و إن قال ضمنته إلی شهر صدقوه مع حلفه و إن ادعی الطالب أنه حال.
صورت مسئلہ یہ بھئی ایک شخص نے اقرار کیا کفالت کا لیکن مطلق نہیں کفالت إلی شہر کا یعنی ایک مہینے، میں ضامن ہوں تمہارے پیسوں کا کب تک ایک مہینے تک یعنی مطالبہ مجھ سے کب ہوگا ایک ماہ بعد مطالبہ ہو سکتا ہے اس سے پہلے نہیں بھئی۔
لیکن جس کو یعنی طالب جو ہے طالب اس نے کہا نہیں بھئی دین کا کفالت جو ہے وہ کس طریقے پر ہے حلول کی صفت پر ہے حلول کے طریقے پر ہے یعنی فل وقت مجھے مطالبے کا حق ہے، فل وقت کیا ہے؟ تو کفیل نے کس چیز کا اقرار کیا ہے کہ مطالبے کا حق کب ہے؟
ایک ماہ بعد اور طالب کہتے ہیں نہیں مطالبے کا حق فی الحال ہے تو کس کا قول معتبر کہتے ہیں بھئی کفیل کا قول معتبر ہے بھئی۔ معلوم ہوا طالب کے ذمے بینہ ہے بھئی۔
قول کس کا معتبر ہوتا ہے منکر کا معلوم ہوا کہ طالب کے ذمے کیا ہے؟ بینہ، تو بینہ تو ہے نہیں کفالت تو ثابت اس کے اقرار سے ہو رہی ہے تو لہذا اب یہ مدت کے اندر کس کا قول معتبر ہوگا بھئی؟ کفیل کا قول معتبر ہوگا ساتھ کس چیز کے بھئی؟ تو ساتھ اس کی قسم کے تو لہذا جب وہ قسم کھا لے گا تو کفالت إلی شہر ثابت ہو جائے گی بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی؟
بخلاف اس کے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کے لیے دین کا اقرار کرتا ہے یہ تو تھا کفالت کا اقرار کیا ایک ہے دین کا اقرار کرتا ہے میں نے زید کا دین دینا ہے ایک لاکھ روپیہ لیکن کب تک دینا ہے بھئی؟ ایک مہینے تک میں نے دینا ہے تو دین معجل کا اقرار کیا بھئی اور وہ جو مقر تو یہ مقر ہوا اور مقر لہو کہتے ہیں نہیں بھئی فی الحال دین ادا کرنا ہے تم نے تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر جو ہے مقر لہو کا قول معتبر ہوگا۔
مقر کا قول مدت کے اندر معتبر نہیں ہوگا معلوم ہوا دین کیا ہوگا فی الحال اس پر ادائیگی ہو جائے گی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کفالت کے مسئلے میں بھئی قول کس کا معتبر بھئی؟ کفیل کا یعنی مدت کی تصدیق کی جائے گی بھئی اور اقرار بھی دین کے اندر بھئی وہاں کس کا قول معتبر؟ مقر لہو کا قول معتبر لہذا اس کو مدت نہیں دی جائے گی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وجہ کیا ہے بھئی؟ بھئی دیکھیے کہتے ہیں جب اس شخص نے اقرار بھی دین کر لیا دین کا کیا کر لیا؟ تو دین تو اس پر ثابت ہو گیا اب دین کے ساتھ وہ اپنے لیے ایک اور چیز کا دعوی کر رہا ہے اور وہ ہے مدت اور مقر لہو اس مدت کا کیا ہے؟ منکر ہے تو قول کس کا معتبر ہوتا ہے؟ منکر کا معتبر ہوتا ہے اس لیے ہم نے کہا کہ اقرار بھی دین کے مسئلے کے اندر مدت کے اندر کس کا قول معتبر بھئی؟ مقر لہو کا قول معتبر۔
جب کہ یہاں پر کفالت کے باب میں بھئی کہ یہاں پر طالب جو ہے وہ دعوی کر رہا ہے کہ دین کہ مطالبہ فی الحال ہے مطالبہ کیا ہے؟ فی الحال ہے اور کفیل اس کا انکار کر رہا ہے تو قول کس کا معتبر بھئی؟ منکر کا بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ اقرار بھی دین کے اندر کس کا قول معتبر مقر لہو کا کیونکہ وہ کیا کر رہا ہے؟ انکار کر رہا ہے اور یہاں پر بھی بھئی یہاں پر کس کا قول معتبر کفیل کا کیونکہ طالب مطالب کس چیز کا دعوی کر رہا ہے کہ دین فی الحال مطالب ہے فی الحال اس کا مطالبہ ہے۔
تو وہ کفیل منکر ہوا اور قول منکر کا معتبر ہوتا ہے۔
و إن قال ضمنته إلی شهر اگر کسی شخص نے کہا یہ اقرار کر رہا ہے دیکھو کفالت کا ضمنته إلی شهر میں کفیل ہوا تھا اس کا ایک مہینے تک صدقوه مع حلفه تو تصدیق کی جائے گی اس کے حلف کے ساتھ و إن ادعی الطالب انه حال اگرچہ دعوی کرے طالب کہ وہ دین حال ہے حالی ہے یعنی فوری ہے بھئی فوری بھئی۔
ای قال الکفیل کفیل نے کہا کفل تو بہذا المال میں کفیل ہوا اس مال پر لکن المطالبة بعد شہر لیکن مطالبہ ایک مہینے بعد ہوگا و قال الطالب اور طالب نے کہا لا بل علی صفة الحلول بلکہ مطالبہ حلول کی صفت پر ہے یعنی فی الحال ہے حلول کا معنی وقت ہونا وقت ہونا یعنی فی الحال ہے وقت ہو چکا ہے اس کا ف القول قول الکفیل مع الحلف تو قول جو ہے وہ کفیل کا معتبر ہے مع الحلف ساتھ اس کی قسم کے و هذا بخلاف ما إذا اقر بدین معجل یہ بخلاف اس صورت کے جب کہ اقرار کیا ہو کس کا دینے معجل کا و قال المقر له لا بل هو حال اس دینے معجل کا ایک شخص نے اقرار کیا اور مقر لہو نے کہا لا بل ہوا حال معجل نہیں ہے بلکہ فی الحال ہے فالقول للمقر له تو قول مقر لہو کا ہے معتبر ہے و الفرق اور فرق یہ ہے دونوں میں کہ انہ اذا اقر بدین جب ایک شخص نے اقرار بدین کر دیا تو دین تو ثابت ہو گیا ثم ادعی حقا لہ وہو تاخیر المطالبة پھر اس نے اپنے لیے ایک حق کا مطالبہ کیا اور وہ کیا تھا تاخیر المطالبة کہ مطالبہ فی الحال نہیں ہے دین کا بلکہ کس وقت ہے؟ ایک ماہ بعد ہے و المقر له منکر ف القول له اور مقر لہو منکر ہے تو قول اس کا معتبر ہے بخلاف الکفالة بخلاف کفالت کے فانہ لا دین فیہا اس لیے کہ کفالت کے اندر کیا ہے وہاں تو سرے سے دین بھئی اس نے اقرار بھی دین کیا تھا یہاں تو دین تھا دین اس پر ثابت ہو گیا اب دین کے ساتھ وہ ایک اور چیز مدت کی بھی دعوی کر رہا ہے اور دوسرا انکار کر رہا ہے تو منکر کا قول معتبر اور یہاں پر تو کوئی دین سرے سے ہے ہی نہیں کفالت کے اندر تو کیا کرتا ہے بھئی؟ مطالبہ اتا ہے فالبطالب یعی انه مطالب فی الحال پس طالب دعوی کر رہا ہے کہ وہ دین مطالب ہے فی الحال فی الحال اس کا مطالبہ کیا جائے و الکفیل ینکرہ اور کفیل کیا کرتا ہے اس کا؟ انکار کرتا ہے تو قول منکر کا معتبر بھئی ولا یؤخذ ضامن الدرک ان استحق صورت مسئلہ یہ بھئی ایک شخص نے دوسرے سے کوئی چیز خریدی بھئی اور بائع کی طرف سے اسے کسی نے ضمانت دی بھئی کہ یہ چیز خرید لو اگر اس میں کوئی تاوان ہوا یعنی کسی اور کی نکلی تو میں ضامن ہوں اپ کے سمن میں آپ کو دلاؤں گا۔
صورت مسئلہ یہ بھئی دوبارہ سنو! آپ زید سے کیا خریدنے لگے مثلا گاڑی لیکن آپ کو خطرہ ہے پتہ نہیں گاڑی کسی اور کی نہ ہو بھئی تو آپ کو بھئی ایک شخص آ کر کفالت دیتا ہے ضمانت دیتا ہے درک کی کہ بھئی گاڑی خرید لو یہ زید ہی کی ہے بھئی اگر کسی اور کی نکلی تو آپ کے سمن کہیں نہیں ڈوبتے میں ضامن ہوں اس کا آپ کے سمن آپ کو دلواؤں گا بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں اب وہ بعد میں اس نے گاڑی خرید لی بعد میں وہ گاڑی کسی اور کی نکلی بھئی اور ثابت بھی ہو گیا قاضی نے بھی فیصلہ کر دیا کہ یہ گاڑی جس سے خریدی گئی ہے اس کی نہیں تھی بلکہ یہ گاڑی تو کسی اور کی تھی تو کیا جب قاضی یہ فیصلہ کر دے کہ گاڑی کسی اور کی ہے تو کیا کفیل کو اب ہم جا کر پکڑیں گے لاؤ ہمیں پیسے واپس کرو کہتے ہیں نہیں بھئی صرف دوسرے کی چیز نکلنے اور ثابت ہونے سے جبکہ قاضی اس کا فیصلہ کر دے بیع ابھی تک نہیں ٹوٹی بیع ابھی تک نہیں ٹوٹی قاضی نے یہ تو بتا دی فیصلہ کر دیا یہ چیز دوسرے کی ہے جب تک قاضی یہ فیصلہ نہ کر دے کہ اے بائع اس کے پیسے اب تم کیا کر دو؟ واپس کر دو تو جب تک رد سمن کا فیصلہ نہیں کرتا اس وقت تک بیع جب قاضی رد سمن کا فیصلہ کرتا ہے تو گویا اس نے بیع کو توڑ دیا اب جب بیع کو توڑا تو اصل پر کیا واجب ہو گئے رد سمن واجب ہوئے جب اسبیل پر دین واجب ہو گیا رد سمن واجب ہوا تو کفیل پر بھی کیا ہوئی؟ اب وہاں رد سمن اس سے یعنی اس سے بھی اب مطالبہ کیا جا سکتا ہے صورت سمجھ میں آگئی معلوم ہوا صرف دوسرے کی چیز نکل ائے قاضی فیصلہ کر دے ثابت ہو جائے تو اس سے بیع ٹوٹتی نہیں.
ولا یؤخذ اور پکڑا نہیں جائے گا و لا یؤخذ ضامن الدرک اور پکڑا نہیں جائے گا ضامن درک کو ان استحق المبیع اگر مبیع کا استحقاق نکل آیا کوئی اور مستحق نکل ما لم یقض بثمنہ علی بائع جب تک فیصلہ نہ کر دیا جائے اس کے سمن کا اس کے بائع پر جب تک بائع پر سمن کے لوٹانے کا فیصلہ نہ کر دیا جائے اس مجرد الاستحقاق لا ینتفض البیع فی ظاہر الروایة اس لیے کہ محض استحقاق سے وہ اس سے بیع نہیں ٹوٹا کرتی ظاہر روایت کے مطابق بھئی ما لم یقض بثمنہ علی البائع جب تک کہ فیصلہ نہ کر دیا جائے سمن کا کس پر؟ بائع پر ف لم یجب علی الأصیل رد الثمن تو صرف مجرد استحقاق کی وجہ سے واجب نہیں ہوتا اصیل پر سمن کا واپس کرنا یعنی بائع پر سمن کا واپس کرنا واجب جب اس پر رد سمن ابھی تک واجب نہیں ہے تو فلا یجب علی الکفیل تو کفیل پر بھی واجب نہیں صورت مسئلہ سمجھ میں آ گئی سب کو؟
ثمن الٰہ الثنینی کفل کل عن الاخر لم یرجع علی شریک صورت مسئلہ یہ بھئی دو آدمیوں نے مل کر ایک غلام خریدا بھئی دو آدمیوں نے ایک ہزار روپے میں ایک غلام مل کر خریدا بھئی اور تو دیکھیے اب ہر ایک پر کتنا دین آرہا ہے بھئی پانچ پانچ سو آرہا ہے تو ایک پر بھی 500 دوسرے پر بھی 500 تو ایک پر آیا 500 دوسرا ضامن بن گیا بائع کے لیے اس کا کفیل بن گیا کہ یہ 500 ادا کرے گا میں اس بات کا ضامن ہوں دیکھو اور دوسرا پہلے کے لیے ضامن بن گیا کہ اس پر 500 آ رہا ہے یہ 500 آپ کو ادا کرے گا اگر یہ ادا نہ کرے میں ضمانت دیتا ہوں میں دے دوں گا آپ کو بھئی تو دیکھو دونوں پر ملا کر آیا ہزار ایک پر 500 آئے دوسرے پر بھی اور بقیہ 500 کے اندر اس نے کفالت بھئی قبول کی دوسرے کی طرف سے تو ان میں سے ہر ایک پر ہزار آ رہا ہے کیسے؟ 500 آ رہا ہے بطور اصالت کے اور 500 آ رہا ہے بطور کفدوسرے کی طرف سے کفالت دی ہے یا نہیں اس نے؟
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں میں سے ہر ایک پر ہزار ہزار آ رہا ہے کیسے؟ 500 آ رہا ہے بطور اصالت کے اور 500 آ رہا ہے بطور کف دوسرے کی طرف سے کفالت دی ہے یا نہیں اس نے؟
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں میں سے ہر ایک پر ہزار ہزار آرہا ہے لیکن 500 ہے اصالت کا اور 500 کس چیز کا ہے؟ جو اس نے دوسرے ساتھی کی طرف سے کفالت دی تھی کہ یہ بھی ادا کرے گا اپنے 500 اب اس صورت کے اندر ایک نے 100 روپیہ ادا کر دیا تو کیا وہ پہلے پر رجوع کرے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی پہلے پر رجوع نہیں اس لیے کہ اس پر ہزار ہیں لیکن ہزار میں سے 500 کس طریقے پر ہیں؟ اصالت کے طریقے پر اور 500 کس طریقے پر ہیں؟ کفالت کے طریقے پر تو جو یہ ادا کرے اسے اولی کیا ہے کس طریقے پر ہونا چاہیے وہ؟ اصالت کے طریقے پر ادا ہونا اس ادا شدہ رقم کا اصالت کے طور پر ہونا اولی ہے یا کفالت کے طور پر؟ اصالت کے طور پر اولی ہے پھر اس نے 200 ادا کر دیے ابھی بھی رجوع نہیں کر سکتا 300 ادا کر دیے رجوع نہیں یہاں تک کہ اس نے 500 ادا کر دیے بھئی تو 500 ادا کرنے کے بعد اب جو زائد ادا کر رہا ہے وہ بطور کفالت کے ہے اب اس کے اندر رجوع کرے گا معلوم ہوا نصف ادا کرنے سے تک پہلے پر رجوع نہیں کہا ہاں نصف کے بعد اب جو ادا کرتا ہے اب وہ بطور کفالت کے ہے دوسرے کی طرف سے ادا کر رہا ہے تو اس میں اس کی پر رجوع کر سکتا ہے صورت سمجھ میں آئی؟ جبکہ کفالت بھی دوسرے کے کہنے پر دی تھی یہ تو آپ مسئلہ پڑھ ہی چکے ہیں کہ کفالت دوسرے کے کہنے پر دی ہو تو اس پر رجوع کر سکتا ہے ورنہ رجوع نہیں دن ان الٰہ الثنینی دین تھا دو آدمیوں پر کفل کل عن الاخر کفیل بنا ہر ایک ای کل واحد بھئی یہ تنوین عوض ہے مضاف الیہ سے کفیل ہوا ہر ایک عن الاخر دوسرے سے بھئی اس کے کہنے پر لم یرجع علی شریک تو رجوع نہیں کرے گا اپنے شریک پر الا بما ادا زائدا علی النصف مگر اس کے ساتھ جو اس نے ادا کیا ہے نصف سے زائد بھئی صورت اب تفصیل سے بتا رہے ہیں اشترایا کیسے دو پر دین آیا اشترایا عبدا بالف دو آدمیوں نے خریدا یہ غلام ایک ہزار کے بدلے و کفل کل منهما عن صاحبه بامره للبائع اور کفیل بنا دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کا اس کے حکم سے للبائع بائع کے لیے فكل ما اداه احدهما لا يرجع به علی صاحبه پس وہ سارا جو کوئی ایک ان میں سے ادا کرے وہ رجوع نہیں کرے گا اپنے ساتھی پر الا ان یکون زائدا علی النصف مگر یہ کہ وہ زائد ہو نصف پر لان وقوع المؤدا عما عليه اصالة اولی من وقوعه عما عليه كفالة اس لیے کہ وہ مؤدا جو ادا کیا گیا ہے وہ مال جو کیا کیا گیا ہے اس کا واقع ہونا عما عليه اصالتا اس کی طرف سے جو اس پر اصالتا ہے اولی من وقوعه عما عليه کفالتا اس سے کہ وہ واقع ہو اس کی طرف سے جو اس پر کفالت کے طریقے پر ہے تو وہ جو بھی مال ادا کر رہا ہے وہ اصالتا بھی ممکن تھا اور کفالت بھی لیکن اولی کیا ہے کس طریقے پر ہو؟ اصالت کے طریقے پر ہو تو جب تک نصف تک بات نہیں پہنچتی نصف سے اوپر نہیں جاتی رجوع نہیں کر سکتا۔
اچھی طرح صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ و لو کفلا بشیء عن رجل صورت مسئلہ یہ بھئی بھئی آپ نے آپ پر دین ہے ایک ہزار بھئی کتنا دین ہے؟ ایک ہزار آپ کی طرف سے زید کفیل ہوا ایک ہزار کا پھر عمر بھی آپ کی طرف سے کفیل ہوا ایک ہزار کا کتنے کفیل ہو گئے آپ کے؟ دو دو کفیل ہو گئے اور دونوں کتنے کتنے کے کفیل ہیں؟ سارے کے سارے رقم کے ہزار ہزار کے دونوں کفیل ہیں۔
پھر دونوں ایک دوسرے کے بھی کفیل ہو گئے۔
زید پر بطور کفالت کتنا مال آ رہا تھا؟ ہزار کا اس ہزار پر اس کا ساتھی کیا ہوا اس کا کفیل بنا اور عمر پر بھی کفالت کے طور پر کتنا آ رہا تھا؟ ہزار اس ہزار کا زید اس سے کیا ہو گیا؟ تو دونوں ہزار میں کفیل بھی ہیں اور کفیل الکفیل صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب اس صورت کے اندر بھئی دونوں میں سے جو جتنا بھی مال ادا کرے اس کے نصف میں اپنے ساتھی پر رجوع کر سکتا ہے۔
دونوں کیا کر سکتے ہیں؟ دونوں میں سے ایک اگر 100 ادا کرتا ہے تو 50 اپنے دوسرے ساتھی سے لے لے۔
پھر یہ دونوں اس 50 پچاس میں کس پر رجوع کریں گے بھئی؟
اصیل پر پھر کس پر رجوع کریں گے؟ اصیل پر بس تو بس مسئلہ یہ ہے کہ پہلی صورت کے اندر جب تک نصف سے اوپر نہیں جاتی تھی بات وہ پہلے پر رجوع نہیں کیونکہ وہاں پر اصالت اور کفالت میں ٹکراؤ آ رہا تھا اور اولی کیا چیز تھی بھئی؟ اصالت تو لہذا ہم نے کہا کہ جب تک نصف نہ ہو جائے وہ سارا اصالت کے طریقے پر ہے اور جو نصف سے اوپر ہوگا وہ کفالت وہاں رجوع نہیں ہوتا تھا لیکن یہاں پر ان پر جتنا بھی مال آ رہا ہے دونوں پر کس طریقے پر آرہا ہے بھئی؟ کفالت ہی کے طریقے پر آرہا ہے تو لہذا یہاں پر کسی ایک کو بھی ترجیح نہیں دی جائے گی تو جو بھی کوئی ایک ادا کرے گا وہ دونوں کی طرف سے شمار ہوگا جب دونوں کی طرف سے شمار ہوگا تو وہ نصف کیا کر لے اپنے دوسرے کفیل سے جا کر وصول کر لے صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
و لو كفلا اگر دو کفیل بنے بھئی بشیء عن رجل کسی چیز پر کسی آدمی کی طرف سے و كل كفل به عن صاحبه اور پھر ان میں سے ہر ایک کفیل بھی بن گیا اس چیز پر اپنے ساتھی کی طرف سے یعنی کفیل کی طرف سے کیا بن گیا؟ کفیل رجع عليه بنصف ما ادا تو رجوع کرے گا اس پر اس کے نصف کے ساتھ جو وہ ادا کرے و إن قل اگرچہ تھوڑا سا ہی روپیہ بھی ادا کرتا ہے تو 50 پیسے اس سے جا کر ہاں چاہے تو نصف سے کم ہو جتنا بھی قلیل ہو نصف سے کم بھی ہو پھر بھی رجوع کر سکتا ہے مطلب یہ ہے ای علی رجل الف دیکھئے تفصیل سے مسئلہ بتائیں گے ایک آدمی پر ایک ہزار دین تھا فكفل كل واحد من شخصين اخرين عن الأصيل بهذا الألف تو کفیل بنا ہر ایک دو آدمیوں میں دو دوسرے آدمیوں میں سے اصیل کی طرف سے اس ہزار پر بھئی۔
ہر ایک ہزار پر کفیل بنا ہے سمجھ میں آیا الگ الگ کفیل بنے ثم كفل كل واحد من الكفيلين عن صاحبه بامره پھر کفیل بنا دونوں کفیلوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی بھی طرف سے بھی بامره اس کے حکم سے بھہیذا الألف اس ہزار پر فكل ما اداه احدهما و إن قل رجع علی الآخر بنصفه پس وہ سارا جو کوئی ایک ان میں سے ادا کرے اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو وہ رجوع کرے گا دوسرے پر اس کے نصف کے ساتھ بخلاف الصورة الأولی بخلاف کس صورت کے؟ اوپر والی صورت کے بھئی فان الإصالة ترجحت علی الكفالت کہ وہاں اس لیے کہ وہاں پر اصالت ترجیح پا گئی کس پر بھئی؟ راجح ہو گئی کفالت پر اما ههنا فلكل كفالة فلا رجحان جبکہ یہاں پر سارا کا سارا مال کس طریقے پر ہے دونوں پر؟ کفالت ہی کے طریقے پر ہے طریقے پر ہے اصالت کے طریقے پر کسی پر بھی نہیں ہے تو یہاں کوئی رجحان نہیں ہے کسی ایک کو راجح قرار نہیں دیا جا سکتا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو فلا رجحان کسی ایک کا بھی راجح ہونا نہیں ہے یہاں پر و قال في الهداية اور ہدایہ میں بھئی صاحب هدایہ فرماتے ہیں الصحيح کہ صحیح یہ ہے کہ ان صورة المسئلة علی هذا الوجه کہ صورت مسئلہ اس طریقے پر ہے۔ یہ صورت ذکر کرتے ہوئے کیا فرماتے ہیں صاحب هدایہ بھئی؟ بھئی یہ جو سارا مسئلہ میں نے بیان کیا یہ علامہ صدر الشریعہ نے بیان کیا شرح کے اندر فرماتے ہیں صاحب هدایہ نے یہ مسئلہ ذکر کرتے ہوئے کیا فرمایا کہ صحیح یہ ہے کہ صورت مسئلہ اس طریقے پر ہے۔
کہتے ہیں بھئی یہ صحیح کی قید انہوں نے کیوں لگائی بھئی کہ صحیح یہ ہے معلوم ہوا یہاں غیر صحیح صورت بھی پھر بنتی ہے جس جہاں اس طرح نہیں ہوگا مسئلہ وہ صورت یہ ہے بھئی وہ بھی سمجھ لو صاحب علامہ صدر الشریعہ بھی آگے ذکر کریں گے۔
بھئی اس میں تھا کہ دونوں الگ الگ ہزار کے کفیل بنے تھے اصیل کی طرف سے دوسری صورت یہ کہ دونوں اکٹھے کفیل بنے ہزار کے جب دونوں اکٹھے کفیل بنے ہزار کے تو ایک بھی 500 کا ضامن ہوا دوسرا بھی 500 کا جبکہ اس صورت میں جو صحیح صورت میں کیا تھی بھئی؟ یہ بھی ایک نے بھی ہزار پورے کے بدلے کفیل بنا اور دوسرا بھی پورے کے بدلے اور یہاں پر کفالت اکٹھی کی دونوں نے سمجھ میں آیا تو جب اکٹھی کی تو ایک پر بھی کتنا آیا؟ بطور کفالت کے 500 دوسرے پر بھی سے بھی کتنے کا مطالبہ ہوگا؟ 500 کا مطالبہ ہوگا پھر ان میں سے ہر ایک ایک دوسرے کا بھی کفیل بن گیا۔
تو اصیل سے کفالت کی وجہ سے بھئی اس ایک پہلے کفیل پر کتنا تھا بھئی؟ 500 اتا تھا پھر اس نے اپنے ساتھی کی بھی کفالت دے دی تو اس کی وجہ سے اس پر کتنا آ گیا؟ 500 اب اس پر 500 اس پر ہزار ہے بھئی کتنا ہے؟ ہزار لیکن کس طریقے پر ہے؟ 500 ہے جو کفالت کس کی دی تھی؟ اصیل کی اور 500 کی کفالت جو کس کی دی کفیل کی طرف سے دی۔ اسی طرح دوسرے پر بھی 500 کی کفالت اس نے کس کی طرف سے دی؟ اسی اور 500 کی کفالت کس کی طرف سے دی؟ تو اب دونوں پر ہزار ہزار ہے بطور کفالت کے لیکن ایک کفالت ہے بالواسطہ اور ایک کفالت ہے بلاواسطہ بھئی تو سمجھ میں آیا؟ تو اس صورت کے اندر تو یہاں پر بھئی جب تک نصف سے زائد ادا نہ کر دے اپنے ساتھی پر رجوع نہیں کر سکتا اس صورت میں اس صورت میں کیا ہے؟ جب تک نصف سے زائد ادا نہ کر دے اپنے ساتھی پر رجوع نہیں کر سکتا بھئی نہیں کر سکتا۔
سمجھ میں آیا؟ وجہ ابھی سن لو اللہ اگرچہ علامہ صدر الشریعہ اعتراض کریں گے اور کہیں گے کہ بھئی اشکال ہوتا ہے کہ اس اس میں اور یہ جو علامہ صاحب ہدایہ نے صحیح صورت کہا دونوں میں تو کوئی فرق ہی نہیں ہے کیونکہ پہلی صورت کے اندر بھی بھئی دونوں پر کفالتان کتنا کتنا آرہا تھا؟ ہزار جبکہ پورے پورے ہزار کی کفیل بنے تھے تو بطور کفالت کے دونوں پر کتنا کتنا آرہا تھا؟ ہزار ہی آرہا رہا اور اب بھی دونوں پر بطور کفالت کے کتنا کتنا آرہا ہے؟ ہزار اور جو ہزار آرہا ہے وہ کفالت کے طریقے پر ہے یا اصالت کے طریقے پر ہے؟ سارا کفالت کے طریقے پر ہے اصالت کے طریقے پر یہاں نہیں ہے بھئی صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
کہ پھر مشتبہ ہو گئی بھئی صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں دونوں صورتوں میں کفالت کے طریقے پر ہزار ہزار آ رہا ہے ہاں فرق یہ ہے پہلی صورت میں براہ راست کفالت کس کی طرف سے تھی؟ اصیل کی طرف سے وہ سارا ہزار ادھر سے آ رہا تھا اب فرق یہ ہے کہ 500 کی کفالت کس کی طرف سے ہے؟ اس اور 500 کس کی طرف سے ہے؟ کفیل کی طرف سے ہے تو ہے تو کفالت کے طور پر ہی جب کفالت کے طور پر ہے تو دونوں دین ا رہے ہیں کفالت کے طریقے پر تو لہذا یہاں کسی ایک کو راجح نہیں قرار دیا جا سکتا جب راجح نہیں قرار دیا جا سکتا تو جتنا بھی ادا کرے اس کو رجوع کرنا چاہیے دوسرے پر جیسے پورے ہزار کے بدلے کفیل ہوا تھا تو جو بھی ادا کرتا تھا دوسرے کفیل پر کیا کرتا تھا؟ نصف کے ساتھ رجوع کرتا تھا تو یہاں بھی اگرچہ ہزار ایا لیکن کس طریقے پر ایا کفالت کے طریقے پر اور کفالت کے طریقے پر ہے تو یہاں پر بھی کیا ہونا چاہیے؟ رجوع ہونا چاہیے
حالانکہ صاحب ہدایہ کی عبارت سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ یہاں پر رجوع جب تک نصف نہ ہو جائے رجوع نہیں کر حالانکہ یہاں رجحان کوئی بھی نہیں کیونکہ 500 جو ایا اصیل کی طرف سے وہ بھی کون سا ہے کفالت کا کفیل کی طرف سے بھی 500 جو ا رہا ہے وہ بھی کون سا ہے کفالت کا ہے تو رجح یہاں بھی نہیں دے سکتے کسی ایک کو جب ترجیح نہیں دے سکتے تو جتنا بھی ادا کرے گا وہ بطور کفالت کے ادا کر رہا ہے اور جب بطور کفالت کے ادا کر رہا ہے تو نصف میں کیا کر لے دوسرے ساتھی پر رجوع کر لے صورت سمجھ میں آئی یہ اشکال ذکر کریں گے تو جواب پھر بھئی محشی حضرات علماء دیتے ہیں کہ نہیں بھئی فرق ہے یہاں اور اس صورت میں اس صورت میں پہلی صورت کے اندر جب دونوں ہزار کے کفیل بنے تھے تو وہاں پر ہزار کے کفالت تھی بلاواسطہ ہزار کیا تھی کفالت؟ بلاواسطہ اور یہاں پر ایک 500 جو آرہا ہے بطور کفالت کے آرہا ہے اور 500 کس کی طرف سے آرہا ہے؟ کفیل کی طرف سے تو وہ تو گویا اصیل ہی کی کفالت دی نا جب اپنے ساتھی کی کفالت دی تو گویا ضمانت دی تو گویا کس کی ضمانت دی؟ کیونکہ اس پر بھی وہی اصیل کا دین آ رہا تھا تو ایک کفالت ہوئی بغیر واسطے کے اور ایک کفالت ہوئی واسطے کے ساتھ اور کون سی اولی ہے بغیر واسطے کی یا واسطے کے ساتھ؟
بغیر واسطے کی کفالت اولی ہے جب بغیر واسطے کے اولی ہے تو جو ادا وہ کتنے میں ہے؟ 500 میں تو جو پہلا نصف ادا نصف تک جو ادا کرے گا وہ کس کی طرف سے شمار ہوگا؟
اصیل کی طرف سے جو اس نے کفالت دی تھی یعنی کفالت بلاواسطہ کے اور بقیہ اس سے جو زائد ہوگا وہ کفالت بل واسطے کے طور پر شمار ہوگا اس میں پھر وہ رجوع کر سکتا ہے صورت سمجھ میں آئی؟
و قال في الهداية اور هدایہ میں فرماتے ہیں صاحب ہدایہ الصحيح کہ صحیح یہ ہے کہ ان صورة المسئلة علی هذا الوجه کہ صورت مسئلہ اس طریقے پر ہے۔ یہ صورت ذکر کرتے ہوئے کیا فرماتے ہیں صاحب ہدایہ بھئی؟ بھئی یہ جو سارا مسئلہ میں نے بیان کیا یہ علامہ صدر الشریعہ نے بیان کیا شرح کے اندر فرماتے ہیں صاحب ہدایہ نے یہ مسئلہ ذکر کرتے ہوئے کیا فرمایا کہ صحیح یہ ہے کہ صورت مسئلہ اس طریقے پر ہے۔
کہتے ہیں بھئی یہ صحیح کی قید انہوں نے کیوں لگائی بھئی کہ صحیح یہ ہے معلوم ہوا یہاں غیر صحیح صورت بھی پھر بنتی ہے جس جہاں اس طرح نہیں ہوگا مسئلہ وہ صورت یہ ہے بھئی وہ بھی سمجھ لو صاحب علامہ صدر الشریعہ بھی آگے ذکر کریں گے۔
بھئی اس میں تھا کہ دونوں الگ الگ ہزار کے کفیل بنے تھے اصیل کی طرف سے دوسری صورت یہ کہ دونوں اکٹھے کفیل بنے ہزار کے جب دونوں اکٹھے کفیل بنے ہزار کے تو ایک بھی 500 کا ضامن ہوا دوسرا بھی 500 کا تو اس میں کیا مسئلہ بتلایا تھا؟
کہ جتنے بھی ادا کرے گا نصف میں اپنے ساتھی پر رجوع کرے گا اپنے شریک پر۔
اگر طالب نے ان دونوں میں سے ایک کو بری کر دیا تو کہتے ہیں بھئی دونوں ہزار ہزار کے ضامن تھے ایک کو بری بھی کر دیا تو دوسرے کی کفالت کتنے کی ہے؟ ہزار کی ہے تو لہذا اس کو کل کے ساتھ پکڑا جائے گا (یعنی ہزار ہی کا مطالبہ اس سے کیا جائے گا)۔
ان اذا طالب احدهما اگر بری کر دیا طالب نے دونوں میں سے ایک کو تو پکڑا جائے گا اخذ الاخر بکلہ تو دوسرا پکڑا جائے گا اس کے کل کے ساتھ لہذا وضع المسئلة اس لیے کہ وضع مسئلہ یہ ہے فیما اس صورت میں اذا کفل كل منهما باللف جب کہ دونوں میں سے ہر ایک کفیل بنا تھا ہزار کے ثم كفل كل منهما باللف ان صاحبہ ثم کفیل بنا تھا ان میں سے ہر ایک ایک ہزار پر عن صاحبہ اپنے ساتھی کی طرف سے فإذا ابرا احدهما پس جب بری کر دیا ان میں سے ایک کو بقیت الکفالة الاخری تو باقی رہی دوسری کفالت بكل الألف اور وہ کتنے پر تھی بھئی؟ پورے ہزار پر تھی۔
و في الصورة التي احترز بالصحۃ اور وہ صورت جس سے احتراز کیا صحت کے لفظ کے ذریعے کس نے صاحب ہدایہ نے جس میں دونوں مل کر ہزار کے کفیل بنے تھے تو وہاں دین تقسیم ہوا تھا تو ہر ایک پر کتنا ایا تھا بھئی؟ 500 تو لہذا جب وہاں پر اگر ایک کو بری کر دے گا طالب تو دوسرے پر کتنا رہ جائے گا؟ 500 رہ جائے گا کتنا رہ جائے گا؟ 500 جی بخلاف اس صورت کے جس سے احتراز کیا صحت کے لفظ کے ذریعے اذا ابرا احدهما جب اس میں طالب نے بری کر دیے کسی ایک کو یبقی الکفالة الاخری بخمس میة تو دوسری کفالت باقی رہے گی کتنے پر؟ 500 پر چلیے بس واللہ اعلم بحقیقت الحال