Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-020

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 68
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وإن شرا بيضا أو بطيخا أو قثاء أو خيارا أو جوزا فكسر فوجد فاسدا فله نقصان في المنتفع به وكل ثمنه في غيره. صورت مسئلہ یہ ہے کہ کسی شخص نے انڈا خریدا یا دیکھیے بھئی متن میں یہ آسان مسئلہ ہے عبارت دیکھتے جائیے. وإن شرا عبدا اور اگر خریدا بھئی مشتری نے بیضا کہ انڈا بھئی. أو بطيخا بطيخ بھئی تربوز کو بھی کہتے ہیں، خربوزے کو بھی کہتے ہیں. أو بطيخا یا مولانا خربوزہ خریدا یا تربوز خریدا. أو قثاء قثاء کہتے ہیں ککڑی کو بھئی، ککڑی جانتے ہو بھئی. ککڑی. أو قثاء یا ککڑی خریدی. أو خيارا خيار کھیرے کو کہتے ہیں بھئی، یا کھیرا خریدا. أو جوزا یا اخروٹ خریدا. فكسرا پس اس کو توڑا. فوجد فاسدا تو اس کو خراب پایا. اب کیا کریں؟ کہتے ہیں فله نقصان في المنتفع کہتے ہیں دو صورتیں ہیں بھئی توڑنے کے بعد جو جس کو توڑا ہے وہ قابل انتفاع ہوگا یا قابل انتفاع نہیں ہوگا بھئی. اگر کسی بھی نفع کے قابل ہے وہ، تو اس صورت میں جو نقصان ہے، وہ وصول کر لیں گے، واپس نہیں کر سکتا کیونکہ توڑ کر اس میں اس نے ایک نیا عیب پیدا کر دیا اور آپ نے پڑھا ہے بھئی کہ نیا عیب پیدا کر دو تو اس کو واپس نہیں کر سکتا، نہیں کر سکتا، الا یہ کہ بائے راضی ہو بھئی. تو اب یہ جو اس نے توڑا ہے اگر یہ قابل انتفاع ہے، کسی کام آ سکتا ہے، تو اس صورت میں کیا کر لے گا؟ رجوع بن نقصان کر لے گا بھئی. اور اگر یہ کسی بھی قابل نہیں، بالکل ردّی ہے، خراب ہے بھئی، کوئی نفع نہیں اس سے اٹھایا جا سکتا، تو پھر اس صورت کے اندر بھئی سارے ثمن واپس وصول کر لے گا بھئی. کیونکہ یہ چیز کسی بھی لحاظ سے قابل انتفاع نہیں ہے، تو معلوم ہوا یہ مال ہی نہیں ہے، جب مال ہی نہیں ہے تو بیع کیا ہوئی؟ ختم. تو کہتے ہیں اس کو خراب پایا فله نقصانه في المنتفع به تو اس کے لیے اس کا نقصان ہوگا، یعنی وہ اپنے نقصان کو وصول کر لے گا. في المنتفع به کس صورت میں؟ منتفع بہ کس صورت میں جس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے. وكل ثمنه في غيره اور سارے ثمن ہوگا اس مشتری کے لیے. في غير المنتفع به غیر منتفع بہ کے اندر جب وہ قابل انتفاع نہیں ہے بھئی. صورت مسئلہ سمجھ میں آگئی بھئی. ومن باع مشريہ و رد عليه بعيب بقضاء بإقرار أو ببينة أو نكول رد علي بايعہ و إن رد برضاہ لا. اگلا مسئلہ سمجھنے سے پہلے تین مقدمات سمجھ لیں بھئی. مقدمہ اول یہ جو آپ پڑھ بھی چکے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو خریدے اور اس کو آگے بیچ دے، تو اب نہ اور پھر عیب کا پتہ چلے، تو نہ اس کو واپس کر سکتا ہے اور نہ نقصان رجوع بن نقصان کر سکتا ہے. کیا مسئلہ پڑھا ہے آپ نے بھئی؟ اگر کوئی شخص کسی چیز کو خریدے اور اس کو آگے بیچ دے تو اس کا واپس بھی نہیں کر سکتا اور رجوع بن نقصان بھی نہیں کر سکتا. کیوں واپس اس لیے نہیں کر سکتا کیونکہ بیچ چکا ہے، غیر کا حق اس سے وابستہ ہو گیا اور رجوع بن نقصان بھی نہیں کر سکتا اس لیے کہ یہ حابس للمبیع ہوا، بیع کے ذریعے کیا ہوا؟ مبیع کو رد سے روکنے والا ہوا بھئی، ہو سکتا ہے بائے اس کو واپس لے لیتا. समझ میں آیا تو مقدمہ اول یہ ہوا کہ بیع کے ذریعے مبیع کا نہ رد ہو سکتا ہے اور نہ رجوع بن نقصان ہو سکتا ہے، یہ مقدمہ اول ہوا بھئی. مقدمہ ثانیہ بھئی. آپ نے اگر مقدمہ ثانیہ، اگر رد اقرار کی وجہ سے ہو بھئی، ایک چیز آپ نے خریدی تھی اس کے اندر کیا نکل آپ نکل آیا بھئی؟ عیب نکل آیا تو آپ واپس کرتے ہیں تو وہ واپس کرنا اگر مشتری بائے کے اقرار کی وجہ سے ہے، کس کی وجہ سے ہے؟ بائے کے اقرار کی وجہ سے ہے، چاہے وہ اقرار آپ کے سامنے کرکے لے لے، چاہے قاضی کے سامنے اقرار کرکے مبیع کو واپس لے لے، پس واپس لے اقرار کے ساتھ. تو اس صورت میں اب اس نے چیز تو واپس لے لی، ان دونوں کے درمیان بیع فسخ ہو گئی، کیا ہو گئی؟ ان دونوں نے بیع کو فسخ کر لیا. لیکن یاد رکھو، یہ ان دونوں کے حق میں تو فسخ بیع ہے، باقی تمام افراد کے لیے یہ بیع جدید ہے بھئی، کیا ہے بیع جدید. مقدمہ ثانیہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک آدمی نے دوسرے کو چیز بیچی، اس میں عیب کا پتہ چلا، اس نے واپس کر دی، اس کی رضامندی سے، یا اس کے اقرار کے ساتھ، بھئی اس نے بھی اقرار کر لیا کہ اس میں کیا تھا؟ عیب تھا، چاہے اس کے سامنے اقرار کرے، چاہے قاضی کے سامنے اقرار کرے، بس اقرار کے ساتھ چیز واپس لے لیتا ہے یا یوں کہو دوسرے آسان لفظوں میں اپنی مرضی سے چیز واپس لے لیتا ہے، جب اقرار کر رہا ہے تو وہ رضامند ہے چیز کو واپس لینے پر، تو اپنی مرضی سے چیز کو واپس لے لیتا ہے، تو ان دونوں کے حق میں تو یہ فسخ بیع ہے، لیکن باقی افراد کے حق میں یہ بیع جدید ہے، بیع جدید ہے. یہ دونوں تو کہہ رہے ہیں ہم نے بیع کی تھی اس کو فسخ کر دی، ٹھیک ہے بھئی، آپ دونوں نے اپنا معاملہ کیا تھا، دونوں نے اس کو کیا کر دیا؟ فسخ کر دیا. لیکن تیسرا شخص، جو بھی ان دونوں کے علاوہ ہے، وہ تیسرا ہے ان کا، تو یوں کہو تیسرے کے اعتبار سے، یا یوں کہو سارا باقی تمام کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ بیع جدید ہے. समझ میں آئی بات؟ کیونکہ بھئی باقیوں کے لیے ہم اس کو فسخ نہیں قرار دے سکتے، باقیوں کے سامنے تو ایک دفعہ بیع ہو چکی تھی، اور اب یہ اپنی مرضی کے ذریعے اس چیز کو کیا کر رہا ہے؟ واپس لے رہا ہے اور ثمن اس کے حوالے واپس کر رہا ہے، تو ان دونوں کو باقی ساروں پہ ولایت حاصل ہے؟ جی، باقی کسی پر ان کو ولایت حاصل نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا باقی کسی پر، ان کو اپنے نفس کی ولایت حاصل ہے، بس اپنے اپنے نفس کی بھئی، تو یہ اپنے لیے تو فسخ کر سکتے ہیں، لیکن غیر کے حق میں بھی یہ کہیں یہ فسخ ہے، تو اس کو فسخ شمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ یہ کیا شمار ہوگی؟ بیع جدید شمار ہوگی بھئی. تو یہ چیز تو واپس ہوئی ہے اس کی مرضی سے، اس کے اقرار سے، اور اقرار حجت قاصرہ ہے، کیا ہے حجّت قاصرہ. یعنی، یوں کہیں کہ دلیل ہے، حجت دلیل ہے، لیکن کامل نہیں ہے، بلکہ قاصر ہے، دلیل قاصر ہے بھئی، کامل نہیں، ناقص دلیل ہے. یعنی معنی یہ ہے. کہ اس کا تعلق صرف ان کی اپنی ذات سے ہو سکتا ہے، غیر سے اس کا تعلق نہیں، غیر سے اس کا تعلق نہیں ہو سکتا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس میں تعدیہ نہیں، غیر کے لیے بھی اس بیع کو اب فسخ قرار نہیں دے سکتے بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ مقدمہ اولی کیا ذکر ہوا؟ اگر کوئی چیز کسی کو فروخت کر دی جائے، تو پھر نہ تو اس میں رد ممکن ہے کیونکہ اب اس کا مالک کوئی اور بن چکا ہے، اور نہ ہی رجوع بن نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے کہ مشتری کیا ہو چکا ہے کیا بن چکا ہے؟ حابس للمبیع بن چکا ہے. دوسرا مقدمہ یہ ذکر ہوا کہ جب چیز کو بائے کی مرضی سے واپس کر دیا جائے، تو یہ ان دونوں کے لیے تو فسخ ہے، لیکن باقیوں کے لیے یہ بیع جدید ہے، اس لیے کہ ان کو صرف اپنی ولایت حاصل ہے، غیر پر ان کو ولایت حاصل نہیں ہے، تو یہ چیز اس کو واپس ہوئی ہے اس کے اپنے اقرار کی وجہ سے، اور اقرار ہے حجت قاصرہ، حجت قاصرہ ہے، یعنی نامکمل دلیل ہے، نامکمل دلیل، اس کی وجہ سے انسان کا تو مواخذہ ہو سکتا ہے، غیر کا اس کی وجہ سے مواخذہ نہیں ہو سکتا، آپ ایک چیز کا اقرار کرتے ہیں تو اس پر آپ کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے کسی اور کا مواخذہ نہیں تو اقرار صرف اپنے حق میں تو معتبر ہے، غیر کے حق میں معتبر نہیں ہے. یہ دوسرا ضابطہ بھی سمجھ میں آ گیا. تیس تو معلوم ہوا بھئی اقرار میں تعدی نہیں ہے، اقرار کیا ہے حجت قاصرہ، اس میں مواخذہ اسی شخص کا ہوتا ہے، اس میں تعدیہ نہیں ہے بھئی، غیر کا مواخذہ یا متعدد تجاوز کرکے غیر سے بھی تعلق ہو جائے، ایسا نہیں ہے بھئی، تو اقرار میں تعدیہ نہیں، یہ غیر کی طرف متعدی نہیں ہوتا، غیر کا اس کے ذریعے مواخذہ نہیں ہو سکتا، اپنی ذات کا ہو سکتا ہے. تیسرا مقدمہ یہ بھئی، کہ اگر قاضی کے فیصلے سے رد ہو تو یہ فسخ ہے سب کے لیے. اگر وہ چیز قاضی کے فیصلے کے ذریعے رد ہو. تو اب یہ فسخ ہے سب کے لیے، فسخ ہے سب کے لیے، کیونکہ قاضی کو ولایت عامہ حاصل ہے سب پر، کیونکہ قاضی کو ولایت عامہ حاصل ہے، یعنی سب پر ولایت حاصل ہے. تیینوں مقدمات سمجھ میں آ گئے بھئی؟ اچھی طرح، پہلا مقدمہ کیا ذکر ہوا کہ اگر کوئی چیز بیچ دی تو اس کو واپس بھی نہیں کیا جا سکتا اور رجوع بن نقصان بھی نہیں کیا جا سکتا بھئی. دوسرا مقدمہ یہ ذکر ہوا کہ اگر کوئی شخص کو کوئی عیب کی وجہ سے چیز واپس کی جائے اور وہ اپنی مرضی سے چیز کو واپس لے لے، تو یہ ان کے حق میں تو عقد کرنے والوں کے حق میں تو فسخ بیع ہے، لیکن باقی سب کے لیے یہ بیع جدید ہے، اس لیے کہ ان کو صرف اپنی ولایت حاصل ہے، غیر پر ان کو ولایت حاصل نہیں ہے، تو یہ چیز اس کو واپس ہوئی ہے اس کے اپنے اقرار کی وجہ سے، اور اقرار ہے حجت قاصرہ، حجت قاصرہ ہے، یعنی نامو ناممکمل دلیل ہے، ناممکمل دلیل، اس کی وجہ سے انسان کا تو مواخذہ ہو سکتا ہے، غیر کا اس کی وجہ سے مواخذہ نہیں ہو سکتا، آپ ایک چیز کا اقرار کرتے ہیں تو اس پر آپ کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے کسی اور کا مواخذہ نہیں تو اقرار صرف اپنے حق میں تو معتبر ہے، غیر کے حق میں معتبر نہیں ہے. یہ دوسرا ضابطہ بھی سمجھ میں آ گیا. تیسری تو معلوم ہوا بھئی اقرار میں تعدی نہیں ہے، اقرار کیا ہے حجت قاصرہ، اس میں مواخذہ اسی شخص کا ہوتا ہے، اس میں تعدیہ نہیں ہے بھئی، غیر کا مواخذہ یا متعدد تجاوز کرکے غیر سے بھی تعلق ہو جائے، ایسا نہیں ہے بھئی، تو اقرار میں تعدیہ نہیں، یہ غیر کی طرف متعدی نہیں ہوتا، غیر کا اس کے ذریعے مواخذہ نہیں ہو سکتا، اپنی ذات کا ہو سکتا ہے. تیسرا مقدمہ یہ بھئی، کہ اگر قاضی کے فیصلے سے رد ہو تو یہ فسخ ہے سب کے لیے. اگر وہ چیز قاضی کے فیصلے کے ذریعے رد ہو. تو اب یہ فسخ ہے سب کے لیے. فسخ ہے سب کے لیے، کیونکہ قاضی کو ولایت عامہ حاصل ہے سب پر. کیونکہ قاضی کو ولایت عامہ حاصل ہے، یعنی سب پر ولایت حاصل ہے. تینوں مقدمات سمجھ میں آ گئے بھئی؟ اچھی طرح، پہلا مقدمہ کیا ذکر ہوا کہ اگر کوئی چیز بیچ دی تو اس کو واپس بھی نہیں کیا جا سکتا اور رجوع بن نقصان بھی نہیں کیا جا سکتا بھئی. دوسرا مقدمہ یہ ذکر ہوا کہ اگر کوئی شخص کو کوئی عیب کی وجہ سے چیز واپس کی جائے اور وہ اپنی مرضی سے چیز کو واپس لے لے، تو یہ ان کے حق میں تو عقد کرنے والوں کے حق میں تو فسخ بیع ہے، لیکن باقی سب کے لیے یہ بیع جدید ہے، اس لیے کہ ان کو صرف اپنی ولایت حاصل ہے، غیر پر ان کو ولایت حاصل نہیں ہے، تو یہ چیز اس کو واپس ہوئی ہے اس کے اپنے اقرار کی وجہ سے اور اقرار ہے حجت قاصِرہ، حجت قاصرہ ہے، یعنی نام کا نہ مکمل دلیل ہے، نامکمل دلیل، اس کی وجہ سے انسان کا تو مواخذہ ہو سکتا ہے، غیر کا اس کی وجہ سے مواخذہ نہیں ہو سکتا، آپ ایک چیز کا اقرار کرتے ہیں تو اس پر آپ کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے کسی اور کا مواخذہ نہیں، تو اقرار صرف اپنے حق میں تو معتبر ہے، غیر کے حق میں معتبر نہیں ہے. یہ دوسرا ضابطہ بھی سمجھ میں آگیا. تیسری تو معلوم ہوا بھئی اقرار میں تعدی نہیں ہے، اقرار کیا ہے حجت قاصِرہ، اس میں مواخذہ اسی شخص کا ہوتا ہے، اس میں تعدیہ نہیں ہے بھئی، غیر کا مواخذہ یا متعدد تجاوز کرکے غیر سے بھی تعلق ہو جائے، ایسا نہیں ہے بھئی، تو اقرار میں تعدیہ نہیں، یہ غیر کی طرف متعدی نہیں ہوتا، غیر کا اس کے ذریعے مواخذہ نہیں ہو سکتا، اپنی ذات کا ہو سکتا ہے. جبکہ قاضی کے فیصلے کے سے اگر کوئی چیز واپس کی جائے، تو قاضی کو تو ولایت عامہ حاصل ہے، سب پر ولایت حاصل ہے، لہذا سب کے لیے کیا شمار ہوگی؟ فسخ اور فسخ بیع تو یہ مانا کہ گویا بیع ہوئی ہی نہیں، بیع گویا کہ ہوئی ہی نہیں. اب یہ تین مقدمات زہن میں رکھنا بھئی، زہن میں رکھنا بھئی. صورت مسئلہ یہ ہے بھئی، توجہ سے سنو بھئی، مشکل مسئلہ ہے. زيد نے ایک چیز آپ کے ہاتھ فروخت کی بھئی. اور پھر وہ چیز آپ نے آگے بکر کو فروخت کر دی. تو زید ہوا بائع اول. اور پھر آگے کس نے فروخت کی؟ آپ نے، آپ کون ہوئے بائع ثانی. اور دوسرے لفظوں میں یوں کہو، آپ ہیں خریدنے والے، تو آپ کون ہیں مشتری اول اور آگے جو دوسرا جس نے آپ سے خریدی وہ کون ہوا مشتری ثانی. تو معلوم ہوا زید صرف بائع اول ہے، بکر صرف مشتری ثانی ہے، جبکہ آپ کیا ہیں؟ بائع ثانی بھی ہیں اور مشتری اول، آپ کی دو حیثیتیں ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اب یہ لفظ یاد رکھنا بائع ثانی، بائع ثانی بولا جائے تو بھی آپ مراد، مشتری اول بولا جائے تو بھی آپ مراد ہیں. अच्छा، تو آپ نے آگے چیز بکر کو فروخت کر دی، بکر کو اس میں عیب نظر آیا، بکر نے وہ چیز آپ کو واپس کر دی، اب یہ جو آپ کو اس نے چیز واپس کی یا تو اپنی مرضی سے آپ اس چیز کو لے لیں گے یا اپنی مرضی سے نہیں لیتے تو قاضی کے فیصلے کے ذریعے اس کو کیا کریں گے؟ واپس لے لیں گے. جب آپ نے اس چیز کو اپنی مرضی سے واپس لے لیا یا یوں کہو اپنے اقرار سے لے لیا، دونوں کا ایک ہی معنی ہے. تو بھئی، یہ آپ دونوں کے درمیان تو کیا ہے؟ مشتری ثانی اور مشتری اول کے درمیان تو یہ کیا ہوا؟ فسخ بیع ہو گئی، لیکن تیسرے باقوں کے حق میں یہ کیا ہے؟ بیع جدید ہے، معلوم ہوا زید کے لیے بھی یہ کیا بن گئی؟ بیع جدید، معلوم ہوا اب آپ یہ چیز بائع زید کو واپس نہیں کر سکتے، کیونکہ ایک دفعہ بیچنے سے چیز واپس نہیں ہوتی، تو یہ تو دو بیع بن گئیں، ایک آپ نے بقر کو بیچی پھر بقر نے واپس آپ کو بیچی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اب آپ زید کو وہ چیز واپس نہیں کر سکتے، کیونکہ ایک نہیں، بلکہ اب تو کتنی بیع آ گئیں؟ دو بیع آ گئیں بھئی. تو جب بیع چیز بیچی جائے تو ردّ کا حق ختم ہو جاتا ہے کیونکہ غیر کا حق کیا ہوا اس سے؟ وابستہ ہو چکا. دوسری صورت یہ ہے کہ قاضی کے فیصلے کے ذریعے چیز آپ کو واپس کرتا ہے بکر بھئی. تو قاضی کا فیصلہ یا تو اقرار کے ذریعے ہوگا یا بینہ کے ذریعے ہوگا یا انکار عن القَسَم کے ذریعے ہوگا. کس کے ذریعے ہوگا؟ اقرار. देखو، آسان صورت دیکھتے جاؤ، یہ بکر چلا گیا قاضی کے پاس، قاضی صاحب اس چیز میں عیب ہے اور یہ بائے جو ہے، یہ اب مجھ سے واپس نہیں لے رہا بھئی، آپ کے بارے میں شکایت کی بھئی، قاضی آپ کو بھی طلب کر لے گا، تو اب مدعی کون ہوا بھئی؟ مشتری ثانی جو کہ بکر ہے. اس سے قاضی بینہ طلب کرے گا کہ لو پیش کرو گواہ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی کہ اس نے عیب دار چیز آپ کو دی ہے، بھئی. تو وہ دو گواہ پیش کرے گا، اگر اس نے گواہ پیش کر دیے، تو قاضی کیا کر دے گا؟ آپ کے اور بکر کے مابین بیع کو فسخ کر دے گا اور وہ چیز آپ کو تو یہ چیز آپ کو واپس ہوئی قاضی کے فیصلے کے ذریعے، اور قاضی فیصلہ کر دے تو یہ کیا شمار ہوتا ہے؟ فسخ شمار ہوتا ہے، تو فسخ شمار ہوتا ہے، تو گویا آپ میں اور بکر میں بیع ہوئی ہی نہیں. لھذا اب آپ کو حق حاصل ہے کہ بائے اول کو وہ چیز واپس کر سکتے ہیں. یہ صورت بھی سمجھ میں آگئی. تیسری صورت ہے کہ قاضی فیصلہ کرتا ہے چیز آپ کو واپس ہوتی ہے لیکن اقرار کی وجہ سے. کس کی وجہ سے؟ اقرار کی، لیکن وہ اقرار نہیں یہ سمجھنا جو میں نے پہلے ذکر کیا تھا بھئی، کہ آپ قاضی کے پاس جاتے ہیں اور کیا کر لیتے ہیں؟ اقرار کر لیتے ہیں یہ وہ مراد نہیں آگے خود ذکر کریں گے صاحب کتاب کہ اقرار کا معنی یہ ہے کہ آپ نے کسی اور کئی گواہوں کے سامنے، کئی لوگوں کے سامنے ایک دفعہ ذکر کر دیا تھا بھئی کہ میں نے بکر کو کس قسم کی چیز بیچی ہے؟ عیب دار چیز بیچی ہے، عیب دار چیز بیچی ہے۔ تو بکر اب قاضی کے پاس جاتا ہے کہ قاضی صاحب اس نے کئی آدمیوں کے سامنے کیا کیا تھا؟ اقرار کیا تھا بھئی۔ اب قاضی کے سامنے یہ اقرار نہیں کر رہا بلکہ اقرار اس نے کس کے سامنے کیا تھا؟ اور لوگوں کے سامنے ان کو بطور گواہ کے بکر لے آتا ہے کہ قاضی صاحب یہ دو تین چار گواہ میں پیش کر دیتا ہوں اس نے کیا کیا تھا؟ ان کے سامنے اس نے تسلیم کیا تھا کہ میں نے عیب دار چیز بیچی ہے، بیچی ہے۔ تو اب اس نے آپ کے اقرار پر کیا پیش کیا؟ بینہ پیش کیا۔ کس پر پیش کیا بینہ؟ تو آپ اس اقرار سے ہیں انکاری اور وہ ہے اس کا مدعی تو وہ اس اقرار پر کیا پیش کرے گا؟ بینہ بھئی بینہ بھئی، پھر آپ پر کیا آئے گی؟ قسم آنی تھی لیکن اس نے بینہ پیش کر دی اقرار پر۔ جب اقرار پر بینہ پیش کر دی تو اب بھی قاضی فیصلہ کر دے گا کہ یہ کیا کر چکا ہے؟ اقرار کر چکا ہے لہٰذا میں بائع کو فسخ کرتا ہوں اور وہ چیز اس کو کیا کی جائے؟ واپس جب آپ کو قاضی کے فیصلے سے واپس ہوئی تو بائع فسخ ہو چکی ہے لہٰذا اب آپ کو پھر حق حاصل ہے کیا کر سکتے ہیں؟ واپس کر سکتے ہیں صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ صورت ہے بھئی پانچ صورتیں ہو گئیں مسئلے کی بھئی ایک صورت ہے قاضی کے پاس گئے ہی نہیں آپ نے خود اقرار کیا اور چیز کو واپس لے لیا، دوسری صورت قاضی کے سامنے آپ نے خود یہ اقرار کر لیا اور چیز کو واپس لے لیا ان دو صورتوں میں یاد رکھنا آپ زید کو وہ چیز واپس نہیں کرنا، نہ اس کے ساتھ خصومت کر سکتے ہیں کیونکہ اپنی مرضی سے چیز لی ہے اور اپنی مرضی سے جب چیز لی ہے تو یہ بائع جدید ہے سب کے لیے۔ اور باقی تین صورتیں تھیں ایک یہ کہ اقرار پر کیا کیا تھا اس نے؟ کیا پیش کیے تھے؟ بینہ پیش کیے تھے اقرار پر بینہ پیش کیے تھے بھئی تو یہ اقرار کے ذریعے فیصلہ ہوا، دوسری صورت کہ اس نے عیب پر کیا پیش کیے؟ گواہ پیش کیے، تیسری صورت کہ مشتری اول نے کس چیز سے انکار کیا تھا؟ قسم سے انکار کیا تھا، ان تینوں صورتوں میں فسخ بائع ہے لہٰذا آپ کیا کر سکتے ہیں؟ پہلے بائع کو وہ چیز واپس کرنے کا حق حاصل ہے مسئلہ سب کو سمجھ میں آگیا؟ देखिये بھئی۔ وعن باع مشريہ مشری دیکھا خریدی ہوئی چیز اور جس نے بیچا بھئی آپ نے کیا کیا تھا؟ آپ کون ہیں؟ مشتری اول تو جو آپ کے پاس چیز ہے وہ مشری ہے آپ کی خریدی ہوئی ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ نے اس مشری کو کیا کر دیا ہے آگے بیچ دیا وہ صورت ذکر کر رہے ہیں تو یہ رجل متوسط جو تھا اس کا ذکر آ گیا وہ مراد ہے من سے۔ ومن باع اور جس نے بیچا مشريہ اپنی خریدی ہوئی چیز کو ورد علیہ بيع اور وہ چیز اس کو واپس کر دی گئی عیب کی وجہ سے بقضائ کس کے ذریعے بھئی؟ قضاۓ ہاں قضا قضا کے ذریعے اس کو واپس کی گئی بيقرار اور وہ قضا کس کے ذریعے تھا؟ اقرار کے ذریعے او ببينت یا کس کے ذریعے؟ بینہ کے ذریعے او نقول یا کس کے ذریعے؟ نقول کا معنی انکار یا انکار کے ذریعے بھئی۔ بھئی نقول کس چیز سے انکار تھا؟ قسم سے، بینہ کس چیز پر بینہ تھی؟ کہ یہ چیز اس نے مجھے کیسے فروخت کی ہے؟ عیب دار اور اقرار اقرار سے کون سا اقرار مراد ہے جو قاضی کے سامنے جا کر یہ اقرار کرتا ہے یا وہ اقرار جو کس کے ذریعے ثابت ہوا ہے؟ بینہ کے ذریعے وہ مراد ہے۔ تو ان تینوں صورتوں میں رد على بائعہ یہ شخص بھی کیا کر سکتا ہے؟ اپنے بائع پر یعنی بائع اول پر اس چیز کو رد کر سکتا ہے اور ان ردا برضاھ اور اگر وہ مبیع واپس کیا گیا تھا کس کی وجہ سے؟ اس کی رضامندی کی وجہ سے یعنی اس کے اپنے اقرار کی وجہ سے چاہے اس نے خود یہاں اقرار کیا ہے یا قاضی کے سامنے اقرا دونوں صورتوں میں لا اب مبیع واپس زید کو نہیں کر سکتا دیکھیے خوبصورت بنا رہے ہیں۔ اشترا شيا ایک مشتری نے خریدی کوئی چیز ثم باعه پھر اس کو آگے فروخت کر دیا فدع المشتری ثانی عیبا علی المشتری الاولی پھر دعوی کر دیا مشتری ثانی نے عیب کا مشتری اول پر واثبت ذالک بالبینتی اور اس کو ثابت کیا عیب کو کس کے ذریعے؟ بینہ کے ذریعے او بالنقول یا کس کے ذریعے؟ انکار کے ذریعے او بالاقرار یا کس کے ذریعے؟ اقرار کے ذریعے کون سا اقرار مراد ہے جو کس کے ذریعے ثابت ہے؟ بینہ کے ذریعے فغض القاضی پھر پس قاضی نے فیصلہ کر دیا فردا على بائعہی پس واپس کر دیا گیا بائع کو کس پر؟ بائع پر۔ अच्छा या फरद على بائعہی تو واپس کیا گیا مبیع کو کس پر بھئی؟ اس کے بائع اول یعنی زید کو نہیں کس کو بھئی؟ بائع ثانی آپ مراد ہیں بھئی بائع ثانی کو قاضی کے فیصلے کی وجہ سے واپس کیا گیا کان لہ ان يخاصم البائع الاول تو اس بائع ثانی کے لیے جائز ہے کہ وہ خصومت کرے کس کے ساتھ؟ بائع اول کے ساتھ۔ अच्छा, اب بھئی میں نے کیا کہا تھا؟ اقرار کے ذریعے قاضی کے سامنے اقرار نہ مراد بلکہ وہ اقرار مراد ہے جو کس کے ذریعے ثابت ہو؟ یہ دیکھیں خود ذکر کر رہے ہیں کہ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں قال في الهدایة فرمایا ہے صاحب ہدایہ نے ہدایت کے اندر معنا القضا بالاقرار کہ قضا بالاقرار کا کیا معنی ہے؟ کہ اس نے اقرار کا کیا ہے؟ انکار کیا ہے۔ تو دونوں چاہے اقرار خود کر لے چاہے اقرار سے وہ انکار کرے اور پھر وہ کس کے ذریعے ثابت کرے؟ بینہ دونوں کا نتیجہ تو ایک ہی ہے۔ قلنا ہم جواب دیتے ہیں نحنو لم نجعل الاقرار حجة متعديا ہم نے اقرار کو کوئی حجت متعدیہ قرار نہیں جو غیر کی طرح تجاوز کرنے والی ہو ایسی حجت نہیں قرار دیا ولنقل اور ہم یہ نہیں کہتے کہ ان الرد علی المشتري الاول رد علی بائعه یہ جو مشتری اول پر واپس کرنا ہے کون ہے مشتری اول؟ بھئی جو آپ ہیں آپ ہیں مشتری اول کہ مشتری اول کو واپس کرنا رد علی بائہی بھئی یہ کس پر واپس کرنا ہے؟ بائع اول پر واپس کرنا ہے۔ ہم یہ کب کہتے ہیں کہ مشتری اول کو واپس کر دیا تو کس کو واپس کر دے گا وہ؟ تو مشتری اول کو واپس کرنا یہ بائع اول کو واپس کرنا نہیں ہے بل لہ ان يخاصم بائعاه بلکہ اس مشتری اول کو اب حق حاصل ہو گیا کس چیز کا؟ خصومت کا بائع اپنے بائع کے ساتھ بھئی۔ فان المشتري الثاني اذا اثبت اس لیے کہ مشتری ثانی نے جب یہ ثابت کر دیا ان العیب كان في يد المشتري الاولی کہ عیب کس کے قبضے میں تھا؟ مشتری اول کے قبضے میں تھا ورد عليه اور اس چیز کو اس پر واپس کر دیا۔ فالمشتري الاول پس مشتری اول جو ہے ان اثبت اگر اس نے یہ ثابت کر دیا اس کو یہ ثابت کرنا پڑے گا پھر واپس کرے گا کیا ثابت کرنا پڑے گا؟ کہ عیب کس کے قبضے میں تھا بھئی؟ بائع یعنی زید کے پاس تھا یہ اسے ثابت کرنا پڑے گا۔ اگر وہ یہ ثابت کر دیتا ہے رد عليه تو اس پر کیا کرے گا؟ یعنی دوبارہ خصومت کرنا پڑے گی بغیر خصومت کے اب زید کو واپس نہیں کر سکتا بھئی۔ والا فلا اور اگر ایسا نہ ہو تو واپس بھی یہ وکیلا دراصل تھا والالا میں نے آپ کو بتایا تھا الا سے پہلے واو آ جائے تو یہ حرف استثنا نہیں ہوتا بلکہ یہ مرکب ہوتا ہے کس سے؟ ان اور لا سے۔ ای لم يكن كذلك اگر ایسا نہ ہو (یعنی وہ ثابت نہ کر سکے کہ یہ عیب کس کے پاس تھا؟ زید کے پاس تھا تو وہ زید کو واپس بھی نہیں کر سکتا)۔ و الفرق بين اقراره عند القاضی وبين اثبات اقراره بالبینتی بھئی ایک اس کا اپنا اقرار ہے قاضی کے سامنے اس کے درمیان اور اس ایک وہ صورت ہے کہ اس کے اقرار کو کس کے ذریعے ثابت کیا جائے؟ بینہ کے ذریعے ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ انه اذا اقر عند القاضی کہ جب یہ خود اقرار کر لیتا ہے قاضی کے سامنے يكون طائعا في اخذ المبیعی تو یہ رضامند ہے مبیع کے لینے میں۔ یہ کیا ہے؟ تو اپنی مرضی سے لے رہا ہے فصار كاشترا من المشتري الثانی تو جب اپنی مرضی سے لے رہا ہے تو گویا کہ اس نے یہ اس نے خریدا کس سے؟ مشتری سے کیونکہ یہ کیا شمار ہوگی؟ بے جدید شمار ہوتی ہے۔ فلا يكون له ولاية الرد علی البائع الاول تو اب اس کو بائع اول پر واپس کرنے کی ولایت حاصل نہیں۔ اما اذا انكر اقراره بالعيب باقي وہ صورت جب اس نے انکار کیا اپنے اقرار بالعیب کا فيسبت بالبینتی تو یہ اقرار کس کے ذریعے ثابت ہوا ہے؟ بینہ کے ذریعے ثابت ہوگا تو لم يكن طائعا في الاخذ تو پھر یہ اب اس چیز کو واپس لینے میں رضامند۔ جب واپس رضامند نہیں تو يكون اخذه بحکم الفسخ تو اس کا یہ واپس لینا کس کے حکم سے ہوا؟ فسخ کے حکم سے ہوا کان لم يباع تو گویا کہ اس نے چیز کو آگے بیچا ہی نہیں تو اب اس کو خصومت کا حق حاصل ہو کس کے ساتھ اپنے بائع کے ساتھ۔ صورتِ مسئلہ یہاں تک سمجھ میں آ گئی؟ سب کو؟ وقد قیل یہ اگلے مسئلے کو سمجھنے کے لیے پھر ایک مقدمہ سمجھ لیں۔ مقدمہ یہ بھئی کہ قاضی جو ہے غائب کے خلاف نہ تو فیصلہ کر سکتا ہے نہ بینہ۔ قاضی غائب کے خلاف نہ تو بینہ سن سکتا ہے اور نہ فیصلہ کر سکتا ہے۔ کیا ضابطہ ہوا بھئی؟ قاضی غائب کے خلاف نہ تو بینہ سن سکتا ہے نہ فیصلہ کر سکتا ہے۔ اس لیے کہ بینہ تو سنی جاتی ہے جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے۔ اور دوسرا حاضر ہی نہیں ہے تو جھگڑا کہاں؟ دوسرا حاضر ہوگا تو جھگڑے کا بھی وجود پایا جائے گا۔ کیونکہ جھگڑے کے لیے کتنے آدمی چاہیے بھئی؟ دو۔ دو چاہیے۔ تو دوسرا حاضر ہی نہیں تو جھگڑا ہی نہیں۔ جب جھگڑا ہی نہیں تو بینہ کیوں سنے گا بھئی وہ؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو قاضی جب بھی فیصلہ کرے گا یا تو اس فریق ثانی کو موجود خود حاضر ہونا چاہیے یا اس کے نائب کو حاضر ہونا چاہیے۔ یا اس کے نائب کو حاضر ہونا چاہیے اور نائب تین قسم کے ہیں۔ یا نائب ہوگا حقیقتاً یا شرعاً یا حکماً۔ نائب کتنی قسم پر ہیں؟ تین قسم پر ہیں۔ یا تو نائب ہوگا حقیقتاً یا شرعاً یا حکماً۔ نائب حقیقتاً بھئی جسے انسان نے خود اپنا نائب بنایا ہو جیسے وکیل ہے۔ جیسے وکیل ہے۔ انسان خود ایک شخص کو اپنا نائب بناتا ہے۔ نائب شرعاً جیسے وصی۔ وصی جسے قاضی نے مقرر کیا ہو۔ جسے کس نے مقرر کیا ہو؟ قاضی نے مقرر کیا ہو۔ وصی جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ وصی اسے کہتے ہیں جو بچوں کے یا کسی معذور عاجز شخص کے امور کا منتظم ہوتا ہے نگران با اختیار نگران ہوتا ہے با اختیار۔ اسے کیا کہتے ہیں؟ وصی۔ جو کس چیز کا منتظم با اختیار نگران ہو بھئی؟ بچوں کے بھئی بچوں کے امور کا یا سمجھ میں آیا ایک شخص کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے اس کا انتقال ہو گیا بھئی۔ اب کیا کریں بھئی بچوں کو خرچے کے لیے مال چاہیے بچوں کے حوالے تو ہم کر نہیں سکتے تو قاضی کیا کر دیتا ہے کسی کو مقرر کرتا ہے۔ با اختیار ہوتا ہے بھئی ان کا مال ان پر اپنے اختیار سے خرچ کرتا ہے۔ تو یہ وصی ہے یہ بھی نائب ہو گیا۔ اور ایک ہے نائب حکمی بھئی۔ نائب حکمی نائب حکمی وہ ہے مدعا علیہ بھئی۔ کون بھئی؟ وہ مدعا علیہ ہے۔ جس پر کوئی دعوی کیا گیا ہے۔ جس پر کوئی دعوی کیا گیا ہے۔ جس سے غیر پر بھی ایک دعوی لازم آیا۔ جس سے غیر پر بھی ایک دعوی لازم آیا۔ غیر کی بجائے غائب کر لو۔ جس سے ایک غائب پر بھی کیا لازم آیا؟ اور غائب پر جو دعوی ہے وہ سبب لازمی ہے۔ اور غائب پر جو دعوی ہے وہ سبب لازمی ہے۔ اس چیز کا جس کا دعوی حاضر پر کیا گیا ہے۔ جس کا دعوی حاضر پر کیا گیا ہے۔ تو یہ حاضر اس کا نائب ہوا حکماً۔ تو یہ حاضر اس غائب کا نائب ہوا حکماً۔ لکھ لیا بھئی؟ بس بھئی اب مسئلہ غور سے سنو بھئی۔ بھئی ضابطہ یہ میں نے آپ کو بتلایا کہ قاضی غائب کے خلاف نہ تو بینہ سن سکتا ہے اور نہ فیصلہ کر سکتا ہے۔ جب بھی کسی کے خلاف قاضی فیصلہ کرتا ہے یا بینہ سنتا ہے تو اس غائب کے نائب کا ہونا ضروری۔ اور نائب تین قسم پر ہیں نائب حقیقی، نائب شرعی اور نائب حکمی۔ کوئی ان میں سے پایا جائے گا تو قاضی فیصلہ کر سکتا ہے اس غائب کے خلاف ورنہ فیصلہ نہیں۔ تو غائب کے نائب حقیقی جیسے وکیل ہے جسے خود انسان نائب بناتا ہے کسی بارے میں اب۔ اور نائب شرعی وہ وصی جسے کس نے مقرر کیا مثلاً قاضی نے وہ وصی بھئی یہ نائب شرعی ہوا۔ اور ایک کون ہے بھئی؟ نائب حکمی۔ نائب حکمی کسے کہتے ہیں بھئی؟ دیکھو بعض اوقات میں نے آپ پر دیکھیے صورت بھئی، مشکل صورت ہے، میں آپ پر ایک دعوی کرتا ہوں آپ کے پاس ایک مکان ہے اور آپ کے قبضے میں ہے۔ میں نے آپ پر دعوی کر دیا یہ مکان میرا ہے۔ قاضی کے پاس آپ کو لے گیا بھئی۔ قاضی صاحب یہ مکان جو اس کے قبضے میں ہے یہ میری ملکیت ہے۔ اور دلیل اس کی یہ ہے کہ یہ مکان میں نے کس سے خریدا تھا؟ زید سے خریدا تھا۔ کس سے خریدا تھا؟ زید سے خریدا تھا۔ تو اب بھئی آپ کیا کرتے ہیں اس بیع پر کیا پیش کر دیتے ہیں؟ بینہ پیش کر دیتے ہیں۔ کیا پیش کر دیتے ہیں؟ بینہ پیش کر دیتے ہیں۔ تو دیکھو آپ نے مکان پر کس چیز کا دعوی کیا؟ ملکیت کا۔ اور یہ دعوی کس پر ہے؟ حاضر پر ہے یا غائب پر ہے؟ حاضر پر ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اور دعوی لازم آیا کس پر آیا؟ زید پر کہ یہ مکان میں نے اس سے خریدا ہے۔ تو زید حاضر ہے یا غائب ہے بھئی؟ غائب ہے۔ تو غائب پر دعوی ہوا اور بینہ میں نے کس چیز پر پیش کی؟ اس بیع پر پیش کی بھئی۔ کس پر؟ بیع پر پیش کی اور وہ بیع سبب ہے اس چیز کا جو میں نے اس حاضر پر دعوی کیا۔ بیچ جب بھی کریں گے آپ جب بھی کوئی چیز خریدیں گے فورا آپ کے لیے کیا ثابت ہو جائے گی اس کی؟ ملکیت بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو آپ میں نے دعوی آپ پر کس چیز کا کیا ہے؟ آپ کے اس مکان پر کہ مالک ہونے کا اور ملکیت یہ متبب ہے بھئی۔ سبب کیا ہے اس کے لیے؟ بیع ہے۔ تو بیع ہے اس کے لیے سبب لازمی یعنی علت ہے جب بھی بیع پائی جائے گی فورا کیا آنی چاہیے؟ ملکیت آنی۔ کبھی ایسا ہو سکتا ہے بیع ہو جائے پوری اور آگے ملکیت نہ آئے ایسا نہیں۔ بیع جب بھی پائی جائے گی پوری تو آگے کیا حاصل ہوگی؟ ملکیت حاصل ہوگی۔ تو میرا دعوی تو ہے آپ پر لیکن آپ کے ساتھ دعوے کے ساتھ ساتھ ایک غائب پر بھی کیا بن گیا خود بخود؟ دعوی بن گیا۔ اور وہ جو غائب پر دعوی کیا ہے وہ سبب ہے اس دعوے کا جو میں نے آپ پر کیا ہے وہ شرعی پائی جائے گی تو یہ ملکیت بھی۔ تو دیکھا وہ غائب پر جو دعوی ہے وہ سبب ہے اس دعوے کا جو کس پر کیا گیا ہے؟ حاضر پر۔ تو جب بھی ایسا ہو کہ جب غائب پر جو دعوی کیا جا رہا ہے وہ سبب لازمی ہو۔ سبب یہ سبب لازمی جب بھی وہ غائب پائی جائے گی وہ سبب پایا جائے گا یہ مسبب کا پایا جانا۔ ایسا نہیں کہ کبھی ہو اور کبھی نہ ہو۔ سبب لازمی ہونا چاہیے جسے ہم علت کہتے ہیں کہ جب علت پائی جائے معلول کا پایا جانا۔ تو دیکھو اب اس صورت میں اس غائب پر فیصلہ کرنا بھی صحیح اور اس کے خلاف بینہ سننا بھی صحیح ہے۔ کیونکہ یہ جو حاضر ہے اس کا نائب بن گیا حکماً۔ یہ حاضر کیا بن گیا اس کا؟ نائب بن گیا۔ نائب بن گیا حکماً۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کب غائب کے خلاف بینہ سننا کب جائز ہے؟ جب حاضر پر ایسا دعوی کیا جا رہا ہے کہ جو کہ جو دعوی وہ غائب پر کیا گیا تھا وہ دعوی سبب ہے اس دعوی کے لیے جو کس پر کیا جا رہا ہے؟ حاضر پر۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ سبب لازمی۔ تو اگر میں نے اب بینہ پیش کر دیے دو گواہ حاضر ہو گئے انہوں نے بیع کو کیا کر دیا؟ گواہی دے دی کہ اس نے واقعی میں نے کیا کیا تھا؟ یہ مکان زید سے خریدا تھا۔ تو قاضی فیصلہ کر دے گا۔ تو یہ فیصلہ حاضر کے بھی خلاف ہوا جس پر میں نے دعوی کیا تھا اور وہ زید کے بھی خلاف ہوا۔ زید کے بھی خلاف۔ تو زید کا تو نائب موجود تھا یہاں پر بھئی حکماً نائب بن گیا تھا یہ اس کا۔ لذا اب زید بعد میں آ کر ہزار انکار کرے کہ میں نے تو نہیں بیچا، نہیں بھئی اب اس کا انکار معتبر نہیں۔ اس کے خلاف کیا ہو چکا ہے؟ فیصلہ اور فیصلہ بھی کس ذریعے ہوا ہے؟ بینہ کے ذریعے ہوا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو انکار تو بعد میں آئے گا پہلے تو بینہ ان کا بینہ سنی جاتی ہے بینہ نہ ہو تو پھر منکر کی طرف ہم جایا کرتے ہیں۔ تو فیصلہ ہو چکا ہے۔ تو شری وہ سبب لازمی ہے کس کے لیے؟ ملکیت کے لیے جس کا دعوی حاضر پر کیا گیا۔ دوسری صورت بنا لو اور بھی صورتیں اس کی بن جاتی ہیں۔ آپ کے پاس ایک مکان ہے میں نے اس مکان پر شفعہ کر دیا۔ میں نے کہا قاضی صاحب میں اس مکان پر شفعہ کرتا ہوں اس لیے کہ یہ جو آپ ہیں یہ جو حاضر ہے اس نے اس مکان کو زید سے خریدا ہے۔ کیا کیا ہے؟ زید سے خریدا ہے۔ یہ انکاری ہے نہیں بھئی میں نے نہیں خریدا تو میں اس آپ کے خریدنے پر بینہ پیش کرتا ہوں۔ کیا پیش کر دیتا ہوں؟ بینہ پیش کر دیتا ہوں۔ تو دیکھو بھئی بینہ پیش ہو گئی خریدنے پر اور بیع تو کس سے خریدی ہے آپ نے؟ زید سے اور زید حاضر ہے یا غائب بھئی؟ غائب ہے۔ غائب ہے غائب ہے۔ تو غائب کے خلاف تو بینہ نہیں سنی جاتی لیکن آپ اس کے کیا بن گئے ہیں؟ نائب حکمی۔ اس لیے کہ وہ اس سے جو خریدنا ہے یہ سبب ہے اس چیز کا جو میں آپ پر دعوی کر رہا ہوں شفعے کا۔ جب بھی خریدی جائے کوئی چیز زمین خریدے گا کوئی تو اس کے پڑوسی کو کیا حق حاصل ہو جائے گا زمین کے پڑوسی کو؟ شفعے کا تو یہ خریدنا یہ سبب لازمی ہے۔ یہ کس کے لیے؟ شفعے کا۔ تو آپ پر تو غائب پر جو میں نے دعوی کیا چیز کے بیچنے کا وہ سبب لازمی ہے اس چیز کا جو میں نے آپ پر دعوی کیا۔ کس چیز کا؟ شفعے کا آپ کی زمین پر۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی سب کو؟ چلیے بس انہوں نے باقی پھر کل کریں گے۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
121 approved lectures · 20 of 121