Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-018

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 82
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گذشتہ سبق میں ہم نے خیارِ رؤیت کے بارے میں پڑھا تھا بھئی، خیارِ رؤیت۔ کہ اگر انسان کوئی چیز دیکھے بغیر خرید لیتا ہے، تو دیکھ کر پسند نہ آئے تو اسے واپس کر سکتا ہے، اسے خیارِ رؤیت کہتے ہیں بھئی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا بغیر دیکھے بھی کسی چیز کو خریدنا صحیح ہے، صحیح ہے۔ کیونکہ اس میں جھگڑے کا خطرہ نہیں ہے، کیونکہ شریعت نے اسے حقِ فسخ دے دیا ہے بھئی۔ اور یہ اس کا ثبوت حدیث سے ہے بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارک ہے، مَنْ اشْتَرَى شَيْئًا لَمْ يَرَهُ فَلَهُ الْخِيَارُ إِذَا رَآهُ۔ اور نیز حدیث کے اندر صرف مشتری، اشترا کا لفظ آیا، معلوم ہوا یہ خیار صرف کس کے لیے ہے؟ مشتری کے لیے ہے، بائع کے لیے نہیں۔ بائع کے لیے نہیں۔ نیز اس کی کہتے ہیں تائید ہوتی ہے ایک واقعے سے بھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بصرہ کے اندر ایک زمین بیچی حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو۔ اور دونوں وہاں نہیں تھے، کہیں اور ہوں گے بھئی، اور بصرہ میں کوئی زمین خرید لی انہوں نے، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، پھر بیچ دیا اسے کس کو؟ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیچ دیا۔ تو حضرت طلحہ کے پاس بھئی کچھ لوگ آئے، کہا بھئی آپ کے ساتھ تو غبن ہو گیا، بڑی سستی زمین تھی آپ کو مہنگی دے دی گئی۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ بھئی میں نے اس کو ابھی تک، میں نے دیکھے بغیر خریدی ہے، اس لیے مجھے خیار حاصل ہوگا، کوئی بات نہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی کسی نے کہا بھئی کہ آپ کے ساتھ بھی غبن ہو گیا، بڑی مہنگی زمین تھی آپ نے سستی دے دی ان کو۔ تو انہوں نے فرمایا کوئی بات نہیں، میں نے بغیر دیکھے بیچی ہے، مجھے خیار حاصل ہوگا۔ اب دونوں مدعیِ خیار کے مدعی ہوئے، چنانچہ ثالث حضرت زبیر ابن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنایا گیا اور انہوں نے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں فیصلہ کیا کہ وہ مشتری ہیں، صرف ان کو خیار حاصل ہے اور بائع کو خیار حاصل نہیں۔ اور اس وقت صحابہ کی موجودگی میں یہ فیصلہ ہوا اور کسی نے اعتراض نہیں کیا، معلوم ہوا گویا کہ اس مسئلے پر کہ یہ خیار صرف مشتری کو حاصل ہے صحابہ کا بھی اجماع ہو گیا بھئی، اجماع ہو گیا۔ اور پھر آپ کو یہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ اس کی، خیارِ رؤیت کی کوئی مدت متعین نہیں ہے، جب تک کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے وہ خیار باطل ہو جائے بھئی، کوئی خاص مدت متعین نہیں، جب تک کوئی مبطل نہ پایا جائے گا مبطل، اس وقت تک یہ باطل نہیں ہوگا۔ اگرچہ وہ دیکھنے سے پہلے "رضیتُ" ہی کیوں نہ کہہ دے، راضی ہی کیوں نہ ہو جائے کہ بس میں راضی ہوں، جیسی بھی ہے چیز دیکھی ہی نہیں، بھئی خیارِ رؤیت تو حاصل ہی اس وقت ہوگا جس وقت رؤیت حاصل ہوگی۔ اور رؤیت سے پہلے خیار ہی نہیں تو اس کو فسخ بھی پہلے نہیں کر سکتے بھئی۔ لیکن اگر رؤیت سے پہلے فسخ کرنا چاہے تو فسخ کر سکتا ہے، اس لیے کہ یہ بیع بھی لازم نہیں اور جب بیع لازم نہیں تو وہ اس کو کیا کر سکتا ہے؟ فسخ کر سکتا ہے۔ لہٰذا ایک مرتبہ فسخ کر دی تو فسخ نافذ ہو گیا بھئی، اس کے بعد دیکھتا ہے اور پسند آتی ہے اور کہتا ہے میں اجازت دیتا ہوں، نہیں بھئی، اب اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ آپ تو کیا کر چکے ہیں؟ فسخ کر چکے ہیں بھئی۔ اور پھر اس کے بعد کچھ وہ چیزیں انہوں نے ذکر کی تھیں جو خیارِ رؤیت کو بھی باطل کر دیتی ہیں اور خیارِ شرط کو بھی بھئی۔ ایک تو اس میں اس کا عیب دار ہونا بھئی، اگر چیز مشتری کے پاس عیب دار ہو گئی تو خیارِ شرط بھی ختم، اسی طرح خیارِ رؤیت بھی ختم بھئی۔ اسی طرح اگر کوئی ایسا تصرف کر دیا جو فسخ کو قبول نہیں کرتا تو اس صورت میں بھی خیارِ شرط بھی ختم ہو جایا کرتا ہے اور خیارِ رؤیت بھی، جیسے غلام کو آزاد کر دیا یا مدبر بنا دیا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔ یا کوئی ایسا تصرف کر دیا جو غیر کے حق کو اس مبیع میں ثابت کر دیتا ہے بھئی، جیسے بیع کر دی کسی کے ساتھ، مطلق بیع بھئی، عام بیع، بغیر خیارِ شرط کے بھئی۔ تو جب بیع کی تو اب اس مبیع کا مالک کون بن چکا ہے؟ دوسرا مشتری بن چکا ہے۔ اسی طرح رہن کسی کے پاس رکھوا دیا، یہ بھی ایسا تصرف ہے کہ اب اس رہون کے ساتھ مرتہن کا حق وابستہ ہو گیا، اس کے پاس آپ نے چیز گروی رکھوا دی ہے تو وہ اب اس کے ذریعے آپ سے کیا کرے گا؟ اپنے پیسوں کو وصول کرے گا، اس کا حق متعلق ہو گیا، اب بھی خیارِ رؤیت ختم بھئی۔ یا اجارہ کیا مولانا، کرائے پر وہ چیز آگے دے دی تو اب مستاجر کا حق اس کے ساتھ کیا ہو گیا؟ وابستہ ہو گیا، باقاعدہ عقد ہوا ہے بھئی۔ تو یہ جو چیزیں ہیں جو فسخ کو قبول نہیں کرتی ہیں اور دوسرے کے حق کو ثابت کرتی ہیں، یہ تصرفات چاہے قبل الرؤیت ہوں، چاہے بعد الرؤیت ہوں، یہ کیا کرتے ہیں؟ خیارِ رؤیت کو ختم کر دیتے ہیں۔ اور اگر اس کے بجائے کوئی ایسا تصرف کر لیا جو غیر کے لیے کسی حق کو ثابت نہیں کرتا، مثلاً بائع نے چیز تو بیچ دی لیکن خیار خود رکھا، تو کیا مبیع اس کی ملک سے نکلا؟ نہیں۔ تو لہٰذا اب یہ ایسا تصرف ہے جس نے غیر کے لیے کسی حق کو اس مبیع میں ثابت نہیں کیا، تو اب خیارِ رؤیت ختم نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ ایسا تصرف ہے جس نے غیر کے لیے کوئی حق ثابت نہیں کیا۔ اسی طرح مساومہ بھاؤ تاؤ کر لیا کسی کے ساتھ، تو صرف بھاؤ تاؤ کرنے سے تو کسی کا حق اس چیز کے ساتھ متعلق نہیں ہوتا بھئی۔ یا کسی کو ہبہ کر دی لیکن سپرد نہیں کی اور ہبہ بھی بغیر سپرد کے تام نہیں، ہبہ تام کس سے ہوگی؟ سپرد سے، تو لہٰذا ابھی بھی کسی کا حق متعلق نہیں۔ تو یہ چیزیں جو ہیں، جو یہ تصرفات جو غیر کے حق کو ثابت نہیں کرتے، یہ اگر قبل الرؤیت ہوں تو پھر تو یہ خیارِ رؤیت کو باطل نہیں کرتے، لیکن بعد الرؤیت ہوں تو پھر یہ بھی کیا کر دیتے ہیں؟ خیارِ رؤیت کو باطل کر دیتے ہیں۔ دیکھنے کے بعد وہ اس کو بیچ رہا ہے، خیارِ شرط کے ساتھ ہی کیوں نہ بیچ رہا ہو، یا بھاؤ تاؤ کر رہا ہے، یا ہبہ بلا تسلیم کر رہا ہے، تو معلوم ہوا دیکھ چکا ہے، معلوم ہوا یہ اس پر راضی ہے۔ کیا ہے؟ راضی ہے، جبھی تو آگے بات کر رہا ہے اس کی بھئی۔ پھر اس کے بعد انہوں نے بتلایا تھا کس چیز کی طرف دیکھا جائے تو خیارِ رؤیت ختم ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی اگر ایک جیسے اجزا ہیں چیزوں کے، تو پھر اس میں تھوڑا سا نمونہ ہی دیکھ لینا کافی ہے، خیارِ رؤیت کیا ہو جائے گا؟ ختم۔ سارے کو دیکھنا ضروری نہیں بھئی، سارے کو تو ہر جگہ دیکھ بھی نہیں سکتے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو گندم کا ڈھیر ہے یا ایک جیسے اجزا والی، تو اس میں کچھ نمونے دیکھ لیے، اوپر اوپر سے دیکھ لیے، یہ کافی ہے بھئی، خیارِ رؤیت ختم ہوا۔ باندی کے بارے میں بھئی یا تو نمونہ دیکھ لو یا مقصود کو دیکھ لو، اور باندی کے اندر چہرہ مقصود ہے، تو چہرے کو دیکھ لیا تو خیارِ رؤیت ختم ہوا۔ اسی طرح جانور کے چہرے کو اور اس کے سرین، پچھلے حصے کو دیکھ لیا، تو یہ مقصود ہیں، خیارِ رؤیت ختم ہوا۔ لپٹا ہوا کپڑا ہے بغیر نشانات، نقش و نگار کے، یا کڑھائی وغیرہ کے بغیر، سادہ کپڑا، تو بھئی کوئی ایک حصہ بھی دیکھ لے، سارے کو کھول کر دیکھنا ضروری نہیں، خیارِ رؤیت ختم بھئی۔ لیکن اگر کڑھائی والا ہے یا نقش و نگار اس پر بنے ہوئے ہیں، تو اس صورت کے اندر وہ کڑھائی کا مقام یا وہ نقش و نگار کے مقام کو دیکھنا ضروری ہے۔ ہاں، جب اس کو دیکھ لے گا خیار کیا ہو جائے گا؟ ختم۔ سارے کو کھول کر دیکھنا ضروری نہیں۔ اسی طرح بتلایا تھا ایک وکیل بالشراء ہے، ایک وکیل بالقبض ہے، ایک ہے رسول۔ وکیل بالشراء جس کو خریدنے کے لیے آپ نے وکیل مقرر کیا کہ جاؤ میرے لیے وہ چیز خرید کر لاؤ کوئی۔ ایک وکیل بالقبض ہے کہ چیز آپ نے خرید لی لیکن اس کو پھر بھیجا کہ تم میرے وکیل ہو، جاؤ جا کر میری طرف سے اس چیز پر قبضہ کرو بھئی، یہ وکیل بالقبض ہے۔ اور ایک رسول ہے جسے وکیل نہیں بنایا، ویسے کہا جاؤ بھئی میری طرف سے میری وہ چیز، ویسے بھیجا بھئی جاؤ بھئی زید سے میں نے ایک فلاں چیز خریدی ہے اس پر، اس سے لے لو، وصول کر لو بھئی، قبضہ کر لو۔ اسے یہ نہیں کہا تو میری طرف سے وکیل ہے، یہ رسول ہے، ایلچی ہے، پیغام رساں ہے بھئی۔ تو یاد رکھو وکیل بالشراء کے اندر صاحبین کا بھی اتفاق، امام صاحب کا بھی اس بات پر کہ وکیل بالشراء اگر دیکھ لے گا تو خیارِ رؤیت موکل کا بھی ختم۔ اس لیے کہ عقد ہی وہ کر رہا ہے تو دیکھنا بھی اسی کا معتبر۔ اور وکیل، اور رسول، رسول میں اتفاق ہے صاحبین کا اور امام صاحب کا کہ دیکھ لے تو بھیجنے والے کا خیار ختم نہیں۔ ہاں، البتہ وکیل بالقبض میں اختلاف ہے، صاحبین فرماتے ہیں اس کا دیکھنا کافی نہیں، وہ دیکھ بھی لے پھر بھی کیا کر سکتا ہے؟ موکل کو خیارِ رؤیت ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، جب اس نے دیکھ لیا تو موکل کا بھی خیارِ رؤیت ختم ہوا۔ صاحبین کہتے ہیں نہیں بھئی اس کا دیکھنا کافی نہیں، اسے آپ، موکل نے صرف قبضے کے لیے بھیجا ہے، تو اسے قبضے کا وکیل تو بنایا ہے، دیکھنے کا وکیل، دیکھنے کی ولایت اسے حاصل نہیں، اسے صرف قبضے کے لیے بھیجا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں بھئی، کامل قبضہ اسی وقت ہوگا جب دیکھ کر لے۔ کیا کر، دیکھ کر، دیکھ کر اس پر کیا کرے؟ قبضہ کرے۔ دیکھے تو تھا تو صحیح پہلے کہ بھئی یہ وہی چیز ہے جس کے لیے مجھے بھیجا تھا یا کوئی اور چیز بھئی۔ تو وہ جب دیکھ لیتا ہے پوری طرح، دیکھنے کے بعد پھر اب قبضہ بھی کامل تصور ہوگا۔ تو کامل قبضے کے لیے دیکھنا ضروری، اور دیکھنا ضروری، تو جب اسے آپ نے قبضے کا وکیل بنایا ہے تو اسے دیکھنے کی ولایت بھی حاصل۔ قبضے کی ولایت اس کے سپرد کی ہے اور قبضہ کامل تو بغیر رؤیت کے نہیں ہو سکتا، تو دیکھنے کی ولایت بھی اسے حاصل ہوگی بھئی۔ دیکھنے کی ولایت۔ اس کے بعد یہ مسئلہ آپ نے پڑھا تھا اگر کسی نے گھر کو اندر سے، کمروں کو نہیں دیکھا، صحن کو دیکھ لیا یا باہر سے دیکھ لیا، تو کیا یہ کافی ہے؟ یا اسی طرح باغ کو؟ فرمایا بھئی ہمارے ائمہ کے زمانے میں اس علاقے وغیرہ میں مکانات سارے ایک جیسے ہوا کرتے تھے، تو ان کی روایات میں کیا آتا ہے بھئی؟ دیکھ لیا، کافی ہے، صحن کو دیکھ لیا، سارا گھر کا اندازہ ہو جاتا تھا، باقی سب کمرے اسی طرح کے ہوں گے، سب کے ایک جیسے ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج کل کہتے ہیں اپنے زمانے کی یہ بات کر رہے ہیں بھئی علامہ تاج الشریعہ کہ اب ہمارے زمانے میں مکانات بڑے مختلف ہو گئے ہیں، اب صرف باہر سے دیکھنا کافی نہیں بلکہ کیا کرے؟ اندر کمروں کو بھی دیکھے۔ اور آج کل تو بے انتہا تفاوت ہو چکا ہے، اب تو بالکل ہی باہر سے دیکھنے سے اندر کا کچھ بھی پتہ نہیں چلتا بھئی۔ اور پھر آپ کو اندھے کی خرید و فروخت کے بارے میں بتلایا تھا کہ اس، یہ خرید و فروخت کرتا ہے تو کیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟ انہوں نے بتایا اندھا خرید و فروخت کر سکتا ہے۔ بھئی پھر اگر یہ خرید لیتا ہے کوئی چیز تو کیا اسے خیارِ رؤیت حاصل ہے؟ کہا ہاں بھئی اسے بھی خیارِ رؤیت حاصل۔ بھئی خیارِ رؤیت کیسے حاصل ہے یہ تو دیکھ ہی نہیں سکتا؟ کہتے ہیں بھئی وہ فعل کر لے جس کے ذریعے اس چیز کا اسے پتہ چل جائے، تو پھر اس کا خیار کیا ہو جائے گا؟ بعض چیزوں کو ٹٹولنے سے، ہاتھ لگانے سے اس کو پتہ چل جائے گا بھئی، بکری وغیرہ خریدی ہے یا کوئی اور چیز اس طرح کی خریدی ہے تو، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور بعض چیزوں کو سونگھنے سے پتہ چلے گا بھئی، خوشبو وغیرہ ہے، بعض چیزوں کو چکھنے سے پتہ چلے گا۔ تو اس وقت پھر اس کا خیار ساقط ہو جائے گا جب وہ ہاتھ لگا دے گا یا سونگھ لے گا یا چکھ لے گا بھئی۔ اور اگر زمین خریدی تو پھر کہتے ہیں بھئی اس کے سامنے زمین کے اوصاف بیان کیے جائیں، اس اس طرح کی زمین ہے، سارے اوصاف بھئی بتلا دیے، اس طرح اس کے کناروں پر یوں درخت لگے ہوئے ہیں یا ایک طرف اس میں دیوار ہے یا دیوار نہیں، مطلب سارے اس زمین کی کیفیت اس کے سامنے ذکر کر دی جائے اور پھر وہ کہہ دیتا ہے مجھے قبول ہے، منظور ہے یہ بھئی، تو بس خیارِ رؤیت کیا ہوا اس کا؟ ختم۔ یا چاہے بیع سے پہلے ہی اس کو اگر اوصاف ذکر کر دیے بھئی، پھر تو اسے خیارِ رؤیت حاصل ہی نہیں ہے بھئی۔ خیارِ رؤیت تب ہوتا ہے جب دیکھا نہ ہو یا پتہ نہ ہو، یہاں تو اسے پتہ چل گیا سارا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی روایت تھی کہ اس کو ایسی جگہ پر کھڑا کر دیا جائے کہ اگر کوئی بینا شخص ہوتا تو وہ ساری زمین کا معائنہ کر لیتا، پھر یہاں کھڑے ہو کر وہ کہہ دے "رضیتُ"، تو خیارِ رؤیت کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔ لیکن صاحبِ کتاب نے بتلایا بھئی یہ اس روایت کا اعتبار نہیں بھئی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کو رد کیا بھئی۔ اور اس میں میں نے بتایا حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ کیا کرے؟ کسی کو وکیل بالقبض بنا دے۔ تو جب وکیل بالقبض ہے تو وہ یقیناً کیا کرے گا؟ دیکھ کر اس پر قبضہ کرے گا، اور وکیل کا دیکھنا موکل کا دیکھنا ہوتا ہے۔ تو لہٰذا اب خیارِ رؤیت ساقط ہوا اور چیز اس کے پاس پہنچی۔ اچھا۔ اس کے بعد یہ مسئلہ بھی آپ نے پڑھا تھا اگر کسی نے کسی ایک چیز کو دیکھا، دو کپڑے بھئی، دو چیزیں خریدیں جو مختلف ہیں، دو خریدیں، تین خریدیں، چار خریدیں، جتنی بھی بھئی، کم سے کم مقدار تو دو ذکر کر دیں، ان میں سے ایک پسند آتی ہے، باقی پسند نہیں آتی، یا کچھ پسند آتی ہیں، کچھ پسند نہیں آتیں۔ لیکن خریدی اس طرح کہ کچھ دیکھی تھیں اور کچھ نہیں دیکھی تھیں۔ ہاں، یوں بناؤ مسئلہ۔ کئی چیزیں خریدیں جو مختلف ہیں اور ان میں سے کچھ کو دیکھا تھا، کچھ کو دیکھا نہیں تھا، تو کیا اب اس کو خیارِ رؤیت ہے حاصل یا خیارِ رؤیت حاصل نہیں بھئی؟ کہتے ہیں ہاں بھئی اسے خیارِ رؤیت اب بھی حاصل ہے۔ اس لیے کہ معلوم چیز کے ساتھ جب مجهول مل جائے تو کل کا کل مجهول شمار ہوگا بھئی۔ معلوم کے ساتھ کیا مل جائے بھئی؟ مجهول مل جائے، تو کل کیا ہوگا؟ مجهول ہوگا۔ تو یہاں پر بھی اگرچہ کچھ دیکھی ہیں لیکن کچھ تو نہیں دیکھی تھیں تو کل کیا شمار ہوگا؟ مجهول۔ اب وہ جن کو نہیں دیکھا تھا انہیں دیکھا اور پسند نہیں آئیں بھئی، تو اس کو واپس کر سکتا ہے، لیکن صرف انہی کو نہیں واپس کرے گا بلکہ سارے کو واپس کرے گا یا سارے کو رکھے گا۔ اس لیے کہ ضابطہ آپ نے پڑھا تھا کہ پہلا ضابطہ یہ کہ خیارِ رؤیت تمامِ عقد سے مانع ہے، اس کے ہوتے ہوئے عقد تام نہیں، کامل رضامندی نہیں۔ اور دوسرا ضابطہ یہ کہ تفریقِ صفقہ قبل تمامِ العقد جائز نہیں، اور تفریقِ صفقہ بعد تمامِ العقد، عقد تام ہونے کے بعد تفریقِ صفقہ جائز ہے، عقد تام ہونے سے پہلے تفریقِ صفقہ جائز نہیں۔ صفقہ کس کو کہتے ہیں؟ وہ ساری چیز جس کا ایجاب ہوا ہے۔ تو اس نے بھئی جس سے آپ نے چیز خریدی اس نے تو ایک ہی ایجاب کے ساتھ یہ ساری چیزیں آپ کو بیچی تھیں، اگر الگ الگ ایجاب ہوئے تھے پھر تو کئی بیوع ہو گئیں، ہر ایک کا حکم الگ ہو جائے گا اس کے مطابق، یہاں تو مسئلہ یہ چل رہا ہے کہ اس نے ایک ہی ایجاب کے ساتھ یہ ساری چیزیں آپ کو اکٹھی بیچی ہیں، تو جب ایجاب اکٹھا ہوا ہے تو قبول یا رد بھی کیا ہونا چاہیے؟ اکٹھا ہونا چاہیے بھئی۔ لہٰذا رکھے تو سب رکھے، واپس کرنے ہیں تو سب واپس کرے۔ پھر اس کے بعد یہ بھی بتلایا تھا کہ اگر کسی نے کوئی چیز خریدی اور پھر دیکھا کہ بھئی اس کو میں نے دیکھا تو تھا پہلے، لیکن اب اس کے اوصاف بدل چکے ہیں، کل جب میں نے دیکھا تھا اس کے کچھ اور اوصاف تھے، آج کیا ہیں اس کے کچھ اور اوصاف ہیں، کل دیکھا تھا یا ہفتہ پہلے دیکھا تھا بھئی، یہ چیز تو بدل گئی۔ تو بھئی اب اس کو خیار ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں خیار ہے، اس لیے کہ اس کے اوصاف جدید آ چکے ہیں اور رؤیت کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ اس چیز کا پتہ لگ جائے، اس کے اوصاف کا پتہ چل جائے، اور اب تو اوصاف کیا ہو چکے ہیں؟ بدل چکے ہیں، وہ اوصاف رہے ہی نہیں، نئے اوصاف آئے ہیں، تو پھر شریعت اسے کیا دے دیتی ہے؟ خیارِ رؤیت دے دیتی ہے۔ لیکن اگر اس مسئلے میں اختلاف ہو گیا، بائع کہتا ہے چیز نہیں بدلی، اسی طرح ہے جیسے ایک ہفتہ پہلے آپ نے دیکھی تھی، مشتری کہتا ہے نہیں بدل چکی ہے بہت زیادہ بھئی۔ پھر کس کے قول معتبر ہوگا؟ بائع کا قول معتبر، اس لیے کہ مشتری ہوا مدعی کہ یہ بدل گئی ہے، مدعی ہوا، اور بائع ہوا منکر، اور مدعی کے ذمے ہوتے ہیں بینہ، اور منکر کے ذمے قسم ہوتی ہے۔ تو اب بائع کا قول معتبر ہے، اس کی قسم اس سے لی جائے گی اگر یہ بینہ پیش نہ کر سکا بھئی، تو پھر بائع سے قسم لی جائے گی اور اس پر فیصلہ کر دیا جائے گا بھئی۔ مشتری کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور اگر اختلاف اس بات میں ہو، بائع کہتا ہے آپ نے پہلے چیز کو دیکھ لیا تھا بھئی تو اب آپ کو خیارِ رؤیت نہیں۔ وہ کہتا ہے نہیں بھئی میں نے پہلے دیکھا ہی نہیں تھا اس کو، اب رؤیت اور عدمِ رؤیت میں اختلاف آ گیا، تو پھر کس کا قول معتبر ہے؟ مشتری اس لیے کہ بائع دعویٰ کر رہا ہے، تو نے دیکھا تھا؟ مشتری انکار کر رہا ہے، میں نے نہیں تو وہ منکر ہوا۔ تو بائے کے ذمے ہے گواہ پیش کرنا، اس کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور مشتری اس قسم کھائے گا، تو پھر اس لیے کہا مشتری کا قول معتبر ہے۔ اس کے بعد یہ مسئلہ چل رہا تھا کہ ایک شخص نے جتی کپڑے خریدے بھئی۔ جتی کپڑے خریدے اور پھر بغیر دیکھے بھئی، بغیر دیکھے خرید لیے، گٹھڑی خرید لی اور پھر اس میں سے ایک تھان آگے کیا کر دیا؟ بیچ دیا۔ یا کسی کو ہبہ کیا اور سپرد بھی کر دیا، تاکہ ہبہ کیا ہو جائے؟ تام ہو۔ اس لیے سپرد کرنے کی قید لگائی، تاکہ ہبہ تام بنے یہاں پر بھئی۔ تو کسی کو کپڑا بیچ دیا یا ہبہ کر دیا اور سپرد بھی ہو گیا، تو اب غیر کا حق اس سے وابستہ ہو گیا۔ تو لہٰذا اب خیار رویت اور خیار شرط کی وجہ سے باقی کپڑوں کو دیکھتا ہے اور پسند نہیں آئے تو واپس نہیں کر سکتا۔ خیار شرط اور خیار رویت۔ کیوں نہیں واپس کر سکتا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ آپ نے پڑھا ہے خیار شرط تو کس چیز سے مانع ہے؟ تمام عقل سے۔ وہ تو ابتداء حکم ہی کو صحیح مانع ہے۔ تملیق کو شروع سے ہی آنے ہی نہیں۔ تو جب تملیق ہی نہیں تو عقد کہاں سے تام؟ اور خیار رویت جو ہے وہ وہ تمام تمام حکم سے مانع ہے۔ حکم کو تام ہونے ہی نہیں دیتا خیار رویت۔ تو معلوم ہوا بس یہ بات سمجھو، دونوں کے ہوتے ہوئے عقد تام نہیں۔ جب تک خیار شرط ہے، عقد تام نہیں۔ جب تک خیار رویت ہے، عقد تام نہیں۔ اس لیے کہ عقد تام تب ہوگا جب پوری رضامندی پائی جائے۔ اگر آپ نے خیار شرط رکھا ہو تو پوری رضامندی ہے؟ عقد تام نہیں۔ جب آپ نے اس کو خیار رویت ابھی چیز کو دیکھا ہی نہیں ہے تو آپ کو پوری رضامندی ہے؟ پوری رضامندی نہیں۔ تو عقد تام تب ہوتا ہے جب پوری رضامندی پائی جائے اور یہاں پر پوری رضامندی نہیں۔ لہٰذا خیار رویت اور خیار شرط کے اندر عقد تام نہیں۔ اور اب جب اس کی وجہ سے آپ باقی کپڑوں کو واپس کرنا چاہتے ہیں، تو اب یہ تمام عقد سے پہلے کیا لازم آئے گا؟ تفریق صفقہ۔ ایک چیز تو بیچ چکے ہیں یا ہبہ کر چکے ہیں، باقی واپس کر رہے ہیں۔ بھئی یہ آپ نہیں کر سکتے، کچھ ایک چیز رکھ لی گویا کہ اور باقی چیزیں کیا کر رہے ہیں؟ واپس کر رہے ہیں۔ نہیں، ایسا نہیں کر سکتے۔ واپس کرنی ہوتی ہیں تو ساری کرے گا اور رکھنی ہے تو ساری رکھے گا۔ لہٰذا واپس کر ہی نہیں سکتا، اس لیے کہ ہبہ سپرد کر چکا ہے دوسرے کے، ہبہ بھی تام، دوسرے کا حق وابستہ، بیع کر چکا ہے، دوسرا مالک بن چکا ہے، تو لہٰذا اب واپس کرنے کی کوئی صورت ہی نہیں۔ اور اگر ہاں، البتہ خیار عیب کی وجہ سے واپس کر سکتا ہے، اس لیے کہ خیار عیب تمام عقد سے مانع نہیں۔ ہاں قبل القبل ہو تو یہ تمام عقد سے مانع ہے۔ یہ بات چل رہی تھی بھئی، اس دن غور سے سننا بھئی۔ خیار عیب کیا ہے؟ تمام عقد سے مانع نہیں۔ قبل القبل یہ مانع ہے تمام عقد سے اور بعد القبل یہ مانع نہیں تمام عقد سے۔ دیکھو، صورت یہ ہے، ایک آدمی نے مطلق بیع کی۔ چیز دیکھ لی ہے، ویسے بیع کی، خیار شرط نہیں رکھا، تو کامل رضامندی آ گئی یا نہیں آ گئی؟ کامل رضامندی آ گئی، عقد تام ہو گیا۔ یا اس نے خریدا، ایک صورت یہ، دوسری صورت، اس نے چیز کو خریدا تو خیار شرط کے ساتھ ہے، لیکن پھر بیع کی کیا کر دی؟ اجازت دے دی، اجازت دے دی۔ چیز تو دیکھ چکا ہے وہ، تو اب بھی کیا ہے یہ کامل رضامندی۔ تیسری صورت بھئی، ایک چیز اس نے بغیر دیکھے خریدی ہے، لیکن پھر دیکھ کر دیکھا اور اس پر قبضہ بھی کر لیا، مارا نام، تو یہ بھی کس چیز کی علامت ہے؟ کامل رضامندی۔ تینوں صورتیں کون سی ہیں؟ بھئی بیع مطلق کی یا خیار شرط کے ساتھ کی، لیکن پھر کیا کر دی؟ اجازت دے دی، یا بغیر دیکھے چیز خریدی، لیکن پھر دیکھ کر اس پر کیا کر لیا؟ قبضہ کر لیا۔ یہ ساری کس چیز کی علامتیں ہیں؟ کامل رضامندی کی علامتیں۔ لیکن پھر بھی ایک امکان ہے، ہو سکتا ہے اس چیز کے اندر کوئی عیب ہو اور جب عیب ہوگا، تو مشتری اس پر راضی نہیں ہوگا، تو کامل رضامندی اس کی نہ پائی گئی، لہٰذا بیع کو تام نہیں ہونا چاہیے۔ یہ امکان ہے یا نہیں بھئی؟ ہو سکتا ہے مبیع میں کوئی عیب ہو جو بائع کے پاس سے ہی آیا ہے۔ مشتری کو اس کی وجہ سے وہ مبیع پسند نہ آئے، اس پر راضی نہ ہو، تو لہٰذا جب وہ راضی نہیں ہوا، تو پھر بیع کو تام نہیں ہونا چاہیے۔ یہ خیار عیب کی وجہ سے یوں کہو، بیع کو تام نہیں ہونا چاہیے۔ تو صاحب کتاب آپ کو بتائیں گے بھئی، کہ ٹھیک ہے، یہ امکان اب بھی موجود ہے کہ ہو سکتا ہے مبیع میں کوئی عیب ہو اور مشتری اس پر راضی نہ ہو تو کامل رضامندی نہیں پائی گئی، جب کامل رضامندی نہیں تو پھر بیع کو تام نہیں ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں لیکن بھئی، امکان عیب ہے، کوئی قطعی طور پر اس میں عیب موجود ہے؟ تو صرف ایک امکانی اور وہمی چیز کی وجہ سے ہم یہ حکم لگا دیں کہ بیع ہی تام نہیں۔ یہ درست نہیں۔ ہاں، اگر اس امکان عیب کے ساتھ ایک چیز اور مل گئی، اور وہ کیا؟ عدم قبضہ، کیا؟ عدم قبضہ۔ ابھی قبضہ بھی نہیں کیا مولانا، امکان عیب بھی ہے اور قبضہ بھی نہیں کیا۔ نہیں کیا، تو قبل القبل تو بیع کے فسخ ہونے کا بھی احتمال ہے بھئی، کس طرح؟ مبیع ہی بائع کے پاس کیا ہو جائے؟ ہلاک۔ جب مبیع بائع کے پاس ہلاک ہو گیا، تو جس پر عقد واقع ہوا تھا، وہ ختم ہوا، جب وہ ختم ہوا تو عقد بھی کیا ہو گیا؟ ختم ہو گیا۔ تو یہ ایک امکان تھا کس چیز کا؟ ایک امکان تھا عیب کے ہو جانے کا اور دوسری چیز اس کے ساتھ مل گئی عدم قبضہ اور عدم قبضہ سے بھی کیا ہے؟ بیع کس کس مقام پر ہے؟ مقام فسخ میں ہے۔ ابھی بھی فسخ ہونے کا امکان ہے، دو چیزیں مل گئی مولانا، تو اب بیع تام نہ ہوئی بھئی۔ اب بیع تام نہ ہوئی۔ تو دیکھو، ایک امکان عیب، ایک عدم قبضہ، یہ ملے تو بیع تام نہیں ہوئی۔ تو معلوم ہوا خیار عیب جو ہے وہ قبل القبل کیا ہے؟ عقد کو تام نہیں۔ کیونکہ قبل القبل یہ دو چیزیں آ گئیں، ایک امکان عیب، دوسرا عدم قبضہ، لہٰذا بیع تام نہیں۔ لیکن اگر قبضے کے بعد دیکھا جائے، تو صرف امکان عیب ہے، اور عدم قبضہ ہے یا وہ ختم ہو چکا؟ قبضہ کر دیا، تو عدم قبضہ کیا ہوا؟ ختم ہو گیا۔ اب صرف امکان عیب ہے، اور صرف ایک امکانی اور وہمی چیز کی وجہ سے یہ کہا جائے کہ عقد تام نہیں، یہ درست بات نہیں۔ تو جب دو چیزیں ملیں گی، ایک امکان عیب اور ایک عدم قبضہ، یعنی قبضے سے پہلے، تو پھر اس صورت میں خیار عیب مانع ہوگا کس چیز سے؟ تمام عقد سے۔ اور اگر قبضے کے بعد ہو، تو پھر اب صرف امکان عیب رہ گیا، اور اس کی وجہ سے یہ حکم ہم نہیں لگا سکتے کہ عقد تام نہیں ہوا، بلکہ کیا حکم لگائیں گے؟ عقد تام ہو گیا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ تو جب اس نے قبضہ بھی کر لیا ہے، اب بتائیے وہ گچھڑی پر اور اس میں سے ایک بیچ چکا ہے یا سپرد کر چکا ہے ہبہ میں، تو اب جب قبضہ کر لیا، تو خیار عیب عیب کا تو ابھی بھی امکان تھا بھئی، تو عقد تام ہوا یا عقد تام نہیں ہوا، مجھے آپ بتائیے۔ عقد تام ہو چکا، اس لیے کہ امکان عیب تو ہے، لیکن عدم قبضہ، قبضہ تو یہ کر چکا ہے، تو لہٰذا بیع کو کیا کہیں گے؟ تام ہو چکی ہے۔ اور تام ہونے کے بعد اب یہ کچھ تھان جو خراب ہیں، اس کو پسند نہیں آئے، واپس کرنا چاہتا ہے، تو تفریق صفقہ لازم آ رہا ہے، لیکن قبل تمام العقد یا بعد تمام العقد؟ بعد تمام العقد۔ بعد تمام العقد، لہٰذا اب خیار عیب کی وجہ سے ان کو کیا کر سکتا ہے؟ واپس کر سکتا ہے۔ واپس کر سکتا ہے، جبکہ خیار رویت اور خیار شرط کی صورت میں تفریق صفقہ قبل تمام العقد لازم آ رہا تھا، لہٰذا وہاں واپس نہیں کر سکتا۔ دیکھیے بھئی، دوبارہ سارا ترجمہ۔ ولاشترا عدل... ولاشترا عدل لضتین، اگر خریدایا بھئی کسی نے جتی کپڑے کی گٹھڑی کو، وقبضہ ہو اور اس پر قبضہ بھی کر لیا۔ اس لیے کہ قبضے سے پہلے تو آگے بیچنا یا ہبہ کرنا جائز ہی نہیں ہے مبیع کو، فباع منہ صوباس بیچا اس میں سے کسی ایک کپڑے کو، واوہب یا ہبہ کیا، وسلم اور سپرد بھی کر دیا لم یردہ، تو واپس نہیں کرے گا اس کو خیار رویت یا شرط کے ساتھ، بل بیع بن بلکہ کس کے ذریعے واپس کرے گا؟ عیب کے ذریعے۔ تب تفصیل کرنے لگے ہیں۔ العضو جیل من الناس فی سواد العراقی، عدت جو ہے ایک قوم ہے لوگوں کی، گروہ ہے سواد عراق کے اندر۔ سواد عراق میں نے بتایا خاص علاقے کا نام ہے بھئی اور میں نے بتایا اور دیگر کتابوں میں لکھا ہے، ہندوستان میں ایک قوم ہے۔ والسوب الزتی ینسب الیہ، اور صوب زتی ان کی طرح منسوب ہے، والصل فیہی، اور اصل یہ ہے اس مسئلہ کے اندر کہ ان رد الباس یوجب تفریق الصفقہ، کہ بعض چیزوں کو واپس کرنا، یہ تفریق صفقہ کو واجب کرتا ہے۔ وہو قبل التمام لا یجوز، اور قبل تمام تو تفریق صفقہ جائز نہیں۔ وبعد التمام یجوز، اور تمام ہونے کے بعد جائز ہے، ثم خیار الشرط والرویۃ یمنعان تمام الصفقہ، خیار شرط اور خیار رویت جو ہیں یہ مانع منع کرنے والے ہیں تمام صفقہ کو۔ وخیر العیب یمنعہ قبل القبس لا بعدہ، اور خیار عیب وہ روکتا ہے، کس چیز کو روکتا ہے؟ تمام صفقہ کو قبل القبس، قبضے سے پہلے، لا بعدہ، نہ کہ اس کے بعد۔ وہذا، اور اس وجہ سے، لانہ اذا شرطل خیارا، اذا شرط الخیار لاحدہما، اس لیے کہ جب شرط خیار لگایا گیا کسی ایک کے لیے، لم یتحقق الرضاء الکامل، تو کامل رضامندی نہیں ہوئی۔ جب ایک آدمی نے کہا بھئی، میں چیز تو خریدتا ہوں، لیکن مجھے تین دن تک فسخ کرنے کا حق ہے، معلوم ہوا پوری طرح رضامند نہیں۔ یہی بات کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ جب خیار شرط لگایا گیا کسی کے لیے، لم یتحقق الرضاء الکامل، تو کامل رضامندی نہیں پائی گئی، وکذا اذا لم یرالمشتری مشتراہ، اسی طرح اگر مشتری نے اپنے مبیع کو دیکھا نہ ہو۔ جب دیکھا نہیں ہے، تو پھر بھی کامل رضامندی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب کامل رضامندی والی صورتیں بتلانے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: اما اذا لم يشترط الخیار، اگر اور باقی وہ صورت کہ اگر خیار شرط لگایا ہی نہ گیا ہو، مطلق بیع کی کسی نے، ایک چیز دیکھی اور مطلق بیع کی، خیار شرط اپنے لیے نہ رکھا، معلوم ہوا یہ پوری طرح اس کے خریدنے پر، اس کے لینے پر راضی ہے، یہ دیکھا۔ کامل رضا والی صورتیں بتلا رہے ہیں۔ ہاں، اگر اس میں خیار شرط نہ لگائی گئی، وشرط الخیار، یا لگائی تو گئی تھی خیار شرط، یا یوں کہے شرط الخیار، یا شرط الخیار فاجاز من لہ الخیار، پھر اجازت دے دی اس نے، جس کو کیا تھا؟ یہ بھی کس چیز کی علامت ہے؟ کامل رضا۔ یہ دوسری صورت آ گئی۔ تیسری صورت دیکھیے: او المشتری قدر المبیع، یا مشتری نے تحقیق مبیع کو دیکھا، فرضی بہی، پس اس پر کیا ہو گیا؟ راضی ہو گیا۔ فبعد ذالک ان قبض، فقم الصفقتہ، بعد اس کے اگر اس نے قبضہ کر لیا تو صفقتہ کیا ہوا؟ تمام ہوا۔ لحصول الرضاء الکامل، دیکھنے کے بعد قبضہ کر رہا ہے، معلوم ہوا وہ کامل طور پر تو کامل رضا کے حصول کی وجہ سے صفقہ تام ہو گیا۔ ولکن مع ذالک، لیکن اس کے باوجود، یمکن ان یکون المبیعم عیبا، ممکن ہے کہ مبیعہ کیا ہو؟ عیب دار نکلے، عیب دار ہو، والمشتری لا یرضی بہ، اور مشتری اس پر راضی نہ ہو۔ ففستقل العقد، تو وہ کیا کرے گا؟ عقد کو فسخ کرے گا۔ فذالک امر متوہیم، یہ تو صرف ایک وہمی امر ہے، فلا یمنع تمام الصفقہ، یہ تو تمام صفقہ سے مانع نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ قبضے کے بعد، قبضے کے بعد اب یہ تمام صفقہ سے مانع نہیں، ایک وہمی چیز ہے۔ ہاں، لیکن ان لم یقبیض المبیع، لیکن اگر اس نے مشتری نے مبیع پر قبضہ ہی نہیں کیا۔ فالببع فی معرض الفسخ، تو بیع کس مقام میں ہے؟ مقام فسخ میں ہے۔ بان یہلک فی ید البائع، بیں اس صورت کہ وہ ہلاک ہو جائے مبیعہ کس کے قبضے میں؟ بائع کے قبضے میں، ہلاک ہونے کا امکان ہے، ابھی اس کے پاس ہی ہے، تو ارتفع العقد تو عقد ہی کیا ہو جائے گا؟ اٹھ جائے گا، مرتفع ہو جائے گا، ختم ہو جائے گا۔ فاذا اجتمع الامر ان، جب دونوں چیزیں جمع ہوگئیں، ای عدم القبض، ووجود العیب، عدم قبضہ بھی اور وجود عیب بھی، فیتقوی احادہما بالآخر، تو قوت ہلالی لی ان میں سے ایک نے دوسرے کے ذریعے، بھئی قوی ہو گیا ان میں سے ایک، دو چیزیں جمع ہوگئیں۔ فلا یتم الصفقہ، تو صفقہ تام نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دو چیزیں ایک عیب بھی اور ایک عدم قبضہ بھی بھئی۔ ویظہر ھذا فی المسئلۃ التی تاتی، اور یہ ظاہر ہوگا اس مسئلہ کے اندر التي تاتی، جو آگے آ رہا ہے۔ وھی قولہ، اور ماتن کا یہ قول ہے۔ آگے آئے گا بھئی، متن میں صفحہ 33 پر یہ عبارت آتی ہے، ولو اشتر... بھئی یہیں پر دیکھو، وہاں دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ویسے حوالہ میں نے دے دیا۔ ولاشترا عبدین صفقتن، اگر کسی نے دو غلام خریدے، ایک صفقے سے، وقبضہ احدہما، اور ایک پر قبضہ کر لیا، ووجد بہی او بالآخر عیبا، اور اس ایک کے اندر یا دوسرے کے اندر کیا پایا؟ عیب پایا۔ ایک پر قبضہ کیا ہے اور دوسرے میں یا اسی میں یا دوسرے میں عیب پایا ہے، یہ وہاں مسئلہ بالتفصیل آئے گا۔ وہاں پر یہ زخوب ظاہر ہوگی یہ بات بھئی، جو کہتے ہیں جو ہم نے ذکر کی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ صفقہ تام نہیں ہوا وغیرہ۔ فصل فی خیار العیب، یہ فصل ہے خیار عیب کے بارے میں بھئی۔ بھئی یاد رکھو۔ خیار عیب۔ آپ نے پڑھا، کہ خیار عیب، وہ کس چیز سے مانع ہے؟ لزوم بیع سے مانع ہے۔ معلوم ہوا، بیع ہو گئی۔ تام بھی ہو گئی۔ لیکن لازم نہیں۔ اس میں دوام نہیں۔ اس کو فسخ بھی کر سکتے ہیں۔ فسخ بھی کر سکتے ہیں۔ تو خیار عیب شریعت نے دیا ہے، کوئی چیز لے لی، دیکھ لی، خرید لی، قبضہ کر لیا، پورے طور پر ہر لحاظ سے اس پر راضی ہے، لیکن پھر اب بیچارے کو پتہ ہی نہیں تھا، بعد میں مشتری کو پتہ چلا اس نے مجھے کس طرح کی چیز دی ہے؟ عیب دار چیز دی ہے، اس میں تو یہ نقص ہے۔ بھئی! اب شریعت نے اس کو کیا حق دیا ہے؟ کہ وہ اس چیز کو واپس کرے۔ یہ خیار عیب کہلاتا ہے بھئی، واہ۔ اور یاد رکھو، خیار عیب میں ضروری ہے کہ خریدنے سے پہلے اس عیب کا علم نہ ہو۔ بھئی پہلے سے علم ہے، پھر خرید رہا ہے، یہ تو کس چیز کی علامت ہے؟ رضامندی کی علامت ہے بھئی۔ یا اسی طرح قبضے سے پہلے اس عیب کا علم نہ ہو۔ اگر خریدنے کے بعد قبضے سے پہلے پہلے عیب کا پتہ چل گیا اور پھر اس کے باوجود قبضہ کر رہا ہے، یہ بھی کس چیز کی علامت ہے بھئی؟ رضامندی کی علامت ہے بھئی۔ بیع کے مسئلے سیکھتے جاؤ بھئی، مختلف قسم کی بیوعات آپ بھی باہم کرتے ہیں، باہر کرتے ہیں۔ تو اب جائز ناجائز کا خیال رکھیں بھئی۔ اچھی طرح سیکھتے جاؤ بھئی۔ تو لہٰذا شریعت نے یہ خیار دیا ہے، اس میں کیا ضروری ہے کہ خریدنے سے پہلے اس عیب کا پتہ کا پتہ نہ ہو، یا قبضے سے پہلے اس عیب کا پتہ نہ ہو، ورنہ پھر نہیں حاصل ہوگا خیار بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی، ولی مشترن، ولی مشترن۔ اور ایسے، دیکھیے، مشترن ہے نکرہ، اور ضابطہ میں نے آپ کو بتلایا کہ نکرہ کے بعد فعل آجائے تو وہ فعل اس نکرہ کے لیے عموماً کیا بنے گا؟ صفت بنے گا۔ کیا بنے گا؟ صفت بنے گا۔ نکرہ کے بعد جب فعل آئے، تو وہاں موصوف صفت والا ترجمہ کرنا ہے، اور وہ کیسے کرتے ہیں؟ کہ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھیے، مشترن ہے نکرہ، اور اس کے بعد وجدا فعل آ رہا ہے۔ تو معلوم ہوا نکرہ کے بعد فعل آیا تو کیا بنا کرتا ہے عموماً؟ موصوف صفت۔ موصوف صفت اور موصوف سے پہلے کیا لے آئیں؟ ایسا۔ تو دیکھیے، ولی مشترن، اور ایسے مشتری کے لیے وجدا بمشريه عيبا، جس نے پایا ہے اپنے مبیع میں، نشریون بر وزن مرمیوں ہے بھئی، مفعول کا صیغہ ہے، مبیعہ، مبیع، جس کو خریدا ہے۔ اور ایسے مشتری کے لیے وجدا بمشریہ عیبا، جس نے پایا ہے اپنے مبیع کے اندر عیب ان کوئی عیب، نقاس، پھر بھئی عیبان نکرہ ہے معرفہ بھئی؟ نکرہ، اور اس کے بعد نقاس فعل آ رہا ہے، تو اس کو بھی اب یہاں بھی کیا بنے گا؟ ہمیشہ نہیں ہوتا لیکن اکثر ہوتا ہے یہاں بن رہا ہے، وہاں ترجمہ کرکے دیکھ لیا کریں۔ تو یہ موصوف صفت والا ترجمہ، تو موصوف سے پہلے کیا لے آئیں لفظ؟ ایسا۔ دیکھیے۔ دوبارہ شروع سے ترجمہ سنیے اور اس عیبًا پر بھی نظر رکھنا، اس سے پہلے میں "ایسا" کا لفظ لاؤں گا۔ "وَلِمُشْتَرٍ" اور ایسے مشتری کے لیے "وَجَدَ بِمَشْرِيِّهِ عَيْبًا" جس نے پایا اپنے مبیع کے اندر ایسا عیب "نَقَصَ ثَمَنَهُ" کہ اس نے عیب نے کم کر دیے "ثَمَنَهُ" اس مبیع کے، وہ ایسا ثمن کم کر دیے "عِنْدَ التُّجَّارِ" جن کے نزدیک بھئی؟ تاجروں کے نزدیک بھئی۔ "رَدُّهُ" اس مشتری کے لیے کیا ہے؟ "رَدُّهُ" اس مبیع کا رد کرنا جائز ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ "رَدُّهُ" مبتدا مؤخر ہے اور "وَلِمُشْتَرٍ" جار مجرور کیا ہیں؟ خبرِ مقدم ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ سارے "عِنْدَ التُّجَّارِ" تک جو ہیں، یہ سارے مل جائیں گے "وَلِمُشْتَرٍ" کے ساتھ بالاخر، یہ سارا یہ خبرِ مقدم ہے۔ اور صرف "رَدُّهُ" یہ کیا ہے؟ مبتدا مؤخر۔ ترکیب آتی ہے یا نہیں بھئی؟ ترکیب سیکھو بھئی، محنت کرو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اللہ آپ سب کو بڑا عالم بنائے بھئی۔ آمین۔ تو یہاں پر شروع میں جار مجرور آیا "وَلِمُشْتَرٍ"، اور جار مجرور یاد رکھو کبھی بھی مبتدا نہیں بنتے بلکہ کیا بنتے ہیں؟ خبر، اور شروع میں آیا جار مجرور، تو اس کو مبتدا بناؤ گے یا خبر بھئی؟ خبر، تو یہ خبرِ مقدم ہے اور "رَدُّهُ" یہ کیا ہے؟ مبتدا مؤخر۔ اور ایسے مشتری کے لیے جس نے پایا اپنے مبیع میں کسی ایسے عیب کو جو کم کر دیا کرتا ہے اس مبیع کے ثمن کو تاجروں کے نزدیک، "رَدُّهُ" اس کو کیا حق حاصل ہے؟ اس کو رد کرنے کا، "أَوْ أَخْذُهُ بِكُلِّ ثَمَنِهِ" یا اس کو لے لینے کا حق حاصل ہے "بِكُلِّ ثَمَنِهِ" اس مبیع کے پورے ثمن کے بدلے میں، "لَا إِمْسَاكُهُ وَأَخْذُ نُقْصَانِهِ" نہ کہ، امساک کا معنی روکنا، نہ کہ اس کا روکنا اس مبیع کا "وَأَخْذُ نُقْصَانِهِ" اور اس کے نقصان کو لے لینا۔ بھئی صاحبِ کتاب آپ کو یہ بتلا رہے ہیں، آپ نے ایک چیز خریدی اور اس چیز کے اندر کیا نکل آیا؟ عیب۔ عیب، ایسا عیب جس کے سے کیا ہوتا ہے تاجروں کے نزدیک اس چیز کی قیمت کم ہو جایا کرتی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پھر اس صورت میں آپ کو حق ہے، چاہے تو کیا کر دیں اس کو؟ رد کر دیں۔ ساری چیز واپس کرو، یا کیا کرو؟ نہیں، ساری چیز کی بات نہیں کر رہے، وہ تو تفصیل بیان ہو چکی ہے، اس چیز کو کیا کر دو؟ واپس کر دو، یا اس کو پورے کے پورے ثمن کے بدلے روک لو۔ اب آپ یہ نہیں کر سکتے بھئی عیب نکل آیا میرے کچھ پیسے واپس کرو، اتنی قیمت ہونی چاہیے تھی اس چیز کی، آپ نے زیادہ لیے بھئی۔ لہٰذا مجھے اتنے پیسے، نہیں بھئی نہیں، یہ آپ نہیں کر سکتے، بلکہ کیا کریں گے؟ یا تو اس چیز کو واپس کر دو يا پورے کے پورے ثمن کے بدلے اپنے پاس رکھ لو۔ یہ نہیں کر سکتے "لَا إِمْسَاكُهُ وَأَخْذُ نُقْصَانِهِ" اس چیز کو تو اپنے پاس روکیں اور اس کے نقصان کو بائع سے وصول کر لیں، ایسا نہیں کر سکتے۔ اب خود دیکھیے ترکیب بتلا رہے ہیں بھئی علامہ صدر الشریعہ، کہتے ہیں "رَدُّهُ مُبْتَدَأٌ" متن میں جو "رَدُّهُ" آیا تھا یہ کیا تھا؟ مبتدا تھا۔ "وَلِمُشْتَرٍ خَبَرُهُ" اور "وَلِمُشْتَرٍ" جو شروع میں آیا تھا وہ اس کی خبرِ مقدم ہے۔ "وَنَقَصَ ثَمَنَهُ" بھئی میں نے کیا بتایا تھا؟ "نَقَصَ ثَمَنَهُ" متن میں دیکھو یہ کیا بن رہا ہے؟ صفت، کس کے لیے؟ عیب کے لیے، یہی بات بتلا رہے ہیں "وَنَقَصَ ثَمَنَهُ" یہ "صِفَةُ الْعَيْبِ" عیب کی صفت ہے۔ अच्छा भाई، "وَالْإِبَاقُ وَلَوْ إِلَى مَا دُونَ سَفَرٍ وَالْبَوْلُ فِي الْفِرَاشِ وَسَرِقَةُ صَغِيرٍ يَعْقِلُ عَيْبٌ"۔ بھئی دیکھو ایک غلام ہے غلام، اس کو چوری کی عادت ہے، چیزیں چراتا ہے، تو کیا یہ عیب ہے یا عیب نہیں؟ کہتے ہیں بھئی اگر وہ چھوٹا بچہ ہے اور ناسمجھ ہے، تو پھر یہ عیب نہیں۔ اس بیچارے کو تو ابھی چوری کا ہی نہیں پتہ، ناسمجھ ہے بھئی، چیز کسی کی جو ملتی ہے چیز وہ اٹھا لیتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ تو ناسمجھ ہے، ہاں اگر چھوٹا ہے، بالغ نہیں ہے، لیکن مثلاً آٹھ دس سال کا ہے، بارہ سال کا ہے، لیکن سمجھدار ہے، بارہ سال کا ہے سمجھدار ہے، اب یہ کیا کرتا ہے؟ دوسروں کی چیز اٹھاتا ہے، یہ کیا ہے؟ عیب ہے۔ کیا شمار ہوتا ہے؟ عیب ہے معلوم ہوا۔ اسی طرح بھئی، بستر میں پیشاب کر دیتا ہے بھئی، یہی بھئی ہے، ہے عمر دس بارہ سال ہو گئی، صغیر ہے ابھی بالغ نہیں ہوا، غلام بھئی، تو یہ بستر میں پیشاب کرنا یہ بھی کیا ہے بھئی؟ عیب ہے بھئی، کتنے بستر بدلو گے بھئی اس کے؟ سمجھ میں آیا؟ یا مولانا اسے بھاگنے کی عادت ہے بھئی، ہر دوسرے دن فرار ہو جاتا ہے بھئی، یہ بھی عیب ہے بھئی، یہ بھی کیا ہے؟ عیب ہے۔ بھاگ جانا غلام کا یہ بھی عیب ہے، چاہے مدتِ سفر سے کم ہی کیوں نہ ہو، مدتِ سفر کتنی ہے بھئی؟ تین دن بھئی۔ تین دن کے سفر، مدت پر کوئی چیز ہو تو وہ سفر ہے، تو تین دن سے چاہے کم ہی کیوں نہیں بھاگتا، تھوڑی مدت، ایک دن کے لیے بھاگ گیا بھئی، تو بھی یہ کیا ہے مولانا؟ عیب ہے، اس لیے کہ اس نے آقا کی خدمت میں خلل ڈال دیا، اس کی خدمت نہیں کی بھئی، تو عیب شمار ہوتا ہے۔ یہی بات کر رہے ہیں "وَالْإِبَاقُ" اور بھاگ جانا "وَلَوْ إِلَى مَا دُونَ سَفَرٍ" اگرچہ سفر سے کم کے لیے ہی کیوں نہ ہو، سفر کی مدت یعنی تین دن سے کم ہی کیوں نہ بھاگا ہو، "وَالْبَوْلُ فِي الْفِرَاشِ" اور اس طرح پیشاب کر دینا بستر میں، "وَسَرِقَةُ صَغِيرٍ" اور اسی طرح چھوٹے بچے کا چوری کر لینا، ایسا چھوٹا "صَغِيرٍ يَعْقِلُ" نکرہ کے بعد کیا آیا بھئی؟ فعل، ایسا صغیر "يَعْقِلُ" جو سمجھتا ہے، "عَيْبٌ" ان کا اس کا یہ سرقہ، اس کا یہ بول فی الفراش، اور اس کا اباق، یہ سارے کیا ہیں بھئی؟ عیب ہیں۔ "إِنَّمَا قَالَ يَعْقِلُ" اچھا، اچھا معلوم ہوا یہ "صَغِيرٍ" بھئی، "إِنَّمَا قَالَ يَعْقِلُ" اچھا بھئی، کہتے ہیں "إِنَّمَا قَالَ يَعْقِلُ"، "يَعْقِلُ" کی قید کیوں لگائی؟ کہتے ہیں اس لیے "لِأَنَّ سَرِقَةَ صَغِيرٍ لَا يَعْقِلُ لَيْسَ بِعَيْبٍ" اس لیے کہ ایسے صغیر کا سرقہ جو سمجھتا ہی نہیں ہے "لَيْسَ بِعَيْبٍ" یہ عیب نہیں ہے بھئی۔ أچھا "وَبَالِغٍ" اس کا عطف ہے "صَغِيرٍ" پر، "وَسَرِقَةُ صَغِيرٍ" اب صغیر کی جگہ اٹھا کر بالغ رکھو، "وَسَرِقَةُ بَالِغٍ عَيْبٌ آخَرُ" یہ دوسرا عیب ہے، یہ کیا ہے؟ بھئی عیبٌ کا عطف اوپر والے عیبٌ پہ ہوا، اور بالغٌ کا عطف صغیرٍ پر ہوا، تو "وَبَالِغٍ عَيْبٌ آخَرُ" اور بالغ کا چوری کرنا یہ اور عیب ہے۔ مسئلہ یہ بھئی، بھئی صغیر کا چوری کر لینا بھئی، یہ عیب ہے، اور اگر بالغ ہے پھر چوری کرتا ہے، یہ بھی عیب ہے۔ لیکن یہ ایک عیب نہیں شمار ہوگا، یہ دو عیب شمار ہوں گے، اس لیے کہ ضابطہ یہ ہے کہ سبب کے بدلنے سے مسبب بدل جاتا ہے۔ ضابطہ کیا ہے مولانا؟ سبب کے بدلنے سے مسبب بدل جایا کرتا ہے بھئی۔ سبب کے بدلنے سے جلدی لکھیے بھئی۔ سبب کے بدلنے سے مسبب بدل جاتا ہے۔ ہاں سبب نہیں بدلا، تو پھر تو مسبب بھی ایک ہی ہے، سبب بدل گیا تو معلوم ہوا مسبب بھی بدل گیا۔ دیکھو بھئی ایک ہے چھوٹا چوری کرتا ہے، نابالغ بھئی، ایک ہے بالغ چوری کرتا ہے، دونوں میں سبب الگ الگ ہیں۔ چھوٹا چوری اس لیے کرتا ہے مولانا کہ لاپروا ہے، کیا ہے؟ لاپروا ہے بھئی، چیز اٹھا لی کسی کی مل گئی، چلو جی، کوئی پروا نہیں ارادہ کی۔ لیکن جو بڑا ہے، بالغ ہے، اور پھر وہ چوری کر رہا ہے، یہ لاپروائی کی وجہ سے نہیں کر رہا، یہ تو ہر بات کو خوب اچھی طرح جان چکا ہے، معلوم ہوا اس کے باطن میں خبث ہے بھئی، اس کے باطن میں خبث ہے، غیر کی چیز کو چوری کر رہا ہے، اٹھا کر لے جا رہا ہے بھئی۔ تو چھوٹا جو چوری کرتا ہے وہ لاپروائی کی وجہ سے، اور بڑا جو چوری کرے گا وہ خبثِ باطن کی وجہ سے کرے گا، تو سبب الگ ہوئے۔ چھوٹے میں چوری کا سبب لاپروائی، بڑے میں چوری کا سبب خبثِ باطن، تو دونوں سبب دونوں کے کیا ہوئے؟ الگ۔ تو مسبب اگرچہ دونوں میں چوری ہیں، لیکن وہ الگ الگ شمار ہوگی، وہی شمار نہیں ہوگی بھئی۔ تو اب دیکھیے بھئی، یہاں تین صورتیں بن گئیں بھئی، ایک صورت یہ کہ آپ نے غلام کو خریدا اور وہ چوری کرتا تھا کس کے پاس؟ صغر میں، بائع کے پاس صغر میں اس نے چوری کی، آپ کے پاس بھی اس نے صغر ہی میں چوری کی، تو بتلائیے یہ وہی عیب ہے یا کوئی جدید عیب ہے؟ وہی عیب ہے، لہٰذا آپ کیا کر سکتے ہیں اس کو؟ واپس کر سکتے ہیں۔ کیونکہ چوری تو عیب ہے صغیرِ عاقل میں۔ اچھا بھئی، بائع کے پاس بڑے ہوتے ہوئے اس نے چوری کی، آپ کے پاس بھی اب خریدا آپ نے، آپ کے پاس بھی اس نے چوری کی، یہ وہی عیب ہے یا کوئی نیا عیب ہے بھئی؟ وہی عیب ہے، وہاں بھی خبثِ باطن تھا سبب، یہاں بھی خبثِ باطن، تو وہ ایک ہی چوری عیب ہے، معلوم ہوا یہ بائع کے پاس سے عیب آیا، واپس کرو۔ تیسری صورت بھئی، بائع کے پاس صغر میں کی تھی، آپ نے خریدا، آپ کے پاس بھی اس نے چوری کی لیکن بالغ ہو چکا تھا، کبر میں کی بھئی۔ تو کیا یہ وہی عیب ہے؟ اب آپ کہیں گے واپس کرتا ہوں میں؟ نہیں بھئی، یہ وہ عیب نہیں ہے بھئی، یہ عیبِ جدید ہے عیبِ جدید۔ صورتیں، مسئلہ سمجھ میں آ گئیں بھئی؟ اچھا بھئی۔ تو کہ دیکھیے بھئی، "وَبَالِغٍ عَيْبٌ آخَرُ" اور بالغ کا چوری کرنا "عَيْبٌ آخَرُ" یہ دوسرا عیب ہے، "عَطْفٌ عَلَى مَعْمُولَيْ عَامِلَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ" یہ عطف ہے مولانا دو مختلف عاملوں کے معمولوں پر، معمولئے، معمولین تھا، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ یہ عطف ہے بھئی کس پر؟ "عَلَى مَعْمُولَيْ عَامِلَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ" دو مختلف عاملوں کے دو معمولوں پر۔ "وَالْمَجْرُورُ مُقَدَّمٌ" اور مجرور کیا ہے؟ مقدم ہے۔ دراصل یہاں نحوی مسئلہ ہے، وہ آپ کو میں تفصیل سے سمجھا دیتا ہوں بھئی۔ بھئی میں نے کہا "جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو" آیا میرے پاس زید اور عمر، یہ عمرٌو کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ زیدٌ پر ہو رہا ہے بھئی، زیدٌ پر۔ تو یاد رکھیے نحوی حضرات کہتے ہیں کہ یہ جو حرفِ عطف ہوتا ہے، یہ عامل کا نائب ہوتا ہے۔ کس کا نائب ہوتا ہے؟ عامل کا نائب ہوتا ہے۔ اب بتلائیے بھئی، زیدٌ کے اندر عامل کون؟ جاء، جاء فعل عامل ہے، اس کے لیے زیدٌ فاعل بنا۔ اور یہ واؤ اس عامل کا نائب ہے، اور اس نے رفع دیا تھا زیدٌ کو، تو یہ واؤ اس کا نائب ہوا، اس نے رفع کس کو دے دیا؟ عمرٌو کو۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو نح، یہ جو عطف ہوتا ہے نحوی حضرات کہتے ہیں یہ حرفِ عطف عامل کا نائب ہوا کرتا ہے بھئی۔ تو اب دیکھیے بھئی، یہ واؤ ہے حرف، اور حرف ہے کمزور۔ لہٰذا یہ ایک کا تو نائب بن سکتا ہے ایک عامل کا، دو معمولوں کا نائب، دو عاملوں کا نائب نہیں، دو عاملوں کا نائب، ایک عامل کا نائب بن سکتا ہے، دو عاملوں کا نائب نہیں بن سکتا کیونکہ یہ کمزور ہے بھئی۔ اب آپ مجھے بتائیے، دیکھیے مثلاً "ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا وَبَكْرٌ خَالِدًا"، "ضَرَبَ زَيْدٌ" پٹائی کی زید نے "عَمْرًا" کس کی؟ عمر کی، "وَبَكْرٌ خَالِدًا" اور بکر نے خالد کی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب آپ بتائیے، واؤ کے بعد کیا آ رہا ہے؟ "وَبَكْرٌ خَالِدًا"، یہ بکرٌ کا عطف کس پر ہے؟ زیدٌ جو پیچھے مرفوع تھا، یہ بھی مرفوع ہے، اس کا عطف معلوم ہوا کس پر ہے؟ زیدٌ پر۔ اور یہ خالدًا کا عطف کس پر ہے؟ عمرًا پر ہے بھئی۔ تو بتلائیے یہ جو بکر اور خالد ہیں، یہ عامل ہیں یا معمول ہیں بھئی؟ معمول ہیں۔ دیکھو "زَيْدٌ" اور "عَمْرًا"، یہ "زَيْدٌ" اور "عَمْرًا" عامل ہیں یا معمول ہیں؟ معمول ہیں۔ زیدٌ کو رفع کون دے رہا ہے؟ جاء، اور عمرًا کو نصب بھی کون دے رہا ہے؟ جاء۔ تو زیدٌ معمول ہوا جاء کا، عمرًا بھی معمول ہوا کس کا؟ جاء کا، تو یہ دو معمول ہوئے، زیدٌ اور عمرًا۔ اور واؤ کے ذریعے عطف ہوا آگے بھی دو معمول ہیں، ایک بکرٌ اور ایک خالدًا۔ تو دو معمولوں کا عطف ہوا دو معمولوں پر، دو معمولوں کا عطف ہوا دو معمولوں پر، اور ایک حرف کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ ایک حرف واؤ کے ذریعے۔ اب یہ جائز ہے یا جائز نہیں بھئی؟ بھئی یہ جائز ہے، یہ کیا ہے؟ کیونکہ عامل ایک ہی ہے، زیدٌ اور عمرًا میں یا عامل الگ الگ ہیں؟ ایک ہی ہیں، تو واؤ تو حرفِ عطف حرف ہے اور حرف کمزور ہوتا ہے، تو ایک کا تو وہ نائب بن سکتا ہے، تو یہاں اس کو ایک کا نائب بننا پڑ رہا ہے اور ایک کا نائب وہ بن سکتا ہے۔ عامل زیدٌ میں بھی جاء، عمرًا میں بھی جاء، تو عامل ایک ہی ہے۔ تو یہ واؤ بھی کس کا، کتنے کا نائب ہوا؟ ایک کا یا دو کا؟ ایک کا نائب ہوا، اور ایک کا نائب یہ بن سکتا ہے یا نہیں بن سکتا؟ ایک کا نائب بنا، اور آگے اس نے کیا کیا؟ بکرٌ کو رفع دیا اور خالدًا کو نصب دیا۔ تو یہ دو معمولوں کا عطف ہے دو معمولوں پر، ایسے دو معمولوں پر جن کا عامل ایک ہی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ بھی جائز۔ لیکن اگر عامل دو الگ الگ ہوں مولانا، دو ایسے معمولوں کا عطف دو ایسے معمولوں پر ہو جن کے عامل کیا ہوں؟ الگ الگ ہوں، تو پھر یہ جائز نہیں، کیونکہ حرفِ عطف حرف کیا ہے؟ کمزور ہے، وہ دو کا نائب نہیں بن سکتا۔ مثلاً میں نے کہا "فِي الدَّارِ زَيْدٌ"۔ یا اس کی وہ مثال، ہاں، تو اس صورت میں یہ جائز نہیں مولانا، کیا ہے جائز نہیں؟ لیکن جمہور کہتے ہیں اگر مجرور مقدم ہو پھر جائز ہے۔ اگر کیا ہو؟ مجرور مقدم ہو، بھئی دو معمول آئیں گے یا نہیں بھئی حرفِ عطف کے بعد؟ جی؟ دو۔ اگر پہلے والا مجرور ہے، دوسری طرف بھی اسی طرح ہے، پہلے والا مجرور ہے، پھر دو عاملوں کا نائب حرفِ عطف بن سکتا ہے۔ ضابطے کے مطابق تو نہیں بننا چاہیے تھا، کیونکہ حرف ہے کمزور، وہ ایک کا نائب بن سکتا ہے، دو کا نائب نہیں بن سکتا، لیکن عربوں سے ہم نے سنا ہے کہ جب مجرور مقدم ہو تو وہ کیا کر دیا کرتے ہیں؟ اس طرح عطف، اگرچہ دو ہی عامل کیوں نہ ہوں، کیوں نہ ہوں، لیکن مجرور مقدم ہو تو وہ عطف کر دیا کرتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں "فِي الدَّارِ زَيْدٌ وَالْحُجْرَةِ عَمْرٌو"۔ ترکیب آتی ہے؟ "فِي الدَّارِ زَيْدٌ"، فی جارہ، الدارِ مجرور، تو الدارِ کے اندر عامل کون ہوا؟ فی۔ اور زیدٌ ہے مبتدائے مقدم، مؤخر، "فِي الدَّارِ زَيْدٌ"، تو زیدٌ مبتدا کے اندر عامل کون؟ ابتداء، کیا عامل ہے؟ ابتداء ہے، ابتداء۔ تو دار کے اندر عامل ہے فی، اور زیدٌ کے اندر عامل ابتداء، تو عامل ایک ہوا یا الگ الگ ہوئے؟ الگ الگ ہوئے۔ آگے پڑھیے حرفِ عطف کے بعد ہے "وَالْحُجْرَةِ عَمْرٌو"، تو حجرہ کا عطف کس پر ہے؟ دار پر، کس پر عطف ہے؟ دار پر۔ اور عمرٌو مرفوع ہے، اس کا عطف کس پر ہے؟ زید پر، تو دو معمولوں کا عطف ہوا کس پر؟ دو معمولوں پر، اور ان میں عامل الگ الگ ہیں یا ایک ہی ہیں؟ الگ الگ ہیں مولانا۔ اور مجرور مقدم ہے یا مقدم نہیں ہے بھئی؟ "وَالْحُجْرَةِ عَمْرٌو" مجرور کیا ہے؟ مقدم ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو جمہور کہتے ہیں اس صورت میں یہ جائز ہے، کیوں؟ کیونکہ ضابطے کے مطابق تو نہیں آنا چاہیے تھا، لیکن عربوں سے ہم نے سنا ہے جب مجرور مقدم ہو تو وہ اس طرح کا عطف کر دیتے ہیں۔ معلوم ہوا جب مجرور مقدم ہو نہ ہو، تو پھر اس طرح جائز نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں بھی کہہ رہے ہیں "وَبَالِغٍ" اس کا عطف کس پر؟ "صَغِيرٍ" پر، اور "صَغِيرٍ" میں عامل کون؟ "سَرَقَةُ" مضاف، مضاف کس میں عامل ہوتا ہے؟ مضاف الیہ میں، تو اس میں عامل ہے "سَرَقَةُ"۔ اور "عَيْبٌ" آگے آیا یہ کیا ہے بھئی؟ یہ خبر ہے، اور خبر میں بھی عامل کون ہوتا ہے؟ ابتداء، جیسے مبتدا میں عامل ہے ابتداء، خبر کے اندر بھی عامل ابتداء، تو "عَيْبٌ" کا عطف "عَيْبٌ" پر ہوا، اور "بَالِغٍ" کا عطف صغیرن پر ہوا اور تو عامل دونوں کے الگ الگ، صغیر میں عاطف صغیر میں عامل صارخ اور عیب میں عامل ابتدا تو اور تو اور تو دو معمولوں کا عطف ہوا ایسے دو معمولوں پر جن کے عامل کیا ہیں؟ الگ الگ ہیں، لیکن مجرور مقدم ہے بھئی۔ مجرور کیا ہے؟ اور بالغین بھئی پہلا کیا ہے؟ اور یہ جائز ہے، یہ کیا ہے؟ اس لیے ایک بتا رہے ہیں کہ یہ اگرچہ دو معمولوں کا عطف دو مختلف عاملوں کے معمولوں پر ہے، لیکن مجرور مقدم ہے اس لیے جائز ہے۔ عطف علی معمول عاملین مختلفین یہ عطف ہے دو مختلف عاملوں کے معمولوں پر والمجرور مقدم اور مجرور کیا ہے؟ مقدم ہے، لہٰذا جائز ہے۔ فلو سرق عندہما یہ جو میں نے ابھی مسئلہ بس سمجھایا تھا آپ کو، اگر غلام نے دونوں کے پاس چوری کی ای عند البائع والمشتری جس ضمیر کا مرجع بتلایا، بائع اور مشتری دونوں کے پاس فی صغرہی کس میں چوری کی؟ دونوں کے پاس صغر میں چوری کی ہے، ای فی صغرہی مع العقل صغر کے ساتھ ساتھ کیا تھی؟ عقل بھی تھی کیونکہ وہ ضروری شرط ہے۔ ردہ تو یہ کیا کر سکتا ہے؟ مشتری اس کو کیونکہ یہ وہی عیب ہے۔ وان حدث عندہ فی صغرہ وعند مشتری فی کبرہ لا اور اگر پیدا ہو یہ عیب بھئی ظاہر سمجھ میں آیا بھئی۔ کون سے عیب بھئی؟ یہ اباق، بول اور سرقہ، تینوں مراد ہیں علی سبیل البدر ضمیر ان کو راجع ہے، یہ بھاگ جانا، یہ پیشاب کرنا بستر میں، یا چوری کسی عندہ کس کے پاس؟ بائع کے پاس، فی صغرہی کس میں؟ اس کے بچپن میں غلام کے، واندمشتری فی کبرہی اور مشتری کے پاس اس کے کبر بڑے ہونے کی حالت میں، لا اب واپس نہیں کرے گی، کیونکہ اب یہ عیب اخر ہے بھئی، عیب اخر۔ اس لیے کہ بچپن، بھاگ جانا بچپن میں ہے، وہ کھیل کود سے دلچسپی کی وجہ سے ہے، اور بڑا ہو کر بھاگتا ہے، یہ بھی خبث باطن کی وجہ سے ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح پیشاب کرنا بچپن میں، یہ مثانے کی کمزوری کی وجہ سے ہوگا، چھوٹا ہے، بھئی مثانہ کمزور ہے، لیکن بڑا ہو کر پھر اس طرح کرتا ہے، تو یہ بیماری کی علامت ہے، کس چیز کی علامت ہے؟ بیماری کی۔ تو صغر کے اندر دونوں کے پاس صغر میں یہ عیب پایا گیا، تو وہی عیب۔ ایک کے پاس صغر میں پایا گیا، دوسرے کے پاس کبر میں پایا گیا، تو پھر یہ عیب عیب آخر ہے۔ چلیے بس مولانا، ھذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔
121 approved lectures · 18 of 121