باب التحکیم و صحۃ تحکیم الخصمین من صالح قاضیا ولزمہما حكمہ بالبینۃ والنکول والاقرار۔ واخباره باقرار احد الخصمین وبعدالۃ الشاھدین حال ولایتہ۔
جی ای صحه اخباره جی۔ باب التحکیم التحکیم کا معنی حکم بنانا، ثالث بنانا۔ بھئی، آپ دیکھتے ہیں کبھی دعویٰ میں جھگڑا ہوتا ہے، کسی تیسرے کو ثالث بنا لیتے ہیں، اس کے بارے میں بھئی۔
تو یہ جائز ہے یا جائز نہیں؟ بتلا رہے ہیں بھئی۔ صحہ صحیح ہے تحکیم الخصمین دو فریقوں کا کسی کو حکم بنا لینا۔ حکم بنا لینا۔ من اس شخص کو صالح قاضیان جو کیا بننے کی صلاحیت رکھتا ہو؟ قاضی بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
اور قاضی بننے کی صلاحیت کون رکھتا تھا؟ جو شہادت کا اہل ہو بھئی اور شہادت کا اہل کون ہے بھئی؟ آزاد عاقل بالغ ہو محدود فی القذف نہ ہو وغیرہ بھئی۔
ولزمہما حکمه بالبینۃ والنکول والاقرار۔ اور لازم ہو جائے گا ان دونوں پر اس ثالث کا حکم کس کے ذریعے؟ بینہ کے ساتھ جو حکم کرتا ہے والنکول اور انکار بھئی، یہ بینہ کوئی پیش کر دیتا ہے یا ایک کے پاس بینہ نہیں، دوسرے کو قسم دیتا ہے، وہ قسم نہیں کھاتا، انکار کرتا ہے، اس کے ساتھ وہ فیصلہ کرتا ہے، ولاقرار اور کس کے ساتھ؟ اقرار کے ساتھ وہ فیصلہ کرتا ہے، تو اس کا حکم ان دونوں پر لازم ہو جائے گا، کیونکہ یہ حکم موافقِ شرع ہے۔
شریعت میں بھی اسی طرح فیصلہ کیا جاتا ہے بینہ، نکول یا اقرار کے ساتھ۔ اور اسی طرح واخباره یہ عطف ہے مولانا تحکیم پر ای صحه اخباره اور صحیح ہے اس کی خبر دینا باقرار احد الخصمین دو فریقوں میں سے کسی ایک کے اقرار کے بارے میں وبعدالۃ الشاھدین اور دو گواہوں کی گواہ عادل ہونے کے بارے میں خبر دینا حال ولایتہ اپنی ولایت کی حالت میں بھئی۔
یعنی جب اس جب وہ ابھی حکم ہی ہے بھئی کیا ہے؟ بھئی مثلاً بھئی اس کو کوئی بات ہوئی جس کی وجہ سے قاضی کے پاس جانا پڑ گیا، کوئی ایک تنگ کر رہا ہے، کچھ کر رہا ہے، تو اب بھی وہ حکم ہے بھئی اس دوران اس نے قاضی کو بتلایا کہ اس ایک نے میرے سامنے کیا کیا تھا؟ اقرار کیا تھا اس بات کا یا یہ بتلاتا ہے کہ یہ دونوں گواہ کس قسم کے ہیں؟ عادل ہیں، تو کہتے ہیں بھئی اس کا یہ خبر دینا صحیح ہے، صحیح ہے اور اس کی یہ خبر دو آدمیوں دو گواہوں کس کے قائم مقام ہے؟ دو آدمیوں کی گواہی کے قائم مقام ہے تو اس اکیلے کا خبر دے دینا کس کی طرح ہے؟ جیسے کہ دو گواہوں نے گواہی دی ہو، سمجھ میں آیا یہ معنی ہے کیونکہ اس کو ان دونوں نے کیا دی ہے؟ فیصلہ کرنے کی ولایت سپرد کی ہے بھئی اپنے اوپر ولایت دی ہے۔
ای صحہ اخباره باقرار احد الخصمین صحیح ہے خبر دینا دونوں خصموں میں سے کسی ایک کے اقرار کے بارے میں وبعدالۃ الشاھدین اور دونوں دونوں گواہوں کی عادل ہونے کے بارے میں اوپر کہا تھا نا حال ولایتہ کیا معنی بھئی ای فی زمان ولایتہ اپنی ولایت کے یعنی جب وہ حکم ہے ابھی بھئی ابھی تک وہ حکم ہے
لینا یاد رکھو بھئی جب فیصلہ کر دے گا بس یہ ختم ہوا، اب حکم نہیں رہا بھئی فیصلہ کر دیا، کام پورا ہو گیا مولانا، تو ابھی فیصلہ نہیں کیا، ابھی ولایت ہے اس کو لینا اخباره حال ولایتہ قائم مقام شہادت رجلین اس لیے کہ اس کا خبر دینا اپنی ولایت کے حال میں یہ قائم مقام ہے دو آدمیوں کی گواہی کے بخلاف ما اذا اخبار بعد ولایتہ بخلاف اس کے کہ جب وہ خبر دے کس کے بعد؟ اپنی ولایت کے ولایت کے بعد جب اس کو الگ کر دیا گیا، فیصلہ سنانے سے پہلے دونوں میں سے کسی ایک نے رجوع کر لیا کہ میں اس کو ثالث تسلیم نہیں کرتا تو وہ ختم بھئی تو پھر اس صورت میں فیصلہ نہیں دے سکتا لینا اب اب وہ خبر نہیں دے سکتا مولانا اب اس کی خبر قبول نہیں کی جائے گی، اس اکیلے کی خبر قبول نہیں کی جائے گی لینا
الحق بَواحد من الرعايا اس لیے کہ وہ مل گیا ہے رعایا میں سے ایک کے ساتھ ہے، یعنی رعایا میں سے بن گیا ہے فلا بد من الشاهد الاخر لہذا دوسرے گواہ کا ہونا اب اب یہ ایک آدمی خبر دے رہا ہے کہ فلاں نے میرے سامنے اقرار کیا تھا، ایک کی بات نہیں معتبر بلکہ گواہی کتنی ہونی چاہیے؟ دو کی ہونی چاہیے تو یہ جدا ہونے کے بعد اب ایک کی طرح ہو گیا، وبخلاف اور اسی طرح بخلاف اس صورت کی اذا اخبار جب وہ خبر دیتا ہے بانہ قد حکما کہ اس نے کیا کیا ہے؟ فیصلہ کیا ہے خبر دیتا ہے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے اس وقت بھی اب اس کی اس خبر کو اکیلے کی خبر کو قبول نہیں کیا جائے گا کیوں؟ میں نے بتلایا کیونکہ فیصلہ کر دینے کے بعد وہ کیا ہو جاتا ہے؟ معذور خود بخود ختم ہوئی اس کی ولایت لینا حکم اس لیے کہ جب اس نے فیصلہ کر دیا ان عزل وہ کیا ہوا؟ معذور ختم ہو گیا اس کا مقصد پورا ہو گیا فلا يقبل اخباره تو اب اس اکیلے کی خبر قبول نہیں کی جائے گی
ولكل منهما ان يرجع قبل حكمه اور دونوں فریقوں میں سے بھئی ہر ایک کے لیے جائز ہے کہ وہ رجوع کر لے اس کے فیصلے سے پہلے بھئی جو بھی چاہے رجوع کر لے میں اسے ثالث نہیں مانتا بھئی، یہ رجوع کر سکتا ہے، یہ ختم ہو جائے گی اس کی ولایت ولا يصح حكم المحكم جی جس کو حکم بنایا، تحکیم کرنے والے کون ہیں؟ دونوں خصم تو وہ ہوئے محکم ہر ایک ان میں سے کیا ہوا؟ محکم یعنی حکم بنانے والے اور کس کو بنایا؟ وہ کیا ہوا؟ محکم جس کو ثالث بنایا وہ محکم ہوا، تو کہتے ہیں ولا يصح حكم المحکم محکم کا حکم صحیح نہیں بھئی، یعنی وہ حکم وہ جو ثالث ہے والمولى، مولى کہتے ہیں جس کو ولایت دی گئی ہو، یعنی عہدہ سپرد کیا گیا ہو مراد قاضی ہے، کون مراد ہے؟ قاضی یہ تو ان دونوں نے بھئی حکم بنایا تھا اور مولى جس کو عہدہ دیا گیا ہے یعنی خلیفہ کی طرف سے بھئی، حاکم کی طرف سے باقاعدہ، صحیح نہیں ہے ان دونوں کا فیصلہ کرنا لابویهی اپنے والدین کے لیے بھئی، ولدہی اور اپنے بچے کے ولد کے لیے بھئی، وعرصہی اور اپنی بیوی کے لیے بھئی۔
کما لا تصح الشهادة لهاولاءِ جیسے شہادت نہیں صحیح ان لوگوں کے لیے بھئی سمجھ میں آیا بھئی ایک انسان ہے کسی مسئلے کے اندر اپنے والد کی طرف سے یا والدہ کی طرف سے گواہ بن کر جاتا ہے یا اپنے بیٹے کی طرف سے گواہ بن کر جاتا ہے یا اپنی بیوی کی طرف سے گواہ بن کر جاتا ہے، تو یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی بھئی، اس لیے کہ اس میں تو ان اس ان جن کا یہ باپ کا فائدہ، ماں کا فائدہ، بیٹے یا بیوی کا فائدہ، یہ دراصل اس کا اپنا ہی فائدہ ہے، اس کا اپنا تو تہمت کی وجہ سے اب اس کی گواہی ان کے حق میں قبول ہاں ان کے خلاف گواہی دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
اسی طرح ان کے خلاف فیصلہ کرنا چاہے تو لیکن ان کے حق میں نہیں کر سکتا کیونکہ ان کا نفع دراصل اسی کا نفع ہے، تو تہمت کا خدشہ ہوا بھئی۔
ولا تحکیم فی حد و قصاص اور صحیح نہیں ہے مولانا حکم حد اور قصاص کے اندر بھئی، حد اور قصاص کے اندر حکم نہیں بنا سکتے لانهما لا يملكان دمھما اس لیے کہ یہ دونوں خصم اپنے خون کے مالک نہیں۔
دونوں خصم اپنے خون کے مالک، کوئی اپنے خون کا مالک نہیں ہے ولھا لا يملكان اباحتہ تو یہ اس کو مباح کرنے کے مالک بھی نہیں ہیں بھئی سمجھ میں آیا تصرف کے تو مالک تھے مولانا تو تصرف کے اندر تو ولایت دے دی عام تصرفات کے اندر اپنی ولایت کس کے سپرد کر دی؟ کسی مسئلے میں ثالث کے سپرد کر دی بھئی، لیکن یہاں پر جب دونوں اپنے خون کے مالک نہیں ہیں تو کسی کے لیے اس کو مباح بھی نہیں کر سکتے بھئی، یہ دلیل ہوئی مولانا قود کی، کس کی دلیل ہوئی؟ قود قصاص کے اندر کسی کو حکم نہیں بنا سکتے کیونکہ اس قصاص کے اندر کیا کیا جائے گا بھئی؟
قتل کیا جائے گا یا نہیں کیا جائے گا؟ تو یہ تو گویا اپنے خون کو اس کے لیے مباح کر رہے ہیں اور یہ اپنے خون کے مالک ہیں، جب اپنے خون کے مالک نہیں ہیں تو ثالث کے لیے یہ اس کو مباح بھی نہیں کر سکتے بھئی، حد کی دلیل یہ ہے مولانا کہ بھئی اس کو ثالث حد کے اندر بھی فیصلہ نہیں کر سکتا حدود کے مسئلے میں کیوں؟ وہاں ثالث نہیں بنایا جا سکتا، کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟ اس لیے کہ یہ جو ثالث ہوتا ہے، اس کو ولایت صرف دو خصموں پر ہوتی ہے، باقی لوگوں پر انہوں نے حاکم بنایا تو ان پر تو ولایت ہے باقی لوگوں پر نہیں تو اس کی ولایت میں شبہ آ گیا مولانا، اور حد آپ نے پڑھتے ہیں حدود الحدود تدرء بالشبهات حدود شبہ سے ساقط ہو جاتی ہیں، لہٰذا یہاں نہیں کر سکتا۔
یہ معنی ہے لانہما لا يملكان دمہما اس لیے کہ دونوں خصم مالک نہیں ہیں اپنے خون کے ولھا لا يملكان اباحتہ وہ اس کے مباح کرنے کے بھی مالک نہیں ہیں قالو فقہائے کرام فرماتے ہیں وصح فی سائر المجتہدات صحیح ہے باقی مجتہدات کے اندر بھئی، تمام مجتہد، جن مسئلوں میں اجتہاد کی گنجائش ہے، ان کے اندر حکم بنانا صحیح ہے، ولا یفتى به لیکن اس جواز تحکیم پر فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔
یہ جو کہا نا تمام مجتہدات میں کیا بنانے کی گنجائش ہے؟ ثالث بنانے کی گنجائش ہے، جس مسئلے میں بھی اجتہاد کی گنجائش ہے، مثلاً امام شافعی رحمہ اللہ ایک طرف گئے ہیں، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ایک طرف گئے ہیں، معلوم ہوا اس میں اجتہاد کی گنجائش تھی بھئی، تو اس اس قسم کے مسئلے کے اندر بھئی اب وہ کیا کر سکتے ہیں؟ ثالث بھی بنایا جا سکتا ہے، ثالث بھی بھئی۔
لیکن فرق یہ ہے، قاضی کے مسئلے میں بھی پڑھا کہ مجتہد فی مسئلے کے اندر بھی قاضی کا فیصلہ صحیح لیکن اور کس قاضی کی بات ہوئی تھی؟ قاضی مجتہد قاضی مجتہد کی بات ہوئی تھی اور پڑھا تھا جب وہ کسی ایک پر فیصلہ کوئی ایک کر دے تو وہ حکم کیا بن جائے گا؟ مجمع علیہ بن جائے گا، پڑھا تھا یا نہیں بھئی؟ تو قاضی جب فیصلہ کرے گا مجمع علیہ بن جائے گا، لیکن یہاں حاکم اگر وہ فیصلہ کرتا ہے تو وہ مجمع علیہ نہیں بنے گا، اس کی اس وہ اہمیت نہیں ہے جو قاضی کے فیصلے کی ہے، اس لیے کہ قاضی کو تو خلیفہ نے مقرر کیا باقاعدہ تو اس کی اہمیت ہے بھئی۔
تو لہٰذا کہتے ہیں تمام مجتہدات کے اندر بھئی ثالث بنانا صحیح سمجھ میں آیا، جائز ہے، لیکن اس پر فتویٰ نہیں دیا جائے گا کہ تمام مجتہد مفتی فتویٰ نہیں دیں گے کہ تمام مجتہد تم کیا کر سکتے ہو؟ تمام مجتہدات میں ثالث بنا سکتے ہو ورنہ کہتے ہیں بھئی عوام کی جرات بڑھ جائے گی بھئی، قاضی کے پاس کوئی جائے گا ہی نہیں، تمام مجتہدات میں کیا کر دیا کریں گے؟ خود ہی ثالث بنا لیا کریں گے، تو اس سے حکام شرعی کی رونق ختم ہو جائے گی، ان کے پاس کوئی جائے گا ہی نہیں، ان کے محکمے کا جمال اور زینت ختم ہوگی، وہ بیکار ہو جائیں گے۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہ کہتے ہیں وصح فی سائر المجتہدات صحیح ہے بھئی تحقیق صحیح ہے تمام مجتہدات کے اندر ولا یفتى به نیچے لکھا ہوا ہے مولانا ای لجواز التحکیم فی عمۃ المجتہدات فتویٰ نہیں دیا جائے گا جواز تحکیم کا کس چیز کے اندر تمام مجتہد بلکہ کیا کہا جائے گا بھئی؟
کہ اس کے اندر قاضی کے فیصلے کی ضرورت ہے کیا فتویٰ دیا جائے گا؟ کیا کہا جائے گا؟ ہاں قاضی کے پاس جانے کی ضرورت ہے جی، ثالث کی طرف فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔
کیوں؟ دفعاً لتجاسر العوام، تجاسر کا معنی دلیر ہونا، جری ہونا۔ عوام کی تجاسر کو دور کرنے کے لیے کہ وہ دلیر نہ ہو جائیں بھئی۔
قال مشائخنا کہا ہے ہمارے مشائخ نے یعنی ہمارے فقہاء نے، یہ فقہاء متاخرین مراد ہیں بھئی، فقہاء متاخرین کہتے ہیں فرماتے ہیں ان تخصیص هذه الرواية کی یہ جو روایت کی تخصیص ہے وهي قوله اور یہ قول مولانا اوپر جو آیا لا يجوز التحکیم فی الحدود والقصاص بھئی کہ جائز نہیں ہے تحکیم تمام حدود اور قصاص حدود اور قصاص میں تحکیم جائز نہیں یہ ہمارے قدیم فقہاء نے فرمایا۔
اور ان کا یہ قول يدل دلالۃ کرتا ہے علی جواز التحکیم فی جمیع المجتہدات کہ تحکیم یعنی حکم بنانا جائز ہے تمام مجتہدات کے اندر، کس کے اندر؟ تمام تمام مجتہدات کے اندر یہ جائز ہے بھئی تمام مجتہدات کے اندر۔
معلوم بھئی صرف منع کس میں کیا؟ کس میں نہیں تحکیم جائز ہے؟ حدود اور قص میں جب حدود اور قصاص کی تخصیص کر دی کہ ان میں نہیں جائز معلوم ہوا بقیہ مجتہدات سب کے اندر جائز ہے۔
كلكنايات جیسے کہ کنایات جیسے مولانا ہمارے نزدیک دو تین تین کنایات کے علاوہ باقی تمام کنایات سے طلاق بائن ہوتی ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کنایات سے بھی کون سی طلاق ہوتی ہے؟ طلاق رجعی، معلوم ہوا یہ مجتہد فی مسئلہ ہوا تو اس کے اندر بھی ثالث کیا کر سکتا ہے؟ فیصلہ کر سکتا ہے، مثلاً کنائے کو کیا قرار دے دیتا ہے؟ رجعی قرار دے دیتا ہے۔
سمجھ میں آیا وبفسخ الیمین اور اسی طرح فسخ یمین ونحوهما اس جیسے جو ہیں فسخ یمین کی یہ صورت لکھی ہے مثلاً بھئی قاضی کے پاس حکم ایک آدمی نے بھئی کیا کہا؟ مثلاً اپنی بیوی کی بیوی نہیں بھئی ایک اجنبیہ سے کہتا ہے، کیا کہتا ہے کہ واللہ ان ان تزوجتک فانتی طالق، اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے۔
جی کیا فتویٰ کیا مسئلہ ہوگا ہمارے نزدیک آپ پڑھ چکے ہیں اصول الشاشی کے اندر بھئی ہمارے نزدیک بھئی یاد رکھو معلق بشروط جو ہوتا ہے، وہ سبب بنتا ہے وجود شرط کے وقت جب شرط پائی جائے گی انتی طالق پھر سبب بنے گا کس چیز کا؟ طلاق کا کیونکہ وہ معلق بشروط ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ معلق بشروط فی الحال کیا بنتا ہے؟ سبب بنتا ہے لیکن عدم شرط کی مانع ہوتی ہے، عدم شرط کیا ہوتی ہے؟ مانع ہوتی ہے، تو انتی طالق نے فی الحال سبب بننا ہے،
فی الحال، لیکن اس وقت یہ سبب بن ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ اس کی منکوحہ ہی نہیں ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو ہمارے نزدیک بھئی یہ ہے صحیح طلاق ان کے نزدیک یہ طلاق درست نہیں ہے بھئی۔
تو لہٰذا اب ایک شخص نے قسم اٹھائی کیا کہتا ہے معلق کیا طلاق کو ایک اجنبیہ سے کہتا ہے واللہ ان تزوجتک فانتی طالق بھئی۔
پھر شوافع نے یہ مسئلہ اٹھایا اور کس تک پہنچایا؟ ثالث کو مقرر کیا
کہ آپ کیا کر دیجیے اس قسم کو باطل کر دیجیے اور نکاح کو جائز قرار دیجیے بھئی، ورنہ تو نکاح کرتے ہی فوراً کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی، تو آپ اس قسم کو اس ثالث کو کیا کر دیجیے؟
باطل کر دیجیے اور نکاح کو کیا قرار دیجیے؟ جائز قرار دیجیے تو بہتر یہ ہے کہتے ہیں وہ جو ثالث ہے وہ یوں کہے کہ میں نے یہ قسم باطل کر دی بھئی کیا کر دی؟ قسم باطل کر دی اور اس طلاق کو توڑ دیا عمل کرتے ہوئے حضور علیہ السلام کے اس قول پر لا طلاق قبل النکاح بھئی، نکاح سے قبل طلاق نہیں ہے، تو دیکھو یہ حاکم جو مجتہد تھا اس نے خود کیا کیا؟
خود فیصلہ کیا اجتہاد کرتے ہوئے کس کے ذریعے؟ حضور علیہ السلام کے قول کے ذریعے اجتہاد کیا اس کو دلیل کے طور پر پیش کیا تو یہ گنجائش ہے مولانا حاکم کے لیے جبکہ وہ مجتہد ہو میں نے بتایا بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وتخصيص المجتہدات بالذكر ليس لنفي الحكم عما عداه بھئی یہ جو انہوں نے اوپر کہا نا کہ مجتہدات کے اندر تحکیم صحیح ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر مجتہدات کے اندر تحکیم نہیں صحیح بھئی غیر مجتہدات کے علاوہ جو ہیں جن میں اجتہاد کی گنجائش نہیں جو قرآن، حدیث مشہورہ یا اجماع سے ثابت ہیں بھئی، اجماع کے کہتے ہیں ان میں تو بطریق اولی کیا ہوگی؟ تحکیم جائز ہوگی کیونکہ اس نے کس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے؟ قرآن کے مطابق کرنا ہے یا حدیث مشہورہ کے مطابق کرنا ہے یا اجماع کے تو اس میں تو بطریق اولیٰ ہے بھئی اس میں شبہ تھا کہ پتہ نہیں مجتہدات کے اندر کر سکتا ہے حکم بنا سکتے ہیں یا حکم نہیں بنا سکتے تو یہ جو تخصیص کی مجتہدات کی یہ ان باقیوں کی نفی کے لیے نہیں کی بھئی وتخصيص المجتہدات بالذكر اور یہ جو تخصیص کی مجتہدات کی ذکر کے
لیس لیس فی الحکم عما عداه، یہ اس کے علاوہ کے اندر حکم کی نفی کے لیے نہیں کی، فانہ لیس للاستحاد فیہ مساغ کثابت بالکتاب اس لیے کہ وہ مسائل کہ جن کے اندر اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے بھئی مساغ کا معنی گنجائش ہونا یا جائز ہونا جن کے اندر اجتہاد جائز نہیں ہے کثابت بالکتاب جیسے وہ چیز جو ثابت ہو کس کے ذریعے کتاب اللہ کے ذریعے او سنت المشہورہ یہ سنت المشہورہ کے ذریعے او اجماع یہ اجماع کے ذریعے لا شک فی صحت تحقیق فی ذالک اس کے اندر تو تحقیق کے صحیح ہونے کے اندر کوئی شک ہی نہیں ہے بھئی مجتہدات میں شک تھا تو اس شک کو دور کر دیے اس لیے تفصیل کی اس کی و فائیدہہ بھئی فائیدہ کیا ہے؟
یہ تحقیق کا فائدہ کیا ہے؟ کہتے ہیں الزام الخصم خصم پر لازم کرنا یعنی حق کو خصم پر لازم کر دیا جائے گا۔ فانہ المتبائعین بھئی اس لیے کہ دو بیع کرنے والے ان حکما حکمن جب انہوں نے ثالث بنایا بھئی کسی کو فال محکم جو حق ثالث ہے یجبر المشتریہ وہ مجبور کرے گا مشتری کو علی تسلیم الثمن کس چیز پر ثمن کے سپرد کرنے پر والبائع علی تسلیم المبیعی اور بائع کو مجبور کرے گا مبیع سپرد کرنے پر
جی تو دیکھا جس پر جس پر جو حق بنتا تھا اس پر لازم کر دیا و منامتہ یحبسہ اور جو رکے باز رہے گا یحبسہ قاضی اس کو کیا کر دے گا قید کرے گا تو یہ اس کو قید کروا دے گا فذکر المجتہدات تو مجتہدات کا جو ذکر ہے لیدلہ علی غیرہا بھئی یا فذکر المجتہداتی فذکر کیا ماتن نے مجتہدات کو لیدلہ علی غیرہا تاکہ یہ دلالت کرے اس کے غیر مجتہدات پر بالطریق الاولی بطریق اولی بھئی کہ جب مجتہدات میں جائز ہے تو باقیوں میں تو بطریق اولی جائز ہے کیونکہ وہ تو کتاب سنت مشہورہ یا اجماع سے ثابت ہوں گے
و اذا صح تحکیم فی جمیع القضایا لا یفتہ بذالک وہی بات کر رہے ہیں بھئی متن میں جو ائی تھی تشریح کرتے چلے جا رہے ہیں اور صحیح ہے تحقیق تمام معاملات کے قضایا بھئی مسائل بھئی اختلافی مسائل مراد تمام اختلافی مسائل کے اندر تحقیق صحیح ہے لیکن لا یفتہ بذالک اس کا فتوی نہیں دیا جائے گا کہ ان میں مجتہ تمام مجتہدات میں جائز ہے حکم بنانا العوام یتجاسرون علی ذالک اس لیے کہ عوام پھر اس پر جرات دکھائیں گے جرات کریں گے
فیقل الاحتیاج الی القاضی تو کم ہو جائے گی قاضی کی طرف احتیاج کم ہو جائے گی بھئی فلا یبقی الحکام شرع رونق تو حکام شریعت کی رونق باقی نہیں رہے گی ولا للمحکم جمال و زینت اور محکمے کی جمال اور زینت باقی نہیں رہے گا لوگ خود ثالث اور حکم بنایا کریں گے قاضی کے پاس جائیں گے ہی نہیں بھئی
و حکم المحکم فی دم فی دم خطا بالدیۃ علی العاقل لا ینفذ بھئی جی بھئی آپ نے پڑھا ہے دم خطا کسی نے غلطی سے کوئی قتل کر دیا اس پر کیا ائے گی؟ دیت ائے گی بھئی دیت ائے گی
اور دیت صرف قاتل پر ہوا کرتی ہے یا اس کے عاقلہ پر ہوتی ہے بھئی؟ عاقلہ پر جیسے بھئی اس کے خاندان پورے قبیلے وغیرہ والے تو یاد رکھو صرف قاتل پر نہیں ہوتی۔
جی تفصیل ا جائے گی آگے تو بس آسان لفظوں میں اس کے جو ہاں قبیلے والے سمجھ لیں بھئی اس کے قبیلے والے ان ساروں پر آتی ہے اور تین سال کے اندر ادا کرنی ہوتی ہے۔ بڑی قلیل ہو جاتی ہے یہ سمجھ لیں ہر فرد سے بڑی قلیل
اب ایک حکم نے فیصلہ کیا دم خطا کے اندر اور دیت کس پر رکھی؟ عاقلہ پر رکھی کہتے ہیں لا ینفذ اس کا یہ فیصلہ نافذ نہیں۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے بھئی اس کو ولایت ان دو خصموں نے دی ہے۔ سارے عاقلہ نے اس کو حاکم بنایا ہے؟ نہیں۔ تو ان پر اس کو ولایت بھی تو اس کا فیصلہ ان پر نافذ بھی نہیں ہوگا۔
و حکم المحکم اور حاکم کا فیصلہ فی دم فی دم خطا دم خطا کے اندر بھی دیت دیعت کے ساتھ علی العاقل عاقلہ پر لا ینفذ یہ نافذ نہیں ہوگا لان العاقلتہ لم يحكمہ اس لیے عاقلہ نے اس کو حکم نہیں بنایا۔
جی و کذا ان حکم جی اگر وہ صرف قاتل پر دیت کا فیصلہ کرتا ہے بھئی قاتل نے تو بھئی انہوں نے تو دیا یا نہیں ثالث بنایا یا نہیں بھئی انہوں نے ولایت تو دی ہے تو صرف ثالث وہ جو قاتل ہے اس پر دیت کا فیصلہ کر دیتا ہے کہتے ہیں نہیں بھئی یہ بھی درست نہیں ہے قاتل پر بھی نہیں کر سکتا اس لیے کہ دیت قاتل پر صرف نہیں آتی بلکہ کس پر ایا کرتی ہے؟ عاقلہ پر تو یہ فیصلہ بھی درست نہیں و کذا ان حکم بالدیۃ علی القاتل لا ینفذ ایضا اسی طرح اگر اس نے دیت کا فیصلہ کر دیا قاتل پر یہ بھی نافذ نہیں ہوگا
فينقضہ القاضی پس اس کے فیصلے کو قاضی توڑ دے گا و یقضی علی العاقلۃ اور قاضی فیصلہ کرے گا کس پر؟ عاقلہ پر کیونکہ اس کو ولایت سب ولایت عامہ حاصل ہے بھئی اچھا بھئی اس کے حکم کو نافذ کیوں نہیں کیا بھئی؟ قاتل پر کیا۔
کیونکہ قاتل پر اس نے جب دیت کا فیصلہ کیا کہتے ہیں لان حکم المحکم مخالف مذہب القاضی اس لیے کہ حاکم کا جو فیصلہ ہے وہ قاضی کے مذہب کے مخالف ہے قاضی کے حکم کے مخالف ہے تو قاضی کے مذہب کے بھی مخالف ہے اسی کیونکہ قاضی کے نزدیک بھی بھئی
دیت کس پر آتی ہے؟ عاقلہ پر سمجھ میں آیا بھئی؟
و مخالف للنفس اور اسی طرح نفس کے بھی مخالف ہے۔ نفس کیا؟ وہ قول علیہ السلام حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے۔
قوم فدوه قوم فدوه سمجھ میں آیا؟
تو ایک شخص پر بھئی اس نے اس کی وجہ سے کسی کی موت ہوئی تھی تو حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا اس کی قوم والوں سے قوم اٹھو بھئی فدوه اس کی کیا کرو دیت اس کی طرف سے دیت ادا کرو بھئی
سمجھ میں آیا بھئی قوم فدوه باب افتعال ہے مولانا باب افتعال
افتدى یفتدی پھر کبھی کیا کرتے ہیں تا کو دال کرکے دال میں ادغام کرتے ہیں بھئی جی تو اٹھو اٹھو اور اس کی طرف سے دیت ادا کرو حضور علیہ السلام نے فرمایا
و مانع عدم نفاذہ علی العاقلتہ ان للمحکم لا یکون ولایت طلب الدیت من العاقلتہ جی اور عاقلہ پر نافذ نہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ
جی معنی نہیں علت یہ ہے علت بھئی میں نے اپ کو بتلایا تھا غالبا اصول الشاشی کے اندر بھی بھئی کہ ہماری فقہ کی کتابوں کے اندر معنی کا لفظ علت اور سبب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے دیکھیے یہاں پر یہ معنی کا لفظ سبب اور علت کے معنی میں
و معنی عدم نفاذہ علی العاقلتہ اور علت جو ہے عاقلہ پر عدم نفاذ کی وہ یہ ہے کہ ان للمحکم لا یکون ولایت طلب الدیت من کہ محکم کو ولایت نہیں ہوگی کہ وہ دیت کو طلب کرے کس سے؟ عاقلہ سے
اور اسی طرح لا یکون حبسہم بھئی اس کا ابھی ولایت پر ہے اس کو ان کو قید کرنے کی بھی ولایت نہیں ہوگی ان امتنعوا اگر وہ باز رہیں رک جائیں
فان رفع حکم الہ قاض اخر پس اگر اس کے حکم کو پہنچایا گیا پیش کیا گیا کسی اور قاضی پر ان وافق مذہبہم امزاھو اگر اس کے مذہب کے موافق ہوا تو قاضی کیا کر دے گا اس کو جاری کر دے گا نافذ کر دے گا والا ابطلہ اور اگر ایسا نہ ہو تو اسے کیا کر دے گا باطل کر دے گا ای لیس حکم المحکم مثل حکم المولٰی یعنی محکم کا حکم مولٰی کے حکم کی طرح نہیں ہے یعنی حکم کا حکم قاضی کے حکم کی طرح نہیں ہے جی فی ان المختلف فیہ یصیر مجمع علیہ بہ اس میں کہ اس اس کا مختلف فیہ کے اندر اس کا فیصلہ جو ہے وہ جو مسئلہ ہے وہ کیا بن جائے گا جس پر فیصلہ کیا وہ مجمع علیہ بننے کے اندر قاضی جب فیصلہ کرتا تھا وہ کیا بن جاتا تھا؟
قاضی یا مجتہد جب فیصلہ کرتا تھا مجمع علیہ بن جاتا تھا لیکن حکم اگر کرتا ہے تو وہ مجمع علیہ نہیں بنتا چلیے بس وہ نہادا کل المرام اللہ اعلم بحقیقۃ الکلام