ولو قال البائع بعد التقابض بعتك هذا المعيب مع آخر وقال المشري بل هذا وحده فالقول له.
اس مسئلہ کو سمجھنے سے پہلے ایک ضابطہ یاد رکھیں۔
کہ جب بھی مقبوض کی مقدار میں اختلاف آ جائے تو قابض کا قول معتبر ہے.
جب بھی مقدار مقبوض میں اختلاف واقع ہو۔
جب بھی مقدار مقبوض میں اختلاف واقع ہو تو قابض کا قول معتبر ہے.
صورت مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے کسی شخص سے کوئی چیز خریدی اور ثمن اس کے حوالے کر دیے آپ نے مبیع پر قبضہ کر لیا تو اس نے دیکھو ثمن پر وہ قبضہ کر چکا ہے اور آپ مبیع پر قبضہ کر چکے ہیں اس کے بعد اس مبیع میں کوئی عیب آپ کو من ملتا ہے جو بائے کے پاس سے آیا ہے تو آپ اس چیز کو لے گئے واپس بائے کے پاس کہ بھئی یہ آپ نے جو چیز فروخت کی ہے یہ عیب دار ہے یہ واپس لو میرے ثمن میرے حوالے کرو.
وہ کہتا ہے ہاں ٹھیک ہے بھئی لاؤ بھئی یہ چیز دو بھئی۔
میں نے آپ سے کتنے پیسے مثلاً لیے تھے بائے کہتا ہے ایک لاکھ لیا تھا بھئی۔
مثلاً آپ کیا چیز خراب لے کر گئے بھئی مثلاً غلام تھا بھئی آپ ایک غلام لے گئے بھئی یہ عیب دار ہے یہ واپس لو بھئی میرے ایک لاکھ روپے مجھے واپس کرو بھئی۔
وہ کہتا ہے ہاں ٹھیک ہے میں واپس کرتا ہوں ایک لاکھ روپیہ لیکن دوسرا غلام کدھر ہے بھئی؟
کیا مطلب بھئی بھئی آپ دو لے کر گئے تھے میرے سے بھئی اس ایک لاکھ میں کتنے لے کر گئے تھے؟ دو لے کر گئے تھے۔
آپ کہتے ہیں نہیں بھئی ایک ہی ایک لاکھ میں لے کر گیا تھا تو اب مقدار مقبوض میں بھئی مبیع کے اندر اختلاف آ گیا وہ کہتا ہے کہ ایک چیز تھی ایک دو چیزیں تھیں ایک لاکھ میں اور آپ کیا کہتے ہیں ایک چیز ایک تھی تو اب یاد رکھیں قول قابض کا معتبر اور قابض کون تھا؟ مشتری تھا بھئی مشتری.
سمجھ میں آیا تو اختلاف آیا مقبوض کے اندر اور وہ تو قابض ہی کو پتہ ہوگا لہذا قول بھی قول بھی اسی کا معتبر کیا معنی قول اسی کا معتبر؟
یعنی قسم اس سے لی جائے گی معلوم ہوا دوسرے پر کیا آ جائے گی بینہ خود بخود بھئی سمجھ میں آیا ہاں تو دوسرے اب اگر وہ اس نے کہا ہے تو آپ دو لے کر گئے ہیں تو اب اس کے ذمے بینہ پیش کرنا ہے بینہ نہیں کرتا پیش تو پھر آپ قسم کس کے ذمے ہے؟ آپ کے ذمے ہے آپ قسم اٹھائیں گے اور چیز واپس کر دیں گے بھئی.
صورت سمجھ میں آگئی بھئی ولو قال البائع بعد التقابض اگر بائے نے کہا تقابض کے بعد بھئی تفاعل باب آیا ہے یہ دو طرفین سے فعل کا تقاضا کرتا ہے معلوم ہوا دونوں طرف سے بدلے پر کیا ہو چکا ہے قبضہ ہو چکا ہے وہ ثمن پر قبضہ کر چکا ہے آپ مبیع پر قبضہ کر چکے ہیں اور اگر بائے نے کہا تقابض کے بعد بعتك هذا المعيب میں نے بیچا تھا تجھے یہ والے عیب دار مع الآخر ساتھ ایک اور کے بھی وقال المشتری بل هذا وحده مشتری کہتا ہے بلکہ یہ ایک ہی بیچا تھا.
فالقول له ای للمشتری تو قول کس کا معتبر بھئی؟ مشتری کا بھئی بین السطور لکھا ہے ای بائے غلط لکھا ہے بھئی قابض کا قول معتبر ہے بھئی سمجھ میں آیا کتاب میں میں نے بتایا جگہ جگہ کتابت کی غلطیاں ہیں بھئی.
ای اذا ظهر في المبیع بعد التقابض عیب جب ظاہر ہو جائے مبیع میں دونوں ت جانبین سے قبضے کے بعد عیب کوئی ظاہر ہو جائے فردہ المشتری تو رد کرتا ہے اس کو مشتری وطلب الثمن اور ثمن طلب کرتا ہے فیقول البائع تو بائے کہتا ہے هذا الثمن مقابل بهذا الشيء مع شيئي آخر کہ یہ جو ثمن تھے یہ جو ایک لاکھ روپے تھے یہ تو مقابلے میں ہیں اس چیز کے بھی مع شيئي آخر ساتھ ایک اور چیز کے یعنی دو چیزوں کے مقابلے میں ہیں ویقول المشتری اور مشتری کہتا ہے بل هو مقابل بهذا الشيء وحده بلکہ یہ جو ثمن ہے یہ تو صرف اس ایک ہی چیز کے بدلے میں ہیں مقابلے میں ہیں فالقول له ای فالقول للمشتری پھر نیچے بائے لکھا ہے غلط لکھا ہے قول کس کا معتبر؟ مشتری کا ای مع اليمين کس کے ساتھ بھئی؟ یمین کے ساتھ لان الاختلاف وقع في مقدار المقبوض اس لیے کہ اختلاف واقع ہوا ہے مقبوض چیز کی مقدار میں جس پر قبضہ کیا گیا اس کی مقدار میں اختلاف واقع ہوا ہے فالقول للقابض تو قول کس کا معتبر؟ قابض کا معتبر بھئی کما فی الغصب جیسے کس کے اندر؟ غصب کے اندر.
جیسے غصب کے اندر بھئی۔
بھئی غصب کے اندر بھی دیکھیے ایک شخص تھا اس نے آپ کا غلام آپ سے چھین کے لے گیا بھئی یا کوئی اور چیز آپ کی چھینی لے گیا بھئی۔
پھر وہ واپس کرتا ہے آپ کی چیز اور۔
مثلاً گاڑی غصب کی تھی اس نے واپس کی آپ نے کہا بھئی دو گاڑیاں تم نے تو غصب کی تھیں ایک نہیں اختلاف آ گیا وہ کہتا ہے نہیں بھئی میں نے تو ایک ہی گاڑی غصب کی تھی اب آپ کیا ضابطہ لگائیں گے بھئی؟ مقبوز کی مقدار میں کیا آیا ہے؟ اختلاف تو کس کا قول معتبر؟ قابض کا تو وہ غاصب قابض تھا اس کا قول معتبر معلوم ہوا اب آپ کے ذمے بینہ ہے آپ بینہ نہیں پیش کر سکتے تو اس کو کیا دی جائے گی؟ قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہوگا.
جیسے کہ غصب میں ہوتا ہے تو یہاں بھی اسی طرح ہوگا وکذا اذا اتفق في قدر المبیع واختلفا في المقبوض دوسری صورت بھئی.
بھئی آپ میں آپ نے زید سے دو گاڑیاں خریدیں بھئی اس بات پر تو آپ کا بھی اتفاق ہے زید کا بھی اتفاق ہے وہ بھی کہتا ہے میں نے بھئی یہ دس لاکھ میں دو گاڑیاں آپ کو بیچی آپ بھی کہتے ہیں میں نے دس لاکھ میں دو گاڑیاں لیکن اختلاف آیا مقبوض کی مقدار میں آپ نے کہا بھئی میں نے صرف ایک پر قبضہ کیا ہے مجھے صرف ایک گاڑی ملی ہے وہ کہتا ہے نہیں آپ دونوں لے جا چکے ہو تو اب کس میں اختلاف آیا مقدار مقبوض کے اندر بھئی اور اس میں پھر کس کا قول معتبر؟ قابض کا قول معتبر ضابطہ میں آپ کو لکھوا چکا ہوں بھئی اور قابض کون ہے؟ مشتری ہے لہذا بای کے ذمے بینہ آ جائے گی اور مشتری کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا بھئی.
وكذا اذا اتفق في قدر المبيع اسی طرح اگر دونوں نے اتفاق کیا اتفاقا تثنیہ کا صیغہ ہے صیغہ ہے بای اور مشتری دونوں نے اتفاق کیا فی قدر المبيع مبیع کی مقدار میں آپ نے بھی کہا دس لاکھ میں دو گاڑیاں خریدی ہیں وہ بھی کہہ رہا ہے ہاں دس لاکھ میں دو گاڑیاں مبیع میں اختلاف نہیں ہے اتفاق ہے واختلفا في المقبوض لیکن دونوں نے اختلاف کیا کس میں؟ مقبوض کے اندر فقال المشتري قبست احداهما مشتری کہتا ہے میں نے ایک پر قبضہ کیا ہے فقط بھئی وقال البائع بل قبضتهما بائے کہتا ہے بلکہ تم نے دونوں پر قبضہ کر لیا ہے فالقول للمشتری تو قول مشتری کے لیے ہوگا علی ما مر بنا اسی کے جو گزر گئی کہ قول کس کا معتبر ہوتا ہے؟ قابض کا بھئی.
ولو اشترى عبدين صفقةً جی۔
یہ وہ مسئلہ ہے جس کا مصنف شارح نے آپ سے وعدہ کیا تھا بھئی صفحہ نمبر 30 ذرا نکالیے بھئی.
صفحہ 30 بھئی۔
دوسری سطر میں آ رہا ہے یہ یہاں پر آپ کو بتلایا تھا مصنف نے خیار رویت کے باب کے آخر میں کہ خیار عیب جو ہے قبل القضب وہ مانع ہے تمام عقد سے لیکن بعد القضب مانع نہیں ہے تمام عقد سے تمام اور تمام عقد سے اور کہا تھا اس کا یہ ظاہر ہوگا اس مسئلے میں جو آ رہا ہے وہی قولہ ولو اشترى عبدين صفقةً بھئی دیکھا وہ مسئلہ آج آ گیا.
ولو اشترى عبدين صفقةً وقبض احداهما ووجد به أو بالآخر عیبا أخذ هما أو رد هما ولو قبضهما رد المعيب خاصةً بھئی ضابطہ یہ بھئی۔
کہ تفرق صفقة۔
تفرق صفقة۔
قبل القبض جائز نہیں.
جی یہ تو متن میں بھی بات شرح کے اندر خود آ جائے گا یہ ضابطہ صراحت ہی انہی لفظوں سے انہوں نے لکھا ہوا ہے ضابطہ کیا ہوا بھئی تفرق صفقة قبل تمام العقد جائز نہیں اور تمام عقد کس سے ہوا کرتا ہے قبضے سے بھئی۔
تو یہ معلوم ہوا تفرق صفقة قبل القبض جائز نہیں ہاں تفرق صفقة بعد القبض جائز ہے بھئی دیکھیے بھئی اب صورت مسئلہ یہ بھئی۔
آپ نے ایک ہی عقد کے ساتھ دو چیزیں اکٹھی خریدیں۔
اور پھر ان دونوں میں سے ایک میں عیب کا پتہ چلا آپ کو تو اب کیا کریں گے بھئی ایک اس صرف عیب دار کو واپس کریں یا دونوں کو واپس کرنا پڑے گا بھئی۔
کہتے ہیں بھئی قبل القبض اور مسئلہ ہے بعد القبض اور مسئلہ ہے قبل القبض ہے تو پھر اب تفرق صفقة قبل القبض تو جائز نہیں ایک کو رکھیں اور ایک کو واپس کر دیں یہ درست نہیں لہذا کیا کرنا پڑے گا؟ دونوں رکھو یا دونوں رد کرو۔
ہاں اگر آپ قبضہ کر چکے ہیں تو عقد تام ہو چکا ہے بھئی اور تو اب تفرق صفقة بعد تمام العقد جائز ہے تو ایک کو رکھ لیں اور صرف عیب دار کو کیا کر دیں؟ یہ جائز ہے بھئی۔
ولواشترى عبدين صفقةً اگر خریدا کسی نے دو غلاموں کو صفقةً ایک ہی عقد کے ساتھ بھئی۔
ایک ہی عقد کے ساتھ بھئی۔
تو صفقة کا ایک معنی عقد کے بھی آتے ہیں ایک عقد کے ساتھ۔
یہ یوں کہیں ایک ہی ایجاد کے ساتھ ایجاب و قبول۔
سمجھ میں آیا بھئی تو ہاں اگر دونوں کا ایجاب الگ الگ ہوا ہے پھر تو دو بیع ہیں پھر پھر الگ مسئلہ ہے بھئی سمجھ میں آیا۔
ولواشترى عبدين خریدا کس نے دو غلاموں کو صفقةً ایک ہی عقد سے وقبض احداهما اور قبضہ کیا ایک پر ووجد به أو بالآخر عیبا اور پایا اس میں یا دوسرے میں عیب۔
ایک پر تو قبضہ کر چکا ہے ایک پر قبضہ کر لیا اور دوسرے کے اندر عیب پایا دوسرے کے اندر عیب پایا۔
أخذ هما أو رد هما چاہے تو دونوں کو رکھے اور چاہے تو دونوں کو کیونکہ قبضہ بھی پورا ہوا ہے دونوں پر قبضہ تو ابھی ایک پر اس نے کیا ہے دوسرے پر ابھی قبضہ ہی نہیں کیا تو اب اگر ایک کو واپس کرتا ہے تو یہ قبل تمام العقد تفرق صفقة لازم آئے گا جو جائز نہیں ولو قبضهما اگر دونوں پر قبضہ کر چکا ہے کر چکا ہے رد المعيب خاصةً تو عیب دار کو واپس کر دے گا خاص طور پر۔
لان الصفقة إنما تتم بالقبض اس لیے کہ عقد تام ہوتا ہے قبضے کے ساتھ فقبل القبض لا يجوز تفرق الصفقة تو قبضے سے پہلے تفرق صفقة جائز نہیں بھئی۔
وبعد القبض يجوز اور قبضے کے بعد جائز ہے۔
وكلي أو وزني قبضا۔
بھئی آپ نے کوئی کیلی ماپی جانے والی چیز خریدی یا وزن کی والی چیز خریدی بھئی۔
اور اس پر قبضہ بھی کر لیا۔
گندم خریدی بھئی آپ نے سو کافیس اور اس پہ قبضہ کر چکے ہیں یا چینی خریدی آپ نے 100 کلو اور اس میں قبضہ کر چکے ہیں بھئی اب اس میں سے کچھ کے اندر عیب آ پایا گیا بھئی کچھ میں کیا پایا گیا؟ عیب پایا گیا۔
اب کیا کریں؟
صرف عیب دار کو واپس کرے گا یا ساری کو واپس کرے گا کہتے ہیں بھئی کیلی اور وزنی چیز ایک ہی چیز شمار ہوتی ہے کیلی ساری کی ساری کیا شمار ہوگی؟ ایک چیز جتنی گندم آپ نے ایک ساتھ خریدی ہے وہ شئے واحد شمار ہوتی ہے لہذا بات کو رکھ لیں بات کو رد کر دیں یہ درست نہیں ہے بھئی درست نہیں ہے۔
अच्छा۔
درست نہیں۔
لذا رکھنی ہے تو ساری رکھو واپس کرنی ہے تو ساری اس لیے کہ یہ شئے واحد ہے ہاں کئی چیزیں ہیں کیلی گندم بھی خریدی جو بھی خریدی اس طرح کوئی اور تین چیزیں ہیں تو اب صرف کیا کر سکتا ہے بھئی۔
جی معیوب چیز جو عیب والی ہے وہ واپس کر لے اور باقی رکھ لے کیونکہ یہ کیا ہو گئیں چیزیں مختلف ہو گئیں بھئی اور تفرق صفقة بعد تمام العقد کیا ہے؟ جائز ہے۔
جبکہ وہ تو ایک ہی چیز شمار ہو رہی ہے اس میں نہیں کر سکتا وکلي أو وزني قبضا قبيضا فوبضا پڑھیں مولانا نہ عبادت کا ترجمہ غور سے سننا فعل مجہول آیا نکرہ کے بعد آیا تو اس کی صفت بنائیں گے اور موصوف سے پہلے ایسا کا لفظ دیکھیے بھئی وکیلی أو وزنی ایسی کیلی چیز أو وزني یا ایسی وزنی چیز قبضا جس پر کیا کر لیا گیا ہے؟ قبضہ کر لیا گیا ہے۔
إن وجد ببعضه عيبا اگر اس کے بعض کے اندر مشتری نے عیب پایا رد كله أو اخذه تو ساری کی ساری کو واپس کر دے گا یا ساری کو لے لے گا بھئی۔
سمجھ میں آیا اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے بھئی تفرق صفقة ہے تمام العقد کے بعد اور کوئی حرج نہیں نہیں یہ تو شئے واحد ہے مولانا دو چیزیں تین چیزیں ہوتی تو پھر تفرق صفقة میں کوئی حرج نہیں تھا بھئی۔
لأنہ إذا كان من جنس واحد فهو كشئے واحد اس لیے کہ جب یہ ایک ہی جنس سے ہوں تو یہ شئے واحد کی طرح ہیں ہاں کئی چیزیں ہوں تو پھر الگ۔
وقیل اور بعض فقہاء فرماتے ہیں ھذا یہ مسئلہ یہ حکم اس وقت ہے اذا كان في وعاء بھئی کہتے ہیں یہ اس وقت مسئلہ ہے جب یہ ایک ہی برتن کے اندر ہوں بھئی۔
ایک ہی بوری میں آپ گندم لے گئے بھئی ایک ہی بوری میں خریدی ہے آپ نے بھئی۔
تو پھر یہ مسئلہ ہے رکھنی ہے تو ساری رکھو واپس کرنی ہے تو واپس کرو ہاں اگر دو برتنوں میں تھی بھئی دو بوریوں میں تھی الگ الگ بوریوں میں تو پھر عیب والی بوری کو خاص طور پر کیا کر سکتے ہیں آپ واپس کر سکتے ہیں۔
وقيل وقال اور کہا گیا ہے ھذا یہ حکم اذا كان في وعاء واحد اس وقت ہے جب وہ ایک ہی برتن میں ہوں حتی لو كان في وعائين یہاں تک کہ اگر وہ دو برتنوں میں تھی وہ چیز فہو بمنزلۃ عبدین تو پھر وہ کس کے درجے میں ہے؟ دو غلاموں کو دو چیزوں کے درجے میں ہے فرد الوعاء الذي فيه المعيب تو واپس کر دے اسی برتن کو جس کے اندر وہ عیب دار چیز تھی۔
ولواستحق بعضه لم يرد باقيه بخلاف الثوب۔
صورت مسئلہ یہ ہے بھئی۔
آپ نے گندم خریدی کسی سے۔
دس بوری گندم آپ نے خرید لی بھئی۔
اور پھر اس پر قبضہ بھی کر لیا۔
قبضے کے بعد پتہ چلا بھئی ادھر سے امر دوڑتا ہوا آیا بھئی کہ بھئی اس میں سے تو پانچ بوری میری ہے زید نے کیا کیا ہے؟ پانچ بوری میری آپ کے ہاتھ فروخت کر دیں یہ میری ہیں بھئی۔
اب کیا کریں بھئی کچھ کا مالک کوئی اور نکل آیا مستحق کوئی اور نکل آیا بھئی غیر کی چیز اس نے آپ کو بیچ دی ہے۔
تو کہتے ہیں اب اس کی چیز اس کو واپس کر دو اور اس کے جو ثمن بنتے ہیں وہ بائے سے وصول کر لو پانچ بوریاں اس کی دے دو اور جتنے اس کے ثمن بنتے ہیں وہ کس سے وصول کر لو؟ بائے سے وصول کر لو بھئی۔
ہاں باقی پانچ بوری جو ہیں ان کو واپس نہیں کر سکتا بھئی واپس نہیں کر سکتا بھئی۔
واپس نہیں کر سکتا۔
اس لیے کہ اگرچہ یہاں پر تقسیم آ رہی ہے لیکن کیلی اور وزنی چیز کے اندر تقسیم نقصان دہ نہیں۔
عیب شمار ہوتی ہے بھئی تقسیم ان کے اندر ان میں کوئی عیب آتا ہے ان کے حصے الگ کر دو بھئی الگ الگ کوئی عیب نہیں آتا بھئی۔
جبکہ اگر کوئی ایسی چیز ہوئی جس کے اندر تقسیم کیا کرتی ہے عیب پیدا کر دیتی ہے تو اس صورت میں پھر اب آپ اس چیز آپ کو اختیار ہوگا آپ بقایا کو
کو کیا کر دیں، بائع کو واپس کر کے اس سے سارے کے ثمن بھی وصول کر... مثلاً کپڑا تھا بھئی، آپ نے کپڑا خریدا تھا بھئی! 10 گز بھئی، 10 گز کپڑا آپ نے ایـ... زید سے خریدا اور اس میں سے کچھ کا حِـ... مالک کوئی اور نکل آیا بھئی آدھے کپڑے کا، تو اب کپڑے کے اندر تو تبـ... تقسیم جو ہے عیب پیدا کر دیتی ہے، لہٰذا اب آپ کو حق ہے۔
کیا کر سکتے ہیں؟ سارے کو واپس کر دیں بھئی، کچھ کے تو ثمن آپ نے لینے ہی لینے ہیں اس کا مالک تو کوئی اور نکلا ہے، زید کا حصہ بھی اس کو واپس کر کے سارے کے کیا کر سکتے ہیں ثمن وصول کر سکتے ہیں۔
وَلَوِ اسْتُحِقَّ بَعْضُهُ
اگر اس استحقاق نکل آیا اس مبیع میں سے بعض کا
لَمْ يَرُدَّ بَاقِيَهُ
تو اس کے باقی کو کیا کرے گا، رد نہیں کرے گا، بلکہ اس کے کیا کر لے گا بائع سے پیسے وصول کر لے گا جتنی غیر کی تھی۔
بِخِلَافِ الثَّوْبِ
بخلاف کس کے، کپڑے کے۔
اچھا بھئی! کلی اور وزنی میں باقی کو واپس کیوں نہیں کرنے دیتے آپ بھئی، کہ اختیار ملنا چاہیے؟ کہتے ہیں:
لِأَنَّهُ لَا يَضُرُّهُ التَّبْعِيْضُ
اس لیے کہ وہاں پر تبعیض اور تقسیم اس کو کوئی ضرر نہیں دیتی، کوئی عیب نہیں آتا بھئی، کوئی ہرج نہیں ہے۔
وَالِاسْتِحْقَاقُ لَا يَمْنَعُ
یہ اعتراض کا جواب دینا چاہتے ہیں بھئی۔
بھئی دیکھو! زید نے آپ کو کیا کیا تھا، جو 10 بوری گندم بیچی ہے اس میں سے 5 کس کی تھی، عمر کی تھی بھئی عمر کی، تو مستحق تھا وہ، مستحق نکل آیا، وہ اس کا مالک تھا۔
تو آپ کیا کہہ رہے ہیں بھئی، کہ باقی کو واپس نہیں کر سکتا؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، باقی کو بھی واپس کرنے کا حق ہونا چاہیے۔
کیا ہونا چاہیے؟ حق ہونا چاہیے، اس لیے کہ ابھی عقد تام نہیں ہوا، عقد تام ہوتا ہے جب رضامندی پائی جائے بھئی، رضامندی، اور یہاں تو رضامندی، مالک اس کے آدھے کا کون نکل آیا، عمر، اور عمر رضامند تھا اس بیع پر؟ نہیں، وہ تو رضامند نہیں، تو رضامندی نہیں پائی گئی، جب رضامندی پائی نہیں گئی، تو کیا ہونا چاہیے، جی، تو عقد تام نہیں ہوا، اور جب عقد تام نہیں ہوا، تو اس سے پہلے تفریقِ صفَقہ جائز نہیں، جب تفریقِ صفَقہ جائز نہیں، تو بقایا کو بھی کیا کرنا چاہیے، واپس کرنے کا حق ہونا چاہیے۔
کہتے ہیں: نہیں بھئی، عقد آپ میں اور زید کے درمیان ہوا ہے، تو رضامندی عقد کرنے والوں کی جو ہے معتبر ہوتی ہے، اس کا اعتبار کیا جاتا ہے، مستحق اور مالک کی رضا کا کوئی دخل نہیں عقد کے تام ہونے میں۔
سمجھ میں آیا؟ آپ نے کہا تھا مالک چونکہ رضامند نہیں اس لیے عقد تام نہیں، بھئی اس کا کیا تعلق ہے عقد کے تام ہونے یا نہ ہونے سے، یہ تو رضامندی تو کس کی شمار ہوتی ہے عقد میں بھئی؟
عقد کرنے والے بائع اور مشتری، جب وہ دونوں رضامند ہیں تو عقد تام ہو چکا ہے، تو تفریقِ صفَقہ بھی آ گیا، کوئی ہرج نہیں بھئی۔
وَالِاسْتِحْقَاقُ لَا يَمْنَعُ تَمَامَ الصَّفْقَةِ
اور استحقاق نکل گـ... استحقاق جو ہے یہ منع نہیں کرتا تمامِ صفَقہ کو، تمامِ صفَقہ سے مانع نہیں ہے، اس کو روکتا نہیں ہے
لِأَنَّ تَمَامَهَا بِرِضَا الْعَاقِدَيْنِ
اس لیے کہ صفَقے کا تام ہونا کس کے ذریعے ہے، عقد کرنے والوں کی رضامندی کے ذریعے ہے، مالک کا دخل نہیں بھئی۔
وَهَذَا بَعْدَ الْقَبْضِ
بعض القبض غلط لکھی ہوئی ہے عبارت بھئی، بعض نہیں بعد کا لفظ ہے، بعد۔
وَهَذَا بَعْدَ الْقَبْضِ
یہ مسئلہ کس وقت ہے بھئی، قبضے کے بعد ہے مولانا، قبضے کے بعد!
قبضے کے بعد کوئی مستحق نکل آیا، اب تو تفریقِ صفَقہ تو آ گیا، آدھی گندم آپ کے پاس رہ گئی اور آدھی گندم وہ اٹھا کر، اس کا حق نکل آیا، لیکن تفریقِ صفَقہ بعد القبض نقصان دہ نہیں، کیونکہ عقد کیا ہو چکا ہے، تام ہو چکا ہے، اور جائز ہے تفریقِ صفَقہ بعد تمام العقد بھئی۔
لیکن اگر قبل القبض مستحق کوئی نکل آتا ہے، پھر تو کیا لازم آئے گا، تفریقِ صفَقہ قبل تمام العقد، لہٰذا اس صورت میں باقی کو بھی آپ کو واپس کرنے کا خیار ہوگا۔
أَمَّا لَوِ اسْتُحِقَّ الْبَعْضُ قَبْلَ الْقَبْضِ
اگر مستحق نکل آیا بعض کا قبضے سے پہلے
فَلِلْمُشْتَرِي حَقُّ الْفَسْخِ فِي الْبَاقِي
تو مشتری کو فسخ کا حق ہوگا باقی کے اندر بھی
لِتَفْرِيْقِ الصَّفْقَةِ قَبْلَ التَّمَامِ
تفریقِ صفَقہ کی وجہ سے عقد کے تمام ہونے سے پہلے۔
أَمَّا فِي الثَّوْبِ
باقی کپڑے کے اندر ہم نے شروع سے ہی خیار دے دیا تھا آپ کو،
فَالتَّبْعِيْضُ يَضُرُّهُ
کہتے ہیں: اس لیے کہ وہاں پر تقسیم کیا دیتی تھی، ضرر دیتی تھی، نقصان دیتی تھی، عیب پیدا کرتی تھی
فَلَهُ الْخِيَارُ فِي الْبَاقِي
اس لیے اس کو خیار تھا باقی کے اندر کہ واپس کرنا چاہے تو واپس کر سکتا ہے۔
وَمُدَاوَاةُ الْمَعِيْبِ وَرُكُوْبُهُ فِي حَاجَتِهِ رِضًاءٌ وَلَوْ رَكِبَ لِرَدِّهِ أَوْ سَقْيِهِ أَوْ شِرَاءِ عَلَفِهِ وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ فَلَا
صورتِ مسئلہ یہ ہے: آپ نے کسی سے کوئی چیز خریدی اور اس میں پھر آپ کو عیب کا پتہ چلا، اور آپ نے اس کو ٹھیک کروانا شروع کر دیا۔
غلام یا باندی خریدی بھئی عیب کا پتہ چلا، آپ نے ان کا علاج معالجہ شروع کروا دیا، تو یہ رضامندی کی علامت ہے، اب آپ کو خیارِ عیب حاصل نہیں، عیب کی وجہ سے اب واپس نہیں کر سکتے۔
یا گاڑی آپ نے خریدی، اس میں آپ کو خرابی کا پتہ چلا، آپ نے ٹھیک کروانا شروع کر دی،
تو یہ کس چیز کی علامت ہے؟ لہٰذا اب خیارِ عیب آپ کا کیا ہوا ساقط، فوراً ختم ہو جائے گا۔
اسی طرح اپنی مرضی سے سواری پر اپنے کام کے لیے سوار ہو جانا، یہ بھی خیارِ عیب کو ختم کر دے گا بھئی۔
آپ نے گاڑی خریدی، آپ کو اس میں عیب کا پتہ چل گیا، پھر آپ اپنے کام سے اس پر سوار ہو کر اسلام آباد کا رخ کر رہے ہیں، معلوم ہوا یہ کس چیز کی علامت ہے؟ رضامندی، اپنا کام اس پہ کر رہے ہیں، سمجھ میں آیا، جیسے عیب کا پتہ چلے اب آپ اس کو اپنی حاجت میں استعمال نہیں کر سکتے ورنہ آپ کا خیار ختم ہو جائے گا۔
یہ معنیٰ ہے بھئی، اور اگر بھئی، واپس کرنے کے لیے سوار ہوئے بھئی، گاڑی آپ نے خریدی اس میں عیب کا پتہ چلا، تو اب آپ کا ارادہ بنا نہیں بھئی میں یہ واپس کرتا ہوں، اور پھر گاڑی میں بیٹھے اور واپس لے کر جا رہے ہیں واپس کرنے کے لیے، تو اب یہ خیارِ عیب کو ختم ساقط نہیں کرتی بھئی، یہ تو اب آپ، یہ تو مفضیٰ الی الرد ہے، یہ سواری تو آپ کو اب کہاں تک پہنچانے والی ہے جو آپ سوار ہوئے ہیں؟ رد تک پہنچا رہی ہے۔
اسی طرح بھئی، آپ نے کوئی جانور خریدا اور اس کو اس پر سوار ہوئے پانی پلانے کے لیے لے جاتے ہوئے اس پر سوار ہوئے، یا اس کو چارہ کھلانے کے لیے لے جا رہے ہیں یا چارہ لینے کے لیے جا رہے ہیں اس پر سوار ہوئے بھئی سوار ہوئے۔
اور اس کے علاوہ چارہ بھی نہیں تھا آپ کے پاس بھئی۔
کوئی چارہ کار نہیں تھا آپ کے پاس بھئی، سمجھ میں آیا، وہ چارہ نہ سمجھو۔
اس کے علاوہ کوئی سـ... واپس بھئی آپ ضعیف تھے، بیمار تھے یا کوئی مسئلہ تھا، تو اب پانی پلانے کے لیے سواری سوار ہونا ضروری تھا، یا چارہ لانے کے لیے آپ کے لیے سوار ہونا ضروری تھا، تو یہ بھی رضا کی علامت نہیں ہے۔
یہ تو آپ کیا کر رہے ہیں، اس کو پانی پلانا چاہتے ہیں یا اس کو چارہ کھلانا چاہتے ہیں اور بغیر سواری کے اب آپ کے لیے ممکن ہی نہیں تھا، یہ رضا کی علامت نہیں ہے، ہاں اپنے کسی کام سے سوار ہوں تو پھر خیارِ عیب ختم ہوگا، ان صورتوں میں نہیں ختم ہوگا، دیکھیے بھئی:
وَمُدَاوَاةُ الْمَعِيْبِ
اور علاج معالجہ کرانا عیب دار چیز کا
وَرُكُوْبُهُ
اور اس پر سوار ہونا
فِي حَاجَتِهِ
وَرُكُوْبُهُ
اور مشتری کا سوار ہونا اس پر بھئی
فِي حَاجَتِهِ
یا رُكُوْبُ الْمَعِيْبِ
معیب پر کیا ہونا؟
سوار ہونا
فِي حَاجَتِهِ
کس میں؟
مشتری کی، ہاں اپنی حاجت میں، اپنی حاجت کے لیے اس کا اس پر سوار ہونا
رِضَاءٌ
یہ کیا ہے، رضا ہے۔
وَلَوْ رَكِبَ لِرَدِّهِ
اور اگر سوار ہوا وہ اس کو واپس کرنے کے لیے
أَوْ سَقْيِهِ
یا اس کو پانی پلانے کے لیے
أَوْ شِرَاءِ عَلَفِهِ
بِفَتْحِ اللَّامِ بھئی، یا اس کے لیے چارہ خریدنے کے لیے
وَلَا بُدَّ لَهُ
اور ضروری تھا لَهُ أَيْ لِلْمُشْتَرِي
مِنْهُ
أَيْ مِنَ الرُّكُوْبِ بھئی، اور ضروری تھا مشتری کے لیے رکوب بھئی، رکوب کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں تھا وہ جا نہیں سکتا تھا
فَلَا
تو یہ پھر رضا کی علامت نہیں۔
وَلَوْ قُطِعَ بَعْدَ قَبْضِهِ أَوْ قُتِلَ بِسَبَبٍ كَانَ عِنْدَ بَائِعِهِ رَدَّهُ وَأَخَذَ ثَمَنَهُ
صورتِ مسئلہ یہ ہے:
آپ نے زید سے غلام خریدا اور اس غلام نے زید کے پاس چوری کی تھی، لیکن آپ کو پتہ نہیں تھا، آپ نے خرید لیا اور آپ کے قبضے میں آنے کے بعد بھئی، قاضی کے حکم سے اس غلام کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔
تو اب کیا کریں گے بھئی؟ یا آپ نے غلام خریدا زید سے، اس غلام نے زید کے پاس ایک قتل کیا تھا، آپ کو علم نہیں تھا، جب آپ نے قبضہ کر لیا تو آپ کے قبضے کے میں آنے کے بعد قاضی کے حکم سے اس غلام کو بھی کیا کر دیا گیا قصاصاً، قتل کر دیا گیا۔
اب کیا کریں بھئی؟
تو یاد رکھو، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ استحقاق کے درجے میں ہے، اور صاحبین کے نزدیک یہ عیب کے درجے میں ہے۔
اور عیب اور استحقاق کے مسئلے آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، اب آسان ہے نکالنا کہ کیا صورت بنے گی۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ کس کے درجے میں ہے؟
استحقاق کے درجے میں ہے بھئی۔
غلام کا آپ کے پاس ہـ... ہاتھ کٹا ہے، تو یہ اسی طرح ہے جیسے مبیع کے اندر چیز اور مستحق نکل آئے بھئی۔
اور مستحق نکل... کا حصہ دینے سے اس چیز کے اندر عیب آتا ہو جیسے کپڑے کے اندر تھا، غلام میں بھی ہاتھ کٹے گا تو کیا آ جائے گا؟
عیب، تو کیا حکم وہاں ہم نے لگایا تھا بھئی؟
واپس کرنے کا خیار ہوگا اور ثمن کیا کر سکتا ہے، لے سکتا ہے، تو واپس کر لے اور اس سے اپنے ثمن وصول کر لے۔
اسی طرح قتل کی صورت ہے بھئی،
تو گویا سارے مبیع کا کوئی مستحق نکل آیا، تو اس صورت میں اب رد تو ہو نہیں سکتا تو گویا سارے مبیع کا کوئی مستحق نکل آیا، تو اب سارے کے پیسے کیا کر لیں گے بائع سے، لے لیں گے۔
جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ عیب کے درجے میں ہے، اس لیے کہ گـ... غلام کا ہاتھ کاٹنے کا سبب ہے چوری، اور چوری کس کے پاس پائی گئی ہے؟
بائع کے پاس، تو گویا اس نے ہاتھ کٹا غلام آپ کو بیچا بھئی۔
چوری کا سبب کیا تھا، ہاتھ کاٹنے کا سبب کیا تھا، چوری، اور سبب تو پایا گیا بائع کے پاس، تو گویا یہ ہاتھ کا کـ... اس ہاتھ کاٹنے کی نسبت سبب کی طرف ہوگی، تو گویا اس نے کیسا غلام آپ کو بیچا؟
عیب دار بیچا ہے، اور اس صورت میں آپ کو کیا حق حاصل ہوتا ہے؟
وا... جی، واپس کرنے کا حق ہوتا ہے۔
لیکن اگر آپ کے پاس کوئی نیا عیب آ جائے پھر واپس کر سکتے ہیں؟
نہیں۔ بھئی، تو اس نے تو آپ کو غلام سالم حوالے کیا تھا
اور آپ کے پاس آ کر کیا آیا، اس کا ایک ہاتھ کٹ گیا، تو واپسی کا اختیار تو آپ کو نہیں ہے، البتہ صرف نقصان وصول کر لیں گے۔
کیا کر لیں گے؟
نقصان وصول کر لیں گے۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو کیسے نقصان وصول کریں گے؟ کہتے ہیں: بھئی، دونوں کی قیمتوں کا فرق نکال لو۔
مقطوع الید غلام کی کتنی قیمت ہے، مثلاً ڈیرھ لاکھ بھئی، اور دونوں ہاتھ جس کے صحیح ہوں اس کی قیمت ہے ڈھائی لاکھ، تو دونوں میں کتنا فرق نکلا بھئی؟
ایک لاکھ کا، یہ اب آپ اس سے وصول کر لیں گے اور واپس نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کے پاس اس میں ایک عیبِ جدید آ چکا ہے۔
اچھا، اور دوسری صورت اگر آپ کے پاس غلام قتل ہوا، تو قتل کا سبب تو کس کے پاس پایا گیا؟
لہٰذا اس کی طرف نسبت ہوگی، تو اب بھی فرق وصول کر لیں گے، کیا کر لیں گے، صرف نقصان وصول کر لیں گے، کیونکہ اس نے تو آپ کو زندہ غلام حوالے کیا تھا، اور آپ کے پاس آ کر وہ ختم ہو گیا، مر گیا، تو فرق دیکھیں گے بھئی کیسے، ایک غلام ہوگا معصوم الدم
اور ایک غلام جس نے قتل کیا وہ کیا بن جاتا ہے بھئی، مباح الدم۔
دونوں کے اندر فرق نکالیں گے جو قیمت لگانے والے ہوتے ہیں بھئی،
تو جو فرق ہوگا وہ نقصان اس سے کیا کر لے گا؟
تو ایک معصوم الدم عام غلام ہے وہ معصوم الدم ہے بھئی،
سمجھ میں آیا بھئی، اس کا خون وغیرہ... خون محفوظ ہے بھئی، اور ایک ہے مباح الدم جس نے کیا کر دیا ہے دوسرے کا، قتل کر دیا ہے، تو اب اس کو قتل کیا جائے گا قصاص کے اندر فیصلہ ہو گیا ہے، وہ مباح الدم ہو چکا ہے بھئی، جی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
وَلَوْ قُطِعَ بَعْدَ قَبْضِهِ
اور اگر کاٹ دیا گیا ہاتھ کس کے بعد بھئی؟
قبضے کے، مشتری کے قبضے کے بعد بھئی۔
أَوْ قُتِلَ
یا کیا کر دیا گیا، قتل کر دیا گیا
بِسَبَبٍ كَانَ عِنْدَ بَائِعِهِ
کسی ایسے سبب کی وجہ سے جو کس کے پاس تھا؟
دیکھا، قطع کا سبب بھی بائع کے پاس، قتل کا سبب بھی بائع کے پاس۔
رَدَّهُ
اس کو کیا کرے گا، واپس کر دے گا
وَأَخَذَ ثَمَنَهُ
اور اس کے ثمن کو کیا کرے گا، لے لے گا۔
تو دیکھا، دو لفظ ہیں: واپس بھی کرے گا اور ثمن بھی لے...
اب صاحبِ کتاب بتائیں گے بھئی، یہ واپس کرنا اور پیسے لینا یہ ہاتھ کٹنے کی صورت میں ہے۔
جب قتل ہو جائے پھر تو واپسی ممکن نہیں، پھر صرف کیا ہے، پیسے لینا بھئی، دیکھیے:
کہتے ہیں:
الرَّدُّ فِي صُوْرَةِ الْقَطْعِ
رد کرنا قطع کی صورت میں ہے، اس وقت واپس ہو سکتا ہے۔
أَمَّا فِي الْقَتْلِ فَلَا رَدَّ
اما فی القتل فلا رد، اس وقت تو واپس نہیں ہو سکتا، وہ تو مر چکا ہے۔
بَلْ أَخْذُ الثَّمَنِ
بل اخذ الثمن، بلکہ کیا ہوگا، ثمن لیے جائیں گے
عِنْدَ أَبِي حَنِيْفَةَ
عِندَ اَبِی حَنِیْفَةَ رَحْمَةُ اللهِ، امام، اہم... امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک
لِأَنَّ هَذَا بِمَنْزِلَةِ الِاسْتِحْقَاقِ عِنْدَهُ
اس لیے کہ یہ کس درجے میں ہے، استحقاق کے درجے میں ہے ان کے نزدیک۔
وَأَمَّا عِنْدَهُمَا
واَما عِندَہُما، باقی صاحبین کے نزدیک
فَيَرْجِعُ بِالنُّقْصَانِ
فیرجع بالنقصان، وہ رجوع بالنقصان کرے گا
لِأَنَّ هَذَا بِمَنْزِلَةِ الْعَيْبِ
اس لیے کہ یہ کس کے درجے میں ہے، عیب کے درجے میں ہے
فَيُقَوَّمُ بِدُوْنِ هَذَا الْعَيْبِ
پس اس کی قیمت لگائی جائے گی اس عیب کے بغیر
ثُمَّ بِهَذَا الْعَيْبِ
پھر اس عیب کے ساتھ۔
اس عیب کے بغیر بھئی، ایک عام غلام کے اعتبار سے اس کی قیمت لگائی جائے گی اور پھر مقطوع الید ہونے کے اعتبار سے اس کی قیمت لگائی جائے گی
فَيَضْمَنُ الْبَائِعُ تَفَاوُتَ مَا بَيْنَهُمَا
تو ضامن بنے گا بائع تفاوتَ ما بينهما،
اس تفاوت کا جو ان دونوں کے بیچ ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی، ان دونوں میں جو فرق ہے اس کا ضامن بنے گا، ضمان لیا جائے گا۔
صاحبین اس کو کہتے ہیں: یہ اسی طرح ہے
صاحبین فرماتے ہیں: یہ اسی طرح ہے جیسے کسی شخص نے حاملہ باندی خریدی
اور مشتری کو پتہ نہیں تھا یہ حاملہ ہے، اس نے خرید لی۔
خریدنے کے بعد اس کے پاس آ کر باندی نے ایک بچے کو جنم دیا اور لیکن ولادت کے وقت وہ مر گئی بھئی۔
ولادت کے وقت وہ مر گئی، تو اب دیکھیے اس کی ہلاکت کا سبب وہ کہتے ہیں حمل ہے۔
کیا ہے؟
حمل ہے۔
اور
جی۔
تو حمل ہے، اور حمل کس کے پاس سے آیا بھئی؟
بائع کے پاس سے۔
تو اس صورت میں امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ حاملہ اور غیر حاملہ کے درمیان جو قیمت کا فرق ہے وہ کیا کیا جائے گا، اس سے وصول...
جیسے یہاں اس مسئلے کے اندر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ باندی کی قیمت لگائی جائے حاملہ کی بھی اور غیرِ...
اور دونوں کے درمیان جو فرق ہو وہ اس سے لے لیا جائے، یعنی رجوع بالنقصان کا کہتے ہیں یہاں پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ
سمجھ میں آیا، تو دیکھو اس مسئلے کے اندر امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ ثمن نہیں لے گا سارے بلکہ کیا کرے گا، رجوع بالنقصان کرے گا۔
تو باقی یہ جو ہم نے صورتیں ذکر کیں ان میں بھی اسی طرح ہے، وہاں بھی کیا کرے گا، رجوع بالنقصان کرے گا بھئی۔
كَمَا لَوْ اشْتَرَى جَارِيَةً حَامِلًا فَمَاتَتْ فِي يَدِهِ بِالْوِلَادَةِ
جیسے کہ مشتری نے خریدا جاریةً حاملاً، ایک حاملہ باندی کو خریدا فماتت فی یده بالولادة، تو مر گئی وہ باندی اس مشتری کے قبضے میں ولادت کی وجہ سے
فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِفَضْلِ مَا بَيْنَ قِيْمَتِهَا حَامِلًا وَغَيْرَ حَامِلٍ
تو مشتری رجوع کرے گا بفضلِ ما، اس زیادی کے... وہ زیادی جو کس کے درمیان ہے، بین قیمتہا حاملاً، اس باندی کی قیمت اس حال میں کہ وہ کیا ہو، حاملہ، اور غیرِ حاملہ، ان دونوں کے درمیان جو زیادی یا فرق ہے مولانا، اس کے ساتھ کیا کرے گا
رجوع کرے گا بھئی، رجوع کرے گا۔
جو زائد ہو ان دونوں میں۔
وَلِأَبِي حَنِيْفَةَ
اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، امام صاحب
فرماتے ہیں نہیں بھئی
۔ اس صورت پر آپ قياس نہیں کر سکتے۔ آپ اس کو جیسے اس مسئلے میں میں نے کہا تھا رجوع بالنقصان کر لے گا، لیکن یہ دو مسئلے آپ اس پر قياس نہیں کر سکتے بھئی۔ اس لیے کہ یہاں پر سبب جو پایا جا رہا ہے قطعِ ید کا یا قتل کا وہ بائع کے پاس ہے، جبکہ اس صورت میں سبب خود مشتری کے پاس تھا۔
کس کے پاس تھا؟ آپ نے اس کا سبب کیا بیان کیا ہلاکتِ جاریہ کا؟ حمل؟ نہیں بھئی، کہتے ہیں حمل نہیں اس کی ہلاکت کا سبب، حمل سے مر جاتی ہے عورت کوئی؟ نہیں، ہلاکت کا سبب ولادت ہے بھئی، کیا ہے؟ اور ولادت تو کس کے پاس پائی گئی؟ مشتری کے پاس پائی گئی، تو دونوں میں فرق ہے اس مسئلوں میں، وہاں سبب کس کے پاس پایا گیا؟ بائع کے پاس، اور یہاں سبب ولادت کس کے پاس پایا گیا؟ مشتری کے پاس بھئی۔
ولأبي حنيفة رحمه الله تعالى، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: أن سبب الهلاك كان في يد البائع، کہ سبب ہلاکت کا جو ہے وہ بائع کے قبضے میں ہوا۔ فإذا هلك في يد المشتري يكون مضافا إلى ذلك السبب، ہلاکت کا سبب کس کے قبضے میں تھا بھئی؟ بائع کے قبضے میں، کون سی صورتوں میں؟ وہ جو اوپر متن میں ذکر ہوئیں۔ وہ چوری کا سبب کس کے پاس تھا؟ وہ چوری سبب تھی، وہ بائع کے پاس، اور وہ جو اس نے قتل کیا تھا وہ بھی کس کے پاس تھا؟ بائع کے پاس۔ تو بس فإذا هلك في يد المشتري، پس جب وہ ہلاک ہوا مشتری کے قبضے میں، یعنی یہ وہ ہاتھ کاٹا گیا یا اس کو قتل کیا گیا، يكون مضافا إلى ذلك السبب، تو وہ ہاتھ کا کاٹنا یا وہ قتل کرنا یہ اس کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ اس سبب کی طرف، کس کی طرف؟ بخلاف الحمل، بخلاف کس کے؟ حمل کے، فإن الحمل ليس سببا للهلاك، اس لیے کہ حمل سبب نہیں ہے ہلاکت کا غالباً بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
ولو باع وبرئ من كل عيب صح وإن لم يعدها، صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، صورتِ مسئلہ کہ آپ کوئی چیز بیچنے لگتے ہیں دوسرے کو اور عقد کرتے ہوئے کہتے ہیں: "بھئی! یہ چیز میں نے آپ کو بیچی اور میں مگر میں اس کے تمام عیوب سے بری ہوں اس شرط پر"۔ "اس کے تمام عیوب سے کسی عیب کا میں ذمہ دار نہیں ہوں بھئی"، اور مشتری کہتا ہے: "ٹھیک ہے، مجھے منظور ہے قبول ہے بھئی"۔ تو کیا یہ براءت تمام عیوب سے صحیح ہے یا صحیح نہیں بھئی؟ صاحبِ کتاب نے بتلایا کہ براءت تمام عیوب سے صحیح ہے بھئی، صحیح ہے۔ لہذا اب کسی عیب کی وجہ سے اب مشتری واپس نہیں کر سکتا، اس کا خیارِ عیب ختم ہوا۔
ولو باع، اگر کسی نے چیز کو بیچا وبرئ من كل عيب، اس حال میں کہ وہ بری ہوا ہر عیب سے بھئی، صح، یہ کیا ہے؟ صحیح ہے وإن لم يعدها، اگرچہ وہ اس کو شمار نہ کرے۔ وعند الشافعي رحمه الله، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک لا يصح، صحیح نہیں ہے۔ بناء على أصله، بناء پر ان کے ضابطے کے بھئی، ان کے ضابطہ ہے کہ أن البراءة عن الحقوق المجهولة لا يصح عنده، اس لیے کہ ان کے نزدیک حقوقِ مجهولہ سے براءت صحیح نہیں بھئی۔
حقوقِ مجهولہ سے کیا ہے؟ براءت صحیح نہیں۔ بھئی! حقوقِ مجهولہ سے براءت کا اظہار کر رہا ہے، کر رہے ہو۔ بھئی! آپ نے چیز بیچی کس شرط کے ساتھ؟ کہ "میں اس کے تمام عیوب سے بری ہوں، کسی عیب کا ذمہ دار نہیں، کسی عیب کی وجہ سے تم مجھے واپس نہیں کر سکتے بھئی"۔ کہتے ہیں: بھئی دیکھو! عیب کی وجہ سے مشتری کو خیارِ عیب حاصل ہوتا ہے۔ یہ اس کا حق ہے، اور یہ حق اسے کب حاصل ہوتا ہے؟ جب عیب کا پتہ چلتا ہے۔ تو ابھی عیوب کا پتہ ہے اسے کچھ؟ اسے عیوب کا پتہ نہیں، تو حقوق بھی کیا ہوئے اس کے؟ مجهول ہوئے بھئی، رد کے جو حقوق ہیں وہ بھی مجهول ہوئے، اور مجهول چیز سے براءت صحیح نہیں، یہ ان کا ضابطہ ہے بھئی۔ تو ان کے نزدیک حقوقِ مجهولہ سے براءت صحیح نہیں۔
اس لیے کہ براءت ان کے نزدیک تملیک کا نام ہے، کس چیز کا نام ہے؟ تملیک کا نام ہے، اور تملیک کسی کو کسی چیز کا مالک مجهول چیز کا مالک عقد میں بنانا صحیح ہے؟ آپ نے اپنے ساتھی کو کہا: "بھئی! میں نے ایک لاکھ روپے میں ایک چیز آپ کو بیچ دی"۔ تو مبیع معلوم ہے کیا چیز ہے بھئی؟ مجهول چیز ہے، اور مجهول چیز کی بیع صحیح نہیں، متعین ہونا چاہیے مبیع۔ تو وہ فرماتے ہیں: براءت حقوقِ مجهولہ سے صحیح نہیں، اس لیے کہ براءت دراصل تملیک ہے، دوسرے کو کیا بنایا جاتا ہے؟ مالک بنایا جاتا ہے۔ کیسے مالک بناتے ہیں؟ دیکھو!
آپ نے میرا مثلاً ایک لاکھ روپیہ قرض دینا ہے۔ میں آپ کو کہتا ہوں: "میں نے آپ کو اپنے قرض سے کیا کر دیا؟ بری کر دیا"، تو براءت میں تملیک آ گئی یا نہیں آ گئی بھئی؟ تملیک آ گئی۔ آپ چاہیں تو اس کو رد بھی کر سکتے ہیں: "نہیں بھئی! مجھے آپ کی براءت منظور نہیں"، تو براءت نہیں ہوگی صحیح بھئی۔
تو دیکھا معلوم ہوا براءت میں تملیک ہوتی ہے، حتیٰ کہ دوسرے کو رد کرنے کا بھی اختیار ہوتا ہے۔ رد کر دے تو کیا ہو جایا کرتی ہے براءت؟ رد ہو جاتی ہے۔ میں نے اس کو کہا: "میں نے تیرا ایک لاکھ قرضہ معاف کر دیا"، وہ کہتا ہے: "مجھے کوئی منظور نہیں ہے، یہ منظور نہیں ہے"۔ تو بتائیے مولانا! میری براءت رد ہو گئی یا نہیں ہوئی بھئی؟ رد ہو گئی بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ تملیک ہے، کیا ہے؟ اور تملیک مجهول چیز میں صحیح ہے؟ ابھی مسئلہ ذکر ہوا، کوئی مجهول چیز بیچنا چاہیں، بیچ سکتے ہیں بھئی؟ نہیں، تملیکِ مجهول، لہذا یہ ان کے نزدیک صحیح نہیں بھئی۔
بناء على أصله أن البراءة عن الحقوق المجهولة لا يصح عنده، وعندنا يصح، اور ہمارے نزدیک صحیح ہے۔
کیوں؟ کیونکہ ہمارے نزدیک یہ تملیک نہیں ہے، یہ اسقاطِ حق ہے بھئی۔ اسقاطِ حق، اور اسقاط کر سکتا ہے بھئی، وہ اپنا حق، مشتری کیا کر رہا ہے؟ مشتری کو حق تھا کہ عیب کی وجہ سے چیز کو واپس کر دیتا، تو وہ اپنے اس حق کو ساقط کرنا چاہتا ہے، تو کیا کر سکتا ہے؟ اپنے حق کو ساقط کر سکتا ہے۔ وعندنا يصح، اذ إسقاط المجهول لا يضر، اس لیے کہ مجهول چیز کا اسقاط کوئی ضرر نہیں دیتا، یہ اسقاط ہے تملیک نہیں۔ لأنه لا يفضي إلى المنازعة، اس لیے کہ یہ جھگڑے کی طرف پہنچانے والا نہیں بھئی۔
ثم هذه، یہ اور مسئلہ اسی میں بتلایا، بھئی! اگر ایک شخص نے کہا: "میں نے آپ کو ایک چیز بیچی اور بیچتے ہوئے کہا: میں کسی عیب کا ذمہ دار نہیں، اس شرط پہ بیچتا ہوں تمہیں"، آپ نے کہا: "مجھے قبول ہے"۔ وہ چیز عقد تو ہم نے ابھی کر لیا، وہ چیز میں نے آپ کو کل حوالے کی مثلاً بھئی۔ اس دوران اس میں کئی نئے عیب پیدا ہو گئے بھئی۔ تو کیا وہ براءت صرف موجودہ عیوب کو بھی شامل، موجودہ عیوب کو شامل تھی؟ یا قبضے سے پہلے جو نئے عیوب آ گئے ان کو بھی شامل ہوگی بھئی؟ ان کی وجہ سے اب وہ واپس کر سکتا ہے یا واپس نہیں کر سکتا؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ براءت تمام عیوب کو شامل ہوگی، چاہے قدیم ہوں چاہے جدید ہوں قبل القبض بھئی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں بھئی! قدیم جو موجود ہیں ان کو تو شامل ہے، جو جدید ہیں ان کو شامل نہیں۔ وہ فرماتے ہیں اس لیے کہ براءت ہوگی صرف موجود سے، جو ابھی آئے ہی نہیں ان سے تو براءت ہو ہی نہیں سکتی۔ تو وہ تو بعد میں آئے ہیں، قبضے سے پہلے آئے ہیں البتہ، عقد کے بعد آئے ہیں۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دونوں کو شامل ہوگی، اس لیے کہ بائع کا مقصد کیا ہے؟ وہ بیع کو لازم کرنا، دونوں کیا کرنا چاہتے ہیں؟ بیع کو لازم کرنا چاہتے ہیں، اور وہ اسی صورت میں ہوگا کہ یہ براءت قبضے سے پہلے والے تمام عیوب کو بھی شامل ہو، ورنہ تو عقد لازم نہیں ہو جائے، ہوگا بھئی، پھر مبیع کیا ہے؟ بائع کے پاس واپس آ سکتا ہے، خیارِ عیب کی وجہ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
ثم هذه البراءة تشمل العيب الموجود، یہ براءت شامل ہے بھئی موجود عیب کو بھی وأيضا العيب الحادث قبل القبض، اور اس عیب کو بھی جو قبضے سے پہلے آیا ہے۔ وہ عیب جو پیدا ہوا ہے قبضے سے پہلے عند أبي يوسف رحمه الله، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، وعند محمد رحمه الله، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک لا تشمل العيب الحادث، یہ براءت جدید عیب کو شامل نہیں ہے بھئی، نئے پیدا ہونے والے عیب کو شامل نہیں۔ چلیے بس مولانا! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔