Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-113

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 1
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
كِتَابُ الْإِجَارَاتِ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ: الْإِجَارَةُ فِعَالَةٌ مِنْ الْمُفَاعَلَةِ وَأَجَرَّ عَلَى وَزْنِ فَاعَلَ لَا أَفْعَلَ لِأَنَّ الْإِجَارَةَ لَمْ يَجِئْ فَالْمُضَارِعُ يُوَاجِرُ وَاسْمُ الْفَاعِلِ الْمُوَاجِرُ وَفِي عَيْنِ الْخَلِيلِ آجَرْتُ زَيْدًا مَمْلُوكِي أُجِرَهُ إِيجَارًا وَفِي الْأَسَاسِ آجَرَ وَهُوَ مُجِيرٌ وَلَمْ يَقُلْ مُوَاجِرٌ فَإِنَّهُ غَلَطٌ وَمُسْتَعْمَلٌ فِي مَوْضِعٍ قَبِيحٍ. جی، كتاب الإجارات بھئی۔ اجارے کے بارے میں آج ہم بحث شروع کریں گے بھئی، اجارہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اجارہ۔ اچھا، سب سے پہلے لفظ اجارہ کی تحقیق کر رہے ہیں مصنف کہ اجارہ کا کیا معنی ہے، یہ کس باب سے آتا ہے بھئی؟ خلاصہ بحث یہ پہلے سے سن لیجیے بھئی، کہ مصنف ذکر کریں گے بعض أہل العربية کا قول، وہ فرماتے ہیں کہ اجارہ فِعَالَةٌ وزن ہے، لیکن یہ کس باب سے ہے؟ باب مَفَاعَلَةٌ سے ہے بھئی، مَفَاعَلَةٌ سے ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ لكن بعد میں مصنف آپ کو بتلائیں گے بھئی علامہ صدر الشریعہ کہ نہیں، یہ مَفَاعَلَةٌ باب سے نہیں ہے، بلکہ باب افْعَال سے ہے بھئی، کس سے آیا؟ یہ خلاصہ بحث ہے جو شروع میں کریں گے، تو بعضوں نے باب مَفَاعَلَةٌ ذکر کیا تھا، یہ اس کو رد کر کے بتلائیں گے یہ باب افْعَال سے ہے بھئی، کئی دلیلیں ذکر کریں گے بھئی، دیکھیے: قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ: بعض أہل العربية فرماتے ہیں مولانا الْإِجَارَةُ فِعَالَةٌ مِنْ الْمُفَاعَلَةِ کہ اجارہ جو ہے، فِعَالَةٌ وزن ہے مولانا مِنْ الْمُفَاعَلَةِ کس باب سے آیا ہے؟ مَفَاعَلَةٌ باب سے آیا ہے، جی، وَأَجَرَّ عَلَى وَزْنِ فَاعَلَ۔ بھئی مَفَاعَلَةٌ کا ماضی کیا ہے؟ اس کی ماضی کیا آتی ہے بھئی؟ فاعل، تو اسی لیے جو آجَرَّ ہے عَلَى وَزْنِ فَاعَلَ بھئی، وہ فرما رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں بھئی أہل العربية، کہ آجَرَّ بر وزن فَاعَلَ ہے، لَا أَفْعَلَ، أَفْعَلَ کا وزن؟ بھئی اس میں احتمال دونوں کا بنتا تھا، آجَرَّ بر وزن أَفْعَلَ بھی ہو سکتا ہے اور بر وزن فَاعَلَ بھی ہو سکتا تھا، لیکن انہوں نے أہل العربية کیا فرما رہے ہیں؟ کہ یہ باب مَفَاعَلَةٌ سے ہے، تو یہ آجَرَّ بر وزن فَاعَلَ ہے، بر وزن أَفْعَلَ نہیں، کیوں؟ أَفْعَلَ کے وزن پر کیوں نہیں کہتے ہیں؟ لِأَنَّ الْإِجَارَةَ لَمْ يَجِئْ، اس لیے کہ ایجار نہیں آیا عربی میں، یعنی باب افْعَال اس سے نہیں آیا، إِجَارِ کیا ہے؟ افْعَال، یعنی باب افْعَال نہیں آیا اس وزن پر۔ فَالْمُضَارِعُ يَرْحَمْكَ اللَّهُ فَالْمُضَارِعُ يُوَاجِرُ تو جب باب مَفَاعَلَةٌ سے ہے تو مضارع کیا آئے گا؟ آجَرَّ، قَاتَلَ، قَاتَلَ يُقَاتِلُ، آجَرَ يُوَاجِرُ بھئی۔ وَاسْمُ الْفَاعِلِ الْمُوَاجِرُ اور اس میں فاعل کیا آئے گا؟ مُوَاجِرٌ، قَاتَلَ يُقَاتِلُ مُقَاتَلَةً فَهُوَ مُقَاتِلٌ، تو مُوَاجِرٌ اس وزن پر آیا بھئی۔ یہاں تک أہل العربية کی بات ذکر کی۔ اب مولانا اس کو رد کرتے چلے جا رہے ہیں علامہ صدر الشریعہ۔ انہوں نے کیا ذکر کی تھی ایک بات بھئی؟ کہ یہ کس یہ إِجَارَه باب افْعَال نہیں آیا بھئی، لِأَنَّ الْإِجَارَةَ لَمْ يَجِئْ إِجَار باب نہیں آیا، تو معلوم ہوا آجَرَّ کس وزن پر ذکر کیا تھا؟ فَاعَلَ وزن ہے، أَفْعَلَ وزن نہیں، کیوں کیا وجہ ذکر کیے کیونکہ باب افْعَال اس سے نہیں آیا۔ اب مولانا امام خلیل کی کتاب عَيْن ہے لغت میں بھئی، اس کا حوالہ ذکر کریں گے بھئی اور بتلائیں گے کہ نہیں بھئی، یہ أہل عرب بعض أہل العربية کا جو قول تھا کہ إِجَار افْعَال باب نہیں آیا اس سے، یہ درست نہیں ہے۔ امام خلیل جو لغت کے امام ہیں مولانا، انہوں نے کیا کیا ہے اپنی کتاب کے اندر افْعَال باب کو اسی سے ذکر کیا ہے، چنانچہ وہ فِىْ عَيْنِ الْخَلِيلِ امام خلیل بن احمد رحمہ اللہ کی بھئی کتاب ہے عَيْن اس کے اندر ہے: آجَرْتُ زَيْدًا مَمْلُوكِي أُجِرَهُ إِيجَارًا تو دیکھو إِيجَارًا بھئی، آجَرْتُ زَيْدًا اجرت پر میں نے دیا زید کو مملوکی اپنا غلام بھئی، تو آجَرَّ دیکھا، آجَرَّ ذکر کیا آجَرْتُ، اور ماضی کیا ذکر کی مجہول أُجِرَهُ بھئی، اس کو اجرت پر دیا گیا غلام، إِيجَارًا بھئی۔ آجَرَّ أُجِرَ إِيجَارًا إِيجَار کون سا باب ذکر کر دیا؟ افْعَال، دیکھا امام خلیل نے ذکر کیا ہے کہ باب افْعَال آیا ہے مولانا، لہذا ما قبل کا بعض أہل العربية کا وہ قول صحیح نہیں کہ إِجَار نہیں آیا۔ وَفِىْ الْأَسَاسِ، اچھا دوسری بات بھئی، تو انہوں نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ اس میں فاعل کس وزن پر آئے گا اوپر أہل العربية نے بعض نے کیا کہا تھا؟ مُوَاجِرٌ پر، اب اس کو بھی رد کر رہے ہیں، وَفِىْ الْأَسَاسِ اور أَسَاس کتاب میں مولانا یہ علامہ زمخشری کی ہے بھئی، علامہ زمخشری بھئی، بہت بڑے عالم گزرے ہیں بھئی جنہوں نے قران کی مشہور تفسیر كَشَّاف لکھی مولانا، اتنی عظیم تفسیر ہے کہ قیامت تک آنے والے تمام مفسرین كَشَّاف کے محتاج ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ قران معجزہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بلاغت کے اندر، فصاحت کے اندر، تو زمخشری بتلاتے ہیں بھئی، کیسے یہ بلاغت اور فصاحت میں معجزہ ہے، قران کی فصاحت اور بلاغت کو بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں ایسی عظیم تفسیر لکھ دی انہوں نے کہ اب قیامت تک آنے والے سارے مفسرین اس کے محتاج ہیں بھئی۔ اچھا، تو وہ اپنی کتاب أَسَاس میں لکھتے ہیں کہ آجَرَّ وَهُوَ مُجِيرٌ بھئی، اس سے اس میں آجَرَّ وَهُوَ مُجِيرٌ بھئی، یعنی اس میں فاعل اس سے کیا آیا؟ مُجِيرٌ آیا بھئی، مُجِير آیا، معلوم ہوا یہ باب افْعَال ہے مولانا، تو اس میں فاعل مُجِير آئے گا مُوَاجِر نہیں آئے گا، وَلَمْ يَقُلْ مُوَاجِرٌ بھئی، اور علامہ زمخشری نے مُجِير کہا مُوَاجِر نہیں کہا، فَإِنَّهُ غَلَطٌ اس لیے کہ مُوَاجِر لفظ غلط ہے بئاعتبار لغت کے مولانا، غلط ہے بئاعتبارِ... بھئی دیکھو، اصل لفظ ہے آجَرَّ، اصل لفظ کیا ہے؟ آجَرَّ، تو کہتے ہیں بعض عام لوگ عامی لوگ بھئی، جو آپس میں بات چیت کرتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس میں وہ اول همزہ جو ہے، اس کو واؤ سے بدل لیتے ہیں، وَاجَرَّ کہتے ہیں، آجَرَّ کی جگہ کیا کہتے ہیں؟ وَاجَرَّ، اور پھر وَاجَرَّ، تو اسی سے پھر اس میں فاعل کیا بن جائے گا؟ مُوَاجَرَا... وَاجَرَّ يُوَاجِرُ مُوَاجَرَةً فَهُوَ مُوَاجِرٌ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ وہ عامی لوگ اس طرح کرتے ہیں، یہ ان کی غلطی ہے، لُغَتًا یہ غلط ہے، اس میں فاعل مُوَاجِر نہیں آئے گا بلکہ کیا آئے گا؟ مُجِيرٌ بھئی۔ وَمُسْتَعْمَلٌ فِي مَوْضِعٍ قَبِيحٍ بھئی، اور یہ کس میں استعمال ہوتا ہے؟ قبیح جگہ کے اندر بھئی، قبیح مقام میں مُوَاجِر کا... تو بھئی استعمال کے اعتبار سے بھی یہ غلط اور لغت کے اعتبار سے بھی یہاں پر وہ نہیں بنتا بھئی، لغت کے اعتبار سے بتلا دیا بھئی، اور استعمال کے اعتبار سے بھی اس مقام پر نہیں، اس لیے کہ مُوَاجِر قبیح مقام میں استعمال ہوتا ہے، سمجھ میں آیا؟ اچھا۔ قبیح مقام میں اس کے حاشیہ میں لکھا ہے، مولانا بیان کیا گیا ہے، کہتے ہیں بھئی، یہ کہا جاتا ہے يُوَاجِرُ أَهْلَهُ لِلزِّنَا، کوئی شخص اپنے گھر والے کو زنا کے لیے دے تو اس موقع پر يُوَاجِرُ کہا جاتا ہے۔ مُوَاجِر، فلاں کیا ہے؟ مُوَاجِر ہے، تو یہ مولانا قبیح مقام میں (یعنی زنا کے لیے) استعمال ہوتا ہے بھئی۔ وَهِيَ اسْمٌ لِلْأُجْرَةِ، اچھا بھئی، اجارہ کیا معنی کیا ہے؟ کہتے ہیں یہ اجرت کا نام ہے۔ اجرت مزدوری کو کیا کہتے ہیں؟ اجارہ۔ یاد رکھنا، سمجھ میں آیا؟ اجارہ مصدر نہیں ہے، بلکہ یہ کس کا نام ہے؟ اسم ہے مزدوری کا، کرا اجرت کا، تو کہتے ہیں: وَهِيَ اسْمٌ لِلْأُجْرَةِ یہ اسم ہے کس کے لیے؟ اجرت کے لیے، اجرت کے لیے۔ كَالْجِعَالَةِ اسْمٌ لِلْجُعْلِ، جیسے جِعَالَة فِعَالَة یہ بھی اسی وزن پر ہے، اجارہ کے وزن، جیسے جِعَالَة نام ہے جُعْل کا (یعنی اجرت اور مزدوری کا)۔ جُعْل مولانا جب کسی کا کوئی غلام بھاگ جائے بھئی، اور پھر اس غلام کو کسی شخص کو مل جائے، وہ اس غلام کو پکڑتا ہے اور لے کر آتا ہے اور مالک کے حوالے کرتا ہے، تو مالک کو اسے جُعْل دینا پڑتا ہے، اسے مزدوری یا اسے اجرت دینی پڑتی ہے، وہ جو اس نے غلام کو لے کر آیا، اس کا خرچہ وغیرہ ہوا، وہ اس کو دینا پڑتا ہے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ جُعْل کہلاتا ہے بھئی۔ وَمَنْ جِعَالَة نام ہے جُعْل کا یعنی اجرت اور مزدوری کا، تو اسی طرح بھئی اجارہ بھی نام ہے اجرت اور مزدوری کا۔ وَأَجَرَّ يَأْجُرُ بھئی، اور آجَرَّ يَأْجُرُ مِنْ باب طَلَبَ بھئی۔ آجَرَّ يَأْجُرُ بھئی، آجَرَّ يَأْجُرُ بھی آیا ہے اور آجَرَّ يَأْجُرُ علامہ صدر الشریعہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں آجَرَّ مجرد سے آجَرَّ يَأْجُرُ آیا ہے مِنْ باب طَلَبَ بھئی، کس باب سے؟ طَلَبَ بھئی، طَلَبَ کون سا باب ہے؟ طَلَبَ يَطْلُبُ نَصَرَ باب ہے، یعنی نَصَرَ سے آیا ہے، اور کیا معنی ہے آجَرَّ يَأْجُرُ کا؟ أَعْطَاهُ الْأُجْرَةَ اس نے کیا دی؟ اس دوسرے کو اجرت دی، فَهُوَ آجِرٌ تو اس سے تو وہ کون ہے؟ آجِر ہے، یعنی اجرت دینے والا۔ تو آجِر کا کیا معنی ہوا؟ اجرت دینے والا، یہ اسمِ فاعل ہے آجَرَّ يَأْجُرُ سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ اچھا۔ فَوَضَحَ الْفَرْقُ بَيْنَ الْمُوجِرِ وَالْآجِرِ، تو فرق واضح ہو گیا موجر اور آجِر کے درمیان۔ موجر کسے کہتے ہیں؟ کرایہ پر کوئی چیز دوسرے کو دینے والا، اور آجِر کسے کہتے ہیں؟ اجرت دینے والا، کسے کہتے ہیں؟ اجرت دینے والا، اور اجرت کون دیتا ہے؟ موجر دیتا ہے یا مستاجِر دیتا ہے؟ مستاجِر، بھئی دیکھو یہاں دو تین چار لفظ ہیں مولانا، یاد رکھو۔ ایک ہے اجرت پر کوئی چیز دینے والا بھئی، میں نے آپ کو سائیکل کرائے پر دی ایک گھنٹے کے لیے، اور... تو میں ہوا موجِر بھئی، اجرت پر چیز دینے والا۔ اور آپ نے اجرت پر چیز لی، آپ کون ہوئے؟ مستاجِر ہوئے۔ اور اب آپ اس کا مجھے، اس کی اجرت دیں گے، تو آپ آجِر ہوئے، کیا ہوئے؟ آجِر ہوئے۔ صورت سمجھ میں آ گئی، تو مستاجِر بھی آپ ہیں، آجِر بھی آپ ہیں بھئی۔ وَمَنْ ایک اور لفظ ہے اجیر، اجیر مزدور کو کہتے ہیں بھئی، کوئی شخص اپنے آپ کو... شک کرے، اجرت پر خدمت کے لیے کسی کے حوالے کرے، تو وہ کیا کہلاتا ہے؟ اجیر کہلاتا ہے۔ تو وہ اجیر، مزدور آپ نے ایک مزدور کو بلوایا، وہ آپ کے لیے دیوار بنائے گا، تو وہ ہوا اجیر اور آپ اجرت دیں گے، تو آپ ہوئے آجِر بھئی۔ سمجھ میں... صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو آجِر، اجیر، مستاجِر، موجِر، فرق پتہ چل گیا؟ موجر کسے کہتے ہیں؟ اجرت پر کوئی چیز دینے والا بھئی، آجِر اجرت دینے والا، مستاجِر اجرت پر چیز لینے والا، اور اجیر مزدور یعنی اجرت پر اپنے نفس کو سپرد کرنے والا۔ سمجھ میں آیا، تو اجرت پر اپنی خدمت سپرد کرتا ہے، آئیے۔ فَوَضَحَ الْفَرْقُ بَيْنَ الْمُوجِرِ وَالْآجِرِ، تو فرق واضح ہو گیا موجر اور آجِر کے درمیان، وَالْإِجَارَةُ فِعَالَةٌ، اب مولانا یہ خلاصہ بحث سنا رہے ہیں علامہ صدر الشریعہ، کہتے ہیں وَالْإِجَارَةُ فِعَالَةٌ مِنْ آجَرَّ يُوجِرُ، اجارہ فِعَالَة وزن ہے، لیکن کس باب سے؟ آجَرَّ يُوجِرُ إِيجَارًا یعنی باب افْعَال سے ہے، تو وہ... بعض أہل العربية کے قول کو رد کر دیا۔ بِمَعْنَى الْأُجْرَةِ، اور یہ فِعَالَة اجارہ یہ کس معنی میں ہے؟ اجرت یعنی اجرت اور مزدوری کے معنی میں ہے، لَكِنْ فِي الشَّرْعِ نُقِلَ إِلَى الْعَقْدِ، لیکن شریعت میں اس کو نقل کر دیا گیا کس کی طرف؟ عقد کی طرف۔ عقد کی، یعنی اجرت پر دینا اور کرایے پر دینا۔ تو بھئی لغت میں تھا اجارہ کا معنی اجرت، لیکن شریعت میں کس کا نام ہوا؟ اس عقد کا نام ہوا۔ سمجھ میں آیا، اس عقد کا نام رکھ دیا گیا۔ وہ جو اجرت پر دینے کا، کرایے پر کوئی چیز دینے کا عقد ہے، اس کا نام اجارہ رکھ دیا گیا۔ فَقَالَ، پس مصنف فرماتے ہیں وَهِيَ بَيْعُ نَفْعٍ مَعْلُومٍ بِعِوَضٍ كَذَلِكَ دَيْنٍ أَوْ عَيْنٍ۔ اجارہ... وَهِيَ بَيْعُ نَفْعٍ مَعْلُومٍ، یہ نام ہے بیچنے کا، کس چیز کو بیچنے کا؟ نَفْعِ معلوم ایک معلوم نَفْعے کو بیچنے کا نام ہے، بِعِوَضٍ کس کے کس میں؟ عوض کے بدلے میں، كَذَلِكَ جو اسی طرح ہو، یعنی جیسے وہ نَفْع معلوم تھا، عوض بھی کیا ہو؟ معلوم۔ تو اجارہ نام ہے ایک معلوم نَفْعے کو بیچنے کا معلوم عوض کے بدلے میں، دَيْنٍ أَوْ عَيْنٍ، وہ عوض چاہے دَيْن ہو یا عَيْن ہو، دَيْن یعنی نقدی مراد ہے، درہم و دنانیر ہوں مولانا، سمجھ میں آیا کیا ہو؟ درہم و دنانیر ہوں یا مثلیات میں سے ہو جو اس کے ذمے باقی ہو بھئی بعد میں ملے گا، یا چاہے وہ عَيْن ہو مولانا، چاہے وہ کیا ہو؟ عَيْن ہو، یعنی کوئی چیز دے دی۔ دیکھیے بھئی، میں نے آپ کو سائیکل کرایہ پر دی بھئی، تو اس میں آپ مجھے اس کا یہ تو سائیکل میں نے آپ کو کرائے پر دی، تو کیا میں نے آپ کو سائیکل بیچی ہے یا صرف اس کے منافع بیچے ہیں؟ صرف منافع۔ تو دیکھو یہ میں نے آپ کو ایک معلوم نَفْعہ بیچا، اور اس کا عوض بھی معلوم ہونا چاہیے، مثلاً ایک گھنٹے کا میں کرایہ کتنا لیتا ہوں آپ سے؟ 10 روپے، تو یہ عوض بھی معلوم ہوا، تو اجارہ نام ہے ایک معلوم نَفْعے کو بیچنے کا کس کے ایک معلوم عوض کے بدلے میں۔ اب وہ عوض دَيْن بھی ہو سکتا ہے اور عَيْن بھی ہو سکتا ہے، دَيْن کی مثال تو یہ تھی جیسے 10 روپے بھئی، نقدی مولانا درہم ہو گئے، دنانیر ہو گئے، یہ کیا ہیں؟ یا مولانا بعد میں آپ دیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو نقدی ہو گئی، اور یا وہ چیز کیا ہو سکتی ہے؟ عَيْن بھی ہو سکتی ہے جس وہ وہ جو عوض ہے، مثلاً آپ عوض کے طور پر مجھے اپنا قلم دے دیتے ہیں۔ ایک گھنٹہ میں سائیکل لے کر جا رہا ہوں، ایک گھنٹہ چلاؤں گا اور بدلے کے طور پر کیا دوں گا؟ یہ اپنا قلم دوں گا، تو یہاں پر عوض معلوم ہے، لیکن وہ معلوم عوض دَيْن ہے یا عَيْن ہے؟ عَيْن ہے۔ وَيُعْلَمُ النَّفْعُ، اچھا بھئی، اوپر اب کیا تعریف میں کیا ذکر کیا تھا؟ کہ کس کو بیچنے کا نام اجارہ ہے؟ ایک معلوم نَفْعے کو، اب بھئی نَفْعے کا علم کس سے ہوگا کہ اسے ہم معلوم کہیں؟ کہتے ہیں وَيُعْلَمُ النَّفْعُ اور نَفْع کو جانا جائے گا بِذِكْرِ الْمُدَّةِ، کس کے ذکر کے ذریعے؟ مدت، کبھی کبھی نَفْعے کا پتہ مدت سے چلتا ہے، مثلاً میں آپ کو گھر دیتا ہوں رہائش کے لیے کرایہ پر بھئی، تو اب یہاں پر نَفْعے کا پتہ کس سے نَفْع معلوم کس سے ہوگا؟ مدت سے، بھئی گھر میں رہائش تو ایک دن کے لیے بھی ہو سکتی ہے، 50 سال کے لیے بھی ہو سکتی ہے۔ تو، کتنی ہے جب تک، تو کس کے لیے پتہ چلے گا؟ مدت کے ذریعے، کہ مہینے کے لیے ہے یا دو ماہ کے لیے یا سال کے لیے۔ تو کبھی کبھی نَفْعے کو جانا جاتا ہے مدت کے ذکر کر دینے سے، كَسُكْنَى الدَّارِ جیسے گھر کی رہائش بھئی، اس میں کس کو ذکر کی... نَفْعے کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ مدت کے ذکر کر دینے سے۔ وَزِرَاعَةِ الْأَرْضِ یا زمین کی زراعت، مُدَّةً كَذَا اتنی مدت تک بھئی، تو زمین کی زراعت کے اندر بھی بھئی نَفْعے کا پتہ کس سے چلے گا؟ جی، تو نَفْع معلوم ہوگا مدت کے ذکر کر دینے سے، قَالَتْ أَوْ قَصُرَتْ، چاہے وہ مدت کیا ہو؟ طویل ہو یا چھوٹی ہو، چاہے ایک ماہ کے لیے میں صرف گھر پر کرائے پر دے رہا ہوں، چاہے میں آپ کو 20 سال کے لیے کیا کر رہا ہوں؟ تو چھوٹی مدت بھی ہو سکتی ہے، طویل بھی، لیکن مدت ذکر ہوگی تو پھر نَفْع معلوم ہوگا ورنہ معلوم نہیں ہے بھئی۔ لَاكِنْ فِي الْوَقْفِ لَا تَصِحُّ فَوْقَ ثَلَاثِ سِنِينَ فِي الْمُخْتَارِ، بھئی ابھی بتلایا بھئی، کہ اجْر... نَفْع معلوم ہونا چاہیے، اور نَفْع معلوم، نَفْعے کا علم بعض اوقات کس چیز سے ہوتا ہے؟ ہوتا ہے، مدت کے ذکر کر دینے سے، اور یہ مدت طویل ہو تو بھی درست، چھوٹی ہو تو بھی، لیکن یہ عام جس جب چیز کا جو کہ اجرت پر دے رہا ہے، وہ وقف نہ ہو مولانا، اگر وقف ہے، تو پھر اس صورت میں اجرت 3 سال سے اوپر نہیں ہونی... مدت 3 سال سے اوپر نہیں ہونی چاہیے۔ بھئی وقف زمینیں جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی؟ بھئی میں نے مثلاً ایک مربع زمین وقف کر دی، کہ اس زمین سے جتنی بھی آمدن ہو، یہ فلاں مدرسے کے طلباء پر خرچ کی جائے، تو یہ زمین وقف ہو گئی مولانا، میں نے آپ کو نگران مقرر کر دیا، کہ آپ نے نگرانی کرنی ہے جو آمدنی ہوا کرے، کس پر خرچ کرتے جائیں؟ اس مدرسے پر خرچ کرتے جائیں بھئی، تو یہ وقف زمین ہے، یہ کیا ہے؟ وقف زمین ہے، اور آپ اس کے متولی، نگران ہو گئے مولانا، نگران تو یاد رکھو یہ جو وقف زمینیں ہیں، ان کے اندر تین سال سے زیادہ عقدِ اجارہ صحیح نہیں۔ اس سے زیادہ لمبی مدت کے لیے اجارہ کے طور پر دینا صحیح نہیں بھئی۔ کیوں بھئی؟ اس سے زیادہ لمبا عقد کرنا کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ اگر مثلاً تین سال کے بجائے آپ کتنے کا عقد کر لیتے ہیں؟ بھئی زمین دی ہے نا تو زمین سے نفع اٹھانا ہے، آپ اس کو لازمی بات ہے آگے ٹھیکے پر دے دیں گے، اور اس کی جو آمدنی ہوگی، وہ کس کو دے دیں گے؟ مدرسے کو دے دیں گے۔ تو لہٰذا اگر آپ دینا چاہتے ہیں تو تین سال سے زیادہ مدت کے لیے نہ دیں۔ کیوں؟ کیونکہ اگر طویل مدت کے لیے دیں گے، مثلاً کتنے سال کے لیے دے دی؟ دس سال کے لیے دے دی، تو بھئی یہ تو زمین وقف کی ہے۔ تو بعض اوقات وقف کی زمینیں ہیں، متولی کیونکہ اس میں دلچسپی زیادہ ہوتی نہیں بھئی، تو وہ اس کی صحیح طرح توجہ اس کی طرف نہیں کرتا۔ جب اس کی طرف توجہ نہیں کرے گا، تو گواہ وغیرہ کا ہو سکتا ہے جب تک انتقال ہو جائے، جن کے سامنے کیا ہوا تھا؟ عقدِ اجارہ ہوا تھا، گواہوں کا انتقال ہو گیا، متولی بھی توجہ نہیں دے رہا، بعد میں بھئی اس شخص نے جس کے پاس زمین وقف کی کرایہ کے طور پر تھی، اس نے ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔ کیا کر دیا؟ بعد میں ہو سکتا ہے وہ ملکیت کا دعویٰ کر دے، بھئی یہ زمین میری ہے، بھئی کیا دلیل ہے؟ بھئی آپ دیکھ نہیں رہے سالہا سال سے میرے میرے پاس ہے، میں اس میں کاشت کر رہا ہوں، یہ میری اپنی زمین ہے بھئی۔ تو اس صورت میں مستحقین کا حق ضائع ہو جائے گا۔ مدرسے کے طلبہ جو مستحقین تھے، ان کا حق کیا ہو گیا؟ ضائع ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو وقف کی زمین ہوتی ہے، ذاتی نہیں ہوتی، تو بعض اوقات متولی بے توجہی کرتا ہے، تو اس صورت میں دوسرا ملکیت کا دعویٰ کر دیتا ہے، اور مستحقین کا حق ضائع ہو جاتا ہے۔ لہٰذا طویل مدت کے لیے وقف زمین اجارے پر دینا صحیح نہیں۔ ولٰکن فی الوقف لا تصح، لیکن وقف کے اندر اجارہ صحیح نہیں ہے فوق ثلاث سنین، تین سال سے اوپر، فی المختار۔ مختار قول کے مطابق، پسندیدہ قول کے مطابق بھئی، لکیلا یدعی المستاجر، تاکہ کہیں مستاجر (اجرت پر لینے والا، جس نے کرائے پر وہ زمین لی ہے) تاکہ کہیں وہ مستاجر یہ دعویٰ نہ کر دے کہ انہ ملک کہ یہ زمین کیا ہے، اس کی ملک ہے۔ کہ یہ وقت اس فیلۃ عدم الجواز، پس، مولانا عدمِ جواز کی علت کیا ہوئی؟ عدمِ جواز۔ جائز کیوں نہیں ہے وقف زمین میں تین سال سے زیادہ؟ تاکہ کہیں مستاجر مالک ہونے کا دعویٰ نہ کر دے۔ تو کہتے ہیں اذا کانت فیلۃ عدم الجواز، پس عدمِ جواز کی علت اگر یہ والا معنیٰ ہے، جب یہ والا معنیٰ ہے۔ جب عدمِ جواز کی علت کیا ہے؟ یہ والا معنیٰ ہے۔ کیا معنیٰ ذکر کیا بھئی؟ تاکہ کہیں مستاجر مالک ہونے کا دعویٰ، بھئی بعض فقہاء پر رد کرنا چاہتے ہیں علامہ صدر الشریعہ۔ بعض فقہاء نے کیا حیلہ کیا؟ بھئی وقف زمین ہے اور تین سال سے زیادہ مدت کے لیے تو اجارے پر دینا ایک ہی وقت کے اندر درست نہیں، وہ تو وہ فرماتے تھے ایک ہی حیلہ بتلاتے تھے کہ ایک ہی وقت میں کئی اجارے کر لو، کئی عقد کر لو مولانا۔ تو مولانا حیلہ اختیار کیا۔ تو مثلاً دیکھو بھئی، میں وقف زمین آپ کو اجارہ پر دینا چاہتا ہوں، اور تین سال سے فقہاء تو کیا فرماتے ہیں؟ تین سال سے زیادہ لمبا عقد صحیح، اب میں دیکھو ایسے طریقے سے دوں گا کہ زمین 15 سال کے لیے آپ کو دے دوں گا اور عقد بھی تین سال سے زیادہ کا نہیں ہوگا۔ کیسے؟ یہیں بیٹھے بیٹھے میں آپ کو کہتا ہوں بھئی، میں نے آپ کو یہ زمین کرایہ پر دے دی، سن 1420 سے لے کر 1430 تک بھئی، اتنے کرائے کے عوض میں آپ نے قبول کر لیا۔ پھر ساتھ ہی دوسرا عقد کر لیا، بھئی 1423 سے لے کر 1426 تک میں نے آپ کو کرائے پر دے دی، اتنے عوض کے بدلے آپ نے قبول کر لیا۔ پھر 1426 سے لے کر 1429 تک میں نے آپ کو اتنے عوض کے بدلے دے دی بھئی، پھر آپ نے قبول کیا۔ پھر 1429 سے لے کر 1432 تک میں نے اتنے میں دے دی، پھر 1432 سے لے کر 1435 تک میں نے اتنے میں دے دی۔ تو وہیں بیٹھے بیٹھے کتنے عقد ہو گئے؟ پانچ عقد ہو گئے بھئی۔ کتنے میں؟ علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں، بعض علماء نے یہ حیلہ اختیار کیا ہے وقف زمین کے اندر کہ عقد کو لمبا کرنے کے لیے اسی وقت میں کیا کر لیتے ہیں؟ علم کئی عقد کر لیتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ بھی درست نہیں ہے بھئی۔ کیوں درست نہیں ہے؟ کہتے ہیں ہم نے علت ذکر کر دی، علت کیا تھی؟ کہ کہیں وہ مستاجر اس پر مالک ہونے کا دعویٰ نہ کر دے۔ تو اب بیک وقت آپ کئی عقد کر لیں تو علت پھر بھی موجود ہے، اب بھی زمین اس کے پاس 15 سال کے لیے تو چلی گئی، اب بھی ممکن ہے وہ کیا کر دے؟ دعویٰ کر دے۔ لہٰذا یہ حیلہ اختیار کرنا صحیح نہیں۔ فعلۃ عدم الجواز، اذا کانت ھذا المعنیٰ، پس عدمِ جواز کی علت جب یہ والا معنیٰ ہے، تو لا تصح الاجارۃ الطویلۃ بعقود مختلفۃ، تو اجارہ طویلۃ، طویل اجارہ صحیح نہیں ہے مختلف عقدوں کے ساتھ۔ کما جوزھا البعض، جس کو جیسے کہ جائز قرار دیا ہے مختلف عقود کے ساتھ بھئی طویل اجارے کو بعض فقہاء نے، تجاوز اللہ عنہم، اللہ ان کو معاف فرمائے بھئی۔ اللہ ان سے، اللہ ان سے درگزر فرمائے بھئی۔ تو بعض فقہاء نے یہ حیلہ لکھا، لیکن اس سے جواز پھر بھی نہیں آ سکتا، کیونکہ علت پھر بھی وہیں پر اپنی اسی طرح موجود ہے مولانا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو دیکھا ایک ہی وقت میں کئی عقد کر لیے اجارے کے بھئی۔ وبذکر العمل، بھئی کیا ذکر کیا تھا بھئی؟ کہ نفع کیا ہونا چاہیے؟ معلوم، اور نفع کا علم کبھی کس سے ہوتا ہے؟ مدت کے ذکر کر دینے سے۔ وبذکر العمل اور کبھی کس سے ہوتا ہے؟ عمل کے ذکر کر دینے سے بھی نفع کا پتہ لگ جاتا ہے، کصَبغِ الثوب، جیسے کپڑے کی رنگ وائی ہے مولانا، کپڑے کی رنگ وائی ہے۔ اب مولانا میں نے آپ کو کپڑا دیا کہ اس کو رنگ دیں، اتنی اجرت آپ نے آپ کے ساتھ طے ہوئی، تو یہاں اب مدت کی ضرورت ہے؟ مدت کی ضرورت نہیں، بلکہ نفع کا پتہ کس سے چلا؟ عمل سے پتہ چلا کہ میں 100 روپے آپ کو کس چیز کے دوں گا؟ رنگنے کے دوں گا، تو عمل، عمل، یہاں پر اب مدت کی ضرورت نہیں، بلکہ نفع معلوم ہو رہا ہے کس کے ذریعے؟ عمل ذکر کر دیا کہ وہ عمل کیا ہوگا، کصَبغِ الثوب جیسے کپڑے کی رنگ وائی ہے، وخیاطةٍ اور جیسے سلائی ہے مولانا، کیا ہے؟ سلائی، درزی کے پاس آپ کپڑے لے کر گئے تو وہاں مدت کی بات نہیں چلتی، بلکہ عمل کو ذکر کیا جاتا ہے بھئی، پھر وہ نفع معلوم ہوا بھئی۔ و حمل قدر معلوم علی دابۃ مسافۃ علمت۔ اور اسی طرح باربرداری مولانا، بھئی دیکھیے بھئی، میں نے آپ سے کہا بھئی، کہ بھئی اپنے گدھے پر یہ سامان یہاں سے اٹھا کر کہاں پہنچانا ہے؟ مثلاً کراچی تک پہنچانا ہے آپ نے بھئی۔ تو اب دیکھیے بار جی، اب یہ جو نفع ہے، معلوم ہے مولانا۔ نفع کیا ہے؟ باربرداری ہے اور معلوم مقدار ہے اس کی بھئی، کتنا بوجھ ہوگا؟ مثلاً سامنے 10 قفیض گندم کے پڑے ہیں یہ اٹھانے ہیں۔ تو ایک معلوم مقدار ہے، جانور پر اس کو لادوانا ہے اور مسافۃ علمت، ایسی مسافت ہے جو بتلا دی گئی ہے کہ یہاں سے مثلاً ایک میل دور پہنچانا ہے فلاں جگہ پر۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ایک میل دور پہنچانا ہے۔ تو یہاں پر دیکھیے، اب مدت اس میں ذکر کرنے کی ضرورت ہے؟ نفع کا علم مدت سے یہاں ہو رہا ہے یا وہ عمل ذکر کر دیا؟ عمل ذکر کر دیا کہ باربرداری کے لیے۔ یہ معنی ہے و حمل قدر معلوم اور ایک معلوم مقدار کی باربرداری کے لیے باربرداری سے پتہ لگتا ہے کبھی علی دابۃ کسی کسی جانور پر، مسام، مسافةً اتنی ایسی مسافت علمت، جو بتلا دی گئی ہے۔ جی، وبالاشارۃ، جی، اور کبھی کبھار مولانا نفع کا علم کس سے ہوگا؟ اشارے کے ذریعے ہوگا۔ مثلاً دیکھیے بھئی، میں نے آپ سے کہا کہ بھئی یہ گندم کی بوری یہاں سے لے کر وہ سامنے آپ کو جو گھر نظر آرہا ہے وہاں تک لے کر جانی ہے۔ تو یہاں نفع کا علم کس سے ہوا؟ اشارے سے۔ یہ مک نقل ھذا الیٰ ثمہ، جیسے کہ نقل کرنا اس چیز کو الیٰ ثمہ اس جگہ تک۔ ثمہ اس میں اشارہ ہے مولانا۔ جی، بعید کے لیے بھئی، ذالک کی طرح۔ ولا تجب الاجارۃ بھئی، تو بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تین چیزیں ذکر کر دیں، انہوں نے کہا تھا وہ نفع معلوم ہونا چاہیے اور وہ نفع کا علم کبھی مدت سے ہوتا ہے، کبھی عمل کے ذکر کر دینے سے ہوتا ہے، اور کبھی اشارے سے ہوتا ہے۔ ولا تجب الاجارۃ بالعقد، اچھا! یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں اجرت کب واجب ہوتی ہے بھئی۔ جی، کیا عقد کرتے ہی اجرت واجب ہو جاتی ہے؟ تو ہمارے نزدیک یاد رکھیے، عقد کرتے ہی اجرت واجب نہیں ہوتی بھئی، بلکہ اجرت کب واجب ہوگی؟ جی؟ جب وہ عمل کر لے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں اگر شرط لگا دی پہلے سے ہی کہ مجھے اجرت پہلے دو گے، تو اس صورت میں پہلے بھئی دینا پڑے گی۔ ولا تجب الاجارۃ بالعقد، اور اجرت واجب نہیں ہوتی عقد کی وجہ سے، خلافاً لشافعی رحمہ اللہ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، فان الاجارۃ عندہ تجب بنفس العقد، اس لیے کہ اجرت جو ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نفس عقد ہی سے واجب ہو جاتی ہے، بل بتعجیلھا، بلکہ اس کے جلدی دینے سے بھی بھئی، جلدی کرنے سے بھی اجرت کیا ہو جاتی ہے؟ واجب۔ بھئی دیکھیے، آپ کو میں نے کہا کہ یہ سامان آپ نے یہاں سے وہاں تک پہنچانا ہے۔ یہ کوئی شرط نہیں ٹھہری تھی کہ پیسے مجھے پہلے دینےپڑیں گے، لیکن میں نے ویسے ہی آپ کو پہلے پیسے دے دیے، تو اس صورت میں بھی اجرت کیا ہو گئی؟ واجب ہو گئی۔ اجرت واجب ہونے کا کیا معنی؟ یعنی اب میں آپ سے واپس نہیں لے سکتا۔ اب میں آپ سے واپس نہیں لے سکتا۔ تو یہ معنی ہے بتعجیلھا، ببتعجیل الاجرت کہ اجرت کے جلدی دے دینے سے بھی اجرت واجب ہو جاتی ہے، فان المستاجر اذا عجل الاجرت، اس لیے کہ کرائے پر لینے والا مستاجر جو ہے، اذا عجل الاجرت، جب وہ جلدی دے دے اجرت، فالمعجل ھو الاجرت الواجبة، تو وہ چیز جو جلدی دی گئی ہے، وہ اجرت واجبہ ہی ہے، بمعنی بایں معنی، انہ لا یکون لہ حق حق الاسترداد، کہ اس کو واپس لوٹانے کا حق نہیں، واپس اسے اجرت لینے کا حق نہیں ہے بھئی۔ اور بشہرتہ، یا اجرت کس کے جی؟ واجب ہوگی بھئی؟ بشرطہ، ای بشرط تعجیل، کس کی وجہ سے؟ جلدی دینے کی شرط کے ساتھ، بھئی آپ سے میرا عقد ہوا، آپ نے شرط لگا دی یہاں سے سامان وہاں لے کر جاؤں گا، لیکن شرط یہ ہے پیسے ایڈوانس ہوں گے، پیسے مجھے پہلے ہی دو گے، تو اب بھی مولانا اجرت کیا ہو گئی؟ پہلے سے دینا واجب۔ ورنہ، ورنہ عمل جب کر لے گا پورا، پھر اجرت واجب ہوتی ہے۔ جی۔ اور بشہرتہ بھئی، ای بشرط تعجیل بھئی، فانہ اذا شرط تعجیل الاجرة، جی۔ یا فانہ اذا شرط تعجیل الاجرت، اس لیے کہ جب شرط کی گئی اجرت کے جلدی دینے کی، تجب معجلتاً، تو اجرت واجب ہوگی معجلتاً بھئی، معجل ہو کر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ معجل ہو کر، یعنی جلدی دینی پڑے گی۔ اور استيفاء النفع، یا اجرت کب واجب ہوتی ہے؟ باستيفاء النفع بھئی، جب نفع وصول کر لے۔ نفع کیا کر لے؟ وصول کر لے۔ بھئی دیکھو، میں نے آپ کو گھر کرائے پر دیا ایک ماہ کے لیے 1000 روپے عوض کے اوپر بھئی۔ تو اب جب آپ اس گھر سے جب وہ نفع جس پر عقد ہوا ہے، وہ جب آپ پورا وصول کر لیتے ہیں، تب آپ پر اجرت واجب ہوگی، یعنی جب ایک مہینہ اس گھر میں رہ لیتے ہیں، مہینہ پورا ہو جائے گا، اب کیا ہوگی اجرت آپ پر واجب، اس سے پہلے آپ پر اجرت واجب نہیں بھئی۔ یہ معنی ہے باستيفاء النفع، اس نفع کے، جس نفع پر عقد ہوا تھا، اس نفع کے وصول کر لینے سے بھی اجرت واجب ہوگی، او بالتمکن منہ، یا اس پر قدرت دینے سے بھی اجرت واجب ہو جائے گی بھئی، نفع آپ حاصل کریں یا نہ کریں، میں نے آپ کو بھئی گھر کرائے پر دیا ایک ماہ کے لیے بھئی، تو اب بھئی، آپ گھر میں نے آپ کے حوالے کر دیا، آپ کو میں نے قدرت دے دی کہ آپ اس گھر میں رہائش رکھ سکتے ہیں، جب میں نے گھر آپ کے حوالے کیا، آپ کو قدرت دے دی، تو اب مہینے بعد آپ کو اجرت دینی پڑے گی، چاہے آپ اس میں ایک دن بھی نہ رہیں، گھر جب آپ کے پاس ہے، آپ کے حوالے ہے، آپ اس میں قادر ہیں رہنے پر، پھر چاہے رہیں یا نہ رہیں مولانا، تو آپ پر اجرت کیا ہو جائے گی؟ واجب۔ یہ معنی ہے بھئی، او بالتمکن منہ، یا اس نفع کی وصولی پر قدرت دینے کی صورت میں بھی اجرت واجب ہو جائے گی، فتجب لدار قُبِضت ولم یسکنھا، پس واجب ہوگی اجرت ایسے گھر کے لیے بھی قُبِضت جس پر کیا کیا گیا؟ قبضہ تو کیا گیا ولم یسکنھا، لیکن اس کے اندر اس نے رہائش نہیں رکھی، تو بھی اجرت ہوگی بھئی۔ وتسقط بالغصب بقدر فوت تمکنہ بھئی، بھئی میں نے آپ کو گھر کرائے پر دیا تھا، کتنی اجرت طے ہوئی تھی ایک ماہ کی بھئی؟ ایک ماہ کے لیے ایک ہزار روپے طے ہوئے تھے بھئی۔ آپ نے 15 دن رہائش اس گھر میں رکھی یا 15 دن وہ گھر آپ کے قبضے میں رہا، 15 دن کے بعد کسی نے اس گھر کو آپ سے غصب کر لیا، زبردستی قبضہ کر لیا مولانا۔ تو کہتے ہیں جتنی مقدار بھئی آپ کی اس کی قدرت سے گھر نکل گیا، غصب ہوا اتنی اجرت آپ پر نہیں ہے، ہاں جتنی میں قدرت تھی، اتنی اجرت آپ پر ہے۔ تو اب نصف مدت آپ کے پاس گھر تھا، تو 500 روپے یعنی نصف جو بنتے تھے ہزار کے وہ آپ پر آگئے اور باقی کے اجرت نہیں ہوئی۔ یہ معنی ہے وتسقط اور اجرت ساقط ہو جاتی ہے بالغصب کس کی وجہ سے؟ غصب کی وجہ سے بقدر فوت تمکنہ، اتنی مقدار کہ جس قدر قدرت کیا ہوئی ہے؟ فوت ہوئی ہے۔ قدرت قدرت کے فوت ہونے کی مقدار۔ وللموجر طلب الاجارة للدار والارض بکل یوم۔ اچھا بھئی! اگر بھئی اجارہ مطلق ہوا بھئی، نہ جلدی کی شرط ٹھہری، نہ دیر کی بھئی۔ بھئی اگر شرط ٹھہر گئی، آپ کے ساتھ میرا معاہدہ ہوا اجارے کا، اور شرط آپ نے لگائی کہ مجھے پیسے ایڈوانس دینےپڑیں گے، پھر تو مجھے جلدی پہلے ہی دینےپڑیں گے، اور اگر میں نے شرط یہ ٹھہرائی کہ پیسے میں کب دوں گا؟ آخر میں دوں گا جب کام پورا ہو جائے گا، اس سے پہلے پیسے نہیں دوں گا بھئی، تو اس صورت میں تو جو شرط ٹھہری ہے اسی کے مطابق اجرت آئے گی، لیکن اگر کوئی شرط نہیں ٹھہرائی، اجارہ مطلق ہوا، تو پھر کس وقت مدعی، کس وقت مستاجر، مستاجر نہیں، موجر، تو پھر کس وقت موجر اجرت کو کیا کر سکتا ہے؟ طلب کر سکتا ہے، بتلا رہے ہیں بھئی۔ وللموجر طلب الاجارۃ للدار والارض بکل یوم، اور موجر (یعنی کرائے پر دینے والا جو ہے) اس کو اجرت طلب کرنا جائز ہے للدار والارض، زمین اور گھر کی، زمین اور گھر اگر اس نے کرائے پر دیا ہے، تو اس کی اجرت طلب کرنا جائز ہے بکل یوم، کب؟ ہر روز کی مولانا، ہر روز کی بھئی، کیونکہ ہر روز کا ایک نفع کامل ہے، ہر روز کی ایک، سمجھ میں آیا؟ کامل نفع ہے، گھر پورے دن کا نفع ہو گیا مولانا، تو وہ ہر دن کا نفع آپ سے آ کر، اس کی اجرت آپ سے آ کر وصول کر سکتا ہے، جائز ہے اس کے لیے شرط۔ صورت سمجھ میں آیا؟ تو گھر کرائے پر دیا مثلاً، تو ہر دن کی رہائش ایک پورا نفع ہے، تو جب ہر دن دن گزر گیا، آپ نے اس دن کا پورا نفع وصول کر لیا، تو اب وہ آ کر آپ سے عوض کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ وللدابۃ بکل مرحلۃ، اور جانور کے لیے بکل مرحلۃ ہر منزل کے اندر بھئی۔ کس کے اندر؟ ہر منزل کے اندر بھئی، ہر منزل کے اندر بھئی۔ مثلاً بھئی، میں نے آپ سے بھئی، ایک جانور سواری کے لیے لیا بھئی، کہ میں مثلاً یہاں سے کراچی جانا چاہتا ہوں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اب بھئی، کیا طریقہ تھا پرانا سفر کا؟ صبح صبح نکلتے تھے فجر کے سے پہلے بھئی، سحری کے وقت سفر پہ نکل جاتے اور دوپہر، صبح 10، 11 بجے تک جب تک دھوپ سخت نہیں ہوتی تھی، اس وقت تک سفر رہتا، پھر پڑاؤ ڈال دیتے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ ایک منزل، تو ہر منزل پر، ہر منزل کہتے ہیں ایک کامل نفع ہے بھئی، آپ نے اس جانور سے کیا کر لیا؟ ایک منزل کا پورا نفع لے لیا، تو اب ہر منزل پر، جب نفع پورا ہے، تو اس موجر کو بھی عوض طلب کرنے کا حق ہے۔ وَلِلدَّابَّةِ بِكُلِّ مَرْحَلَةٍ اور مویشی جانور کے لیے جو سواری کے لیے ہے اس کی اجرت طلب کرنے کا حق ہے موجر کو بِكُلِّ مَرْحَلَةٍ ہر مرحلہ میں وَلِلْقَصَارَةِ وَالْخِيَاطَةِ إِذَا تَمَّتْ بھئی دھلوائی اور سلوائی جو ہے اس میں اجرت کا مطالبہ کب کیا جا سکتا ہے کہتے ہیں إِذَا تَمَّتْ جب یہ عمل کیا ہو جائے پورا ہو جائے، سمجھ میں آیا۔ جی یعنی وہ پورے کپڑے سی دے گا تو اب اجرت طلب کر سکتا ہے اس سے پہلے اجرت طلب نہیں کر سکتا، اسی طرح بھئی دھوبی جو ہے پورے کپڑے دھو دے گا تو اب اجرت طلب کر سکتا ہے اس سے پہلے اجرت طلب نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں وَلِلْقَصَارَةِ وَالْخِيَاطَةِ إِذَا تَمَّتْ اور دھلائی اور سلائی کے اندر بھئی وہ مطالبہ کر سکتا ہے اجرت کا إِذَا تَمَّتْ جب یہ کام کیا ہو جائیں پورے ہو جائیں بھئی۔ سمجھ میں آیا تو اوپر ذکر کیا تھا کہ گھر کی رہائش ہے یا زمین کرایہ وغیرہ پر ٹھیکے پر دی ہے تو وہاں ہا اگر کوئی شرط نہیں ٹھہرائی تو ہر روز کی اجرت کا مطالبہ کر سکتا ہے اور اگر مویشی کرائے پر لیے سفر وغیرہ کے لیے تو ہر منزل پر کیا کر سکتا ہے اجرت کا مطالبہ کر سکتا ہے لیکن بعض اوقات جب تک کام پورا نہ ہو اس سے پہلے اجرت کا مطالبہ کرنا جائز جیسے مولانا دھلوائی ہے اور سلائی ہے ان کے یہ عمل ان میں تبعیض نہیں ہو سکتی بھئی۔ اس میں آپ نے کوئی نفع بھئی اگر اس نے آدھی سلائی کر دی تو کوئی نفع ہوا آپ کو؟ آدھا کپڑا سلا ہے آپ کوئی اس سے نفع اٹھا سکتے ہیں؟ نہیں بھئی تو یہاں جب تک کام پورا نہیں کر دیتا وہ اس وقت تک وہ اجرت کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتا۔ وَإِنْ عَمِلَ فِي بَيْتِ الْمُسْتَأْجِرِ اگرچہ وہ مستاجر کے گھر پر ہی کیوں نہ کام کرے تو وہاں پر بھی جب تک کام پورا نہیں کرے گا اجرت کا مطالبہ مثلاً میں نے دھوبی سے کپڑے دھلوانے ہیں اس کو میں نے کہا کہ آکر میرے گھر دھو پر دھو، یا میں نے درزی سے کپڑے سلوانے ہیں، میں اس کو کیا کہتا ہوں کہ میرے گھر پر آکر کپڑے سیو۔ تو میرے گھر پر آنے کے باوجود جب تک وہ کپڑے کی سلائی پوری نہیں کر دے کر سکتا میرے سے اجرت کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ تو بھئی ماتن نے وَإِنْ عَمِلَ فِي بَيْتِ الْمُسْتَأْجِرِ کی قید کیوں لگائی اگرچہ مستاجر کے گھر آکر ہی وہ عمل کیوں نہ کرے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ فقہاء کرام نے دراصل ایک مسئلہ ذکر کیا ہے تو اس مسئلے سے کوئی دلیل نہ پکڑ لے بھئی کہ وہاں پر بعض کے اندر بھی اجرت کام پورا کر لے نصف سلائی کر لے تو نصف کی اجرت طلب کر سکتا ہے یہ کوئی مسئلہ اس سے اخذ کیا بات مسئلہ فقہاء نے ذکر کیا ہے؟ فقہاء کرام فرماتے ہیں اگر کوئی شخص مثلاً کسی درزی کو لے گیا کہ میرے کپڑے سینے ہیں اتنی اجرت دوں گا لیکن میرے گھر پر سینے ہیں۔ وہ درزی چلا گیا اس نے کپڑے کی سلائی شروع کر دی ابھی آدھے کپڑے سیے تھے کہ درمیان میں کپڑے گم ہو گئے مولانا وہ کسی کام سے ایک منٹ کے لیے اٹھ کر گیا واپس آیا تو کپڑے گم ہو چکے تو فقہاء کرام فرماتے ہیں اس صورت میں جب کہ کپڑے چوری ہو گئے اور وہ مستاجر کے گھر پر ہی کپڑے سی رہا تھا تو جتنے حصے میں اس نے سلائی کی تھی اس کی اجرت اب دینی پڑے گی۔ کیا کرنا پڑے گی؟ اتنے کی اجرت دینی پڑے گی۔ مثلاً اگر نصف کپڑے سی چکا تھا تو نصف کی اجرت دینی پڑے گی۔ ثلث سیے تھے تو ثلث کی اجرت دینی پڑے گی، ربع سیے تھے تو ربع کی اجرت دینی پڑے گی۔ تو کہتے ہیں اس کو کوئی یہ دلیل نہ بنا لے کہ اس مسئلے سے معلوم ہوا کہ جتنے کے اندر اس نے سلائی مکمل کی ہے اتنے کی اجرت واجب ہو جاتی ہے۔ تو لہٰذا عام درزی بھی جو وہ بھی کیا کر سکتا ہے جب نصف سی لے تو نصف کا اجرت کا مطالبہ کر سکتا ہے، ثلث سیا ہو تو ثلث کا مطالبہ کہتے ہیں نہیں بھئی اس مسئلے سے یہ اخذ کرنا درست نہیں بھئی بلکہ یہ اس مسئلے کے اندر تو تبعیض ہو گئی ضرورت کی بنا پر، باقی جگہوں پر ہم تبعیض نہیں کر سکتے بھئی۔ تبعیض اس طرح ہو گئی یہاں پر کہ جب چور نے کپڑا چوری کر لیا تو سلائی مثلاً کتنی ہوئی تھی نصف کے اندر تو یوں سمجھا جائے گا نصف کے اندر کام اپنی انتہا کو پہنچ گیا کیونکہ کپڑا تو چوری ہو گیا اب آگے کام ہو سکتا ہے؟ نہیں تو یہاں پر تبعیض ضرورت کی بنا پر کرنا پڑی کہ نصف کے اندر کام پورا ہو گیا اور جتنے کے اندر کام پورا ہو جایا کرتا ہے آپ نے مسئلہ پڑھا ہے اس کے اندر وہ اجرت کا مطالبہ تو گویا یہاں پر نصف کے اندر ہم نے نفع پورا وصول کر لیا بھئی۔ کیونکہ جب جو شخص جب مستاجر کے گھر پر کام کر رہا ہو تو وہاں پر گویا وہ جتنا جتنا کام کرتا جا رہا ہے سپرد کرتا جا رہا ہے لیکن تبعیض ہو نہیں سکتی تھی خود بخود لیکن جب چور نے کپڑا چوری کر لیا اب معلوم ہوا جتنے بعض کے اندر اس نے کام کیا تھا یعنی کتنے میں کیا تھا؟ نصف، اس بعض میں کام اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ کس کو پہنچ گیا؟ یعنی اس بعض کے اندر آپ نے نفع پورا وصول کر لیا اور جتنے تو اس بعض کی اجرت بھی آپ پر کیا ہو گئی؟ واجب ہو گئی۔ تو یہاں ہم نے تبعیض کی لیکن تبعیض کس بنا پر کی؟ ضرورت کی بنا پر۔ کیونکہ کپڑا چوری ہو گیا لیکن جب اس قسم کا عارض نہ ہو تو پھر اس وقت تبعیض ممکن نہیں ہے بھئی۔ ہم کہیں کہ عام ویسے درزی سیتا چلا جا رہا ہے نصف کپڑے سی کر کہتا ہے لاؤ بھئی نصف کے مجھے پیسے دے دو۔ نہیں بھئی۔ یہاں کپڑے سے ہم نفع اٹھا سکتے ہیں جب تک پورا نہ سلے؟ جب تو یہاں پر تبعیض ممکن ہی نہیں ہے تو وہاں جو چوری کے مسئلے میں تبعیض تھی وہ ضرورت کی بنا پر تھی اور یہاں کوئی ضرورت نہیں لہٰذا تبعیض بھی ممکن نہیں جب تبعیض نہیں ہو سکتی تو اجرت بھی اب اس کے مقابل نہیں آئے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے وَإِنْ عَمِلَ فِي بَيْتِ الْمُسْتَأْجِرِ اگرچہ وہ کام کرے کس کے گھر میں؟ مستاجر کے گھر میں إِنَّمَا قَالَ هَذَا ماتن نے یہ قید یہ جو لگائی وَإِنْ عَمِلَ فِي بَيْتِ الْمُسْتَأْجِرِ یہ اس لیے فرمایا لِأَنَّ الْخَيَّاطَ إِذَا عَمِلَ فِي بَيْتِ الْمُسْتَأْجِرِ اس لیے کہ درزی جب کام کرے کس کے گھر میں مستاجر کے گھر میں فَخَاطَ بَعْضَ الثَّوْبِ ثُمَّ اور سیا اس نے بعض کپڑا وہاں پر ثُمَّ اسم اشارہ وہاں کہاں پر؟ مستاجر کے گھر میں اس نے کچھ کپڑا سی لیا تھا ثُمَّ سُرِقَ الثَّوْبُ پھر کپڑا کیا ہوا؟ چرا لیا گیا فَلَهُ الْأُجْرَةُ بِقَدْرِ مَا خَاطَهُ تو فقہاء فرماتے ہیں اس درزی کے لیے اجرت ہوگی اسی کے بقدر جو اس نے سیا ہے۔ مثلاً اگر نصف سیا ہے تو اسے نصف اجرت دینی پڑے گی۔ تو فَهَذَا دَلِيلٌ تو فقہاء کا یہ قول کیا ہے؟ دلیل ہے اس بات کی کہ أَلَا إِنَّ الْأُجْرَةَ تَجِبُ بِقَدْرِ الْعَمَلِ کہ یہاں پر بھی اجرت جو ہے عمل کے بقدر واجب ہو جاتی ہے۔ تو یہ دلیل بنتی ہے لیکن اس کو دلیل بنانا صحیح نہیں کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے علت اب ذکر کر رہے ہیں لَكِنْ نَقُولُ ہم کہتے ہیں بِالسَّرِقَةِ انْتَهَى عَمَلُهُ عَلَى الْبَعْضِ اس کے چوری کی وجہ سے اس کا کام انتہا کو پہنچ گیا کس پر؟ بعض پر۔ بعض میں اس کا کام پورا ہوا یعنی عمل انتہا کو پہنچ گیا معلوم ہوا جب بعض میں انتہا کو پہنچ گیا نفع پورا ہو گیا اس کے اندر جب نفع پورا ہوا تو اجرت بھی تو بعض کے اندر اس کا عمل انتہا کو پہنچ گیا بھئی کیونکہ اب آگے سلائی نہیں ہو سکتی کپڑا چوری ہو گیا اور وَهُوَ مَعْلُومٌ اور وہ بعض تو کیا ہے؟ معلوم ہے بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْكُلِّ کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ کل کی طرف۔ یعنی نصف ہے کل کی طرف دیکھتے ہوئے یا ثلث ہے یا ربع ہے۔ تو جتنا بھی ہے وہ فَتَجِبُ أُجْرَةُ مَا عَمِلَ بھئی تو اجرت واجب ہو جائے گی جو اس نے عمل کیا اس کی بِخِلَافِ مَا إِذَا لَمْ يَنْتَهِ الْعَمَلُ عَلَى الْبَعْضِ بخلاف اس کے کہ جب اس کا عمل انتہا کو نہ پورا ہوا ہو، انتہا کو نہ پہنچا ہو عَلَى الْبَعْضِ کس پر؟ بعض پر یعنی جب چوری نہیں ہوئی تو اب بعض پر اس کا عمل بھی گویا انتہا کو وہاں تو چوری کی وجہ سے انتہا کو پہنچ گیا آگے اب سلائی نہیں ہو سکتی تو ہم نے کہا انتہا کو پہنچ گیا بعض میں تو اس کی اجرت دو۔ اور یہاں پر جب چوری نہیں ہوئی تو گویا عمل اپنی بعض کے اندر بھی اپنی انتہا کو نہیں پہنچا فَإِنَّهُ لَا يُمْكِنُ أَنْ يَطْلُبَ الْأُجْرَةَ بِكُلِّ عَمَلٍ قَلِيلٍ تو اب اس کے لیے جائز نہیں ہے ممکن نہیں ہے کہ وہ طلب کرے اجرت کو ہر عمل قلیل کے بدلے میں بھئی یہاں پر بھی ہم کہتے ہیں بھئی تبعیض کر لو۔ کپڑا چوری نہیں ہے مثلاً عام سلائی کر رہا ہے آدھا سی لیا تو اب آدھے کی کیا دینی چاہیے اس کو اجرت کہتے ہیں نہیں یہاں تبعیض ہم نہیں کر سکتے وہاں تبعیض ضرورت کی بنا پر تھی اور یہاں کوئی ضرورت نہیں نفع پورا نہیں وَلَا تَقْدِيرَ لِلْأَبْعَاضِ اور یہاں پر ابعاض کے فرض کرنے کی تقدیر نہیں یعنی ان کو فرض کرنے کی کوئی صورت نہیں فَيَتَوَقَّفُ الطَّلَبُ عَلَى كُلِّ الْعَمَلِ تو لہٰذا موقوف رہے گی طلب پورے عمل پر یعنی جب پوری سلائی کر دے گا تو پھر کیا کر سکتا ہے؟ طلب بھئی طلب اجرت طلب کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جی ہاں جب تک پورا عمل اس نے نہیں کیا اس وقت تک وہ طلب بھی نہیں کر سکتا بھئی۔ وَلِلْخَبْزِ بَعْدَ إِخْرَاجِهِ مِنَ التَّنُّورِ اچھا بھئی بتلا رہے ہیں مختلف قسم کے کام بھئی جن کے اندر اجرت کب واجب ہوتی ہے۔ اگر روٹی پکانے کے لیے کسی کو اجرت پر رکھا کہ میرے اس آٹے سے روٹیاں پکا دو تو اجرت کا مطالبہ وہ کب کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں بَعْدَ إِخْرَاجِهِ مِنَ التَّنُّورِ جب کہ وہ اس کو کس سے نکال لے؟ تنور سے نکال لے پکا کر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تنور میں لگا کر اب اجرت کا مطالبہ شروع کر دے؟ نہیں بھئی نہیں۔ روٹی پکانے کی بات ہوئی تھی اور وہ عمل پورا کس سے ہوتا ہے تنور سے نکالنے سے پورا ہوتا ہے۔ وَلِلْخَبْزِ اور روٹی پکانے کے لیے بھئی اجرت کا مطالبہ کر سکتا ہے کب؟ بَعْدَ إِخْرَاجِهِ مِنَ التَّنُّورِ بعد اس کو نکالنے کے تنور سے فَإِنِ احْتَرَقَ بَعْدَ مَا أَخْرَجَ فَلَهُ الْأُجْرَةُ وَقَبْلَهُ لَا وَلَا غُرْمَ فِيهِمَا جی۔ صورت مسئلہ یہ بھئی میں نے ایک شخص کو آٹا دیا کہ اس آٹے سے مجھے روٹیاں پکا دو اس نے بھئی روٹیاں لگانا شروع کر دیں بھئی۔ روٹیاں لگا دیں، بنا دیں، پکا کر نکال کر رکھ دیں بھئی۔ پھر اس کے بعد روٹیاں جل گئیں، کیا ہوئیں؟ روٹیاں جل گئیں تو کیا اب اس کو اجرت ملے گی یا نہیں؟ کہتے ہیں ہاں اب اجرت ملے گی کیونکہ اس نے اپنا کام پورا کر دیا تھا روٹیاں پکا دی تھیں اس کے بعد روٹیاں جلی ہیں اور جب اس نے عمل پورا کر دیا ہے تو اب اس کو کیا دینی پڑے گی اس کی اجرت دینی پڑے گی۔ اچھا روٹی پکانے سے پہلے اگر جل جائے، اس نے تنور میں روٹیاں لگائیں بھئی اور روٹی اندر ہی جل گئی تو کیا اب اس روٹی کی اجرت دیں گے یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں اب اجرت نہیں، اجرت کس بات کی؟ اجرت تو کس چیز کی تھی؟ روٹی پکانے کی اور اس نے کوئی کام ابھی پورا کیا ہے؟ ابھی تو اس نے روٹی وہ والی پکائی ہی کام پورا نہیں بھئی۔ اچھا بھئی روٹی جل گئی چاہے پکانے کے بیچ جل گئی چاہے پکانے کے بعد جل گئی کیا اس پر ضمان آئے گا؟ امام صاحب فرماتے ہیں اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ صاحبین فرماتے ہیں ضمان آئے گا اس کو اس کے مثل آٹا دینا پڑے گا یا اس کے مثل اگر پکانے سے پہلے جل گئیں یا مولانا اس سے کیا لے لے؟ روٹیاں لے لے اسی کے بقدر بھئی۔ یہ معنی ہے فَإِنِ احْتَرَقَ بَعْدَ مَا أَخْرَجَ اگر جل گئی بھئی وہ روٹی بَعْدَ مَا أَخْرَجَ بعد اس کے نکال لینے کے فَلَهُ الْأُجْرَةُ تو اب اس کو کیا اس کے لیے کیا ہوگی؟ اجرت واجب ہوگی وَقَبْلَهُ لَا اور پکا نکالنے سے پہلے جل گئی تو اس صورت میں اجرت نہیں ہوگی۔ وَلَا غُرْمَ فِيهِمَا اور ان دونوں صورتوں میں اس پر ضمان بھی نہیں ہے بھئی غرم ضمان کو کہتے ہیں تاوان۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے لِأَنَّهُ أَمَانَةٌ عِنْدَهُ اس لیے کہ یہ چیز جو تھی اس کے پاس امانت تھی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جو چیز ہوتی ہے وہ کس کے پاس؟ موجر کے پاس جو چیز ہے بھئی وہ اس کے پاس بطور یہ اجیر کے پاس جو چیز ہے وہ بطور امانت کے ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ دھوبی کے پاس کپڑے ہم نے دیے ہیں وہ بطور امانت کے ہیں بھئی۔ وَعِنْدَهُمَا يَضْمَنُ اور صاحبین کے نزدیک وہ ضامن ہوگا مِثْلَ دَقِيقِهِ اسی کے مثل آٹے کا وَلَا أَجْرَ لَهُ اور اس کو اجرت بھی نہیں ملے گی۔ صورت یہ مثلاً بھئی اس کو میں نے آٹا دیا اس کی روٹیاں بنا دو اس نے روٹیاں بنا دیں بنانے کے بعد جل گئیں بھئی بنانے کے بعد جل گئیں تو اب اس پر صاحبین فرماتے ہیں ضمان آئے گا بھئی کیونکہ یہ چیز اس کے پاس مضمون تھی مولانا امانت بھئی کیا کتنا ضمان؟ کہتے ہیں چاہے تو آٹا لے لو اس سے جتنا آپ کا آٹا تھا اسی کے مثل آٹا لے لو۔ جب آٹا لے لیا تو اب اس کو اجرت نہیں ملے گی اور چاہے تو جو روٹیاں جتنی بنی تھیں اسی کے بقدر اس سے روٹیاں لے لو جب روٹیاں لو گے تو اب اجرت دینی پڑے گی کیونکہ اب آپ کو آٹا ملا ہے یا وہ عمل مکمل کے ساتھ ملا ہے؟ عمل مکمل ہے روٹیاں ہیں تیار تو اب ان کو پکانے کی اجرت کیا کرنی پڑے گی اسے دینی پڑے گی۔ یہ معنی ہے وَعِنْدَهُمَا يَضْمَنُ مِثْلَ دَقِيقِهِ وَلَا أَجْرَ لَهُ ضامن ہوگا اسی کے مثل آٹے کا اور اجرت نہیں ہوگی وَإِنْ شَاءَ ضَمَّنَهُ الْخُبْزَ اور چاہے تو اس کو ضامن بنا دے روٹی کا وَأَعْطَاهُ الْأُجْرَةَ اور اسے کیا دے دے؟ اجرت دے دے۔ وَلِلطَّبْخِ بَعْدَ الْغَرْفِ اچھا بھئی صورت مسئلہ یہ بھئی آپ کا نکاح ہوا بھئی، آپ نے ولیمہ کیا بھئی۔ آپ بھئی ولیمے کے اندر باورچی کو بلوایا بھئی۔ وہ جو کھانا وغیرہ تیار کرے گا۔ تو وہ اجرت کا مستحق کب ہوگا؟ کہتے ہیں جب وہ ڈونگوں وغیرہ میں برتنوں میں وہ سالن یا چاول نکال کر دے دے گا تب اجرت کا مستحق ہے اس سے پہلے اجرت کا مستحق نہیں اس کا عمل تام نہیں ہے۔ کیونکہ عرف میں یہی جاری ہے کہ جو باورچی ولیمے کے لیے بلایا جاتا ہے وہ صرف کھانا پکا کر نہیں دیتا بلکہ ڈونگوں میں بھی ڈال کر دیتا ہے۔ لیکن اگر ویسے بھئی کسی کو بلوایا بھئی کھانا بنانے کے لیے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو پھر اس صورت میں اس پر ڈونگوں وغیرہ میں ڈال کر دینا ضروری نہیں کیونکہ عام ویسے اگر کسی کو بلوایا جائے کھانا پکانے کے لیے تو اس کا عمل کس سے تام ہو جاتا ہے؟ ہاں عرف میں یہی ہے۔ وَلِلطَّبْخِ اور پکانے کے لیے بھئی وہ اجرت کا مستحق ہوگا بَعْدَ الْغَرْفِ کس کے بعد؟ غرف کے بعد، غرف کا معنی ہے نکالنا۔ تو جب وہ نکال لے گا وہ چیز پکائی ہے اس کو چمچ یا ڈونگوں سے نکال لیتا ہے ان میں ڈال دیتا ہے برتنوں میں تو اس کے بعد بھئی۔ وَلِضَرْبِ اللَّبِنِ بَعْدَ الْإِقَامَةِ لبن کہتے ہیں کچی اینٹ کو بھئی۔ لبن کسے کہتے ہیں؟ کچی اینٹ بھئی، آپ جانتے ہیں اینٹ مٹی سے بنائی جاتی ہے پھر اس کو بھٹی میں پکایا جاتا ہے بھئی۔ اچھا ایک آدمی ہے بھئی اس کے ساتھ میرا عقد ہوا بھئی میں نے اسے کہا مجھے ایک ہزار کچی اینٹیں بنا کر دو۔ تو وہ اجرت کا مستحق کب ہوگا؟ یاد رکھو کچی اینٹ پہلے مٹی کو گوندھا جائے گا، پانی ملایا جائے گا، اس سے پھر سانچوں کے اندر ڈال کر اس سے کیا بنائی جائیں گی؟ اینٹیں، پھر بھئی ان سانچوں سے نکال کر ان کو کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ ان کو ہوا لگے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ وہ خشک ہو جائیں۔ پھر ہوا جب ان کو لگ جاتی ہے وہ خشک ہو جاتی ہیں تو پھر ان کی ڈھیری بنائی جاتی ہے تہہ بہ تہہ لگا کر ایک اونچا ڈھیر ان کا بنا دیا جاتا ہے بھئی۔ جیسے آپ دیکھتے بھی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ اجرت کا مستحق کب ہوگا؟ امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب وہ ان اینٹوں کو بنا کر ہوا لگانے کے لیے کھڑا کر دے، بس اس نے اپنا کام کیا کیا؟ پورا کر دیا۔ تو جب اب اس کو اجرت دینی پڑے گی وہ مطالبہ کر سکتا ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، بلکہ بعد میں وہ کیا کرے ان کی؟ ڈھیری بھی بنا کر دے، اب اجرت کا مستحق ہوگا کیونکہ ڈھیری بنا کر دینا بھی اسی کے فعل میں سے ہے اس کے بغیر پورا نہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں یہ ڈھیری لگا کر جو دیتا ہے یہ ایک زائد کام ہے، یہ کیا ہے؟ زائد کام ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ان کو بعد میں نقل کرنا کہ اب یہ اینٹیں مثلاً یہاں سے ایک میل دور جگہ جہاں پر تعمیر ہو رہی ہے وہاں پہنچانی ہیں۔ تو یہ پہنچانا الگ کام شمار ہوتا ہے اسی طرح یہ ڈھیری بنانا بھی الگ کام شمار ہے۔ وَلِضَرْبِ اللَّبِنِ اور اینٹیں بنانے کے لیے، ضرب اللبن کا معنی ہے اینٹیں بنانا۔ اور اینٹیں بنانے کے لیے اجرت کا مطالبہ کب کر سکتا ہے؟ بَعْدَ الْإِقَامَةِ بعد ان کے کہ جب ان کو کیا کر دے؟ کھڑا کر دے۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے وَقَالَ صاحبین فرماتے ہیں لَا يَسْتَحِقُّ وہ مستحق نہیں ہوگا اجرت کا حَتَّى يُشَرِّجَهَا یہاں تک کہ کیا کرے؟ ان کی ڈھیری بنا دے تہہ بہ تہہ لگا کر ان کو کھڑا کر دے۔ لِأَنَّ التَّشْرِيجَ مِنْ تَمَامِ الْعَمَلِ اس لیے کہ یہ ڈھیری بنانا یہ اس کے تمام عمل میں سے ہے، وہ عمل کے پورا کرنے میں سے ہے۔ وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ اور امام صاحب کے نزدیک هُوَ زَائِدٌ یہ ڈھیری بنانا زائد ہے كَالنَّقْلِ جیسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا زائد ہے۔ وَمَنْ لِعَمَلِهِ أَثَرٌ فِي الْعَيْنِ لَهُ حَبْسُهَا لِلْأَجْرِ اچھا بھئی صفحے کے آخر میں آ رہا ہے، لَهُ حَبْسُهَا لِلْأَجْرِ یہ متن ہے مولانا۔ بھئی یہاں سے ایک ضابطہ بتلا رہے ہیں کہ کون شخص ہے جو کسی چیز کو اجرت کی وصولی کے لیے روک سکتا ہے اور کون نہیں روک سکتا؟ مثلاً دیکھیے بھئی۔ میں نے دھوبی کو یا مولانا میں نے درزی کو کپڑے دیے سینے کے لیے۔ اس نے کپڑے سی دیے۔ میں کپڑے لینے پہنچا۔ اس نے کہا بھئی پہلے اجرت دو پھر کپڑے ملیں گے۔ تو کیا وہ کپڑوں کو مجھ سے روک سکتا ہے اجرت کے لیے یا نہیں روک سکتا بھئی؟ کہتے ہیں بھئی روک سکتا ہے۔ تو جب تک میں اجرت نہ دوں، اس کے لیے جائز ہے وہ کپڑے بھی میرے حوالے نہ کرے۔ بھئی کون روک سکتا ہے اور کون نہیں روک سکتا اب ضابطہ بتلا رہے ہیں۔ بھئی ایک ایک شخص کے بارے میں تو نہیں بتلا سکتے۔ قاعدہ، کلیہ بتلا رہے ہیں۔ کیا؟ کہ بھئی جس شخص کے عمل کا اثر اس چیز میں آ جائے، اس کو چیز روکنے کا حق ہے۔ اور جس کے عمل کا اثر اس چیز میں نہ آئے، اسے وہ چیز روکنے کا حق بھی نہیں ہے۔ مثلاً درزی تھا، اس نے کپڑا سیا، تو اس کی سلائی کا اثر آیا یا نہیں آیا کپڑے کے اندر؟ بھئی پہلے تو سیدھا کپڑا تھا، اب تو سوٹ تیار ہے۔ سلائی کی ہے اس نے تو پورا اثر آ گیا۔ لہٰذا اسے کپڑا روکنے کا، سوٹ کو روکنے کا، بخلاف اس کے جس کے عمل کا اثر نہیں ظاہر ہوتا کپڑے میں، چیز کے اندر۔ مثلاً میں نے ایک مزدور سے کہا میرا یہ سامان اٹھاؤ اور تیسری منزل پر پہنچا دو۔ یا ایک میل دور جگہ ہے وہاں پہنچا دو۔ اس نے سامان وہاں پہنچایا بھئی۔ سامان پہنچانے کے بعد بھئی، اب وہ مجھے کہتا ہے میں چیز آپ کو نہیں دوں گا جب تک آپ میرے میری اجرت مجھے، یہ حق اس کو نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے عمل کا کوئی اثر اس چیز میں آیا؟ نہیں بھئی۔ بھئی وہ بھی پہلے بھی ایک من گندم تھی، اب بھی کیا ہے؟ ایک من گندم ہے۔ کوئی فرق نہیں پڑا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو جس کے عمل کا اثر ہو گا، اسے اجرت کے لیے وہ چیز روکنے کا حق ہے۔ اور جس کے عمل کا اثر نہیں اسے بھی اجرت کے لیے وہ چیز روکنے کا حق نہیں۔ وَمَنْ لِعَمَلِهِ أَثَرٌ فِي الْعَيْنِ اور وہ شخص جس کے عمل کا اثر ہو فِي الْعَيْنِ اس چیز کے اندر أَيْ شَيْءٌ مِنْ مَالِهِ قَائِمٌ بِتِلْكَ الْعَيْنِ بھئی اس کے عمل کے اثر کا کیا معنی کہ اس کے عمل کا اثر ہو؟ کہتے ہیں أَيْ شَيْءٌ مِنْ مَالِهِ یعنی اس کے مال میں سے کوئی چیز قَائِمٌ بِتِلْكَ الْعَيْنِ اس عین کے ساتھ قائم ہو جائے۔ اس کے مال میں سے کوئی چیز اس عین کے ساتھ کیا ہو جائے؟ قائم ہو جائے۔ بھئی درزی نے کپڑا سیا، تو اس کی مال میں سے کوئی چیز قائم ہوئی یا نہیں ہوئی کپڑے کے ساتھ؟ سلائی بھی اس کی، بٹن بھی اس کے، اندر بھئی جو اس نے کیا کیا، کاج وغیرہ کروائے وہ سارے کام اس کے مال میں سے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو اثر ہونے کا یہ معنی کہ اس کے مال میں سے بھی کچھ کیا ہو؟ اس کے اندر قائم ہو جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اب دھوبی کے پاس آپ نے کپڑے دیے دھلوانے کے لیے۔ اگر وہ صرف عام پانی سے دھو کر آپ کو دے دیتا ہے، تو اب اس کے مال کا اثر آیا کپڑے میں؟ نہیں آیا۔ لہٰذا وہ کپڑے کو روک نہیں سکتا۔ لیکن ایک وہ دھوبی ہے جس نے اس پر صابن لگایا، کلف وغیرہ لگائی، اب اس کا مال کیا ہوا؟ اس عین کے ساتھ قائم ہو گیا۔ اب وہ کپڑے کو روکنے کا حقدار ہے۔ كالصَّبَّاغِ وَالْقَصَّارِ جیسے کہ رنگریز، صباغ کس کو کہتے ہیں؟ رنگریز، بھئی ایک رنگ ساز ہوتا ہے، رنگ ساز نہ کہہ دینا۔ رنگ ساز کا کیا معنی؟ رنگ بنانے والا۔ اور رنگریز کا معنی رنگ لگانے والا۔ كالصَّبَّاغِ جیسے رنگریز ہے وَالْقَصَّارِ اور ایسا دھوبی يُقَصِّرُ بِالنَّشَاءِ وَالْبَيْضِ جو دھوتا ہے کپڑوں کو کس کے ساتھ؟ بِالنَّشَاءِ نشاستے کے ساتھ وَالْبَيْضِ اور انڈوں کے ساتھ۔ کس کے ساتھ دھوتا ہے؟ یہ کوئی پرانا طریقہ ہو گا مولانا، کپڑے کو سفید کرنے کے لیے کس سے دھویا جاتا تھا؟ نشاستہ اور انڈے کی سفیدی وغیرہ سے۔ تو اس صورت میں یہ دھوبی یہ کپڑے کو روک سکتا ہے۔ لَهُ حَبْسُهَا لِلْأَجْرِ یہ جزا آ گئی مولانا، یہ متن ہے۔ لَهُ حَبْسُهَا لِلْأَجْرِ تو وہ شخص جس کے عمل کا اثر ہو اس عین کے اندر، اس کو حق ہے اس چیز کو روکنے کا کس کے لیے؟ اجرت کے لیے۔ فَإِنْ حَبَسَ پس اس نے اگر چیز کو روک لیا فَضَاعَ پس وہ چیز کیا ہو گئی ضائع ہو گئی فَلَا غُرْمَ تو اس پر کوئی ضمان نہیں وَلَا أَجْرَ اور اس کے لیے کوئی اجرت بھی نہیں۔ بھئی وہ چیز تو چلی گئی، مجھے اس کا نفع ملا ہی نہیں۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ وَعِنْدَهُمَا الْعَيْنُ كَانَتْ مَضْمُونَةً قَبْلَ الْحَبْسِ فَكَذَا بَعْدَهُ عین کیا ہو گی؟ عین تو مضمون ہوتی ہے اجیر کے پاس۔ قَبْلَ الْحَبْسِ روکنے سے پہلے، فَكَذَا بَعْدَهُ تو اسی طرح روکنے کے بعد بھی کیا ہو گی؟ مضمون۔ تو اس پر ضمان آئے گا۔ ثُمَّ هُوَ بِالْخِيَارِ اچھا، آگے بتلا رہے ہیں، صاحبین کے نزدیک اس پر کیا آئے گا؟ ضمان۔ اب ضمان کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو میں سلے ہوئے سوٹ کا ضمان اس سے لیتا ہوں، یا ان سلے سوٹ، صرف کپڑے کا ضمان لے لیتا ہوں۔ کپڑا تھا مثلاً پانچ سو کا، اور سلائی کتنے کی ہو جاتی ہے؟ دو سو کی۔ تو کل کتنے کا ہوا؟ سات سو۔ تو چاہے تو میں اس سے سات سو ضمان لے لوں۔ سلے ہوئے سوٹ کا ضمان، سلے ہوئے سوٹ مثلاً کتنے کا ہے؟ میں نے سات سو کا نہیں ہے، دوسو تو وہ سلائی لیتا ہے، لیکن مثلاً سلائی کے بعد اب اس کو میں بازار میں بیچنا چاہوں تو ہزار کا آرام سے بک جائے گا۔ تو میں اب اگر اس سے سلے ہوئے سوٹ کا ضمان لیتا ہوں، تو بھئی اس کا عمل آ گیا بیچ میں یا نہیں آ گیا؟ تو مجھے اس کے عمل کی اجرت دینی پڑے گی۔ اور اگر میں صرف کپڑے کا ضمان اس سے لیتا ہوں، تو اب اس کا عمل دخل آیا بیچ میں؟ اس کا عمل اس میں نہیں ہے تو اب اس کو اجرت بھی نہیں دینی پڑے گی۔ یہ معنی ہے۔ ثُمَّ هُوَ بِالْخِيَارِ پھر مولانا یہ جو مستاجر ہے اس کو اختیار ہے صاحبین کے نزدیک۔ إِنْ شَاءَ ضَمَّنَهُ قِيمَتَهُ غَيْرَ مَعْمُولٍ چاہے تو اجیر کو ضامن بنا دے، اس عین کی قیمت کا، اس حال میں کہ وہ اس پر عمل نہ کیا گیا ہو۔ جب عمل نہیں کیا، تو وَلَا أَجْرَ اب اس کے لیے اجر بھی نہیں ہے۔ وَإِنْ شَاءَ ضَمَّنَهُ مَعْمُولًا اور اگر چاہے تو اس کو ضامن بنا دے معمولا کہ اس پر عمل کیا گیا ہے۔ تو اس صورت میں وَلَهُ الْأَجْرُ اس کے لیے کیا ہوگا؟ اجر ہوگا۔ وَمَنْ لَا أَثَرَ لِعَمَلِهِ اور وہ اجیر جس کے عمل کا کوئی اثر نہیں ہوتا أَيْ لَيْسَ شَيْءٌ مِنْ مَالِهِ قَائِمًا بِتِلْكَ الْعَيْنِ یعنی اس کے مال میں سے کوئی چیز اس عین کے ساتھ قائم نہیں ہوتی۔ كَالْحَمَّالِ جیسے کہ حمال، بوجھ اٹھانے والا بھئی جسے میں نے کہا بھئی یہاں سے لے کر وہاں تک میرا سامان پہنچاؤ۔ تو اس کے مال کا کوئی اثر آیا بھئی؟ وہ میرے سامان کو نہیں روک سکتا۔ وَالْمَلَّاحِ جیسے ملاح، کشتی بان ہے بھئی۔ میں نے کشتی میں سامان رکھا کہ دوسرے کنارے پر پہنچا دو۔ اس نے پہنچا دیا۔ اب روک لیا کہ میں تمہیں نہیں دوں گا جب تک اجرت نہیں دو گے۔ اسے روکنے کا حق نہیں ہے مولانا کیونکہ اس کا مال میرے سامان میں اثر آیا اس کا؟ نہیں بھئی کوئی اثر نہیں۔ وَغَاسِلِ الثَّوْبِ اور کپڑے کو دھونے والا۔ میں نے بتلایا ایسے ہی دھوتا ہے، کوئی صابن وغیرہ یا کوئی سفید کر دینے والی چیز نہیں جو اس کے ساتھ قائم ہو جائے۔ فَلَا حَبْسَ لَهُ تو اس کے لیے روکنا درست نہیں ہے۔ بِخِلَافِ رَادِّ الْآبِقِ بخلاف بھگوڑے غلام کو لوٹانے والے کے۔ بھئی ایک اشکال کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ اشکال یہ کہ آپ نے کیا کہا؟ کہ جس کے عمل کا اثر نہیں وہ اس چیز کو بھی اجرت کے لیے نہیں روک سکتا۔ اور جس کے عمل کا اثر ہے وہ اجرت وصول کرنے کے لیے اس چیز کو روک سکتا ہے۔ کہتے ہیں ہم آپ کو مثال دکھاتے ہیں بھئی کہ اس شخص کے عمل کا اثر بھی نہیں ہے چیز میں، اور پھر بھی فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اس کو چیز کو روکنے کا حق ہے اجرت کے لیے بھئی۔ اجرت کے لیے روکنے کا حق ہے۔ جیسے مولانا، ایک شخص ہے بھئی، اس کا غلام گم ہو گیا۔ میرا ایک غلام تھا بھئی وہ بھاگ گیا۔ پتہ نہیں کدھر گیا۔ میں تلاش کر رہا ہوں، تلاش کر رہا ہوں۔ آخر بھئی وہ کراچی میں پکڑا گیا بھئی۔ کراچی سے ایک آدمی اس کو لے کر آیا، میرے پاس پہنچا۔ لیں بھئی میں آپ کا غلام لے آیا ہوں۔ بھاگ رہا تھا بھئی، یہ تو بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا بھئی۔ تو میں اس کو پکڑ کر لے آیا ہوں بھئی۔ اب اس صورت میں بھئی یاد رکھو، جو غلام کو پکڑ کر لاتا ہے، بھگوڑے غلام کو لے کر آتا ہے، یا حوالے کرتا ہے، اس کو کیا دیا جاتا ہے؟ اس کا خرچہ وغیرہ جو اس نے کیا ہے پہنچانے کے اندر، وہ اس کو دینا پڑتا ہے۔ اس کو جعل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ جعل۔ تو میں نے کہا لاؤ بھئی میرا غلام مجھے دے دو۔ اس نے کہا نہیں، ایسے نہیں حوالے کروں گا، پہلے میری مزدوری، خرچہ وغیرہ مجھے دے دو۔ سمجھ میں آیا؟ تو فقہاء کرام فرماتے ہیں ہاں اس کو یہ بھگوڑے غلام کو روکنے کا حق ہے جب تک اسے اس کا خرچہ اور مزدوری وغیرہ خرچہ نہ دے دیا جائے۔ حالانکہ اس کے عمل کا کوئی اثر غلام میں ظاہر ہوا؟ کوئی عمل غلام میں ظاہر نہیں ہوا۔ لیکن پھر بھی اس کو روکنے کا حق ہے۔ تو دیکھو یہاں تو اس اجیر کے عمل کا کوئی اثر بھی نہیں لیکن پھر بھی فقہاء کرام کیا فرماتے ہیں اسے روکنے کا حق ہے۔ کہتے ہیں بھئی یہ مسئلہ مختلف ہے ذرا۔ یہاں تو گویا کہ غلام ہلاکت کے قریب پہنچ چکا تھا۔ جب غلام میرے ہاتھ سے بھاگ گیا تو نکل ہی چکا تھا۔ ہلاکت کے قریب پہنچ گیا تھا۔ میرے لیے تو گویا وہ کیا ہو چکا تھا؟ ہلاک۔ تو وہ غلام ہلاکت کے قریب پہنچ چکا تھا، تو پھر گویا اس شخص نے اس کو زندہ کر دیا۔ میں تو مایوس ہو چکا تھا، اس نے پھر اس کو پکڑ لیا تو گویا اس غلام کو میرے لیے کیا کر دیا؟ زندہ کر دیا، اور زندہ کر کے گویا اب اس غلام کو مجھ پر بیچ رہا ہے۔ تو جب بیچ رہا ہے تو اب مجھے اجرت دینا ضروری ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بِخِلَافِ رَادِّ الْآبِقِ بھگوڑے غلام کو لوٹانے والا۔ فَإِنَّ الْآبِقَ كَانَ عَلَى شَرَفِ الْهَلَاكِ اس لیے کہ بھگوڑا غلام جو ہے، ہلاکت کے قریب تھا۔ فَكَأَنَّهُ أَحْيَا تو گویا اس لوٹانے والے نے اس کو زندہ کر دیا۔ وَبَاعَ مِنْهُ بِالْجُعْلِ اور بیچ دیا اس مستاجر پر بالجعل، کس کے عوض؟ جعل کے عوض، بیچ دیا۔ تو جب بیچا ہے تو بیع کے اندر بھئی جب تک عوض نہ ملے بدل کو روکنا جائز ہوتا ہے۔ مبیع کو جب تک ثمن نہیں ملتے مبیع کو روکنا جائز ہوتا ہے۔ وَعِنْدَ زُفَرَ اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک لَيْسَ لَهُ حَقُّ الْحَبْسِ اس کو روکنے کا حق نہیں ہے۔ سَوَاءٌ كَانَ لِعَمَلِهِ أَثَرٌ فِي الْعَيْنِ أَمْ لَا برابر ہے کہ اس کے عمل کا کوئی اثر ہو اس چیز کے اندر یا اثر نہ ہو۔ وَلِمَنْ يُطْلَقُ چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
118 approved lectures · 113 of 118