فطاب للبائع ربح ثمنه بعد التقابض لا للمشتري ربح مبيعه فيتصدق به.
أچھا بھئی یہ بڑا مشکل مسئلہ ذکر کر رہے ہیں دلیل جو اس کی ذکر کر رہے ہیں توجہ سے بیٹھنا بھئی۔
سب سے پہلے صورت مسئلہ سمجھ لو بھئی۔
دو آدمیوں نے آپس میں کسی چیز کی بیع کی۔
مثلاً ایک نے دوسرے کو باندی بیچی لیکن شرط لگا دی کہ یہ مثلاً ایک ماہ تک میری خدمت کرے گی بائع نے یہ شرط لگا دی تو بیع کونسی بن گئی؟ بیع فاسد ہو گئی بھئی۔
اب اس بیع فاسد میں عوضین پر دونوں نے قبضہ کر لیا مشتری نے باندی پر قبضہ کر لیا اور بائع نے ثمن پر کیا کر لیا؟ قبضہ کر لیا۔
اس کے بعد بھئی اس مشتری نے جس نے بائع مشتری جس نے باندی خریدی ہے اس نے باندی کو آگے بیچا اور نفع کمایا۔
باندی کو آگے بیچا اور نفع کمایا بھئی کہتے ہیں یہ نفع اس کے لیے حلال نہیں بلکہ اس کو اس کے لیے ضروری ہے واجب ہے اس پر کہ اس کو صدقہ کر دے بھئی۔
اس کے جو نفع کمایا کیا کر دے اسے؟ صدقہ کر دے صورت سمجھ میں آئی؟
جو تو مشتری جو مبیع بیع فاسد کے ذریعے جو مبیعہ خریدا تھا اس مبیعے کے ذریعے جو نفع کمائے وہ مشتری کے لیے حلال نہیں ہوتا اس پر ضروری ہے اس کو صدقہ کر دے۔
ادھر بائع کو جو ثمن ملے تھے بھئی۔
باندی کی جو قیمت اس نے وصول کی تھی بیع فاسد کے اندر اس ثمن کے ذریعے اس نے کاروبار کیا اور اس میں اس کو نفع حاصل ہوا بھئی۔
تو کہتے ہیں یہ جو ثمن سے نفع اس نے کمایا بائع نے یہ اس کے لیے حلال ہے بھئی۔
یہ کیا ہے اس کے لیے؟
صورت مسئلہ سمجھ میں آئی بھئی؟
بیع فاسد ہوئی دو آدمیوں کے درمیان مشتری نے مبیعے پر قبضہ کر لیا اور بائع نے ثمن پر قبضہ کر لیا لیکن یہ بیع ہے فاسد اس کا واپس کرنا دونوں کا واجب ہے ان پر اور اس پھر آگے مشتری مبیعے کے ذریعے نفع کما لیتا ہے اور بائع ثمن کے ذریعے نفع کما لیتا ہے تو بائع نے جو ثمن کے ذریعے نفع کمایا وہ تو اس کے لیے حلال ہے جائز ہے بھئی لیکن مشتری نے جو آگے اس مبیعے کے ذریعے نفع کمایا وہ اس کے لیے جائز نہیں ہے بھئی۔
دیکھیے بھئی۔
فطاب للبائع ربح ثمنه۔
پس حلال ہے بائع کے لیے، طابہ پسندیدہ ہونا، پاکیزہ ہونا یعنی حلال ہے۔
حلال ہے بائع کے لیے ربح ثمنہ اس کے ثمن کا نفع۔
بعد التقابض۔
کس کے بعد؟ التقابض یا تفاعل باب جانبین یعنی دونوں نے کیا کر لیا تھا؟ عوضین پر قبضہ کر لیا تھا مشتری نے بھی اور بائع نے بھی۔
لا للمشتري ربح مبيعه۔
لیکن مشتری کے لیے اپنے مبیعے کا نفع وہ حلال اور پاکیزہ نہیں ہے بھئی بلکہ اس کے لیے حرام ہے۔
فيتصدق به۔
لہذا اس کو کیا کرے گا؟ صدقہ کرے گا۔
صورت المسألة صورت مسئلہ یہ ہے بھئی۔
باع جاریة بیعا فاسدا۔
اس شخص نے بیچی باندی بیع فاسد کے ساتھ۔
بالدراهم أو بالدنانير۔
کس کے بدلے میں؟ دراہم اور دنانیر۔
دراہم یا دنانیر دیکھا دراہم اور دنانیر ہونا ضروری ہے بھئی اگر بائع کو اس نے بدلے میں کیا دی بھئی؟ کوئی سامان دیا بھئی کیا دیا؟ سامان۔
تو دراہم اور دنانیر چونکہ متعین نہیں ہوتے اس لیے ان کے ذریعے جو نفع کمائے گا بائع وہ اس کے لیے حلال لیکن اگر اس نے دراہم اور دنانیر کے بجائے کیا دیے تھے؟ کوئی سامان دیا تھا تو اس سامان کے ذریعے بائع جو کمائے گا وہ بھی اس کے لیے پاکیزہ نہیں ہے بھئی صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
پاکیزہ اس لیے دراہم اور دنانیر کی قید لگائی بھئی یہ ضروری ہے۔
دراہم یا دنانیر کے بدلے و تقابضا۔
اور دونوں نے قبضہ بھی کر لیا عوضین پر فباع المشتري الجارية وربح۔
اور نفع کمایا لا یطيب له الربح۔
تو اس کے لیے یہ نفع پاکیزہ نہیں ہے حلال نہیں ہے۔
وإن ربح البائع في الثمن۔
اور اگر بائع نے نفع کمایا کس کے اندر؟ ثمن کے اندر یطیب له الربح۔
تو اس کے لیے نفع پاکیزہ ہے حلال ہے لیکن اگر وہ ثمن بھی کیا تھا سامان میں نے بتایا تو پھر وہ اس کے لیے بھی پاکیزہ نہیں ہے بھئی۔
صورت مسئلہ سمجھ میں آگئی بھئی؟
اب مشکل مقام ہے دلیل اس کی ذکر کرتے ہیں اس سے پہلے دو تین باتیں سمجھ لیں بھئی۔
وہ آگے بھی آئیں گی لیکن ترتیب سے سارا سمجھ لیں دلیل کا سمجھنا آسان ہو جائے گا۔
یاد رکھو بیع کے اندر مبیعہ متعین ہوتا ہے اور ثمن متعین نہیں ہوتے درہم اور دنانیر متعین نہیں ہوتے۔
یہ ضابطہ پہلے پڑھ چکے ہیں بھئی۔
کہ مبیعہ کیا ہوتا ہے بیع میں؟
متعین۔
درہم اور دنانیر متعین نہیں۔
مثلاً آپ نے اپنے کسی ساتھی سے کتاب خریدی سامنے نوٹ رکھے ہوئے ہیں آپ نے کہا ان نوٹوں کے بدلے میں نے آپ سے یہ کتاب خریدی اس نے کہا میں نے قبول کیا بھئی اس عقد کو بھئی۔
تو اب بیع منعقد ہو گئی لیکن اب یہی نوٹ دینا آپ کے ذمے ضروری نہیں آپ اس جیسے اور نوٹ بھی دے سکتے ہیں۔
تو دیکھو ثمن جو ہے یہاں مشار إليه ہے لیکن پھر بھی متعین نہیں ہو رہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
معلوم ہوا مبیعہ متعین ہوتا ہے اور ثمن متعین نہیں ہوتے۔
یہ پہلی بات۔
دوسری بات بھئی۔
کہ حرمت کے باب میں شبہ بھی ملحق بالحقیقت ہوتا ہے۔
یہ آگے آ جائے گا بھئی شرع کے اندر باقاعدہ وہ خود ذکر کریں گے۔
جاؤ حرمت کا مقام ہو والا نہ جیسے حرام سے بچنے کا حکم ہے وہاں شبہ حرام سے بھی بچنے کا حکم ہے۔
تو حرام تو ہے ہی حرام جس میں حرمت کا شبہ بھی آ جائے گویا کہ اس کے اندر حقیقتاً حرمت آ گئی وہ بھی کیا ہو جائے گا؟ حرام ہو جائے گا۔
صورت سمجھ میں آئی؟
کہ حرمت کے باب میں شبہ بھی کیا ہوتا ہے؟ ملحق بال ملحق بالحقیت ہوتا ہے یعنی شبہ بھی اسی شبہ حرمت بھی اسی طرح ہے جیسے گویا حقیقتاً کیا ہے؟ حرمت ہے۔
کیا ضابطہ ہوا؟
کہ حرمت کے باب میں شبہ بھی کیا ہے؟ ملحق بالحقیت ہے شبہ حرمت بھی اسی طرح ہے گویا حقیقت حرمت ہے۔
دوسری بات یہ ہوئی۔
تیسری بات یہ یاد رکھیں کہ عدم ملک کی صورت میں جو نفع حاصل ہوگا اس میں حقیقتاً خبس ہوتا ہے۔
تیسری کیا بات ذکر ہوئی بھئی؟
عدم ملک کی صورت میں جو نفع حاصل ہوگا اس میں حقیقتاً خبس ہوگا بھئی۔
مثلاً بھئی ایک شخص نے دوسرے کی کوئی چیز چھینی بھئی اس پر غصب کر لی قبضہ کر لیا اس پر تو یہ اس چیز کا مالک ہے؟
مالک نہیں۔
تو یہ عدم ملک ہے اب اس چیز کو وہ آگے چھینی ہوئی چیز کو آگے بیچتا ہے اور نفع کماتا ہے۔
تو چونکہ اس چیز میں اس کی ملک ہی نہیں تھی لہذا اس کے لیے اب جو نفع وہ کمائے گا اس میں حقیقتاً خبس ہوگا ناپاکی ہوگی بھئی اس کے لیے حلال نہیں ہوگا بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
میں نے کہا تین باتیں یاد رکھیں بھئی۔
پہلی بات کیا ذکر کی؟
کہ بیع کے اندر مبیعہ متعین ہوتا ہے لیکن ثمن متعین نہیں ہوتے۔
دوسری بات یہ ذکر کی کہ حرمت کے باب میں شبہ بھی کیا ہوتا ہے؟ ملحق بالحقیت ہوتا ہے۔
تیسری بات یہ ذکر کی میں نے کہ عدم ملک کی صورت میں جو نفع کمائے گا اس میں کیا ہوتا ہے؟ حقیقتاً خبس عدم ملک کی صورت ذکر کر دی ایک آدمی نے دوسرے کی کوئی چیز چھینی غصب کی تو یہ اب ملک نہیں ہے بلکہ عدم ملک اور اس عدم ملک کے اندر وہ نفع کماتا ہے اس کو آگے بیچ دیتا ہے تو اس نفع کے اندر حقیقتاً خبس ہے کیونکہ اس کی ملک تھی ہی نہیں تو لہذا اس میں حقیقتاً کیا آ گئی حرمت کی ناپاکی آ گئی بھئی خبس کا کیا معنی ناپاکی بھئی حرمت کی۔
تو ناپاکی آ گئی تو لہذا اس کے لیے یہ جائز نہیں۔
یہ تین باتیں سمجھ لی آپ نے اب دیکھیے بھئی کتاب میں دیکھیے۔
أچھا۔
بھئی اوپر مسئلہ یہ ذکر کیا کہ بھئی مشتری کے لیے اس باندی سے جو اس نے نفع کمایا وہ حلال نہیں بائع نے اس ثمن کے ذریعے جو نفع کمایا وہ اس کے لیے حلال یہ فرق کیوں ہے کہتے ہیں والفرق فرق یہ وجہ یہ کہ أن المبیع متعین فی العقد کہ مبیعہ کیا ہوتا ہے عقد میں؟ متعین ہوتا ہے تو اس نے جب باندی بیچی تو باندی تھی مبیعہ۔
مشتری نے باندی خریدی تھی بھئی اور وہ باندی کیا تھی؟ مبیعہ وہ متعین ہے فیکون فیه خبث تو اس کے اندر کیا ہوا اس کی ذات میں ہی خبث آ گیا ناپاکی آ گئی بھئی حرمت کی بسبب فساد الملکی کس وجہ سے؟ فساد ملک بھئی بائع کس قسم کس قسم کی بیع کے ذریعے اس نے باندی خریدی تھی؟ بیع فاسد جب بیع فاسد کے ذریعے خریدی ہے تو جو ملک آئی وہ بھی فاسد ہوئی۔ ملک کامل نہیں۔
کس بیع فاسد کے ذریعے جو مالی مملوک ہوئی چیز وہ بھی کس قسم کی ہے؟ ملک فاسد آئی اس کے اندر کیونکہ اس کا واجب ہے اس کا رد کرنا۔
بھئی یہ مالک پوری طرح بن گیا یا شرعا اس کے ذمے واجب ہے کہ اس چیز کو واپس کرے؟ واجب تو جو چیز واجب الرد ہو معلوم ہو اس کے اندر ملک کامل نہیں ہے بلکہ ملک فاسد ہے۔ ملک فاسد ہے۔
تو اس مبیعے کی عین میں اس باندی کی عین میں ہی خبث آ گیا تھا بسبب فساد الملکی فساد ملک کی وجہ سے کیونکہ ملک کیوں فاسد ہے میں نے کیا وجہ ذکر کی کیونکہ اس پر واپس کرنا ضروری ہے جب واپس کرنا ضروری ہے واجب ہے تو معلوم ہوا ملک فاسد ہے۔
و في فساد الملک شبھۃ عدم الملک۔
اور فساد ملک میں شبہ ہے کس کا؟ عدم ملک کا بھئی۔
किस चीज़ में؟
فساد ملک میں شبہ ہے کس چیز کا بھئی؟ عدم ملک کا بھئی اس کو واپس کرنا ضروری ہے یا ضروری نہیں بھئی؟
واپس کرنا ضروری ہے تو ابھی یہ ختم کر دیں گے اور وہ چیز واپس کر دیں گے تو عدم ملک کیا آ کے آیا گویا کلم ہے یہ ملک ہے تو لیکن یہ ملک بھی گویا کلم ہے کیونکہ واپس کرنا ضروری ہے بھئی ختم کریں۔
تو فساد ملک میں کیا آیا مولانا شبہ عدم ملک۔
اب یہاں پر وہ ضابطہ جوڑو وہ میں نے ذکر کیا تھا۔
تیسرا ضابطہ کیا ذکر کیا تھا؟
عدم ملک کی صورت میں جو نفع آتا ہے اس میں کیا ہوتا ہے؟ حقیقت خبث۔
تو یہاں پر بھی اس باندی کے اندر شبہ عدم ملک آیا اور عدم ملک ہوتا تو حقیقتاً خبث آتا لیکن یہاں عدم ملک آ رہا ہے یا شبہ عدم ملک آ رہا ہے؟
تو یہاں حقیقتاً خبث آئے گا یا شبہ خبث آئے گا؟
شبہ خبث آ جائے گا۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو فساد ملک میں شبہ عدم ملک کا اور عدم ملک میں آتا تھا خبث تو شبہ عدم ملک میں کیا آئے گا؟ شبہ خبث۔
تو اس کے اندر شبہ خبث آیا اس کے نفع کے اندر بھئی کیا آیا؟ شبہ خبث آ گیا۔
یا یوں کہو مولانا اس باندی کے اندر کیا آگیا شبہ خبث آ گیا کیونکہ بالکل یہ تو نہیں کہ وہ مالک ہی نہیں ہے مالک تو وہ ہے لیکن کس قسم کا مالک ہے بھئی؟ کس قسم کی ملک ہے اس کی؟ ملک فاسد ہے تو خبث حقیقتاً نہیں آیا بلکہ شبہ یوں کہو شبہ خبث آیا اور پھر اس کے ذریعے جو نفع کمائے گا اس میں بھی کیا آئے گا؟ شبہ خبث آئے گا اور حرمت کے باب میں شبہ بھی کیا ہوتا ہے ملحق بالحقیقت گویا حقیقتاً کیا آ گیا حرمت آ گئی تو جب حقیقتاً حرمت آ گئی تو اس کے لیے یہ نفع پاکیزہ نہیں حرام ہے بھئی اس کو استعمال نہیں کر سکتا تو کہتے ہیں والشبهۃ ملحقۃ بالحقیقۃ فی الحرمۃ۔
اور شبہ ملحق بالحقیقت ہوتا ہے حرمت کے باب میں (یعنی حرمت کا شبہ بھی آ جائے تو گویا کہ حقیقتاً حرمت آ گئی)۔
بھئی دلیل کیا ہے اس بات کی؟ کیوں شبہ ملحق بالحقیقت ہوتا ہے حرمت کے باب میں؟ حدیث ذکر کر رہے ہیں فإن النبی علیه السلام نھى عن الربا والریبت۔
اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ربا سود سے بھی و الریبت اور اس کے شک سے بھی۔
ریو کسے کہتے ہیں شک؟
سود اور اس کے اس کے شبہے سے بھی تو جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سود سے منع فرمایا ہے شبہ سود سے بھی۔
معلوم ہوا شبہ بھی حرمت کے باب میں کیا ہوتا ہے؟ ملحق بالحقیقت ہوتا ہے۔
تو یہ تھے اس چیز کے بارے میں بحث چل رہی تھی جو متعین ہو جاتی ہے عقد کے اندر اور وہ کیا تھا؟ مبیعہ۔
تو جب بائع نے وہ مبیعہ خریدا ہے بیع فاسد کے ساتھ بھئی ادھر توجہ کرو بھئی۔
بائع نے جب اس مبیعے کو خرید مشتری نے جب اس مبیعے کو کس طرح خریدا تھا؟
اس باندی کو اس نے بیع فاسد کے ساتھ خریدا تھا تو باندی ہوئی متعین تو اس باندی کے اندر کیا آ گیا مولانا شبہ خبث آ گیا کیا آ گیا؟ شبہ خبث آ گیا اور آگے آگے جب وہ نفع کما رہا ہے جو عقد کر رہا ہے اس عقد کا تعلق بعینہ اسی باندی کی ذات سے ہوگا۔
किस से होगा؟
کیونکہ مبیعہ کیا ہوتا ہے بیع کے اندر؟ متعین۔
تو گویا اسی باندی کے ذریعے وہ نفع کما رہا ہے اور اسی باندی کے اندر تو شبہ خبث تھا تو اس کے ذریعے جو نفع آئے گا اس میں بھی کیا ہوگا؟ شبہ خبث ہوگا اور شبہ ملحق بالحقیقت ہوتا ہے حرمت کے باب میں تو گویا اس میں حقیقتاً حرمت آ گئی تو اس کے لیے یہ نفع پاکیزہ نہیں۔ حرام ہے بھئی اس کو استعمال نہیں کر سکتا۔
و أما الدراهم والدنانیر فغیر متعینۃ۔
باقی دراہم اور دنانیر جو ہیں وہ غیر متعین ہوتے ہیں عقد کے اندر و لو كانت متعینۃ اگر وہ متعین ہوتے لکان فیه شبھۃ الخبسی۔
تو پھر اس عقد کے اندر کیا ہوتا؟ خبث کا یا اس نفع کے اندر خبث کا شبہ ہوتا۔
بھئی جو چیز متعین تھی اس میں کیا آ رہا تھا؟
شبہ خبث تو یہ بھی اگر متعین ہوتے تو ان میں بھی کیا آ جاتا؟ شبہ خبث۔
بسبب الفسادی ائی بسبب فساد الملکی۔
فساد ملک کی وجہ سے فعند عدم التعیینی۔
لیکن ان میں تو کیا ہے بھئی؟ عدم یہ تو متعین نہیں ہوتے۔
فبس عدم التعیین کے وقت یکون فی تعلق العقد بھا شبہۃ۔
یہ عقد کا ان کے ساتھ تعلق ہونے میں شبہ آ گیا۔
فیکون فیھا شبھۃ الشبہ۔
تو ان میں شبہ شبہ ہوا بھئی۔
किस तरह؟
دیکھو بھئی مشکل مقام ہے توجہ سے سمجھو۔
میں نے کیا بتایا تھا بھئی؟ باندی جب اس نے خریدی ہے بیع فاسد کے ساتھ تو اس باندی کی ذات میں ہی کیا آ گیا مولانا شبہ خبث آ گیا۔
تو اب آگے جب بیچے گا اس تو اگلا عقد بعینہ اسی باندی سے متعلق ہوگا۔
اگلا عقد کیا ہوگا؟ اسی باندی سے متعلق ہوگا۔
اسی باندی سے متعلق ہوا بھئی۔
أچھا۔
جبکہ درہم اور یہ تو تھی بات متعین کے اندر بھئی۔
اور جو درہم اور دنانیر ہیں وہ غیر متعین ہوتے ہیں عقد میں۔
مثلاً اس بائع نے دراہم اور دنانیر لے لیے بیع فاسد باندی بیع فاسد کے ساتھ بیچی اور دراہم اور دنانیر پر کیا کر لیا؟ قبضہ کر لیا۔
اب انہی دراہم کے ساتھ وہ نفع کما رہا ہے لیکن دراہم اور دنانیر تو متعین نہیں ہوتے۔
تو گویا کہ یہ کسی انہی دراہم اور دنانیر سے نفع نہیں کما رہا بلکہ کسی اور کے ذریعے کما رہا ہے۔
کما تو انہی کے ذریعے رہا ہے لیکن یہ متعین ہوتے نہیں تو گویا کہ انہی کے ذریعے نہیں کما رہا بلکہ کسی اور اور دراہم اور دنانیر کے ذریعے کیا کر رہا ہے؟ نفع کما رہا ہے۔
تو ان دراہم اور دنانیر کے ساتھ نفع کیسے کمائے گا ان کو آگے بیچے گا یا نہیں بیچے گا بھئی؟
بیچے۔
بیع وغیرہ کرے گا ان کے ساتھ۔
تو لہذا جو اگلا عقد ہوا یا یہ یہ عقد بھی یوں سمجھیں اس کا تعلق انہی درہ- درا- کیا ہے؟
انہی دراہم اور دنانیر کے ساتھ گویا ہوا ہی نہیں عقد کا تعلق آ ہی نہیں۔
اگر انہی کے ساتھ عقد کا تعلق ہوتا تو ان میں شبہ خبث آتا۔
کیا آتا؟ شبہ خبث۔
بھئی وہ باندی جس کا حقیقتاً عقد کے ساتھ تعلق تھا اس میں پیچھے گزرا کیا آ رہا تھا؟
شبہ خبث۔
تو اگر دراہم اور دنانیر کا تعلق بھی بعینہ اسی عقد سے ہم کر لیں تو پھر اس میں بھی کیا آ جائے گا؟
شبہ خبث۔
لیکن دراہم اور دنانیر کا تعلق تو عقد یہ تو متعین ہوتے نہیں تو گویا عقد ان کی عین پر نہیں ہوا۔
ان کی عین پر نہیں۔
نہیں ہوا۔ لیکن ادائیگی تو انہی کے ساتھ ہو رہی ہے۔
ادائیگی انہی کے ساتھ ہو رہی ہے یا نہیں؟
ہو رہی ہے۔
تو عقد کا ان کے ساتھ تعلق میں شبہ آ گیا۔
کیا آ گیا؟ شبہ آ گیا۔
بھئی بائع نے کیا کیے تھے؟ دراہم وصول کیے تھے یا نہیں کیے تھے بھئی؟
کیے۔
اب آگے وہ انہی دراہم کے ذریعے نفع کما رہا ہے۔
تو اگلے عقد جو ہے اگلہ عقد اس میں وہ ہی دراہم استعمال کر رہا ہے لیکن دراہم تو متعین نہیں۔
تو اگلے عقد کا گویا کہ تعلق ان دراہم اور دنانیر سے نہیں ہے بھئی وہ کوئی اور دراہم اور دنانیر استعمال کر رہا ہے۔
استعمال حقیقت میں وہی کر رہا ہے لیکن گویا کہ کیا کر رہا ہے؟ کوئی اور استعمال کر رہا ہے۔
سمجھ میں؟ اور جب کوئی اور استعمال کرے گا تو پھر اس کے نفع میں خبث آئے گا؟
نفع میں خبث نہیں آئے گا۔
تو اگر کوئی اور استعمال کرتا تو خبث نہ آتا لیکن یہ استعمال تو بعینہ وہی کر رہا ہے۔
تو خبث تو نہیں آیا لیکن خبث کا شبہ آ گیا یا نہیں آیا بھئی؟
شبہ تو آ گیا بھئی اگرچہ متعین نہیں ہوتے لیکن یہ آگے نفع تو بعینہ انہی کی ذات کے ذریعے حاصل کر رہا ہے تو خبث تو نہیں آیا لیکن شبہ تو آ گیا اور پہلے کیا جو متعین تھے ان کے اندر کیا آ رہا تھا؟ شبہ خبث۔
تو اس کے اندر ایک اور شبہ آ گیا کہ پتہ نہیں عقد کا ان سے تعلق ہے یا عقد کا ان سے تعلق نہیں۔
تو وہاں تھا شبہ خبث کا شبہ تو یہاں کیا آ جائے گا؟
خبث کے شبے کا شبہ ہو جائے گا۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
جو چیز دوبارہ سنو جو چیز متعین ہوتی تھی اس میں کیا آتا تھا؟ شبہ خبث۔
تو جو چیز متعین نہیں ہوتی ان میں شبہ خبث نہیں آیا بلکہ شبہ خبث کا شبہ آ گیا۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو ف عند عدم التعیین۔
پس عدم تعیّن کے وقت میں یکون فی تعلق العقد بھا شبہۃ۔
ان کا عقد کے ساتھ ان کے تعلق میں کیا آیا؟ شبہ پتہ نہیں انھی پر عقد تو واقع تو انھی پر ہوا تو شبہ تو آ گیا اگرچہ یہ متعین نہیں ہوتے فیکون فیھا شبہۃ الشبہ۔
تو دراہم اور دنانیر میں کیا آیا بھئی؟
شبہ نہیں آیا بلکہ شبہ ال شبہ آیا و لا و لا اعتبار لها۔
اور اس کا کوئی اعتبار شبہ خبث کا تو اعتبار ہے لیکن شبہ شبہ خبث کا اعتبار نہیں۔
کہتے ہیں هذا فی الخبث بسبب فساد الملکی۔
کہتے ہیں یہ تو اس خبث کے بارے میں تھا جو کس وجہ سے آ رہا تھا؟
فساد ملک کی وجہ سے بھئی بیع فاسد کے ذریعے بھی جو چیز بیچی جاتی ہے ملک تو آ جاتی ہے اگرچہ کون سی آتی ہے؟ فاسد۔
باقی اما الخبث بسبب عدم الملکی۔
باقی وہ خبث جو کس کی وجہ سے آ رہا ہے؟ اے عدم ملک کی وجہ سے فیشمل النوعین عند ابی حنیفہ رحمہ اللہ تعالی وہ دونوں انواع کو شامل ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔
بھئی دیکھو۔
فساد ملک کی وجہ سے جو خبث آ رہا تھا کس کی وجہ سے؟
فساد ملک کی وجہ سے۔
جو خبث آ رہا تھا وہ مبیعے میں تو آئے گا لیکن دراہم اور دنانیر میں نہیں۔
معلوم ہوا جو چیز متعین ہوتی ہے اس میں تو آئے گا لیکن جو چیز متعین نہیں ہوتی اس میں خبث نہیں۔
किस वजह से؟
خبث بھئی کس کی بات چل رہی ہے؟ وہ خبث جو کس کی وجہ سے آئے؟ فساد ملک کی وجہ سے تو فساد ملک کی وجہ سے جو خبث آئے وہ کس میں آئے گا؟ ما یتعینو میں تو آئے گا ما لا یتعینو میں نہیں۔
یا آسان لفظوں میں یوں کہو مبیعے میں تو آئے گا ثمن کے اندر نہیں۔
و باقی وہ خبث جو کس کی وجہ سے آئے؟ عدم ملک کی وجہ سے بھئی۔
اس میں تو خبث ما یتعینو کے اندر بھی آئے گا اور ما لا یتعینو کے اندر بھی دیکھو ایک شخص نے دوسرے کی کوئی چیز غصب کی اب یہ مالک ہے یا عدم ملک ہے یہاں پر؟
یہاں ملک نہیں ہے بلکہ عدم ملک۔
اب اس چیز کو آگے بیچ کر وہ نفع کمااتاہے تو اس میں کیا آ جائے گا حقیقتاً خبث آئے گا۔
کیونکہ ملک ہی نہیں ہے بھئی۔
فساد ملک کی صورت میں شبہ خبث آتا تھا تو عدم ملک کی صورت میں کیا تھا؟ بھئی وہاں ملک تھی یا نہیں تھی کسی نہ کسی درجے میں؟
وہاں کسی نہ کسی درجے میں تھی اس لیے حقیقتاً خبث نہیں آیا بلکہ شبہ خبث آیا۔
اور یہاں تو بالکل سرے سے ملک ہی نہیں ہے تو یہاں پر شبہ خبث نہیں آئے گا بلکہ حقیقتاً خبث آئے گا حقیقتاً خبث آئے گا۔
تو یہ تو اس میں تھا جو متعین ہو جاتی ہے اور جو چیز متعین نہیں ہوتی مثلاً ایک شخص نے دوسرے کے درہم اور دنانیر غصب کر لیے بھئی یا کرنسی غصب کر لی اس کرنسی کے ذریعے آگے نفع کمااتاہے تو کرنسی تو متعین نہیں ہوتی بھئی۔
تو اس میں حقیقتاً خبث تو نہیں آئے گا بھئی عدم ملک کی وجہ سے بلکہ کیا آئے گا؟ شبہ خبث۔
لیکن شبہ تو متاحرمت کے باب میں کیا ہے؟ ملحق بالحقیقت ہے۔
تو اس لیے غصب شدہ سامان میں یا غصب شدہ درہم اور دنانیر میں دونوں میں جو بھی نفع کمایا جائے وہ حرام ہوگا۔
بیع فاسد کے اندر مبیعے کے ذریعے نفع حرام ہے لیکن ثمن کے ذریعے نفع حلال۔
لیکن غصب کی صورت میں چاہے وہ مبیعہ ہو چاہے وہ ثمن کے قبیل سے ہو دونوں صورتوں میں وہ نفع حرام ہے۔
فرق سمجھ میں آیا بھئی؟
دیکھیے بھئی۔
و اما الخبث بسبب عدم الملکی۔
اور باقی وہ خبث جو کس کی وجہ سے آیا؟ عدم ملک کی وجہ سے فیشمل النوعین عند ابی حنیفہ رحمہ اللہ تعالی وہ دونوں انواع کو شامل ہے امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک۔
یعنی ان الربح فی المغصوب یعنی نفع جو ہوتا ہے غصب چیز کے اندر لا یطیب له۔
وہ غاصب کے لیے پاکیزہ اور حلال نہیں۔
سواء کان المغصوب مما یتعین۔
برابر ہے کہ مغصوب کس میں سے ہو؟ چاہے وہ مغصوب ان چیزوں میں سے ہو جو متعین ہو جاتی ہیں کجارۃ جیسے باندی ہے مثلاً مثال کے طور پر۔
او مما لا یتعین۔
یا چاہے وہ چیز کس میں سے ہو؟ ان چیزوں میں سے ہو جو متعین نہیں ہوتی کالدراهم والدنانیر جیسے دراہم اور دنانیر ہیں۔
حتى إن باع الدراهم المغصوبۃ۔
یہاں تک کہ اگر کسی نے بیچا دراہیم مغصوبہ کو اور حاصل ہوا اس میں اس کو نفع لا یطیب۔
تو یہ اس کے لیے پاکیزہ حلال نہیں۔
لأن فی الاول حقیقۃ الخبسی بھئی۔
اس لیے کہ اول میں کیا ہے حقیقۃ الخبص۔
و فی الثانی شبہۃ الخبسی۔
اور ثانی میں شبہ خبص ہے۔
اول سے مراد ہے ما یتعینو۔
اس پر بیان اوپر لکھ لیں والا نہ۔
اول سے کیا مراد ہے؟ ما یتعینو۔
اور ثانی کے اوپر لکھ لیں ما لا یتعینو۔
لأن فی الاول اس لیے کہ اول سے کیا مراد ہے ما یتعینو وہ چیز جو متعین ہو جاتی ہے اس میں حقیقتاً خبث ہے و فی الثانی شبہۃ الخبس۔
اور ثانی کے اندر شبہ خبث ہے۔
تو اب ما یتعینو کے اندر تو حقیقتاً خبث آیا بھئی اس کے ذریعے نفع بھی کیا ہوا اس کے لیے حرام۔
و ثانی مالا یتعینو میں دراہم کے اندر وہ غصبہ دراہم کے ذریعے جو نفع حاصل کر رہا ہے اس میں خبث تو نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ شبہ خبث ہے۔
و شبہۃ ملحقۃ بالحقیقت فی الحرمتی۔
اور شبہ ملحق بالحقیقت ہوتا ہے حرمت کے باب میں۔
خلاصہ مسئلہ دوبارہ سمجھو بھئی۔
میں نے آپ کو بتلایا کہ ایک شخص نے دوسرے کو باندی فروخت کی بیع فاسد کے ساتھ اور دونوں نے عوضین پر قبضہ کر لیا تو مشتری جو آگے باندی کے ذریعے اگر نفع کماتا ہے وہ اس کے لیے پاکیزہ اور حلال نہیں لیکن اگر بائع اس ثمن جو درہم اور دنانیر تھے ان کے ذریعے نفع کماتا ہے وہ اس کے لیے حلال۔
اور پھر میں نے تین چیزیں بتلائی تھیں وہ یاد رکھیں تو مسئلہ سمجھنا آسان ہو جائے گا ترتیب سے۔
پہلی بات یہ کہ درہم اور دنانیر جو ہیں بیع کے اندر متعین نہیں البتہ مبیعہ متعین ہو جاتا ہے۔
دوسری بات یہ ذکر کی تھی کہ شبہ بھی حرمت کے باب میں آ جائے تو وہ ملحق بالحقیقت ہے یعنی گویا کہ حقیقتاً حرمت کی طرح ہے۔
اور تیسری بات یہ یاد رکھو کہ عدم ملک کی صورت میں جو نفع حاصل ہوتا ہے اس میں کیا آتا ہے حقیقتاً خبث آتا ہے ایک دوسرے کی چیز غصب کر لی اس پر قبضہ کر لیا اس سے جو نفع حاصل کرے گا تو ملک تو کسی بھی لحاظ سے نہیں ہے لہذا اب جو خبث آئے گا وہ کیا ہوگا؟ حقیقتاً ہوگا۔
اب بھئی تو کہتے ہیں دیکھو جب ایک شخص نے باندی کو خریدا اور وہ باندی اس کے پاس عقد فاسد کے ذریعے آئی ہے تو اس میں فساد ملک آ گیا اس لیے کہ اس پر واپس کرنا واجب ہے معلوم ہوا ملک کامل نہیں ہے بلکہ ملک فاسد ہے۔
ورنہ واپس تو نہ کرنا پڑتا۔
تو ملک آئی فاسد اور ملک فاسد میں شبہ ہے کس کا؟ عدم ملک کا۔
کیسے؟
خبث کا اور ملک فاسد میں شبہ ہے عدم ملک کا۔
تو جب ملک میں شبہ عدم ملک ہے تو نفع میں کیا ائے گا؟ شبہ خبث۔
مالک من وجہ گویا مالک ہیں من وجہ مالک نہیں تو شبہ کیا ایا مولانا عدم ملک۔
تو شبہ ا گیا اس میں عدم ملک کا۔
و شبہ خبث تو اس کے نفع میں کیا ایا مولانا شبہ خبث۔
و شبہ خبث تو حرمت کے باب میں کیا ہے؟ ملحق بالحقیقت ہے لہذا اس کے لیے جائز نہیں۔
تو یہ تھی اس میں جو متعین ہو جاتی ہے اور جو چیز متعین نہیں ہوتی درہم اور دنانیر بھئی تو وہ درہم اور دنانیر تو متعین نہیں ہوتے تو لہذا اس کے اندر کیا ہوگا؟
شبہ خبث نہیں۔
بلکہ شبہ کے شبے کا شبہ ہوگا۔
شبہ کے شبے کا شبہ ہوگا۔
تو شبہ کے شبے کا اعتبار نہیں ہوتا اس لیے بائع کے لیے ثمن کے ذریعے نفع کمانا کیا ہے؟ حلال ہے۔
اور غصب کی صورت میں کیا ہے بھئی؟
غصب کی صورت میں چاہے مبیعہ ہو چاہے درہم اور دنانیر ہوں دونوں میں چونکہ ملک ہی نہیں ہے لہذا اس میں کیا ہے؟ حقیقتاً خبث ہے یا شبہ ہے؟
مبیعے میں تو حقیقتاً خبث ہے اور درہم اور دنانیر میں شبہ خبث ہے اور شبہ ملحق بالحقیقت ہوتا ہے اس لیے غصب شدہ سامان میں یا غصب شدہ درہم اور دنانیر میں دونوں میں جو بھی نفع کمایا جائے وہ حرام ہوگا۔
بیع فاسد کے اندر مبیعے کے ذریعے نفع حرام ہے لیکن ثمن کے ذریعے نفع حلال۔
لیکن غصب کی صورت میں چاہے وہ مبیعہ ہو چاہے وہ ثمن کے قبیل سے ہو دونوں صورتوں میں وہ نفع حرام ہے۔
فرق سمجھ میں آیا بھئی؟
دیکھیے بھئی۔
و أما الخبوس بسبب عدم الملکی۔
اور باقی وہ خبث جو کس کی وجہ سے آیا؟ عدم ملک کی وجہ سے فیشمل النوعین۔
وہ دونوں نوع کو شامل ہے امام اعظم رحمہ اللہ تعالی۔
یعنی أن الربح فی المغصوبي یعنی نفع جو ہوتا ہے مغصوب چیز کے اندر لا یطيب له۔
وہ غاصب کے لیے پاکیزہ اور حلال نہیں۔
سواء کان المغصوب مما یتعین۔
برابر ہے کہ مغصوب کس میں سے ہو؟ چاہے وہ مغصوب ان چیزوں میں سے ہو جو متعین ہو جاتی ہیں کلجاریتی جیسے باندی ہے مثلاً مثال کے طور پر۔
او مما لا یتعینو یا چاہے وہ چیز کس میں سے ہو؟ ان چیزوں میں سے ہو جو متعین نہیں ہوتی کالدراهم والدنانیر جیسے دراہم اور دنانیر ہیں۔
حتى إن باع الدراهم المغصوبۃ۔
یہاں تک کہ اگر کسی نے بیچا دراہیم مغصوبہ کو و حصل فیھا ربح اور حاصل ہوا اس میں اس کو نفع لا یکون طیبا۔
تو یہ اس کے لیے پاکیزہ حلال نہیں۔
لأن فی الاول حقیقۃ الخبسی بھئی۔
اس لیے کہ اول میں کیا ہے حقیقت الخبص۔
و فی الثانی شبہۃ الخبسی۔
اور ثانی میں شبہ خبص ہے۔
اول سے مراد ہے ما یتعینو۔
اس پر بیان اوپر لکھ لیں والا نہ۔
اول سے کیا مراد ہے؟ ما یتعینو۔
نوایتعینو۔
اور ثانی کے اوپر لکھ لیں ما لایتعینو۔
لأن فی الاول اس لیے کہ اول سے کیا مراد ہے ما یتعینو وہ چیز جو متعین ہو جاتی ہے اس میں حقیقتاً خبث ہے و فی الثانی شبہۃ الخبس۔
اور ثانی کے اندر شبہ خبث ہے۔
تو اب ما یتعینو کے اندر تو حقیقتاً خبث آیا بھئی اس کے ذریعے نفع بھی کیا ہوا اس کے لیے حرام۔
و ثانی مالا یتعینو میں دراہم کے اندر وہ غصبہ دراہم کے ذریعے جو نفع حاصل کر رہا ہے اس میں خبث تو نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ شبہ خبث ہے۔
و شبہۃ ملحقۃ بالحقیقۃ فی الحرمتي۔
اور شبہ ملحق بالحقیقت ہوتا ہے حرمت کے باب میں۔
خلاصہ مسئلہ دوبارہ سمجھو بھئی۔
میں نے آپ کو بتلایا کہ ایک شخص نے دوسرے کو باندی فروخت کی بیع فاسد کے ساتھ اور دونوں نے عوضین پر قبضہ کر لیا تو مشتری جو آگے باندی کے ذریعے اگر نفع کماتا ہے وہ اس کے لیے پاکیزہ اور حلال نہیں لیکن اگر بائع اس ثمن جو درہم اور دنانیر تھے ان کے ذریعے نفع کماتا ہے وہ اس کے لیے حلال۔
اور پھر میں نے تین چیزیں بتلائی تھیں وہ یاد رکھیں تو مسئلہ سمجھنا آسان ہو جائے گا ترتیب سے۔
پہلی بات یہ کہ درہم اور دنانیر جو ہیں بیع کے اندر متعین نہیں البتہ مبیعہ متعین ہو جاتا ہے۔
دوسری بات یہ ذکر کی تھی کہ شبہ بھی حرمت کے باب میں آ جائے تو وہ ملحق بالحقیقت ہے یعنی گویا کہ حقیقتاً حرمت کی طرح ہے۔
اور تیسری بات یہ یاد رکھو کہ عدم ملک کی صورت میں جو نفع حاصل ہوتا ہے اس میں کیا آتا ہے حقیقتاً خبث آتا ہے ایک دوسرے کی چیز غصب کر لی اس پر قبضہ کر لیا اس سے جو نفع حاصل کرے گا تو ملک تو کسی بھی لحاظ سے نہیں ہے لہذا اب جو خبث آئے گا وہ کیا ہوگا؟ حقیقتاً ہوگا۔
اب بھئی تو کہتے ہیں دیکھو جب ایک شخص نے باندی کو خریدا اور وہ باندی اس کے پاس عقد فاسد کے ذریعے آئی ہے تو اس میں فساد ملک آ گیا اس لیے کہ اس پر واپس کرنا واجب ہے معلوم ہوا ملک کامل نہیں ہے بلکہ ملک فاسد ہے۔
ورنہ واپس تو نہ کرنا پڑتا۔
تو ملک آئی فاسد اور ملک فاسد میں شبہ ہے کس کا؟ عدم ملک کا۔
کیسے؟
خبث کا اور ملک فاسد میں شبہ ہے عدم ملک کا۔
تو جب ملک میں شبہ عدم ملک ہے تو نفع میں کیا ائے گا؟ شبہ خبث۔
مالک من وجہ گویا مالک ہیں من وجہ مالک نہیں تو شبہ کیا ایا مولانا عدم ملک۔
تو شبہ ا گیا اس میں عدم ملک کا۔
و شبہ خبث تو اس کے نفع میں کیا ایا مولانا شبہ خبث۔
و شبہ خبث تو حرمت کے باب میں کیا ہے؟ ملحق بالحقیقت ہے لہذا اس کے لیے جائز نہیں۔
تو یہ تھی اس میں جو متعین ہو جاتی ہے اور جو چیز متعین نہیں ہوتی درہم اور دنانیر بھئی تو وہ درہم اور دنانیر تو متعین نہیں ہوتے تو لہذا اس کے اندر کیا ہوگا؟
شبہ خبث نہیں۔
بلکہ شبہ کے شبے کا شبہ ہوگا۔
شبہ کے شبے کا شبہ ہوگا۔
تو شبہ کے شبے کا اعتبار نہیں ہوتا اس لیے بائع کے لیے ثمن کے ذریعے نفع کمانا کیا ہے؟ حلال ہے۔
اور غصب کی صورت میں کیا ہے بھئی؟
غصب کی صورت میں چاہے مبیعہ ہو چاہے درہم اور دنانیر ہوں دونوں میں چونکہ ملک ہی نہیں ہے لہذا اس میں کیا ہے؟ حقیقتاً خبث ہے یا شبہ ہے؟
مبیعے میں تو حقیقتاً خبث ہے اور درہم اور دنانیر میں شبہ خبث ہے اور شبہ ملحق بالحقیقت ہوتا ہے اس لیے غصب شدہ سامان میں یا غصب شدہ درہم اور دنانیر میں دونوں میں جو بھی نفع کمایا جائے وہ حرام ہوگا۔
فإن قیل اگر کہا گیا جائے بھئی ذکر فی الھدایۃ ذکر کیا گیا ہے ہدایت کے اندر فی المسألت السابقۃ۔
جی۔
بھئی یہاں سے ایک اعتراض ذکر کریں گے آسان سی بات ہے اور اس کا جواب۔
آپ نے کیا کہا؟
کہ۔
دراہم اور دنانیر جو ہیں ب کے اندر متعین نہیں ہوتے ٹھیک ہے ہمیں آپ کی بات۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ درہم اور دنانیر ب کے اندر متعین نہیں۔
لیکن بیع فاسد میں درہم اور دنانیر بھی متعین ہو جاتے ہیں۔
کس میں؟
بیع فاسد میں درہم اور دنانیر بھی متعین ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ہم اپنی طرف سے نہیں کہتے احناف کی بڑی معتمد کتاب ہے فقہ کی وہ کون سی ہدایہ اس کے اندر صاحب کتاب صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ بیع۔
فاسد میں دراہم اور دنانیر کیا ہو جاتے ہیں؟ متعین ہو جاتے ہیں اور اس قول کو انہوں نے اصح قرار دیا ہے۔
اور آپ ابھی تک یہ بحث کر رہے تھے کہ بیع فاسد کی بات چل رہی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں دراہم اور دنانیر متعین۔
نہیں تو یہ تو آپ کے کلام میں اور صاحب ہدایہ کے کلام میں کیا آ گیا؟
تناقض آ گیا تو اب وہ اس کا جواب بھی دیں گے پہلے اشکال ذکر کریں گے فإن قیل اگر یہ اعتراض کیا جائے ذکر فی الھدایہ ذکر کیا گیا ہے ہدایہ کتاب کے اندر فی المسألت السالقۃ گزشتہ مسئلے میں بھئی۔
بھئی گزشتہ صفحے کے آخر میں جو مسئلہ آیا تھا و لا یاخذه البیع حتی یرد الثمن فإن مات هو فللمشتری حق به۔
یہ اس کے ذیل میں صاحب ہدایہ ذکر کرتے ہیں کیا ذکر کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ثم اذا کانت دراھم الثمن قایمۃ۔
پھر اگر وہ ثمن کے دراہم قائم تھے (یعنی باقی تھے) تو یہ اخذھا بعینہا تو بعینہ انہی کو کیا کر لے گا مشتری۔
بھئی بیع فسخ کر دی دو آدمیوں نے بیع فاسد کی تھی اور پھر بیع کو کیا کر دیا؟ وہ فرماتے ہیں صاحب ہدایہ اگر وہی والے درہم اور دنانیر بائع کے پاس موجود ہیں تو کیا کرے گا بعینہ انہی کو۔
تو اگر وہ باقی ہیں تو اخذھا بعینھا تو بعینہ انہی کو لے لے گا لأنھا تتتعین بالتتعین فی البیع الفاسد۔
اس لیے کہ وہ درہم اور دنانیر جو ہیں تعین سے متعین ہو جاتے ہیں کس میں؟ بیع الفاسد۔
و هو الاصح۔
اور یہی قول کیا ہے؟ صحیح اور اصح ہے۔
اور آپ ابھی تک یہ فرما رہے تھے کہ دراہم اور دنانیر تعین سے متعین نہیں ہوتے۔
و هذا یناقض ما قلتم من عدم التعیین و الدراهم۔
تو یہ آپ کا قول جو ہے اس قول کے کیا ہے؟ مناقض ہے معارض ہے۔
قلنا ہم جواب دیتے ہیں یمکن التوفیق بینہما توفیق اور تطبیق بھئی۔
تطبیق دونوں قولوں میں ممکن ہے موافقت ممکن ہے بأن لہذہ العقد شبہینی۔
اس لیے کہ اس عقد کی دو مشابہتیں ہیں۔
ایک ہوتا ہے میں نے بتلایا تھا آپ کو پہلے بھی ایک ہوتا ہے شبہ ایک شبہ۔
شبہ کا کیا معنی؟
مثل اور مانند۔
مثل اور۔
مانند اور شبہ کا معنی مشابہت بھئی شبہ کا معنی مشابہت۔
کہتے ہیں ان میں توفیق ممکن ہے بھئی اس صورت کے اس عقد کی دو۔
دو مشابہتیں ہیں بھئی کون سے عقد کی یہ جو عقد فاسد ہوا تھا۔
شبہ بالغصب و شبہ بالبیع۔
بالغصب ہونا چاہیے مولانا اور بالبے کا لفظ ہونا چاہیے کتاب کتاب میں بھئی۔
دو مشابہتیں ہیں ایک مشابہت کس کے ساتھ ہے بھئی؟
غصب کے ساتھ ہے اور ایک مشابہت کس کے ساتھ ہے؟ بیع کے ساتھ۔
جی ادھر توجہ کرو بھئی صاحب کتاب کیا فرما رہے ہیں؟
یہ جو بیع فاسد ہوئی ہے اس کی کتنی چیزوں کے ساتھ مشابہت ہے؟
اس کی مشابہت بیع کے ساتھ بھی ہے اور اس کی مشابہت غصب کے ساتھ۔
بیع کے ساتھ تو مشابہت ظاہر ہے دونوں نے اپس میں کیا کیا تھا؟ عقد کیا تھا بھئی چاہے فاسد ہی کیوں نہیں لیکن کیا تو عقد تو بیع سے مشابہت ہے اور غصب سے بھی مشابہت ہے اس لیے کہ شرعا یہ بیع درست نہیں۔
تو چیزوں پر جو قبضہ کر رہے ہیں وہ کس قسم کا ہے؟ غصب کی صورت ہے۔
بھئی تو لہذا غصب سے بھی مشابہت ہے اور بیع کے ساتھ بھی مشابہت ہے۔
اور بیع کے اندر تو درہم اور دنانیر متعین نہیں ہوتے لیکن غصب کے اندر تو درہم اور دنانیر کیا ہو جاتے ہیں؟ متعین ہو جاتے ہیں۔
تو صاحب ہدایہ نے کون سی مشابہت کا اعتبار کیا؟ غصب والی جس میں درہم اور دنانیر کیا ہوتے ہیں؟ متعین اور ہم نے کون سی جہت کا اعتبار کیا؟ بیع والی جس میں درہم اور دنانیر متعین۔
اعتراض سمجھ میں آیا؟
تطبیق یہ ہو گئی ان دونوں میں بھئی۔
کہ اس عقد کی دو مشابہتیں ہیں ایک مشابہت غصب کے ساتھ ہے اور ایک مشابہت بیع کے ساتھ ہے فإذا کانت قایمتھ جب یہ وہ درہم دراہم اور دنانیر قائم ہوں یعنی باقی ہوں اعتبار کیا جائے گا کس چیز کے ساتھ مشابہت کا؟ شبہ با الغصب۔
غصب کے ساتھ مشابہت کا اعتبار کیا جائے گا سعی فی رفع العقد الفاسد۔
کوشش کرتے ہوئے سعی کا کیا معنی کوشش کرتے ہوئے عقد فاسد کو اٹھانے کی عقد فاسد کو اٹھانے عقد فاسد کو ہم کیا کر رہے ہیں بھئی ختم کرنا چاہتے ہیں یا نہیں چاہتے؟
جی ختم کرنا چاہتے ہیں یہ عقد فاسد ہے شریعت لہذا اس کی کون سی مشابہت کا اعتبار کیا؟
غصب والی تاکہ اس کو ختم کیا جائے بھئی یہ غصب کے مشابہ ہے اس کو ختم کرو۔
و إذا لم تکن قایمتھ اور جب وہ درہم اور دنانیر کیا ہوں؟ باقی نہ ہوں۔
یہ فتح تعلیل یہ ہے جو ما قبل کی علت بیان کرتی ہے بھئی۔
تو اس کا معنی کیوں کیسے کریں یا اس لیے کہ و إذا لم تکن قایمتھ۔
اور جب وہ درہم اور دنانیر کیا ہوں؟ باقی۔
بھئی بیع فاسد کر لی۔
لیکن اب وہ درہم اور دنانیر جس پر اس نے قبضہ کیا تھا باقی نہیں تھے کیوں باقی نہیں تھے؟
فاشتری بھا شیئاً کیونکہ اس نے اس کے لیے کوئی چیز خرید لی ہے آگے تو یعتبر شبہ بالبیع۔
تو پھر اب کس چیز کا اعتبار کیا جائے گا؟
بیع کی ساتھ اس کی مشابہت کا اعتبار کیا جائے گا کیوں؟ کہتے ہیں حتی لا یسری الفساد الی بدله۔
تاکہ اس کا فساد سرایت نہ کرے اس کے بدلے کی طرف۔
تاکہ اس کا فساد سرایت نہ کرے کس کی طرف؟
بھئی اگر اس میں ہم کیا کہیں بھئی؟
اب یہاں اب ہم غصب والی صورت کا اعتبار کر لیں تو غصب میں تو کیا ہوتے ہیں دراہم اور دنانیر متعین ہو جاتے ہیں تو اس کے ذریعے جو نفع وغیرہ بھی آئے گا وہ کیا ہوگا؟
اس میں خبث آئے گا یا نہیں آئے گا بھئی؟
اس میں خبث آئے گا بھئی۔
تو یہاں پر لہذا اب ہم اس کے غصب والی جہت کا اعتبار نہیں کرتے بلکہ کون سی جہت کا اعتبار کرتے ہیں؟
بیع والی تاکہ کہیں وہ خبث آگے آنے والے بدل میں سرایت نہ کر جائے۔
تو اس کی بیع کے ساتھ مشابہت کا اعتبار کیا جائے گا تاکہ سرایت نہ کرے وہ فساد الی بدله اس کے بدل کی طرف لما ذکرنا من شبہۃ الشبہ۔
اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کی یعنی کہ شبہ تو شبہ۔
شبہ تو شبہ ہونے کی وجہ سے سرایت پھر نہیں کرے گا بھئی۔
و أیضا لتداول الأیدی تأثير فی رفع الحرمۃ على ما عرفا۔
تداول الأیدی۔
تداول الأیدی۔
اس کا معنی ہے کسی چیز کا باری باری مختلف ہاتھوں میں آنا۔
بھئی ایک چیز آپ کے پاس ہے آپ نے بیچ دی کل دوسرے کے ہاتھ میں آ گئی اس نے بیچ دی تیسرے کے ہاتھ میں آ گئی اس نے بیچ دی چوتھے کے ہاتھ میں آ گئی یہ اس کو کہتے ہیں تداول الأیدی۔
باری باری مختلف ہاتھوں میں وہ چیز استعمال میں آ رہی ہے بھئی۔
یا مختلف قبضوں میں آ رہی ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
अच्छा۔
اور تو۔
جی۔
یہاں پر نیز ایک تو اس وجہ سے بیع کے ساتھ مشابہت کا ہم نے اعتبار کیا اس لیے اس کے بدل کی طرف خبث سرایت نہیں کرے گا۔
بیع کے ساتھ جب مشابہت کا اعتبار کیا تو مالا یتعینو میں بھئی بدل کے اندر خبث۔
نفع کے اندر خبث آتا ہے؟
جی اس میں خبث نہیں آتا تھا۔
تو یہاں پر بھی شبہ تو شبہ کی وجہ سے خبث نہیں آئے گا اور نیز اس لیے بھی کہ ہاتھوں کے بدلنے کی اس کی تاثیر ہے فی رفع الحرمت حرمت کے اٹھانے میں۔
حرمت کے اٹھ جانے میں ہاتھوں کے بدلنے کا اثر ہوتا ہے۔
ہاتھ بدلتے ہیں تو حرمت کیا ہو جاتی ہے؟ اٹھ۔
جیسے بھئی وہ مشہور واقعہ حدیث میں آتا ہے آپ نے سنا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تشریف لائے۔
گوشت تھا انہوں نے حضور کی خدمت میں پیش نہیں کیا بھئی حضور نے پوچھا تو فرمایا یا رسول اللہ یہ تو صدقے کا گوشت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی چیز نہیں کھاتے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
کہ لکی صدقۃ ولنا ھدیۃ۔
بھئی صدقہ تیرے لیے تھا میرے لیے تو کیا بن جائے گا؟
بھئی تمہارے پاس جب کسی نے کوئی چیز بیچی۔
کسی نے کوئی چیز بھیجی تو کس طور پر بھیجی کہ یہ لیکن جب صدقہ تمہارے پاس پہنچا تو مالک بن گئی تو اب صدقہ ختم اب۔
کیا ہوا؟ اب تم اس کے مالک بن گئی۔
اب تم مجھے جو دے رہی ہو وہ کس اعتبار سے دے رہی ہو؟ وہ ہدیے کے طور پر تو دیکھا ہاتھ کے بدلنے سے کیا ہوئی حرمت۔
ختم ہو گئی ختم ہو گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر وہ گوشت تناول فرمایا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
تو اس لیے کہا کہ اس کے ذریعے۔
اس کی مشابہت بالبیع کا اعتبار کیا تاکہ فساد اس کے بدل میں نہ چلا جائے اور نیز اس لیے کہ ہاتھوں کے بدلنے کی تاثیر ہوتی ہے حرمت کے اٹھنے میں۔
علی ما عرفا جیسا کہ جانا گیا ہے۔
چلیے بس مولانا هذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔