اچھا بھئی! باب الخیار ہم نے شروع کیا تھا۔ خیارِ شرط، بھئی یہاں پر کئی خیار ہیں، لیکن تین خیار جو ہیں ان کے باقاعدہ ابواب ذکر ہوں گے۔ خیارِ شرط، خیارِ رویت اور خیارِ عیب۔ بھئی خیارِ شرط کو مقدم کیا اس لیے کہ یہ ابتدائے حکم یعنی تصرف کو آنے سے ہی روک دیتا ہے، ملک کو آنے سے ہی روک دیتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد خیارِ رویت کو ذکر کریں گے اس لیے کہ خیارِ رویت جو ہے وہ تمامِ حکم سے مانع ہے۔ حکم آ تو گیا بھئی، ملک آ تو گئی، لیکن تام نہیں ہوئی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد خیارِ عیب کو ذکر کریں گے اس لیے کہ خیارِ عیب جو ہے وہ لزومِ حکم کو روکتا ہے، لزومِ حکم کو۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا خیارِ عیب... یہ خیارِ شرط جو ہے وضع ہے فسخِ عقد کے لیے، کس کے لیے؟ فسخ کے لیے۔ یعنی فسخ کرنے، عقد تو ہو چکا ہے، لیکن اس کو فسخ کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے جس کے پاس خیار ہو بھئی، خیار ہو۔ اور پھر اس بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ زیادہ سے زیادہ تین دن تک جائز ہے، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں بھئی، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں، اس لیے کہ حضرت... یہ خلافِ قیاس ہے، اور یہ جو تین دن کا ثبوت بھی آیا، وہ حضرت حبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو حدیث ہے، یہ ان کو حضور نے اجازت دی تھی بھئی۔
جی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ جتنی مدت تک کے لیے بھی دونوں راضی ہو جائیں جائز ہے بھئی۔ ان کی حدیث... ان کی... ان کی دلیل بھئی وہ اثرِ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہے بھئی۔
اور پھر خیارِ نقد کے بارے میں بھی آپ نے پڑھا کہ خیارِ نقد بھی فرع ہے، کس کی؟ خیارِ شرط کی، تو جیسے خیارِ شرط تین دن کے لیے جائز تھا، یہ بھی تین دن کے لیے جائز ہے، تین دن میں اگر پیسے ادا کر دیے تو عقد... اس شرط پر بیچا کہ اگر تین دن میں پیسے ادا کر دیے تو صحیح، اگر ادا نہ کیے تو بیع ختم ہے۔ تو یہ صحیح ہے بھئی اس طرح کرنا، لیکن اگر تین دن سے زیادہ کر لیتے ہیں تو کہتے ہیں اگر تین دن میں ادا کر دے تو پھر عقد صحیح ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک بھئی، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، لیکن اگر نہیں ادا کرتا تین دن میں، تو پھر کیا ہو جائے گا یہ عقد؟ فاسد ہو جائے گا، کیونکہ مفسد آ گیا بھئی، تین دن سے زیادہ کی اجازت نہیں تھی۔
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ یہاں بھی فرماتے ہیں کہ جتنے دن تک بھی رکھنا چاہیں خیار، رکھ سکتے ہیں بھئی۔ پھر اس کے بعد جب خیار رکھا تو خیار بائع بھی رکھ سکتا ہے، مشتری بھی رکھ سکتا ہے، تو بائع خیار رکھتا ہے تو مبیع اس کی ملک سے نہیں نکلتا، اور اگر خیار اگر مشتری رکھے تو مبیع اس کی ملک سے... بائع کی ملک سے نکل جایا کرتا ہے۔ پھر اگر بائع نے خیار رکھا تھا اور مشتری نے اس پر قبضہ کر لیا اور مشتری کے پاس وہ چیز ہلاک ہو گئی، تو پھر اس صورت میں اس پر کیا آئے گی؟ قیمت آئے گی، اس لیے کہ یہ مبیع... اس جو... اس پر جو اس نے قبضہ کیا ہے، یہ مبیع جو ہے یہ مقبوض علی سوم الشراء ہے، مقبوض علی سوم الشراء... شراء ہے بھئی۔ تو میں نے بتایا تھا دو قسم... اور ایک اور قسم بھی ہے، مقبوض علی وجہ النظار بھی یہاں ہو سکتا ہے، مقبوض علی سوم الشراء بھی ہو سکتا ہے۔ مقبوض علی وجہ النظار وہ ہے جس کے اندر مشتری ثمن کو ذکر نہیں کرتا بھئی، صرف بائع نے ذکر کر دیا یا کسی نے بھی ذکر نہیں کیے ثمن، اور اگر مشتری ثمن ذکر کر دیتا ہے کہ میں اتنے میں لے لوں گا بھئی، تو پھر یہ قبضہ جو اس نے کیا ہے، تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ یہ مبیع مقبوض علی سوم الشراء، اور اس کی صورت میں ضمان کتنا آیا کرتا ہے؟ قیمت آیا کرتی ہے، ثمن نہیں آتا بھئی، جبکہ مقبوض علی وجہ النظار جو ہوتا ہے وہ امانت ہوتا ہے بھئی، امانت کے حکم میں، اگر وہ ہلاک بھی ہو جائے تو کوئی ضمان نہیں آئے گا بھئی۔
لیکن اگر خیار مشتری نے رکھا تھا، پھر اس نے کیا کیا، اس چیز پر قبضہ کیا اور اس کے پاس ہلاک ہو گئی، تو اس صورت میں اس پر کیا آئے گا؟ ثمن آئے گا، جیسے کہ کسی چیز کو عیب دار کرنے کی صورت میں اس پر ثمن آیا کرتے تھے بھئی، عیب آ گیا، خیار اس نے رکھا تھا، قبضہ کر لیا، اس کے بعد عیب آ گیا تو یہ اب اس کو واپس نہیں کر سکتا بھئی، تو یہ جو جیسے عیب دار ہونے کی صورت میں ثمن آیا کرتے تھے، اسی طرح ہلاک کرنے کی... ہونے کی صورت میں بھی ثمن آئیں گے، اس لیے کہ چیز ہلاکت کے قریب عموماً کیا ہو جایا کرتی ہے؟ ہلاکت سے پہلے عیب دار ہو جاتی ہے۔
پھر اس کے بعد اختلاف تھا بھئی صاحبین کا اور امام صاحب کا، کہ بھئی اس بات پر تو دونوں کا اتفاق کہ خیار مشتری نے رکھا تو مبیع بائع کی ملک سے نکل گیا۔ اب کیا مشتری کی ملک میں داخل ہوا یا داخل نہیں ہوا؟ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کی ملک میں داخل نہیں، ورنہ تو عقدِ معاوضہ کے اندر بدلین کا ایک شخص کی ملک میں جمع ہونا لازم آئے گا، اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے بھئی۔ عقدِ معاوضہ کی مسا... بنیاد مساوات پر ہوتی ہے، ایک ایک چیز کا مالک بن رہا ہے تو دوسرا دوسری چیز کا، جبکہ یہاں پر دونوں چیزوں کا مالک ایک ہی شخص بن گیا بھئی۔ جبکہ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ کہ وہ مالک بن جائے گا بھئی، اس لیے کہ اگر اس کو مالک نہ قرار دیا جائے تو اس صورت میں زوالِ شئے لا الی مالک لازم آئے گا بھئی، کہ ایک شئے مملوک بھی ہو اور اس کا کوئی مالک بھی نہ... نہ ہو، اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔ اور پھر اس اختلاف پر کئی مسائل نکلتے تھے، ان میں بھی اختلاف آتا تھا، جو جن کی بنیاد کس پر تھی؟ اسی اختلاف پر تھی۔
پہلا ایک مسئلہ آپ نے یہ پڑھا بھئی، کہ اگر کسی نے اپنی زوجہ کو خریدا بھئی خیار کے ساتھ، تو جب زوجہ کو خریدا تو مشتری نے خیار رکھا، تو کیا ہوا صاحبین کے نزدیک کہ فوراً کیا بن جائے گا بھئی؟ جی؟ مالک بن گیا، کیونکہ خیار مشتری نے رکھا ہے اور مشتری خیار رکھے تو مشتری کیا بن جایا کرتا ہے اس کا؟ مالک بن جایا کرتا ہے صاحبین کے نزدیک، تو ملکِ رقبہ اور ملکِ نکاح جمع ہوئے، اور ملکِ رقبہ اور ملکِ نکاح تو جمع نہیں ہو سکتے، لہٰذا اس صورت میں کیا کر... کیا کرنا پڑے گا؟ نکاح، ہم کہیں گے کہ نکاح فاسد ہو گیا۔ نکاح فاسد ہو گیا۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک نکاح فاسد نہیں ہوا، اس لیے کہ یہ ابھی مالک ہی نہیں بنا۔
دوسری صورت یہ تھی کہ اگر اسے وطی کر لے تو کیا واپس کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ صاحبین فرماتے ہیں واپس نہیں کر سکتا، چاہے باکرہ ہو چاہے ثیبہ، اس لیے کہ اس... وہ مالک بن چکا ہے اور مالک بننے کے بعد نکاح تو ختم ہو چکا بھئی، مالک بنا اور اس کے بعد اس نے تصرف کر لیا، معلوم ہوا اس نے بیع کی کیا کر دی؟ اجازت دے دی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں بھئی ابھی نکاح ہی فاسد نہیں ہوا بھئی، یہ مالک ہی نہیں بنا، اور یہ جو وطی اس نے کی، یہ کس بناء پر کی ہے؟ نکاح... نکاح کی وجہ سے کی ہے، ہاں! امام صاحب فرماتے ہیں اگر باکرہ تھی پھر وہ بھی فرماتے ہیں کہ واپس نہیں کر سکتا، اس لیے کہ اس نے کیا کیا؟ اس کی بکارت کو زائل کر دیا، اور باندی کے اندر زوالِ بکارت عیب ہے، تو عیب پیدا کر دیا اس میں، اور اب عیب پیدا کرنے کے بعد چیز کو واپس نہیں کیا جا سکتا۔
پھر اس پر ایک یہ مسئلہ نکلا تھا کہ اگر کوئی کسی مشتری نے خیار رکھا بھئی کس کے... اور خریدا کس کو؟ اپنے قریبی عزیز کو خریدا ہے، محرم ہے جس کا، تو اس صورت میں کیا وہ آزاد ہوگا یا آزاد نہیں ہوگا؟ امام صاحب فرماتے ہیں مالک نہیں بنا، تو یہ آزاد بھی نہیں، اس لیے کہ حدیث میں آیا کہ جو مالک بن جائے قریبی محرم رشتہ دار کا تو وہ مالک... وہ آزاد ہوتا ہے، اور یہ تو ابھی مالک ہی نہیں بنا خیار کے ایام میں۔ جبکہ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہ مالک بن چکا ہے بھئی خیار کے ایام میں مشتری، لہٰذا مالک بنتے ہی فوراً وہ کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔
اور اگر ایک شخص نے یہ کہا تھا، "إن ملكت عبداً فهو حر"، "اگر میں کسی غلام کا مالک بنا تو وہ آزاد ہے"، پھر اس نے خیارِ شرط کے ساتھ ایک غلام کو خرید لیا، تو امام صاحب فرماتے ہیں ابھی مالک نہیں بنا، خیار تو اس کا ہے لیکن مالک نہیں بنا ایامِ خیار میں، لہٰذا غلام آزاد نہیں، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ ایامِ خیار میں کون مالک بن جایا کرتا ہے؟ مشتری، تو فوراً مالک بنتے ہی وہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد، کیونکہ اس نے خود کہا تھا "إن ملكت عبداً"، "اگر میں کسی غلام کا مالک بنا تو وہ آزاد ہے"، اور یہ مالک بن چکا ہے، فوراً آزاد بھئی۔
ہاں! میں نے بتایا تھا اگر اس کے بجائے اس نے یوں کہا ہوتا، "إن اشتريت عبداً فهو حر"، "میں نے اگر غلام خریدا تو وہ آزاد ہے"، اب بالاتفاق آزاد ہو جائے گا، کیونکہ شراء تو پائی جا رہی ہے، ملک تو اگرچہ امام صاحب کے نزدیک، صاحبین کے نزدیک... امام صاحب کے نزدیک نہیں ہے، صاحبین کے نزدیک ہے، لیکن اس نے تو ملک کی بات ہی نہیں کی بھئی، اس نے تو کس چیز کی بات کی ہے؟ شراء کی بات کی ہے، اور شراء تو پائی گئی ہے، عقد تو پایا گیا ہے، لہٰذا فوراً آزاد ہو جائے گا۔
اسی طرح اگر کسی نے باندی خریدی خیارِ شرط کے ساتھ بھئی، آپ... مسئلہ آپ نے پڑھا ہے، کوئی باندی خریدے تو اس پر استبراء ضروری ہے، یعنی ایک حیض انتظار کرے گا بھئی، اپنی ملکیت میں باندی کے آنے کے بعد ایک حیض انتظار کرے گا تاکہ پتہ چل جائے تاکہ کہیں باندی کا رحم مشغول بالحمل تو نہیں؟ اس میں کہیں حمل تو نہیں بھئی سابقہ مالک کا؟ تو پھر اس صورت میں ایک حیض انتظار کرنا پڑے گا بھئی۔ ایک حیض آ گیا، اب پتہ چلا بھئی کہ یہ حاملہ نہیں، کیونکہ اگر حاملہ ہوتی تو حیض نہ آتا۔
تو اب استبراء واجب ہوتا ہے بائع پر، تو کیا ایک نے خیارِ شرط کے ساتھ خریدی اور انہی ایام کے اندر اس کا حیض شروع ہو گیا، تو کیا یہ حیض استبراء میں سے شمار ہوگا یا شمار نہیں؟ صاحبین فرماتے ہیں مالک بن چکا ہے، لہٰذا اس کی ملک میں یہ حیض آیا، لہٰذا یہ استبراء میں سے حیض شمار ہوگا، جبکہ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ ابھی مالک ہی نہیں بنا یہ تو، ابھی تو صرف خیار ہے اس کو، لہٰذا ابھی بھی اس حیض کے بعد بھی اگر یہ خرید بھی لیتا ہے تو اس حیض کے بعد بھی مباشرت نہیں کر سکتا بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ ایک پورا حیض انتظار پھر کرنا پڑے گا بھئی۔
اور اگر یہ واپس کر دیتا ہے بھئی! واپس کر دیتا ہے، چھٹا مسئلہ، اگر یہ واپس کر دیتا ہے بائع کو یہ باندی، تو پھر اس صورت میں کیا بائع پر استبراء ہے یا استبراء نہیں؟ امام صاحب فرماتے ہیں بائع پر استبراء نہیں، اس لیے کہ استبراء آتا ہے انتقالِ ملک کی صورت میں، ملکیت میں انتقال آئے، بدلے ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف، اور یہاں مشتری اس کا مالک ہی نہیں بنا تھا، جب مالک ہی نہیں بنا تھا تو انتقالِ ملک بھی... جی، واپس چیز آ گئی اس کے پاس، تو انتقالِ ملک کے بغیر ہی واپس آئی ہے، لہٰذا اب اس صورت میں اس پر استبراء نہیں، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں وہ مالک بن چکا تھا، لیکن اس نے پھر اپنے اختیار کے ساتھ عقد کو فسخ کر کے باندی واپس کی تو انتقالِ ملک پایا گیا، اور انتقالِ ملک آئے تو بائع پر کیا ہوگا اب؟ استبراء واجب ہوگا بھئی۔
چھٹا مسئلہ اس پر یہ بیان کیا تھا بھئی اسی اختلاف پر بھئی، کہ ایک شخص نے اپنی منکوحہ کو خرید لیا بھئی، اور ایامِ خیار میں ابھی اس نے قبضہ نہیں کیا بھئی، باندی بائع کے پاس ہی ہے، لیکن اس نے ایامِ خیار میں بچے کو جنم دے دیا بھئی، تو کیا یہ اس کی امِ ولد بنے گی یا امِ ولد نہیں؟ صاحبین فرماتے ہیں مالک بن چکا، اور جب مالک بنے اور اس کی ملکیت میں باندی بچے کو جنم دے تو وہ کیا بن جایا کرتی ہے؟ امِ ولد بنتی ہے، ان کے نزدیک امِ ولد بن گئی، لہٰذا واپس نہیں کر سکتا بھئی، امِ ولد کی بیع اور دوسرے کو مالک بنانا تو جائز نہیں ہے، یہ تو آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جایا کرتی ہے۔
جبکہ امام صاحب کے نزدیک بھئی ابھی یہ مالک ہی نہیں بنا، جب مالک ہی نہیں بنا تو یہ اس کے لیے امِ ولد بھی... اس کی ملک میں بچہ نہیں پیدا ہوا بھئی، تو یہ مالک نہیں، تو یہ اس کے لیے امِ ولد بھی نہیں بنی، لہٰذا کیا کر سکتا ہے؟ واپس اس کو کر سکتا ہے۔ یہ اس صورت میں جبکہ قبضہ کس کا تھا؟ بائع ہی کا تھا ابھی مشتری نے اسے لیا نہیں، لیکن اگر قبضہ مشتری نے کر لیا، مشتری کے پاس باندی آ گئی بھئی، اب بالاتفاق یہ اس کے لیے امِ ولد بن جائے گی بھئی، خیار ختم، بیع تام ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس لیے کہ عینِ ولادت کے وقت... ولادت عیب ہے بھئی جاریہ کے اندر، تو عینِ ولادت کے وقت بھئی یوں سمجھیں گے اس میں عیب اب... ولادت سے کیا آئے گا؟ عیب آئے گا، تو عینِ ولادت کی ابتداء میں عیب آ گیا گویا، اور آ گیا تو مشتری اس کا مالک بن گیا امام صاحب کے نزدیک بھی، اور جب مشتری اس کا مالک بن گیا تو اب اس کی ملک میں اس نے بچے کو جنم دیا، جب اس کی ملک میں بچے کو جنم دیا ہے تو اس صورت میں باندی اس کے لیے کیا بن گئی؟ امِ ولد، جبکہ صاحبین کے نزدیک تو دونوں صورتوں میں امِ ولد بن جاتی ہے۔
آٹھواں مسئلہ اس پر یہ ذکر کیا تھا بھئی، کہ اگر ایک شخص نے کسی چیز کو خیارِ شرط کے ساتھ خریدا، خریدنے کے بعد اس پر قبضہ بھی کر لیا، قبضہ کرنے کے بعد پھر اس نے کیا کر دیا؟ بائع ہی کے پاس اس چیز کو انہی ایام میں کیا کر دیا؟ امانت رکھوا دیا، امانت رکھوا دیا۔ اور پھر بائع کے پاس وہ چیز ہلاک ہو گئی تو اس کا ضمان کس پر آئے گا؟ امام صاحب فرماتے ہیں نقصان بائع کا ہی ہوا ہے، مشتری پر ضمان نہیں، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں بھئی، مشتری کی ہی ملکیت تھی یہ، مشتری نے اس پر قبضہ کر لیا تھا اور قبضے کے بعد اپنی چیز اب کیا کی تھی غیر کے پاس؟ امانت رکھوائی تھی، تو نقصان اسی کا ہوا ہے، نقصان کس کا ہوا ہے؟ مشتری کا ہوا ہے، یہ مالک بن چکا ہے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں بھئی، یہ بھی مالک ہی نہیں بنا، جب مالک ہی نہیں بنا تو امانت کیسے رکھوا رہا ہے؟ امانت تو تب رکھوائی جاتی کہ جبکہ یہ کیا ہوتا؟ اس چیز کا مالک بنتا، تو جب یہ مالک ہی نہیں ہے تو امانت رکھوانا کیسے؟ تو ہم یہ یوں سمجھیں گے کہ رکھوائی بھی کس کے پاس ہے؟ بائع کے پاس، گویا مشتری نے قبضہ اس پہ کیا تھا، پھر اس نے اپنا قبضہ ختم کر کے یہ چیز کس کو دے دی؟ بائع، تو گویا چیز... قبضہ گویا ہوا ہی نہیں، اور جب قبضہ ہوا ہی نہیں تو قبل القبض مبیع ہلاک ہو جائے تو کس پر آیا کرتا ہے؟ بائع پر ہی ہوتا ہے۔ یہاں تک مسائل سمجھ میں آ گئے بھئی؟
آگے دیکھیے بھئی:
وبقي خيار مأذون شري بالخيار وأبرأه بائعه عن ثمنه في المدة؛ لأن المأذون يلي عدم التملك.
یاد رکھیے! ایک ہے عبدِ محجور، ایک ہے عبدِ ماذون بھئی۔ ایک عام غلام ہے، عام غلام، اسے عبدِ محجور کہتے ہیں۔ اور ایک وہ غلام ہے جسے آقا نے تجارت کی اجازت دے دی، یہ کیا کہلاتا ہے؟ عبدِ ماذون کہلاتا ہے۔ تو یہ اس کو اجازت ہے آقا کی طرف سے بھئی تجارت کی، جبکہ عام غلام عبدِ محجور ہے بھئی، اس پہ ممانعت ہے، وہ تجارت وغیرہ نہیں کر سکتا۔
اب یہ عبدِ ماذون جو ہے، یاد رکھو، یہ تجارت تو کرتا ہے، لیکن یہ مال کا مالک نہیں بنتا، جو کچھ تجارت کر رہا ہے، جو مال ہے، سارا کس کا ہے؟ مالک کا ہے، سارا کس کا ہے؟ مالک کا ہے، مالک کا۔ اور جب سارا مال مالک کا ہے، تو یہ کسی کو بغیر عوض کے، تحفے کے طور پر، ہدیے کے طور پر یا ویسے، بغیر عوض کے کسی کو کوئی چیز نہیں دے سکتا، اس لیے کہ یہ تو مال آقا کا ہے، یہ کیسے بغیر عوض کے کسی دوسرے کو دے رہا ہے؟ ہاں، عوض کے ساتھ دے سکتا ہے، اس لیے کہ عوض یعنی عوض کے ساتھ دے گا تو وہ بیع ہوگی اور آقا نے بھی اس کو بیع و تجارت کی کیا کی ہے؟ اجازت دی ہے بھئی۔
معلوم ہوا عبدِ ماذون کے لیے تملیک بغیر عوض کے جائز... تملیک کا معنی دوسرے کو مالک بنانا۔ ہاں! اس کے لیے عدمِ تملک جائز ہے بھئی۔ تملک کا معنی مالک بننا۔ کوئی اس کو ہدیہ دیتا ہے، تحفہ دیتا ہے، "لو بھئی، یہ ہدیہ لے لو میری طرف سے"، تو اب آپ یہ نہیں کہیں گے کہ اس کے لیے ضروری ہے لینا، اس کی مرضی ہے، یہ لے یا نہ لے، تو عدمِ تملک کا اختیار ہے بھئی، ملکیت کو قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہے، لیکن آقا کی چیز کسی کو بغیر عوض کے دے، یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے بھئی۔
تین باتیں سمجھ میں آ گئیں بھئی؟ ایک عبدِ محجور ہوتا ہے، جس پہ... جو تجارت نہیں کر سکتا، ایک عبدِ ماذون ہے، اور عبدِ ماذون کے اندر بھئی ت... اس کے لیے تملیک بغیر عوض کے تو جائز نہیں، لیکن تملک سے انکار کرنے کا اس کو اختیار ہے، تملک سے انکار کا اختیار ہے۔
اب دیکھیے بھئی! ایک عبدِ ماذون تھا، آقا نے اس کو اجازت دی کہ "جاؤ بھئی، تجارت کرو، مال کما کر لاؤ بھئی"، یہ گیا، اس نے تجارت شروع کی بھئی۔ ایک آدمی نے اس کو ایک چیز بیچی، اس نے خیارِ شرط کے ساتھ خرید لی، یہ ہے مشتری بھئی، خیارِ شرط کے ساتھ اس نے خرید لی۔ اچھا!
اب خیارِ شرط کے ساتھ خریدی ہے اور پھر کچھ دیر کے بعد بائع اس کو کہتا ہے کہ بھئی، میں نے ثمن آپ کو معاف کر دیے۔ ثمن کیا کر دیا آپ کو؟ باری... بری کر دیا بھئی ثمن سے اس کو۔
تو کیا یہ اس چیز کو واپس کر سکتا ہے خیار کی وجہ سے، یا اب واپس نہیں کر سکتا؟ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ اس کو واپس کر سکتا ہے، اس لیے کہ اس کو ابھی خیار حاصل ہے۔ اور جب خیار مشتری کا ہو اور... تو وہ کیا مبیع کا مالک بنتا ہے امام صاحب کے نزدیک؟ مالک نہیں، جب مالک ہی ابھی نہیں بنا، تو ٹھیک ہے، مالک بننے سے یہ انکار کر رہا ہے گویا، وہ چیز واپس کر کے کیا کر رہا ہے؟ مالک بننے سے انکار کر رہا ہے، اور عدمِ تملک کا تو اسے اختیار ہے بھئی، اسے حق ہے۔ سمجھ میں آیا؟ صاحبین فرماتے ہیں نہیں بھئی، اس کا خیار ختم ہوا، اس لیے کہ خیار اس نے رکھا تھا، یہ مشتری تھا، اور مشتری خیار رکھے تو وہ مبیع کا کیا بن جایا کرتا ہے؟ تو یہ مالک بن چکا ہے، اور اس نے ثمن اس کو معاف کر دیے بھئی ثمن، اب اگر ہم اس کو اختیار دیں کہ تو اپنے خیار کی وجہ سے اس چیز کو واپس بھی کر سکتا ہے، تو یہ تو مالک بن چکا ہے، اب یہ اس کو چیز واپس کرے گا، جب چیز واپس کرے گا تو بغیر عوض کے تملیک لازم آئے گی، یہ مالک یہ بن چکا ہے، پھر کس کو مالک بنا رہا ہے اس چیز کا؟ بائع کو مالک بنا رہا ہے، تو...
یہ تملیک ہوئی نا؟ اور تملیک عوض کے ساتھ کر رہا ہے یا بغیر عوض کے بھئی؟ بغیر عوض کے، کیونکہ ثمن تو وہ کیا کر چکا تھا؟ معاف کر چکا تھا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ اس کے لیے جائز نہیں بھئی۔ دیکھیے بھئی:
تو امام صاحب کے نزدیک کیا کر سکتا ہے؟ واپس کر سکتا ہے، اس لیے کہ عدمِ تملک کا اسے اختیار ہے، صاحبین کے نزدیک واپس... کیونکہ اسے تملیک بلا عوض کا اختیار نہیں۔
وبقي خيار مأذون، یہ امام صاحب کے بھئی جو ان کا قول ہے اس کے مطابق متن میں مسائل آ رہے ہیں بھئی، اور باقی رہے گا خیارِ ماذون، ایسے ماذون غلام کا خیار شراء بالخیار، جس نے خریدا ہے خیار... جس نے خیار کے ساتھ کسی چیز کو خریدا ہے تو اس عبدِ ماذون کا خیار باقی رہے گا، وابراءہ بائعہ عن ثمنہ فی المدۃ، اور باری کر دیا ہے اس کو اس کے بائع نے بھئی عن ثمنہ بھئی، عن ثمن... اس مبیع کے ثمن سے بری کر دیا، یعنی معاف کر دیا فی المدۃ، اسی مدت کے دوران بھئی، اسی کے دوران کی بات ہو رہی ہے بھئی، اس کے بعد تو واقعی خیار نہیں رہے گا، فی المدۃ، مدت کے دوران، لان المأذون یلی، اس لیے کہ ماذون جو ہوتا ہے وہ ولی ہوتا ہے بھئی۔
ولی، یلی کا معنی ولی ہونا، اس لیے کہ ماذون ولی ہوتا ہے، یعنی مالک ہوتا ہے عدمِ تملک کا، یعنی اسے عدمِ تملک کی ولایت حاصل ہوتی ہے۔ عدمِ تملک کی... دیکھیے خود تشریح کر رہے ہیں: ای ان اشترٰی عبدٌ مأذونٌ شیئاً بالخیار، اگر خریدا ایک عبدِ ماذون نے کسی چیز کو خیار کے ساتھ، وابراءہ بائعہ عن ثمنہ، اور بری کر دیا اس کو اس کے بائع نے اس مبیع کے ثمن سے فی مدۃ الخیار، مدتِ خیار کے اندر، بقی خیارہ عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ، اس کا خیار باقی رہے گا امام صاحب کے نزدیک، اس لیے کہ وہ عدمِ تملک کا مالک ہے، وعندہما لا یبقی لہ الخیار، اور صاحبین کے نزدیک اس کے لیے خیار باقی نہیں رہے گا، کیونکہ... لانـہ ان بقی کان لہ ولایۃ الرد، اس لیے کہ اگر اس کا خیار باقی رہے تو اس کو رد واپس کرنے کی... بھئی اگر خیار ہے تو واپس بھی کر سکتا ہے، اس لیے کہ اگر اس کا خیار باقی رہے تو اسے رد کرنے کی، وہ چیز واپس کرنے کی ولایت حاصل ہوگی، فردہ یکون تملیکاً بغیر عوض، اور اس کا رد کرنا کیا ہوگا؟ تو اس کا رد کرنا یہ تملیک ہوگی بغیر عوض کے، والماذون لا یملک ذلک، اور ماذون تو تملیک بغیر عوض کا... کا مالک نہیں، وعند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک: لما لم یملکہ کان ردہ امتناعاً عن التملک، کہ جب یہ اس کا مالک ہی نہیں بنا تو اس کا اس کو واپس کر دینا، یہ تو باز رہنا ہے، امتناعاً عن التملک ہے۔
مالک بننے سے باز رہنا ہے، اور یہ مالک بننے سے انکار کر سکتا ہے، رک سکتا ہے، باز رہ سکتا ہے۔ وللماذون ولایۃ ذلک، اور ماذون کو عدمِ تملک کی ولایت تو ہوتی ہے بھئی، امتناع عن التملک کی ولایت ہوتی ہے، فانہ اذا وہب لہ شئٌ فلہ ولایۃٌ ان لا یقبلہ، اس لیے کہ جب ہبہ کی جائے عبدِ ماذون کو شئٌ، کوئی چیز، تو اس کو ولایت ہوتی ہے اس بات کی کہ ان لا یقبلہ، اس کو قبول نہ کرے، اس لیے کہ عدمِ تملک ہے اور عدمِ تملک کی اسے ولایت حاصل ہے۔
مسئلہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا بھئی؟
تو یہ آٹھویں تفریع تھی بھئی اس اختلاف پر بھئی۔
آٹھویں تھی یا نویں بھئی؟ نویں۔
جی؟
نویں۔
اچھا چلیے، جتنی بھی ہو، اٹھ نو ہو گئے۔ وبطل شراء ذمیٍ من ذمیٍ خمراً بالخیار ان اسلم لئلا یتملکہا مسلماً باسقاط خیارہ، صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: پہلے ایک ضابطہ سمجھ لو، مسلمان کے لیے خمر کے اندر نہ تو تملک جائز ہے، نہ تملیک جائز ہے، خمر اور خنزیر میں وہ کسی قسم کے تصرف کی اسے شریعت نے اجازت نہیں، نہ وہ مالک ان کا بن سکتا ہے، نہ کسی اور کو ان کا مالک بنا سکتا ہے، تو تملک بھی جائز نہیں اور تملیک بھی اس کے لیے جائز نہیں۔
یہ ضابطہ یاد رکھو۔
اب دو ذمی ہیں بھئی، انہوں نے آپس میں خمر کی بیع کی بھئی، ذمی بھئی۔
غیر مسلم بھئی، اس کے لیے تو جائز ہے بھئی، وہ کر سکتا ہے۔
ان ان کے نزدیک تو خمر مال ہے بھئی، تو انہوں نے آپس میں کیا کی بھئی؟
بیع کی۔
انہوں نے خمر کی آپس میں بیع کی اور ایک ذمی نے خیارِ شرط رکھا جو کہ مشتری تھا، اس نے شراب خریدی کس شرط پر؟ کہ مجھے تین دن تک کا خیار ہے۔
پھر انہی ایام کے اندر وہ مسلمان ہو گیا بھئی۔
دولتِ اسلام اسے نصیب ہوئی۔
اب کیا کیا جائے بھئی؟
امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ شراء ہی باطل ہو گئی، شراء ہی کیا ہو گئی اس کی؟ خریداری ہی کیا ہوئی بھئی؟ اس کی جو خرید ہے، شراء ہے، وہی باطل ہو گئی۔
اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کا خیار ساقط، اس کا خیار باطل ہو گیا بھئی۔
امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟
شراء باطل۔ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟
خیار باطل۔
امام صاحب فرماتے ہیں بھئی دیکھو بھئی، اس نے شراب خریدی تھی بھئی، تو اس کی ملکیت میں شراب داخل ہوئی؟
امام صاحب کے نزدیک؟
یہ مشتری ہے تو اس کی ملکیت میں شراب داخل نہیں، شراب داخل نہیں ہوئی اور یہ مسلمان ہو چکا ہے، اب اگر دو صورتیں ہیں: یا تو خرید کو باطل قرار دینا پڑے گا یا خیار کو باطل قرار دینا پڑے گا، اگر خیار کو باطل قرار دیتے ہیں تو پھر تملکِ خمر لازم آئے گا مسلمان کے لیے بھئی، ہم کیا کہتے ہیں اس کا خیار باطل؟ معلوم ہوا یہ کیا بن گیا... بن چکا ہے؟
مالک بن... اس کو مالک بنانا پڑے گا بھئی یہ۔
خیار... یعنی اسے عقد فسخ کرنے کا ہم کہتے ہیں اختیار نہیں ہے بھئی، خیار۔
تو پھر اس صورت میں یہ کیا بن جائے گا؟
مالک بن جائے گا اور مسلمان کے لیے تو خمر میں تملک جائز نہیں، صورت سمجھ میں آئی؟ پھر سنو، امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر یہاں دو صورتیں ہیں: یا تو شراء کو باطل قرار دینا پڑے گا یا خیار کو باطل قرار دینا پڑے گا، خیار کا کیا مطلب تھا؟ اسے عقد کو فسخ کرنے کا اختیار۔
تو جب خیار باطل ہوگا اس کا مطلب ہے اسے فسخ کرنے کا اختیار نہیں۔
تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ دو چیزیں ہیں: یا تو شراء کو باطل قرار دینا پڑے گا یا خیار کو باطل قرار دینا پڑے گا، اگر خیار کو باطل قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز کا مالک بن گیا بھئی، کیا بن گیا؟
مالک بن گیا، تو تملک لازم آیا مسلم کے لیے خمر کا، مسلم کے لیے تو تملکِ خمر جائز نہیں، لہٰذا کیا کہنا پڑے گا کہ شراء ہی باطل ہے۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ بھئی خیار مشتری نے رکھا تھا اور مشتری جب خیار رکھے تو وہ مالک بن جایا کرتا ہے بھئی۔
اور تو یہ مال... جب یہ مسلمان ہوا تو یہ مالک تھا شراب کا پہلے سے ہی بھئی۔
پہلے سے ہی مالک تھا، اب اگر ہم شراء کو باطل قرار دے دیں، تو یہ مالک بن چکا ہے اور شراء باطل ہوئی تو چیز واپس کرنا پڑے گی، کس کو؟
اسی بائع ذمی کو بھئی، تو جب چیز واپس کرے گا، مالک تو یہ بن چکا ہے، تو دوسرے کو مالک بنانا لازم آئے گا اور مسلمان کے لیے تو تملیکِ خمر جائز نہیں ہے، لہٰذا کیا کہنا پڑے گا؟
اس کے خیار ہی باطل ہوا، خیار کیا ہوا؟ جب یہ مسلمان ہوا تو اس وقت خمر کا مالک تھا، تو اب بھی کیا ہے؟ خمر کا مالک ہے۔
سمجھ میں آیا؟
تو ملکیت میں شراب ہونا، یہ اور چیز ہے، شراب کا مالک بننا، باقاعدہ نئی ملک کا آنا بھئی، یہ معنی ہے تملک کا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
بھئی ایک آدمی ہے، مسلمان خمر کا مالک ہو سکتا ہے بھئی کہ اس کی ملکیت میں خمر آ سـ... ہو بھئی۔
لیکن تـ... مالک بنے، یہ نہیں ہو سکتا، مثلاً آپ کے پاس بھئی انگور کا رس پڑا ہوا تھا، کافی عرصہ پڑا رہا، وہ کس میں بدل گیا؟ شراب میں، اس انگور کے رس کے مالک کون تھا؟
آپ تھے بھئی، تو اب اس خمر کے مالک بھی کون ہیں؟ آپ ہیں۔
لیکن کوئی آپ کو دے اور آپ اس سے لیں اور خمر کے مالک بن جائیں، یہ نہیں ہو سکتا بھئی، ہاں، پہلے سے ایک چیز آپ کی ملکیت میں ہے، اس کی بات نہیں ہو رہی، سمجھ میں آیا؟ تو بس پھر وہ خمر کے آپ مالک ہیں، اب اس میں کسی اور کو مالک نہیں بنا سکتے، یا اس کو ضائع کرو یا پھر کیا کرو؟ سرکے وغیرہ میں بھی اس کو تبدیل کر سکتے ہو بھئی۔
سمجھ میں آیا مسئلہ بھئی؟
وبطل شراء ذمیٍ من ذمیٍ خمراً بالخیار ان اسلم، اور باطل ہے ذمی کا خریدنا ذمی سے شراب کو خیار کے ساتھ ان اسلم، اگر وہ کیا ہو جائے؟
اگر مسلمان ہو جائے تو شراء باطل ہے، لئلا یتملکہا، تاکہ مشتری اس کا مالک نہ بن جائے مسلماً، اس حال میں کہ وہ کیا ہے؟
مسلمان ہے، تو اور مسلمان تو تملک نہیں ہو سکتا بھئی مسلمان کے لیے۔
لئلا یتملکہا، تاکہ کہیں مشتری اس کا مالک نہ بن جائے مسلماً، اس حال کے میں کہ وہ مسلمان ہے، باسقاط خیارہ بھئی، اس کے خیار کو ساقط کرنے، اس کے خیار کو اگر ہم ساقط کرتے ہیں، اس کے خیار کو اگر ہم باطل کرتے ہیں، تو بھئی جب تک خیار تھا، وہ مالک بنا تھا امام صاحب کے نزدیک؟
اس وقت تک مالک... تو اب خیار کو ساقط کرو گے تو کیا لازم آئے گا کہ وہ مسلمان ہے اور شراب کا مالک بن رہا ہے، اور مالک تو نہیں بن سکتا۔
ای اذا اشترا ذمیٌ بشرط خیارہ من ذمیٍ خمراً، اگر خریدا ایک ذمی نے خیارِ شرط کے ساتھ بھئی، اپنے خیارِ شرط کے ساتھ دوسرے ذمی سے شراب کو، ثم اسلم المشترِی، پھر یہ خریدنے والا بھئی جو ہے یہ مسلمان ہو گیا، بطل شراؤہ، اس کی شراء باطل ہو جائے گی، اس لیے کہ... لانـہ ان بقی، اس لیے کہ اگر یہ شراء باقی رہے، فعند اسقاط الخیار، تو خیار کے ساقط کرنے کے وقت یتملکہا المشتری، مشتری کیا بنے گا اس کا؟
مالک بنے گا، فیلزم تملک المسلم الخمر، تو لازم آئے گا مسلمان کا تملکِ خمر بھئی، کہ مسلمان کا مالک بننا لازم آئے گا خمر کا۔
وعندہما، صاحبین کے نزدیک: ینفذ الشراء، شراء کیا ہو جائے گی؟
نافذ ہو جائے گی، وبطل الخیار، خیار باطل ہو جائے گا، لانـہ لو بقی، اس لیے کہ اگر وہ خیار باقی رہے، یملک ردہا، تو اس کا معنی ہے کہ یہ مالک ہے اس کو واپس کرنے کا، والرد یکون تملیکاً، اور واپس کرنا تو کیا ہوگا؟ اس دوسرے کو پھر مالک بنانا ہوگا، کیونکہ چیز تو اس کی ملکیت میں داخل ہو چکی ہے۔
والمسلم لا یملک تملیک الخمر، اور مسلمان تملیکِ خمر کا مالک نہیں ہے۔
فہذہ المسائل ثمرۃ الخلاف، تو یہ مسائل ہیں ثمرہ... یہ مسائل ثمرۂ خلاف ہیں، اختلاف کا نتیجہ ہیں جو جتنے بھی ذکر ہوئے بھئی۔
ومن لہ الخیار، اور وہ شخص جس کو خیار ہو یجیز، بھئی یہاں سے آپ کو یہ بات بتلائیں گے بھئی:
کہ خیار بائع بھی رکھ سکتا ہے اور مشتری بھی رکھ سکتا ہے، تو جس نے خیار رکھا ہے اس کو بیع کی اجازت... وہ بیع کی اجازت بھی دے سکتا ہے اور اس کو فسخ بھی کر سکتا ہے بھئی، لیکن اس میں بیع کی اجازت دیتے ہوئے تو دوسرے کو بتانا ضروری نہیں، لیکن اگر یہ بیع کو فسخ کرتا ہے، چاہے وہ بائع تھا خیار رکھنے والا، چاہے دوسرا مشتری تھا، بیع کو فسخ جب کر رہا ہے تو دوسرے کو مدت کے اندر اندر اطلاع دینا ضروری ہے۔
دوسرے کو مدت کے اندر کیا ہے؟
اطلاع دینا ضروری ہے۔
اگر اطلاع نہیں دی، آپ بے شک اس نے عقد کو فسخ کر دیا، لیکن دوسرے کو مدت کے بعد اطلاع ملی، نہیں بھئی، اب یہ معتبر نہیں بھئی، آپ کو مدت کے اندر اطلاع دینی چاہیے تھی، آپ نے اطلاع نہیں دی، لہٰذا بیع تام ہو گئی، اب آپ واپس نہیں کر سکتے، فسخ نہیں کر سکتے۔
ہاں، اگر مدت کے اندر اس تک اطلاع پہنچ گئی تو بیع کیا ہو جائے گی؟ فسخ ہو جائے گی، دیکھیے بھئی: ومن لہ الخیار، اور جس شخص کو خیار ہو یجیز، وہ اجازت بھی دے سکتا ہے وان جہل صاحبہ، اگرچہ لا علم ہو اس کا ساتھی، اگرچہ اس کا اس کے ساتھی کو پتہ ہی نہ ہو، اجازت دے دیتا ہے کہ بیع ہو۔
ولا ینفسخ بلا علمہ، لیکن بیع فسخ نہیں ہوگی بلا علمہ، بغیر اس کے ساتھی کے علم کے۔
ای ان فسخ من لہ الخیار، اگر فسخ کر دیا اس شخص نے جس کو اختیار تھا، لا ینفسخ بلا علم صاحبہ، تو بیع فسخ نہیں ہوگی اس کے ساتھی کے جاننے کے بغیر، خلافاً لابی یوسف والشافعی رحمہما اللہ تعالی، بر خلاف امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔
رحمہما اللہ تعالی بھئی، یہاں لفظِ اللہ رہ گیا بھئی، کتابت کی بڑی غلطیاں ہیں اس کتاب میں، جگہ جگہ آتی ہیں۔
لہما، ان دونوں کی دلیل کیا ہے؟ یہ فرماتے ہیں انـہ ان شرط، اگر شرط لگا دی جائے علم صاحبہ، اس کے ساتھی کے جاننے کی، ہم نے کیا کہا بھئی؟ جب بھی فسخ کرے گا مدت کے اندر اندر دوسرے کو بتلانا ضروری ہے، وہ فرماتے ہیں اگر یہ شرط لگا دو گے پھر تو فائدہ ہی نہیں رہے گا خیارِ شرط کا۔
اس لیے کہ بائع کیا کرے گا؟ بائع تو چیز بیچنا چاہتا ہے، وہ تو راضی ہے، مشتری نے خیار مثلاً رکھا ہے، تو اب مشتری اب اس کو اطلاع دینا چاہتا ہے کہ میں نے بیع فسخ کر دی اور وہ چھپ جاتا ہے، دوسرا کیا ہوتا ہے؟
چھپ جاتا ہے کہ کسی طرح یہ تین دن گزر جائیں بس۔
تو اب اطلاع اس تک پہنچتی نہیں، تو فائدہ کیا ہوا خیار رکھنے کا؟ بیع تو کیا ہو جائے گی؟ تام۔
یا بائع نے خیار رکھا ہے مثلاً،
بائع نے خیار رکھا ہے مثلاً اور بائع چاہتا ہے اب اس کو فسخ کرنا،
ارادہ بدل گیا ہے اس کا، تو اب مشتری چھپ گیا تاکہ بیع کہیں فسخ نہ ہو جائے، تو اس خیار کا کوئی فائدہ ہوا؟ نہ ہوا۔
ان دونوں کی دلیل امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: انـہ ان شرط علم صاحبہ، اگر شرط لگا دی جائے اس کے ساتھی کے جاننے کی، لم یبق فائدۃٌ فی شرط الخیار، تو فائدہ باقی نہیں رہے گا خیارِ شرط کے اندر بھئی، لان صاحبہ ان اختفی فی مدۃ الخیار فلم یصل الخبر الیہ فیتم العقد، اس لیے کہ اگر اس کا ساتھی اگر وہ چھپ گیا فی مدۃ الخیار بھئی، مدتِ خیار کے اندر، فلم یصل الخبر الیہ، تو نہیں پہنچے گی خبر اس تک، فیتم العقد، تو عقد تام ہو جائے گا، فیتضرر من لہ الخیار، تو نقصان اٹھائے گا من لہ الخیار، وہ شخص جس کو خیار تھا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دوسرے کو نقصان ہوگا بھئی۔
جبکہ ہمارے نزدیک کوئی حرج نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
یہاں اگر ایسا خطرہ ہے پھر دو عادل آدمیوں کو اپنے فسخ پر گواہ بنا لے کہ بھئی، میں تو اسے تلاش کر رہا ہوں، وہ تو مجھے مل ہی نہیں رہا بھئی، میں تم دونوں، اور ادھر مدت پوری ہونے والی ہے، میں تم دونوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس بیع کو کیا کر دیا؟
فسخ کر دیا، یا قاضی کے پاس براہِ راست چلا جائے۔
فان فسخ واعلمہ فی المدۃ انفسخ
والا تم، فان فسخ، پس اگر اس نے فسخ کر دیا اس مدت کے اندر واعلمہ فی المدۃ، اور اس کو بتلا بھی دیا مدت ہی کے اندر، انفسخ، تو بیع کیا ہو جائے گی؟ فسخ، والا، اور اگر بتلایا نہیں یا فسخ ہی نہیں کیا، تم، تو بیع کیا ہو جائے گی؟
تام ہو جائے گی۔
والا تم اخذہ، اور یا اس کا... ورنہ اس کا عقد کیا ہو جائے گا؟
تام ہو جائے گا۔
ویورث خیار العیب والتعیین لا الشرط والرؤیۃ،
اور وراثت میں دیا جائے گا خیارِ عیب اور خیارِ تعیین، نہ کہ خیارِ شرط اور خیارِ رویت۔
خیارِ عیب کسے کہتے ہیں بھئی؟ ایک چیز آپ نے خریدی ہے بھئی، کوئی خیار آپ نے اپنے پاس نہیں رکھا، لیکن چیز بعد میں آپ کو پتہ چلتا ہے بھئی اس نے تو مجھے عیب دار چیز دی ہے،
تو شریعت نے آپ کو خیار دیا ہے بھئی، یہ کیا کہلاتا ہے؟
خیارِ عیب۔
وہ چیز آپ واپس کر سکتے ہیں۔
اور خیارِ تعیین، یہ خود شارح بھی بتلائیں گے، خیارِ تعیین اسے... اسے کہتے ہیں
کہ ایک آدمی کے پاس دو کپڑے ہیں، وہ آپ کو بیچنا...
چاہتا ہے، ہر ایک کی قیمت مثلاً 10 درہم ہے۔ آپ اس سے کہتے ہیں، "بھئی! یہ دونوں کپڑے مجھے دے دو، میں ان میں سے جو چاہوں گا اس کو متعین کر دوں گا، وہ خرید لوں گا اور دوسرا کیا کر دوں گا آپ کو؟ واپس کر دوں گا۔" تو اس پہ عقد کر لیتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ خیارِ تعیین کہتے ہیں۔ اب آپ تعیین کا خیار ہے، جس کپڑے کو آپ متعین کرنا چاہیں مبیع کے طور پر۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو یاد رکھو، یہ جو خیارِ عیب اور خیارِ تعیین ہے بھئی، وارث کو بھی ان کا حق حاصل ہوتا ہے۔ معلوم ہوا یہ وراثت میں... اس میں وراثت جاری ہوگی، خیارِ عیب میں بھی اور خیارِ تعیین میں بھی، لیکن خیارِ شرط اور خیارِ رویت کے اندر بھئی، یہ وراثت جاری... بھئی جس کو خیارِ رویت تھا بھئی یا خیارِ شرط حاصل تھی، مدت کے اندر اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اس کے وارث کو خیارِ شرط حاصل ہوگا؟ خیارِ رویت حاصل ہوگا؟ ہمارے فقہائے کرام کیا فرماتے ہیں بھئی؟ نہیں، یہ اسے حاصل نہیں ہوگا۔ ہاں، خیارِ عیب اور خیارِ تعیین اسے حاصل ہے۔
خيار التعين، خیارِ تعیین یہ ہے بھئی: أن يشتري أحد الثوبين، کہ مشتری خرید لیتا ہے دو کپڑوں میں سے ایک کو بعشرة، کتنے کے بدلے؟ 10 کے بدلے، على أن يعين أيّاً شاء، اس شرط پر کہ وہ متعین کر دے گا أيّاً شاء، جس کو بھی وہ چاہے گا۔
جي، وخيار الشرط يورث عند الشافعي رحمه الله أيضاً، اور خیارِ شرط جو ہے وہ وراثت میں دیا جائے گا امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی بھئی۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، وہ فرماتے ہیں بھئی جیسے خیارِ عیب اور خیارِ تعیین کس میں... اس میں وراثت میں دیا جائے گا، اسی طرح خیارِ شرط بھی ورثاء کو اس کا بھی حق دیا جائے گا بھئی، دیا جائے گا۔ کہتے ہیں بھئی، خیارِ عیب میں جب وراثت میں... اس میں وراثت جاری کرتے ہو، خیارِ تعیین کے اندر وراثت جاری کرتے ہو، تو خیارِ شرط بھی ان کی طرح ہی خیار ہے، اس میں بھی کیا جاری ہوگی؟ وراثت جاری ہوگی۔ ہم کہتے ہیں نہیں! خیارِ شرط تو ارادے کا نام ہے، کس چیز کا نام ہے؟ ارادے کا نام ہے، دوسرے کے اگر ارادہ ہوا تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ بیع کو فسخ، اور ارادہ انتقال کو قبول نہیں کرتا، ایک شخص سے دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہو سکتا، تو ورثاء کو بھی اس کے... منتقل یہ نہیں ہوگا۔
جبکہ خیارِ عیب میں ہم نے اس لیے اجازت دی کہ چیز کے اندر عیب نکل آیا بھئی، عیب کا پتہ چلا بھئی، اور جیسے وہ مورث... وہ جو مر گیا، اس کو وہ حق دار تھا سلیم مبیع کا، سالم مبیع کا جس میں کوئی عیب نہ ہو، اسی طرح اس کے ورثاء بھی کس چیز کے حق دار ہیں بھئی؟ سالم مبیع کے حق دار ہیں، سمجھ میں آیا؟ تو ان کو مبیع سلامت ملنا چاہیے، اس لیے ان کو کیا دیا جائے گا؟ خیارِ عیب۔ اور خیارِ تعیین تو اس لیے دیا گیا ان کو کہ بھئی، دو چیزیں ہیں ان کے پاس، دو کپڑے ہیں اور دو میں سے وہ کتنے کے مالک ہیں بھئی؟ ایک کے۔ بھئی، اس نے خریدا تھا دو کپڑوں میں سے کہ میں جسے چاہوں گا بطورِ مبیعہ کے لے لوں گا، دوسرے کو کیا کر دوں گا؟ واپس کر دوں گا، تو خیارِ تعیین تو ورثاء کو دینا ضروری ہے اس لیے کہ ایک کپڑا تو لازمی طور پر کس کا ہے؟ بائع کا ہے، تو اسے الگ کرنا ہے یا نہیں کرنا بھئی؟ جی، تو ایک ان کا ہے تو ان کی ملک کے ساتھ غیر کی ملک کا اختلاط لازم آ رہا ہے، تو اس کو جدا کرنا ضروری ہے، اس لیے ان کو دیا گیا، جبکہ خیارِ شرط میں اس قسم کی کوئی بات نہیں، وہ تو صرف ارادے کا نام ہے اور ارادہ انتقال کو قبول نہیں کرتا۔
تو امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک البتہ بھئی، وہ بھی امامِ دنیا ہیں، ان کے اپنے دلائل ہیں بھئی، ہم صرف اپنے مذہب کی ترجیح پر بات کر رہے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ صرف ترجیح دے رہے ہیں اپنے مذہب کو۔ وخيار الشرط يورث عند الشافعي رحمه الله أيضاً، اور خیارِ شرط جو ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ بھی وراثت میں دیا جائے گا، وخيار الرؤية لا يتأتى على مذهبه، اور خیارِ رویت جو ہے وہ حاصل نہیں ہوتا امامِ شافعی رحمہ اللہ کے مذہب پر۔ ان کے مذہب کے مطابق تو خیارِ رویت کسی کو حاصل ہی نہیں ہوتا، کیوں؟ لأن الشراء ما لم يره لا يجوز عنده في أظهر القولين، اس لیے کہ خیارِ رویت کس چیز میں دیا جاتا ہے؟ ایسی چیز میں جس کو آپ نے بیع سے پہلے دیکھا ہی... ایک چیز آپ نے خریدی ہے، ابھی دیکھی نہیں تھی بھئی، فلاں جگہ پڑی ہوئی ہے بھئی، اس طرح کی چیز ہے، میں آپ کو بیچتا ہوں يا زمین ہے یا کوئی چیز ہے، آپ نے خرید لی، تو شریعت نے آپ کو خیارِ رویت دے دیا بھئی، چیز کو دیکھنے کے بعد اگر ناپسند آتی ہے تو کیا کر دو؟ واپس کر سکتے ہو بھئی، سمجھ میں آیا؟ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بغیر دیکھے کسی چیز کی... کسی چیز کو خریدنا جائز ہی نہیں، جب جائز ہی نہیں ہے تو پھر خیارِ رویت کا وہاں احتمال بھی... جو بھی چیز خریدے گا، دیکھ کر خریدنی پڑے گی۔ لأن الشراء ما لم يره لا يجوز عنده، اس لیے کہ خریدنا ایسی چیز کا جس کو بائع مشتری نے دیکھا ہی نہیں ہے، لا يجوز عنده، یہ ان کے نزدیک جائز ہی نہیں ہے، في أظهر القولين، ان کے دو قولوں میں سے جو زیادہ ظاہر ہے اس قول کے مطابق بھئی، سمجھ میں آیا؟ دو قول ہیں بھئی معلوم ہوا، لیکن جو ظاہر قول ہے ان کا اس کے مطابق جائز نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے بس، وهذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔