Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Muhammad Ghayyas
📍 Location Lahore, Pakistan
📅 Approved Date 08 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 29
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی آگے سبق: قال: ”ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين، رجلين أو رجل وامرأتين، عدولا كانوا أو غير عدول، أو محدودين في القذف“. قال رضی اللہ تعالیٰ عنہ: ”اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح، لقوله عليه السلام: "لا نكاح إلا بشهود"، وهو حجة على مالك رحمه الله تعالى في اشتراط الإعلان دون الشهادة“. بھئی گزشتہ سبق میں صاحب قدوری نے وہ الفاظ ذکر فرمائے تھے کہ جن کے ذریعے نکاح منعقد ہو جاتا ہے، اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ نکاح، تزویج، ہبہ، تملیک، صدقہ اور بیع کے الفاظ سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ اور اجارہ، اعارہ، احلال اور اباحت اور وصیت وغیرہ الفاظ کے ساتھ عقدِ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ اور ایک ضابطہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فقہاء فرماتے ہیں کہ جو لفظ بھی تملیکِ عین فی الحال کا فائدہ دے، اس کے ذریعے عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ یعنی تملیک کا فائدہ دے کہ اس میں دوسرے کو مالک بنایا جائے، اور تملیک بھی عین کی ہو یعنی ذات کا مالک بنایا جائے، صرف منافع کا مالک نہ بنایا جائے۔ اور نیز یہ مالک بنانا بھی فی الحال ہو، یعنی اسی زمانے کے اندر ہو۔ تو جو لفظ بھی یہ تین فائدے دے گا، ان کے ذریعے عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اور ہبہ، تملیک اور صدقہ اور اسی طرح بیع، یہ سب تملیک کا بھی فائدہ دیتے ہیں اور تملیک بھی ذات کی ہوتی ہے اور اسی وقت اس تملیک کا فائدہ دیتے ہیں اسی زمانے میں، لہٰذا ان کے ذریعے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف تزویج اور نکاح کے لفظ سے نکاح منعقد ہوگا۔ وجہ یہ کہ یہ لفظ صریح ہیں نکاح کے باب میں۔ ان کا اور کوئی معنی ہی نہیں ہے۔ ان کا معنی نکاح کرنا یا نکاح کروانا، شادی کرنا یا شادی کروانا۔ تو ان کا معنی ہی نکاح اور شادی کے ہے، اس لیے ان سے تو نکاح منعقد ہو جائے گا، لیکن باقی لفظوں کے ساتھ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ اور پھر ان کی دلیل ذکر کی تھی صاحبِ ہدایہ نے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لفظ کے استعمال کے دو ہی طریقے ہیں: یا اس کو اپنے حقیقی معنی میں استعمال کیا جائے گا یا مجازی معنی میں۔ اور یہ لفظ جو تملیک پر دلالت کر رہے ہیں یعنی ہبہ، تملیک، صدقہ اور بیع وغیرہ، یہ تملیک پر دلالت کر رہے ہیں، اور تملیک جو ہے نہ تو اس کا حقیقی معنی جو ہے وہ نکاح اور تزویج کے ہے، اور اس کا مجازی معنی بھی نکاح اور تزویج کے نہیں کر سکتے۔ اس لیے کیونکہ حقیقی اور مجازی معنی میں کوئی نہ کوئی مناسبت ہوتی ہے، جبکہ یہاں تملیک اور نکاح اور تزویج کے معنی میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔ کیونکہ تزویج جو ہے وہ تلفیق کے لیے ہوتی ہے۔ میں نے بتلایا لَفَّقَ یُلَفِّقُ تَلفِیق کا معنی ہے دو کپڑوں کو ملا کر یعنی دو تہیں بنا کر کپڑوں کو ملا کر سی دینا۔ تو اب دو تہیں بن گئیں، دیکھو اس دو تہیں بننے میں دونوں کپڑوں کا فائدہ ہوا، ہر ایک کپڑا دوسرے کپڑے کی وجہ سے مضبوط ہو گیا۔ اسی طرح نکاح کے اندر بھی جو ہے تلفیق ہوتی ہے، یعنی میاں بیوی دونوں کو مصلحتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف خاوند کی مصلحتیں ہوں یا صرف بیوی کی مصلحتیں ہوں، بلکہ اس میں دونوں کی مصلحتیں ہیں۔ اسی طرح نکاح کا معنی ہے ضم یعنی ملانا، اور اس ملانے کے اندر بھی کہ جب ایک مرد اور ایک عورت کا نکاح کروا دیا تو ان میں جوڑ آ گیا اور اب یہ میاں بیوی کہلاتے ہیں۔ اور یہ جو جوڑ ہے اور یہ جو ملانا ہے، اس میں بھی دونوں کا فائدہ ہے، خاوند اور بیوی دونوں کا۔ دونوں کو اولاد بھی حاصل ہوگی، دونوں کا گھر بس جائے گا، دونوں کی زندگی اطمینان سے گزرے گی، تو اس میں دیکھو دونوں کے فائدے ہیں۔ جبکہ تملیک، جس میں کسی کو دوسری چیز کا مالک بنایا جاتا ہے، اور یہ تملیک کے اندر صرف مالک کا نفع ہوتا ہے، اس میں صرف مالک کے نفع کو دیکھا جاتا ہے، اس میں مملوک کے نفع کو نہیں دیکھا جاتا۔ تو معلوم ہوا نکاح اور تزویج اس میں دونوں کا فائدہ ہے، اور تملیک کے اندر صرف ایک کا فائدہ ہے۔ تملیک کے اندر صرف ایک کا فائدہ ہے۔ اسی کو صاحبِ ہدایہ نے یوں بیان فرمایا کہ نکاح اور تزویج میں جوڑ ہے، ملانا ہے اور دونوں میاں بیوی میں مناسبت آ گئی کہ دونوں کو فائدے حاصل ہو گئے۔ لیکن تملیک کے اندر مالک اور مملوک کے درمیان کوئی مناسبت نہیں، مالک جو ہوتا ہے وہ صاحبِ تصرف ہوتا ہے، وہ خود اپنا نکاح بھی کر سکتا ہے، وہ کاروبار تجارت وغیرہ بھی کر سکتا ہے، تو وہ اسے ہر طرح کے تصرفات کا حق حاصل ہوتا ہے، لیکن جو اس کا مملوک ہے یعنی غلام یا باندی، اس کو کسی قسم کے تصرف کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ تو تملیک میں نفع صرف کس کا ہے؟ مالک کا ہے۔ تو تملیک کے اندر مالک اور مملوک کے درمیان کوئی جوڑ نہیں آیا، کوئی مناسبت نہیں آئی، لیکن نکاح کے اندر میاں بیوی دونوں میں کیا آ گئی؟ مناسبت آ گئی، جوڑ آ گیا۔ تو دونوں ایک دوسرے کے منافی ہیں۔ تملیک میں ایک کا فائدہ ہے، ایک کی مصلحت ہے یعنی مالک کی، اور نکاح اور تزویج کے اندر دونوں کا فائدہ ہے، دونوں کی مصلحتیں ہیں میاں اور بیوی کی۔ تو تملیک اور نکاح و تزویج میں منافات ہے۔ منافات ہے یعنی دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ ان دونوں میں تضاد ہے آپس کے اندر۔ کس کے اندر؟ تملیک اور دوسری طرف کیا ہے؟ نکاح اور تزویج۔ ان دونوں میں کیا ہے؟ تضاد ہے، تقابل ہے، یہ دونوں ایک دوسرے کے متعارض ہیں، جیسے صبح اور شام۔ صبح اور شام ایک دوسرے کے متعارض ہیں، ایک دوسرے کے مقابل ہیں، صبح اور وقت ہے، شام کا اور وقت ہے۔ تو جب دو چیزیں آپس میں جب دو چیزوں میں تعارض ہو، وہ ایک دوسرے کے مقابل ہوں، تو وہاں پر ایک لفظ بول کر دوسرے کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا۔ صبح کا لفظ بولیں اور آپ شام کے وقت کا ارادہ کر لیں، ایسا نہیں کر سکتے، کیونکہ صبح اور شام میں کیا ہے؟ تعارض ہے۔ یا شام کا لفظ بولیں اور آپ صبح کے معنی کا ارادہ کر لیں، آپ ایسا نہیں کر سکتے، کیونکہ حقیقی اور مجازی معنی میں کیا ہونا چاہیے؟ کوئی مناسبت ہونی چاہیے، ان میں تعارض اور تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ یا اسی طرح ہے سردی اور گرمی، دیکھو سردی اور گرمی ایک دوسرے کے مقابل ہیں، ان میں تضاد ہے، یہ متنافیین ہیں۔ جو اس وقت سردی کا ہے وہ گرمی کا نہیں اور جو گرمی کا ہے وہ سردی کا نہیں ہے۔ ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے، یا سردی ہوگی یا گرمی ہوگی۔ تو دونوں کیا ہیں آپس میں؟ متنافیین ہیں، اکٹھے نہیں ہو سکتے، لہٰذا آپ سردی کا لفظ بولیں اور ارادہ کس معنی کا کریں؟ گرمی کا، نہیں کر سکتے، کیونکہ دونوں آپس میں متنافیین ہیں، دونوں میں آپس میں کیا ہے؟ تعارض ہے۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے، ایک ہے تملیک ایک طرف اور دوسری طرف ہے نکاح اور تزویج۔ تملیک میں ایک کا فائدہ اور نکاح اور تزویج میں دونوں کے فائدے، تو یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے، یا تو دونوں کا نفع ہوگا یا دونوں کا نفع نہیں ہوگا بھئی۔ دونوں کا نفع ہے کس میں؟ نکاح اور تزویج میں، اور دونوں کا نفع نہیں ہے کس کے اندر؟ تملیک کے اندر۔ تو دیکھو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہو گئے۔ لہٰذا تملیک بول کر نکاح اور تزویج کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا۔ بات بھی سمجھ میں آئی یا نہیں؟ تملیک میں ایک کی مصلحت یا دونوں کی؟ ایک کی۔ اور نکاح اور تزویج میں؟ دونوں کی مصلحتیں ہیں۔ تو یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ ایک وقت میں ایک چیز ہو سکتی ہے، یا دونوں کی مصلحتیں ہوں گی یا صرف ایک کی مصلحت ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا ایک ہی وقت میں آپ یوں بھی کہیں صرف ایک کی مصلحت ہے اور پھر آپ یہ بھی کہیں دونوں کی مصلحت ہے، نہیں بھئی یہ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں بھئی۔ یا صرف ایک کا نفع ہوگا یا دونوں کا نفع ہوگا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا معلوم ہوا تملیک کی کوئی مناسبت نہیں ہے نکاح اور تزویج کے ساتھ، یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں اور احد المتقابلین میں سے ایک کو دوسرے معنی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا تملیک بولیں یا ہبہ بولیں یا صدقہ بولیں یا بیع بولیں اور کیا مراد لے لیں؟ نکاح اور تزویج، نہیں ہو سکتا۔ یہ صحیح نہیں، کیونکہ آپس میں کیا ہیں؟ متنافیین ہیں، ایک دوسرے کے مقابل ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے احناف کی دلیل ذکر فرمائی۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ تملیک جو ہے یہ سبب ہے ملکِ متعہ کا۔ تملیک جو ہے ملکِ متعہ تک پہنچا دیتی ہے، کیونکہ جب کسی شخص کو کسی چیز کا مالک بنایا جائے، چاہے ہبہ کے ذریعے ہو، چاہے تملیک کے لفظ سے ہو، چاہے صدقہ کے لفظ سے ہو، چاہے بیع کے لفظ سے ہو، تو جب اس کو ملکِ رقبہ حاصل ہوگی تو اس کو ملکِ متعہ بھی حاصل ہو جائے گی اپنے محل میں، یعنی اگر وہ متعہ کا محل ہے۔ متعہ کا محل ہے تو اس شخص کو ملکِ متعہ بھی حاصل ہو جائے گی۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں، متعہ کا ویسے معنی ہے فائدہ، لیکن یہاں ہر فائدے کی بات نہیں ہو رہی، ورنہ تو ہر چیز کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہے۔ آپ گاڑی بھی خریدتے ہیں، اس کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہے کہ آپ اس میں سفر کرتے ہیں۔ اور بھی کوئی چیز خریدتے ہیں تو کسی فائدے کی وجہ سے لیتے ہیں، لیکن یہاں متعۂ مخصوص یعنی صحبت کی بات ہو رہی ہے، تو صحبت جائز ہو جائے گی جب کیا آ جائے؟ ملکِ رقبی آ جائے۔ تو کیا جائز ہو جائے گی؟ صحبت یعنی ملکِ متعہ حاصل ہوگی، لیکن ہر جگہ نہیں، اس جگہ میں جو محل بھی ہو متعہ کا۔ جو محل بھی ہو متعہ کا، وہاں پر ملکِ متعہ حاصل ہو جائے گی۔ مثلاً اگر کوئی شخص حیوان خریدتا ہے تو یہ محلِ متعہ نہیں ہے۔ کوئی شخص غلام خریدتا ہے تو یہ محلِ متعہ نہیں ہے۔ ہاں کوئی باندی خریدتا ہے تو یہ ہے محلِ متعہ بھئی، اور کوئی مانع موجود نہیں، تو یہاں ملکِ رقبی کے ساتھ کیا آ جائے گا؟ ملکِ متعہ بھی آ جائے گا اس شخص کے لیے، اس مالک کے لیے، اپنی باندی سے صحبت جائز ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عند الاحناف تملیک پہنچاتی ہے ملکِ رقبی تک اور ملکِ رقبی کہاں تک پہنچاتی ہے؟ ملکِ متعہ تک۔ تو تملیک سبب ہوئی ملکِ متعہ کے لیے اور نکاح میں بھی کیا حاصل ہوتا ہے؟ ملکِ متعہ ہی تو حاصل ہوتا ہے۔ نکاح میں اور تو کوئی چیز نہیں، دیکھو بیوی جو ہے وہ کسی کی مملوک نہیں ہو جاتی، وہ آزاد عورت ہے۔ ہاں خاوند کو ملکِ متعہ حاصل ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ آزاد عورت ہے، کچھ اس پر پابندیاں ضرور آ جائیں گی، لیکن بہرحال وہ ہے آزاد عورت۔ تو لہٰذا ملکِ متعہ اس کو خاوند کو حاصل ہو جائے گی، تو تملیک جو ہے وہ سبب ہوئی ملکِ متعہ کی اور سبب بول کر مسبب کا ارادہ کیا جا سکتا ہے، عربی زبان میں شائع اور رائج ہے۔ مثلاً عربی زبان میں کہتے ہیں: ”عَظُمَتْ يَدُ فُلَانٍ“، فلاں کی سخاوت بہت زیادہ ہے۔ تو یہاں يد بول کر کیا مراد ہے؟ سخاوت۔ اس لیے کیونکہ ہاتھ جو ہے وہ سبب ہوتا ہے سخاوت کا، ہاتھ کے ذریعے سخاوت کی جاتی ہے۔ تو سبب بول کر کس کا ارادہ کیا گیا؟ مسبب کا، يد بول کر سخاوت کا ارادہ۔ یہاں پر بھی تملیک سبب ہے کس کا؟ ملکِ متعہ کا، تو لہٰذا سبب بول کر مسبب کا ارادہ صحیح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو سببیّت مجاز کا ایک طریقہ ہے، مجازِ مرسل کے میں نے بتلایا تھا کوئی بیس پچیس علاقے ہیں، ان میں سے ایک علاقہ سببیّت والا بھی ہے۔ تو لہٰذا یہاں مجاز کا طریقہ موجود ہے تو تملیک بول کر نکاح اور تزویج کا ارادہ صحیح ہے بھئی۔ معلوم ہوا کہ ہبہ، تملیک، صدقہ، بیع وغیرہ ان کے ذریعے نکاح کا ارادہ کرنا صحیح ہے، تو نکاح اور تزویج ان کا مجازی معنی ہو سکتا ہے، سبب بول کر کس کا ارادہ کیا جائے؟ مسبب کا ارادہ کیا جائے، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مجازی معنی کے لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی قرینہ چاہیے۔ ایک تو نیت چاہیے اور ساتھ قرینہ بھی چاہیے، سننے والے کو بھی پتہ چلے یہ۔ مثلاً ایک شخص جو ہے وہ کسی عورت کا نکاح کسی آدمی سے کروا رہا ہے اور وہ لفظ کیا بولتا ہے؟ کہ میں فلاں عورت آپ کو تحفے میں دے دی، اور ارادہ کس کا کر رہا ہے؟ نکاح کا، یا میں نے فلاں عورت آپ کو صدقہ کر دی اور ارادہ نکاح کا ہے، یا میں نے آپ کو فلاں عورت کا مالک بنا دیا، یا فلاں عورت میں نے آپ کو بیچ دی، ارادہ کس کا کر رہا ہے؟ نکاح کا کر رہا ہے، معلوم ہوا مجازی معنی کا ارادہ کر رہا ہے۔ اور مجازی معنی کے لیے ہمیشہ قرینہ چاہیے، ورنہ تو لفظ سنتے ہی ذہن فوراً کس طرف جاتا ہے؟ حقیقی معنی کی طرف ذہن جاتا ہے، مجازی معنی کی طرف نہیں جاتا۔ مجازی معنی کے لیے کوئی قرینہ چاہیے۔ اور قرینہ میں نے آپ کو بتلایا تھا، وہ لفظیہ بھی ہو سکتا ہے اور غیر لفظیہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو کبھی تو اس مقام پر قرینۂ لفظیہ موجود ہوگا، مثلاً وہ مہر کو ساتھ ذکر کر دیتا ہے، میں نے فلاں عورت آپ کو بیچ دی ایک لاکھ روپے مہر کے عوض۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس نے مہر کو ذکر کر دیا، بھئی بیع و شراء کے اندر تو مہر نہیں آیا کرتا، مہر تو کس میں آتا ہے؟ نکاح میں، معلوم ہوا بیع بول کر کس کا ارادہ ہے؟ نکاح کا۔ یا اس نے صدقے اور ہبہ کا لفظ بولا ہے یا تملیک کا لفظ بولا ہے اور ساتھ مہر کو ذکر کر دیا، بھئی مہر تو ان چیزوں میں نہیں آتا، معلوم ہوا یہ ہبہ، صدقہ وغیرہ بول کر کس کا ارادہ ہے؟ نکاح کا ارادہ ہے، کس سے پتہ چلا؟ مہر سے پتہ چلا، یعنی مہر کے لفظ سے پتہ چلا، تو یہ قرینۂ لفظیہ ہوا۔ کیا ہوا؟ قرینۂ لفظیہ ہوا۔ لیکن بعض اوقات نکاح میں مہر کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا، تو پھر مہرِ مثل آ جاتا ہے، آگے تفصیل آ جائے گی بھئی مہر کے بارے میں۔ تو بہرحال مہر کو کبھی ذکر نہیں کیا جاتا، پھر بھی قرینہ تو چاہیے، کیونکہ آپ بیع یا ہبہ یا تملیک یا صدقہ کے لفظ کو کس میں استعمال کر رہے ہیں؟ مجازی معنی میں، اور مجاز کے لیے کیا چاہیے؟ قرینہ چاہیے۔ تو قرینہ یہاں موجود ہے کہ آپ ایک آزاد عورت کا نکاح کروا رہے ہیں اور آزاد عورت کا ہبہ نہیں کیا جا سکتا، آزاد عورت کو کسی کے مملوکہ نہیں بنایا جا سکتا، آزاد عورت کو کسی پر صدقہ نہیں کیا جا سکتا، آزاد عورت کو کسی کے ہاتھ بیچا نہیں جا سکتا۔ تو یہ محل ہی نہیں ہے ہبہ کا، یہ عورت جو آزاد عورت ہے، نہ یہ ہبہ کا محل ہے، نہ یہ تملیک کا محل ہے، نہ یہ صدقے کا محل ہے، نہ یہ بیع کا محل ہے۔ تو اس کا آزاد ہونا ہی بتلا رہا ہے کہ یہاں ان لفظوں کے حقیقی معنی مراد نہیں، تو یہ قرینہ ہو جائے گا کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مجازی معنی مراد ہے۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ بیع کے لفظ سے بھی عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا، اور یہی قول صحیح ہے۔ اس کے ذریعے رد کیا ابوبکر اعمش رحمہ اللہ کے قول کو، وہ فرماتے ہیں کہ بیع کے لفظ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ وجہ یہ کہ بیع کہتے ہیں مبادلۃ المال بالمال، یعنی مال کا مال کے ساتھ تبادلہ ہو، دونوں طرف مال ہونا چاہیے، اور نکاح کے اندر مرد پر تو مال آتا ہے لیکن عورت کی طرف سے تو مال نہیں، عورت کی طرف سے تو وہ مرد منافع کا مالک بنتا ہے۔ کس کا مالک بنتا ہے؟ تو ایک طرف تو مال آ رہا ہے، مرد کو مال دینا پڑے گا، مہر دینا پڑے گا بیوی کو، لیکن بیوی کی طرف سے تو مال نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ ملکِ متعہ حاصل ہو رہا ہے خاوند کو۔ لہٰذا وہ فرماتے ہیں بیع کے لفظ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتایا کہ صحیح قول یہ ہے کہ بیع کے لفظ سے نکاح منعقد ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ بیع جو ہے وہ تملیک العین فی الحال کا فائدہ دیتی ہے۔ بیع میں کیا ہے؟ کوئی شخص کسی چیز کی ذات کا مالک بنتا ہے اور اسی وقت مالک بنتا ہے، لہٰذا جو بھی لفظ یہ تین فائدے دے گا اس سے عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا اور یہ تینوں فائدے بیع سے حاصل ہو رہے ہیں۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ اجارہ کے لفظ سے عقدِ نکاح منعقد نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ اجارہ کے اندر تملیکِ عین نہیں ہوتی بلکہ تملیکِ منافع ہوتی ہے، منافع کا مالک دوسرے کو بنایا جاتا ہے، حالانکہ ہم نے ضابطہ بتلا دیا کہ نکاح صرف ان لفظوں سے منعقد ہوگا جو تملیکِ عین کا فائدہ دیں گے۔ کس کا؟ اور اجارہ تو تملیکِ عین کا فائدہ نہیں دیتا، لہٰذا اس کے ذریعے عقدِ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ جبکہ امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجارہ کے لفظ سے بھی عقدِ نکاح منعقد ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ نکاح کے اندر بھی خاوند کی طرف سے تو مال ہے اور بیوی کی طرف سے اسے کیا حاصل ہوا؟ ملکِ متعہ، تو ایک طرف سے منافع ہیں اور ایک طرف سے کیا ہے؟ مال ہے، توجہ ہے؟ اور اجارہ میں بھی اسی طرح ہوتا ہے، آپ کوئی چیز کرائے پر لاتے ہیں تو آپ پیسے دیتے ہیں، مثلاً گاڑی لے آئے یا موٹر سائیکل آپ کرائے پر لے آئے تو آپ پیسے دیتے ہیں اور بدلے میں آپ اس گاڑی یا موٹر سائیکل کے منافع جو ہیں وہ آپ حاصل کرتے ہیں، تو ایک طرف منافع ہیں اور ایک طرف مال ہے، تو اجارہ میں بھی ایک طرف منافع اور مال اور نکاح میں بھی ایک طرف مال اور دوسری طرف منافع، اس لیے وہ فرماتے ہیں کہ اجارہ کے لفظ سے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ صحیح قول کے مطابق اجارہ کے لفظ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ ضابطہ وہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا کہ نکاح صرف ان لفظوں سے منعقد ہوتا ہے جو تملیکِ عین کا فائدہ دیں اور اجارہ تو تملیکِ عین کا فائدہ نہیں دیتا، اس میں تو صرف منافع کی تملیک ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز مثال سے بھی اس کی وضاحت ہوتی ہے، ایک شخص جو ہے وہ کسی باندی کو کرائے پر لاتا ہے کہ وہ اس کے گھر کا کام کاج کرے ایک مہینے تک، اس کے بچوں کو سنبھالے، اب یہ باندی کو کس پر لایا؟ اجارے پر لایا، توجہ ہے؟ تو یہ باندی سے اور منافع تو حاصل کر سکتا ہے، گھر کے کام وغیرہ وہ سارے کرے گی، یہ منافع ہی تو ہیں، توجہ ہے؟ لیکن صحبت کے منافع اس کو حاصل نہیں، صحبت اس کے لیے جائز نہیں ہے، حرام ہے، تو معلوم ہوا اجارے کے لفظ سے وہ جو متعۂ مخصوص ہے وہ کبھی بھی حاصل نہیں ہوتا۔ تو معلوم ہوا اجارہ کبھی بھی ملکِ متعہ تک نہیں پہنچاتا، جبکہ ہبہ، صدقہ، بیع وغیرہ یہ ملکِ متعہ تک پہنچاتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے اولاً کیا آئے گی؟ ملکِ رقبہ، اور پھر ملکِ رقبہ سے کیا آئے گا؟ ملکِ متعہ آئے گا، لیکن اجارے میں ایسی کوئی صورت نہیں کہ آپ کو ملکِ متعہ بھی حاصل ہو جائے، اور ہر متعہ کی بات نہیں ہو رہی، یہ جو خاص متعہ یعنی صحبت کرنے کا حق حاصل ہو جائے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اجارہ کبھی بھی ملکِ متعہ تک نہیں پہنچاتا، لہٰذا اس کے ذریعے نکاح منعقد نہیں ہوگا، جبکہ باقی لفظ ملکِ متعہ تک پہنچا دیتے ہیں لہٰذا ان کے ذریعے نکاح بھی جائز ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جی اب آئیے آج کے سبق پر: کہتے ہیں: ”قال: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين، رجلين أو رجل وامرأتين، عدولا كانوا أو غير عدول، أو محدودين في القذف“. اب صاحبِ ہدایہ نکاح کی شرط ذکر کرنے لگے ہیں۔ یاد رکھو ہمارے نزدیک نکاح کے اندر شرط ہے کہ کم از کم دو گواہ ہونے چاہییں۔ دو گواہ، دو مرد گواہ ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ ہوں گی، پھر ہی عقدِ نکاح منعقد ہوگا ورنہ عقدِ نکاح منعقد نہیں ہوگا بھئی۔ جی تفصیل میں نے آپ کو شروع میں چند بحثیں لکھوائی تھیں، وہاں میں نے بیان کر دی تھی بھئی۔ جی دیکھیے اب صاحبِ ہدایہ وہی باتیں ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: ”قال: ولا ينعقد نكاح المسلمين“، یہ قال کے فاعل صاحبِ قدوری ہیں بھئی، ضمیر صاحبِ قدوری کو راجع ہے، اس لیے کیونکہ آگے جو متن آ رہا ہے وہ قدوری کی عبارت ہے بھئی۔ تو قال، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”ولا ينعقد نكاح المسلمين“، اور مسلمانوں کا نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ اس کو چاہے المسلمین پڑھیں اور چاہے تو تثنیہ پڑھ لیں ”المسلمَینِ“، دو مسلمانوں کا نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ دو مسلمان یعنی وہ جو مرد اور عورت ہیں جن کا آپ نکاح کروانا چاہتے ہیں، ان کا نکاح منعقد نہیں ہوگا مگر کس کی موجودگی میں؟ دو گواہوں کی موجودگی میں۔ تو المسلمین اس کو تثنیہ بھی پڑھ سکتے ہیں اور المسلمین جمع بھی پڑھ سکتے ہیں کہ ”ولا ينعقد نكاح المسلمين“، مسلمانوں کا نکاح منعقد نہیں ہوتا، مسلمان جو بھی نکاح کریں وہ منعقد نہیں ہوتا مگر یہ کہ دو گواہ اس نکاح میں موجود ہوں۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”ولا ينعقد نكاح المسلمين“، اور مسلمانوں کا نکاح منعقد نہیں ہوتا، ”إلا بحضور شاهدين“، مگر دو گواہوں کی موجودگی سے۔ حضور کا معنی حاضر ہونا، دو گواہوں کی موجودگی میں، ان کے حاضر ہوتے ہوئے۔ ”بحضور شاهدين“، دو گواہوں کی موجودگی کے ساتھ۔ ”حرين عاقلين بالغين مسلمين“، آگے صفات ذکر کر رہے ہیں ان گواہوں کی، کہ وہ جو دو گواہ ہیں ”حرین“، آزاد ہونے چاہییں۔ غلام نہیں بھئی، یاد رکھو صرف غلام موجود ہوں عقد کے اندر تو عقدِ نکاح منعقد نہیں ہوگا بھئی۔ ”وعاقلین“، وہ دونوں گواہ عاقل ہوں بھئی، یعنی مجنون اور پاگل نہ ہوں بھئی، اگر عقدِ نکاح میں صرف پاگل یا مجنون موجود ہیں تو عقدِ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ ”بالغین“، اور وہ گواہ جو ہیں دونوں بالغ ہوں بھئی، یعنی نابالغ اور بچے نہ ہوں بھئی، صرف اگر بچے موجود ہیں تو ان کی موجودگی میں نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ ”مسلمین“، اور وہ دونوں گواہ مسلمان ہونے چاہییں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين“، اور منعقد نہیں ہوتا مسلمانوں کا نکاح مگر دو ایسے گواہوں کی موجودگی کے ساتھ جو کہ جو آزاد ہوں، عقل والے ہوں، بالغ ہوں، مسلمان ہوں۔ میں نے شروع میں چند باتیں آپ کو لکھوائی تھیں بھئی، چند بحثیں آپ کو لکھوائی تھیں اور وہاں میں نے عاقلین اور بالغین کے بجائے مکلفین لکھوایا تھا بھئی۔ عاقلین اور بالغین کی جگہ کیا لکھوایا تھا؟ مکلفین۔ مکلف کا معنی ہے ذمہ دار بھئی، جس کو احکامِ شریعت کا ذمہ دار بنایا ہے اللہ نے، جن پر احکامِ شریعت لاگو ہوتے ہیں اس کو کہتے ہیں مکلف بھئی۔ اور مکلف اس کو کہیں گے جو عاقل بھی ہو اور بالغ بھی ہو بھئی۔ جو عاقل نہیں ہے، عقلمند نہیں ہے، وہ احکامِ شریعت کا پابند اور ذمہ دار بھی نہیں ہے، کیونکہ اس کی تو عقل ہی نہیں ہے، اس کو کچھ سمجھ ہی نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح بچہ جو ہے، نابالغ جو ہے، وہ بھی مکلف نہیں ہے بھئی، یعنی احکامِ شریعت اس پر لاگو نہیں ہوں گے۔ تو مکلف کے اندر یہ دونوں قیدیں آ گئیں بھئی۔ مکلف کسے کہتے ہیں؟ جو عاقل بھی ہو اور بالغ بھی ہو بھئی۔ اور وہاں پر میں نے ایک دو شرطیں اور بھی لکھوائی تھیں آپ کو کہ ”سامعینِ قولھما“، کہ یہ جو دونوں گواہ ہیں یہ عقد کرنے والوں کے قول کو سنیں، یہ دونوں ان کے قول کو سنیں، ”فاہمین“، اور اس کو سمجھیں بھئی۔ یہ ایجاب و قبول کو سننے والے بھی ہیں اور اس کو سمجھنے والے بھی ہیں، یعنی ان کو سمجھ میں آ رہا ہو کہ یہ ایجاب و قبول ہو رہا ہے، ایسا نہ ہو کہ جس زبان میں ایجاب و قبول ہو رہا ہے گواہوں کو وہ زبان ہی نہیں آتی، ان کو کچھ سمجھ ہی نہیں ہے کہ یہ کیا بات آپس میں ہو رہی ہے۔ تو گواہوں کے لیے کیا ضروری؟ کہ ایجاب و قبول کو سنے بھی اور اس کا معنی بھی ان کو سمجھ میں آ رہا ہو بھئی، تاکہ ان کو پتہ چلے کہ یہ نکاح ہو رہا ہے بھئی۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے یہ دو شرطیں ذکر نہیں فرمائیں بھئی، کہ دونوں کیا ہیں؟ ایجاب و قبول کو سنیں بھی اور سمجھیں بھی۔ وجہ یہ، کیونکہ یہ بات ظاہر ہے بھئی کہ جب نکاح کے اندر یہ دو گواہ ہیں اور نکاح تو نام ہی کس چیز کا ہے؟ وہ جو ایجاب و قبول ہوگا۔ نکاح کس چیز کا نام ہے؟ وہ جو ایجاب و قبول ہوگا اور اس کی وجہ سے پھر ایک ربط آ جائے گا۔ تو یہ ایجاب و قبول نکاح کے ارکان ہیں، یہ اس ایجاب و قبول کو سنیں گے تو یہ اس کے گواہ بھی بن گئے۔ اگر سنا ہی نہیں تو پھر گواہ کس چیز کے بھئی؟ تو وہاں پر صرف موجود ہونا کافی نہیں بلکہ کیا کریں؟ وہ گواہ ایجاب و قبول کو سنیں بھی اور اس کا معنی بھی ان کو سمجھ میں آ رہا ہو، پھر ہی ہم کہیں گے یہ اس عقد کے گواہ ہیں۔ یہ اس عقد کے گواہ ہیں، کیونکہ نکاح تو اس ایجاب و قبول اور اس سے آنے والے جوڑ کا نام ہے، لہٰذا وہ ایجاب و قبول سنیں گے تو ہم کہیں گے یہ اس عقد کے گواہ ہیں، اگر انہوں نے ایجاب و قبول ہی نہیں سنا تو کس چیز کے وہ گواہ بنے بھئی؟ تو اس لیے صاحبِ ہدایہ نے سامعین قولہما اور فاہمین کی قید کو ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ یہ بات ظاہر تھی بھئی کہ جب گواہ ہیں تو سامعین بھی ہوں گے اور فاہمین بھی ہوں گے بھئی۔ اور نیز علماء فرماتے ہیں کہ دونوں گواہ جو ہیں اس ایجاب و قبول کو اکٹھا سنیں، ایک ہی وقت میں۔ ایسا نہیں کہ ایک گواہ بیٹھا تھا اس کے سامنے ایجاب و قبول کر لیا اور پھر وہ گواہ چلا گیا، دوسرا گواہ آیا اور اس کے سامنے پھر کیا کر لیا؟ ایجاب اور قبول کر لیا، اس سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، بلکہ سامعین ہوں معاً بھئی، اکٹھے ایک ہی وقت میں ایجاب و قبول کو سن لیں پھر ہی عقدِ نکاح منعقد ہوگا۔ اور یاد رکھنا یہ جو چار صفات ہیں گواہوں کی: حرین، عاقلین، بالغین، مسلمین، یہ لازمی صفات ہیں گواہوں کی، گواہوں میں یہ صفات ہوں گی تو پھر ہی عقدِ نکاح منعقد ہوگا۔ اگر ان میں سے ایک بھی صفت کم ہوئی کسی گواہ کے اندر تو پھر اس صورت میں نکاح منعقد نہیں ہوگا، دونوں گواہوں میں ان صفات کا ہونا لازمی ہے بھئی۔ جی آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”رجلين أو رجل وامرأتين“، وہ جو گواہ ہیں وہ دونوں مرد ہوں ”أو رجل وامرأتين“، یا ایک مرد ہو اور دو عورتیں ہوں۔ آپ جانتے ہیں بھئی کہ عام معاملات کے اندر گواہ جو ہیں دو مرد ہونے چاہییں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہونی چاہییں، تو نکاح کے باب میں بھی اسی طرح ہے، دونوں گواہ یا کیا ہوں؟ مرد، یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح کے اندر دونوں گواہ مرد ہونے چاہییں، نکاح کے باب میں عورتوں کی گواہی سرے سے قبول ہی نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”عدولا كانوا أو غير عدول“، عدول جمع ہے عادل کی بھئی، عادل۔ آپ نے سنا ہوگا، پڑھا ہوگا کہ گواہ جو ہیں وہ عادل ہونے چاہییں۔ گواہ کیا ہونے چاہییں؟ عادل ہونے چاہییں، اور عادل کا عام ترجمہ آپ کریں تو وہ بنتا ہے انصاف کرنے والا۔ گواہ کیا ہونا چاہیے؟ انصاف کرنے والا، نہیں، یہاں یہ معنی نہیں کریں گے انصاف کرنے والا، بلکہ یہاں عادل کا معنی کریں گے قابلِ اعتماد۔ گواہ قابلِ اعتماد ہونا چاہیے، آپ قاضی بن گئے ہیں، دو افراد آ کر کسی معاملے میں گواہی دیتے ہیں تو آپ ان کی گواہی سنتے ہی فوراً فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ آپ گواہوں کا پتہ کروائیں گے کہ یہ گواہ قابلِ اعتماد بھی ہیں یا نہیں، ان کی بات پر اعتبار بھی کیا جا سکتا ہے کہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ تو عادل کا کیا معنی ہے؟ قابلِ اعتماد۔ اور عادل کسے کہتے ہیں بھئی؟ عادل کسے کہتے ہیں؟ تو علماء لکھتے ہیں کہ عادل وہ شخص ہے جو کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور صغیرہ پر اصرار نہیں کرتا۔ اصرار ص کے ساتھ ہے بھئی، اَصَرَّ یُصِرُّ اِصرَار بھئی، یعنی صغیرہ پر اصرار نہیں کرتا یعنی مسلسل صغیرہ نہیں کرتا چلا جاتا، بار بار صغیرہ نہیں کرتا بھئی وہ۔ یاد رکھو صغیرہ گناہ بھی بار بار کیا جائے، اس کی پرواہ ہی نہ کی جائے تو وہ کبیرہ بن جاتا ہے بھئی۔ تو عادل کسے کہتے ہیں؟ جو کبیرہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہو، کبیرہ گناہ مثلاً چوری، ڈاکہ، زنا، شراب نوشی وغیرہ، یہ کبیرہ گناہ وہ بالکل نہیں کرتا، ان سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ اور صغیرہ گناہوں پر اصرار نہیں کرتا یعنی انہیں بار بار نہیں کرتا، یعنی صغیرہ گناہ اس سے ہو تو جاتے ہیں، کبھی کبھار ہو جاتے ہیں لیکن بار بار بے فکری کے ساتھ وہ ان گناہوں کو کرتا ہی چلا جائے وہ ایسا نہ ہو بھئی۔ اور نیز گھٹیا افعال سے بھی وہ اپنے آپ کو بچاتا ہو بھئی، گھٹیا افعال جیسے مثلاً راستے میں کھانا پینا بھئی۔ مثلاً کوئی شخص ہے اور بازار میں جا رہا ہے اور کوئی چیز خرید لی اور چلتا ہوا، کھاتا ہوا جا رہا ہے بھئی، یاد رکھو معزز آدمی ایسا نہیں کرتا بھئی۔ اور اسی طرح بعض لوگ راستے میں پیشاب کرتے ہیں، جہاں پیشاب آیا دیوار کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے، معزز آدمی ایسا کبھی نہیں کرتا بھئی۔ تو گواہ جو ہیں وہ قابلِ اعتماد ہونے چاہییں، اور قابلِ اعتماد کسے کہیں گے؟ جو کبیرہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچاتا ہے، صغیرہ پر اصرار نہیں کرتا اور گھٹیا افعال سے، گھٹیا عادتوں سے بھی اپنے آپ کو بچاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”عدولا كانوا أو غير عدول“، یہ عدول جمع ہے عادل کی بھئی۔ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ یہ جو نکاح کے اندر دو گواہ ہیں یہ چاہے عادل ہوں یا غیر عادل، بھئی ویسے تو گواہوں کا عادل ہونا ضروری ہے، لیکن نکاح کے اندر عادل ہوں یا عادل نہ ہوں، جیسے بھی گواہ ہوئے دو ان کی موجودگی میں نکاح منعقد ہو جائے گا۔ یہاں ایک اور بات ذہن میں آئی وہ بھی یاد رکھیں۔ آپ نے عموماً پڑھا ہوگا اور سنا ہوگا کہ گواہ عادل ہونے چاہییں بھئی، یعنی گواہ عادل ہوں گے تو قاضی ان کی گواہی قبول کرے گا اور اگر گواہ عادل نہیں تو پھر قاضی ان کی گواہی بھی قبول نہیں کرے گا بھئی۔ لیکن تفصیل یاد رکھو کہ گواہ عادل ہوں تو قاضی کے لیے اس کے مطابق فیصلہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے بھئی۔ جب ایک مسئلے کے اندر بھئی دو عادل گواہ آ گئے اور انہوں نے اس کی گواہی دے دی، تو اب قاضی جو ہے اس پر لازم ہو گیا کہ انہی کی گواہی کے مطابق فیصلہ کرے۔ اگر وہ ان کی گواہی کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو یاد رکھو یہ قاضی عند اللہ مجرم ہے بھئی۔ تو دو عادل آدمی جب گواہی دینے آ جائیں تو قاضی پر ان کی گواہی قبول کرنا اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ غیر عادل یعنی کوئی فاسق آدمی جو ہے وہ گواہی دینے آئے تو قاضی اس کی گواہی قبول نہیں کر سکتا، نہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ قاضی جو ہے اس فاسق آدمی کے بارے میں غور کرے گا۔ اگر اس کا خیال یہ ہوا کہ یہ شخص ہے تو فاسق لیکن اس معاملے میں سچ بول رہا ہے، تو پھر قاضی جو ہے فاسق آدمی کی گواہی بھی قبول کر سکتا ہے۔ فاسق آدمی وہ ہے جو گناہوں کی پرواہ ہی نہیں کرتا بھئی، دینی معاملات کی پرواہ ہی نہیں کرتا، گناہ کرتا چلا جا رہا ہے تو یہ فاسق آدمی ہے۔ اور جو شخص دینی چیزوں کا خیال نہیں رکھتا اس میں دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ جب یہ دینی چیزوں کا خیال نہیں رکھتا تو لوگوں کے حق کا خیال کیا رکھتا ہوگا، تو یہ کہیں جھوٹ نہ بول رہا ہو بھئی، تو اس کے بارے میں جھوٹ کی بدگمانی ہوتی ہے، لہٰذا اس لیے فاسق کی گواہی قبول نہیں کی جاتی۔ لیکن میں نے بتایا یہ مطلق نہیں ہے، قاضی غور کرے گا، اگر اس کو قرائن سے معلوم ہو اور لوگوں سے پتہ چلے کہ یہ ہے تو فاسق لیکن یہ جھوٹ نہیں بولتا، تو پھر اس کی گواہی کو قاضی قبول کر سکتا ہے اور اس کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے۔ بعض لوگ ہوتے تو فاسق ہیں لیکن انہوں نے لوگوں کے اندر ایک عزت بنائی ہوتی ہے، کوئی ایک اس میں کمی ہے، کوئی گناہ وغیرہ تو موجود ہے لیکن بہرحال لوگوں میں اس نے اپنی ایک عزت بنائی ہوتی ہے بھئی۔ تو قاضی کو اگر اندازہ ہو جائے، پتہ چل جائے، معلوم ہو جائے کہ یہ شخص جو ہے سچ بول رہا ہے تو پھر فاسق کی گواہی پر بھی قاضی فیصلہ کر سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو نکاح کے اندر انہوں نے بتلایا کہ گواہ چاہے عادل ہوں یا غیر عادل، وہ گواہ بن سکتے ہیں اور اس سے نکاح منعقد ہو جائے گا۔ ”أو محدودين في القذف“، یا وہ گواہ جو ہیں وہ محدود فی القذف ہوں۔ یا وہ گواہ کیا ہوں؟ محدود فی القذف ہوں۔ بھئی محدود حد سے ہے، حد، حد وہ سزا جو اللہ کی طرف سے مقرر ہو اس کو حد کہتے ہیں۔ یاد رکھو قاضی جو سزائیں دیتا ہے وہ دو قسم کی ہیں، کچھ کو حدود کہتے ہیں اور کچھ کو تعزیر کہتے ہیں۔ حد وہ ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور کوئی انسان اس میں کمی بیشی نہیں کر سکتا۔ مثلاً اللہ کی طرف سے چوری کی سزا مقرر ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، اب جب قاضی کے پاس گواہوں کے ذریعے یہ بات ثابت ہو جائے یا وہ چور خود اقرار کر لے کہ میں نے چوری کی ہے تو قاضی کیا فیصلہ کرے گا؟ کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ اب اس سلسلے میں قاضی کسی کی سفارش قبول نہیں کر سکتا، قاضی کوئی اور سزا نہیں دے سکتا، کیونکہ یہ سزا کس کی طرف سے مقرر ہے؟ اللہ کی طرف سے مقرر ہے، تو جو بھی سزا اللہ کی طرف سے مقرر ہو اس کو حد کہتے ہیں۔ اور یاد رکھیے حدود جو ہیں وہ چھ ہیں بھئی، حدود کتنی ہیں؟ چھ ہیں جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔ مثلاً جیسے ایک حدِ زنا ہے، کوئی شخص زنا کر لے اور گواہوں سے ثابت ہو جائے اس کا زنا یا وہ خود اقرار کر لے، تو اگر وہ شادی شدہ ہو تو اس کو رجم کیا جاتا ہے، سنگسار کیا جاتا ہے، پتھر مار مار کر اس کو قتل کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ غیر شادی شدہ ہے تو اس کو سو کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک حد ہے شربِ خمر کی، یاد رکھو اگر کوئی شخص شراب پی لے تو اس پر حد جاری کی جائے گی اور اسے اسی کوڑے لگائے جائیں گے بھئی۔ اسی طرح چوری کی حد کیا ہے؟ چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اسی طرح ڈاکو کی حد کیا ہے؟ کہ اس کا ایک ہاتھ اور مخالف طرف کا پاؤں کاٹا جائے گا۔ تو یہ سزائیں جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں یہ حدود کہلاتی ہیں اور ان میں کسی کو کسی قسم کا رد و بدل کرنے اور سفارش قبول کرنے کا اختیار نہیں ہے، جبکہ اس کے علاوہ جو باقی سزائیں ہیں وہ تعزیر کہلاتی ہیں اور وہ قاضی اپنی مرضی کے مطابق دیتا ہے، جس میں وہ مصلحت سمجھے اسی کے مطابق وہ سزا دے سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک ہی جیسا جرم کیا ہے دو افراد نے، قاضی ایک کو تھوڑی کم سزا دے دے، ایک کو تھوڑی زیادہ دے دے، یہ قاضی کے اختیار میں ہے، کیونکہ بعض لوگ جو ہوتے ہیں وہ تھوڑی سزا سے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں اور بعض لوگ وہ ہیں کہ جن کو زیادہ بھی سزا دی جائے تو وہ ان پر اثر نہیں ہوتا۔ تو تعزیر کے اندر سفارش بھی کی جا سکتی ہے اور تعزیر کے اندر قاضی کی مرضی ہے جیسی سزا دینا چاہے۔ تو یہ جو حد جس پر جاری ہو گئی، حد جس کو لگ گئی اس کو کہتے ہیں محدود بھئی، کیا کہیں گے؟ محدود، یعنی جس پر حد جاری کی گئی ہے۔ اور یہ محدود فی القذف بھئی، قذف، ق، ذ اور ف ہے، قذف کا معنی ہے کسی پر تہمت لگانا اور یہاں مراد ہے زنا کی تہمت۔ کوئی شخص اگر کسی دوسرے پر زنا کی تہمت لگائے بھئی، تو شریعت نے اس شخص کو اختیار دیا ہے جس پر تہمت لگائی گئی ہے کہ وہ قاضی کے پاس چلا جائے اور حدِ قذف کا مطالبہ کرے کہ قاضی صاحب! اس نے میری عزت خراب کرنے کی کوشش کی ہے، اس نے مجھ پر زنا کا الزام لگایا ہے۔ تو قاضی اس شخص کو طلب کرے گا جس نے تہمت لگائی تھی، اور وہ دو گواہ گواہی دیں گے کہ ہاں جی اس نے کیا کیا ہے، ہمارے سامنے یہ جو مدعی ہے اس پر زنا کی تہمت لگائی ہے، اور پھر قاضی اس شخص سے کہے گا کہ تم نے زنا کی تہمت لگائی ہے، اب چار گواہ لے کر آؤ، زنا ثابت کرو۔ تم نے زنا کا الزام لگایا ہے، اب زنا کو ثابت کرو، چار گواہ لے کر آؤ، اور جب وہ چار گواہ نہ لا سکے تو اس پر حدِ قذف جاری کی جائے گی، اسی کوڑے لگائے جائیں گے بھئی۔ اور نیز اس شخص کی آئندہ کسی بھی مسئلے میں گواہی قبول نہیں کی جائے گی، کسی بھی معاملے میں اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ“، اور وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں، ”وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ“، اور وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں یعنی زنا کی، ”ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ“، پھر یہ چار گواہ نہ لے کر آئیں، ”فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً“، تو پھر ان کو اسی کوڑے لگاؤ، ”وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا“، اور ان کی گواہی قبول نہ کرو کبھی بھی۔ تو عند الاحناف ”وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا“، اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، عند الاحناف یہ حد کا حصہ ہے، عند الاحناف یہ حد کا حصہ ہے۔ دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ حد کا حصہ نہیں ہے، وہ توبہ کر لیں گے تو پھر ان کی گواہی قبول کی جائے گی، لیکن عند الاحناف یہ حد کا حصہ ہے اور اللہ فرما رہے ہیں ان کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کرو، تو اب زندگی بھر یہ شخص جس پر حدِ قذف لگ چکی ہے، اسی کوڑے لگ چکے ہیں، یہ کسی مسئلے میں جا کر قاضی کے پاس گواہی نہیں دے سکتا، قاضی اس کی گواہی سنے گا ہی نہیں، قبول ہی نہیں کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ ”وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا“، اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ تو یہ جو محدود فی القذف ہے، یاد رکھو یہ نکاح میں گواہ بن سکتے ہیں۔ ایک مرد اور عورت نکاح کرنے لگے، انہوں نے دو ایسے گواہ بٹھا دیے جو کیا ہیں؟ محدود فی القذف ہیں، تو یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں کہ ان کا نکاح منعقد ہو جائے گا ان گواہوں کی موجودگی میں۔ تو اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی کیسے ان کی گواہی سے نکاح منعقد ہو جائے گا؟ ان کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ قرآن میں فرما رہے ہیں: ”وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا“، کہ ان کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کرو، تو احناف جواب دیتے ہیں کہ یہاں دو چیزیں ہیں بھئی، ایک ہے تحملِ شہادت اور ایک ہے ادائے شہادت۔ یعنی یوں کہو آسان لفظوں میں، ایک ہے گواہ بننا اور ایک ہے گواہی دینا، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ گواہ بن سکتے ہیں یہ، گواہی دے نہیں سکتے بھئی۔ یہ گواہ بن سکتے ہیں لیکن گواہی دے نہیں سکتے۔ گواہ بننے کو کہتے ہیں تحملِ شہادت، یعنی یہ شہادت کو اٹھا سکتا ہے، یعنی یہ شہادت کی اس میں صلاحیت ہے، اس میں اہلیت ہے، یہ گواہ بن سکتا ہے۔ تو اس کے لیے کیا لفظ استعمال ہوگا؟ تحملِ شہادت، یہ لفظ آگے بار بار میں استعمال کروں گا لہٰذا اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ ایک کیا ہے؟ تحملِ شہادت، اور ایک کیا ہے؟ ادائے شہادت، شہادت یعنی گواہی ادا کرنا قاضی کے پاس جا کر۔ تو تحملِ شہادت آسان لفظوں میں گواہ بننا، تو یہ گواہ بن تو سکتے ہیں لیکن ادائے شہادت نہیں کر سکتے، یعنی قاضی کے پاس جا کر گواہی کو ادا کر دیں ایسا نہیں کر سکتے، کیونکہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں ان کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کرو۔ تو احناف کیا کہتے ہیں کہ محدود فی القذف کی موجودگی کے اندر بھی نکاح منعقد ہو جائے گا، کیونکہ ان میں گواہ بننے کی صلاحیت ہے۔ بھئی کیسے ان میں گواہ بننے کی صلاحیت ہے؟ آپ نے تحمل اور ادا کو الگ الگ کیسے کر دیا؟ تو فقہاء جواب دیتے ہیں، بھئی احناف کی باتیں عجیب گہری باتیں ہوتی ہیں، انسان سنتا ہے، حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو اللہ فرما رہے ہیں: ”وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا“، اسی سے پتہ چل رہا ہے کہ ان میں گواہ بننے کی صلاحیت ہے۔ اگر ان میں گواہ بننے کی صلاحیت نہ ہوتی تو اللہ کبھی بھی نہ فرماتے ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ ان میں صلاحیت ہے، یہ گواہ بن سکتے ہیں، اسی لیے تو اللہ فرما رہے ہیں ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ بات ابھی بھی نہیں سمجھ میں آئی میرا خیال۔ سنو بھئی اور تفصیل سمجھو، مثالوں سے اچھی طرح وضاحت ہوگی۔ بعض اوقات آپ اپنے ایک ساتھی سے کہتے ہیں کسی مسئلے کے اندر کہ آپ نہ دیکھیں، آپ ادھر نہ دیکھیں، کہتے ہیں یا نہیں کہتے بعض اوقات کسی ساتھی کو کہ آپ ادھر کو نہ دیکھیں بھئی؟ تو آپ کا یہ کہنا ہی بتلا رہا ہے کہ وہ دیکھ سکتا ہے جبھی تو آپ اس کو کہہ رہے ہیں۔ اگر وہ نابینا ہوتا، دیکھ ہی نہ سکتا، تو کیا کوئی شخص اس کو کہتا کہ ادھر نہ دیکھو؟ نہیں۔ ادھر نہ دیکھو یہ اسی شخص کو کہا جائے گا جس میں دیکھنے کی صلاحیت ہوگی بھئی۔ اسی طرح کسی کو بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ بھئی آپ ہماری باتیں نہ سنیں بھئی، یہ اسی شخص کو کہا جائے گا جس میں سننے کی صلاحیت ہوگی۔ اگر ایک شخص بہرا ہے اس کو کبھی بھی کوئی ایسا نہیں کہے گا کہ آپ ہماری باتیں نہ سنیں۔ تو یہاں اللہ منع فرما رہے ہیں: ان کی گواہی قبول نہ کرو، معلوم ہوا ان میں گواہی کی صلاحیت ہے جبھی اللہ فرما رہے ہیں ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ جو محدود فی القذف ہیں، ہمارے نزدیک تحملِ شہادت کی ان میں صلاحیت ہے، البتہ ادائے شہادت یہ نہیں کر سکتے، تو ان کی موجودگی میں بھی نکاح منعقد ہو جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام کیا ہوا؟ نکاح کے اندر دو گواہوں کا ہونا ضروری، اور ان گواہوں میں چار صفتوں کا ہونا لازم ہے: کیا؟ وہ آزاد ہوں اور عاقل ہوں، بالغ ہوں اور مسلمان ہوں، اور پھر وہ دونوں یا تو مرد ہونے چاہییں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہونی چاہییں، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں عورتوں کی گواہی نکاح میں قبول نہیں، مرد ہی ہونے چاہییں۔ اور نیز گواہ چاہے عادل ہوں یا عادل نہ ہوں، دونوں صورتوں میں نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اور اگر گواہ محدود فی القذف ہوئے پھر بھی نکاح منعقد ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ یہ گواہ بن رہے ہیں، یہ گواہی دے نہیں رہے، اور گواہ بننے کی اور تحملِ شہادت کی ان میں صلاحیت موجود ہے بھئی۔ ہاں اگر بعد میں کسی وقت ضرورت پیش آ گئی اور وہ عورت اب نکاح سے انکار کر رہی ہے اور وہ شخص نکاح کا دعویٰ کرتا ہے، قاضی کے پاس چلا جاتا ہے اور کہتا ہے: قاضی صاحب! یہ دو گواہ موجود تھے، وہ جو محدود فی القذف تھے ان کو گواہ بنانے کی کوشش کرتا ہے اپنے دعوے کے لیے، تو قاضی ان کی گواہی قبول نہیں کرے گا۔ تو یہ جو محدود فی القذف ہیں یہ گواہ تو بن سکتے ہیں لیکن گواہی دے نہیں سکتے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے بھئی، ”قال رضی اللہ تعالیٰ عنہ“، اس قال سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ کون مراد ہیں؟ صاحبِ ہدایہ بھئی۔ تو آگے صاحبِ ہدایہ اب اس متن کی شرح کرنے لگے ہیں بھئی، تو ان کے شاگردوں نے یہاں پر قال کا لفظ ذکر کر دیا کہ یعنی آگے اب صاحبِ ہدایہ کی بات شروع ہو رہی ہے۔ تو قال، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”اعلم“، تو جان لے، ”أن الشهادة شرط في باب النكاح“، کہ شہادت یعنی گواہی جو ہے یہ شرط ہے نکاح کے باب میں، ”لقوله عليه السلام“، حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کی وجہ سے، حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لا نكاح إلا بشهود“، کہ کوئی نکاح ہے ہی نہیں ”إلا بشهود“، مگر کس کے ساتھ؟ گواہوں کے ساتھ۔ معلوم ہوا گواہوں کے بغیر نکاح ہے ہی نہیں بھئی۔ شہود جمع ہے شاہد کی بھئی، معلوم ہوا گواہ ہوں گے تو نکاح ہوگا، گواہ نہیں تو نکاح بھی نہیں ہوگا۔ اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ گواہوں کا ہونا شرط ہے۔ بھئی نکاح کس چیز کا نام ہے؟ ایجاب اور قبول کا اور اس کی وجہ سے جو ربط آیا، تو معلوم ہوا یہ جو دو گواہ جو ہیں یہ ارکانِ نکاح تو نہیں، نکاح کے اندر تو یہ داخل نہیں، جب نکاح کے اندر داخل نہیں لیکن ان کا ہونا ضروری ہے تو ان کو شرط کہیں گے بھئی۔ شرط پوری ہوگی تو مشروط بھی ہوگا، شرط پوری نہیں تو مشروط بھی نہیں، جیسے وضو ہے تو نماز ہوگی، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لا نكاح إلا بشهود“، کوئی نکاح نہیں ہے بغیر گواہوں کے۔ ”وهو حجة على مالك رحمه الله تعالى في اشتراط الإعلان“، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح کے اندر اعلان شرط ہے۔ نکاح میں اعلان شرط ہے، دو گواہوں کا ہونا شرط نہیں، کہ اعلان کیا جائے لوگوں میں بھئی۔ چنانچہ وہ حدیث بھی ذکر فرماتے ہیں، یہ آپ کے حاشیے میں حدیث دی ہوئی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”أعلنوا النكاح ولو بالدف“، أعلنوا، اعلان سے امر کا صیغہ ہے، أعلنوا تم لوگ اعلان کرو ”النكاح“، نکاح کا، ”ولو بالدف“، اگرچہ دف کے ذریعے ہو بھئی۔ دف بھئی عربی زبان میں کہتے ہیں جسے اردو میں ہم دف کہتے ہیں بھئی، یہ ڈھول کی طرح کا ایک آلہ ہے، البتہ ڈھول تو بڑا ہوتا ہے اور وہ اس کے دونوں طرف چمڑا لگا ہوتا ہے دونوں طرف سے بجایا جاتا ہے، جبکہ دف جو ہے وہ چھوٹا ہوتا ہے اور اس کے صرف ایک طرف چمڑا لگا ہوتا ہے۔ تو حضور علیہ السلام کیا فرماتے ہیں کہ اے لوگو! تم نکاح کا اعلان کرو اگرچہ دف کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو بھئی۔ تو ”أعلنوا النكاح ولو بالدف“، کہ اے لوگو! تم نکاح کا اعلان کرو اگرچہ دف کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، تو یہ امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل ہے۔ وہ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ اعلان کرنا یہ شرط ہے، دو گواہ ہونا شرط نہیں ہے بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں: نہیں، آپ کی اس حدیث سے اتنا تو پتہ چلتا ہے کہ اعلان واجب ہے، اعلان واجب ہے۔ اس سے شرط ہونے کا تو پتہ نہیں چلتا، ہماری حدیث جو ہے ”لا نكاح إلا بشهود“، کوئی نکاح ہے ہی نہیں ”إلا بشهود“، مگر کس کے ساتھ؟ گواہوں کے ساتھ، معلوم ہوا گواہوں کے بغیر نکاح ہے ہی نہیں بھئی۔ تو ہماری حدیث سے شرط ہونے کا پتہ چل رہا ہے اور آپ کی حدیث سے اعلان کے شرط ہونے کا پتہ نہیں، صرف واجب ہونے کا پتہ چل رہا ہے۔ أعلنوا امر کا صیغہ ہے اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے آتا ہے، تو اتنا تو پتہ چل گیا کہ اعلان واجب ہے لیکن اس کے شرط ہونے کا پتہ نہیں۔ اور آپ کی اس حدیث پر بھی ہمارا عمل ہو جاتا ہے، کیونکہ جب دو گواہ موجود ہیں تو اَعلَنَ یُعلِنُ اعلان کا معنی کیا ہے؟ اطلاع دینا، کیا کرنا؟ اطلاع دینا، بتلانا، تو دو گواہ ہو گئے تو اعلان پایا گیا یا نہیں؟ دو افراد کو تو اطلاع ہو گئی، یا ایک مرد اور دو عورتیں ہیں تو تین افراد کو تو اطلاع ہو گئی، تین افراد میں تو اعلان ہو گیا کہ یہ عقدِ نکاح ہوا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وهو حجة على مالك رحمه الله“، یہ علیٰ ضرر کے لیے آتا ہے، تو یہ حدیث جو ہے ہماری یہ حجت ہے یعنی دلیل ہے ”على مالك رحمه الله“، امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف، ”في اشتراط الإعلان“، اعلان کی شرط لگانے میں، امام مالک رحمہ اللہ نے جو اعلان کی شرط لگائی ہے اس میں ہماری یہ حدیث ان کے خلاف دلیل ہے، اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ گواہ کا ہونا شرط ہے۔ ”دون الشهادة“، نہ کہ شہادت۔ امام مالک رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ اعلان شرط ہے، ”دون الشهادة“، شہادت یعنی گواہی شرط نہیں ہے، لیکن ہم نے بتلا دیا کہ نہیں، گواہی کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ پھر سمجھو، پھر سمجھو۔ یہاں تک کیا بحث ہوئی؟ کہ ہمارے نزدیک جو شہادت ہے نکاح کے اندر یہ شرط ہے، گواہ ہوں گے تو نکاح ہوگا، گواہ نہیں تو نکاح بھی نہیں، جیسے وضو نماز کے اندر شرط ہے، وضو ہے تو نماز بھی ہوگی، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں، اور دلیل ذکر کی کہ حدیث میں آیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لا نكاح إلا بشهود“، کوئی نکاح نہیں ہے ”إلا بشهود“، مگر گواہوں کے ساتھ، یعنی گواہوں کا ہونا ضروری ہے نکاح میں، گواہ ہوں گے تو نکاح ہوگا اور گواہ نہیں تو نکاح بھی نہیں ہوگا۔ ہماری یہ حدیث جو ہے حجت ہے امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعلان کرنا شرط ہے، شہادت شرط نہیں۔ وہ حدیث پیش فرماتے ہیں: ”أعلنوا النكاح ولو بالدف“، کہ نکاح کا اعلان کرو ”ولو بالدف“، اگرچہ دف کے ذریعے ہو، تو دیکھو وہ اعلان کو شرط قرار دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ کی حدیث سے اعلان کے واجب ہونے کا تو پتہ چلا، اعلان کے شرط ہونے کا پتہ نہ چلا بھئی۔ واجب اور ہے، شرط اور ہے، شرط کا مقام بڑا اونچا ہے، شرط تو وہ ہے کہ شرط ہوگی تو مشروط ہوگا، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، گویا شرط بھی رکن جیسی ہے، جیسے رکن پایا جائے تو وہ چیز ہوگی، رکن نہیں تو وہ چیز بھی نہیں۔ نماز کے اندر جیسے نماز کے ارکان کیا ہیں؟ قیام ہے، رکوع ہے، سجدہ ہے، ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نہ پائی گئی تو نماز ہی نہیں ہوگی۔ اسی طرح شرط ہوتی ہے، شرط ہوگی تو نماز ہوگی، شرط نہیں تو نماز بھی نہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ رکن شے کے اندر داخل ہوتا ہے اور شرط اس شے سے خارج ہوتی ہے۔ لیکن جیسے رکن کا ہونا ضروری اس چیز کے لیے، اسی طرح شرط کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ تو یہاں ہماری حدیث سے پتہ چل رہا ہے: ”لا نكاح إلا بشهود“، کوئی نکاح ہے ہی نہیں مگر کس کے ساتھ؟ گواہوں کے ساتھ، معلوم ہوا بغیر گواہوں کے کوئی نکاح ہو ہی نہیں سکتا، تو اس سے پتہ چلا کہ نکاح کے اندر گواہ کا ہونا شرط ہے، یہ ہے تو رکن کی طرح لیکن چونکہ نکاح کی حقیقت سے خارج ہے اس لیے اس کو شرط قرار دینا پڑا۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث سے صرف اعلان کے واجب ہونے کا پتہ چلا، ”أعلنوا النكاح“، یہ امر کا صیغہ ہے، أعلنوا تم لوگ کیا کرو؟ نکاح کا اعلان کرو، اس سے تو صرف اعلان کے واجب ہونے کا پتہ چلا ہے، اس سے یہ تو پتہ نہیں چلا کہ اعلان نہیں کرو گے تو نکاح ہوگا ہی نہیں۔ اعلان نہیں کرو گے تو گنہگار ہو گے، زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا اس میں تو صرف اعلان کے واجب ہونے کا پتہ چل رہا ہے، اعلان کے شرط ہونے کا پتہ نہیں چل رہا، اور نیز اس حدیث پر تو ہمارا بھی عمل ہو جاتا ہے، کیونکہ جب ہم دو افراد دو آدمی گواہ بنائیں گے یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنائیں گے تو ان کو دیکھو اطلاع ہو گئی، اعلان کا کیا معنی ہے؟ اطلاع دینا دوسروں کو، تو یہاں ہم بھی جب دو گواہ بٹھائیں گے تو ان دونوں میں اعلان ہو گیا، ان دونوں گواہوں کو پتہ چل گیا نکاح کا، یا ایک مرد ہے اور دو عورتیں ہیں تو ان میں گویا اعلان ہو گیا، ان کو پتہ چل گیا نکاح کا، تو ہمارا بھی اس حدیث پر عمل ہو گیا بھئی، واجب پر ہمارا بھی عمل ہو گیا۔ تو امام مالک رحمہ اللہ جو ہیں ان کے خلاف یہ حدیث حجت ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”ولا بد من اعتبار الحرية فيها لأن العبد لا شهادة له لعدم الولاية“، بھئی اب وہ جو متن میں آیا تھا ”ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين“، کہ مسلمانوں کا نکاح منعقد نہیں ہوگا مگر دو گواہ ہونے چاہییں، اور آگے متن کے اندر قیدیں ذکر ہوئی تھیں کہ وہ گواہ کیا ہونے چاہییں؟ حرین، آزاد ہوں، عاقلین، بالغین، مسلمین، یہ ساری شرطیں آخر تک ذکر ہو رہی ہیں بھئی۔ اب ان میں سے ہر ایک کی تفصیل بیان کریں گے صاحبِ ہدایہ، کہ گواہ آزاد ہونے چاہییں اس کی شرط کیوں لگائی؟ گواہ عاقل ہونے چاہییں اس کی شرط کیوں لگائی؟ تو ان ساروں کی اب تفصیل بیان کریں گے صاحبِ ہدایہ بھئی۔ بھئی یہاں گواہوں سے متعلق ایک قیمتی بات یاد رکھیے بھئی، قیمتی بات یاد رکھیے۔ علماء فرماتے ہیں کہ ایک ہے تحملِ شہادت اور ایک ہے ادائے شہادت، تو بعض گواہ ان میں تحمل اور ادا دونوں کی صلاحیت ہوگی، اور بعض گواہ ان میں صرف تحمل کی صلاحیت تو ہوگی، ادائے شہادت کی صلاحیت نہیں، اور بعض ایسے افراد ہوں گے جن میں نہ تحمل کی صلاحیت ہے اور نہ ادا کی۔ تو چار قسم کے افراد ہو جائیں گے بھئی، چار قسم کے، تحمل اور ادائے شہادت کے اعتبار سے۔ کچھ وہ لوگ کہ جن میں تحمل اور ادا کی صلاحیت ہے کامل طور پر۔ پہلی قسم کیا؟ جن میں تحمل اور ادا کی صلاحیت ہے کامل طور پر۔ اور دوسری قسم وہ ہے جن میں تحمل اور ادا کی صلاحیت ہے لیکن کامل نہیں بلکہ ناقص طور پر، توجہ ہے؟ تو وہ جن میں تحمل اور ادا کی صلاحیت کامل طور پر ہے وہ گواہ ہوں گے، وہی چار صفتیں ذکر کرو کہ وہ گواہ کیا ہو؟ آزاد ہو، اور وہ گواہ کیا ہو؟ عاقل ہو اور بالغ ہو اور مسلمان ہو، اور ساتھ وہ عادل بھی ہو۔ تو جس گواہ میں بھی یہ پانچ صفتیں ہوں گی، وہ چار لازم صفتیں اور ساتھ کیا ہو؟ عادل بھی ہو، تو یہ جو گواہ ہے یہ تحملِ شہادت بھی کر سکتا ہے اور ادائے شہادت بھی کر سکتا ہے کامل طور پر۔ تو یوں کہو یہ گواہ جس کے اندر یہ پانچ صفتیں موجود ہوں گی، وہ اہل التحمل بھی ہے اور اہل الاداء بھی ہے کامل طور پر۔ وہ اہل التحمل و الاداء ہے کامل طور پر یعنی وہ گواہ بن بھی سکتا ہے اور گواہی دے بھی سکتا ہے، اور اس طرح کے جب دو افراد گواہی دے دیں گے تو پھر قاضی کے لیے ویسا فیصلہ کرنا لازم ہو جائے گا۔ تو گواہ کی ایک قسم کیا ہے؟ جو اہل التحمل بھی ہے اور اہل الاداء بھی ہے کامل طور پر، وہ کون سا گواہ ہے؟ جس میں کتنی صفتیں ہوں؟ پانچ صفتیں ہوں، کیا؟ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو اور عادل ہو۔ دوسری قسم گواہ کی وہ ہے جو اہل التحمل و الاداء ہے لیکن ناقص طور پر، کامل طور پر نہیں۔ جس میں پہلی چار صفتیں تو موجود ہیں لیکن وہ عادل نہیں ہے، فاسق ہے۔ عادل نہیں ہے وہ فاسق ہے، تو جو گواہ آزاد بھی ہے، عاقل بھی ہے، بالغ بھی ہے، مسلمان بھی ہے لیکن عادل نہیں ہے بلکہ فاسق ہے، تو یہ جو گواہ ہے یہ اہل التحمل بھی ہے، اہل الاداء بھی ہے لیکن ناقص طور پر۔ کیونکہ یہ شخص فاسق ہے، یہ دینی چیزوں کا خیال نہیں رکھتا اور جو شخص دینی امور کا خیال نہیں رکھتا وہ لوگوں کے معاملات کا کیسے خیال رکھ سکتا ہے بھئی؟ دین پر چلنے والا ہوگا تو اسے اللہ کا خوف ہوگا، وہ جھوٹ نہیں بولے گا، اور جو شخص دل میں اللہ کا خوف نہیں رکھتا وہ لوگوں کا کیا خوف رکھے گا بھئی؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ کہیں یہ شخص جھوٹ نہ بول رہا ہو۔ لیکن بہرحال یہ شخص جو فاسق ہے اس میں باقی صفتیں تو موجود ہیں تو یہ اہل التحمل بھی ہے، اہل الاداء بھی ہے لیکن کامل طور پر نہیں بلکہ ناقص طور پر۔ تیسری قسم گواہ کی وہ ہے جو اہل التحمل تو ہیں لیکن اہل الاداء نہیں، وہ گواہ بن تو سکتے ہیں لیکن گواہی دے نہیں سکتے، جیسے محدود فی القذف۔ وہ شخص جس پر حدِ قذف جاری ہوئی ہے، اسی کوڑے لگے ہیں بھئی، اور اسی طرح نابینا شخص بھئی، نابینا، یہ اہل التحمل تو ہیں، یہ گواہ بن تو سکتے ہیں لیکن اہل الاداء نہیں، یہ گواہی دے نہیں سکتے۔ حدِ قذف والا تو اس لیے گواہی نہیں دے سکتا کہ اللہ نے اس کے بارے میں فرمایا ہے: ”وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا“، اور اندھا جو ہے وہ گواہ بن تو سکتا ہے، گواہی دے نہیں سکتا، اس لیے کیونکہ اندھے کو دکھائی نہیں دیتا، تو وہ صرف آواز سن کر کیا کرے گا؟ گواہی دے گا، تو ہو سکتا ہے اس سے کہیں غلطی نہ ہو جائے اس انسان کے پہچاننے میں بھئی۔ تو اندھا گواہ بن تو سکتا ہے لیکن گواہی دے نہیں سکتا۔ اور چوتھی قسم کے افراد وہ ہیں جو سرے سے گواہ بن ہی نہیں سکتے بھئی، جو گواہ بن ہی نہیں سکتے، اور وہ وہ افراد ہیں کہ جن میں چار صفاتِ لازمہ میں سے کوئی ایک صفت بھی اس میں نہ پائی جائے۔ مثلاً آزاد نہیں ہے بلکہ غلام ہے، یا اسی طرح عاقل نہیں ہے بلکہ مجنون ہے، پاگل ہے بھئی، یا بالغ نہیں ہے بلکہ بچہ ہے، نابالغ ہے، یا مسلمان نہیں ہے بلکہ کافر ہے، تو یہ جو افراد ہیں نہ یہ اہل التحمل ہیں اور نہ اہل الاداء ہیں شہادت کے باب میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کتنی قسم کے افراد ہو گئے گواہی کے معاملے میں؟ چار قسم کے: ایک قسم وہ ہے جو اہل التحمل بھی ہے اور اہل الاداء بھی ہے کامل طور پر، اور دوسری قسم وہ ہے جو اہل التحمل اور اہل الاداء ہے لیکن ناقص طور پر، اور تیسری قسم وہ ہے جو اہل التحمل تو ہے لیکن اہل الاداء نہیں، اور چوتھی قسم وہ ہے جو نہ اہل التحمل ہے اور نہ اہل الاداء ہے بھئی۔ تو ان میں سے یہ جو پہلی قسم تھی جن میں پانچ صفتیں پائی جائیں: آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان اور عادل، ان کی گواہی تو بالاتفاق قبول کی جائے گی سب کے نزدیک، سب کے نزدیک۔ اور وہ جو آخری قسم ہے ان کی گواہی بالاتفاق قبول نہیں کی جائے گی بھئی، وہ جو غلام ہے یا مجنون ہے یا بچہ ہے یا کافر ہے بھئی، ان کی گواہی بالاتفاق قبول نہیں کی جائے گی۔ اور جو دوسری قسم ہے یعنی جو عادل نہیں ہے، جو اہل التحمل و الاداء ہے ناقص طور پر، اس کے بارے میں غور کیا جائے گا کہ پتہ چل جائے، کچھ اندازہ ہو جائے کہ یہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے۔ اور جبکہ تیسری قسم جو ہے وہ گواہ بن تو سکتے ہیں لیکن گواہی دے نہیں سکتے، تو لہٰذا نکاح کے باب میں وہ گواہ بن سکتے ہیں اور ان کی موجودگی میں نکاح منعقد ہو جائے گا۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ جی اب آئیے بھئی وہ صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان کرنے لگے ہیں ہر ایک کی، کہتے ہیں: ”ولا بد من اعتبار الحرية فيها“، اور ضروری ہے آزادی کا اعتبار کرنا، ”فيها“، یہ ہا ضمیر یا تو راجع کر لیں شہادت کو، آزادی کا اعتبار ضروری ہے ”فيها أي في الشهادة“، شہادت کے اندر، گواہی کے اندر، یا ”فيها“ کی ضمیر راجع کر لیں پیچھے جو شہود کا لفظ آیا تھا حدیث کے اندر، کہ ضروری ہے آزادی کا اعتبار کرنا ”فيها أي في الشهود“، یہ ہا ضمیر راجع ہے کس کو؟ شہود کو، اور شہود جمع ہے کس کی؟ شاہد کی، اور جمع بتاویلِ جماعت کس کے حکم میں ہے؟ واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے، تو جمع کی طرف واحد مؤنث کی ضمیر راجع کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ ہدایہ کے بعض نسخوں میں یہاں ”فيها“ کی جگہ ”فيهما“ ہے بھئی، کیا ہے؟ ”فيهما“، اور ”فيهما“ ہو پھر تو یقینی طور پر یہ ہما ضمیر راجع ہے شاہدین کو۔ کہتے ہیں: ”ولا بد من اعتبار الحرية فيها“، اور گواہی کے اندر آزادی کا اعتبار ضروری ہے، ”لأن العبد لا شهادة له“، اس لیے کیونکہ غلام جو ہے اس کی کوئی گواہی نہیں ہوتی، ”لعدم الولاية“، ولایت نہ ہونے کی وجہ سے۔ ولایت کہتے ہیں اختیار کا ہونا، کہ آپ کا قول غیر پر نافذ ہو جائے چاہے وہ چاہے یا نہ چاہے۔ اس کو کیا کہیں گے؟ کہ آپ کو اس پر ولایت حاصل ہے۔ جب آپ کا قول کسی کے خلاف نافذ ہو جائے، چاہے وہ مانے، چاہے نہ مانے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ولایت کہتے ہیں یعنی اختیار، آپ کو اختیار ہے۔ اور غلام، غلام کو تو اپنی ذات پر ولایت حاصل نہیں ہوتی تو غیر پر کیا ولایت حاصل ہوگی؟ کیا غلام اپنا نکاح کر سکتا ہے خود اپنی مرضی سے؟ نہیں، اور کیا غلام خود کاروبار اور تجارت وغیرہ کر سکتا ہے؟ نہیں، تو غلام کو تو اپنی ذات پر اختیار حاصل نہیں، اپنی ذات پر ولایت حاصل نہیں تو غیر پر اسے ولایت کیسے حاصل ہو سکتی ہے؟ یاد رکھو یہ جو شہادت ہوتی ہے نا اس میں آپ کا قول غیر پر نافذ ہوتا ہے۔ شہادت میں آپ کا قول غیر پر نافذ ہوتا ہے، مثلاً دیکھو آپ گئے قاضی کے پاس اور آپ نے جا کر ایک مقدمہ کر دیا، ایک دعویٰ کر دیا کہ زید نے میرے دس لاکھ روپے دینے ہیں اور آپ دو گواہ بھی ساتھ لے گئے۔ اب قاضی نے زید کو بلوایا، ان دو گواہوں نے گواہی دی کہ قاضی صاحب! ہم دونوں گواہ ہیں، ہمارے سامنے زید نے اس سے دس لاکھ روپے لیے تھے۔ اب زید انکار کر رہا ہے لیکن یہ دو گواہ قابلِ اعتماد ہیں تو قاضی فیصلہ کر دے گا آپ کے حق میں۔ تو دیکھو وہ دو گواہوں کا قول زید پر نافذ ہو گیا یا نہیں؟ دو گواہوں کا قول، یہ قاضی نے آپ کے حق میں فیصلہ کس کی وجہ سے کیا؟ صرف آپ کے کہنے کی وجہ سے کیا یا گواہوں کی گواہی کی وجہ سے کیا؟ گواہوں کی گواہی کی وجہ سے، تو معلوم ہوا یہ گواہوں کا قول کس پر نافذ ہو گیا؟ زید پر نافذ ہو گیا، اور وہ تو نہیں چاہتا تھا میرے اوپر یہ قول نافذ ہو، وہ تو دس لاکھ نہیں دینا چاہتا تھا، لیکن ان گواہوں کا قول اس پر نافذ ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو گواہی میں کیا ہوتا ہے؟ غیر پر آپ کا قول نافذ ہو جاتا ہے، اور غیر پر آپ کا قول نافذ ہونا اس کو ولایت کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ ولایت۔ اور غلام کو تو اپنی ذات پر ولایت حاصل نہیں ہوتی، وہ تو نکاح قبول کر لے تو اس کا اپنا نکاح نہیں ہوتا، اس کے اپنے اوپر وہ اس کا قول نافذ نہیں ہوتا، تو غیر پر اس کا قول کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے؟ دلیل سمجھ میں آئی؟ کیا؟ کہ گواہی کس باب سے ہے؟ ولایت کے باب سے۔ ولایت میں کیا ہوتا ہے؟ غیر پر آپ کا قول نافذ ہوتا ہے، اور غلام کا قول تو اس کی اپنی ذات پر نافذ نہیں ہوتا، اس کو تو اپنی ذات پر ولایت حاصل نہیں ہے، تو اگر دوسروں کے لیے اس کی گواہی مان لی جائے پھر تو یہ کہنا لازم آئے گا کہ غلام کا قول کس پر نافذ ہو رہا ہے؟ غیر پر، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے ایک شخص کا قول اپنے اوپر تو نافذ نہیں ہو سکتا لیکن غیر پر نافذ ہو جائے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو جب غلام کو اپنی ذات پر ولایت حاصل نہیں تو دوسروں پر بطریقِ اولیٰ اس کو ولایت حاصل نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے: ”لأن العبد لا شهادة له لعدم الولاية“، اس لیے کیونکہ غلام جو ہے اس کے لیے کوئی شہادت نہیں ہوتی ولایت نہ ہونے کی وجہ سے۔ تو جس کو ولایت ہوگی اس کو شہادت کا بھی حق ہوگا اور جس کو ولایت حاصل نہیں اس کو شہادت کا حق بھی حاصل نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”ولا بد من اعتبار العقل والبلوغ“، اور ضروری ہے عقل اور بالغ ہونے کا اعتبار کرنا، ”لأنه لا ولاية بدونهما“، اس لیے کیونکہ ان کے بغیر بھی ولایت نہیں ہے۔ بھئی کوئی مجنون ہے، پاگل ہے، اس کو تو اپنے اوپر ولایت حاصل نہیں ہے۔ مجنون تو اپنا نکاح نہیں کر سکتا بھئی آگے، اس کا نکاح ہوگا ہی نہیں، وہ مجنون ہے بھئی اس کو عقل ہی نہیں ہے، اس کو کیا پتہ نکاح کس چیز کا نام ہے۔ تو مجنون کا قول اس کی اپنی ذات پر نافذ نہیں، جب اپنی ذات پر اس کا قول نافذ نہیں، اپنی ذات پر اس کو ولایت حاصل نہیں ہے تو غیر پر بھی اس کا قول نافذ نہیں ہوگا، غیر پر بھی اس کو ولایت حاصل نہیں ہوگی، وہ گواہ نہیں بن سکتا۔ اسی طرح بچہ جو ہے، بچہ، وہ بھی اگر اپنا نکاح کرے یا اس کا نکاح کروا دیا گیا تھا وہ بچپن میں بیوی کو طلاق دینا چاہے تو اس کا قول نافذ نہیں ہوگا بھئی۔ نہ وہ اپنا نکاح خود کر سکتا ہے اور اگر اس کے والد نے اس کا نکاح کروا دیا ہے تو وہ طلاق بھی نہیں دے سکتا۔ تو دیکھا بچے کو بھی اپنی ذات پر ولایت حاصل نہیں، جب اپنی ذات پر اس کو ولایت حاصل نہیں ہے تو غیر پر اس کو ولایت کیسے حاصل ہوگی؟ غیر کے معاملے میں یہ گواہ نہیں بن سکتا۔ تو لہٰذا ان کو جب اپنی ذات پر ولایت حاصل نہیں تو غیر پر بطریقِ اولیٰ ان کو ولایت حاصل نہیں ہوگی۔ بعض علماء نے بڑا قیمتی اور پیارا ضابطہ ذکر فرمایا، وہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو اپنے نکاح کی ولایت حاصل ہے، جو شخص اپنا نکاح کروا سکتا ہے تو اس شخص کی موجودگی میں دوسرے کا نکاح بھی منعقد ہو جائے گا۔ اور جو شخص اپنا نکاح نہیں کر سکتا، اس کو اپنے نکاح کی ولایت حاصل نہیں ہے تو صرف ان کی موجودگی میں غیر کا نکاح بھی نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو دیکھو غلام اور اسی طرح مجنون اور اسی طرح بچہ، ان تینوں کو اپنے نکاح کی ولایت حاصل نہیں ہے، یہ اپنا نکاح خود نہیں کر سکتے، جب یہ اپنا نکاح خود نہیں کر سکتے تو صرف ان کی موجودگی میں کسی دوسرے کا نکاح بھی منعقد نہیں ہوگا۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
24 approved lectures · 6 of 24