہوئی بلڈنگ کی قیمت تھی دس لاکھ روپے اکھاڑنے کے بعد ملبے کی قیمت صرف دو لاکھ روپے ہے تو آٹھ لاکھ کا نقصان ہوا کیا اس نقصان کا ضمان آئے گا؟ کہتے ہیں نقصان کا ضمان نہیں آئے گا۔ اسی طرح درخت اب لگے ہوئے تھے بھئی باغ اس کی قیمت تھی مثلاً دس لاکھ روپے پورے باغ کی لیکن اکھاڑنے کے بعد لکڑی وغیرہ کی قیمت صرف کتنی رہ گئی؟ پانچ لاکھ روپے تو پانچ لاکھ روپے نقصان ہوا کیا ضمان آئے گا؟ کہتے ہیں ضمان نہیں۔ یہ مَعْنًى ہے وَلَا يَضْمَنُ الْمُعِيرُ الْمُعِير ضامن نہیں ہوگا ما نَقَصَ مِنَ الْبِنَاءِ وَالْغَرْسِ جو کم ہوا ہے بِدَاء عمارت کے اندر یا درختوں کے اندر بِالْقَلْعِ اکھاڑنے کی وجہ سے ضامن نہیں ہوگا كَابِ إِنْ كَانَتِ الْإِعَارَةُ مُطْلَقَةً اگر عاریت کیا تھا؟ مطلق تھا أَيْ غَيْرَ مُوَقَّتَةٍ (یعنی موقت نہیں تھا) وقت کی قید اس میں نہیں تھی۔ وَضَمِنَا لَكِنْ ضامن ہوگا ما نَقَصَ بِالْقَلَق وہ جو کمی ہوئی ہے اکھاڑنے کی وجہ سے اِنْ وَقَّتَا اگر کیا کیا تھا؟ وقت مُقَيَّر کیا تھا أَيْ وَقَّتَ الْإِعَارَةَ وَرَجَعَ عَنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ الْوَقْتِ یعنی جب وقت مقرر کیا تھا عاریت کا اور اس نے وقت سے پہلے رجوع کر لیا تو ضامن ہوگا۔ بھئی! کیوں ضامن ہوگا کہتے ہیں وَإِنَّمَا يَضْمَنُ لِلْغُرُورِ ضامن ہوگا دھوکا دینے کی وجہ سے وَفِي صُورَةِ الْإِطْلَاقِ بھئی! اطلاق کی صورت میں بھی تو دھوکا ہوا۔ آپ نے مجھ سے زمین عاریتًامانگی کہ میں نے اس میں بلڈنگ بنانی ہے میں نے آپ کو زمین دے دی آپ نے اس میں بلڈنگ بنائی جیسے ہی بلڈنگ بنا کر فارغ ہوئے میں نے کہا لاؤ بھئی زمین خالی کرو۔ کہتے ہیں اب بھی تو دھوکا ہوا۔ کیا ہوا؟ اطلاق کی صورت میں بھی تو دھوکا یا زمان آنا چاہیے کہتے ہیں نہیں بھئی! اس میں مُعِير نے کوئی دھوکا دیا نہیں بلکہ مُسْتَعِير خود دھوکا کھا گیا۔ اس میں مُعِير کا قصور نہیں ہے کس کا قصور ہے؟ مُسْتَعِير اس کو وقت پہلے طے کرنا چاہیے تھا تو اس نے خود دھوکا کھایا ہے۔ تو کہتے ہیں وَفِي صُورَةِ الْإِطْلَاقِ اور اطلاق کی صورت میں ما غَرَّهُ مُعِير نے اس کو دھوکا نہیں دیا بَلِ اغْتَرَ الْمُسْتَعِيرُ بلکہ دھوکا کھایا ہے مُسْتَعِير نے غَرَّ کا معنی دھوکا دینا اور اِغْتَرَ کا معنی دھوکا کھانا۔ بلکہ دھوکا کھایا کس نے؟ مُسْتَعِير نے خود دھوکا کھایا وَاعْتَمَدَ عَلَى الْإِطْلَاقِ اور اس نے اعتماد کس پر کیا تھا؟ اطلاق مطلق ہونے پر بھئی! وَكُرِهَ الرُّجُوعُ قَبْلَهُ اور مکروہ ہے رجوع کرنا قَبْلَهُ أَيْ قَبْلَ الْوَقْتِ وقت سے پہلے۔ بھئی! میں نے آپ کے ساتھ ایک سال کا وقت طے کیا تھا اور وقت سے پہلے اگر میں نے رجوع کیا تو میرے اوپر ضمان آئے گا لیکن وقت سے پہلے اور رجوع کرنا کیا ہے؟ مکروہ ہے وقت سے پہلے کیوں؟ لِأَنَّ فِيهِ خُلْفَ الْوَعْدِ اس لیے کہ اس صورت میں کیا ہے؟ وعدہ خلافی ہے خُلْفَ الْوَعْد پڑھنا بھئی! وعدہ خلافی۔ وَلَوْ أَعَارَ لِلزَّرْعِ لَا يُؤْخَذُ حَتَّى يَحْصُدَ وَقْتَ أَوْلَى بھئی! کھیتی کے لیے میں نے آپ کو زمین عاریتًادی تھی بھئی! آپ نے کہا مجھے آپ کی زمین عاریتًاساچھیے میں اس میں فِصَاص کرنا چاہتا ہوں میں نے عاریتًادی دی اب بھئی! آپ نے فصل کاشت کر دی بھئی! ابھی دو ماہ گزرے تھے فصل آدھی بنی تیار ہوئی تھی کہ میں نے اوروجو کہا بھئی لاؤ بھئی میری زمین خالی کر دو تو کیا رجوع کر سکتا ہے یا رجوع نہیں کر سکتا؟ کہتے ہیں بھئی! فصل کے لیے جب دی ہے تو رجوع نہیں کر سکتا چاہے وقت مقرر کیا ہو پہلے یا وقت مقرر بھئی! کیوں یہ کیا وجہ ہے؟ ما قبل میں تو آپ نے کہا تھا مطلق اور موقت میں فرق ہے یہاں پر مطلق اور موقت میں کوئی فرق کہتے ہیں اسی لیے تو ما قبل میں عمارت اور درختوں کی ہم نے بات کی تھی۔ اور عمارت اور درختوں کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا کہ کب تک کب تک رہیں گے، بلکہ وہ تو بڑی مدت تک رہتے ہیں، لیکن فصل کا تو ایک معلوم وقت ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا پانچ چھ مہینے ہو گئے اس سے زیادہ نہیں۔ بھئی، اس لیے صورت میں وقت مقرر کرے یا نہ کرے خود بخود وقت متعین اچھا بھئی، اب مجھے تو میں نے تو آپ کو فصل کے لیے زمین دی تھی، لیکن اب میں رجوع کرنا چاہتا ہوں۔ کہتے ہیں، رجوع کرنے کا حق نہیں۔ پھر کیا کیا جائے؟ کہتے ہیں، بھئی اب زمین اب بھی اسی مستعیر کے پاس رہے گی۔ لیکن کیا کیا جائے؟ کہتے ہیں، اجرت دے دی جائے۔ آگے جتنے وقت باقی ہے اس کی کیا دے دی جائے؟ اجرت دے دی جائے۔ تو زمین اسی کے پاس رہے، جب تک فصل پک کر تیار نہیں ہو جاتی، اور یہ جتنا وقت اس کے رجوع کرنے کے بعد ہے اس کی کیا دے دی جائے؟ اجرت۔ اب کہتے ہیں، دونوں کی رعایت ہو گئی۔ معیر کو اجرت مل گئی، اور مستعیر کو اپنی فصل تیار مل گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے۔ ولو أعار للزرع اور اگر عاریتاً دیا زمین کو زرعی کاشت کرنے کے لیے، کھیتی کے لیے، لا يؤخذ تو یہ واپس نہیں لی جاسکتی حتی يحصد یہاں تک کہ حتی يحصد یہاں تک کہ کھیتی کیا کر لی جائے؟ کاٹ لی جائے۔ وقت قطع أولى وقت متعین کیا تھا یا نہ کیا ہو دونوں صورتوں میں ایسا ہے، لأن للزرع اس لیے کہ کھیتی جو ہے اس کے لیے نہایت معلومۃ ایک معلوم نہایت ہے کہ اتنی مدت رہے گی، ففي الترك۔ فترك کرنے کی صورت میں بھئی ہم نے رجوع کو کیا کر دیا؟ ترک کر دیا، تو رجوع کو ترک کرنے کی صورت میں یہ مین والا نا درست نہیں بنتا یہ نسخے کی غلطی ہے۔ ففي الترك رعایت الحقین بالاجرت کا لفظ بھی ویسے یہاں ہونا چاہیے۔ بالاجرت کا لفظ یہاں مولانا ہونا چاہیے، ففي الترك بالاجرت اجرت کے ساتھ ترک کرنے کی صورت میں رعایت الحقین دونوں دونوں حقوقوں کی کیا ہے؟ رعایت ہے، دونوں کی رعایت ہو گئی۔ بخلاف الغرس بخلاف کس کے؟ درخت بونے کی صورت میں ہم نے مطلق اور مقید میں فرق کیا تھا، کہتے ہیں اذ ليس له نہایت معلومۃ اس لیے کہ درخت لگانے کی کوئی معلوم انتہا نہیں ہے کہ کتنی مدت کے لیے، وہ تو دس بیس سال تک رہے گا، بیس سال، تیس سال تک بھی درخت رہے گا تو اس کی کوئی معلوم انتہا نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھا۔ بھئی آپ مجھ سے گدھا مانگ کر لے گئے تھے بھئی۔ عاریتاً بھئی۔ آپ گدھا، گدھے پر سفر کرتے ہوئے آپ کراچی پہنچ گئے، اب مجھے کہتے ہیں، لو بھئی اپنا گدھا وصول کر لو۔ بھئی گدھا وہاں کیوں مجھے دیتے ہو؟ مجھے واپس یہاں لوٹاؤ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ واپس لوٹاؤ۔ تو یہ جو عاریتاً چیز لی گئی ہے، اس کے واپس لوٹانے کی اجرت کس پہ ہے؟ اب گدھے کو وہاں سے یہاں تک بھجوانے پر خرچہ آئے گا بھئی، یہ اجرت کس پر ہے؟ واپس لوٹانے کی۔ بھئی ضابطہ کہتے ہیں یاد رکھو، قبضے میں جس کا نفع تھا اجرتِ رد بھی اسی پر ہے۔ ضابطہ کیا ہے؟ قبضے کی صورت میں قبضے جس کا نفع تھا قبضے میں اجرتِ رد بھی واپس لوٹانے کی اجرت بھی اسی پر ہے۔ اب آپ بتائیے! گدھے پر آپ نے قبضہ کیا تھا، اس میں نفع کس کا تھا؟ معیر کا یا مستعیر کا؟ مستعیر کا کہ اس نے سواری کرنا تھی۔ یہ ضابطہ ہر جگہ جاری ہوگا۔ چنانچہ ایک چیز دوسرے نے غصب کی بھئی، دوسرے کی کوئی چیز کیا کر لی؟ غصب۔ اب اس مغصوب شدہ کو واپس کرنے پر اجرت آتی ہے، یہ اجرت کس پر ہے؟ غاصب پر آئے گی یا مغصوب منہ پر آئے گی؟ بھئی آپ میرا گدھا غصب کر کے لے گئے، تو اب وہ گدھا واپس لوٹانے کی اجرت آپ پر آئے گی یا میرے اوپر آئے گی؟ غاصب پر آئے گی، کیونکہ اس کے نفع قبضے کرنے کی صورت میں نفع کس کا تھا؟ غاصب کا تھا، وہ نفع اٹھانا چاہتا تھا اس سے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اسی طرح اجارے کے اندر ہے، اجارے کے اندر بھئی۔ میں نے آپ کو اپنی سائیکل کرایہ پر دے دی یا اپنا گدھا کرائے پر دیا۔ اب وہ گدھا آپ واپس لوٹانا چاہتے ہیں تو اجرتِ رج- اجرتِ رد بھئی، یہ مستعیر پر ہے یا معیر پر ہے؟ جی؟ معیر پر ہے۔ کس پر ہے اجرتِ رد؟ معیر پر۔ آپ مجھ سے گدھا کرائے پر لے گئے ہیں تو اب واپس لوٹانے کی اجرت مجھ ہی پر ہے آپ پر نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہ گدھے پر قبضے کا نفع میرا ہے۔ میں نے کرایہ وصول کیا یا نہیں کیا آپ سے؟ کرایہ وصول کیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہذا ضابطہ یہ کہ جس کے قبضے پے میں جس کا نفع تھا اجرتِ رد بھی اسی پر ہے۔ یہ معنی ہے۔ وأجرة رد المستعار اور مانگی ہوئی چیز کے واپس لوٹانے کی اجرت، والمستاجر اور کرائے پر ہوئی لی ہوئی چیز کے واپس لوٹانے کی اجرت، والمغصوب اور غصب کی ہوئی چیز کے واپس لوٹانے کی اجرت، علی المستعیر کس پر ہے؟ مستعیر پر ہے، مستعار کے اندر اجرتِ رد مستعیر پر ہے، والموجر والغاصب اور مستاجر ک- واپس لوٹانے کی اجرت کس پر ہے؟ موجر پر ہے، اجارے پر دینے والا جو ہے، مالک جو ہے، اور مغصوب کے واپس لوٹانے کی اجرت کس پر ہے؟ غاصب پر ہے۔ لأن الرد واجب علي المستعیر والغاصب عند طلب المالک اس لیے کہ واپس لوٹانا واجب ہے مستعیر پر بھی اور غاصب پر بھی جب مالک طلب کر لے اس چیز کو۔ وأما علي المستاجر باقی مستاجر جو ہے جس نے کرائے پر چیز دی تھی اس پر واپس کرنا واجب نہیں ہے، التمکين والتخلية اس پر کیا ہے؟ قدرت دینا ہے اور خال- خالی کر دینا ہے۔ کیا کر دینا ہے؟ بھئی آپ مجھ سے گدھا کرائے پر لے گئے تھے، اب وقت پورا ہوا میں نے آپ سے گدھا واپس مانگا، تو آپ آپ پر یہ نہیں ہے کہ گدھا مجھے لا کر دیں، آپ کے ذمے کیا ہے؟ قدرت دے دیں۔ رکاوٹ اپنی ختم کر دیں۔ لو بھئی یہ گدھا آپ کا کھڑا ہے آ کر کیا کر لو اس پر قبضہ کر دو۔ تو اس پر قدرت دے دیں اور تخلیا خالی کر دیں اس کو اپنے قبضے سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ کافی، یہ ضروری ہے دون الرد واپس لوٹانا اس پر مستاجر پر نہیں ہے۔ فإن منفعت القبض للموجر اس لیے کہ قبضے کا نفع کس کے لیے تھا؟ موجر کے لیے تھا، فيكون مؤنة الرد عليه تو واپس لوٹانے کی مشقت بھی اسی پر ہے لا علی المستاجر مستاجر پر نہیں۔ جی؟ نہیں مستاجر جو نفع اٹھا رہا ہے اس کا اس نے عوض بھی تو دیا۔ اس میں اس نے کیا کیا ہے؟ عوض دیا ہے ویسے تو نہیں نفع اٹھا رہا، تو زیادہ نفع موجر ہی کا ہے، اسی لیے تو وہ بیٹھا ہے کرائے پر جانور دے رہا ہے اس کا نفع ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قبضہ کرنے والا بھی نفع اٹھا رہا ہے، لیکن ویسے نفع نہیں اٹھا رہا بلکہ کیا کر رہا ہے؟ عوض دے رہا ہے بھئی۔ ويكتب المعار له قد أطعمتني أرضك لا أعرتني، لا أعرتني إذا أعيرت للزراعة۔ بھئی اب یہ بتانا چاہتے ہیں، کاغذات میں کیا لکھیں گے؟ میں نے آپ کو اپنی زمین کاشت کے لیے دی۔ کس کے لیے دی؟ کاشت کے لیے دی۔ کاشت کے لیے دی بھئی۔ اب آپ کاغذ کاغذات میں لکھنا چاہتے ہیں تو کیا لکھیں گے؟ اعارہ لکھیں گے یا طعام لکھیں گے؟ امام صاحب فرماتے ہیں طعام لکھیں گے، اعارہ نہیں۔ بھئی کیا لکھیں گے؟ یوں لکھیں گے، أطعمتني أرضك تو نے مجھے اپنی زمین کھلا دی (یعنی کھلانے کے لیے دے دی۔ بھئی کیوں؟ یہ اچھا، ہاں!) کہتے ہیں یہ نہیں لکھنا کہ تو نے أعرتني أرضك تو نے مجھے اپنی زمین عاریت کے طور پر دی۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ زمین کی عاریت صرف کاشت کرنے کے لیے ہمیشہ نہیں ہوتی، زمین تو عاریت دی جاتی ہے کبھی کاشت فصل کاشت کرنے کے لیے، کبھی بلڈنگ بنانے کے لیے، اور کبھی باغ لگانے کے لیے تو اس میں تو کئی صورتیں آ جاتی ہیں، لہذا اگر اعارت کہتا ہے تو کل بعد میں کیا ہو سکتا ہے؟ جھگڑا ہو سکتا ہے، یہ اس میں بلڈنگ بنا کر کیا کہے گا؟ دیکھو کاغذات میں کیا لکھا ہے؟ أعرتني کہ تو نے مجھے اپنی زمین عاریت دی ہے دس سال کے لیے، اب میں اس میں جو مرضی کروں۔ لیکن جب لکھ دے گا أطعمتني أرضك تو نے اپنی زمین مجھے کھلا دی، معلوم ہوا یہ زمین صرف طعام کے لیے ہے، یعنی فصل کے لیے ہے، بلڈنگ یا باغ لگانے کے لیے نہیں ہے بھئی۔ تو طعام کا لفظ زراعت کے اندر استعمال ہوتا ہے، بلڈنگ یا باغ کے لیے استعمال نہیں ہوتا، لہذا زراعت کے لیے جب دستاویز لکھی جائے تو اس میں طعام کا لفظ لکھا جائے، اعارہ کا لفظ نہ لکھا جائے۔ ويكتب المعار له معار لہ وہی مستعیر ہے۔ معار لہو جس کو عاریت دی گئی۔ معار لہو کون ہے؟ مستعیر۔ اور مستعیر لکھے گا، کیا لکھے گا کاغذات میں؟ قد أطعمتني أرضك تحقیق تو نے مجھے کھلا دی اپنی زمین۔ لا أعرتني أرضك یہ نہیں لکھے گا۔ اذا کب نہیں لکھے گا؟ یہ کب لکھے گا أطعمتني؟ اذا أعيرت للزراعة جب اس کو زمین کیا دی گئی ہے؟ عاریتاً بطور زراعت کی دی گئی ہے بطور عاریت کے۔ أي اذا أعيرت الأرض للزراعة للزراعت جب عاریتاً دے دی جائے زمین بھئی زراعت کے لیے۔ فأراد المستعیر ان يكتب كتابا تو ارادہ کیا مستعیر نے کہ کوئی دستاویز لکھے، کوئی کاغذ لکھے بھئی۔ جی! فعند أبي حنيفة رحمہ اللہ تو امام صاحب کے نزدیک يكتب لفظ الإطعام کون سا لفظ لکھے گا؟ طعام کا لفظ لکھے گا لأنه أدل علی الزراعت اس لیے کہ وہ زراعت پر زیادہ دلالت کرنے والا ہوتا ہے۔ فإن إعارة الأرض قد يكون للبنار والغرس اس لیے کہ زمین کے اعارہ جو ہے وہ کبھی کبھار تعمیر کے لیے بھی ہوتا ہے یا درخت لگا اور درخت لگانے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ وعندهما اور صاحبین کے نزدیک يكتب لفظ الإعارة کیا لفظ لکھے گا؟ اعارہ کا لفظ لکھے گا۔ چلیے مولانا! ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔
118 approved lectures · 110 of 118