بَابُ الْإِجَارَةِ الْفَاسِدَةِ. الشَّرْطُ يُفْسِدُهَا وَالْمُرَادُ شَرْطٌ يُفْسِدُ الْبَيْعَ وَفِيهَا أَجْرُ الْمِثْلِ لَا يُزَادُ عَلَى الْمُسَمَّى هَذَا عِنْدَنَا. جی یہ باب ہے مولانا اجارہ فاسدہ کے بارے میں۔ کہتے ہیں الشَّرْطُ يُفْسِدُهَا، شرط کیا ہے يُفْسِدُهَا، يُفْسِدُ الْإِجَارَةَ، إجارے کو کیا کر دیتی ہے فاسد کر دیتی ہے۔ بھئی آپ نے بیع کے اندر بھی پڑھا بھئی تو ہر شرط یہاں مراد نہیں، بیع کے اندر بھی وہ شرط جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو وہ کیا کرتی ہے بیع کو فاسد کر دیتی ہے، تو اجارہ کے اندر اسی طرح اگر کوئی ایسی شرط لگا دی جو مقتضائے عقد کے خلاف ہے تو یہ شرط بھی کیا کر دے گی اجارے کو فاسد کر دے گی بھئی۔
مثلاً کیا شرط لگائی بھئی؟ مثلاً بھئی شرط لگا دی کہ میں آپ کو مکان ایک سال کے لیے کرائے پر دیتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ ہر تین مہینے کے اندر بھئی دس دن کے لیے مکان آپ مجھے دے دیا کریں گے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو الشَّرْطُ يُفْسِدُهَا، شرط جو ہے فاسد کر دیتی ہے اجارے کو۔ وَالْمُرَادُ شَرْطٌ يُفْسِدُ الْبَيْعَ، مراد ایسی شرط ہے جو بیع کو فاسد کرتی ہو یعنی جو بیع کے مقتضی کے خلاف ہوتی تھی، عقد کے مقتضی کے خلاف شرط مراد ہے یہاں۔ وَفِيهَا أَجْرُ الْمِثْلِ، اور اجارہ فاسدہ کے اندر اجر مثل دیا جاتا ہے۔ لَا يُزَادُ عَلَى الْمُسَمَّى، لیکن مقررہ پر زائد نہیں کیا جائے گا ابھی آپ نے پڑھا بھئی۔
هَذَا عِنْدَنَا، یہ ہمارے نزدیک ہے۔ وَعِنْدَ زُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى يَجِبُ بَالِغًا مَا بَلَغَ، وہ فرماتے ہیں بھئی امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ کہ يَجِبُ، واجب ہوگی بھئی اجرت مثل بَالِغًا مَا بَلَغَ، پہنچنے والی ہو اس حال میں کہ وہ پہنچنے والی ہو جہاں تک بھی پہنچے، یعنی جس قدر بھی اجرت مثل ہوگی وہ دینی پڑے گی۔ كَمَا فِي الْبَيْعِ الْفَاسِدِ، جیسے کس کے اندر ہے؟ بھئی دیکھو مولانا وہ اس کو قیاس کرتے ہیں بیع پر بھئی۔ بیع کے اندر بھئی میں نے آپ کو ایک چیز بیچی مثلاً ایک قلم میں آپ کو بیچتا ہوں سو روپے کا بھئی۔ میں نے آپ کو ایک قلم بیچا سو روپے کے اندر بھئی لیکن شرط یہ لگا دی کہ بھئی میں تین دن تک میں اسے استعمال کرتا رہوں گا پھر آپ کو دوں گا، تو یہ شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہوئی تو عقد فاسد ہوا، بیع کیا ہو گئی فاسد۔ اور بیع فاسد کا حکم یہ ہے کہ جب مشتری چیز پر قبضہ کر لیتا ہے تو اس کو کیا دینا پڑتا ہے؟ قیمت دینی پڑتی ہے جس قدر بھی ہو، مثلاً میں نے تو سو میں بیچا تھا لیکن دراصل اس قلم کی قیمت پانچ سو تھی تو اب آپ کو کتنے دینے پڑیں گے؟ پانچ سو دینے پڑیں گے۔
تو امام شافعی اور امام زفر رحمہم اللہ فرماتے ہیں دیکھو بیع فاسد کا حکم یہ ہے کہ وہاں اجر مثل آتا ہے یعنی قیمت آیا کرتی ہے جتنی بھی ہوتی ہے اتنی دینی پڑتی ہے بھئی۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ مسمی سے جو زائد ہے وہ ساقط ہوئی نہیں دینی، بلکہ صرف کتنی دینی ہے مسمی تک نہیں بھئی جتنی بھی ہوتی ہے دینی پڑتی ہے قیمت۔ تو اجارہ بھی اسی کی طرح ہے یہاں پر بھی جب عقد فاسد ہو گیا تو اجر مثل دیا جائے گا جتنا بھی ہو، چاہے اجر مثل سے کم ہو چاہے اجر مثل سے، او چاہے اس مقررہ اجرت کے برابر ہو یا اس سے زیادہ ہو جتنا بھی ہو مولانا دینا پڑے گا۔
جواب ہم دیتے ہیں مولانا کہ نہیں بھئی آپ اس اجارے کو بیع پر قیاس نہیں کر سکتے اس لیے کہ یہ قیاس مع الفارق ہے۔ وجہ یہ کہ بیع کے اندر بھئی عین کی بات چلتی ہے، عین کو ما عین کا مالک بنایا جاتا ہے، جبکہ اجارے میں نفع کا مالک بنایا جاتا ہے۔ اور عین جو ہے اس کی تو ذات ہی قیمت والی ہے، اس کی ذات ہی کیا ہے اس کی تو قیمت ہے، لیکن منافع کی تو کوئی قیمت نہیں آپ نے پڑھا یا نہیں پڑھا؟ کیونکہ قیمت ایسی چیز کی ہوتی ہے جس میں بقا ہو، تو عین کے اندر تو بقا ہوتی ہے نفع کے اندر بقا نہیں۔ دیکھو مولانا ایک مکان ہے، اس مکان کے اندر سال بھر کی رہائش ہے لیکن جوں جوں وقت گزر رہا ہے وہ رہائش گزرتی چلی جا رہی ہے۔ وہ رہائش تو وہ وہاں پر نفع کے اندر بقا نہیں، اس وقت آج کا جو آج کی جو رہائش ہے آج گزر جائے گی کل کی نئی رہائش ہوگی پرسوں کی نئی رہائش، تو یہاں پر منافع کے اندر بقا نہیں منافع گزرتے جا رہے ہیں۔ مثلاً آج ابھی کل والی رہائش آئی نہیں پرسوں والی بھی نہیں آئی اور جو گزشتہ ہے وہ گزر چکی ہے، تو جو منافع جو صرف موجود ہیں وہ ہر آن میں نئے منافع آ رہے ہیں جو ابھی آئے نہیں ان کا بھی وجود نہیں جو گزر گئے ان کا بھی وجود نہیں۔ تو منافع کے اندر بقا نہیں جبکہ عین کے اندر مثلاً قلم ہے، قلم میں بقا ہے، میں نے آج آپ نے قلم دیکھا آج بھی وہی قلم ہے، پانچ دن بعد اگر یہ باقی رہا تو بھی وہی قلم ہوگا، دس دن پہلے اگر یہ قلم تھا تو اس وقت بھی یہی قلم تھا۔ لیکن منافع کیا ہوتے ہیں؟ ہر آن میں بدلتے ہیں ان میں تجدد ہوتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو ہم کہتے ہیں آپ کا اس کو بیع پر قیاس کرنا صحیح نہیں اجارے کو، اس لیے کہ بیع کے اندر عین کی بات ہوتی ہے اور عین میں بقا ہے، جبکہ اجارے میں منافع کی بات ہوتی ہے اور منافع میں بقا نہیں بھئی۔ تو یہاں پر منافع کے اندر تو عقد جائز ہی نہیں ہونا چاہیے تھا، منافع کے اندر تو عقد ہی عقد تو ایسی چیز بھئی کسی چیز کا مالک بناتے ہیں دوسرے کو عقد کرنا چاہتے ہیں بیچنا چاہتے ہیں بھئی، بیچا ایسی چیز کو جاتا ہے جس کا انسان جس میں جس میں بقا ہو اور یہاں پر بقا ہی نہیں ہے مولانا، ان کا پہلے سے وجود ہی نہیں تھا۔ لیکن وجو اجارے تو چنانچہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ اجارہ جائز ہی نہیں ہونا چاہیے، لیکن اس کی اجازت دے دی گئی حاجت کی وجہ سے کیونکہ لوگوں کی اس کی شدید حاجت ہے اور اس حدیث کی وجہ سے کیونکہ احادیث سے اس کا ثبوت آیا مولانا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں کہ مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو، معلوم ہوا اجارہ صحیح ہے۔ تو حدیث کی وجہ سے اور لوگوں کی شدید حاجت کی وجہ سے بھئی ایک آدمی غریب ہے مولانا وہ مکان خرید نہیں سکتا تو کرائے پر لے گا، سمجھ میں آیا؟ تو لوگوں کی حاجت کی وجہ سے اس کی اجازت دی گئی بھئی۔
اچھا اور چنانچہ لوگوں کی حاجت کی وجہ سے اجازت دے دی، لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ اب ہر نفع قیمت والا ہو گیا۔ قیمت والا یہ بنے گا عقد کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ اب جب عقد کریں گے تو یہ اب عقد کی وجہ سے اس کی کیا بن گئی؟ قیمت بن گئی، اور جب عقد انہوں نے کیا تھا مثلاً تو کتنے پر کیا تھا دس پر، کتنے پر؟ تو معلوم ہوا دس سے جو زائد تھا اس کو انہوں نے خود ہی آپس میں کیا کر دیا؟ ساقط کر دیا۔ تو زائد کو انہوں نے جب خود ساقط کر دیا ہے تو لہذا اب اجر مثل آئے تو اس میں وہ اگر زائد ہوا مسمی سے تو وہ زائد نہیں آئے گا کیونکہ زائد کو یہ دونوں کیا کر چکے ہیں ساقط کر چکے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کیونکہ اجارہ تو قیاساً جائز ہی نہیں ہونا چاہیے تھا اس کی اجازت ائی حاجت کی وجہ سے تو منافع کی قیمت بنے گی لیکن منافع کی قیمت خود بخود نہیں بنے گی بلکہ عقد کی وجہ سے بنے گی، اور جب عقد کیا تھا تو کتنی کرایہ ٹھہرایا تھا؟ دس روپے ٹھہرایا تھا تو معلوم ہوا تو دس سے زائد جو تھا اس کو انہوں نے خود ہی آپس میں کیا کر دیا؟ ساقط کر دیا۔ تو قیمت بنی ہے عقد کی وجہ سے اور عقد میں خود ہی انہوں نے زائد کو ساقط کر دیا ہے، لہذا اب اجر مثل اگر مقررہ سے زائد ہوا تو اس سے زائد نہیں دیا جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے۔
تو جہاں تک بھی وہ پہنچے، كَمَا فِي الْبَيْعِ الْفَاسِدِ، جیسے کہ بیع فاسد کے اندر تَجِبُ قِيمَةُ الْعَيْنِ بَالِغَةً مَا بَلَغَتْ، اس عین کی قیمت واجب ہوا کرتی ہے، بَالِغَةً مَا بَلَغَتْ، جہاں تک بھی وہ پہنچے جتنی بھی قیمت ہو وہ واجب ہوا کرتی ہے، تو یہاں بھی جتنا اجر مثل ہوگا وہ واجب ہونا چاہیے۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ أَنَّ الْمَنَافِعَ غَيْرُ مُتَقَوِّمَةٍ بِنَفْسِهَا، کہ منافع جو ہیں وہ متقوم ان کی وہ تو غیر متقوم ہیں یعنی ان کی کوئی قیمت نہیں ہے خود، بَلْ بِالْعَقْدِ، بلکہ ان کی قیمت کس وجہ سے ہے؟ عقد کی وجہ سے ہے۔ وَقَدْ أَسْقَطَا، اور دونوں نے عقد کرنے والوں نے بھئی مستاجر اور اجیر نے یا موجر نے مستاجر اور موجر نے، دونوں نے ساقط کر دیا ہے زیادت کو فیہ، اس کے اندر بھئی اس عقد کے اندر۔
وَصَحَّ إِجَارَةُ دَارٍ كُلَّ شَهْرٍ بِكَذَا فِي وَاحِدٍ، صورت مسئلہ یہ بھئی میں نے آپ کو ایک مکان کرائے پر دیا بھئی لیکن مدت طے نہیں کی کتنی مدت کے لیے کرائے پر دے رہا ہوں، چھ ماہ کے لیے دے رہا ہوں، سال کے لیے دے رہا ہوں، دس سال کے لیے دے رہا ہوں، صرف یہ طے ہوا بھئی ہر مہینے کی اجرت دس ہزار روپے ہوا کرے گی۔ ہر مہینے کی اجرت کتنی ہوا کرے گی؟ تو ہر مہینے کی میں نے بات کی، آگے یہ کوئی طے ہوا سال بعد ختم ہو جائے گا اجارہ یا دو یا تین یا چار؟ نہیں۔ تو جب مولانا ضابطہ ہے عربی کا کل کا لفظ آیا كُلَّ شَهْرٍ بِكَذَا، ہر مہینہ اتنے کا ہوگا، تو جب کل کی اضافت آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں کل کی اضافت جب ایسی چیز کی طرف کی جائے جس کی انتہا معلوم نہ ہو تو ادنی کے اندر عقد منعقد ہو جائے گا بھئی، اور ادنی کتنا ہے؟ ایک ہے مولانا ادنی کتنا ہے ایک۔
تو اس نے تو کہا تھا كُلَّ شَهْرٍ بِكَذَا، ہر مہینہ اتنے کے عوض میں، اور مہینوں کی کوئی تعداد تو متعین نہیں، تو معلوم ہوا کل کی اضافت ہوئی ایسی چیز کی طرف جس کی انتہا کا پتہ نہیں، اور اس صورت میں عقد کتنے میں منعقد ہوتا ہے؟ ادنی کے اندر اور ادنی کتنا ہے؟ ایک۔ تو ایک ماہ میں یہ عقد اجارہ صحیح ہوا باقی مہینوں کے اندر فاسد ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا پہلے مہینے میں عقد صحیح دوسرے تیسرے چوتھے آگے جتنے مہینے ہیں ان میں عقد فاسد۔
جی اچھا پھر آپ اس مکان کے اندر رہے بھئی، پہلا مہینہ عقد صحیح ہے، دوسرے مہینے جیسے ہی شروع ہوا اب اجارہ فاسد ہے تو اختیار ہے دونوں فسخ کرنا چاہیں تو جو فسخ کرنا چاہے فسخ کر سکتا ہے، جی لیکن پہلے مہینے کی پہلی گھڑی کے اندر بھئی ابتدا کے اندر ہی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چاند دیکھتے ساتھ دوسرا مہینہ مثلاً شروع ہو رہا ہے تو چاند کے دیکھتے ہی فوراً اختیار ہے دونوں میں سے جو بھی چاہے اجارے کو فسخ کر دے، کیونکہ یہ جو دوسرا مہینہ شروع ہو رہا ہے اس میں اجارہ صحیح ہے یا فاسد ہے؟ اس میں فاسد ہے تو فسخ کا اختیار ہے دونوں کو۔ لیکن اگر دونوں نے اپنا اختیار استعمال نہ کیا اور دوسرے مہینے کے اندر بھی وہ مستاجر کچھ دیر اس مکان میں ٹھہرا رہا تو اس صورت میں دوسرے میں بھی عقد صحیح ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ عقد صحیح ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پھر اسی طرح تیسرے میں، لیکن عقد فاسد ہے تیسرے کے اندر، جب پھر تھوڑی دیر رہے تو پھر کیا ہو جائے گا وہ عقد بھی صحیح ہو جائے گا، تو آنے سے پہلے عقد فاسد ہوگا لیکن جب وہ مہینہ آ جائے گا اور اس میں کچھ دیر رہائش بھی رکھ لے گا تو وہ عقد کیا ہو جائے گا صحیح ہو جائے گا۔
یہ بعض علماء کا قول ہے، بعض فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی پہلی گھڑی کا اعتبار نہیں یہ تو بڑا مشکل کام ہے وہ تو تھوڑا سا وقت ہوتا ہے چاند دیکھتے ہی فوراً فسخ کر دیا تو ٹھیک نہیں تو نہیں بھئی، کہتے ہیں بھئی پورے پہلے دن رات کا اعتبار ہے، ایک دن اور ایک رات کا بھئی۔ تو چاند نظر آیا تو وہ پہلی رات آئی اور اس سے اگلا دن آیا شام تک، اس میں دونوں کو اختیار ہے فسخ کرنا چاہیں تو، لیکن اگر اس میں فسخ نہیں کیا پھر اس میں رہائش برقرار رکھی تو اس مہینے میں بھی عقد کیا ہو جائے گا صحیح ہو جائے گا۔
وَصَحَّ إِجَارَةُ دَارٍ، اور صحیح ہے گھر کا اجارہ، كُلَّ شَهْرٍ بِكَذَا، اس اس قول کے ساتھ کہ ہر مہینہ اتنے کے عوض میں ہوگا تو اس صورت میں اجارہ صحیح ہے فِي وَاحِدٍ، بھئی کتنے ماہ میں؟ ایک ماہ میں فقط بھئی۔ وَفِي كُلِّ شَهْرٍ سَكَنَ سَاعَةً فِي أَوَّلِهِ أَوْ سُكِنَ، تو ہر اور ایسے مہینے کے اندر کہ جس میں اس نے رہائش اختیار کی ایک گھڑی فِي أَوَّلِهِ اس کی ابتدا میں، اور ہر مہینے میں اجارہ صحیح ہوتا چلا جائے گا جس میں اس نے رہائش اختیار کی ایک گھڑی بھی اس کی ابتدا میں بھئی، دوسرے مہینے کے شروع میں بھی ایک گھڑی اختیار کی رہائش تو اجارہ اس میں بھی صحیح، پھر تیسرے مہینے میں فاسد ہے لیکن جب اس میں بھی ایک گھڑی پہلی شروع میں رہائش اختیار کی تو اس میں بھی اجارہ صحیح۔
هَذَا عِنْدَ بَعْضِ الْمَشَايِخِ، یہ ہمارے بعض فقہاء کرام کے نزدیک ہے، فَإِنَّهُ حِينَ يُهَلُّ الْهِلَالُ، اس لیے کہ جب چاند کو دیکھا جاتا ہے، اس لیے کہ جب چاند کو دیکھا جائے گا تو يَكُونُ لِكُلِّ وَاحِدٍ حَقُّ الْفَسْخِ، تو دونوں میں سے ہر ایک کو کیا ہے؟ فسخ کرنے کا حق ہے، فَإِذَا مَضَى أَدْنَى زَمَانٍ، لیکن جب گزر گیا تھوڑا سا زمانہ بھی اور انہوں نے عقد کو فسخ نہیں کیا تو لَزِمَ الْعَقْدُ فِي هَذَا الشَّهْرِ، تو عقد کیا ہو جائے گا اس مہینے کے اندر بھی لازم ہو جائے گا۔ وَفِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، اور ظاہر روایت میں یہ ہے، لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَقُّ الْفَسْخِ فِي اللَّيْلَةِ الْأُولَى مَعَ الْيَوْمِ الْأَوَّلِ مِنَ الشَّهْرِ، کہ دونوں میں سے ہر ایک کو حق فسخ ہے پہلی رات میں ساتھ پہلے دن کے، مِنَ الشَّهْرِ، اس مہینے میں سے۔ کیونکہ ایک گھڑی کا اعتبار وہ تو جلدی گزر جاتی ہے تو اس میں حرج ہے مشکل ہے اس طرح۔ إِذْ فِي اعْتِبَارِ أَوَانِ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ حَرَجٌ، اس لیے کہ چاند دیکھنے کے اوقات کا اعتبار کرنا اس کے اندر حرج، اسی وقت فوراً بھئی فسخ کر سکتے ہیں بعد میں نہیں کر سکتے اس میں تو حرج ہے بھئی مشکل ہو گیا یہ مسئلہ تو لہذا پہلے دن رات کا اعتبار ہے۔
وَفِي كُلِّ شَهْرٍ عُلِمَ مُدَّتُهُ أَيْ صَحَّ الْإِجَارَةُ فِي كُلِّ شَهْرٍ، بھئی صورت مسئلہ یہ، میں نے آپ کو مکان کرائے پر دیا اور کہا کہ بھئی ہر مہینے کی دس ہزار اجرت ہوگی کرایہ ہوگا اور یہ مکان آپ کو میں نے چھ ماہ کے لیے کرائے پر دیا بھئی، اب مولانا میں نے كُلَّ شَهْرٍ کہا لیکن مدت معلوم ہے یا نہیں معلوم کتنی مدت ہے؟ چھ ماہ، اب اجارہ سب میں صحیح ہو گیا، یہ معنی ہے۔ وَصَحَّ إِجَارَةٌ فِي كُلِّ شَهْرٍ، اور اشارہ صحیح ہے ہر ایسے مہینے کے اندر عُلِمَ مُدَّتُهُ، جن کی مدت معلوم ہو، تمام مہینوں میں صحیح ہے، جبکہ ان کی مدت یوں ترجمہ کرو فِي كُلِّ شَهْرٍ اجارہ صحیح ہے، فِي كُلِّ شَهْرٍ سارے مہینوں کے اندر، عُلِمَ مُدَّتُهُ، جن کی مدت معلوم ہے۔
بِأَنْ قِيلَ آجَرْتُ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ كُلَّ شَهْرٍ بِكَذَا، بائیں طور کہ یوں کہا گیا اجارے کے اندر کہ آجَرْتُ، میں نے تجھے اجارے پر دیا کتنے ماہ کے لیے؟ چھ مہینے کے لیے اور ہر مہینہ اتنے کے بدلے میں۔ وَإِجَارَتُهَا سَنَةً بِكَذَا، أَوْ إِنْ لَمْ يُسَمَّ، إِنْ لَمْ يُسَمَّ قِسْطَ كُلِّ شَهْرٍ بھئی، وَإِنْ لَمْ يُسَمَّ قِسْطَ كُلِّ شَهْرٍ بھئی۔ صورت مسئلہ یہ بھئی میں نے آپ کو ایک مکان اجارے پر دیا کرائے پر دیا کہ یہ مکان میں آپ کو کرائے پر دیتا ہوں سال بھر کے لیے، اور پورے سال کا کرایہ ایک لاکھ بیس ہزار روپے ہوگا مولانا۔ اب بھئی ہر مہینے کا حصہ میں نے ذکر نہیں کیا لیکن پھر بھی اجارہ صحیح، کیوں صحیح؟ کہتے ہیں بھئی اب تو کوئی مشکل ہی نہیں ہے جب سارے سال کا کرایہ بتلا دیا ایک لاکھ بیس ہزار ہے تو سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں ہر مہینے کا حصہ آرام سے معلوم ہو سکتا ہے۔ یہ معنی ہے وَإِجَارَتُهَا أَيْ صَحَّ إِجَارَتُهَا، اور صحیح ہے گھر کا اجارہ، سَنَةً، ایک سال کے لیے، بِكَذَا، اتنے کے عوض میں، وَإِنْ لَمْ يُسَمَّ، اگرچہ ذکر نہ کیا جائے، قِسْطَ كُلِّ شَهْرٍ، ہر مہینے کی قسط کو، کیونکہ وہ خود بخود پتہ چل جائے گی۔
وَأَوَّلُ الْمُدَّةِ مَا سُمِّيَ وَإِلَّا فَوَقْتُ الْعَقْدِ۔ اچھا بھئی اجارہ شروع سے کب سے ہوگا؟ میں نے آپ سے مکان کرائے پر لیا بھئی کب سے وقت شروع ہوگا اجارے کا؟ کہتے ہیں بھئی جو مقرر کر دیں، مثلاً میں نے آپ کو مکان کرائے پر دیا لیکن میں نے کہا بھئی اگلے مہینے کی پہلی تاریخ سے شروع ہوگا ہمارا عقد، تو کہتے ہیں جو ذکر کیا اس کے مطابق ہوگا اب وقت اجارہ بھی کب سے شروع ہوگا اگلے مہینے کی، اور اگر وقت کوئی ذکر نہیں کیا تو کہتے ہیں جس وقت عقد کیا اسی وقت سے اجارہ بھی شروع ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے وَأَوَّلُ الْمُدَّةِ، اور اجارے کی اول مدت مَا وہ ہوگی سُمِّيَ، یا سُمِّيَ جس کو کیا کیا گیا مقرر کیا گیا، وَإِلَّا فَوَقْتُ الْعَقْدِ، ورنہ اگر ایسا نہیں یعنی وقت مقرر نہیں کیا تو پھر کون سا وقت ہوگا؟ عقد کا وقت ہوگا جس وقت عقد کیا وہی اول مدت ہوگی۔
فَإِنْ كَانَ حِينَ يُحَلُّ يُعْتَبَرُ الْأَهِلَّةُ وَإِلَّا فَالْأَيَّامُ كَالْعِدَّةِ.
اگر عقد جو ہے ایسے وقت کے اندر تھا کہ جب چاند دکھلائی دیا تھا، تو پھر چاندوں کا اعتبار ہوگا، وَإِلَّا فَالْأَيَّامُ ورنہ دنوں کا حساب ہوگا كَالْعِدَّةِ. اچھا بھئی، مثلاً بات یہ ہو رہی ہے کہ اجارے کا وقت کب سے شمار کیا جائے؟ بتلایا، أول مدت وہ ہوگی جس کو طے کر لیا جائے، اور اگر کچھ نہیں طے کیا، تو پھر أول مدت کب سے ہے؟ عقد سے ہے۔
اب اگر ہو سکتا ہے بھئی ممکن ہے عقد یا تو مہینے کی بالکل پہلی تاریخ سے ہی ہے بھئی، سمجھ میں آیا جب چاند نظر آیا اسی وقت سے عقد ہے یا ہو لیکن ایسا تو کم ہوتا ہے، عقد کب ہے مثلاً مہینے کے درمیان میں کسی وقت میں پانچ، دس یا پندرہ تاریخ کو ہے، تو پھر اس صورت میں کیا کیا جائے؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں اگر عقد اس وقت ہوا جب چاند نظر آیا تھا، تو پھر تو اب ہر مہینے میں چاند کا حساب رکھو بھئی۔
سال کا عقد ہوا تھا، تو جب بارہ مہینے پورے ہو جائیں چاند کے حساب سے، تو اجارہ بھی کیا ہو جائے گا؟ پورا۔ اور اگر مہینے کے درمیان میں عقد ہوا تھا، سمجھ میں آیا پہلی تاریخ کے علاوہ کسی اور تاریخ میں، تو اب کہتے ہیں دنوں کا حساب ہوگا، چاند کا حساب نہیں ہوگا۔ بھئی چاند میں تو کوئی مہینہ انتیس کا ہے، کوئی تیس کا ہے، پھر کوئی انتیس کا ہے، کوئی تیس کا ہے، تو اگر پہلی تو چاند کی دیکھتے ہی عقد ہوا ہے، تو اب چاند کا اعتبار ہے، دنوں کا نہیں گنا جائے گا چاہے انتیس کا چاند ہو چاہے تیس کا ہو، جب سال پورا ہو جائے گا عقد بھی پورا۔
لٰكِنْ اگر درمیان میں عقد ہوا ہے، تو اب چاند کا بالکل اعتبار نہیں ہے، بلکہ صرف کس کا اعتبار؟ دنوں کا، اب تیس تیس دن کے مہینے شمار کیے جائیں گے، ہر مہینہ بارہ مہینے شمار کریں گے، مثلاً سال کا عقد ہوا ہے اور ہر مہینہ کتنے دن کا شمار ہوگا؟ تیس دن کا، تو جب بھی یہ تین سو ساٹھ دن پورے ہو جائیں گے، عقد بھی کیا ہو جائے گا؟ پورا ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ معنی ہے۔
فَإِنْ كَانَ حِينَ يُحَلُّ پس اگر یہ عقد کس وقت تھا، جس وقت کہ چاند دکھائی دیا، يُعْتَبَرُ الْأَهِلَّةُ أهِلَّة جمع ہے ہلال کی، أهِلَّة جمع کس کی ہے؟ ہلال کی، تو پھر اعتبار کیا جائے گا ہلال کا، یعنی جب ہلال نظر آئے گا اس وقت بھئی۔
وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی عقد چاند دیکھتے وقت نہیں تھا، درمیان میں تھا، فَالْأَيَّامُ تو اعتبار کس کا کیا جائے گا؟ دنوں کا كَالْعِدَّةِ جیسے کس کے اندر ہے؟ عدت کے اندر۔ بھئی ایک عورت ہے، اس کو خاوند نے طلاق دے دی، اور وہ ایسی عورت بھئی تو عورت کی عدت کس سے شمار ہوتی ہے؟ جی، اگر اس کو وہ حیض والی ہے، تو حیض کے ذریعے کیا کی جائے گی اس کی عدت شمار کی جائے گی، اور اگر حاملہ ہے، تو عدت کب تک ہے؟ وضعِ حمل تک ہے، اور اگر ایسی عورت ہے جس کو حیض ہی نہیں آتا، حیض بوڑھی عورت ہے، حیض بند ہو چکے ہیں، تو اب تو اس کے بارے میں بھی فقہا لکھتے ہیں کہ اس کا اس کی عدت مہینوں سے ہوگی، کس سے ہوگی؟ مہینوں سے۔
مہینوں سے تب ہوگی کہ اگر پہلی تاریخ کو کیا کیا ہے؟ طلاق دی ہے، تو تین چاند جو ہیں کہ مہینے جو ہیں، قمری مہینے یہ اس کی عدت ہیں، چاہے انتیس انتیس کے ہو جائیں، چاہے کوئی انتیس کا ہو، کوئی تیس کا ہو جائے، جس طرح بھی ہو۔ لیکن اگر درمیان میں طلاق دی ہے مہینے کے کسی اور وقت کے اندر بھئی چاند نکلتے وقت طلاق نہیں دی، تو اب تین مہینے شمار ہوں گے لیکن اس میں تیس تیس دنوں کا حساب رکھا جائے گا، تو پھر أَيَّام کا اعتبار ہے جیسے دیکھا، یہاں بھی اسی طرح ہے۔
وَإِنْ كَانَ عَقْدُ الْإِجَارَةِ عِنْدَ الْإِهْلَالِ اگر عقد اجارہ جو تھا عِنْدَ الْإِهْلَالِ چاند دیکھنے کے وقت تھا، چاند کے دکھائی دینے کے وقت تھا، يُعْتَبَرُ الْأَهِلَّةُ تو چاندوں کا اعتبار کیا جائے گا، وَإِنْ كَانَ فِي أَثْنَاءِ الشَّهْرِ اور اگر مہینے کے درمیان میں تھا، فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو امام صاحب کے نزدیک يُعْتَبَرُ الْكُلُّ بِالْأَيَّامِ ساروں مہینوں کا اعتبار کس کے ذریعے ہوگا؟ دنوں کے ذریعے ہوگا، كُلُّ شَهْرٍ ثَلَاثُونَ يَوْمًا ہر مہینہ تیس دن کا بھئی ہوگا، وَعِنْدَهُمَا اور صاحبین فرماتے ہیں يُعْتَبَرُ الْأَوَّلُ بِالْأَيَّامِ وَالْبَاقِي بِالْأَهِلَّةِ پہلے مہینے کا اعتبار جو ہے وہ أَيَّام سے کیا جائے گا، اور باقی کا چاند سے، کس سے؟ چاند سے۔
فَإِنْ أَجَّرَ فِي عَاشِرِ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةً اگر کسی نے کرائے پر دیا ذوالحجہ کی دسویں تاریخ میں، ایک سال کے لیے، فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقَعُ عَلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ وَسِتِّينَ يَوْمًا تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ عقد واقع ہوگا تین سو ساٹھ دن پر بھئی، یعنی ہر مہینہ کتنے دن کا ہے؟ تیس دن کا ہے۔ وَعِنْدَهُمَا اور صاحبین کے نزدیک الشَّهْرُ الْأَوَّلُ يُعْتَبَرُ بِالْأَيَّامِ پہلے مہینے کا اعتبار دنوں سے کیا جائے گا وَهُوَ ثَلَاثُونَ يَوْمًا اور وہ تیس دن کا ہوگا، فَسُلْحَجَّةُ پس الحجہ وہ والا جو ہے إِنْ تَمَّ عَلَى ثَلَاثِينَ يَوْمًا اگر وہ پورا ہوا تیس دنوں پر، فَالسَّنَةُ تَسْتَمُّ عَلَى عَاشِرِ ذِي الْحِجَّةِ تو وہ سال پورا ہوگا کس تاریخ کو؟ دس ذوالحجہ کو، وَإِنْ تَمَّ عَلَى تِسْعٍ وَعِشْرِينَ يَوْمًا اور اگر وہ ذوالحجہ تام ہوا تھا کتنے میں؟ انتیس دن میں، فَالسَّنَةُ تَسْتَمُّ عَلَى الْحَادِي عَشَرَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ تو سال پورا ہوگا کس پر بھئی؟ گیارہویں ذوالحجہ کو، گیارہویں تاریخ کو ذوالحجہ میں سے بھئی۔
وَالْحَقُّ حق یہ ہے، العلامۃ صدر الشریعہ فرماتے ہیں حق یہ ہے أَنْ يَتِمَّ السَّنَةُ عَلَى عَاشِرِ ذِي الْحِجَّةِ عَلَى كُلِّ حَالٍ کہ سال کو پورا ہونا چاہیے دسویں ذوالحجہ کو ہر حال میں، چاہے وہ پہلا ذوالحجہ انتیس دن کا ہو یا تیس دن کا ہو، دونوں صورتوں میں سال کب پورا ہونا چاہیے؟ دس ذوالحجہ ہی کو عقد پورا ہونا چاہیے، کیوں؟ کہتے ہیں دیکھو دسویں کو عقد ہوا تھا اور دسویں کو ہوتی ہے عِيدُ الْأَضْحَى، کیا ہوتی ہے؟ فقر عید ہوتی ہے مولانا، بڑی عید ہوتی ہے، اب اگلے سال کی اگر گیارہ کو ختم ہوگا عقد، تو دس پھر آ گئی، اور دسویں کو تو کیا ہوتی ہے؟ عید۔ تو دیکھو اجارے کے سال میں کتنی عیدیں آ گئیں؟ کل تین، ایک چھوٹی عید، دو بڑی عید، تو تین عیدیں آ گئیں، تو کیا آپ نے کبھی سنا کہ ایک ہی سال میں دو بڑی عیدیں آ جائیں؟ نہیں، ہمیشہ کتنی آتی ہیں؟ ایک، لہٰذا اجارے کو تام بھی کس پر ہونا چاہیے؟ دس ذوالحجہ یعنی اسی تاریخ پر۔
إِذْ لَوْ تَتِمُّ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ يَدْخُلُ الْعَاشِرُ فِي تَمَامِ السَّنَةِ اس لیے کہ اگر وہ پورا ہوا سال گیارہویں کو، تو داخل ہوگا مولانا دسویں بھی داخل ہو جائے گی سال کے پورا ہونے میں، فَلَزِمَ تَكْرَارُ الْعِيدِ الْأَضْحَى فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ تو لازم آئے گا مولانا عید الاضحی کا تکرار ایک ہی سال کے اندر، أَحَدُهُمَا فِي أَوَّلِ الْمُدَّةِ ایک تو عید الاضحی کہاں پر آئی تھی؟ اولِ مدت میں، یعنی پہلے دن بھئی شروع میں، وَالثَّانِي فِي آخِرِهَا اور ثانی کہاں پر آگئی؟ آخرِ مدت میں آئی، وَهَلْ سَمِعْتَ اور کیا کبھی آپ نے سنا أَنَّ عِيدَ الْأَضْحَى يَتَكَرَّرُ فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ کہ عید الاضحی کا تکرار ہوا ایک ہی سال میں، یعنی ایسا نہیں ہے، لہٰذا سال کو بھی دس ذوالحجہ ہی کو عقد کو پورا ہونا چاہیے۔
وَإِجَارَةُ الْحَمَّامِ وَالْحَجَّامِ وَالزِّئْرِ بِأَجْرٍ مُعَيَّنٍ وَبِطَعَامِهَا وَكِسْوَتِهَا بھئی حمام ہے ایک شخص کا وہ اجارہ پر دیتا ہے، یہ اجارہ پر دینا صحیح ہے؟ أَصَحَّ إِجَارَةُ الْحَمَّامِ اس کا عطف بھی اسی ماقبل کی عبارت سے ہے بھئی۔ صحیح ہے حمام اجارے پر دینا، سمجھ میں آیا؟ وَالْحَجَّامِ بھئی حمام کا اجارہ بھی صحیح ہے، وَالْحَجَّامِ اور حجام کا اجارہ بھی، الحجام سے یہ مراد نہیں ہے یہ جو آج کل بال کاٹتے ہیں، حجام سے پچھنے لگواتے تھے، سینگی لگوانا، پچھنے لگوانا، یہ ایک فعل ہوتا تھا مولانا خاص بھئی، جس کے ذریعے وہ شخص کیا کرتا تھا کسی شخص کے بدن سے خون نکالتا تھا، کیا کرتا تھا؟ کوئی سینگ نما آلہ بنا ہوتا تھا، وہ گردن پر رکھ کر اندر دبا دیتا تھا اور پھر منہ سے خون چوستتا تھا اور پھینکتا جاتا تھا بھئی، تو کافی خون تو اس سے کہتے ہیں یہ بڑا مفید طریقہ علاج ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ مفید طریقہ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پچھنے لگوائے ہیں بھئی۔
پچھنے لگوائے ہیں تو جس سے کہتے ہیں فاسد خون بدن سے نکل جاتا ہے اور تازہ خون بن جاتا ہے، سمجھ میں آیا؟ تو یہ پچھنے لگواتے تھے بھئی، اور بڑا مفید طریقہ علاج ہے، میں نے بتایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی لگوائے بھئی۔ اور حدیث میں آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے بھئی، کہ مجھے فرشتے بار بار آ کر کہتے تھے کہ اپنی امت کو پچھنے لگوانے کا حکم دیجیے، اتنا مفید طریقہ علاج ہے کہ وہ بار بار کہتے تھے اپنی امت کو بھی اس کا حکم دیجیے۔
اچھا، تو بھئی دیکھو ان کو خاص طور پر ذکر کیا بھئی، ان دونوں کو اور جی اور آگے بھئی، دایا بھئی زِئر کہتے ہیں دایا کو بھئی۔ بھئی بچے کی کھلانے پلانے دیکھ بھال کے لیے دودھ پلانے کے لیے جو عورت رکھی جائے دایا، اور جسے انّہ بھی کہتے ہیں، انّہ، اس کی یہ اس کو بھی اجرت پر رکھنا یہ جائز ہے بھئی۔ بھئی یہ حمام، حجام، زِئر ان تینوں کو ذکر کیا خصوصاً اس لیے کہ اس میں اختلاف ہے بھئی، کیا ہے؟ اختلاف ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ حمام میں تو اس لیے اختلاف ہے مولانا، کیونکہ حمام مَحَلُّ نَجَاسَةٍ ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور كَشْفِ عَوْرَةٍ کا محل ہے، تو وہ نجس جگہ ہے، تو کیا سوال پیدا ہوا، اجارہ اس کا صحیح ہے یا نہیں؟ بتلایا اجارہ صحیح ہے۔ اسی طرح حجام ہے خون نکالتا ہے، تو کیا یہ اجارہ صحیح ہے یعنی فرمایا یہ اجارہ بھی صحیح ہے، اسی طرح دایا اور انّہ کے بارے میں بھی بھئی آگے تفصیل آ رہی ہے بھئی اختلاف تو فرمایا یہ صحیح ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں وَإِجَارَةُ الْحَمَّامِ أي صحَّ إجارَةُ الْحَمَّامِ صحیح ہے حمام کا اجارہ بھی اور حجام کا بھی اور زِئر اور دایا کا بھی، بِأَجْرٍ مُعَيَّنٍ دایا کا اجارہ بِأَجْرٍ مُعَيَّنٍ ایک معینہ اجرت کے ساتھ بھی صحیح ہے، وَبِطَعَامِهَا وَكِسْوَتِهَا اور اس کے کھانے پینے کے بدلے میں بھی، بھئی ایک تو یہ ہے دایا کو اجرت پر رکھا کہ ہم تجھے مہینے کے مثلاً بھئی دس ہزار روپے دیے کر دیا کریں گے، آپ ہمارے بچے کی کیا کرنی ہے؟ دودھ بھی کر پلانا ہے اور اس کی دیکھ بھال بھی کرنی ہے بھئی، دیکھ بھال بھی، یہ تو اجرت متعین ہو گئی۔ ایک وہ صورت ہے مولانا کہ اجرت میں پیسے نہیں مقرر کرتے، بلکہ اس کو کہتے ہیں بھئی آپ کا کھانا، پینا اور کپڑے ہمارے ذمہ ہیں، آپ ہمارے بچے کی کیا کیجیے؟ دودھ پلائیے اور دیکھ بھال کریں۔
تو کیا اس طرح صحیح ہے کیونکہ اس طرح تو اجرت مجہول ہو گئی مولانا، کیا ذکر کیا انہوں نے؟ کوئی متعین چیز ذکر کی یا کھانا پینا اور کپڑے؟ کھانا پینا اور کپڑے، تو کھانا پینا بھی مختلف ہوتا ہے، ادنیٰ اعلیٰ ہر قسم کا ہوتا ہے، اور کپڑے بھی مختلف قسم کے ہوتے ہیں ادنیٰ اعلیٰ، تو جھگڑے کے امکان ہے یا جھگڑے کا نہیں امکان بھئی؟ یہ ادنیٰ دیں گے، وہ اعلیٰ طلب کرے گی، تو جھگڑے کا امکان ہے، لیکن فرماتے ہیں نہیں بھئی، اگرچہ یہ اجارہ یہاں عوض مجہول ہے، لیکن اجارہ صحیح۔ بھئی کیوں صحیح عوض مجہول ہونے کے باوجود؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہاں جھگڑے کا امکان نہیں، بھئی کیوں نہیں جھگڑے کا امکان؟ کہتے ہیں اس لیے کہ جو لوگ اپنے اولاد اپنے بچے کو دے رہے ہیں دوسرے کی پرورش میں، تو وہ اس دایا کو خوب کھلا خرچہ دیتے ہیں تاکہ وہ خوش رہے اور ہمارے بچوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرے بھئی، تو اس میں عموماً تنگی اور بخل نہیں کیا جاتا بھئی۔
یہ معنی ہے اور دایا کی اجرت بھی، اجارہ بھی صحیح ہے بِأَجْرٍ مُعَيَّنٍ ایک معینہ اجرت کے ساتھ بھی صحیح ہے، وَبِطَعَامِهَا وَكِسْوَتِهَا اور اس کے کھانے اور کپڑے پہننے کے عوض میں بھی۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، وَعِنْدَهُمَا لَا يَجُوزُ لِلْجَهَالَةِ اور صاحبین کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے کھانے کے عوض میں یا کپڑوں کے عوض میں اجارہ دایا کا صحیح نہیں لِلْجَهَالَةِ کس وجہ سے؟ جہالت کی وجہ سے کیونکہ عوض مجہول ہے، وَهُوَ الْقِيَاسُ اور یہی قیاس ہے، قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے۔
لٰكِنْ وَلَهُ امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّ الْجَهَالَةَ لَا تُفْتِلُ الْمُنَازَعَةَ یہ جہالت جھگڑے تک لے جانے والی نہیں ہے، لِأَنَّ الْعَادَةَ التَّوَسُّعُ عَلَى الْأَضْكَارِ عَلَى الْأَضْكَارِ مولانا، أضیار نہیں، أضْكَار مولانا، یہ یا کتابت کی غلطی حمزہ پر ہی مد ہونا چاہیے بس، اور یہ ضاد کے بعد دندانہ نہیں ہونا چاہیے بھئی، کیونکہ یا نہیں ہے یہاں پر، اس لیے کہ عادت کیا ہے؟ وسعت کرنے کی ہے عَلَى الْأَضْكَارِ کس پر؟ جو دایا ہوتی ہیں، یہ زِئر کی جمع ہے أضْكَار بھئی، دایا جو ہوتی ہیں، ان پر وہ سب کی عادت ہے لوگوں میں شفقت عَلَى الْأَوْلَادِ شفقت کرتے ہوئے اپنی اولاد پر وَهُوَ الِاسْتِحْسَانُ اور یہی کیا ہے؟ استحسان ہے کہ جائز ہونا چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا؟
وَلِلزَّوْجِ وَطْؤُهَا إِلَّا فِي بَيْتِ الْمُسْتَأْجِرِ جی، تو ایک شخص نے دوسرے عورت کے ساتھ دایا رکھی مولانا اپنے بچے کی پرورش کے لیے، کہ میرے ہی گھر میں رہو اور میرے بچے کی پرورش کرو اور اسے دودھ پلاؤ بھئی۔
تو اب وہ دایا شادی شدہ ہے بھئی، اس کا خاوند ہے، کیا اس سے خاوند اس سے وطی کر سکتا ہے یا وطی نہیں کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں خاوند اس کے ساتھ وطی کر سکتا ہے، لیکن اپنے گھر میں، مستاجر کے گھر میں نہیں بھئی، اس لیے کہ وہ مستاجر کا گھر ہے، تو وہ اس کو منع کر سکتا ہے بھئی۔ یہ معنی وَلِلزَّوْجِ وَطْؤُهَا أي وَطْءَ الزِّئْرِ بھئی سمجھ میں آیا؟ یا وَطْءَ الْمُرْضِعَةِ، اور خاوند کو اختیار ہے مولانا کس کا؟ وطی کرنے کا۔
اُس دَایَہ کے ساتھ بھئی، وَتُزِرُ قُتْرَمی دَایَہ کریں، اَدَایَہ کے وِصاوَتی کرنے کا اُس خاوَند کو اِختیار ہے اِلّا فی بَیتِ المُسْتَأجِرِ مَگر مُسْتَأجِر کے گھر میں کہ وہاں نہیں۔ فَاِنَّ البَیتَ مِلْکُہُ اِسْلِی کہ وہ گھر جو ہے، وہ تو مُسْتَأجِر کی مِلْکِیَّت ہے، فَیَمْنَعُہُ فِیہِ تو وہ اُس دَایَہ کے خاوَند کو مَنع کرے گا، اُس سے وَطِی سے، اُس گھر کے اَندَر۔
وَلَہُ فِی نِکاحٍ ظَاہِرٍ فَسْقُہَا اِنْ لَّمْ یَأذَنْ بِھَا، وَاِنْ اَقَرَّ بِنِکاحِہِ لا۔ اَمّا رَنا! دَایَہ نے کِسی کے ساتھ بھئی! دَایَہ نے بھئی اِجَارَہ کا اَقد کر لِیا مولانا! بچّے کو دُودھ پِلانے کا اَور دیکھ بھال کرنے کا، تو کیا اُس کے خاوَند کو پتا نہیں تھا؟ بعد میں پتا چلا۔ کیا اُسْے فَسْخ کا حَق ہے؟ یا فَسْخ کا حَق دَایَہ کے خاوَند کو پتا نہیں تھا، بعد میں پتا چلا، تو کیا اُسْے فَسْخ کرنے، اِس اَقد کو فَسْخ کرنے کا حَق ہے؟ یا حَق؟ کہتے ہیں بھئی! اَگر اِن دونوں کا نِکاح ظَاہِر ہے، یَنی سَب لوگوں کو پتا ہے، فِیر تو اِس صُورت کے اَندَر خاوَند کو فَسْخ کرنے کا حَق ہے بھئی!
فَسْخ کرنے کا حَق ہے بھئی! یہ اِسْکِیونْکِ یہ اَپنے حَق کو بچانے کے لِیے، بھئی! اِس کے لِیے جَائِز ہے، وہ کیا کرے؟ کہ اَپنی بیوِی کو اِجَازَت نہیں دِیتَا کہ یہ اَقد کرے، اِس کو فَسْخ کر دِیتَا ہے۔ لِیکِن اَگر مولانا! اِن کا نِکاح ظَاہِر نہیں ہے، دَایَہ کے اِقرَار سے پتا چلا، کِس چِیز سے؟ دَایَہ نے اِقرَار کِیا کہ یہ مِیرا خاوَند ہے اَور اِس نے مُجھے روکا ہے، کِسی کو پتا نہیں۔ تو اِس صُورت میں اْس خاوَند کو اِس اَقد کو فَسْخ کرنے کا اِختیَار نہیں۔ کِیونْکِ اِس صُورت میں وہ مُسْتَأجِر کا حَق مارا جَاتَا ہے بھئی! سَمَجھ میں آيَا؟ جَب اَقدِ اِجَارَہ اِک دَفَعَہ ہو جَائے، تو دونوں میں سے کِسی کو بھی فَسْخ کرنے کا حَق نہیں ہوتا بھئی! ہاں، جو عُذر وَغَیرَہ آتے ہیں، اُن میں اِجَازَت ہوتی ہے، تو یہاں پَر بھی اَگر پَہلے سے نِکاح مَعلُوم تھا، ظَاہِر تھا، تو خاوَند کو فَسْخ کرنے کا حَق ہے، اَور اَگر پَہلے سے پتا نہیں تھا، اِس کے اِقرَار سے پتا لَگَا ہے، اُس کے خاوَند ہونے کا، تو اَب مولانا! کِس کا حَق مارا جَاتَا ہے؟ مُسْتَأجِر، جِس نے اِسْکو اَپنے بچّے کے لِیے دَایَہ کے طَور پَر رَکھا ہے، اِس کا حَق مارا جَاتَا ہے، لِحَاظَا اَب اِجَازَت نہیں دی جَائے گی۔
وَلَہُ فِی نِکاحٍ ظَاہِرٍ فَسْقُہَا اَور اْس دَایَہ کے خاوَند کو ظَاہِرِی نِکاح کے اَندَر حَق ہے فَسْقُہَا اِس اِجَارَہ کو فَسْخ کرنے کا اِلَّمْ یَأذَنْ بِھَا اَگر اْس نے اِس کی اِجَازَت نہیں دِی تھی۔ اَگر پَہلے سے اِجَازَت دی ہوئی تھی، فِیر تو فَسْخ کا حَق نہیں ہے، اِس نے اِجَازَت نہیں دی تھی۔ فَاِنْ اَقَرَّ بِنِکاحِہِ لَا اَور اَگر اِس نے اِقرَار کِیا ہے اْس کے ساتھ نِکاح کا، اُس نِکاح کا اِقرَار کِیا ہے لَا، تو اَب خاوَند کو حَق نہیں۔ اِنْ کَانَ النِّکاحُ ظَاہِرَا بَیْنَ النّاسِ اَگر نِکاح ظَاہِر تھا لوگوں کے دَرمِیَان اَوْ یَکُونُ عَلَیْہِ شُہُودٌ یا اْس پَر گَوَاہ مَوجُود تھے، فَلِلزَّوْجِ فَسْخُ الإجَارَةِ تو اُس دَایَہ کے خاوَند کو اِجَارَہ فَسْخ کرنے کا حَق ہے، صِیَانَتًا لِّحَقِّہِ اَپنے حَق کی حِفَاظَت کے لِیے، بھئی! سَمَجھ میں آيَا؟ اَب تو بیوِی وَہاں ہَر وَقت مَصرُوف رَہے گی، لِحَاظَا اِس کا حَق ہے، حَق ہے، تو یہ اِس کو روک سَکْتَا ہے اُس سے۔ اَمّا اِنْ عَلِمَ النِّکاحَ بِإقْرَارِہِ اِنْ عُلِمَ النِّکاحُ بِإقْرَارِھَا اَور اَگر جَانَا گِیا ہے نِکاح کو اُس دَایَہ کے اِقرَار کی وَجہ سے، لَا تو اِس صُورت میں اَب اْس کے خاوَند کو فَسْخ کا حَق نہیں۔ وَلِأھْلِ الصَّبِیِّ فَسْقُہَا اِنْ مَرِضَتْ اَوْ حَبِلَتْ بھئی! اَور اِسی طَرَح مولانا! یَاد رَکھو، اَگر دَایَہ ایک شَخص نے رَکھی بچّے کو دُودھ پِلانے کے لِیے، اْس کی دیکھ بھال کے لِیے، اَب مولانا! پَس بَعد میں یہ دَایَہ بِیمَار ہو گَئی، سَخت بِیمَار، بھئی! بِیمَار ہوئی، تو اَب اِن کو اِجَارَہ فَسْخ کرنے کا حَق ہے، یَا وہ دَایَہ حَامِلَہ ہو گَئی مولانا! تو اِس صُورت میں بھی اَب اِن کو فَسْخ کرنے کا حَق ہے۔ کِیونْ بَھئی؟ کِیون؟ کہتے ہیں اِس لِیے کہ وہ بِیمَار ہوئی ہے یا حَامِلَہ ہوئی ہے اَور بِیمَار اَور حَامِلَہ عَورَت کَا دُودھ بچّے کو نُقصَان پُہنچَاتَا ہے، اِس لِیے اِن کو بھی فَسْخ کرنے کا حَق ہے، بچّے کے گھر والوں کو حَق ہے کہ وہ فَسْخ کر دِیں۔
وَلِأھْلِ الصَّبِیِّ فَسْقُہَا اَور بچّے کے گھر والوں کو کے لِیے جَائِز ہے فَسْقُہَا فَسْخُ الاِجَارَہ، اْس اِجَارَہ کو فَسْخ کرنا اِنْ مَرِضَت اَگر وہ دَایَہ بِیمَار ہوئی ہے اَوْ حَبِلَت یا حَامِلَہ ہوئی ہے لِاَنَّ لَبَنَھَا یَضُرُّ بِالوَلَدِ اِس لِیے کہ اْس کا دُودھ جو ہے، یہ بِیمَار یا حَامِلَہ کا دُودھ جو ہے، نُقصَان دِیتَا ہے بچّے کو۔ وَعَلَیْہَا غَسْلُ الصَّبِیِّ اَور دَایَہ پَر ہے بچّے کو نَہلَانَا، بھئی! اِس کو غَسل پَڑھنا غُسل نَہ پَڑھنا، بھئی! سَمَجھ میں آيَا بھئی!
غُسل پَڑھنا غُسل نَہ پَڑھنا۔ بھئی! غُسل کِیون پَڑھیں گے؟ غُسل کِیون نہیں پَڑھیں گے؟ بھئی! یَاد رَکھو! صَاحِبِ جَوْھَرَۃُ النِّیَّرَہ، یہ قُدُورِی کی قَدِیم عَرَبی شَرح ہے، اِنہوں نے ضَابِطَہ لِکھا ہے اِس بَار میں، بھئی! سَمَجھ میں آيَا بھئی! جَوہ، حَوَالَہ بھی دے دیتَا ہوں مولانا! جَوْھَرَۃُ صَفحَہ تیرہ مولانا! جِلد اَوّل۔
اُس میں وہ ضَابِطَہ لِکھتے ہیں کہ جَب غُسل کی نِسبَت بھئی! جِی! جَب یہ غُسل کے لَفْظ کی نِسبَت ہو جَائے، مَغسُول کی طَرَف، جَب مَغسُول کی طَرَف اِس کی اِضَافَت ہو جَائے، تو فِیر فَتحَہ پَڑھیں گے۔ اَور جَب اِس کی اِضَافَت ہو جَائے غَیرِ مَغسُول کی طَرَف، تو فِیر ضَمَّہ پَڑھیں گے۔ کیا ضَابِطَہ بَیَان ہُوا؟ وہ فَرْماتے ہیں کہ جَب اِس غُسل کی اِضَافَت ہو جَائے، کِس کی طَرَف؟ مَغسُول کی طَرَف، تو کیا پَڑھیں گے؟ فَتح۔ اَور اَگر اِس کی اِضَافَت ہو جَائے، کِس کی طَرَف؟ غَیرِ مَغسُول کی طَرَف، تو فِیر ضَمَّہ پَڑھیں گے۔ تو دیکھیے مولانا! غَسْلُ الصَّبِی غُسل کی نِسبَت کِس کی طَرَف ہو رہی ہے؟ صَبی بچّے کی طَرَف، اَور بچّہ کیا ہے؟ مَغسُول ہے یا نہیں ہے؟ اُس کو دھویا جَائے، دُھلائے، غُسل دِیا جَائے گا یا نہیں؟ اِس کو نَہلَایَا جَائے گا، تو جَب مَغسُول کی طَرَف نِسبَت ہو، تو کیا پَڑھَا جَاتَا ہے؟ فَسْل، فَسْل پَڑھَا جائے، تو غَسْلُ الصَّبِی پَڑھیں بھئی! سَمَجھ میں آيَا؟
چُنَانْچہ، مَیں بَس پَڑھتَا ہوں، آپ بتلائیے! غُسلُ الثَّوب ہوگا یا غَسْلُ الثَّوب ہوگا؟ غَسْلُ الثَّوب اِس لِیے کہ غَسل کی مُضَاف ہے، کِس کی طَرَف؟ ثوب کپڑے کی طَرَف، وہ مَغسُول ہے، مَغسُول کی طَرَف اِضَاف۔ اِسی طَرَح غُسلُ المَیِّت ہوگا یا غَسْلُ المَیِّت ہوگا؟ غَسْلُ المَیِّت اِس لِیے کہ مَیِّت کیا ہے؟ مَغسُول ہے، اَور اِس کی طَرَف غَسل مُضَاف ہو رَہا ہے۔ اَچھّا۔
اَب آپ بتلائیے! غُسلُ الجُمُعَہ ہوگا یا غَسْلُ الجُمُعَہ ہوگا؟ غَسْلُ الجُمُعَہ کِیونْکہ جُمُعَہ مَغسُول نہیں ہے، بھئی! غُسلُ الجَنَابَت ہوگا یا غَسْلُ الجَنَابَت ہوگا بھئی؟ غُسلُ الجَنَابَت کِیونْکہ جَنَابَت مَغسُول نہیں ہے بھئی! ضَابِطَہ سَمَجھ میں آگیا بھئی! جِی۔
وَعَلَیْہَا غَسْلُ الصَّبِیِّ اَور اُس دَایَہ پَر لَھْوَ وَاجِب ہوگا غَسْلُ الصَّبِیِّ بچّے کو غُسل دِینا وَصِیَابِھِ اَیْ غَسل غَسلِ صِیَابِہِ اَور اْس کے کپڑوں کا دھونا، بچّے کو بھی نَہلَانَا ہے اَور کپڑوں کو دھونا بھی اُس دَایَہ پَر لَازِم ہوگا۔ وَاِصْلَاحُ طَعَامِہِ اَور اْس کے کھَانے کو ٹھیک کرنا، تِیار کرنا، یہ بھی اْس دَایَہ کے ذِہمَّہ ہوگا وَدُہْنُہُ اَور اِس کو تیل لَگانَا، بھئی! یہ بھی کیا ہوگا؟ دَایَہ کے ذِہمَّہ ہوگا۔ لَا ثَمَنَ شَیْءٍ مِّنْھَا اِن میں سے کِسی چِیز کے سَمَن دَایَہ پَر نہیں ہوں گے، بھئی! بچّے کو تیل لَگانَا، بچّے کے لِیے کھَانَا تِیَار کرنا، یہ تِیَار کرنا اَور لَگانَا یہ تو دَایَہ کَا ذِہمَّہ ہے، لِیکِن ان کو خَرِیدنا، اِن کے لِیے پَیسے لَگانَا، یہ دَایَہ کا کام نہیں۔ بَلْکہ یہ تیل یا کھَانَا پِینے کی جو چِیزیں ہیں، وہ خَرچہ کون کرے گا؟ وہ تو اْس بچّے کا بَاپ کرے گا، بھئی!
تو یہ مَعنٰی ہے لَا ثَمَنَ شَیْءٍ مِّنْھَا اِن میں سے کِسی چِیز کے سَمَن دَایَہ پَر وَاجِب نہیں ہوں گے۔ وَہُوَا وَاَجْرُہُ وَاجِبٌ عَلَی اَبِیھِ وَہُوَا نِیچے لِکھَا ہوا ہے، ھُوَا ضَمِیر کا مَرجَع کیا ہے؟ اَجرُ الرَّضَاعَةِ وَاَجرُ الزِّئْرِ۔
ہُوَا ضَمِیر کا مَرجَع ہے اَجرُ الرَّضَاعَت، رَضَاعَت کی جو اُجرَت ہے وَاَجرُھُو اَور بَلْکہ جِی! نہیں نہیں، ہوَا ضَمِیر! بھئی! سَمَن کی طَرَف لوٹائیں۔ کِس کی طَرَف لوٹائیں؟ بھئی! اِن چِیزوں کے جو سَمَن ہیں، وَاَجرُھُو اَور جِی! سَمَجھ میں آيَا، ضَمِیر کِس کو لوٹانی ہے؟ سَمَن کی طَرَف لوٹائیں، بھئی! تو اِن چِیزوں کے سَمَن وَاَجرُھُو اَور اُس دَایَہ کی جو اُجرَت ہے، سَارے دونوں چِیزیں وَاجِبٌ عَلَی اَبِیھِ یہ اْس بچّے کے بَاپ پَر وَاجِب ہوں گی۔ فَاِنْ اَرْضَعَتْہُ بِلَبَنِ شَاتٍ فَاَسْ اَکر اُس کو کیا کِیا بھئی!
اَگر اْس نے اُس کو رِضَاعَت کی بِلبَنِ شَاتٍ کِس کے سَاتْھ؟ بَکری کے دُودھ، یَنی بَکری کا دُودھ پِلایَا، بھئی! ایک شَخص نے ایک عَورَت کے حَوَالے اَپنے بچّے کو کِیا کہ اِس کو اَپنا دُودھ پِلانَا ہے، اَقدِ اِجَارَہ ہو گَیا، بھئی! اَور اِس نے کیا کِیا؟ عَورَت نے اِس مُدّت کے دَوران کیا پِلاتی رہی؟ بَکری کا دُودھ پِلاتی رہی، تو کیا اُجرَت اِس کو مِلے گی یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں، بھئی! اُجرَت نہیں مِلے گی۔
کِیون نہیں مِلے گی؟ کہتے ہیں اِس لِیے کہ اَقد کیا ہُوا تھا؟ کہ وہ اَقد اَقد ہُوا تھا رِضَاعَت پَر، اَور یہاں رِضَاعَت ہے، رِضَاعَت تو كِس کو کہتے تھے؟ کہ وہ اَپنا دُودھ پِلائے، تو یہاں تو جِس پَر اَقد ہُوا تھا، یَنی رِضَاعَت، رِضَاعَت ہی نہیں پَائی گئی۔ سَمَجھ میں آيَا؟ بَکری کے دُودھ پِلانے کو تو رِضَاعَت کوئی نہیں کہتَا، بھئی! سَمَجھ میں آيَا رِضَاعَت ہی نہیں۔
فَاِنْ اَرْضَعَتْہُ بِلَبَنِ شَاتٍ اَگر اْس نے اْس کو پِلایَا بھئی رِضَاعَت کی بَکری کے دُودھ کے ساتھ اَوْ غَذَتْہُ بِطَعَامٍ یا اْس کو غِذَا دِی طَام کے ساتھ، یَنی کھَانَا اُس کو خِلایَا، بھئی کھَانَا خِلایَا، بھئی! دُودھ رِضَاعَت اَپنا دُودھ نہیں پِلایَا، وَمَضَتِ المِدَّتُ اَور مُدّت گُزَر گَئی فَلَا اَجْرَا تو اِس عَورَت کے لِیے کوئی اُجرَت نہیں ہے۔ وَلَمْ یَصِحَّ لِلْأذَانِ وَالإمَامَتِی اَور اُجرَت اِجَارَہ یَنی صَحِیح نہیں ہے، کِس کے لِیے بھئی؟ اَذَان کے لِیے، اَذَان کے لِیے کِسی کو بھئی رَکھنَا بھئی! سَمَجھ میں آيَا بھئی! کہ تُم اِس مَسجِد میں اَذَان دِیا کرو، تُمہیں پَانْچ حَزَار تَنخواہ مِلے گی، بھئی! یہ دُرُست نہیں ہے، بھئی! وَالإمَامَت اَور اِسی طَرَح کِسی کو اِمَام رَکھا، آپ اِس مَسجِد میں نَمَازیں پَڑھائیں اَور آپ کو دَس حَزَار تَنخواہ مِلے گی، یہ بھی صَحِیح نہیں۔ تو یہ اِجَارَہ ہے اَذَان پَر یا اِجَارَہ ہے اِمَامَت پَر، یہ دُرُست نہیں۔ لِیکِن یہ آگے اَور بھی چِیزیں آ رہی ہیں، اِسی طَرَح مولانا! فِقہ پَڑھَاتَا ہے کوئی یہ عِلمِ دِین ہے مولانا! فِقہ اَور اِسی طَرَح بَاقِی عُلومِ دِینِیَہ ہیں، کوئی شَخص فِقہ عُلومِ دِینِیَہ پَڑھَاتَا ہے، پَڑھَاتَا ہے اَور اُس کو کہتے ہیں بھئی آپ پَڑھائیں، ہَر مَہِینے ہَم آپ کو پانچ حَزَار تَنخواہ دیں گے، یہ اِجَارَہ بھی صَحِیح نہیں ہے، مولانا! سَمَجھ میں آيَا؟
تو یہِ بات کَریں، وَلَمْ یَصِحَّ اَور صَحِیح نہیں ہے اِجَارَہ لِلْأذَانِ وَالإمَامَتِی اَذَان کے لِیے اَور اِمَامَت کے لِیے وَالحَجِّ اَور حَج کے لِیے کہ آپ حَج کریں تو مَیں آپ کو اِتنا دُوں پیسے وَتَعْلِیمِ القُرْآنِ اَور قُرْآن کی تَعْلِیم کے لِیے بھی اِجَارَہ نہیں کہ آپ قُرْآن پَڑھائیں، بچّوں کو مَعلُوم ہو، ٹیُوشَنیں پَڑھانے جَارہے ہیں بھئی آپ بھئی! ہَر مَہِینے کے آپ کو ایک حَزَار مِلیں گے، یہ دُرُست نہیں بھئی! جِی، لِیکِن پَرشَان ہونے والی بات نہیں ہے، مولانا! یہ سَمَجھ میں آيَا؟ یہ قَدِیم عُلَمَاء کا فَتوَى تھا۔ مُتَأخِّرِین کے نَزدِیک جَائِز ہے، مولانا! مُتَأخِّرِین کے نَزدِیک تَعْلِیمِ قُرْآن کی اُجرَت بھی جَائِز، اِمَامَت کی اُجرَت بھی جَائِز، اَذَان کی اُجرَت بھی جَائِز، تَعْلِیمِ فِقہ کی اُجرَت بھی جَائِز۔
صُورت سَمَجھ میں آ گَئی۔
جِی۔
اَور جَائِز کیوں ہے اَور کیوں نہیں چلیے آگے تَفصِیل آ جائے گی، اَچھّا۔ وَالغِنَاءِ وَالنَّوْحِی اَور اِسی طَرَح بھئی اُجَارَہ گَانے پَر، بھئی! آپ ایک اَدْمی کو لاتے ہیں بھئی! گَانَا سُنَاو۔ بھئی! آپ کو اِتنے پَیسے دیں گے۔ نہیں بھئی! یہ صَحِیح نہیں ہے۔ وَالنَّوْحِی بھئی! نَوحے کے لِیے کِسی کے اِنتِقَال ہُوا بھئی! اْس کے لِیے رونے والیاں بُلائی جََاتیں ہیں کہ تُم نے خوب رونا ہے، چِیخنا چلّانا ہے، تُمہیں اتنی اُجرَت دِی جَائے گی، نہیں مولانا! گَانَا ہے، نَوحَہ کرنا ہے، اِس کی اُجرَت صَحِیح نہیں۔ وَالمَلَاھِی اَور اِسی طَرَح سَارے لَھْو ولَعِب والی چِیزیں ہیں، وَعَصْبِ التَّیْسِ اَور اِسی طَرَح مولانا! عَصْب کَمانَا جُفتِی کَرَوَانَا، التَّیسْ تَبس کہتے ہیں بکرے کو، مُراد نَر ہے، بھئی دِہات میں ہوتا ہے، گَائے وَغَیرَہ کو لے جَاتے ہیں کِسی کے پَاس بَیل ہوتا ہے، جُفتِی كَرَوَاتے ہیں، بچّے کے لِیے اَور اُس کی اُجرَت دِی جَاتِی ہے، بَقَاعَدَہ بَاز لوگ کیا کرتے ہیں؟ اُجرَت، یہ دُرُست نہیں ہے، مولانا! جَائِز نہیں ہے، حَرَام ہے، بھئی! وَھْیَ عَصْبُ التَّیْسِ بھئی! وَعَصْبُ التَّیْسِ اَور نَر کی جُفتِی کروانے کی اُجرَت، وَیُفْتَلُ الیَوْمَ دیکھَا خود بتلا رہے ہیں وَیُفْتَلُ الیَوْمَ آج کے دِن فَتوَى دِیَا جَائے گا بِصِحَّتِھَا اِس اِجَارَہ کے صَحِیح ہونے کا لِتَعْلِیمِ القُرْآنِ وَالفِقْہِ تَعْلِیمِ قُرْآن اَور فِقہ میں اِس میں جَائِز ہے، مولانا! مَعلُوم ہُوا آپ کی ٹِیُوشَن بَچ گَئی، بھئی! سَمَجھ میں آيَا؟ یہ تو یہیں پَر مَسئَلَہ آگیا۔
تو تَعْلِیمِ قُرْآن اَور فِقہ پَر بھی بھئی!
وَالبَے ضَابِطَہ کیا تھا؟ کیوں جَائِز نَجَائِز کی بات آپ نے کی تھی؟ کہتے ہیں وَالأصْلُ عِنْدَنَا ضَابِطَہ ہَمارے نَزدِیک یہ ہے کہ اَنَّہُ لَا یَجُوزُ الإجَارَةُ عَلَی الطَّاعَاتِ وَلَا عَلَی المَعَاصِی اِطَاعَاتوں پَر بھی اِجَارَہ جَائِز نہیں اَور مَعَاصِی پَر بھی اِجَارَہ جَائِز یہ تَعْلِیمِ قُرْآن، نَمَاز، اَذَان، اِمَامَت، یہ سَاری تو کیا ہیں؟ طَاعَات ہیں، عِبَادَات ہیں، مَسَلَن بھئی! تو اَللہ کی طَاعَت ہیں، لِحَاظَا اَب کیا اِن پَر اِجَارَہ جَائِز؟ نہیں، اِسی طَرَح گُنَاہ کے جو کام ہیں، اَن پَر بھی اِجَارَہ جَائِز نہیں، یہ ضَابِطَہ ہے، بھئی!
لِیکِن فِیر ان کے جَوَاز کا فَتوَى کیوں دِیَا گَیا؟ وہ بتلا رہے ہیں لَاكِن لَمَّا وَقَعَ الفُتُورُ فِی الأُمُورِ الدِّينِیَّةِ اِلی کَب وَاقِع ہو گئی سُستی اَور کوتَاہی اُمورِ دِینِیَّہ کے اَندَر، تو يُفْتَا بِصِحَّتِھَا تو فَتوَى دِیَا جَائے گا اِس اِجَارَہ کے صَحِیح ہونے کا لِتَعْلِیمِ القُرْآنِ وَالفِقْھِ تَعْلِیمِ قُرْآن اَور فِقہ کے لِیے، تَحَرُّزًا عَنِ الإندِرَاسِ بَچنے کے لِیے اِن کے مِٹنے سے، اِن کے کِتکاکہِیں یہ مِٹ ہی نہ جَائیں، بھئی! اَگر ہم اِس کے اِجَارَہ کو مَنع کر دِیتے ہیں، کہ تَعْلِیمِ قُرْآن اَور تَعْلِیمِ فِقہ پَر اِجَارَہ جَائِز نہیں، بھئی! فِیر تو بھئی! آھِستہ آھِستہ یہ چِیزیں ہی مِٹ جَائیں گی، بھئی! سَمَجھ میں آيَا؟ تَعْلِیمِ قُرْآن کے لِیے تو بَڑا وَقت دِينَا پَڑتَا ہے، اَب جَب کِسی کو پَیسے ہی نہیں مِلیں گے، تو لِحَاظَا وہ اَپنے گھر والوں کے مَعَاش کی فِکر میں اَور کام کرے گا، اِس کام کی طَرَف زِیَادہ تَوَجُّہ نہیں کرے گا، بھئی! اَپنے گھر والوں کے گھر والوں کا کھَانَا پِینے کَا خَرچہ نہیں پُورَا ہوتا، تو تَعْلِیمِ قُرْآن کی طَرَف اِنسان کَہاں سے تَوَجُّہ دے پَائے گا؟ لِحَاظَا فُقہَاء نے کیا فَرمایَا کہ یہ چِیزیں کہیں رَفتَا رَفتَا مِٹ نہ جَائیں، لِحَاظَا اِن پَر اَب اُجرَت لينَا جَائِز ہے، سَمَجھ میں آيَا؟ اِسی طَرَح اَب اَذَان، اَذَان پَر بھی ہے، جَائِز ہو گیا مولانا! اِمَامَت پَر بھی اُجرَت جَائِز ہو گئی، بھئی!
تو اِن دَر اَصل اِن دَری سے کہ مَعنٰی ہوتا ہے مِٹ جَانَا، خَتْم ہو جَانَا کِسی چِیز کا، تاکہ کہیں یہ چِیزیں مِٹ نہ جائیں، اِس سے بَچنے کے لِیے جَائِز ہے اَب۔ وَیُجْبَرُ المُسْتَأجِرُ عَلَی دَفْعِ مَا قِیلَا اَور جِی! تو جَب یہ چِیزیں جَائِز ہو گَئیں، دیکھیے! یُجْبَرُ، چَاھے تو آپ اِسی سے تَعَلُّق رَکھیں چَاھے اِس کو عَام رَکھیں، تو مَجبُور کِیا جَائے گا مُسْتَأجِر کو عَلَی دَفْعِ مَا قِیلَا اُس چِیز کے دینے پَر جو کہا گَیا تھا، بھئی! جو چِیز کہی گئی تھی مَسَلَن، بھئی!
ایک آدَمی نے دُوسرے کو اِجَارَہ پَر رَکھا کہ آپ مِیرے بچّوں کو قُرْآن کی تَعْلِیم دِجیے، مَیں آپ کو ایک مَاہ کے پانچ حَزَار دُونگا، بھئی! وہ پَڑھَاتَا رَھا، مَہِينَہ گُزَر گیا، تو کہتے ہیں نہیں، بھئی! آپ نے فِقہ میں نہیں پَڑھَا کہ تَعْلِیمُ القُرْآن پَر اُجرَت لينَا جَائِز نہیں، بھئی! مَیں تو نہیں دیتَا کوئی اُجرَت، کہتے ہیں نہیں، بھئی! آپ نے مَسئَلَہ پَڑھ لِیا کہ وہ مُتَقَدِّمِین کے نَزدِیک تھا، اُس وَقت دِين بَڑی قُوّت کے اَندَر تھا، آج تو دِين کی یہ حَالت آ گئی ہے جو آپ دیکھ رَہے ہیں، مولانا! مَدَارِس، مَسَاجِد ko گرَایَا جَارَھَا ہے، اَور پُورِی قَوم میں سے کوئی بولنے والا نہیں ہے، بھئی! پُورِی قَوم میں سے سَمَجھ میں آيَا؟ اَور خوف سَمَجھ میں آيَا، سَارِی قَوم تَقْرِیبًا اِس وَقت اُن کے خِلَاف ہوئی بَیتھی ہے، سَارِی قَوم۔
دِين کے خِلَاف بولنے کی رِوَایَت، جو کُفّار کا طَرِیقَہ تھا، اَج مُسَلمَانوں میں بھی آگیا ہے، ہَر شَخص اِن کے خِلَاف بول رَہَا ہے، ہَر شَخص۔
چلیں، ھذا ھو المرام واَللہُ اَعْلَمُ بِحَقِیقَةِ الكَلَام۔