كِتَابُ الْهِبَةِ، هِيَ تَمْلِيكُ عَيْنٍ بِلَا عِوَضٍ، وَيَصِحُّ بِوَهَبْتُ، وَنَحَلْتُ، أَعْطَيْتُ، أَطْعَمْتُكَ هَذَا الطَّعَامَ، فَإِنَّ الْإِطْعَامَ إِذَا نُسِبَ إِلَى الطَّعَامِ كَانَ هِبَةً، وَإِذَا نُسِبَ إِلَى الْأَرْضِ كَانَ عَارِيَّةً۔
جی، كِتَابُ الْهِبَةِ آج ہم شروع کریں گے بھئی، ہبہ کسی کو بلا عوض کی کوئی چیز دینا، جس کو تحفہ کہتے ہیں، اردو میں کیا کہتے ہیں؟ تحفہ بھئی ہبہ کہتے ہیں اس کو عربی میں بھئی۔ یاد رکھو جو ہبہ دینے والا ہے وہ واہب کہلاتا ہے۔ میں نے آپ کو ایک کتاب تحفے کے طور پر دی تو میں ہوا واہب اور وہ کتاب ہوئی موہوب جو چیز ہبۃ دی جائے وہ کیا کہلاتی ہے؟ موہوب کہلاتی ہے۔ اور جس کو وہ چیز دی جائے، جس کو ہبہ دیا جائے، وہ موہوب لہ کہلاتا ہے بھئی۔ وہ کیا کہلاتا ہے؟ موہوب لہ تو یہ آپ کو علم ہونا چاہیے، واہب، موہوب اور موہوب لہ بھئی۔
اچھا۔ كِتَابُ الْهِبَةِ هِيَ تَمْلِيكُ عَيْنٍ بِلَا عِوَضٍ یہ مالک بنانا ہے کسی چیز کا کسی کو بلا عوض بغیر کسی، میں نے آپ کو کتاب دے دی ویسے ہی کہ چلو بھئی یہ کتاب آپ کی ہو گئی، تو میں نے آپ سے کوئی عوض نہیں لیا ویسے ہی کتاب آپ کو دی ہے، تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ ہبہ کہلاتا ہے۔ اچھا بھئی، ہبہ کن لفظوں سے ہو سکتا ہے منعقد ہوتا ہے بھئی؟ کہتے ہیں وَيَصِحُّ اور ہبہ صحیح ہے بھئی، سمجھیں عربی زبان کی بات چل رہی ہے بھئی کون سے لفظ عربی میں ہبہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ وَيَصِحُّ بِوَهَبْتُ اور ہبہ صحیح ہے وَهَبْتُ کے لفظ سے، کیونکہ یہ تو صریح ہے بھئی۔ صریح ہے بھئی، وَهَبْتُ کا کیا معنی؟ میں نے تجھے یہ ہبہ کیا۔
وَنَحَلْتُ، نَحَلْتُ کا معنی کیا بتلایا تھا میں نے؟ عطیہ دینا، کیا دینا؟ عطیہ دینا، عطا کرنا، وَنَحَلْتُ وَأَعْطَيْتُ تو یہ بھی اس سے ایک معنی ہے أَعْطَيْتُ، نَحَلْتُ کا۔ وَأَطْعَمْتُكَ هَذَا الطَّعَامَ بھئی، اور میں نے تجھے یہ کھانا کھلا دیا۔ کھانا پڑھا تھا، میں نے کہا یہ أَطْعَمْتُكَ هَذَا الطَّعَامَ بھئی، تو یہ کیا لفظ کس اس سے کیا منعقد ہو گیا؟ ہبہ۔ بھئی اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی کہ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا بھئی أَطْعَمْتُكَ ہاذ، کدھر گیا بھئی کہاں پڑھا تھا؟ گزشتہ سبق میں 274 صفحے پر أَطْعَمْتُكَ أَرْضِي ہا، تو اس صورت میں بھی، اس صورت میں یہ کیا بنتا تھا؟ عاریت، کیا بنتا تھا؟ عاریت، تو یہ کیا وجہ ہے بھئی وہاں بتلایا عاریت ہے اور یہاں کیا بتلا رہے ہیں اطعام، ہبہ۔
کہتے ہیں فرق ہے بھئی، وہاں اطعام ارض تھا، یہاں اطعام طعام ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اطعام طعام ہے اور طعام کو کھایا جاتا ہے تو یہاں عاریت نہیں ہو سکتی بلکہ یہ معلوم ہوا یہ عین کھانا ہی دوسرے کو دے دیا ہے، اس کو کھا لے گا تو یہ ہبہ ہے بھئی، کیا ہے؟ جبکہ زمین جب دی ہے کھلائی ہے أَطْعَمْتُكَ أَرْضِي، تو زمین تو کھائی نہیں جاتی، بلکہ اس سے اس کے نفع اس سے لیا جاتا ہے یعنی کیا کیا جاتا ہے فصل حاصل، تو وہ عاریت بنی۔ تو جب اطعام کی نسبت معلوم ہوا زمین کی طرف ہو تو کیا مراد ہوگا؟ عاریت، اور جب کھانے کی طرف ہو یعنی ایسی چیز جسے کھایا جاتا ہے تو اس سے کیا مراد ہوگا؟ ہبہ۔
فَإِنَّ الْإِطْعَامَ إِذَا نُسِبَ إِلَى الطَّعَامِ كَانَ هِبَةً وَإِذَا نُسِبَ إِلَى الْأَرْضِ كَانَ عَارِيَّةً اس لیے کہ اطعام جو ہے اس کی جب نسبت کی جائے طعام کھانے کی طرف كَانَ هِبَةً تو یہ ہبہ ہوگا وَإِذَا نُسِبَ إِلَى الْأَرْضِ كَانَ عَارِيَّةً اور جب اس کی نسبت کی جائے زمین کی طرف تو یہ عاریت ہے۔ وَجَعَلْتُ، لفظ بتلا رہے ہیں ہبہ کن لفظوں سے صحیح ہو رہا ہے وہی چلتے جا رہے ہیں، وَجَعَلْتُ هَذَا لَكَ اور یہ میں نے آپ کے لیے کر دیا۔ یہ میں نے، یہ بھی ہبہ کا لفظ ہے، اس سے ہبہ ہو جائے گا۔ وَأَعْمَرْتُكَ هَذَا بھئی، یہ میں نے آپ کو عمر بھر کے لیے دے دیا۔ کیا کیا یہ میں نے؟ عمر بھر کے لیے، یہ بھی ہبہ کا لفظ ہے۔
وَجَعَلْتُهُ لَكَ عُمْرَى اور یہ میں نے آپ کے لیے کر دیا عمر بھر کے لیے۔ یہ کیا ہے؟ ہبہ، بھئی عُمْرَى عرب کے اندر تھا بھئی پہلے اسلام سے پہلے، کوئی شخص اس دوسرے کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز کسی کو دے دیتا، اور اس کے مرنے پر یعنی یہ چیز تمہاری موت تک تمہاری ہے، موت کے بعد وہ چیز واپس آ جاتی تھی واہب کے پاس بھئی، کس کے پاس؟ واہب کے پاس بھئی۔ لیکن اسلام میں نہیں مولانا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، دیکھیے آگے حدیث آ رہی ہے، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى جس نے مدت عمر کے لیے کوئی چیز کسی کو دی بھئی، عُمْرَى مدت عمر کے لیے کوئی چیز دینا یہ مفعول مطلق ہے آپ پڑھ چکے ہیں۔
فَهِيَ لِلْمُعْمَرِ لَهُ بھئی یہاں لَهُ لفظ ہونا چاہیے بھئی، کیا ہونا چاہیے؟ لَهُ لفظ ہونا چاہیے بھئی۔ فَهِيَ لِلْمُعْمَرِ لَهُ تو یہ چیز کس کی ہوگی؟ معمر لہ، جس کو مدت عمر کے لیے دی گئی ہے، اس کی ہے یہ چیز حَالَ حَيَاتِهِ اس کی زندگی میں وَلِوَرَثَتِهِ مِنْ بَعْدِهِ اور اس کے وارثوں کے لیے ہے اس کے بعد بھئی۔ معمر لہ کے مرنے کے بعد کس کے لیے ہے؟ معلوم ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضابطہ بیان فرما دیا کہ بھئی عُمْرَى جائز ہے لیکن عُمْرَى میں اس شخص کے مرنے کے بعد چیز واپس آتی تھی، یہ درست نہیں ہے، وہ چیز اب اسی کی ہو گئی، اس کے مرنے کے بعد اس کے کون کس کے، کون مالک ہو جائیں گے اب؟ وارث بھئی۔ سمجھ میں آیا؟
اسی لیے گزشتہ متن میں جو لفظ آیا تھا أَعْمَرْتُكَ هَذَا وَجَعَلْتُهُ لَكَ عُمْرَى یہ دونوں کس لیے ہیں؟ ہبہ کے لفظ ہیں، کیونکہ ہبہ عُمْرَى کے اندر کیا حدیث آ گئی؟ کہ اب وہ بعد میں کس کے لیے بن جائے گی؟ وارثوں کے، معلوم ہوا یہ ہبہ ہے، وہ مالک بن چکا ہے۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ بخلاف اس کے اگر اس نے یوں کہا دَارِي لَكَ عُمْرَى سُكْنَى، دیکھا سُكْنَى کا لفظ بھی ساتھ ملا دیا، باقی عبارت وہی ہے بھئی۔ تو اس صورت میں فَإِنَّ قَوْلَهُ سُكْنَى يَجْعَلُهُ عَارِيَّةً تو یہاں سُكْنَى کا جو لفظ آ گیا، یہ اس کو کیا بنا دے گا؟ عاریت بنا دے گا۔ کیا معنی؟ دَارِي لَكَ میرا گھر آپ کا ہے عُمْرَى مدت عمر کے لیے، یعنی ساری زندگی کے لیے سُكْنَى یہ تمیز ہے باعتبار رہائش کے، کیا پتا چلا اس سے؟ کہ ہبہ کر رہا ہے یا صرف رہائش دے رہا ہے؟ رہائش دے رہا ہے۔
فَقَوْلُهُ سُكْنَى تَمْيِيزٌ یہ تمیز ہے، فَيَكُونُ تَفْسِيرًا لِمَا قَبْلَهُ تو یہ کیا ہے؟ تفسیر ہے ماقبل کی، یعنی ہبہ سے بول کر کیا مراد ہے دراصل اس کی؟ عاریت مراد ہے فَيَكُونُ عَارِيَّةً تو یہ عاریت ہوگی۔ أَوْ سُكْنَى هِبَةٍ، أَيْ دَارِي لَكَ سُكْنَى هِبَةٍ یہ یہ کہتا ہے، أَوْ نُحْلَى سُكْنَى، کیا کہتا ہے؟ نُحْلَى بروزن بُشْرَى بھئی سُكْنَى یہ ایک ہی وزن ہے بھئی۔ دَارِي لَكَ نُحْلَى سُكْنَى یہ لفظ کہتا ہے، أَوْ سُكْنَى صَدَقَةٍ، دَارِي لَكَ سُكْنَى صَدَقَةٍ یہ کہتا ہے، أَوْ دَارِي لَكَ سُكْنَى، دَارِي لَكَ سُكْنَى یہ کہتا ہے۔
أَوْ صَدَقَةً عَارِيَّةً، أَيْ دَارِي لَكَ صَدَقَةً عَارِيَّةً یہ یہ... أَوْ هِبَةً عَارِيَّةً، أَيْ دَارِي لَكَ هِبَةً عَارِيَّةً بھئی یہاں اسی کے آگے عبارت ہونی چاہیے، يَكُونُ عَارِيَّةً بھئی، یہ عبارت لکھ لیجیے بھئی۔ متن کی عبارت کامل نہیں معلوم ہوا کچھ کتابت کی غلطی ہے، غالباً عبارت اس طرح ہوگی بھئی۔ آگے ان لفظوں، یہ سارے لفظوں کی صورت میں عاریت ہوگی بھئی۔ ان سارے لفظوں کی صورت میں کیا ہوگی؟ عاریت ہوگی، تو عاریت ہونے کا ذکر آگے نہیں آیا حالانکہ وہ بھی ہونا چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو معلوم نہیں عبارت اصل کیسی ہوگی لیکن بہرحال ایک صورت صحیح کرنے کی یہ بھی ہے کہ هِبَةً عَارِيَّةً کے آگے کیا لگا دیں؟ يَكُونُ عَارِيَّةً ان سارے لفظوں کی صورتوں میں یہ کیا ہوگا؟ عاریت ہوگی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
اب دیکھیے بھئی، اب ان لفظوں کی ترکیبیں وغیرہ بتلاتے جائیں گے بھئی علامہ صدر الشریعہ۔ وَفِي هِبَةٍ سُكْنَى اور هِبَةٍ سُكْنَى کے اندر بھئی، یعنی پوری عبارت یوں ہے أَيْ دَارِي لَكَ هِبَةً سُكْنَى میرا گھر آپ کے لیے ہبہ ہے باعتبار رہائش کے، کیا پتا چلا اس سے؟ کہ ہبہ کر رہا ہے یا صرف رہائش دے رہا ہے؟ رہائش دے رہا ہے۔ فَقَوْلُهُ سُكْنَى تَمْيِيزٌ یہ تمیز ہے۔ فَيَكُونُ تَفْسِيرًا لِمَا قَبْلَهُ تو یہ کیا ہے؟ تفسیر ہے ماقبل کی، یعنی ہبہ سے بول کر کیا مراد ہے دراصل اس کی؟ عاریت مراد ہے فَيَكُونُ عَارِيَّةً تو یہ عاریت ہوگی۔
أَوْ سُكْنَى هِبَةٍ أَيْ دَارِي لَكَ میرا گھر آپ کے لیے ہے، سُكْنَى هِبَةٍ بھئی، أَيْ دَارِي لَكَ بِطَرِيقِ السُّكْنَى میرا گھر کس طریقے پر آپ کے لیے ہے؟ رہائش کے طریقے پر، حَالَ كَوْنِ السُّكْنَى هِبَةً اس حال میں کہ وہ رہائش آپ کو کیا ہے؟ ہبہ ہے، أَيْ مَوْهُوبَةً یعنی موہوب ہے آپ کو وہ رہائش۔ معلوم ہوا ہبہ صرف کیا کی ہے؟ رہائش، تو یہ هِبَةً حال ہے سُكْنَى سے، معلوم ہوا سُكْنَى صرف ہبہ کی ہے، گھر پورا ہبہ نہیں کیا۔ عینی گھر نہیں ہبہ کیا۔
أَوْ نُحْلَى سُكْنَى، عبارت وہی بن جائے گی أَيْ دَارِي لَكَ نُحْلَى سُكْنَى، نُحْلَى کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں النُّحْلَةُ اسْمٌ مِنَ النِّحْلَةِ یہ اسم ہے کس میں سے؟ نِّحْلَةِ میں سے، أَيِ الْإِعْطَاءُ، کسے کہتے ہیں؟ اعطاء کو کہتے ہیں، نِّحْلَةِ یعنی اعطاء۔ تَقْدِيرُهُ تقدیر کلام یوں ہے، نَحَلْتُهَا نِحْلَةً۔ اچھا، بھئی پوری عبارت یوں بنے گی، بتلانا یہ چاہتے ہیں، یہ نُحْلَى عُمْرَى کی طرح مفعول مطلق بنے گا۔ نُحْلَى کیا بنے گا؟ مفعول مطلق بنے گا بھئی، کیسے؟ بھئی یوں۔ دَارِي لَكَ نَحَلْتُهَا نُحْلَى سُكْنَى بھئی، عبارت سمجھ میں آئی؟ دَارِي لَكَ نَحَلْتُهَا نُحْلَى سُكْنَى، میں دَارِي لَكَ بھئی ترجمہ سنو، میرا گھر آپ کے لیے ہے۔ نَحَلْتُهَا نُحْلَى میں نے آپ کو وہ گھر عطیے کے طور پر دیا، سُكْنَى کس اعتبار سے؟ رہائش کے اعتبار سے صرف بھئی۔
ثُمَّ قَوْلُهُ سُكْنَى تَمْيِيزٌ تو قول سُكْنَى کیا ہے؟ تمیز ہے، معلوم ہوا صرف عاریت کر رہا ہے۔ أَوْ سُكْنَى صَدَقَةٍ بھئی، أَيْ دَارِي لَكَ سُكْنَى صَدَقَةٍ یعنی یہ مراد ہے دَارِي لَكَ سُكْنَى صَدَقَةٍ متن میں یہ ہے، متن یعنی ماقبل میں دَارِي لَكَ ایک دفعہ گزر چکا ہے، اسی پر اعتماد کرتے ہوئے اس کو بار بار نہیں ذکر کر رہے۔ دَارِي لَكَ سُكْنَى صَدَقَةٍ میرا گھر آپ کے لیے ہے بطریق سُكْنَى کے، اس حال میں کہ وہ سُكْنَى کیا ہے؟ صدقہ ہے۔تو صدقہ حال ہوا کس سے؟ سُكْنَى سے۔ معلوم ہوا صرف صدقہ کیا کر رہا ہے؟ رہائش صدقہ کر رہا ہے، عین گھر کو صدقہ نہیں کیا۔
اَی دَارِي لَكَ بتریقِ سُكْنَى، میرا گھر آپ کا ہے، بتریقِ سُكْنَى رہائش کے طریق پر، حالَ کَوْنِ السُّكْنَى صَدَقَةً اِس حال میں کہ وہ رہائش کیا ہے؟ صدقہ ہے، اور اِس حال میں کہ وہ رہائش ہاریہ ہے، اَی دَارِي لَكَ حالَ كَوْنِهَا صَدَقَةً۔ معلوم ہوا صدقہ حال بن رہا ہے۔ میرا گھر آپ کے لیے ہے اِس حال میں کہ وہ گھر کیا ہے؟ صدقہ ہے اور بتریقِ الْعَارِیَةِ، یہ صدقہ کس طریقے پر ہے؟ عاریت کے طریقے پر ہے، تو بتلانے کو عَارِیَةٌ تَمْیِیْزٌ، عاریت کیا ہے؟ تمییز ہے۔ فُهِمَ مِنْهُ المَنْفَعَةُ، جس سے کیا سمجھ میں آرہی ہے؟ کہ صدقہ کیا چیز کیا ہے؟ نفع کیا ہے صرف، تو اسے منفعت سمجھ میں آرہی ہے، یعنی نفع صرف صدقہ کیا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دَارِي لَكَ صَدَقَةً عَارِیَةً، میرا گھر آپ کے لیے ہے اِس حال میں کہ وہ صدقہ ہے آپ کے لیے باعتبار بتریقِ عَارِیَةِ کے، عاریت کے طریقے پر یعنی عاریت ہے۔
فَعَارِیَةٌ تَمْیِیْزٌ، عاریت تمییز ہے، فُهِمَ مِنْهَا المَنْفَعَةُ، جس سے کیا سمجھ میں آتی ہے؟ منفعت سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں صرف نفع دیا ہے، عینِ شے نہیں دی۔ وَهِبَةً عَارِیَةً، اَی دَارِي لَكَ هِبَةً عَارِیَةً، میرا گھر آپ کے لیے ہے کس طریقے پر؟ میرا گھر آپ کے لیے ہے بھئی! جی، هِبَةً، اِس حال میں کہ وہ ہبہ ہے آپ کو عَارِیَةً، کس اعتبار سے؟ عاریت کے اعتبار سے، یعنی عاریت ہے مولانا، کیا ہے؟ فَیَكُوْنُ عَارِیَةً، تو یہ سارے لفظوں کی صورت میں کیا ہوگا؟ عاریت ہوگی یہ جملہ۔ اَی دَارِي لَكَ بتریقِ الْعَارِیَةِ، یعنی میرا گھر آپ کے لیے ہے عاریت کے طریقے پر، حالَ کَوْنِهَا هِبَةً، اِس حال میں کہ وہ کیا ہے؟ ہبہ ہے، تو ہبہ حال ہوا، فَلَمَّا قَالَ عَارِیَةً، جب کہنے والے نے ساتھ عاریت بھی کہہ دیا، تو فُهِمَ مِنْهَا المَنْفَعَةُ، تو اس سے کیا سمجھ میں آیا بھئی؟ منفعت سمجھ میں آئی کہ نفع دے رہا ہے، صرف عین نہیں دے رہا، مَعْنَاهُ، معنی ہے: حَالَ كَوْنِ المَنَافِعِ مَوْهُوبَةً لَكَ، اِس حال میں کہ وہ منافع آپ کو ہبہ ہیں، تو صرف منافع ہبہ ہیں۔
فَتَتِمُّ بِالْقَبْضِ الْكَامِلِ، اور ہبہ تام ہوتا ہے، ہبہ تام ہوتا ہے بِالْقَبْضِ الْكَامِلِ، کامل قبضے کے ساتھ، کس سے؟ تو کامل قبضہ آئے گا تو ہبہ تام ہوگا، کامل قبضہ نہیں تو ہبہ بھی تام نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ہبہ آپ نے کسی، میں نے آپ کو کہا یہ کتاب میں نے آپ کو دے دی، آپ نے کہا میں نے قبول کی، نہیں بھئی! ہبہ ابھی بھی پورا نہیں، جب تک میں آپ کو کتاب پر قبضہ نہیں کر دیتے آپ کتاب پر جب تک قبضہ نہیں کر لیتے، ہبہ تام نہیں ہوا بھئی۔ یہاں ایک ضابطہ بھی یاد رکھیں مولانا، قیمتی ضابطہ آپ کے کام آئے گا۔
كُلُّ عَقْدٍ مِّنْ شَرْطِهِ الْقَبْضُ، كُلُّ عَقْدٍ مِّنْ شَرْطِهِ الْقَبْضُ۔فَالشَّرْطُ لَا يُفْسِدُهُ.
ضابطہ لکھ لیا؟
كُلُّ عَقْدٍ مِنْ شَرْطِهِ الْقَبْضُ لَا يُفْسِدُهُ، فَالشَّرْطُ لَا يُفْسِدُهُ بھئی! ہر ایسا عقد کہ جس کے اندر قبضے کی شرط ہوتی ہے؛ تو شرط اس کو فاسد نہیں کرتی بھئی، شرط اس کو فاسد؟ آپ نے پڑھا ہے بھئی! بیع وغیرہ کے اندر شرط لگا دی جائے جو مقتضی کے خلاف ہو تو کیا ہو جاتا ہے؟ وہ بیع کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد مولانا! سمجھ میں آیا؟ لیکن وہ عقد جن کے اندر قبضہ کیا ہوتا ہے؟ شرط ہوتا ہے، ہر وہ عقد جس میں قبضہ شرط ہے، اس کے اندر اگر کوئی شرط لگا دی جائے تو شرط باطل ہوگی عقد فاسد نہیں ہوگا بھئی۔ ضابطہ یاد رکھنا۔ معلوم ہوا ہبہ کے اندر بھی کوئی شرط لگا دی جو صحیح نہیں ہے تو شرط فاسد ہو گئی۔
وَتَتِمُّ بِالْقَبْضِ الْكَامِلِ اور ہبہ تام ہوتا ہے کامل قبضے کے ساتھ، اَيْ تَتِمُّ الْهِبَةُ بِالْقَبْضِ الْكَامِلِ ہبہ ضمیر کا مرجع بتلایا کہ تَتِمُّ اس کی تام ہوتا ہے، کون تام ہوتا ہے؟ ہبہ تام ہوتا ہے الْقَبْضِ الْكَامِلِ کس وجہ سے؟ کامل قبضے کی وجہ سے، وہ كامل قَبْضَةً الْمُمْكِنِ فِي الْمَوْهُوبِ جو کس کے اندر موہوب کے اندر ممکن ہو، بھئی موہوب کے اندر جس حد تک کامل قبضہ ممکن ہو سکے اس سے ہبہ کیا ہوگا؟ تام تو ہبہ تام ہوگا کامل قبضہ کرنے سے، وہ کامل قبضہ جو ممکن بھی ہو موہوب کے اندر، لِلْمَوْهُوبِ لَهُ کس کے لیے ممکن ہو؟ موہوب لہو، موہوب لہو کے لیے وہ کامل قبضہ وہ قبضہ ممکن بھی ہو، فَالْقَبْضُ الْكَامِلُ الْمَوْهُوبِ الْمَنْقُولِ بھئی کامل قبضہ اب کسے کہیں گے؟ کہتے ہیں بھئی ہر چیز کے مناسب قبضہ الگ ہوتا ہے، منقولات میں قبضہ اور ہے، غیر منقولات میں قبضہ اور ہے، تو کہتے ہیں فَالْقَبْضُ الْكَامِلُ فِي الْمَوْهُوبِ الْمَنْقُولِ مَايُنَاسِبُهُ پس کامل قبضہ موہوب منقولی کے اندر وہ ہے جو اس کے مناسب ہو، وَفِي الْعَقَارِ مَايُنَاسِبُهُ اور غیر منقولی کے اندر وہ ہے جو اس کے مناسب ہو، مثلاً دیکھیے بھئی فَقَبْضُ مِفْتَاحِ الدَّارِ قَبْضٌ لَهَا پس گھر کی چابیوں پر قبضہ کرنا یہ گھر پر قبضہ ہے، بھئی دیکھو گھر غیر منقولی ہے، گھر کیا ہے؟ بھئی منقولی چیز کے اندر تو قبضہ اور ہوگا اور غیر منقولی میں جو اس کے مناسب غیر منقولی کی مثال ذکر کر رہے ہیں جیسے گھر ہے تو گھر کی چابیوں پر قبضہ کر لیا تو گویا کس پر قبضہ کر لیا؟ گھر پر قبضہ کر لیا، پورا سمجھ میں آیا؟ لہذا ایک آدمی نے آپ کو بھئی ایک مجلس کے اندر گھر ہبہ کیا کہ فلاں گھر میں نے آپ کو ہبہ کر دیا، آپ کو تحفہ کے طور پر دے دیا، تو یہ ہبہ تام نہیں ہے، لیکن جب آپ اس گھر کی چابیاں کیا कर لیں؟ قبضے میں لے لیں، وصول کر لیں، تو اب ہبہ کیا ہو گیا؟ تام ہو گیا، اب جائیں جا کر اس گھر کے اندر پانچ چھ آدمی بٹھا کر آئیں، یہ قبضہ نہیں بھئی، بلکہ قبضہ کیا ہے اس چیز کے مناسب، تو یہ چابیاں لے لیں تو کیا ہو گیا؟ قبضہ ہو گیا بھئی۔
وَالْقَبْضُ الْكَامِلُ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ بِالْقِسْمَتِ جی۔
اب دیکھو بھئی، کچھ ایسی چیزیں ہیں جن میں تقسیم ہو سکتی ہے، یعنی تقسیم کے بعد بھی ان کا نفع رہتا ہے، اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جن میں تقسیم نہیں ہو سکتی، یعنی تقسیم کے بعد ان کا نفع باقی نہیں رہتا۔ سمجھ میں آیا؟ میں نے آپ کو پانچ کنال زمین دے دی، تو کیا اس زمین کی تقسیم ہو سکتی ہے یا تقسیم نہیں ہو سکتی؟ تقسیم۔ اچھا ڈھائی ڈھائی کنال کی تقسیم ہو گئی، تو یہ ڈھائی ڈھائی کنال الگ ہو جائیں تو کیا ان کا نفع باقی رہتا ہے یا باقی نہیں رہتا؟ باقی رہتا ہے، سمجھ میں آیا یہ ایک قسم ہوئی، دوسری قسم وہ ہے جس میں تقسیم نہیں ہو سکتی، یعنی تقسیم تو ہو سکتی ہے لیکن تقسیم کے بعد اس کا نفع باقی نہیں رہتا۔ مثلاً بھئی، ااا میں نے کیا کیا؟ پنچکی آپ کو ا کیا کی؟ پنچکی ہے مثلاً یا مثلاً گاڑی ہے کیا ہے؟ گاڑی ہے، گاڑی ہے بھئی، گاڑی ہے مولانا، اس کے اندر آپ بتائیے مولانا! تقسیم ہو سکتی ہے؟ نہیں بھئی! اگر تقسیم ہو جائے تو نفع رہے؟ آدھی گاڑی زید لے لے کاٹ کر، آدھی میں رکھ لوں، اب کوئی نفع ہے اس کا؟ یہ تو ردی ہو گئی، بیکار ہو گئی، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح حمام ہے بھئی دو آدمیوں میں مشترک، بھئی، اس کی اگر تقسیم کر دی جائے تو کیا قابل انتفاع رہے گا؟ نہیں رہے گا، ایک چھوٹا سا کمرہ ہے، اس کو اگر تقسیم کر دیا جائے تو کیا وہ قابل انتفاع رہے گا؟ نہیں رہے گا بھئی، اسی طرح پنچکی ہے مولانا، اگر اس کی تقسیم کر دی جائے بھئی دو آدمیوں میں مشترک تھی تقسیم کر دی جائے، تو کیا اب اس سے قابل انتفاع رہے گی؟ قابل انتفاع نہیں رہے گی بھئی، صورت سمجھ گئے بھئی؟
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو چیزیں دو قسم پر ہوئیں گویا، کچھ وہ ہیں جو تقسیم ہو سکتی ہیں، کچھ وہ ہیں جو تقسیم نہیں۔ یعنی تقسیم تو ساری ہو سکتی ہیں لیکن تقسیم ہونے کا معنی یہ ہے کہ تقسیم کے بعد بھی اس کا نفع باقی رہتا ہے، اور کچھ وہ ہیں جن میں تقسیم کے بعد ان کا نفع باقی تو گویا وہ تقسیم ہی نہیں ہو سکتی، تو کچھ چیزیں ایسی ہیں جو تقسیم ہو سکتی ہیں، کچھ چیزیں وہ ہیں جو تقسیم نہیں، تو یاد رکھو! جو چیز تقسیم ہو سکتی ہے اس کے اندر تقسیم کے بعد کامل قبضہ ہو سکتا ہے، تقسیم سے پہلے کامل قبضہ نہیں ہو سکتا۔ میں نے آپ کو بھئی میرا ایک کنال کا پلاٹ میں نے آپ کو کہا نصف میں نے اس میں سے آپ کو دے دیا، بھئی کون سا نصف؟ میں نے کوئی الگ کر کے دیا؟ نہیں بھئی! اب بھئی اب آپ کامل قبضہ کر سکتے ہیں؟ کامل قبضہ یہاں نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ ایسی چیز ہے جس کو تقسیم کا ہو سکتی ہے، تو جو چیز تقسیم ہو سکتی ہے اس میں کامل قبضہ کب آئے گا؟ جب کہ تقسیم کر کے حصہ الگ کر دیا جائے، پھر کامل قبضہ اب آپ اس پر کامل قبضہ اپنے حصے پر کر سکتے ہیں، اس سے پہلے اگر آپ اپنے نصف پر پورے پلاٹ پر آپ قبضہ کر بھی لیں، تو بھی مولانا یہ قبضہ کامل شمار، کیونکہ یہاں پر جو نصف آپ کے نصف پر قبضہ آیا وہ طبعاً آیا اصلاً نہیں آیا، اصلاً تو آپ کا قبضہ کس پر ہے؟ کل پر ہے، بھئی! میں نے آپ کو نصف دیا، کیا دیا؟ نصف دیا اور یہ کون سی چیز ہے جو تقسیم ہو سکتی ہے یا تقسیم نہیں ہو سکتی؟ یہ وہ چیز ہے جو تقسیم ہو سکتی ہے، میں نے نصف آپ کو ہبہ کر دی مثلاً، اب آپ اس نصف پر کیا کرنا چاہتے ہیں؟ قبضہ، تو اکیلے نصف پر تو کر نہیں سکتے، تو لازمی بات ہے کس پر کرنا پڑے گا؟
صورت سمجھ میں آ رہی ہے یا خاموش بیٹھے ہو سارے بھئی؟
میں نے آپ کو آدھی زمین دے دی، کوئی تعین نہیں کی کہ کہاں سے کہاں تک آپ کی زمین ہے، بس یہ کہا اس میں سے نصف کس کی ہو گئی؟ آپ کی ہو گئی، معلوم ہوا اب شریک آپ کو بنا رہا ہوں میں بھئی، تو اب نصف زمین آپ کی ہوئی بھئی، تو یہاں زمین ایسی چیز ہے جسے تقسیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں کیا جا سکتا؟ کیا جا سکتا ہے، تو جو چیز تقسیم کی جا سکتی ہے، اس کے اندر کامل قبضہ کس کے بعد ہو سکتا ہے؟ تقسیم کے بعد ہی ہو سکتا ہے، تقسیم سے پہلے نہیں ہو سکتا، لہذا اب آپ کو اگر میں آپ کا آدھا حصہ الگ کر کے دے دوں، تو پھر تو آپ کا کامل قبضہ آیا، ہبہ صحیح ہو گیا، لیکن اگر میں آپ کو الگ کر کے نہیں دیتا، تو آپ کا کامل قبضہ نہیں، لہذا ہبہ بھی صحیح نہیں۔ ہبہ صحیح نہیں۔ بھئی کہتے ہیں اس میں بھی تو قبضہ آ سکتا ہے، کیسے؟ کہ کل پر قبضہ کر لے، تو جب کل پر قبضہ کرے گا تو نصف پر بھی کیا آ جائے گا؟ قبضہ آ جائے گا۔ کہتے ہیں بھئی نصف پر اب بھی قبضہ آئے گا، لیکن وہ اصالتاً نہیں ہے، بلکہ طبعاً ہے، بلکہ کیا ہے؟ طبعاً ہے، تو اصل میں تو قبضہ ہے کل پر، لیکن کل کے ضمن میں کیا آ گیا؟ نصف بھی آ گیا، تو نصف پر جو قبضہ آیا وہ اصالتاً ہوا یا طبعاً ہوا؟ طبعاً، تو اصالتاً قبضہ کس پر ہوا؟ کل پر، اور طبعاً قبضہ کس پر ہوا؟ اپنے نصف پر، تو یہ قبضہ کامل نہیں بھئی، یہ قبضہ کامل نہیں، حالانکہ قبضہ کون سا چاہیے تھا؟ کامل چاہیے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں، وَالْقَبْضُ الْكَامِلُ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ بِالْقِسْمَتِ اور کامل قبضہ اس چیز کے اندر جو تقسیم کا احتمال رکھتی ہے یعنی تقسیم کی جا سکتی ہے، بِالْقِسْمَتِ کس کے ذریعے ہوگا؟ تقسیم کے ذریعے ہوگا، حَتَّى يَقَعَ الْقَبْضُ عَلَى الْمَوْهُوبِ بِطَرِيقِ الْإِصَالَةِ یہاں تک کہ واقع ہوگا قبضہ کس پر؟ بھئی تقسیم کے بعد، یہاں تک کہ پھر تقسیم کے بعد کیا ہوگا؟ قبضہ واقع ہوگا، کس پر قبضہ ہوگا؟ میں نے آپ کی زمین الگ کر کے آپ کو دی تو اب آپ کس پر قبضہ کریں گے؟ اس تو اس صورت میں قبضہ واقع ہوگا موہوب پر بطریقِ الإصالَةِ کس طریقہ پر؟ یہ کب تقسیم کے بعد اصالتاً قبضہ ہوگا، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بِتَبَبِعِيَّةِ قَبْضِ الْكُلِّ علاوہ اس کے کہ وہ کل پر قبضے کے تابع رہتے ہوئے ہو۔
علاوہ اس کے کہ وہ بھئی اگر میں ساری زمین پر آپ قبضہ کر لیتے تو یہ نصف پر بھی آپ کے اپنے نصف پر بھی قبضہ ہوتا، لیکن وہ قبضہ اصالتاً ہوتا یا طبعاً ہوتا؟ طبعاً۔ لیکن جب میں نے تقسیم کے بعد آپ کو دے دی اب آپ نے اس موہوب پر قبضہ کیا، تو اب یہ تو یہ قبضہ اصالتاً ہوا یا طبعاً ہوا؟ اصالتاً ہوا۔ تو یہ قبضہ اصالتاً ہوا، علاوہ اس کے کہ کل کے، کل پر قبضے کے تابع رہتے ہوئے ہو۔ یہ کل پر قبضے کے تابع رہتے ہوئے یہ قبضہ نہیں ہوا، یعنی طبعاً نہیں ہوا، آسان لفظوں میں یوں کہو بس طبعاً نہیں ہوا۔ وَفِيمَا لَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ اور ان چیز کامل قبضہ ان چیزوں کے اندر جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتیں، بِطَبِيعَةِ قَبْضِ الْكُلِّ وہاں پر کل کے قبضے کے تابع رہتے ہوئے ہوگا۔
ترجمہ غور سے سن رہے ہو بھئی؟ وہ چیزیں ہیں جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتیں، بِطَبِيعَةِ قَبْضِ الْكُلِّ انہیں کامل قبضہ کیسے ہوگا؟ کل کے قبضے کے تابع ہوتے رہتے ہوئے ہوگا، سمجھ میں آیا؟ مثلاً بھئی، پنچکی ہے میری اور زید کی مشترکہ ہے، کیا ہے؟ میری اور زید کی مشترکہ ہے، اب میں نے اس میں سے اپنا حصہ آپ کو دے دیا، تو اب آپ کل پر قبضہ کر لیتے ہیں، تو جب کل پر قبضہ کریں گے، تو نصف پر بھی کیا ہو جائے گا؟ قبضہ، تو لیکن یہ قبضہ کامل ہی شمار ہوگا، کیا شمار ہوگا؟ کامل، اس لیے کہ اس میں پنچکی میں تقسیم کا احتمال نہیں اور جو چیزیں تقسیم کا احتمال نہیں رکھتیں، ان میں طبعاً قبضہ بھی، کافٰی ہے، طبعاً قبضہ بھی، اور جو چیزیں تقسیم کا احتمال رکھتی ہیں، ان میں طبعاً قبضہ کافی، تو یہاں پر اصالتاً تو آپ نے کل پر قبضہ کیا اور طبعاً کس پر کیا؟ نصف، لیکن یہ کامل قبضہ ہے، اس لیے کہ یہ تقسیم کا احتمال ہی نہیں رکھتی۔ صورت سمجھ میں آگئی سب کو بھئی؟
فَتَصِحُّ إِنْ قَبَضَ فِي مَجْلِسِهَا بِلَا إِذْنٍ وَبَعْدَهُ بھئی۔
اچھا بھئی، یاد رکھو! جس مجلس میں ہبہ ہو اسی مجلس کے اندر قبضہ ضروری ہے بھئی، اس مجلس میں بغیر اجازت کے بھی قبضہ کر لیا تو یہ کافی ہو جائے گا بھئی، کیا ہو جائے گا؟ کافی ہو جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ کتاب مجلس کے اندر پڑی ہے، میں نے آپ کو کہا یہ کتاب میں نے آپ کو تحفہ کے طور پر دے دی، تو اسی مجلس میں آپ اس کتاب پر مجھ سے پوچھے بغیر قبضہ کر لیں، تو ہبہ تام ہو گیا، ہبہ کیا ہو گیا؟ بھئی آپ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی آپ نے تو واحد سے اجازت نہیں دی، بغیر اجازت کے اس کتاب پر کیا کر لیا؟ قبضہ، کہتے ہیں بھئی اس نے ہبہ کیا یا ہبہ نہیں کیا؟ تو ہبہ میں ایک ضمنی کیا آ گئی؟ اجازت آ گئی قبضے کی بھئی، سمجھ میں آیا جب میں خود کہہ رہا ہوں میں نے آپ کو تحفہ کے طور پر دے دی تو کیا دے دی دراصل میں نے آپ کو؟ اجازت دے دی بھئی۔
ہاں! اگر مجلس ختم ہو گئی، مجلس تک آپ نے قبضہ نہیں کیا کتاب پر، اب اس کے بعد اس کتاب پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، اب دوبارہ واحد سے کیا لینی پڑے گی؟ اجازت، بغیر اجازت کے قبضہ نہیں، تو یہی بات کر رہے ہیں بھئی، فَتَصِحُّ أي فَتَصِحُّ الْهِبَةُ ہبہ صحیح ہے، ان قَبَضَ فِي مَجْلِسِهَا أي فِي مَجْلِسِ الْهِبَةِ بھئی، اگر قبضہ کر لیا کس میں؟ اسی مجلسِ ہبہ کے اندر بِلَا إِذْنٍ بغیر اجازت کے ہی وَبَعْدَهُ بِِإِذْنٍ اور مجلس کے بعد اجازت کے ساتھ صحیح ہوگا قبضہ، ورنہ صحیح، ہبہ صحیح نہیں۔ ای اذا قَبَضَ فِي مَجْلِسِ الْهِبَةِ جب قبضہ کر لیا ہبہ کی مجلس میں بِلَا إِذْنٍ بغیر اجازت کے، كَانَ قَبْضًا تو یہ بھی قبضہ ہے، کیوں؟ لِأَنَّ الْهِبَةَ دَلِيلُ الْإِذْنِ اس لیے کہ ہبہ کرنا، یہ دلیل ہے کس چیز کی؟ کہ جب اس نے ہبہ کیا ہے تو اجازت کی دے دی ہے، یہ دلیل ہے وَبَعْدَ انْقِضَاءِ الْمَجْلِسِ اور مجلس کے گزر جانے کے بعد لَابُدَّ أَنْ يَأْذْنَ الْوَاهِبُ صَرِيحًا ضروری ہے کہ اجازت دیوے ہبہ کرنے والا صراحتاً بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ كَمُشَاعٍ لَا يُقَسَّمُ یا كَمُشَاعٍ لَا يُقَسَّمُ دونوں کا ایک، يُقَسَّمُ بھی پڑھ سکتے ہیں يُقْسَمُ بھی ایک معنی۔
مُتَعَلِّقٌ بِقَوْلِهِ فَتَصِحُّ كَمُشَاعٍ کس سے متعلق ہے؟ فَتَصِحُّ اوپر متن میں جو آیا اس کے ساتھ متعلق ہے۔
اچھا، مُشَاع کہتے ہیں مشترک چیز کو۔
مُشَاع کس کو کہتے ہیں؟ مشترک چیز کو بھئی، دیکھو بھئی! ایک زمین ہے میری اور زید کی مشترکہ ہے، بھئی میری اور زید کی نصف زمین میری ہے، نصف زید کی، لیکن ابھی ہم نے حد بندی نہیں کی، تقسیم نہیں کی کہ کہاں سے کہاں تک زید کی ہے اور کہاں سے کہاں تک میری ہے، بس اتنا ہے اس زمین میں نصف حصہ میرا ہے اور نصف حصہ زید کا، اس کو مُشَاع کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مُشَاع، یہ شُيُوع سے ہے، کس سے ہے؟ شُيُوع سے، شُيُوع کا معنی پھیلاؤ، پھیلاؤ، تو چونکہ میرا اور زید کا حصہ بھی پوری زمین میں پھیلا ہوا ہے، زمین کا کوئی جز پکڑ لیں، اس کے اندر آدھا میرا ہوگا، آدھا زید، کوئی دوسرا جز پکڑ لیں، آدھا میرا ہوگا، آدھا زید، تو دیکھو ہر ایک کا حصہ، دونوں کا حصہ زمین کے ایک ایک جز میں کیا ہے؟ پھیلا ہوا ہے، شایع ہے، اس لیے اس کو مُشَاع کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ یعنی مشترکہ بھئی۔
بات سمجھ میں آگئی؟
كَمُشَاعٍ لَا يُقَسَّمُ جیسے ایسی مشترکہ چیز جو تقسیم نہیں کی جاتی۔
اچھا، اس کے اندر جو تقسیم نہیں کی جاتی تو اس کے اندر کیا ہے؟ قبضہ کر لے تو یہ صحیح ہے قبضہ۔
تو کہتے ہیں مُتَعَلِّقٌ بِقَوْلِهِ فَتَصِحُّ یہ کمشاع جو ہے اس سے متعلق ہے فَتَصِحُّ کے قول سے، وَالْمُرَادُ بِهِ مراد اس سے یہ ہے كَنَّهُ إِذَا قُسِمَ کہ اگر یعنی کہ اس کی تقسیم تو ہو جاتی ہے، لیکن جب تقسیم کر دیا جائے تو لَا يَبْبَقَى مَنْفَعَةٌ منفعۃ تو نفع باقی نہیں رہتا، كَرِحَا جیسی چکی ہے، وَالْحَمَّامِ اور حمام ہے، وَالْبَيْتِ الصَّغِيرِ اور چھوٹا کمرہ ہے، لَا فِيمَا يُقَسَّمُ نہ کہ ان چیزوں کے اندر جو تقسیم کی جا سکتی ہیں، جو تقسیم ہو جاتی ہیں، جو تقسیم ہو جاتی ہیں جی۔
جی ، مُشَاع چیز ہے، اگر مُشَاع چیز مشترکہ چیز ایسی ہے، یاد رکھو ضابطہ بھئی، مشترکہ چیز کا ہبہ صحیح نہیں۔ کیوں؟ ہبہ کے لیے کیا ضروری؟ ہبہ کے لیے کیا ضروری، کس سے تام ہوتا ہے ہبہ؟ قبضہ، ہبہ کے لیے قبضہ ضروری، تو مُشَاع چیز کا ہبہ صحیح نہیں، لیکن وہ مُشَاع چیز ایسی ہو جو تقسیم کے بعد اس کا نفع باقی رہتا ہو، اگر تقسیم کے بعد اس کا نفع باقی نہیں رہتا، پھر اس میں ہبہ صحیح ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ مُشَاع چیز کہتی ہے جو تقسیم ہوتی ہو، تقسیم کی جاتی ہو، تو اس میں ہَبَةٌ صحیح نہیں، اور مُشَاع چیز ایسی ہے کہ جس کے اندر تقسیم کے بعد اس کا نفع باقی تو وہاں پر ہبہ صحیح۔ صورت سمجھ کیا ضابطہ ہوا؟
مُشَاع چیز کے اندر ہبہ کب صحیح ہو سکتا ہے جبکہ وہ تقسیم نہ کی جاتی ہو، اور اگر وہ تقسیم کی جاتی ہے تو ہبہ صحیح نہیں بھئی، اس لیے کہ پھر کامل قبضہ نہیں پایا گیا۔ یہ معنی ہے لَا فِيمَا يُقَسَّمُ نہ کہ اس مُشَاع کے اندر جس کو تقسیم نہیں کیا جاتا، اس میں ہبہ صحیح نہیں ہے، أي لَا يَصِحُّ الْهِبَةُ فِي مُشَاعٍ ہبہ صحیح نہیں ہے ایسی مُشَاع چیز کے اندر لَا يُقْسَمُ اگر اس کو تقسیم کر دیا جائے يََبْقَى مَنْفَعَتُهُ تو تب بھی اس کا نفع کیا ہے؟ باقی رہتا ہے عِنْدَنَا یہ کس کے نزدیک ہے؟ ہمارے نزدیک ہے، خِلَافاً لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بخلاف کس کے؟ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کے، جی، ان کے نزدیک صحیح ہے بھئی۔
ان کے نزدیک کیا ہے؟ ہمارے نزدیک مُشَاع، ایسی مُشَاع جس کو تقسیم کیا جا سکتا ہے، اس کا ہبہ صحیح نہیں۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، مُشَاع چیز کا ہبہ صحیح ہے، چاہے اس کو تقسیم ہو سکے چاہے تقسیم نہ ہو سکے، کہتے ہیں وَهَذَا الْخِلَافُ مَبْنِيٌّ عَلَى اشْتِرَاطِ الْقَبْضِ اور یہ اختلاف جو ہے، مبنی ہے کس پر؟ قبضے کی شرط لگانے پر۔
قبضے کی، ہم نے کس کی شرط لگائی ہے؟ قبضے، اس وجہ سے یہ اختلاف آیا ہے، اس کی بنا قبضے کی شرط پر ہے۔ هو يقول امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، الْمُشَاعُ مَحَلٌّ لِلْقَبْضِ كَمَا فِي الْبَيْعِ وَنَحْوِهِ کہ مُشَاع محل ہے قبضے کا، جیسے بیع کے اندر۔
جیسے کس کے اندر بیع کے اندر ۔! بيع کیا بھئی! بیع کے اندر مشترکہ چیز کا حصہ بیچنا جائز ہے۔ میرا اور زید کے درمیان ایک زمین مشترک ہے، نصف میری ہے، نصف کس کی ہے؟ زید! لیکن ہم نے تقسیم نہیں کی تو یہ مشاع ہے، زمین کیا ہے؟ میں اپنا نصف حصہ آگے کسی کو بیچنا چاہتا ہوں تو بیچ سکتا ہوں۔ تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دیکھا جب بيع کے اندر مشترکہ چیز بیچنا جائز ہے، تو ہبہ کرنا بھی جائز ہے۔
یہ معنی ہے، اس لیے کہ وہ فرماتے ہیں مشاع محل ہے قبضے کا كَمَا فِي الْبَيْعِ جیسے کس کے اندر ہے؟ بيع کے اندر۔ بيع کے اندر اس پر قبضہ ہو سکتا ہے، تو ہبہ کے اندر بھی اس پر کیا ہو سکتا ہے؟ قبضہ ہو سکتا ہے، جیسے بيع وغیرہ میں ہے۔ وَنَحْنُ نَقُولُ ہم کہتے ہیں: الْقَبْضُ مَنْصُوصٌ عَلَيْهِ هَاهُنَا کہ قبضہ منصوص علیہ ہے یہاں پر بھئی۔ قبضہ کیا ہے؟ یعنی اس پر نص آئی ہے قبضے پر یہاں پر فَلَا بُدَّ مِنْ كَمَالِهِ لہذا کامل قبضے کا ہونا ضروری ہے۔ ہبہ کے اندر قبضے کی باقاعدہ کیا آئی ہے؟ نص! حدیث کے اندر آیا ہے کہ ہبہ کے اندر قبضہ ضروری ہے۔ تو جب حدیث کے اندر قبضے کے صراحتاً ذکر آ گیا، تو اب لہذا کامل قبضہ ہونا چاہیے اور کامل قبضہ کس کے ذریعے ہوگا؟ تقسیم کے بعد ہو سکتا ہے، تقسیم سے پہلے نہیں ہو سکتا۔
وَنَحْنُ نَقُولُ ہم کہتے ہیں: الْقَبْضُ مَنْصُوصٌ عَلَيْهِ هَاهُنَا کہ قبضہ جو ہے منصوص علیہ اور منصوص علیہ، یعنی اس پر نص آئی ہے یہاں پر فَلَا بُدَّ مِنْ كَمَالِهِ ای ای من کمال الْقَبْضِ لہذا کامل قبضے کا ہونا ضروری ہے بقول علیہ السلام حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: لَا يَجُوزُ الْهِبَةُ إِلَّا مَحُوزَةً مَقْبُوضَةً جائز نہیں ہے ہبہ، مگر یہ کہ وہ غیر مشغول ہو اور مقبوض ہو۔ مَحُوز کہتے ہیں جو مشغول دوسرے کے حق کے ساتھ مشغول نہ ہو بھئی۔ مَحُوز کسے کہتے ہیں؟ جو دوسرے کے حق کے ساتھ مشغول نہ ہو بھئی! میں نے دیکھو بھئی! میں نے آپ کو ایک گھر ہبہ کیا، لیکن اس گھر میں میرا سارا سامان پڑا ہوا ہے، تو اب یہ گھر محوز نہیں ہے بھئی۔ یہ گھر کیا ہے؟ محوز نہیں ہے، کیونکہ یہ گھر مشغول ہے میری ملکیت کے ساتھ، اس کے اندر کیا پڑا ہوا ہے؟ میرا سامان پڑا ہوا ہے۔ تو یہ گھر محوز ہوا یا غیر محوز؟ غیر محوز! محوز کا معنی ہے جو مشغول نہ ہو، دوسرے کا اس میں حق کسی قسم کا باقی نہ ہو، اور اس کے اندر تو کیا ہے؟ میرا حق اور میرا سامان وغیرہ ابھی بھی۔ سمجھ میں آیا تو محوز کا کیا معنی؟ جی۔
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: الْهِبَةُ جائز نہیں ہے إِلَّا مَحُوزَةً مگر کس کے اندر؟ ایسی چیز میں جو جو دوسرے کے حق کے ساتھ مشغول نہ ہو مَقْبُوضَةً اور کیا ہو؟ مقبوض ہو، یعنی اس میں قبضے ابھی ضروری ہے، قبضہ بھی۔ تو حدیث میں قبضے کا ذکر آیا، تو معلوم ہوا قبضہ کون سا مراد ہم لیں گے؟ کامل! اور کامل قبضہ کب ہوتا ہے؟ تقسیم سے پہلے یا تقسیم کے بعد؟ تقسیم کے بعد۔
وَلَا فَرْقَ عِنْدَنَا اور ہمارے نزدیک کوئی فرق نہیں ہے بیچ اس کے کہ یہاں وہم من الشریک ومن الاججنبی۔ بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے، ادھر دیکھو! میرے اور زید کے درمیان زمین مشترک ہے بھئی! ہم نے کوئی حد بندی نہیں کی، تو یہ مشاع ہے، کیا ہے؟ مشاع! اب میرا بھی نصف حصہ، زید کا بھی نصف حصہ، میں اپنا نصف حصہ بکر کو دے دیتا ہوں، کہ بکر! میں نے یہ اپنا نصف زمین میں میرا ہے، وہ میں نے آپ کو ہبہ کر دیا، تو یہ میں ہبہ کس کو کر رہا ہوں؟ ایک اجنبی کو! کس کو کر رہا ہوں؟ بھئی زید تو میرا شریک ہے، اور بکر تو کیا ہے اس زمین سے؟ اس زمین سے اجنبی ہے یا اجنبی نہیں ہے بھئی؟ تو میں ہبہ کر رہا ہوں ایک اجنبی کو، تو کیا اجنبی کو مشاع کا ہبہ جائز ہے یا جائز نہیں ہے بھئی؟ ضابطہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ مشاع چیز جب تقسیم ہو سکتی ہو، تو اس کا ہبہ قبلِ تقسیم جائز۔ لہذا کسی اجنبی کو میں نے جو یہ ہبہ کیا، یہ ہبہ صحیح نہیں ہے۔ اچھا بھئی! اجنبی کو نہیں کر سکتا، زید جو میرا شریک ہے اس کو تو کر سکتا ہوں نا؟ مثلاً میں کیا کرتا ہوں؟ نصف زمین میری تھی، نصف کس کی تھی؟ زید کی! میں اپنی زمین کا نصف زید کو دے دیتا ہوں، میرا کتنا حصہ تھا؟ نصف! تو میرے نصف کا نصف ہوا ربع، کتنا ہوا؟ تو ربع میں کس کو دے دیتا ہوں؟ زید کو! تو کیا اپنے شریک کو تو دے سکتا ہے؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی! ضابطہ ہمارا وہی ہے کہ چیز جب مشاع ہو، تو ہبہ جائز، چاہے اجنبی کو ہبہ کرو، چاہے اسی شریک کو کیا کرو؟ ہبہ کرو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے۔
وَلَا فَرْقَ عِنْدَنَا اور کوئی فرق نہیں ہے ہمارے درمیان، ہمارے بھی نزدیک، ہمارے نزدیک کوئی فرق نہیں ہے، بَینَ اس بات کے کہ یہاں وہم من الشریک کہ ہبہ کرے کس کو؟ شریک ہی کو ہبہ کرے، ومن الاججنبی یا کس کو ہبہ کرے؟ اجنبی کو! دونوں صورتوں میں چونکہ الشُّيُوعُ ہے، تو ہبہ جائز نہیں۔
وَالْمُفْسِدُ هُوَ الشُّيُوعُ الْمُقَارِنُ بھئی کون سا الشُّيُوعُ ہے؟ ایک الشُّيُوعُ وہ ہے جو ہبہ سے پہلے ہے، ایک الشُّيُوعُ وہ ہے جو ہبہ کے بعد ہے، کون سا الشُّيُوعُ مفسد ہے؟ کہتے ہیں جو الشُّيُوعُ ہبہ کے ساتھ ملا ہوا ہو، یعنی جب ہبہ کیا تو اس وقت الشُّيُوعُ تھا، یہ الشُّيُوعُ کیا ہے؟ مفسد ہے! اور ایک وہ الشُّيُوعُ ہے جو ہبہ کے بعد پیش آیا، وہ الشُّيُوعُ مفسد نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کون سا الشُّيُوعُ مفسد ہے؟ جو ہبہ کے ساتھ ملا ہوا ہو، اور جو بعد میں آئے وہ الشُّيُوعُ مفسد نہیں بھئی۔ مثلاً میں نے آپ کو زمین دی بھئی، میرا میری زمین میں بھی نصف ہے، زید کی بھی نصف ہے، مشترکہ زمین ہے، میں نے نصف آپ کو ہبہ کر دی، تو یہ اب الشُّيُوعُ ہے، اور الشُّيُوعُ کون سا ہے؟ ہبہ کے ساتھ ملا ہوا ہے یا ہبہ کس سے ملا ہوا نہیں ہے؟ الشُّيُوعُ ہاں! تو لہذا یہ ہبہ صحیح۔
لیکن اگر ہبہ کے بعد آیا، مثلاً میں نے آپ کو ایک کنا ایک کنال زمین دے دی بھئی، بعد میں نصف زمین میں میں نے رجوع کر لیا، کیا کر لیا؟ نصف زمین آپ سے واپس لے لی، یا والا نہ نصف زمین کسی اور کے نکل آئی، تو اب الشُّيُوعُ آ گیا، کیا آ گیا؟ الشُّيُوعُ آ گیا! لیکن یہ الشُّيُوعُ ہبہ کے ساتھ ملا ہوا ہے یا بعد میں آیا ہے؟ بعد میں آیا، تو یہ الشُّيُوعُ الطَّارِيُّ ہے، یہ الشُّيُوعُ یعنی بعد میں آیا ہے، بعد میں پیش آیا ہے، اور اس سے ہبہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَالْمُفْسِدُ هُوَ الشُّيُوعُ الْمُقَارِنُ مفسد وہ الشُّيُوعُ ہے جو ملا ہوا ہو۔ کس کے ساتھ؟ میں نے بتلایا ملا ہو ہبہ کے ساتھ۔ لَا الشُّيُوعُ الطَّارِيُّ نہ کہ الشُّيُوعُ طاری، وہ الشُّيُوعُ نہیں جو بعد میں پیش آیا ہے، بعد میں نازل ہوا ہے۔
كَمَا إِذَا وَهَبَ بھئی الشُّيُوعُ طاری کی مثال ذکر کر رہے ہیں کہ بعد میں کیسے پیش آ سکتا ہے الشُّيُوعُ؟ کہتے ہیں دیکھو! كَمَا إِذَا وَهَبَ جیسے کسی نے کوئی ہبہ کی چیز، ثُمَّ رَجَعَ فِي الْبَعْضِ الشَّائِعِ پھر بعض شائے کے اندر کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ سمجھ میں آیا بعد شائے کے اندر رجوع کر لیا۔ غیر شائے میں رجوع کر لے، پھر تو الشُّيُوعُ آیا ہی نہیں! مثلاً بھئی، میں نے آپ کو زمین 10 کنال دی تھی، اور 10 کنال زمین آپ کو ہبہ کی تھی، بعد میں میں کہتا ہوں یہ جو بھئی شروع والے تین کنال ہیں، ان میں میں نے رجوع کیا، آپ نے کہا ٹھیک ہے، آپ کی چیز ہے، آپ واپس لے لیں، جو والا نہ باقی سات کنال آپ کے پاس، تو کیا اس میں الشُّيُوعُ ہے؟ نہیں بھئی! اب تو الشُّيُوعُ آیا ہی نہیں، کیونکہ میں نے معین حصہ واپس لیا ہے، غیر معین حصہ واپس۔ ہاں اگر میں غیر معین حصہ واپس لیتا ہوں، مثلاً بھئی میں نے آپ کو 10 کنال زمین دی تھی، اس میں سے نصف میں میں رجوع کرتا ہوں، آپ نے کہا ٹھیک ہے، آپ کی چیز ہے، آپ لے لیجیے بھئی۔ کون سے نصف میں نے کوئی بتلایا نہیں، تو اب یہ کیا آیا؟ رجوع آیا، اور بعض شائے کے اندر آیا یا غیر شائے کے اندر؟ شائے ہے بھئی! اب زمین کا کوئی ٹکڑا پکڑ لیں، اس کے اندر نصف آپ کا ہوگا، نصف میرا، تو الشُّيُوعُ آ گیا، کیا آ گیا؟ الشُّيُوعُ!
ثُمَّ رَجَعَ فِي الْبَعْضِ الشَّائِعِ جیسے کسی نے ہبہ کیا، پھر رجوع کر لیا بعض شائے کے اندر، وَاسْتُحِقَّ الْبَعْضُ الشَّائِعُ مولانا! مشائخ لفظ نہیں ہے، کتابت کی غلطی ہے! ثُمَّ اسْتُحِقَّ الْبَعْضُ الشَّائِعُ لفظ ہونا چاہیے بھئی، یا یہ مستحق نکل آئی! وہ بعض جو کہ شائے ہے بھئی۔ میں نے آپ کو زمین دی تھی، نصف کا کوئی اور مستحق نکل آیا، اور نصف بھی شائے ہے، کوئی متعین نہیں کہ فلاں جانب سے یا فلاں جانب سے پوری زمین میں۔
بِخِلَافِ الرَّهْنِ بخلاف کس کے؟ رہن کے بھئی! بھئی ہبہ کے اندر یاد رکھو! کیا ضابطہ ہوا؟ کہ الشُّيُوعُ مقارن تو مفسد ہے، الشُّيُوعُ طاری مفسد نہیں۔ بخلاف رہن کے، فَإِنَّ الشُّيُوعَ الطَّارِيَ مُفْسِدٌ لَهُ کہ وہاں پر الشُّيُوعُ طاری بھی کیا ہے؟ اس کو فاسد کرنے والا ہے، اس کے لیے مفسد ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ ہبہ کے اندر الشُّيُوعُ طاری مفسد نہیں، لیکن رہن کے اندر الشُّيُوعُ طاری مفسد ہے۔
مثلاً دیکھیے بھئی! میں نے آپ کو، آپ سے قرض لیا بھئی! کیا کیا؟ آپ سے قرض لیا، اور آپ کے پاس بطور رہن کی کوئی چیز رکھ دی، بطور رہن کے چیز رکھ دی، بعد میں اس چیز کے نصف کا کوئی اور مستحق نکل آیا، تو اب اس رہن کے اندر الشُّيُوعُ آ گیا، کیا آ گیا؟ الشُّيُوعُ آ گیا، اور یہ الشُّيُوعُ رہن سے پہلے کا ہے یا بعد میں آیا ہے؟ بعد میں، لیکن پھر بھی اس سے رہن کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا! کیوں بھئی؟ فاسد کیوں ہوگا؟ الشُّيُوعُ طاری کو وہ کیوں نہیں برداشت کرتا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ جب آپ کے پاس میں نے آپ سے قرضہ لیا، تو یہ رہن آپ نے کیوں رکھا اپنے پاس؟ رہن رکھنے کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ تاکہ انسان اپنا حق وصول کر سکے! میں بعد میں اگر آپ کا قرضہ نہیں دے پاتا، تو آپ کیا کریں گے؟ اسی رہن کو بیچ کر اپنے پیسے وصول کر لیں گے، لیکن اگر اس رہن کے اندر کوئی اور مستحق نکل آئے، تو آپ کا حق ضائع ہوگا یا حق ضائع نہیں ہوگا؟ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں قرض دینے والے کا حق ضائع ہوگا، مرتن کا حق ضائع ہوگا، اس لیے الشُّيُوعُ طاری بھی رہن کو کیا کر دیتا ہے؟ فاسد کر دیتا ہے۔
اچھا بھئی! بھئی صورتِ مسئلہ یہ ادھر دیکھو! میں نے امیری اور زید کے درمیان مشترکہ زمین تھی بھئی! سمجھ میں آیا؟ میں نے آپ کو نصف ہبہ کر دی، تو یہ ہبہ صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ جلدی بولیے بھئی! کیا کس سوچ میں گم ہوتے ہیں؟ جواب دیا کیجیے جی۔ جی۔ میرے اور زید میں مشترکہ زمین تھی، میں نے نصف آپ کو ہبہ کی، یہ ہبہ صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ یہ ہبہ صحیح نہیں، لیکن میں نے ہبہ کے بعد زید کے ساتھ زمین کو تقسیم کیا، اپنا حصہ الگ کیا، اور پھر وہ آپ کے حوالے کر دیا، تو وہ کہتے ہیں: اب ہبہ صحیح ہو گیا، ہبہ کیا ہوا؟ وجہ یہ! پہلے ہبہ کے صحیح ہونے سے مانع کیا چیز تھی؟ کہ زمین میں اشتراک تھا، اب میں نے اشتراک کو کیا کر دیا؟ ختم، اپنا حصہ الگ کر دیا، اور چیز آپ کے حوالے کر دی، تو وہی ہبہ کیا ہو گیا؟ صحیح ہو گیا بھئی۔
یہ معنی ہے: فَإِنْ قَسَمَ وَسَلَّمَ اگر زمین کو واہب نے تقسیم کیا، وَسَلَّمَ اور وہ الگ اپنا ہبہ والا حصہ کیا کیا؟ موہوب لہ کے سپرد کر دیا، صَحَّ تو ہبہ کیا ہو جائے گا؟ صحیح ہو جائے گا۔
أَيْ إِذَا وَهَبَ النِّصْفَ... أَيْ إِذَا وَهَبَ النِّصْفَ الْمُشَاعَ جب ہبہ کیا کسی نے نصف مشاع کو، ثُمَّ قَسَمَ وَسَلَّمَ پھر تقسیم کیا اس کو اور سپرد کر دیا صَحَّ تو یہ کیا ہے؟ صحیح ہے، لِأَنَّ تَمَامَهَا بِالْقَبْضِ اس لیے ہبے کا تمام کس کے ساتھ ہوگا؟ قبضے کے ساتھ ہوگا، وَعِنْدَ الْقَبْضِ لَا شُيُوعَ اور قبضے کے وقت تو کوئی الشُّيُوعُ... میں نے آپ کو ہبہ کیا تھا، لیکن جب آپ کو قبضہ کر رہے ہیں، اس وقت تو کسی قسم کا کوئی الشُّيُوعُ نہیں، تو ہبہ صحیح ہوا۔
فَإِنْ وَهَبَ دَقِيقًا فِي بُرٍّ أَوْ دُهْنًا فِي سِمْسِمٍ لَا! صورتِ مسئلہ ضابطہ یہ یاد رکھو! معدوم چیز کا ہبہ صحیح نہیں۔ ضابطہ کیا ہے؟ معدوم چیز کا ہبہ صحیح نہیں۔ میں نے آپ، گندم میرے پاس پڑی ہوئی تھی، میں نے کہا آپ سے، بھئی اس گندم کے اندر جو آٹا ہے، وہ میں نے آپ کو ہبہ کر دیا، اور بھوس میرا ہوگا۔ اس گندم کے اندر آٹا جو ہے وہ میں نے آپ کو ہبہ کر دیا، اور بھُست میرا! تو میں نے آپ کو آٹا ہبہ کیا، اور آٹے کا اس وقت وجود ہے نہیں، تو یہ ہبہ ہوا معدوم کا، لہذا یہ جائز نہیں۔
لہذا اگر بعد میں میں وہ گندم پسواتا ہوں، اس میں سے آٹا نکال لیتا ہوں، اور پھر آپ کے حوالے کرتا ہوں، تو بھی کہتے ہیں: ہبہ صحیح نہیں، کیونکہ معدوم شے تھی پہلے، اور معدوم کا ہبہ ہی صحیح نہیں۔ تو اب عقد جدید کرنا پڑے گا! نئے سرے سے ہبہ کا عقد کرکے آٹا دے دے، اسی عقد پر رہتے ہوئے ہبہ صحیح نہیں، کیونکہ اس وقت تو آٹا معدوم تھا۔
یا والا نہ میرے پاس تل پڑے ہوئے تھے، میں نے کہا ان تلوں کے اندر جو تیل ہے، وہ میں نے آپ کو ہبہ کر دیا، اب آپ بتلائیے! یہ ہبہ صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ نہیں، صحیح نہیں! کیوں نہیں صحیح؟ اس لیے کہ وہ تیل ابھی معدوم ہے! اچھا، میں نے پھر ان تلوں کو بھئی، ان سے تیل نکلوایا، بھُست اپنے پاس رکھا، تیل آپ کے حوالے کر دیا، اب ہبہ صحیح ہو گیا وہی والا یا صحیح نہیں ہوا؟ اب بھی ہبہ صحیح نہیں بھئی، ہبہ صحیح نہیں۔ لہذا کیا کرنا پڑے گا؟ عقدِ جدید کرنا پڑے گا۔
صورت سمجھ میں آئی؟ یہی مسئلہ ہے: فَإِنْ وَهَبَ دَقِيقًا فِي بُرٍّ اگر کسی نے ہبہ کیا ایسا آٹا، فِي بُرٍّ جو کس کے اندر تھا؟ گندم ہی کے اندر تھا! کس کے اندر تھا؟ گندم ہی کے اندر تھا! أَوْ دُهْنًا فِي سِمْسِمٍ یا ایسا تیل، فِي سِمْسِمٍ جو کس کے اندر تھا؟ تیلوں ہی کے اندر تھا! لَا یہ ہبہ تو یہ صحیح نہیں۔
وَإِنْ طَحَنَ أَوْ أَخْرَجَ وَسَلَّمَ اگرچہ وہ اس کو بعد میں کیا کرے؟ پیسے۔ آٹے گندم کو کیا کر لے؟ پیس لے، أَوْ أَخْرَجَ یا کیا کر لے؟ تیلوں سے تیل کو نکال لے، وَسَلَّمَ اور پھر سپرد کر دے، پھر بھی صحیح نہیں۔ بھئی یہ کیا بات ہوئی؟ مشاع کے اندر آپ نے کہا تھا کہ وہاں بھی ہبہ صحیح نہیں مشترکہ چیز میں، لیکن اگر الگ کر کے پھر قبضے... ہبہ کرتے وقت مشترکہ تھی چیز، لیکن قبضے سے پہلے تقسیم کی اور الگ کر کے اس کے حوالے کر دی، تو ہبہ کیا ہو جاتا تھا؟ صحیح ہو جاتا تھا، اور یہاں پر بھی وہ اب الگ کر کے دے رہا ہے، تو ہبہ صحیح نہیں۔
کہتے ہیں بھئی! فرق ہے دونوں میں! اس وقت مشترکہ چیز میں جو ہبہ کیا تھا، اس وقت وہ چیز معدوم نہیں تھی، موجود تھی! البتہ کیا تھی؟ دوسرے کی اس میں شرکت تھی، تو چیز تو اس وقت بھی وہ موجود تھی، اور جبکہ یہ چیزیں جو ہبہ کی ہیں، جب ہبہ کیا اس وقت یہ موجود ہی... تو دونوں میں فرق ہے۔
وَكَذَا السَّمْنُ فِي اللَّبَنِ اور اسی طرح گھی ہے دودھ کے اندر بھئی! بھئی دودھ پڑا ہوا ہے بہت سارا، میں نے کہا اس دودھ کے اندر جتنا گھی ہے، وہ میں نے کیا کیا؟ آپ کو ہبہ کیا۔ یہ ہبہ صحیح ہے یا صحیح نہیں بھئی؟ صحیح نہیں! کیوں؟ کیونکہ گھی اس وقت معدوم معدوم ہے بھئی! اس دودھ سے مکھن نکلے گا، اور مکھن سے پھر گھی نکلے گا، لیکن وہ معدوم ہے بھئی! إِنَّمَا لَا يَجُوزُ یہ ہبہ صحیح نہیں، لِأَنَّ الْمَوْهُوبَ مَعْدُومٌ وَقْتَ الْهِبَةِ اس لیے کہ موہوب کیا تھا؟ جو چیز ہبہ کی گئی، وہ معدوم تھی وَقْتَ الْهِبَةِ کس وقت؟ ہبہ کے وقت۔ بِخِلَافِ الْمُشَاعِ بخلاف کس کے؟ مشاع کے! وہ ہبہ کے وقت معدوم نہیں تھا، صرف دوسرے کی شرکت تھی اس میں، تو وہ مانع دور ہوا، تو ہبہ صحیح! یہاں پر تو ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ چیز کا وجود ہی نہیں تھا ہبہ کے وقت۔
وَهِبَةُ اللَّبَنِ فِي زَرْعٍ وَصُوفٍ عَلَى غَنَمٍ صورت ادھر دیکھیے! میں نے آپ کو دودھ ہبہ کیا، ابھی تھنوں میں ہے، میں نے کہا اس گائے کے تھانوں میں جو دودھ ہے، میں نے آپ کو کیا کیا؟ ہبہ کر دیا۔ یا مولانا! بھیڑ بکری کی پشت پر ابھی اون لگی ہوئی ہے، میں نے کہا میں نے یہ اون آپ کو کیا کر دی؟ ہبہ کر دی۔ یا مولانا! میری زمین کے اندر کھیتی لگی ہوئی ہے، میں نے کہا یہ کھیتی میں نے آپ کو کیا کر دی؟ ہبہ کر دی۔ یا میری زمین کے اندر درخت لگے ہوئے ہیں کھجور کے، میں نے کہا یہ درخت میں نے آپ کو کیا کر دیے؟ ہبہ کر دیے! یا مولانا! میری کھجور... کھجور کے درخت پر کھجوریں لگی ہوئی ہیں، میں نے کہا یہ کھجوریں میں نے آپ کو ہبہ کر دیں، ان کا کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں: ان کا حکم مشاع والا ہے۔ ان کا حکم کس کا ہے؟ مشاع والا ہے۔
یعنی اس وقت ہبہ صحیح نہیں۔ جیسے مشاع کا ہبہ صحیح... لیکن مشاع میں اگر قبضے سے پہلے، قبضے کے... وقت کیا ہو؟ الگ کر کے دے دیتا تھا، تو ہبہ کیا ہو جاتا تھا؟ صحیح! تو ان چیزوں کے اندر بھی، جب اس چیزوں کو الگ کر کے وہ ان پر قبضہ کرے گا، تو ہبہ کیا ہو جائے گا؟ صحیح ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو دیکھیے: وَهِبَةُ اللَّبَنِ فِي زَرْعٍ اور ہبہ کرنا ایسے دودھ کا، فِي زَرْعٍ جو کس کے اندر ہے؟ تھانوں میں ہے، وَصُوفٍ عَلَى غَنَمٍ اور ایسے اون کی ہبہ جو کس پر ہے؟ بھیڑ کی... بھیڑ پر ہی ہے، وَزَرْعِ غَنَمٍ... بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے بھئی، جو بھیڑ بکری پر ہی لگی ہوئی ہے، وَزَرْعٍ اور ہبہ کرنا کس کا؟ کھیتی... کھیتی یعنی فصل کا، وَنَخْلٍ اور کس کا؟ کھجور کے درخت کا، ایسا ک... ایسی کھیتی، یا ایسا کھجور کا درخت، فِي الْأَرْضِ جو کس کے اندر ہے؟ زمین ہی کے اندر ہے، وَتَمْرٍ فِي نَخْلٍ اور ایسی کھجور کا ہبہ کرنا فِیْ نَخْلَن جو کس میں ہے، کھجور کے درخت میں لگی ہوئی ہے، كَلْ مُشَاعِيْ ان کا ہبہ کس کی ہبہ کی طرح ہے مشاع کی طرح ہے یعنی مشاع کے ہبہ کی طرح ہے۔ أَيْ لَا يَجُوْزُ هَذِهِ الْهِبَاتُ یعنی جائز نہیں ہیں یہ والے ہبہ، لَا كِنْ إِنْ فُصِلَتْ هَذِهِ الْأَشْيَاءُ لیکن اگر جدا کر دیا گیا ان چیزوں کو عَنْ مِلْكِ الْوَاهِبِ کس سے ہبہ کرنے والے کی ملک سے وَقُبِضَتْ اور ان پر قبضہ کر لیا گیا تَصِحُّ تو ہبہ کیا ہو جائے گا؟ سمجھ بھئی ان چیزوں کے اندر واہب کی ملک کے ساتھ چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ دیکھو، دودھ ملا ہوا، دودھ کس کے اندر ہے؟ تھن کے اندر ہے، تو وہ گائے کس کی ہے ذرا اصل؟ واہب کی۔ مولانا، تو واہب کی ملک دودھ کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ یا اون کس پر تھا؟ بھیڑ بکری پر تھا، تو بھیڑ بکری تو اس کی ہے واہب کی، صرف اون دی ہے، تو واہب کی ملک ساتھ ملی ہوئی ہے۔ زمین کے اندر ہے کھیتی یا درخت مولانا، تو زمین تو واہب کی ہے، صرف کھیتی یا درخت دیے ہیں، تو زمین کی واہب کی ملک ملی ہوئی ہے کس کے ساتھ؟ ہبہ کے ساتھ بھئی۔ یا کھجور لگی ہوئی ہے درخت پر، تو کھجور کس کے ساتھ ملی ہوئی ہے؟ واہب کی ملک کے ساتھ۔ اس لیے یہ مشاع کی طرح تھے۔
وَتَمَّ بھئی سمجھ میں آیا؟ وَثُمَّ نہیں ہے وَتَمَّ کریں۔ بھئی۔ وَتَمَّ هِبَةُ مَا مَعَ الْمَوْهُوْبِ لَهُ بِلَا قَبْضٍ جَدِيْدٍ اور تام ہوگا ہبہ اس چیز کا جو موہوب لہ کے پاس ہے بِلَا قَبْضٍ جَدِيْدٍ بغیر کسی قبضہ جدید کے۔ بھئی دیکھیے بھئی۔ آپ کے پاس بھئی میں نے ایک گاڑی امانت کے طور پر رکھوائی تھی بھئی۔ کیا کیا تھا؟ امانت کے طور پر تھی، بعد میں میں نے آپ سے کہا یہ گاڑی میں نے آپ کو ہبہ کر دی۔ تو کیا وہی قبضہ کافی ہے یا قبضہ جدید کرنا پڑے گا؟ کہتے ہیں کوئی قبضہ جدید کی ضرورت نہیں جب چیز پہلے سے موہوب لہ کے پاس ہو تو اب ہبہ کرتے ہی ہبہ کیا ہو جائے گا؟ تام ہو جائے گا، قبضہ جدید کی ضرورت نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کیونکہ پہلے جو چیز آپ کے پاس بطور امانت کے تھی، اب بطور ملک کے آ گئی۔ تو کیا پہلا قبضہ ثانی قبضے کا نائب بن سکتا ہے یا نائب نہیں بن سکتا؟ کہتے ہیں کوئی جدید قبضے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ وہی قبضہ کیا ہو جائے گا؟ نائب ہو جائے گا اس جدید کا بھی بھئی، اس نئے عقد کے قبضے کا بھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی؟ معلوم ہوا جو چیز موہوب لہ کے پاس پہلے سے ہے، تو اس میں ہبہ کرتے ہی ہبہ فوراً کیا ہو جائے گا؟ تام، کسی قبضے جدید کی ضرورت نہیں۔ یہ نہیں کہ وہ لائے میرے حوالے کرے پھر دوبارہ مجھ سے لے کر قبضہ جدید کرے نہیں بھئی۔ قبضے جدید کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔
یہاں ایک قیمتی ضابطہ آپ کو لکھواؤں بھئی۔ یاد رکھو بھئی۔ لکھ لیجئے یا یاد رکھیے۔ لکھ لیجئے مولانا بھئی قیمتی ضابطہ ہے بھئی۔ جب دو قبضے ایک ہی جنس کے ہوں تو ایک قبضہ دوسرے کا نائب بن سکتا ہے۔ جلدی جلدی لکھیے مولانا۔ جب دو قبضے ایک ہی جنس کے ہوں تو اول نائب بن سکتا ہے یا ایک قبضہ نائب بن سکتا ہے دوسرے قبضے کا۔ اور اسی طرح اگر پہلا قبضہ مضمون ہو تو وہ قبضہ غیر مضمون کا نائب بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اول قبضہ غیر مضمون ہو تو وہ مضمون قبضے کا نائب نہیں بن سکتا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیا میں نے ضابطہ لکھوایا بھئی؟ کہ اگر دونوں قبضے ایک ہی جنس سے ہوں تو ایک قبضہ دوسرے کا نائب بن سکتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اول قبضہ بھی غیر مضمون تھا، ثانی بھی غیر مضمون تو کیا ہوا، اول ثانی کا کیا بن جائے گا؟ نائب، قبضے جدید کی ضرورت نہیں۔ اور اسی طرح اگر اول قبضہ کیا تھا؟ مضمون تھا، اور ثانی قبضہ بھی کیا تھا؟ مضمون تھا، تو اول قبضہ نائب بن جائے گا کس کا؟ ثانی قبضے کا، کسی قبضے جدید کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح اگر اول مضمون تھا اور ثانی کیا تھا؟ غیر مضمون، تو بھی اول نائب بن جائے گا کس کا؟ ثانی کا، لیکن اگر اول کیا تھا؟ غیر مضمون، اور ثانی قبضہ کیا تھا؟ مضمون، تو اول ثانی کا نائب نہیں بنے گا، بلکہ کیا ضروری ہے؟ قبضہ جدید ضروری ہے۔
دیکھیے مثال دیکھیے بھئی، میں نے آپ کے پاس ایک گاڑی میری گاڑی آپ کے پاس ہے، آپ نے غصب کر لی۔ آپ نے کیا کیا؟ یا آپ کے ساتھ میری بیع فاسد ہوئی تھی میں نے شرط لگائی تھی بیع کے اندر، مثلاً آپ نے گاڑی مجھ سے خریدی میں نے کہا میں گاڑی تو آپ کو بیچتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ ہر مہینے کے دو دن میں اس گاڑی کو استعمال کروں گا، تو یہ شرط کیا ہوئی، اس کی وجہ سے بیع کیا ہو گئی؟ فاسد۔ تو اب وہ گاڑی آپ کے پاس ہے، آپ نے قبضہ کیا۔ تو یہ جو آپ نے قبضہ کیا، کس کی وجہ سے؟ غصب کی وجہ سے، یا یہ جو قبضہ آپ نے کیا بیع فاسد کی وجہ سے، یہ قبضہ مضمون ہے۔ یہ کیا ہے؟ مضمون ہے، اگر وہ چیز اس کے ہلاک ہوئی تو اسے کیا دینا پڑے گا؟ ضمان دینا پڑے گا۔ بعد میں وہی چیز میں آپ کو ہبہ کر دیتا ہوں، کیا کر دیتا ہوں؟ میں مجھے پتہ لگا آپ نے غصب کیا تو میں کہتا ہوں چلو بھئی آپ کو میں نے تحفے کے طور پر دے دی، یا بیع فاسد ہوئی تھی آپ کے قبضے میں ہے، میں نے بیع تو ختم کر دی اور کہا آپ کو کیا کہا؟ وہ گاڑی میں نے آپ کو ہبہ کر دی۔ تو اب مولانا، ہبہ کے پہلا قبضہ تھا مضمون، اور ہبہ کے اندر جو قبضہ کون سا آتا ہے؟ غیر مضمون۔ تو اول ہے مضمون، ثانی ہے غیر مضمون، تو اب کسی تو اول نائب بن جائے گا کس کا؟ ثانی کا۔ کیونکہ اول کیا تھا؟ اور ثانی کیا تھا؟ تو مضمون نائب بن سکتا ہے کس کا؟ غیر مضمون کا، لہٰذا اب کسی قبضہ جدید کی ضرورت اب ضرورت نہیں۔
لیکن اگر اول کیا تھا؟ غیر مضمون تھا، اور ثانی کیا ہوا؟ مضمون ہو گیا۔ تو اس صورت کے اندر بھئی پھر کیا ہوگا؟ قبضہ جدید ضروری۔ مثلاً میں نے آپ کے پاس ایک گاڑی بطور امانت کے رکھوائی تھی۔ یہ گاڑی مولانا، یہ اس پر جو قبضہ ہے آپ کا، یہ مضمون ہے غیر مضمون؟ یہ غیر مضمون ہے۔ بعد میں میں نے آپ سے کچھ قرض لیا اور کہا یہی گاڑی آپ بطور رہن کے رکھیں۔ یہی گاڑی آپ کیا کریں؟ بطور رہن کے رکھیں۔ تو اب رہن والا جو قبضہ ہوتا ہے، اس میں ضمان آتا ہے یا ضمان نہیں آتا؟ ضمان آتا ہے وہ مضمون بالاقل ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں بھئی۔ تو اب آیا پہلا قبضہ ہے غیر مضمون اور ثانی قبضہ ہے مضمون، تو قبضہ غیر مضمون نائب نہیں بن سکتا کس کا؟ قبضہ مضمون کا۔ لہٰذا اب قبضہ جدید ضروری، چنانچہ اب آپ وہ گاڑی لا کر مجھے دے دیں گے، پھر مجھ سے واپس لے کر ایک جدید قبضہ کریں گے رہن والا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ وہی پہلا قبضہ کافی نہیں۔
تو کہتے ہیں وَتَمَّ هِبَةُ مَا مَعَ الْمَوْهُوْبِ لَهُ بِلَا قَبْضٍ جَدِيْدَيْنِ یعنی ہر صورت میں مولانا کیوں؟ کیونکہ موہوب کے پاس موہوب کو جو ثانی قبضہ ہے وہ کون سا ہے؟ میں نے ہبہ کیا نا، پہلے سے ایک چیز موہوب کے قبضے میں ہے۔ ثانی قبضہ کون سا ہے؟ میں نے اب ہبہ کی، وہ تو غیر مضمون ہے۔ کیا ہے؟ تو پہلا چاہے مضمون ہو تو دونوں ایک جنس کے ہو گئے۔ تو بھی قبضہ نائب بن سکتا ہے۔ اور اگر پہلا قبضہ کس قسم کا ہو؟ مضمون ہو اور ثانی بھی کیا ہے؟ مضمون۔
وَمَا وَهَبَ لِطِفْلِهِ بِالْعَقْدِ وَمَا وَهَبَ أَجْنَبِيٌّ لَهُ بِقَبْضِهِ عَاقِلًا بھئی باپ نے اپنے بیٹے کو، صغیر کو، کوئی چیز ہبہ کی۔ تو کہتے ہیں وہاں قبضے کا کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں بس، باپ کے ہبہ کرتے ہی وہ چیز کیا ہو جائے گی؟ عقد ہبہ ہی سے کیا ہو جائے گا؟ ہبہ تام ہو جائے گا۔ وہاں کیوں بھئی تام کیوں ہوگا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ صغیر کے لیے صغیر کا ولی خود کون ہے؟ باپ ہی ہے۔ تو باپ ہی کا قبضہ کیا ہوا؟ اس کے لیے، باپ اس کا نائب بن گیا۔ تو قبضہ خود بخود ہو گیا۔
یہ معنی ہے وَمَا وَهَبَ لِطِفْلِهِ اور جو چیز ہبہ کی کسی نے اپنے بچے کو بِالْعَقْدِیْ اس کا عطف متاع پر بھئی وَمَا وَهَبَ اس کا عطف ما قبل میں جو ما آیا تھا اسی پر عطف ہے۔ أَيْ تَمَّ هِبَةُ مَا وَهَبَ لِطِفْلِهِ بِالْعَقْدِ تام ہو جائے گا ہبہ ایسی چیز کا جو ہبہ کرے اپنے بچے کو، بِالْعَقْدِ کس سے تام ہو جائے گا؟ عقد ہی سے تام ہو جائے گا۔
وَمَا وَهَبَ أَجْنَبِيٌّ لَهُ بِقَبْضِهِ عَاقِلًا بھئی بچے کو کسی اجنبی نے کوئی چیز دی، کہتے ہیں اگر بچہ عاقل ہے، خود اس پر قبضہ کر لیتا ہے تو اس کے قبضے سے کیا ہو جائے گا؟ جی بچہ اگر سمجھدار ہے تو اس کے قبضے سے ہبہ تام ہو جائے گا، ورنہ اس کا باپ قبضہ کر لے، یا دادا قبضہ کر لے، یا وصی ان کے کیا کر لے قبضہ کر لے۔ یہ معنی ہے وَمَا وَهَبَ أَجْنَبِيٌّ لَهُ اور تام ہوگا ہبہ اس چیز کا جو کسی اجنبی نے ہبہ کی ہے لَهُ اس بچے کو، کس سے تام ہوگا؟ بِقَبْضِهِ اسی بچے کے قبضے سے، عَاقِلًا اس حال میں کہ وہ بچہ کیا ہو؟ عاقل ہو۔ تو اسی کے قبضے سے بھی تام ہو جائے گا، باپ یا ولی کے قبضے کی ضرورت نہیں۔
أَوْ قَبْضِ أَبِيْهِ یا کس سے تام ہو جائے گا؟ اس کے باپ کے قبضے سے ہبہ تام ہوگا، أَوْ جَدِّهِ یا اس کے دادا کے قبضے سے بھی تام ہو جائے گا، أَوْ وَصِيِّ أَحَدِهِمَا یا باپ اور دادا دونوں میں سے کسی ایک کے وصی کے قبضے سے بھی بچے کا ہبہ کیا ہو جائے گا؟ تام۔ أَوْ أُمٍّ یا قَبْضِ أُمٍّ اور تام ہوگا ہبہ وہ جو کسی اجنبی نے بچے کو دیا ہو کس کے قبضے سے؟ ماں کے قبضے سے، ایسی ماں هُوَ مَعَهَا کہ وہ بچہ اس کے پاس ہے یعنی اس کی پرورش میں ہے۔ بچہ کیا ہے؟ اس کی پرورش میں ہے۔ ایسی ماں بھی اگر بچے کے ہبہ پر قبضہ کر لے تو یہ قبضے سے ہبہ کیا ہو جائے گا؟ تام ہو جائے گا۔
أَوْ أَجْنَبِيٍّ يُرَبِّيْهِ یا ایسے اجنبی کے قبضے سے يُرَبِّيْهِ جو اس بچے کی پرورش کر رہا ہے۔ اس کی پرورش کرتا ہے۔ ایک اجنبی کے پاس ہے بچہ وہ اس کی پرورش کر رہا ہے، اس بچے کو کسی اور اجنبی نے کیا کیا؟ کوئی ہبہ کیا، تو یہ چھوٹا ہے، اس وہ اجنبی جو اس کا مربی ہے، اس نے کیا کیا؟ اس پر قبضہ کر لیا، تو ہبہ کیا ہو جائے گا؟ تام ہو جائے گا۔ وَهُوَ مَعَهُ اس حال میں کہ وہ بچہ اسی کے پاس ہے۔
أَوْ زَوْجِهَا یا قَبْضِ زَوْجِهَا یا ہبہ تام ہوگا، جب کہ قبضہ کر لے اس بچی کا خاوند، لَهَا کس کے لیے؟ اس عورت کے لیے، اس بچی کے لیے قبضہ کر لے لیکن کب؟ بَعْدَ الزِّفَافِ رخصتی کے بعد۔ اگر باپ رخصتی کر چکا ہے یعنی خاوند کے حوالے اسے کر چکا ہے تو اس صورت میں خاوند اس کے لیے قبضہ کر لے تو اس کا ہبہ کیا ہو جائے گا؟ تام، لیکن اگر رخصتی سے پہلے کوئی خاوند اس کے لیے اس کی کسی ہبہ پر قبضہ کرتا ہے تو قبضہ تام نہیں بھئی۔ أَيْ زَوْجِ الطِّفْلَةِ یعنی قبضہ کس کا؟ اس بچی کے شوہر کا وہ طفلہ الْمَوْهُوْبِ لَهَا جس کو کیا کیا گیا تھا؟ ہبہ کیا گیا تھا۔
عبارت ساری اسی طرح ملا دیں۔ تَمَّ هِبَةُ مَا وَهَبَ أَجْنَبِيٌّ لَهُ بِقَبْضٍ یہاں تک عبارت ساتھ مل گئی۔ عبارت سمجھ میں آئی؟ وَصَحَّا هِبَةُ اثْنَيْنِ دَارًا لِّوَاحِد صورت مسئلہ یہ بھئی...
بھئی میرے اور زید کے درمیان ایک زمین مشترکہ تھی بھئی ھم دونوں نے ھبہ کر دی بکر کو تو یہ ھبہ صحیح ہے بھئی زمین میں تو شیوع تھی مشترکہ تھی کہتے ہیں بھئی دونوں نے اکٹھی دے دی جب اکٹھی دے دی تو ایک کے پاس زمین چلی گئی ساری۔ اب شیوع ہے شیوع نہیں لھذا ھبہ صحیح یہ معنی ہے و صح ھبۃ الثنین دو آدمیوں کا ھبہ کرنا صحیح ہے دارا کسی گھر کو لواحد کسے کرے ھبہ ایک ہی شخص کو کرے
لان الکل یقع فِي يَدِهِ، اس لیے کہ سارا کا سارا گھر جو ہے اس ایک ہی کے قبضے میں واقع ہوگا، بِلَا شُيُوعٍ بغیر کسی شیوع کے۔ وَفِي عَكْسِهِ لَا، اور اس کے عکس کی صورت میں ہبہ صحیح نہیں۔ کیا معنی؟ کہ دو... کہ ایک گھر کتنوں کو دے دے؟ دو کو دے دے، سمجھ میں آیا؟ میرا گھر ہے، میں نے زید اور بکر دونوں کو کیا کیا؟ ہبہ کر دیا۔ تو اب شیوع آیا مولانا کیونکہ نصف گھر کس کا؟ زید کا اور نصف کس کا؟ بکر کا۔ تو اشتراک آیا بھئی۔ وَفِي عَكْسِهِ بھئی اور اس کے عکس میں ہبہ صحیح نہیں۔ أَيْ هِبَةُ وَاحِدٍ لِاثْنَيْنِ مولانا، الف یہ پہلے جو آیا یہ غلط ہے بھئی۔ هِبَةُ وَاحِدٍ لِلِاثْنَيْنِ، الف نہیں ہونا، لِلِاثْنَيْنِ نہیں ہونا چاہیے۔ أَيْ هِبَةُ وَاحِدٍ، یعنی ہبہ کرنا کسی ایک آدمی کا لِاثْنَيْنِ، کتنوں کو ہبہ کرنا؟ دو کو ہبہ کرنا، کیا ہبہ کرنا؟ دَاراً، ایک گھر۔ لَا تَصِحُّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ یہ امام صاحب کے نزدیک صحیح نہیں۔ وَعِنْدَهُمَا صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک تَصِحُّ صحیح ہے، لِأَنَّ التَّمْلِيكَ وَاحِدٌ بھئی۔ صاحبین فرماتے ہیں تملیک ایک ہی ہے۔ تملیک کیا ہے؟ بھئی ایک ہی عقد کے ساتھ میں زید اور بکر کو مالک بنا رہا ہوں یا نہیں؟ ایک ہی عقد کے ساتھ مالک بنا رہا ہوں۔ فَلَا شُيُوعَ تو شیوع نہیں ہے، كَمَا إِذَا رَهَنَ مِنْ رَجُلَيْنِ، کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی ایک رہن رکھوائے دو آدمیوں کے پاس۔
بھئی میں نے آپ کا بھی قرضہ دینا ہے اور زید کا بھی کیا دینا ہے؟ قرضہ دینا ہے۔ میں اب اپنی گاڑی آپ دونوں کے پاس رہن رکھواتا ہوں ایک ہی عقد کے ساتھ کہ یہ آپ کے قرض کے عوض میں بھی یہ رہن ہے اور آپ کے قرض کے عوض میں بھی یہ رہن ہے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں جیسے دیکھو یہاں رہن صحیح ہے بھئی، رہن کیا ہے؟ صحیح ہے۔ تو اسی طرح دو آدمیوں... تو دو آدمیوں کے پاس ایک ہی چیز رہن جیسے یہاں صحیح تو دو آدمیوں کو ایک ہی چیز ہبہ کرنا بھی صحیح ہے۔ كَمَا إِذَا رَهَنَ مِنْ رَجُلَيْنِ، جیسے رہن رکھوایا دو آدمیوں کے پاس۔ وَلَهُ امام صاحب کی دلیل یہ ہے، کہ أَنَّ هَذِهِ هِبَةُ النِّصْفِ مِنْ كُلِّ وَاحِدٍ، یہ تو آتا ہے ہبہ کرنا ہے دونوں میں سے ہر ایک کو آدھا آدھا۔ فَيَثْبُتُ الشُّيُوعُ، تو کیا ثابت ہو جائے گا؟ شیوع آ جائے گا۔ بِخِلَافِ الرَّهْنِ، بخلاف... باقی صاحبین نے جو کس کی دلیل ذکر کی تھی؟ کہ رہن ایک ہی چیز دو آدمیوں کے پاس رہن رکھوانا تو کہتے ہیں بھئی وہاں شیوع نہیں آتا تھا ایک ہی چیز دو آدمیوں کے پاس رہن رکھوائی یہ معنی نہیں کہ نصف ایک کے پاس رہن ہے اور نصف دوسرے کے پاس رہن ہے۔ بلکہ ایک ہی چیز آپ کے بھی پورے قرضے کے میں کے عوض میں رہن ہے اور دوسرے کے پاس بھی کامل طور پر پوری چیز... تو وہاں دونوں کے پاس پوری پوری چیز رہن ہوتی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟
ہر ایک کے دین میں وہ وہ چیز محبوس ہوتی ہے۔ آپ کے دین کے لیے بھی وہ پوری چیز محبوس ہے اور دوسرے کے دین کے لیے بھی... یہ نہیں کہا جائے گا نصف آپ کے دین کے لیے محبوس ہے اور نصف دوسرے کے لیے۔ بِخِلَافِ الرَّهْنِ، بخلاف رہن کے، لِأَنَّهُ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِ كُلِّ وَاحِدٍ بِكَمَالِهِ، اس لیے کہ وہ تو محبوس ہوتی ہے بند ہوتا ہے رہن بدین کل واحد، دونوں میں سے ہر ایک کے دین کے عوض میں وہ چیز بند ہوتی ہے بکمالہ، اپنے کمال کے ساتھ یعنی کامل طور پر۔ کامل طور پر کیا ہوتی ہے؟ ایک کے دین کے عوض میں بھی بند ہے، دوسرے کے دین کے عوض میں بھی بند ہے۔ كَتَصَدُّقِ عَشَرَةٍ عَلَى غَنِيَّيْنِ وَصَحَّ عَلَى فَقِيرَيْنِ، جیسے کہ صدقہ کرنا دس کا دو غنیوں پر اور صحیح ہے دو فقیروں پر۔ بھئی گزشتہ مسئلے میں کیا بتلایا تھا؟ گزشتہ متن دیکھیے۔ وَفِي عَكْسِهِ لَا، اور اس کے عکس کی صورت میں صحیح نہیں ہوگا۔ یہ اسی طرح ہے، جیسے صدقہ کرنا دس درہموں کا دو امیروں پر بھئی۔ کس پر؟ دو مالداروں پر دس درہم صدقہ کرنا، جیسے ما... یہ بھی اسی طرح ہے جیسے وہ صحیح نہیں تھا یہ ہبہ بھی صحیح... یاد رکھو امام صاحب کا اور صاحبین کا اختلاف ہے بھئی۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ دو امیر آدمیوں کو جیسے ہبہ دینا صحیح نہیں اسی طرح صدقہ دینا بھی صحیح... مثلاً بھئی، میرے پاس دس درہم تھے، دو امیر مالدار میرے پاس بیٹھے ہیں، وہ دس درہم میں نے ان کو دیے اور کہا کہ یہ میں نے آپ کو صدقہ کر دیے۔ یہ کیا کیے؟ کہتے ہیں امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، یہاں شیوع آ رہا ہے بھئی۔ کیونکہ ہر ہر درہم میں دونوں شریک ہو گئے۔ ہر ہر درہم میں کیا ہو گئے دونوں؟ شریک، شیوع آیا، لہذا یہ صحیح نہیں۔ جیسے مولانا، دو آدمیوں کو ہبہ صحیح نہیں تھا۔ آپ نے پڑھا یا نہیں گزشتہ مسئلے میں؟ کیا مسئلہ تھا؟ کہ ایک ہی مکان دو آدمیوں کو دیا جائے، تو یہ ہبہ صحیح نہیں کیونکہ اس میں کیا آ جاتا ہے؟ شیوع آ جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو جیسے دو امیر آدمیوں کو ہبہ نہیں صحیح اسی طرح صدقہ بھی نہیں۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ صدقہ اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے، اور صدقہ غریب آدمی کو دیا جاتا ہے۔ امیر آدمی کو صدقہ نہیں... تو اگر امیر آدمی کو صدقہ دے بھی رہے ہیں آپ، تو لفظ صدقے کا بول رہے ہیں لیکن دراصل یہ ہبہ ہی ہے۔ دراصل کیا ہے؟ یہ دراصل آپ اس کو خوش کرنا چاہتے ہیں، اللہ کی رضا کے لیے نہیں دے رہے۔ تو امیر آدمی کو ہبہ دو تو وہ تو ہے ہی ہبہ، اگر صدقہ بھی دو، وہ بھی کیا ہے دراصل؟ ہبہ ہی ہے۔ اور ہبہ تو دو آدمیوں کو دینا ایک چیز صحیح نہیں، لہذا ان دو امیروں کو صدقہ بھی صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟
لیکن اس کے برخلاف بھئی غریب آدمی ہے، فقیر ہے، اس کو صدقہ صحیح ہے بھئی۔ اس کو ص... دو مش... ایک چیز دو فقیروں کو صدقہ دینا صحیح ہے۔ میں نے دس درہم تھے، دو فقیر میرے سامنے تھے، میں نے ان دونوں کو یہ دس درہم دے دیے کہ یہ کیا ہوئے؟ بھئی اب شیوع آیا، ہر ہر درہم میں دونوں شریک ہوئے، کہتے ہیں لیکن اس شیوع سے فرق نہیں پڑتا۔ کیوں نہیں فرق پڑتا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ہی... صدقہ جو کیا جاتا ہے، وہ اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔ کس کے لیے ہوتا ہے؟ اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔ آگے حدیث بھی ذکر کریں گے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، الصَّدَقَةُ تَقَعُ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ فِي كَفِّ الْفَقِيرِ، کہ صدقہ جو ہے رحمان کی ہتھیلی کے اندر واقع ہوتا ہے قبل اس کے کہ وہ فقیر کی ہتھیلی میں واقع ہو۔ تو گویا یہاں پر ہم اللہ کو دے رہے ہیں، اللہ کی رضا کے لیے دے رہے ہیں۔ تو ا... اللہ کو دے رہے ہیں اور اللہ تو ایک ہیں۔ جب اللہ ایک ہیں تو شیوع آیا؟ شیوع نہیں آیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو فقیر کو صدقہ کیا جائے دو فقیروں کو، وہاں شیوع سے کوئی خرابی نہیں کیونکہ وہاں دراصل شیوع ہے ہی نہیں، کیونکہ وہ اللہ کی رضا کے لیے ہے اور اللہ تو ایک ہیں، لہذا شیوع نہیں۔
نیز اسی طرح کہتے ہیں، دو فقیروں کو اگر ہبہ کر دو تو ہبہ بھی صحیح۔ ہبہ بھی؟ میں نے دس درہم دو فقیر میرے سامنے کھڑے تھے، میں نے ان کو دس درہم دیے کہ یہ میں نے آپ کو ہبہ کر دیے۔ کہتے ہیں ہبہ صحیح۔ بھئی ہبہ کیسے صحیح؟ یہاں تو کیا آ رہا ہے؟ شو... امام صاحب فرماتے ہیں نہیں بھئی۔ یہ ہبہ کا لفظ بولا، لیکن دراصل کیا ہے؟ یہ صدقہ ہے۔ تو امیر کو صدقہ بھی کریں تو وہ دراصل ہبہ ہے۔ اور فقیر کو ہبہ بھی کریں تو وہ دراصل صدقہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ صاحبین کے نزدیک بھئی، صاحبین کے نزدیک بھئی۔ فقیر کو صدقہ بھی صحیح اور ہبہ بھی صحیح۔ جیسے امام صاحب فرماتے ہیں۔ لیکن امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ امیر کو صدقہ بھی صحیح نہیں اور ہبہ بھی صحیح نہیں صاحبین فرماتے ہیں مالداروں کو صدقہ کر رہے ہو وہ دراصل کیا ہے؟ ہبہ اور ہبہ بھئی دو آدمیوں کو ایک ہی چیز ہبہ میں دینا ان کے نزدیک جائز تھا تو یہ بھی جائز ہے۔ كَتَصَدُّقِ عَشَرَةٍ، جیسے کہ صدقہ کرنا دس درہموں کا، عَلَى غَنِيَّيْنِ، کتنے پر؟ دو مالداروں پر۔ یہ بھی اسی طرح ہے یعنی جیسے وہ مسئلہ ہبہ صحیح نہیں تھا ماقبل میں یہ ہبہ بھی صحیح... وَصَحَّ عَلَى فَقِيرَيْنِ اور ہبہ صحیح ہے دو فقیرین پر، أَيْ إِذَا تَصَدَّقَ بِعَشَرَةٍ عَلَى غَنِيَّيْنِ، یعنی جب صدقہ کیا بھئی دس درہموں کا دو غنی، دو مالداروں پر، لَا يَصِحُّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، تو صحیح نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک۔
وَكَذَا إِذَا وَهَبَ لَهُمَا اور اسی طرح جب ان کو ہبہ کرے۔ تو ہبہ بھی صحیح نہیں اور صدقہ بھی صحیح نہیں، لِلشُّيُوعِ، کس وجہ سے؟ شیوع کی وجہ سے۔ وَعِنْدَهُمَا تَصِحُّ الْهِبَةُ اور صاحبین کے نزدیک ہبہ صحیح ہوگا، لِأَنَّهُ لَا شُيُوعَ عِنْدَهُمَا، اس لیے کہ ان کے نزدیک کوئی شیوع نہیں ہے، كَمَا فِي هِبَةِ وَاحِدٍ دَاراً مِنْ اِثْنَيْنِ، جیسے کہ ہبہ کرنا تھا ایک آدمی کا کسی گھر کا، کسی گھر کا ہبہ کرنا تھا مِنْ اِثْنَيْنِ، کتنے پر؟ دو پر۔ جیسے وہاں وہ کہتے تھے جائز ہے یہاں پر بھی یہ فرماتے ہیں جائز ہے۔ وَكَذَا تَصِحُّ الصَّدَقَةُ عَلَى الْغَنِيَّيْنِ اور اسی طرح صاحبین فرماتے ہیں صدقہ صحیح ہے دو امیر مالداروں پر بھی، لِأَنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْغَنِيَّيْنِ، اس لیے کہ صدقہ جو دو مالداروں پر ہے، يُرَادُ بِهَا الْهِبَةُ، اس سے کس چیز کا ارادہ کیا گیا ہے؟ ہبہ کا، مَجَازاً بھئی۔ اچھا ہاں بھئی ہاں۔ صاحبین بھی کیا فرماتے ہیں؟ مالداروں کو صدقہ کریں وہ دراصل کیا ہے؟ ہبہ، اور ہبہ بھئی، دو آدمیوں کو ایک ہی چیز ہبہ میں دینا ان کے نزدیک جائز تھا تو یہ بھی جائز ہے۔ وَالْهِبَةُ جَائِزٌ، اور ہبہ تو جائز تھا ان کے نزدیک کہ ایک چیز دو آدمیوں کو دی جائے۔ وَلَا تَصَدَّقَ بِعَشَرَةٍ عَلَى فَقِيرَيْنِ أَوْ وَهَبَ الْعَشَرَةَ لَهُمَا جَازَ بِالِاتِّفَاقِ، اور اگر صدقہ کیا دس درہموں کا کتنے پر کس پر؟ دو فقیروں پر، أَوْ وَهَبَ الْعَشَرَةَ لَهُمَا یا ان کو ہبہ کیا دس درہم بھئی ان دونوں ہی کو جَازَ بِالِاتِّفَاقِ تو یہ تو بالاتفاق جائز۔
لِأَنَّ الصَّدَقَةَ يُرَادُ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ اس لیے کہ صدقے کے ذریعے کس کا ارادہ کیا جاتا ہے؟ اللہ کی رضامندی کا۔ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، الصَّدَقَةُ تَقَعُ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ، کہ صدقہ رحمان کی ہتھیلی میں واقع ہوتا ہے، قَبْلَ أَنْ تَقَعَ فِي كَفِّ الْفَقِيرِ، قبل اس کے کہ یہ کس کی ہتھیلی میں واقع ہو؟ فقیر کی ہتھیلی میں۔ سمجھ میں آیا؟ تو اللہ کی حدیث میں اللہ رحمان کی ہتھیلی میں آیا اور اللہ تعالی واحد ہیں وَلَا شُيُوعاً تو شیوع نہیں وَأَمَّا الْهِبَةُ عَلَى الْفَقِيرِ باقی کیا؟ ہبہ جو کس پر ہے؟ فقیر پر ہے فَهِيَ صَدَقَةٌ یہ کیا ہے؟ ہبہ کا لفظ بولا لیکن دراصل یہ کیا ہے؟ صدقہ ہے وَالصَّدَقَةُ جَائِزَةٌ اور صدقہ جائز ہے وَكَذَا الْهِبَةُ اسی طرح ہبہ بھی جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو خلاصہ بحث کیا ہوا؟ امام صاحب کے نزدیک دو مالداروں کو ایک چیز صدقہ کی جائے یا ہبہ کی جائے دونوں صورتوں میں جائز نہیں، جبکہ صاحبین کے نزدیک وہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ دو مالداروں کو ایک ہی چیز صدقہ کی جائے یا ہبہ کی جائے دونوں صورتوں میں جائز ہے مولانا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور فقیر کو چاہے ہبہ کیا جائے دو فقیروں کو ایک ہی چیز ہبہ کی جائے یا صدقہ، یہ تو بالاتفاق جائز ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو امیر کے لیے صدقے کا لفظ بولا تو وہ مجازاً دراصل مجاز ہے اور اصل کیا ہے وہ؟ ہبہ ہی ہے کیا ہے؟ ہبہ ہے۔ اور فقیر کے لیے ہبہ کا لفظ بولا تو یہ مجازاً ہبہ بولا دراصل یہ کیا ہے؟ صدقہ ہے بھئی۔ تو یہ مجاز ہے صدقے سے۔
بَابُ الرُّجُوعِ عَنِ الْهِبَةِ، باب ہے مولانا صدقے سے رجوع کے... باب ہے کس سے؟ ہبہ سے رجوع کے بارے میں کہ ہبہ سے رجوع ہو سکتا ہے یا رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔ کہتے ہیں وَمَنْ وَهَبَ فَرَجَعَ صَحَّ اور جس نے کوئی چیز ہبہ کی فَرَجَعَ پھر کیا کیا؟ رجوع کر لیا وہ چیز واپس لے لی صَحَّ تو یہ لینا صحیح ہے، هَذَا عِنْدَنَا یہ ہمارے نزدیک۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہبہ میں رجوع صحیح ہے جائز ہے مولانا لیکن کرنا نہیں چاہیے۔ مناسب نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ معزز شخص کی شان کے خلاف ہے کہ کوئی چیز کسی کو ہبہ کر دے اور پھر اس سے واپس لے لے۔ سمجھ میں آیا وَمَنْ وَهَبَ فَرَجَعَ صَحَّ هَذَا عِنْدَنَا یہ ہمارے نزدیک ہے لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے، حضور فرماتے ہیں الْوَاهِبُ أَحَقُّ بِهِبَتِهِ ہبہ کرنے والا وہ زیادہ حقدار ہے اپنے ہبہ کا، مَا لَمْ يُثَبْ أَيْ مَا لَمْ يُعَوَّضْ جب تک اس کو عوض نہ دیا جائے۔ یاد رکھو ہبہ کا جب عوض دے دیا جائے تو اب رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔ ہبہ کا کیا دے دیا جائے؟ عوض دے دیا جائے تو وہ دراصل صورتاً ہبہ ہے لیکن درحقیقت وہ کیا بن گئی؟ بیع بن گئی تو اور بیع کے اندر کسی کو رجوع کرنے کا حق نہیں ہوتا۔ صورت سمجھ میں آئی؟
میں نے آپ کو ایک گھر ہبہ کیا بھئی، میں نے کہا میری فلاں کوٹھی جو ہے میں نے آپ کو تحفے کے طور پر دے دی۔ آپ نے شرع وقایہ پڑھی ہوئی تھی بھئی، آپ نے فوراً اپنی جیب سے قلم نکالا، کہ آپ نے مجھے کوٹھی دی ہے تحفے کے طور پر، یہ لیجئے اس کے بدلے کے طور پر میرے سے کیا لے لیجئے؟ قلم لے لیجئے، بس مولانا، جیسے ہی میں نے قلم آپ سے لے لیا، فوراً میرا حقِ رجوع کیا ہو گیا؟ ختم کیونکہ میں نے عوض لے لیا۔ ادنیٰ اعلیٰ کی شرط نہیں ہے، جو بھی چیز ہو بس عوض دے دے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں یہ کہنا ضروری کہ یہ اس گھر کا میں بدلے کے طور پر آپ... آپ نے مجھے گھر دیا ہے تو میں بھی آپ کے ساتھ احسان کرتے ہوئے چلو یہ کیا کرتا ہوں آپ کو؟ اس کے بدلے میں قلم دیتا ہوں، بدلے کا ذکر کرنا ضروری کہ یہ میں اس کا گھر کا عوض دے رہا ہوں۔ ویسے ہی آپ مجھے قلم دے دیتے ہیں، میں نے آپ کو گھر دیا، آپ کہتے ہیں اچھا چلیے یہ میری طرف سے آپ رکھ لیجیے قلم، میں نے لے لیا۔ اب آپ نے کوئی عوض کا ذکر کیا؟ آپ کی بے شک نیت ہو نیت سے کچھ نہیں ہوتا، جب تک آپ ذکر نہیں کریں گے، اس وقت تک یہ عوض نہیں ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہذا جب یہ عوض نہیں تو لہذا مجھے رجوع کرنے کا حق ہے۔ اور آپ نے جو قلم دیا وہ بھی کیا ہے؟ ہبہ ہو گیا، اس سے آپ بھی کیا کر سکتے ہیں؟ رجوع کر سکتے ہیں۔
تو یہ معنی ہے حدیث میں آیا الْوَاهِبُ أَحَقُّ بِهِبَتِهِ، ہبہ کرنے والا رجوع نہ کرنے... نہ رجوع نہ کرے ہبہ کے اندر، إِلَّا الْوَالِدُ مگر والد فِيمَا يَهَبُ لِوَلَدِهِ اس چیز کے اندر جو اس نے اپنے بیٹے کو ہبہ کی ہو۔ وَنَحْنُ نَقُولُ بِهِ ہم بھی یہی کہتے ہیں۔ علامہ صدر الشریعہ کیا فرما رہے ہیں؟ ہم بھی یہی کہتے ہیں، یعنی کیا مطلب؟ أَيْ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَرْجِعَ، کہ ہم یہی تو کہتے ہیں کہ مناسب نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں جائز نہیں۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ مناسب نہیں ہے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں أَيْ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَرْجِعَ، ہمارے لیے مناسب نہیں کہ رجوع کر لے ہبہ کرنے والا، إِلَّا الْوَالِدُ مگر کون؟ والد، فَإِنَّهُ يَتَمَلَّكُهُ لِلْحَاجَةِ، اس لیے کہ وہ تو مالک بن جائے گا حاجت کی وجہ سے۔ ضرورت کی وجہ سے کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ بھئی حدیث میں نہیں آیا بھئی ایک صحابی کے والد نے آکر بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو حضور علیہ السلام نے ان سے کیا فرمایا؟ أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ، أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ، تو دیکھا معلوم ہوا بیٹے کا مال کیا ہے؟ ج... ہاں حقیقتاً نہیں لیکن حاجت کے وقت کیا بن جاتا ہے؟ باپ اس کا مالک بن سکتا ہے بھئی۔ فَإِنَّهُ يَتَمَلَّكُهُ لِلْحَاجَةِ اس لیے وہ تو اس کا مالک بن جائے گا حاجت کی وجہ سے وَمَنَعَهُ الزِّيَادَةُ الْمُتَّصِلَةُ چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ