Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-090

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 49
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَتَعْوِيلُ اشْتِرَاطِ الْبَيِّنَةِ أَوِ النُّكُولِ أَوِ الإِقْرَارِ فِي الْعَيْبِ الَّذِي لَا يَحْدُثُ مِثْلُهُ أَنَّ الْقَاضِيَ رُبَّمَا يَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْعَيْبَ لَا يَحْدُثُ مِثْلُهُ فِي مُدَّةِ شَهْرٍ، لَكِنْ يَشْتَبِهُ عَلَيْهِ تَارِيخُ الْبَيْعِ فَيَحْتَاجُ إِلَى إِحْدَى هَذِهِ الْحُجَجِ. بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسائل پڑھے تھے۔ جی، مسئلہ آپ نے یہ پڑھا تھا کہ آپ نے ایک شخص، ایک وکیل کو کیا کیا، یا جی، ایک آدمی نے وکیل کو کوئی چیز دی کہ یہ جو چیز لے جا کر بیچو بھئی۔ وکیل نے وہ چیز بیچ دی۔ بعد میں عیب کی وجہ سے وہ مبیعہ وکیل کو واپس لوٹایا گیا۔ اب یہ مبیعہ جو وکیل کو واپس لوٹایا گیا، یا تو ایسے عیب کی وجہ سے پیدا ہوگا کہ اتنی مدت میں، بیع کے بعد والی مدت میں وہ عیب پیدا نہیں ہو سکتا یا پیدا ہو سکتا ہے۔ اور پھر دونوں کے اندر یہ جو رد ہوگا، یا تو بینہ کی وجہ سے ہوگا، یا انکار عن الیمین کی وجہ سے ہوگا، یا وکیل کے اقرار کی وجہ سے ہوگا۔ تو کل کتنی صورتیں بن گئیں؟ چھ۔ یہ ایک تو وہ صورت بھئی کہ عیب ایسا ہے جو اتنی مدت میں پیدا نہیں ہو سکتا اور رد ہوا ہے بینہ کی وجہ سے یا انکار عن الیمین کی وجہ سے یا اقرار۔ دوسری صورت یہ کہ عیب ایسا ہے جو اتنی مدت میں پیدا ہو سکتا ہے بھئی، اور رد ہوا کس کی وجہ سے؟ بینہ کی وجہ سے یا انکار عن القسم کی وجہ سے یا اقرار کی وجہ سے بھئی۔ تو ان چھ صورتوں میں سے ایک صورت ہے کہ جب عیب ایسا ہو جو اتنی مدت میں پیدا ہو سکتا ہے اور وکیل کے اقرار کی وجہ سے رد ہوا ہے، تو اس صورت میں وکیل پر، موکل پر رد نہیں ہے۔ جبکہ باقی پانچ صورتوں میں وکیل پر رد، دراصل کس پر رد ہے؟ موکل پر رد ہے، تو وکیل موکل پر وہ چیز لوٹا سکتا ہے، جبکہ ایک صورت میں نہیں لوٹا سکتا بھئی۔ اچھا، وَتَعْوِيلُ اشْتِرَاطِ الْبَيِّنَةِ أَوِ النُّكُولِ أَوِ الإِقْرَارِ فِي الْعَيْبِ الَّذِي لَا يَحْدُثُ مِثْلُهُ، یہ ایک اعتراض سوال کا یا اعتراض کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے بھئی کہ اگر عیب اس قسم کا ہے جو اتنی مدت میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ مثلاً بائع نے کیا، مدعی نے کیا دعویٰ کیا؟ یہ چیز میں نے اس سے خریدی تھی ایک ماہ قبل اور اس کے اندر یہ عیب ہے۔ اور عیب اس قسم کا ہے جو اتنی مدت میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ تو اس صورت میں تو وکیل، قاضی کو فوراً ہی پتہ چل گیا بھئی ایک، یہ کتنی مدت بیان کر رہا ہے بیع کی؟ ایک ماہ، اور ایک ماہ میں تو یہ عیب پیدا نہیں ہو سکتا، تو لہٰذا بینہ کی کیا ضرورت ہے؟ قسم لینے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ انکار کرے اور پھر فیصلہ کرے؟ تو انکار قسم، بینہ یا اقرار کی ضرورت ہی نہیں۔ ویسے ہی پتہ چل گیا کہ یہ عیب اتنی مدت میں پیدا نہیں ہو سکتا، معلوم ہوا یہ عیب کس کی طرف سے آیا ہے؟ بائع کی طرف سے آیا ہے۔ لہٰذا مبیعہ تو قاضی کو فیصلہ کر دینا چاہیے اور وہ چیز واپس بائع کو کر دینی چاہیے۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا بینہ کی کیا ضرورت؟ پھر قسم دلانے اور اس کے انکار کی کیا ضرورت، یا اس کے اقرار کی کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تو جواب دے رہے ہیں آگے بھئی، کہتے ہیں یہ جو ایسا عیب ہے جو اتنی مدت میں پیدا نہیں ہو سکتا، اس کے اندر جو ہم نے بینہ کی شرط لگائی یا انکار عن القسم کی شرط لگائی یا اقرار کی شرط لگائی، یہ اس لیے نہیں لگائی کہ قاضی کو شک ہے کہ عیب اس کی طرف سے آیا ہے یا عیب اس کی طرف نہیں۔ عیب تو ظاہر ہے کہ اسی کی طرف سے آیا ہے، تو اگر بیع کو بھی اتنی مدت ہوئی ہو تو شبہ آ گیا بیع کی مدت کے اندر کہ مدعی کیا کہہ رہا ہے کب ہوئی ہے بیع؟ ایک ماہ پہلے ہوئی ہے اور ایک ماہ میں تو یہ عیب نہیں آ سکتا۔ لیکن کیا یہ قطعی بات ہے کہ بیع کب ہوئی ہے؟ ایک ماہ پہلے ہی؟ نہیں بھئی، اس میں شبہ آ گیا، ہو سکتا ہے بیع ایک سال پہلے ہوئی ہو بھئی۔ اگر ایک سال پہلے ہوئی ہے، پھر تو اس قسم کا عیب آ سکتا ہے، تو قاضی جو ہے، رحمکم اللہ، تو قاضی جو محتاج ہے بینہ کا، یا نکول کا، یا اقرار کا، وہ کس کے لیے محتاج ہے؟ تاریخ بیع کو جاننے کے لیے محتاج ہے مولانا، رد کے لیے محتاج نہیں ہے بھئی۔ تو یہ ایک تاویل ہے، دوسری تاویل آگے ذکر کرتا ہوں بھئی، وَتَعْوِيلُ اشْتِرَاطِ الْبَيِّنَةِ أَوِ النُّكُولِ أَوِ الإِقْرَارِ، اور یہ جو شرط لگائی گئی ہے بینہ، نکول اور بینہ یا نکول یا اقرار کی، اس کی شرط لگانے کی تاویل یہ ہے بھئی! فِلْعَيْبِ کس کے اندر؟ عیب کے اندر یہ جو اقرار ہے یا نکول یا بینہ ہے، اس کی جو شرط لگائی گئی ہے، اس کی تاویل یہ ہے، خبر یہ آگے آگے أَنَّ الْقَاضِيَ کہ قاضی رُبَّمَا يَعْلَمُ بسا اوقات وہ یہ تو جان لیتا ہے کہ أَنَّ هَذَا الْعَيْبَ لَا يَحْدُثُ مِثْلُهُ فِي مُدَّةِ شَهْرٍ کہ اس قسم کا عیب پیدا نہیں ہو سکتا فِي مُدَّةِ شَهْرٍ کتنی مدت میں مثلاً ایک ماہ کی مدت میں، لَكِنْ يَشْتَبِهُ عَلَيْهِ تَارِيخُ الْبَيْعِ لیکن مشتبہ ہو جاتی ہے اس پر بیع کی تاریخ، فَيَحْتَاجُ إِلَى إِحْدَى هَذِهِ الْحُجَجِ تو قاضی محتاج ہوتا ہے ان دلیلوں میں سے کسی ایک دلیل کا تاکہ تاریخ بیع کا پتہ چل جائے۔ یا تو بینہ کا محتاج ہو جاتا ہے یا نکول کا، یا اقرار کا، اس سے پتہ چل جاتا ہے۔ أَوْ كَانَ یہ دوسری تاویل ذکر کر رہے ہیں۔ أَوْ كَانَ الْعَيْبُ عَيْبًا یہاں ایک عَيْبًا کا لفظ اور ہونا چاہیے، كان کی خبر۔ كَانَ الْعَيْبُ عَيْبًا لَا يَعْرِفُهُ إِلَّا النِّسَاءُ أَوِ الْأَطِبَّاءُ یا وہ عیب جس کی وجہ سے مشتری واپس کرنا چاہتا ہے۔ العیب سے کون سا ہے مراد ہے؟ جس کی وجہ سے مشتری اس مبیعہ کو کیا کرنا چاہتا ہے؟ وہ عیب جس کی وجہ سے مشتری مبیعہ کو واپس کرنا چاہتا ہے، عَيْبًا وہ ایسا عیب ہے، لَا يَعْرِفُهُ إِلَّا النِّسَاءُ أَوِ الْأَطِبَّاءُ کہ جس کو صرف عورتیں یا طبیب ہی پہچانتے ہیں۔ بھئی، ایک تاویل کیا ذکر کی؟ جب قاضی کو پتہ چل گیا کہ اس قسم کا عیب اتنی مدت میں پیدا نہیں ہو سکتا، تو پھر اس کو اقرار یا بینہ وغیرہ کی ضرورت کیوں پڑی؟ تاکہ اس کو تاریخ بیع کا پتہ چل جائے۔ دوسری تاویل یہ کہ بعض اوقات قاضی کو ہی پتہ نہیں چلتا کہ یہ عیب اتنی مدت میں پیدا ہو سکتا ہے یا پیدا، مثلاً اس عیب کا پتہ اس کو کے لیے کسی عورت کی گواہی کا محتاج ہوتا ہے یا کسی طبیب کی گواہی کا۔ طبیب اگر اس کو بتلاتا ہے یہ مرض کس قسم کا ہے؟ قدیم مرض ہے، جدید مرض نہیں۔ یا عورت بتلاتی ہے یہ قدیم مرض ہے، مرد اس پر مطلع ہی نہیں ہو سکتا تو عورت بتلاتی ہے کہ یہ قدیم مرض ہے، جدید مرض نہیں۔ تو اب اس صورت میں اس طبیب کی گواہی کی ضرورت پڑ گئی، یا اس عورت کی گواہی کی ضرورت پڑ گئی، لیکن طبیب کی گواہی یا عورت کی گواہی کی وجہ سے اب اس چیز کو واپس نہیں کیا جا سکتا۔ اس طبیب یا عورت کی گواہی کی صرف یہ فائدہ ہوگا کہ یہ پتہ چل جائے گا کہ یہ بائع اس کا، اس کے ساتھ خصومت ہو سکتی ہے یا خصومت۔ وکیل نے جب، جب طبیب نے بتلا دیا کہ یہ مرض ایک سال پرانا ہے کم از کم، اب پتہ چلا کہ بائع کے ساتھ کیا ہو سکتی ہے؟ خصومت۔ معلوم ہوا عیب کس کی طرف سے آیا ہے؟ بائع کی طرف سے آیا ہے، لہٰذا مبیعہ اور قاضی کو فیصلہ کر دینا چاہیے اور وہ چیز واپس بائع کو کر دینی چاہیے۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا بینہ کی کیا ضرورت؟ پھر قسم دلانے اور اس کے انکار کی کیا ضرورت، یا اس کے اقرار کی، کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں پڑتی۔ فَقَوْلُ الْمَرْأَةِ وَالطَّبِيبِ ہاشمی میں آپ کی کچھ دی ہوئی ہے بھئی۔ فَقَوْلُ ہونا چاہیے، پس تو عورت کا قول جو ہے مولانا اور طبیب کا قول حُجَّةٌ وہ حجت ہے، لیکن کس چیز میں؟ فِی تَوَجُهِ الْخُصُومَةِ خصومت کے متوجہ ہونے میں صرف ان کا قول حجت ہے، لَا فِي الرَّدِّ، اس مبیعہ کو بائع پر واپس کرنے میں حجت نہیں۔ فَيَفْتَقِرُ إِلَى هَذِهِ الْحُجَجِ تو اب بھی قاضی محتاج ہوا ان حجج کا، یعنی بینہ کا، یا نکول کا، یا اقرار کا۔ حَتَّى لَوْ أَعَيَنَ الْقَاضِي الْبَيْعَ وَالْعَيْبَ ظَاهِرًا لَا يَحْتَاجُ إِلَى شَيْءٍ مِنْهَا، یہاں تک کہ اگر قاضی نے خود معائنہ کیا بیع کا، بیع خود کس کے سامنے ہوئی تھی؟ قاضی کے سامنے ہوئی تھی، وَالْعَيْبَ اور قاضی نے کس چیز کا معائنہ بھی کر لیا؟ عیب کا ظاہراً اس حال میں کہ وہ عیب کیا تھا؟ ظاہر تھا، لَا يَحْتَاجُ إِلَى شَيْءٍ مِنْهَا تو اب ان میں سے کسی چیز کا وہ محتاج نہیں۔ قاضی نے بھئی خود، قاضی کے سامنے بیع ہوئی تھی، ایک ماہ پہلے ہوئی تھی واقعی، اب تو قاضی کو قطعی طور پر علم ہے کہ بیع کب ہوئی ہے، ایک ماہ اور عیب کا بھی قاضی نے مشاہدہ کر لیا، پتہ چل گیا کہ یہ عیب بھی ایک مہینے کے اندر پیدا، تو اب قاضی کو کسی چیز کی ضرورت نہیں، نہ بینہ کی ضرورت ہے، نہ نکول کی، نہ اقرار کی، بس وہ فوراً کیا کر دے؟ فیصلہ کر دے۔ فَإِنْ بَاعَ نَسَاءً فَقَالَ الْآمِرُ أَمَرْتُكَ بِالنَّقْدِ وَقَالَ الْوَكِيلُ أَتْلَقْتَ، صُدِّقَ الْآمِرُ وَفِي الْمُضَارَبَةِ الْمُضَارِبُ. صورت مسئلہ یہ۔ آپ نے ایک شخص کو کوئی، آپ نے ایک شخص کو اپنی گاڑی دی کہ جاؤ یہ گاڑی فروخت کر کے، فروخت کر دو۔ وہ گیا اور اس نے آپ کی گاڑی ادھار بیچ دی۔ ادھار بیچ دی، اب وہ آیا آپ کے پاس تو آپ نے کہا بھئی، میں نے آپ کو کہا تھا نقد بیچنا۔ میں نے کس قسم کا وکیل بنایا تھا آپ کو؟ نقد بیچنا۔ وہ کہتے ہیں نہیں، آپ نے مجھے مطلق بیع کا کہا تھا اور مطلق شامل ہے نقد بیچنے کو بھی اور ادھار بیچنے کو بھی۔ اب کس کے قول کو اعتبار کیا جائے؟ کہتے ہیں بھئی، آمر کا قول معتبر ہے، حکم دینے والے کا، آپ کا قول معتبر ہے، وکیل کا قول معتبر نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ حکم دینے والے آپ ہیں بھئی، اور آپ ہی کو پتہ ہے کہ آپ نے کیا حکم دیا تھا، صورت سمجھ میں آئی؟ آپ نے نقد کے ساتھ بیچنے کا حکم دیا تھا یا مطلق۔ یہ معنی ہے۔ فَإِنْ بَاعَ نَسَاءً اگر بیچا وکیل نے مبیعہ کو نَسَاءً ادھار۔ فَقَالَ آمِرُهُ تو آمر نے کہا أَمَرْتُكَ بِالنَّقْدِ میں نے تجھے امر کیا تھا نقد کے ساتھ بیچنے کا، وَقَالَ الْوَكِيلُ أَتْلَقْتَ اور وکیل کہتا ہے کہ آپ نے مطلق کہا تھا بیچنے کا، صُدِّقَ الْآمِرُ تو تصدیق کس کی کی جائے گی؟ آمر کی، وَفِي الْمُضَارَبَةِ الْمُضَارِبُ مضاربت ہے، بھئی آپ نے ایک آدمی کو ایک لاکھ روپیہ دیا کہ جاؤ بھئی، اس کے ساتھ تجارت کرو، جتنا نفع ہوگا نصف تمہارا اور نصف میرا بھئی۔ اس نے بھئی مال لیا بھئی آپ سے، اور وہ مال اس نے ادھار پر آگے بیچ دیا۔ مضاربت کے اندر کیا کیا؟ اچھا تو مال آپ نے دیا، آپ ہوئے رب المال، اور جس کو مال دیا جس نے اپنی تجارت کرنی ہے آپ کے مال سے وہ کون بن گیا؟ وہ مضارب، تو مضارب نے چیز ادھار بیچی اور اس نے کہا کہ آپ نے مجھے مطلق مضاربت کا کہا تھا، آپ نے کہا نہیں بھئی، میں نے تمہیں کس قسم کا کہا تھا کیا کرنا؟ نقد ہی دینا جس کے ساتھ، سودا کرنا، نقد سودا کرنا، ادھار سودا کرنا۔ کہتے ہیں اب کس کا قول معتبر ہے؟ کہتے ہیں مضارب کا قول معتبر ہے، رب المال کا، جس نے مال دیا تھا، اس کا قول معتبر نہیں۔ کیوں نہیں معتبر؟ کہتے ہیں اس لیے کہ مضاربت عموماً مطلق ہوا کرتی ہے، مضاربت عموماً کیا ہوتی ہے؟ مطلق ہوا کرتی ہے بھئی، اس میں دوسرے کو تجارت کی آزادی ہوتی ہے کہ جیسے مرضی وہ تجارت کرے، ادھار کے ساتھ کرے یا نقد۔ وَلَا يَصِحُّ تَصَرُّفُ أَحَدِ الْوَكِيلَيْنِ وَحْدَهُ فِيمَا وُكِّلَ بِهِ إِلَّا فِي خُصُومَةٍ وَرَدِّ وَدِيعَةٍ وَقَضَاءِ دَيْنٍ وَطَلَاقٍ وَعِتْقٍ لَمْ يُعَوَّضَا. بھئی دیکھو! کسی مسئلے کے اندر اگر دو آدمیوں کو وکیل بنایا جائے، تو ان دونوں کا اکٹھے تصرف کرنا ضروری ہے۔ اگر ایک تصرف کرتا ہے، تو اس کا تصرف صحیح نہیں۔ بھئی آپ نے اپنی گاڑی بیچنے کے لیے دو آدمیوں کو وکیل بنایا، جاؤ بھئی، تم دونوں جا کر میری یہ گاڑی بیچ دو۔ ایک جا کر گاڑی بیچ دیتا ہے مولانا، یہ صحیح نہیں ہے، بلکہ دونوں کا جا کر اس کو بیچنا پھر صحیح ہوگا بھئی۔ مگر کچھ مسئلے ہیں کہ وہاں پر ایک بھی تصرف کر لیتا ہے، ایک بھی اس پر عمل کر لیتا ہے، تو صحیح ہے۔ وہ کون کون سے؟ مثلاً بھئی آپ نے دو آدمیوں کو، ایک شخص نے آپ پر مقدمہ کر دیا کہ تمہارا میرا ایک لاکھ روپیہ دین دینا ہے۔ آپ نے دو آدمیوں کو کیا بنایا؟ وکیل بنایا، جاؤ بھئی، میری طرف سے جواب دو جا کر۔ تو ان دونوں میں سے جا کر ایک قاضی کے سامنے بات کرتا ہے، تو بھی درست۔ کیوں بھئی؟ یہاں کیوں دو میں سے ایک کا بات کرنا درست؟ کہتے ہیں بھئی، اس لیے کہ اگر دونوں مل کر بولیں گے، تو وہاں پر شور شرابہ ہوگا، بات کا پتہ ہی نہیں چلے گا۔ مشورہ جو کرنا ہے، وہ پہلے کر لیں، قاضی کے سامنے جا کر صرف ایک ہی بات کرے گا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی، تو ایک کی بھی بات کرنا صحیح ہے۔ اور امانت واپس کرنے میں، بھئی میرے پاس زید نے امانت رکھوائی تھی اپنی گاڑی، میں نے دو آدمیوں کو وکیل بنایا کہ جاؤ بھئی یہ گاڑی زید کو دے آؤ۔ دونوں میں سے ایک گیا اور اس نے گاڑی زید کو دے دی، کہتے ہیں صحیح۔ کیوں؟ کیونکہ اس کے اندر کوئی سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے؟ کوئی مشورے کی ضرورت ہے دونوں وکیلوں کو؟ نہیں بھئی، یہاں پر ایک کی کسی رائے کی ضرورت نہیں، بس چیز واپس کرنی ہے، تو ایک بھی کر دے کافی ہے۔ یا مولانا دین کی ادائیگی، میں نے زید کا ایک لاکھ روپیہ دین دینا ہے بھئی۔ اب میں نے ایک لاکھ روپیہ دو وکیلوں کو دیا، دو آدمیوں کو وکیل بنایا اور کہا جاؤ بھئی، یہ کیا کرو؟ میرا دین ادا کر دو۔ دونوں میں سے ایک گیا، اس نے جا کر ادا کر دیا، تو یہ بھی صحیح، کیونکہ یہاں پر بھی کسی رائے کی ضرورت ہے؟ نہیں، بس چیز لے جا کر دینی ہے۔ تیسری صورت مولانا، ایک آدمی نے کیا کیا بھئی؟ دو آدمیوں کو وکیل بنایا کہ جاؤ میری بیوی کو جا کر طلاق دے دو بغیر عوض کے، وہ جاتے ہیں، دونوں میں سے ایک جا کر کیا کرتا ہے؟ طلاق دے دیتا ہے، یہ بھی کافی ہے مولانا، کیونکہ یہاں پر بھی کسی رائے وغیرہ کی ضرورت نہیں بھئی، ایک کا کام بھی دو کی طرح ہی ہے۔ یا مولانا، ایک آدمی نے دو آدمیوں کو وکیل بنایا کہ جاؤ میرے فلاں غلام کو کیا کر دو؟ آزاد کر دو، دونوں میں سے ایک جا کر کیا کرتا ہے اس کو؟ آزاد تو یہ بھی کافی، کس کے اندر کسی رائے وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ ورنہ باقی جہاں پر رائے کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں دونوں کا ہونا ضروری، وَلَا يَصِحُّ تَصَرُّفُ أَحَدِ الْوَكِيلَيْنِ اور دو وکیلوں میں سے کسی ایک کا تصرف صحیح نہیں ہے وَحْدَهُ اس حال میں کہ وہ اکیلا ہو، فِيمَا وُكِّلَ بِهِ اس تصرف کے اندر جس میں ان دونوں کو کیا بنایا گیا ہے؟ وکیل بنایا گیا ہے إِلَّا فِي خُصُومَةٍ مگر کس میں؟ خصومت میں ایک بھی، وَرَدِّ وَدِيعَةٍ اور امانت کو واپس کرنے میں بھی ایک صحیح، وَقَضَاءِ دَيْنٍ اور دین کی ادائیگی میں بھی ایک صحیح، وَطَلَاقٍ وَعِتْقٍ لَمْ يُعَوَّضَا اور ایسی طلاق ایسی آزادی لَمْ يُعَوَّضَا جن کا عوض نہ لیا گیا ہو۔ نہ دیا گیا ہو یہ بھی صحیح بھئی۔ اَمَّا فِی خُصُومَةٍ فَلِأَنَّ الۡاِجۡتِمَاعَ یُفۡضِیۡ إِلٰی الشَّغَبِ اس لیے کہ دونوں کا اجتماع یہ پہنچا دے گا کس حد تک بھئی؟ شغَب شور شرابے تک بھئی وہاں شور ہوگا، فساد ہوگا بھئی۔ وَفِی الۡاُمُورِ الۡاُخَرِ اور باقی امور کے اندر ایک کی تو ایک کا جانا کافی کیوں ہے؟ کہتے ہیں باقی امور کے اندر لَا یَحۡتَاجُ، لَا یَحۡتَاجُ إِلَی الرَّایِ بھئی، وہاں پر رائے کی احتیاج نہیں ہوتی۔ وَلَا یَصِحُّ بَیۡعُ عَبۡدٍ أوّ مُکَاتَبٍ أوّ ذِمِّیٍّ فِی مَالِ صَغِیرِہِ الۡمُسۡلِمِ وَشِرَائہ اور صحیح نہیں ہے بیچنا بھئی دیکھیے! آپ کا ایک غلام ہے، اس غلام کا ایک چھوٹا بچہ ہے، غلام اس کے مال میں سے کوئی چیز بیچتا ہے يا اس کے مال سے کسی چیز کو خریدتا ہے، یہ صحیح نہیں بھئی۔ غلام تو کو اپنے نفس پر ولایت حاصل نہیں ہے تو اپنے بچے کے پر بھی ولایت حاصل نہیں یا آپ کا مکاتب ہے مولانا، وہ کیا کرتا ہے؟ اس کا چھوٹا بچہ ہے، وہ اس چھوٹے بچے کا مال ہے اس میں سے کیا کرتا ہے کسی چیز کو بیچتا ہے يا خریدتا ہے، یہ بھی اس کے لیے صحیح نہیں يا یہ ایک کافر ہے مولانا، کافر کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو مسلمان ہے۔ مثلاً کافر کی بیوی تھی، کافر نے اس کو بچہ بھی تھا وہ مسلمان ہو گئی، کافر اس سے جدا ہوا طلاق سمجھ میں آیا؟ یا کافر نے اس کو طلاق دے دی، بعد میں وہ کیا ہو گئے؟ مسلمان ہو گئے۔ اب وہ بچہ اسی کے پاس تھا، وہ عورت بعد میں مر گئی بھئی۔ اچھا! تو بچہ تو جس کا دین بہتر ہو اس کے تابع ہوتا ہے، تو دین کس کا بہتر تھا؟ عورت کا، وہ اسلام تھا بھئی، تو بچہ بھی مسلمان ہے۔ اب اس بچے کا مال ہے بھئی کچھ بھئی، جو وراثت میں اسے ملا ہے۔ اس میں سے باپ کیا کرنا چاہتا ہے؟ کوئی چیز بیچنا چاہتا ہے یا اس کے ذریعے کسی چیز کو خریدنا چاہتا ہے، نہیں بھئی، کافر کو مسلمان پر ولایت حاصل نہیں، یہ معنی ”وَلَا يَصِحُّ بَيْعُ عَبْدٍ“ اور صحیح نہیں ہے غلام کا بیچنا ”أَوْ مُكَاتَبٍ“ یا مکاتب کا بیچنا ”أَوْ ذِمِّيٍّ“ یا ذمی کا بیچنا ”فِي مَالِ صَغِيرِهِ“ اپنے صغیر کے مال میں سے ”الْمُسْلِمِ“ جو کہ کیا ہو؟ مسلمان ہو ”وَشِرَاؤُهُ“ اور اسی طرح ان میں سے ہر ایک کا خریدنا بھی بھئی، سمجھ میں آیا؟ ”أَيْ شِرَاءُ أَحَدِهِمْ بِمَالِهِ“ خریدنا اس کے مال کے بدلے مراد ہے، وہ جائز نہیں ان میں سے۔ بھئی اپنے مال میں سے کوئی چیز ان کے لیے خرید لیتا ہے تو پھر ٹھیک ہے بھئی، ہاں! ان کے مال میں سے ان کے لیے کوئی چیز خریدتا ہے تو درست نہیں ”وَالْحَاصِلُ“ حاصلِ کلام یہ ”أَنَّ الْعَبْدَ وَالْمُكَاتَبَ لَا وِلَايَةَ لَهُمَا فِي مَالِ وَلَدِهِمَا الصَّغِيرِ“ کہ غلام اور مکاتب کو ان کو کوئی ولایت نہیں ہوتی اپنے بچے کے مال کے اندر، کیونکہ ان کو اپنے نفس پر ولایت نہیں تو بچے کے مال میں بطریقِ اولٰی ولایت نہیں۔ ”وَالْكَافِرُ لَا وِلَايَةَ لَهُ فِي مَالِ صَغِيرِهِ الْمُسْلِمِ“ اور کافر کو کوئی ولایت نہیں ہے بھئی اپنے چھوٹے مسلمان بچے کے مال کے اندر، کیونکہ کافر کو مسلمان پر ولایت حاصل نہیں۔ باب الوکالة بالخصومة وبالقبض، یہ باب ہے مولانا خصومت اور قبضے کے بارے میں، کی وکالت کے بارے میں بھئی۔ ”لِلْوَكِيلِ بِالْخُصُومَةِ الْقَبْضُ عِنْدَ الثَّلَاثَةِ“ صورتِ مسئلہ یہ بھئی، میں نے آپ میں آپ کو زيد کے پاس کیا ہے؟ زید نے میرا دین دینا ہے، دین دینا ہے، مثلاً ایک لاکھ روپیہ اس نے میرا دینا ہے بھئی، یا اس نے بھئی کوئی چیز میری دینی ہے، آپ کو میں نے کیا بنایا؟ وہ بھئی دین دینا ہے وہ انکار کرتا ہے، میں نے اس سے خصومت کی بھئی، آپ کو وکیل بنایا کہ جاؤ بھئی زید کے ساتھ کیا کرو؟ خصومت کرو، مقدمہ لڑو، اور آپ گئے، آپ نے مقدمہ لڑا، آپ مقدمہ جیت گئے، اب وہ زید ایک لاکھ ادا کرتا ہے تو کیا یہ وکیلِ خصومت کو اس دین پر قبضے کا اختیار ہے؟ اس کو حق ہے؟ کر سکتا ہے قبضہ یا نہیں کر سکتا بھئی؟ کہتے ہیں بھئی وکیلِ خصومت کو حق ہے، وہ کیا کر سکتا ہے اس دین پر اب قبضہ کر سکتا ہے، قبضہ کرے اور پھر لا کر موکل کو دے دے۔ ”لِلْوَكِيلِ بِالْخُصُومَةِ“ وکیل بالخصومت جو ہے اس کے لیے اس کے لیے جائز ہے ”الْقَبْضُ“ قبضہ کرنا ”عِنْدَ الثَّلَاثَةِ“ تینوں ائمہ کے نزدیک ہمارے تینوں ائمہ ”أَيْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمُ اللهُ“ ہمارے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ”خِلَافًا لِزُفَرَ“ بر خلاف کس کے؟ امام زفر، وہ فرماتے ہیں نہیں وکیل بالخصومت کا کام صرف جواب دینا ہے، پھر بعد میں چیز پر قبضہ کرنا اس کا حق نہیں۔ ”كَالْوَكِيلِ بِالتَّقَاضِي“ جیسے کہ وکیل بالتخاصی ہوتا ہے، تقاضا کرنے والا وکیل ہوتا ہے بھئی۔ ایک کا وکیل، ایک شخص ہے اس کو آپ بھیجتے ہیں کہ زید نے میرا اتنا دین دینا ہے تم جا کر اس سے کیا کرو؟ تقاضا کرو کہ بھئی زید تم اپنا دین اب ادا کر دو، زید تم کیا کرو اپنا دین صرف تقاضے کے لیے بھیجا ہے میں نے آپ کو، یہ نہیں کہا کہ جا کر اس سے وصول کرو اور لا کر مجھے دو، جا کر اس سے صرف اس سے کیا کرو؟ کہ زید اپنا دین کیا کر دو اب جا کر ادا کرو۔ اچھا! تو اس وکیل بالتخاصی ہے یہ، تو اس وکیل بالتخاصی کو بھی قبضے کا حق ہے، عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ وکیل بالخصومت کو قبضے کا حق ہے جیسے کہ وکیل بالتخاصی کو ہے ”فِي ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ“ مولانا ہونا چاہیے بھئی یہ، عبارت یوں درست معلوم ہوتی ہے ”فِي ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ“ کس کے مطابق؟ ظاہرِ مذہب کے مطابق بھئی، تو ظاہر الجواب کے بجائے ظاہر المذہب ہونا چاہیے بھئی۔ ”وَيُفْتَى بِعَدَمِ قَبْضِهِمَا الْآنَ“ بھئی ائمہ ثلاثہ کیا فرماتے ہیں؟ وکیل بالخصومت کو کیا حق ہے؟ قبضے کا، وکیل بالتخاصی کا کیا حق ہے؟ قبضے کا حق ہے، وہ دین پر قبضہ بھی کر سکتا ہے بھئی۔ اور امام زفر رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا؟ کہ قبضے کا حق اس کو صرف خصومت کا حق ہے اور قبضہ اور چیز ہے، خصومت اور چیز ہے، یا اس کو صرف تقاضے کا حق ہے، تقاضا اور چیز ہے اور قبضہ اور چیز ہے۔ ”وَيُفْتَى بِعَدَمِ قَبْضِهِمَا الْآنَ“ اور فتویٰ دیا جائے گا اب ان پر عدمِ قبض ان دونوں کے لیے عدمِ قبضے کے ساتھ فتویٰ دیا جائے گا ”الْآنَ“ اب بھئی یعنی آج کے زمانے میں، یعنی آج کل امام زفر رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ ہے بھئی، چند مسائل ہیں، چند گنتی کے مسائل جن میں فتویٰ کس کے قول پر ہے؟ امام زفر بھئی، تو یہ بھی ان مسائل میں سے ایک ہے بھئی۔ حالانکہ باقی تینوں ائمہ فرما رہے ہیں قبضہ کر سکتا ہے، امام زفر فرما رہے ہیں نہیں بھئی اور فتویٰ اب ان کے قول پر ہے۔ کیوں بھئی؟ دیکھیے آگے خود وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ اچھا! ”فَإِنَّ الْوَكِيلَ بِالتَّقَاضِي يَمْلِكُ الْقَبْضَ فِي ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ“ اس لیے کہ وکیل بالتخاصی جو ہوتا ہے وہ مالک ہوتا ہے قبضے کا بھی ظاہرِ مذہب کے مطابق ”لَكِنَّ الْفَتْوَى فِي هَذَا الزَّمَانِ“ لیکن فتویٰ اس زمانے کے اندر ”عَلَى أَنَّ“ اس بات پر ہے کہ ”أَنَّ الْوَكِيلَ بِالْخُصُومَةِ وَالْوَكِيلَ بِالتَّقَاضِي لَا يَمْلِكَانِ الْقَبْضَ“ کہ وکیل بالخصومت جو ہے اور وکیل بالتخاصی جو ہے یہ دونوں قبضے کے مالک نہیں ”لِظُهُورِ الْخِيَانَةِ فِي الْوُكَلَاءِ“ کس لیے؟ کہ خیانت کیا ہو گئی ہے؟ وکلاء میں، اب وکلاء خائن بن گئے ہیں، خیانت کرنے والے بن گئے ہیں اس لیے اب ان کو قبضے کا اختیار نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ ایک آدمی کو میں نے وکیل بھیجا ہے جا کر مقدمہ لڑو بھئی، تو مقدمہ لڑنے میں تو مجھے اس پر اعتماد ہے، مقدمہ لڑنے میں وہ ماہر ہے، میری طرف سے جواب اچھی طرح دے گا، لیکن اس کی امانت و دیانت سے میں اتنا مطمئن نہیں، تو پھر وہ چیز لے کر اس پر قبضہ کرے گا تو امانت اس میں نہیں ہے تو میں اس پر راضی نہیں بھئی، لہٰذا وہ وکیل بالقبض نہیں۔ ”وَلِلْوَكِيلِ بِقَبْضِ الدَّيْنِ الْخُصُومَةُ“ یہ اور صورت بھئی، دیکھو! زید نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے، آپ کو میں نے وکیل بالقبض بنا کر بھیجا، جاؤ بھئی جا کر زید سے ایک لاکھ روپیہ لو، اس پر قبضہ کرو، وصول کرو اور مجھے لا کر دو۔ وصولی کے لیے میں نے آپ کو بھیجا تو آپ کون ہوئے؟ وکیل بالقبض۔ آپ گئے، آپ نے زید سے کہا لاؤ بھئی وہ ایک لاکھ روپیہ ادا کر دو، زید کہتا ہے کون سا ایک لاکھ؟ میں نے کوئی ایک لاکھ روپیہ نہیں دینا، انکار کر دیا۔ تو اب اس کے ساتھ مقدمہ لڑنا پڑے گا، تو کیا وکیل بالقبض کو مقدمے کا، خصومت کا حق ہے یا حق نہیں؟ کہتے ہیں حق ہے مولانا، وکیل بالقبض کیا کر سکتا ہے اب اس کے ساتھ مقدمہ بھی لڑ سکتا ہے۔ ”وَلِلْوَكِيلِ بِقَبْضِ الدَّيْنِ الْخُصُومَةُ“ اور وکیل ببعض الدین جو ہے اس کو حق حاصل ہے خصومت کا ”هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے ”وَعِنْدَهُمَا لَا يَمْلِكُ الْخُصُومَةَ“ اور صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ وکیل ببعض الدین کو خصومت کا حق نہیں، تو وہ مالک نہیں ہے خصومت کا۔ ”لَا لِلَّذِي بِقَبْضِ الْعَيْنِ“ یہ الگ صورت بھئی، نہ کہ وہ وکیل جو عين پر قبضے کے لیے ہے بھئی۔ بھئی کس ابھی میں نے آپ کو کیا بنا کر بھیجا تھا؟ کس پر جا کر قبضہ کرنا ہے؟ دین پر، کس پر؟ اس نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے، وہ دین ہے، اس پر جا کر قبضہ کرو اور لا کر مجھے دو۔ اب دوسری صورت ہے مولانا! اور اس صورت میں آپ کو کیا حق حاصل تھا؟ خصومت کا حق۔ اب دوسری صورت ہے کہ آپ عین پر قبضے کے وکیل ہیں یعنی معین چیز پر، یعنی معین چیز ہے اس کے پاس بھئی میری، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معین چیز کے اندر قبضے پر، مثلاً بھئی اس کے پاس میری امانت ایک گاڑی پڑی ہوئی ہے، میں نے آپ کو کہا جاؤ بھئی میری وہ گاڑی اس سے لے کر آؤ، آپ گئے بھئی، لاؤ بھئی وہ گاڑی دے دو، اس نے انکار کر دیا، کون سی گاڑی؟ تو آپ کس پر قبضے کے وکیل ہوئے؟ عین پر قبضے کے وکیل ہوئے یا دین پر؟ عین پر قبضے کے وکیل ہوئے، آپ کو خصومت کا حق نہیں ہے مولانا، آپ کو خصومت کا حق نہیں، دین پر قبضے کا جو وکیل ہے اس کو خصومت کا حق ہوتا ہے لیکن عین پر قبضے کے وکیل جو ہوتا ہے اس کو خصومت کا حق نہیں۔ یہ معنی ”لَا لِلَّذِي“ نہ کہ اس وکیل کے لیے خصومت جائز ہے، کون سا وکیل؟ ”بِقَبْضِ الْعَيْنِ“ جو کس کے لیے ہے؟ وکیل ہے عین پر قبضے کا۔ ”فَلَوْ قَامَتْ حُجَّةُ ذِي الْيَدِ عَلَى وَكِيلٍ بِقَبْضِ عَبْدٍ“ صورتِ مسئلہ یہ، صورتِ مسئلہ یہ، آپ نے ایک آدمی کو کیا کیا بھئی؟ وکیل بنا کر بھیجا کہ جاؤ میرا وہ غلام ہے یا گاڑی ہے فلاں شخص کے پاس اس کو وصول کرو، قبضہ کرو اور لا کر مجھے دو۔ وہ گیا اور وہ گیا اور اس نے جا کر مطالبہ کیا، لاؤ بھئی یہ غلام کیا کرو میرے حوالے کرو، تو وہ جو قبضے والا تھا ذو الید جس کے پاس کیا تھا وہ میری امانت تھی، اس نے بینہ قائم کر دی قاضی کے پاس بھئی، قاضی صاحب! یہ غلام تو مجھے موکل بیچ چکا ہے، آج اس نے وکیل کو بھیجا ہے غلام واپس لے کر آؤ حالانکہ یہ غلام تو اب اس کا نہیں ہے میرا ہے، وہ میرے ہاتھ اس کو بیچ چکا ہے، اس نے بینہ قائم کر دی، تو کہتے ہیں کیا کیا جائے گا بھئی؟ کیا کیا جائے گا بھئی؟ کیا بیع ثابت ہو جائے گی اس بینہ کے ذریعے یا بیع ثابت نہیں ہوگی؟ کہتے ہیں بھئی بیع کس کے ساتھ دعویٰ اس نے کس کے ساتھ کیا ہے بیع کے ہونے کا؟ وکیل کے ساتھ یا موکل کے ساتھ؟ بھئی دیکھو! میں نے آپ کو وکیل بنا کر بھیجا، جاؤ بھئی میں اس کیا کر چکا ہوں؟ میرا غلام اس کے پاس پڑا ہوا ہے، موجود ہے، وہ غلام لے آؤ، آپ گئے، آپ نے جا کر غلام کا مطالبہ کیا، اس نے کہا کون سا غلام؟ غلام تو میں خرید چکا ہوں تمہارے موکل سے، اور اس پر اس نے قاضی کے پاس بینہ بھی قائم کر دی کہ قاضی صاحب یہ غلام میں اس کے موکل سے خرید چکا ہوں، تو اب اس نے بینہ قائم کی ہے بیع پر، لیکن اس کا عقد کس سے ہوا تھا؟ وکیل سے ہوا تھا یا موکل سے؟ موکل سے، اور موکل اس وقت حاضر ہے؟ موکل اس وقت حاضر نہیں، لہٰذا بینہ یہ خصم پر یہ بینہ قائم ہوئی یا غیر خصم پر؟ غیر خصم پر یہ بینہ قائم ہوئی، لہٰذا اس بینہ کی وجہ سے بیع ثابت نہیں ہوگی، جب بیع ثابت نہیں ہوئی تو کیا کیا جائے؟ کیا اب غلام وکیل کو دے دے وہ؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، غلام پر قبضہ اب غلام جو ہے وکیل کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ قصرِ ید کے اندر تو یہ بینہ صحیح و ثابت ہو گیا بھئی قصرِ ید، یعنی قبضہ روکنے کے اندر، کس کے اندر؟ قبضہ روکنے کے اندر تو یہ بینہ خصم پر قائم ہوئی ہے لیکن بیع کے اثبات میں یہ خصم پر قائم نہیں، بھئی دیکھو وکیل آیا تھا، اس نے کیا کہا تھا؟ یہ غلام میرے حوالے کر دو، تو اب یہ بینہ قائم کی تو اس بینہ کی وجہ سے اب وکیل کے قبضے کو روک دیا جائے گا، وکیل کو غلام پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا، سمجھ میں آیا؟ تو وکیل خصم بیع کے باب میں تو نہیں لیکن قصرِ ید کے باب میں کیا ہے؟ خصم ہے، تو قبضہ رک جائے گا بینہ کی وجہ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”فَلَوْ قَامَتْ“ دیکھا یہ فاء لے کر آئے مولانا فاء، آگے شارح بتلائیں گے یہ فاء کیوں لائے بھئی؟ کیوں لائے فاء؟ اچھا! آگے دیکھیے: ”فَلَوْ قَامَتْ حُجَّةُ ذِي الْيَدِ“ اگر بینہ قائم ہو گئی، کس کی بینہ؟ ذو الید، قبضے جس کے پاس وکیل کو آپ نے بھیجا ہے اس کی حجت قائم ہو گئی، اس کی بینہ قائم ہو گئی، اور بینہ اس نے کس پر قائم کی ہے بھئی؟ کس پر قائم ہوئی ہے اس کی بینہ؟ ”عَلَى وَكِيلٍ بِقَبْضِ عَبْدٍ“ بھئی غلام پر قبضے کے وکیل پر اس نے بینہ قائم کی ہے یعنی مالک پر نہیں کی بلکہ کس پر کی ہے؟ وکیل پر۔ اچھا! کیا بینہ قائم کی؟ ”أَنَّ مُوَكِّلَهُ بَاعَهُ مِنْهُ“ کہ اس وکیل کے موکل نے اس مبیع یعنی اس غلام کو بیچ دیا ہے ”مِنْهُ“ اس ذو الید پر، اس قبضے والے کے ہاتھ بیچ دیا ہے، غلام کس کے پاس ہے اس وقت بھئی؟ اس کے ہاتھ اس نے بیچ دیا ہے۔ ترجمہ بھی سمجھ آ رہا ہے کہ نہیں آ رہا سمجھ؟ اس نے بینہ بھئی آپ میں نے آپ کو وکیل بنا کر بھیجا، جاؤ میرا فلاں کے پاس غلام ہے اس سے کیا کر لو؟ اس نے بینہ قائم کی، کیا بینہ قائم کی اس نے؟ کہ آپ کا جو موکل ہے اس نے یہ غلام میرے ہاتھ کیا کر دیا ہے؟ ہاں! یہی بات تو کر رہے ہیں کہ ”أَنَّ مُوَكِّلَهُ بَاعَهُ مِنْهُ“ کہ وکیل کے موکل نے بیچ دیا ہے غلام کو ”مِنْهُ“ اس قبضے والے کے ہاتھ ”يُقْصَرُ يَدُهُ“ تو اس وکیل کے قبضے کو روکا جائے گا۔ بینہ نے کیا فائدہ دیا؟ اب وکیل کے حوالے غلام نہیں کیا جائے گا بلکہ اسی کے پاس رہے گا۔ لیکن ”وَلَا يَثْبُتُ الْبَيْعُ“ بیع ثابت اس سے نہیں ہوگی ”فَيُقَامُ ثَانِيًا“ تو بیع کو دوبارہ قائم کیا جائے گا ”فَيُقَامُ ثَانِيًا عَلَى الْبَيْعِ“ تو بینہ کو دوبارہ قائم کیا جائے گا بیع پر، کب؟ ”إِذَا حَضَرَ الْغَائِبُ“ جبکہ وہ غائب یعنی موکل کیا ہو جائے؟ کیونکہ بیع کے باب میں خصم کون ہے؟ موکل ہے، تو وہ جب حاضر ہو جائے گا تو دوبارہ بینہ قائم ہوگی۔ صورتِ مسئلہ سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ”أَدْخَلَ الْفَاءَ التَّعْقِيبِيَّةَ فِي مَاتْنٍ“ بھئی فاء تعقیب داخل کی ہے ”فِي قَوْلِهِ“ اپنے اس قول کے اندر ”فَلَوْ قَامَتْ“، ”فَلَوْ قَامَتْ“ میں کیا داخل کی؟ فاء، کیوں؟ ”لِأَنَّ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَفُرُوعِ، اسلیے کہ مسئلہ ان مسائل کے فروع میں سے ہے، قسم کے فروع میں سے ہے، کس مسئلے کے فروع میں سے ہے؟ کہتے ہیں: إِنَّ الْوَكِيلَ بِقَبْضِ الْعَيْنِ، هَلْ هُوَ وَكِيلٌ بِالْخُصُومَةِ أَمْ لَا؟ کہ وہ جو وکیل ہوتا ہے عین پر قبضے کا، کیا وہ وکیل بالخصومت ہے یا وکیل بالخصومت نہیں ہے؟ تو یہاں بھی دیکھو مولانا کون ہے؟ وکیل بی... کو کس پر قبضے کا وکیل بنا کر بھیجا تھا میں نے آپ کو؟ عین پر قبضے کا وکیل بنا کر بھیجا تھا یا دین پر؟ عین پر غلام معین صاحب۔ تو کیا آپ وکیل بالخصومت ہیں یا وکیل بالخصومت نہیں ہیں؟ تو اب آپ بتلائیے ہاں وکیل بالخصومت تھے یا نہیں تھے؟ نہیں تھے، اگر وکیل بالخصومت ہوتے تو پھر تو کیا ہونا چاہیے تھا؟ بیع کو ثابت ہو جانا چاہیے تھا لیکن یہاں پر بیع ثابت نہیں۔ فَفِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ قِيَاسٌ وَاسْتِحْسَانٌ، اس مسئلے کے اندر قِيَاس بھی ہے اور اِسْتِحْسَان بھی ہے، فَالْقِيَاسُ قِيَاس یہ ہے: أَنَّ الْعَبْدَ يُدْفَعُ إِلَى الْوَكِيلِ کہ غلام کو وکیل کے قبضے میں دے دینا چاہیے، حوالے کر دینا چاہیے، وَلَا تُقْبَلُ بَيِّنَتُهُ اور قابض کی بینہ کو قبول نہیں کرنا چاہیے، قابض کی یہ بینہ، کونسی بینہ کو قبول نہیں کرنی چاہیے؟ یہ بینہ کہ أَنَّ الْمُوَكِّلَ بَاعَ مِنْ صَاحِبِ الْيَدِ کہ موکل نے بیچ دیا ہے مبیع کو من صاحب الید کس کے ہاتھ پر؟ یعنی قبضے والے کے ہاتھ پر بیچ دیا ہے، یہ بینہ اس کی قبول نہیں کرنی چاہیے، لِأَنَّ الْبَيِّنَاتِ قَامَتْ عَلَى غَيْرِ خَصْمٍ اس لیے کہ یہ بینہ کس پر قائم ہوئی ہے؟ غیر خصم پر قائم ہوئی ہے۔ وَفِي الِاسْتِحْسَانِ اور استحسان میں بھئی يُقْصَرُ يَدُ الْوَكِيلِ وکیل کے قبضے کو روکا جائے گا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَثْبُتَ الْبَيْعُ فِي حَقِّ الْمُوَكِّلِ علاوہ اس کے کہ بیع ثابت ہو جائے موکل کے حق میں (یعنی بیع تو ثابت نہیں ہوگی لیکن وکیل کے قبضے کو کیا کر دیا جائے گا؟ روک دیا جائے گا، کیوں؟ لِأَنَّهُ خَصْمٌ فِي قَصْرِ الْيَدِ اس لیے کہ قبضے کو روکنے میں تو وکیل خصم ہے، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ خَصْمًا فِي إِثْبَاتِ الْبَيْعِ عَلَى الْمُوَكِّلِ اگرچہ موکل پر بیع کے ثابت کرنے میں وہ خصم نہیں ہے مولانا، پورا تو سمجھ میں آگیا بھئی؟ كَمَا يُقْصَرُ يَدُ الْوَكِيلِ فِي نَقْلِ الْمَرْأَةِ جیسے کہ روکا جائے گا وکیل کے قبضے کو فی نقل المراۃ). صورت یہ ہے مولانا، صورت مسئلہ یہ ہے: ایک شخص ہے اس کی بیوی دوسرے شہر میں ہے، یا اس کا ایک غلام ہے دوسرے شہر میں ہے، اس نے کسی کو وکیل بنا کر بھیجا کہ جاؤ بھئی ان دونوں وکیل بنا کر بھیجا کہ میری بیوی کو کیا کرو؟ اس شہر میں لے آؤ، یا اس غلام کو کیا کرو؟ میرے شہر میں وہاں سے لے آؤ، یہ وکیل گیا مولانا، یہ وکیل گیا، اور اس نے کہا کہ بھئی میں وکیل مجھے بنا کر بھیجا ہے آپ کے لیے بھئی، عورت نے گواہ قائم کر دیے کہ بھئی آپ کا موکل یعنی میرا خاوند، وہ تو مجھے طلاق دے چکا ہے، یا غلام نے کہا کہ چلو میرے ساتھ بھئی مجھے اس نے وکیل بنا کر بھیجا ہے، غلام نے بینہ قائم کر دی کہ بھئی آپ کا موکل یعنی میرا آقا، وہ تو مجھے کیا کر چکا ہے؟ آزاد کر چکا ہے، تو کیا اس بینہ کی وجہ سے عورت کی طلاق ثابت ہو جائے گی؟ کیا غلام کی آزادی ثابت ہو جائے گی؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، عورت کی آزادی عورت کی طلاق بھی اس سے ثابت نہیں ہوگی، اور کیونکہ یہ بینہ خصم پر اس نے قائم نہیں کی، طلاق کے مسئلے میں خصم کون ہے؟ اس کا شوہر، اور شوہر تو یہاں نہیں ہے، اور آزادی کے مسئلے میں خصم کون ہے؟ آقا اور وہ تو یہاں پر حاضر نہیں، تو پھر کیا اس بینہ کا کیا فائدہ ہوگا؟ کہتے ہیں صرف قبضے میں، قصر ید کا فائدہ دے گی، کس چیز کا فائدہ دے گی؟ قصر ید کا، یعنی وکیل کو ان پر قبضے کی اجازت، انہیں لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تو قصر ید کے اندر وکیل، پھر کیا کیا جائے گا؟ کہتے ہیں یہاں تک تو وکیل قبضے کو روکا جائے گا، اور بغیر طلاق بھی ثابت نہیں ہوگی، آزادی بھی، یہاں تک کہ وہ غائب حاضر ہو جائے۔ طلاق بھی ثابت نہیں ہوگی، اور آزادی بھی، یہاں تک کہ وہ غائب کیا ہو جائے؟ حاضر ہو جائے۔ پھر جب وہ غائب حاضر ہو جائے، تو پھر کیا کیا جائے گا؟ بینہ دوبارہ پیش کی جائے گی مولانا، کیونکہ اوپر مسئلے میں کیا بتلایا تھا؟ فَيُقَامُ ثَانِيًا عَلَى الْبَيْعِ إِذَا حَضَرَ الْغَائِبُ کہ غائب جب حاضر ہو جائے تو بیع پر بینہ کو دوبارہ قائم کیا جائے گا، تو یہاں پر بھی طلاق اور عتاق پر کیا کیا جائے گا؟ بینہ کو دوبارہ قائم کیا جائے گا، اگرچہ ماتن نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ بینہ دوبارہ قائم کی جائے گی، لیکن ماتن نے یہ تو کہہ دیا كَمَا يُقْصَرُ کہ یہ مسئلہ بھی جیسے اس مسئلے میں بینہ دوبارہ قائم کی گئی تھی، اس اوپر والے مسئلے میں بھی بینہ دوبارہ قائم کی جائے گی جیسے کہ اس مسئلے کے اندر ہے، صورت سمجھ میں آیا تو تشبیہ دے دی اس سے ہی پتہ چل گیا کہ اس میں بھی اسی طرح ہے۔ كَمَا جی تو اوپر والے مسئلے کی طرح ہے یہ، كَمَا جیسے کہ يُقْصَرُ يَدُ الْوَكِيلِ وکیل کے قبضے کو روکا جائے گا فِي نَقْلِ الْمَرْأَةِ عورت کو منتقل کرنے کے اندر وَالْعَبْدِ اور غلام کو منتقل کرنے کے اندر بِلَا طَلَاقٍ وَعِتْقٍ بغیر طلاق اور بغیر آزادی کے، لو قامت حجتہما علیہ اگر قائم ہو جائے ان دونوں کی بینہ علیہ اس وکیل پر ان دونوں کی بینہ قائم ہو جائے تو وکیل کو کس چیز سے روکا جائے گا؟ قبضے سے روکا جائے گا، بِلَا طَلَاقٍ وَعِتْقٍ، یعنی یہ دونوں ثابت نہیں ہوں گے، حَتَّى يَحْضُرَ الْغَائِبُ یہاں تک کہ غائب کیا ہو جائے؟ حاضر جب غائب حاضر ہو جائے تو کیا عتاق اور طلاق ثابت ہو جائیں گے؟ نہیں، پھر کیا کرنا پڑے گا؟ دوبارہ بینہ قائم کرنا پڑے گی۔ إِذَا جَاءَ رَجُلٌ جب آیا کوئی شخص اور اس نے کہا أَنَا وَكِيلُ فُلَانٍ الْغَائِبِ کہ میں فلاں غائب کا کیا ہوں؟ وکیل ہوں بِنَقْلِ امْرَأَتِهِ اس کی بیوی کو نقل کرنے کا، کہ اس کی بیوی کو منتقل کروں، اس کے شہر لے جاؤں، أَوْ عَبِيدِهِ إِلَى مَوْضِعِ كَذَا یا اس کے غلاموں کو فلاں جگہ تک میں لے جاؤں، فَأَقَامَتِ الْمَرْأَةُ الْبَيِّنَةَ تو اور بینہ عورت نے قائم کر دی عَلَى إِثْبَاتِ أَنَّ مُوَكِّلَهُ طَلَّقَهَا کہ اس کے موکل نے یعنی اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی ہے، وَالْعَبْدُ اور بينہ قائم کر دی غلام نے عَلَى أَنَّهُ أَعْتَقَهُ اس بات پر کہ اس کے موکل یعنی اس کے آقا نے اسے آزاد کر دیا ہے، يُقْصَرُ يَدُ الْوَكِيلِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَثْبُتَ الطَّلَاقُ وَالْعِتْقُ تو روکا جائے گا وکیل کے قبضے کو علاوہ اس کے کہ ثابت ہو جائے طلاق یا عتق، یہ نہیں ثابت ہوں گے، البتہ وکیل کے قبضے کو روکا جائے گا، بَلْ إِذَا حَضَرَ الْغَائِبُ تَجِبُ إِعَادَةُ إِقَامَةِ الْبَيِّنَةِ بلکہ جب غائب حاضر ہو جائے تو بینہ قائم کرنے کا اعادہ واجب ہوگا، سمجھ میں آیا بھئی؟ فَقَوْلُهُ: حَتَّى يَحْضُرَ الْغَائِبُ ماتن نے اوپر متن میں کہا تھا یہاں تک کہ غائب حاضر ہو جائے، يَتَعَلَّقُ بِقَوْلِهِ اس کا تعلق ماتن کے اس قول سے ہے بِلَا طَلَاقٍ وَعِتْقٍ، بغیر طلاق اور عتق کے، یہاں تک کہ غائب حاضر ہو جائے، کیا معنی؟ بغیر طلاق اور عتق کے؟ کہتے ہیں: أَيْ لَا يَقَعُ الطَّلَاقُ وَالْعِتْقُ حَتَّى يَحْضُرَ الْغَائِبُ طلاق واقع نہیں ہوگی اور آزادی واقع نہیں ہوگی یہاں تک کہ غائب کیا ہو جائے؟ حاضر ہو جائے، فَإِنَّهُ إِذَا حَضَرَ يَقَعُ اور جب وہ حاضر ہو جائے تو طلاق اور عتق کیا ہو جائیں گے؟ واقع ہو جائیں گے، كَأَنَّ أُعِيدَتِ الْبَيِّنَةُ تو اگر بینہ کا اعادہ کر دیا جائے، فَإِعَادَةُ الْبَيِّنَةِ بھئی اعادہ بینہ کا تذکرہ تو اس متن میں نہیں تھا، اب وہ بتلا رہے ہیں کہ وہ اوپر والے متن میں تھا، لیکن كَمَا کے ذریعے بتلا دیا کہ یہ مسئلہ بھی اسی کی طرح ہے، تو کہتے ہیں: فَإِعَادَةُ الْبَيِّنَةِ قَدْ سَبَقَتْ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى اعادہ بینہ کی بات تو گزر چکی ہے مسئلہ اولی کے اندر، وَقَدْ جَعَلَ حُكْمَ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ كَالْحُكْمِ الْأَوَّلِ اور تحقیق قرار دیا ہے اس مسئلے کے حکم کو بھی حکم اول کی طرح، اور ادھر کیا حکم تھا؟ کہ بینہ دوبارہ، تو یہاں پر بھی سمجھ میں آ گیا کہ بینہ، فَيُفْهَمُ إِعَادَةُ الْبَيِّنَةِ تو سمجھ میں آ گیا، سمجھا جائے گا، سمجھ میں آتا ہے کہ اعادہ بینہ اس سے سمجھ میں آ جاتا ہے۔ وَصَحَّ إِقْرَارُ الْوَكِيلِ بِالْخُصُومَةِ عِنْدَ الْقَاضِي وَعِنْدَ غَيْرِهِ إِلَّا، جی چلیے مولانا! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلامِ.
110 approved lectures · 90 of 110