سَبَق دیکھیے بھئی آگے:
”وَإِنْ تَزَوَّجَهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا ثُمَّ تَرَاضَيَا عَلَى تَسْمِيَتِهِ فَهِيَ لَهَا إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا فَلَهَا الْمُتْعَةُ، وَعَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى الْأَوَّلِ نِصْفُ هَذَا الْمَفْرُوضِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِأَنَّهُ مَفْرُوضٌ فَيَتَنَصَّفُ بِالنَّصِّ“.
بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو وکیل بنائے کسی عقد وغیرہ کے لیے، تو اگر وہ وکیل موکل کے کہنے کے مطابق عمل کرے گا تو وکیل کا عقد موکل پر لازم ہو جائے گا۔ اور اگر وکیل نے موکل کی مخالفت کر دی تو پھر وہ وکیل جو ہے فضولی کے درجے میں ہو گیا، اور فضولی کے عقد کے اندر تو صاحبِ اجازت کو اختیار ہوتا ہے، چاہے اجازت دے، چاہے اجازت نہ دے۔
تو ایک شخص نے دوسرے شخص کو وکیل بنایا کہ میرا کسی جگہ نکاح کروا دو، اس وکیل نے اس کا دو جگہ نکاح کروا دیا۔ میں نے بتایا کہ یہاں دو صورتیں بن سکتی ہیں: ایک صورت یہ کہ دونوں نکاح الگ الگ عقد کیے بھئی، دونوں نکاح میں الگ الگ عقد کیے، تو پھر پہلا عقد تو نافذ ہو جائے گا، جبکہ دوسرا عقد وکیل نے اپنی طرف سے کیا ہے تو اس کے اندر وہ فضولی ہے، اب وہ موکل اجازت دے گا تو دوسرا عقد نافذ ہو گا، اور اگر وہ رد کر دے گا تو باطل ہو جائے گا۔ یہ تو پہلی صورت جو میں نے ذکر کی تھی۔
جبکہ کتاب کے اندر دوسری صورت ذکر ہے کہ وکیل نے ایک ہی عقد میں دو عورتوں سے اس کا نکاح کروا دیا، کہ مثلاً: اس زید کا میں فلانی اور فلانی عورت سے نکاح کرتا ہوں۔ ایک ہی ایجاب کیا، اور دوسری طرف سے وہ لڑکی والے دونوں نے کیا کر لیا؟ قبول کر لیا۔ تو ایک ہی عقد میں دو نکاح کروا دیے۔ تو اب اس صورت میں یاد رکھو یہ وکیل نے موکل کی مخالفت کی ہے، لہٰذا یہ دونوں عقد بھی زید پر، مثلاً زید نے وکیل بنایا تھا، تو یہ دونوں عقد بھی زید پر لازم نہیں، اور دونوں میں سے کسی ایک متعین کو بھی زید پر لازم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ترجیح کی وجہ نہیں ہے، اور ان دونوں عورتوں میں سے کسی ایک غیر متعین کو بھی زید کی بیوی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔
اور پھر دوسرا مسئلہ ذکر کیا تھا کہ امیر نے، حاکم نے کسی شخص کو حکم دیا کہ کسی عورت سے میرا نکاح کروا دو۔ اب اس وکیل نے غیرِ کفو کے اندر اس کا نکاح کروا دیا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ نکاح نافذ ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ امیر نے امراۃ کا لفظ ذکر کیا تھا، اور امراۃ کا لفظ مطلق ہے، یہ اس عورت پر بھی بولا جاتا ہے جو کفو ہو، اور اس عورت پر بھی بولا جاتا ہے جو غیرِ کفو ہو، تو جہاں بھی نکاح کروا دے گا چاہے کفو میں، چاہے غیرِ کفو میں وہ نکاح نافذ ہو جائے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں پر کفو ہی میں نکاح کروانا پڑے گا۔ وجہ یہ کہ یہ مطلق ہے اور مطلق جو ہے اس کو متعارف پر محمول کیا جاتا ہے، یعنی جو لوگوں میں رائج اور شائع ہوتا ہے، اور لوگوں کے اندر رائج اور شائع یہ ہے کہ وہ کفو کے اندر نکاح کرتے ہیں، غیرِ کفو میں نکاح نہیں کرتے۔ تو یہاں مطلق امراۃ آیا، لیکن اس کو متعارف پر محمول کیا جائے گا اور متعارف تو کفو میں نکاح ہے، لہٰذا اس امراۃ سے مراد وہ امراۃ ہے جو اس کا کفو ہو۔ تو غیرِ کفو میں کروایا تو اس نے وکیل نے مخالفت کر دی، لہٰذا نافذ ہی نہیں ہو گا یہ نکاح۔
پھر صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کی طرف سے جواب دیا کہ عرف تو مشترک ہے، یعنی لوگ کفو میں بھی نکاح کرتے ہیں اور غیرِ کفو میں، لہٰذا آپ کا یہ کہنا کہ متعارف یہ ہے کہ کفو میں کرتے ہیں، یہ ہمیں قبول نہیں۔ اور اگر آپ کی بات قبول بھی کر لی جائے کہ یہ متعارف یہ ہے کہ کفو میں نکاح کیا جاتا ہے، تو بھی یہ تو عرفِ عملی ہے بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ تخصیص کی بات چل رہی ہے، اور تخصیص کے اعتبار سے عرف دو قسم پر ہے: ایک عرفِ عملی ہے اور ایک عرفِ لفظی ہے بھئی۔
عرفِ لفظی یہ ہے کہ ایک لفظ، اس کا معنی تو عام ہے لیکن عام لوگوں کی عادت اور طریقہ یہ ہے کہ عام لوگ اس کو بعض افراد کے ساتھ ہی انہوں نے اس کو خاص کر دیا ہے۔ میں نے بتایا تھا عرف کا معنی ہے عام لوگوں کی عادت اور طریقہ۔ تو عرفِ لفظی یہ ہے کہ ایک لفظ کا معنی تو عام ہے، بہت سے افراد پر بولا جاتا ہے، لیکن عام لوگوں نے اس کو بعض افراد کے ساتھ خاص کر دیا، جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی جیسے ”دَابَّةٌ“۔ دابہ زمین پر چلنے والے ہر جاندار کو کہتے ہیں لیکن عام لوگوں نے اس کو ان جانوروں کے ساتھ خاص کر دیا جو سواری کے کام آتے ہیں یا جن پر بوجھ لادا جاتا ہے جیسے گدھا ہے، خچر ہے اور گھوڑا۔ تو اب دابہ کا لفظ ان پر بولا جاتا ہے اگرچہ یہ عام تھا۔ تو دیکھو، دابہ کا معنی کیا تھا؟ زمین پر چلنے والا ہر جاندار۔ تو تمام جاندار اس کے افراد تھے لیکن عرف میں اب یہ اس کے بعض افراد کے ساتھ یہ لفظ خاص ہو گیا۔ یا دوسری مثال جیسے میں نے ذکر کی تھی کہ مال کا لفظ ہے۔ مال دیکھو ہر وہ چیز جس کی کوئی مالیت ہو، جس کو مال و دولت سمجھا جاتا ہو، جیسے درہم ہیں، دینار ہیں، سامانِ تجارت وغیرہ یہ سب مال کے اندر داخل ہیں۔ لیکن زمانۂ جاہلیت میں مال کا لفظ عربوں نے خاص کر دیا تھا، اونٹوں پر بولا کرتے تھے کیونکہ ان کی سب سے بڑی دولت اونٹ تھے بھئی، تو وہ اونٹوں پر مال کا لفظ بولا کرتے تھے۔ تو دیکھو یہ دونوں مثالیں ہیں عرفِ لفظی کی، کہ لفظ تو عام تھا، دابہ عام تھا لیکن اس کو خاص کر دیا ان جانوروں میں سے بعض کے ساتھ، اور مال کا لفظ تو عام تھا لیکن اس کو خاص کر دیا بعض افراد کے ساتھ جو مال کے بعض افراد ہیں۔
اور ایک ہوتا ہے عرفِ عملی۔ عرفِ عملی یہ ہے کہ عام لوگوں کی عادت یہ ہے کہ کسی چیز میں تخصیص کر دیں، وہاں لفظ وغیرہ نہیں ہوتا، بس لوگوں کا عمل ہوتا ہے۔ جیسے دیکھو نئے کپڑے، نئے کپڑے ہر موقع پر پہنے جا سکتے ہیں، لیکن عام لوگوں کی عادت کیا ہے کہ انہوں نے نئے کپڑوں کی تخصیص کر دی ہے عید کے ساتھ کہ عید کے موقع پر نئے کپڑے پہنتے ہیں۔ آج کل تو اللہ کی بے انتہا نعمتیں ہیں کہ سارا سال ہی لوگ نئے کپڑے پہنتے رہتے ہیں، لیکن قدیم زمانے میں تو کپڑے بڑی مشکل سے ملتے تھے کیونکہ کپڑے ہاتھ سے بنے جاتے تھے، تو لوگ عموماً صرف عید ہی کے موقع پر نئے کپڑے پہنتے تھے بھئی۔ تو دیکھو یہ عرفِ عملی ہے، لوگوں نے نئے کپڑے پہننے کی تخصیص کر دی ہے عید کے ساتھ، تو یہ عرفِ عملی ہے بھئی۔
تو جواب دے رہے تھے صاحبِ ہدایہ امام صاحب کی طرف سے: بات چل رہی تھی امراۃ کے لفظ کی، امیر نے کیا کہا؟ کسی امراۃ سے میرا نکاح کروا دو۔ تو امراۃ کا لفظ مطلق ہے، تو اس کے لیے عرفِ لفظی کو دلیل کے طور پر پیش کرنا چاہیے تھا آپ کو، اور آپ دلیل میں عرفِ عملی پیش کر رہے ہیں۔ کوئی عرفِ لفظی پیش کرتے، کوئی لفظ کی مثال ذکر کرتے کہ دیکھو یہ امراۃ کا لفظ ہے اور لوگ جو ہیں اس کو صرف کفو میں استعمال کر رہے ہیں، غیرِ کفو میں استعمال نہیں۔ تو آپ کو عرفِ لفظی کی مثال پیش کرنی چاہیے تھی، عرفِ عملی کی نہیں۔ تو امراۃ کے لفظ میں عرفِ لفظی تو تخصیص پیدا کر سکتا ہے، عرفِ عملی اس میں تخصیص پیدا نہیں کر سکتا، کیونکہ لفظ اور چیز ہے اور عمل اور چیز ہے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتایا کہ امام محمد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب مبسوط کے اندر کتاب الوکالۃ میں ذکر فرمایا ہے کہ اس مسئلے میں صاحبین نے جو عورت کے اندر بھی کفاءت کا اعتبار کیا ہے یہ استحسان ہے بھئی۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ امراۃ کا لفظ مطلق ہے، لہٰذا غیرِ کفو میں بھی یہاں نکاح جائز ہونا چاہیے، لیکن استحساناً کفو کا اعتبار کیا گیا یہاں عورتوں میں بھی، وجہ یہ کہ غیرِ کفو میں نکاح کرنے سے کوئی بھی شخص عاجز نہیں ہوتا، غیرِ کفو میں تو فوراً ہی اس کو رشتہ مل جائے گا۔ لوگ ایک دوسرے سے جو مدد طلب کرتے ہیں وہ کفو کے اندر نکاح میں مدد طلب کرتے ہیں، تو اس نے بھی جو وکیل بنایا ہے تو اس سے کفو کے اندر نکاح میں مدد طلب کر رہا ہے، لہٰذا کفو سے ہی نکاح کروائے گا تو نکاح منعقد ہو گا ورنہ نکاح منعقد نہیں ہو گا۔
اس کے بعد پھر ہم نے باب المہر شروع کیا تھا بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکاح کے اندر مہر کا ہونا ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ نکاح ہو اور اس کے اندر مہر کچھ بھی نہ ہو، تو نکاح کے اندر مہر کا ہونا ضروری ہے۔ وجہ یہ کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ جو ہیں محرمات کا ذکر کرنے کے بعد، یعنی وہ عورتیں جن سے نکاح حرام ہے ان کا ذکر کرنے کے بعد آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ“، اور ان محرمات کے علاوہ اور عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں، ”أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ“ کہ تم ان کو اپنے مالوں کے ذریعے تلاش کرو۔ معلوم ہوا مال خرچ کرنا پڑے گا، مہر دینا پڑے گا، ویسے بیوی نہیں ملے گی بھئی۔
تو مہر کا ہونا ضروری ہے۔ اب کیا نکاح کے اندر بھی مہر کا ذکر ضروری ہے یا ذکر نہ کیا جائے پھر بھی نکاح منعقد ہو جائے گا؟ تو یاد رکھو نکاح میں مہر آئے گا تو ضرور، چاہے آپ ذکر کریں یا نہ کریں، لیکن اگر ذکر نہ بھی کیا پھر بھی نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اور اس کی دلیل ذکر کی صاحبِ ہدایہ نے کہ وجہ یہ ہے کہ یہ نکاح جو ہے یہ انضمام اور جوڑے والا عقد ہے، تو اس کے لیے بس وہ جوڑا ہونا چاہیے جن کے اندر عقد کیا جا رہا ہے، اس کے مفہوم میں مال ملحوظ نہیں، لہٰذا مال کا ذکر ضروری نہیں۔ البتہ اس مہر کو شریعت نے واجب کیا ہے اس محل کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے، یعنی یہ بتلانے کے لیے کہ یہ محل حقیر نہیں ہے کہ بغیر مال کے ہی تمہارے لیے حلال ہو جائے، بلکہ یہ معزز اور محترم محل ہے تو یہ تم مال خرچ کرو گے پھر ہی تمہارے لیے حلال ہو سکتا ہے، ویسے حلال نہیں۔ تو اس لیے شریعت نے مہر کو واجب قرار دیا ہے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر کوئی شخص نکاح کرتا ہے اور باقاعدہ اس میں شرط ذکر کر دی جاتی ہے کہ میں مہر نہیں دوں گا، تو بھی مہر آئے گا وہاں اور وہ نکاح بھی منعقد ہو جائے گا بھئی، کیونکہ یہ مہر شریعت کا حق ہے، اور کسی کو حق نہیں ہے کہ دوسرے کے حق کو باطل کر سکے یا ساقط کر سکے، تو نکاح ہو جائے گا البتہ مہر ضرور آئے گا۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مہر کی باقاعدہ صراحۃً نفی کر دی تو پھر عقدِ نکاح ہی منعقد نہیں ہو گا، کیونکہ ان کے نزدیک یہ نکاح عقدِ معاوضہ ہے، خاوند مہر سپرد کرتا ہے تو عورت منافعِ بضعہ حوالے کرتی ہے، تو یہ عقدِ معاوضہ ہے، دونوں طرف سے عوض آتا ہے۔ تو یہ بیع کی طرح ہوا، اور بیع کے اندر ثمن کا ہونا ضروری، اگر ثمن نہ ہونے کی شرط لگا دی جائے بیع کے اندر، ایک شخص بیع کرے اور کہے میں ثمن نہیں دوں گا تو اس صورت میں یہ بیع ہی باطل ہے۔ تو اسی طرح یہاں نکاح کے اندر جب مہر نہ دینے کی شرط لگائی تو یہ نکاح ہی باطل ہے بھئی۔
ہم کہتے ہیں کہ نہیں، یہ شرطِ فاسد اس نے لگائی ہے نکاح کے اندر، اور شرطِ فاسد سے نکاح فاسد نہیں ہوتا بلکہ نکاح تو منعقد ہو جائے گا البتہ وہ شرط فاسد ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ نکاح کے اندر جو شرطیں لگائی جاتی ہیں وہ تین قسم کی ہو سکتی ہیں: ایک تو ایسی شرط اگر لگائی جائے کہ عقد خود اس کا تقاضا کر رہا ہے، مثلاً بیوی نے کہا میں نکاح کرتی ہوں لیکن شرط یہ ہے تم مجھے نفقہ دو گے اور مہر دو گے، تو بھئی نکاح تو خود ہی اس کا تقاضا کر رہا ہے، لہٰذا اس شرط کو ذکر کریں یا نہ کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور اگر نکاح میں ایسی شرط لگائی جو مقتضائے عقد کے خلاف ہے، مثلاً خاوند نے کہا میں مہر ہی نہیں دوں گا، اب حالانکہ نکاح تو مہر کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا بھئی، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ“، تو مہر کا ہونا تو ضروری ہے، تو اب یہ ایسی شرط لگا رہا ہے جو مقتضائے عقد کے خلاف ہے، اور اس صورت میں عقدِ نکاح تو ہو جائے گا البتہ وہ شرط فاسد ہے، اس کا اعتبار نہیں۔ یا اسی طرح دوسری شرطِ فاسد، مثلاً بیوی کہتی ہے کہ میں تم سے نکاح تو کرتی ہوں لیکن شرط یہ ہے تمام زندگی تم مجھے طلاق نہیں دے سکو گے، تمہیں طلاق کا اختیار نہیں ہو گا، تو یہ بھی شرطِ فاسد ہے کیونکہ نکاح کے اندر تو خاوند کو طلاق کا حق ملتا ہے، تو یہ ایسی شرط لگائی جو مقتضائے عقد کے خلاف ہے، تو شرط فاسد اور عقد منعقد ہو جائے گا۔ اور تیسری صورت یہ ہے شرط کی کہ ایسی شرط لگائی کہ جس کا عقد تقاضا نہیں کر رہا اور وہ مقتضائے عقد کے خلاف بھی نہیں ہے، مثلاً شرط لگائی بیوی نے کہ میں نکاح کرتی ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ مجھے اسی شہر میں رکھو گے، کسی دوسرے شہر منتقل نہیں کرو گے، تو یاد رکھو اس قسم کی شرط لگائی تو فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ شرط دیانۃً خاوند پر لازم ہے، یعنی یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے، اس کو یہ شرط پوری کرنی چاہیے جب اس نے اس شرط کو قبول کیا ہے، ہاں قضاءً یہ شرط اس پر لازم نہیں۔ یعنی اس شرط کے ہونے کے باوجود پھر بھی خاوند اس کو کہیں دوسرے شہر منتقل کرنا چاہے تو قضاءً اس کو منع نہیں کیا جا سکتا، قضاءً یہ شرط اس پر لازم نہیں ہے، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ قضاءً بھی اس پر یہ شرط لازم ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ ہمارے نزدیک کم سے کم مہر دس درہم ہو سکتا ہے، اور میں نے بتایا کہ درہم چاندی کا ہوتا تھا، اور ایک درہم جو ہے تین ماشے، ایک رتی اور خمسِ رتی کا ہوتا ہے، اور آٹھ رتیاں ہوں تو یہ ایک ماشہ بنتا ہے، اور بارہ ماشے ہوں تو یہ ایک تولہ بنتا ہے، تو لہٰذا یہ مقدار جو ہے دس درہم جو ہے یہ تقریباً پونے تین تولے چاندی کے لگ بھگ بنتی ہے یہ مقدار بھئی، تو کم سے کم مہر تقریباً پونے تین تولے چاندی ہو سکتی ہے، اس سے کم نہیں۔ تو ہمارے نزدیک کم سے کم مہر دس درہم ہے بھئی۔ ایک تو احادیث میں ذکر آتا ہے کہ مہر کم سے کم دس درہم ہو سکتا ہے، اور نیز دوسرا اس لیے کیونکہ یہ مہر شریعت نے اس لیے واجب کیا ہے تاکہ اس محل کے معزز ہونے کا اظہار ہو سکے، لہٰذا کم از کم اتنی مقدار ہونی چاہیے جس کی کوئی اہمیت اور حیثیت بھی ہو، اور دس درہم اچھی خاصی رقم ہے۔ قدیم زمانے میں، میں نے بتایا دس درہم اچھی خاصی رقم ہوتی تھی بھئی۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو طلاق کی چار صورتیں اور ان کا حکم بتلایا۔ یاد رکھو نکاح میں یا تو مہر مقرر کیا جائے گا یا مقرر نہیں کیا جائے گا۔ اگر مہر مقرر کیا ہے تو وہی مہر دے گا، اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تو پھر مہرِ مثل آ جاتا ہے۔ معلوم ہوا نکاح کے اندر یا مقررہ مہر آئے گا یا مہرِ مثل آئے گا۔ پھر یاد رکھو، چاہے مہر مقرر کیا تھا یا مہرِ مثل آیا دونوں صورتوں میں، اگر خاوند بیوی سے صحبت کر لے یا صحبت سے پہلے ہی خاوند کا انتقال ہو جائے، تو دونوں صورتوں میں وہ جو مہر آیا تھا نکاح سے وہ پکا ہو جائے گا، وہ سارا دینا پڑے گا۔ اگر مہر مقرر کیا تھا اور خاوند نے صحبت کر لی یا صحبت سے پہلے خاوند کا انتقال ہو گیا تو سارا مہر خاوند کے ترکے میں سے اس بیوی کو دلایا جائے گا، یہ بیوی کا قرض تھا خاوند کے ذمے۔ اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تو مہرِ مثل آتا ہے، تو یہ مہرِ مثل بھی اگر خاوند صحبت کر لے گا یا صحبت سے پہلے انتقال ہو جائے گا خاوند کا تو یہ مہرِ مثل پکا ہو جائے گا، اب یہ سارا دینا پڑے گا۔ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ نکاح کی وجہ سے جو بھی مہر آئے، چاہے مقررہ مہر ہو یا مہرِ مثل ہو، وہ صحبت کی صورت میں بھی پکا ہو جاتا ہے، سارا دینا پڑے گا، اور صحبت سے پہلے خاوند کا انتقال ہو جائے پھر بھی سارا دینا پڑے گا۔
لیکن اگر صحبت سے پہلے خاوند نے طلاق دے دی، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو، اگر مہر مقرر کیا تھا تو پھر نصفِ مہر دینا پڑے گا۔ اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تھا، مہرِ مثل آیا تھا اور صحبت سے پہلے طلاق دے رہا ہے، تو یاد رکھو اس صورت میں متعہ دینا پڑے گا بھئی، یعنی عورت کو کچھ تحفہ دینا پڑے گا۔ اور اس تحفے کا اندازہ حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس تحفے کا اندازہ تین کپڑوں کے ساتھ لگایا ہے کہ تین کپڑے دینے چاہییں اس عورت کو جس کو خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دی ہے اور اس کا مہر مقرر نہیں تھا۔ تین کپڑے، یعنی جیسے عرب کا لباس ہوتا تھا: ایک لمبی قمیص اور ایک دوپٹہ اور ایک بڑی چادر بھئی، جبکہ ہمارے ہاں تو شلوار قمیص اور دوپٹہ اور اس کے ساتھ ایک بڑی چادر، یعنی چار کپڑے ہمارے نزدیک دینے پڑیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو اگر مہر مقرر کیا تھا اور صحبت سے پہلے طلاق دے رہا ہے تو نصف دینا پڑے گا اس مقررہ مہر کا، اور دلیل اس کی بتلائی تھی صاحبِ ہدایہ نے کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ“، اگر تم ان عورتوں کو طلاق دو ان کو چھونے سے پہلے یعنی ان سے صحبت کرنے سے پہلے، اس حال میں کہ تم نے ان کے لیے کوئی مہر مقرر کیا ہوا تھا، مہر مقرر کیا ہوا تھا اور صحبت سے پہلے تم طلاق دو تو جو تم نے مقرر کیا اس کا نصف ہے بھئی، یعنی اس کا نصف دینا پڑے گا اس عورت کو۔ اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تو اس کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں: ”لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ“، کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے اگر تم طلاق دو اپنی ان بیویوں کو جن کے ساتھ تم نے صحبت نہیں کی یا جن کے لیے تم نے مہر مقرر نہیں کیا، تو ان کو طلاق دے سکتے ہو، ”وَمَتِّعُوهُنَّ“ اور ان کو کوئی تحفہ دے دو، ان کو کوئی نفع دے دو۔ تو مہر مقرر نہ کیا ہو تو نکاح سے مہرِ مثل آتا ہے، اور یہی مہرِ مثل صحبت سے پکا ہو جاتا ہے، یا اسی طرح صحبت سے پہلے خاوند کا انتقال ہو جائے تو یہ مہرِ مثل پکا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر مہر مقرر نہیں کیا اور صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو پھر متعہ دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ اب آپ نے ہمیشہ یاد رکھنا ہے، بار بار ان کا ذکر آئے گا۔ کہ مہر مقرر ہو تو صحبت سے یا خاوند کے انتقال سے وہ مہر پکا ہو جاتا ہے، وہ سارا دینا پڑے گا۔ اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تو مہرِ مثل آتا ہے، اور خاوند صحبت کر لے یا صحبت سے پہلے خاوند کا انتقال ہو جائے تو یہ مہرِ مثل پکا ہو جاتا ہے، یہ دینا پڑے گا۔ لیکن اگر صحبت سے پہلے خاوند طلاق دے تو پھر دو صورتیں ہیں: یا تو مہر مقرر کیا ہو گا پہلے یا مہر مقرر نہیں کیا، اگر مہر مقرر کیا ہے تو اسی کا نصف دینا پڑے گا، اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تو متعہ دینا پڑے گا۔ یہ چار صورتیں آپ نے ہر وقت ذہن میں رکھنی ہیں، آگے مسائل آئیں گے یہ آپ کے ذہن میں صورتیں ہوں گی تو مسائل آپ سمجھتے چلے جائیں گے۔
اور پھر اسی طرح کل کے سبق میں صاحبِ ہدایہ نے ایک اور مسئلہ بھی ذکر فرمایا تھا کہ ہمارے نزدیک کم سے کم مہر تو دس درہم ہے۔ اگر کسی شخص نے دس درہم سے بھی کم مہر مقرر کیا نکاح کے اندر، مثلاً پانچ درہم مقرر کر دیے، تو اس صورت میں ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک کم سے کم مہر دس درہم ہو سکتا ہے، اس سے کم نہیں، لہٰذا اسی پانچ درہم کو بڑھا کر دس درہم پورا کر دیا جائے گا، خاوند کو دس درہم دینے پڑیں گے۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانچ درہم میں مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں، اور مہر کے اندر جب ایسی چیز ذکر کی جائے جس میں مہر بننے کی صلاحیت ہی نہ ہو تو پھر وہاں پر وہ مہرِ مثل آ جایا کرتا ہے، جیسے شراب اور خنزیر میں مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں، اگر کوئی نکاح کے اندر شراب یا خنزیر کو ذکر کر دے گا تو وہاں بالاتفاق مہرِ مثل آتا ہے۔ معلوم ہوا جو چیز مہر بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی اس کی جگہ مہرِ مثل آ جاتا ہے، تو یہاں پر بھی پانچ درہم مقرر کیے اور یہ تو مہر بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے، لہٰذا یوں سمجھو گویا مہر ذکر ہی نہیں کیا، اور جب مہر ذکر ہی نہیں کیا تو مہرِ مثل آتا ہے تو یہاں بھی مہرِ مثل آ جائے گا۔
جبکہ ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں پر ایک حق ہے عورت کا اور ایک حق ہے شریعت کا۔ یاد رکھو، یاد رکھو! یہ جو مہر ہے یہ ابتداءً حقِ شرع بھی ہے اور حق المراۃ بھی ہے، یعنی جب نکاح کر رہے ہو تو ابتداء میں یہ جو مہر مقرر کر رہے ہو یہ شریعت کا بھی حق ہے، عورت کا بھی حق ہے۔ شریعت کا حق ہے لہٰذا ضرور مہر ہونا چاہیے اور نیز دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ اور عورت کا بھی حق ہے لہٰذا وہ اس سے زائد جتنا بھی مقرر کرنا چاہے اس کی مرضی ہے۔ لیکن بقاءً جو ہے یہ عورت کا حق بن جاتا ہے، یعنی جب نکاح ہو گیا اب مہر خالص عورت کا حق ہو گیا، وہ اس سارے مہر کو وصول کرتی ہے، اور جب یہ خالص اس کا حق ہے تو وہ اس مہر کو معاف بھی کر سکتی ہے اور جتنی کمی کرنا چاہے وہ کمی بھی کر سکتی ہے۔ تو ابتداءً مہر حقِ شرع بھی ہے اور حق المراۃ بھی، اور بقاءً یہ مہر جو ہے وہ حق المراۃ ہے صرف۔
تو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ پانچ درہم مہر مقرر کیا ہے اور پانچ درہم تو مہر نہیں ہو سکتا، تو ہم یہاں ایسی صورت اختیار کریں گے کہ شریعت کا بھی حق ادا ہو جائے، عورت کا بھی حق ادا ہو جائے۔ ہم اس پانچ مہر کو بڑھا کر دس درہم کر دیں گے، اس طرح شریعت کا بھی حق ادا ہو گیا کہ کم سے کم مہر دس درہم ہونا چاہیے، اور عورت کا بھی حق ادا ہو گیا اس لیے کیونکہ وہ عورت جب پانچ درہم پر راضی تھی تو دس درہم پر وہ بطریقِ اولیٰ راضی ہو گی بھئی۔
اور امام زفر رحمہ اللہ کو جواب دیتے ہیں کہ یہ جو مہر جو دس درہم سے کم تھا آپ نے اس تسمیہ کو عدمِ تسمیہ پر قیاس کیا، یعنی گویا مہر مقرر ہی نہیں کیا، ہم کہتے ہیں نہیں! اس تسمیہ کو آپ عدمِ تسمیہ پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ عدمِ تسمیہ پر بھی بعض اوقات عورت راضی ہو جاتی ہے لیکن کم مقدار پر راضی نہیں ہوتی۔ مثلاً عورت کا کسی جگہ نکاح ہو رہا ہے اور وہ بھی چاہتی ہے یہاں اس کا نکاح ہو جائے، اب نکاح کرواتے ہوئے مہر کو ذکر نہیں کیا گیا تو بھی عورت اس نکاح پر راضی رہے گی گویا وہ اپنے معزز ہونے اور اپنی سخاوت کا اظہار کر رہی ہے کہ مال میرے مقابلے میں کیا چیز ہے، میں تو ایسی معزز اور محترم ہوں اور میری تو سخاوت کا یہ حال ہے کہ میں اپنی ذات کو بغیر کسی عوض کے ہی اپنے اس خاوند کے سپرد کرنے کو تیار ہوں۔ تو اس کے اندر تو اس کے معزز ہونے کا اور اس کے سخی اور فیاض ہونے کا اظہار ہو رہا ہے، لہٰذا عدمِ تسمیہ پر عورت راضی ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر تھوڑا سا مہر ذکر کیا جائے کہ تمہیں صرف پانچ درہم ملیں گے مہر کے طور پر، تو اس میں وہ اپنی اہانت اور بے عزتی محسوس کرتی ہے، تو اس پر وہ کبھی راضی نہیں ہو گی بھئی۔ تو آپ تسمیہ کو عدمِ تسمیہ پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں میں فرق ہے۔ عدمِ تسمیہ پر عورت راضی ہو سکتی ہے لیکن قلیل تسمیہ پر عورت راضی نہیں ہو گی، تو دونوں چیزیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ تو تسمیہ اور عدمِ تسمیہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو آپ تسمیہ کو عدمِ تسمیہ پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دو ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جاتا ہے، دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاتا، اور ہم نے بتلا دیا کہ تسمیہ اور عدمِ تسمیہ یہاں دونوں ایک جیسے نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر:
”وَإِنْ تَزَوَّجَهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا ثُمَّ تَرَاضَيَا عَلَى تَسْمِيَتِهِ فَهِيَ لَهَا إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا فَلَهَا الْمُتْعَةُ“
بھئی اب وہی صورتیں ذکر کر رہے ہیں، وہ چاروں صورتیں آپ کے ذہن میں ہوں گی تو اگلے مسائل آپ آسانی سے سمجھتے چلے جائیں گے۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور نکاح میں مہر مقرر نہیں کیا، بعد میں خاوند اور بیوی اتفاق کر لیتے ہیں، مثلاً خاوند کہتا ہے کہ میں تمہیں ایک لاکھ روپے مہر دوں گا اور عورت بھی راضی ہو جاتی ہے، یہ نکاح کے بعد اب ایک لاکھ روپے پر راضی ہوئے ہیں مثلاً، تو یاد رکھو ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ جب ایک مقدار پر دونوں راضی ہو گئے ہیں بعد میں تو یہی مقدار اب خاوند پر واجب ہے، خاوند کو دینا پڑے گی۔
لیکن اگر اسی صورت میں خاوند نے صحبت سے پہلے طلاق دے دی، نکاح کیا تھا بغیر مہر ذکر کیے، بعد میں دونوں نے مثلاً کچھ مقدار پر اتفاق کر لیا، لیکن اب خاوند اس کے بعد صحبت سے پہلے، رخصتی سے پہلے ہی خاوند طلاق دے دیتا ہے، تو اس صورت میں اب عورت کو کیا ملے گا؟ تو ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ بھئی جب مہر مقرر نہ کیا جائے تو اس صورت میں عورت کو متعہ ملتا ہے، لہٰذا یہاں بھی عورت کو متعہ ملے گا بھئی۔ اور یہ جو بعد میں انہوں نے آپس میں طے کیا ہے، بعد میں جو آپس میں مقرر کیا ہے اس کا یہاں کوئی اعتبار نہیں ہے جب طلاق دی جائے صحبت سے پہلے۔ صحبت کے بعد طلاق دے گا پھر تو وہ صحبت کی وجہ سے وہ مہر پکا ہو گیا جو آپس میں طے کیا تھا، وہ سارا دینا پڑے گا، لیکن صحبت سے پہلے اگر طلاق دے گا تو وہ جو بعد میں مقرر کیا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بلکہ عقد کو دیکھا جائے گا اور عقد میں تو کچھ بھی ذکر نہیں کیا تھا، اور جب عقد میں مہر کو بالکل ذکر ہی نہ کیا جائے اور وہاں عورت کو صحبت سے پہلے طلاق دی جائے تو متعہ دینا پڑتا ہے، لہٰذا یہاں بھی متعہ دینا پڑے گا۔
یہ ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں، البتہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول یہ تھا کہ بعد میں جو مقرر کیا ہے اسی کا نصف دینا پڑے گا، اور یہی مذہب ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مہر بے شک بعد میں مقرر کیا ہے اور صحبت سے پہلے طلاق دے دی ہے، لیکن قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ“، کہ وہ جو تم نے مقرر کیا ہے اس کا نصف دینا پڑے گا، ”فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ“ وہ جو تم نے مقرر کیا ہے اس کا نصف یعنی وہ عورت کو ملے گا، تو یہاں مقرر کرنے کا ذکر ہے اور یہاں کوئی قید موجود نہیں ہے کہ عقد کے اندر جو مقرر کیا ہے اس کا نصف دینا پڑے گا یا عقد کے بعد جو مقرر کیا ہے اس کا نصف دینا پڑے گا، لہٰذا اگر عقد میں مقرر کیا ہو تو اس کا بھی نصف دینا پڑے گا اور اگر عقد میں مقرر نہیں کیا تھا بعد میں مقرر کیا ہے تو یہ بھی تو مقررہ تو ہے، تو اسی کا نصف دینا پڑے گا۔ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول ہے اور یہی مذہب ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا۔
جبکہ ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ یہ جو عقد کیا تھا بغیر مہر ذکر کیے تو اس صورت میں مہرِ مثل آیا کرتا ہے، کیونکہ مہر نے تو ضرور آنا ہے نکاح میں، تو لہٰذا انہوں نے مہر کو ذکر کیے بغیر نکاح کیا اور مہرِ مثل آ گیا۔ بعد میں اب یہ دونوں راضی ہو گئے، مثلاً خاوند کہتا ہے میں تمہیں ایک لاکھ روپے دے دوں گا، تو یہ جو ایک لاکھ روپے بعد میں متعین کر رہے ہیں یہ اسی مہرِ مثل کا قائم مقام ہے، یہ اسی مہرِ مثل کی تعیین کر رہے ہیں جو نکاح کی وجہ سے یہاں آیا تھا، کیونکہ نکاح کیسے کیا تھا؟ مہر کو ذکر کیے بغیر، اور اس صورت میں کیا آتا ہے؟ مہرِ مثل، تو یہاں تو مہرِ مثل آیا تھا، اب بعد میں یہ جو آپس میں باہمی رضامندی سے ایک مقرر کر رہے ہیں یہ دراصل اسی مہرِ مثل کی تعیین کر رہے ہیں، یہ کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ کیونکہ اگر یہ الگ چیز آپ شمار کریں گے تو پھر اس صورت میں گویا دو واجب ہو جائیں گے اس آدمی پر: ایک عقد کی وجہ سے مہرِ مثل اور ایک بعد میں الگ جو مقرر کر رہے ہیں، حالانکہ نکاح کی وجہ سے خاوند پر ایک مال واجب ہوتا ہے، دو مال واجب نہیں ہوتے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا یہ جو بعد میں مقرر کر رہے ہیں یہ اسی مہرِ مثل کا قائم مقام ہے، اسی کے درجے میں ہے، یہ اسی کی تعیین کی جا رہی ہے۔ جب یہ اسی کی تعیین ہے تو اس کا مہرِ مثل والا ہی حکم ہو گا۔
دیکھو، جب نکاح کیا جائے اور اس میں مہر مقرر کیا ہے اور صحبت سے پہلے خاوند طلاق دے گا تو مقررہ مہر کی تنصیف ہوتی ہے، آدھا دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کچھ بھی ذکر نہیں کیا اور وہاں مہرِ مثل آ گیا، اور پھر صحبت سے پہلے طلاق دیتا ہے خاوند، تو اس مہرِ مثل کی تنصیف نہیں کی جاتی بلکہ عورت کو متعہ دیا جاتا ہے۔ تو معلوم ہوا مہرِ مثل کی تنصیف نہیں کی جاتی، تو جب مہرِ مثل کی تنصیف نہیں کی جاتی تو اس کا جو قائم مقام مقرر کیا ہے مثلاً ایک لاکھ روپے اس کی بھی تنصیف نہیں کی جائے گی بلکہ متعہ ہی دیں گے، کیونکہ یہ کس کا قائم مقام ہے؟ مہرِ مثل کے، تو اس کا حکم بھی مہرِ مثل والا، اور مہرِ مثل کی تو تنصیف نہیں کی جاتی، مہرِ مثل جب آتا ہے اور صحبت سے پہلے طلاق دے دی جائے تو پھر وہاں متعہ آتا ہے، تو یہاں بھی کیا دینا پڑے گا؟ متعہ ہی دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے کتاب پر:
”وَإِنْ تَزَوَّجَهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا“ اور اگر اس آدمی نے اس عورت سے نکاح کیا، ”وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا“ اس حال میں کہ اس کے لیے مہر مقرر نہیں کیا، ”ثُمَّ تَرَاضَيَا عَلَى تَسْمِيَتِهِ“ تراضیا تثنیہ کا صیغہ ہے، پھر دونوں باہم راضی ہو گئے ”عَلَى تَسْمِيَتِهِ“ مہر کے مقرر کرنے پر کہ مثلاً دونوں نے بعد میں ایک لاکھ روپیہ مقرر کر دیا، ”فَهِيَ لَهَا إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا“ تو یہی مقررہ عورت کو ملے گا اگر خاوند نے اس سے صحبت کر لی یا خاوند اس کو چھوڑ کر مرا۔ دیکھا؟ صحبت سے بھی وہ مہر پکا ہو گیا جو بعد میں مقرر کیا ہے، اور خاوند کا اگر صحبت سے پہلے انتقال ہو جائے پھر بھی وہی مہر دینا پڑتا ہے۔ ”وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا“ اور اگر خاوند نے اس کو طلاق دے دی قبل الدخول بها یعنی صحبت سے پہلے، ”فَلَهَا الْمُتْعَةُ“ تو اس عورت کے لیے متعہ ہو گا، یعنی اس عورت کو متعہ دینا پڑے گا، کیونکہ یہ مقرر کرنا بعد میں تھا اور بعد میں مقرر کرنا یہ مہرِ مثل کا قائم مقام ہے اور مہرِ مثل کی تنصیف نہیں ہوتی بلکہ مہرِ مثل کی جگہ متعہ ملتا ہے۔
”وَعَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى الْأَوَّلِ نِصْفُ هَذَا الْمَفْرُوضِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے پہلے قول کے مطابق نصف اس مفروض کا دینا پڑے گا یعنی اس مقررہ کا نصف دینا پڑے گا۔ ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور یہی امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے، ”لِأَنَّهُ مَفْرُوضٌ فَيَتَنَصَّفُ بِالنَّصِّ“ اس لیے کیونکہ یہ مہر بھی مفروض ہے یعنی مقرر کیا گیا ہے اور قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ“، تو نصِ قرآنی کی وجہ سے اس کی بھی تنصیف ہو جائے گی، تو نص کی وجہ سے اس مقررہ کا بھی نصف دینا پڑے گا۔ یہ امام شافعی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا پہلا قول تھا۔ آگے احناف کا جواب ہے کہ ہم متعہ کیوں دیتے ہیں، وہ ان شاء اللہ اگلے سبق میں پڑھیں گے۔ اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
...ے بھی اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے، ”فَلَهَا الْمُتْعَةُ“ تو پھر اس عورت کو متعہ ملے گا۔ یہ جو بعد میں مقرر کیا ہے، اس کا اعتبار نہیں ہے۔
”وَعَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى الْأَوَّلِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے پہلے قول پر ”نِصْفُ هَذَا الْمَفْرُوضِ“ یہ جو بعد میں مقرر کیا گیا ہے، اس کا نصف دینا پڑے گا۔
یہ پہلا قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا، دوسرے قول میں وہ بھی طرفین کے ساتھ ہیں کہ متعہ ہی دینا پڑے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى الْأَوَّلِ نِصْفُ هَذَا الْمَفْرُوضِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے پہلے قول پر اس مقررہ کا نصف دینا پڑے گا۔ مفروض: مقررہ۔ ”فَرَضَ يَفْرِضُ فَرْضًا“ کا معنی ہے مقرر کرنا، لازم کرنا، تو مفروض کا کیا معنی؟ مقررہ۔
تو کہتے ہیں: ”نِصْفُ هَذَا الْمَفْرُوضِ“ یہ جو مقررہ ہے جو نکاح کے بعد مقرر کیا ہے، اس مقررہ کا نصف ہوگا عورت کے لیے۔
”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، ”لِأَنَّهُ مَفْرُوضٌ“ کیونکہ یہ مقررہ ہے۔ یہ جو بعد میں مقرر کیا یہ بھی تو مقررہ ہے۔
”فَيَتَنَصَّفُ بِالنَّصِّ“ تو یہ آدھا ہو جائے گا نص کی وجہ سے۔ میں نے بتایا نص جو ہے قرآن اور حدیث کو کہتے ہیں۔ تو نص کے اندر آدھا کرنے کا حکم تھا۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ”فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ“ جو تم نے مقرر کیا ہے اس کا نصف ہے عورت کے لیے۔
تو یہ بھی مفروض ہے، یہ بھی کیا ہے؟ مفروض ہے، مقررہ ہے، اور آیت کے اندر ذکر ہے جو تم نے مقرر کیا ہے اس کا نصف دے دو۔ اور آیت میں تخصیص نہیں ہے کہ کون سا والا مقررہ مراد ہے، ایک وہ جو عقد کے اندر مقرر کیا جائے، یعنی مفروض فی العقد، اور ایک جو بعد میں مقرر کیا گیا ہے، مفروض بعد العقد۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے پہلے قول کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں آیت میں صرف اتنا ذکر ہے مقررہ کا نصف دے دو، آیت میں یہ تفصیل نہیں ہے کہ عقد میں جو مقرر کیا ہے اس کا نصف دے دو یا عقد کے بعد جو مقرر کیا ہے اس کا نصف دے دو، تو آیت معلوم ہوا مطلق ہے، تو دونوں صورتوں کو یہ شامل ہے۔ اگر عقد میں مقرر کیا ہے تو اس کا نصف دینا پڑے گا، اور اگر عقد میں مقرر نہیں کیا تو اس کے بعد جو مقرر کیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مفروض عام ہے، مقررہ ہونا عام ہے، چاہے مفروض فی العقد ہو، چاہے مفروض بعد العقد ہو، دونوں صورتوں میں اسی مفروض کا نصف دینا پڑے گا۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مفروض کا نصف دینا پڑے گا اور وہ مفروض عام ہے، چاہے مفروض فی العقد ہو عقد میں مقرر کیا تھا، یا مفروض بعد العقد ہو عقد کے بعد نکاح کے بعد کسی وقت مقرر کیا ہے، تو آیت کے اندر مفروض عام ہے، وہ دونوں کو شامل ہے۔
تو یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ مَفْرُوضٌ“ اس لیے کیونکہ ان کے نزدیک یہ مقررہ ہے، ”فَيَتَنَصَّفُ بِالنَّصِّ“ تو یہ آدھا ہو جائے گا نص کی وجہ سے۔
”وَلَنَا أَنَّ هَذَا الْفَرْضَ تَعْيِينٌ لِلْوَاجِبِ بِالْعَقْدِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ جو مقرر کرنا ہے یہ دراصل تعین کی جا رہی ہے وہ جو واجب ہوا تھا عقد کی وجہ سے۔ عقد میں انہوں نے مہر ذکر نہیں کیا، تو جب مہر ذکر نہ کیا جائے تو وہاں کیا آتا ہے؟ مہرِ مثل۔ اب بعد میں دونوں آپس میں طے کر رہے ہیں کہ مثلاً ایک لاکھ روپے خاوند دے دے گا۔ تو یہ جو بعد میں تعین کر رہے ہیں یہ دراصل وہی چیز جو عقد کی وجہ سے واجب ہوئی تھی، یعنی مہرِ مثل، یہ اسی کی تعین کر رہے ہیں، یہ کوئی الگ چیز نہیں ورنہ تو کہنا پڑے گا کہ مرد پر دو مال لازم ہو گئے، ایک عقد کی وجہ سے مہرِ مثل اور ایک بعد میں آپس میں ایک لاکھ روپیہ جو طے کیا، حالانکہ اس عقد کی وجہ سے دو مال خاوند پر نہیں آتے بلکہ ایک مال آتا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ جو بعد میں ایک لاکھ روپے طے کر رہے ہیں یہ کوئی الگ چیز نہیں ہے یہ اسی مہرِ مثل کی تعین کر رہے ہیں، وہ مہرِ مثل جو عقد کی وجہ سے واجب ہوا تھا۔
”وَلَنَا أَنَّ هَذَا الْفَرْضَ تَعْيِينٌ لِلْوَاجِبِ بِالْعَقْدِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ جو مقرر کرنا ہے یہ تعین کی جا رہی ہے وہ جو واجب ہوا تھا عقد کی وجہ سے۔ بھئی وہ کیا واجب ہوا تھا؟ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ مَهْرُ الْمِثْلِ“ وہ جو عقد کی وجہ سے واجب ہوا تھا وہ مہرِ مثل ہے تو یہ اس کی تعین کی جا رہی ہے۔
”وَذَلِكَ لَا يَتَنَصَّفُ“ اور مہرِ مثل جو ہے وہ تو آدھا نہیں ہوتا، اس کی تو تنصیف نہیں ہوتی۔ مہرِ مثل جب آئے اور صحبت سے پہلے طلاق دے تو متعہ دینا پڑتا ہے، مہرِ مثل کو آدھا نہیں کیا جاتا۔ تو کہتے ہیں ”وَذَلِكَ لَا يَتَنَصَّفُ“ اور وہ مہرِ مثل تو آدھا نہیں ہوتا، ”فَكَذَا مَا نُزِّلَ مَنْزِلَتَهُ“ تو اسی طرح ہوگا وہ جو اس کے درجے میں اتارا گیا ہے، یعنی جو اس کا قائم مقام ہوا ہے اس کا بھی یہی حکم ہوگا، اس کی بھی تنصیف نہیں کی جائے گی بھئی۔
آگے دیکھیے:
”وَالْمُرَادُ بِمَا تَلَا الْفَرْضُ فِي الْعَقْدِ إِذْ هُوَ الْفَرْضُ الْمُتَعَارَفُ“
اب جواب دے رہے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل کا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قولِ اول کے مطابق جو بعد میں مقرر کیا ہے اسی کا نصف دینا پڑے گا اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی۔ وہ کیا فرماتے تھے؟ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ“، ”مَا فَرَضْتُمْ“ جو تم نے مقرر کیا ہے اس کا نصف دے دو۔ اور جو تم نے مقرر کیا یہ تو عام ہے، اس میں تو کوئی قید نہیں ہے کہ عقد کے اندر مقرر کیا ہے یا عقد کے بعد مقرر کیا ہے، تو لہٰذا جو بھی مقرر کیا ہو چاہے عقد میں مقرر کیا ہو اس کا نصف دینا پڑے گا اور چاہے عقد کے بعد مقرر کیا ہو تو اس کا نصف دینا پڑے گا۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ آیت کے اندر جو ”مَا فَرَضْتُمْ“ ہے اس سے مراد وہ مقررہ ہے جو عقد کے اندر مقرر کیا جائے۔ وجہ یہ ہے کہ نکاح جب بھی کیا جاتا ہے مہر ضرور مقرر کیا جاتا ہے، اور ایسا بہت کم اور نادر ہوتا ہے کہ نکاح کیا جائے اور اس میں مہر کو مقرر نہ کیا جائے۔ تو لہٰذا جب مقررہ کی بات کی جائے تو لوگ اس سے وہ والا مقررہ سمجھتے ہیں جو عقد میں مقرر کیا گیا تھا، اور جو بعد میں مقرر کیا جائے اس کی طرف کسی کا ذہن نہیں جاتا۔ تو معلوم ہوا لوگوں کے اندر متعارف کیا ہے، شائع اور رائج کیا ہے؟ کہ یہ اس مقررہ سے کون سا مقررہ مراد لیتے ہیں؟ جو عقد کے اندر مقررہ ہے وہ مراد لیتے ہیں، عقد کے بعد جو مقررہ ہے وہ مراد نہیں لیتے کیونکہ وہ تو بہت نادر ہوتا ہے۔ تو لہٰذا ہم بھی مانتے ہیں آیت کے اندر ”مَا فَرَضْتُمْ“ مطلق ہے لیکن مطلق کو متعارف پر محمول کیا جاتا ہے، اور لوگوں میں متعارف کیا ہے؟ وہ اس ”مَا فَرَضْتُمْ“ سے کون سا ”مَا فَرَضْتُمْ“ مراد لیتے ہیں جو عقد کے اندر مقرر کیا گیا ہو، جو بعد میں مقرر کیا گیا ہو وہ مراد نہیں لیتے۔
تو یہ معنی ہے ”وَالْمُرَادُ بِمَا تَلَا“ اور مراد اس آیت سے جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے تلاوت کی ”الْفَرْضُ فِي الْعَقْدِ“ وہ جو مقرر کیا گیا ہے عقد میں وہ والا مقررہ مراد لیتے ہیں ”إِذْ هُوَ الْفَرْضُ الْمُتَعَارَفُ“ اس لیے کیونکہ وہی رائج فرض ہے، وہی رائج مقررہ مہر ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لوگوں میں رائج کیا ہے، مقررہ سے کون سا مہر مراد لیتے ہیں؟ جو نکاح میں مقرر کیا جائے، تو یہ فرضِ متعارف ہے تو اسی معنی پر اس کو محمول کریں گے۔
آگے دیکھیے:
”قَالَ: فَإِنْ زَادَهَا فِي الْمَهْرِ بَعْدَ الْعَقْدِ لَزِمَتْهُ الزِّيَادَةُ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَسَنَذْكُرُهُ فِي زِيَادَةِ الثَّمَنِ وَالْمُثَمَّنِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“
بھئی یاد رکھیے، نکاح کے اندر مہر مقرر کر دیا گیا، بعد میں خاوند مہر میں زیادتی کرنا چاہتا ہے، مثلاً عقد کے اندر ایک لاکھ روپیہ مہر مقرر کیا گیا تھا، بعد میں خاوند کہتا ہے میں تمہیں مہر کے طور پر ایک لاکھ روپیہ نہیں دوں گا بلکہ دو لاکھ روپے دوں گا، تو ہمارے نزدیک مہر کے اندر زیادتی جائز ہے، اور اب خاوند کو یہ دو لاکھ روپے ہی دینے پڑیں گے۔ یہ زیادتی اس پر کیا ہو گئی؟ لازم ہو گئی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مہر میں بعد میں زیادتی نہیں کی جا سکتی، وہ فرماتے ہیں کہ مہر تو اتنا ہی رہے گا جو عقد یعنی نکاح کے اندر مقرر کیا تھا یعنی ایک لاکھ روپیہ، اور یہ جو ایک لاکھ روپیہ زائد خاوند ذکر کر رہا ہے یہ خاوند کی طرف سے ہبہ شمار ہوگا یعنی تحفہ شمار ہوگا۔ یہ خاوند کی طرف سے تحفہ شمار ہوگا اور تحفہ یعنی ہبہ تب تام ہوتا ہے، کامل ہوتا ہے جب دوسرا شخص اس تحفے پر قبضہ کر لے۔ آپ ایک آدمی کو مثلاً تحفے کے طور پر ایک گاڑی دیتے ہیں اور آپ اسے کہتے ہیں کہ یہ گاڑی آج سے آپ کی ہے، تو یاد رکھو صرف آپ کے کہنے سے ہبہ اور یہ تحفہ تام نہیں ہوا بلکہ یہ گاڑی جب آپ اس کے قبضے میں دے دیں گے تب ہبہ تام ہو جائے گا، تب وہ اس گاڑی کا مالک بن جائے گا۔ صرف آپ کے کہنے سے وہ گاڑی کا مالک نہیں۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا کہ ہبہ کے اندر رجوع بھی جائز ہے بھئی۔ آپ نے کسی کو تحفہ دیا ہے اور بعد میں واپس لینا چاہتے ہیں تو آپ تحفہ واپس لے سکتے ہیں، اگرچہ یہ پسندیدہ نہیں لیکن شرعاً آپ کے لیے جائز ہے۔ لیکن اس میں ضروری ہے کہ دوسرا آدمی جس کو آپ نے تحفہ دیا تھا کہ وہ بھی راضی ہو۔ آپ بھی واپس لینا چاہتے ہیں اور وہ بھی وہ چیز واپس کرنے پر راضی ہے تو آپ اس چیز کو اس سے واپس لے سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ تو اس چیز کو واپس لینا چاہتے ہیں اور وہ دینے پر راضی نہیں ہے تو پھر آپ کو قاضی کے پاس جانا پڑے گا اور قاضی پھر آپ کو آپ کی چیز واپس دلا دے گا۔ معلوم ہوا ہبہ میں رجوع بھی ہو سکتا ہے، اور نیز معلوم ہوا کہ ہبہ جب تک اس کے قبضے میں نہیں دیا جائے گا وہ ہبہ تام اور کامل نہیں، وہ اس چیز کا مالک بھی نہیں بنے گا۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو خاوند نے زائد مال ذکر کیا ہے یہ اصل مہر کے ساتھ نہیں ملے گا، یہ خاوند پر لازم نہیں، یہ ہبہ ہے۔ صرف کہنے سے عورت مالک نہیں بنی، خاوند جب دے دے گا تب عورت مالک بنے گی اور یہ الگ ہبہ ہی شمار ہوگا، اور جیسے ہبہ کے اندر کوئی شخص رجوع کر سکتا ہے، اس تحفے کے اندر بھی خاوند رجوع کر سکتا ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ جو خاوند نے مال بڑھا دیا یہ اصل مہر کے ساتھ ہی مل گیا اور خاوند اگر صحبت کر لے یا صحبت سے پہلے خاوند کا انتقال ہو جائے تو یہ مہر اس پر لازم ہو جائے گا یہ اضافے کے ساتھ ہی، سارا دینا پڑے گا۔
لیکن اگر صحبت سے پہلے خاوند نے طلاق دے دی تو پھر اس صورت میں یاد رکھو ہمارے نزدیک وہ جو عقد کے اندر مقرر کیا تھا اسی کا نصف دینا پڑے گا، جو بعد میں مقرر کیا ہے زیادہ کر کے اس کا نصف نہیں۔ اس لیے کیونکہ ابھی بات گزری کہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ“ کہ جو تم نے مقرر کیا ہے اس کا نصف دے دو، اور یہ ”مَا فَرَضْتُمْ“ تو عام ہے، مطلق ہے لیکن مطلق کو متعارف معنی پر محمول کیا جاتا ہے، اور لوگوں کے ہاں رائج اور شائع کیا ہے، اس سے وہ کون سا مقررہ مراد لیتے ہیں؟ جو عقد کے اندر مقرر کیا گیا ہو۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی اگر صحبت سے پہلے طلاق دی تو جو عقد کے اندر مقررہ ہے اس کا نصف دینا پڑے گا، یہ جو بعد میں زیادتی کے ساتھ مقرر کیا ہے اس کا نصف مراد نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی کتاب پر:
”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”فَإِنْ زَادَهَا فِي الْمَهْرِ بَعْدَ الْعَقْدِ“ اگر خاوند نے عورت کے لیے بڑھا دیا مہر میں عقد کے بعد ”لَزِمَتْهُ الزِّيَادَةُ“ تو خاوند پر وہ زیادتی لازم ہو جائے گی، اب وہ دینا پڑے گی اگر صحبت کر لی یا خاوند کا انتقال ہوا وہ دینا پڑے گی ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں نہیں یہ ہبہ ہے یہ خاوند پر لازم نہیں ہے۔
”وَسَنَذْكُرُهُ فِي زِيَادَةِ الثَّمَنِ وَالْمُثَمَّنِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ اور عنقریب ہم اس کو ذکر کریں گے ثمن اور مثمن کی زیادتی میں ان شاء اللہ۔ ثمن اور مثمن، ثمن تو آپ جانتے ہیں بیع کے اندر مبیع کا جو بھی عوض طے کر لیا جائے وہ ثمن کہلاتا ہے۔ تو ایک تو ہوتی ہے قیمت، وہ نرخ جو بازار میں متعین ہوتے ہیں چیزوں کی قیمت، اور ایک ہے ثمن، ثمن جو ہے بائع اور مشتری کے درمیان جو بھی طے ہو جائے وہ ثمن کہلاتا ہے۔ اور مثمن، مثمن سے یہاں مراد مبیع ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَسَنَذْكُرُهُ فِي زِيَادَةِ الثَّمَنِ وَالْمُثَمَّنِ“ ہم اس کو ذکر کریں گے ثمن اور مبیع کی زیادتی میں، یعنی صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اس مسئلے کو میں کتاب البیع کے اندر ذکر کروں گا، یعنی ہدایہ کی تیسری جلد میں وہ پھر ذکر فرماتے ہیں۔
تفصیل یاد رکھو آپ یہیں پر سمجھ لیں۔ یاد رکھو وہاں آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ ہمارے ائمہ کے نزدیک ثمن اور مبیع دونوں میں زیادتی جائز ہے۔ مثلاً میں نے آپ سے ایک گاڑی دس لاکھ روپے میں خریدی اور پھر بعد میں میں دس لاکھ روپے کے بجائے آپ کو بارہ لاکھ روپے دیتا ہوں کہ لو بھئی یہ میری طرف سے ثمن میں میں اور اضافہ کر کے آپ کو دے رہا ہوں، تو یہ مشتری کے لیے جائز ہے وہ ثمن میں زیادتی کر سکتا ہے۔ جبکہ بائع کے لیے جائز ہے وہ مبیع میں زیادتی کر سکتا ہے، مثلاً میں نے آپ سے سو من گندم خریدی اور آپ پھر مجھے سو من کے بجائے ایک سو بیس من ادا کر دیتے ہیں کہ لے بھئی یہ آپ سارا رکھیں، تو بائع مبیع میں زیادتی کر سکتا ہے اور مشتری ثمن میں۔ اور یاد رکھو یہ جو زیادتی ہے یہ اصلِ عقد کے ساتھ ہی مل جائے گی۔ آپ نے مجھے سو من کے بجائے ایک سو بیس من گندم دی ہے تو یوں ہی سمجھیں گے میں نے آپ سے خریدی ہی ایک سو بیس من ہے، یہ نہیں شمار کریں گے کہ سو من تو مبیع ہے اور بیس من آپ نے مجھے تحفہ دیا ہے، نہیں نہیں، وہ جو زائد ہے وہ بھی اصل کے ساتھ مل جائے گا، مبیع کے ساتھ مل جائے گا اور یوں سمجھیں گے یہاں مبیع ہی ایک سو بیس من گندم ہے۔ اسی طرح میں نے اگر ثمن میں زیادتی کی ہے دس لاکھ روپے کے بجائے بارہ لاکھ روپے آپ کو ادا کیے ہیں تو یوں سمجھا جائے گا گویا اس چیز کی قیمت ہی بارہ لاکھ ہے، اس کے ثمن ہی بارہ لاکھ ہیں، ایسا نہیں کہ دس لاکھ تو ثمن ہے اور دو لاکھ میں آپ کو تحفے کے طور پر دے رہا ہوں، نہیں نہیں۔ تو گویا جو مبیع یا ثمن میں زیادتی کی جائے وہ اصلِ عقد کے ساتھ ہی مل جائے گی۔ لہٰذا اب اگر بعد میں ہم دونوں اقالہ کرتے ہیں، اس بیع کو فسخ کرتے ہیں، مثلاً میں آپ کے پاس آ گیا اور میں نے کہا کہ یہ بیع فسخ کر لیں مجھے اب پیسوں کی ضرورت پڑ گئی ہے، تو اب جو میں نے ایک سو بیس من گندم لی تھی وہ ساری مجھے واپس کرنا پڑے گی کیونکہ وہ سارا مبیع ہے۔ اور اسی طرح اگر آپ جو ہے وہ اس بیع کو فسخ کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو وہ سارے کے سارے بارہ لاکھ روپے واپس کرنا پڑیں گے کیونکہ وہ سارے ثمن تھے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ثمن یا مبیع میں زیادتی نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ ثمن میں زیادتی کریں گے، زیادتی کر سکتے ہیں آپ لیکن وہ ثمن کے ساتھ زیادتی نہیں ملے گی بلکہ وہ الگ تحفہ شمار ہوگا۔ اور اسی طرح بائع مبیع میں زیادتی کر سکتا ہے لیکن وہ جو زائد ہے اس کو مبیع نہیں شمار کریں گے، وہ الگ تحفہ شمار ہوگا۔ لہٰذا اگر ہم بعد میں عقد فسخ کرتے ہیں، بعد میں عقد فسخ کرتے ہیں تو اس فسخ کے اندر صرف اصل کا لوٹانا ضروری ہے، زائد کا لوٹانا ضروری نہیں، زائد ہبہ ہے اور ہبہ کے اندر بھی رجوع ہو سکتا ہے اگر دونوں راضی ہوں اور اگر دونوں راضی نہیں تو پھر قاضی کے پاس جا کر رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اختلاف سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں: ”وَسَنَذْكُرُهُ فِي زِيَادَةِ الثَّمَنِ وَالْمُثَمَّنِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ اور عنقریب ہم اس کو ذکر کریں گے ثمن اور مبیع کی زیادتی کے اندر ان شاء اللہ۔
آگے دیکھیے:
”وَإِذَا صَحَّتِ الزِّيَادَةُ تَسْقُطُ بِالطَّلَاقِ“
اب وہی تفصیل ذکر کر رہے ہیں جو میں نے بیان کر دی۔ مہر ایک لاکھ طے ہوا تھا، بعد میں خاوند نے کیا کہا: میں دو لاکھ دوں گا۔ اور پھر اس صورت میں جو زائد خاوند نے کیا ہے وہ خاوند پر لازم ہو گیا، اس کو سارا ادا کرنا پڑے گا، کب؟ اگر خاوند صحبت کر لیتا ہے یا صحبت سے پہلے خاوند کا انتقال ہو جائے۔ تو جو بھی مقرر کر لیا ہے بعد میں زیادتی کے ساتھ وہ سارا دینا پڑے گا، اور اگر صحبت سے پہلے طلاق دیتا ہے تو ہمارے نزدیک نصفِ مفروض دینا پڑتا ہے اور کون سا مفروض؟ مفروض فی العقد۔ ہمارے نزدیک وہ جو مفروض فی العقد تھا اسی کا نصف دینا پڑے گا، وہ جو بعد میں مقرر کیا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے پہلے قول کے مطابق جو بعد میں مقرر کیا ہے اسی کا نصف دینا پڑے گا۔ معلوم ہوا ہمارے نزدیک ”مَا فَرَضْتُمْ“ سے مراد مفروض فی العقد ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے پہلے قول کے مطابق ”مَا فَرَضْتُمْ“ عام ہے چاہے مفروض فی العقد ہو یا چاہے مفروض بعد العقد ہو۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا صَحَّتِ الزِّيَادَةُ“ اور جب زیادتی صحیح ہے، جب زیادتی صحیح ہے ابھی گزرا نا مسئلہ کہ خاوند مہر میں زیادتی کر سکتا ہے اور وہ خاوند پر لازم ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا صَحَّتِ الزِّيَادَةُ تَسْقُطُ بِالطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ“ تو یہ زیادتی ساقط ہو جائے گی صحبت سے پہلے طلاق کی وجہ سے۔
”وَعَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَوَّلًا تَتَنَصَّفُ مَعَ الْأَصْلِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے پہلے قول پر یہ زیادتی بھی آدھی ہوگی اصل کے ساتھ۔ جو عقد میں مقرر کیا تھا وہ اصل اور بعد میں جو زائد کیا تو اصل کے ساتھ یہ زیادتی بھی نصف ہوگی، اصل کی بھی تنصیف اور جو بعد میں زائد ہے اس زائد کی بھی تنصیف، یعنی مجموعے کی تنصیف ہو جائے گی۔
”لِأَنَّ النِّصْفَ عِنْدَهُمَا يَخْتَصُّ بِالْمَفْرُوضِ فِي الْعَقْدِ“ اس لیے کیونکہ وہ نصف جو ہے طرفین کے نزدیک خاص ہے مفروض فی العقد کے ساتھ، وہ نصف خاص ہے مفروض فی العقد کے ساتھ وہ نصف مراد ہے۔
”وَعِنْدَهُ الْمَفْرُوضُ بَعْدَهُ كَالْمَفْرُوضِ فِيهِ عَلَى مَا مَرَّ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے پہلے قول کے مطابق ان کے نزدیک وہ جو مفروض بعد العقد ہے وہ اسی طرح ہے جیسے کہ مفروض فی العقد، اس وجہ سے جو بات گزر گئی، تفصیل پیچھے گزر گئی۔
”وَإِنْ حَطَّتْ عَنْهُ مِنْ مَهْرِهَا صَحَّ الْحَطُّ“
بھئی یاد رکھو، میں نے آپ کو بتلایا کہ ابتداءً یہ جو مہر ہے یہ حقِ شرع بھی ہے اور یہ حق المراۃ بھی ہے، لہٰذا مہر کا ہونا بھی ضروری اور نیز دس درہم سے کم بھی نہیں ہو سکتا، لیکن بعد میں یہ صرف عورت کا حق ہے۔ تو لہٰذا بقاءً جب یہ صرف عورت کا حق ہے تو عورت اس مہر میں کمی بھی کر سکتی ہے اور چاہے تو سارا بھی معاف کر سکتی ہے کیونکہ اس کا اپنا حق ہے، اور صاحبِ حق اپنا حق معاف کرے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ حَطَّتْ عَنْهُ مِنْ مَهْرِهَا صَحَّ الْحَطُّ“ اور اگر عورت نے کمی کر دی اس کے لیے اپنے مہر میں سے تو یہ کمی صحیح ہے۔ ”لِأَنَّ الْمَهْرَ حَقُّهَا“ اس لیے کیونکہ یہ مہر جو ہے عورت کا حق ہے ”وَالْحَطُّ يُلَاقِيهِ حَالَةَ الْبَقَاءِ“ اور اس کمی نے ملاقات کی ہے مہر سے بقا کی حالت میں۔ بقا کی حالت میں عورت نے کمی کی ہے مہر میں اور بقا کی حالت میں تو مہر صرف عورت کا حق ہوتا ہے، تو یہ کمی لہٰذا عورت کر سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْحَطُّ يُلَاقِيهِ حَالَةَ الْبَقَاءِ“ اور کمی نے ملاقات کی ہے مہر کے ساتھ بقا کی حالت میں، لہٰذا کمی ہو جائے گی۔
آگے دیکھیے:
”وَإِذَا خَلَا الرَّجُلُ بِامْرَأَتِهِ وَلَيْسَ هُنَاكَ مَانِعٌ مِنَ الْوَطْءِ ثُمَّ طَلَّقَهَا فَلَهَا كَمَالُ الْمَهْرِ“
بھئی گزشتہ سبق میں ذکر آیا تھا خلوت کا، میں نے بتایا تھا خلوتِ صحیحہ وہ بھی وطی اور صحبت کے قائم مقام ہے۔ خلوتِ صحیحہ یہ ہے کہ مرد اور عورت ایسی جگہ اکٹھے ہو گئے جہاں صحبت سے کوئی مانع نہیں، جہاں وطی سے کوئی مانع نہیں۔ مثلاً دروازہ بھی بند ہے کمرے کا اور اسی طرح مرد اور عورت میں سے کوئی بیمار بھی نہیں ہے اور انہوں نے رمضان کا روزہ بھی نہیں رکھا ہوا یا اسی طرح دونوں میں سے کوئی حالتِ احرام میں بھی نہیں ہے یا اسی طرح عورت جو ہے حیض کی حالت میں بھی نہیں ہے، تو یہ جتنے موانع ہیں جو چیزیں مانع بننے والی ہیں صحبت سے ان میں سے کوئی بھی چیز موجود نہیں، تو اب یہ صرف خلوت پائی گئی خاوند نے صحبت نہیں کی لیکن یہ خلوتِ صحیحہ ہے۔ یہاں کوئی مانع اور رکاوٹ نہیں، لہٰذا اس کا بھی وہی حکم ہوگا جو صحبت کا تھا، اور جیسے صحبت کی صورت میں خاوند کو پورا مہر دینا پڑتا ہے تو یہاں بھی خاوند کو پورا مہر دینا پڑے گا۔ اور اگر رکاوٹوں میں سے کوئی رکاوٹ موجود ہوئی یعنی دونوں میں سے کوئی شدید بیمار ہے یا دونوں میں سے کسی نے احرام باندھا ہوا ہے حج یا عمرے کا یا دونوں میں سے کسی نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا ہے، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو کہ یہ خلوتِ فاسدہ ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ خلوتِ فاسدہ، اور خلوتِ فاسدہ کی صورت میں پورا مہر نہیں آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا خَلَا الرَّجُلُ بِامْرَأَتِهِ“ اور جب خلوت کی آدمی نے اپنی بیوی سے ”وَلَيْسَ هُنَاكَ مَانِعٌ مِنَ الْوَطْءِ“، خلوت کی، خلوت کا معنی تنہائی تنہائی، ”وَإِذَا خَلَا الرَّجُلُ بِامْرَأَتِهِ“ اور جب آدمی نے تنہائی کی اپنی بیوی کے ساتھ ”وَلَيْسَ هُنَاكَ مَانِعٌ مِنَ الْوَطْءِ“ اور وہاں پر کوئی وطی سے مانع چیز بھی نہیں ہے ”ثُمَّ طَلَّقَهَا“ پھر اس خلوتِ صحیحہ کے بعد خاوند نے اس کو طلاق دے دی ”فَلَهَا كَمَالُ الْمَهْرِ“ تو عورت کے لیے پورا مہر ہوگا، اگرچہ خاوند نے صحبت نہیں کی لیکن یہ خلوتِ صحیحہ بھی کس کے قائم مقام ہے؟ صحبت کے قائم مقام ہے۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَهَا نِصْفُ الْمَهْرِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کے لیے نصفِ مہر ہے، کیا ہے؟ نصفِ مہر ملے گا۔ وجہ یہ کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں دونوں کے درمیان عقدِ نکاح ہوا ہے اور عقدِ نکاح کے اندر خاوند کے ذمے مہر آتا ہے تو خاوند مہر ادا کرے گا تو عورت منافعِ بضعہ حوالے کرے گی، تو یہاں پر تو خاوند نے منافعِ بضعہ وصول نہیں کیے، اس نے تو صحبت نہیں کی، تو لہٰذا جب معقود علیہ اس نے وصول نہیں کیا یعنی جس پر عقد ہوا تھا، تو جب اس نے معقود علیہ کو وصول نہیں کیا تو اس پر بھی مہر پورا واجب نہیں ہوگا بھئی بلکہ نصفِ مہر ہی دینا پڑے گا۔ کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ“ کہ اگر تم ان عورتوں کو طلاق دے دو ان کو چھونے سے پہلے یعنی ان سے صحبت کرنے سے پہلے اور تحقیق ان کے لیے تم نے کوئی مہر بھی مقرر کیا ہو تو جو مقرر کیا ہے اس کا نصف آئے گا۔ معلوم ہوا پورا مہر صحبت ہی کی صورت میں آئے گا، ”مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ“ چھونے سے پہلے صحبت سے پہلے، چاہے خلوتِ صحیحہ بھی آ جائے لیکن صحبت تو نہیں کی، صرف صحبت کی صورت میں پورا مہر ہے، صحبت نہیں کی تو نصفِ مہر ہی دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَهَا نِصْفُ الْمَهْرِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کے لیے نصفِ مہر ہی ہوگا جس سے خاوند نے خلوتِ صحیحہ کی ہے ”لِأَنَّ الْمَعْقُودَ عَلَيْهِ إِنَّمَا يَصِيرُ مُسْتَوْفًى بِالْوَطْءِ“ اس لیے کیونکہ معقود علیہ یعنی جس چیز پر عقد کیا گیا تھا یعنی بضع کے منافع وہ تو وطی کے ذریعے وصول ہوں گے، وطی کی جائے گی تو پھر منافعِ بضعہ وصول ہو گئے اب خاوند پر پورا مہر آ جائے گا، اور یہاں تو خلوتِ صحیحہ پائی گئی ہے وطی تو نہیں پائی گئی، جب وطی نہیں پائی گئی تو مہر بھی پورا نہیں آئے گا۔ کہتے ہیں: ”فَلَا يَتَأَكَّدُ الْمَهْرُ دُونَهُ“ لہٰذا اس صحبت کے بغیر مہر پکا نہیں ہوگا۔
”وَلَنَا أَنَّهَا سَلَّمَتِ الْمُبْدَلَ حَيْثُ رَفَعَتِ الْمَوَانِعَ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ دیکھو یہ جو مہر ہے یہ بدل ہے اور منافعِ بضعہ جو ہیں وہ مبدل ہیں اور یہاں عورت نے مبدل سپرد کر دیا ہے، اس لیے کیونکہ اس نے موانع دور کر دیے۔ کیونکہ جب وہ خاوند کے ساتھ ایسی جگہ پر اکٹھی ہو گئی جہاں کسی قسم کا کوئی مانع نہیں تو اس نے تو اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کر دیا، اس سے زیادہ تو اس کی گنجائش ہی نہیں ہے بھئی، وطی کرنا تو خاوند کا کام ہے بھئی، تو اس عورت کی گنجائش میں جتنا تھا اس نے کر دیا ہے، اس نے اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کر دیا، اور جب خاوند کے سپرد اپنے آپ کو کر دیا تو اب خاوند پر پورا مہر، پورا بدل واجب ہو گیا۔
یہ معنی ہے ”وَلَنَا أَنَّهَا سَلَّمَتِ الْمُبْدَلَ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ عورت نے مبدل کو یعنی عوض کو سپرد کر دیا ہے ”حَيْثُ رَفَعَتِ الْمَوَانِعَ“ اس طور پر کہ اس نے موانع کو دور کر دیا ہے ”وَذَلِكَ وُسْعُهَا“ اور یہی اس عورت کی گنجائش میں تھا، وہ اتنا ہی کر سکتی تھی ”فَيَتَأَكَّدُ حَقُّهَا فِي الْبَدَلِ“ لہٰذا اس عورت کا حق جو ہے وہ پکا ہو جائے گا بدل میں، اب خاوند کو پورا مہر دینا پڑے گا پورا بدل یعنی مہر دینا پڑے گا۔
”اعْتِبَارًا بِالْبَيْعِ“ قیاس کرتے ہوئے بیع پر۔ یاد رکھو بیع کے اندر مشتری اور بائع کے درمیان جب ایجاب اور قبول ہو جائے، مثلاً آپ کی جیب پر ایک قلم لگا ہوا ہے، میں نے آپ سے کہا یہ قلم میں نے آپ سے سو روپے کا خرید لیا، آپ نے کہا مجھے منظور ہے، جیسے ہی ہم دونوں نے ایجاب اور قبول کیا ساتھ ہی مشتری اس مبیع کا مالک بن گیا، اب قلم بے شک آپ کی جیب پر لگا ہوا ہے لیکن میں اس کا مالک بن چکا ہوں۔ لہٰذا اب میرے ذمے ثمن آ گئے کہ مجھے ثمن دینے پڑیں گے، لہٰذا میں اب آپ سے کہتا ہوں کہ لاؤ بھئی یہ قلم کا میں مالک بن گیا ہوں لہٰذا اب یہ قلم میرے حوالے کر دو، تو بائع کو حق حاصل ہے کہ وہ مبیع کو روک لے کہ نہیں بھئی پہلے پیسے میرے حوالے کرو۔ تو لہٰذا بیع ہوتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے اور اس کے ذمے پیسے آ جاتے ہیں، لیکن ابھی پیسوں کی ادائیگی اس پر واجب اور لازم نہیں، جب بائع مبیع حوالے کرے گا تو مشتری پر بھی پیسے دینا اور پیسے حوالے کرنا واجب ہو جائیں گے۔ اور فقہاء فرماتے ہیں کہ مبیع جو ہے مشتری کے قبضے میں دینا ضروری نہیں ہے بلکہ بائع جو ہے مانع اور رکاوٹوں کو دور کر دے تو بھی مشتری پر واجب ہو گیا کہ وہ پیسے ادا کرے۔ مثلاً اب آپ کی جیب پر قلم ہے تو اب آپ پر لازم نہیں ہے کہ قلم میرے حوالے کریں پھر مجھے پیسے دینے پڑیں گے بلکہ آپ قلم اپنی جیب سے اتارتے ہیں اور سامنے رکھ دیتے ہیں کہ لیجیے جی یہ آپ اپنا قلم لے لیجیے، بس جیسے ہی آپ نے رکاوٹیں دور کر دیں اب مشتری پر لازم ہو گیا کہ آپ کے پیسے آپ کے حوالے کر دے۔ معلوم ہوا مبیع کے اندر بھی مشتری پر مال اور بدل تب لازم ہوتا ہے جب وہ رکاوٹیں دور کر دے، باقاعدہ اس کے حوالے کرنا لازم نہیں، جب رکاوٹیں دور کر دیں وہ خود اٹھا لے گا، قبضہ کر لے گا، وہ چاہے قبضہ کرے یا نہ کرے لیکن اب اس کو پیسے دینے پڑیں گے بھئی۔ تو لہٰذا جب بیع کے اندر رکاوٹیں دور کرنے سے مشتری پر عوض یعنی ثمن لازم ہو جاتے ہیں تو یہاں پر بھی جب عورت نے ساری رکاوٹیں دور کر دیں تو خاوند پر اب بدل لازم ہو گیا، پورا مہر دینا پڑے گا۔
تو یہ معنی ہے کہتے ہیں: ”فَيَتَأَكَّدُ حَقُّهَا فِي الْبَدَلِ“ تو اس عورت کا حق پکا ہو جائے گا بدل میں یعنی مہر کے اندر ”اعْتِبَارًا بِالْبَيْعِ“ قیاس کرتے ہوئے بیع پر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے تو دلیل کے طور پر آیت ذکر کی تھی، دلیل کے طور پر آیت ذکر کی تھی کیا؟ ”مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ“، ان کو چھونے سے پہلے، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں چھونے سے پہلے یعنی صحبت سے پہلے پورا مہر واجب نہیں ہو سکتا بھئی۔ اور اے احناف! آپ تو چھونے سے پہلے ہی خلوتِ صحیحہ کی وجہ سے حکم لگا رہے ہیں کہ پورا مہر دینا پڑے گا، تو آپ تو آیت کے مقابلے میں قیاس پیش کر رہے ہیں کہ عورت نے چونکہ اپنے آپ کو سپرد کر دیا ہے لہٰذا اب خاوند کو بھی پورا بدل دینا پڑے گا، تو آپ آیت کے مقابلے میں قیاس پیش کر رہے ہیں۔ تو اس کا ہم جواب دیتے ہیں:
ہم جواب دیتے ہیں کہ یہ آیت عام مخصوص البعض ہے۔ یہ بات پہلے بیان ہو چکی ہے۔ آیت میں کیا ہے: ”وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ“ اگر تم ان عورتوں کو طلاق دو ان کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اس حال میں کہ تم نے ان کے لیے مہر مقرر کیا ہو تو جو مقررہ ہے اس کا نصف دینا پڑے گا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھا! آیت سے معلوم ہوا کہ صحبت سے پہلے نصف ہی دینا پڑے گا، یہاں کوئی خلوتِ صحیحہ کا ذکر نہیں ہے۔ تو ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ آیت عام مخصوص البعض ہے۔ آیت کیا ہے؟ عام مخصوص البعض ہے، اور عام مخصوص البعض ظنی ہو جاتا ہے، وہاں قیاس کے ذریعے اور تخصیص کی جا سکتی ہے یا وہاں پر اس کے ساتھ قیاس کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ تو لہٰذا جب یہ آیت ظنی ہے تو اس کے مقابلے میں قیاس پیش کیا جا سکتا ہے۔ اور نیز خلوتِ صحیحہ کے اندر، اگرچہ حقیقتاً وطی تو نہ ہوئی لیکن دلالۃً وطی ہو گئی۔
کیونکہ خلوتِ صحیحہ جو ہے یہ وطی تک پہنچانے والی ہے، وطی کی طرف لے جانے والی ہے۔ جب خلوتِ صحیحہ ہوگی تو یہ ہمیں کہاں تک پہنچا دے گی؟ وطی تک پہنچا دے گی۔ تو یہ خلوتِ صحیحہ داعئ وطی ہوئی۔ تو یہاں داعئ وطی کا بھی وہی حکم ہے جو وطی کا حکم ہے۔
اور نیز وجہ یہ کہ یہاں خلوتِ صحیحہ ہوئی اور پھر خاوند نے طلاق دے دی۔ خاوند بھی کہتا ہے صحبت میں نے نہیں کی، اور بیوی بھی کہتی ہے کہ اس خاوند نے میرے ساتھ صحبت نہیں کی۔ تو ہو سکتا ہے صحبت ہو چکی ہو لیکن دونوں نے آپس میں کسی مقصد کی وجہ سے اتفاق کر لیا، عورت اپنے آپ کو کنواری ظاہر کرنا چاہتی ہے۔ لہٰذا جب خلوتِ صحیحہ پائی گئی اب یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ صحبت ہوئی تھی یا صحبت نہیں ہوئی، اور جب کسی حکم کی علت کا پتہ نہ چلے تو سبب پر حکم لگا دیا جاتا ہے، تو یہاں جب صحبت کا پتہ نہیں چل سکتا تو صحبت کا جو سبب ہے یعنی خلوتِ صحیحہ، اسی پر حکم کا مدار ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں:
”وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا مَرِيضًا أَوْ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ أَوْ مُحْرِمًا بِحَجٍّ فَرْضٍ أَوْ نَفْلٍ أَوْ بِعُمْرَةٍ أَوْ كَانَتْ حَائِضًا فَلَيْسَتِ الْخَلْوَةُ صَحِيحَةً“
بھئی اب وہ موانع ذکر کرنے لگے ہیں، کیا کیا چیزیں مانع بن سکتی ہیں؟ خلوت تو پائی جا رہی ہے لیکن کوئی مانع موجود ہے، مثلاً دونوں نے یا دونوں میں سے کسی نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا ہے، یا دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک حالتِ احرام کے اندر ہے، یا عورت حیض کی حالت میں ہے، یا دونوں میں سے کوئی ایک شدید بیمار ہے، تو یہ سب مانع ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا مَرِيضًا“
اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک مریض ہوا
”أَوْ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ“
یا روزہ دار ہوا رمضان میں یعنی اس نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا ہے
”أَوْ مُحْرِمًا بِحَجٍّ فَرْضٍ أَوْ نَفْلٍ“
یا وہ احرام کی حالت میں ہے فرض حج یا نفل حج کی وجہ سے
”أَوْ بِعُمْرَةٍ“
یا وہ احرام کی حالت میں ہے عمرے کی وجہ سے
”أَوْ كَانَتْ حَائِضًا“
یا وہ عورت جو ہے حیض کی حالت میں ہے۔ ”حَائِضًا“ کہا، ”حَائِضَةً“ نہیں کہا۔
یاد رکھو بھئی، یہ ”ضَارِبٌ“ کا معنی پٹائی کرنے والا اور ”ضَارِبَةٌ“ کا معنی پٹائی کرنے والی، تو مذکر اور مؤنث میں فرق کیا جاتا ہے گول تا کے ساتھ۔ لیکن بعض صفات ایسی ہیں جو عورتوں کے ساتھ خاص ہیں، تو وہاں پھر گول تا کی بھی حاجت نہیں، جیسے ”حَائِضٌ“ یہ صرف عورت ہی ہو سکتی ہے لہٰذا یہاں گول تا کی بھی حاجت نہیں۔ یا اسی طرح ”حَامِلًا“، حاملہ صرف عورت ہوتی ہے تو وہاں ”حَامِلٌ“ کے ساتھ گول تا ملانے کی ضرورت بھی نہیں ہے بھئی۔
”أَوْ كَانَتْ حَائِضًا“
یا وہ عورت حیض والی ہے
”فَلَيْسَتِ الْخَلْوَةُ صَحِيحَةً“
تو یہ خلوتِ صحیحہ نہیں ہے
”حَتَّى لَوْ طَلَّقَهَا كَانَ لَهَا نِصْفُ الْمَهْرِ“
یہاں تک کہ اگر خاوند نے اس خلوت کے بعد اس کو طلاق دے دی تو اس کے لیے نصفِ مہر ہوگا، کیونکہ یہ خلوتِ صحیحہ نہیں ہے، ان موانع میں سے کوئی مانع پایا گیا۔
”لِأَنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ مَوَانِعُ“
اس لیے کیونکہ یہ چیزیں مانع ہیں یعنی صحبت سے۔
اب دیکھو ان میں سے ایک ایک کی تفصیل صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے کہ یہ کس طرح مانع ہیں بھئی۔
کہتے ہیں:
”أَمَّا الْمَرَضُ فَالْمُرَادُ مِنْهُ مَا يَمْنَعُ الْجِمَاعَ“
کہ مرض جو ہے تو اس سے مراد ایسا مرض ہے جو جماع کے لیے مانع ہو کہ اس کی وجہ سے صحبت نہ ہو سکے
”أَوْ يَلْحَقُهُ بِهِ ضَرَرٌ“
یا اس مریض کو جماع کی وجہ سے نقصان ہوتا ہو۔
یاد رکھو خاوند یا بیوی دونوں ایک جگہ اکٹھے ہو گئے اور مانع تو نہیں ہے لیکن دونوں میں سے کوئی ایک بیمار ہے، لیکن ہر بیماری نہیں معتبر، ایسی بیماری جو صحبت کے لیے مانع بنے، یا ایسی بیماری ہے کہ اگر اس میں صحبت کی جائے تو اس سے مریض کو نقصان ہوگا، تو اس قسم کا مرض جو ہے وہ مانع ہے لہٰذا یہ خلوتِ صحیحہ نہیں کہلائے گی بلکہ خلوتِ فاسدہ کہلائے گی اور اس کی صورت میں پھر پورا مہر نہیں آئے گا خاوند پر نصفِ مہر ہی آئے گا۔
تو کہتے ہیں:
”أَمَّا الْمَرَضُ فَالْمُرَادُ مِنْهُ مَا يَمْنَعُ الْجِمَاعَ أَوْ يَلْحَقُهُ بِهِ ضَرَرٌ“
کہ مرض جو ہے اس سے مراد ایسا مرض ہے جو صحبت سے مانع ہو یا صحبت کی وجہ سے اس مریض کو نقصان ہوتا ہو
”وَقِيلَ مَرَضُهُ لَا يَعْرَى عَنْ تَكَسُّرٍ وَفُتُورٍ“
اور کہا گیا ہے کہ مرد کا مرض جو ہے وہ خالی نہیں ہوتا، عن تکسر، تکسر کا معنی ہے ٹوٹنا یعنی بدن ٹوٹ رہا ہو، بدن تکلیف میں ہے بیماری کی وجہ سے، وفتور، فتور کا معنی ہے سستی یعنی آدمی نڈھال ہوتا ہے، سست ہوتا ہے، اس پر کمزوری طاری ہوتی ہے۔
تو یہ بعض فقہاء کی بات کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ بھئی اوپر تو آ گیا کوئی ایسا مرض ہو جو جماع سے مانع بنے یا اس کی وجہ سے مریض کو نقصان ہوتا ہو، چاہے وہ مرض مرد میں ہو چاہے وہ مرض عورت میں ہو دونوں کا حکم بیان کر دیا صاحبِ ہدایہ نے، لیکن بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو مرض کی تفصیل ہے یہ عورت کے اندر ہے، کس میں ہے؟ عورت میں ہے۔ مرد کے اندر تو اگر تھوڑا بہت مرض بھی ہو تو بھی وہ مانع ہے، اس لیے کیونکہ اگر تھوڑا بہت بیمار بھی ہوگا تو مرد جو ہے اس کا جسم بیماری کی وجہ سے ٹوٹ رہا ہوگا اور وہ نڈھال ہوگا تو اس کی طبیعت صحبت پر آمادہ ہی نہیں ہوگی۔ تو معلوم ہوا یہ جو مرض ذکر ہوا ہے یہ عورت کا ذکر ہے کہ وہ اتنا زیادہ مرض ہو تو وہ مانع بنے گا اور مرد کا تھوڑا مرض بھی مانع بنے گا۔
تو کہتے ہیں:
”وَقِيلَ مَرَضُهُ لَا يَعْرَى عَنْ تَكَسُّرٍ وَفُتُورٍ“
کہ مرد کا جو مرض ہے وہ خالی نہیں ہے بدن کے ٹوٹنے سے اور بدن کے نڈھال ہونے سے
”وَهَذَا التَّفْصِيلُ فِي مَرَضِهَا“
اور یہ جو تفصیل ذکر کی گئی تو یہ تو عورت کے مرض میں ہے کہ اس کو اتنا زیادہ مرض ہو کہ صحبت ہی نہ ہو سکے یا اس کو نقصان ہوتا ہو تو پھر وہ مانع ہے، اور مرد کا تھوڑا بھی مرض ہو تو وہ مانع ہے، یہ بعض فقہاء فرماتے ہیں۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں:
”وَأَمَّا صَوْمُ رَمَضَانَ لِمَا يَلْزَمُهُ مِنَ الْقَضَاءِ وَالْكَفَّارَةِ“
اوپر متن میں آیا تھا رمضان کا روزہ بھی مانع ہے۔ اب وہ کیوں مانع ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں اس لیے کیونکہ رمضان کا روزہ اگر توڑے گا تو پھر کفارہ بھی آئے گا اور قضا بھی کرنا پڑے گی، یعنی ایک روزہ توڑا ہے اس کی قضا بھی کرنا پڑے گی اور کفارے کے طور پر ساٹھ مسلسل روزے بھی رکھنا پڑیں گے، تو گویا اکسٹھ روزے اس شخص پر لازم ہو جائیں گے اور اکسٹھ روزے رکھنے کی کون طاقت رکھتا ہے؟ تو لہٰذا اس لیے جب رمضان کا روزہ ہو تو یہ مانع بنے گا، اس قضا اور کفارے کے خوف سے پھر یہ روزہ نہیں توڑیں گے۔
تو کہتے ہیں:
”وَأَمَّا صَوْمُ رَمَضَانَ لِمَا يَلْزَمُهُ مِنَ الْقَضَاءِ وَالْكَفَّارَةِ“
اور باقی رمضان کا جو روزہ ہے تو اس وجہ سے جو اس کی وجہ سے قضا اور کفارہ لازم آتا ہے
”وَالْإِحْرَامُ لِمَا يَلْزَمُهُ مِنَ الدَّمِ وَفَسَادِ النُّسُكِ وَالْقَضَاءِ“
اور احرام جو ہے وہ بھی مانع ہے اس وجہ سے جو اس کی وجہ سے لازم آتا ہے مِنَ الدَّمِ یعنی کہ قربانی، دم بھئی، دم سے مراد ہے قربانی۔
یاد رکھو احرام کی حالت میں انسان پر بہت سی پابندیاں لگ جاتی ہیں، وہ خوشبو نہیں لگا سکتا، وہ اپنے ناخن یا بال نہیں کاٹ سکتا، مرد جو ہے وہ سلے ہوئے کپڑے نہیں پہن سکتا اور اسی طرح بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا، تو یہ سب کیا ہیں احرام کے اندر انسان پر پابندیاں لگ جاتی ہیں۔
اور یاد رکھو عمرہ جو ہے صرف طواف اور سعی کا نام ہے، بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے جائیں تو یہ ایک طواف ہے بھئی، یہ ایک طواف ہے اور پھر بیت اللہ کے پاس ہی صفا مروہ دو پہاڑیاں ہیں، ان کے درمیان سات چکر لگا لیے جائیں تو یہ سعی کہلاتی ہے، تو عمرہ صرف اس طواف پر اور سعی پر مشتمل ہوتا ہے۔ جبکہ حج کے اندر اور بھی افعال کرنے پڑتے ہیں، منیٰ جانا پڑتا ہے، پھر عرفات جانا پڑتا ہے، پھر مزدلفہ میں آ کر رات گزارنا پڑتی ہے، پھر منیٰ کے اندر آنا پڑتا ہے اور پھر وہاں شیطان کو کنکریاں بھی ماری جاتی ہیں اور اسی طرح طوافِ زیارت بھی کیا جاتا ہے، وہ طواف جو حج میں فرض ہے۔
تو دیکھو احرام کی حالت میں بیوی سے صحبت منع ہے۔ اب عمرے کے اندر اگر کوئی شخص عمرے کے اندر طواف کے چار چکروں سے پہلے اگر بیوی سے اس نے صحبت کر لی تو اس کا عمرہ ہی فاسد ہو گیا۔ اس کا عمرہ فاسد ہو گیا، اب اس کو اس عمرے کی قضا کرنا پڑے گی اور نیز ایک دم بھی اس پر لازم آیا، اس کو اب ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی۔ دم کا کیا معنی؟ قربانی۔ اور اگر عمرے میں چار چکر طواف کے وہ لگا چکا تھا اس کے بعد اس نے بیوی سے صحبت کی ہے تو پھر اس صورت میں عمرہ تو فاسد نہیں ہوا، اسی عمرے کو پورا کر لے، البتہ ایک جانور کی قربانی اس کو کرنا پڑے گی۔ اگر چار طوافوں سے پہلے صحبت کی تو عمرے کی بھی قضا کرنا پڑے گی اور جانور کی قربانی بھی کرنا پڑے گی، اور اگر چار چکروں کے بعد صحبت کی ہے تو پھر عمرے کی تو قضا نہیں کرنا پڑے گی، اسی عمرے کو پورا کر لے، اب عمرہ فاسد نہیں کیونکہ اکثر چکر طواف کے وہ لگا چکا ہے، البتہ جانور کی قربانی اس پر لازم ہے جرمانے کے طور پر۔
اور اسی طرح حج کے اندر، یاد رکھو حج کے اندر بھی جب احرام باندھ لیا تو احرام کی پابندیاں آ گئیں اب بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا۔ اب حج کا سب سے بڑا رکن جو ہے وہ وقوفِ عرفہ ہے، نویں ذی الحجہ کو عرفات جانا ہے۔ اگر وقوفِ عرفہ سے پہلے کسی نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی حج کے احرام کے اندر تو یاد رکھو اس کا حج ہی فاسد ہو گیا۔ اس کا حج ہی فاسد ہو گیا، اس نے احرام کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے تو اب ایک جانور کی قربانی اس کو کرنا پڑے گی۔ ایک جانور کی قربانی کرے، حج اس کا فاسد ہو چکا ہے، لیکن اب یہ مطلب نہیں ہے کہ حج فاسد ہوا ہے تو حج کے افعال ہی چھوڑ دے، نہیں نہیں، حج کے افعال سارے کرنا پڑیں گے اس کو، البتہ اگلے سال پھر اس کو اس حج کی قضا کرنا پڑے گی کیونکہ حج فاسد ہو چکا تھا۔ لیکن اگر اس حج کے احرام میں وقوفِ عرفہ کر لیا تو حج کا سب سے بڑا رکن ادا ہو گیا، اب حج فاسد نہیں ہو سکتا، سب سے بڑا رکن ادا ہو چکا ہے، اس کے بعد اگر کسی شخص نے ابھی اسی احرام کے اندر تھا کہ اس نے بیوی سے صحبت کر لی تو پھر اس صورت میں یاد رکھو حج تو فاسد نہیں، حج کے افعال تو یہ کرتا چلا جائے حج کو پورا کرے، لیکن اس صورت میں اس نے جرم بہت بڑا کیا ہے تو اب اس پر ایک اونٹ کی قربانی واجب ہو گئی۔ پہلے تو تھا کہ کسی بھیڑ بکری کی قربانی کر لے وہ کافی تھی لیکن اب اس کو اونٹ کی قربانی کرنا پڑے گی۔
تو لہٰذا معلوم ہوا حج یا عمرے کا احرام یہ بھی مانع بنے گا صحبت سے کیونکہ اس صورت میں کم از کم قربانی تو ضرور کرنا پڑے گی بھئی، کم از کم قربانی تو ضرور آئے گی، قربانی کا جرمانہ تو ضرور آئے گا، تو لہٰذا یہ حج یا عمرے کا احرام بھی مانع بنے گا۔ اس کے ہوتے ہوئے خلوت پائی گئی تو یہ خلوتِ صحیحہ نہیں بلکہ خلوتِ فاسدہ ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَالْإِحْرَامُ لِمَا يَلْزَمُهُ مِنَ الدَّمِ وَفَسَادِ النُّسُكِ وَالْقَضَاءِ“
اور باقی احرام جو ہے تو اس وجہ سے جو اس وطی کی وجہ سے اس پر لازم آئے گی، وہ کیا ہے؟ من کے ساتھ بیان ہے، ”مِنَ الدَّمِ“ یعنی کہ قربانی، ”وَفَسَادِ النُّسُكِ“ نسک کہتے ہیں عبادت کو، اور عبادت کا فاسد ہونا، ”وَالْقَضَاءِ“ اور قضا کا آنا۔ دیکھو بعض صورتوں میں عمرہ ہی فاسد ہو جاتا ہے اس کی قضا کرنا پڑتی ہے، بعض صورتوں میں حج ہی فاسد ہو جاتا ہے اس کی قضا کرنا پڑتی ہے، تو ان چیزوں کی وجہ سے یہ احرام بھی مانع بنے گا۔
”وَالْحَيْضُ مَانِعٌ طَبْعًا وَشَرْعًا“
اور حیض بھی مانع ہے طبعاً بھی اور شرعاً بھی۔ حیض بھی مانع ہے، عورت کو اگر حیض آ رہا ہے اب اگرچہ بے شک خلوت پائی گئی لیکن یہ خلوتِ صحیحہ نہیں کیونکہ مانع موجود ہے۔ اور یاد رکھو حیض طبعاً بھی مانع ہے اور شرعاً بھی مانع ہے۔ طبعاً اس طرح مانع ہے کہ عورت سے خون جاری ہے، خاوند کی طبیعت ہی گوارا نہیں کرے گی کہ عورت سے حیض کا خون جاری ہے اور وہ اس کے ساتھ صحبت کر لے، تو حیض کیا ہے طبعاً بھی مانع ہے، انسان کی طبیعت ہی اس حالت میں صحبت پر آمادہ نہیں ہوگی، اور نیز یہ شرعاً بھی مانع ہے کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ“ کہ ان بیویوں سے صحبت نہ کرو یہاں تک کہ یہ پاک ہو جائیں۔ دیکھو شریعت نے بھی منع کیا ہے اور طبیعت بھی اس حالت میں صحبت پر آمادہ نہیں ہوتی، تو حیض طبعاً بھی مانع ہے اور شرعاً بھی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
یاد رکھو یہ جتنے موانع اوپر ذکر ہوئے، ان میں سے بعض حسی موانع ہیں، بعض شرعی موانع ہیں، اور بعض جو ہیں وہ طبعی موانع ہیں۔ حسی مانع کی مثال ہے مرض۔ حسی مانع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری طور پر وہ مانع نظر آ رہا ہو، ظاہری طور پر وہ مانع محسوس ہو رہا ہو، مثلاً دونوں میں سے کوئی شدید بیمار ہے تو اب حسی طور پر نظر آ رہا ہے کہ اس مرض کے اندر تو یہ صحبت نہیں کر سکتے۔ یا دوسری صورت لے لیں، کمرے کے اندر ایک اور شخص بھی موجود ہے تو یہ بھی حسی مانع ہے، ظاہری طور پر نظر آ رہا ہے کہ جب کوئی اور شخص موجود ہے تو اس کی موجودگی میں تو صحبت نہیں کر سکتے یہ، تو یہ حسی مانع ہے۔ اور بعض اوقات مانع شرعی ہوتا ہے جیسے رمضان کا روزہ اور احرام۔ اب یہ رمضان کا روزہ یہ شرعی مانع کی مثال ہے کیونکہ اس صورت میں کفارہ لازم آئے گا، تو کفارے کے خوف کی وجہ سے یہ اس روزے کو نہیں توڑیں گے اور صحبت نہیں کریں گے۔ اور اسی طرح احرام جو ہے یہ بھی شرعی مانع ہے، احرام میں تو صحبت منع ہے، اگر اس حالت میں یہ صحبت کریں گے تو کم از کم ایک جانور کی قربانی ان پر ضرور لازم آئے گی، اور بعض صورتوں کے اندر تو ان کا حج یا عمرہ بھی فاسد ہو سکتا ہے تو اس کی بھی ان کو قضا کرنا پڑے گی، تو اب اس قربانی واجب ہونے کی فکر اور خوف کی وجہ سے یا عبادت کے فاسد ہونے کے خوف سے یہ احرام کی خلاف ورزی نہیں کریں گے اور صحبت نہیں کریں گے تو اس طرح احرام مانع بن جائے گا، تو یہ شرعی مانع ہے۔ اور بعض اوقات مانع طبعی ہوتا ہے یعنی طبیعت ہی آمادہ نہیں ہوتی اس حالت میں صحبت کرنے پر جیسے کہ حیض ہے۔ حیض کی حالت میں تو عورت سے خون جاری ہے، اس حالت میں خاوند کی طبیعت ہی گوارا نہیں کرے گی کہ وہ صحبت کر لے، تو یہ حیض طبعی مانع بھی ہے اور شرعی مانع بھی ہے، شریعت نے بھی منع کیا ہے: ”وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ“ کہ ان بیویوں سے صحبت نہ کرو یہاں تک کہ یہ پاک ہو جائیں حیض سے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو موانع کتنی قسم کے ہو سکتے ہیں؟ حسی بھی ہو سکتے ہیں یعنی جو آنکھوں سے نظر آئے، جو محسوس ہو، اور شرعی مانع بھی ہو سکتا ہے، اور طبعی مانع بھی ہو سکتا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَالْحَيْضُ مَانِعٌ طَبْعًا وَشَرْعًا“
اور حیض جو ہے وہ طبعاً بھی مانع ہے اور شرعاً بھی مانع ہے۔
آگے دیکھیے بھئی:
”وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا صَائِمًا تَطَوُّعًا فَلَهَا الْمَهْرُ كُلُّهُ“
بھئی اوپر کچھ موانع ذکر کر دیے، اگر وہ موجود ہیں تو اس صورت میں وہ خلوت صحیح نہیں ہے بلکہ فاسد ہے، اور انہی میں ایک رمضان کا روزہ تھا۔ اگر کسی شخص نے رمضان کا روزہ نہیں رکھا، نفلی روزہ رکھا ہوا ہے تو کہتے ہیں نفلی روزہ صحبت سے مانع نہیں ہے، کیونکہ نفلی روزہ تو توڑا بھی جا سکتا ہے، اس میں تو صرف قضا آتی ہے کفارہ نہیں آتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا نفلی روزہ اگر ہے میاں بیوی میں سے کسی ایک کا اور وہ ایک کمرے میں اکٹھے ہیں تو یہ خلوتِ صحیحہ ہی کہلائے گی اور اس صورت میں جب خلوت صحیح ہے تو خاوند کو پورا مہر دینا پڑے گا۔
تو یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں:
”وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا صَائِمًا تَطَوُّعًا“
اور اگر ان دونوں میں سے کوئی روزہ دار ہے تطوعاً نفلی یعنی نفلی روزہ اس نے رکھا ہوا ہے
”فَلَهَا الْمَهْرُ كُلُّهُ“
تو اس عورت کے لیے پورا مہر ہوگا
”لِأَنَّهُ يُبَاحُ لَهُ الْإِفْطَارُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فِي رِوَايَةِ الْمُنْتَقَى وَهَذَا الْقَوْلُ فِي الْمَهْرِ هُوَ الصَّحِيحُ“
یاد رکھو یہ جو نفلی روزہ ہے اس کے بارے میں فقہاء کی دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت جو ہے المنتقی کتاب کے اندر ہے حاکم شہید کی، حاکم شہید بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں احناف کے، وہ منتقی کتاب کے اندر فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہے تو بغیر کسی عذر کے بھی وہ اس کو توڑنا چاہے تو توڑ سکتا ہے، ہاں البتہ بعد میں اس کی قضا کرنا پڑے گی، اس لیے کیونکہ نفل جو ہے وہ جب تک شروع نہ کیے جائیں وہ نفل ہیں لیکن جب شروع کر دیے اب وہ واجب ہو گئے اب اس کو پورا کرنا ضروری ہے، کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”لَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ“ تم اپنے عملوں کو باطل نہ کرو، تو جب آپ نے ایک عمل شروع کر دیا ہے تو اب وہ آپ پر لازم ہو گیا۔ اسی طرح نفلی نماز ہے، آپ کی مرضی ہے نفل پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن جب آپ نے نفل شروع کر دیے اب آپ پر وہ لازم ہو گئے، اگر آپ کو کسی وجہ سے توڑنے پڑے تو پھر آپ کو بعد میں اس کی قضا کرنا پڑے گی۔ تو منتقی کتاب کی روایت کے مطابق اگر کسی نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہے تو بغیر عذر کے توڑنا بھی اس کے لیے جائز ہے، البتہ بعد میں قضا کرنا پڑے گی۔ جبکہ دوسری روایت اس بارے میں یہ ہے کہ نفلی روزہ بھی بغیر عذر کے توڑنا جائز نہیں ہے، کوئی عذر ہو پھر تو توڑ سکتا ہے بغیر عذر کے توڑنا جائز نہیں۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ مہر کے سلسلے میں یعنی مہرِ کامل کے وجوب کے سلسلے میں فقہاء نے منتقی کی روایت کو ترجیح دی ہے۔ منتقی کی کیا روایت ہے؟ بغیر عذر کے بھی نفلی روزہ توڑنا جائز ہے تو یہاں پر بھی اگرچہ دونوں میں سے کسی ایک نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہے لیکن نفلی روزہ تو توڑنا بغیر عذر کے بھی جائز ہے لہٰذا یہ مانع نہیں، جب مانع نہیں تو مہر پورا آئے گا، جبکہ ویسے روزہ توڑنے کے سلسلے میں فقہاء نے دوسری روایت کو ترجیح دی ہے لیکن مہر کے سلسلے میں منتقی کی روایت کو ترجیح دی ہے۔
کہتے ہیں:
”لِأَنَّهُ يُبَاحُ لَهُ الْإِفْطَارُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ“
اس لیے کیونکہ نفلی روزہ رکھنے والے کے لیے مباح ہے کہ وہ روزہ توڑ سکتا ہے بغیر کسی عذر کے
”فِي رِوَايَةِ الْمُنْتَقَى“
منتقی کی روایت کے مطابق
”وَهَذَا الْقَوْلُ فِي الْمَهْرِ هُوَ الصَّحِيحُ“
اور مہر کے سلسلے میں یہی والا قول صحیح ہے یعنی مہرِ کامل کے واجب ہونے کے سلسلے میں۔
”وَصَوْمُ الْقَضَاءِ وَالْمَنْذُورِ كَالتَّطَوُّعِ فِي رِوَايَةٍ“
نذر ذال کے ساتھ، نذر منت کو کہتے ہیں، تو منذور جو ہے یعنی وہ منت والا جو روزہ ہے۔
اچھا بھئی قضا روزہ، رمضان کا روزہ کسی کا چھوٹ گیا تھا اب وہ اس کی کیا کرنا چاہتا ہے؟ قضا۔ یا کسی نے نفلی روزہ توڑ دیا تھا اب اس کی کیا کرنا چاہتا ہے؟ قضا۔ یا اسی طرح کوئی شخص منت مان لیتا ہے کہ اللہ میں آپ کے لیے دس روزے رکھوں گا، تو یہ دس روزے اس پر واجب ہو گئے، یا اسی طرح کہتا ہے اللہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں دس روزے رکھوں گا، تو یہ منت کے روزے بھی انسان پر واجب ہیں۔ تو یہ واجب روزے توڑنے کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ بھی مانع بنے گا یا نہیں؟ کیا اس کے ساتھ خلوت ہوئی تو یہ خلوتِ صحیحہ کہلائے گی یا خلوتِ فاسدہ؟ تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ اس سلسلے میں ایک روایت تو یہ ہے کہ یہ جو قضا اور منت کے روزے ہیں یہ بھی نفلی روزوں کی طرح ہیں، اور نفلی روزہ تو وطی سے مانع نہیں لہٰذا یہ قضا اور منت والا روزہ بھی وطی سے مانع نہیں بنے گا، یہ ایک روایت ہے، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ قضا یا منت کا روزہ بھی مانع بنے گا۔ قضا یا منت کا روزہ یہ جو واجب روزہ ہے یہ بھی مانع بنے گا، تو دونوں طرف فقہاء گئے ہیں۔ بعض فقہاء نے اس بات کی طرف نظر کی کہ یہ قضا روزہ یا منت کا روزہ تو واجب ہے جب یہ اس کو توڑے گا تو گنہگار ہوگا، تو انہوں نے گناہ کی طرف نظر کی تو اس کو مانع قرار دیا کہ یہ روزہ مانع بنے گا گناہ کی وجہ سے وہ اس کو توڑے گا ہی نہیں چاہے عورت نے رکھا ہے یا مرد نے رکھا ہوا ہے۔ اور جبکہ بعض فقہاء نے اس طرف نظر کی کہ ان کے توڑنے کی وجہ سے کفارہ تو نہیں آئے گا، دوبارہ روزہ رکھنا پڑے گا لیکن کفارہ تو نہیں آئے گا، جب کفارہ نہیں آئے گا تو یہ نفلی روزے کی طرح ہوئے، جب نفلی روزے کی طرح ہوئے تو وہ تو مانع نہیں بنتا تھا صحبت سے تو یہ بھی صحبت سے مانع نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَصَوْمُ الْقَضَاءِ وَالْمَنْذُورِ كَالتَّطَوُّعِ فِي رِوَايَةٍ“
اور قضا کا روزہ اور اسی طرح منت کا جو روزہ ہے وہ نفلی روزے کی طرح ہے ایک روایت کے مطابق یعنی مانع نہیں
”لِأَنَّهُ لَا كَفَّارَةَ فِيهِ“
اس لیے کیونکہ اس کے اندر کفارہ نہیں آتا، اور ایک روایت میں کیا ہے کہ یہ مانع ہے بھئی۔
”وَالصَّلَاةُ بِمَنْزِلَةِ الصَّوْمِ“
اور نماز جو ہے وہ روزے کے درجے میں ہے، نماز روزے کی طرح ہے
”فَرْضُهَا كَفَرْضِهِ“
نماز کے جو فرض ہیں وہ فرض روزے کی طرح ہیں
”وَنَفْلُهَا كَنَفْلِهِ“
اور نماز کے جو نفل ہیں وہ روزے کے نفل کی طرح ہیں۔
یعنی فرض روزہ یعنی رمضان کا روزہ مانع بن رہا تھا وطی سے تو فرض نماز بھی کیا ہے مانع بنے گی، مثلاً خاوند بیوی کے ساتھ ایک الگ کمرے میں اکٹھا تو ہوا لیکن اس دوران بیوی فرض نماز پڑھ رہی تھی یا بیوی آئی اور خاوند کیا تھا فرض نماز پڑھ رہا تھا، تو کچھ دیر تو خلوت ہوئی، مثلاً نماز ذرا لمبی کر دی پانچ دس منٹ تک نماز لمبی کر دی تو یہ اب خلوت تو ہوئی لیکن فرض نماز ہے تو یہ کس کی طرح ہے؟ فرض روزے کی طرح، اور فرض روزہ تو مانع بنتا تھا وطی سے تو یہ نماز بھی کیا ہے وطی سے مانع، لہٰذا اس خلوت کو خلوتِ صحیحہ نہیں کہیں گے۔ اور اگر نفل نماز تھی تو پھر اس کا نفل روزے والا حکم ہے اور نفل روزہ تو وطی سے مانع نہیں تو لہٰذا یہ نماز بھی وطی سے مانع نہیں، لہٰذا یہ خلوتِ صحیحہ کہلائے گی اور اس صورت میں خاوند کو پورا مہر دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے:
”وَالصَّلَاةُ بِمَنْزِلَةِ الصَّوْمِ فَرْضُهَا كَفَرْضِهِ وَنَفْلُهَا كَنَفْلِهِ“
اور نماز جو ہے وہ روزے کے درجے میں ہے، نماز کے فرض روزے کے فرض کی طرح ہیں اور نماز کے نفل جو ہے وہ روزے کے نفل کی طرح ہے۔
”وَإِذَا خَلَا الْمَجْبُوبُ بِامْرَأَتِهِ ثُمَّ طَلَّقَهَا فَلَهَا كَمَالُ الْمَهْرِ“
مجبوب بھئی، یاد رکھو مجبوب وہ شخص ہے جس کا آلۂ تناسل کٹ گیا ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجبوب بھئی۔ اب صورتِ مسئلہ یہ، ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے لیکن یہ شخص مجبوب ہے، اس نے عورت کے ساتھ اب خلوت کر لی ایک کمرے کے اندر، تو اب یہ شخص تو وطی پر قادر ہی نہیں ہے، اس کا تو آلۂ تناسل ہی کٹا ہوا ہے، تو کیا اب اس خلوت کی وجہ سے اس شخص پر پورا مہر آئے گا یا پورا مہر نہیں؟ تو کہتے ہیں بھئی مجبوب بھی جب خلوتِ صحیحہ کر لے گا تو اس کو بھی پورا مہر دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ تو مریض سے بھی زیادہ عاجز ہے، مریض تو پھر بھی کسی وقت ٹھیک ہو جائے گا اس کے تو ٹھیک ہونے کی کوئی صورت نہیں، اور مریض کے اندر مہر پورا نہیں آتا تو مجبوب کی خلوت کی صورت میں بھی مہر پورا نہیں آئے گا۔
کہتے ہیں:
”وَإِذَا خَلَا الْمَجْبُوبُ بِامْرَأَتِهِ ثُمَّ طَلَّقَهَا فَلَهَا كَمَالُ الْمَهْرِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
اور اگر مجبوب نے خلوت کر لی اپنی بیوی سے پھر اس کو طلاق دے دی تو اس عورت کے لیے پورا مہر ہوگا امام صاحب کے نزدیک
”وَقَالَا عَلَيْهِ نِصْفُ الْمَهْرِ“
اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس مجبوب پر نصفِ مہر ہوگا
”لِأَنَّهُ أَعْجَزُ مِنَ الْمَرِيضِ“
اس لیے کیونکہ یہ تو مریض سے بھی زیادہ عاجز ہے، اور مریض پر پورا مہر نہیں آتا تو اس پر بھی پورا مہر نہیں آئے گا
”بِخِلَافِ الْعِنِّينِ“
بخلاف عنین کے۔
عنین کہتے ہیں یاد رکھو وہ شخص جو عورت سے صحبت پر قادر نہیں یعنی جس کے عضو میں سختی نہیں، وہ صحبت کر ہی نہیں سکتا اس کو کیا کہتے ہیں؟ عنین کہتے ہیں۔
کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ الْعِنِّينِ“
بخلاف عنین کے، یعنی اگر عنین نامرد جو ہے جب اس نے خلوت کی ہے بیوی کے ساتھ تو اس کو پورا مہر ہی دینا پڑے گا۔ بھئی یہ تو عنین ہے پھر کیسے پورا مہر دینا پڑے گا؟ کہتے ہیں بھئی یہاں حکم کا مدار آلۂ تناسل کی سلامتی پر ہے اور یہ اگرچہ نامرد ہے لیکن آلۂ تناسل تو سلامت ہے لہٰذا اب جب اس نے خلوت کی ہے بیوی کے ساتھ تو پورا مہر ہی دینا پڑے گا۔
کہتے ہیں:
”بِخِلَافِ الْعِنِّينِ لِأَنَّ الْحُكْمَ أُدِيرَ عَلَى سَلَامَةِ الْآلَةِ“
بخلاف عنین کے اس لیے کیونکہ حکم کا مدار جو ہے آلۂ تناسل کی سلامتی پر ہوگا، اور آلۂ تناسل تو سلامت ہے لہٰذا پورا مہر دینا پڑے گا۔
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
بھئی دیکھیے، عنین کے مسئلے میں تو ہمارے ائمہ کیا فرماتے ہیں؟ عنین نے اگر خلوت کر لی تو پورا مہر دینا پڑے گا۔ لیکن مجبوب کے سلسلے میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف تھا۔ صاحبین فرماتے ہیں یہ مجبوب یہ تو مریض سے بھی زیادہ عاجز ہے لہٰذا اس پر پورا مہر نہیں آئے گا جیسے مریض پر پورا مہر نہیں آتا، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں مجبوب نے بھی جب اپنی بیوی کے ساتھ خلوت کر لی تو پورا مہر دینا پڑے گا۔ وجہ یہ کہ عورت نے تو اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا ہے، جو مانع اور رکاوٹ آیا وہ اس مجبوب کی طرف سے آیا ہے کہ وہ صحبت پر قادر نہیں ہے، بیوی کے تو بس میں جتنا تھا کہ اس نے اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کر دیا ہے لہٰذا اب عورت کو پورا حق دینا پڑے گا یعنی پورا مہر اس کو دینا پڑے گا۔
تو کہتے ہیں:
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ الْمُسْتَحَقَّ عَلَيْهَا التَّسْلِيمُ فِي حَقِّ السَّحْقِ“
اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے مجبوب کے بارے میں کہ
”أَنَّ الْمُسْتَحَقَّ عَلَيْهَا“
مستحق بھئی، اس کو اسم مفعول پڑھنا بھئی، حا پر زبر پڑھیں، ”أَنَّ الْمُسْتَحَقَّ عَلَيْهَا“ کہ عورت پر اس بات کا استحقاق ہے یعنی عورت کے ذمے یہ حق ہے، تو مستحق علیہا کا ترجمہ کر لیں عورت کے ذمے حق۔ کہتے ہیں امام صاحب کی دلیل یہ ہے:
”أَنَّ الْمُسْتَحَقَّ عَلَيْهَا“
کہ عورت کے ذمے خاوند کا یہ حق ہے
”التَّسْلِيمُ“
کہ وہ اپنے آپ کو سپرد کر دے
”فِي حَقِّ السَّحْقِ“
یاد رکھو سحق کا معنی شارحین نے رگڑنے اور ملنے کے کیے ہیں، کسی چیز کو رگڑنا یا ملنا، تو معنی یہ ہے امام صاحب فرماتے ہیں کہ مجبوب کے سلسلے میں عورت کے ذمے یہ تھا کہ اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کر دے اور خاوند جو ہے وہ اس کا تو آلۂ تناسل کٹا ہوا ہے وہ صحبت تو کر نہیں سکتا، وہ دخول تو کر نہیں سکتا البتہ اوپر ہی اوپر رگڑ کر وہ اپنی خواہش پوری کر لے گا منی کا اخراج کر دے گا، تو لہٰذا عورت کے ذمے تو اتنا تھا اور اس نے اس پر عمل کر دیا، اس نے اپنے آپ کو خلوت کے اندر خاوند کے سامنے پیش کر دیا، تو جب عورت نے اپنے اوپر جو حق تھا وہ ادا کر دیا ہے تو اب خاوند پر جو اس کا حق ہے یعنی مہر وہ بھی اب خاوند کو پورا دینا پڑے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ
”أَنَّ الْمُسْتَحَقَّ عَلَيْهَا التَّسْلِيمُ فِي حَقِّ السَّحْقِ“
عورت کے ذمے خاوند کا یہ حق ہے کہ وہ سپرد کرے اپنے آپ کو رگڑنے کے حق میں کہ مجبوب جو ہے وہ رگڑ کر ہی اپنی خواہش پوری کر لے، تو عورت کے ذمے اپنے آپ کو سپرد کرنا ہے اس سلسلے میں
”وَقَدْ أَتَتْ بِهِ“
اور تحقیق اس کو عورت لے آئی یعنی اس کو تو عورت نے پورا کر دیا، اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا ہے، لہٰذا اب خاوند کو پورا مہر دینا پڑے گا۔
تو یہاں پر آیا بھئی: ”فِي حَقِّ السَّحْقِ“، ہدایہ کے اکثر نسخوں میں یہاں سحق ہی ہے لیکن ہدایہ کے بعض نسخوں کے اندر یہاں ”مُسْتَحِقّ“ کا لفظ ہے، جیسے عنایہ جو ہدایہ کی عظیم شرح ہے بھئی، اس کے اندر جو ہدایہ کی عبارت وہ ذکر فرماتے ہیں تو وہ ”فِي حَقِّ السَّحْقِ“ کے بجائے ”فِي حَقِّ الْمُسْتَحِقِّ“ ذکر فرماتے ہیں اور اس صورت میں عبارت بڑی پیاری بن جاتی ہے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں چل رہی ہیں تو پیچھے ”مُسْتَحَقّ“ اسم مفعول کا ذکر تھا تو آگے ”مُسْتَحِقّ“ یعنی اسم فاعل کا ذکر آ گیا۔ تو عبارت گویا یوں بن گئی کہ:
”أَنَّ الْمُسْتَحَقَّ عَلَيْهَا التَّسْلِيمُ فِي حَقِّ الْمُسْتَحِقِّ“
تو سحق کی جگہ کیا رکھ دیں؟ المستحق۔ اب عبارت کا ترجمہ سمجھ لو:
”أَنَّ الْمُسْتَحَقَّ عَلَيْهَا“
مستحق علیہا کا کیا ترجمہ میں نے بتلایا؟ عورت کے ذمے حق ہے یعنی خاوند کا، عورت کے ذمے حق ہے خاوند کا
”التَّسْلِيمُ“
اپنے آپ کو سپرد کرنا
”فِي حَقِّ الْمُسْتَحِقِّ“
مستحق کون ہے؟ خاوند ہے۔ دیکھو جب نکاح ہو گیا تو صحبت کا حقدار خاوند ہے، وہ ہوا مستحق، تو ”فِي حَقِّ الْمُسْتَحِقِّ“ اس کا ترجمہ کر لیں خاوند کے حق میں، خاوند کے بارے میں، خاوند کے سلسلے میں، دیکھو پھر ترجمہ بہترین ہوگا۔
تو کہتے ہیں:
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“
اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ
”أَنَّ الْمُسْتَحَقَّ عَلَيْهَا“
عورت کے ذمے یہ حق ہے
”التَّسْلِيمُ“
کہ وہ اپنے آپ کو سپرد کرے
”فِي حَقِّ الْمُسْتَحِقِّ“
خاوند کے سلسلے میں، خاوند کے حق میں عورت پر یہ حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو سپرد کرے اس کے، بات سمجھ میں آ گئی
”وَقَدْ أَتَتْ بِهِ“
اور تحقیق اس کو تو عورت لے آئی، اس نے تو یہ حق ادا کر دیا، اس کو پورا کر دیا، تو اب خاوند پر بھی لازم ہے کہ پورا مہر اس کے حوالے کرے۔
دلیل سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.